امامیہ اردو ریڈر درجہ سوم جلد ۳

امامیہ اردو ریڈر درجہ سوم0%

امامیہ اردو ریڈر درجہ سوم مؤلف:
زمرہ جات: گوشہ خاندان اوراطفال
صفحے: 49

امامیہ اردو ریڈر درجہ سوم

مؤلف: تنظیم المکاتب
زمرہ جات:

صفحے: 49
مشاہدے: 2898
ڈاؤنلوڈ: 230


تبصرے:

جلد 1 جلد 2 جلد 3 جلد 4 جلد 5
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 49 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 2898 / ڈاؤنلوڈ: 230
سائز سائز سائز
امامیہ اردو ریڈر درجہ سوم

امامیہ اردو ریڈر درجہ سوم جلد 3

مؤلف:
اردو

دسواں سبق

خودداری

ایک کتّے نے کہا یہ شیر سے ۔ ہے بات کیا

سارے جنگل پر مسلم ہے جو سرداری تری

جانور جتنے ہیں تجھ کو مانتے ہیں بادشاہ

جانتے ہیں گر چہ وہ فطرت ہے خونخواری تری

آدمی بھی کرتے ہیں عزت تری ہر اک طرح

گو یا کہ ہے مشہور عالم مردم آزاری تری

ہے نشان پر تیری صورت تیغ پر تیرا ہے نقش

اسلح داری تری ہے اور علم داری تری

جانور جتنے ہیں تجھ کو دیکھ کر جاتے ہیں بھاگ

کس قدر دہشت ہر اک کے دل پہ ہے طاری تری

تو کسی کے بھی نہیں دنیا میں کام آتا کبھی

قوم ہے بے منفعت اور ذات ناکاری تری

رحم کی نرمی تجھ میں خو نہیں ہ ے نام کو

بلکہ ہے مشہور دنیا میں ستمگار تری

دیکھتے ہیں جب ترے اس ظالمانہ کام کو

لوگ پھر عزت سے کیوں لیتے ہیں تیرے نام کو

بر خلاف اس کے مجھے دیکھو کہ ہوں خدمت گزار

ساری دنیا میں مسّلم ہے وفاداری مری

۲۱

اپنے مالک کی حفاظت رات بھر کرتا ہوں میں

پاسبانی کو ہے اس کی وقف بے داری مری

جب کہیں جاتا ہے تو رکھتا ہے مجھ کو ساتھ ساتھ

کٹتی ہے خدمت میں اس کی عمر ہی ساری مری

جب کبھی جھڑکا تو بھاگا، جب بلایا آ گیا

دیکھئے فرماں پزیری ، حکم برداری مری

پھر بھی ہے بدنام دنیا میں ہر اک سو میرا نام

ہر گلی کو چہ میں ہوتی ہے سدا خواری مری

مارتا ہے کوئی پتھر کوئی ڈنڈے سے مجھے

ایک بھی سنتا نہیں ہے گریہ وزاری مری

شیر نے سن کر دیا یہ مختصر اس کو جواب

میری عزت کا سبب ہے خاص خود داری مری

غیر کے ٹکڑوں پہ رہتی ہے تیری ہر دم مظر

اس لئے دنیا میں ہے تو خوار و رسوا دربدر

ان الفاظ کے معنی بتاؤ :

مسلم ۔ خونخواری ۔ نشان ، تیغ ۔ اسلح ۔ دشمن ۔ منفعت ۔ ناکاری ۔ خو ۔ فرماں پزيری ۔ حکم برداری ۔ دربدر ۔ رسوا ۔

سوالات

۱۔ اس نظر سے تم کیا سمجھے ؟

۲۔ شیر اور کتّے میں کیا فرق ہے ؟

۳۔ شیر کی عزت کیوں ہوتی ہے ؟

۲۲

گیارہواں سبق

مشرق بعید

ہندستان کے مشرق میں بارہ سو جزیروں پر مشتمل ایک ملک ہے، جسے انڈونیشیا کہتے ہیں۔ آبادی کے لحاظ سے یہ دنیا کا سب سے بڑا مسلم ملک ہے اور یہاں آٹھ کروڑ مسلمان رہتے ہيں۔ انڈونیشیا میں ایک آزاد جمہوری حکومت قائم ہے انڈونیشیا کا سب سے بڑا جزیرہ جاوا ہے۔ یہ بہت آباد اور خوش حال علاقہ ہے اور شکر سازی کےلئے بہت مشہور ہے جاوا کے بعد دعسرا سب سے آباد جزیرہ سُماترا ہے۔

انڈونیشیا کے لوگوں میں مذہبی جزبہ بہت ہے۔ چناچہ ہر سال جتنے آدمی انڈونیشیا سے حج کے لئے جاتے ہیں کسی دوسرے ملک سے نہيں جاتے ، انڈونیشیا میں اسلام سولھویں صدی کے آغاز میں پہونچا اور عرب تاجروں نے جو مسالے خریدنے انڈونیشیا جایا کرتے تھے ، وہاں کے باشندوں کے اسلام کیدعوت دی، تھوڑے ہی عرصہ میں سارا ملک مسلمان ہو گیا اور آج تک وہاں اسلام کا پرصم لہرا رہا ہے۔

