پیغمبر اکرمؐ کی شناخت(عقل و سنت کی روشنی میں)

پیغمبر اکرمؐ کی شناخت(عقل و سنت کی روشنی میں)0%

پیغمبر اکرمؐ کی شناخت(عقل و سنت کی روشنی میں) مؤلف:
زمرہ جات: رسول اکرم(صلّی علیہ وآلہ وسلّم)

پیغمبر اکرمؐ کی شناخت(عقل و سنت کی روشنی میں)

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

مؤلف: حجت الاسلام محسن غرویان
زمرہ جات: مشاہدے: 609
ڈاؤنلوڈ: 188

تبصرے:

پیغمبر اکرمؐ کی شناخت(عقل و سنت کی روشنی میں)
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 11 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 609 / ڈاؤنلوڈ: 188
سائز سائز سائز
پیغمبر اکرمؐ کی شناخت(عقل و سنت کی روشنی میں)

پیغمبر اکرمؐ کی شناخت(عقل و سنت کی روشنی میں)

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

پیغمبر اکرمؐ کی شناخت(عقل و سنت کی روشنی میں)

تالیف: حجۃ الاسلام محسن غرویان

ترجمہ: سید خادم حسین رضوی بلتستانی

تصحیح :مولانامحمد یعقوب بشوی

انتساب

السَّلام عَلَیک یَا فاطمةَ الزَّهراء یَا بنتَ رَسول اللّه یَا قرَّةَ عَین المصطَفی

ولایت و امامت کے دفاع میں شہید ہونے والی اسلام کی اس پہلوشکستہ بی بی

حضـــــــــرت فــــاطــــمه زهرا سلام الله علیها

کے نام کہ جنہوں نے دفاع ولایت کی خاطر ایسے ایسے مصائب برداشت

کئے کہ اگر روشن دنوں پر پڑتے تو وہ سیاہ راتوں میں تبدیل ہو جاتے ۔

فصل اول

پیغمبر شناسی کی ضرورت

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

نبوت کا موضوع اور وحی کا مسئلہ ایک راستے کے طورپر خداوندعالم نے جس کے ذریعہ انسان کو سعادت اور کمال کا راستہ دیکھاتا ہے ، اس راہ کے وجود کی ضرورت اور اس کی کیفیت اور اسی طرح اس راستہ کا اشتباہ اور تحریف سے محفوظ رہنا، اور اسی طرح حاملین کی شناخت کے طریقے اور تاریخ رسالت میں وحی کا بے ہمتا ہونا، بہت قیمتی مباحث میں سے ہیں۔

ہم اس کوشش میں ہیں تاکہ مقدمہ کے طور پر ، وحی کو حاصل کرنے والے جو گزشتہ زمانے میں مشعل ہدایت کے مالک تھے ، کچھ گفتگو کریں۔ اور موضوع گفتگو کو نبی اور حاملین وحی قرار دے دیں۔ اور ہم یہاں دو موضوع کے بارے میں گفتگو کریں گے۔

الف: پیغمبروں کے بارے میں عمومی مباحث جو ان میں سے کسی بھی فرد سے مختص نہیں ہیں۔

ب: پیغمبر اکرمﷺ کے بارےمیں کچھ ابحاث بیان کریں گے اور ساتھ ہی اس بحث میں پیغمبر اکرمﷺ کی خصوصیات زندگی کو مدنظر رکھتےہوئے ان کی رسالت کے دور کو الگ موضوع قرار دیں گے ۔

پیغمبروں کے بارے میں کلی ابحاث:

مندرجہ بالا موضوع میں ہم اپنی بحث کو تین مراحل میں تقسیم کریں گے :

پہلا مرحلہ: انبیاء کی اجتماعی خصوصیات۔

دوسرا مرحلہ: پیغمبروں کی انفرادی خصوصیات ۔

تیسرا مرحلہ: کچھ کلی موضوع کے بارےمیں۔

پہلا مرحلہ عام عناوین:

اس مرحلہ کو عام عناوین کے ذکر سے آغاز کریں گے :

۱ ۔ ۲ ۔ نبی ورسول:

یہ دو عنوان ان عناوین میں سے ہیں جو قرآن کریم میں سارے انبیاء پر اطلاق ہوا ہے۔ جیسے نمونہ کے طور پر مندرجہ ذیل آیات پر غور کریں:

( كاَنَ النَّاسُ أُمَّةً وَاحِدَةً فَبَعَثَ اللَّهُ النَّبِيِّنَ مُبَشِّرِينَ وَ مُنذِرِين ) (۱)

“لوگ ایک ہی دین (فطرت) پر تھے، (ان میں اختلاف رونما ہوا) تو اللہ نے بشارت دینے والے اور تنبیہ کرنے والے انبیاء بھیجے”۔

( قُلْ آمَنَّا بِاللَّهِ وَ ما أُنْزِلَ عَلَيْنا وَ ما أُنْزِلَ عَلى‏ إِبْراهيمَ وَ إِسْماعيلَ وَ إِسْحاقَ وَ يَعْقُوبَ وَ الْأَسْباطِ وَ ما أُوتِيَ مُوسى‏ وَ عيسى‏ وَ النَّبِيُّونَ مِنْ رَبِّهِمْ لا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْهُمْ وَ نَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ ) (۲)

