امامیہ اردو ریڈر درجہ چہارم جلد ۴

امامیہ اردو ریڈر درجہ چہارم0%

امامیہ اردو ریڈر درجہ چہارم مؤلف:
زمرہ جات: گوشہ خاندان اوراطفال

امامیہ اردو ریڈر درجہ چہارم

مؤلف: تنظیم المکاتب
زمرہ جات:

مشاہدے: 1922
ڈاؤنلوڈ: 544


تبصرے:

جلد 1 جلد 2 جلد 3 جلد 4 جلد 5
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 42 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 1922 / ڈاؤنلوڈ: 544
سائز سائز سائز
امامیہ اردو ریڈر درجہ چہارم

امامیہ اردو ریڈر درجہ چہارم جلد 4

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے

امامیہ اُردو ریڈر

درجہ چہارم

تنظیم المکاتب

ہدایت

۱ ۔مدرسین کا فرض ہے کہ پڑھنے میں روانی پیدا کرانے کے ساتھ تلفظ کی درستگی کا خاص خیال رکھیں۔

٢۔ الفاظ کے معنی کہوا کر یاد کرائیں۔

٣۔ سبق کے بعد کے مشقی سوالات ضرور حل کرائیں۔

٤ ۴ ۔ جابجا قواند سمجھا کر ان کی مشق کرائی جائے۔

٥ ۵ ۔ اردو پڑھانے کے ساتھ اِملا ضرور لکھوایا جائے۔

اور

جو شخطی پر خاص نظر رکھی جائے۔

ناشر

پہلا سبق

مُناجات

دنیا کا انقلاب بڑا تیز گام ہے

اب صاحبان و رع کا جینا حرام ہے

لوگوں میں اب ذرا بھی مروت کی خو نہیں

انسانیت کا جیسے لوگوں میں لہو نہیں

جس کو بھی دیکھئے وہ تلا ہے فساد پر

چلتا نہیں ہے کوئی رہ اتحاد پر

پھر حکمراں زمانے میں ہیں ظلم و کد کے بت

بیٹھے ہیں دل کے کعبہ میں بغض و حسد کےبت

دل تو بنا ہے صرف تیری یاد کے لئے

بس تیری بارگاہ ہے فریاد کے لئے

پر کس کو شوق اب ہے ترے ذکر خیبر کا

صد حیف تیرے گھر پہ تسلط ہے غیر کا

فرزند ارجمند رسول زمین کو بھیج

پھر وقت آ گیا ہے کسی بت شکن کو بھیج

ان الفاظ کے معنی بتاؤ :-

مناجات ۔ القاب ۔ لہو ۔ فساد ۔ تیزگام ۔ صاحبان ورع ۔ استحاد ۔ راہ ۔ حسد ۔ تسلط ۔ کد ۔ ارجمند ۔ فرزند ۔ رسول زمین ۔ بت شکن ۔ چدحیف۔

دوسرا سبق

ہمارے نبی کی تعلیم

حضرت محمد مصطفےٰ ضلی اللّٰہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں بتایا ہے کہ :

ہم اللّٰہ کو ایک مانیں اور کسی کو اس کا شریک نہ بنائیں۔

ہم اللّٰہ کے ہر حکم کے سامنے سر جھکائیں اور اس کی پوری پابندی کریں۔

ہم سچّے دل سے اللّٰ کو یاد کریں اور اس کی عبادت سے غافل نہ ہوں۔

ہم اپنے ماں باپ اور اپنے بڑوں کا پورا ادب کریں اور ہمیشہ ان کی خدمت کرتے رہیں۔

ہم سچ بولیں اور سچ بولنے میں کسی سے نہ ڈریں۔

ہم ہمیشہ دوسروں کی مدد اور خدمت کو اپنا فرض تصور کریں۔

ہم ہر وقت پاک و صاف اور ستھرے نظر آئیں۔

ہم جب کسی سے ملیں تو اسے سلام کریں اور مسکرا کے باتیں کریں۔

ہم صبح اٹھ کر کلمہ پڑھیں، سجدہ شکر کریں۔ درود بھیجیں، مسواک کریں منھ ہاتھ دھو کر خشک کریں

