امامیہ اردو ریڈر درجہ پنجم جلد ۵

امامیہ اردو ریڈر درجہ پنجم42%

امامیہ اردو ریڈر درجہ پنجم مؤلف:
زمرہ جات: گوشہ خاندان اوراطفال

جلد ۱ جلد ۲ جلد ۳ جلد ۴ جلد ۵
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 44 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 14576 / ڈاؤنلوڈ: 4705
سائز سائز سائز
امامیہ اردو ریڈر درجہ پنجم

امامیہ اردو ریڈر درجہ پنجم جلد ۵

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے

امامیہ اُردو ریڈر

درجہ پنجم

تنظیم المکاتب

ہدایت

١۔مدرسین کا فرض ہے کہ پڑھنے میں روانی پیدا کرانے کے ساتھ تلفظ

درست کرائیں، الفاظ کے معنی کہوا کر یاد کرائیں۔

٢۔سبق کے بعد کے مشقی سوالات ضرور حل کرائیں۔جابجا قواند سمجھا

کر ان کی مشق کرائی جائے۔

٣۔اردو پڑھانے کے ساتھ اِملا ضرور لکھوایا جائے۔

اور

جو شخطی پر خاص نظر رکھی جائے۔

ناشر

پہلا سبق

اسلام

دنیا میں آدمی کو بہت سی چیزیں پیاری ہوتی ہیں، جان عزیز ہوتی ہے، مال پیارا ہوتا ہے، آبرو قیمتی ہوتی ہے، ہر ایک کی حفاضت کا انتظام کرتا ہے، ہر ایک کے لئے تکلیف برداشت کرنے پر آمادہ رہتا ہے۔ لیکن ایک چیز اور بھی ہے جو ان سب سے زیادہ عزیز ، پیاری اور قیمتی ہے۔ اور وہ ہے مذہب- آدمی مذہب کے نام پر جان، مال، آبرو سب کچھ نچھاور کر سکتا ہے۔ دو دوست آپس میں کتنا ہی گہرا رشتہ کھوں نہ رکھتے ہوں مذہب پر آنچ آجائے تو رشتہ داری کو بلائے طاق رکھ دیتے ہئں۔ جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کی سب سے پیاری چیز ہے مذہب۔

دنیا میں مذاہب کی وہ بھیڑ بھاڑ ہے کہ ہر آدمی کا مذہب الگ ہے۔ کوئی عیسائی تو کوئی یہودی۔ کوئی بت پرست ہے تو کوئی ستارہ پرست۔ کوئی آگ کی پوجا کرتا ہے تو کوئی پتھر کی۔ کوئی گوتم بدھ کے راستے پر چلتا ہے تو کوئی گرنانک کے۔ ہر مذہب والا الگ نبی رکھتا ہے۔ اور الگ الگ خدا کا تصور رکھتا ہے۔ عیسائیوں کے آخری نبی حضرت عیسیٰ ہیں۔ یہودیوں کے آخری نبی حضرت موسیٰ ہئں۔ بت پرستی کرنے والے بت پرست کہلاتے ہیں۔ ستارہ کی پوجا کرنے والے صابئی کہے جاتے ہیں۔ آگ کو پوجنے والے مجوسی ہوتے ہیں۔ پتھر کی مورتیاں بنا کر اس کے سامنے سر جھکانے والے ایک ایسے خدا کو مانتے ہیں جس کے تین ٹکڑے ہیں وشنو، مہیش، برھما۔ گوتم بدھ کے قانون پر عمل کرنے والے بدھشٹ کہلاتے ہیں اور گرنانک کی قوم والے سکھ کے نام سے یاد کئے جاتے ہیں۔

اسی قوم کے ہزاروں اور لاکھوں مذہبوں کے بیچ میں ایک مذہب اسلام بھی ہے۔ اسلام کا خدا ایک ہے۔ نہ اس کا کوئی ساتھی نہ شریک ہے۔ نہ اس کے ٹکڑے ہیں اور نہ ہو سکتے ہیں۔ اس کے آخرۓ نبی حضرت محمد مصطفۓٰ صلی اللّٰہ علیہ و آلہ وسلم ہیں جو مسلمانوں کے پیغمبر ہیں اور جن پر نبوت کا سلسلہ ختم ہو گیا۔ اس کے بعد امامت کا سلسلہ شروع ہوا جس کے پہلے امام حضرت علیٰ او آخری امام حضرت مہدی ہیں۔

اسلام کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اسۓ پروردگار نے پسند فرمایا ہے۔ اپنا محبوب قرار دیا اور دنیا کی نجات کے لئے اسی کو ذریعہ قرار دیا ہے۔ اس نے قران میں صاف صاف اعلان کر دیا ہے کہ جو شخص اسلام کے علاوہ دین کے مذہب کو اختيار کرےگا اس کا کوئی عمل قبول نہ ہوگا اور وہ قیامت کے دن گھاٹے میں رہےگا۔

اسلام کی دوسری خوبی یہ ہے کہ اس کا قانون کسی بڑے سے بڑے نبی یا ولی کا بنایا ہوا نہیں ہے بلکہ اسے خود پروردگار عالم نے بنایا ہے اس کے علاوہ نہ کسی نے اس کا قانون بنایا اور نہ بنا سکتا ہے اور جب بنا نہیں سکتا تو اس میں کوئی ترمیم اور کاٹ چھانٹ بھی نہیں کر سکتا ہے اسلام کے احکام میں کاٹ چھانٹ کرنے والا کسی قیمت پر مسلمان نہیں کہا جا سکتا ہے۔ ظاہر ہے کہ جس قانون کو خدا نے بنایا ہوگا وہ کتنا بلند، پاکیزہ اور قیمتی و ہمہ گیر ہوگا۔ اسلام نے اپنی نماز میں اس بات کو بالکل واضح کر دیا کہ مذہب کا قانون عام آدمی اور نبی سب کے لئے برابر ہے او اسی لئے نماز جماعت میں جہاں تمام امت اللّٰہ کے سامنےسر جھکاتی ہے۔ وہاں نبی اور امام برابر سے سجدہ کرتا ہے تاکہ یہ معلوم رہے کہ یہ قانون میرا نہیں ہے بلکہ میرے خدا کا ہے اس لئے مجھ کو بھی ویسے ہی اطاعت کرنا پڑتی ہے جیسے تم کرتے ہو۔

اسلام کی توسری خوبی یہ ہے کہ اس نے انسان کی زندگی کے کسی پہلو کو نظر انداز نہیں کیا بلکہ زندگی کے ہر رخ، ہر پہلو، شعبہ اور ہر اقدام کو گھیر لیا ہے اس میں اخلاق کے احکام بھی ہیں اور سیاست کے قوانین بھی۔ باہمی زندگی کے اصول بھی ہیں اور تنہائی کی زندگی کے قواعد بھی۔ حقوق کی تفصیل بھی ہے اور فرائض کی تشریح بھی۔ غرض کوی رخ ایسا نہیں بچا جس کے لئے کوئی حکم نہ مقرر کیا گیا ہو۔ حدیہ ہے کہ پیشاب پاخانہ کے طریقے سے لے کر قتل کے ماوضہ تک ہر بات کی تشریح موجود ہے۔ کیا ایسے ہم گیر اور جامع قانون کے ہوتے ہوئے بھی کسی دوسرے قانون کو اپنایا جا سکتا ہے۔

اسلام کی چوتھی خوبی یہ ہے کہ اس نے خدا اور بندے کو رشتوں کا بیک وقت لحاظ کیا ہے۔ دنیا میں بہت سے مذاہب ایسے ہیں جو خدا کی عبادت تو سکھاتے ہیں لیکن بندوں کے ساتھ سلوک کرنے کے طریقے نہیں سکھاتے اور بہت سے ایسے مذاہب ہیں جو آپس کی زندگی پر زور دہتے ہہں اور خدا کو مانتے ہی نہہں کہ اسکی بندگی کے طریقے سکھائہں اور بتائہں۔ اسلام ان دونوں سے بلند و بالاتر ہے اس نے اہک طرف خدا کی بندگی سکھائی اس کے طرہقے بتلائے اور دوسری طرف آپس کے معملات کا سلہکہ بھی سکھا دہا۔ تجارت کہسے کی جاتی ہے، کھیتی باڑی کا کیا طریقہ ہونا چائیے، نکاح کے آداب کیا ہیں شادی کیسے رچائی جاتی ہے اور اس طرح کی سیکڑوں باتیں ہیں جو اسلام کے احکام میں تفصیل کے ساتھ پائی جاتی ہیں جن سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اسلام خدا اور بندے کے تعلق کو ایک ساتھ قائم رکھنا چاہتا ہے اسی لئے حضور پیغمبر اسلام نے اعلان کیا تھا کہ جو دنیا کو آخرت کو نام پر چھوڑ کر پہاڑوں اور غاروں میں آباد ہو جائے وہ بھی مسلمان نہیں ہے اور جو آجرت کو دنیا داری کے لئے چھوڑ کر بندگی سے الگ ہو جائے وہ بھی مسلمان نہیں ہے۔

اسلام کی پانچویں خوبی یہ ہے کہ وہ اس دنیا کا سب سے پڑانا مذہب ہے جس کی تبلیغ کے لئے ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر آئے جو سب کے سب معصوم تھے جن سے غلطی اور خطا کا کوئی امکان نہ تھا۔ ظاہر ہے کہ جس بات کی سوا لاکھ معصوم تائید کرتے ہیں اس میں کسی غلطی یا کمزوری کا کیا سوال رہ جاتا ہے۔ ہمارے نبی حضرت محمد مصطفےٰ سے پہلے بھی انببیاء آخری وقت میں اپنی اولاد کو جمع کر کے یہی وصیت کرتے تھے کہ اللّٰہ نے تمہارے لئے دین اسلام کو پسند فرمایا ہے لہذا تم لوگ بھی اگر مرنا تو اسی دین اسلام پر مرنا۔ او ہمارے نبی نے بھی اپنے آخری وقت تک امت کو اسلام پر باقی رہنے کی تعلیم دی تھی۔

یہ اور بات ہے کہ بہت لوگوں کے دلوں مہں چور موجود تھا اور وہ آپ کے بعد اسلام کو چھوڑنے والے تھے اس لئے آپ نے اپنی آمہداری اپنی اولاد اور اپنے گھر والوں کے سپرد کی جو اس وقت سے آج تک اسلام کی حفاظت کر رہے ہیں۔ ہمارے بارہویں امام جو آج بھی پردہ غیب میں موجود ہیں اُن کو بھی پروردگار عالم نے اسی لئے باقی رکھا ہے کہ جب دنیا میں کفر و شرک پھیل جائےگا اور لوگ اسلام کے راستے سے ہٹ جائیں گے تو وہ پردہ ہٹ کر سامنے آئیں گے اور اپنے دادا حضرت محمد مصطفےٰ کی طرح دوبارہ دنیا میں اسلام پھیلائیں گے اُس وقت ساری دنیا میں اسلام ہی اسلام ہوگا کفر و شرک کا نام و نشان نہ رہےگا عدل و انصاف کا دور دورہ ہوگا اور ظلم و جور مٹ کر رہ جائیں گے۔

ان الفاظ کے معنی بتاؤ ۔

خیرباد ۔ بلائے طاق رکھنا ۔ آنچ آنا ۔ صابئی ۔ ترمیم ۔ نظر انداز ۔

اقدام ۔ تشریح ۔ معاوضہ ۔ جامع ۔ ہمہ گیر ۔ شعبہ ۔ بدھشٹ ۔ عزیز ۔

آبرو ۔ حفاظت ۔ انتظام ۔ بت پرست ۔ ستارہ پرست ۔

سوالات

١۔ اسلام کے خصوصیات بتاؤ۔ اور بتاؤ کہ بارہویں امام ظہور کے بعد کیا کریںگے ؟

دوسرا سبق

الٹی گنگا

دریا کا بہاؤ ایک خاص رُخ پر ہوتا ہے اس کے خلاف اسے نہیں بہایا جا سکتا۔ لیکن کبھی کبھی بعض بےوقوف قسم کے لوگ اس بات کی بھی کوشش کرتے ہیں کہ دریا کا بہاؤ الٹ دیا جائے۔ اسے اتر سے دکھن کے بجائے دکھن سے اتر چلایا جائے یہ بالکل ناممکن سی بات ہے ایسا کرنے والا خد بہہ سکتا ہے دریا کے بہاؤ کو نہیں موڑ سکتا اس لئے کہ پانی کی روانی ایک فطری چیز ہے اور فطرت سے مقابلہ کرنا انسان کے بس کی بات نہیں۔

دریا میں تو یہ بات نہیں ہو سکتی لیکن آدمی کی زندگی میں اکثر اوقات ایسا ہوتا رہتا ہے۔ پروردگار عالم نے زندگی کا بھی ایک رُخ معین کیا تھا اور انسان کو تعلیم دی تھی کہ زندگی کو اسی رُخ پر چلائے لیکن انسان نے اپنی سرکشی کی بنیاد پر الٹی گنگا بہانی شروع کر دی اور اب زندگی کا ہر قانون بھکار ٹھہرایا جانے لگا۔ عزت کی جگہ ذلت اور حیا کی جگہ بحیائی نے لے لی۔ دوسروں کے احترام کی جگہ ہنسی مذاق اور بزرگوں کے ادب کی جگہ مضحکہ نے لے لی۔ عورت پردے کے بجائے آفس میں آ گئی اور مرد آفس کے بجائے گھر چلا گیا۔ یہ الٹی گنگا یہاں تک بہی کہ ہر اخلاقی بات بیوقوفی شمار ہونے لگی۔ اور ہر ادب و تہذیب کا قانون پرانے زمانے کا ڈھکوسلہ بن گیا۔ نتیجہ کیا ہوا ؟ یہی کہ انسان اپنے ہی ہاتھوں فریاد کرنے لگا اور ساری دنیا پرئشانی کا شکار ہو گئی۔

کس قدر تعجب کی بات ہے کہ کل تک آدمی اپنے مال کے نقصان پر آفسوس بہاتا تھا اور آج کے دوکاندار بیمہ کمپنی سے پیسہ وصول کرنے کے لئے نہایت بےدردی کے ساتھ اپنی ہی دوکان کو آگ لگا دیتے ہیں۔ کل کا آدمی ایک بیٹے کے مر جانے پر مدّتوں افسردہ اور پریشان رہا کرتا تھا اور آج انسان ڈاکڑی مدد سے اولاد کے سلسلے ہی کو ختم کرا دیتا ہے اور اسے کوئی افسوس نہیں ہوتا۔

کل کا آدمی لڑکی کے گھر سے باہر نکل جانے پر قوم کو منھ دکھانے کے قابل نہ وہ جاتا تھا اور آج لڑکیوں کا کالج میں لڑکوں کے بغل میں بٹھا کر ماں باپ خوش ہوتے ہیں۔

کل عورت گھر میں بیٹھ کر اطمینان سے کھایا کرتی تھی اور آج کارخانوں میں جھونک کر، فوجوں میں بھرتی کر کے اس سے وہ کام لیا جا رہا ہے جو بڑے بڑے طاقتور مرد بھی نہیں کر سکتے اور عورت ہے کہ اسے بھی اپنی ترقی سمجھتی ہے۔

کل کا شریف انسان کپڑے پر پیشاب کے ایک قطرے کو برداشت نہیں کر سکتا تھا اور اُسے اُس وقت تک چین نہیں آتا تھا جب تک وہ کپڑا دھل نہ جائے اور آج کا شریف کھڑے ہو کر پیشاب کر کے پانی نہ لینے ہی کو اپنی بلندی سمجھتا ہے۔

کل کا سماج شرابی جواری کو ذلّت کی نظر سے دیکھتا تھا ایسے آدمی کو کسی محفل میں جگہ نہیں دی جاتی تھی اور آج شراب کی طرح طرح بوتلیں اچھے گھرانوں کی الماریوں میں سجی رہتی ہیں۔ تاش جیسی لعنت ہر بڑی سوسائٹی کی زینت بنی ہے۔

کل رشوت لینے والے کے پیسے سے پرہیز لیا جاتا تھا اور آج رشوت کے پیسے سے ہر گھر آباد ہے۔

کل دوسروں کا مال کھا لینے والوں کو چور، ڈاکو، بے ایمان کہا جاتا تھا اور آج خمس، زکٰوة نہ دینے والے، خدا کا مال کھا جانے والے کو پکّا ایماندار کہا جاتا ہے۔

کل کی مسجدیں مسلمانوں سے بھری رہتی تھیں اور آج کی مسجدیں ویران پڑی رہتی ہیں۔

کل روزہ نہ رکھنا عیب تھا اور آج رمضان میں کھلم کھلا سگریٹ پی جاتی ہے اور یہ کہا جاتا ہے کہ جب خدا سے شرم نہیں تو بندے سے کیا شرم ؟ اور یہ امید بھی کی جاتی ہے کہ لوگ حیادار ہی کہیں بےشرم نہ کہنے پائیں۔

کل خدا کی بندگی پر فخر کیا جاتا تھا اور آج ہر بات میں خدا کا مذاق اڑانا باعثِ فخر ہے۔

کیا ایسے حالات میں یہ امید کی جاسکتی ہے کہ ہمارا یہ سماج آئندہ بھی مسلمان رہ سکےگا اور ہم خدا اور رسول اور ائمہ معصومین کی بارگاہ میں مسلمان مان لئے جائیںگے۔ ہرگز نہیں۔ یہ الٹی گنگا بےدینی کے لئے تو بڑی اچھی چیز ہے لیکن مذہب کے لئے کسی زہر سے کم نہیں ہے۔

ان الفاظ کے معنی بتاؤ :

مضحکہ ۔ مورتیاں ۔ ڈھکوسلہ ۔ کانٹ چھانٹ ۔ پاکیزہ ۔ بلند ۔ افسردہ۔ رُخ ۔ بےوقوف ۔ نا ممکن ۔ فطری ۔ معین ۔ سرکشی ۔ بنیاد ۔ بےدردی ۔ رشوت ۔ ویران ۔ مزاق۔

تیسرا سبق

ہنس کی چال

ہنس ایک پرندہ ہوتا ہے جس کی چال اچھی ہوتی ہے وہ جب چلتا ہے تو بڑا بھلا معلوم ہوتا ہے اور اسی کے مقابلہ میں کوّے کی چال بے ڈنگی ہوتی ہے، ایک دن ایک شخص ے کوّے کو طعنہ دیا کہ ہنس کی چال تجھ سے بہتر ہوتی ہے اسے دیکھ کر لوگ اس کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں اور تیری چال دیکھ کر تجھ سے نفرت کرنے لگتے ہیں۔ کوّے نے چپکے سے یہ بات سُن لی اور دل ہی دل میں یہ ٹھان لی کہ آئندہ سے ہنس کی طرح چلنے کی مشق کرے گا اور کچھ دنون بعد جب میری چال ویسی ہی ہو جائے گی تو میں اس طعنہ کا جواب دوں گا اور بتاؤں گا کہ کوّے کی چال ہنس سے کچھ کم نہیں ہوتی ہے۔ ایک مدت تک یہ مشق ہوتی رہی اور ایک دن جب اس نے یہ طے کر لیا کہ میری چال ہنس جیسی ہو گئی ہے تو اس طعنہ دینے والے کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ تو نے مجھے طعنہ دیا تھا کہ ہنس کی چال کوّے سے بہتر ہوتی ہے اچھا آج میری چال کو دیکھ کر یہ فیصلہ کر کہ کس کی چال اچھی ہوتی ہے۔ یہ کہ کر اس نے ہنس کے انداز میں چلنے کی کوشش کی اور لنگڑا کر چلنا شر و ع کر دیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ لنگڑا بھی ہو گیا اور ہنس کی چال تو بڑی بات خود اپنی چال بھی بھول گیا۔ یہی حال ہم مسلمانوں کا ہے۔ ہم کو بھی دنیا کی ہر چیز بھلی معلوم ہوتئی۔ ہم نے اسے اپنا لیا اور یہ بھول گئے کہ ہم مسلمان ہیں اور دنیا کی دوسری قومیں مسلمان نہیں ہیں ان کا طور طریقہ اور ہے اور ہماری تہذیب اور ہے۔

ہم نے دوسروں کے مذہب میں ہر تہوار میں ناچ، گانا، باجا دیکھا تو خود کرنے لگے۔ انگریزوں کی عورتقں کو بے پردہ بے حیائی کے ساتھ سڑکوں پر گھومتے ہوئے دیکھا تو اپنی عورتوں کو بھی نکال لائے۔ دوسری قوموں کو سینما جاتے دیکھا تو اپنی ماؤں، بہنوں، بیٹیوں کو بھی پہنچا دیا۔ شراب دیکھی تو اسے پینا شروع کر دیا۔ جوا دیکھا تو تاش و غیرہ کھیلنے لگے، تماشے دیکھے تو اس میں مصرف ہو گئے۔ ہماری کوئی تقریب ناچ گانے سے خالی نہ رہی۔ ہمارا کوئی گھر ریدیو کے گانوں سے نہ بچ سکا، ہمارا کوئی بچّہ کھڑے ہو کر پیشاب کرنے سے محفوض نہ رہ سکا، ہماری کوئی دعوت کھڑے ہو کر کھانے سے الگ نہ رہ سکی، ہماری کوئی لڑکی پردہ دار نہ رہ سکی، ہمارا کوئی جوان ڈاڑھی نہ رکھ سکا، نماز ہمارے گھر سے رخصت ہو گئی۔ روزے ہمارے واسطے مصیبت بن گئے۔ حج میں ہم کو پیسے کی بربادی دکھائی دینے لگی۔ خمس و زکّوة کا ذکر ہمارے گھروں سے نکل گیا۔ ایک دوسرے کو اچھی باتیں بتانا اور بری باتوں پر ٹوکنا ہمارے یہاں عیب بن گیا۔ غلامی رہ گئی۔ آزادی چلی گئی۔ نوکری رہ گئی تجارت چلی گئی۔ بے پردگی رہ گئی غیرت چلی گئی۔ گانا بجانا رہ گیا تلاوت قرآن چلی گئی سینما رہ گیا مسجدوں کی آبادی چلی گئی۔ تاش کے آدے رہ گئے مجلسوں کا مجمع چلا گیا اور نتیجہ وہی ہوا کہ کوّا چلا ہنس کی چال اپنی چال بھول گیا۔ ہم مسلمان کہلانے کے قابل رہنے نہیں دیا اور دنیا نے ہم کو نہ اپنا مانا نہ ترقی یافتہ۔ اب ہم رہ گئے اور مقدر کا رونا۔ اور نتیجہ میں پروردگار سے شکوہ۔ ہم مسلمانوں کی حالت خراب ہے۔ کاش ہم نے بھی سوچا ہوتا کہ ہم میں مسلمان کون ہے ہم اپنے کو کس منھ سے مسلمان کہتے ہیں۔ ہم نے فروع دین کی کس فرع پر عمل کیا، اصول دین کی کس اصل کو دل سے مانا۔ ضرورت ہے کہ اب بھی ہماری آنکھیں کھل جائیں اور ہم کو ہوش آ جائے دنیا تو ہمارے ہاتھ سے جا چکی ہے۔ یہاں تو ہم ذلیل و پست ہو ہی چکے ہیں۔ اب کم از کم اپنے دین کو تو سنبھال لیں اور آخرت میں تو خدا کو منھ دکھانے کے قابل بن جائیں۔ حالا نکہ اگر ہم آج بھی اسلام کے احکام پر مکمل عمل کریں تو دنیا بھی بن جائے اور آخرت بھی۔ مگر اس کے لئے اپنی چال بدلنا ہوگی۔

ان الفاظ کے معنی بتاؤ :

طعنہ ۔ مشق ۔ نتیجہ ۔ ہنس ۔ طور طریقہ ۔ مصرف ۔ تقریب ۔ محفوظ ۔ رخصت ۔ غیرت ۔ تلاوت ۔ شکوہ ۔ ہوش ۔ سرکشی ۔ نفرت ۔ چپکے ۔ تہذیب ۔ فرع ۔ اصل۔

چوتھا سبق

محنت

دنیا کی دوسری قوموں کے مقابلے میں مسلمانوں کی ابتری کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ مسلمان نے محنت و مزدوری چھوڑ دی ہے، وہ مسلمان جو آج سے چند صدی پہلے دنیا کے لئے راہ نما کی حیشیت رکھتا تھا جس نے دنیا کو محنت و مزدوری اور کاروبار کا طریقہ سکھایا تھا۔ اسپین میں جس کے ہاتھوں کی بنائی ہوئی چیزیں دنیا کے ہر بازار میں دکھائی دیتی تھیں۔ آج وہی مسلمان ہر قوم سے زیادہ ذلیل، پست اور احساسِ کمتری کا شکار ہے جسے دیکھئے اسے مقدر کا رونا ہے۔ جس پر نظر کیجئے وہ شکایت روزگار کر رہا ہے جس کی حالت دریافت کیجئے وہ سوائے شکوہ تقدیر کے کوئی اور جواب نہ دیگا۔ اور اس حالت کے باوجود کوئی سوچنے پر آمادہ نہیں ہے کہ ہماری یہ حالت کیوں ہے ؟ ہم ذلیل و پست کیوں ہو گئے ہیں ؟ بات در اصل یہ ہے کہ مسلمان شروع ہی سے اپنے کو ایک اونچی قوم سمجھتا رہا ہے۔ مقدر بھی بڑی حد تک اس کا ساتھ دیتا رہا۔ زمین، جاگیر، جائداد، ریاست علاقہ سب اس کے قبضے میں رہا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ محنت کرنا بھول گیا۔ دشمن نے اسے یہ سب چیزیں اسی لئے دی تھیں کہ وہ محنت کرنے سے عاجز ہو جائے تو سب یکبارگی چھین لیا جائے۔ اس کے بعد تو یہ دھوبی کا کتّا ہو جائے گا۔ نہ گھر کا رہے گا اور نہ گھاٹ کا۔ نتیجہ وہی ہوا دشمن اس کو بےکار بنانے پر تُلا رہا اور وہ شاہی ٹھاٹ باٹ کو اپنی عزت سمجھتا رہا اور آخرکار جب کسی قابل نہ رہ گیا تو ساری زمینین چھین لیں اور اسے ایک چلتا پھرتا مُردہ بنا کر چھوڑ دیا۔

اس حادشہ کے بعد بھی ممکن تھا کہ مسل؛مان کی آنکھیں کھل جاتیں۔ لیکن یہ ہوتا کیوں نکہ ؟ یہاں تو دماغ میں ریاست گھسی ہوئی تھی ہمارے بچّے اور اسکول جائیں۔ ہماری گود کے پالے تعلیم حاصل کریں۔ ہم رئیس گھرانے کے لوگ کاروبار کریں۔ ہم دکان پر بیٹھ کر بنئے کہے جائیں۔ ہم کاروبار کر کے اپنے کو ذلیل کرائیں۔ ہم محنت مزدوری کر کے اپنے کو مزدور، رکشہ والا، یکہ والا کہلائیں۔ ؟ اس سے بہتر یہی ہے کہ زہر کھا کر مر جائیں اور وہ دن نہ دیکھیں۔ ابھی یہ سوچ رہے تھے کہ رہی سہی دولت بھی پیٹ کی نزر ہو گئی ٹھاٹ باٹ میں فرق نہیں آیا اور آمدنی تقریباً ختم ہو گئی۔ یہ رنگ کتنے دن چلتا آجر ایک دن ختم ہونا تھا۔ لیکن مصیبت یہ ہوئی کہ آمدنی ختم ہوئی تو ایسے موقع پر کہ تجارت کرنے کے لئے پیسہ نہیں رہا۔ محنت کرنے کے لئے قوت نہیں رہی، کاروبار کرنے کا دماغ نہیں رہا۔ برابر سے بات کرنے کا مزاج نہیں رہا۔ اب ایک ہی راستہ رہ گیا تھا جو دشمن پہلے سے سوچے ہوئے تھا اور وہ تھا نوکری کا راستہ۔ اُس نے مسلمانوں کو لئے یہ دروازہ کھول دیا اور تیزی کے ساتھ اُنیں نوکر رکھنا شروع کر دیا۔ اِدھر مسلمان نوکری کرنے میں لگے اُدھر محنت کرنے والی قومیں تجارت اور مزدوری میں۔ جس کے نتیجہ میں سب کچھ اُن کے ہاتھ میں چلا گیا اور غلامی، نوکری، ںانٹ پھٹکار ہمارے حصّے میں آ گئی۔ کل ہمارے سامنے جنھیں بات کرنے کی ہمت نہ تھی آج ان کے سامنے کھڑے ہو کر ہم بات کرتے ہوئے لرزتے ہیں۔ کیا اس انقلاب کے بعد بھی ہماری آنکھیں نہ کھلیں گی ؟ اور ہم یہ نہ سوچیں گے کہ قرآن مجید نے سچ کہا کہ جب کسی قوم کی تباہی قریب آتی ہے تو اسے دولت مند بنا کر آزاد کر دیا جاتا ہے وہ رنگ رلیوں میں مبتلا ہو جاتی ہے اور بالآخر تباہی کے گھاٹ اتر جاتی ہے۔ صدر اسلام نے زمانے کو لے لیجئے۔ سرکار دو عالم نے اپنی امت کو کتنی جفاکش، محنتی قوم بنا کر چھوڑا تھا۔ خود باغوں میں سینچائی کر کے اپنی روٹی کا انتظام کرتے تھے۔ حضرت علی یہودی کے باغ میں پانی دیا کرتے تھے، کوفہ میں دکان پر بیٹھ کر خرمے بیچا کرتے تھے جناب فاطمہ اون کاتا کرتی تھیں۔ اپنے ہاتھوں سے چکّی پیستی تھیں۔لیکن تھوڑے ہی دنوں کے بعد جب بنی امیہ اور بنی عباس کے بادشہوں کے ہاتھ دوسرے ملکوں کی دولت لگی تو وہ عیش عشرت ناچ گانا اور عیاشی و بدمعاشی میں لگ گئے اور نتیجہ یہ ہوا کہ ہمکشہ ہمکشہ کے لئے ذلیل ہوئے۔

