امامیہ اردو دینیات درجہ چہارم جلد ۴

امامیہ اردو دینیات درجہ چہارم 0%

امامیہ اردو دینیات درجہ چہارم مؤلف:
زمرہ جات: گوشہ خاندان اوراطفال
صفحے: 83

امامیہ اردو دینیات درجہ چہارم

مؤلف: تنظیم المکاتب
زمرہ جات:

صفحے: 83
مشاہدے: 4446
ڈاؤنلوڈ: 264


تبصرے:

جلد 1 جلد 2 جلد 3 جلد 4 جلد 5
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 83 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 4446 / ڈاؤنلوڈ: 264
سائز سائز سائز
امامیہ اردو دینیات درجہ چہارم

امامیہ اردو دینیات درجہ چہارم جلد 4

مؤلف:
اردو

۱

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے

۲

امامیہ اردو دینیات

درجہ چہارم

نظیم المکاتب

۳

معلمّ کے لئے ہدایت

۱ ۔ الفاظ کے معنی لکھوا کر یاد کرائے جائیں۔ مطلب ذہن نشین کرایا جائے۔

۲ ۔سبق کے بعد والے سوالات کے جوابات مختصر لکھوا کر زبانی یاد کرائے جائیں۔

۳ ۔مسائل میں جہاں ضرورت ہو وہاں عملی تعلیم دی جائے۔

اور

مسائل زبانی یاد کرا جائیں

۴

پہلا سبق

ضرورت مذہب

درخت جنگل میں بھی اُگتے ہیں ، باغ اور چمن میں بھی لگائے جاتے ہیں لیکن جنگل میں آدمی جاتے ہوئے ڈرتا ہے اور باغ میں جانے کو اس کا جی چاہتا ہے۔ یہ صرف اس لئے ہے کہ جنگل میں کسی قاعدہ اور قانون کے بغیر درخت اُگتے ہیں اور باغ میں قاعدےسے لگائے جاتے ہیں۔ جنگل میں کوئی مالی درختوں کی دیکھ بھال نہیں کرتا ہے اور باغ میں مالی درختوں کی دیکھ بھال کرتا ہے۔

انسانوں کو بھی اگر بغیر قاعدہ اور قانون کے جینے کا موقع دیا جائے تو انسانوں کی آبادی بھی جنگل کا نمونہ بن جائیےگی اور اگر قاعدہ اور قانون سے لوگ زندگی بسر کریںگے تو آدمیوں کی بستیاں جنت کا نمونہ بن جائیںگی۔ لہذا ضرورت ہے ایک ایسے قانون کی جو انسان کو جینے کا طریقہ بتائے اور اسی قانون کا نام مذہب ہے۔ انسانوں کے اسی چمن باغبان اور مالی نبی اور امام ہوتے ہیں جن کو خدا نے ہمیشہ ہماری ہدایت کے لئے بھیجا ہے۔

سوالات :

۱ ۔ انسانوں کا قانون کا پابند ہو کر رہنا ضروری کیاں ہے ؟

۲ ۔ مذہب کسے کہتے ہیں اور اس کا کیا مقصد ہے ؟

۵

دوسرا سبق

کیا خدا نہیں ہے ؟

اس دنیا میں جہاں بےشمار مذہب والے پائے جاتے ہیں وہاں کچھ لوگ لامذہب بھی ہیں۔ یہ لوگ اپنے آپ کو دہریہ کہتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ یہ دنیا بغیر کسی خدا کے ایک دن آپ ہی آپ پیدا ہو گئی ہے اور ایک دن آئےگا جب آپ ہی آپ مٹ جائےگی۔

ان لوگوں کے سامنے دنیا کی کوئی چیز ایسی نہیں ہے جس کے لئے کہا جا سکے کہ یہ خود بخود پیدا ہو گئی ہے لیکن صرف خدا کا انکار کرنے کے لئے یہ کہنے لگے ہیں کہ یہ پوری دنیا بغیر پیدا کرنے والے کے پیدا ہو گئی ہے۔

ہمارے چھٹے امام جعفر صادق علیہ السلام کے پاس ایک دہریہ آیا۔ جس کا نام عبد اللہ ویصانی تھا۔ اس نے اصحاب کے سامنے حضرتؐ سے خدا کے بارے میں بحث کرنا چاہی۔ آپ نے اُس سے پوچھا " تیرا نام کیا ہے ؟"

