امامیہ اردو ریڈر درجہ چہارم جلد ۴

امامیہ اردو ریڈر درجہ چہارم0%

امامیہ اردو ریڈر درجہ چہارم مؤلف:
زمرہ جات: گوشہ خاندان اوراطفال

امامیہ اردو ریڈر درجہ چہارم

مؤلف: تنظیم المکاتب
زمرہ جات:

مشاہدے: 375
ڈاؤنلوڈ: 154


تبصرے:

جلد 1 جلد 2 جلد 3 جلد 4 جلد 5
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 42 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 375 / ڈاؤنلوڈ: 154
سائز سائز سائز
امامیہ اردو ریڈر درجہ چہارم

امامیہ اردو ریڈر درجہ چہارم جلد 4

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے

امامیہ اُردو ریڈر

درجہ چہارم

تنظیم المکاتب

ہدایت

۱ ۔مدرسین کا فرض ہے کہ پڑھنے میں روانی پیدا کرانے کے ساتھ تلفظ کی درستگی کا خاص خیال رکھیں۔

٢۔ الفاظ کے معنی کہوا کر یاد کرائیں۔

٣۔ سبق کے بعد کے مشقی سوالات ضرور حل کرائیں۔

٤ ۴ ۔ جابجا قواند سمجھا کر ان کی مشق کرائی جائے۔

٥ ۵ ۔ اردو پڑھانے کے ساتھ اِملا ضرور لکھوایا جائے۔

اور

جو شخطی پر خاص نظر رکھی جائے۔

ناشر

پہلا سبق

مُناجات

دنیا کا انقلاب بڑا تیز گام ہے

اب صاحبان و رع کا جینا حرام ہے

لوگوں میں اب ذرا بھی مروت کی خو نہیں

انسانیت کا جیسے لوگوں میں لہو نہیں

جس کو بھی دیکھئے وہ تلا ہے فساد پر

چلتا نہیں ہے کوئی رہ اتحاد پر

پھر حکمراں زمانے میں ہیں ظلم و کد کے بت

بیٹھے ہیں دل کے کعبہ میں بغض و حسد کےبت

دل تو بنا ہے صرف تیری یاد کے لئے

بس تیری بارگاہ ہے فریاد کے لئے

پر کس کو شوق اب ہے ترے ذکر خیبر کا

صد حیف تیرے گھر پہ تسلط ہے غیر کا

فرزند ارجمند رسول زمین کو بھیج

پھر وقت آ گیا ہے کسی بت شکن کو بھیج

ان الفاظ کے معنی بتاؤ :-

مناجات ۔ القاب ۔ لہو ۔ فساد ۔ تیزگام ۔ صاحبان ورع ۔ استحاد ۔ راہ ۔ حسد ۔ تسلط ۔ کد ۔ ارجمند ۔ فرزند ۔ رسول زمین ۔ بت شکن ۔ چدحیف۔

دوسرا سبق

ہمارے نبی کی تعلیم

حضرت محمد مصطفےٰ ضلی اللّٰہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں بتایا ہے کہ :

ہم اللّٰہ کو ایک مانیں اور کسی کو اس کا شریک نہ بنائیں۔

ہم اللّٰہ کے ہر حکم کے سامنے سر جھکائیں اور اس کی پوری پابندی کریں۔

ہم سچّے دل سے اللّٰ کو یاد کریں اور اس کی عبادت سے غافل نہ ہوں۔

ہم اپنے ماں باپ اور اپنے بڑوں کا پورا ادب کریں اور ہمیشہ ان کی خدمت کرتے رہیں۔

ہم سچ بولیں اور سچ بولنے میں کسی سے نہ ڈریں۔

ہم ہمیشہ دوسروں کی مدد اور خدمت کو اپنا فرض تصور کریں۔

ہم ہر وقت پاک و صاف اور ستھرے نظر آئیں۔

ہم جب کسی سے ملیں تو اسے سلام کریں اور مسکرا کے باتیں کریں۔

ہم صبح اٹھ کر کلمہ پڑھیں، سجدہ شکر کریں۔ درود بھیجیں، مسواک کریں منھ ہاتھ دھو کر خشک کریں

وضو کریں، نماز پڑھیں، بالوں میں کنگھی کریں اور بڑوں کو سلام کریں۔

ہم چوری اور غیبت سے ہمیشہ پرہیز کریں۔

ہم آپس میں میل جول قائم رکھیں اور کبھی جھگڑا نہ کریں۔

ہم ہمیشہ اللّٰہ کی راہ میں غریبوں کو خیرات دیتے رہیں۔

ہم جی لگا کر پڑھیں اور خوب علم حاصل کریں۔

ہم اپنی صحت کا پورا خیال رکھیں۔

ہم ادب اور قاعدے سے بیٹھیں اور اپنے استاد اور دوسرے بزرگوں کی پوری عزت کریں۔

ہم اپنے ہر کام میں ایمانداری برتیں اور کسی کو دھوکا نہ دیں۔

ہم بغیر اجازت کسی کی چیز استعمال نہ کریں۔

ہم گالی نہ بکیں، کسی کو بری بات نہ کہیں، کسی کا دل نہ دُکھائے۔

ہم بیکار کھیل کود میں وقت ضائع نہ کریں۔

ہم دین کی باتیں جی لگا کے سیکھیں تاکہ ہماری زندگی اچھی بن جائے۔

کتنی اچھی اور کام کی باتیں ہیں۔

ہمارے نبی نے بہت ہی اچھی اچھی باتیں بتائی ہیں۔

ان الفاظ کے معنی بتاؤ-

غافل ۔ غیبت ۔ ضائع ۔ فرض ۔ مسواک ۔ تصور

تیسرا سبق

فرشتے

ہمارے چاروں طرف ہوا موجود ہے لیکن اسے ہم دیکھ نہیں سکتے۔ ہوا ہمارے بہت کام آتی ہے۔ اسی سے ہم سانس لیتے ہیں۔ ہوا نہ ہو تو دم گھٹ جائے اور ہم مر جائے ٹھنڈی ہوائیں بہت آرام دیتی ہے ہوا الگنی پر پھیلے ہوئے کپڑوں کو سکھا دیتی ہے۔