ہمارے کاروبار کا یہ عالم ہے کہ ایک لاکھ کی دکان پر پنکھے کے نیچے بھٹھنے کو فخر سمجھتے ہیں اور ٹھیلے پر رکھ کر سبزی بیچنے یا بیڑی ماچس کی دکان پر بیٹھ کر تجارت کرنے کو عیب سمجھتے ہیں۔ در حقیقت یہ اُس رئیسانہ ذہنیت کا اثر ہے جو تجارت نہیں کرنے دیتی بلکہ ریاست اور عیش و آرام سکھاتی ہے اس ذہنیت کا مطلب ہی یہ ہے کہ ابھی مسلمان کو اور ذلیل ہونا ہے۔ ورنہ اب بھی اپنی آنکھیں کھول لے۔

ان الفاظ کے معنی بتاؤ :-

ابتری ۔ راہنما ۔ اسپین ۔ ذلیل ۔ پست ۔ احساس متری ۔ مقدر ، دریافت ۔ تقدیر ۔ جاگیر ۔ جائداد ریاست ۔ علاقہ ۔ عاجز ۔ یکبارگی ۔ گھاٹ ۔ شاہی ٹھاٹ ۔ مردہ ۔ حادشہ ۔ ٹھاٹ باٹ ۔ موقع ۔ ڈانٹ پھٹکار ۔ انقلاب ۔ دولت مند ۔ آزاد ۔ جفاکش ۔ سینچائی ۔ عیش و عشرت ۔ عیاشی ۔ بدمعاشی ۔ ذہنیت۔

پانچواں سبق

سامان یا اطمینان

دنیا کا کوئی انسان نہیں ہے جو سکون، چين اور اطمینان کا طلبگار نہ ہو اور کوئی انسان نہیں ہے جو بیچین و مضطرب اور پریشان نہ ہو اور سچی بات تو یہی ہے کہ اگر یہ بے چین نہ ہوتی تو چین کی تلاش نہ رہتی۔ اگر یہ اضطراب نہ ہوتا تو اطمینان کی جستجو نہ ہوتی۔ سکون و اطمینان کی تلاش بےچینی اور پریشانی ہی کا نتیجہ ہے۔ لیکن سب سے بڑا سوال تو یہ ہے کہ اطمینان ملے کیسے۔ دنیا کے بہت سے لوگوں نے فیصلہ کیا ہے کہ جہاں سے پریشانی شروع ہوتی ہے وہیں سے اطمینان کا انتظام کرنا چائیے۔ اگر کسی کو روٹی کی پریشانی ہے تو اسے روٹی دینی چائیے۔ اگر کسی کو کپڑے کی پریشانی ہے تو اسے کپڑا دینا چائیے۔ اگر کوئی مکان کا محتاج ہے تو اسے مکان دیا جائے۔ اگر کوئی اولاد کی وجہ سے پریشان ہے تو اس کی اولاد کو صیح تربیت دی جائے۔ اگر کوئی زبردست لوگوں کی وجہ سے مضطرب ہے تو عدالت قائم کر کے انصاف کا انتظام کیا جائے۔ غرض بے چینی کے ہر راستے کو بند کر دیا جائے، سکون اور چین خود ب خود پیدا ہو جائے گا۔ یہی سوچ کر آدمی نے ہر چیز کے لئے کاشتکاری کے عمدہ سے عمدہ ذریعے نکالے، سیکڑوں قسم کی کھاد ایجاد کی۔ قدم قدم پر ٹیوب سیل لگوائے ۔ کپڑے کے لئے مليں کھولیں، مشینیں بنائیں اور ہزاروں قسم کے کپڑے شوق کی تسکین کے لئے ایجاد کئے۔ رہنے کے لئے خوبصورت سے خوبصورت عمارتیں بنوائیں۔ سمندروں کو پاٹ کر جگہ نکالی پہاڑوں کی چوٹیوں کو آبادی کے قابل بنایا تربیت کے لئے نرسری اسکول کھولے۔ ظالم و ستم کو مٹانے کے لئے عدالتیں قائم کیں۔ لیکن حق یہ ہے کہ ہر چیز سے ایک نئی پریشانی ہی پیدا ہوئی سکون نہ ملا۔ مشینوں کے ٹوٹ جانے کے اندیشے نے دل کو چین نہ لینے دیا۔ ما؛ کے لٹ جانے کی فکر نے رات کی نیند حرام کر دی۔ مکان کے گر جانے کے خیال نے پریشان کر دیا اور اطمینان کا ہر ذریعہ پریشانی کا پیش خیمہ بن گیا۔

آجر ایسا کیوں ہوا ؟ بات در اصل یہ ہے کہ انسان نے پریشانی کی وجہ نہیں دریافت کی اور درمیان ہی سے مرض کا علاج شروع کر دیا ۔نتیجہ ہوا کہ اوپر اوپر سے مرض ٹھیک ہوتا رہا اور اندر اندر سے اور مضبوط ہوتا گیا۔

انسان نے یہ طے کیا کہ ساری پریشانی امان کی کمی سے ہے۔ کھانے کے لئے روٹی، پہننے کے لئے کپڑے، رہنے کے لئے مکان نہیں ہے اسی لئے آدمی پریشان رہتا ہے جب یہ سب مہّیا ہو جائے گا تو پریشانی خود ب خود دور ہو جائے گی۔ یہ نہیں سوچا کہ اگر پریشانی سامان کی وجہ سے ہوتی تو جن کے پاس سامان موجود تھا کم از کم وہی مطمئن ہوتے لیکن ایسا بھی نہیں ہے جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ اطمینان کا راستہ کچھ اور ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کے پاس جتنا سامان بڑھتا گیا اتنا ہی اپنے اوپر ہھروسہ ہوتا گیا اور جتنا اپنے اوپر بھروسہ ہوتا گیا تنا ہی اپنے خدا کو بھولتا گیا ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ہر مال سے برکت اٹھا گئی اور ہر طرف نحوست پھیل گئی۔ کل جب پانی نہیں برستا تھا تو ہر کسان اپنے مالک کی بارگاہ میں دعا کرتا تھا۔ فصل آنے سے پہلے دعائیں شروع ہو جاتی تھیں۔ مالک موقع موقع سے پانی برسنا۔ مالک پانی اس طرح برسے کہ کھیت میں زیادہ سے زیادہ غلہ پیدا ہو۔ اور آج جب سے ٹیوب ویل وغیرہ کا چکر نکل آیا ہے کسی کو دعا کی ضرورت ہی نہیں رہ گئی۔ ہر ایک یہ سوچتا ہے کہ پانی نہیں برسے گا تو ٹیوب ویل تو موجود ہی ہے بلکہ دل ہی دل میں یہ خواہش بھی ہوتی ہے کہ پانی نہ برسے تو اچھا ہے تاکہ لوگوں سے پیسہ کمایا جا سکے اور یہی بری نیت ہے۔ جس کی وجہ سے مال سے برکت اٹھ جاتی ہے اور نحوست کا دور دورہ ہو جاتا ہے۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ بے چینی کی وجہ سامان کی کمی نہیں ہے بلکہ اصل وجہ نیت کی خرابی اور خدا پر بھروسے کا اٹھ جانا ہے۔ جب تک دنیا میں سچّی نیت اور خدا پر بھروسے کی صفت نہ پیدا ہو گی سکون و اطمینان نہیں پیدا ہو سکتا چاہے آدمی چاند پر چلا جائے یا سورج پر۔ جہاں رہے گا پریشان ہی رہےگا۔ اس بات کا بہترین منظر کربلا کے میدان میں دیکھا گیا ہے جہاں ایک طرف سامان ہی سامان تھا۔ فوجین تھی، اسلحے تھے، پانی کی فراوانی تھی، سپاہیوں کی کثرت تھی، آسائش کے اسباب تھے لیکن پریشانی تھی۔ اور دوسری طرف بے سر و سامانی تھی، غربت و مسافر تھی، نہ لشکر تھے نہ اسلحے، نہ فوجیں تھیں نہ تعداد لیکن اطمینان اس درجہ کا تھا کہ قرآن امام حسین کو " نفص مطمئنہ " کہ کر پکار رہا تھا۔ ایسا کیوں تھا ؟ صرف اس لئے کہ یزید کے پاس سب کچھ تھا مگر خدا پر بھروسہ نہ تھا۔ امام حسین کے پاس کچھ نہ تھا لیکن خدا پر بھروسہ اور دین پر اعتماد تھا۔

ان الفاظ کے معنی بتاؤ :۔

چین ۔ اضطراب ۔ جستجو ۔ سکون ۔ اطمینان ۔ تلاش ۔ تربیت ۔ مضطرب ۔ محیا ۔ کاشتکاری ۔ عمدہ ۔ ایجاد ۔ ٹیوب ویل ۔ تسکین ۔ عمارتیں ۔ ظالم و ستم ۔ عدالتیں ۔ اندیشہ ۔ تدبیریں ۔ دريافت ۔ مضبوط ۔ حقیقت ۔ نحوست ۔ فصل ۔ غلہ ۔ دارومدار ۔ خواہش ۔ اعتماد ۔ صفت ۔ آسائش ۔ مسافر ۔ لسکر ۔ نفس مطمئنہ ۔ اعتماد ۔ اسلحہ ۔ فراوانی ۔ خود بخود ۔ شوق ۔ منظر ۔ بہترین ۔

چھٹا سبق

برکت و نحوست

صبح سویرے خالد سے ملاقات ہوئی حالت تباہ کپڑے پھٹے ہوئے، بال الجھے ہوئے اور گردو خاک میں اٹی ہوئے چہرے پر ہوائیں اڑاتی ہوئی رخساروں پر زردی چھائی ہوئی۔ میں نے گبھرا کر پوچھا بھائی خالد یہ تمہارا کیا حال ہے۔ تمہارے پاس تو اللّٰہ کا دیا کچھ کم نہیں ہے۔ مکان بھی ہے، کار بھی ہے، بزنس بھی اچھا چلتا ہے دوستوں کی محفل بھی جمتی ہے۔ دعوتیں ہوتی ہیں۔ پھر آجر کیا بات ہے ؟ یہ حالت تو ہم جیسوں کی ہونی چائیے جو صبح کو کھاتے ہیں تو شام کی فکر ذہن میں رکھ کر۔ لباس پہنتے ہیں تو یہ سوچ کر کہ اس کے پھٹنے کے بعد کیا ہوگا۔ پیدل چلتے ہیں تو تھکن دور ہونے کا کوئی انتظام نہیں ہوتا۔

خالد نے میری باتیں بڑی اطمینان سے سنیں اور کہنے لگا۔ بھائی اصل بات یہ ہے کہ اللّٰہ کا دیا ہے تو سب کچھ لیکن برکت اٹھ گئی۔ نہ جانے کیا بات ہے کہ اب کسی چیز میں برکت نہیں ہوتی۔ نہ مال میں برکت ہے نہ پیداوار میں برکت ہے، نہ تجارت میں برکت ہے نہ عمر میں برکت ہے چاروں طرف نحوست ہی نحوست دکھائی دیتی ہے۔

میں نے کہا خالد نا شکری نہ کرو اس سے زیادہ برکت کیا ہو گی۔ مال کے اعتبار سے تم لکھپتی ہو۔ پیداوار بھی اچھی ہو جاتی ہے، تجارت میں روزانہ ایک ہزار روپیہ آسانی سے نکال لیتے ہو، قوم میں عزت بھی ہے اور برکت کس چیز کا نام ہے ؟

یہ سننا تھا کہ خالد کی آنکھوں سے آنسو ٹپک پڑے، ہچکیاں بندھ گئیں رندھی ہوئی آواز سے بولا۔ حامد بھائی آپ کو میرے حالات کا کیا علم ہے آپ تو صرف دولت دیکھتے ہیں۔ بنگلہ دیکھتے ہیں کار دیکھتے ہیں۔ بزنس دیکھتے ہیں آپ کو اندر کی کیا خبر ؟

میں نے بات کو ٹالتے ہوئے ہنسی کے لہجے میں کہا۔ خالد ڈرامہ نہ کرو۔ میں تم سے ادھار نہ مانگوں گا میں نے اکثر لوگوں کو دیکھا ہے کہ جب انہیں کسی سے ادھار مانگنے کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے تو اس کی صورت دیکھتے ہی مصائب کا بیان شروع کر دیتے ہیں۔ مجھے نہیں معلوم تھا کہ تم بھی مجھے قرض مانگنے والا ہی سمجھتے ہو۔

میرا خیال تھا کہ ان باتوں سے خالد کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آجائے گی اور اس کا رنگ بدل جائے گا لیکن ایسا کچھ نہ ہوا ۔ اس کے آنسو اور تیز ہو گئے اور اس نے کہا بھائی صاحب آپ نے چھیڑ ہی دیا ہے تو میری داستان سُن لیجئے۔ غلہ کافی ہوتا ہے اس میں کوئی شبہ نہیں ہے لیکن تقریباً ایک سال سے معدے کا مریض ہوں ایک روٹی مشکل سے کھائی جاتی ہے اور اس کے بعد بھی کئی قسم کی دوائیں کھانا پڑتی ہیں۔ دستخوان پر آتا تو بہت کچھ ہے لیکن مجھ سے مطلب ؟ دکان پر آمدنی تو کافی ہوتی ہے لیکن آئے دن ایک نہ ایک مصیبت لگی رہتی ہے، ابھی کل کی بات دیکھو کل اتفاق سے ایک بڑا بزنس لگ گیا تھا اور تقریباً دس ہزار کا فائدہ ہو گیا تھا میں خوشی کے مارے پھولا نہ سماتا تھا۔ دکان بند کر کے گھر کی طرف چلا رستے میں ایک لڑکے نے خبر دی کہ امّی نے کہا ہے پپو کی حالت نازک ہے اچانک ڈگری کا بخار آ گیا ہے ڈاکٹر کو ساتھ لے کر آئے گا میری ساری خوشی منٹوں میں ختم ہو گئی۔ کار کارخ ڈاکٹر کے مکان کی طرف موڑ دیا، رات کے دس بج رہے تھے۔ ڈاکٹر صاحب اٹھ چکے تھے۔ میں نے اندر اطلاع کرائی۔ مشکل تمام یہ خواب ملا کہ اب کپڑے اتار کر آرام فرمانے جا رہے ہیں اس وقت کہیں نہیں جا سکتے۔ میرے پیروں تلے سے زمین نکل گئی خدایا اب کیا ہوگا ؟ میرے لڑکے کی زندگی کا کیا سہارا ہوگا ؟ چند منٹ سوچنے کے بعد پھر ہمت کی اور ملازم سے کہلوایا کیا یہ ممکن ہے کہ میں بچے کو وہیں لے آؤں اور ڈاکٹر صاحب اسے دیکھ لیں۔ ملازم اندر گیا اور پلٹ کر جواب دیا اگر آپ پانچ ہزار روپیہ جمع کر دیں تو ڈاکٹر صاحب پندرہ منٹ تک انتظام کر سکتے ہیں اس کے بعد کچھ نہیں ہو سکتا ہے۔ میں نے فوراً روپہ جمع کیا اور تیزی سے کار دوڑائی گھر گیا بچّہ کو اٹھایا ڈاکٹر صاحب کے پاس پہونا چودہ منٹ گزر گئے تھے وہ گھر سے باہر آئے ایک نظر دیکھا اور فرمایا کیں بڑا سنگین ہے اس وقت یہ دوا دے دیجئے گا بخار کم ہو جائےگا۔ پھر پندرہ دن باقائدہ علاج ہوگا۔ اور ۰ روپیہ روز کا انجکشن لگے گا۔ علاج کرانا ہو تو کل تشریف لے آئے گا ورنہ گھر میں آرام لیجئےگا۔ حامد بھائی ذرا سوچئے کل کے ایک ہزار الگ گئے اور لڑکے کی حالت الگ خراب ہے، دکان پر بیٹھ نہیں سکتا، ۵۰۰ ٥روپیہ روز کی دوا ہوگی جس کا مطلبیيہ ہے کہ پچھلے مہینے کی کمائی بھی گئی، کیا اسی کو برکت کہتے ہیں اور اسی دولت پر مبارک باد دیتے ہو ؟

میں نے کہا خالد تمہارا قصّہ ضرور افسوسناک ہے لیکن یہ تو سو چوکہ تمہارے یہاں یہ واقعہ ہوا۔ تو تم نے علاج بھی کرا لیا اگر کہیں یہ واقعہ میرے یہاں ہوا ہوتا تو لڑکے کی زندگی سے رات ہی کو ہاتھ دھو لیتا یہاں تو ایک روپیہ بھی جیب میں نہیں ہے دس ہزار تو بڑی بات ہے۔ خالد نے کہا حامد بھائی آپ بالکل سچی فرماتے ہیں لیکن ذرا یہ بھی تو سوچئے کہ یہ واقعہ آپ کے گھر کیوں نہیں ہوا میرے ہی گھر کیوں ہوا۔ بھائی صاحب اصل بات یہ ہے کہ پروردگار جب دولت دیتا ہے تو کچھ ایسی باتیں ساتھ لگا دیتا ہے کہ آدمی اس سے صحیح فائدہ نہ اٹھا سکے اور ہمیشہ پریشان رہے۔

میں نے خالد کے منھ پر ہاتھ رکھ دیا اور کہا خبردار ایسی بھہودہ باتیں مت کیا کرو وہ دولت دیتا ہے اور تم پریشان کرنے کا الزام رکھتے ہو۔ درحقیقت یہی ذہنیت ہے جس نے تمہارے مال سے برکت اٹھا دی ہے کہ جتنا زیادہ مال آتا ہے اتنی ہی پریشانی لاتا ہے۔ اٹھو اور فوراً دو رکعت نماز پڑھ کر اللّٰہ کی بارگاہ میں توبہ کرو تاکہ عذاب تم سے دفع ہو جائے۔ اللّٰہ مال بھی دیگا اور چین و سکون بھی۔ میرا یہ کہنا تھا کہ خالد کا سر شرم سے جھک گیا۔ اور اس نے دھیمی آواز سے کہا۔ میں نماز پڑھنا نہیں جانتا۔ یہ سُن کر میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے اور میں سوچنے لگا۔ خدایا کیا تیرے ایسے بندے بھی ہیں جو اتنی نعمتیں لےکے کر تجھے بھول جاتے ہیں اور تیرے سامنے سر تک نہیں جھکانا جانتے۔ تو ہی ان کے حال پر رحم کر اور ان کی ہدایت فرما۔

ان الفاظ کے معنی بتاؤ :۔

ملاقات ۔ تباہ ۔ ہوائیاں ۔ رخساروں ۔ بزنس ۔ لباس ۔ نحوست ۔ ہچکیاں ۔ ادھر ۔ خطرہ ۔ مصائب ۔ قرض ۔ مسکراہٹ ۔ چھیڑ ۔ معدہ ۔ دسترخوان ۔ اتفاق ۔ اچانک ۔ سہارا ۔ سنگین ۔ باقاعدہ ۔ انجکشن ۔ ادسوسناک ۔ خبردار ۔ بیہودہ ۔ الزام ۔ دفع ۔ رانگٹے ۔ نعمتیں ۔ روزی ۔ لکھپتی ۔ داستان ۔ ملازم ۔ قصد ۔ فوراً ۔ دھیمی ۔ ہدایت ۔

باب دہم

وہ دعائیں کہ جو حضرت حجت نے اپنے آباء و اجداد سے نقل کی ہے

حضرت امیر المومنین کی دعا سختیوں کے موقع پر

سید بزرگوار علی بن طاوؤس نے حضرت امیرالمومنین علی سے ایک دعا نقل کیا ہے کہ سختیوں اور مشکلات کو دور کرنے کے لئے پڑھی جاتی ہے اور اس کی سند کو ذکر نہیں کیا گیا ہے لیکن علامہ مجلسی کہتے ہیں کہ اس دعا کے لئے ہمارے پاس عالی سند اور تعجب انگیز ہے چونکہ اس دعا کو واسطہ کے بغیر اپنے باپ سے اس نے بعض صالحین سے انہوں نے ہمارے مولیٰ حضرت حجت سے روایت کی ہے میں اس روایت کو بیان کرتاہوں۔

أَللَّهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ الْحَقُّ الَّذي لا إِلهَ إِلّا أَنْتَ وَأَنَا عَبْدُكَ ، ظَلَمْتُ نَفْسي وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبي ، فَاغْفِرْ لِيَ الذُّنُوبَ لا إِلهَ إِلّا أَنْتَ يا غَفُورُ.

أَللَّهُمَّ إِنّي أَحْمَدُكَ وَأَنْتَ لِلْحَمْدِ أَهْلٌ ، عَلى ما خَصَصْتَني بِهِ مِنْ مَواهِبِ الرَّغائِبِ ، وَوَصَلَ إِلَيَّ مِنْ فَضائِلِ الصَّنايِعِ ، وَعَلى ما أَوْلَيْتَني بِهِ ، وَتَوَلَّيْتَني بِهِ مِنْ رِضْوانِكَ ، وَأَنَلْتَني مِنْ مَنِّكَ الْواصِلِ إِلَيَّ ، وَمِنَ الدِّفاعِ عَنّي ، وَالتَّوْفيقِ لي ، وَالْإِجابَةِ لِدُعائي ، حَتَّى اُناجيكَ راغِباً ، وَأَدْعُوكَ مُصافِياً ، وَحتَّى أَرْجُوكَ فَأَجِدُكَ فِي الْمَواطِنِ كُلِّها لي جابِراً ، وَفي اُمُوري ناظِراً ، وَلِذُنُوبي غافِراً ، وَلِعَوْراتي ساتِراً ، لَمْ أَعْدِمْ خَيْرَكَ طَرْفَةَ عَيْنٍ مُذْ أَنْزَلْتَني دارَ الْإِخْتِبارِ ، لِتَنْظُرَ ماذا اُقَدِّمُ لِدارِ الْقَرارِ.

فَأَنَا عَتيقُكَ اللَّهُمَّ مِنْ جَميعِ الْمَصائِبِ وَاللَّوازِبِ ، وَالْغُمُومِ الَّتي ساوَرَتْني فيهَا الْهُمُومُ ، بِمَعاريضِ الْقَضاءِ ، وَمَصْرُوفِ جُهْدِ الْبَلاءِ ، لا أَذْكُرُ مِنْكَ إِلّاَ الْجَميلَ ، وَلا أَرى مِنْكَ غَيْرَ التَّفْضيلِ.

خَيْرُكَ لي شامِلٌ ، وَفَضْلُكَ عَلَيَّ مُتَواتِرٌ ، وَنِعَمُكَ عِنْدي مُتَّصِلَةٌ ، سَوابِغُ لَمْ تُحَقِّقْ حِذاري ، بَلْ صَدَّقْتَ رَجائي ، وَصاحَبْتَ أَسْفاري ، وَأَكْرَمْتَ أَحْضاري ، وَشَفَيْتَ أَمْراضي ، وَعافَيْتَ أَوْصابي ، وَأَحْسَنْتَ مُنْقَلَبي وَمَثْوايَ ، وَلَمْ تُشْمِتْ بي أَعْدائي ، وَرَمَيْتَ مَنْ رَماني ، وَكَفَيْتَني شَرَّ مَنْ عاداني.

أَللَّهُمَّ كَمْ مِنْ عَدُوٍّ انْتَضى عَلَيَّ سَيْفَ عَداوَتِهِ ، وَشَحَذَ لِقَتْلي ظُبَةَ مُدْيَتِهِ ، وَأَرْهَفَ لي شَبا حَدِّهِ ، وَدافَ لي قَواتِلَ سُمُومِهِ ، وَسَدَّدَ لي صَوائِبَ سِهامِهِ ، وَأَضْمَرَ أَنْ يَسُومَنِي الْمَكْرُوهَ ، وَيُجَرِّعَني ذُعافَ مَرارَتِهِ ، فَنَظَرْتَ يا إِلهي إِلى ضَعْفي عَنِ احْتِمالِ الْفَوادِحِ ، وَعَجْزي عَنِ الْإِنْتِصارِ مِمَّنْ قَصَدَني بِمُحارَبَتِهِ ، وَوَحْدَتي في كَثيرِ مَنْ ناواني ، وَأَرْصَدَ لي فيما لَمْ أَعْمَلْ فِكْري فِي الْإِنْتِصارِ مِنْ مِثْلِهِ.

فَأَيَّدْتَني يا رَبِّ بِعَوْنِكَ ، وَشَدَدْتَ أَيْدي بِنَصْرِكَ ، ثُمَّ فَلَلْتَ لي حَدَّهُ ، وَصَيَّرْتَهُ بَعْدَ جَمْعِ عَديدِهِ وَحْدَهُ ، وَأَعْلَيْتَ كَعْبي عَلَيْهِ ، وَرَدَدْتَهُ حَسيراً لَمْ تَشْفِ غَليلَهُ ، وَلَمْ تُبَرِّدْ حَزازاتِ غَيْظِهِ ، وَقَدْ غَضَّ عَلَيَّ شَواهُ ، وَآبَ مُوَلِّياً قَدْ أَخْلَفْتَ سَراياهُ ، وَأَخْلَفْتَ آمالَهُ.

أَللَّهُمَّ وَكَمْ مِنْ باغٍ بَغى عَلَيَّ بِمَكائِدِهِ ، وَنَصَبَ لي شَرَكَ مَصائِدِهِ ، وَضَبَأَ إِلَيَّ ضُبُوءَ السَّبُعِ لِطَريدَتِهِ ، وَانْتَهَزَ فُرْصَتَهُ ، وَاللِّحاقَ لِفَريسَتِهِ ، وَهُوَ مُظْهِرٌ بَشاشَةَ الْمَلَقِ ، وَيَبْسُطُ إِلَيَّ وَجْهاً طَلِقاً.

فَلَمَّا رَأَيْتَ يا إِلهي دَغَلَ سَريرَتِهِ ، وَقُبْحَ طَوِيَّتِهِ ، أَنْكَسْتَهُ لِاُمِّ رَأْسِهِ في زُبْيَتِهِ ، وَأَرْكَسْتَهُ في مَهوى حَفيرَتِهِ ، وَأَنْكَصْتَهُ عَلى عَقِبَيْهِ ، وَرَمَيْتَهُ بِحَجَرِهِ ، وَنَكَأْتَهُ بِمِشْقَصِهِ ، وَخَنَقْتَهُ بِوَتَرِهِ ، وَرَدَدْتَ كَيْدَهُ في نَحْرِهِ ، وَرَبَقْتَهُ بِنَدامَتِهِ فَاسْتَخْذَلَ وَتَضاءَلَ بَعْدَ نِخْوَتِهِ ، وَبَخَعَ وَانْقَمَعَ بَعْدَ اسْتِطالَتِهِ ، ذَليلاً مَأْسُوراً في حَبائِلِهِ الَّتي كانَ يُحِبُّ أَنْ يَراني فيها ، وَقَدْ كِدْتُ لَوْلا رَحْمَتُكَ أَنْ يَحِلَّ بي ما حَلَّ بِساحَتِهِ ، فَالْحَمْدُ لِرَبٍّ مُقْتَدِرٍ لايُنازَعُ ، وَلِوَلِيٍّ ذي أَناةٍ لايَعْجَلُ ، وَقَيُّومٍ لايَغْفُلُ ، وَحَليمٍ لايَجْهَلُ.

نادَيْتُكَ يا إِلهي مُسْتَجيراً بِكَ ، واثِقاً بِسُرْعَةِ إِجابَتِكَ ، مُتَوَكِّلاً عَلى ما لَمْ أَزَلْ أَعْرِفُهُ مِنْ حُسْنِ دِفاعِكَ عَنّي ، عالِماً أَنَّهُ لَنْ يُضْطَهَدَ مَنْ آوى إِلى ظِلِّ كِفايَتِكَ ، وَلايَقْرَعُ الْقَوارِعُ مَنْ لَجَأَ إِلى مَعْقِلِ الْإِنْتِصارِ بِكَ ، فَخَلَّصْتَني يا رَبِّ بِقُدْرَتِكَ وَنَجَّيْتَني مِنْ بَأْسِهِ بِتَطَوُّلِكَ وَمَنِّكَ.

أَللَّهُمَّ وَكَمْ مِنْ سَحائِبَ مَكْرُوهٍ جَلَّيْتَها، وَسَماءِ نِعْمَةٍ أَمْطَرْتَها ، وَجَداوِلَ كَرامَةٍ أَجْرَيْتَها ، وَأَعْيُنِ أَحْداثٍ طَمَسْتَها ، وَناشِىِ رَحْمَةٍ نَشَرْتَها ، وَغَواشِيَ كُرَبٍ فَرَّجْتَها ، وَغُمَمِ بَلاءٍ كَشَفْتَها ، وَجُنَّةِ عافِيَةٍ أَلْبَسْتَها ، وَاُمُورٍ حادِثَةٍ قَدَّرْتَها ، لَمْ تُعْجِزْكَ إِذْ طَلَبْتَها ، فَلَمْ تَمْتَنِعْ مِنْكَ إِذْ أَرَدْتَها.