وہ جواب دئیے بغیر چلا گیا۔ اصحاب نے حیرت سے پوچھا ۔ "حضور ! یہ شخص کیوں چلا گیا۔ یہ تو آپ سے بحث کرنے آیا تھا ؟"

آپ نے فرمایا ۔ " بحث ختم ہو گئی اور وہ اپنی بحث میں ہار گیا اس لئے شرمندہ ہو کر چلا گیا۔ "

اصحاب نے عرض کی۔ " مولا! اس نے تو کوئی بات ہی نہیں کی، پھر بحث کیسے ختم ہو گئی ؟"

آپ نے فرمایا ۔ " میں نے اس کا نام پوچھ لیا۔ وہ سمجھ گیا کہ نام بتانے پر میں فوراً اُس سے سوال کروں گا کہ اگر اللہ نہیں ہے تو پھر تو عبد اللہ کیو نکہ ہے ؟ عبد اللہ کے معنی ہیں اللہ کا بندہ۔ جب اللہ ہی نہیں تو بندہ کہاں سے آ گیا ؟"

حضرت یہ سمجھانا چاہتے تھے کہ بغیر خدا کے بندے کا وجود محال ہے اور جب بندے موجود ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اُن کا پیدا کرنے والا خدا بھی موجود ہے۔

سوالات :

۱ ۔ کیا دہریوں کے سامنے کوئی ایسی چیز ہے جو خود بخود بن گئی ہو ؟

۲ ۔ دہریہ بحث میں کیسے ہارا ؟

۶

تیسرا سبق

اگر دو خدا ہوتے

ہم نے دنیا میں یہ تجربہ کیا ہے کہ جب کسی کام کو دو آدمی مل کر انجام دیتے ہیں تو اُن میں کبھی آپس میں میل جول رہتا ہے ، کبھی اختلاف ہو جاتا ہے۔

میل جول کی صورت میں دونوں ایک دوسرے کی رائے کے پابند اور ایک دوسرے کے مشورہ کے محتاج رہتے ہیں اور اختلاف کی صورت میں کوئی کام انجام نہیں پاتا۔ یہی حال دو خداؤں کا ہے۔ اگر دو خدا ہوتے تو یا آپس میں اتفاق ہوتا یا اختلاف ہوتا۔ اگر دونوں میں اتفاق ہوتا تو دونوں ایک دوسرے کے محتاج اور اس کی رائے کے پابند ہوتے اور محتاجی اور پابندی صرف بندوں میں پائی جا سکتی ہے۔ خدا میں نہیں پائی جا سکتی۔ خدا نہ کبھی کسی کا محتاج ہو سکتا ہے نہ پابند ، ورنہ وہ خدا نہ رہےگا۔ اور اگر دونوں میں اختلاف ہو گیا۔ ایک نے کہا پانی برسنا چاہئیے ، دوسرے نے کہا نہیں برسنا چاہئیے تو اس جھگڑے میں دنیا کا کاروبار درہم برہم ہو جائےگا۔ کیونکہ دونوں کی بات تو چل نہیں سکتی۔ ایک ہی کی چلے گی۔ جس کی بات چلےگی وہ طاقتور ہوگا اور جس کی بات نہ چلےگی وہ کمزور ہوگا۔ جو طاقتور ہوگا اُسی کی خدائی باقی رہےگی اور جو کمزور ہوگا اس کی خدائی ختم ہو جائےگی۔

اسی لئے ہ کو ماننا پڑتا ہے کہ خدا ایک ہے۔

سوالات :

۱ ۔دو خدا ہوتے تو کیا ہوتا ؟

۲ ۔ خدا کو ایک کیاں ماننا پڑتا ہے ؟

۷

چوتھا سبق

غیب پر ایمان

اسلام کی سب سے بڑی خوبی ہے کہ اس نے جہاں انسانوں کو آنکھوں سے کام لینا سکھایا ہے وہاں عقل سے کام لینے کا بھی حکم دیا ہے۔ آنکھ کا کام اُن چیزوں کو دیکھنا ہے جو ظاہر میں اور عقل کا کام ان چیزوں کو دیکھنا ہے جو جائز ہیں اور آنکھوں سے نظر نہیں آ سکتیں۔

