امامیہ اردو ریڈر درجہ پنجم جلد ۵

امامیہ اردو ریڈر درجہ پنجم0%

امامیہ اردو ریڈر درجہ پنجم مؤلف:
زمرہ جات: گوشہ خاندان اوراطفال

امامیہ اردو ریڈر درجہ پنجم

مؤلف: تنظیم المکاتب
زمرہ جات:

مشاہدے: 1228
ڈاؤنلوڈ: 305


تبصرے:

جلد 1 جلد 2 جلد 3 جلد 4 جلد 5
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 44 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 1228 / ڈاؤنلوڈ: 305
سائز سائز سائز
امامیہ اردو ریڈر درجہ پنجم

امامیہ اردو ریڈر درجہ پنجم جلد 5

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے

امامیہ اُردو ریڈر

درجہ پنجم

تنظیم المکاتب

ہدایت

١۔مدرسین کا فرض ہے کہ پڑھنے میں روانی پیدا کرانے کے ساتھ تلفظ

درست کرائیں، الفاظ کے معنی کہوا کر یاد کرائیں۔

٢۔سبق کے بعد کے مشقی سوالات ضرور حل کرائیں۔جابجا قواند سمجھا

کر ان کی مشق کرائی جائے۔

٣۔اردو پڑھانے کے ساتھ اِملا ضرور لکھوایا جائے۔

اور

جو شخطی پر خاص نظر رکھی جائے۔

ناشر

پہلا سبق

اسلام

دنیا میں آدمی کو بہت سی چیزیں پیاری ہوتی ہیں، جان عزیز ہوتی ہے، مال پیارا ہوتا ہے، آبرو قیمتی ہوتی ہے، ہر ایک کی حفاضت کا انتظام کرتا ہے، ہر ایک کے لئے تکلیف برداشت کرنے پر آمادہ رہتا ہے۔ لیکن ایک چیز اور بھی ہے جو ان سب سے زیادہ عزیز ، پیاری اور قیمتی ہے۔ اور وہ ہے مذہب- آدمی مذہب کے نام پر جان، مال، آبرو سب کچھ نچھاور کر سکتا ہے۔ دو دوست آپس میں کتنا ہی گہرا رشتہ کھوں نہ رکھتے ہوں مذہب پر آنچ آجائے تو رشتہ داری کو بلائے طاق رکھ دیتے ہئں۔ جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کی سب سے پیاری چیز ہے مذہب۔

دنیا میں مذاہب کی وہ بھیڑ بھاڑ ہے کہ ہر آدمی کا مذہب الگ ہے۔ کوئی عیسائی تو کوئی یہودی۔ کوئی بت پرست ہے تو کوئی ستارہ پرست۔ کوئی آگ کی پوجا کرتا ہے تو کوئی پتھر کی۔ کوئی گوتم بدھ کے راستے پر چلتا ہے تو کوئی گرنانک کے۔ ہر مذہب والا الگ نبی رکھتا ہے۔ اور الگ الگ خدا کا تصور رکھتا ہے۔ عیسائیوں کے آخری نبی حضرت عیسیٰ ہیں۔ یہودیوں کے آخری نبی حضرت موسیٰ ہئں۔ بت پرستی کرنے والے بت پرست کہلاتے ہیں۔ ستارہ کی پوجا کرنے والے صابئی کہے جاتے ہیں۔ آگ کو پوجنے والے مجوسی ہوتے ہیں۔ پتھر کی مورتیاں بنا کر اس کے سامنے سر جھکانے والے ایک ایسے خدا کو مانتے ہیں جس کے تین ٹکڑے ہیں وشنو، مہیش، برھما۔ گوتم بدھ کے قانون پر عمل کرنے والے بدھشٹ کہلاتے ہیں اور گرنانک کی قوم والے سکھ کے نام سے یاد کئے جاتے ہیں۔

اسی قوم کے ہزاروں اور لاکھوں مذہبوں کے بیچ میں ایک مذہب اسلام بھی ہے۔ اسلام کا خدا ایک ہے۔ نہ اس کا کوئی ساتھی نہ شریک ہے۔ نہ اس کے ٹکڑے ہیں اور نہ ہو سکتے ہیں۔ اس کے آخرۓ نبی حضرت محمد مصطفۓٰ صلی اللّٰہ علیہ و آلہ وسلم ہیں جو مسلمانوں کے پیغمبر ہیں اور جن پر نبوت کا سلسلہ ختم ہو گیا۔ اس کے بعد امامت کا سلسلہ شروع ہوا جس کے پہلے امام حضرت علیٰ او آخری امام حضرت مہدی ہیں۔

اسلام کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اسۓ پروردگار نے پسند فرمایا ہے۔ اپنا محبوب قرار دیا اور دنیا کی نجات کے لئے اسی کو ذریعہ قرار دیا ہے۔ اس نے قران میں صاف صاف اعلان کر دیا ہے کہ جو شخص اسلام کے علاوہ دین کے مذہب کو اختيار کرےگا اس کا کوئی عمل قبول نہ ہوگا اور وہ قیامت کے دن گھاٹے میں رہےگا۔

اسلام کی دوسری خوبی یہ ہے کہ اس کا قانون کسی بڑے سے بڑے نبی یا ولی کا بنایا ہوا نہیں ہے بلکہ اسے خود پروردگار عالم نے بنایا ہے اس کے علاوہ نہ کسی نے اس کا قانون بنایا اور نہ بنا سکتا ہے اور جب بنا نہیں سکتا تو اس میں کوئی ترمیم اور کاٹ چھانٹ بھی نہیں کر سکتا ہے اسلام کے احکام میں کاٹ چھانٹ کرنے والا کسی قیمت پر مسلمان نہیں کہا جا سکتا ہے۔ ظاہر ہے کہ جس قانون کو خدا نے بنایا ہوگا وہ کتنا بلند، پاکیزہ اور قیمتی و ہمہ گیر ہوگا۔ اسلام نے اپنی نماز میں اس بات کو بالکل واضح کر دیا کہ مذہب کا قانون عام آدمی اور نبی سب کے لئے برابر ہے او اسی لئے نماز جماعت میں جہاں تمام امت اللّٰہ کے سامنےسر جھکاتی ہے۔ وہاں نبی اور امام برابر سے سجدہ کرتا ہے تاکہ یہ معلوم رہے کہ یہ قانون میرا نہیں ہے بلکہ میرے خدا کا ہے اس لئے مجھ کو بھی ویسے ہی اطاعت کرنا پڑتی ہے جیسے تم کرتے ہو۔