أَللَّهُمَّ وَكَمْ مِنْ حاسِدِ سُوءٍ تَوَلَّني بِحَسَدِهِ ، وَسَلَقَني بِحَدِّ لِسانِهِ ، وَوَخَزَني بِقَرْفِ عَيْبِهِ ، وَجَعَلَ عِرْضي غَرَضاً لِمَراميهِ ، وَقَلَّدَني خِلالاً لَمْ تَزَلْ فيهِ كَفَيْتَني أَمْرَهُ.

أَللَّهُمَّ وَكَمْ مِنْ ظَنٍّ حَسَنٍ حَقَّقْتَ ، وَعُدْمِ إِمْلاقٍ ضَرَّني جَبَرْتَ وَأَوْسَعْتَ ، وَمِنْ صَرْعَةٍ أَقَمْتَ ، وَمِنْ كُرْبَةٍ نَفَّسْتَ ، وَمِنْ مَسْكَنَةٍ حَوَّلْتَ ، وَمِنْ نِعْمَةٍ خَوَّلْتَ ، لاتُسْأَلُ عَمَّا تَفْعَلُ ، وَلا بِما أَعْطَيْتَ تَبْخَلُ ، وَلَقَدْ سُئِلْتَ فَبَذَلْتَ ، وَلَمْ تُسْئَلْ فَابْتَدَأْتَ وَاسْتُميحَ فَضْلُكَ فَما أَكْدَيْتَ ، أَبْيَتَ إِلّا إِنْعاماً وَامْتِناناً وَتَطَوُّلاً ، وَأَبْيَتُ إِلّا تَقَحُّماً عَلى مَعاصيكَ ، وَانْتِهاكاً لِحُرُماتِكَ ، وَتَعَدِّياً لِحُدُودِكَ ، وَغَفْلَةً عَنْ وَعيدِكَ ، وَطاعَةً لِعَدُوّي وَعَدُوِّكَ ، لَمْ تَمْتَنِعْ عَنْ إِتْمامِ إِحْسانِكَ ، وَتَتابُعِ امْتِنانِكَ ، وَلَمْ يَحْجُزْني ذلِكَ عَنِ ارْتِكابِ مَساخِطِكَ.

أَللَّهُمَّ فَهذا مَقامُ الْمُعْتَرِفِ لَكَ بِالتَّقْصيرِ عَنْ أَداءِ حَقِّكَ ، اَلشَّاهِدِ عَلى نَفْسِهِ بِسُبُوغِ نِعْمَتِكَ ، وَحُسْنِ كِفايَتِكَ ، فَهَبْ لِيَ اللَّهُمَّ يا إِلهي ما أَصِلُ بِهِ إِلى رَحْمَتِكَ ، وَأَتَّخِذُهُ سُلَّماً أَعْرُجُ فيهِ إِلى مَرْضاتِكَ ، وَآمَنُ بِهِ مِنْ عِقابِكَ ، فَإِنَّكَ تَفْعَلُ ما تَشاءُ وَتَحْكُمُ ما تُريدُ ، وَأَنْتَ عَلى كُلِّ شَيْ‏ءٍ قَديرٌ.

أَللَّهُمَّ حَمْدي لَكَ مُتَواصِلٌ ، وَثَنائي عَلَيْكَ دائِمٌ ، مِنَ الدَّهْرِ إِلَى الدَّهْرِ بِأَلْوانِ التَّسْبيحِ ، وَفُنُونِ التَّقْديسِ ، خالِصاً لِذِكْرِكَ ، وَمَرْضِيّاً لَكَ بِناصِعِ التَّوْحيدِ ، وَمَحْضِ التَحْميدِ ، وَطُولِ التَّعْديدِ في إِكْذابِ أَهْلِ التَّنْديدِ.

لَمْ تُعَنْ في شَيْ‏ءٍ مِنْ قُدْرَتِكَ ، وَلَمْ تُشارَكْ في إِلهِيَّتِكَ ، وَلَمْ تُعايَنْ إِذْ حَبَسْتَ الْأَشْياءَ عَلَى الْغَرائِزِ الْمُخْتَلِفاتِ ، وَفَطَرْتَ الْخَلائِقَ عَلى صُنُوفِ الْهَيَئاتِ ، وَلا خَرَقَتِ الْأَوْهامُ حُجُبَ الْغُيُوبِ إِلَيْكَ ، فَاعْتَقَدَتْ مِنْكَ مَحْدُوداً في عَظَمَتِكَ ، وَلا كَيْفِيَّةً في أَزَلِيَّتِكَ ، وَلا مُمْكِناً في قِدَمِكَ ، وَلايَبْلُغُكَ بُعْدُ الْهِمَمِ ، وَلايَنالُكَ غَوْصُ الْفِطَنِ ، وَلايَنْتَهي إِلَيْكَ نَظَرُ النَّاظِرينَ في مَجْدِ جَبَرُوتِكَ ، وَعَظيمِ قُدْرَتِكَ.

إِرْتَفَعَتْ عَنْ صِفَةِ الْمَخْلُوقينَ صِفَةُ قُدْرَتِكَ ، وَعَلا عَنْ ذلِكَ كِبْرِياءُ عَظَمَتِكَ ، وَلايَنْتَقِصُ ما أَرَدْتَ أَنْ يَزْدادَ ، وَلايَزْدادُ ما أَرَدْتَ أَنْ يَنْتَقِصَ ، وَلا أَحَدٌ شَهِدَكَ حينَ فَطَرْتَ الْخَلْقَ، وَلا ضِدٌّ حَضَرَكَ حينَ بَرَأْتَ النُّفُوسَ.

كَلَّتِ الْأَلْسُنُ عَنْ تَبْيينِ صِفَتِكَ ، وَانْحَسَرَتِ الْعُقُولُ عَنْ كُنْهِ مَعْرِفَتِكَ ، وَكَيْفَ تُدْرِكُكَ الصِّفاتُ ، أَوْ تَحْويكَ الْجِهاتُ ، وَأَنْتَ الْجَبَّارُ الْقُدُّوسُ الَّذي لَمْ تَزَلْ أَزَلِيّاً دائِماً فِي الْغُيُوبِ وَحْدَكَ ، لَيْسَ فيها غَيْرُكَ ، وَلَمْ يَكُنْ لَها سِواكَ.

حارَتْ في مَلَكُوتِكَ عَميقاتُ مَذاهِبِ التَّفْكيرِ ، وَحَسُرَ عَنْ إِدْراكِكَ بَصَرُ الْبَصيرِ ، وَتَواضَعَتِ الْمُلُوكُ لِهَيْبَتِكَ ، وَعَنَتِ الْوُجُوهُ بِذُلِّ الْإِسْتِكانَةِ لِعِزَّتِكَ ، وَانْقادَ كُلُّ شَيْ‏ءٍ لِعَظَمَتِكَ ، وَاسْتَسْلَمَ كُلُّ شَيْ‏ءٍ لِقُدْرَتِكَ ، وَخَضَعَتِ الرِّقابُ بِسُلْطانِكَ ، فَضَلَّ هُنالِكَ التَّدْبيرُ في تَصاريفِ الصِّفاتِ لَكَ ، فَمَنْ تَفَكَّرَ في ذلِكَ رَجَعَ طَرْفُهُ إِلَيْهِ حَسيراً ، وَعَقْلُهُ مَبْهُوتاً مَبْهُوراً ، وَفِكْرُهُ مُتَحَيِّراً.

أَللَّهُمَّ فَلَكَ الْحَمْدُ حَمْداً مُتَواتِراً مُتَوالِياً مُتَّسِقاً مُسْتَوْثِقاً يَدُومُ وَلايَبيدُ غَيْرَ مَفْقُودٍ فِي الْمَلَكُوتِ ، وَلا مَطْمُوسٍ فِي الْعالَمِ ، وَلامُنْتَقَصٍ فِي الْعِرْفانِ ، فَلَكَ الْحَمْدُ حَمْداً لاتُحْصى مَكارِمُهُ فِي اللَّيْلِ إِذا أَدْبَرَ ، وَفِي الصُّبْحِ إِذا أَسْفَرَ ، وَفِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ ، وَبِالْغُدُوِّ وَالْآصالِ ، وَالْعَشِيِّ وَالْإِبْكارِ ، وَالظَّهيرَةِ وَالْأَسْحارِ.

أَللَّهُمَّ بِتَوْفيقِكَ أَحْضَرْتَنِي النَّجاةَ ، وَجَعَلْتَني مِنْكَ في وَلايَةِ الْعِصْمَةِ ، لَمْ تُكَلِّفْني فَوْقَ طاقَتي إِذْ لَمْ تَرْضَ مِنّي إِلّا بِطاعَتي ، فَلَيْسَ شُكْري وَ إِنْ دَأَبْتُ مِنْهُ فِي الْمَقالِ ، وَبالَغْتُ مِنْهُ فِي الْفِعالِ بِبالِغِ أَداءِ حَقِّكَ ، وَلا مُكافٍ فَضْلَكَ ، لِأَنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ لا إِلهَ إِلّا أَنْتَ ، لَمْ تَغِبْ عَنْكَ غائِبَةٌ ، وَلا تَخْفى عَلَيْكَ خافِيَةٌ ، وَلاتَضِلُّ لَكَ في ظُلَمِ الْخَفِيَّاتِ ضالَّةٌ ، إِنَّما أَمْرُكَ إِذا أَرَدْتَ شَيْئاً أَنْ تَقُولُ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ.

أَللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ مِثْلَ ما حَمِدْتَ بِهِ نَفْسَكَ ، وَحَمِدَكَ بِهِ الْحامِدُونَ ، وَمَجَّدَكَ بِهِ الْمُمَجِّدُونَ ، وَكَبَّرَكَ بِهِ الْمُكَبِّرُونَ ، وَعَظَّمَكَ بِهِ الْمُعَظِّمُونَ ، حَتَّى يَكُونَ لَكَ مِنّي وَحْدي في كُلِّ طَرْفَةِ عَيْنٍ ، وَأَقَلَّ مِنْ ذلِكَ ، مِثْلُ حَمْدِ جَميعِ الْحامِدينَ وَتَوْحيدِ أَصْنافِ الْمُخْلِصينَ ، وَتَقْديسِ أَحِبَّائِكَ الْعارِفينَ ، وَثَناءِ جَميعِ الْمُهَلِّلينَ وَمِثْلُ ما أَنْتَ عارِفٌ بِهِ ، وَمَحْمُودٌ بِهِ مِنْ جَميعِ خَلْقِكَ مِنَ الْحَيَوانِ وَالْجَمادِ.

وَأَرْغَبُ إِلَيْكَ اللَّهُمَّ في شُكْرِ ما أَنْطَقْتَني بِهِ مِنْ حَمْدِكَ ، فَما أَيْسَرَ ما كَلَّفْتَني مِنْ ذلِكَ ، وَأَعْظَمَ ما وَعَدْتَني عَلى شُكْرِكَ ، إِبْتَدَأْتَني بِالنِّعَمِ فَضْلاً وَطَوْلاً ، وَأَمَرْتَني بِالشُّكْرِ حَقّاً وَعَدْلاً ، وَوَعَدْتَني عَلَيْهِ أَضْعافاً وَمَزيداً ، وَأَعْطَيْتَني مِنْ رِزْقِكَ اعْتِباراً وَامْتِحاناً ، وَسَأَلْتَني مِنْهُ فَرْضاً يَسيراً صَغيراً ، وَوَعَدْتَني عَلَيْهِ أَضْعافاً وَمَزيداً وَ إِعْطاءً كَثيراً.

وَعافَيْتَني مِنْ جُهْدِ الْبَلاءِ ، وَلَمْ تُسْلِمْني لِلسُّوءِ مِنْ بَلائِكَ ، وَمَنَحْتَنِي الْعافِيَةَ ، وَأَوْلَيْتَني بِالْبَسْطَةِ وَالرَّخاءِ ، وَضاعَفْتَ لِيَ الْفَضْلَ مَعَ ما وَعَدْتَني بِهِ مِنَ الْمَحَلَّةِ الشَّريفَةِ ، وَبَشَّرْتَني بِهِ مِنَ الدَّرَجَةِ الرَّفيعَةِ الْمَنيعَةِ ، وَاصْطَفَيْتَني بِأَعْظَمِ النَّبيّينَ دَعْوَةً ، وَأَفْضَلِهِمْ شَفاعَةً مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ.

أَللَّهُمَّ اغْفِرْ لي ما لايَسَعُهُ إِلّا مَغْفِرَتُكَ ، وَلايَمْحَقُهُ إِلّا عَفْوُكَ ، وَهَبْ لي في يَوْمي هذا وَساعَتي هذِهِ يَقيناً يُهَوِّنُ عَلَيَّ مُصيباتِ الدُّنْيا وَأَحْزانَها ، وَيُشَوِّقُني إِلَيْكَ ، وَيُرَغِّبُني فيما عِنْدَكَ ، وَاكْتُبْ لِيَ الْمَغْفِرَةَ ، وَبَلِّغْنِي الْكَرامَةَ ، وَارْزُقْني شُكْرَ ما أَنْعَمْتَ بِهِ عَلَيَّ ، فَإِنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ الْواحِدُ الرَّفيعُ الْبَدي‏ءُ الْبَديعُ السَّميعُ الْعَليمُ الَّذي لَيْسَ لِأَمْرِكَ مَدْفَعٌ ، وَلا عَنْ قَضائِكَ مُمْتَنِعٌ ، وَأَشْهَدُ أَنَّكَ رَبّي وَرَبُّ كُلِّ شَيْ‏ءٍ فاطِرُ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ ، عالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهادَةِ ، اَلْعَلِيُّ الْكَبيرُ الْمُتَعالُ.

أَللَّهُمَّ إِنّي أَسْأَلُكَ الثَّباتَ فِي الْأَمْرِ ، وَالْعَزيمَةَ فِي الرُّشْدِ ، وَ إِلْهامَ الشُّكْرِ عَلى نِعْمَتِكَ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ جَوْرِ كُلِّ جائِرٍ ، وَبَغْيِ كُلِّ باغٍ ، وَحَسَدِ كُلِّ حاسِدٍ.

أَللَّهُمَّ بِكَ أَصُولُ عَلَى الْأَعْداءِ ، وَ إِيَّاكَ أَرْجُو وِلايَةَ الْأَحِبَّاءِ ، مَعَ ما لا أَسْتَطيعُ إِحْصاءَهُ مِنْ فَوائِدِ فَضْلِكَ ، وَأَصْنافِ رِفْدِكَ ، وَأَنْواعِ رِزْقِكَ ، فَإِنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ لا إِلهَ إِلّا أَنْتَ الْفاشي فِي الْخَلْقِ حَمْدُكَ ، اَلْباسِطُ بِالْجُودِ يَدُكَ ، لاتُضادُّ في حُكْمِكَ ، وَلاتُنازَعُ في سُلْطانِكَ وَمُلْكِكَ ، وَلاتُراجَعُ في أَمْرِكَ ، تَمْلِكُ مِنَ الْأَنامِ ما شِئْتَ ، وَلايَمْلِكُونَ إِلّا ما تُريدُ.

أَللَّهُمَّ أَنْتَ الْمُنْعِمُ الْمُفْضِلُ الْقادِرُ الْقاهِرُ الْمُقَدَّسُ في نُورِ الْقُدْسِ ، تَرَدَّيْتَ بِالْعِزَّةِ وَالْمَجْدِ ، وَتَعَظَّمْتَ بِالْقُدْرَةِ وَالْكِبْرياءِ ، وَغَشَّيْتَ النُّورَ بِالْبَهاءِ ، وَجَلَّلْتَ الْبَهاءَ بِالْمَهابَةِ.

أَللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ الْعَظيمُ ، وَالْمَنُّ الْقَديمُ ، وَالسُلْطانُ الشَّامِخُ ، وَالْحَوْلُ الْواسِعُ ، وَالْقُدْرَةُ الْمُقْتَدِرَةُ ، وَالْحَمْدُ الْمُتَتابَعُ الَّذي لايَنْفَدُ بِالشُّكْرِ سَرْمَداً وَلايَنْقَضي أَبَداً ، إِذْ جَعَلْتَني مِنْ أَفاضِلِ بَني آدَمَ ، وَجَعَلْتَني سَميعاً بَصيراً صَحيحاً سَويّاً مُعافاً لَمْ تَشْغَلْني بِنُقْصانٍ في بَدَني ، وَلا بِآفَةٍ في جَوارِحي ، وَلا عاهَةٍ في نَفْسي وَلا في عَقْلي.

وَلَمْ يَمْنَعْكَ كَرامَتُكَ إِيَّايَ ، وَحُسْنُ صُنْعِكَ عِنْدي ، وَفَضْلُ نَعْمائِكَ عَلَيَّ إِذْ وَسَّعْتَ عَلَيَّ فِي الدُّنْيا ، وَفَضَّلْتَني عَلى كَثيرٍ مِنْ أَهْلِها تَفْضيلاً ، وَجَعَلْتَني سَميعاً أَعي ما كَلَّفْتَني بَصيراً ، أَرى قُدْرَتَكَ فيما ظَهَرَ لي ، وَاسْتَرْعَيْتَني وَاسْتَوْدَعْتَني قَلْباً يَشْهَدُ بِعَظَمَتِكَ ، وَلِساناً ناطِقاً بِتَوْحيدِكَ، فَإِنّي لِفَضْلِكَ عَلَيَّ حامِدٌ، وَلِتَوْفيقِكَ إِيَّايَ بِحَمْدِكَ شاكِرٌ ، وَبِحَقِّكَ شاهِدٌ، وَ إِلَيْكَ في مُلِمّي وَمُهِمّي ضارِعٌ ، لِأَنَّكَ حَيٌّ قَبْلَ كُلِّ حَيٍّ ، وَحَيٌّ بَعْدَ كُلِّ مَيِّتٍ ، وَحَيٌّ تَرِثُ الْأَرْضَ وَمَنْ عَلَيْها ، وَأَنْتَ خَيْرُ الْوارِثينَ

أَللَّهُمَّ لاتَقْطَعْ عَنّي خَيْرَكَ في كُلِّ وَقْتٍ ، وَلَمْ تُنْزِلْ بي عُقُوباتِ النِّقَمِ ، وَلَمْ تُغَيِّرْ ما بي مِنَ النِّعَمِ ، وَلا أَخْلَيْتَني مِنْ وَثيقِ الْعِصَمِ ، فَلَوْ لَمْ أَذْكُرْ مِنْ إِحْسانِكَ إِلَيَّ وَ إِنْعامِكَ عَلَيَّ إِلّا عَفْوَكَ عَنّي ، وَالْإِسْتِجابَةَ لِدُعائي ، حينَ رَفَعْتُ رَأْسي بِتَحْميدِكَ وَتَمْجيدِكَ، لا في تَقْديرِكَ جَزيلَ حَظّي حينَ وَفَّرْتَهُ انْتَقَصَ مُلْكُكَ ، وَلا في قِسْمَةِ الْأَرْزاقِ حينَ قَتَّرْتَ عَلَيَّ تَوَفَّرَ مُلْكُكَ.

أَللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ عَدَدَ ما أَحاطَ بِهِ عِلْمُكَ ، وَعَدَدَ ما أَدْرَكَتْهُ قُدْرَتُكَ ، وَعَدَدَ ما وَسِعَتْهُ رَحْمَتُكَ ، وَأَضْعافَ ذلِكَ كُلِّهِ ، حَمْداً واصِلاً مُتَواتِراً مُتَوازِياً لِآلائِكَ وَأَسْمائِكَ.

أَللَّهُمَّ فَتَمِّمْ إِحْسانَكَ إِلَيَّ فيما بَقِيَ مِنْ عُمْري ، كَما أَحْسَنْتَ إِلَيَّ ] مِنْهُ [فيما مَضى ، فَإِنّي أَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ بِتَوْحيدِكَ وَتَهْليلِكَ وَتَمْجيدِكَ وَتَكْبيرِكَ وَتَعْظيمِكَ ، ] وَأَسْأَلُكَ بِاسْمِكَ الَّذي خَلَقْتَهُ مِنْ ذلِكَ فَلايَخْرُجُ مِنْكَ إِلّا إِلَيْكَ[.

وَأَسْأَلُكَ بِاسْمِكَ الرُّوحِ الْمَكْنُونِ الْحَيِّ الْحَيِّ الْحَيِّ وَبِهِ وَبِهِ وَبِهِ ، وَبِكَ وَبِكَ وَبِكَ ، أَلّا تَحْرِمَني رِفْدَكَ ، وَفَوائِدَ كَرامَتِكَ ، وَلاتُوَلِّني غَيْرَكَ ، وَلاتُسْلِمَني إِلى عَدُوّي ، وَلاتَكِلَني إِلى نَفْسي ، وَأَحْسِنْ إِلَيَّ أَتَمَّ الْإِحْسانِ عاجِلاً وَآجِلاً ، وَحَسِّنْ فِي الْعاجِلَةِ عَمَلي ، وَبَلِّغْني فيها أَمَلي وَفِي الْآجِلَةِ ، وَالْخَيْرَ في مُنْقَلَبي ، فَإِنَّهُ لاتُفْقِرُكَ كَثْرَةُ ما يَنْدَفِقُ بِهِ فَضْلُكَ ، وَسَيْبُ الْعَطايا مِنْ مَنِّكَ ، وَلايُنْقِصُ جُودَكَ تَقْصيري في شُكْرِ نِعْمَتِكَ ، وَلاتُجِمُّ خَزائِنَ نِعْمَتِكَ النِّعَمُ ، وَلايُنْقِصُ عَظيمَ مَواهِبِكَ مِنْ سِعَتِكَ الْإِعْطاءُ ، وَلاتُؤَثِّرُ في جُودِكَ الْعَظيمِ الْفاضِلِ الْجَليلِ مِنَحُكَ ، وَلاتَخافُ ضَيْمَ إِمْلاقٍ فَتُكْدِيَ ، وَلايَلْحَقُكَ خَوْفُ عُدْمٍ فَيَنْقُصَ فَيْضُ مُلْكِكَ وَفَضْلِكَ.

أَللَّهُمَّ ارْزُقْني قَلْباً خاشِعاً ، وَيَقيناً صادِقاً ، وَبِالْحَقِّ صادِعاً ، وَلاتُؤْمِنّي مَكْرَكَ ، وَلاتُنْسِني ذِكْرَكَ ، وَلاتَهْتِكَ عَنّي سِتْرَكَ ، وَلاتُوَلِّني غَيْرَكَ ، وَلاتُقَنِّطْني مِنْ رَحْمَتِكَ بَلْ تَغَمَّدْني بِفَوائِدِكَ ، وَلاتَمْنَعْني جَميلَ عَوائِدِكَ ، وَكُنْ لي في كُلِّ وَحْشَةٍ أَنيساً ، وَفي كُلِّ جَزَعٍ حِصْناً ، وَمِنْ كُلِّ هَلَكَةٍ غِياثاً.

وَنَجِّني مِنْ كُلِّ بَلاءٍ ، وَاعْصِمْني مِنْ كُلِّ زَلَلٍ وَخَطاءٍ ، وَتَمِّمْ لي فَوائِدَكَ ، وَقِني وَعيدَكَ ، وَاصْرِفْ عَنّي أَليمَ عَذابِكَ وَتَدْميرَ تَنْكيلِكَ ، وَشَرِّفْني بِحِفْظِ كِتابِكَ ، وَأَصْلِحْ لي ديني وَدُنْيايَ وَآخِرَتي وَأَهْلي وَوَلَدي ، وَوَسِّعْ رِزْقي ، وَأَدِرَّهُ عَلَيَّ ، وَأَقْبِلْ عَلَيَّ ، وَلاتُعْرِضْ عَنّي.

أَللَّهُمَّ ارْفَعْني وَلاتَضَعْني ، وَارْحَمْني وَلاتُعَذِّبْني ، وَانْصُرْني وَلاتَخْذُلْني ، وَآثِرْني وَلاتُؤْثِرْ عَلَيَّ ، وَاجْعَلْ لي مِنْ أَمْري يُسْراً وَفَرَجاً ، وَعَجِّلْ إِجابَتي ، وَاسْتَنْقِذْني مِمَّا قَدْ نَزَلَ بي ، إِنَّكَ عَلى كُلِّ شَيْ‏ءٍ قَديرٌ ، وَذلِكَ عَلَيْكَ يَسيرٌ ، وَأَنْتَ الْجَوادُ الْكَريمُ.( البحار : ۲۵۹/۹۵ ، مهج الدعوات : ۱۶۱ ).

حرز یمانی کا واقعہ

محدّث نوری کتاب دارالسّلام میں نقل کرتے ہیں اور کہتے ہیں معروف دعا حرز یمانی کے پشت پر علامہ شیخ محمد تقی مجلسی کے خط سے اس طرح پایا بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ رب العالمین و الصلواة علی اشرف المرسلین محمد و عترتہ الطاھرین۔ و بعد سید نجیب اور ادیب امیر محمد ہاشم بزرگوار سادات میں سے ہے اس نے مجھے سے درخواست کی کہ میں حرز یمانی کی قرائت کی اجازت اس کو دے دوں یہ حرز حضرت امیرالمومنین کی طرف منسوب ہے کہ جو خاتم الانبیاء کے بعد سے بہترین مخلوق ہیں میں نے اس کو اجازت دے دی میں نے سید بزرگوار امیر اسحاق الہ آبادی سے کہ جو کربلاء میں مدفعن ہیں اس نے ہمارے مولیٰ کہ جو کہ جن و انس کے امام ہیں حضرت صاحب العصر سے روایت کی ہے کہ امیر اسحاق استر آبادی کہتے ہیں کہ مکہ کے راستے میں تھکاوٹ نے مجھے کمزور کردیا اور چلنے سے رہ گیا اور کاروا سے پیچھے رہ گیا اور قافلہ سے پیچھے رہ جانے کی وجہ سے میں اپنی زندگی سے مایوس ہوا اس دنیا سے نامید ہوگیا جسے کوئی مر رہاہے اسی طرح پشت کے بل سویا اور شہادتین پڑھنا شروع کیا اچانک میرے سرہانے پر میرے اور دونوں جہاں کے مولیٰ حضرت صاحب الزمان جلو گر ہوئے اور فرمایا اے اسحاق اٹھو میں اُٹھا تشنگی اور پیاس مجھ پر غالب آگئی تھی انہوں نے مجھے پانی دیا اور اپنے سواری پر مجھے سوار کیا جاتے ہوئے میں نے حرز یمانی پڑھنی شروع کی حضرت میری غلطیوں کے تصحیح کرتے تھے یہاں تک کہ حرز تمام ہوا اچانک میں متوجہ ہوا کہ ابطع (مکہ) کی سرزمین پر ہوں سواری سے نیچے اتر آیا اور آنحضرت کو نہیں دیکھا ہمارا قافلہ نوروز کے بعد مکہ میں وارد ہوا جب انہوں نے مجھے مکہ میں دیکھا تو انہوں نے تعجب کیا اور مکہ والوں کے درمیان مشہور ہوا کہ میں طتی الارض کے ساتھ آیا ہوں اس لئے حج کے مراسم کے بعد ایک مدت تک مخفی زندگی گزارتارہا۔

علامہ محمد تقی مجلسی اپنے کلام کو جاری رکھتے ہوئے فرماتے ہیں کہ یہ چالیس مرتبہ خانہ کعبہ کی زیارت سے مشرف ہوا تھا جب کربلاء سے مولائے دوجہاں حضرت امام علی بن موسیٰ الرضا کی زیارت کا عزم کیا تو اصفہان میں ان کی خدمت میں مشرف ہوا تھا اس کے عیال کا مہر یہ ساتھ تومان اس کے ذمہ میں تھا یہ رقم مشہد مقدس میں اپنے سوا کسی ایک شخص کے پاس تھی سید خواب دیکھتاہے کہ اس کی موت قریب آچکی ہے اس لئے وہ کہتاہے کہ میں پچاس سال سے کربلاء میں حضرت امام حسین کے جوار میں ہوں تا کہ وہاں پر مروں یہ کہ میں ڈرتاہوں کہ میری موت کسی اور جگہ نہ آئے ان میں سے ایک رفیق اس واقعہ سے مطلع ہوا اس رقم کو لیکر سیّد کو دیا میں نے سید کو ہمراہ برادران دینی میں سے ایک کے ساتھ کربلاء بھیجا وہ کہتاہے کہ جب سید کربلاء پہنچا اس نے اپنا قرض ادا کیا اس کے بعد بیمار ہوا اور نویں دن اس دار فانی سے دار باقی کی طرف چلا گیا اور ان کو اپنکے گھر میں دفن کردیا گیا جس زمانے میں سید اصفہان میں رہتے تھے میں نے ان سے بہت زیادہ کرامات دیکھے۔ یہ کہنے والی بات ہے کہ اس دعا کے لئے میرے پاس بہت زیادہ اجازت موجود ہیں لیکن میں اسی اجازت پر اکتفا کرتاہوں میں امید رکھتا ہوں کہ مجھ کو دعائے خیر سے فراموش نہ کریں اور آپ سے خواہش ہے کہ یہ دعا صرف خدا کے لئے پڑھو اور دشمن کے نابودی کے لئے کہ جو مومن ہے اگر فاسق و ظالم ہوں ان کے لئے نہ پرھے اور اس دعا کو بے قدر دنیا کے جمع کرنے کے لئے نہ پڑھے بلکہ سزاوار ہے کہ اس دعا کو قرب الٰہی حاصل کرنے کے لئے اور جن و انس کے شیاطین کے ضرر کو دور کرنے کے لئے پڑھے نیاز مند بروردگار غنی محمد تقی مجلسی اصفہانی۔

یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ اس حکایت کی پہلی قسمت کہ جو حضرت حجت کے ساتھ ملاقات کے بارے میں ہے اس کو علامہ مجلسی نے بحار الانوار کی تیرہویں جلد میں کافی اختلاف کے ساتھ نقل کیا ہے۔

علامہ بزرگوار مجلسی کہتے ہیں جو دعا حرز یمانی کے نام سے معروف ہے یہی دعاء سیفی کے نام سے بھی معروف ہے اس دعا کے لئے متعدد سند اور قسم قسم کے روایت دیکھی ہیں لیکن ان میں سے جو سب سے مہم ہے اس کو یہاں پر بیان کرتاہوں۔

عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن جعفر کہتے ہیں کہ ایک دن امیرالمومنین کی خدمت میں حاضر تھا اتنے میں امام حسن وارد ہوئے اور فرمایا اے امیرالمومنین ایک مرد دروازے پر کھڑا ہے اس سے کستوری کی خوشبو آتی ہے۔ اور وہ اندر آنا چاہتاہے حضرت نے فرمایا اس کو اندر آنے کی اجازت دیں اس وقت ایک تنومند مرد خوش شکل اور خوبصورت بڑی آنکھوں والا اور فصیح زبان بولنے والا ہے۔ اس کے بدن پر بادشاہوں کے لباس تھے داخل ہوا اور کہا السلام علیک یا امیرالمومنین و رحمة اللہ و برکاتہ میں یمن کے دور دراز شہر کا رہنے والا ایک مرد ہوں اشراف میں سے اور عرب کے بزرگان میں سے کہ آپ سے منسوب ہوں میں آپ کے پاس آیا ہوں۔ میں نے اپنے پیچھے ایک عطیم ملک اور بہت زیادہ نعمتیں چھوڑ کر آیا ہوں میری زندگی اچھی گزرتی تھی میرے کاروبار میں ترقی ہوتی تھی زندگی کے انجام کو جانت اھتا اچانک میری کسی سے دشمنی ہوئی اور اس نے مجھ پر ظلم کیا اس کے حامی قبیلہ کی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے وہ مجھ پر غالب آگیا میں نے مہم تدبیر کو اپنایا لیکن اس میں بھی کامیاب نہیں ہوا میں نے کوئی اور چارہ کار نہیں دیکھا میں ان تدابیر سے تھک گیا ایک رات عالم خواب میں ایک شخص کو دیکھا کہ وہ میرے پاس آیا اور مجھ سے کہا ایے مرد اٹھو اور پیغمبر کے بعد سب سے بہترین مخلوق علی کے پاس جاؤ اور اس سے دعا طلب کرو کہ جس دعا کو حبیب خدا محمد نے اس کو یاد کرایا ہے کہ وہ تمہیں یاد کرائے کہ اس دعا میں اسم اعظم ہے اور اس دعا کو اس دشمن کے سامنے پڑھو کہ جو تیرے ساتھ جنگ کرتاہے اے امیرالمومنین میں خواب سے بیدار ہوا میں نے کوئی کام نہیں کیا بلا فاصلہ چار سو غلاموں کو لیکر آپکی طرف آیا ہوں میں خدا پیغمبر اور تجھ کو گواہ قرار دیتاہوں کہ میں نے ان غلاموں کو خدا کی خاطر آزاد کرلیا اب اے امیرالمومنین میں دور دراز اور پر پیچ و خم والے راستے سے بہت زیادہ مسافت طے کرکے آپ کی خدمت میں آیا ہوں میرا بدن لاغر ہوا ہے اور بدن کے اعضاء راستے کی تھکاوٹ اور سفر کی وجہ سے کمزور ہوئے ہیں اے امیرالمومین مجھ پر احسان کریں اور آپکو آپکے باپ اور رشتہ داری کی قسم دیتاہوں کہ آپ اپنے فضل سے جو خواب میں دیکھاہے اور مجھے بتایا گیا ہے کہ میں آپ کے پاس آؤں اس دعا کو مجھے یاد کرادیں حضرت امیرالمومنین علی نے فرمایا کیوں نہیں انشاء اللہ میں اس دعا کو یاد کرادوں گا اس وقت حضرت نے کاغذ اور قلم طلب کیا اور اس دعا کو لکھا۔

حرز یمانی

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمنِ الرَّحيمِ

أَللَّهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ الْحَقُّ الَّذي لا إِلهَ إِلّا أَنْتَ ، وَأَنَا عَبْدُكَ ، ظَلَمْتُ نَفْسي ، وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبي ، وَلايَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلّا أَنْتَ ، فَاغْفِرْ لي يا غَفُورُ يا شَكُورُ.