ہوا بادل لاتی اور پانی برساتی ہے۔ ہوا کلیوں کو ہلکورے دے کر پھول بناتی ہے۔ ہوا کی مدد سے ہی چڑیاں اور دوسرے پرند اڑتے ہیں۔

ہوا اور بھی بہت سے کام کرتی ہے لیکن پھر بھی ہم اسے دیکھ نہیں سکتے جس طرح اللّٰہ نے ہوا بنائی جو دیکھائی تو نہیں دیتی لیکن بہت سے کام کرتی ہے اسی طرح اللّٰہ نے فرشتے پیدا کئے ہیں جو دکھائی تو نہیں دےتے لیکن اللّٰہ کے بے شمار کام کرتے رہتے ہیں۔

فرشتے نہ کچھ کھاتے ہیں نہ سوتے ہیں نہ تھکتے ہیں بس وہ اپنے کام میں لگے ہیں۔ اللّٰہ کی عبادت کرتے رہتے ہیں۔ اللّٰہ کے آہکام پورے کرتے رہتے ہیں۔ ان سے کبھی کوئی بھول چوک یا خطا نہیں ہوتی، وہ پاک ہں نیک ہیں معصوم ہیں اور اللّٰہ کے کاموں میں لگے رہتے ہیں۔

اللّٰہ نے بے شمار فرشتے پیدا کئے ہیں۔ آسمان میں بکھرے لاتعدا تاروں سے بھی زیادہ۔

ان میں چار فرشتے بہت مشہور ہیں۔

١۔ جبرئیل ۔ یہ اللّٰہ کا احکام اس کے نبیوں تک پہونچاتے ہیں۔

٢۔ میکائیل ۔ یہ آدمیوں کو رزق تقسیم کرتے ہیں۔

٣۔ عزرائیل ۔ یہ روح قبض کرتے ہیں۔ انہیں ملک الموت بھی کہا جاتا ہے۔

٤۔ اسرافیل ۔ یہ قیامت کے دن صور پھونکیں گے جس سے دنیا کا ہر جاندار مر جائے گا۔پھر صور پھونکیں گے تو سب مرے جی اٹھیںگے اور پھر اللّٰہ نیکیوں کو جزا یعنی العام اور بڑوں کو سزا دےگا۔ فرشتوں پر ایمان رکھنا ہمارے لیے ضروری ہے۔

سوالات

١۔ کیا تم نے فرشتوں کو دیکھا ہے ؟

٢۔ فرشتوں کو بغیر دیکھے کس طرح مانو گے ؟

٣۔ مشہور فرشتے کون کون سے ہیں ؟

ان الفاظ کے معنی بتاؤ :-

ے شمار ۔ خطا ۔ معصوم ۔ رزق ۔ صور ۔قبض ۔ جزا ۔ لاتعداد ۔ ملک الموت ۔

چوتھا سبق

توبہ

جرم کرنا بہت آسان ہے اور جرم اقرار کرنا بہت مشکل، غلطی کرنا بہت آسان ہے اور غلطی کا عتراف کرنا بہت مشکل، ہمارے سماج میں سب سے بڑی خرابی یہی ہے کہ ہم خطائیں تو کرتے ہیں، ہم سے غلطیاں تو سرزد ہو جاتی ہیں، لیکن غلطی اور خطا کے اقرار کا وقت آتا ہے تو پشیمان ہونے کے بجائے تا میلیں کرنے لگتے ہیں، باتیں بنانے لگتے ہیں، ہماری ساری تمّنا یہ ہوتی ہے کہ لوگ، ہمیں غیر معصوم تو نہیں لیکن ایسا غیر معصوم کہ جس نے کبھی کوئی غلطی نہ کی ہو چاہے دل کتنی ہی غلطیوں کی گواہی کیوں نہ دے رہا ہو۔ یہ سب اس لئے ہے کہ ہم غلطی کے اقرار کو اپنی ذلت سمجھتے ہیں۔ خطا کے عتراف میں اپنی سبکی کا احساس کرتے ہیں۔

ہمارا عالم یہ ہے کہ اگر چلتے ہوئے ہم سے کسی کو ٹھوکر لگ جاتی ہے یا ٹھوکر سے کسی کا کوئی مال برباد ہو جاتا ہے تو اس سے معافی مانگنے کے بجائے اکڑ جاتے ہیں اور الٹے اسی پر خفا ہونے لگتے ہیں کہ آپ یہاں کیوں بیڑھے تھے یہ سامان کیوں رکھا تھا۔ یہ طریقہ پروردگار عالم کو قچعًا نا پسند ہے وہ قرآن شریف میں اعلان کرتا ہے کہ ہم توبہ کرنے والوں کو دوست رکھتے ہیں، مغرور، متکبّر اور اکڑنے والوں کو دوست نہیں رکھتے۔

ہمارے سامنے حضرت حُر کا کردار موجود ہے۔ جنھوں نے امام حسین کی خدمت میں اپنی غلطی کا اقرار کر کے وہ بلند درجہ حاصل کر لیا جو پشتہا پشت کے مسلمانوں کو نہ مل سکا۔ حضرت حُر بھی ایک عام انسان ہوتے تو شکر یزید میں رہ جاتے اور ان کا تذکرہ انہیں الفاظ میں ہوتا جن الفاظ میں دشمنوں کا تذکرہ ہوتا ہے لیکن یہ توبہ کی برکت تھی جس نے انہیں قابل سلام و لائق زیارت بنا دیا۔

