امامیہ اردو دینیات درجہ پنجم جلد ۵

امامیہ اردو دینیات درجہ پنجم0%

امامیہ اردو دینیات درجہ پنجم مؤلف:
زمرہ جات: گوشہ خاندان اوراطفال
صفحے: 99

امامیہ اردو دینیات درجہ پنجم

مؤلف: تنظیم المکاتب
زمرہ جات:

صفحے: 99
مشاہدے: 3396
ڈاؤنلوڈ: 139


تبصرے:

جلد 1 جلد 2 جلد 3 جلد 4 جلد 5
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 99 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 3396 / ڈاؤنلوڈ: 139
سائز سائز سائز
امامیہ اردو دینیات درجہ پنجم

امامیہ اردو دینیات درجہ پنجم جلد 5

مؤلف:
اردو

۱

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے

۲

امامیہ اردو دینیات

درجہ پنجم

نظیم المکاتب

۳

معلمّ کے لئے ہدایت

۱ ۔ مثالوں کے ذریعہ مطلب ذہن نشین کرایا جائے۔

۲ ۔سبق کے بعد والے سوالات کئے جائیں جن کے ذریعہ بچہ سمجھا ہوا مفہوم بیان کر سکے۔

۳ ۔ سبق کے بعد والے سوالات مختصر لکھواکر زبانی یاد کرائے جائیں ۔مسائل میں جہاں ضرورت ہو وہاں عملی تعلیم دی جائے۔

اور

ضروری مسائل زبانی یاد کرا جائیں

۴

اصول دین

پہلا سبق

ہم کیوں پیدا ہوئے ؟

اس دنیا میں اللہ نے کوئی چیز بیکار نہیں پیدا کی بلکہ جو کچھ اس نے بنایا ہے کسی نہ کسی مقصد کے لئے بنایا ہے ۔ سورج روشنی دیتا ہے۔ چاند راتوں کے اندھیرے میں اجالا بخشتا ہے۔ بادل پانی برساتا ہے۔ پانی سے کھیتی ہر ی بھری ہوتی ہے۔ جانور انسانوں کے بہت سے کام کرتا ہے۔ سواری ، کھیتی ، سینچائی وغیرہ میں جانوروں سے کام لیا جاتا ہے۔ انسان بھی بیکار نہیں پیدا ہوا ہے بلکہ اللہ کی عبادت کے لئے پیدا ہوا ہے۔

اللہ نے اس دنیا کی ہر چیز انسان کے لئے پیدا کی اور انسان کو اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے۔ اس دنیا میں تم کو یہ اصول نظر آئےگا کہ ہر مخلوق اپنے سے بلند کے لئے پیدا کی گئی ہے۔ گھاس اس لئے پیدا ہوئی ہے کہ اسے جانور کھائے۔ جانور اس لئے پیدا ہوا ہے کہ وہ انسان کو کام آ سکے۔ انسان سے بلند صرف خدا ہے لہذا انسان خدا کے احکام ماننے اور اس کی عبادت کرنے کے لئے پیدا ہوا ہے۔

امام حسن عسکری علیہ السلام ایک دن بچپن میں بچوں کے ساتھ کھڑے تھے۔ سب بچے کھیل کود رہے تھے۔ امام کھیلنے کے بجائے رو رہے تھے۔ ادھر سے بہلول کا گزرنا ہوا۔ بہلول بہت عقلمند اور دیندار آدمی تھے۔ امامؐ کو روتے دیکھ کر رک گئے اور رونے کا سبب پوچھنے لگے۔

۵

تسلی دیتے ہوئے بہلول نے کہا۔ " میں تمہارے لئے بازار سے کھلونے خرید لاتا ہوں۔" حضرت نے کہا۔ " ہم کھیلنے کے لئے نہیں پیدا کئے گئے۔ " بہلول نے سوال کیا۔ " پھر کس لئے پیدا کئے گئے ہیں ؟" حضرت نے فرمایا ۔" ہم کو اللہ نے علم حاصل کرنے اور عبادت کرنے کے لئے پیدا کیا ہے ۔" اور امامؐ نے بہلول کو قرآن مجید کی آیت بھی سنائی جس میں خدا نے کہا کہ ہم انسان کو بیکار نہیں پیدا کیا ہے۔ بہلول امام کی بات سن کر سمجھ گئے کہ یہ کوئی معمولی بچہ نہیں ہے بلکہ زمانہ کا ہادی اور امام ہے۔

