امامیہ اردو ریڈر درجہ سوم جلد ۳

امامیہ اردو ریڈر درجہ سوم0%

امامیہ اردو ریڈر درجہ سوم مؤلف:
زمرہ جات: گوشہ خاندان اوراطفال
صفحے: 49

امامیہ اردو ریڈر درجہ سوم

مؤلف: تنظیم المکاتب
زمرہ جات:

صفحے: 49
مشاہدے: 7004
ڈاؤنلوڈ: 621


تبصرے:

جلد 1 جلد 2 جلد 3 جلد 4 جلد 5
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 49 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 7004 / ڈاؤنلوڈ: 621
سائز سائز سائز
امامیہ اردو ریڈر درجہ سوم

امامیہ اردو ریڈر درجہ سوم جلد 3

مؤلف:
اردو

۱

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے

۲

امامیہ اُردو ریڈر

درجہ سوم

تنظیم المکاتب

۳

ہدایت

مدرسین کا فرض ہے کہ پڑھنے میں روانی پیدا کرئیں،

تلفظ درست رہے۔

الفاظ کے معنی کھلوا کر یاد کرائیں۔

سبق کے بعد کے مشقی سوالات ضرور حل کرائیں

جا بجا قواعد سمجھا کر ان کی مشق کرائیں جائے

اُردو پڑھانے کے ساتھ املا ضرور کھلوایا جائے

اور

خوشخطی کی کاپی کھلوائی جائے۔

ناشر

۴

اے خدا

سبق ایسا پڑھا دیا تو نے

دل سے سب کچھ بھلا دیا تو نے

کچھ تعلق رہا نہ دنیا سے

شغل ایسا بتا دیا تو نے

بے طلب جو ملا، ملا مجھ کو

بے غرض جو دیا، دیا تو نے

کہیں مشتاق سے حجاب ہوا

کہیں پردہ اٹھا دیا تو نے

جس قدر میں نے تجھ سے خواہش کی

اس سے مجھ کو سوا دیا تو نے

داغ کو کون دینے والا تھا

جو دیا اے خدا دیا تو نے

سوالات

۱ ۔ دوسرے شعر کا مطلب بتاؤ ۔

۲ ۔ خدا نے کیسے پردہ اٹھا دیا ؟

۳ ۔ ان الفاظ کے جملے بناؤ۔ اور معنی بتاؤ۔

۔تعلق ۔ غرض ۔ طلب ۔ خواہش ۔ شغل ۔ داغ ۔ سوا ۔ حجاب۔

۵

دوسرا سبق

ماں باپ کا مرتبہ

ماں باپ کا مرتبہ بہت بڑا ہوتا ہے۔ پروردگار عالم نے ان کے ساتھ اچھے برتاؤ کو واجب قرار دیا ہے۔ جو آدمی ماں باپ کے ساتھ اچھے برتاؤ نہیں کر سکتا وہ دوسروں کے ساتھ کیا برتاؤ کر سکتا ہے۔ ہم کو چاہیے کہ ماں باپ کا ادب کریں۔ ان کی آواز پر اپنی آواز نہ بلند کریں۔ حضرت رسول خدا نے حضرت علی سے ایک وصیت میں ماں باپ اور اولاد دونوں کے حق کو بیان فرمایا۔ آپ نے فرمایا، اے علی باپ پر اولاد کا حق یہ ہے کہ ان کا اچھا بھلا نام رکھے، انہیں ادب سکھائے اچھی جگہ پر رکھے۔ جو ماں باپ اپنی اولاد کو برے راستے پر لگا دیتے ہیں۔ ان پر خدا لعنت کرتا ہے۔ اور جو اپنی اولاد کو نیک راستے پر چلا دیتے ہیں ان پر رحمت نازل کرتا ہے۔ یہی حال اولا کا بھی ہے ان کو چائیے کہ ماں باپ کا نام لے کر نہ پکاریں۔ ان کے آگے نہ چلیں، ان کے برابر نہ بیٹھے، ان کو اپنے سے الگ نہ کریں۔ وہ اگر ڈانٹ بھی دیں تو خاموش رہیں۔ لیکن اگر خدا اور رسول کی مرضی کے خلاف کوئی بات کہیں تو ہرگز ہرگز ان کا کہنا نہ مانیں، اس لئے کہ خدا کا مرتبہ ماں باپ سے بھی زیادہ بلند ہے۔ایسا کام نہیں کیا جس کو وہ خدا اور رسول کےحکم کے خلاف سمجھتے تھے۔