ہمارے یہاں ایک عیب یہ بھی پایا جاتا ہے کہ ہم پیٹھ پیچھے کسی کی برائی کرتے ہیں اور جب کوئی ٹوک دیتا ہے تو اپنی غلطی کا اقرار کرنے کے بجائے یہ کہ دئتے ہیں کہ ہم انہیں مومن کب سمجھتے ہیں ؟ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کسی کا مومن ہونا ہمارے سمجھنے کا بھی محتاج ہے کہ اگر ہم مان لیں تو وہ مومن ہو جائے ورنہ کافر ہی رہ جائے۔ ہمیں یہ سوچنا چائیے کہ یہ ہمارے کردار کا دوسرا عیب ہے، مومن کی برائی کرنا تو چھوٹا عیب تھا لیکن مومن کو غیر مومن کہ دیتا یا محب اہلبیت کے ایمان کا انکار کر دینا بہت بڑا جرم ہے۔

ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنے دل میں ایسی طاقت پیدا کریں کہ جب ہم سے کوئی معمولی سی بھی غلطی ہو جائے تو فورًا اپنی غلطی تسلیم کر لیں۔ اگر اس کا تعلق خدا سے ہے تو اس کی بارگاہ میں توبہ کریں اور اگر بندوں کا دل دکھا ہے تو کھلے الفاظ میں ان سے معافی مانگیں۔

اسی میں حقیقی عزت ہے اور اسی سے قیامت کی رسوائی سے نجات ملے گی۔

سوالات

١۔ ہمارے سماج کی خرابی کیا ہے ؟

٢۔ پروردگار عالم کسے دوست رکھتا ہے ؟

٣۔ حضرت حُر نے کیا کیا ؟

٤۔ حضرت حُر کو توبہ سے کیا مرتبہ ملا ؟

۵ ٥۔ غلطیوں میں ہمارا فریضہ کیا ہے ؟

ان الفاظ کے معنی بتاؤ :-

توبہ۔حُر۔مغرور ۔سبکی ۔ تاویل۔متکبر ۔ رسوائی۔ پشتہا پشت ۔ تمّنا۔ اعتراف۔ کردار۔ سرزد

پانچواں سبق

حضرت آدم علیہ السلام

آج سے ہزاراروں سال پہلے دنیا میں آدمیوں کا نام و نشان بھی نہیں تھا۔ دنیا تو تھی مگر رہنے والا کوئی نہ تھا اللّٰہ نے دنیا کو آباد کرنے کا فیصلہ کیا۔ مٹی کا ایک پتلا بنایا گیا اور اللّٰہ نے مٹی کے اس پتلے میں جان ڈال کر انسان بنایا۔

دنیا کے اس سب سے پہلا انسان کا نام تھا " آدم "

حضرت آدم علیہ السلام جنّت میں پیدا ہوئے آپ کی بیوی حضرت حّوا بھی جنّت میں پیدا ہوئیں دونوں بڑے مزے سے جنّت میں رہتے تھے۔

اللّٰہ نے جب حضرت آدم کو پیدا کیا تو سارے فرشتوں کو حکم دیا کہ حضرت آدم کو سجدہ کرو۔ سب فرشتوں نے حضرت آدم کو سجدہ کیا لیکن شیطان نے آپ کو سجدہ نہیں کیا۔

اللّٰہ شیطان کی اس حرکت پر ناراض ہوا۔ چنانچہ شیطان کو جّنت سے نکال دیا گیا۔ اب شیطان دنیا میں ہے اور انسانوں کو بہکاتا رہتا ہے۔ وہ ہمیں بری بری باتیں سکھاتا ہے برے راستے دکھاتا ہے۔ تاکہ اللّٰہ بھی ناراز رہے۔

حضرت آدم حضرت حّر بہت دنوں تک جنّت میں رہے۔ اللّٰہ نے ان سے کہ دیا تھا کہ مزے سے جنّت میں رہو لیکن اس کے ساتھ ہی ان کو ایک خاص درخت کے پاس جانے سے منع کر دیا تھا۔ ایک دن حضرت آدم نے اس درخت کا پھل کھا لیا جس کے پاس جانے سے اللّٰہ نے منع کیا تھا۔ اللّٰہ نے اس کے بعد حضرت آدم کو دنیا میں بھیج دیا۔

حضرت آدم علیہ السلام دنیا میں آئے اب یہی خدا کے سب سے پہلے نبی تھے جب اپ دنیا میں آئے تو آپ نے دیکھا کہ دنیا بالکل اجاڑ اور سنسان پڑی ہے کوئی آبادی نہیں بس جنگل پہاڑ اور سمندر ہیں اور اس کے بعد سنّاٹا۔

آپ دنیا میں رہنے لگے۔ اللّٰہ نے آپ کو بہت سے بچے عطا کئے اور پھر آپ کے انہیں بچّو کی اولاد سے دنیا آباد ہو گئی۔

آج ہماری دنیا میں اربوں آدمی بستے ہیں۔ یہ سب حضرت آدم کی اولاد ہیں۔ اس لئے سب آپس ميں بھائی بھائی ہیں یہ لوگ الگ الگ ملکوں میں رہنے کی وجہ سے الگ الگ زبانیں بولنے لگے۔ ان کے رنگ روپ الگ الگ ہو گئے۔

طور طریقے بدل گئے۔ لیکن سب ایک ہی ماں باپ کی اولاد۔۔۔۔ آدم اور حُوا کے بیٹے۔

حضرت آدم علیہ السلام اللّٰہ کے پہلے نبی تھے۔ آپ اللّٰہ کے بڑے پیارے نبی تھے۔ آپ کو صفی اللّٰہ کہا جاتا ہے۔