ہمارا فرض ہے کہ اپنی زندگی کو کھیل کود میں برباد نہ کریں۔ اللہ کے احکام کی خلاف ورزی نہ کریں۔ ہر کام سے پہلے سوچ لیں کہ اللہ اس سے خوش ہوگا یا ناراض ، جن کاموں سے خدا ناراض ہوگا ان کو نہ کریں۔ صرف وہ کام کریں جس سے خدا خوش ہو چاہے نماز روزہ ہو یا تجارت اور کاروبار۔

سوالات :

۱ ۔ ہم کو اللہ نے کیوں پیدا کیا ہے ؟

۲ ۔ امام حسن عسکری علیہ السلام اور بہلول میں کیا بات چیت ہوئی ؟

۳ ۔ بہلول ، امامؐ کی بات سن کر کیا سمجھے ؟

۴ ۔ ہمیں کون سے کام کرنا چاہئیں اور کون سے نہ کرنا چاہئیں ؟

۶

دوسرا سبق

خدا کی ذات و صفت ایک ہے

خدا ایک ہے۔ اس کے کسی بھی قسم کے حصے نہیں ہو سکتے۔ جو اس کی ذات ہے وہی اس کی صفتیں ہیں اور جو صفتیں ہیں وہی اس کی ذات ہے۔ اگر خدا کی ذات اور صفتیں الگ الگ ہوںگی تو اس کے دو حصے ہو جائیںگے اور خدا ایسا ہے جس کے حصے نہیں ہو سکتے ۔

بندہ کی ذات اور اس کی صفتیں الگ الگ ہوتی ہیں۔ مثلا کام کر سکتے ہیں ۔ بڑے ہو کر ہم میں اچھی یا بری صفتیں پیدا ہوتی ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہم اور ہیں اور ہماری صفتیں اور ہیں ۔ لیکن خدا کو کسی نے پیدا نہیں کیا ہے۔ وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہےگا اور اُس کی صفتیں بھی ہمیشہ سے ہیں اور ہمیشہ رہیںگی۔ اُس کی ذات اور صفتیں میں نہ کوئی فرق ہے اور نہ ہو سکتا ہے۔ اس کی صفتیں عین ذات ہیں۔ وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ سے عالم ہے، قادر ہے ، باکمال ہے اس کا کمال اُس کی ذات سے الگ نہیں ہے۔

سوالات :

۱ ۔خدا اور بندے کی صفتوں میں کیا فرق ہے ؟

۲ ۔ خدا کی ذات اور صفت کا ایک ہونا کیوں ضروری ہے ؟

۷

تیسرا سبق

صفات ثبوتیہ

کوئی چیز بغیر بنانے والے کے نہیں بنتی ہی اس لئے ماننا پڑتا ہے کہ اس دنیا کا کوئی پیدا کرنے والا ہے۔ اُس کو کسی نے نہیں پیدا کیا ہے۔ وہ ہ سب کا خالق ہے۔ خدا کے ماننے والے کا فرض ہے کہ خدا جیسا ہے اس کو ویسا ہی مانے۔ نہ اس کی مورتی بنائے۔ نہ دماغ میں اس کی تصویر سوچے اس لئے کہ ہاتھوں سے بننے والا مجسمہ یا دماغ میں بننے والی خیالی تصویر دماغ کی پیداوار ہوتی ہے اور خدا خالق ہے مخلوق نہیں ہے۔ اس کے لئے چند صفات کا جاننا ضروری ہے جو اس میں پائی جاتی ہیں اور ان کا نام صفات ثبوتیہ ہے۔ صفات ثبوتیہ حسب ذیل ہیں۔

قدیم ۔

یعنی وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہےگا کیونکہ نہ اس کو کسی نے پیدا کیا ہے اور نہ اس کو موت آ سکتی ہے۔

قادر ۔

یعنی خدا ہر چیز پر قادر ہے۔ یعنی کسی کام کے کرنے پر مجبور نہیں ہے

عالم ۔

خدا عالم ہے ۔ یعنی سب کچھ جانتا ہے۔ اسی لئے اس دنیا کے کسی کام میں کبھی کوئی گڑبڑ نہیں ہوتی۔

مدرک ۔ خدا مدرک ہے۔ یعنی بغیر دماغ کے سب کچھ جانتا ہے۔ بغیر آنکھ کے سب کچھ دیکھتا ہے۔ بغیر کان کے ہر آواز سنتا ہے۔ بغیر ہاتھ پیر کے سب کام کرتا ہے۔ اگر وہ اپنے کامو٘ں میں دماغ ، آنکھ ، کان ، ہاتھ اور پیر کا محتاج ہو جائے تو خدا نہ رہےگا اس لئے کہ خدا محتاج نہیں ہے۔