چین میں مسلمانوں کی بہت بڑی آبادی ہے۔ وہاں چھہ کروڑ مسلمان رہتے ہیں چین کے جنوبی اور مغربی عاقوں میں مسلمانوں کی آبادی بہت زیادہ ہے۔ چین میں اسلام اپنے ابتدائی دور میں پہونچ گیا تھا۔ اور سملمان مبلغین برف پشی پہاڑوں اور دشوار گزار ریگستانوں سے گزرتے ہوئے چین کے دور دراز علاقہ میں توحید کا پیغام لے گئے تھے۔

ملایا میں بھی ایک آزاد مسلمان حکومت قائم ہے۔ اور جونوبی مشرقی ایشیا کا یہ پورا ملک مسلمان ہے۔ یہاں بھی عرب تاجروں کی بدولت اسلام پھیلا۔ ملایا اور سنگاپور میں شیعہ کافی اچھی حالت میں موجود ہیں۔

مشرقی ایشیا کے دوسرے مملک برما اور فلپائن وغیرہ میں بھی مسلمان موجود ہیں۔ لیکن مناسب تبلیغ نہ ہونے کی وجہ سے ان ممالک میں اسلام کوئی زیادہ ترقی نہیں کر سکا۔

۲۳

یورپ اور امریکہ میں بھی مسلمان موجود ہیں لیکن بہت کم۔

دنیا میں اسلام کو جو ترقی نصیب ہوئی وہ اس صداقت اور حقانیت کا نتیجہ ہے جو اسلام کی روح ہے۔ اسلام نے دنیا کو توحید کا درس دیا۔ نسل انسان میں مساوت اور اخوّت کا تصوّر عام کیا۔ انسان اور اس کے معبود کے درمیان مضبوط رشتہ قائم کیا۔ انسان کو علم اور ترقی کی نعمتوں سے مالامال کیا۔ نسل، وطن اور رنگ کے بُتوں کو پاش پاش کیا، تعصّب اور تو ہم پرستی کو ختم کیا۔ اور انسانی اخلاق و کردار کو اتنا بلند کر دیا کہ انسان ایک بلند تر مخلوق نظر آنے لگا۔ یہ اب فیض تھا ہمارے نبی کریم حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللّٰہ علیہ و آلہ وسلم کی تعلیم کا، قرآن پاک کی ہدایت کا اور آل رسول کی ان بے پناہ جاں فشانیوں اور قربانیوں کا جو انہوں نے دین کی راہ میں دی تھیں آج یہ انہیں چیزوں کا طفیل ہے کہ دنیا کی چھہ ارب آبادی میں سے ایک ارب سے زیادہ انسان مسلمان ہیں اور آج بھی دنیا کے ایک بڑے علاقہ میں مسلمانوں کی حکومتیں قائم ہیں، یہ صحیی ہے کہ آج مسلمان دنیا کی دوسری طاقتوں سے پیچھے نظر آتے ہیں۔ لیکن اگر ہم ایک بار پھر قرآن پاک اور آل رسول کے اسوؤ حسنہ کا سہارا لے لیں تو ہم دنیا کی انتہائی ترقی بافتہ قوم بن سکتے ہیں۔

ان الفاظ کے معنی بتاؤ :

مشرق بعید ۔ صدی ۔ پرچم ۔ برف پوشی ۔ دور دراز ۔ توحید ۔ چداقت ۔ حقانیت ۔ اخوت ۔ پاش پاش ۔ اُسوہ حسنہ ۔ مخلوق ۔ جا نفشانی ۔

سوالات

١۔ ہندوستان کے باہر اسلام کہاں کہاں ہے ؟

٢۔ انڈونیشیا کتنا بڑا ملک ہے ؟

٣۔ دنیا میں اسلام کس طرح پھیلا ؟

۲۴

بارہواں سبق

قیامت کا ڈر

اللّٰہ کے سارے سچّے اور اچھّے بندے قیامت کے دن سے ڈرتے ہیں اور کوئی ایسا کام نہیں کرتے جس کے نتیجہ میں اللّٰہ اُن سے ناراض ہو اور وہ جہنم کے بھڑکتے ہوئے شعلوں کے سپرد کر دئیے جائیں۔

ہمارے نبی اور ہمارے اماموں نے ہمیں قیامت کے حساب سے ڈرتے رہنے کی تاکید کی ہے اور نیک عمل کرتے رہنے کا حکم دیا ہے۔

حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کا بچپن تھا، یہی کوئی سات، آٹھ برس کا سنٍ ہو گا۔ ایک دن آپ سڑک کے کنارے کھڑے تھے، وہیں کچھ بچّے کھیل رہے تھے۔ لیکن آپ ان سے الگ تھلگ کسی گہری سوچ میں ڈوبے ہوئے خاموش کھڑے تھے اور پلکوں پر آنسو جھلک رہے تھے۔

اٍدھر سے ایک بزرگ آ نکلے جن کا نام تھا بہلول دانا۔ انہوں نے دیکھا کہ نبی کا چاند آنکھوں میں آنسو بھرے کھڑا ہے۔ ان کا دل تڑپ اٹھا اور امام سے بولے آپ کیوں روتے ہیں ؟ میں اچھے اچھے کھلونے لائے دیتا ہوں ان سے جی بہلائیے۔