اسلام کی توسری خوبی یہ ہے کہ اس نے انسان کی زندگی کے کسی پہلو کو نظر انداز نہیں کیا بلکہ زندگی کے ہر رخ، ہر پہلو، شعبہ اور ہر اقدام کو گھیر لیا ہے اس میں اخلاق کے احکام بھی ہیں اور سیاست کے قوانین بھی۔ باہمی زندگی کے اصول بھی ہیں اور تنہائی کی زندگی کے قواعد بھی۔ حقوق کی تفصیل بھی ہے اور فرائض کی تشریح بھی۔ غرض کوی رخ ایسا نہیں بچا جس کے لئے کوئی حکم نہ مقرر کیا گیا ہو۔ حدیہ ہے کہ پیشاب پاخانہ کے طریقے سے لے کر قتل کے ماوضہ تک ہر بات کی تشریح موجود ہے۔ کیا ایسے ہم گیر اور جامع قانون کے ہوتے ہوئے بھی کسی دوسرے قانون کو اپنایا جا سکتا ہے۔

اسلام کی چوتھی خوبی یہ ہے کہ اس نے خدا اور بندے کو رشتوں کا بیک وقت لحاظ کیا ہے۔ دنیا میں بہت سے مذاہب ایسے ہیں جو خدا کی عبادت تو سکھاتے ہیں لیکن بندوں کے ساتھ سلوک کرنے کے طریقے نہیں سکھاتے اور بہت سے ایسے مذاہب ہیں جو آپس کی زندگی پر زور دہتے ہہں اور خدا کو مانتے ہی نہہں کہ اسکی بندگی کے طریقے سکھائہں اور بتائہں۔ اسلام ان دونوں سے بلند و بالاتر ہے اس نے اہک طرف خدا کی بندگی سکھائی اس کے طرہقے بتلائے اور دوسری طرف آپس کے معملات کا سلہکہ بھی سکھا دہا۔ تجارت کہسے کی جاتی ہے، کھیتی باڑی کا کیا طریقہ ہونا چائیے، نکاح کے آداب کیا ہیں شادی کیسے رچائی جاتی ہے اور اس طرح کی سیکڑوں باتیں ہیں جو اسلام کے احکام میں تفصیل کے ساتھ پائی جاتی ہیں جن سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اسلام خدا اور بندے کے تعلق کو ایک ساتھ قائم رکھنا چاہتا ہے اسی لئے حضور پیغمبر اسلام نے اعلان کیا تھا کہ جو دنیا کو آخرت کو نام پر چھوڑ کر پہاڑوں اور غاروں میں آباد ہو جائے وہ بھی مسلمان نہیں ہے اور جو آجرت کو دنیا داری کے لئے چھوڑ کر بندگی سے الگ ہو جائے وہ بھی مسلمان نہیں ہے۔

اسلام کی پانچویں خوبی یہ ہے کہ وہ اس دنیا کا سب سے پڑانا مذہب ہے جس کی تبلیغ کے لئے ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر آئے جو سب کے سب معصوم تھے جن سے غلطی اور خطا کا کوئی امکان نہ تھا۔ ظاہر ہے کہ جس بات کی سوا لاکھ معصوم تائید کرتے ہیں اس میں کسی غلطی یا کمزوری کا کیا سوال رہ جاتا ہے۔ ہمارے نبی حضرت محمد مصطفےٰ سے پہلے بھی انببیاء آخری وقت میں اپنی اولاد کو جمع کر کے یہی وصیت کرتے تھے کہ اللّٰہ نے تمہارے لئے دین اسلام کو پسند فرمایا ہے لہذا تم لوگ بھی اگر مرنا تو اسی دین اسلام پر مرنا۔ او ہمارے نبی نے بھی اپنے آخری وقت تک امت کو اسلام پر باقی رہنے کی تعلیم دی تھی۔

یہ اور بات ہے کہ بہت لوگوں کے دلوں مہں چور موجود تھا اور وہ آپ کے بعد اسلام کو چھوڑنے والے تھے اس لئے آپ نے اپنی آمہداری اپنی اولاد اور اپنے گھر والوں کے سپرد کی جو اس وقت سے آج تک اسلام کی حفاظت کر رہے ہیں۔ ہمارے بارہویں امام جو آج بھی پردہ غیب میں موجود ہیں اُن کو بھی پروردگار عالم نے اسی لئے باقی رکھا ہے کہ جب دنیا میں کفر و شرک پھیل جائےگا اور لوگ اسلام کے راستے سے ہٹ جائیں گے تو وہ پردہ ہٹ کر سامنے آئیں گے اور اپنے دادا حضرت محمد مصطفےٰ کی طرح دوبارہ دنیا میں اسلام پھیلائیں گے اُس وقت ساری دنیا میں اسلام ہی اسلام ہوگا کفر و شرک کا نام و نشان نہ رہےگا عدل و انصاف کا دور دورہ ہوگا اور ظلم و جور مٹ کر رہ جائیں گے۔

ان الفاظ کے معنی بتاؤ ۔

خیرباد ۔ بلائے طاق رکھنا ۔ آنچ آنا ۔ صابئی ۔ ترمیم ۔ نظر انداز ۔

اقدام ۔ تشریح ۔ معاوضہ ۔ جامع ۔ ہمہ گیر ۔ شعبہ ۔ بدھشٹ ۔ عزیز ۔

آبرو ۔ حفاظت ۔ انتظام ۔ بت پرست ۔ ستارہ پرست ۔

سوالات

١۔ اسلام کے خصوصیات بتاؤ۔ اور بتاؤ کہ بارہویں امام ظہور کے بعد کیا کریںگے ؟

دوسرا سبق

الٹی گنگا

دریا کا بہاؤ ایک خاص رُخ پر ہوتا ہے اس کے خلاف اسے نہیں بہایا جا سکتا۔ لیکن کبھی کبھی بعض بےوقوف قسم کے لوگ اس بات کی بھی کوشش کرتے ہیں کہ دریا کا بہاؤ الٹ دیا جائے۔ اسے اتر سے دکھن کے بجائے دکھن سے اتر چلایا جائے یہ بالکل ناممکن سی بات ہے ایسا کرنے والا خد بہہ سکتا ہے دریا کے بہاؤ کو نہیں موڑ سکتا اس لئے کہ پانی کی روانی ایک فطری چیز ہے اور فطرت سے مقابلہ کرنا انسان کے بس کی بات نہیں۔

