خلافت و امامت کے بارے میں سوالات

خلافت و امامت کے بارے میں سوالات0%

خلافت و امامت کے بارے میں سوالات مؤلف:
قسم: امامت

خلافت و امامت کے بارے میں سوالات

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

مؤلف: ابو مھدی قزوینی
قسم: مشاہدے: 65
ڈاؤن لوڈ، اتارنا: 48

تبصرے:

خلافت و امامت کے بارے میں سوالات
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • شروع
  • پچھلا
  • 19 /
  • آگے
  • آخر
  •  
  • ڈاؤن لوڈ، اتارنا HTML
  • ڈاؤن لوڈ، اتارنا Word
  • ڈاؤن لوڈ، اتارنا PDF
  • مشاہدے: 65 / ڈاؤن لوڈ، اتارنا: 48
سائز سائز سائز
خلافت و امامت کے بارے میں سوالات

خلافت و امامت کے بارے میں سوالات

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

خلافت و امامت

کے بارے میں سوالات

مؤلف

ا۔ د۔ ابو مہدی قزوینی

مترجم

سید بہادر علی زیدی قمی

ناشر

جعفریہ ایجوکیشنل سوسائٹی خیرپور (مدرسہ سلطان المدارس)

شناس نا مۂ کتاب

نام کتاب: خلافت و امامت کے بارے میں سوالات

مؤلف: ا۔ د۔ ابو مہدی قزوینی

مترجم: سید بہادر علی زیدی قمی

ناشر: جعفریہ ایجوکیشنل سوسائٹی خیرپور (مدرسہ سلطان المدارس)

کمپوزنگ: شکیل منگی اور شفیق پٹھان

(کمپوزنگ اشاعت دوم: سن شائن کمپوزنگ سنٹر)

سر ورق: وائٹل کمپیوٹرز، حسینی چوک لقمان خیرپور میرس

تعداد: ۱۰۰۰

سن طباعت: جولائی ۲۰۰۶؁ء

اشاعت: دوم

قیمت: ۲۰۰

انتساب

میں اپنی اس مختصر سی کاوش کو حق سے آشنائی حاصل کرنے والوں کے نام مُعَنون کرتا ہوں۔

عرض ناشر

احیاء امر امامت ہر محب اہل بیت علیہم السلام پر فرض ہے اور اس راہ میں اٹھائے جانے والے ہر قدم کو مستحسن شمار کیا جانا چاہیے کیونکہ عالم اسلام کا غالب طبقہ حقانیت مذہب و مکتب اہل بیت ؑ سے نا آشنا ہے ورنہ وہ آفاقی، عقلی اور فطری انداز سے بیان کردہ مسائل کا حل کہیں اور دکھائی نہیں دیتا اور ذرا سی بھی عقل سلیم رکھنے والے کو سراپا تسلیم بنا دیتا ہے۔

خلافت اور امامت سے متعلق یوں تو بہت سی عربی اور فارسی کتابوں کا اردو زبان میں ترجمہ و تلخیص پیش کیا گیا ہے مگر حضرت آیت اللہ ڈاکٹر ابو مہدوی قزوینی مدظلہ العالی کی تحریر کا اردو زبان میں انتہائی سلیس اور سادہ زبان میں ترجمہ جو کہ بعض اوقات خود تالیف و تصنیف سے زیادہ مشکل کام ہے انجام دیا ہے عمدۃ العلماء و سلطان الافاضل مولانا سید بہادر علی زیدی صاحب پرنسپل مدرسہ جامعہ امام حسین ؑ (لقمان) خیرپور میں جسے صدر جعفریہ ایجوکیشنل سوسائٹی کے تعاون سے ادارہ ہذا پیش کرنے کی سعادت حاصل کر رہا ہے۔ ہماری خواہش ہے خیرپور مطبوعات کی دنیا میں مقام حاصل کرے اور انشاء اللہ یہ ادارہ اس ہدف کو بھی حاصل کرنے میں کامیاب رہے گا۔

و السلام

(اراکین) جعفریہ ایجوکیشنل سوسائٹی خیرپور میرس (مدرسہ سلطان المدارس)

تاریخ: ۳ جمادی الاول ۱۴۲۷ ؁ھ ق بمطابق ۳۱ مئی ۲۰۰۶ ؁ء

پیش گفتار

حجۃ الاسلام و المسلمین علامہ سید رضی جعفر نقوی النجفی

بانی تنظیم المکاتب و پرنسپل جامعۃ النجف کراچی

عزیز محترم مولانا سید بہادر علی زیدی قمی صاحب نے حضرت آیت ڈاکٹر ابو مہدی قزوینی کی کتاب کو اُردو کے قالب میں ڈھال کر نوری کتابت کے ذریعہ قارئین کرام تک پہنچانے کی ایک لائق تحسین کوشش کی ہے۔