۸

حی ۔

خدا سب کو زندگی اور موت دیتا ہے مگر اسے نہ کسی نے زندگی دی ہے اور نہ اس کو موت آ سکتی ہے۔ وہ حی ہے یعنی ہمیشہ سے زندہ ہے ہمیشہ زندہ رہےگا۔

مرید ۔

خدا مرید ہے یعنی جو کام جب چاہتا ہے کرتا ہے اور جب چاہتا ہے نہیں کرتا ہے۔ جب چاہتا ہے سورج کو چمکاتا ہے ، جب چاہتا ہے چاند نکالتا ہے۔ جب چاہتا ہے پانی برساتا ہے۔ جب چاہتا ہے روک دیتا ہے۔ نہ وہ کسی کام کے کرنے پر مجبور ہے نہ کوئی اس کو کسی کام کے لئے مجبور کر سکتا ہے۔

متکلم ۔

خدا متکلم ہے یعنی جس چیز میں چاہتا ہے اپنی آواز پیدا کر کے اپنے بندوں سے باتیں کر لیتا ہے۔ جیسے جناب موسیؐ سے درخت میں آواز پیدا کر کے باتیں کیں اور ہمارے نبیؐ سے شب معراج حضرت علیؐ کے لہجہ میں باتیں کیں۔

صادق ۔

خدا صادق ہے یعنی اس کا ہر وعدہ پکا ہے۔ وہ ہر بات میں سچا ہے اس لئے کہ جھوٹ بولنا بڑا ہے اور خدا ہر بڑائی سے پاک ہے۔

سوالات :

۱ ۔ خدا کو کیسا مانیں ؟

۲ ۔ خدا کی مورتی بنانے یا اس کی کوئی صورت دماغ میں سوچنے میں کیا خرابی ہے ؟

۳ ۔ خدا کے مدرک ہونے کا مطلب کیا ہے ؟

۴ ۔ " خدا متکلم ہے "۔ مثال دی کر سمجھاؤ ؟

۹

چوتھا سبق

صفات سلبیہ

اگر ہم کسی عالم کو جاہل اور کسی بہادر کو بزدل سمجھیں تو وہ ہم سے کبھی خوش نہ ہوگا۔ اسی طرح اگر ہم خدا کو ایسی صفتوں والا مانیں جو صفتیں اس میں نہیں پائی جاتی ہیں تو خدا کبھی ہم سے راضی نہیں ہو سکتا۔ اس لئے ضرورت ہے کہ ہم ان صفتوں کو بھی جان لیں جو خدا میں نہیں پائی جاتی ہیں اور جن کا ماننے والا خدا کا ماننے والا نہیں ہے۔ ان صفتوں کا نام صفات سلبیہ ہے۔ جو یہ ہیں۔

۱ ۔ خدا مرکب نہیں ۔

مرکب وہ چیز ہوتی ہے جو کچھ چیزوں سے مل کو بنتی ہے جیسے شربت شکر اور پانی سے مل کر بنتا ہے۔ خدا کسی چیز سے مل کر نہیں بنا ہے۔ شکر اور پانی شربت کے اجزاء ہیں اور خدا کا کوئی جز نہیں ہے اس لئے کہ شکر اور پانی پہلے ہوتے ہیں ، شربت بعد میں ہوتا ہے۔ اگر خدا بھی کچھ اجزاء سے مل کر بنا ہوگا تو اجزاء پہلے ہوںگے اور وہ خود بعد میں بنےگا۔ اس طرح نہ وہ قدیم رہےگا نہ خالق رہےگا بلکہ مخلوق ہو جائےگا جو پہلے نہیں ہوتا ہے پھر ہو جاتا ہے۔

۲ ۔ خدا جسم نہیں رکھتا ۔

اس لئے کہ جسم مرکب ہوتا ہے اور مخلوق ہوتا ہے اور خدا نہ مخلوق ہے نہ مرکب ہے۔

۳ ۔ خدا کی صفتیں عین ذات ہیں ۔

یعنی خدا کی صفتیں اس کی ذات سے الگ نہیں ہیں کیونکہ اگر اس کی ذات اور اس کی صفتیں الگ الگ ہونگی تو ذاتی طور پر خدا ان صفتوں سے خالی ہوگا اور جو صفات سے الگ ہو وہ خدا نہیں ہو سکتا۔