محمد بن ابی بکر

حضرت علی کی حکومت قائم ہوئی اور اس کے خلاف ان کی بہن عائشہ نے بغاوت کی تھی۔ تو حضرت محمد ابن ابی بکر نے اس بات کی پرواہ نہیں کی کہ عائشہ میری بہن ہیں۔ بلکہ حضرت علی کو حق پر سمجھتے ہوئے ان کے ساتھ بہن کے مقابلے پر آ گئے۔ معاویہ کو آپ کا یہ طریقہ سخت باگوار گزرا اس لئے جب حضرت علی نے آپ کو مصر کا گورنر بان کر بھیجا تو امیر شام نے آپ کو شہید کرا دیا ۔ حصرت عائشہ کو بھائی کے مرنے کی خبر ملی تو آپ بہتروئی کیو نکہ اسلام میں شہید پر رونا بدعت نہیں ہے بلکہ عبادت ہے۔

ان الفاظ کے ماعنی بتاؤ :-

واجب ۔ وصیّت ۔ لعنت ۔ رحمت ۔ بغاوت ۔ ناگوار ۔ شہید ۔ بدعت ۔ عبادت۔

سوالات

١۔ ماں باپ کا کیا حق ہے ؟ ٢۔ اولاد کا کیا فرض ہے ؟

٣۔ حضرت محمد ابن ابی بکر کون تھے اور کیوں شہید کر دئے گئے ؟

۶

تیسرا سبق

معجزہ

اہل تاریخ نے لکھا ہے یہ سچّا قصّہ

ایسا قصّہ کہ نہیں جسمیں ذرا بھی شہید

اک یہودی تھا کہ تھا جس کا مدینہ میں مکان

دشمن بانی ، اسلام عدوِ ایمان

اس کی لڑکی کی مقدر سے تھی ایک دن شادی

جمع سب دوست ہوئے بحر مبارکبادی

جو بھی محفل میں تھا وہ ایک سے ایک تھا امیر

ایسی محفل میں کہاں کوئی غریب اور فقیر

دفعتا بات یہ اس قوم کے دل میں آئی

بنت احمد کو بھی بلوائیں پئے رسوائی

یاں ہر ایک شخص کا مبوس میرا نہ تھا

اور وہاں گھر کا ہر انداز فقیرا نہ تھا

آئیں گی بنت محمد جو پھٹے کپڑوں میں

خدمت خانہ سے مٹی سے اٹے کپڑوں میں

دیکھو کہ لوگوں کو زہرا کو ندامت ہو گی

بنت پیغمبر اسلام کی ذلّت ہوگی

۷

سوچ کر دل میں کچھ لوگ چلے سوئے نبی

اور حضرت سے بصر عجز و ادب عرض یہ کی

آج تقریب سے شادی کی ہمارے گھر میں

فاطمہ آئیں تو جان آئے نئے پیکر میں

ہنس کے فرماا پیغمبر نے کہ حدیر سے کہو

تم کو لے جانا ہے زوجہ کو تو شوہر سے کہو

سن کے یہ بات وہ سب آئے قریب حیدر

اور مقصد کو رکھا پیش ولّیِ داور

گپر میں آ کر کہاں حیدر نے کہ اے بنت نبی

آج ہے ایک یہودی کے مکان میں شادی