امام نے جواب میں فرمایا، بہلول، میں بے کار کھیل کود میں وقت نہیں گنواتا۔

بہلول نے یہ جواب سنا تو بہت متعجب ہوئے عرض کیا " پھر آپ کیوں رو رہے ہیں "؟

کم سنِ امام نے ارشاد فرمایا ۔" میں اللّٰہ کے خوف سے روتا ہوں"

بہلول کو اور زیادہ اچنبھا ہوا۔ اس کمسنی میں اللّٰہ کا اتنا ڈر۔ عرض کیا ۔ آپ تو ابھی بچّے ہیں۔ آپ کو اللّٰہ سے اتنا ڈرنے کی کیا ضرورت ہے "۔

۲۵

امام نے یہ جملہ سنا تو پھوٹ کر رونے لگے۔ ہچکیاں بندھ گئیں۔ بولے۔ "بہلول میں نے اپنی ماں کو چولھا جلاتے دیکھا ہے، وہ چولھے میں پڑی ہوئی بڑی لکڑیوں کو جلانے کے لئے پہلے چھوٹی لکڑیوں میں آگ لگاتی ہیں۔ جب چھوٹی لکڑیوں جل آٹھتی ہیں تب ایندھن میں آگ لگتی ہے۔ میں نہیں چاہتا کہ جب قیامت کے دن بڑے بوڑھے جہنم کا ایندھن بنیں تو میں اس ایندھن کو جلانے والی چھوٹی لکڑیوں میں ملا دیا جاؤں "۔ یہ کہ کر امام اتنا روئے کہ بے ہوش ہو گئے۔

امام تو معصوم تھے ان سے گناہ تو کیا کبھی معمولی بھول چوک بھی نہیں ہوئی۔ ایسی حالت میں جب وہ قیامت سے اتنا ڈرتے تھے تو ہم بڑے گناہ گار انسانوں کو قیامت سے کتنا ڈرنا چاہئیے۔ یہ سوچنا ہمارے لئے بہت ضروری ہے۔

جو جہنّم سے ڈرےگا وہ کبھی کوئی گناہ نہیں کرےگا۔

جو جنّت میں جانا چاہتا ہے وہ ہمیشہ نیک اور اچھے کام کرےگا۔

ایسی حالت میں جنّت اور جہنّم پر ایمان رکھنے میں ہمارا فائدہ ہی فائدہ ہے۔

ان الفاظ کے معنی بتاؤ :

متعجب ۔ کمسن ۔ حملہ ۔ پھوٹ پھوٹ کر رونا ۔ شعلہ ۔ تاکید

سوالات

۱۔امام حسن عسکری کے قول سے تم نے کیا سبق لیا ؟

۲۔ چھوٹے بچّوں کو خدا سے کیوں ڈرنا چائیے ؟

۳۔ امام نے بہلول کی بات کا کیا جواب دیا ؟

۲۶

تھرہواں سبق

نئی دنیا

جہالت ہی سبب ہوتی ہے ذلت اور خواری کا

جہالت ہی سبب ہوتی ہ ے اکثر ہد نصیبی کا

جہالت جیسی لعنت کو زمانے سے مٹائیں گے

اسی دنیا کو ہم ایک دن نئی دنیا بنائیں گے

نہ باہم رنجسیں ہوں گی نہ باہم سختیاں ہوں گی

نہ یہ ظلم و ستم ہوں گے نہ یہ بد بختیاں ہوں گی

ستم رانوں میں لطف و رحم کے جزبے جگائیں گے

اسی دنیا کو ہم ایک دن نئی دنیا بنائیں گے

کسی صورت بھی ہم تھمنے نہ سیں گے کوششوں کی رو

جو کم ہوتی نظر آئی چراغ زندگی کی لو

چراغ زندگی میں خون بھی اپنا ملائیں گے

اسی دنیا کو ہم ایک دن نئی دنیا بنائیں گے

فلک پر جگمگائے گا ستارہ آدمیّت کا

زمیں پر بول بالا ہوگا پھر عدل و صداقت کا

زمانے کو سبق روشن ضمیری کا پڑھائیں گے

اسی دنیا کو ہم ایک دن نئی دنیا بنائیں گے

۲۷

نرانی شان کا ہوگا قریب و دور کا عالم

نظر آئے گا تاحدِّ نظر ایک نور کا عالم

نئی شمعیں جلائیں گے نئی محفل سجائیں گے

اسی دنیا کو ہم ایک دن نئی دنیا بنائیں گے

فردزاں ہونگی ہر سینے میں شمعیں عزم و ہمت کی

کریں گے دل سے پوری ہر ضرورت ملک و ملّت کی

ہم اپنے ملک و ملّت کو نئی منزل پہ لائیں گے

اسی دنیا کو ہم ایک دن نئی دنیا بنائیں گے

ان الفاظ کے معنی بتاؤ :

خواری ۔ ستم رانوں ۔ رو ۔ لو ۔ فلک ۔ روشن ۔ ضمیری ۔ فروزاں ۔ عزم ۔ ملّت ۔ لعنت ۔ رنجش ۔ باہم ۔

سوالات

۱۔ تم نے اس نظم سے کیا سیکھا ؟

۲۔ تم آ گے چل کر کیا کرو گے ؟

۳۔ یہ دنیا نئی دنیا کس طرح بن سکتی ہے ؟

۲۸

چودھواں سبق

مساوات

ہمارے نبی کریم کی تعلیم ہے کہ سارے آدمی چاہے گورے ہوں، چاہے کالے، امیر ہوں یا غریب، ایک دوسرے کے برابر ہیں۔ نہ کوئی اُونچا نہ کوئی نیچا۔ سب آدمی کی اولاد ہیں اس لئے سب برابر ہیں۔