"خلافت و امامت کے بارے میں سوالات" تو تاریخ کے ہر دور میں اغیار اور مخالفین کی طرف سے آتے رہے ہیں اور ہمارے جیّد اور بلند مرتبہ علمائے کرام نے اُن کے مدلّل جواب دے کر مخالفین کی سازشوں کے تانے بانے بکھیرے ہیں۔

لیکن انقلاب اسلامی کی حیرت انگیز کامیابی کے بعد نجدیت اور ناصبیت کی طرف سے اس موضوع پر نئے انداز سے فتنہ گری کی جا رہی ہے جس سے اتحاد اسلامی کی روح بھی مجروح ہو رہی ہے۔

ایران کے عظیم المرتبت عالم دین آیت ڈاکٹر ابو مہدی قزوینی مدظلہ العالی نے ایک نئے انداز سے اس موضوع پر قلم اُٹھاکر مخالفین کے اعتراضات کے دندان شکن جواب دیئے ہیں اور عزیز محترم مولانا سید بہادر علی زیدی قمی صاحب نے بہت محنت اور جانفشانی سے اُس کا ترجمہ کرکے اُردو داں حضرات تک پہنچانے کی سعی جمیل کی ہے۔

مولانا سید بہادر علی زیدی صاحب نے خیرپور میں تنظیم المکاتب کے مدرسہ میں تعلیم حاصل کی پھر جامعۃ النجف (کراچی) میں زیر تعلیم رہے اور بہت اچھے نمبروں سے کامیابی حاصل کرکے اعلیٰ تعلیم کے لئے قم تشریف لے گئے، اور اب جامعہ امام حسین ؑ (لقمان خیر پور) میں پرنسپل کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔

ادارہ تنظیم المکاتب اور جامعۃ النجف کی طرف سے اُن کو ان کی علمی خدمات پر مبارکباد پیش کرتا ہوں، مالک دو جہاں اُنہیں شاہراہ حیات پر ہمیشہ کامیاب و کامران رکھے اور دین مبین کی زیادہ سے زیادہ خدمت انجام دینے کی توفیق کرامت فرمائے۔

آمین

دعاگو، سید رضی جعفر نقوی

(یکم جمادی اوالیٰ، ۱۴۲۷ ھ)

عرض مترجم

بسم اللہ الرحمن الرحیم

اس مختصر مجموعہ میں محترم مؤلف نے مکتب اہل بیت ؑ کے مخالفین کی چند تہمتیں نقل کی ہیں اور ان کے جوابات دیتے ہوئے خلافت و امامت سے متعلق چالیس سوالات پیش کیئے ہیں اس کے علاوہ اہل سنت کی مستند کتب سے استفادہ کرتے ہوئے کچھ حقائق بھی پیش کیئے ہیں لہذا معارف اسلامی سے آشنائی حاصل کرنے والے شائقین اور حق کی جستجو کرنے والوں کو اس مختصر مجموعہ کے مطالعہ کی دعوت دی جاتی ہے۔

قارئین کی مزید دلچسپی و جستجو اور معلومات کے لئے ہم نے اس کتاب کے آخر میں آیۂ تبلیغ پر مختصر تبصرہ اور خطبۂ غدیر بھی ضمیمہ کے طور پر شامل کر دیا ہے۔

تقدیر نامہ

حجۃ الاسلام مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی قمی خطیب مسجد باب العلم کراچی

صدر جعفریہ ایجوکیشنل سوسائٹی خیرپور میرس (مدرسہ سلطان المدارس)

اعلیٰ ظرف، خوش طبع، خطیب ِ عمدۃ البیان، اخ العالم، ذاتی و خاندانی شرافت سے آراستہ، خوش مزاج و غم گسار والد کے فرزند، پرنسپل مدرسہ جامعہ امام حسین ؑ اور میرے اسکول کے ساتھی اور بھائی جناب مولانا سید بہادر علی زیدی زید عزہ کی در دست کوشش کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے کیوں کہ جامعہ امام حسین ؑ کے قیام کی ابتدائی کوششوں کے دوران اپنی تحریری صلاحیتوں کو یاد رکھتے ہوئے ایسے آثار قائم کرنا آسان نہ تھا یوں تو پاکستان میں علماء کرام کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے مگر تصنیفی اور تالیفی کاوشوں میں خاص ترقی دکھائی نہیں دیتی کیوں کہ ترجمہ ایک ایسا مشکل کام ہے کہ اگر سرمایہ علمی موجود ہو تو تالیف و تصنیف اس سے کہیں آسان تر ہے اور تقلیدی مذاج سے نکل کر تخلیقی مذاج کو نمو عطا کرتی ہے میرے بھائی مولانا سید بہادر علی زیدی مدظلہ العالی نے اس عظیم ترجمے کی کوشش کے ذریعے ہمارے سر کو فخر سے بلند کر دیا ہے خدا ا نہیں اور ترقی عطا کرے۔