دریا میں تو یہ بات نہیں ہو سکتی لیکن آدمی کی زندگی میں اکثر اوقات ایسا ہوتا رہتا ہے۔ پروردگار عالم نے زندگی کا بھی ایک رُخ معین کیا تھا اور انسان کو تعلیم دی تھی کہ زندگی کو اسی رُخ پر چلائے لیکن انسان نے اپنی سرکشی کی بنیاد پر الٹی گنگا بہانی شروع کر دی اور اب زندگی کا ہر قانون بھکار ٹھہرایا جانے لگا۔ عزت کی جگہ ذلت اور حیا کی جگہ بحیائی نے لے لی۔ دوسروں کے احترام کی جگہ ہنسی مذاق اور بزرگوں کے ادب کی جگہ مضحکہ نے لے لی۔ عورت پردے کے بجائے آفس میں آ گئی اور مرد آفس کے بجائے گھر چلا گیا۔ یہ الٹی گنگا یہاں تک بہی کہ ہر اخلاقی بات بیوقوفی شمار ہونے لگی۔ اور ہر ادب و تہذیب کا قانون پرانے زمانے کا ڈھکوسلہ بن گیا۔ نتیجہ کیا ہوا ؟ یہی کہ انسان اپنے ہی ہاتھوں فریاد کرنے لگا اور ساری دنیا پرئشانی کا شکار ہو گئی۔

کس قدر تعجب کی بات ہے کہ کل تک آدمی اپنے مال کے نقصان پر آفسوس بہاتا تھا اور آج کے دوکاندار بیمہ کمپنی سے پیسہ وصول کرنے کے لئے نہایت بےدردی کے ساتھ اپنی ہی دوکان کو آگ لگا دیتے ہیں۔ کل کا آدمی ایک بیٹے کے مر جانے پر مدّتوں افسردہ اور پریشان رہا کرتا تھا اور آج انسان ڈاکڑی مدد سے اولاد کے سلسلے ہی کو ختم کرا دیتا ہے اور اسے کوئی افسوس نہیں ہوتا۔

کل کا آدمی لڑکی کے گھر سے باہر نکل جانے پر قوم کو منھ دکھانے کے قابل نہ وہ جاتا تھا اور آج لڑکیوں کا کالج میں لڑکوں کے بغل میں بٹھا کر ماں باپ خوش ہوتے ہیں۔

کل عورت گھر میں بیٹھ کر اطمینان سے کھایا کرتی تھی اور آج کارخانوں میں جھونک کر، فوجوں میں بھرتی کر کے اس سے وہ کام لیا جا رہا ہے جو بڑے بڑے طاقتور مرد بھی نہیں کر سکتے اور عورت ہے کہ اسے بھی اپنی ترقی سمجھتی ہے۔

کل کا شریف انسان کپڑے پر پیشاب کے ایک قطرے کو برداشت نہیں کر سکتا تھا اور اُسے اُس وقت تک چین نہیں آتا تھا جب تک وہ کپڑا دھل نہ جائے اور آج کا شریف کھڑے ہو کر پیشاب کر کے پانی نہ لینے ہی کو اپنی بلندی سمجھتا ہے۔

کل کا سماج شرابی جواری کو ذلّت کی نظر سے دیکھتا تھا ایسے آدمی کو کسی محفل میں جگہ نہیں دی جاتی تھی اور آج شراب کی طرح طرح بوتلیں اچھے گھرانوں کی الماریوں میں سجی رہتی ہیں۔ تاش جیسی لعنت ہر بڑی سوسائٹی کی زینت بنی ہے۔

کل رشوت لینے والے کے پیسے سے پرہیز لیا جاتا تھا اور آج رشوت کے پیسے سے ہر گھر آباد ہے۔

کل دوسروں کا مال کھا لینے والوں کو چور، ڈاکو، بے ایمان کہا جاتا تھا اور آج خمس، زکٰوة نہ دینے والے، خدا کا مال کھا جانے والے کو پکّا ایماندار کہا جاتا ہے۔

کل کی مسجدیں مسلمانوں سے بھری رہتی تھیں اور آج کی مسجدیں ویران پڑی رہتی ہیں۔

کل روزہ نہ رکھنا عیب تھا اور آج رمضان میں کھلم کھلا سگریٹ پی جاتی ہے اور یہ کہا جاتا ہے کہ جب خدا سے شرم نہیں تو بندے سے کیا شرم ؟ اور یہ امید بھی کی جاتی ہے کہ لوگ حیادار ہی کہیں بےشرم نہ کہنے پائیں۔

کل خدا کی بندگی پر فخر کیا جاتا تھا اور آج ہر بات میں خدا کا مذاق اڑانا باعثِ فخر ہے۔

کیا ایسے حالات میں یہ امید کی جاسکتی ہے کہ ہمارا یہ سماج آئندہ بھی مسلمان رہ سکےگا اور ہم خدا اور رسول اور ائمہ معصومین کی بارگاہ میں مسلمان مان لئے جائیںگے۔ ہرگز نہیں۔ یہ الٹی گنگا بےدینی کے لئے تو بڑی اچھی چیز ہے لیکن مذہب کے لئے کسی زہر سے کم نہیں ہے۔

ان الفاظ کے معنی بتاؤ :

مضحکہ ۔ مورتیاں ۔ ڈھکوسلہ ۔ کانٹ چھانٹ ۔ پاکیزہ ۔ بلند ۔ افسردہ۔ رُخ ۔ بےوقوف ۔ نا ممکن ۔ فطری ۔ معین ۔ سرکشی ۔ بنیاد ۔ بےدردی ۔ رشوت ۔ ویران ۔ مزاق۔