دنیا میں بہت سی چیزیں آنکھ سے دیکھنے کے بعد مانی جاتی ہیں۔ مثلا سورج ، چاند ، ستارے ، پہاڑ ، سمندر وغیرہ اور کچھ چیزیں ایسی ہیں جو آج تک کسی کو دکھائی نہیں دی ہیں مگر لوگ ان کو بغیر دیکھے مانتے ہیں جیسے کرنٹ ، روح ، عقل وغیرہ۔ ہم نے بجلی کے تار دیکھے ہیں مگر اس پر دوڑتی ہوئی بجلی نہیں دیکھی ۔ روح کی وجہ سے ہم سب زندہ ہیں مگر کسی نے روح کو دیکھا نہیں۔ عقل سے سب کام لیتے ہیں مگر عقل آج تک کسی کو دکھائی نہیں دی۔

اسی طرح مذہب نے بھی کچھ چیزیں بتائی ہیں جن کا ماننا اور اُن کے ہونے پر یقین و ایمان رکھنا ہر مسلمان کا فرض ہے کیونکہ یہ باتیں خدا اور رسولؐ کی بتائی ہوئی ہیں جو سچے تھے اور ان کی بیان کی ہوئی کوئی بات کبھی غلط نہیں ہو سکتی۔

جن ، ملائکہ ، حور ، غلمان ، جنت ، دوزخ ، کوثر، وغیرہ بہت سی چیزیں ایسی ہیں جن کو خدا نے پیدا کیا ہے مگر وہ نظر نہیں آتی ہیں۔ لیکن ہم مسلمان ان کے وجود کا قرار کرتے ہیں کیونکہ رسولؐ نے بیان کیا ہے کہ یہ چیزیں ہیں۔

غیب پر ایمان لانا ہی حقیقی اسلام ہے جو شخص غیب پر ایمان نہیں رکھتا وہ مسلمان نہیں ہے۔ اسلام خدا کے یقین سے شروع ہوا ہے جو غائب ہے اور قیامت اصول دین کی آخری بات ہے جو غائب ہے۔

۸

بارہویں امامؐ غائب ہیں۔ بحکم خدا انسانوں کی نظروں سے پوشیدہ ہیں۔ آپ کی غیبت پر ایمان رکھنا اور آپ کے وجود کا یقین رکھنا اسلام کا ایک ایسا جز ہے جس کے بغیر اسلام مکمل نہیں ہو سکتا۔

سوالات :

۱ ۔ پھول ، آم ، سیب ، روح ، عقل ، بجلی ۔ ان چیزوں میں کون کون آنکھ سے دیکھی جاتی ہیں اور کون کون عقل سے ؟

۲ ۔ قرآن اور برزخ میں سے آنکھ سے دیکھ کر کس پر ایمان ہوتا ہے اور عقل سے دیکھ کر کس پر ؟

۳ ۔ جس کا ایمان غیبت پر نہیں اس کو مسلمان کہیںگے یا نہیں ؟

۹

پانچواں سبق

توکل

توکل کے معنی ہیں بھروسہ کرنا۔ انسان کو چاہئیے ہر حال میں اللہ پر بھروسہ کرے۔ ساری نعمتیں چھین جائیں تو بھی مایوس نہیں ہونا چاہئیے اور ساری دنیا مخالف ہو جائے تو بھی ڈرنا نہیں چاہئیے۔ جو خدا پر بھروسہ کرتا ہے خدا اُسے ہر نعمت عطا کرتا ہے اور جو خدا سے ڈرتا ہے وہ اور کسی سے نہیں ڈرتا اس لئے کہ اس کو یقین ہوتا ہے کہ ہر نفع اور ہر نقصان خدا کے ہاتھ میں ہے۔ جسے خدا بچائے اسے کوئی مٹا نہیں سکتا اور جسے خدا مٹائے اُسے کوئی بچا نہیں سکتا۔ اور اسی طرح خدا جسے محروم کر دے اُسے کوئی کچھ سے نہیں سکتا اور جسے خدا مالامال کر دے اس سے کوئی کچھ چھین نہیں سکتا۔

جو خدا سے نہیں ڈرتا وہ دنیا کی ہر چیز سے ڈرتا ہے۔جو خدا سے ڈرتا ہے وہ موت سے بھی نہیں ڈرتا ۔ خدا سے نہ ڈرنے والا بزدل ہوتا ہے۔ جو صرف خدا سے امید رکھتا ہے وہ بندوں کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاتا ، بندوں کی خوشامد کرنے کے بجائے اپنے خدا کے سامنے گڑگڑاتا ہے ، نااُمیدیوں میں بھی مایوس نہیں ہوتا ایسے شخص کو خدا ، بندوں کے سامنے ذلیل نہیں کرتا۔