ذات، پات، نسل، رنگ، وطن یا دولت کی وجہ سے نہ کوئی اونچا ہو جاتا ہے نہ کوئی نیچا۔ عزت اور برائی بس کردار سے ہوتی ہے۔ اللّٰہ کا ارشاد ہے کہ جو زیادہ پرہیزگار ہے یعنی جو زیادہ اللّٰہ سے ڈرتا ہے۔ وہی اللّٰہ کے نزدیک عزت والا ہے۔

حصرت امام علیٰ رضا علیہ السلام کے یہاں ایک مہمان آیا۔ وہ بہت مالدار بھی تھا اور بہت اونچے خاندان سے بھی تھا اِسے دولت کا بھی گھمنڈ تھا اور خاندان کا بھی غرور۔

امام علیہ السلام کھانے کے لئے بیٹھے۔ مہمان کو پاس بیٹھایا۔

دسترخوان پر کھانا چنا گيا۔ امام علیہ السلام نے نوکروں کو آواز دی۔ نوکر آئے اور دسترخوان پر آپ کے ساتھ بیٹھ گئے۔

دولت مند مہمان کو یہ بات ناگوار گزری۔ معمولی نوکر اور ایک امیر کے پہلو میں لیکن امام تو اسلام کی جیتی جاگتی تصویر تھے۔ ان کے دربار میں بھلا یہ غرور کیسے کام دیتا ؟ وہ سب انسانوں کو برابر اور ایک دوسرے کا بھائی سمجھنے کے عادی تھے اس لئے انہوں نے وہی کیا تھا جو اسلام کا حکم تھا۔

دولت مند مہمان نے امام سے عرض کیا " نوتروں کو اپنے ساتھ دسترخون پر نہ بیٹھائے۔ ان سے کہئے کہ وہ الگ بیٹھ کر کھانا کھائیں "۔

۲۹

امام نے یہ بات سنی تو آپ بہت ناراض ہوئے اور ارشاد فرمایا، اللّٰہ ایک ہے اور سب آدمی اس کے بندے ہیں۔ سارے انسان ایک داد حضرت آدم کی اولاد ہیں اس لئے سب برابر ہیں سب ایک دوسرے کے بھائی ہیں ان میں بڑے اور چھوٹے کا کوئی فرق نہیں۔

مہمان یہ سن کر شرمندہ ہوا اور اس نے توبہ کی کہ اب کبھی انسانوں میں بڑے چھوٹے کا امتیاز نہیں کرےگا۔

ہمارے نبی اکرم اور ان کی آل نے ہمیشہ یہی تعلیم دی ہے کہ سب مسلمانوں کو اپنا بھائی سمجھو، سب کو برابر جانو اور اونچ نیچ ذات پات کے خیال دل سے دور کر کے سارے انسانوں کو ایک کنبہ خیال کرو۔ اسی میں سب انسانوں کی بھلائی ہے۔

ان الفاظ کے معنی بتاؤ :

مساوات ۔ ذات پات ۔ نسل ۔ ارشاد ۔ گھمنڈ ۔ غرور ۔ دسترخوان ۔ ناگوار ۔ فرق ۔ شرمندہ ۔