صفی اللّٰہ کے معنی ہیں اللّٰہ کا چُنا ہوا۔ اللّٰہ نے حضرت آدم علیہ السلام کو اپنی مجمت کے لئے چن لیا تھا۔ آپ کو بڑی عزت دی تھی۔ اسی لئے آپ صفی اللّٰہ کہلاتے ہیں۔

سوالات

١۔ حضرت آدم کس طرح پیدا ہوئے ؟

٢۔ حضرت آدم جنّت سے کیوں چلے آئے ؟

٣۔ اللّٰہ نے دنیا کو کس طرح آباد کیا ؟

٤ ۴ ۔ حضرت آدم کا لقب کیا ہے ؟

الفاظ کے معنی بتاؤ :۔

فیصلہ۔سجدہ ، رنگ روپ ۔صفی اللّٰہ۔ عطا ۔ اربوں ۔

چھٹا سبق

آنکھوں کا نور

بیٹے کو لوگ کہتے ہیں آنکھوں کا نور ہے

ہے زندگی کا لطف تو دل کا سرور ہے

گھر میں اسی کے دم سے ہے ہر وقت روشنی

نازاں ہے اس پہ باپ تو ماں کو غرور ہے

خوش قسمتی کی اس کو نشانی سمجھتے ہیں

کہتے ہیں یہ خدا کے کرم کا ظہور ہے

اکبر بھی اس خیال سے کرتا ہے اتفاق

اس کا بھی ہے خیال کہ ایسا ضرور ہے

البّہ شرط یہ ہے کہ بیٹا ہو ہو نہار

مائل ہے نیکیوں پہ بڑائی سے دور ہے

سنتا ہے دل لگا کے بزرگوں کے پسند کو

وقت کلام لب پہ جناب و حضور ہے

رکھتا ہے خاندان کی عزت کا وہ خیال

نیکوں کا دوست صجت بد سے اس کو دُھن

علم و نہر کے شوق کا دل میں وفور ہے

لیکن جو ان صفات کا مطلق نہیں پسند

اور پھر بھی ہے خوشی، تو خوشی کا قصور ہے

ان الفاظ کے معنی بتاؤ :۔

نور ۔ لطف ۔ نازاں۔ غرور ۔ نفور ۔ ظہور ۔ اتفاق ۔ ہونہار ۔ چند ۔ صحبت ۔ کسب ۔ وفور ۔ صفات ۔ قصور ۔ نہر ۔ شب و روز ۔

ساتواں سبق

اہل بیت

اللّٰہ تعالیٰ نے رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ و آلہ وسلم کے اہلبیت کی محبت ہر مسلمان پر واجب کی ہے۔ قرآن کا ارشاد ہے۔

" اے رسول کہ دےجئے کہ میں تم سے رسالت کی تبلیغ کا بدلہ اس کے سوا کچھ نہیں چاہتا کہ میرے سے قرابت داروں سے محبت کرو۔"

رسول اللّٰہ نے ہمیں ایمان دیا، قرآن دیا، اللّٰہ سے ملایا اور اس کا بدلہ کیا تجویز کیا ؟

اہل بیت سے محبت

سوال یہ ہے کہ اہل بیت سے کن لوگ مراد ہیں ؟

اس کا فیصلہ قرآن نے کر دیا ہے۔

عرب کے جنوب مشرق میں ایک علاقہ ہے نجران، وہاں عیسائی رہتے تھے۔ ان عیسائیوں کے چند بڑے بڑے پادری مدینہ آئے تاکہ رسول اکرم صلی اللّٰہ علیہ و آلہ وسلم سے مذہب کے معاملہ میں بحث کریں۔ ان لوگوں کا یہ کہنا تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بغیر باپ کے پیدا ہوئے اس لئے وہ خدا کے بیٹے ہیں۔ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کو سمجھایا کہ جس طرح اللّٰہ نے حضرت آدم کو ماں باپ کے بغیر پیدا کر دیا اسی طرح اللّٰہ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام بغیر باپ کے پیدا کر دیا۔ ایسی حالت میں حضرت عیسیٰ بھی اللّٰہ کے بندہ ہیں جس طرح حضرت آدم۔ عیسائی یہ صاف اور سیدھے بات مانتے پر تیار نہیں ہوئے۔ وہ اس پر اڑے ہوئے تھے کہ حضرت عیسیٰ اللّٰہ کے بیٹے ہیں۔ فیصلہ یہ ہوا کہ عیسائی رسول اللّٰہ سے مُباہلہ کریں۔

مباہلہ کے معنی یہ ہیں کہ دونوں اللّٰہ سے دعا کریں کہ جو حق پر ہو وہ باقی رہے اور جو جھوٹ کہتا ہو وہ مٹ جائے۔

اس موقع پر قرآن پاک میں یہ آیت نازل ہوئی۔

" اے نبی تمہیں علم پہنچ جانے کے بعد بھی یہ لوگ تم سے حجت کرتے ہیں تو ان سے کہ دو کہ آؤ ہم اپنے بیٹوں کو بلائیں۔ تم اپنے بیٹوں کو بلاؤ۔ ہم اپنی عورتوں کو بلائیں تم اپنی عورتوں کو بلاؤ۔ ہم اپنے نفسوں کو بلائیں تم اپنے نفسوں کو بلاؤ اور پھر، ہم ایک دوسرے کے لئے بد دعا کریں اور جھوٹوں پر اللّٰہ کی لعنت کریں۔"

[ سورہ آل عمران آیت ٢١ ]