۱۰

جناب ابراہیم علیہ السلام کو جب نمرود اور اس کی قوم نے لاکھوں من آگ میں ڈالا تھا تو آگ کے شعلوں میں جاتے ہوئے آپ نہیں ڈرے کیونکہ آپ صرف خدا سے ڈرتے تھے۔ شعلوں میں جانے کے بعد بھی جناب ابراہیم ؐ مایوس نہیں ہوئے کیونکہ آپ صرف خدا سے امید رکھتے تھے۔ اللہ نے بھی آگ کو ٹھنڈا کر کے جناب ابراہیم کو بچا لیا۔ لہذا ہم کو بھی کبھی مایوس نہیں ہونا چاہئے اور ہمارے دل سے کبھی خدا کا خوف نہیں نکلنا چاہئے۔ ہم کو خدا سے اس طرح نہیں ڈرنا چاہئیے جس طرح ہم ظالم یا درندے سے ڈرتے ہیں کیونکہ اس صورت میں صرف ڈر ہی ڈر ہوتا ہے امید کی کوئی جھلک نہیں ہوتی بلکہ اس طرح ڈرنا چاہئیے جس طرح ہم ماں باپ یا استاد سے ڈرتے ہیں جہاں خوف کے ساتھ امید اور سہارا بھی ہوتا ہے۔

سوالات :

۱ ۔ توکل کے کیا معنی ہیں ؟

۲ ۔ اللہ نے جناب ابراہیم کو آگ سے کیوں بچایا ؟

۳ ۔ اللہ سے کس طرح ڈرنا چاہئیے ؟

۱۱

چھٹا سبق

عدل

عدل کے معنی یہ ہیں کہ خدا ہر برائی سے پاک ہے۔ اُس کی ذات میں ہی مکمل موجود ہے۔ نہ وہ کوئی بڑا کام کر سکتا ہے اور نہ کوئی ایسے کام کے کرنے سے رُک سکتا ہے اور نہ جس کا کرنا ضروری ہو لہذا نہ خدا ظلم کر سکتا ہے اور نہ ظالم کو سزا دینے سے رُک سکتا ہے۔

خدا کے ہر برائی سے پاک ہونے کی دلیل یہ ہے کہ کوئی بھی برا کام کوئی شخص تب کرتا ہے جب اسے اس کی برائی معلوم نہ ہو یا برائی جانتا ہو لیکن کسی نفع کے لئے جان بوجھ کر برائی کرے۔ خدا میں یہ دونوں باتیں نہیں پائی جاتیں۔ وہ عالم ہے لہذا ہر برائی کو جانتا ہے اور غنی ہے لہذا اس کو کسی چیز کی ضرورت یا لالچ نہیں ہے اس لئے وہ برائی نہیں کر سکتا۔

دوسری دلیل خدا کے عادل ہونے کی یہ ہے کہ اس نے بندوں کو حکم دیا ہے کہ ظلم نہ کریں۔ قرؔآن مجید میں بھی یہ حکم بار بار آیا ہے اور ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء بھی اس کا یہ حکم بیان کیا ہے لہذا ظلم نہ کرنے کا حکم دیکر وہ خود کیسے ظلم کو سکتا ہے ؟

۱۲

تیسری دلیل خدا کے عادل ہونے کی یہ ہے کہ خدا نے کہا ہے کہ برے کام کرنے والوں کو دوزخ میں ڈالوں گا اور اچھے کام کرنے والوں کو جنت دوںگا۔ انسان جنت کی لالچ اور دوزخ کے خوف کی وجہ سے اچھے کام کرتے ہیں اور بڑے کاموں کو چھوڑ دیتے ہیں کیونکہ اُن کو خدا کی بات پر بھروسہ ہے لیکن اگر خدا عادل نہ ہو بلکہ ظالم ہو تو ہم سوچ سکتے ہیں کہ ممکن ہے ہم اطھے کام کریں پھر بھی خدا دوزخ میں ڈال دی۔ یہ سوچنے کے بعد نہ خدا پر بھروسہ رہےگا نہ کوئی شخص برا کام کرنے سے باز رہےگا اور نہ کوئی اچھا کام کرےگا۔ اس طرح دنیا برائی سے بھر جائےگی۔