سوالات

۱۔ مہمان نے امام سے کیا کہا ؟

۲۔ امام نے اسے کیا جواب دیا ؟

۳۔ تم نے امام کے ارشاد سے کیا سیکھا ؟

۳۰

پندرہواں سبق

وجودباری

بچّو آؤ مزہ کی بات سُنو اس کو قصّہ فقد نہ تم جانو

ایک جگہ چند لوگ جمع ہوئے جن میں تھے سب کے سب پڑھے لکھے

بعض ان میں خدا کے منکر تھے بعض وائل خدائے واحد کے

گفتگو گفتگو میں بات چھڑی تو تو میں میں میں خوب بحث بڑھی

مسئلہ تھا وجود باری کا ناستِک روپہ بات کے تھا تُلا

پڑ گیا ایک بہت بڑا لجھاؤ کون تھا اب جو دیتا ان کو سمجھاؤ

ایک بڑھیا ہیں پہ تھی بیٹھی اپنا چرخہ لئے چلاتی تھی

طے ہوئی بات ان میں آپس میں بات سلجھے نہیں یہ اب بس میں

چلو بڑھیا کے پاس مل کے چلیں اس سے اللّٰہ کے لئے پوچھیں

کیا یہ جاہل جواب دیتی ہے کیا دعا پر دلیل لاتی ہے

پاس بڑھیا کے سب کے سب پہونچے گڑ گڑا کر یہ اسے کہنے لگے

بیٹھی بڑھیا نرے پھر اتی تھی روزی اپنے لئے کماتی تھی

بول اللّٰہ پر دلیل بھی ہے واقعی کیا کوئی دلیل بھی ہے

سن کے چرخہ سے ہاتھ کو روکا غور سے منھ ہر ایک کا دیکھا

دہریہ سے یہ مڑ کے کہنے لگی رونا آتا ہے عقل پر تیری

تو ہے کمبخت کس قدر جاہل اپنے اللّٰہ کا ہے نہیں قائل

دیکھ نام خدا میں لیتی ہوں اور تجھ کو دلیل دیتی ہوں

خود سے چلتا نہیں ہے يہ چرخہ کام ہے دیکھنے میں چھوٹا سا

۳۱

میں چلاتی ہوں جب، تو ہے چلتا روک دینے سے یہ ہے رک جاتا

چل رہا ہے بھلا خدا کے سوا کیسے دنیا کا یہ بڑا چرخہ

سن کے سب عقل والے دنگ ہوئے ٹھہرے بڑھیا کے سامنے کورے

ایک اللّٰہ کو جو مانا ہے عقل سے اپنی اس کو جانا ہے

بچّو اللّٰہ ایک اکیلا ہے بڑھیا کا خود گواہ چرخہ ہے

ان الفاظ کے معنی بتائے :

وجود ۔ باری ٹکر ۔ قائل ۔ واحد ۔ تو تو میں میں ۔ ناستک ۔ دنگ ۔ ہونا ۔ روکنا ۔ دلیل ۔ نرے ۔ دہریہ۔

سوالات

۱۔ بڑھیا نے اللّٰہ کا وجود کیسے ثابت کیا ؟

۲۔ بڑھیا کا جواب سن کر ناستک پر کیا اثر ہوا ؟

۳۲

سولھواں سبق

قنبر

رسول اللّٰہ سے پہلے دنیا میں لوگ دوسرے ملکوں پر یا دوسرے قبیلوں پر چڑھائی کر کے اس کے آدمیوں کو غلام بنا لیا کرتے تھے اور غلاموں کے ساتھ بےحد برا برتاؤ کرتے تھے۔ ان کو آدمی تک نہ سمجھتے تھے۔ رسول اللّٰہ نے اسلام کا پیغام سنایا تو اس میں یہ بھی بتایا کہ دوسری قوموں پر چڑھائی کرنا بہت بری بات ہے۔ دوسرے لوگوں کو غلام بنا کر ان کے ساتھ برا برتاؤ کرنا انسانیت کے خلاف ہے۔ حضرت علیٰ علیہ السلام نے بھی غلاموں کے ساتھ اچھا برتاؤ کر کے دنیا والوں کو ایک سبق دے دیا۔ آپ کے ایک غلام تھے۔ جن کا نام قنبر تھے۔ يہ انتہائی وفادار، اطاعت کرنے والے اور بہادر تھے۔ ان کی بہادری کا یہ عالم تھا کہ جب حجّاج بن یوسف نےیہ سوچ کر کہ حضرت علیٰ کے چاہنے والوں کو قتل کرایا جائے، قنبر کو بلایا اور پوچھا کہ کیا تمہیں قنبر ہو، تو انہوں نے کہا ہاں، پوچھا کیا علیٰ بن ابی طالب تمہارے آقا تھے۔ فرمایا ۔" بے شک " حجاج نے کہا اچھا اب تم علیٰ کے دین سے بیزاری ظاہر کرو۔ آپ نے فرمایا کیا کوئی ایسا بھی دین ہے جو حضرت علیٰ کے دین سے بہتر ہو۔ حجاج کو یہ سن کر بہت غّصّہ آگیا اور اس نے کہا کے تم کس طرح قتل ہونا پسند کروگے۔ آپ نے فرمایا کہ جس طرح تو قیامت کے دن میرے ہاتھ سے قتل ہونا پسند کرے۔

قنبر جس طرح ایک وفادار غلام تھے اسی طرح حضرت علیٰ سلیہ السلام بھی ان کے ساتھ برابری کا برتاؤ کیا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ آپ نے بازار سے دو کپڑے خریدے ایک ذرا کچھ اچھا تھا۔ اور ایک معمولی، اچھا والا قنبر کو دے دیا اور معمولی والا خود لے لیا قنبر نے ہاتھ جوڑ کر کہا کہ آپ آقا و مولا ہیں آپ اچھا کپڑا پہنئے۔ آپ نے فرمایا کہ تم ابھی جوان ہو، جوانوں کو اطھے کپڑے پہننے چائیں۔ میری عمر تم سے زیادہ ہے میرے لئے معمولی کپڑے ہی ٹھیک ہیں۔

ان الفاظ کے معنی بتاؤ :