مُباہلہ کے دن پیغمبر اسلام امام حسن، امام حسین، حصرت فاطتمہ زہرا اور حضرت علی علیہم السلام کو اپنے ساتھ لے گئے۔ لیکن عیسائی ڈر گئے۔ انہوں نے مباہلہ نہیں کیا بلکہ ہار مان کر جذیہ دےنے کا وعدہ کر کے واپس ہو گئے۔

اس آیت میں پیغمبر کو حکم دیا گیا کہ آپ نے اپنے بیٹیوں، عورتوں اور نفس کو لے جائیں پیغمبر اسلام نے اس حکم کی تعمیل اس طرح کۓ کہ :۔

بیٹوں کی جگہ امام حسن اور امام حسین کو۔

عورتوں کی جگہ حضرت فاطمہ زہرا کو

نفسوں کی جگہ حضرت علی کو ساتھ لیا۔

اور اس طرح دنیا کو بتا دیا کہ یہی آپ کے اہل بیت ہیں۔

اللّٰہ نے انہیں اہل بیت کی محبت ہم پر فرض قرار دی ہے۔

رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ و آلہ وسلم نے بار بار ہمیں یہ بتایا ہے کہ مومن وہی ہے جو ان اہل بیت سے محبت کرتا ہے۔ جو شخص اہل بیت سے محبت نہیں کرتا ہے وہ منافق ہے ےعنی ظاہر میں مسلمان اور حقیقت میں کافر۔

سوالات

۱ ۔ اہل بیت سے مراد کون حضرات ہیں ؟

٢۔ اہل بیت کی محبت کیوں واجب ہے ؟

٣۔ مباہلہ میں کون حضرات شریک تھے ؟

ان الفاظ کے معنی بتاؤ :۔

تجویز ۔ جنوب ۔ مشرق ۔ جزیہ ۔ منافق ۔ کافر ۔ قرابت دار ۔ مباہلہ ۔ اہل بیت ۔ نجران ۔ نفس۔

آٹھواں سبق

محبّت کا طریقہ

سرکار دو عالم اور آپ کے اہل بیت سے محبت ایمان کی جان ہے جس دل میں ان حضرات کی محبت نہ ہو وہ مومن کا دل نہیں کہا جا سکتا۔

ان حضرات کی سچّی محبّت یہ کہ ہم ان کی پوری پیروی کریں۔ اور ان کا اخلاق اپنے اندر پیدا کریں۔ سچّی خدا پرستی، حق پر مر مٹنے کا جزبہ، سچّائی، بہادوری، صبر، استقال، دیانت، ایثار، غریبوں کی امداد، ہمدردی، شرافت، علم، سخاوت اور دوسرے اچھے صفات اپنے اندر پیدا کریں، گناہوں سے بچیں، شریعت کی پوری پابندی کریں نماز قائم رکھیں اور اپنی زندگی ان کے سانچے میں ڈھال لیں۔

محبت کا دوسرا طریقہ ھہ ہے کہ ہم رسول و آلِ رسول کے کام کو آگے بڑھائیں۔ ان حضرات کی زندگی کا مقصد تھا دنیا میں اسلام پھیلانا اللّٰہ کا نام بلند کرنا۔ دین کو عام کرنا، انسانوں کو سچّا راستہ دکھانا اور سچّی خدا پرستی کی دوعت دینا۔ اگر ہ ان حصرات سے محبت کرتے ہیں تو ہمیں بھی یہ کام صرور کرنا چاہئیے۔

محبت کا تیسرا چریقہ ہے کہ ہم ان کی خوشی میں خوش ہوں اور ان کے رنج میں رنجیدہ۔ ان کی ولادت کی تاریخوں میں محفل مسرت منعقد کریں۔ اور ان کی شہادت کی تاریخوں میں مجلس غم۔

خوشی کی تاریخیں یہ ہیں :۔

۱۷/ ربیع الاول--------------سرکار دو عالم اور امام جعفر صادق کی ولادت کی تاریخ۔

۲۳/ رجب--------------------سرکار دو عالم کی بعثت اور معراج

۱۳/ رجب--------------------حضرت علی علیہ السلام کی ولادت

۲۸/ ذیالحجہ----------------عید غدیر۔حصرت علی علیہ السلام کی خلافت کے اعلان کی خوشی۔

۲۴/ ذیالحجہ----------------عید مباہلہ۔ مباہلہ میں آل رسول کی کامیابی کی خوشی۔

۹/ ربیع الاول-----------------عید زہرا۔ دشمنان اہل بیت کے رنے کی خوشی۔

۱۵/ رمضان------------------امام حسن علیہ السلام کی ولادت

۳/ شعبان-------------------امام حسین علیہ السلام کی ولادت

۱۵/ شعبان------------------حضرت امام آخر الزمان کی ولادت

ان کے علاوہ ہر معصوم کی ولادت کی تاریخ خوشی کی تاریخ ہے۔ ان تاریخوں میں محفل کرنا قصیدہ پڑھنا، عطر لگانا، اچھے کپڑے پہننا، خوشبو سلگانا، مومنین سے مصافحہ کرنا، ایک دوسرے کو مبارکباد دینا، مکانوں پر روشنی کرنا بڑا ثواب رکھتا ہے۔

غم کی خاص تاریخیں یہ ہیں۔

عشرہ محرم، سوم اور چہارم امام حسین علیہ السلام کی شہادت کی یادگار۔

۲۸ ۔صفر رسول اللّٰہ کی وفات اور امام حسن کی شہادت۔

۸/ ربیع الاول امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت۔

۱۹/۲۰ ١/ ۲۱ رمضان حضرت علی علیہ السلام کی شہادت کی یادگار۔

ان کے علاوہ ہر معصوم کی تاریخ شہادت غم کی تاریخ ہے۔

غم کی تاریخوں میں مجلس منعقد کرنا ثواب رکھتا ہے۔

امام حسین علیہ السلام کے غم میں مجلس کرنا، آنسو بہانا، ماتم کرنا، مرثیہ اور نوحہ پڑھنا، کالے کپڑے پہننا، عاشورہ کے دن فاقہ کرنا آل رسول سے سچّی محبت کی نشانی ہے۔