کہدیجیے: ہم اللہ پر ایمان لائے ہیں اور جو ہماری طرف نازل ہوا ہے اس پر بھی نیز ان (باتوں ) پر بھی جو ابراہیم، اسماعیل، اسحاق، یعقوب اور ان کی اولاد پر نازل ہوئی ہیں اور جو تعلیمات موسٰیؑ و عیسٰیؑ اور باقی نبیوں کو اپنے رب کی طرف سے ملی ہیں (ان پر ایمان لائے ہیں )،ہم ان کے درمیان کسی تفریق کے قائل نہیں ہیں اور ہم تو اللہ کے تابع فرمان ہیں۔

( اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَيْهِ مِنْ رَّبِّه وَالْمُؤْمِنُوْنَ كُلٌّ اٰمَنَ بِاللهِ وَمَلٰائكَتِه وَكُتُبِه وَرُسُلِه لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِه وَقَالُوْا سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَاِلَيْكَ الْمَصِيْر ) (۳)

رسول اس کتاب پر ایمان رکھتا ہے جو اس پر اس کے رب کی طرف سے نازل ہوئی ہے اور سب مومنین بھی، سب اللہ اور اس کے فرشتوں ، اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں پر ایمان رکھتے ہیں (اور وہ کہتے ہیں ) ہم رسولوں میں تفریق کے قائل نہیں ہیں اور کہتے ہیں : ہم نے حکم سنا اور اطاعت قبول کی،پالنے والے ہم تیری بخشش کے طالب ہیں اور ہمیں تیری ہی طرف پلٹنا ہے

( وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ ) (۴)

اور بے شک ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیجا ہے کہ اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت کی بندگی سے اجتناب کرو۔

جیساکہ آپ نے ملاحظہ فرمایا! یہ دو تعبیریں نبی و رسول اور تمام انبیاء کے لئے استعمال ہوئی ہیں اور کسی نبی کے ساتھ مختص نہیں ہیں۔ یہاں ضروری ہے کہ ان دونوں کلمات کا مفہوم اور ان دو کلمات کا رابطہ مصداق کے اعتبار سے واضح کیا جائے لفظ نبی صفت مشبہ اور فعیل کی وزن پر ہے۔ اگر یہ کلمہ نبوۃ کے مادہ سے مشتق ہو اور رفعت و بلندی مقام کے معنی میں آجائے تو نبی کا معنی بلند مرتبہ اور اس کا مفہوم آگاہ اور مطلع ہوگا؛ البتہ یہ عنوان کیونکہ اللہ کے پیغام لانے والوں کے لئے استعمال ہوگیا ہے تو دوسرا معنی اس کے لئے مناسب اور بہتر ہوگا، یعنی ہم یہ ضرور کہتےہیں کہ نبی ایسا شخص ہے کہ خود آسمانی پیغامات سے آگاہ ہو ، اوردوسروں کو بھی ان پیغامات سے آگاہ کرے ؛ لہذا اس بنا پر رفعت مقام نبی کی نبوت کا لازمہ ہوگا نہ کہ اس کا مساوی معنی؛ لذا نبی وہ ہے جو وحی الٰہی سے آگاہ اور با خبر ہو لیکن لفظ رسول کا معنی ہے پہنچانے والا چاہئے اس کی رسالت پیغام پہنچانا ہو یا ایک قسم کا کام انجام دینا جیساکہ قرآن کریم میں حضرت مریم کی قصہ میں ملائکہ کی زبان سے ارشاد ہوتا ہے:

( قَالَ اِنَّمَآ اَنَا رَسُوْلُ رَبِّكِ لِاَهبَ لَكِ غُلٰمًا زَكِيًّا ) (۵)

لیکن ہم چونکہ لفظ رسول کو اردو میں پیغمبر پیغام لانے والا کے ساتھ ترجمہ کرتےہیں۔ یہ اس لئے ہے کہ یہ لفظ تمام انبیاء الٰہی جو بشر کی ہدایت کے لئے آئے ہیں ان سب کے لئے استعمال ہوتا ہے ۔

یہ تو واضح ہے کہ ان کی رسالت یعنی اللہ کا پیغٖام لوگوں تک پہنچانا ہوتاہے(۶) ۔اس توضیح سے یہ معلوم ہوا کہ نبی اور رسول کا مفہوم متباین اور دو الگ الگ مفہوم ہیں۔ یہ مفہوم ایک دوسرے سے الگ اور جدا ہیں اور ان دونوں مفہوم کے درمیان کوئی مشترکہ رابطہ مفہومی موجود نہیں ہے(۷) لیکن ارتباط مصداقی کے لحاظ سے ضروری ہے کہ ہم قرآن کریم کی آیات کی طرف رجوع کریں تاکہ یہ دونوں الفاظ کے استعمال کے موارد پر توجہ کرکے یہ دیکھیں کہ کیا لفظ رسول سے مراد نبی کے علاوہ کوئی اور شخص ہے یانہیں؟ بلکہ یہ دو الفاظ متصادق ہیں اور ایک دوسرے کے جگہ پر استعمال ہوئے ہیں؟ مذکورہ آیات اور مشابہ آیات سے واضح کرسکتےہیں کہ یہ الفاظ متصادق ہیں ان تمام آیات کا ظہور جس میں رسول کا عنوان ذکر ہوا ہو یا نبی کا ۔ تمام انبیاء و رسل الٰہی کو شامل ہے اس موضوع میں فقط کچھ آیات اس استظہار کےخلاف کو ثابت کرتی ہیں ۔ ایک آیت میں آیاہے:

( وَاذْكُرْ فِي الْكِتٰبِ مُوْسٰٓى اِنَّه كَانَ مُخْلَصًا وَّكَانَ رَسُوْلًا نَّبِيًّا ) (۸)

ایک اور آیت میں آیا ہے:( وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ وَّلَا نَبِيٍّ ..) ۔(۹)

جیسا کہ آپ ملاحظہ کر رہے ہیں ان دو آیات میں رسول اور نبی کو ایک دوسرے کے ساتھ لایا گیا ہے جو ظاہرا مصداق کے اعتبار سے ایک دوسرے سے الگ اور متفاوت ہیں کیونکہ اگر یہ دونوں الفاظ ایک مصداق کے مالک ہوتے تو ہم دونوں آیات میں ایک لفظ کو ذکر کرنے سے دوسرے لفظ سےبے نیاز ہوجاتے تھے ۔(۱۰)

شاید پہلے والے استظہارکو تقویت دے کر اور ان آیات کے ظہور کو توجیہ کرنے کے بعدہی ان دونوں لفظوں کے اختلاف کو مٹا سکیں؛ اس طریقے سے کہئے کہ یہ دوعنوان رسول اور نبی ان عناوین میں سے ہیں کہ ہر وقت ایک ساتھ ذکر ہوجائیں تو الگ الگ اور تنافی کا معنی دیتے ہیں جیسا کہ مذکورہ دو آیتوں کی طرح ۔ اس صورت میں رسول کےعنوان کو ایک مختص اور الگ خصوصیت کے ساتھ ملاحظہ کیا جائے گا اور یہ خصوصیت نبی پر صدق نہیں آئے گی یعنی رسول جو پیغام الٰہی کو لوگوں تک پہنچانے کے علاوہ کوئی اور رسالت بھی دوش پر لئے ہو، اور جب تک دونوں الفاظ باہم نہ آجائیں، متصادق ہے، یعنی دو مفہوم ملکر ایک مصداق پر اشارہ کرتے ہیں۔ جیسا کہ مذکورہ آیتوں کی طرح جو موضوع کے ابتداءمیں ذکر ہوئیں۔(۱۱)

جو اب تک بیان ہوا وہ ان دو الفاظ کے لغوی مفہوم اور اس کے استعمال کے مواردتھے جس کا ذکر قرآن کریم میں ہوا تھا، لیکن روایات اور اسلامی احادیث کی طرف رجوع کرنے کے بعد دو اور مفہوم رسول اور نبی کے لئے ملتے ہیں اس فرق کے ساتھ کہ نبی وہ ہے جو پیغامِ پروردگار کو عالم خواب میں حاصل کرے اور رسول وہ ہے کہ وحی کا فرشتہ اس کے پاس حاضر ہوکر پیغام الٰہی کو بیداری کی حالت میں اس تک پہنچادے، مثال کے طور پر ان روایات پر توجہ فرمائیں:

امام محمد باقر (ع) سے رسول ، نبی اور محدّث کے بارے میں سوال ہوا : جواب میں آپ (ع)نے فرمایا: رسول وہ ہے جو فرشتہ وحی اس کے پاس حاضر ہوتا ہے جس طرح کہ آپ اپنے ساتھی سے گفتگو کرتے ہیں ، اور نبی وہ ہے جو فرشتہ وحی کو عالم خواب میں دیکھتا ہے جیساکہ وہ چیزیں جو حضرت ابراہیم نے عالم رؤیا میں دیکھی ۔ امام (ع) سے سوال پوچھا گیا: نبی کو کیسے معلوم ہوتاہےجو عالم رؤیا میں دیکھا ہے، وہ صحیح ہے اور حقانیت کی بنا پر ہے؟ امام صادقؑ نے فرمایا: اللہ تعالی اس مطلب کو اس پر آشکار کرتا ہے اور رسول اکرمؐ نبی بھی ہیں ۔ محدث وہ ہے کہ پیغام الہی کی آواز جس کی کانوں تک پہنچے مگر کسی کو نہ دیکھے ۔(۱۲)

زرارہ کہتا ہے: میں نے امام باقر (ع) سے اللہ تعالی کے اس کلام کے بارے میں جو فرمایا ہے:

وَ كانَ رَسُولاً نَبِيًّا ۔ پوچھا اور ان دونوں کے فرق کے بارے میں پوچھا ؛ امامؑ نے جواب میں فرمایا:

نبی وہ شخص ہیں جو وحی کےفرشتہ کو خواب میں دیکھتے ہیں اور ان کی آواز کو بھی سنتے ہیں لیکن عالم بیداری میں ان سے ملاقات نہیں کرتے ہیں اور رسول وہ ہے جو بیداری کی حالت میں اس فرشتہ کو دیکھتے بھی ہیں اور بات بھی کرتے ہیں ۔ زرارہ کہتا ہے: میں نے امامؑ سے امام کا مقام کے حوالےسے پوچھا: تو فرمایا: امام فرشتہ الٰہی کی آواز کو سنتا ہے لیکن نہ خواب میں اور نہ بیداری میں اس کو دیکھتے ہیں اس وقت اس آیت کو تلاوت فرمایا: وما ارسلناک من رسول ولا محدث ۔(۱۳)