چاہتے ہیں یہ ہودی کہ وہاں آپ بھی جائیں

انکی تقریب کی رونق کو دو بالا فرمائیں

سر جھکا کر کہاں زہرا نے کہ اے نفس رسول

آپ کے حکم میں کچھ مجھکو نہیں جائے عدد

پو جو حالت ہے میری آپ سے پوشیدہ نہیں

جسم پر میرے بخبر جامہ پوسیدہ نہیں

وعرتیں آئیں گی تقریب میں اہل زر کی

اور ہو جائیں گی تو بہن میری چادر کی

۸

ہنس کے فرمایا کہ تم حق کی ہم آواز بھی ہو

دخترِ ختم رسل صاحب ِ اعجاز بھی ہو

میری خوہش ہے کہ منظور کرو یہ دعوت

اور چاہو تو طلب کر لو لباس جنّت

تھیں یہ باتیں کہ ملک کے لیے لباس آ پہنچا

پاس زہرا کے یہ اللّٰہ کا تحفہ پہنچا

زیب تن کر کے وہ ملبوس چیں بنت نبی

آمد فاطمہ کی دھوم ہ ایک سمت مہکی

دل میں تھا سب کے کہ قسمت سے یہ موقع پایا

وقت تقدیر سے تو ہین نبی کا آیا

پر ہٹی سر سے روا جب تو یہ منظر دیکھا

نور سے فاطمہ کے گھر کو منور دیکھا

غش میں سب گر پڑے اور ہوش کسی کو نہ رہا

چھا گیا بیت عروسی میں عجب سناٹا

سب کو ہوش آیا تو کچھ فکر دلھن کی بھی ہوئی

دی جو جنبش تو کھلا یہ کہ وہ دنیا سے گئی

دیکھ کر یہ ہوا ایک نال و سیون برپا

گھر عورسی کا بنا لمحوں میں ماتم خانہ

گر پڑی بنت نبی سجدے میں اور عرض یہ کی

اے خدا فاطمہ کی ہوگی بڑی بدنامی

۹

لوگ مشہور کریں گے کہ یہ ہیں سبز قدم

ان کے آنے سے ہوا آج خؤشی میں ماتم

ہے دعا میری کہ دے اس کو حیات تازہ

تاکہ ہو منزلِ زہرا کا نہیں اندازہ

اس طرف باب اجابت سے دعا ٹکرائی

اس طرف جسم میں مرسے کے نبی جاب آئی

ہر زبان پر ہو اسلام کا کلمہ جاری

عورتیں بولیں کہ ہم بنت نبی کے واری

پڑ اثر کتنی تھی یہ بنت پیغمبر کی دعا

مردہ زندہ ہوا ہے صل علی صل علی

ان الفاظ کے معنی بتاؤ :-

معجزہ ۔ عجز ۔ پۓ رسوائی ۔ دفعتّہ ۔ ندامت ۔ سوئے نبی ۔ پیکر ۔ دوبالا ۔ عرول ۔ بخبر ۔ بوسیدہ ۔ تقریب ۔ اہل زر ۔ دختر ۔ اعجاز ۔ زیب تن ۔ ملبوس ۔ بھتِ عروسی ۔ جنبش ۔ نالہ وشیون ۔ سبز قدم ۔ باب ۔ اجابت ۔ پراثر ۔ شل علیٰ ۔ حیات ۔ نفس رسول ۔ ولیِ داور ۔ دختر ۔ ختم رسل ۔ واری ۔