والسلام

سید شہنشاہ حسین نقوی قمی

تاریخ: ۳ جمادی الاول ۱۴۲۷ ؁ ھ ق بمطابق ۳۱ مئی ۲۰۰۶ ؁ء

سرمایۂ افتخار

از قلم: حجۃ الاسلام مولانا فخر الحسنین محمدی مدظلہ العالی

بسمہ عز شانہ

میرے ہزاروں شاگردوں میں سے چند شاگرد میرے لیے قابل فخر ہیں اور ان چند میں امتیازی خصوصیات سے مالا مال شخصیت عمدۃ الافاضل مولانا سید بہادر علی زیدی قمی صاحب سلمہ کی ہے جو قوم و ملت کے لیے بھی سرمایۂ افتخار ہیں۔

تقریباً بیس برس پہلے میں نے عزیز موصوف کو تحصیل علم دین کی نصیحت کی تھی جس کے نتیجے میں قوم کو ایک ہمہ صفت موصوف عالم دین حاصل ہوا۔

جامعہ امام حسین علیہ السلام کا قیام، سماجی مسائل و مصروفیات اور تصنیف و تالیف و ترجمہ!! پروردگار شخصیت کی کثیر جہتی کو نظر بد سے محفوظ رکھے۔

عزیز موصوف نے "خلافت و امامت کے بارے میں سوالات" کا ترجمہ بہت آسان زبان میں کیا ہے۔ کتاب کا موضوع انتہائی اہم اور اشاعت وقت کا تقاضا ہے۔ جو کام ہم نہ کرسکے وہ پسر عزیز نے انجام دیا ہے اور اگر پدر نہ تواند پسر تمام کند پر واقعی عمل کیا ہے۔ اس اشاعت پر میری خوشی و سرشاری کی کیفیت قابل فہم ہے۔

پروردگار عالم بطفیل چہاردہ معصومین علیہم السلام عزیز موصوف سلمہ کی توفیقات میں اضافہ فرمائے۔

فخر الحسنین محمدی

۲۶ جمادی الثانی ۱۴۲۷ ھ

قدر دانی

از قلم: حجۃ الاسلام و المسلمین مولانا سید ارشاد حسین نقوی صاحب

بسم اللہ الرحمن الرحیم

کتاب "خلافت و امامت کے بارے میں سوالات" نظر سے گذری جو نہایت مختصر اور جامع ہونے کے ساتھ مدلل اور رواں انداز میں لکھی گئی ہے۔

اصل کتاب فارسی زبان میں ہے جس کو استفادۂ عام کے لیئے مولانا ثقۃ الاسلام سید بہادر علی زیدی قمی سلمہ نے عمدہ اور سلیس ترجمہ کے ساتھ تحریر فرمایا ہے۔

اگرچہ ترجمہ کرنا کسی زبان کا کسی اور زبان میں بہت مشکل کام ہے مگر مولانا نے اس کار مشکل کو آسانی کے ساتھ خوب نبھایا ہے اور ہم عصر صاحبان علم کے لیئے اس مشکل کام کو آسان کرکے دکھایا ہے۔ امید ہے کہ دوسرے علماء و دانشور اس روش سے متاثر ہوکر قوم کو اچھی طرح علوم و عقائد سے آشنا کریں گے۔

آخر میں مولانا کی اس کاوش کو قدر کی نگاہ سے دیکھ کر دعاگو ہوں کہ خداوند متعال ہماری اور انکی توفیقات میں اضافہ فرمائے اور مولانا کی اس محنت و کاوش کو قبول فرمائے آمین۔

احقر سید ارشاد حسین نقوی

۲۸ جمادی الثانی ۱۴۲۷ ھ

تشکر و امتنان

بسم الله الرحمن الرحیم

الحمد لله ربّ العالمین و الصلوة و السلام علی اشرف الانبیاء و المرسلین و علیٰ آله الطیّبین الطاهرین و العاقبة للمتقین

سب سے پہلے میں اپنے استاد محترم حجۃ الاسلام علامہ رضی جعفر نقوی مدظلہ کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے اس کتاب میں پیش گفتار تحریر کرکے میری حوصلہ افزائی فرمائی پھر اپنے اولین استاد محترم معلم اخلاق حجۃ الاسلام مولانا فخر الحسنین محمدی صاحب، حجۃ الاسلام مولانا ارشاد حسین نقوی صاحب اور اپنے مہربان ساتھی حجۃ الاسلام مولانا شہنشاہ حسین نقوی قمی صاحب کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں کہ ان حضرات نے بھی میری خاطر خواہ حوصلہ افزائی فرمائی۔

اور آخر میں صدر جعفریہ ایجوکیشنل سوسائٹی (مدرسہ سلطان المدارس) خیرپور کا شکریہ ادا کرتا ہوں جن کے تعاون سے یہ عوام کے استفادہ کیلئے پیش کی جا رہی ہے۔

احقر سید بہادر علی زیدی قمی