۴ ۔ خدا مرئی نہیں ۔

یعنی اس کو دنیا اور آخرت میں کہیں بھی کوئی نہیں دیکھ سکتا ۔ کیونکہ دکھائی دینے والا جسم ہوتا ہے اور خدا جسم نہیں رکھتا۔

۱۰

۵ ۔ خدا کسی چیز میں حلول نہیں کرتا۔

جس طرح کھولتے پانی میں گرمی سما جاتی ہے یا برف میں ٹھنڈک یا جسم میں روح سما جاتی ہے۔ اس طرح خدا نہ کسی چیز میں سما سکتا ہے نہ کوئی چیز اس میں سما سکتی ہے کیونکہ حلول جسموں میں ہوتا ہے اور خدا جسم نہیں رکھتا۔

۶ ۔ خدا مکان نہیں رکھتا۔

یعنی نہ خدا کے رہنے کی کوئی خاص جگہ ہے نہ اس کی طرف اشارہ کیا جا سکتا ہے کیونکہ اشارہ جسم کی طرف کیا جاتا ہے اور خدا جسم نہیں رکھتا۔

۷ ۔ خدا محل حوادث نہیں۔

یعنی خدا میں بدلنے والی کوئی چیز نہیں۔ بدلنے والی چیز نہ ہمیشہ سے ہوتی ہے نہ ہمیشہ رہتی ہے اور خدا ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہےگا۔

۸ ۔ خدا کا کوئی شریک نہیں۔

یعنی نہ خدا کی ذات میں کوئی اسکا شریک ہے نہ اس کی صفتوں میں کوئی اس کا شریک ہے نہ اس کے کاموں میں کوئی شریک ہے اور نہ اس کے علاوہ کسی کی عبادت کی جا سکتی ہے۔ وہ ایک اور اکیلا ہے اور ہر لحاظ سے لاشریک ہے۔

سوالات :

۱ ۔ صفات کا جاننا کیوں ضروری ہے ؟

۲ ۔ خدا کو جسم والا ماننے سے کیا خرابی لازم آئےگی ؟

۳ ۔ خدا قیامت میں بھی کیا دکھائی نہیں دے سکتا ؟

۱۱

پانچواں سبق

خدا قادر و مختار ہے

خدا قادر و مختار ہے۔ یعنی ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ کسی کام کے کرنے سے عاجز نہیں ہے۔ خدا مختار بھی ہے۔ یعنی کسی کام کے کرنے پر مجبور نہیں ہے۔ جس کام کو چاہتا ہے کرتا ہے اور جس کام کو نہیں چاہتا ہے نہیں کرتا ہے۔بلکہ ایک ہی کام کو جب چاہتا ہے کرتا ہے اور جب چاہتا ہے نہیں کرتا۔ جیسے ابراہیم علیہ السلام کے لئے آگ ٹھنڈی کر دی تھی اور جانب موسیٰ علیہ السلام نے جب انگارہ ہاتھ میں اٹھایا تو آپ کا ہاتھ جل گیا کیونکہ آگ کا جلانا یا بجھانا خدا کا مقصد نہ تھا بلکہ نبی کو بچانا مقصد تھا۔ جناب ابراہیم علیہ السلام تب ہی بچ سکتے تھے جب آگ ٹھنڈی ہو جائے اور جناب موسیٰ علیہا السلام تب ہی بچ سکتے تھے جب ہاتھ جل جائے کیونکہ فرعون کو شبہ تھا کہ وہ بچہ جناب موسیؐ ہی ہیں جو اس کی حکومت کو مٹا دےگا اور اگر انگارہ آپ کے ہاتھ نہ جلاتا تو فرعون پہچان لیتا اوت آپ کو قتل کر ڈالتا۔ اس لئے آگ کو ٹھندا کرنا مناسب نہ تھا اور ہاتھ کا جل جانا ضروری تھا۔

خدا اپنے کسی کام میں کسی کے مشورہ اور مدد کا محتاج نہیں ہے نہ کوئی اس کو کسی کام سے روک سکتا ہے۔

سوالات :