غلام ۔ قبیلہ ۔ انسانیت ۔ وفادار ۔ اطاعت ۔ عالم

سوالات

۱۔ دنیا میں غلاموں کے ساتھ کیا برتاؤ ہوتا تھا ؟

۲۔ حصرت علیٰ نے قنبر کے ساتھ کیا برتاؤ کیا ؟

۳۔ قنبر کی بہادوری کا کوئی واقہ سناؤ ؟

۳۳

سترہواں سبق

ہندوستان

یہ ہندوستان رشک خلد بریں اگلتی ہے سونا وطن کی زمیں

کہیں کو ئل اور لوہے کی کان کہیں سرخ پتھر کی اونچی چٹان

کہیں سنگ مرمر کی شفاف سل پھسلتا ہ ے جس کی چفائی پہ دل

بہت سے خزینے ہیں اس خاک میں ہمارے بیاباں بھی گزار ہیں

بڑے رُس بھرے ہیں ہمارے ثمر بہت ہی گھنے ہیں ہمارے شجر

گل ولالہ دیا سمن کے ایاغ مہکتے ہوئے آم کے سبز باغ

لٹتے ہوئے خوشے انگور کے چھلکتے ہوئے جام بلّور کے

ہرے اور بھرے جنگلوں کی بہار جھلا جھل چمکتے ہوئے رنگ زار

یہ سوچ کی کرنوں کا رنگین جال کہجس طرح فطتر نے کھولے ہوں بال

افق سے اُبلتا ہوا رنگ و نور فضاؤں میں پروا نہ کرتے طیور

کنول جھیل مسکراتے ہوئے چراغاں کا منظر دیکھتے ہوئے

تڑ پتی مچلتی ہوئی بجلیاں سمندر میں ملتی ہوئی ندیاں

یہ نیلم اور الماس کے کوہ سار یہ چاندی کے چھگلے ہوئے آبشار

یہ مخمل میں لپیٹی ہوئی وادیاں ہمالہ کی گل پوش شہزادیاں

یہ گنگا کا آنچل یہ جمنا کا ریت

یہ دھان اور گیہوں کے شاداب کھیت

ان الفاظ کے معنی بتائے :

رشک ۔ خلد ۔ سنگ ۔ شفاف ۔ سل ۔ خزینے ۔ دفینے ۔ گہبار ۔ گزار ۔ ثمر ۔ شجر ۔ ایاغ ۔ جام ۔ بلور ۔ افق ۔ طیور ۔ کوہ سار ۔ آبشار ۔ گل پوش ۔ شاداب ۔ کان ۔ نیلم ۔ الماس ۔ فطرت ۔ خوشہ ۔ لالہ ۔ یاسمین ۔ سنگ مرمر ۔ وادی ۔

۳۴

اٹھاراواں سبق

ہماری عملی ترقیاں

نبی کریم حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللّٰہ علیہ و آلہ وسلم کی تعلیم کے نتیجہ میں مسلمانوں نے علمی میدان میں بڑی ترقی کی اور اس حقیقت کو سبھی مانتے ہیں کہ آج دنیا میں علمی ترقی نظر آتی ہے اس کی شمع روشن کرنے والے مسلمان ہی تھے۔

مسلمانوں نے صرف تفسیر، حدیث، کلام، جال، اور فقہ کے علوم ہی دنیا میں نہیں پھيلائے دوسرے علوم بھی مسلمانوں ہی کی بدولت دنیا میں پھیلے ہیں۔

تاریخ کا عِلم مسلمانوں نے ایجاد کیا اور آج یہ دنیا کا ایک بہت بڑا علم ہے۔

یہ جغرافیہ جو ہم آپ اسکول میں پڑھتے ہیں اس کی ایجاد کا سہرا بھی مسلمانوں کے سر ہے۔ مسلمان بیوپاری تجارت کے لئے دور دراز ملکوں میں جاتے تھے۔ ان کے علاوہ مسلمان علمأ، دین پھلانے کے لئے جگہ جگہ جاتے تھے۔ اس لئے ان لوگوں نے ہر ملک کی آب و ہوا، پیداوار اور رہن سہن کے متعلق کتابیں لکھیں اور ان سے زیادہ کو جغرافیہ کا علم ملا۔ یہ بڑے کام کا علم ہے اور اس کے جاننے سے بڑے فائدے ہوتے ہیں۔

ریاضی کے علم کو مسلمانوں نے بڑی ترقی دی اور الجبر ایجاد کیا جس سے دنیا کو بڑا فائدہ پہونچا۔

علم کیمیاں جو ہماری موجودہ سائنس کی بنیاد ہے۔ ہمارے چھٹے امام حضرت جعفر صادق علیہ السلام کے شاگرد جابر ابن حیان نے دنیا کو عطا کیا۔

علم طب کو مسلمانوں نے بڑی ترقی دی۔ انہوں نے نئی نئی دوائیں ایجاد کیں۔ بیماریوں کے علاج کے نئے نئے طریقے ایجاد کئے۔ اور اس طرح انسانوں کی ایک بڑی خدمت انجام دی۔

جہاز رانی کا فن آج جس ترقی یافتہ شکل میں نظر آتا ہے اس ترقی کی موجودہ منزل پر پہونچانے میں بھی مسلمانوں کا بڑا ہاتھ ہے راستوں کو سمجھنے کے لئے قطب نما کی ایجاد مسلمانوں کا ہی کارنامہ ، گھڑی بھی مسلمانوں کی ایجاد ہے ۔

۳۵

ستاروں کو دیکھنے اور اُن کی چال معلوم کرنے کے لئے اُصطُر لاب بھی مسلمانوں نے ہی بنایا۔

منطق، فلسفہ، شاعری، ادب اور دوسرے علوم بھی مسلمانوں نے ہی دنیا میں عام کئے۔

اُس وقت جب کہ ساری دنیا جہالت کا شکار تھی مسلمان ملکوں میں بڑے بڑے مدارس قائم تھے۔ جہالت ہر وقت علم کا چرچا رہتا تھا۔

مدینہ، نجف، بغداد، قاہرا، دہلی، لاہور، ملتان، لکھنؤ، سمر قند، شیراز، قرطبہ، غرناطہ اور دوسرے شہروں میں اس وقت بھی اسلامی دارالعلوم قائم تھے جب دنیا کے دوسرے شہروں میں جہالت پھیلی ہوئی تھی۔