تیسرا سبق

ہنس کی چال

ہنس ایک پرندہ ہوتا ہے جس کی چال اچھی ہوتی ہے وہ جب چلتا ہے تو بڑا بھلا معلوم ہوتا ہے اور اسی کے مقابلہ میں کوّے کی چال بے ڈنگی ہوتی ہے، ایک دن ایک شخص ے کوّے کو طعنہ دیا کہ ہنس کی چال تجھ سے بہتر ہوتی ہے اسے دیکھ کر لوگ اس کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں اور تیری چال دیکھ کر تجھ سے نفرت کرنے لگتے ہیں۔ کوّے نے چپکے سے یہ بات سُن لی اور دل ہی دل میں یہ ٹھان لی کہ آئندہ سے ہنس کی طرح چلنے کی مشق کرے گا اور کچھ دنون بعد جب میری چال ویسی ہی ہو جائے گی تو میں اس طعنہ کا جواب دوں گا اور بتاؤں گا کہ کوّے کی چال ہنس سے کچھ کم نہیں ہوتی ہے۔ ایک مدت تک یہ مشق ہوتی رہی اور ایک دن جب اس نے یہ طے کر لیا کہ میری چال ہنس جیسی ہو گئی ہے تو اس طعنہ دینے والے کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ تو نے مجھے طعنہ دیا تھا کہ ہنس کی چال کوّے سے بہتر ہوتی ہے اچھا آج میری چال کو دیکھ کر یہ فیصلہ کر کہ کس کی چال اچھی ہوتی ہے۔ یہ کہ کر اس نے ہنس کے انداز میں چلنے کی کوشش کی اور لنگڑا کر چلنا شر و ع کر دیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ لنگڑا بھی ہو گیا اور ہنس کی چال تو بڑی بات خود اپنی چال بھی بھول گیا۔ یہی حال ہم مسلمانوں کا ہے۔ ہم کو بھی دنیا کی ہر چیز بھلی معلوم ہوتئی۔ ہم نے اسے اپنا لیا اور یہ بھول گئے کہ ہم مسلمان ہیں اور دنیا کی دوسری قومیں مسلمان نہیں ہیں ان کا طور طریقہ اور ہے اور ہماری تہذیب اور ہے۔

ہم نے دوسروں کے مذہب میں ہر تہوار میں ناچ، گانا، باجا دیکھا تو خود کرنے لگے۔ انگریزوں کی عورتقں کو بے پردہ بے حیائی کے ساتھ سڑکوں پر گھومتے ہوئے دیکھا تو اپنی عورتوں کو بھی نکال لائے۔ دوسری قوموں کو سینما جاتے دیکھا تو اپنی ماؤں، بہنوں، بیٹیوں کو بھی پہنچا دیا۔ شراب دیکھی تو اسے پینا شروع کر دیا۔ جوا دیکھا تو تاش و غیرہ کھیلنے لگے، تماشے دیکھے تو اس میں مصرف ہو گئے۔ ہماری کوئی تقریب ناچ گانے سے خالی نہ رہی۔ ہمارا کوئی گھر ریدیو کے گانوں سے نہ بچ سکا، ہمارا کوئی بچّہ کھڑے ہو کر پیشاب کرنے سے محفوض نہ رہ سکا، ہماری کوئی دعوت کھڑے ہو کر کھانے سے الگ نہ رہ سکی، ہماری کوئی لڑکی پردہ دار نہ رہ سکی، ہمارا کوئی جوان ڈاڑھی نہ رکھ سکا، نماز ہمارے گھر سے رخصت ہو گئی۔ روزے ہمارے واسطے مصیبت بن گئے۔ حج میں ہم کو پیسے کی بربادی دکھائی دینے لگی۔ خمس و زکّوة کا ذکر ہمارے گھروں سے نکل گیا۔ ایک دوسرے کو اچھی باتیں بتانا اور بری باتوں پر ٹوکنا ہمارے یہاں عیب بن گیا۔ غلامی رہ گئی۔ آزادی چلی گئی۔ نوکری رہ گئی تجارت چلی گئی۔ بے پردگی رہ گئی غیرت چلی گئی۔ گانا بجانا رہ گیا تلاوت قرآن چلی گئی سینما رہ گیا مسجدوں کی آبادی چلی گئی۔ تاش کے آدے رہ گئے مجلسوں کا مجمع چلا گیا اور نتیجہ وہی ہوا کہ کوّا چلا ہنس کی چال اپنی چال بھول گیا۔ ہم مسلمان کہلانے کے قابل رہنے نہیں دیا اور دنیا نے ہم کو نہ اپنا مانا نہ ترقی یافتہ۔ اب ہم رہ گئے اور مقدر کا رونا۔ اور نتیجہ میں پروردگار سے شکوہ۔ ہم مسلمانوں کی حالت خراب ہے۔ کاش ہم نے بھی سوچا ہوتا کہ ہم میں مسلمان کون ہے ہم اپنے کو کس منھ سے مسلمان کہتے ہیں۔ ہم نے فروع دین کی کس فرع پر عمل کیا، اصول دین کی کس اصل کو دل سے مانا۔ ضرورت ہے کہ اب بھی ہماری آنکھیں کھل جائیں اور ہم کو ہوش آ جائے دنیا تو ہمارے ہاتھ سے جا چکی ہے۔ یہاں تو ہم ذلیل و پست ہو ہی چکے ہیں۔ اب کم از کم اپنے دین کو تو سنبھال لیں اور آخرت میں تو خدا کو منھ دکھانے کے قابل بن جائیں۔ حالا نکہ اگر ہم آج بھی اسلام کے احکام پر مکمل عمل کریں تو دنیا بھی بن جائے اور آخرت بھی۔ مگر اس کے لئے اپنی چال بدلنا ہوگی۔

ان الفاظ کے معنی بتاؤ :

طعنہ ۔ مشق ۔ نتیجہ ۔ ہنس ۔ طور طریقہ ۔ مصرف ۔ تقریب ۔ محفوظ ۔ رخصت ۔ غیرت ۔ تلاوت ۔ شکوہ ۔ ہوش ۔ سرکشی ۔ نفرت ۔ چپکے ۔ تہذیب ۔ فرع ۔ اصل۔