۳ ۔ ۴ ۔ بشیرونذیر :

( كاَنَ النَّاسُ أُمَّةً وَاحِدَةً فَبَعَثَ اللَّهُ النَّبِيِّنَ مُبَشِّرِينَ وَ مُنذِرِين ) (۱۴)

لوگ ایک ہی دین (فطرت) پر تھے، (ان میں اختلاف رونما ہوا) تو اللہ نے بشارت دینے والے اور تنبیہ کرنے والے انبیاء بھیجے۔

نذیر کا معنی ہے ڈرانے والا اور بشیر کا معنی بشارت اور خوشخبری دینے والا یہ دونوں لفظ وہ عمومی عناوین میں شامل ہیں جو انبیاءالٰہی کے بارے میں وارد ہوئے ہیں اس فرق کے ساتھ کہ بشیر کا عنوان کبھی قرآن کریم میں تنھا استعمال نہیں ہو اہے اور ہمیشہ نذیر کے عنوان کے ساتھ آیاہے ، لفظ نذیر کے برعکس جو تنہا بھی استعمال ہوا ہے "ًوَ إِنْ مِنْ أُمَّةٍ إِلاَّ خَلا فيها نَذير (۱۵) یہ فرق ایک تربیتی مطلب کی طرف اشارہ کررہا ہے وہ یہ ہے کہ تہدید کے عنصر کا نقش موضوع تربیت میں عنصر امید سے زیادہ مؤثر ہے ، خصوصا ایسے شرائط میں جو ہم انسان سے چاہتےہیں کہ ایسے واقعات کے سامنے جو ان کے ساتھ کوئی تعلق بھی نہیں ہے ظاہری طور پر سرتسلیم خم کرکے ان سے یہ چاہتےہیں کہ اپنے نفسانی خواہشات سے صرف نظرکرے، تو ان حالات میں عامل تہدید کا کردار بہت ہی اساسی اور اہمیت کےحامل ہوتا ہے ۔

۵ ۔ مبیّن وحی: وحی بیان کرنے والا:

لوگوں کے لئے وحی الٰہی کی تبیین اور تشریح کرنا ، مرتبہ اور ذمہ داریوں میں سے ایک اور مرتبہ اور ذمہ داری ہے جو انبیاءکے لئے شمار کئے ہیں اس معنی کےاعتبار سے کہ انبیاء ذمہ دار ہیں پیغام الٰہی کو ابلاغ کرنے کے علاوہ لوگوں کے لئے اس پیغام کی گہرائیاں اور مبہم نقاط کو تشریح کرلیں تاکہ پروردگار عالم کا مقصود لوگوں کے لئے واضح ہوجائے۔

اس مقام کو بعض آیات کی اطلاقات کے ذریعہ سے انبیاء کے لئےاستفادہ کرسکتے ہیں :

( وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِه لِيُبَيِّنَ لَهمْ فَيُضِلُّ اللهُ مَنْ يَّشَاءُ وَيَهدِيْ مَنْ يَّشَاءُ وَهوَالْعَزِيْزُالْحَكِيْم ُ ) (۱۶)

ہم نے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اسی قوم کی زبان میں تاکہ وہ انہیں وضاحت سے بات سمجھا سکے پھر اس کے بعد اللہ جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتاہے ہدایت دیتا ہے اور وہی بڑا غالب آنے والا، حکمت والا ہے۔

اس آیت میں وحی کاتبیین اور تشریح بطور مطلق انبیاء الٰہی کے ذمہ داری میں شمار ہوگئی ہے اس صورت میں بدیہی ہے ان کے توضیحات اور تشریحات پیغام الٰہی کی تفسیر کےحوالے سے معتبر ہو اور اس اساس پر عمل پیرا ہونا ہمارے لئے ضروری ہے۔

۶ ۔ قضاوت اورفیصلہ :

انبیاء کی ذمہ داریوں میں سے ایک ذمہ داری لوگوں کے حوالے سے جو لوگوں کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں ان کے درمیان قضاوت اور فیصلہ کرنا ہے ۔ قاضی وہ ہے جولوگوں کے درمیان اختلاف اورجھگڑے کی صورت میں احکام کلی کو جزئی موضوعات پر تطبیق کرے اوراپنے حکم سے نزاع کی سرنوشت کو تعیین کرتا ہے۔ توواضح رہے کہ اس طرح کا کام تمام لوگوں کے بس کی بات نہیں ہے کیونکہ یہ کام انجام دینے کے لئے صلاحیت علمی کے علاوہ خواہشات نفسانی سے دوری اختیار کرنا بھی شرط ہے۔ بعض انبیاء کے اس مقام کی طرف آیات قرآن کریم واضح طور پر روشنی ڈالتی ہیں:

( يٰدَاودُ اِنَّا جَعَلْنٰكَ خَلِيْفَةً فِي الْاَرْضِ فَاحْكُمْ بَيْنَ النَّاسِ ) (۱۷)

اے داؤد! ہم نے آپ کو زمین میں خلیفہ بنایا ہے لہٰذا لوگوں میں حق کے ساتھ فیصلہ کریں۔

۷ ۔ حکومت:

حکومت اور معاشرے کا چلانا پیغمبروں کی ذمہ داریوں میں سے شمار کیا گیا ہے۔ بغیر تردید یہ کہہ سکتے ہیں کہ حکومت اور سوسائٹی کی مدیریت معاشرت کی ایک ضرورت ہے کوئی معاشرہ ایک ایسے حاکم کے وجود سے جو اعلیٰ سوچ رکھنے والا اور جس کا فرمان سب کے لئے نافذ ہو، بےنیاز نہیں ہے ، انسانی معاشر ے میں قوانین آسمانی اجراء کرنے کے لئے ایک صالح مجری کی ضرورت ہے تاکہ ان قوانین کو معاشرے میں اجرا کر سکے ۔

قرآن کریم اس مقام کو بعض انبیاء الٰہی کے بارےمیں صراحتا ذکر فرماتا ہے، ایک آیت میں فرمایا ہے:

( وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِيُطَاعَ بِاِذْنِ اللهِ ) (۱۸)

اور ہم نے جو بھی رسول بھیجا اس لیے بھیجا ہے کہ باذن خدا اس کی اطاعت کی جائے ۔

شاید اس آیت کی اطلاق سے اور تنقیح مناط کے ذریعہ سے اس منصب کو عمومی طور پر تمام انبیاء کے لئے اثبات کرسکے۔ واضح ہے کہ انبیاء کے فرامین پر عمل کرنا سب پر لازم ہے اور ان کے حکومتی اوامر بھی ان کے فرامین میں شامل ہے۔

۸ ۔ امامت اور رہبری:

انبیاءکے منصبوں میں سے ایک اور منصب منصب امامت ہے ۔ بعض انبیاء نبوت کے علاوہ مقام امامت پر بھی فائز تھے۔

قرآن کریم حضرت ابراہیم کے بارے میں یوں فرماتے ہیں:

( وَ اِذِ ابْتَلٰٓى اِبْرٰهیمَ رَبُّه بِكَلِمٰتٍ فَاَتَـمَّهُنَّ قَالَ اِنِّىْ جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ اِمَامًا قَالَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِىْ قَالَ لَا يَنَالُ عَهْدِي الظّٰلِمِيْنَ ) (۱۹)

اور ( وہ وقت یاد رکھو)جب ابراہیم کو ان کے رب نے چند کلمات سے آزمایا اور انہوں نے انہیں پورا کر دکھایا، ارشاد ہوا : میں تمہیں لوگوں کا امام بنانے والا ہوں ، انہوں نے کہا: اور میری اولاد سے بھی؟ ارشاد ہوا: میرا عہد ظالموں کو نہیں پہنچے گا ۔

امام کا معنی لغت میں پیشوا، رہبر اور مقتدا کے ہیں۔ اور امام جماعت اور امام جمعہ وہ ہے جو لوگ نماز میں اس کی پیروی کرتے ہیں اور معاشرے میں بھی امام اسی معاشرے کے پیشوا اور رہبر پر اطلاق ہوتا ہے؛ یعنی وہ شخص جو مختلف شرائط میں معاشرے کی ہدایت اسی کے ہاتھوں میں سپرد کیاگیا ہو۔ چاہئے ہدایت اور رہبری سعادت و صلاح کی طرف ہوجیساکہ قرآن کریم میں فرمایاہے:

( وَجَعَلْنٰهمْ اَئِمَّةً يَّهدُوْنَ بِاَمْرِنَا ) (۲۰)

یاکہ گمراہی اور فساد کی مسیرمیں ہوجیساکہ قرآن کریم میں فرمایاہے:

( وَجَعَلْنٰهمْ اَئمَّةً يَّدْعُوْنَ اِلَى النَّارِ ) ۔(۲۱)

اور ہم نے انہیں ایسے رہنما بنایا جو آتش کی طرف بلاتے... ۔

وہ چیز جو حضرت ابراہیم کی امامت کی آیت میں مورد نظر ہے ، مفہوم لغوی کے علاوہ کوئی اور خصوصیات کی حامل ہے؛ کیونکہ علاوہ اس کے کہ یہ مقام لوگوں کے ساتھ مرتبط رہتا ہے، ایک ایسے مرتبے کا مالک ہے جو نبوت اور امامت سے بھی بالاتر ہے اور ایسا مقام ہے جو نبوت کے بعد حضرت ابراہیمعلیہ السلام کے بڑھاپے اور کہولت سنی کی دور میں اسے عطا ہوا ہے اس مطلب کی مؤیّد اس آیت میں ہے جو حضرت ابراہیم کی زبان سے بیان ہوئی ہے :

( اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ وَهبَ لِيْ عَلَي الْكِبَرِ اِسْمٰعِيْلَ وَاِسْحٰقَ اِنَّ رَبِّيْ لَسَمِيْعُ الدُّعَاءِ ) (۲۲)

ثنائے کامل ہے اس اللہ کے لئے جس نے عالم پیری میں مجھے اسماعیل اور اسحق عنایت کیے، میرا رب تو یقینا دعاؤں کا سننے والا ہے ۔