سوالات

١۔ خوشی اور غم کی خاص تاریخیں کیا ہیں ؟

٢۔ خوشی اور غم کی تاریخوں میں ہمارا فرض کیا ہے ؟

ان الفاظ کے معنی بتاؤ :۔

صبر ۔ اخلاق ۔ دیانت ۔ ایثار ۔ استقلال ۔ سخاوت ۔ رنجیدہ ۔ شریعت ۔ محفل ۔ مجلس ۔ یادگار ۔ مصافحہ ۔

نواں سبق

عزاداری

فرزند رسول حضرت امام حسین علیہ السلام نے کربلا کے میدان میں اپنی اور اپنے عزیزوں کی قربانی پیش فرما کر اسلام کو ایک نئی زندگی عنایت کی ہے ہم اسی واقعہ کی یاد عزاداری کی شکل میں مناتے ہیں۔

دنیا کی ہر قوم اپنے بزرگوں کو یاد رکھتی ہے ۔ اس سے لوگوں میں خوشی جزبہ اور زندگی پیدا ہوتی ہے۔ قوم اور مذہب کے لئے کام کرنے کا جزبہ اُبھرتا ہے اور تاریخ کے پرانے واقعات زندگی کے ہر موڑ پر ہماری رہمنائی کرتے ہیں۔ کربلا کا واقعہ اسلامی تاریخ کا سب سے اہم واقعہ ہے۔ اس لئے ہم بھی ایک زندہ وقم کی حیثیت سے اس کی یاد مناتے ہیں۔

کربلا کے شہیدوں کی یاد میں ہم حق پرستی خدا پرستی، ایثار، فدا کاری شجاعت عزم، استقلال، ضبر، غرض اعلیٰ انسانی صفات پیدا کرتی ہے۔

مجالس سید الشہدا میں ہمیں تفسیر، حدیث، تاریخ اور دوسرے علوم اسلام سننے کا موقع ملتا ہے اور ہماری دینی معلومات میں اضافہ ہوتا ہے۔ غیر قوموں کے لوگ مجلسوں میں آتے ہیں تو ہمارے مذہب کی تبلیغ ہوتی ہے۔

محرّم میں ہم علم اٹھاتے ہیں جس سے ہمارے دلوں میں یہ جزبہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم اسلام کا جھنڈا ہمیشہ بلند رکھیں گے اور اسلام کا جھنڈا اونچا رکھنے کے لئے حضرت عباس کی پیروی میں اپنی جان تک قربان کر دیں گے۔

محرم میں ہم تابوت اٹہاتے ہیں جس سے ہمارے دلوں میں یہ خیال پیدا ہوتا ہ کہ اسلام کا نام باقی رکھنے کے لئے اگر موت کا بھی سامان کرنا پڑے تو اس لئے تیار رہنا چائیے۔

ہم ضریح یا تعزیہ رکھتے ہیں امام حسین علیہ السلام کے روضہ کی نقل ہے جس کو دیکھ کر ہمارے سامنے کربلا کے شہیدوں کی تصویر آ جاتی ہے جو ہمیں اسلام اور ایمان کے لئے ہر قربانی پیش کرنے کا سبق دیتی ہے۔

ہم امام حسین علیہ السلام کۓ غم میں روتے ہیں۔ اس لئے کہ

١، تمام انبیا اس غم میں روئے ہیں۔

۲۔ حضرت محمد مصطفےٰ اس غم میں روئے ہیں۔ چنانچہ روز عاشوہ جناب ام سلمہ نے جو رسول اللّٰہ کی بیوی تھیں جواب میں نبی کریم کو روتے دیکھا تھا۔

٣۔ رونا اس جزبہ کا اظہار ہے کہ اگر ہم کربلا میں ہوتے تو اس روز امام کے ساتھ مل کر اسلام پر اپنی جان فدا کر دیتے۔

٤۔ رونا مظلوم سے محبت کی نشانی ہے اور مظلوم سے محبت سچّی انسانیت ہے۔

٥۔ رونا ہمارے دلوں میں اس سچّی خدا پرستی اور حق پرستی کو زندہ رکھتا ہے جس پر ایمان کی بنیاد قائم ہے۔

٦۔ رونا رسول اور آل رسول سے سچّی محبت کی نشانی ہے ہم اپنے پیارے رسول کو ان کےفرزند کی موت پر پُرسا دیتے ہیں اور رو رو کر پُرسا دیتے ہیں جو ہماری سچّی محبت کا ثبوت ہے۔

عزاداری سے اسلام کی سچّی تبلیغ ہوتی ہے۔

عزاداری سے ایمان تازہ رہتا ہے۔

عزاداری سے خداپرستی کا جزبہ زندہ رہتا ہے۔

عزاداری سے ہمارا اخلاق سنوارتا ہے۔

عزاداری سے اسلامی تاریخ کے سب سے اہم واقعہ کی یاد تازہ رہتی ہے۔

اس لئے۔۔۔۔۔

عزاداری کو باقی رکھنا ہر سچّے مسلمان کا فرض ہے۔

سوالات

١۔ ہم عزاداری کیوں کرتے ہیں ؟

٢۔ عزاداری کیا چیز ہے ؟

٣۔ امام حسین پر کون کون رویا ؟

۴ ۔ رونے کے کیا فائدہ ہیں ؟

ان الفاظ کے معنی بتایئے :۔

عزم ۔ شبیہ ۔ بنیاد ۔ عزاداری ۔ تفسیر ۔ حدیث ۔ تاریخ ۔ رہنمائی اہم ۔ حق پرستی ۔ جزبہ ۔ غرض ۔ اعلیٰ ۔ عزیز ۔ عنایت ۔ فداکاری