چوتھا سبق

محنت

دنیا کی دوسری قوموں کے مقابلے میں مسلمانوں کی ابتری کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ مسلمان نے محنت و مزدوری چھوڑ دی ہے، وہ مسلمان جو آج سے چند صدی پہلے دنیا کے لئے راہ نما کی حیشیت رکھتا تھا جس نے دنیا کو محنت و مزدوری اور کاروبار کا طریقہ سکھایا تھا۔ اسپین میں جس کے ہاتھوں کی بنائی ہوئی چیزیں دنیا کے ہر بازار میں دکھائی دیتی تھیں۔ آج وہی مسلمان ہر قوم سے زیادہ ذلیل، پست اور احساسِ کمتری کا شکار ہے جسے دیکھئے اسے مقدر کا رونا ہے۔ جس پر نظر کیجئے وہ شکایت روزگار کر رہا ہے جس کی حالت دریافت کیجئے وہ سوائے شکوہ تقدیر کے کوئی اور جواب نہ دیگا۔ اور اس حالت کے باوجود کوئی سوچنے پر آمادہ نہیں ہے کہ ہماری یہ حالت کیوں ہے ؟ ہم ذلیل و پست کیوں ہو گئے ہیں ؟ بات در اصل یہ ہے کہ مسلمان شروع ہی سے اپنے کو ایک اونچی قوم سمجھتا رہا ہے۔ مقدر بھی بڑی حد تک اس کا ساتھ دیتا رہا۔ زمین، جاگیر، جائداد، ریاست علاقہ سب اس کے قبضے میں رہا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ محنت کرنا بھول گیا۔ دشمن نے اسے یہ سب چیزیں اسی لئے دی تھیں کہ وہ محنت کرنے سے عاجز ہو جائے تو سب یکبارگی چھین لیا جائے۔ اس کے بعد تو یہ دھوبی کا کتّا ہو جائے گا۔ نہ گھر کا رہے گا اور نہ گھاٹ کا۔ نتیجہ وہی ہوا دشمن اس کو بےکار بنانے پر تُلا رہا اور وہ شاہی ٹھاٹ باٹ کو اپنی عزت سمجھتا رہا اور آخرکار جب کسی قابل نہ رہ گیا تو ساری زمینین چھین لیں اور اسے ایک چلتا پھرتا مُردہ بنا کر چھوڑ دیا۔

اس حادشہ کے بعد بھی ممکن تھا کہ مسل؛مان کی آنکھیں کھل جاتیں۔ لیکن یہ ہوتا کیوں نکہ ؟ یہاں تو دماغ میں ریاست گھسی ہوئی تھی ہمارے بچّے اور اسکول جائیں۔ ہماری گود کے پالے تعلیم حاصل کریں۔ ہم رئیس گھرانے کے لوگ کاروبار کریں۔ ہم دکان پر بیٹھ کر بنئے کہے جائیں۔ ہم کاروبار کر کے اپنے کو ذلیل کرائیں۔ ہم محنت مزدوری کر کے اپنے کو مزدور، رکشہ والا، یکہ والا کہلائیں۔ ؟ اس سے بہتر یہی ہے کہ زہر کھا کر مر جائیں اور وہ دن نہ دیکھیں۔ ابھی یہ سوچ رہے تھے کہ رہی سہی دولت بھی پیٹ کی نزر ہو گئی ٹھاٹ باٹ میں فرق نہیں آیا اور آمدنی تقریباً ختم ہو گئی۔ یہ رنگ کتنے دن چلتا آجر ایک دن ختم ہونا تھا۔ لیکن مصیبت یہ ہوئی کہ آمدنی ختم ہوئی تو ایسے موقع پر کہ تجارت کرنے کے لئے پیسہ نہیں رہا۔ محنت کرنے کے لئے قوت نہیں رہی، کاروبار کرنے کا دماغ نہیں رہا۔ برابر سے بات کرنے کا مزاج نہیں رہا۔ اب ایک ہی راستہ رہ گیا تھا جو دشمن پہلے سے سوچے ہوئے تھا اور وہ تھا نوکری کا راستہ۔ اُس نے مسلمانوں کو لئے یہ دروازہ کھول دیا اور تیزی کے ساتھ اُنیں نوکر رکھنا شروع کر دیا۔ اِدھر مسلمان نوکری کرنے میں لگے اُدھر محنت کرنے والی قومیں تجارت اور مزدوری میں۔ جس کے نتیجہ میں سب کچھ اُن کے ہاتھ میں چلا گیا اور غلامی، نوکری، ںانٹ پھٹکار ہمارے حصّے میں آ گئی۔ کل ہمارے سامنے جنھیں بات کرنے کی ہمت نہ تھی آج ان کے سامنے کھڑے ہو کر ہم بات کرتے ہوئے لرزتے ہیں۔ کیا اس انقلاب کے بعد بھی ہماری آنکھیں نہ کھلیں گی ؟ اور ہم یہ نہ سوچیں گے کہ قرآن مجید نے سچ کہا کہ جب کسی قوم کی تباہی قریب آتی ہے تو اسے دولت مند بنا کر آزاد کر دیا جاتا ہے وہ رنگ رلیوں میں مبتلا ہو جاتی ہے اور بالآخر تباہی کے گھاٹ اتر جاتی ہے۔ صدر اسلام نے زمانے کو لے لیجئے۔ سرکار دو عالم نے اپنی امت کو کتنی جفاکش، محنتی قوم بنا کر چھوڑا تھا۔ خود باغوں میں سینچائی کر کے اپنی روٹی کا انتظام کرتے تھے۔ حضرت علی یہودی کے باغ میں پانی دیا کرتے تھے، کوفہ میں دکان پر بیٹھ کر خرمے بیچا کرتے تھے جناب فاطمہ اون کاتا کرتی تھیں۔ اپنے ہاتھوں سے چکّی پیستی تھیں۔لیکن تھوڑے ہی دنوں کے بعد جب بنی امیہ اور بنی عباس کے بادشہوں کے ہاتھ دوسرے ملکوں کی دولت لگی تو وہ عیش عشرت ناچ گانا اور عیاشی و بدمعاشی میں لگ گئے اور نتیجہ یہ ہوا کہ ہمکشہ ہمکشہ کے لئے ذلیل ہوئے۔

ہمارے کاروبار کا یہ عالم ہے کہ ایک لاکھ کی دکان پر پنکھے کے نیچے بھٹھنے کو فخر سمجھتے ہیں اور ٹھیلے پر رکھ کر سبزی بیچنے یا بیڑی ماچس کی دکان پر بیٹھ کر تجارت کرنے کو عیب سمجھتے ہیں۔ در حقیقت یہ اُس رئیسانہ ذہنیت کا اثر ہے جو تجارت نہیں کرنے دیتی بلکہ ریاست اور عیش و آرام سکھاتی ہے اس ذہنیت کا مطلب ہی یہ ہے کہ ابھی مسلمان کو اور ذلیل ہونا ہے۔ ورنہ اب بھی اپنی آنکھیں کھول لے۔