اور اسی طرح مورد بحث والی آیت بھی حضرت ابراہیمعلیہ السلام کی امامت کی طرف ہمیں متوجہ کراتی ہے جوان کو سخت امتحانات کے بعد ملی اور اس اہم نکتہ کو مدنظر رکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کا ذبح مشکل ترین آزمائشوں میں شمار ہوتی ہے جو اللہ کی طرف سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ہوئی تھی اس تشریعی مقام کی خصوصیات میں سے جیساکہ لفظ امام کے اطلاق سے لزوم و فرمانبرداری اور لوگوں کی اطاعت بطور مطلق اس صاحب منصب اور مقام کی رفتار و گفتار سے مختلف عرصوں میں جیسے حکومت، قضاوت اور احکام الٰہی کی تبیین کرنے کو سمجھ میں آتا ہے، اگرچہ نبوت کی مباحث میں تمام انبیاء کی رفتار و گفتار سے پیروی کرنے کی لزوم پر اشارہ ہوا ہے لیکن وہاں دامن بحث تبیین وحی کی حد سے جو انبیاء کے توسط سے ہوتی ہے اسے آگے نہیں بڑھایا جا سکا ؛ لیکن مقام امامت کی شان کے مطابق مسئلہ لزوم پیروی از امامت میں وسعت پیدا ہوتی ہے۔ حکومت کےموضوع اور قضاوت اور زندگی کی باقی جہات بھی اس مسئلہ میں شامل ہوتی ہیں؛ کیونکہ امام معاشرے کے لئے نمونہ عمل ہیں اور لوگوں پر لازم ہے اپنے زندگی کے ہر میدان اور مختلف جہات میں اس الگو کو اپنائے اور عملی طور پر سارے فردی و اجتماعی فعالیتوں میں اس کو اپنے لئے نمونہ اور پیشوا سمجھے ۔

۹ ۔ انبیاء ماسبق کی تصدیق:

ہر پیغمبر تمام انبیاء ماسبق اور ان کی آسمانی کتابوں کی تصدیق کرنے والے تھے(۲۳) یہ ان کے درمیان ایک مشترکہ خصوصیت شمار ہوتی ہے جوسب انبیاء میں ایک دوسرے کے قبال میں انجام دے رہے تھے۔ اس بارے میں قرآن کریم کی متعدد آیات کو ہم دیکھ سکتے ہیں ہم کچھ مورد بیان کرتے ہیں:

( وَاِذْ اَخَذَ اللهُ مِيْثَاقَ النَّبِيّنَ لَمَآ اٰتَيْتُكُمْ مِّنْ كِتٰبٍ وَّحِكْمَةٍ ثُمَّ جَاءَكُمْ رَسُوْلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِه وَلَتَنْصُرُنَّه ) (۲۴)

اور جب اللہ نے پیغمبروں سے عہد لیا کہ جب میں تمہیں کتاب اور حکمت عطا کر دوں پھر آئندہ کوئی رسول تمہارے پاس آئے اور جو کچھ تمہارے پاس ہے اس کی تصدیق کرے تو تمہیں اس پر ضرور ایمان لانا ہو گا اور ضرور اس کی مدد کرنا ہو گی ۔

( وَلَمَّا جَاءَهُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ عِنْدِ اللهِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَهُمْ نَبَذَ فَرِيْقٌ مِّنَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ كِتٰبَ اللهِ وَرَاءَ ظُهوْرِهِمْ كَاَنَّهُمْ لَا يَعْلَمُوْن ) ۔(۲۵)

اور جب اللہ کی جانب سے ان کے پاس ایک ایسا رسول آیا جو ان کے ہاں موجود (کتاب)کی تصدیق کرتا ہے تو اہل کتاب میں سے ایک گروہ نے اللہ کی کتاب کو پس پشت ڈال دیا گویا کہ اسے جانتے ہی نہیں ۔

( وَهٰذَا كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ مُبٰرَكٌ مُّصَدِّقُ الَّذِيْ بَيْنَ يَدَيْهِ ) (۲۶)

اور یہ کتاب جو ہم نے نازل کی ہے بڑی بابرکت ہے جو اس سے پہلے آنے والی کی تصدیق کرتی ہے ۔

۱۰ ۔ پیغمبر خاتم کی آمد کی خوشخبری :

وحی کا پیغام لانے والوں کی ذمہ داریوں میں سے ایک اور ذمہ داری اپنے بعد میں آنے والے بعض دیگر انبیاء کےظہور کی بشارت دینا ہے ۔ قرآن کریم ایسے انبیاء کو یاد کرتا ہے جو انہوں نے اپنے پیروکاروں کو ان کے بعد آیندہ آنے والے پیغمبر کے ظہور کی بشارت دیں:

( وَاِذْ قَالَ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ يٰبَنِيْٓ اِسْرَاءِيْلَ اِنِّىْ رَسُوْلُ اللهِ اِلَيْكُمْ مُّصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيَّ مِنَ التَّوْرٰیةِ وَمُبَشِّرًا بِرَسُوْلٍ يَّاْتِيْ مِنْ بَعْدِي اسْمُهٓ اَحْمَدُ ) (۲۷)

اور جب عیسیٰ ابن مریم نے کہا: اے بنی اسرائیل! میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں اور اپنے سے پہلے کی (کتاب) توریت کی تصدیق کرنے والا ہوں اور اپنے بعد آنے والے رسول کی بشارت دینے والا ہوں جن کا نام احمدہو گا۔