أَللَّهُمَّ إِنّي أَحْمَدُكَ، وَأَنْتَ لِلْحَمْدِ أَهْلٌ ، عَلى ما خَصَصْتَني بِهِ مِنْ مَواهِبِ الرَّغائِبِ، وَما وَصَلَ إِلَيَّ مِنْ فَضْلِكَ السَّابِغِ، وَما أَوْلَيْتَني بِهِ مِنْ إِحْسانِكَ إِلَيَّ ، وَبَوَّأْتَني بِهِ مِنْ مَظَنَّةِ الْعَدْلِ ، وَأَنَلْتَني مِنْ مَنِّكَ الْواصِلِ إِلَيَّ ، وَمِنَ الدِّفاعِ عَنّي ، وَالتَّوْفيقِ لي ، وَالْإِجابَةِ لِدُعائي حَيْنَ اُناجيكَ داعِياً.

وَأَدْعُوكَ مُضاماً ، وَأَسْأَلُكَ فَأَجِدُكَ فِي الْمَواطِنِ كُلِّها لي جابِراً ، وَفِي الْاُمُورِ ناظِراً ، وَلِذُنُوبي غافِراً ، وَلِعَوْراتي ساتِراً ، لَمْ أَعْدَمْ خَيْرَكَ طَرْفَةَ عَيْنٍ مُنْذُ أَنْزَلْتَني دارَ الْإِخْتِيارِ ، لِتَنْظُرَ ما اُقَدِّمُ لِدارِ الْقَرارِ ، فَأَنَا عَتيقُكَ مِنْ جَميعِ الْآفاتِ وَالْمَصائِبِ ، فِي اللَّوازِبِ وَالْغُمُومِ الَّتي ساوَرَتْني فيهَا الْهُمُومُ ، بِمَعاريضِ أَصْنافِ الْبَلاءِ ، وَمَصْرُوفِ جُهْدِ الْقَضاءِ ، لا أَذْكُرُ مِنْكَ إِلّاَ الْجَميلَ ، وَلا أَرى مِنْكَ غَيْرَ التَّفْضيلِ.

خَيْرُكَ لي شامِلٌ ، وَفَضْلُكَ عَلَيَّ مُتَواتِرٌ ، وَنِعْمَتُكَ عِنْدي مُتَّصِلَةٌ ، وَسَوابِقُ لَمْ تُحَقِّقْ حِذاري ، بَلْ صَدَّقْتَ رَجائي ، وَصاحَبْتَ أَسْفاري ، وَأَكْرَمْتَ أَحْضاري ، وَشَفَيْتَ أَمْراضي وَأَوْهاني ، وَعافَيْتَ مُنْقَلَبي وَمَثْوايَ ، وَلَمْ تُشْمِتْ بي أَعْدائي ، وَرَمَيْتَ مَنْ رَماني ، وَكَفَيْتَني مَؤُونَةَ مَنْ عاداني.

فَحَمْدي لَكَ واصِلٌ ، وَثَنائي عَلَيْكَ دائِمٌ ، مِنَ الدَّهْرِ إِلَى الدَّهْرِ ، بِأَلْوانِ التَّسْبيحِ ، خالِصاً لِذِكْرِكَ ، وَمَرْضِيّاً لَكَ بِناصِعِ التَّوْحيدِ ، وَإِمْحاضِ التَّمْجيدِ بِطُوْلِ التَّعْديدِ ، وَمَزِيَّةِ أَهْلِ الْمَزيدِ ، لَمْ تُعَنْ في قُدْرَتِكَ ، وَلَمْ تُشارَكَ في إِلهِيَّتِكَ ، وَلَمْ تُعْلَمْ لَكَ مائِيَّةً فَتَكُونَ لِلْأَشْياءِ الْمُخْتَلِفَةِ مُجانِساً ، وَلَمْ تُعايَنْ إِذْ حَبَسْتَ الْأَشْياءَ عَلَى الْغَرائِزِ ، وَلا خَرَقَتِ الْأَوْهامُ حُجُبَ الغُيُوبِ ، فَتَعْتَقِدُ فيكَ مَحْدُوداً في عَظَمَتِكَ ، فَلا يَبْلُغُكَ بُعْدُ الْهِمَمِ ، وَلايَنالُكَ غَوْصُ الْفِكَرِ ، وَلايَنْتَهي إِلَيْكَ نَظَرُ ناظِرٍ في مَجْدِ جَبَرُوتِكَ.

اِرْتَفَعَتْ عِنْ صِفَةِ الْمَخْلُوقينَ صِفاتُ قُدْرَتِكَ ، وَعَلا عَنْ ذلِكَ كِبْرِياءُ عَظَمَتِكَ ، لايَنْقُصُ ما أَرَدْتَ أَنْ يَزْدادَ ، وَلايَزْدادُ ما أَرَدْتَ أَنْ يَنْقُصَ ، لا أَحَدَ حَضَرَكَ حينَ بَرَأْتَ النُّفُوسَ ، كَلَّتِ الْأَوْهامُ عَنْ تَفْسيرِ صِفَتِكَ ، وَانْحَسَرَتِ الْعُقُولُ عَنْ كُنْهِ عَظَمَتِكَ ، وَكَيْفَ تُوْصَفُ وَأَنْتَ الْجَبَّارُ الْقُدُّوسُ ، اَلَّذي لَمْ تَزَلْ أَزَلِيّاً دائِماً فِي الْغُيُوبِ وَحْدَكَ لَيْسَ فيها غَيْرُكَ وَلَمْ يَكُنْ لَها سِواكَ.

حارَ في مَلَكُوتِكَ عَميقاتُ مَذاهِبِ التَّفْكيرِ ، فَتَواضَعَتِ الْمُلُوكُ لِهَيْبَتِكَ ، وَعَنَتِ الْوُجُوهُ بِذُلِّ الْإِسْتِكانَةِ لَكَ ، وَانْقادَ كُلُّ شَيْ‏ءٍ لِعَظَمَتِكَ ، وَاسْتَسْلَمَ كُلُّ شَيْ‏ءٍ لِقُدْرَتِكَ ، وَخَضَعَتْ لَكَ الرِّقابُ ، وَ كَلَّ دُونَ ذلِكَ تَحْبيرُ اللُّغاتِ ، وَضَلَّ هُنالِكَ التَّدْبيرُ في تَصاريفِ الصِّفاتِ ، فَمَنْ تَفَكَّرَ في ذلِكَ رَجَعَ طَرْفُهُ إِلَيْهِ حَسيراً ، وَعَقْلُهُ مَبْهُوراً ، وَتَفَكُّرُهُ مُتَحَيِّراً.

أَللَّهُمَّ فَلَكَ الْحَمْدُ مُتَواتِراً مُتَوالِياً مُتَّسِقاً مُسْتَوْثِقاً ، يَدُومُ وَلايَبيدُ غَيْرَ مَفْقُودٍ فِي الْمَلَكُوتِ ، وَلا مَطْمُوسٍ فِي الْمَعالِمِ ، وَلا مُنْتَقِصٍ فِي الْعِرْفانِ ، وَلَكَ الْحَمْدُ ما لاتُحْصى مَكارِمُهُ فِي اللَّيْلِ إِذا أَدْبَرَ ، وَالصُّبْحِ إِذا أَسْفَرَ ، وَفِي الْبَراري وَالْبِحارِ ، وَالْغُدُوِّ وَالْآصالِ ، وَالْعَشِيِّ وَالْإِبْكارِ ، وَفِي الظَّهائِرِ وَالْأَسْحارِ.

أَللَّهُمَّ بِتَوْفيقِكَ قَدْ أَحْضَرْتَنِي الرَّغْبَةَ ، وَجَعَلْتَني مِنْكَ في وِلايَةِ الْعِصْمَةِ لَمْ أَبْرَحْ في سُبُوغِ نَعْمائِكَ ، وَتَتابُعِ آلائِكَ مَحْفُوظاً لَكَ فِي الْمَنْعَةِ وَالدِّفاعِ مَحُوطاً بِكَ في مَثْوايَ وَمُنْقَلَبي ، وَلَمْ تُكَلِّفْني فَوْقَ طاقَتي ، إِذْ لَمْ تَرْضَ مِنّي إِلّا طاعَتي ، وَلَيْسَ شُكْري وَإِنْ أَبْلَغْتُ فِي الْمَقالِ وَبالَغْتُ فِي الْفِعالِ بِبالِغِ أَداءِ حَقِّكَ ، وَلا مُكافِياً لِفَضْلِكَ ، لِأَنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ الَّذي لا إِلهَ إِلّا أَنْتَ ، لَمْ تَغِبْ وَلا تَغيبُ عَنْكَ غائِبَةٌ ، وَلاتَخْفى عَلَيْكَ خافِيَةٌ ، وَلَمْ تَضِلَّ لَكَ في ظُلَمِ الْخَفِيَّاتِ ضالَّةٌ ، إِنَّما أَمْرُكَ إِذا أَرَدْتَ شَيْئاً أَنْ تَقُولَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ.

أَللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ مِثْلَ ما حَمِدْتَ بِهِ نَفْسَكَ ، وَحَمِدَكَ بِهِ الْحامِدُونَ ، وَمَجَّدَكَ بِهِ الْمُمَجِّدُونَ ، وَكَبَّرَكَ بِهِ الْمُكَبِّرُونَ ، وَعَظَّمَكَ بِهِ الْمُعَظِّمُونَ ، حَتَّى يَكُونَ لَكَ مِنّي وَحْدي بِكُلِّ طَرْفَةِ عَيْنٍ ، وَأَقَلَّ مِنْ ذلِكَ مِثْلُ حَمْدِ الْحامِدينَ ، وَتَوْحيدِ أَصْنافِ الْمُخْلِصينَ ، وَتَقْديسِ أَجْناسِ الْعارِفينَ ، وَثَناءِ جَميعِ الْمُهَلِّلينَ ، وَمِثْلُ ما أَنْتَ بِهِ عارِفٌ مِنْ جَميعِ خَلْقِكَ مِنَ الْحَيَوانِ ، وَأَرْغَبُ إِلَيْكَ في رَغْبَةِ ما أَنْطَقْتَني بِهِ مِنْ حَمْدِكَ ، فَما أَيْسَرَ ما كَلَّفْتَني بِهِ مِنْ حَقِّكَ ، وَأَعْظَمَ ما وَعَدْتَني عَلى شُكْرِكَ.

اِبْتَدَأْتَني بِالنِّعَمِ فَضْلاً وَطَوْلاً ، وَأَمَرْتَني بِالشُّكْرِ حَقّاً وَعَدْلاً ، وَوَعَدْتَني عَلَيْهِ أَضْعافاً وَمَزيداً ، وَأَعْطَيْتَني مِنْ رِزْقِكَ اعْتِباراً وَفَضْلاً ، وَسَأَلْتَني مِنْهُ يَسيراً صَغيراً ، وَأَعْفَيْتَني مِنْ جُهْدِ الْبَلاءِ وَلَمْ تُسْلِمْني لِلسُّوءِ مِنْ بَلاءِكَ مَعَ ما أَوْلَيْتَني مِنَ الْعافِيَةِ ، وَسَوَّغْتَ مِنْ كَرائِمِ النَّحْلِ ، وَضاعَفْتَ لِيَ الْفَضْلَ مَعَ ما أَوْدَعْتَني مِنَ الْمَحَجَّةِ الشَّريفَةِ ، وَيَسَّرْتَ لي مِنَ الدَّرَجَةِ الْعالِيَةِ الرَّفيعَةِ ، وَاصْطَفَيْتَني بِأَعْظَمِ النَّبِيّينَ دَعْوَةً ، وَأَفْضَلِهِمْ شَفاعَةً ، مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ.

أَللَّهُمَّ فَاغْفِرْ لي ما لايَسَعُهُ إِلّا مَغْفِرَتُكَ ، وَلا يَمْحَقُهُ إِلّا عَفْوُكَ ، وَلا يُكَفِّرُهُ إِلّا فَضْلُكَ ، وَهَبْ لي في يَوْمي يَقيناً تُهَوِّنُ عَلَيَّ بِهِ مُصيباتِ الدُّنْيا وَأَحْزانَها بِشَوْقٍ إِلَيْكَ ، وَرَغْبَةٍ فيما عِنْدَكَ ، وَاكْتُبْ لي عِنْدَكَ الْمَغْفِرَةَ ، وَبَلِّغْنِي الْكَرامَةَ ، وَارْزُقْني شُكْرَ ما أَنْعَمْتَ بِهِ عَلَيَّ ، فَإِنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ الْواحِدُ الرَّفيعُ الْبَدي‏ءُ الْبَديعُ السَّميعُ الْعَليمُ ، اَلَّذي لَيْسَ لِأَمْرِكَ مَدْفَعٌ ، وَلا عَنْ قَضائِكَ مُمْتَنِعٌ ، أَشْهَدُ أَنَّكَ رَبّي وَرَبُّ كُلِّ شَيْ‏ءٍ ، فاطِرُ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ ، عالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهادَةِ ، اَلْعَلِيُّ الْكَبيرُ.

أَللَّهُمَّ إِنّي أَسْأَلُكَ الثَّباتَ فِي الْأَمْرِ ، وَالْعَزيمَةَ عَلَى الرُّشْدِ ، وَالشُّكْرَ عَلى نِعْمَتِكَ ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ جَوْرِ كُلِّ جائِرٍ ، وَبَغْيِ كُلِّ باغٍ ، وَحَسَدِ كُلِّ حاسِدٍ ، بِكَ أَصُولُ عَلَى الْأَعْداءِ ، وَبِكَ أَرْجُو وِلايَةَ الْأَحِبَّاءِ مَعَ ما لا أَسْتَطيعُ إِحْصاءَهُ ، وَلاتَعْديدَهُ مِنْ عَوائِدِ فَضْلِكَ ، وَطُرَفِ رِزْقِكَ ، وَأَلْوانِ ما أَوْلَيْتَ مِنْ إِرْفادِكَ ، فَإِنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ الَّذي لا إِلهَ إِلّا أَنْتَ ، اَلْفاشي فِي الْخَلْقِ رِفْدُكَ ، اَلْباسِطُ بِالْجُودِ يَدُكَ ، وَلاتُضادُّ في حُكْمِكَ ، وَلاتُنازَعُ في أَمْرِكَ ، تَمْلِكُ مِنَ الْأَنامِ ما تَشاءُ ، وَلايَمْلِكُونَ إِلّا ما تُريدُ.

«قُلِ اللَّهُمَّ مالِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشاءُ ، وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشاءُ ، وَتُعِزُّ مَنْ تَشاءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشاءُ بِيَدِكَ الْخَيْرُ إِنَّكَ عَلى كُلِّ شَيْ‏ءٍ قَديرٌ × تُولِجُ اللَّيْلَ فِي النَّهارِ وَتُولِجُ النَّهارَ فِي اللَّيْلِ وَتُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَتُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ وَتَرْزُقُ مَنْ تَشاءُ بِغَيْرِ حِسابٍ »

أَنْتَ الْمُنْعِمُ الْمُفْضِلُ الْخالِقُ الْبارِئُ الْقادِرُ الْقاهِرُ الْمُقَدَّسُ في نُورِ الْقُدْسِ ، تَرَدَّيْتَ بِالْمَجْدِ وَالْعِزِّ ، وَتَعَظَّمْتَ بِالْكِبْرِياءِ ، وَتَغَشَّيْتَ بِالنُّورِ وَالْبَهاءِ ، وَتَجَلَّلْتَ بِالْمَهابَةِ وَالسَّناءِ ، لَكَ الْمَنُّ الْقَديمُ ، وَالسُّلْطانُ الشَّامِخُ ، وَالْجُودُ الْواسِعُ ، وَالْقُدْرَةُ الْمُقْتَدِرَةُ ، جَعَلْتَني مِنْ أَفْضَلِ بَني آدَمَ ، وَجَعَلْتَني سَميعاً بَصيراً ، صَحيحاً سَوِيّاً مُعافاً ، لَمْ تَشْغَلْني بِنُقْصانٍ في بَدَني ، وَلَمْ تَمْنَعْكَ كَرامَتُكَ إِيَّايَ ، وَحُسْنُ صَنيعِكَ عِنْدي ، وَفَضْلُ إِنْعامِكَ عَلَيَّ ، أَنْ وَسَّعْتَ عَلَيَّ فِي الدُّنْيا ، وَفَضَّلْتَني عَلى كَثيرٍ مِنْ أَهْلِها ، فَجَعَلْتَ لي سَمْعاً يَسْمَعُ آياتِكَ ، وَفُؤاداً يَعْرِفُ عَظَمَتِكَ ، وَأَنَا بِفَضْلِكَ حامِدٌ ، وَبِجُهْدِ يَقيني لَكَ شاكِرٌ ، وَبِحَقِّكَ شاهِدٌ.

فَإِنَّكَ حَيٌّ قَبْلَ كُلِّ حَيٍّ ، وَحَيٌّ بَعْدَ كُلِّ حَيٍّ ، وَحَيٌّ لَمْ تَرِثِ الْحَياةَ مِنْ حَيٍّ ، وَلَمْ تَقْطَعْ خَيْرَكَ عَنّي طَرْفَةَ عَيْنٍ في كُلِّ وَقْتٍ ، وَلَمْ تُنْزِلْ بي عُقُوباتِ النِّقَمِ ، وَلَمْ تُغَيِّرْ عَلَيَّ دَقائِقَ الْعِصَمِ ، فَلَوْ لَمْ أَذْكُرْ مِنْ إِحْسانِكَ إِلّا عَفْوَكَ ، وَ إِجابَةَ دُعائي حينَ رَفَعْتُ رَأْسي بِتَحْميدِكَ وَتَمْجيدِكَ ، وَفي قِسْمَةِ الْأَرْزاقِ حينَ قَدَّرْتَ ، فَلَكَ الْحَمْدُ عَدَدَ ما حَفَظَهُ عِلْمُكَ ، وَعَدَدَ ما أَحاطَتْ بِهِ قُدْرَتُكَ ، وَعَدَدَ ما وَسِعَتْهُ رَحْمَتُكَ.

أَللَّهُمَّ فَتَمِّمْ إِحْسانَكَ فيما بَقِيَ ، كَما أَحْسَنْتَ فيما مَضى ، فَإِنّي أَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ بِتَوْحيدِكَ وَتَمْجيدِكَ ، وَتَحْميدِكَ وَتَهْليلِكَ ، وَتَكْبيرِكَ وَتَعْظيمِكَ ، وَبِنُورِكَ وَرَأْفَتِكَ ، وَرَحْمَتِكَ وَعُلُوِّكَ ، وَجَمالِكَ وَجَلالِكَ ، وَبَهائِكَ وَسُلْطانِكَ ، وَقُدْرَتِكَ وَبِمُحَمَّدٍ وَآلِهِ الطَّاهِرينَ ، أَلّا تَحْرِمَني رِفْدَكَ وَفَوائِدَكَ.

فَإِنَّهُ لايَعْتَريكَ لِكَثْرَةِ ما يَتَدَفَّقُ بِهِ عَوائِقُ الْبُخْلِ ، وَلايَنْقُصُ جُودَكَ تَقْصيرٌ في شُكْرِ نِعْمَتِكَ ، وَلاتُفْني خَزائِنَ مَواهِبِكَ النِّعَمُ ، وَلاتَخافُ ضَيْمَ إِمْلاقٍ فَتُكْدِيَ وَلايَلْحَقُكَ خَوْفُ عُدْمٍ فَيَنْقُصَ فَيْضُ فَضْلِكَ.

أَللَّهُمَّ ارْزُقْني قَلْباً خاشِعاً ، وَيَقيناً صادِقاً ، وَلِساناً ذاكِراً ، وَلاتُؤْمِنّي مَكْرَكَ ، وَلاتَكْشِفْ عَنّي سِتْرَكَ ، وَلاتُنْسِني ذِكْرَكَ ، وَلاتُباعِدْني مِنْ جَوارِكَ ، وَلاتَقْطَعْني مِنْ رَحْمَتِكَ ، وَلاتُؤْيِسْني مِنْ رَوْحِكَ ، وَكُنْ لي أَنيساً مِنْ كُلِّ وَحْشَةٍ ، وَاعْصِمْني مِنْ كُلِّ هَلَكَةٍ ، وَنَجِّني مِنْ كُلِّ بَلاءٍ ، فَإِنَّكَ لاتُخْلِفُ الْميعادَ.

أَللَّهُمَّ ارْفَعْني وَلاتَضَعْني، وَزِدْني وَلاتَنْقُصْني، وَارْحَمْني وَلاتُعَذِّبْني، وَانْصُرْني وَلاتَخْذُلْني ، وَآثِرْني وَلاتُؤْثِرْ عَلَيَّ ، وَصَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ الطَّيِّبينَ الطَّاهِرينَ ، وَسَلَّمَ تَسْليماً كَثيراً.

ابن عباس کہتاہے: حضرت نے یہ دعا یمنی مرد کو دی اور فرمایا اس دعا کی اچھی طرح حفاظت کرلو ہر روز ایک دفعہ پڑھ لو مجھے امید ہے کہ آپ کے اپنے شہر پہنچنے سے پہلے اللہ تعالیٰ تمہارے دشمن کو ہلاک کرے گا چونکہ میں نے سنا ہے کہ جو بھی اس دعا کو صحیح نیت اور متواضع دل کے ساتھ پڑھ لے اس وقت پہاڑوں کو حکم دیا جائے کہ حرکت کریں تو حرکت کرنے لگیں گے اگر کہین سفر کرنے کا ارادہ کروگے اس دعا کی برکت سے خطراف سے محفوظ ہو کر سلامتی کے ساتھ اپنے سفر کو ختم کروگے یمنی مرد اپنے شہر کی طرف روانہ ہوا چالیس دن گزرنے کے بعد حضرت کی خدمت میں اس یمنی شخص کا خط پہنچا کہ خدا نے اس کے دشمن کو ہلاک کیا ہے اور اس کے دشمن یہاں پر ایک بھی نہیں بچا ہے۔

حضرت امیرالمومنین نے فرمایا:

میں جانتا تھا کہ ایسا ہی ہوگا اس دعا کو رسول خدا نے مجھے تعلیم دی تھی کوئی سختی اور دشواری میرے لئے پیش نہیں اتی مگر یہ کہ میں اس دعا کو پڑھا اور وہ سختی اور دشواری میرے لیئے آسان ہوگئی۔

۔ دعائے حریق

أَللَّهُمَّ إِنّي أَصْبَحْتُ اُشْهِدُكَ وَكَفى بِكَ شَهِيداً ، وَاُشْهِدُ مَلائِكَتَكَ وَحَمَلَةَ عَرْشِكَ وَسُكَّانَ سَبْعِ سَماواتِكَ وَأَرَضيكَ وَأَنْبِياءَكَ وَرُسُلَكَ وَوَرَثَةَ أَنْبِياءِكَ وَرُسُلِكَ وَالصَّالِحينَ مِنْ عِبادِكَ وَجَميعَ خَلْقِكَ ، فَاشْهَدْ لي وَكَفى بِكَ شَهيداً ، أَنّي أَشْهَدُ أَنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ لا إِلهَ إِلّا أَنْتَ الْمَعْبُودُ وَحْدَكَ لا شَريكَ لَكَ ، وَأَنَّ مُحَمَّداً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ ، وَأَنَّ كُلَّ مَعْبُودٍ مِمَّا دُونَ عَرْشِكَ إِلى قَرارِ أَرْضِكَ السَّابِعَةِ السُّفْلى باطِلٌ مُضْمَحِلٌّ ما خَلا وَجْهَكَ الْكَريمَ ، فَإِنَّهُ أَعَزُّ وَأَكْرَمُ وَأَجَلُّ وَأَعْظَمُ مِنْ أَنْ يَصِفَ الْواصِفُونَ كُنْهَ جَلالِهِ أَوْ تَهْتَدِيَ الْقُلُوبُ إِلى كُنْهِ عَظَمَتِهِ ، يا مَنْ فاقَ مَدْحَ الْمادِحينَ فَخْرُ مَدْحِهِ ، وَعَدا وَصْفَ الْواصِفينَ مَآثِرُ حَمْدِهِ ، وَجَلَّ عَنْ مَقالَةِ النَّاطِقينَ تَعْظيمُ شَأْنِهِ ، صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ، وَافْعَلْ بِنا ما أَنْتَ أَهْلُهُ ، يا أَهْلَ التَّقْوى وَأَهْلَ الْمَغْفِرَةِ ثلاثاً.

ثمّ تقول إحدى عشرة مرةّ :

لا إِلهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لا شَريكَ لَهُ ، سُبْحانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ ، أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ ، ما شاءَ اللَّهُ وَلا قُوَّةَ إِلّا بِاللَّهِ ، هُوَ الْأَوَّلُ وَالْآخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْباطِنُ ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ ، يُحْيي وَيُميتُ ، وَيُميتُ وَيُحْيي ، وَهُوَ حَيٌّ لايَمُوتُ ، بِيَدِهِ الْخَيْرُ ، وَهُوَ عَلى كُلِّ شَيْ‏ءٍ قَديرٌ.

ثمّ تقول إحدى عشرة مرّة :

سُبْحانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ للَّهِِ وَلا إِلهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ ، أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ ، ما شاءَ اللَّهُ لا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ إِلّا بِاللَّهِ الْحَليمِ الْكَريمِ الْعَلِيِّ الْعَظيمِ الرَّحْمنِ الرَّحيمِ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ الْحَقِّ الْمُبينِ ، عَدَدَ خَلْقِهِ وَزِنَةَ عَرْشِهِ وَمِلْأَ سَماواتِهِ وَأَرَضيهِ ، وَعَدَدَ ما جَرى بِهِ قَلَمُهُ وَأَحْصاهُ كِتابُهُ وَمِدادُ كَلِماتِهِ وَرِضا نَفْسِهِ.