ان الفاظ کے معنی بتاؤ :-

ابتری ۔ راہنما ۔ اسپین ۔ ذلیل ۔ پست ۔ احساس متری ۔ مقدر ، دریافت ۔ تقدیر ۔ جاگیر ۔ جائداد ریاست ۔ علاقہ ۔ عاجز ۔ یکبارگی ۔ گھاٹ ۔ شاہی ٹھاٹ ۔ مردہ ۔ حادشہ ۔ ٹھاٹ باٹ ۔ موقع ۔ ڈانٹ پھٹکار ۔ انقلاب ۔ دولت مند ۔ آزاد ۔ جفاکش ۔ سینچائی ۔ عیش و عشرت ۔ عیاشی ۔ بدمعاشی ۔ ذہنیت۔

پانچواں سبق

سامان یا اطمینان

دنیا کا کوئی انسان نہیں ہے جو سکون، چين اور اطمینان کا طلبگار نہ ہو اور کوئی انسان نہیں ہے جو بیچین و مضطرب اور پریشان نہ ہو اور سچی بات تو یہی ہے کہ اگر یہ بے چین نہ ہوتی تو چین کی تلاش نہ رہتی۔ اگر یہ اضطراب نہ ہوتا تو اطمینان کی جستجو نہ ہوتی۔ سکون و اطمینان کی تلاش بےچینی اور پریشانی ہی کا نتیجہ ہے۔ لیکن سب سے بڑا سوال تو یہ ہے کہ اطمینان ملے کیسے۔ دنیا کے بہت سے لوگوں نے فیصلہ کیا ہے کہ جہاں سے پریشانی شروع ہوتی ہے وہیں سے اطمینان کا انتظام کرنا چائیے۔ اگر کسی کو روٹی کی پریشانی ہے تو اسے روٹی دینی چائیے۔ اگر کسی کو کپڑے کی پریشانی ہے تو اسے کپڑا دینا چائیے۔ اگر کوئی مکان کا محتاج ہے تو اسے مکان دیا جائے۔ اگر کوئی اولاد کی وجہ سے پریشان ہے تو اس کی اولاد کو صیح تربیت دی جائے۔ اگر کوئی زبردست لوگوں کی وجہ سے مضطرب ہے تو عدالت قائم کر کے انصاف کا انتظام کیا جائے۔ غرض بے چینی کے ہر راستے کو بند کر دیا جائے، سکون اور چین خود ب خود پیدا ہو جائے گا۔ یہی سوچ کر آدمی نے ہر چیز کے لئے کاشتکاری کے عمدہ سے عمدہ ذریعے نکالے، سیکڑوں قسم کی کھاد ایجاد کی۔ قدم قدم پر ٹیوب سیل لگوائے ۔ کپڑے کے لئے مليں کھولیں، مشینیں بنائیں اور ہزاروں قسم کے کپڑے شوق کی تسکین کے لئے ایجاد کئے۔ رہنے کے لئے خوبصورت سے خوبصورت عمارتیں بنوائیں۔ سمندروں کو پاٹ کر جگہ نکالی پہاڑوں کی چوٹیوں کو آبادی کے قابل بنایا تربیت کے لئے نرسری اسکول کھولے۔ ظالم و ستم کو مٹانے کے لئے عدالتیں قائم کیں۔ لیکن حق یہ ہے کہ ہر چیز سے ایک نئی پریشانی ہی پیدا ہوئی سکون نہ ملا۔ مشینوں کے ٹوٹ جانے کے اندیشے نے دل کو چین نہ لینے دیا۔ ما؛ کے لٹ جانے کی فکر نے رات کی نیند حرام کر دی۔ مکان کے گر جانے کے خیال نے پریشان کر دیا اور اطمینان کا ہر ذریعہ پریشانی کا پیش خیمہ بن گیا۔

آجر ایسا کیوں ہوا ؟ بات در اصل یہ ہے کہ انسان نے پریشانی کی وجہ نہیں دریافت کی اور درمیان ہی سے مرض کا علاج شروع کر دیا ۔نتیجہ ہوا کہ اوپر اوپر سے مرض ٹھیک ہوتا رہا اور اندر اندر سے اور مضبوط ہوتا گیا۔

انسان نے یہ طے کیا کہ ساری پریشانی امان کی کمی سے ہے۔ کھانے کے لئے روٹی، پہننے کے لئے کپڑے، رہنے کے لئے مکان نہیں ہے اسی لئے آدمی پریشان رہتا ہے جب یہ سب مہّیا ہو جائے گا تو پریشانی خود ب خود دور ہو جائے گی۔ یہ نہیں سوچا کہ اگر پریشانی سامان کی وجہ سے ہوتی تو جن کے پاس سامان موجود تھا کم از کم وہی مطمئن ہوتے لیکن ایسا بھی نہیں ہے جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ اطمینان کا راستہ کچھ اور ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کے پاس جتنا سامان بڑھتا گیا اتنا ہی اپنے اوپر ہھروسہ ہوتا گیا اور جتنا اپنے اوپر بھروسہ ہوتا گیا تنا ہی اپنے خدا کو بھولتا گیا ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ہر مال سے برکت اٹھا گئی اور ہر طرف نحوست پھیل گئی۔ کل جب پانی نہیں برستا تھا تو ہر کسان اپنے مالک کی بارگاہ میں دعا کرتا تھا۔ فصل آنے سے پہلے دعائیں شروع ہو جاتی تھیں۔ مالک موقع موقع سے پانی برسنا۔ مالک پانی اس طرح برسے کہ کھیت میں زیادہ سے زیادہ غلہ پیدا ہو۔ اور آج جب سے ٹیوب ویل وغیرہ کا چکر نکل آیا ہے کسی کو دعا کی ضرورت ہی نہیں رہ گئی۔ ہر ایک یہ سوچتا ہے کہ پانی نہیں برسے گا تو ٹیوب ویل تو موجود ہی ہے بلکہ دل ہی دل میں یہ خواہش بھی ہوتی ہے کہ پانی نہ برسے تو اچھا ہے تاکہ لوگوں سے پیسہ کمایا جا سکے اور یہی بری نیت ہے۔ جس کی وجہ سے مال سے برکت اٹھ جاتی ہے اور نحوست کا دور دورہ ہو جاتا ہے۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ بے چینی کی وجہ سامان کی کمی نہیں ہے بلکہ اصل وجہ نیت کی خرابی اور خدا پر بھروسے کا اٹھ جانا ہے۔ جب تک دنیا میں سچّی نیت اور خدا پر بھروسے کی صفت نہ پیدا ہو گی سکون و اطمینان نہیں پیدا ہو سکتا چاہے آدمی چاند پر چلا جائے یا سورج پر۔ جہاں رہے گا پریشان ہی رہےگا۔ اس بات کا بہترین منظر کربلا کے میدان میں دیکھا گیا ہے جہاں ایک طرف سامان ہی سامان تھا۔ فوجین تھی، اسلحے تھے، پانی کی فراوانی تھی، سپاہیوں کی کثرت تھی، آسائش کے اسباب تھے لیکن پریشانی تھی۔ اور دوسری طرف بے سر و سامانی تھی، غربت و مسافر تھی، نہ لشکر تھے نہ اسلحے، نہ فوجیں تھیں نہ تعداد لیکن اطمینان اس درجہ کا تھا کہ قرآن امام حسین کو " نفص مطمئنہ " کہ کر پکار رہا تھا۔ ایسا کیوں تھا ؟ صرف اس لئے کہ یزید کے پاس سب کچھ تھا مگر خدا پر بھروسہ نہ تھا۔ امام حسین کے پاس کچھ نہ تھا لیکن خدا پر بھروسہ اور دین پر اعتماد تھا۔