اج یورپ اور امریکہ میں بڑے بڑے کالج ہیں لیکن یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ یورپ والوں نے پہلے مسلمانوں کے مدارس میں ہی آ کر تعلیم حاصل کی ہے۔ اور مسلمان ہی ان یورپ والوں کے اُستاد ہیں۔ ہمارے پہلے امام کا ارشاد ہے کہ علم و حکمت مومن کی کھوئی ہوئی ملکیت ہیں۔ انہیں جہاں پاؤ لے لو۔

مسلمانوں نے جتنی ترقی کی، علم کے سہارے کی آئندہ بھی مسلمانوں کی ترقی کا انحصار علم پر ہی ہے۔

سچّی ترقی :- ایک مسلمان نے بہت سی دولت جمع کر لی۔ ایک دوسرا مسلمان انجینیر یا ڈاکٹر بن گیا۔ ایک تیسرا مسلمان بڑا سرکاری افسر بن گیا۔

ہم کہیں گے ۔" ان سب نے بڑی ترقی کی ہے ۔"

لیکن ہندو اور عیسائی بھی دولت جمع کرتے ہیں، پڑھتے لکھتے ہیں سرکاری افسر بھی بنتے ہیں، راج بھی چلاتے ہیں پھر ایک مسلمان میں اور اُن میں کیا فرق ہے ؟

بڑا فرق ہے ان دونوں میں۔

ہندو، مسلمان، عیسائی، یہودی دنیا کے معاملہ میں تو سبھی ترقی کرتے ہیں۔ لیکن مسلمان وہ ہیں جو صرف دنیاوی ترقی کو بڑی چیز نہیں مانتے۔ بلکہ روحانی ترقی کو بڑی چیز مانتے ہیں۔

۳۶

مسلمان کے نزدیک دولت اور حکومت بڑی چیز نہیں ، اللّٰہ کی محبت بڑی چیز ہے۔

ہمارے نزدیک اصلی اور سچّی ترقی اس میں ہے کہ انسان اللّٰہ کی صفات کمال کا نمونہ بن جائے۔ مثلاً :-

اللّٰہ عالم ہے،اس لئے ہمیں علم میں کمال حاصل کرنا چائیے۔

اللّٰہ قادر ہے، اس لئے ہمیں علم کے سہارے دنیا کی ہر چیز پر قدرت حاصل کرنے کی کوشش کرنا چائیے۔

اللّٰہ حیّ ہے۔ اس لئے ہمیں ایسے کام کرنا چائیے جن سے ہمارا اور ہماری قوم کا نام ہمیشہ زندہ رہے۔

اللّٰہ مرید ہے، اس لئے ہمیں بہی اپنے ارادہ و اختیار کی قوتوں کو مضبوط بنانا چائیے۔

اللّٰہ مدرک ہے، یعنی بغیر آنکھ، ناک، کان کی مدد کے ہر چیز جانتا ہے، ہمیں آنکھ، ناک، کان، دل اور دماغ سے کام لیتے ہوئے نئی نئی باتیں معلوم کرنے کی کوشش کرنا چائیے۔

اللّٰہ قدیم ہے، یعنی ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا ہمیں بھی ایسے کام کرنا چائیے جن کے نتیجہ میں ہمیں دائمی زندگی مل جائے۔

اللّٰہ کو ماننا دنیا کی ہر ترقی کی بنیاد ہے۔

ہم انسان صرف اللّٰہ کے سامنے سر جھکاتے اور دنیا کی ہر چیز کو انسان کی ملکیت مانتے ہیں۔ ایسی حالت میں ہمارا فرض ہو جاتا ہے کہ ہم دنیا کی ہر چیز سے فائدہ اٹھائیں۔

بس یہیں سے ہماری ترقی شروع ہو جاتی ہے۔

دوسری وعمیں صرف دنیاوی ترقی کرتی ہیں، ہم اپنی ہر دنیاوی ترقی کو اللّٰہ کے کام میں لگا کر روحانی ترقی بھی حاصل کرتے ہیں۔ مثلاً ہماری دولت اللّٰہ کے لئے جرچ ہوتی ہے اور ہمارا علم انسانوں کی خدمت کے کام آتا ہے۔ اس سے اللّٰہ خوش ہوتا ہے اور اس کی خوشی کے نتیجے میں ہمیں روحانی ترقی بھی ہوتی ہے۔

۳۷

سچّی ترقی یہی ہے کہ دینی اور دنیاوی دونوں میدانوں میں ترقی کی جائے اور یہ نعمت اللّٰہ کی محبت اور اسلام کی پابندی سے ہی حاصل ہوتی ہے۔

ان الفاظ کے معنی بتاؤ :

کلام ۔ جال ۔ فقہ ۔ قطب ۔ نما ۔ صطرلاب ۔ راج ۔ دارالعلوم ۔ مرید ۔ مدرک ۔ حدیث ۔ تفسیر ۔ ایجاد ۔ جغرافیہ ۔ ریاضی ۔ الجبرا ۔ کیميا ۔ طب ۔ جہاز رانی ۔ منطق ۔ فلسفہ۔