پیغمبر اعظم ﷺ کی انسان ساز اور مبارک بعثت کے بارے میں انبیاء ماسلف کی بشارت اس طرح تھیں کہ اہل کتاب آنحضرت کو پہچانتے تھے جیساکہ وہ اپنے بیٹوں کو پہچانتے تھے۔ آیندہ مباحث میں ان بشارتوں میں سےکچھ نمونے ذکر کریں گے اور یہاں صرف اسی ایک مورد پر اکتفا کرتے ہیں۔

دوسری فصل

انبیاء الٰہی کے معنوی اور روحانی رتبے

قرآن کریم میں انبیاء کے لئے کچھ رتبے ذکر ہوئے ہیں جو ہم ذیل میں بیان کریں گے:

۱ ۔ صالح:

متعدد آیات میں انبیاء کی وصف صالح سے توصیف ہوئی ہے ۔

( وَوَهَبْنَا لَهٓ اِسْحٰقَ وَيَعْقُوْبَ نَافِلَةً وَكُلًّا جَعَلْنَا صٰلِحِيْنَ ) (۲۸)

اور ہم نے ابراہیم کو اسحاق اور یعقوب بطور عطیہ دیے اور ہم نے ہر ایک کو صالح بنایا ۔

( وَزَكَرِيَّا وَيَحْيٰى وَعِيْسٰي وَاِلْيَاسَ كُلٌّ مِّنَ الصّٰلِحِيْنَ ) (۲۹)

اور زکریا، یحیی، عیسیٰ اور الیاس کی بھی، (یہ سب صالحین میں سے تھے ۔

صالح اس شخص کو کہا جاتا ہے کہ جو کسی چیز کی اہلیت اور لیاقت رکھے وہ چیز چاہے معنوی امور میں سے ہو یا مادی امور میں سےہو، بطور مثال جب ہم کہتے ہیں کہ حسن ایک صالح شخص ہے فلاں ٹرسٹ کو چلانے کے لئے ، یعنی وہ اس ٹرسٹ کو چلانے کی صلاحیت اور قابلیت رکھتا ہے ۔یہ کہ جب ہم کہتے ہیں وہ فلاں اموال کی حفاظت کرنے کے لئے ایک صالح فرد ہے یعنی اس میں اموال کی حفاظت اور حراست کے لئے قابلیت ہے۔ اور اس وقت جب اس خصلت کو عمومی طور پر اور ہر قسم کے قید سے مبرا کسی کے لئے استعمال کرتے ہیں، تو غالبا اسی معنی میں ہے جو شخص شایستہ اور لیاقت رکھتا ہے تاکہ اپنے پروردگار کی رحمت سے فیضیاب ہوجائے اور یہ بدیہی ہے کہ اس قابلیت کے مختلف مراتب و درجات ہیں جو ہر شخص اپنے کمالات کے مطابق اس سے فیضیاب ہوتاہے اور فائدہ اٹھاتاہے۔

۲ ۔ صدّیق:

صدیق، انبیاء کی صفات میں سے ایک صفت ہے جو قرآن کریم میں آئی ہے اور مبالغہ کا صیغہ ہے، مادہ صدق سے ۔یہ سچائی اور درستی کا معنی دیتاہے۔لہذا صدیق یعنی وہ ہے جو رفتار و کردار میں سچا ہو ، سارے انبیاء ایسے تھے جو بھی بولتے تھے سچ اور صحیح تھا اور اپنے گفتار پر عمل بھی کرتے تھے، اب آیات میں سے دو نمونہ پر توجہ فرمائیں:

( وَاذْكُرْ فِي الْكِتٰبِ اِبْرٰهيْمَ اِنَّه كَانَ صِدِّيْقًا نَّبِيًّا ) (۳۰)

اور اس کتاب میں ابراہیم کا ذکر کیجیے، یقینا وہ بڑے سچے نبی تھے ۔

( وَاذْكُرْ فِي الْكِتٰبِ اِدْرِيْسَ اِنَّه كَانَ صِدِّيْقًا نَّبِيًّا ) (۳۱)

اور اس کتاب میں ادریس کا (بھی) ذکر کیجیے، وہ یقینا راستگو نبی تھے ۔

۳ ۔ خلیل:

خصلتوں میں سے ایک خصلت جو حضرت ابراہیمعلیہ السلام کے بارےمیں صراحتا ذکر ہوئی ہے صفت خلیل ہے( وَاتَّخَذَ اللهُ اِبْرٰهيْمَ خَلِيْلًا ) (۳۲)

اور ابراہیم کو تو اللہ نے اپنا دوست بنایا ہے ۔

خلیل، خلّت کے مادہ سے فقر اور تنگدستی کا معنی دیتاہے اور ایک شخص کا خلیل وہ ہے جو اپنی تمام حاجتوں اور خواہشات کو اس سے طلب کرے اور اپنے سارے امورکو اس پر چھوڑدے، حضرت ابراہیمعلیہ السلام نے اپنے سارے کاموں کو اللہ تعالی پر موکول کیا، اپنے کاموں میں خداوند متعال کے علاوہ کسی اور سے طلب نہیں کیاکرتے تھے اور پروردگارعالم نے بھی اس کے تمام امور کو بہترین طریقے سے منزل مقصود تک پہنچا دیا۔

۴ ۔ مخلص:

ایک اور صفت جو انبیاءکے لئے آئی ہے مخلص ہے ، بطور مثال مندرجہ ذیل آیت میں ارشاد ہوتاہے:

( وَاذْكُرْ فِي الْكِتٰبِ مُوْسٰٓى اِنَّه كَانَ مُخْلَصًا وَّكَانَ رَسُوْلًا نَّبِيًّا ) (۳۳)

اور اس کتاب میں موسیٰ کا ذکر کیجیے، وہ یقینا برگزیدہ نبی مرسل تھے ۔

کچھ اور آیات میں یہی صفت دوسرے انبیاء کے لئے ذکر ہوئی ہے ۔ یہ خصلت عصمت کی صفت کے ساتھ مطابقت رکھتی ہے اور انبیاء الٰہی کی عصمت کے ابحاث میں مورد بحث واقع ہوتی ہے ۔

۵ ۔ صابر:

صابر کا معنی استقامت اور بردباری ہے یہ صفت ان طاقتوں کے مقابلے میں استعمال ہوتی ہے جو انسان کو اپنے آخری ہدف اور انسانی کمال سے دور کرتی ہے ، یہ صفت بھی انبیاء الٰہی کی خصوصیات میں شمار ہوتی ہے۔

قرآن کریم میں حضرت ایوب علیہ السلام کے لئے بھی یہی صفت بیان ہوئی ہے:

( ...و انّا وجدناه صابراً...) (۳۴) ..ہم نے انہیں صابر پایا... ۔

۶ ۔ علم و آ گاہی:

جیساکہ کلام کی کتابوں میں علم انبیاء کے موضوع میں ذکر ہوچکا ہے ۔ علم اور آگاہی سارے انبیاء کی خصوصیات میں سے شمار ہوتی ہے، البتہ معمولی اور عادی طریقے سے اس علم کو حاصل نہیں کرسکتے اور اس علم کی سطح میں بھی سارے انبیاء مساوی اور برابر نہیں ہیں، قرآن کریم نے متعدد آیات میں علم انبیاء کی طرف اشارہ کیا ہے من جملہ حضرت داؤدعلیہ السلام اور حضرت سلیمان علیہ السلام کے بارے میں بیان ہوا ہے:

( وَ لَقَدْ آتَيْنا داوُدَ وَ سُلَيْمانَ عِلْماً ) ۔(۳۵) اور بے شک ہم نے داوود اورسلیمان کو علم اور آگاہی بخشی ہے ۔

۷ ۔ مسلم:

بعض آیات میں بڑے انبیاء جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو مسلم کے عنوان سے یاد کیا ہے:

( مَا كَانَ اِبْرٰهيْمُ يَهوْدِيًّا وَّلَا نَصْرَانِيًّا وَّلٰكِنْ كَانَ حَنِيْفًا مُّسْلِمًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ ) (۳۶)

ابراہیم نہ یہودی تھے نہ عیسائی بلکہ وہ یکسوئی کے ساتھ مسلم تھے اور وہ مشرکین میں سے ہرگز نہ تھے ۔

قرآن کی نگاہ میں صحیح اور مقبول دین فقط اسلام ہے اور جو اسلام کے بغیر کوئی دوسرا دین اختیار کرلے تو پروردگار عالم کی بارگاہ میں قابل قبول نہیں ہے۔

( وَمَنْ يَّبْتَغِ غَيْرَ الْاِسْلَامِ دِيْنًا فَلَنْ يُّقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَفِي الْاٰخِرَةِ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ ) (۳۷)

اورجو شخص اسلام کے سوا کسی اور دین کا خواہاں ہو گا وہ اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گااور ایساشخص آخرت میں خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہو گا ۔

لیکن یاد رکھنا چاہئے کہ اسلام سے مراد اس کے لغوی مفہوم ہے یعنی پروردگار کے سامنے تسلیم رہنا، جو اس کی حد نصاب توحید کے ابواب میں تفصیل سے بیان ہوگا۔ لہذا اگر کہا جائے کہ حضرت ابراہیم اور باقی تمام انبیاء دین اسلام کی پیروی کرتےتھے ، اس کا معنی یہ ہے کہ بغیر قید و شرط کے احکام و فرامین الٰہی کے سامنے تسلیم تھے۔ اور بعض آیات سے یہ نکتہ بطور روشن واضح ہوتاہے:

( اِذْ قَالَ لَه رَبُّهٓ اَسْلِمْ قَالَ اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعٰلَمِيْنَ ) (۳۸)

(ابراہیم کا یہ حال بھی قابل ذکر ہے کہ) جب ان کے رب نے ان سے کہا: (اپنے آپ کو اللہ کے) حوالے کر دو، وہ بولے: میں نے اپنے آپ کو رب العالمین کے حوالے کر دیا ۔

قرآن کریم انبیاء کے کچھ اور خصلتوں کو بھی ہمیں یاد دلاتا ہے جیسے صادق الوعد عہد و پیمان پر وفادار افراد اخیار نیک اور پسندیدہ لوگ، حلیم بہت صابر و بردبار، اوّاب اللہ تعالی کی طرف بہت زیادہ توجہ رکھنے والا، اسی طرح سے اور بہت کچھ فضائل اور کمالات ہیں لیکن بحث طولانی ہونے کی وجہ سے ہم ان کے ذکر کرنے سے صرف نظر کرتے ہیں۔