دسواں سبق

بارش کا پہلا قطرہ

گھنگھور گھٹا تُلی کھڑی تھی پر بوند ابھی پڑی تھی

ہر قطرہ کے دل میں تھا یہ خطرہ ناچیز ہوں میں غریب قطرہ

کیا کھیت کی میں بجھاؤںگا پیاس اپنا ہی کروں گا ستیاناس

آتی ہے برسنے سے مجھے شرم مٹی پتھر تمام ہیں گرم

خالی ہاتھوں سے کیا سخاوت پھیکی باتوں میں کیا حلاوت

لس بر تے پہ میں کروں دلیری میں کیا ہوں بساط کیا ہے میری

ہت قطرے کے دل میں تھا یہی غم سر گوشیاں ہو رہی تھیں باہم

کھچڑی سی گھٹا میں پک رہی تھی کچھ کچھ بجلی چمک رہی تھی

اک قطرہ کہ تھا بڑا دلاور ہمت کے محیط کا ثناور

فیاض و جوا دو نیک نیت پھڑکی اس کی رگ حمیت

بولا للکار کر کہ آؤ میرے پیچھے قدم بڑھاؤ

کر گزر و جو ہو سکے کچھ اماں ڈالو مُردہ زمین میں جان

یارو یہ ہچر مچر کہاں تک اپنی سی کرو بنے جہاں تک

مل کر جو کرو گے جان فشانی میدان میں پھر دو گے پانی

کہتا ہوں یہ سب سے بر بلا میں آتے ہو تو آؤ لو چلا میں

یہ کہ کے وہ ہو گیا روانہ دشوار ہے خی پہ کھیل جانا

ہر چند کہ وہ تھا بے بضاعت کی اس نے مگر بڑی شجاعت

دیکھیی جرات جو اس سخی کی دو چار ن ے اور پیروی کی

پھر ایک کے بعد ایک لپکا قطرہ قطرہ زمین پہ ٹپکا

آخر قطروں کا بندھ گیا تارا بارش لگ ہو نے موسلادھار

پانی پانی ہو گیا بیاباں سیراب ہوئے چمن خیاباں

تھی قحط سے پایمال خلقت اس مینھ سے ہوئی نہال خلقت

ان الفاظ کے معنی بتاؤ :۔

دیری ۔ سر گوشیاں ۔ ستیاناس ۔ حلاوت / بساط ۔ محیط ۔ دلاور ۔ شناور ۔ فیاض ۔ جواد ۔ حمیت ۔ بضاعت ۔ بیاباں ۔ خیاباں ۔ مچر مچر ۔ قحط ۔ پائمال ۔ سجاعت ۔ موسلادھار ۔ خلقت ۔ جرائت ۔ جا نفشانی ۔ برتے ۔ خی پہ کھیل جاتا ۔ ناچیز ۔ نہال۔

گیارہواں سبق

تعلیم

ہمارے ملک میں تعلیم کا بےحد چرچا ہے، جدھر دیکھو تعلیم کا زور و شور ہے۔ شہروں میں تعلیم، دیہاتوں میں تعلیم، امیروں میں تعلیم، غریبوں میں تعلیم، اونچے لوگوں میں تعلیم، پیچھڑی قوموں میں تعلیم۔ اور تعلیم بھی سیکڑوں طرح کی۔ حساب کی تعلیم، جغرافیہ کی تعلیم، سائنس کی تعلیم،تاریخ کی تعلیم، ادب کی تعلیم، فلسفہ کی تعلیم، نفسیات کی تعلیم، مذہب کی تعلیم، طِب کی تعلیم، ڈاکٹری کی تعلیم۔ مدرسے بھی مختلف قسم کے مدرسے سرکاری مدرسے، پبلک مدرسے، نیم سرکاری مدرسے، عوامی مدرسے، اونچے معیار کے مدرسے، معمولی درجے کے مدرسے۔ یہ سب کچھ ہے مگر نہیں ہے تو زندگی کی تعلیم۔ کسی مدرسے میں نہیں بتایا جاتا ہے کہ اٹھنے بیٹھنے کا طریقہ کیا ہے۔ نہ یہ بتایا جاتا ہے کہ کھانے پینے کا سلیقہ کیا ہے۔ نہ یہ سکھایا جاتا ہے کہ بزرگوں کے ساتھ کیا برتاؤ ہونا چائیے، نہ یہ سکھایا جاتا ہے کہ بچّوں سے کیسے ملنا چائیے۔ نہ یہ تعلیم دی جاتی ہے کہ استاد کا کیا حق ہے۔ نہ یہ سبق سکھايا جاتا ہے کہ شاگردوں کے ساتھ کیا سلوک ہونا چائیے۔ غرض زندگی کا کوئی پہلو ایسا نہی ہے جس کا طور طریقہ سکھا دیا جاتا ہو۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج پڑھے لکھے بیشمار نظر آتے ہیں۔ ڈگری رکھنے والے لاتعداد دکھائی دیتے ہیں۔ لیکن تہذیب و آداب سے بےخبر لوگ بہت کم ہیں۔ کالج سے سندلے کر نکل آتے ہیں اور بیٹھ کر پیشاب کرنے تک کی تمیز نہیں ہوتی۔ یونیورسٹی سے ڈگری لے کر چلے آتے ہیں اور ٹھکا نے سے بیٹھ کر کھانا کھانے تک کا طریقہ نہیں معلوم ہوتا۔ استاد کے خلاف ہنگامہ کرتے ہیں، ماں باپ سے لڑتے جھگڑتے ہیں، بڑوں کا مذاق اڑاتے ہیں، بچّوں کو اذیت پہونچاتے ہیں۔ خدا اور رسول کا نام تک نہیں لیتے، نہ نماز سے کام نہ روزے سے نہ حج سے واسطہ نہ خمس و زکوٰة سے۔