۱ ۔ " خدا قادر ہے " اس کا مطلب کیا ہے ؟

۲ ۔ " خدا مختار ہے " اس کا مطلب کیا ہے ؟

۳ ۔ جناب ابراہیم کے لئے آگ کیوں ٹھنڈی ہوئی اور جناب موسی کے لئے کیوں نہیں ہوئی ؟

۱۲

چھٹا سبق

خدا برائی نہیں کرتا

ہم کو معلوم ہے کہ خدا ہر چیز پر قادر ہے یعنی وہ جو طاہے کر سکتا ہے۔

اس سے بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ خدا برائی بھی کر سکتا ہے۔ جھوٹ بھی بول سکتا ہے ، ظلم بھی کر سکتا ہے اور وعدہ کر کے مکر بھی سکتا ہے اس لئے کہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

تم خود سوچو کہ کیا ایسا سمجھنا ٹھیک ہے ؟

قادر ہونے کے معنی ہیں " کر سکنا ، نہ کہ کرنا "۔ اس لئے خدا کے قادر ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ جو چاہے کر سکتا ہے مگر لازم نہیں کہ ضرور کرے۔

جب بری باتوں کو ہم پسند نہیں کرتے تو خدا کیسے پسند کر سکتا ہے

ہم ہر پانی سے منھ دھونے پر قادر ہیں چاہے وہ پانی نجس ہو یا پاک ہو۔ نہر میں بہ رہا ہو یا گندی نالی میں ، لیکن نالی میں بہنے والے گندے پانی سے صرف پاگل ہی منھ دھو سکتا ہے ہم نہیں دھو سکتے۔ اسی سے سمجھ لو کہ ہم گندے پانی سے منہ دھو سکتے ہیں مگر دھوتے نہیں۔ خدا بھی جھوٹ بول سکتا ہے مگر بولتا نہیں۔ ظلم کر سکتا ہے مگر کرتا نہیں۔ وعدہ کر کے مکر سکتا ہے مگر مکرتا نہیں اور برائی کر سکتا ہے مگر کرتا نہیں۔

سوالات :

۱ ۔ قادر ہونے کے معنی کیا ہیں ؟

۲ ۔ خدا برائی کیوں نہیں کرتا ؟ مثال دے کر سمجھاؤ۔

۳ ۔ خدا قادر ہے تو کیا ظلم بھی کرےگا ؟

۱۳

ساتواں سبق

انسان مجبور ہے یا مختار ؟

اس دنیا میں بہت سے کام ہیں جن کا انسان سے کوئی تعلق نہیں٘ ہے۔ مثلا سورج کا نکلنا اور ڈوبنا ، موسم کا بدلنا وغیرہ۔ کام صرف خدا کے ہیں۔ ان کاموں کو بندہ نہیں کر سکتا۔

کچھ کام ایسے ہیں جن کے کرنے میں خدا اور بندے دونوں کا حصہ ہوتا ہے جیسے کھیت جوتنا ، بونا ، پانی دینا ، کھاد ڈالنا ، ہمارا کام ہے۔ درخت کا اُگنا اور اس میں پھول اور پھل پیدا کرنا خدا کا کام ہے۔

بہت سے کام ایسے ہیں جنھیں صرف ہم کرتے ہیں۔ اُن میں خدا شریک نہیں ہوتا جیسے ہم سچ بولتے ہیں یا جھوٹ ، حلال کھاتے ہیں یا حرام ، نماز پڑھتے ہیں یا نہیں پڑھتے ، روزہ رکھتے ہیں یا نہیں رکھتے وغیرہ۔ یہ خالص ہمرے کام ہیں۔ ان کو ہم ہی کرتے ہیں۔ ہمارے ان کاموں میں خدا شریک نہیں ہوتا۔ یہ سمجھنا غلط ہے کہ ہمارے سارے کام اصل میں خدا کے کام ہیں جن کو وہ ہمارے ذریعہ انجام دیتا ہے اور ہم ان کاموں کے کرنے پر مجبور رہیں بلکہ ہم اپنے ان کاموں میں قادر اور مختار ہیں چاہے کریں یا نہ کریں۔

۱۴

ایک مرتبہ ابو حنیفہ نے ہمارے چھٹے امام حضرت جعفر صادق علیہ السلام سے اس مسئلہ پر بحث کی تھی۔ ابو حنیفہ کو خیال میں خدا انسان کے ہر اچھے اور بڑے کام کا ذمہدار تھا۔ امامؐ نے ابو حنیفہ کو جواب دیا کہ اگر انسان کے کام کو صرف خدا کرتا ہے تو اچھے یا بڑے کام کی جزا یا سزا بھی خدا ہی کو (معا ذاللہ) ملنا چاہئے اور اگر انسان اور خدا مل کر اچھے یا بڑے کام کرتے ہیں تو بھی انسان کے ساتھ خدا کو بھی (معاذاللہ) سزا یا جزا ملنا چاہئے لیکن یہ دونوں باتیں غلط ہیں۔ صحیح بات یہی ہے کہ انسان اپنے کام خود کرتا ہے اسی لئے اس کو جزا یا سزا ملےگی۔ امامؐ کی یہ بحث سن کر ابو حنیفہ شرمندہ ہو گئے اور کوئی جواب نہ دے سکے۔