سوالات

۱ ۔ ہماری ترقی اور دنیا کی ترقی میں کیا فرق ہے ؟

۲ ۔ انسان میں کیا کمالات ہونے چاہئیں ؟

۳ ٣۔ دنیا نے کس کس علم میں ترقی کی ؟

۳۸

انیسواں سبق

ریل اور پہاڑ کا سفر

عجب شان ہے آج جاتی ہے ریل کہ صر صر کو پیچھے ہٹاتی ہے ریل

مسرت میں سیٹی بجاتی ہے ریل دیوئیں دشت غم کے اڑاتی ہے ریل

اندھیرا پہاڑوں کے اندر کہیں چڑھائی کہیں اور چکر کہیں

وہ ٹھنڈی ہوا اور بادل بھی وہ سر سبز وادی وہ جنگل کی سیر

قدم سُست و آہستہ دھرنا کہیں پہاڑوں پہ چڑھنا اترنا کہیں

مقام ایسے دو چار پائے گئے جہاں دو دو انجن لگائےگئے

کہیں سیکڑوں فٹ وہ سڑکیں بلند نہ تافرط پستی سے پہونچے گزند

پہاڑوں کے اندر ہے رستہ جہاں وہاں دن کو روشں ہوئیں بتیاں

اسی طرح چڑھتی اترتی ہوئی چلی مر حلے قطع کرتی ہوئی

جو رستے میں تھے چھوٹے چھوٹے مقام کسی جانہ اس نے کیا کچھ قیام

جوسگنل نظر آ گیا ایک بار لگی سیٹیاں دینےکے اختیار

ںرض اب وہ اسٹیشن آیا نظر کہ تھا جس کی خاطر یہ سارا سفر

ان الفاظ کے معنی بتاؤ :

صر صر ۔ وشت ۔ فرط ۔ مرحلے ۔ قطع ۔ گزند ۔ سگنل ۔ خاطر ۔

۳۹

بیسواں سبق

فریاد

آج کے زمانے میں جسے دیکھو وہ ایک نہ ایک فریاد کرتا رہتا ہے۔ کسی کو غلہ کی گرانی کا رونا ہے، تو کسی کو کپڑے کی مہنگائی کا کوئی گرمی سے پریشان ہے تو کوئی آسمان سردی سے۔ کوئی زمین والوں کی شکایت کر رہا ہے تو کوئی آسمان والوں کی۔ اور مرنے کی بات تو یہ ہے کہ ہر شخص اپنے کو دوسرے سے بدحال اور دوسرے کو اپنے سے خوش حال سمجھتا ہے۔ کوئی یہ نہیں دیکھنا چاہتا کہ اگر میں ٹوٹے مکان میں رہتا ہوں تو کتنے ایسے بھی ہیں جو فٹ پاتھ پر پڑے رہتے ہیں۔ اگر میں جو کی روٹی کھاتا ہوں تو کتنی ایسے بھی ہیں جو فاقے کرتے ہیں۔ اگر میں کھدر کے کپڑے پہنتا ہوں تو کتنے ایسے بھی ہیں جو ننگے رہتے ہیں، ہمارے مولا حضرت علیٰ فرمایا کرتے تھے کہ میرے ملک میں ایک آدمی بھی ننگا یا بھوکا رہ جائے تو میرے لئے کھانا حرام ہو جائے گا۔

افسوس کہ آج مولا کے راستے پر چلنے کے لئے کوئی تیار نہیں ہے اور سب اپنے عیش و آرام کے چکر میں پڑے ہوئے ہیں، ایک دفع کا واقعہ ہے کہ ایک بہت بڑے عالم جلیل اپنے شاگردوں کو سبق پڑھا رہے تھے۔ گرمی کا زمانہ تھا، دو پہر کا وقت تھا، سب ایک کمرے میں بیڑھے تھے جہاں بجلی کا پنکھا بھی تھا، اتفاق سے ادھر سے ایک رئیس کی پالکی گزری جس میں چار کہار آگے اور چار پیچھے اور پہلو میں ایک آدمی اس خس کی ٹٹی پر پانی چھڑکتا ہوا جو پالکی کے چاروں طرف لگائی گئی تھی۔ ایک طالب علم نظر اس پر پڑ گئی، اس کے دل سے ایک آہ نکل گئی۔ استاد نے پوچھا اس آہ کا کیا سبب ہے، شاگرد نے کہا کچھ نہیں ہے صرف عادت کے طور پر ایسا ہوا ہے۔ استاد نے اصرار کیا۔ آخر کار اس نے بتایا کہ مجھے صرف اس بات کا صدمہ ہوا کہ یہ جاہل آدمی کس اطمینان سے جا رہا ہے اور ہم لوگ علم دین حاصل کرنے کے باوجود اس گرمی میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ نہ جانے پروردگار کی کیا مرضی ہے۔ ؟ عالم دین کے تیور بگڑ گئے۔ انہوں نے فرمایا کہ تم نے انصاف نہیں کیا ہے اس قافلے میں دس آدمیوں میں آٹی کہار، ایک پانی چھڑکنے والا مزدور اور ایک رئیس۔ ان دس میں سے ایک تم سے بہتر ہے اور نو تم سے بدتر۔ تم نے اس کو تو دیکھ لیا اور ان نو افراد کو بھول گئے۔ یاد رکھو جس کے خیالات اتنے کمزور ہوں وہ علم دین نہیں حاصل کر سکتا۔

۴۰