خدا کو عادل ماننا ہم سب پو لازم ہے۔

سوالات :

۱ ۔ خدا کے عادل ہونے کا کیا مطلب ہے ؟

۲ ۔ خدا کے عادل ہونے کی کوئی ایک دلیل بیان کرو ؟

۳ ۔ خدا عادل نہ رہے تو دنیا برائیوں سے کیوں بھر جائےگی ؟

۱۳

ساتواں سبق

نبوت

اس دنیا میں آدمی بھی پیدا ہوتا ہے اور جانور بھی۔ زندگی بھر دونوں کھاتے پیتے ہیں اور رہتے ہیں۔ پھر ایک دن دونوں ہی کو موت آ جاتی ہے۔ ان باتوں میں ہر آدمی اور ہر جانور ایک دوسرے سے ملتے چلتے ہیں۔ لیکن دونوں میں فرق یہ ہے کہ جانور سے اس کے اچھے اور بڑے کاموں کا حساب نہ لیا جائےگا اور اچھے یا بڑے کاموں کی وجہ سے اسے جنت یا دوزخ میں نہ بھیجا جائےگا لیکن انسان مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہو کر اپنے خدا کی بارگاہ میں حاضر ہوگا۔ جس سے خدا خوش ہوگا اس کو جنت کی اچھی نعمتیں ملیںگی اور جس سے خدا ناراض ہوگا اس کو دوزخ میں ڈال دیا جائےگا۔ جانور کی زندگی میں یہ معلوم کرنے کی ضرورت نہیں ہے کہ خدا کن باتوں سے خوش ہوتا ہے اور جن باتوں سے ناراض ہوتا ہے۔ مگر انسان کے لئے ضروری ہے کہ وہ ان باتوں کو بھی معلوم کرے جن سے خدا خوش ہوتا ہے اور ان باتوں کو بھی معلوم کرے جن سے خدا ناراض ہوتا ہے۔

خدا بندوں پر مہربان ہے اس لئے یہ باتیں بتانے کے لئے اس نے ایک لاکھ چوبیس ہزار نبی بھیجے، جن میں تین سو تیرہ بڑے نبی تھے۔ بڑے نبی کو رسول کہتے ہیں۔ تین سو تیرہ رسولوں میں پانچ بڑے رسول تھے جن کو اولو العزم کہتے ہیں۔ ان پانچوں میں سب سے بڑے ہمارے رسول حضرت محمد مصطفےٰ صلے اللہ علیہ و آلہ وسلم تھے جو خدا کے آخری نبی تھے۔ آپ کے بعد نہ کوئی نبی آیا ہے اور نہ آئےگا۔ جتنے لوگوں نے آپ کے بعد نبی ہونے کا دعویٰ کیا ہے وہ سب جھوٹے ہیں۔ جیسے مسیلمہ ، کذاب ، سجاح اور مرزا غلام احمد قادیانی وغیرہ۔

۱۴

جن نبیوں کے نام کتابوں میں ملتے ہیں اُن میں مشہور یہ ہیں :۔

۱ ۔حضرت آدمؐ ۲ ۔ حضرت نوحؐ ۳ ۔ حضرت ادریسؐ ۴ ۔ حضرت ابراہیمؐ

۵ ۔ حضرت اسمعیلؐ ۶ ۔ حضرت اسحاقؐ ۷ ۔ حضرت یعقوبؐ ۸ ۔ حضرت یوسفؐ

۹ ۔ حضرت یونسؐ ۱۰ ۔ حضرت لوطؐ ۱۱ ۔ حضرت صالحؐ ۱۲ ۔ حضرت ہودؐ

۱۳ ۔ حضرت شعیبؐ ۱۴ ۔ حضرت شیث ۱۵ ۔ حضرت داودؐ ۱۶ ۔ حضرت سلیمانؐ

۱۷ ۔ حضرت ذواکفیلؐ ۱۸ ۔ حضرت اَ یلسعؐ ۱۹ ۔ حضرت الیاسؐ ۲۰ ۔ حجرت زکریاؐ

۲۱ ۔ حضرت یحییٰؐ ۲۲ ۔ حضرت موسیٰؐ ۲۳ ۔ حضرت ہارون ۲۴ ۔ حضرت یوشعؐ

۲۵ ۔ حضرت عیسیٰؐ ۲۶ ۔ حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم۔

پانچ ادلواعزم رسول جن کو خدا نے صاحب شریعت بنایا تھا وہ جناب نوحؐ ، جناب ابراہیمؐ ، جناب موسیٰؐ ، جناب عیسیٰ ؐ ، اور حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہیں۔