وضو کریں، نماز پڑھیں، بالوں میں کنگھی کریں اور بڑوں کو سلام کریں۔

ہم چوری اور غیبت سے ہمیشہ پرہیز کریں۔

ہم آپس میں میل جول قائم رکھیں اور کبھی جھگڑا نہ کریں۔

ہم ہمیشہ اللّٰہ کی راہ میں غریبوں کو خیرات دیتے رہیں۔

ہم جی لگا کر پڑھیں اور خوب علم حاصل کریں۔

ہم اپنی صحت کا پورا خیال رکھیں۔

ہم ادب اور قاعدے سے بیٹھیں اور اپنے استاد اور دوسرے بزرگوں کی پوری عزت کریں۔

ہم اپنے ہر کام میں ایمانداری برتیں اور کسی کو دھوکا نہ دیں۔

ہم بغیر اجازت کسی کی چیز استعمال نہ کریں۔

ہم گالی نہ بکیں، کسی کو بری بات نہ کہیں، کسی کا دل نہ دُکھائے۔

ہم بیکار کھیل کود میں وقت ضائع نہ کریں۔

ہم دین کی باتیں جی لگا کے سیکھیں تاکہ ہماری زندگی اچھی بن جائے۔

کتنی اچھی اور کام کی باتیں ہیں۔

ہمارے نبی نے بہت ہی اچھی اچھی باتیں بتائی ہیں۔

ان الفاظ کے معنی بتاؤ-

غافل ۔ غیبت ۔ ضائع ۔ فرض ۔ مسواک ۔ تصور

تیسرا سبق

فرشتے

ہمارے چاروں طرف ہوا موجود ہے لیکن اسے ہم دیکھ نہیں سکتے۔ ہوا ہمارے بہت کام آتی ہے۔ اسی سے ہم سانس لیتے ہیں۔ ہوا نہ ہو تو دم گھٹ جائے اور ہم مر جائے ٹھنڈی ہوائیں بہت آرام دیتی ہے ہوا الگنی پر پھیلے ہوئے کپڑوں کو سکھا دیتی ہے۔

ہوا بادل لاتی اور پانی برساتی ہے۔ ہوا کلیوں کو ہلکورے دے کر پھول بناتی ہے۔ ہوا کی مدد سے ہی چڑیاں اور دوسرے پرند اڑتے ہیں۔

ہوا اور بھی بہت سے کام کرتی ہے لیکن پھر بھی ہم اسے دیکھ نہیں سکتے جس طرح اللّٰہ نے ہوا بنائی جو دیکھائی تو نہیں دیتی لیکن بہت سے کام کرتی ہے اسی طرح اللّٰہ نے فرشتے پیدا کئے ہیں جو دکھائی تو نہیں دےتے لیکن اللّٰہ کے بے شمار کام کرتے رہتے ہیں۔

فرشتے نہ کچھ کھاتے ہیں نہ سوتے ہیں نہ تھکتے ہیں بس وہ اپنے کام میں لگے ہیں۔ اللّٰہ کی عبادت کرتے رہتے ہیں۔ اللّٰہ کے آہکام پورے کرتے رہتے ہیں۔ ان سے کبھی کوئی بھول چوک یا خطا نہیں ہوتی، وہ پاک ہں نیک ہیں معصوم ہیں اور اللّٰہ کے کاموں میں لگے رہتے ہیں۔

اللّٰہ نے بے شمار فرشتے پیدا کئے ہیں۔ آسمان میں بکھرے لاتعدا تاروں سے بھی زیادہ۔

ان میں چار فرشتے بہت مشہور ہیں۔

١۔ جبرئیل ۔ یہ اللّٰہ کا احکام اس کے نبیوں تک پہونچاتے ہیں۔

٢۔ میکائیل ۔ یہ آدمیوں کو رزق تقسیم کرتے ہیں۔

٣۔ عزرائیل ۔ یہ روح قبض کرتے ہیں۔ انہیں ملک الموت بھی کہا جاتا ہے۔

٤۔ اسرافیل ۔ یہ قیامت کے دن صور پھونکیں گے جس سے دنیا کا ہر جاندار مر جائے گا۔پھر صور پھونکیں گے تو سب مرے جی اٹھیںگے اور پھر اللّٰہ نیکیوں کو جزا یعنی العام اور بڑوں کو سزا دےگا۔ فرشتوں پر ایمان رکھنا ہمارے لیے ضروری ہے۔