غرض کہ جس طرح یہ کہنا غلط ہے کہ ہم کچھ نہیں کر سکتے بلکہ سب کچھ خدا کرتا ہے اسی طرح یہ کہنا بھی غلط ہے کہ ہم سب کام کر سکتے ہیں۔ ایک بار ہارے مولا حضرت علی علیہ السلام سے کسی نے پوچھا تھا کہ انسان سب کام کر سکتا ہے یا نہیں تو آپ نے فرمایا کہ ایک پیر اٹھا کر کھڑے ہو جاؤ۔ جب اُس نے اپنا ایک پیر اٹھا لیا تو آپ نے فرمایا کہ اب دوسرا پیر بھی اٹھا لو۔ اس نے کہا کہ دوسرا پیر اٹھانے سے معذور ہوں۔ آپ نے فرمایا کہ جس طرح ایک پیر کے بعد دوسرے پیر کا اٹھانا ممکن ہے اسی طرح دنیا میں بہت سے کام ایسے ہیں جو ہمارے بس میں نہیں ہیں لہذا یاد رکھو کہ جس طرح بندہ خدا کے کام میں دخل نہیں دے سکتا اسی طرح خدا بھی بندوں کے کاموں میں شریک نہیں ہے جو جیسا کرےگا اس کو اسی اعتبار سے سزا یا جزا ملےگی۔

سوالات :

۱ ۔ وہ کام کون سے ہیں جن میں انسان کو دخل نہیں ہے ؟

۲ ۔ وہ کون سے کام ہیں جو صرف بندہ کرتا ہے ؟

۳ ۔ "بندہ اپنے کام کو خود کرتا ہے " یہ بات چھٹے امامؐ نے ابو حنیفہ کو کیسے سمجھائی تھی

۴ ۔ کیا انسان ہر کام کر سکتا ہے ؟ حضرت علیؐ نے کیا بتایا ؟

۱۵

آٹھواں سبق

تین سوال ایک جواب

حضرت بہلول نہایت ہی ہوشیار اور عقلمند آدمی تھے۔ حاضر جوابی میں آپ کا جواب نہ تھا۔ ایک دن آپ ایک مسجد کے پاس سے گزرے جہاں ابو حنیفہ اپنے شاگردوں کو سبق دے رہے تھے۔ آپ نے یہ سنا کہ ابو حنیفہ کہ رہے ہیں کہ امام جعفر صادق علیہ السلام کی تین باتیں اپنی سمجھ میں نہیں آتیں۔

٭ وہ کہتے ہیں کہ خدا قیامت کے دن بھی نہ دکھائی دےگا حالانکہ جو یز موجود ہو وہ نظر ضرور آئےگی۔

٭ ان کا کہنا ہے کہ شیطان کو جہنم میں جلایا جائےگا حالانکہ شیطان آگ سے بنا ہے اور آگ آگ کو نہیں جلا سکتی۔

٭ ان کا بیان ہے کہ بندے اپنے کام میں خود مختار ہیں حالانکہ بندے کے بس میں کچھ نہیں ہے۔ جو کچھ کرتا ہے خدا کرتا ہے۔

بہلول کو یہ سن کر غصہ آ گیا اور جیسے ہی ابو حنیفہ باہر آئے۔ ایک ڈھیلا کھینچ مارا۔ ابو حنیفہ کے شاگردوں نے بہلول کو پکڑ لیا اور قاضی کے سامنے لے گئے۔ بہلول نے کہا کہ یہ لوگ بلا وجہ سمجھے پکڑ لائے ہیں، میری کوئی خطا نہیں ہے۔ ابو حنیفہ بولے کہ تم نے مجھے ڈھیلا مارا ہے۔ بہلول نے کہا غلط ہے۔ میں نے نہیں مارا خدا نے مارا ہے۔ تم ابھی کہہ رہے تھے کہ سارے کام خدا کرتا ہے بندہ کچھ نہیں کرتا۔