ان الفاظ کے معنی بتاؤ :۔

چین ۔ اضطراب ۔ جستجو ۔ سکون ۔ اطمینان ۔ تلاش ۔ تربیت ۔ مضطرب ۔ محیا ۔ کاشتکاری ۔ عمدہ ۔ ایجاد ۔ ٹیوب ویل ۔ تسکین ۔ عمارتیں ۔ ظالم و ستم ۔ عدالتیں ۔ اندیشہ ۔ تدبیریں ۔ دريافت ۔ مضبوط ۔ حقیقت ۔ نحوست ۔ فصل ۔ غلہ ۔ دارومدار ۔ خواہش ۔ اعتماد ۔ صفت ۔ آسائش ۔ مسافر ۔ لسکر ۔ نفس مطمئنہ ۔ اعتماد ۔ اسلحہ ۔ فراوانی ۔ خود بخود ۔ شوق ۔ منظر ۔ بہترین ۔

چھٹا سبق

برکت و نحوست

صبح سویرے خالد سے ملاقات ہوئی حالت تباہ کپڑے پھٹے ہوئے، بال الجھے ہوئے اور گردو خاک میں اٹی ہوئے چہرے پر ہوائیں اڑاتی ہوئی رخساروں پر زردی چھائی ہوئی۔ میں نے گبھرا کر پوچھا بھائی خالد یہ تمہارا کیا حال ہے۔ تمہارے پاس تو اللّٰہ کا دیا کچھ کم نہیں ہے۔ مکان بھی ہے، کار بھی ہے، بزنس بھی اچھا چلتا ہے دوستوں کی محفل بھی جمتی ہے۔ دعوتیں ہوتی ہیں۔ پھر آجر کیا بات ہے ؟ یہ حالت تو ہم جیسوں کی ہونی چائیے جو صبح کو کھاتے ہیں تو شام کی فکر ذہن میں رکھ کر۔ لباس پہنتے ہیں تو یہ سوچ کر کہ اس کے پھٹنے کے بعد کیا ہوگا۔ پیدل چلتے ہیں تو تھکن دور ہونے کا کوئی انتظام نہیں ہوتا۔

خالد نے میری باتیں بڑی اطمینان سے سنیں اور کہنے لگا۔ بھائی اصل بات یہ ہے کہ اللّٰہ کا دیا ہے تو سب کچھ لیکن برکت اٹھ گئی۔ نہ جانے کیا بات ہے کہ اب کسی چیز میں برکت نہیں ہوتی۔ نہ مال میں برکت ہے نہ پیداوار میں برکت ہے، نہ تجارت میں برکت ہے نہ عمر میں برکت ہے چاروں طرف نحوست ہی نحوست دکھائی دیتی ہے۔

میں نے کہا خالد نا شکری نہ کرو اس سے زیادہ برکت کیا ہو گی۔ مال کے اعتبار سے تم لکھپتی ہو۔ پیداوار بھی اچھی ہو جاتی ہے، تجارت میں روزانہ ایک ہزار روپیہ آسانی سے نکال لیتے ہو، قوم میں عزت بھی ہے اور برکت کس چیز کا نام ہے ؟

یہ سننا تھا کہ خالد کی آنکھوں سے آنسو ٹپک پڑے، ہچکیاں بندھ گئیں رندھی ہوئی آواز سے بولا۔ حامد بھائی آپ کو میرے حالات کا کیا علم ہے آپ تو صرف دولت دیکھتے ہیں۔ بنگلہ دیکھتے ہیں کار دیکھتے ہیں۔ بزنس دیکھتے ہیں آپ کو اندر کی کیا خبر ؟

میں نے بات کو ٹالتے ہوئے ہنسی کے لہجے میں کہا۔ خالد ڈرامہ نہ کرو۔ میں تم سے ادھار نہ مانگوں گا میں نے اکثر لوگوں کو دیکھا ہے کہ جب انہیں کسی سے ادھار مانگنے کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے تو اس کی صورت دیکھتے ہی مصائب کا بیان شروع کر دیتے ہیں۔ مجھے نہیں معلوم تھا کہ تم بھی مجھے قرض مانگنے والا ہی سمجھتے ہو۔