ثمّ قل :

أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَأَهْلِ بَيْتِ مُحَمَّدٍ الْمُبارَكينَ ، وَصَلِّ عَلى جَبْرَئيلَ وَميكائيلَ وَإِسْرافيلَ ، وَحَمَلَةِ عَرْشِكَ أَجْمَعينَ ، وَالْمَلائِكَةِ الْمُقَرَّبينَ أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِمْ حَتَّى تُبَلِّغَهُمُ الرِّضا ، وَتَزيدَهُمْ بَعْدَ الرِّضا مِمَّا أَنْتَ أَهْلُهُ ، يا أَرْحَمَ الرَّاحِمينَ.

أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ، وَصَلِّ عَلى مَلَكِ الْمَوْتِ وَأَعْوانِهِ ، وَصَلِّ عَلى رِضْوانَ وَخَزَنَةِ الْجِنانِ ، وَصَلِّ عَلى مالِكٍ وَخَزَنَةِ النّيرانِ أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِمْ حَتَّى تُبَلِّغَهُمُ الرِّضا ، وَتَزيدَهُمْ بَعْدَ الرِّضا مِمَّا أَنْتَ أَهْلُهُ ، يا أَرْحَمَ الرَّاحِمينَ.

أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى الْكِرامِ الْكاتِبينَ ، وَالسَّفَرَةِ الْكِرامِ الْبَرَرَةِ ، وَالْحَفَظَةِ لِبَني آدَمَ ، وَصَلِّ عَلى مَلائِكَةِ الْهَواءِ وَالسَّماواتِ الْعُلى ، وَمَلائِكَةِ الْأَرَضينَ السُّفْلى ، وَمَلائِكَةِ اللَّيْلِ وَالنَّهارِ ، وَالْأَرْضِ وَالْأَقْطارِ ، وَالْبِحارِ وَالْأَنْهارِ ، وَالْبَراري وَالْفَلَواتِ وَالْقِفارِ ، وَصَلِّ عَلى مَلائِكَتِكَ الَّذينَ أَغْنَيْتَهُمْ عَنِ الطَّعامِ وَالشَّرابِ بِتَسْبيحِكَ وَتَقْديسِكَ وَعِبادَتِكَ أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِمْ حَتَّى تُبَلِّغَهُمُ الرِّضا ، وَتَزيدَهُمْ بَعْدَ الرِّضا مِمَّا أَنْتَ أَهْلُهُ يا أَرْحَمَ الرَّاحِمينَ.

أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ، وَصَلِّ عَلى أَبينا آدَمَ ، وَاُمِّنا حَوَّاءَ وَما وَلَدا مِنَ النَّبيّينَ وَالصِّدّيقينَ وَالشُّهَداءِ وَالصَّالِحينَ أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِمْ حَتَّى تُبَلِّغَهُمُ الرِّضا ، وَتَزيدَهُمْ بَعْدَ الرِّضا مِمَّا أَنْتَ أَهْلُهُ ، يا أَرْحَمَ الرَّاحِمينَ.

أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَأَهْلِ بَيْتِهِ الطَّيِّبينَ ، وَعَلى أَصْحابِهِ الْمُنْتَجَبينَ ، وَعَلى أَزْواجِهِ الْمُطَهَّراتِ ، وَعَلى ذُرِّيَّةِ مُحَمَّدٍ ، وَعَلى كُلِّ نَبِيٍّ بَشَّرَ بِمُحَمَّدٍ ، وَعَلى كُلِّ نَبِيٍّ وَلَدَ مُحَمَّداً ، وَعَلى كُلِّ مَنْ في صَلَواتِكَ عَلَيْهِ رِضىً لَكَ وَرِضىً لِنَبِيِّكَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِمْ حَتَّى تُبَلِّغَهُمُ الرِّضا ، وَتَزيدَهُمْ بَعْدَ الرِّضا مِمَّا أَنْتَ أَهْلُهُ ، يا أَرْحَمَ الرَّاحِمينَ.

أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ، وَبارِكْ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ، وَارْحَمْ مُحَمَّداً وَآلِ مُحَمَّدٍ ، كَأَفْضَلِ ما صَلَّيْتَ وَبارَكْتَ وَتَرَحَّمْتَ عَلى إِبْراهيمَ وَآلِ إِبْراهيمَ ، إِنَّكَ حَميدٌ مَجيدٌ.

أَللَّهُمَّ أَعْطِ مُحَمَّداً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ الْوَسيلَةَ وَالْفَضْلَ ، وَالْفَضيلَةَ وَالدَّرَجَةَ الرَّفيعَةَ ، وَأَعْطِهِ حَتَّى يَرْضى ، وَزِدْهُ بَعْدَ الرِّضا مِمَّا أَنْتَ أَهْلُهُ ، يا أَرْحَمَ الرَّاحِمينَ.

أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ، كَما أَمَرْتَنا أَنْ نُصَلِّيَ عَلَيْهِ أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ، كَما يَنْبَغي لَنا أَنْ نُصَلِّيَ عَلَيْهِ أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ بِعَدَدِ مَنْ صَلَّى عَلَيْهِ.

أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ بِعَدَدِ مَنْ لَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ بِعَدَدِ كُلِّ حَرْفٍ في صَلوةٍ صُلِّيَتْ عَلَيْهِ أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ بِعَدَدِ مَنْ صَلَّى عَلَيْهِ وَمَنْ لَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ

أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ بِعَدَدِ كُلِّ شَعْرَةٍ وَلَفْظَةٍ وَلَحْظَةٍ وَنَفَسٍ وَصِفَةٍ وَسُكُونٍ وَحَرَكَةٍ مِمَّنْ صَلَّى عَلَيْهِ ، وَمِمَّنْ لَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ ، وَبِعَدَدِ ساعاتِهِمْ وَدَقائِقِهِمْ ، وَسُكُونِهِمْ وَحَرَكاتِهِمْ ، وَحَقائِقِهِمْ وَميقاتِهِمْ ، وَصِفاتِهِمْ وَأَيَّامِهِمْ ، وَشُهُورِهِمْ وَسِنيهِمْ ، وَأَشْعارِهِمْ وَأَبْشارِهِمْ ، وَبِعَدَدِ زِنَةِ ذَرِّ ما عَمِلُوا ، أَوْ يَعْمَلُونَ أَوْ بَلَغَهُمْ أَوْ رَأَوْا أَوْ ظَنُّوا أَوْ فَطِنُوا ، أَوْ كانَ مِنْهُمْ ، أَوْ يَكُونُ إِلى يَوْمِ الْقِيامَةِ ، وَكَأَضْعافِ ذلِكَ أَضْعافاً مُضاعَفَةً إِلى يَوْمِ الْقِيامَةِ ، يا أَرْحَمَ الرَّاحِمينَ.

أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ بِعَدَدِ ما خَلَقْتَ ، وَما أَنْتَ خالِقُهُ إِلى يَوْمِ الْقِيامَةِ ، صَلوةً تُرْضيهِ

أَللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ وَالثَّناءُ وَالشُّكْرُ ، وَالْمَنُّ وَالْفَضْلُ ، وَالطَّوْلُ وَالْخَيْرُ ، وَالْحُسْنى وَالنِّعْمَةُ ، وَالْعَظَمَةُ وَالْجَبَرُوتُ ، وَالْمُلْكُ وَالْمَلَكُوتُ ، وَالْقَهْرُ وَالسُّلْطانُ ، وَالْفَخْرُ وَالسُّؤْدَدُ ، وَالْإِمْتِنانُ وَالْكَرَمُ ، وَالْجَلالُ وَالْإِكْرامُ ، وَالْجَمالُ وَالْكَمالُ ، وَالْخَيْرُ وَالتَّوْحيدُ وَالتَّمْجيدُ ، وَالتَّحْميدُ وَالتَّهْليلُ وَالتَّكْبيرُ وَالتَّقْديسُ ، وَالرَّحْمَةُ وَالْمَغْفِرَةُ ، وَالْكِبْرِياءُ وَالْعَظَمَةُ

وَلَكَ ما زَكى وَطابَ وَطَهُرَ مِنَ الثَّناءِ الطَّيِّبِ ، وَالْمَديحِ الْفاخِرِ ، وَالْقَوْلِ الْحَسَنِ الْجَميلِ الَّذي تَرْضى بِهِ عَنْ قائِلِهِ ، وَتُرْضِيَ بِهِ قائِلَهُ وَهُوَ رِضىً لَكَ يَتَّصِلُ حَمْدي بِحَمْدِ أَوَّلِ الْحامِدينَ ، وَثَنائي بِثَناءِ أَوَّلِ الْمُثْنينَ عَلى رَبِّ الْعالَمينَ مُتَّصِلاً ذلِكَ بِذلِكَ ، وَتَهْليلي بِتَهْليلِ أَوَّلِ الْمُهَلِّلينَ ، وَتَكْبيري بِتَكْبيرِ أَوَّلِ الْمُكَبِّرينَ ، وَقَوْلِيَ الْحَسَنُ الْجَميلُ بِقَوْلِ أَوَّلِ الْقائِلينَ الْمُجْمِلينَ الْمُثْنينَ عَلى رَبِّ الْعالَمينَ ، مُتَّصِلاً ذلِكَ بِذلِكَ ، مِنْ أَوَّلِ الدَّهْرِ إِلى آخِرِهِ

وَبِعَدَدِ زِنَةِ ذَرِّ السَّماواتِ وَالْأَرَضينَ ، وَالرِّمالِ وَالتِّلالِ وَالْجِبالِ ، وَعَدَدِ جُرَعِ ماءِ الْبِحارِ، وَعَدَدِ قَطْرِ الْأَمْطارِ ، وَوَرَقِ الْأَشْجارِ ، وَعَدَدِ النُّجُومِ ، وَعَدَدِ الثَّرى وَالْحَصى وَالنَّوى وَالْمَدَرِ ، وَعَدَدِ زِنَةِ ذلِكَ كُلِّهِ ، وَعَدَدِ زِنَةِ ذَرِّ السَّماواتِ وَالْأَرَضينَ ، وَما فيهِنَّ وَما بَيْنَهُنَّ وَما تَحْتَهُنَّ ، وَما بَيْنَ ذلِكَ وَما فَوْقَهُنَّ إِلى يَوْمِ الْقِيامَةِ ، مِنْ لَدُنِ الْعَرْشِ إِلى قَرارِ أَرْضِكَ السَّابِعَةِ السُّفْلى

وَبِعَدَدِ حُرُوفِ أَلْفاظِ أَهْلِهِنِّ ، وَعَدَدِ أَزْمانِهِمْ وَدَقائِقِهِمْ وَشَعائِرِهِمْ وَساعاتِهِمْ وَأَيَّامِهِمْ ، وَشُهُورِهِمْ وَسِنيهِمْ ، وَسُكُونِهِمْ وَحَرَكاتِهِمْ ، وَأَشْعارِهِمْ وَأَبْشارِهِمْ

وَعَدَدِ زِنَةِ ذَرِّ ما عَمِلُوا أَوْ يَعْمَلُونَ أَوْ بَلَغَهُمْ أَوْ رَأَوْا أَوْ ظَنُّوا أَو فَطِنُوا أَوْ كانَ مِنْهُمْ أَوْ يَكُونُ إِلى يَوْمِ الْقِيامَةِ ، وَعَدَدِ زِنَةِ ذَرِّ ذلِكَ وَأَضْعافِ ذلِكَ ، وَكَأَضْعافِ ذلِكَ أَضْعافاً مُضاعَفَةً لايَعْلَمُها وَلايُحْصيها غَيْرُكَ يا ذَا الْجَلالِ وَالْإِكْرامِ ، وَأَهْلُ ذلِكَ أَنْتَ ، وَمُسْتَحِقُّهُ وَمُسْتَوْجِبُهُ مِنّي وَمِنْ جَميعِ خَلْقِكَ يا بَديعَ السَّمواتِ وَالْأَرْضِ

أَللَّهُمَّ إِنَّكَ لَسْتَ بِرَبٍّ اسْتَحْدَثْناكَ ، وَلا مَعَكَ إِلهٌ فَيَشْرَكَكَ في رُبُوبِيَّتِكَ ، وَلا مَعَكَ إِلهٌ أَعانَكَ عَلى خَلْقِنا ، أَنْتَ رَبُّنا كَما تَقُولُ وَفَوْقَ ما يَقُولُ الْقائِلُونَ ، أَسْأَلُكَ أَنْ تُصَلِّيَ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ، وَأَنْ تُعْطِيَ مُحَمَّداً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ أَفْضَلَ ما سَأَلَكَ ، وَأَفْضَلَ ما سُئِلْتَ ، وَأَفْضَلَ ما أَنْتَ مَسْؤُولٌ لَهُ إِلى يَوْمِ الْقِيامَةِ

اُعيذُ أَهْلَ بَيْتِ النَّبِيِّ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَنَفْسي وَديني وَذُرِّيَّتي وَمالي وَوَلَدي وَأَهْلي وَقَراباتي وَأَهْلَ بَيْتي وَكُلَّ ذي رَحِمٍ لي دَخَلَ فِي الْإِسْلامِ ، أَوْ يَدْخُلُ إِلى يَوْمِ الْقِيامَةِ ، وَحُزانَتي وَخاصَّتي ، وَمَنْ قَلَّدَني دُعاءً أَوْ أَسْدى إِلَيَّ يَداً ، أَوْ رَدَّ عَنّي غَيْبَةً ، أَوْ قالَ فِيَّ خَيْراً ، أَوِ اتَّخَذْتُ عِنْدَهُ يَداً أَوْ صَنيعَةً ، وَجيراني وَ إِخْواني مِنَ الْمُؤْمِنينَ وَالْمُؤْمِناتِ بِاللَّهِ وَبِأَسْمائِهِ التَّامَّةِ الْعامَّةِ الشَّامِلَةِ الْكامِلَةِ الطَّاهِرَةِ الْفاضِلَةِ الْمُبارَكَةِ الْمُتَعالِيَةِ الزَّاكِيَةِ الشَّريفَةِ الْمَنيعَةِ الْكَريمَةِ الْعَظيمَةِ الْمَخْزُونَةِ الْمَكْنُونَةِ الَّتي لايُجاوِزُهُنَّ بَرٌّ وَلا فاجِرٌ ، وَبِاُمِّ الْكِتابِ وَخاتِمَتِهِ ، وَما بَيْنَهُما مِنْ سُورَةٍ شَريفَةٍ ، وَآيَةٍ مُحْكَمَةٍ ، وَشِفاءٍ وَرَحْمَةٍ ، وَعَوْذَةٍ وَبَرَكَةٍ ، وَبِالتَّوْريةِ وَالْإِنْجيلِ وَالزَّبُورِ وَالْفُرْقانِ وَصُحُفِ إِبْراهيمَ وَمُوسى ، وَبِكُلِّ كِتابٍ أَنْزَلَهُ اللَّهُ ، وَبِكُلِّ رَسُولٍ أَرْسَلَهُ اللَّهُ ، وَبِكُلِّ حُجَّةٍ أَقامَهَا اللَّهُ ، وَبِكُلِّ بُرْهانٍ أَظْهَرَهُ اللَّهُ ، وَبِكُلِّ نُورٍ أَنارَهُ اللَّهُ ، وَبِكُلِّ آلاءِ اللَّهِ وَعَظَمَتِهِ

اُعيذُ وَأَسْتَعيذُ مِنْ شَرِّ كُلِّ ذِي شَرٍّ ، وَمِنْ شَرِّ ما أَخافُ وَأَحْذَرُ ، وَمِنْ شَرِّ ما رَبّي مِنْهُ أَكْبَرُ ، وَمِنْ شَرِّ فَسَقَةِ الْعَرَبِ وَالْعَجَمِ ، وَمِنْ شَرِّ فَسَقَةِ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ ، وَالشَّياطينِ وَالسَّلاطينِ ، وَإِبْليسَ وَجُنُودِهِ وَأَشْياعِهِ وَأَتْباعِهِ ، وَمِنْ شَرِّ ما فِي النُّورِ وَالظُّلْمَةِ ، وَمِنْ شَرِّ ما دَهَمَ أَوْ هَجَمَ أَوْ أَلَمَّ ، وَمِنْ شَرِّ كُلِّ غَمٍّ وَهَمٍّ وَآفَةٍ وَنَدَمٍ وَنازِلَةٍ وَسَقَمٍ

وَمِنْ شَرِّ ما يَحْدُثُ فِي اللَّيْلِ وَالنَّهارِ وَتَأْتي بِهِ الْأَقْدارُ ، وَمِنْ شَرِّ ما فِي النَّارِ ، وَمِنْ شَرِّ ما فِي الْأَرَضينَ وَالْأَقْطارِ وَالْفَلَواتِ وَالْقِفارِ وَالْبِحارِ وَالْأَنْهارِ ، وَمِنْ شَرِّ الْفُسَّاقِ وَالْفُجَّارِ وَالْكُهَّانِ وَالسُّحَّارِ وَالْحُسَّادِ وَالذُّعَّارِ وَالْأَشْرارِ ، وَمِنْ شَرِّ ما يَلِجُ فِي الْأَرْضِ ، وَما يَخْرُجُ مِنْها ، وَما يَنْزِلُ مِنَ السَّماءِ ، وَما يَعْرُجُ إِلَيْها ، وَمِنْ شَرِّ كُلِّ ذي شَرٍّ ، وَمِنْ شَرِّ كُلِّ دابَّةٍ رَبّي آخِذٌ بِناصِيَتِها ، إِنَّ رَبّي عَلى صِراطٍ مُسْتَقيمٍ ، فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ حَسْبِيَ اللَّهُ ، لا إِلهَ إِلّا هُوَ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ ، وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظيمِ

وَأَعُوذُ بِكَ اللَّهُمَّ مِنَ الْهَمِّ وَالْغَمِّ وَالْحُزْنِ ، وَالْعَجْزِ وَالْكَسَلِ ، وَالْجُبْنِ وَالْبُخْلِ ، وَمِنْ ضَلَعِ الدَّيْنِ وَغَلَبَةِ الرِّجالِ ، وَمِنْ عَمَلٍ لايَنْفَعُ ، وَمِنْ عَيْنٍ لاتَدْمَعُ ، وَمِنْ قَلْبٍ لايَخْشَعُ ، وَمِنْ دُعاءٍ لايُسْمَعُ ، وَمِنْ نَصيحَةٍ لاتَنْجَعُ ، وَمِنْ صَحابَةٍ لاتَرْدَعُ ، وَمِنْ إِجْماعٍ عَلى نُكْرٍ وَتَوَدُّدٍ عَلى خُسْرٍ أَوْ تَؤاخُذٍ عَلى خُبْثٍ ، وَمِمَّا اسْتَعاذَ مِنْهُ مَلائِكَتُكَ الْمُقَرَّبُونَ وَالْأَنْبِياءُ الْمُرْسَلُونَ ، وَالْأَئِمَّةُ الْمُطَهَّرُونَ ، وَالشُّهَداءُ وَالصَّالِحُونَ ، وَعِبادُكَ الْمُتَّقُونَ

وَأَسْأَلُكَ اللَّهُمَّ أَنْ تُصَلِّيَ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ، وَأَنْ تُعْطِيَني مِنَ الْخَيْرِ ما سَأَلُوا ، وَأَنْ تُعيذَني مِنْ شَرِّ مَا اسْتَعاذُوا ، وَأَسْأَلُكَ اللَّهُمَّ مِنَ الْخَيْرِ كُلِّهِ عاجِلِهِ وآجِلِهِ ما عَلِمْتُ مِنْهُ وَما لَمْ أَعْلَمْ ، وَأَعُوذُ بِكَ رَبِّ مِنْ هَمَزاتِ الشَّياطينِ ، وَأَعُوذُ بِكَ رَبِّ أَنْ يَحْضُرُونِ

بِسْمِ اللَّهِ عَلى أَهْلِ بَيْتِ النَّبِيِّ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ ، بِسْمِ اللَّهِ عَلى نَفْسي وَديني ، بِسْمِ اللَّهِ عَلى أَهْلي وَمالي ، بِسْمِ اللَّهِ عَلى كُلِّ شَيْ‏ءٍ أَعْطاني رَبّي ، بِسْمِ اللَّهِ عَلى أَحِبَّتي وَوَلَدي وَقَراباتي ، بِسْمِ اللَّهِ عَلى جيراني وَ إِخْواني ، وَمَنْ قَلَّدَني دُعاءً ، أَوِ اتَّخَذَ عِنْدي يَداً ، أَوِ ابْتَدَءَ إِلَيَّ بِرّاً مِنَ الْمُؤْمِنينَ وَالْمُؤْمِناتِ ، بِسْمِ اللَّهِ عَلى ما رَزَقَني رَبّي وَيَرْزُقُني ، بِسْمِ اللَّهِ الَّذي لايَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْ‏ءٌ فِي الْأَرْضِ وَلا فِي السَّماءِ وَهُوَ السَّميعُ الْعَليمُ

أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَصِلْني بِجَميعِ ما سَأَلَكَ عِبادُكَ الْمُؤْمِنُونَ ، أَنْ تَصِلَهُمْ بِهِ مِنَ الْخَيْرِ ، وَاصْرِفْ عَنّي جَميعَ ما سَأَلَكَ عِبادُكَ الْمُؤْمِنُونَ ، أَنْ تَصْرِفَهُ عَنْهُمْ مِنَ السُّوءِ وَالرَّدى ، وَزِدْني مِنْ فَضْلِكَ ما أَنْتَ أَهْلُهُ وَوَلِيُّهُ ، يا أَرْحَمَ الرَّاحِمينَ

أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَأَهْلِ بَيْتِهِ الطَّيِّبينَ ، وَعَجِّلِ اللَّهُمَّ فَرَجَهُمْ وَفَرَجي وَفَرِّجْ عَنْ كُلِّ مَهْمُومٍ مِنَ الْمُؤْمِنينَ وَالْمُؤْمِناتِ

أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ، وَارْزُقْني نَصْرَهُمْ ، وَأَشْهِدْني أَيَّامَهُمْ ، وَاجْمَعْ بَيْني وَبَيْنَهُمْ فِي الدُّنْيا وَالْآخِرَةِ ، وَاجْعَلْ مِنْكَ عَلَيْهِمْ واقِيَةً حَتَّى لايُخْلَصَ إِلَيْهِمْ إِلّا بِسَبيلِ خَيْرٍ ، وَعَلَيَّ مَعَهُمْ ، وَعَلى شيعَتِهِمْ وَمُحِبّيهِمْ ، وَعَلى أَوْلِيائِهِمْ ، وَعَلى جَميعِ الْمُؤْمِنينَ وَالْمُؤْمِناتِ ، فَإِنَّكَ عَلى كُلِّ شَيْ‏ءٍ قَديرٌ

بِسْمِ اللَّهِ وَبِاللَّهِ وَمِنَ اللَّهِ وَ إِلَى اللَّهِ ، وَلا غالِبَ إِلّاَ اللَّهُ ، ما شاءَ اللَّهُ ، لا قُوَّةَ إِلّا بِاللَّهِ ، حَسْبِيَ اللَّهُ ، تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ ، وَاُفَوِّضُ أَمْري إِلَى اللَّهِ ، وَأَلْتَجِئُ إِلَى اللَّهِ وَبِاللَّهِ اُحاوِلُ وَاُصاوِلُ وَاُكاثِرُ وَاُفاخِرُ وَأَعْتَزُّ وَأَعْتَصِمُ ، عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَ إِلَيْهِ مَتابُ ، لا إِلهَ إِلّاَ اللَّهُ الْحَيُّ الْقَيُّومُ ، عَدَدَ الثَّرى وَالنُّجُومِ ، وَالْمَلائِكَةِ الصُّفُوفِ لا إِلهَ إِلّاَ اللَّهُ ، وَحْدَهُ لا شَريكَ لَهُ الْعَلِيُّ الْعَظيمُ ، لا إِلهَ إِلّاَ اللَّهُ سُبْحانَكَ إِنّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمينَ

وممّا خرج عن صاحب الزّمان صلوات اللَّه عليه زيادة في هذا الدّعاء (دعاء الحريق) إلى محمّد بن الصّلت القمي :

أَللَّهُمَّ رَبَّ النُّورِ الْعَظيمِ ، وَرَبَّ الْكُرْسِيِّ الرَّفيعِ ، وَرَبَّ الْبَحْرِ الْمَسْجُورِ ، وَمُنْزِلَ التَّوْراةِ وَالْإِنْجيلِ ، وَرَبَّ الظِّلِّ وَالْحَرُورِ ، وَمُنْزِلَ الزَّبُورِ وَالْقُرْآنِ الْعَظيمِ ، وَرَبَّ الْمَلائِكَةِ الْمُقَرَّبينَ وَالْأَنْبِياءِ الْمُرْسَلينَ.

أَنْتَ إِلهُ مَنْ فِي السَّماءِ ، وَ إِلهُ مَنْ فِي الْأَرْضِ ، لا إِلهَ فيهِما غَيْرُكَ ، وَأَنْتَ جَبَّارُ مَنْ فِي السَّماءِ ، وَجَبَّارُ مَنْ فِي الْأَرْضِ ، لا جَبَّارَ فيهِما غَيْرُكَ ، وَأَنْتَ خالِقُ مَنْ فِى السَّماءِ ، وَخالِقُ مَنْ فِي الْأَرْضِ ، لا خالِقَ فيهِما غَيْرُكَ ، وَأَنْتَ حَكَمُ مَنْ فِي السَّماءِ ، وَحَكَمُ مَنْ فِي الْأَرْضِ ، لا حَكَمَ فيهِما غَيْرُكَ.

أَللَّهُمَّ إِنّي أَسْأَلُكَ بِوَجْهِكَ الْكَريمِ ، وَبِنُورِ وَجْهِكَ الْمُنيرِ ، وَمُلْكِكَ الْقَديمِ ، يا حَيُّ يا قَيُّومُ ، أَسْأَلُكَ بِاسْمِكَ الَّذي أَشْرَقَتْ بِهِ السَّماواتُ وَالْأَرَضُونَ ، وَبِاسْمِكَ الَّذي يَصْلُحُ بِهِ الْأَوَّلُونَ وَالْآخِرُونَ ، يا حَيّاً قَبْلَ كُلِّ حَيٍّ ، وَيا حَيّاً بَعْدَ كُلِّ حَيٍّ ، وَيا حَيّاً حينَ لا حَيَّ ، وَيا مُحْيِيَ الْمَوْتى ، وَيا حَيُّ لا إِلهَ إِلّا أَنْتَ ، يا حَيُّ يا قَيُّومُ.

أَسْأَلُكَ أَنْ تُصَلِّيَ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ، وَارْزُقْني مِنْ حَيْثُ أَحْتَسِبُ وَمِنْ حَيْثُ لا أَحْتَسِبُ رِزْقاً واسِعاً حَلالاً طَيِّباً ، وَأَنْ تُفَرِّجَ عَنِّي كُلَّ غَمٍّ وَهَمٍّ ، وَأَنْ تُعْطِيَني ما أَرْجُوهُ وَآمُلُهُ ، إِنَّكَ عَلى كُلِّ شَيْ‏ءٍ قَديرٌ.

۔ امام صادق کی دعاء الحاح آخری حجت سے منقول

ابو نعیم انصاری کہتاہے کہ مسجد الحرام میں تھا چند آدمی عمرہ کے لئے آئے ہوئے تھے ان میں سے ایک محمودی علّان کلینی ابو حیشم دیناری ابوجعفر احوال ہمدانی حجر اسود کے قریب کھڑے تھے تقریباً تین آدمی تھے اور ان کے درمیان میں جہاں تک میں جانتاہوں کہ محمد بن قاسم عقیقی کے علاوہ کوئی اور مخلص شخص نہیں تھا اس دن چھ ذوالحجہ سال ۲۹۳ تھا جیسے ہی ہم کھڑے تھے کہ اچانک ایک جوان طواف کعبہ مکمل کرنے کے بعد ہماری طرف آیا وہ احرام کے دو لباس پہنے ہوئے تھا اور کفش اس کے ہاتھ میں تھے جب ان کو دیکھا تو اس کی ہیبت اور متانت کو دیکھ کر ہم سب کھڑے ہوگئے اور اس کو سلام کیا وہ بیٹھا اور دائیں بائیں دیکھتا تھا اس وقت فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ حضرت صادق نے دعائے الحاح میں کیا فرمایا ہے ہم نے کہا کیا کہا ہے فرمایا کہ فرماتے تھے:

اللهم انی اسالک باسمک الذی به تقوم السماء و به تقوم الارض و به تفرق بین الحق والباطل و به تجمع بین المتفرق و به تفرق بین المجتمع و به احصیت عدد الرمال و زنه الجبال وکیل البحار ان تصلی علی محمد و آل محمد و ان تجعل لی من امری فرجاً و مخرجاً

جنة الواقیہ میں لکھتے ہیں کہ اس دعا کو ہر مشکل وقت میں صبح کے وقت پڑھے۔

ہر واجب نماز کے بعد آخری حجت سے منقول

ابو نعیم کہتاہے اس وقت حضرت اٹھا اور کعبہ کا طواف کرنے لگا ہم بھی اُٹھے اور ہم نے فراموش کیا کہ پوچھے کہ یہ کیا ہے وہ کون ہے کل اسی وقت اسی جگہ پر طواف سے باہر آیا اور ہم بھی کل کی طرف اتھے اس کے بعد جمعیت کے درمیان بیٹھیا ور دائیں بائیں دیکھا اور فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ حضرت امیرالمومنین واجب نماز کے بعد کیا دعا پڑھتے تھے ہم نے کہا وہ کیا پڑھتے ہیں فرمایا پڑھتا تھا

أَللَّهُمَّ إِلَيْكَ رُفِعَتِ الْأَصْواتُ ، ] وَدُعِيَتِ الدَّعَواتُ [ ، وَلَكَ عَنَتِ الْوُجُوهُ ، وَلَكَ خَضَعَتِ الرِّقابُ ، وَإِلَيْكَ التَّحاكُمُ فِي الْأَعْمالِ ، يا خَيْرَ مَسْؤُولٍ وَخَيْرَ مَنْ أَعْطى ، يا صادِقُ يا بارِئُ ، يا مَنْ لايُخْلِفُ الْميعادَ ، يا مَنْ أَمَرَ بِالدُّعاءِ وَتَكَفَّلَ بِالْإِجابَةِ.