سوچو اگر تعلیم اسی کا نام ہے تو کیا اس تعلیم سے وہ جہالت بہتر نہیں ہے جس میں تہذیب ہو جاہل لوگ سب کی قدر کرتے ہیں۔ بڑوں کی عزت کرتے ہیں۔ چھوٹوں سے محبت کرتے ہیں۔ جاہل مائیں بچّوں کا خیال رکھتی ہیں ان کی ہر مانگ پورا کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ اور آج کل کی پڑھی لکھی مائیں چھوٹے بچّوں کو گھر میں پھینک کر سینما چلی جاتی ہیں۔ انہیں بچّے کے رونے پیٹنے پر بھی رحم نہیں آتا۔ بڑے لڑکوں کو اپنے ساتھ سینما لے جاتی ہیں۔ اور یہ خیال بھی نہیں آتا ہے کہ ہم تو گناہ کر ہی رہے ہیں اپنے بچّے کو بھی خدا اور رسول کی دشمنی پر آمادہ کر رہے ہیں۔

بچّوں اب یہ طے کر لو کہ ایسی تعلیم کا ساتھ نہ دو گے جس میں ادب و تہذیب نہ ہو۔ ایسی لوگوں کی اصلاح کرو گے جو ادب و تہذیب سے دور ہیں۔ اپنے بزرگوں کا ادب کرو گے اپنے خدا اور رسول کا حک مانو گے کھڑے ہو کر کھانا نہ کھاؤ گے، کھڑے ہو کر پیشاب نہ کرو گے سینما نہ جاؤ گے گانا نہ سنو گے، ناچ نہ دیکھو گے۔ کسی کی برائی نہ کرو گے استاد کا ادب کرو گے۔ اگر تم نے ایسا کر لیا تو تم سے خدا بھی خوش ہو گا اور رسول و امام بھی رونہ سب ناخوش ہو جائیں گے۔

ان الفاظ کے معنی بتاؤ :۔

معیار ۔ سلیقہ ۔ جہالت ۔ تہذیب ۔ اذیت ۔ سند ۔ جغرافیہ ۔ فلسفہ ۔ طب ۔ نفسیات ۔ پبلک ۔ نیم سرکاری۔

بارہواں سبق

برسات کی بہاریں

ہیں اس ہوا میں کیا کیا برسات بہار میں

سبزوں کی لہلہاہٹ باغات کی بہار میں

پودوں کی جھمجھماہٹ قطرات کی بہاریں

ہر بات کے تماشے ہر گھات کی بہاریں

کیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہار میں

ہر جا بچا رہا ہے سبز ہرے بچھونے

قدرت کے بچھ رہے ہیں ہر جا ہرے بچھونے

جنگل میں ہو رہے ہیں پیداہرے بچھونے

بچھوا دئے ہیں حق نے کیا کیا ہرے بچھونے

کیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہار میں

سبزوں کی لہلہاہٹ کچھ ابر کی سیاہی

اور چھائی ہیں گھٹائیں سرخ اور سفید کاہی

سب بھیگتے ہیں گھر گھر لے ماہ تابما ہی

یہ رنگ کون رنگے تیرے سوا الا ہی

کیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہار میں

کیا کیا رکھ ہے یا رب سامان تیری قدرت

بدلے ہے رنگ کیا کیا ہر آج تیری قدرت

سب مست ہو رہے ہیں پہچان تیری قدرت

تیتر پکارتے ہیں سُبحانُ تیری قدرت

کیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہار میں

بولیں بٹے بٹیریں قسری پکار کؤ کؤ

پی پی کرے پپیہا بگلا پکارے تو تو

کیا کیا ہُد ہَدوں کی حق حق کیا فاختوں کی بو بو

سب بڑ رہے ہیں تجھ کو کیا پنکھ کیا پکھیرو

کیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہار میں

چھت گرنے کا کسی جاغل شور ہو ر ہا ہے

دیوار کا بھی دھڑ کا کچھ ہوش کھو رہا ہے

ڈر ڈر حویلی والا ہر آن رو رہا ہے

مفلس تو چھو نپڑے میں دل شاد سو رہا ہے

کیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہار میں

جو اس ہوا میں یارو دولت میں کچھ بڑھے ہیں

ہے ان کے صرپہچھتری ہاتھ پہ وہ چڑے ہیں

ہم سے غریب غرباء کیچڑ میں گر پڑے ہیں

ہاتھوں میں جوتیاں میں اور پائنچے چڑھے ہیں

کیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہار میں

کیچڑ سے ہو رہی ہے جس جا زمین پہ کھسلنی

مشکل ہوئی ہے واں سے ہر ایک کو راہ چلنی

پھسلا جو پائوں پگڑی مشکل ہے پھر سنبھلنی

جوتی گری تو واں سے کیا تاب پھر نکلی

کیا کیا مچی ہیں یارو برسات کی بہار میں

ان الفاظ کے معنی بتاؤ :۔

مگحات ۔ سرخ ۔ کاہی ۔ ماہ ۔ پنکھ پکھیرو ۔ سبجان ۔ غل ۔ شاد ۔ تاب ۔ رب ۔ مفلسی ۔ غرباء ۔ قمری ۔