ہمارے رسولؐ کے آنے کے بعد پچھلی تمام شریعتیں خدا نے ختم کر دی ہیں۔ اب قیامت تک صرف آپ کی شریعت باقی رہےگی اور صرف اُس کی نجات ہوگی جو آپ کی شریعت کا ماننے والا ہوگا۔

سوالات :

۱ ۔ انسانوں اور جانوروں میں کیا فرق ہے ؟

۲ ۔ انسانوں کو خدا کی خوشی اور ناخوشی کیسے معلوم ہوئی ؟

۳ ۔ دو جھوٹے نبیوں کے نام بتاؤ ؟

۴ ۔ دس سچے نبیوں کے نام بتاؤ ؟

۵ ۔ اب کس کی شریعت باقی ہے اور قیامت تک کس کی شریعت چلےگی ؟

۶ ۔ کن لوگوں کی نجات ہوگی ؟

۱۵

آٹھواں سبق

نبی کے اوصاف

تم جانتے ہو کہ ہر نبی میں چند باتوں کا پایا جانا ضروری ہے۔

۱ ۔ نبی عالم پیدا ہوتا ہے۔ اس کے ماں باپ دادا دادی وغیرہ تمام آباؤ اجداد مسلمان ہوتے ہیں۔ نبی کسی کافر کی نسل میں نہیں پیدا ہوتا بلکہ ہمیشہ پاک و پاکیزہ اور طیب و طاہر نسل میں پیدا ہوتا ہے۔ نبی ہمیشہ شریف اور باعزت گھرانے میں پیدا ہوتا ہے۔ نبی کو کوئی قابل نفرت بیماری نہیں ہوتی ۔ نبی کوئی ایسا کام یا پیشہ نہیں کرتا جو ذلت اور رسوائی کا سبب ہو۔

۲ ۔ ہر نبی معصوم ہوتا ہے۔ اس سے نہ کوئی گناہ سرزد ہوتا ہے نہ کوئی برائی۔ نہ بھول چوک ہوتی ہے اور نہ خطا اور غلطی۔ نبی چونکہ عالم پیدا ہوتا ہے اس لئے ہر گناہ سے نفرت کرتا ہے اور ہر برائی سے بیزار رہتا ہے۔ اسی نفرت اور بیزاری کی وجہ سے وہ کبھی گناہ نہیں کرتا۔ یہ سمجھنا غلط ہے کہ معصوم برائی نہ کرنے اور نیک کام کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ وہ اپنے علم کے باعث اپنے ارادہ اور اختیار سے گناہوں سے بچتا ہے اور نیکیاں بجا لاتا ہے۔

۳ ۔ نبی جتنے لوگوں کی ہدایت کے لئے آتا ہے ان سب لوگوں سے ہر کمال اور خوبی میں بہتر ہوتا ہے۔ نبی کے زمانہ کا کوئی انسان کسی خوبی مین نبی سے افضل نہیں ہو سکتا۔