میرا خیال تھا کہ ان باتوں سے خالد کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آجائے گی اور اس کا رنگ بدل جائے گا لیکن ایسا کچھ نہ ہوا ۔ اس کے آنسو اور تیز ہو گئے اور اس نے کہا بھائی صاحب آپ نے چھیڑ ہی دیا ہے تو میری داستان سُن لیجئے۔ غلہ کافی ہوتا ہے اس میں کوئی شبہ نہیں ہے لیکن تقریباً ایک سال سے معدے کا مریض ہوں ایک روٹی مشکل سے کھائی جاتی ہے اور اس کے بعد بھی کئی قسم کی دوائیں کھانا پڑتی ہیں۔ دستخوان پر آتا تو بہت کچھ ہے لیکن مجھ سے مطلب ؟ دکان پر آمدنی تو کافی ہوتی ہے لیکن آئے دن ایک نہ ایک مصیبت لگی رہتی ہے، ابھی کل کی بات دیکھو کل اتفاق سے ایک بڑا بزنس لگ گیا تھا اور تقریباً دس ہزار کا فائدہ ہو گیا تھا میں خوشی کے مارے پھولا نہ سماتا تھا۔ دکان بند کر کے گھر کی طرف چلا رستے میں ایک لڑکے نے خبر دی کہ امّی نے کہا ہے پپو کی حالت نازک ہے اچانک ڈگری کا بخار آ گیا ہے ڈاکٹر کو ساتھ لے کر آئے گا میری ساری خوشی منٹوں میں ختم ہو گئی۔ کار کارخ ڈاکٹر کے مکان کی طرف موڑ دیا، رات کے دس بج رہے تھے۔ ڈاکٹر صاحب اٹھ چکے تھے۔ میں نے اندر اطلاع کرائی۔ مشکل تمام یہ خواب ملا کہ اب کپڑے اتار کر آرام فرمانے جا رہے ہیں اس وقت کہیں نہیں جا سکتے۔ میرے پیروں تلے سے زمین نکل گئی خدایا اب کیا ہوگا ؟ میرے لڑکے کی زندگی کا کیا سہارا ہوگا ؟ چند منٹ سوچنے کے بعد پھر ہمت کی اور ملازم سے کہلوایا کیا یہ ممکن ہے کہ میں بچے کو وہیں لے آؤں اور ڈاکٹر صاحب اسے دیکھ لیں۔ ملازم اندر گیا اور پلٹ کر جواب دیا اگر آپ پانچ ہزار روپیہ جمع کر دیں تو ڈاکٹر صاحب پندرہ منٹ تک انتظام کر سکتے ہیں اس کے بعد کچھ نہیں ہو سکتا ہے۔ میں نے فوراً روپہ جمع کیا اور تیزی سے کار دوڑائی گھر گیا بچّہ کو اٹھایا ڈاکٹر صاحب کے پاس پہونا چودہ منٹ گزر گئے تھے وہ گھر سے باہر آئے ایک نظر دیکھا اور فرمایا کیں بڑا سنگین ہے اس وقت یہ دوا دے دیجئے گا بخار کم ہو جائےگا۔ پھر پندرہ دن باقائدہ علاج ہوگا۔ اور ۰ روپیہ روز کا انجکشن لگے گا۔ علاج کرانا ہو تو کل تشریف لے آئے گا ورنہ گھر میں آرام لیجئےگا۔ حامد بھائی ذرا سوچئے کل کے ایک ہزار الگ گئے اور لڑکے کی حالت الگ خراب ہے، دکان پر بیٹھ نہیں سکتا، ۵۰۰ ٥روپیہ روز کی دوا ہوگی جس کا مطلبیيہ ہے کہ پچھلے مہینے کی کمائی بھی گئی، کیا اسی کو برکت کہتے ہیں اور اسی دولت پر مبارک باد دیتے ہو ؟

میں نے کہا خالد تمہارا قصّہ ضرور افسوسناک ہے لیکن یہ تو سو چوکہ تمہارے یہاں یہ واقعہ ہوا۔ تو تم نے علاج بھی کرا لیا اگر کہیں یہ واقعہ میرے یہاں ہوا ہوتا تو لڑکے کی زندگی سے رات ہی کو ہاتھ دھو لیتا یہاں تو ایک روپیہ بھی جیب میں نہیں ہے دس ہزار تو بڑی بات ہے۔ خالد نے کہا حامد بھائی آپ بالکل سچی فرماتے ہیں لیکن ذرا یہ بھی تو سوچئے کہ یہ واقعہ آپ کے گھر کیوں نہیں ہوا میرے ہی گھر کیوں ہوا۔ بھائی صاحب اصل بات یہ ہے کہ پروردگار جب دولت دیتا ہے تو کچھ ایسی باتیں ساتھ لگا دیتا ہے کہ آدمی اس سے صحیح فائدہ نہ اٹھا سکے اور ہمیشہ پریشان رہے۔

میں نے خالد کے منھ پر ہاتھ رکھ دیا اور کہا خبردار ایسی بھہودہ باتیں مت کیا کرو وہ دولت دیتا ہے اور تم پریشان کرنے کا الزام رکھتے ہو۔ درحقیقت یہی ذہنیت ہے جس نے تمہارے مال سے برکت اٹھا دی ہے کہ جتنا زیادہ مال آتا ہے اتنی ہی پریشانی لاتا ہے۔ اٹھو اور فوراً دو رکعت نماز پڑھ کر اللّٰہ کی بارگاہ میں توبہ کرو تاکہ عذاب تم سے دفع ہو جائے۔ اللّٰہ مال بھی دیگا اور چین و سکون بھی۔ میرا یہ کہنا تھا کہ خالد کا سر شرم سے جھک گیا۔ اور اس نے دھیمی آواز سے کہا۔ میں نماز پڑھنا نہیں جانتا۔ یہ سُن کر میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے اور میں سوچنے لگا۔ خدایا کیا تیرے ایسے بندے بھی ہیں جو اتنی نعمتیں لےکے کر تجھے بھول جاتے ہیں اور تیرے سامنے سر تک نہیں جھکانا جانتے۔ تو ہی ان کے حال پر رحم کر اور ان کی ہدایت فرما۔

ان الفاظ کے معنی بتاؤ :۔

ملاقات ۔ تباہ ۔ ہوائیاں ۔ رخساروں ۔ بزنس ۔ لباس ۔ نحوست ۔ ہچکیاں ۔ ادھر ۔ خطرہ ۔ مصائب ۔ قرض ۔ مسکراہٹ ۔ چھیڑ ۔ معدہ ۔ دسترخوان ۔ اتفاق ۔ اچانک ۔ سہارا ۔ سنگین ۔ باقاعدہ ۔ انجکشن ۔ ادسوسناک ۔ خبردار ۔ بیہودہ ۔ الزام ۔ دفع ۔ رانگٹے ۔ نعمتیں ۔ روزی ۔ لکھپتی ۔ داستان ۔ ملازم ۔ قصد ۔ فوراً ۔ دھیمی ۔ ہدایت ۔