سوالات

١۔ کیا تم نے فرشتوں کو دیکھا ہے ؟

٢۔ فرشتوں کو بغیر دیکھے کس طرح مانو گے ؟

٣۔ مشہور فرشتے کون کون سے ہیں ؟

ان الفاظ کے معنی بتاؤ :-

ے شمار ۔ خطا ۔ معصوم ۔ رزق ۔ صور ۔قبض ۔ جزا ۔ لاتعداد ۔ ملک الموت ۔

چوتھا سبق

توبہ

جرم کرنا بہت آسان ہے اور جرم اقرار کرنا بہت مشکل، غلطی کرنا بہت آسان ہے اور غلطی کا عتراف کرنا بہت مشکل، ہمارے سماج میں سب سے بڑی خرابی یہی ہے کہ ہم خطائیں تو کرتے ہیں، ہم سے غلطیاں تو سرزد ہو جاتی ہیں، لیکن غلطی اور خطا کے اقرار کا وقت آتا ہے تو پشیمان ہونے کے بجائے تا میلیں کرنے لگتے ہیں، باتیں بنانے لگتے ہیں، ہماری ساری تمّنا یہ ہوتی ہے کہ لوگ، ہمیں غیر معصوم تو نہیں لیکن ایسا غیر معصوم کہ جس نے کبھی کوئی غلطی نہ کی ہو چاہے دل کتنی ہی غلطیوں کی گواہی کیوں نہ دے رہا ہو۔ یہ سب اس لئے ہے کہ ہم غلطی کے اقرار کو اپنی ذلت سمجھتے ہیں۔ خطا کے عتراف میں اپنی سبکی کا احساس کرتے ہیں۔

ہمارا عالم یہ ہے کہ اگر چلتے ہوئے ہم سے کسی کو ٹھوکر لگ جاتی ہے یا ٹھوکر سے کسی کا کوئی مال برباد ہو جاتا ہے تو اس سے معافی مانگنے کے بجائے اکڑ جاتے ہیں اور الٹے اسی پر خفا ہونے لگتے ہیں کہ آپ یہاں کیوں بیڑھے تھے یہ سامان کیوں رکھا تھا۔ یہ طریقہ پروردگار عالم کو قچعًا نا پسند ہے وہ قرآن شریف میں اعلان کرتا ہے کہ ہم توبہ کرنے والوں کو دوست رکھتے ہیں، مغرور، متکبّر اور اکڑنے والوں کو دوست نہیں رکھتے۔

ہمارے سامنے حضرت حُر کا کردار موجود ہے۔ جنھوں نے امام حسین کی خدمت میں اپنی غلطی کا اقرار کر کے وہ بلند درجہ حاصل کر لیا جو پشتہا پشت کے مسلمانوں کو نہ مل سکا۔ حضرت حُر بھی ایک عام انسان ہوتے تو شکر یزید میں رہ جاتے اور ان کا تذکرہ انہیں الفاظ میں ہوتا جن الفاظ میں دشمنوں کا تذکرہ ہوتا ہے لیکن یہ توبہ کی برکت تھی جس نے انہیں قابل سلام و لائق زیارت بنا دیا۔

ہمارے یہاں ایک عیب یہ بھی پایا جاتا ہے کہ ہم پیٹھ پیچھے کسی کی برائی کرتے ہیں اور جب کوئی ٹوک دیتا ہے تو اپنی غلطی کا اقرار کرنے کے بجائے یہ کہ دئتے ہیں کہ ہم انہیں مومن کب سمجھتے ہیں ؟ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کسی کا مومن ہونا ہمارے سمجھنے کا بھی محتاج ہے کہ اگر ہم مان لیں تو وہ مومن ہو جائے ورنہ کافر ہی رہ جائے۔ ہمیں یہ سوچنا چائیے کہ یہ ہمارے کردار کا دوسرا عیب ہے، مومن کی برائی کرنا تو چھوٹا عیب تھا لیکن مومن کو غیر مومن کہ دیتا یا محب اہلبیت کے ایمان کا انکار کر دینا بہت بڑا جرم ہے۔

ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنے دل میں ایسی طاقت پیدا کریں کہ جب ہم سے کوئی معمولی سی بھی غلطی ہو جائے تو فورًا اپنی غلطی تسلیم کر لیں۔ اگر اس کا تعلق خدا سے ہے تو اس کی بارگاہ میں توبہ کریں اور اگر بندوں کا دل دکھا ہے تو کھلے الفاظ میں ان سے معافی مانگیں۔

اسی میں حقیقی عزت ہے اور اسی سے قیامت کی رسوائی سے نجات ملے گی۔

سوالات

١۔ ہمارے سماج کی خرابی کیا ہے ؟

٢۔ پروردگار عالم کسے دوست رکھتا ہے ؟

٣۔ حضرت حُر نے کیا کیا ؟

٤۔ حضرت حُر کو توبہ سے کیا مرتبہ ملا ؟

۵ ٥۔ غلطیوں میں ہمارا فریضہ کیا ہے ؟

ان الفاظ کے معنی بتاؤ :-

توبہ۔حُر۔مغرور ۔سبکی ۔ تاویل۔متکبر ۔ رسوائی۔ پشتہا پشت ۔ تمّنا۔ اعتراف۔ کردار۔ سرزد

پانچواں سبق

حضرت آدم علیہ السلام

آج سے ہزاراروں سال پہلے دنیا میں آدمیوں کا نام و نشان بھی نہیں تھا۔ دنیا تو تھی مگر رہنے والا کوئی نہ تھا اللّٰہ نے دنیا کو آباد کرنے کا فیصلہ کیا۔ مٹی کا ایک پتلا بنایا گیا اور اللّٰہ نے مٹی کے اس پتلے میں جان ڈال کر انسان بنایا۔