ابو حنیفہ نے کہا کہ میرے سخت چوٹ آ گئی ہے، درد سے نےچین ہوں اور تم مذاق کر رہے ہو۔

بہلول نے کہا۔ کہاں ہے درد ؟ ذرا دیکھیں تو ؟

۱۶

ابو حنیفہ نے کہا۔ درد بھی کوئی دکھائی دینے والی چیز ہے۔

بہلول نے جواب دیا۔ اگر ہے تو اسے نظر آنا چاہے اس لئے کہ تم کہتے ہو کہ جو چیز موجود ہے وہ دکھائی ضرور دےگی اور پھر ڈھیلے سے تمہیں چوٹ آ بھی نہیں سکتی اس لئے کہ تم کہتے ہو شیطان آگ سے بنا ہے اسے جہنم کی آگ جلا نہیں سکتی۔ تم بھی مٹی کے بنے ہوئے ہو ڈھیلا بھی مٹی کا تھا اس سے تمہیں چوٹ کیسے آئی ؟

ابوو حنیفہ سخت شرمندہ ہوئے اور بہلول ہنستے ہوئے چلے گئے۔

بہلول نے ایک ڈھیلے سے یہ ثابت کر دیا کہ انسان اپنے کاموں کا خود ذمہ دار ہے خدا پر اس کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔

سوالات :

۱ ۔ بہلول کون تھے ؟

۲ ۔ امام جعفر صادقؐ کی کون سی تین باتیں ابو حنیفہ کی سمجھ میں نہ آتی تھیں ؟

۳ ۔ بہلول نے تینوں باتیں ابو حنیفہ کو کیسے سمجھائیں ؟

۱۷

نواں سبق

بارہ امام

حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بہت سی حدیثیں موجود ہیں جن میں آپ نے فرمایا ہے کہ میرے خلیفہ اور امت کے ہادی بارہ ہوںگے۔ بارہ کی قید کا مطلب یہی ہے کہ امام اور خلیفہ نہ بارہ سے کم ہو سکتے ہیں اور نہ بارہ سے زیادہ۔ آج مسلمانوں میں جتنے فرقے پائے جاتے ہیں ان میں صرف شیعہ اثنا عشری ہی ایسا فرقہ ہے جو بارہ اماموں کو مانتے ہیں ورنہ دوسرے فرقوں کے امام اور خلیفہ یا بارہ سے کم ہیں یا زیادہ ہیں یہی ان کے باطل ہونے کی دلیل ہے۔

شیعہ اثنا عشری اسی لئے کہلاتے ہیں کہ اثنا عشری کے معنی بارہ ہیں اور اثنا عشری شیعہ صرف بارہ اماموں کے ماننے والے ہیں اس دلیل سے شیعہ اثنا عشری کا سچا فرقہ ہونا ثابت ہوتا ہے۔ ہم جن بارہ اماموں کو مانتے ہیں ان کے امام ہونے کی بہت سی دلیلیں ہیں۔

پہلی دلیلی ۔

حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ میرے بعد میرے خلیفہ علیؐ ہوںگے اُن کے بعد حسنؐ ان کے بعد حسینؐ ، پھر علیؐ ابن الحسینؐ زین العابدینؐ ۔ ان کے بعد محمدؐ ابن علیؐ الباقرؐ، پھر جعفرؐ ابن محمدؐ الصادقؐ ، ان کے بعد موسیؐ ابن جعفرؐ الکاظمؐ ، پھر علیؐ ابن موسیؐ الرضاؐ ، ان کے بعد محمدؐ ابن علیؐ التقیؐ ، پھر علیؐ ابن محمدؐ النقیؐ ، ان کے بعد حسنؐ ابن علی العسکریؐ ، پھر محمدؐ ابن حسنؐ المہدی ہوںگے۔

معلوم ہوا نبیؐ اپنے بارہ اماموں کے نام مع لقب اور باپ کے نام کے بتلا گئے ہیں لہذا ہر مسلمان کا فرض ہے کہ جب نبیؐ کا بتایا ہوا دین مانا ہے تو انکے بتائے ہوئے اماموں کا بھی اقرار کرے۔