۴ ۔ کوئی نبی خود بخود نہیں بنتا ہے بلکہ خدا اس کو نبوت دیتا ہے۔

سوالات :ؒ

۱ ۔ کیا نبی کے آباداجداد میں کوئی کافر ہو سکتا ہے ؟

۲ ۔ کیا معصوم اچھے کام کرنے اور بڑے کام نہ کرنے پر مجبور ہوتا ہے ؟

۳ ۔ نبی کن لوگوں سے افضل ہوتا ہے ؟

۱۶

نواں سبق

نبی کی پہچان

خدا نے کس کو نبی بنا کر بھیجا ؟۔ یہ بات ہم کو دو طرح سے معلوم ہوتی ہے۔ ۱ ۔ جو نبی موجود ہے وہ بعد میں آنے والے نبی کا نام پتہ اور نشان بتا کر جائے جیسے عیسیٰ علیہ السلام ہمارے نبیؐ کے آنے کی خبر دی گئے تھے۔ اور آپ نے پیشینگوئی فرمائی تھی کہ میرے بعد ایک نبی آئےگا جو آخری نبی ہوگا اور اس کا نام احمدؐ ہوگا۔ ہمارے نبیؐ کے آنے کی خبر حضرت موسیٰؐ نے بھی دی تھی۔ آپ نے بتایا تھا کہ یثرب کے شہر میں آخری نبی آئےگا، چناچہ یہودی ہمارے نبیؐ کے آنے سے پہلے ہی شہر یثرب میں آ کر آباد ہو گئے تھے۔یثرب مدینہ منورہ کا دوسرا نام ہے۔ یہودی اور عیسائی جناب موسیٰ اور جناب عیسیٰؐ سے خبر سن کر آخری نبی کا انتظار کر رہے تھے مگر ان کی سب سے بڑی بدبختی یہ تھی کہ جب وہ نبی تشریف لائے جن کا انتظار تھا تو بجائے ایمان لانے اور مدد کرنے کے آپ کے دشمن اور سخت مخالف ہو گئے۔

۲ ۔ نبی کے پہچاننے کا دوسسرا ذریعہ معجزہ ہے۔ معجزہ خدا کی دی ہوئی وہ طاقت ہے جس کے ذریعہ نبی ایسے حیرت انگیز کام کر دکھاتا ہے جس کا جواب لانے سے اس کے زمانے والے عاجز ہو جاتے ہیں۔اس طرح زمانہ کے لوگوں کو یقین ہو جاتا ہے کہ معجزہ دکھانے والا خدا کا بھیجا ہوا نبی ہے۔ اسی لئے ہر نبی نبوت کے دعوے کے ثبوت میں معجزہ پیش کرتا ہے۔ جیسے جناب موسیٰ علیہ السلام کا عصا جس نے اژدہا بن کر جادوگروں کی ان تمام رسیوں کو نگل لیا تھا جو جادوگروں کے کرتب کی وجہ سے رینگتے ہوئے سانپ نظر آ رہی تھیں۔ جناب عیسیٰ علیہ السلام مردوں کو زندہ اور بیماروں کو بغیر دوا کے اچھا کر دیتے تھے۔

۱۷

ہمارے نبی حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بھی بہت سے معجزے دکھائے ہیں۔ آپ نے انگلی کے اشارے سے چاند کے دو ٹکڑے کر دئے تھے۔ ایک بار آپ کی انگلیوں سے پانی کا چشمہ جاری ہوا تھا۔ پتھر اور جانور آپ کے حکم پر انسانوں کی طرح آپ کی نبوت و رسالت کی گواہی دیتے تھے۔ درخت آپ کے حکم پر چل کر آپ کے پاس آ جاتے تھے۔ قرآن مجید ہمارے نبیؐ کا سب سے بڑا اور قیامت تک باقی رہنے والا معجزہ ہے جس میں تمام انسانوں اور جنوں کو چیلینج کیا گیا ہے کہ اگر ممکن ہو تو تم سب مل کر اس کا جواب لاؤ مگر آج تک جواب نہیں آ سکا جو قرآن مجید کے معجزہ ہونے کی سب سے بڑی دلیل ہے۔

سوالات :

۱ ۔ نبی کی پہچان کے دو طریقے کیا ہیں ؟

۲ ۔ نبی کو خدا معجزہ کیوں دیتا ہے ؟

۳ ۔ پانچ معجزے بیان کرو ؟

۱۸

دسواں سبق

ہمارے آخری نبیؐ

ہمارے نبیؐ ۱۷/ ربیع الاول ۱ ؁ عام الفیل کو جمعہ کے دن صبح صادق کے قریب مکہ معظمہ میں پیدا ہوئے۔ نبی کریم کی والدہ ماجدہ جناب آمنہؐ خاتون ہیں۔ آپ کے نانا وہب ہیں جو مدینہ منورہ کے بہت باعزت آدمی تھے۔ نبی کریمؐ کی ولادت سے قبل ہی آپ کے والد محترم جناب عبدؐ اللہ کا انتقال ہو گیا تھا۔ جناب ابو طالبؐ آنحضرتؐ کے چچا تھے۔ آپ کی ولادت کے وقت زمین سے آسمان تک ایک نور روشن تھا۔ ملائکہ آسمان سے بڑی تعداد میں زمین پر اُتر رہے تھے۔ شیطان نے گبھرا کر ملائکہ سے پوچھا کہ کیا قیامت آ گئی۔ ملائکہ نے بتایا کہ آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پیدا ہوئے ہیں۔ ہم آسمانوں سے مبارکباد کے لئے آ رہے ہیں۔ شیطان یہ سنکر اسی وقت سے نبی کریم اور اُن کی آلؐ پاک کا دشمن ہو گیا۔