يا مَنْ قالَ «اُدْعُوني أَسْتَجِبْ لَكُمْ » ، يا مَنْ قالَ «وَ إِذا سَأَلَكَ عِبادي عَنّي فَإِنّي قَريبٌ اُجيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذا دَعانِ فَلْيَسْتَجيبُوا لي وَلْيُؤْمِنُوا بي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ » ، يا مَنْ قالَ «يا عِبادِيَ الَّذينَ أَسْرَفُوا عَلى أَنْفُسِهِمْ لاتَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَميعاً إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحيمُ » وفي البحار:

لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، ها أَنَا ذا بَيْنَ يَدَيْكَ، اَلْمُسْرِفُ عَلى نَفْسي، وَأَنْتَ الْقائِلُ «لاتَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَميعاً ».

۶ ۔ دعاء حضرت امیرالمومنین سجدہ شکر میں آخری حجت سے منقول

اس وقت حضرت نے اس دعا کے بعد دائیں اور بائیں دیکھا اور فرمایا کیا تم جانتے ہو حضرت امیرالمومنین نے سجدہ شکر میں کیا پڑھتے تھے میں نے عرض کیا کہ کیا پڑھتے تھے فرمایا پڑھتے تھے۔

يا مَنْ لا يَزيدُهُ إِلْحاحُ الْمُلِحّينَ إِلّا جُوداً وَكَرَماً ، يا مَنْ لَهُ خَزائِنُ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ ، يا مَنْ لَهُ خَزائِنُ ما دَقَّ وَجَلَّ ، لاتَمْنَعُكَ إِساءَتي مِنْ إِحْسانِكَ إِلَيَّ.

إِنّي أَسْأَلُكَ أَنْ تَفْعَلَ بي ما أَنْتَ أَهْلُهُ ، وَأَنْتَ أَهْلُ الْجُودِ وَالْكَرَمِ وَالْعَفْوِ يا رَبَّاهُ يا اَللَّهُ ، إِفْعَلْ بي ما أَنْتَ أَهْلُهُ ، فَأَنْتَ قادِرٌ عَلَى الْعُقُوبَةِ وَقَدِ اسْتَحْقَقْتُها ، لا حُجَّةَ لي ، وَلا عُذْرَ لي عِنْدَكَ.

أَبُوءُ إِلَيْكَ بِذُنُوبي كُلِّها ، وَأَعْتَرِفُ بِها كَيْ تَعْفُوَ عَنّي ، وَأَنْتَ أَعْلَمُ بِها مِنّي ، بُؤْتُ إِلَيْكَ بِكُلِّ ذَنْبٍ أَذْنَبْتُهُ ، وَبِكُلِّ خَطيئَةٍ أَخْطَأْتُها ، وَبِكُلِّ سَيِّئَةٍ عَمِلْتُها، يا رَبِّ اغْفِرْ لي وَارْحَمْ وَتَجاوَزْ عَمَّا تَعْلَمُ إِنَّكَ أَنْتَ الْأَعَزُّ الْأَكْرَمُ.

۔ امام سجّاد کا سجدہ کی دعا مسجد الحرام میں آخری حجت سے منقول

ابو نعیم کہتاہے دوسرے دن اسی وقت حضرت تشریف لے آئے اور ہم نے پہلے دن کی طرح ان کا استقبال کیا اور وہ درمیان میں بیٹھے بائیں دائیں توجہ کی اور فرمایا حضرت علی بن الحسین سید العابدین نے اس مکان میں اپنے ہاتھ سے حجر الاسود کے پرنالہ کی طرف اشارہ کیا اور سجدہ میں اس طرح فرماتے تھے عبیدک بفنائک (وق فقیرک بفنائک) مسکینک ببابک اسالک مالا یقدر علیہ سواک پس اس کے بعد حضرت نے بائیں اور دائیں طرف نگاہ کی اور محمد بن قاسم علوی کو دیکھا اور فرمایا اے محمد بن قاسم! انشاء اللہ تو خیر اور نیکی پڑھے اس کے بعد اٹھا اور طواف میں مشغول ہوا جو دعائیں بھی ہمیں یاد کرائی سب کو یاد کیا اور فراموش کیا کہ اس کے بارے میں کوئی بات کرلوں سوائے آخری دن کے جب آخر روز ہوا محمد نے ہم سے کہا رفقا تم جانتے ہو کہ یہ کون ہے ہم نے کہا کہ نہیں کہا خدا کی قسم وہ صاحب الزمان ہے ہم نے کہا اے ابو علی وہ کس طرح ہے کہا تقریباً سات سال کا تھا کہ میں دعا کرتا تھا اور خداوند متعال سے چاہا کہ آخری حجت ہمیں دکھادے۔ شب عرفہ اسی شخص کو دیکھا وہ دعا پڑھ رہا تھا میں غور سے دعا کو حفظ کیا اور اس سے پوچھا کہ تم کون ہو فرمایا میں مردوں میں سے ہوں فرمایا کن لوگوں میں سے عرب ہو یا عجم؟ فرمایا کہ عرب ہوں میں نے کہا کہ عرب کے کس قبیلہ سے تعلق رکھتے ہو فرمایا ان میں سے شریف ترین عرب سے ہوں کس قبیلہ سے تعلق رکھتے ہو فرمایا بنی ہاشم سے میں نے کہا کہ بنی ہاشم میں سے کس سے تعلق رکھتے ہو فرمایا سب سے بلند ترین میں سے ہوں میں نے کہا کہ کس سے تعلق رکھتے ہو فرمایا کہ جس نے کفار کے سروں کو شگافتہ کیا اور لوگوں کو کھانا کھلا دیا اور نماز پڑھی حالانکہ لوگ سوئے ہوئے تھے میں نے سمجھا کہ وہ علوی ہے علوی ہونے کی وجہ سے اس کو دوست رکھتا ہوں پس اس کے بعد میرے سامنے سے غائب ہوئے اور میں ان کو گم کردیا ہمیں پتہ نہیں چلا کہ کہاں گئے آسمان میں چلے گئے یا زمین میں میرے اطراف میں جو تھے ان سے پوچھا اس سید علوی کو جانتے ہو انہوں نے کہا کہ کیوں نہیں وہ ہر سال ہمارے ساتھ پیادہ مکہ آتاہے۔ میں نے کہا سبھان اللہ خدا کی قسم میں نے اس کے پیادہ آنے کے آچار نہیں دیکھا اس کی جدائی کے غم نے میرے بدن کو گھیر لیا ہے اسی حالت میں مزد لفہ کی طرف چل پڑا رات کو وہیں پر سویا عالم خواب میں رسول خدا کو دیکھا فرمایا اے محمد جو کچھ تم چاہتے تھے اس کو دیکھ لیا میں نے عرض کیا اے میرے آقا وہ کون تھا فرمایا جس شخص کو تم نے کل دیکھا تھا وہ تیرا امام زمان تھا۔

دعائے عبرات کا واقعہ

آیة اللہ علامہ حلی کتاب منھاج الصلاح کے آخری میں دعائے عبرات کے بارے میں کہتے ہیں یہ معروف دعا ہے کہ جو امام صادق سے روایت ہوئی ہے یہ دعا سید بزرگوار راضی الدین محمد بن محمد کی جانب سے ہے اس میں ایک معروف حکایت ہے اسی کتاب کے ھاشیہ پر فضلاء میں سے کسی ایک کے خط کے ساتھ لکھا گیا ہے مولا سعید فخر الدین محمد فرزند شیخ بزرگوار جمال الدین نے اپنے باپ سے اس نے جد یوسف سے اس نے رضی مذکور سے نقل کیا ہے اور کہتاہے: سید رضی الدین جرماغنون کے امراء میں سے کسی ایک کے ہاتھ میں کافی مدت تک اسیر تھے اس کے ساتھ سختی سے پیش آتے تھے کھانے اور پینے میں تنگ کرتے تھے ایک رات امام زمانہ کو خواب میں دیکھتاہے اور گریہ کرتاہے اور کہتاہے اے میرے مولا ان ظالموں کے ہاتھ سے رہائی کے لئے شفاعت کریں حضرت نے فرمایا دعائے عبرات پڑھ لیں کہا کہ دعائے عبرات کونسی ہے فرماتے ہیں وہ دعا آپکی کتاب مصباح میں لکھی ہوئی ہے کہتاہے میرے مولا مصباح میں ایسی دعا نہیں ہے فرمایا دیکھ لیں مل جائی گی سید خواب سے بیدار ہوا اور نماز صبح پڑھی کتاب مصباح میں تلاش کیا ورقوں کے درمیان اس دعا کو دیکھا اس دعا کو چالیس مرتبہ پڑھا دوسری طرف جرماغون کے امیر کی دو بیویاں تھیں ان میں سے ایک عاقل و باتدبیر عورت تھی کہ وہ اپنے کاموں میں ان سے مشاورت کرتے تھے امیر کو اس عورت پر بہت زیادہ اعتماد تھا ایک دن اس کی باری تھی امیر اس کے گھر میں آیا اس کی بیوی نے کہا کیا حضرت امیرالمومنین کی اولاد میں کسی کو گرفتار کیا گیاہے وہ کہنے لگا کہ تم کس لئے مجھ سے پوچھتی ہو عورت کہنتے لگی میں نے ایک شخص کو دیکھا کہ جو سورج کی طرح درخشان تھا اس کو عالم خواب میں دیکھا اس نے اپنے دونوں انگلیوں کے ساتھ میرا گلا گھونٹا اور فرمایا کہ تمہارے شوہر نے میرے فرزند کو گرفتار کیا ہے اس نے اس کو کھانے اور پینے میں تنگ کیا ہے میں نے عرض کیا میرے آقا آپ کون ہیں فرمایا میں علی بن ابی طالب ہوں اور اپنے شوہر سے کہٰن اگر میرے فرزند کو رہا نہ کیا تو اس کے گھر کو خراب کروں گا جب یہ خبر بادشاہ کے کان میں پہنچی اس نے معلوم نہ ہونے کا اظہار کیا اس نے امیروں اور نائبوں کو طلب کیا اور کہا تمہارے پاس کون قید ہے انہوں نے کہا ایک بوڑھا علوی مرد ہے آپ نے خود گرفتاری کا حکم دیا ہے کہا اس کو چھوڑ دو اور سواری کے لئے اس کو گھوڑا دیدو اور اس کو راستہ بتادو تا کہ وہ اپنے گھر چلا جائے۔

سید بزرگوار علی بن طاوؤس مجھے الدعوات کے آخر میں کہتے ہیں کہ میرا دوست اور میرا بھائی محمد بن محمد قاضی نے اس دعا کے بارے میں تعجب آور اور حیرت انگیز واقعہ میرے لئے نقل کیا ہے اور ہو یہ کہ ایک واقعہ میرے لئے پیش آیا اور اس دعا کو اوراق کے درمیان سے نکالا حالانکہ اس سے پہلے یہ اوراق کتاب کے درمیان نہیں رکھے تھے۔ چونکہ اس سے نسخہ اٹھا لیتاہے اور اصلی دعا گم ہوجاتی ہے۔

دعائے عبرات

دعائے عبرات کو جو نسخہ مرحوم شیخ کفعمی نے ذکر کیا ہے اس کو ذکر کرتاہوں جناب شیخ البلد الامین میں کہتے ہیں کہ دعائے عبرات بہت عظیم دعا ہے یہ حضرت حجت سے روایت ہوئی ہے اور یہ دعا مہم امور اور بہت بڑی مشکلات میں پڑھی جاتی ہے اور وہ دعا یہ ہے۔

بسم الله الرّحمن الرّحیم اللّهمّ إنّی أسألک یا راحم العبرات و یا کاشف الکربات أنت الّذی تقشع سحائب المحن و قد أمست ثقالاً و تجلو ضباب الإحن و قد سحبت أذیالاً و تجعل زرعها هشیماً و عظامها رمیماً و تردّ المغلوب غالباً والمطلوب طالباً إلهی فکم من عبدٍ ناداک أنّی مغلوبٌ فانتصر ففتحت له من نصرک أبواب السّماء بماءٍ منهمرٍ و فجّرت له من عونک عیوناً فالتقی ماء فرجه علی أمرِ قدر و حملته من کفایتک علی ذات ألواحٍ و دسرٍ یا ربّ إنّی مغلوبٌ فانتصر یا ربّ إنّی مغلوبٌ فانتصر یا ربّ إنّی مغلوبٌ فانتصر فصلّ علی محمّد و آل محمّد وافتح لی من نصرک أبواب السّماء بماءٍ منهمرِ و فجّر لی من عونک عیوناً لیلتقی ماء فرجی علی أمرٍ قد قدر واحملنی یا ربّ من کفایتک علی ذات ألواحٍ و دسرٍ یا من إذا ولج العبد فی لیلٍ من حیرته یهیم فلم یجد له صریخاً یصرخه من ولیٍّ و لا حمیمٍ صلّ محمّد و آل محمّد و جد یا ربّ من معونتک صریخاً معیناً و ولیّاً یطلبه حثیثاً ینجّیه من ضیق أمره و حرجه و یظهر له المهمّ من أعلام فرجه اللّهمّ فیا من قدرته قاهرة و آیاته باهرةٌ و نقماته فاصمةٌ لکلّ جبارٍ دامغةٌ لکلّ کفورٍ ختّارٍ صلّ یا ربّ علی محمّد و آل محمّد وانظر إلیّ یا ربّ نظرةً من نظراتک رحیمةً تجلو بها عنّی ظلمةً واقفةً مقیمةً من عاهةً جفّت منها الضّروع و قلفت منها الزّروع واشتمل بها علی القلوب الیأس و جرت بسببها الأنفاس اللّهمّ صلّ علی محمّد و آل محمّد و حفظاً حفظاً لغرائس غرستها ید الرّحمن و شرّبها من ماء الحیوان أن تکون بید الشّیطان تجزّ و بفأسه تقطع و تحزّ إلهی من أولی منک أن یکون عن حماک حارساً و مانعاً إلهی إنّ الأمر قد هال فهوّنه و خشن فألنه و إنّ القلوب کاعت فطنّها والنّفوس ارتاعت فسکّنها إلهی تدارک أقداماً قد زلّت و أفهاماً فی مهامه الحیرة ضلّت أجحف الضّرّ بالمضرور فی داعیة الویل والثّبور فهل یحسن من فضلک أن تجعله فریسةً للبلاء و هو لک راجٍ أم هل یحمل من عدلک أن یخوض لجّة الغمّاء و هو إلیک لاجٍ مولای لئن کنت لا أشقّ علی نفسی فی التّقی و لا أبلغ فی حمل أعباء الطّاعة مبلغ الرّضا و لا أنتظم فی سلک قومٍ رفضوا الدّنیا فهم خمص البطون عمش العیون من البکاء بل أتیتک یا ربّ بضعفٍ من العمل و ظهرٍ ثقیلٍ بالخطاء والزّلل و نفسٍ للرّاحة معتادةٍ و لدواعی التّسویف منقادةٍ أما یکفیک یا ربّ وسیلةً إلیک و ذریعةً لدیک أنّی لأولیائک موالٍ و فی محبّتک مغالٍ أما یکفینی أن أرواح فیهم مظلوماً و أغدو مکظوماً و أقضی بعد همومٍ و بعد رجومٍ رجوماً أما عندک یا ربّ بهذه حرمةٌ لا تضیّع و ذمّةٌ بأدناها یقتنع فلم لا یمنعنی یا ربّ وها أنا ذا غریقٌ و تدعنی بنار عدوّک حریقٌ أتجعل أولیاءک لأعدائک مصائد و تقلّدهم من خسفهم قلائد و أنت مالک نفوسهم لو قبضتها جمدوا و فی قبضتک موادّ أنفاسهم لو قطعتها خمدوا و ما یمنعک یا ربّ أن تکفّ بأسهم و تنزع عنهم من حفظک لباسهم و تعریهم من سلامةٍ بها فی أرضک یسرحون و فی میدان البغی علی عبادک یمرحون اللّهمّ صلّ علی محمّد و آل محمّد و أدرکنی و لمّا یدرکنی الغرق و تدارکنی و لمّا غیّب شمسی للشّفق إلهی کم من خائف التجأ إلی سلطانٍ فآب عنه محفوفاً بأمنٍ و أمانٍ أ فأقصد یا ربّ بأعظم من سلطانک سلطاناً أم أوسع من إحسانک إحساناً أم أکثر من اقتدارک اقتداراً أم أکرم من انتصارک انتصاراً اللّهمّ أین کفایتک الّتی هی نصرة المستغیثین من الأنام و أین عنیتک الّتی هی جنّة المستهدفین لجور الأیّام إلیّ إلیّ بها یا ربّ نجّنی من القوم الظّالمین إنّی مسّنی الضّرّ و أنت أرحم الرّاحمین مولای تری تحیّری فی أمری و تقلّبی فی ضرّی و انطوای علی حرقة قلبی و حرارة صدری فصلّ یا ربّ علی محمّد و آل محمّد و جدلی یا ربّ بما أنت أهله فرجاً و مخرجاً و یسّرلی یا ربّ نحو الیسری منهجاً واجعل لی یا ربّ من نصب حبالاً لی لیصرعنی بها صریع ما مکره و من حفرلی البئر لیوقعنی فیها واقعاً فیما حفره و اصرف اللّهمّ عنّی شرّه و مکره و فساده و ضرّه ما تصرفه عمّن قاد نفسه لدین الدّیّان و منادٍ ینادی للأیمان إلهی عبدک عبدک أجب دعوته و ضعیفک ضعیفک فرّج غمّته فقد انقطع کلّ حبلٍ إلّا حبلک و تقلّص کلّ ظلٍّ إلّا ظلّک مولای دعوتی هذه إن رددتها أین تصادف موضع الإجابة و یجعلنی [مخلیلتی] إن کذّبتها أین تلاقی موضع الإجابة فلا تردّ عن بابک من لا یعرف غیره باباً و لا یمتنع دون جنابک من لا یعرف سواه جناباً و یسجد و یقول إلهی أنّ وجهاً إلیک برغبته توجّه فالرّاغب خلیقٌ بأن تجیبه و إنّ جبیناً لک بابتهاله سجد حقیقٌ أن یبلغ ما قصد و إنّ خدّاً إلیک بمسألته یعفّر جدیرٌ بأن یفوز بمراده و یظفر و ها أنا ذا یا إلهی قد تری تعفیر خدّی و ابتهالی و اجتهادی فی مسألتک و جدّی فتلقّ یا ربّ رغباتی برأفتک قبولاً و سهّل إلیّ طلباتی برأفتک وصولاً و ذلّل لی قطوف ثمرات إجابتک تذلیلاً إلهی لا رکن أشدّ منک ف آوی إلی رکنٍ شدیدٍ و قد أویت إلیک و عوّلت فی قضاء حوائجی علیک و لا قول أسدّ من دعائک فأستظهر بقولٍ سدیدٍ و قد دعوتک کما أمرت فاستجب لی بفضلک کما وعدت فهل بقی یا ربّ إلّا أن تجیب و ترحم منّی البکاء و النّحیب یا من لا إله سواه و یا من یجیب المضطرّ أذا دعاه ربّ انصرنی علی القوم الظّالمین وافتح لی و أنت خیر الفاتحین و الطف بی یا ربّ و بجمیع المؤمنین و المؤمنات برحمتک یا أرحم الرّاحمین

باب دہم

وہ دعائیں کہ جو حضرت حجت نے اپنے آباء و اجداد سے نقل کی ہے

حضرت امیر المومنین کی دعا سختیوں کے موقع پر

سید بزرگوار علی بن طاوؤس نے حضرت امیرالمومنین علی سے ایک دعا نقل کیا ہے کہ سختیوں اور مشکلات کو دور کرنے کے لئے پڑھی جاتی ہے اور اس کی سند کو ذکر نہیں کیا گیا ہے لیکن علامہ مجلسی کہتے ہیں کہ اس دعا کے لئے ہمارے پاس عالی سند اور تعجب انگیز ہے چونکہ اس دعا کو واسطہ کے بغیر اپنے باپ سے اس نے بعض صالحین سے انہوں نے ہمارے مولیٰ حضرت حجت سے روایت کی ہے میں اس روایت کو بیان کرتاہوں۔

أَللَّهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ الْحَقُّ الَّذي لا إِلهَ إِلّا أَنْتَ وَأَنَا عَبْدُكَ ، ظَلَمْتُ نَفْسي وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبي ، فَاغْفِرْ لِيَ الذُّنُوبَ لا إِلهَ إِلّا أَنْتَ يا غَفُورُ.

أَللَّهُمَّ إِنّي أَحْمَدُكَ وَأَنْتَ لِلْحَمْدِ أَهْلٌ ، عَلى ما خَصَصْتَني بِهِ مِنْ مَواهِبِ الرَّغائِبِ ، وَوَصَلَ إِلَيَّ مِنْ فَضائِلِ الصَّنايِعِ ، وَعَلى ما أَوْلَيْتَني بِهِ ، وَتَوَلَّيْتَني بِهِ مِنْ رِضْوانِكَ ، وَأَنَلْتَني مِنْ مَنِّكَ الْواصِلِ إِلَيَّ ، وَمِنَ الدِّفاعِ عَنّي ، وَالتَّوْفيقِ لي ، وَالْإِجابَةِ لِدُعائي ، حَتَّى اُناجيكَ راغِباً ، وَأَدْعُوكَ مُصافِياً ، وَحتَّى أَرْجُوكَ فَأَجِدُكَ فِي الْمَواطِنِ كُلِّها لي جابِراً ، وَفي اُمُوري ناظِراً ، وَلِذُنُوبي غافِراً ، وَلِعَوْراتي ساتِراً ، لَمْ أَعْدِمْ خَيْرَكَ طَرْفَةَ عَيْنٍ مُذْ أَنْزَلْتَني دارَ الْإِخْتِبارِ ، لِتَنْظُرَ ماذا اُقَدِّمُ لِدارِ الْقَرارِ.

فَأَنَا عَتيقُكَ اللَّهُمَّ مِنْ جَميعِ الْمَصائِبِ وَاللَّوازِبِ ، وَالْغُمُومِ الَّتي ساوَرَتْني فيهَا الْهُمُومُ ، بِمَعاريضِ الْقَضاءِ ، وَمَصْرُوفِ جُهْدِ الْبَلاءِ ، لا أَذْكُرُ مِنْكَ إِلّاَ الْجَميلَ ، وَلا أَرى مِنْكَ غَيْرَ التَّفْضيلِ.

خَيْرُكَ لي شامِلٌ ، وَفَضْلُكَ عَلَيَّ مُتَواتِرٌ ، وَنِعَمُكَ عِنْدي مُتَّصِلَةٌ ، سَوابِغُ لَمْ تُحَقِّقْ حِذاري ، بَلْ صَدَّقْتَ رَجائي ، وَصاحَبْتَ أَسْفاري ، وَأَكْرَمْتَ أَحْضاري ، وَشَفَيْتَ أَمْراضي ، وَعافَيْتَ أَوْصابي ، وَأَحْسَنْتَ مُنْقَلَبي وَمَثْوايَ ، وَلَمْ تُشْمِتْ بي أَعْدائي ، وَرَمَيْتَ مَنْ رَماني ، وَكَفَيْتَني شَرَّ مَنْ عاداني.

أَللَّهُمَّ كَمْ مِنْ عَدُوٍّ انْتَضى عَلَيَّ سَيْفَ عَداوَتِهِ ، وَشَحَذَ لِقَتْلي ظُبَةَ مُدْيَتِهِ ، وَأَرْهَفَ لي شَبا حَدِّهِ ، وَدافَ لي قَواتِلَ سُمُومِهِ ، وَسَدَّدَ لي صَوائِبَ سِهامِهِ ، وَأَضْمَرَ أَنْ يَسُومَنِي الْمَكْرُوهَ ، وَيُجَرِّعَني ذُعافَ مَرارَتِهِ ، فَنَظَرْتَ يا إِلهي إِلى ضَعْفي عَنِ احْتِمالِ الْفَوادِحِ ، وَعَجْزي عَنِ الْإِنْتِصارِ مِمَّنْ قَصَدَني بِمُحارَبَتِهِ ، وَوَحْدَتي في كَثيرِ مَنْ ناواني ، وَأَرْصَدَ لي فيما لَمْ أَعْمَلْ فِكْري فِي الْإِنْتِصارِ مِنْ مِثْلِهِ.

فَأَيَّدْتَني يا رَبِّ بِعَوْنِكَ ، وَشَدَدْتَ أَيْدي بِنَصْرِكَ ، ثُمَّ فَلَلْتَ لي حَدَّهُ ، وَصَيَّرْتَهُ بَعْدَ جَمْعِ عَديدِهِ وَحْدَهُ ، وَأَعْلَيْتَ كَعْبي عَلَيْهِ ، وَرَدَدْتَهُ حَسيراً لَمْ تَشْفِ غَليلَهُ ، وَلَمْ تُبَرِّدْ حَزازاتِ غَيْظِهِ ، وَقَدْ غَضَّ عَلَيَّ شَواهُ ، وَآبَ مُوَلِّياً قَدْ أَخْلَفْتَ سَراياهُ ، وَأَخْلَفْتَ آمالَهُ.

أَللَّهُمَّ وَكَمْ مِنْ باغٍ بَغى عَلَيَّ بِمَكائِدِهِ ، وَنَصَبَ لي شَرَكَ مَصائِدِهِ ، وَضَبَأَ إِلَيَّ ضُبُوءَ السَّبُعِ لِطَريدَتِهِ ، وَانْتَهَزَ فُرْصَتَهُ ، وَاللِّحاقَ لِفَريسَتِهِ ، وَهُوَ مُظْهِرٌ بَشاشَةَ الْمَلَقِ ، وَيَبْسُطُ إِلَيَّ وَجْهاً طَلِقاً.

فَلَمَّا رَأَيْتَ يا إِلهي دَغَلَ سَريرَتِهِ ، وَقُبْحَ طَوِيَّتِهِ ، أَنْكَسْتَهُ لِاُمِّ رَأْسِهِ في زُبْيَتِهِ ، وَأَرْكَسْتَهُ في مَهوى حَفيرَتِهِ ، وَأَنْكَصْتَهُ عَلى عَقِبَيْهِ ، وَرَمَيْتَهُ بِحَجَرِهِ ، وَنَكَأْتَهُ بِمِشْقَصِهِ ، وَخَنَقْتَهُ بِوَتَرِهِ ، وَرَدَدْتَ كَيْدَهُ في نَحْرِهِ ، وَرَبَقْتَهُ بِنَدامَتِهِ فَاسْتَخْذَلَ وَتَضاءَلَ بَعْدَ نِخْوَتِهِ ، وَبَخَعَ وَانْقَمَعَ بَعْدَ اسْتِطالَتِهِ ، ذَليلاً مَأْسُوراً في حَبائِلِهِ الَّتي كانَ يُحِبُّ أَنْ يَراني فيها ، وَقَدْ كِدْتُ لَوْلا رَحْمَتُكَ أَنْ يَحِلَّ بي ما حَلَّ بِساحَتِهِ ، فَالْحَمْدُ لِرَبٍّ مُقْتَدِرٍ لايُنازَعُ ، وَلِوَلِيٍّ ذي أَناةٍ لايَعْجَلُ ، وَقَيُّومٍ لايَغْفُلُ ، وَحَليمٍ لايَجْهَلُ.

نادَيْتُكَ يا إِلهي مُسْتَجيراً بِكَ ، واثِقاً بِسُرْعَةِ إِجابَتِكَ ، مُتَوَكِّلاً عَلى ما لَمْ أَزَلْ أَعْرِفُهُ مِنْ حُسْنِ دِفاعِكَ عَنّي ، عالِماً أَنَّهُ لَنْ يُضْطَهَدَ مَنْ آوى إِلى ظِلِّ كِفايَتِكَ ، وَلايَقْرَعُ الْقَوارِعُ مَنْ لَجَأَ إِلى مَعْقِلِ الْإِنْتِصارِ بِكَ ، فَخَلَّصْتَني يا رَبِّ بِقُدْرَتِكَ وَنَجَّيْتَني مِنْ بَأْسِهِ بِتَطَوُّلِكَ وَمَنِّكَ.

أَللَّهُمَّ وَكَمْ مِنْ سَحائِبَ مَكْرُوهٍ جَلَّيْتَها، وَسَماءِ نِعْمَةٍ أَمْطَرْتَها ، وَجَداوِلَ كَرامَةٍ أَجْرَيْتَها ، وَأَعْيُنِ أَحْداثٍ طَمَسْتَها ، وَناشِىِ رَحْمَةٍ نَشَرْتَها ، وَغَواشِيَ كُرَبٍ فَرَّجْتَها ، وَغُمَمِ بَلاءٍ كَشَفْتَها ، وَجُنَّةِ عافِيَةٍ أَلْبَسْتَها ، وَاُمُورٍ حادِثَةٍ قَدَّرْتَها ، لَمْ تُعْجِزْكَ إِذْ طَلَبْتَها ، فَلَمْ تَمْتَنِعْ مِنْكَ إِذْ أَرَدْتَها.