۱۸

دوسری دلیل ۔

پیغمبر اسلامؐ کی مشہور حدیث ہےاِنِّی تارِکٌ فِیکُمُ الثَّقَلینُ کِتَابَ اللهِ وَ اَهلَبَیتِی مَا اِن تَمَسَّکُتُم بِهِمَا لَن تَضِلُّوا بَعدِی وَ لَن یَّفتَرِقَا حَتَّیٰ یَرِدَا عَلَیَّ الحَوضَ ۔ میں تم میں دو بار عظمت اور گر انقدر چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں جن سے وابستہ رہوگے تو کبھی ہرگز میرے بعد گمراہ نہ ہوگے۔ ایک اللہ کی کتاب ہے دوسرے میری عترتٔ ہے وہی میرے اہلبیت ہیں۔ قرآن مجید اور میرے اہلبیتؐ ایک دوسرے کے ساتھ رہیںگے کبھی خدا نہ ہوںگے۔ حوض کوثر پر دونوں میرے پاس آئیںگے۔

امام اسی لئے ہوتا ہے کہ وہ گمراہاہی کو روک سکے۔ پیغمبرؐ اسلام کے ارشاد کے مطابق قرآن اور اہلبیتؐ گمراہی سے بچانے والے ہیں اس لئے ضروری ہے کہ قیامت تک قرآن کے ساتھ کوئی امام بھی رہے جو نبیؐ کی عترت یعنی آپ کی اولاد میں سے ہوا اور ہمارے بارہ امامؐ سب کے سب نبیؐ کے اہلبیتؐ اور آپ عترت ہیں۔ اس حدیث سے ہمارے بارہ اماموںؐ کا امام ہونا ثابت ہوتا ہے کیونکہ بارہ اماموں کے علاوہ جتنے لوگوں نے خلیفہ یا امام ہونے کا دعویٰ کیا وہ نبیؐ کے اہلبیتؐ نہ تھے۔ لہذا ائمہ اہلبیت علیہم السلام کا امام ماننا ہر صاحب ایمان کے لئے ضروری ہے۔

سوالات :

۱ ۔ رسولؐ نے اپنے کتنے جانشین بتائے ہیں اور کس فرقہ کے اماموں کی تعداد بارہ ہے ؟

۲ ۔ نبیؐ نے اپنے جانشین کے نام الدیت ، لقب اور ترتیب کس طرح بتائی تھی ؟

۳ ۔ حدیث ثقلین کسے کہتے ہیں اور اس سے تم کیا سمجھتے ہو ؟

۱۹

دسواں سبق

حضرت علی علیہ السلام کی خلافت

حضرت علی علیہ السلام کی خلافت کے ثبوت ہیں قرآن مجید کی بہت سی آیتیں ، رسول کریمؐ کی بہت سی حدیثیں اور تاریخ اسلام کے بہت سے واقعات پیش کئے جا سکتے ہیں یہاں پر ان میں سے صرف دو دلیلیں لکھی جاتی ہیں۔ حضرت علی علیہ السلام کو شیعہ بھی خلیفہ مانتے ہیں اور سنی بھی۔ فرق یہ ہے کہ سنی حضرات آپ کو چوتھا خلیفہ مانتے ہیں اور شیعہ بلا فصل اور پہلا خلیفہ مانتے ہیں۔ سنی اس لئے خلیفہ مانتے ہیں کہ لوگوں نے اپنے تیسرے خلیفہ کے قتل کے بعد آپ کو خلیفہ تسلیم کر لیا تھا اور شیعہ اس لئے خلیفہ مانتے ہیں کہ رسولؐ کریم اپنی زندگی میں حضرت علی علیہ السلام کو اپنا خلیفہ بحکم خدا بنا گئے تھے۔

پہلی دلیل ۔

جب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کھلی تبلیغ کرنے کا حکم ملا تو آپ نے حکم خدا کے مطابق حضرت علی علیہ السلام کو بھیج کر سب سے پہلے اپنے خاندان کے لوگوں کو بلایا۔ خاندان عبد المطلبؐ کے چالیس آدمی جمع ہوئے۔ حضرت امیرؐ نے رسولؐ کے ارشاد کے مطابق آنے والے مہمانوں کی ضیافت کا بھی انتظام کیا تھا۔ کھانے کی مقدار کم تھی اور کھانے والے زیادہ تھے مگر جب نبی کریمؐ نے دودھ ، روٹی اور گوشت کو پہلے ذرا ذرا سا چکھنے کے بعد مجمع سے کھانے کے لئے کہا تو آپ کی برکت اور آپ کی زبان سے نکلی ہوئی بسم اللہ کے اثر سے تھوڑا کھانا بہت ہو گیا اور کھانے والے کھا کر سیر ہو گئے پھر بھی کھانا بچ رہا۔

۲۰