سوالات

۱۔ اس معجزہ کو اپنی زبان میں بیان کرو ۔

۲۔ جناب فاطمہ کو شادی میں بلانے سے لوگوں کا کیا مقصد تھا ؟

۳۔ جناب فاطمہ کی دعا سے دلہن کے زندہ ہونے کا کیا اثر ہوا ؟

۱۰

چوتھا سبق

سائنس

اس دنیا میں ایک ایسا زمانہ گزرا ہے، جب مرض تھے دوا نہ تھی تکلیف تھی اور آرام کا سہارانہ تھا، مشکلیں تھی اور ان کا کوئی حل نہ تھا، گھوڑے گدھے کی سواری تھی ہاتھ کا پنکھا تھا، سردی کے لئے آگ تھی، روشنی کے لئے شمع اور لالٹین تھی۔ ایک دوسرے تک دور کی آواز پہنچانے کا کوئی ذریعہ نہ تھا، لوگ بات کرتے تھے اور بات ہوا میں اڑ جاتی تھی، آئینہ میں تصویر دکھائی دیتی تھی اور آئینہ کے ہٹتے ہی مٹ جاتی تھی لوگ بات کرنے میں قریب ہونے کے محتاج تھے۔ اور آج کا زمانہ ایسا ہے جب چلنے کے لئے موٹر اور ریل ہے اڑنے کے لئے ہوائی جہاز اور راکٹ ہے، گرمی کے لئے بجلی کا پنکھا اور کولر ہے، سردی کے لئے ایرکنڈیشنر اور ہیٹر ہے، روشنی کے لئے بلب اور ٹیوب ہیں، آواز پہنچانے کے لئے ریڈیو اور لاؤڈ اسپیکر ہے۔ بات محفوظ کرنے کے لئے ٹیپ ریکارڈ ہے، تصویروں کو باقی رکھنے کے لئے کیمرہ ہے، بات کرنے کے لئے ٹیلیفون ہے، زمین سے آسمان تک جانے کے ذرائع موجود ہیں۔ لیکن کیا تم نے کبھی یہ بھی سوچا کہ ایسا کیوں ہو گیا ؟ یاد رکھو یہ سب سائنس کے کے کرشمے ہیں، انسان کے دماغ نے پوری دنیا کو چھان ڈالا ہے، پانی کا دل اور پتھر کا سینہ چاک کر کے بجلی کی طاقت نکال لی ہے، سائنس نے آدمی کو بہت آرام پہنچایا ہے، اس سے دنیا کو بہت فائدہ پہنچا ہے۔ لیکن یہ بات بھی سمجھنے کی ہے کہ سائنس والوں نے چیزوں سے قوت نکالی ہے۔ قوت پیدا نہیں کی۔ قوتقں کا پیدا کرنے والا کوئی اور ہے۔ اور وہ ہے خدا۔ خدا نے یہ دنیا نہ بنائی ہوتی، اس میں یہ طاقتیں نہ رکھی ہوتیں، انسان کو دماغ نہ دیا ہوتا۔ دماغ میں صلاحت نہ پیدا کی ہوتی صلاحتوں کے لئے حالات سازگار نہ کئے ہوتے تو آج یہ سب کچھ کہاں سے ہوتا۔ اس سے معلوم ہوا کہ دنیا کی ترقی پروردگار کی دین، ہے جس کے لئے اس کا شکریہ ادا کرنا ضروری ہے، ہ بھی اللّٰہ کی بیشمار نعمتوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ہمارا بھی فرض ہے کہ ہم اس کی ان نعمتوں کا شکریہ ادا کریں۔ اسکے احکام پر عمل کریں اور اسکی مرضی کے خلاف کوئی کام نہ کریں۔

۱۱

پانچواں سبق

ہمدردی

عزیزوں اور محتاجوں کی ہمدردی ہی ایک ایسی چیز ہے جس سے انسان کی انسانیت کو پہچانا جاتا ہے، آج کے زمانے میں آپس کی ہمدردی اس قدر رکم ہو گئی ہے کہ ضعیفی میں بیٹا باپ کے کام نہیں آتا، مفلسی میں بھائی سے دور بھاگتا ہے اور جب اتنے قریب کے رشتوں میں ہمدردی نہیں پائی جاتی تو دوسروں کے ساتھ ہمدردی کا کیا سوال پیدا ہوتا ہے۔