دنیا کے اس سب سے پہلا انسان کا نام تھا " آدم "

حضرت آدم علیہ السلام جنّت میں پیدا ہوئے آپ کی بیوی حضرت حّوا بھی جنّت میں پیدا ہوئیں دونوں بڑے مزے سے جنّت میں رہتے تھے۔

اللّٰہ نے جب حضرت آدم کو پیدا کیا تو سارے فرشتوں کو حکم دیا کہ حضرت آدم کو سجدہ کرو۔ سب فرشتوں نے حضرت آدم کو سجدہ کیا لیکن شیطان نے آپ کو سجدہ نہیں کیا۔

اللّٰہ شیطان کی اس حرکت پر ناراض ہوا۔ چنانچہ شیطان کو جّنت سے نکال دیا گیا۔ اب شیطان دنیا میں ہے اور انسانوں کو بہکاتا رہتا ہے۔ وہ ہمیں بری بری باتیں سکھاتا ہے برے راستے دکھاتا ہے۔ تاکہ اللّٰہ بھی ناراز رہے۔

حضرت آدم حضرت حّر بہت دنوں تک جنّت میں رہے۔ اللّٰہ نے ان سے کہ دیا تھا کہ مزے سے جنّت میں رہو لیکن اس کے ساتھ ہی ان کو ایک خاص درخت کے پاس جانے سے منع کر دیا تھا۔ ایک دن حضرت آدم نے اس درخت کا پھل کھا لیا جس کے پاس جانے سے اللّٰہ نے منع کیا تھا۔ اللّٰہ نے اس کے بعد حضرت آدم کو دنیا میں بھیج دیا۔

حضرت آدم علیہ السلام دنیا میں آئے اب یہی خدا کے سب سے پہلے نبی تھے جب اپ دنیا میں آئے تو آپ نے دیکھا کہ دنیا بالکل اجاڑ اور سنسان پڑی ہے کوئی آبادی نہیں بس جنگل پہاڑ اور سمندر ہیں اور اس کے بعد سنّاٹا۔

آپ دنیا میں رہنے لگے۔ اللّٰہ نے آپ کو بہت سے بچے عطا کئے اور پھر آپ کے انہیں بچّو کی اولاد سے دنیا آباد ہو گئی۔

آج ہماری دنیا میں اربوں آدمی بستے ہیں۔ یہ سب حضرت آدم کی اولاد ہیں۔ اس لئے سب آپس ميں بھائی بھائی ہیں یہ لوگ الگ الگ ملکوں میں رہنے کی وجہ سے الگ الگ زبانیں بولنے لگے۔ ان کے رنگ روپ الگ الگ ہو گئے۔

طور طریقے بدل گئے۔ لیکن سب ایک ہی ماں باپ کی اولاد۔۔۔۔ آدم اور حُوا کے بیٹے۔

حضرت آدم علیہ السلام اللّٰہ کے پہلے نبی تھے۔ آپ اللّٰہ کے بڑے پیارے نبی تھے۔ آپ کو صفی اللّٰہ کہا جاتا ہے۔

صفی اللّٰہ کے معنی ہیں اللّٰہ کا چُنا ہوا۔ اللّٰہ نے حضرت آدم علیہ السلام کو اپنی مجمت کے لئے چن لیا تھا۔ آپ کو بڑی عزت دی تھی۔ اسی لئے آپ صفی اللّٰہ کہلاتے ہیں۔

سوالات

١۔ حضرت آدم کس طرح پیدا ہوئے ؟

٢۔ حضرت آدم جنّت سے کیوں چلے آئے ؟

٣۔ اللّٰہ نے دنیا کو کس طرح آباد کیا ؟

٤ ۴ ۔ حضرت آدم کا لقب کیا ہے ؟

الفاظ کے معنی بتاؤ :۔

فیصلہ۔سجدہ ، رنگ روپ ۔صفی اللّٰہ۔ عطا ۔ اربوں ۔

چھٹا سبق

آنکھوں کا نور

بیٹے کو لوگ کہتے ہیں آنکھوں کا نور ہے

ہے زندگی کا لطف تو دل کا سرور ہے

گھر میں اسی کے دم سے ہے ہر وقت روشنی

نازاں ہے اس پہ باپ تو ماں کو غرور ہے

خوش قسمتی کی اس کو نشانی سمجھتے ہیں

کہتے ہیں یہ خدا کے کرم کا ظہور ہے

اکبر بھی اس خیال سے کرتا ہے اتفاق

اس کا بھی ہے