آپ جب چار برس کے تھے تو آپ کی والدہ ماجدہ جناب آمنہؐ خاتون نے مقام ابواء میں انتقال فرمایا۔ آپ آٹھ برس کے تھے جب آپ کی شفیق دادا جناب عبد المطلبؐ نے انتقال فرمایا۔ دادا کے انتقال کے بعد آپ کی پرورش آپ کے حقیقی اور مہربان چچا جناب ابو طالبؐ نے کی جناب ابوطالبؐ مرتے دم تک آپ کے حامی و مددگار اور ناصر و محافظ رہے۔ آپ کی چچی جناب فاطمہؐ بنت اسد حضرت علی عیہ السلام کی والدہ ماجدہ ہیں انھوں نے مثل ماں کے آپ کو پالا۔ آپ بھی ان کو ماں ہی کہتے تھے۔ جب آپ کا سن مبارک پچیس سال کا تھا تو آپ کی شادی عرب کی مشہور خاتون جناب خدیجہؐ سے ہوئی۔ جناب خدیجہؐ نے اپنی ساری دولت اسلام کی تبلیغ پر صرف کر دی۔ جناب خدیجہؐ کے انتقال کے بعد نبیؐ کریم نے بہت سی شادیاں کیں۔

۱۹

لیکن آپ اپنی وفات تک حضرت خدیجہؐ ہی کو یاد فرماتے رہے۔ جب آپ کا سن مبارک چالیس برس کا ہوا تو ۲۷ رجب کو خدا نے آپ کو اعلان نبوت کا حکم دیا۔ تین سال آپ نے پوشیدہ تبلیغ کی اس کے بعد کھل کر تبلیغ کرنے کا حکم دیا۔جب آپ کی عمر اکیاون سال تھی اور اسلام کے اعلان کو گیارہ برس ہو چکے تھے تو چند مہینوں کے فاصلے سے یکے بعد دیگرے جناب ابوطالبؐ اور جناب خدیجہؐ نے انتقال کیا۔ آپ ان دونوں کی موت پر بہت رنجیدہ ہوئے اور اس سال کا نام " غم کا سال " رکھ دیا۔ جب آپ کی عمر ۵۳/ برس کی تھی تو مکہ میں تیرہ سال دین کی تبلیغ کر کے اور سخت ترین مصائب جھیل کر مدینہ کی طرف ہجرت کی۔ ہجرت کی رات دشمنوں نے آپ کا گھر گھیر لیا تھا۔ آپ اللہ کے حکم سے گھر کے باہر نکلے تو دشمن اندھے ہو گئے۔ آپ کو جاتے ہوئے نہ دیکھ سکے۔ آپ نے حضرت علی علیہ السلام کو اپنے بستر پر سلا دیا۔ دشمن بھرا بستر دیکھ کر رات بھر یہی سمجھتے رہے کہ نبیؐ کریم آرام فرما رہے ہیں اور حضرت علی علیہ السلام دشمنوں کی کھینچی ہوئی تلواروں کے سایہ میں رات بھر بڑے اطمینان سے آرام فرماتے رہے۔ دس سال مدینہ منورہ میں آنحضرتؐ نے قیام فرمایا۔ ۶۳ سال کی عمر میں انتقال فرمایا۔ آپ نے جس سال مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کی ہے اسی سال سے یہ سن ہجری شروع ہوا ہے۔ ہجرت کے دوسرے سال آپ نے اپنی لخت جگر اسلام کی شہزادی جناب فاطمہؐ زہرا علیہا السلام کی شادی دین و دنیا کے مولا حضرت علی علیہ السلام سے کی ۱۰ ھ؁ میں آنحضرتؐ نے آخری حج کیا اور حج کی واپسی پر ۱۸/ ذی الحجہ کو غدیر خم کے مقام پر سوا لاکھ حاجیوں کے سامنے دن دوپہر کھلے میدان میں حضرت علی علیہ السلام کو اللہ کے حکم سے اپنا خلیفہ اور جانشین مقرر فرمایا اور تمام مسلمانوں کا حاکم قرار دیا۔

۲۰