دین اسلام نے انسان کو ہر قسم کی ہمدردی کا سبق دیا ہے اور ہمارے لئے امام جعفر صادق نے بھی فرمایا ہے کہ ہمارے شیعوں کو دو باتوں کے ذریعہ پہچانو۔ نماز کے اوقات کی پابندی اور آپس کی مالی ہمدردی۔ لیکن ہمارا یہ عالم ہے کہ سڑک پر کسی فقیر، غریب، ناچار دیکھتے ہیں تو اس کی طرف نظر کرنا بھی عیب سمجھتے ہیں۔ ہمارا سر جھکتا ہی نہیں کہ اپنے سے مکتر لوگوں پر نظر پڑ سکے۔ حالانکہ ہمارے مولا و آقا حضرت علیٰ اور ان کے دونوں فرزند حضرت امام حسین و امام حسن کا طریقہ کچھ اور ہی تھا، مشہور واقعہ ہے کہ جب حضرت علیٰ کی شہادت ہو گئی اور امام حسن و حسین باپ کے جنازے کو کوفہ سے باہر نجف میں دفن کر کے واپس ہوئے تو راستے میں ایک کھنڈر سے کسی کے کراہنے کی آواز سنی۔ آج کے شہزادے ہوتے تو مڑ کر نظر بھی نہ کرتے، لیکن دونوں حضرات امام تھے اور امام کے شہزادے۔ وہ اپنا غم بھول گئے اور کھنڈر کی طرف چل پڑے، قریب جا کر دیکھا تو کیا دیکھا کہ ایک اندھا بیکس و ناچار پڑا ہوا ہے، پو چھا بھائی تیرا کیا حال ہے اس نے کہا کیا پوچھتے ہو ایک بندہ خدا برابر مجھے روزی پہونچایا کرتا تھا۔ آج یین دن ہو گئے کہ نہیں آیا ہے۔ بھوک سے بے دم ہو رہا ہوں۔ آپ نے پوچھا کہ اس بندہ خدا کا نام کیا تھا اس نے کہا کہ اس نے نام نہیں بتایا اور جب میں پچھتا تھا تو یہی کہتا تھا کہ ایک فقیر فقیر کے پاس بیٹھا ہوا ہے۔ایک غریب غریب کے پہلو میں بیٹھا ہے۔ یہ سننا تھا کہ دنوں شہزادے رونے لگے اور فرمایا کہ اے بندہ خدا وہ ہمارے باپ حضرت علیٰ بن ابی طالب تھے آج تین دن ہو ئے کہ مسجد کوفہ میں سجدہ کی حالت میں ان کے سر پر تلوار لگائی گئی اور آج ان کا انتقال ہو گیا ہے۔ ہم انہیں کے جنازے کو دفن کر کے آرہے ہیں۔ نابینا آدمی سر پیٹنے لگا اور کہنے لگا کہ ذرا مجھے بھی اپنے باپ کی قبر پر لے چلو، یہ سن کر دونوں شہزادے اس نابینا کو امام کی قبر تک لے آئے اور وہ وہیں روتے روتے مر گیا۔

۱۲

ان الفاظ کے معنی بتاؤ :-

ضعیفی ، مفلسی، ہمدردی، پابندی، ناچار، شہزارے، جنازہ، نابینا۔

سوالات

۱۔ ہمدردی کے بارے میں امام حضرت صادق کا کیا ارشاد ہے ؟

۲۔ تم میں شیعوں کی نشانی پائی جاتی ہے یا نہیں ؟

۳۔ جناب امیر نابینا کے ساتھ برتاؤ کیا کرتے تھے ؟

٤ ۴ ۔ امام حسن و امام حسین نے کیا برتاؤ کیا ؟

٥ ۵ ۔ تم نے اپنے امام کے طریقہ پر عمل کیا یا نہیں ؟

۱