أَللَّهُمَّ وَكَمْ مِنْ حاسِدِ سُوءٍ تَوَلَّني بِحَسَدِهِ ، وَسَلَقَني بِحَدِّ لِسانِهِ ، وَوَخَزَني بِقَرْفِ عَيْبِهِ ، وَجَعَلَ عِرْضي غَرَضاً لِمَراميهِ ، وَقَلَّدَني خِلالاً لَمْ تَزَلْ فيهِ كَفَيْتَني أَمْرَهُ.

أَللَّهُمَّ وَكَمْ مِنْ ظَنٍّ حَسَنٍ حَقَّقْتَ ، وَعُدْمِ إِمْلاقٍ ضَرَّني جَبَرْتَ وَأَوْسَعْتَ ، وَمِنْ صَرْعَةٍ أَقَمْتَ ، وَمِنْ كُرْبَةٍ نَفَّسْتَ ، وَمِنْ مَسْكَنَةٍ حَوَّلْتَ ، وَمِنْ نِعْمَةٍ خَوَّلْتَ ، لاتُسْأَلُ عَمَّا تَفْعَلُ ، وَلا بِما أَعْطَيْتَ تَبْخَلُ ، وَلَقَدْ سُئِلْتَ فَبَذَلْتَ ، وَلَمْ تُسْئَلْ فَابْتَدَأْتَ وَاسْتُميحَ فَضْلُكَ فَما أَكْدَيْتَ ، أَبْيَتَ إِلّا إِنْعاماً وَامْتِناناً وَتَطَوُّلاً ، وَأَبْيَتُ إِلّا تَقَحُّماً عَلى مَعاصيكَ ، وَانْتِهاكاً لِحُرُماتِكَ ، وَتَعَدِّياً لِحُدُودِكَ ، وَغَفْلَةً عَنْ وَعيدِكَ ، وَطاعَةً لِعَدُوّي وَعَدُوِّكَ ، لَمْ تَمْتَنِعْ عَنْ إِتْمامِ إِحْسانِكَ ، وَتَتابُعِ امْتِنانِكَ ، وَلَمْ يَحْجُزْني ذلِكَ عَنِ ارْتِكابِ مَساخِطِكَ.

أَللَّهُمَّ فَهذا مَقامُ الْمُعْتَرِفِ لَكَ بِالتَّقْصيرِ عَنْ أَداءِ حَقِّكَ ، اَلشَّاهِدِ عَلى نَفْسِهِ بِسُبُوغِ نِعْمَتِكَ ، وَحُسْنِ كِفايَتِكَ ، فَهَبْ لِيَ اللَّهُمَّ يا إِلهي ما أَصِلُ بِهِ إِلى رَحْمَتِكَ ، وَأَتَّخِذُهُ سُلَّماً أَعْرُجُ فيهِ إِلى مَرْضاتِكَ ، وَآمَنُ بِهِ مِنْ عِقابِكَ ، فَإِنَّكَ تَفْعَلُ ما تَشاءُ وَتَحْكُمُ ما تُريدُ ، وَأَنْتَ عَلى كُلِّ شَيْ‏ءٍ قَديرٌ.

أَللَّهُمَّ حَمْدي لَكَ مُتَواصِلٌ ، وَثَنائي عَلَيْكَ دائِمٌ ، مِنَ الدَّهْرِ إِلَى الدَّهْرِ بِأَلْوانِ التَّسْبيحِ ، وَفُنُونِ التَّقْديسِ ، خالِصاً لِذِكْرِكَ ، وَمَرْضِيّاً لَكَ بِناصِعِ التَّوْحيدِ ، وَمَحْضِ التَحْميدِ ، وَطُولِ التَّعْديدِ في إِكْذابِ أَهْلِ التَّنْديدِ.

لَمْ تُعَنْ في شَيْ‏ءٍ مِنْ قُدْرَتِكَ ، وَلَمْ تُشارَكْ في إِلهِيَّتِكَ ، وَلَمْ تُعايَنْ إِذْ حَبَسْتَ الْأَشْياءَ عَلَى الْغَرائِزِ الْمُخْتَلِفاتِ ، وَفَطَرْتَ الْخَلائِقَ عَلى صُنُوفِ الْهَيَئاتِ ، وَلا خَرَقَتِ الْأَوْهامُ حُجُبَ الْغُيُوبِ إِلَيْكَ ، فَاعْتَقَدَتْ مِنْكَ مَحْدُوداً في عَظَمَتِكَ ، وَلا كَيْفِيَّةً في أَزَلِيَّتِكَ ، وَلا مُمْكِناً في قِدَمِكَ ، وَلايَبْلُغُكَ بُعْدُ الْهِمَمِ ، وَلايَنالُكَ غَوْصُ الْفِطَنِ ، وَلايَنْتَهي إِلَيْكَ نَظَرُ النَّاظِرينَ في مَجْدِ جَبَرُوتِكَ ، وَعَظيمِ قُدْرَتِكَ.

إِرْتَفَعَتْ عَنْ صِفَةِ الْمَخْلُوقينَ صِفَةُ قُدْرَتِكَ ، وَعَلا عَنْ ذلِكَ كِبْرِياءُ عَظَمَتِكَ ، وَلايَنْتَقِصُ ما أَرَدْتَ أَنْ يَزْدادَ ، وَلايَزْدادُ ما أَرَدْتَ أَنْ يَنْتَقِصَ ، وَلا أَحَدٌ شَهِدَكَ حينَ فَطَرْتَ الْخَلْقَ، وَلا ضِدٌّ حَضَرَكَ حينَ بَرَأْتَ النُّفُوسَ.

كَلَّتِ الْأَلْسُنُ عَنْ تَبْيينِ صِفَتِكَ ، وَانْحَسَرَتِ الْعُقُولُ عَنْ كُنْهِ مَعْرِفَتِكَ ، وَكَيْفَ تُدْرِكُكَ الصِّفاتُ ، أَوْ تَحْويكَ الْجِهاتُ ، وَأَنْتَ الْجَبَّارُ الْقُدُّوسُ الَّذي لَمْ تَزَلْ أَزَلِيّاً دائِماً فِي الْغُيُوبِ وَحْدَكَ ، لَيْسَ فيها غَيْرُكَ ، وَلَمْ يَكُنْ لَها سِواكَ.

حارَتْ في مَلَكُوتِكَ عَميقاتُ مَذاهِبِ التَّفْكيرِ ، وَحَسُرَ عَنْ إِدْراكِكَ بَصَرُ الْبَصيرِ ، وَتَواضَعَتِ الْمُلُوكُ لِهَيْبَتِكَ ، وَعَنَتِ الْوُجُوهُ بِذُلِّ الْإِسْتِكانَةِ لِعِزَّتِكَ ، وَانْقادَ كُلُّ شَيْ‏ءٍ لِعَظَمَتِكَ ، وَاسْتَسْلَمَ كُلُّ شَيْ‏ءٍ لِقُدْرَتِكَ ، وَخَضَعَتِ الرِّقابُ بِسُلْطانِكَ ، فَضَلَّ هُنالِكَ التَّدْبيرُ في تَصاريفِ الصِّفاتِ لَكَ ، فَمَنْ تَفَكَّرَ في ذلِكَ رَجَعَ طَرْفُهُ إِلَيْهِ حَسيراً ، وَعَقْلُهُ مَبْهُوتاً مَبْهُوراً ، وَفِكْرُهُ مُتَحَيِّراً.

أَللَّهُمَّ فَلَكَ الْحَمْدُ حَمْداً مُتَواتِراً مُتَوالِياً مُتَّسِقاً مُسْتَوْثِقاً يَدُومُ وَلايَبيدُ غَيْرَ مَفْقُودٍ فِي الْمَلَكُوتِ ، وَلا مَطْمُوسٍ فِي الْعالَمِ ، وَلامُنْتَقَصٍ فِي الْعِرْفانِ ، فَلَكَ الْحَمْدُ حَمْداً لاتُحْصى مَكارِمُهُ فِي اللَّيْلِ إِذا أَدْبَرَ ، وَفِي الصُّبْحِ إِذا أَسْفَرَ ، وَفِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ ، وَبِالْغُدُوِّ وَالْآصالِ ، وَالْعَشِيِّ وَالْإِبْكارِ ، وَالظَّهيرَةِ وَالْأَسْحارِ.

أَللَّهُمَّ بِتَوْفيقِكَ أَحْضَرْتَنِي النَّجاةَ ، وَجَعَلْتَني مِنْكَ في وَلايَةِ الْعِصْمَةِ ، لَمْ تُكَلِّفْني فَوْقَ طاقَتي إِذْ لَمْ تَرْضَ مِنّي إِلّا بِطاعَتي ، فَلَيْسَ شُكْري وَ إِنْ دَأَبْتُ مِنْهُ فِي الْمَقالِ ، وَبالَغْتُ مِنْهُ فِي الْفِعالِ بِبالِغِ أَداءِ حَقِّكَ ، وَلا مُكافٍ فَضْلَكَ ، لِأَنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ لا إِلهَ إِلّا أَنْتَ ، لَمْ تَغِبْ عَنْكَ غائِبَةٌ ، وَلا تَخْفى عَلَيْكَ خافِيَةٌ ، وَلاتَضِلُّ لَكَ في ظُلَمِ الْخَفِيَّاتِ ضالَّةٌ ، إِنَّما أَمْرُكَ إِذا أَرَدْتَ شَيْئاً أَنْ تَقُولُ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ.

أَللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ مِثْلَ ما حَمِدْتَ بِهِ نَفْسَكَ ، وَحَمِدَكَ بِهِ الْحامِدُونَ ، وَمَجَّدَكَ بِهِ الْمُمَجِّدُونَ ، وَكَبَّرَكَ بِهِ الْمُكَبِّرُونَ ، وَعَظَّمَكَ بِهِ الْمُعَظِّمُونَ ، حَتَّى يَكُونَ لَكَ مِنّي وَحْدي في كُلِّ طَرْفَةِ عَيْنٍ ، وَأَقَلَّ مِنْ ذلِكَ ، مِثْلُ حَمْدِ جَميعِ الْحامِدينَ وَتَوْحيدِ أَصْنافِ الْمُخْلِصينَ ، وَتَقْديسِ أَحِبَّائِكَ الْعارِفينَ ، وَثَناءِ جَميعِ الْمُهَلِّلينَ وَمِثْلُ ما أَنْتَ عارِفٌ بِهِ ، وَمَحْمُودٌ بِهِ مِنْ جَميعِ خَلْقِكَ مِنَ الْحَيَوانِ وَالْجَمادِ.

وَأَرْغَبُ إِلَيْكَ اللَّهُمَّ في شُكْرِ ما أَنْطَقْتَني بِهِ مِنْ حَمْدِكَ ، فَما أَيْسَرَ ما كَلَّفْتَني مِنْ ذلِكَ ، وَأَعْظَمَ ما وَعَدْتَني عَلى شُكْرِكَ ، إِبْتَدَأْتَني بِالنِّعَمِ فَضْلاً وَطَوْلاً ، وَأَمَرْتَني بِالشُّكْرِ حَقّاً وَعَدْلاً ، وَوَعَدْتَني عَلَيْهِ أَضْعافاً وَمَزيداً ، وَأَعْطَيْتَني مِنْ رِزْقِكَ اعْتِباراً وَامْتِحاناً ، وَسَأَلْتَني مِنْهُ فَرْضاً يَسيراً صَغيراً ، وَوَعَدْتَني عَلَيْهِ أَضْعافاً وَمَزيداً وَ إِعْطاءً كَثيراً.

وَعافَيْتَني مِنْ جُهْدِ الْبَلاءِ ، وَلَمْ تُسْلِمْني لِلسُّوءِ مِنْ بَلائِكَ ، وَمَنَحْتَنِي الْعافِيَةَ ، وَأَوْلَيْتَني بِالْبَسْطَةِ وَالرَّخاءِ ، وَضاعَفْتَ لِيَ الْفَضْلَ مَعَ ما وَعَدْتَني بِهِ مِنَ الْمَحَلَّةِ الشَّريفَةِ ، وَبَشَّرْتَني بِهِ مِنَ الدَّرَجَةِ الرَّفيعَةِ الْمَنيعَةِ ، وَاصْطَفَيْتَني بِأَعْظَمِ النَّبيّينَ دَعْوَةً ، وَأَفْضَلِهِمْ شَفاعَةً مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ.

أَللَّهُمَّ اغْفِرْ لي ما لايَسَعُهُ إِلّا مَغْفِرَتُكَ ، وَلايَمْحَقُهُ إِلّا عَفْوُكَ ، وَهَبْ لي في يَوْمي هذا وَساعَتي هذِهِ يَقيناً يُهَوِّنُ عَلَيَّ مُصيباتِ الدُّنْيا وَأَحْزانَها ، وَيُشَوِّقُني إِلَيْكَ ، وَيُرَغِّبُني فيما عِنْدَكَ ، وَاكْتُبْ لِيَ الْمَغْفِرَةَ ، وَبَلِّغْنِي الْكَرامَةَ ، وَارْزُقْني شُكْرَ ما أَنْعَمْتَ بِهِ عَلَيَّ ، فَإِنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ الْواحِدُ الرَّفيعُ الْبَدي‏ءُ الْبَديعُ السَّميعُ الْعَليمُ الَّذي لَيْسَ لِأَمْرِكَ مَدْفَعٌ ، وَلا عَنْ قَضائِكَ مُمْتَنِعٌ ، وَأَشْهَدُ أَنَّكَ رَبّي وَرَبُّ كُلِّ شَيْ‏ءٍ فاطِرُ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ ، عالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهادَةِ ، اَلْعَلِيُّ الْكَبيرُ الْمُتَعالُ.

أَللَّهُمَّ إِنّي أَسْأَلُكَ الثَّباتَ فِي الْأَمْرِ ، وَالْعَزيمَةَ فِي الرُّشْدِ ، وَ إِلْهامَ الشُّكْرِ عَلى نِعْمَتِكَ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ جَوْرِ كُلِّ جائِرٍ ، وَبَغْيِ كُلِّ باغٍ ، وَحَسَدِ كُلِّ حاسِدٍ.

أَللَّهُمَّ بِكَ أَصُولُ عَلَى الْأَعْداءِ ، وَ إِيَّاكَ أَرْجُو وِلايَةَ الْأَحِبَّاءِ ، مَعَ ما لا أَسْتَطيعُ إِحْصاءَهُ مِنْ فَوائِدِ فَضْلِكَ ، وَأَصْنافِ رِفْدِكَ ، وَأَنْواعِ رِزْقِكَ ، فَإِنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ لا إِلهَ إِلّا أَنْتَ الْفاشي فِي الْخَلْقِ حَمْدُكَ ، اَلْباسِطُ بِالْجُودِ يَدُكَ ، لاتُضادُّ في حُكْمِكَ ، وَلاتُنازَعُ في سُلْطانِكَ وَمُلْكِكَ ، وَلاتُراجَعُ في أَمْرِكَ ، تَمْلِكُ مِنَ الْأَنامِ ما شِئْتَ ، وَلايَمْلِكُونَ إِلّا ما تُريدُ.

أَللَّهُمَّ أَنْتَ الْمُنْعِمُ الْمُفْضِلُ الْقادِرُ الْقاهِرُ الْمُقَدَّسُ في نُورِ الْقُدْسِ ، تَرَدَّيْتَ بِالْعِزَّةِ وَالْمَجْدِ ، وَتَعَظَّمْتَ بِالْقُدْرَةِ وَالْكِبْرياءِ ، وَغَشَّيْتَ النُّورَ بِالْبَهاءِ ، وَجَلَّلْتَ الْبَهاءَ بِالْمَهابَةِ.

أَللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ الْعَظيمُ ، وَالْمَنُّ الْقَديمُ ، وَالسُلْطانُ الشَّامِخُ ، وَالْحَوْلُ الْواسِعُ ، وَالْقُدْرَةُ الْمُقْتَدِرَةُ ، وَالْحَمْدُ الْمُتَتابَعُ الَّذي لايَنْفَدُ بِالشُّكْرِ سَرْمَداً وَلايَنْقَضي أَبَداً ، إِذْ جَعَلْتَني مِنْ أَفاضِلِ بَني آدَمَ ، وَجَعَلْتَني سَميعاً بَصيراً صَحيحاً سَويّاً مُعافاً لَمْ تَشْغَلْني بِنُقْصانٍ في بَدَني ، وَلا بِآفَةٍ في جَوارِحي ، وَلا عاهَةٍ في نَفْسي وَلا في عَقْلي.

وَلَمْ يَمْنَعْكَ كَرامَتُكَ إِيَّايَ ، وَحُسْنُ صُنْعِكَ عِنْدي ، وَفَضْلُ نَعْمائِكَ عَلَيَّ إِذْ وَسَّعْتَ عَلَيَّ فِي الدُّنْيا ، وَفَضَّلْتَني عَلى كَثيرٍ مِنْ أَهْلِها تَفْضيلاً ، وَجَعَلْتَني سَميعاً أَعي ما كَلَّفْتَني بَصيراً ، أَرى قُدْرَتَكَ فيما ظَهَرَ لي ، وَاسْتَرْعَيْتَني وَاسْتَوْدَعْتَني قَلْباً يَشْهَدُ بِعَظَمَتِكَ ، وَلِساناً ناطِقاً بِتَوْحيدِكَ، فَإِنّي لِفَضْلِكَ عَلَيَّ حامِدٌ، وَلِتَوْفيقِكَ إِيَّايَ بِحَمْدِكَ شاكِرٌ ، وَبِحَقِّكَ شاهِدٌ، وَ إِلَيْكَ في مُلِمّي وَمُهِمّي ضارِعٌ ، لِأَنَّكَ حَيٌّ قَبْلَ كُلِّ حَيٍّ ، وَحَيٌّ بَعْدَ كُلِّ مَيِّتٍ ، وَحَيٌّ تَرِثُ الْأَرْضَ وَمَنْ عَلَيْها ، وَأَنْتَ خَيْرُ الْوارِثينَ

أَللَّهُمَّ لاتَقْطَعْ عَنّي خَيْرَكَ في كُلِّ وَقْتٍ ، وَلَمْ تُنْزِلْ بي عُقُوباتِ النِّقَمِ ، وَلَمْ تُغَيِّرْ ما بي مِنَ النِّعَمِ ، وَلا أَخْلَيْتَني مِنْ وَثيقِ الْعِصَمِ ، فَلَوْ لَمْ أَذْكُرْ مِنْ إِحْسانِكَ إِلَيَّ وَ إِنْعامِكَ عَلَيَّ إِلّا عَفْوَكَ عَنّي ، وَالْإِسْتِجابَةَ لِدُعائي ، حينَ رَفَعْتُ رَأْسي بِتَحْميدِكَ وَتَمْجيدِكَ، لا في تَقْديرِكَ جَزيلَ حَظّي حينَ وَفَّرْتَهُ انْتَقَصَ مُلْكُكَ ، وَلا في قِسْمَةِ الْأَرْزاقِ حينَ قَتَّرْتَ عَلَيَّ تَوَفَّرَ مُلْكُكَ.

أَللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ عَدَدَ ما أَحاطَ بِهِ عِلْمُكَ ، وَعَدَدَ ما أَدْرَكَتْهُ قُدْرَتُكَ ، وَعَدَدَ ما وَسِعَتْهُ رَحْمَتُكَ ، وَأَضْعافَ ذلِكَ كُلِّهِ ، حَمْداً واصِلاً مُتَواتِراً مُتَوازِياً لِآلائِكَ وَأَسْمائِكَ.

أَللَّهُمَّ فَتَمِّمْ إِحْسانَكَ إِلَيَّ فيما بَقِيَ مِنْ عُمْري ، كَما أَحْسَنْتَ إِلَيَّ ] مِنْهُ [فيما مَضى ، فَإِنّي أَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ بِتَوْحيدِكَ وَتَهْليلِكَ وَتَمْجيدِكَ وَتَكْبيرِكَ وَتَعْظيمِكَ ، ] وَأَسْأَلُكَ بِاسْمِكَ الَّذي خَلَقْتَهُ مِنْ ذلِكَ فَلايَخْرُجُ مِنْكَ إِلّا إِلَيْكَ[.

وَأَسْأَلُكَ بِاسْمِكَ الرُّوحِ الْمَكْنُونِ الْحَيِّ الْحَيِّ الْحَيِّ وَبِهِ وَبِهِ وَبِهِ ، وَبِكَ وَبِكَ وَبِكَ ، أَلّا تَحْرِمَني رِفْدَكَ ، وَفَوائِدَ كَرامَتِكَ ، وَلاتُوَلِّني غَيْرَكَ ، وَلاتُسْلِمَني إِلى عَدُوّي ، وَلاتَكِلَني إِلى نَفْسي ، وَأَحْسِنْ إِلَيَّ أَتَمَّ الْإِحْسانِ عاجِلاً وَآجِلاً ، وَحَسِّنْ فِي الْعاجِلَةِ عَمَلي ، وَبَلِّغْني فيها أَمَلي وَفِي الْآجِلَةِ ، وَالْخَيْرَ في مُنْقَلَبي ، فَإِنَّهُ لاتُفْقِرُكَ كَثْرَةُ ما يَنْدَفِقُ بِهِ فَضْلُكَ ، وَسَيْبُ الْعَطايا مِنْ مَنِّكَ ، وَلايُنْقِصُ جُودَكَ تَقْصيري في شُكْرِ نِعْمَتِكَ ، وَلاتُجِمُّ خَزائِنَ نِعْمَتِكَ النِّعَمُ ، وَلايُنْقِصُ عَظيمَ مَواهِبِكَ مِنْ سِعَتِكَ الْإِعْطاءُ ، وَلاتُؤَثِّرُ في جُودِكَ الْعَظيمِ الْفاضِلِ الْجَليلِ مِنَحُكَ ، وَلاتَخافُ ضَيْمَ إِمْلاقٍ فَتُكْدِيَ ، وَلايَلْحَقُكَ خَوْفُ عُدْمٍ فَيَنْقُصَ فَيْضُ مُلْكِكَ وَفَضْلِكَ.

أَللَّهُمَّ ارْزُقْني قَلْباً خاشِعاً ، وَيَقيناً صادِقاً ، وَبِالْحَقِّ صادِعاً ، وَلاتُؤْمِنّي مَكْرَكَ ، وَلاتُنْسِني ذِكْرَكَ ، وَلاتَهْتِكَ عَنّي سِتْرَكَ ، وَلاتُوَلِّني غَيْرَكَ ، وَلاتُقَنِّطْني مِنْ رَحْمَتِكَ بَلْ تَغَمَّدْني بِفَوائِدِكَ ، وَلاتَمْنَعْني جَميلَ عَوائِدِكَ ، وَكُنْ لي في كُلِّ وَحْشَةٍ أَنيساً ، وَفي كُلِّ جَزَعٍ حِصْناً ، وَمِنْ كُلِّ هَلَكَةٍ غِياثاً.

وَنَجِّني مِنْ كُلِّ بَلاءٍ ، وَاعْصِمْني مِنْ كُلِّ زَلَلٍ وَخَطاءٍ ، وَتَمِّمْ لي فَوائِدَكَ ، وَقِني وَعيدَكَ ، وَاصْرِفْ عَنّي أَليمَ عَذابِكَ وَتَدْميرَ تَنْكيلِكَ ، وَشَرِّفْني بِحِفْظِ كِتابِكَ ، وَأَصْلِحْ لي ديني وَدُنْيايَ وَآخِرَتي وَأَهْلي وَوَلَدي ، وَوَسِّعْ رِزْقي ، وَأَدِرَّهُ عَلَيَّ ، وَأَقْبِلْ عَلَيَّ ، وَلاتُعْرِضْ عَنّي.

أَللَّهُمَّ ارْفَعْني وَلاتَضَعْني ، وَارْحَمْني وَلاتُعَذِّبْني ، وَانْصُرْني وَلاتَخْذُلْني ، وَآثِرْني وَلاتُؤْثِرْ عَلَيَّ ، وَاجْعَلْ لي مِنْ أَمْري يُسْراً وَفَرَجاً ، وَعَجِّلْ إِجابَتي ، وَاسْتَنْقِذْني مِمَّا قَدْ نَزَلَ بي ، إِنَّكَ عَلى كُلِّ شَيْ‏ءٍ قَديرٌ ، وَذلِكَ عَلَيْكَ يَسيرٌ ، وَأَنْتَ الْجَوادُ الْكَريمُ.( البحار : ۲۵۹/۹۵ ، مهج الدعوات : ۱۶۱ ).

حرز یمانی کا واقعہ

محدّث نوری کتاب دارالسّلام میں نقل کرتے ہیں اور کہتے ہیں معروف دعا حرز یمانی کے پشت پر علامہ شیخ محمد تقی مجلسی کے خط سے اس طرح پایا بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ رب العالمین و الصلواة علی اشرف المرسلین محمد و عترتہ الطاھرین۔ و بعد سید نجیب اور ادیب امیر محمد ہاشم بزرگوار سادات میں سے ہے اس نے مجھے سے درخواست کی کہ میں حرز یمانی کی قرائت کی اجازت اس کو دے دوں یہ حرز حضرت امیرالمومنین کی طرف منسوب ہے کہ جو خاتم الانبیاء کے بعد سے بہترین مخلوق ہیں میں نے اس کو اجازت دے دی میں نے سید بزرگوار امیر اسحاق الہ آبادی سے کہ جو کربلاء میں مدفعن ہیں اس نے ہمارے مولیٰ کہ جو کہ جن و انس کے امام ہیں حضرت صاحب العصر سے روایت کی ہے کہ امیر اسحاق استر آبادی کہتے ہیں کہ مکہ کے راستے میں تھکاوٹ نے مجھے کمزور کردیا اور چلنے سے رہ گیا اور کاروا سے پیچھے رہ گیا اور قافلہ سے پیچھے رہ جانے کی وجہ سے میں اپنی زندگی سے مایوس ہوا اس دنیا سے نامید ہوگیا جسے کوئی مر رہاہے اسی طرح پشت کے بل سویا اور شہادتین پڑھنا شروع کیا اچانک میرے سرہانے پر میرے اور دونوں جہاں کے مولیٰ حضرت صاحب الزمان جلو گر ہوئے اور فرمایا اے اسحاق اٹھو میں اُٹھا تشنگی اور پیاس مجھ پر غالب آگئی تھی انہوں نے مجھے پانی دیا اور اپنے سواری پر مجھے سوار کیا جاتے ہوئے میں نے حرز یمانی پڑھنی شروع کی حضرت میری غلطیوں کے تصحیح کرتے تھے یہاں تک کہ حرز تمام ہوا اچانک میں متوجہ ہوا کہ ابطع (مکہ) کی سرزمین پر ہوں سواری سے نیچے اتر آیا اور آنحضرت کو نہیں دیکھا ہمارا قافلہ نوروز کے بعد مکہ میں وارد ہوا جب انہوں نے مجھے مکہ میں دیکھا تو انہوں نے تعجب کیا اور مکہ والوں کے درمیان مشہور ہوا کہ میں طتی الارض کے ساتھ آیا ہوں اس لئے حج کے مراسم کے بعد ایک مدت تک مخفی زندگی گزارتارہا۔

علامہ محمد تقی مجلسی اپنے کلام کو جاری رکھتے ہوئے فرماتے ہیں کہ یہ چالیس مرتبہ خانہ کعبہ کی زیارت سے مشرف ہوا تھا جب کربلاء سے مولائے دوجہاں حضرت امام علی بن موسیٰ الرضا کی زیارت کا عزم کیا تو اصفہان میں ان کی خدمت میں مشرف ہوا تھا اس کے عیال کا مہر یہ ساتھ تومان اس کے ذمہ میں تھا یہ رقم مشہد مقدس میں اپنے سوا کسی ایک شخص کے پاس تھی سید خواب دیکھتاہے کہ اس کی موت قریب آچکی ہے اس لئے وہ کہتاہے کہ میں پچاس سال سے کربلاء میں حضرت امام حسین کے جوار میں ہوں تا کہ وہاں پر مروں یہ کہ میں ڈرتاہوں کہ میری موت کسی اور جگہ نہ آئے ان میں سے ایک رفیق اس واقعہ سے مطلع ہوا اس رقم کو لیکر سیّد کو دیا میں نے سید کو ہمراہ برادران دینی میں سے ایک کے ساتھ کربلاء بھیجا وہ کہتاہے کہ جب سید کربلاء پہنچا اس نے اپنا قرض ادا کیا اس کے بعد بیمار ہوا اور نویں دن اس دار فانی سے دار باقی کی طرف چلا گیا اور ان کو اپنکے گھر میں دفن کردیا گیا جس زمانے میں سید اصفہان میں رہتے تھے میں نے ان سے بہت زیادہ کرامات دیکھے۔ یہ کہنے والی بات ہے کہ اس دعا کے لئے میرے پاس بہت زیادہ اجازت موجود ہیں لیکن میں اسی اجازت پر اکتفا کرتاہوں میں امید رکھتا ہوں کہ مجھ کو دعائے خیر سے فراموش نہ کریں اور آپ سے خواہش ہے کہ یہ دعا صرف خدا کے لئے پڑھو اور دشمن کے نابودی کے لئے کہ جو مومن ہے اگر فاسق و ظالم ہوں ان کے لئے نہ پرھے اور اس دعا کو بے قدر دنیا کے جمع کرنے کے لئے نہ پڑھے بلکہ سزاوار ہے کہ اس دعا کو قرب الٰہی حاصل کرنے کے لئے اور جن و انس کے شیاطین کے ضرر کو دور کرنے کے لئے پڑھے نیاز مند بروردگار غنی محمد تقی مجلسی اصفہانی۔

یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ اس حکایت کی پہلی قسمت کہ جو حضرت حجت کے ساتھ ملاقات کے بارے میں ہے اس کو علامہ مجلسی نے بحار الانوار کی تیرہویں جلد میں کافی اختلاف کے ساتھ نقل کیا ہے۔

علامہ بزرگوار مجلسی کہتے ہیں جو دعا حرز یمانی کے نام سے معروف ہے یہی دعاء سیفی کے نام سے بھی معروف ہے اس دعا کے لئے متعدد سند اور قسم قسم کے روایت دیکھی ہیں لیکن ان میں سے جو سب سے مہم ہے اس کو یہاں پر بیان کرتاہوں۔

عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن جعفر کہتے ہیں کہ ایک دن امیرالمومنین کی خدمت میں حاضر تھا اتنے میں امام حسن وارد ہوئے اور فرمایا اے امیرالمومنین ایک مرد دروازے پر کھڑا ہے اس سے کستوری کی خوشبو آتی ہے۔ اور وہ اندر آنا چاہتاہے حضرت نے فرمایا اس کو اندر آنے کی اجازت دیں اس وقت ایک تنومند مرد خوش شکل اور خوبصورت بڑی آنکھوں والا اور فصیح زبان بولنے والا ہے۔ اس کے بدن پر بادشاہوں کے لباس تھے داخل ہوا اور کہا السلام علیک یا امیرالمومنین و رحمة اللہ و برکاتہ میں یمن کے دور دراز شہر کا رہنے والا ایک مرد ہوں اشراف میں سے اور عرب کے بزرگان میں سے کہ آپ سے منسوب ہوں میں آپ کے پاس آیا ہوں۔ میں نے اپنے پیچھے ایک عطیم ملک اور بہت زیادہ نعمتیں چھوڑ کر آیا ہوں میری زندگی اچھی گزرتی تھی میرے کاروبار میں ترقی ہوتی تھی زندگی کے انجام کو جانت اھتا اچانک میری کسی سے دشمنی ہوئی اور اس نے مجھ پر ظلم کیا اس کے حامی قبیلہ کی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے وہ مجھ پر غالب آگیا میں نے مہم تدبیر کو اپنایا لیکن اس میں بھی کامیاب نہیں ہوا میں نے کوئی اور چارہ کار نہیں دیکھا میں ان تدابیر سے تھک گیا ایک رات عالم خواب میں ایک شخص کو دیکھا کہ وہ میرے پاس آیا اور مجھ سے کہا ایے مرد اٹھو اور پیغمبر کے بعد سب سے بہترین مخلوق علی کے پاس جاؤ اور اس سے دعا طلب کرو کہ جس دعا کو حبیب خدا محمد نے اس کو یاد کرایا ہے کہ وہ تمہیں یاد کرائے کہ اس دعا میں اسم اعظم ہے اور اس دعا کو اس دشمن کے سامنے پڑھو کہ جو تیرے ساتھ جنگ کرتاہے اے امیرالمومنین میں خواب سے بیدار ہوا میں نے کوئی کام نہیں کیا بلا فاصلہ چار سو غلاموں کو لیکر آپکی طرف آیا ہوں میں خدا پیغمبر اور تجھ کو گواہ قرار دیتاہوں کہ میں نے ان غلاموں کو خدا کی خاطر آزاد کرلیا اب اے امیرالمومنین میں دور دراز اور پر پیچ و خم والے راستے سے بہت زیادہ مسافت طے کرکے آپ کی خدمت میں آیا ہوں میرا بدن لاغر ہوا ہے اور بدن کے اعضاء راستے کی تھکاوٹ اور سفر کی وجہ سے کمزور ہوئے ہیں اے امیرالمومین مجھ پر احسان کریں اور آپکو آپکے باپ اور رشتہ داری کی قسم دیتاہوں کہ آپ اپنے فضل سے جو خواب میں دیکھاہے اور مجھے بتایا گیا ہے کہ میں آپ کے پاس آؤں اس دعا کو مجھے یاد کرادیں حضرت امیرالمومنین علی نے فرمایا کیوں نہیں انشاء اللہ میں اس دعا کو یاد کرادوں گا اس وقت حضرت نے کاغذ اور قلم طلب کیا اور اس دعا کو لکھا۔

حرز یمانی

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمنِ الرَّحيمِ

أَللَّهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ الْحَقُّ الَّذي لا إِلهَ إِلّا أَنْتَ ، وَأَنَا عَبْدُكَ ، ظَلَمْتُ نَفْسي ، وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبي ، وَلايَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلّا أَنْتَ ، فَاغْفِرْ لي يا غَفُورُ يا شَكُورُ.

أَللَّهُمَّ إِنّي أَحْمَدُكَ، وَأَنْتَ لِلْحَمْدِ أَهْلٌ ، عَلى ما خَصَصْتَني بِهِ مِنْ مَواهِبِ الرَّغائِبِ، وَما وَصَلَ إِلَيَّ مِنْ فَضْلِكَ السَّابِغِ، وَما أَوْلَيْتَني بِهِ مِنْ إِحْسانِكَ إِلَيَّ ، وَبَوَّأْتَني بِهِ مِنْ مَظَنَّةِ الْعَدْلِ ، وَأَنَلْتَني مِنْ مَنِّكَ الْواصِلِ إِلَيَّ ، وَمِنَ الدِّفاعِ عَنّي ، وَالتَّوْفيقِ لي ، وَالْإِجابَةِ لِدُعائي حَيْنَ اُناجيكَ داعِياً.

وَأَدْعُوكَ مُضاماً ، وَأَسْأَلُكَ فَأَجِدُكَ فِي الْمَواطِنِ كُلِّها لي جابِراً ، وَفِي الْاُمُورِ ناظِراً ، وَلِذُنُوبي غافِراً ، وَلِعَوْراتي ساتِراً ، لَمْ أَعْدَمْ خَيْرَكَ طَرْفَةَ عَيْنٍ مُنْذُ أَنْزَلْتَني دارَ الْإِخْتِيارِ ، لِتَنْظُرَ ما اُقَدِّمُ لِدارِ الْقَرارِ ، فَأَنَا عَتيقُكَ مِنْ جَميعِ الْآفاتِ وَالْمَصائِبِ ، فِي اللَّوازِبِ وَالْغُمُومِ الَّتي ساوَرَتْني فيهَا الْهُمُومُ ، بِمَعاريضِ أَصْنافِ الْبَلاءِ ، وَمَصْرُوفِ جُهْدِ الْقَضاءِ ، لا أَذْكُرُ مِنْكَ إِلّاَ الْجَميلَ ، وَلا أَرى مِنْكَ غَيْرَ التَّفْضيلِ.

خَيْرُكَ لي شامِلٌ ، وَفَضْلُكَ عَلَيَّ مُتَواتِرٌ ، وَنِعْمَتُكَ عِنْدي مُتَّصِلَةٌ ، وَسَوابِقُ لَمْ تُحَقِّقْ حِذاري ، بَلْ صَدَّقْتَ رَجائي ، وَصاحَبْتَ أَسْفاري ، وَأَكْرَمْتَ أَحْضاري ، وَشَفَيْتَ أَمْراضي وَأَوْهاني ، وَعافَيْتَ مُنْقَلَبي وَمَثْوايَ ، وَلَمْ تُشْمِتْ بي أَعْدائي ، وَرَمَيْتَ مَنْ رَماني ، وَكَفَيْتَني مَؤُونَةَ مَنْ عاداني.

فَحَمْدي لَكَ واصِلٌ ، وَثَنائي عَلَيْكَ دائِمٌ ، مِنَ الدَّهْرِ إِلَى الدَّهْرِ ، بِأَلْوانِ التَّسْبيحِ ، خالِصاً لِذِكْرِكَ ، وَمَرْضِيّاً لَكَ بِناصِعِ التَّوْحيدِ ، وَإِمْحاضِ التَّمْجيدِ بِطُوْلِ التَّعْديدِ ، وَمَزِيَّةِ أَهْلِ الْمَزيدِ ، لَمْ تُعَنْ في قُدْرَتِكَ ، وَلَمْ تُشارَكَ في إِلهِيَّتِكَ ، وَلَمْ تُعْلَمْ لَكَ مائِيَّةً فَتَكُونَ لِلْأَشْياءِ الْمُخْتَلِفَةِ مُجانِساً ، وَلَمْ تُعايَنْ إِذْ حَبَسْتَ الْأَشْياءَ عَلَى الْغَرائِزِ ، وَلا خَرَقَتِ الْأَوْهامُ حُجُبَ الغُيُوبِ ، فَتَعْتَقِدُ فيكَ مَحْدُوداً في عَظَمَتِكَ ، فَلا يَبْلُغُكَ بُعْدُ الْهِمَمِ ، وَلايَنالُكَ غَوْصُ الْفِكَرِ ، وَلايَنْتَهي إِلَيْكَ نَظَرُ ناظِرٍ في مَجْدِ جَبَرُوتِكَ.

اِرْتَفَعَتْ عِنْ صِفَةِ الْمَخْلُوقينَ صِفاتُ قُدْرَتِكَ ، وَعَلا عَنْ ذلِكَ كِبْرِياءُ عَظَمَتِكَ ، لايَنْقُصُ ما أَرَدْتَ أَنْ يَزْدادَ ، وَلايَزْدادُ ما أَرَدْتَ أَنْ يَنْقُصَ ، لا أَحَدَ حَضَرَكَ حينَ بَرَأْتَ النُّفُوسَ ، كَلَّتِ الْأَوْهامُ عَنْ تَفْسيرِ صِفَتِكَ ، وَانْحَسَرَتِ الْعُقُولُ عَنْ كُنْهِ عَظَمَتِكَ ، وَكَيْفَ تُوْصَفُ وَأَنْتَ الْجَبَّارُ الْقُدُّوسُ ، اَلَّذي لَمْ تَزَلْ أَزَلِيّاً دائِماً فِي الْغُيُوبِ وَحْدَكَ لَيْسَ فيها غَيْرُكَ وَلَمْ يَكُنْ لَها سِواكَ.

حارَ في مَلَكُوتِكَ عَميقاتُ مَذاهِبِ التَّفْكيرِ ، فَتَواضَعَتِ الْمُلُوكُ لِهَيْبَتِكَ ، وَعَنَتِ الْوُجُوهُ بِذُلِّ الْإِسْتِكانَةِ لَكَ ، وَانْقادَ كُلُّ شَيْ‏ءٍ لِعَظَمَتِكَ ، وَاسْتَسْلَمَ كُلُّ شَيْ‏ءٍ لِقُدْرَتِكَ ، وَخَضَعَتْ لَكَ الرِّقابُ ، وَ كَلَّ دُونَ ذلِكَ تَحْبيرُ اللُّغاتِ ، وَضَلَّ هُنالِكَ التَّدْبيرُ في تَصاريفِ الصِّفاتِ ، فَمَنْ تَفَكَّرَ في ذلِكَ رَجَعَ طَرْفُهُ إِلَيْهِ حَسيراً ، وَعَقْلُهُ مَبْهُوراً ، وَتَفَكُّرُهُ مُتَحَيِّراً.

أَللَّهُمَّ فَلَكَ الْحَمْدُ مُتَواتِراً مُتَوالِياً مُتَّسِقاً مُسْتَوْثِقاً ، يَدُومُ وَلايَبيدُ غَيْرَ مَفْقُودٍ فِي الْمَلَكُوتِ ، وَلا مَطْمُوسٍ فِي الْمَعالِمِ ، وَلا مُنْتَقِصٍ فِي الْعِرْفانِ ، وَلَكَ الْحَمْدُ ما لاتُحْصى مَكارِمُهُ فِي اللَّيْلِ إِذا أَدْبَرَ ، وَالصُّبْحِ إِذا أَسْفَرَ ، وَفِي الْبَراري وَالْبِحارِ ، وَالْغُدُوِّ وَالْآصالِ ، وَالْعَشِيِّ وَالْإِبْكارِ ، وَفِي الظَّهائِرِ وَالْأَسْحارِ.

أَللَّهُمَّ بِتَوْفيقِكَ قَدْ أَحْضَرْتَنِي الرَّغْبَةَ ، وَجَعَلْتَني مِنْكَ في وِلايَةِ الْعِصْمَةِ لَمْ أَبْرَحْ في سُبُوغِ نَعْمائِكَ ، وَتَتابُعِ آلائِكَ مَحْفُوظاً لَكَ فِي الْمَنْعَةِ وَالدِّفاعِ مَحُوطاً بِكَ في مَثْوايَ وَمُنْقَلَبي ، وَلَمْ تُكَلِّفْني فَوْقَ طاقَتي ، إِذْ لَمْ تَرْضَ مِنّي إِلّا طاعَتي ، وَلَيْسَ شُكْري وَإِنْ أَبْلَغْتُ فِي الْمَقالِ وَبالَغْتُ فِي الْفِعالِ بِبالِغِ أَداءِ حَقِّكَ ، وَلا مُكافِياً لِفَضْلِكَ ، لِأَنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ الَّذي لا إِلهَ إِلّا أَنْتَ ، لَمْ تَغِبْ وَلا تَغيبُ عَنْكَ غائِبَةٌ ، وَلاتَخْفى عَلَيْكَ خافِيَةٌ ، وَلَمْ تَضِلَّ لَكَ في ظُلَمِ الْخَفِيَّاتِ ضالَّةٌ ، إِنَّما أَمْرُكَ إِذا أَرَدْتَ شَيْئاً أَنْ تَقُولَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ.

أَللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ مِثْلَ ما حَمِدْتَ بِهِ نَفْسَكَ ، وَحَمِدَكَ بِهِ الْحامِدُونَ ، وَمَجَّدَكَ بِهِ الْمُمَجِّدُونَ ، وَكَبَّرَكَ بِهِ الْمُكَبِّرُونَ ، وَعَظَّمَكَ بِهِ الْمُعَظِّمُونَ ، حَتَّى يَكُونَ لَكَ مِنّي وَحْدي بِكُلِّ طَرْفَةِ عَيْنٍ ، وَأَقَلَّ مِنْ ذلِكَ مِثْلُ حَمْدِ الْحامِدينَ ، وَتَوْحيدِ أَصْنافِ الْمُخْلِصينَ ، وَتَقْديسِ أَجْناسِ الْعارِفينَ ، وَثَناءِ جَميعِ الْمُهَلِّلينَ ، وَمِثْلُ ما أَنْتَ بِهِ عارِفٌ مِنْ جَميعِ خَلْقِكَ مِنَ الْحَيَوانِ ، وَأَرْغَبُ إِلَيْكَ في رَغْبَةِ ما أَنْطَقْتَني بِهِ مِنْ حَمْدِكَ ، فَما أَيْسَرَ ما كَلَّفْتَني بِهِ مِنْ حَقِّكَ ، وَأَعْظَمَ ما وَعَدْتَني عَلى شُكْرِكَ.

اِبْتَدَأْتَني بِالنِّعَمِ فَضْلاً وَطَوْلاً ، وَأَمَرْتَني بِالشُّكْرِ حَقّاً وَعَدْلاً ، وَوَعَدْتَني عَلَيْهِ أَضْعافاً وَمَزيداً ، وَأَعْطَيْتَني مِنْ رِزْقِكَ اعْتِباراً وَفَضْلاً ، وَسَأَلْتَني مِنْهُ يَسيراً صَغيراً ، وَأَعْفَيْتَني مِنْ جُهْدِ الْبَلاءِ وَلَمْ تُسْلِمْني لِلسُّوءِ مِنْ بَلاءِكَ مَعَ ما أَوْلَيْتَني مِنَ الْعافِيَةِ ، وَسَوَّغْتَ مِنْ كَرائِمِ النَّحْلِ ، وَضاعَفْتَ لِيَ الْفَضْلَ مَعَ ما أَوْدَعْتَني مِنَ الْمَحَجَّةِ الشَّريفَةِ ، وَيَسَّرْتَ لي مِنَ الدَّرَجَةِ الْعالِيَةِ الرَّفيعَةِ ، وَاصْطَفَيْتَني بِأَعْظَمِ النَّبِيّينَ دَعْوَةً ، وَأَفْضَلِهِمْ شَفاعَةً ، مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ.

أَللَّهُمَّ فَاغْفِرْ لي ما لايَسَعُهُ إِلّا مَغْفِرَتُكَ ، وَلا يَمْحَقُهُ إِلّا عَفْوُكَ ، وَلا يُكَفِّرُهُ إِلّا فَضْلُكَ ، وَهَبْ لي في يَوْمي يَقيناً تُهَوِّنُ عَلَيَّ بِهِ مُصيباتِ الدُّنْيا وَأَحْزانَها بِشَوْقٍ إِلَيْكَ ، وَرَغْبَةٍ فيما عِنْدَكَ ، وَاكْتُبْ لي عِنْدَكَ الْمَغْفِرَةَ ، وَبَلِّغْنِي الْكَرامَةَ ، وَارْزُقْني شُكْرَ ما أَنْعَمْتَ بِهِ عَلَيَّ ، فَإِنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ الْواحِدُ الرَّفيعُ الْبَدي‏ءُ الْبَديعُ السَّميعُ الْعَليمُ ، اَلَّذي لَيْسَ لِأَمْرِكَ مَدْفَعٌ ، وَلا عَنْ قَضائِكَ مُمْتَنِعٌ ، أَشْهَدُ أَنَّكَ رَبّي وَرَبُّ كُلِّ شَيْ‏ءٍ ، فاطِرُ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ ، عالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهادَةِ ، اَلْعَلِيُّ الْكَبيرُ.

أَللَّهُمَّ إِنّي أَسْأَلُكَ الثَّباتَ فِي الْأَمْرِ ، وَالْعَزيمَةَ عَلَى الرُّشْدِ ، وَالشُّكْرَ عَلى نِعْمَتِكَ ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ جَوْرِ كُلِّ جائِرٍ ، وَبَغْيِ كُلِّ باغٍ ، وَحَسَدِ كُلِّ حاسِدٍ ، بِكَ أَصُولُ عَلَى الْأَعْداءِ ، وَبِكَ أَرْجُو وِلايَةَ الْأَحِبَّاءِ مَعَ ما لا أَسْتَطيعُ إِحْصاءَهُ ، وَلاتَعْديدَهُ مِنْ عَوائِدِ فَضْلِكَ ، وَطُرَفِ رِزْقِكَ ، وَأَلْوانِ ما أَوْلَيْتَ مِنْ إِرْفادِكَ ، فَإِنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ الَّذي لا إِلهَ إِلّا أَنْتَ ، اَلْفاشي فِي الْخَلْقِ رِفْدُكَ ، اَلْباسِطُ بِالْجُودِ يَدُكَ ، وَلاتُضادُّ في حُكْمِكَ ، وَلاتُنازَعُ في أَمْرِكَ ، تَمْلِكُ مِنَ الْأَنامِ ما تَشاءُ ، وَلايَمْلِكُونَ إِلّا ما تُريدُ.

«قُلِ اللَّهُمَّ مالِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشاءُ ، وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشاءُ ، وَتُعِزُّ مَنْ تَشاءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشاءُ بِيَدِكَ الْخَيْرُ إِنَّكَ عَلى كُلِّ شَيْ‏ءٍ قَديرٌ × تُولِجُ اللَّيْلَ فِي النَّهارِ وَتُولِجُ النَّهارَ فِي اللَّيْلِ وَتُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَتُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ وَتَرْزُقُ مَنْ تَشاءُ بِغَيْرِ حِسابٍ »

أَنْتَ الْمُنْعِمُ الْمُفْضِلُ الْخالِقُ الْبارِئُ الْقادِرُ الْقاهِرُ الْمُقَدَّسُ في نُورِ الْقُدْسِ ، تَرَدَّيْتَ بِالْمَجْدِ وَالْعِزِّ ، وَتَعَظَّمْتَ بِالْكِبْرِياءِ ، وَتَغَشَّيْتَ بِالنُّورِ وَالْبَهاءِ ، وَتَجَلَّلْتَ بِالْمَهابَةِ وَالسَّناءِ ، لَكَ الْمَنُّ الْقَديمُ ، وَالسُّلْطانُ الشَّامِخُ ، وَالْجُودُ الْواسِعُ ، وَالْقُدْرَةُ الْمُقْتَدِرَةُ ، جَعَلْتَني مِنْ أَفْضَلِ بَني آدَمَ ، وَجَعَلْتَني سَميعاً بَصيراً ، صَحيحاً سَوِيّاً مُعافاً ، لَمْ تَشْغَلْني بِنُقْصانٍ في بَدَني ، وَلَمْ تَمْنَعْكَ كَرامَتُكَ إِيَّايَ ، وَحُسْنُ صَنيعِكَ عِنْدي ، وَفَضْلُ إِنْعامِكَ عَلَيَّ ، أَنْ وَسَّعْتَ عَلَيَّ فِي الدُّنْيا ، وَفَضَّلْتَني عَلى كَثيرٍ مِنْ أَهْلِها ، فَجَعَلْتَ لي سَمْعاً يَسْمَعُ آياتِكَ ، وَفُؤاداً يَعْرِفُ عَظَمَتِكَ ، وَأَنَا بِفَضْلِكَ حامِدٌ ، وَبِجُهْدِ يَقيني لَكَ شاكِرٌ ، وَبِحَقِّكَ شاهِدٌ.

فَإِنَّكَ حَيٌّ قَبْلَ كُلِّ حَيٍّ ، وَحَيٌّ بَعْدَ كُلِّ حَيٍّ ، وَحَيٌّ لَمْ تَرِثِ الْحَياةَ مِنْ حَيٍّ ، وَلَمْ تَقْطَعْ خَيْرَكَ عَنّي طَرْفَةَ عَيْنٍ في كُلِّ وَقْتٍ ، وَلَمْ تُنْزِلْ بي عُقُوباتِ النِّقَمِ ، وَلَمْ تُغَيِّرْ عَلَيَّ دَقائِقَ الْعِصَمِ ، فَلَوْ لَمْ أَذْكُرْ مِنْ إِحْسانِكَ إِلّا عَفْوَكَ ، وَ إِجابَةَ دُعائي حينَ رَفَعْتُ رَأْسي بِتَحْميدِكَ وَتَمْجيدِكَ ، وَفي قِسْمَةِ الْأَرْزاقِ حينَ قَدَّرْتَ ، فَلَكَ الْحَمْدُ عَدَدَ ما حَفَظَهُ عِلْمُكَ ، وَعَدَدَ ما أَحاطَتْ بِهِ قُدْرَتُكَ ، وَعَدَدَ ما وَسِعَتْهُ رَحْمَتُكَ.

أَللَّهُمَّ فَتَمِّمْ إِحْسانَكَ فيما بَقِيَ ، كَما أَحْسَنْتَ فيما مَضى ، فَإِنّي أَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ بِتَوْحيدِكَ وَتَمْجيدِكَ ، وَتَحْميدِكَ وَتَهْليلِكَ ، وَتَكْبيرِكَ وَتَعْظيمِكَ ، وَبِنُورِكَ وَرَأْفَتِكَ ، وَرَحْمَتِكَ وَعُلُوِّكَ ، وَجَمالِكَ وَجَلالِكَ ، وَبَهائِكَ وَسُلْطانِكَ ، وَقُدْرَتِكَ وَبِمُحَمَّدٍ وَآلِهِ الطَّاهِرينَ ، أَلّا تَحْرِمَني رِفْدَكَ وَفَوائِدَكَ.

فَإِنَّهُ لايَعْتَريكَ لِكَثْرَةِ ما يَتَدَفَّقُ بِهِ عَوائِقُ الْبُخْلِ ، وَلايَنْقُصُ جُودَكَ تَقْصيرٌ في شُكْرِ نِعْمَتِكَ ، وَلاتُفْني خَزائِنَ مَواهِبِكَ النِّعَمُ ، وَلاتَخافُ ضَيْمَ إِمْلاقٍ فَتُكْدِيَ وَلايَلْحَقُكَ خَوْفُ عُدْمٍ فَيَنْقُصَ فَيْضُ فَضْلِكَ.

أَللَّهُمَّ ارْزُقْني قَلْباً خاشِعاً ، وَيَقيناً صادِقاً ، وَلِساناً ذاكِراً ، وَلاتُؤْمِنّي مَكْرَكَ ، وَلاتَكْشِفْ عَنّي سِتْرَكَ ، وَلاتُنْسِني ذِكْرَكَ ، وَلاتُباعِدْني مِنْ جَوارِكَ ، وَلاتَقْطَعْني مِنْ رَحْمَتِكَ ، وَلاتُؤْيِسْني مِنْ رَوْحِكَ ، وَكُنْ لي أَنيساً مِنْ كُلِّ وَحْشَةٍ ، وَاعْصِمْني مِنْ كُلِّ هَلَكَةٍ ، وَنَجِّني مِنْ كُلِّ بَلاءٍ ، فَإِنَّكَ لاتُخْلِفُ الْميعادَ.

أَللَّهُمَّ ارْفَعْني وَلاتَضَعْني، وَزِدْني وَلاتَنْقُصْني، وَارْحَمْني وَلاتُعَذِّبْني، وَانْصُرْني وَلاتَخْذُلْني ، وَآثِرْني وَلاتُؤْثِرْ عَلَيَّ ، وَصَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ الطَّيِّبينَ الطَّاهِرينَ ، وَسَلَّمَ تَسْليماً كَثيراً.

ابن عباس کہتاہے: حضرت نے یہ دعا یمنی مرد کو دی اور فرمایا اس دعا کی اچھی طرح حفاظت کرلو ہر روز ایک دفعہ پڑھ لو مجھے امید ہے کہ آپ کے اپنے شہر پہنچنے سے پہلے اللہ تعالیٰ تمہارے دشمن کو ہلاک کرے گا چونکہ میں نے سنا ہے کہ جو بھی اس دعا کو صحیح نیت اور متواضع دل کے ساتھ پڑھ لے اس وقت پہاڑوں کو حکم دیا جائے کہ حرکت کریں تو حرکت کرنے لگیں گے اگر کہین سفر کرنے کا ارادہ کروگے اس دعا کی برکت سے خطراف سے محفوظ ہو کر سلامتی کے ساتھ اپنے سفر کو ختم کروگے یمنی مرد اپنے شہر کی طرف روانہ ہوا چالیس دن گزرنے کے بعد حضرت کی خدمت میں اس یمنی شخص کا خط پہنچا کہ خدا نے اس کے دشمن کو ہلاک کیا ہے اور اس کے دشمن یہاں پر ایک بھی نہیں بچا ہے۔

حضرت امیرالمومنین نے فرمایا:

میں جانتا تھا کہ ایسا ہی ہوگا اس دعا کو رسول خدا نے مجھے تعلیم دی تھی کوئی سختی اور دشواری میرے لئے پیش نہیں اتی مگر یہ کہ میں اس دعا کو پڑھا اور وہ سختی اور دشواری میرے لیئے آسان ہوگئی۔

۔ دعائے حریق

أَللَّهُمَّ إِنّي أَصْبَحْتُ اُشْهِدُكَ وَكَفى بِكَ شَهِيداً ، وَاُشْهِدُ مَلائِكَتَكَ وَحَمَلَةَ عَرْشِكَ وَسُكَّانَ سَبْعِ سَماواتِكَ وَأَرَضيكَ وَأَنْبِياءَكَ وَرُسُلَكَ وَوَرَثَةَ أَنْبِياءِكَ وَرُسُلِكَ وَالصَّالِحينَ مِنْ عِبادِكَ وَجَميعَ خَلْقِكَ ، فَاشْهَدْ لي وَكَفى بِكَ شَهيداً ، أَنّي أَشْهَدُ أَنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ لا إِلهَ إِلّا أَنْتَ الْمَعْبُودُ وَحْدَكَ لا شَريكَ لَكَ ، وَأَنَّ مُحَمَّداً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ ، وَأَنَّ كُلَّ مَعْبُودٍ مِمَّا دُونَ عَرْشِكَ إِلى قَرارِ أَرْضِكَ السَّابِعَةِ السُّفْلى باطِلٌ مُضْمَحِلٌّ ما خَلا وَجْهَكَ الْكَريمَ ، فَإِنَّهُ أَعَزُّ وَأَكْرَمُ وَأَجَلُّ وَأَعْظَمُ مِنْ أَنْ يَصِفَ الْواصِفُونَ كُنْهَ جَلالِهِ أَوْ تَهْتَدِيَ الْقُلُوبُ إِلى كُنْهِ عَظَمَتِهِ ، يا مَنْ فاقَ مَدْحَ الْمادِحينَ فَخْرُ مَدْحِهِ ، وَعَدا وَصْفَ الْواصِفينَ مَآثِرُ حَمْدِهِ ، وَجَلَّ عَنْ مَقالَةِ النَّاطِقينَ تَعْظيمُ شَأْنِهِ ، صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ، وَافْعَلْ بِنا ما أَنْتَ أَهْلُهُ ، يا أَهْلَ التَّقْوى وَأَهْلَ الْمَغْفِرَةِ ثلاثاً.

ثمّ تقول إحدى عشرة مرةّ :

لا إِلهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لا شَريكَ لَهُ ، سُبْحانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ ، أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ ، ما شاءَ اللَّهُ وَلا قُوَّةَ إِلّا بِاللَّهِ ، هُوَ الْأَوَّلُ وَالْآخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْباطِنُ ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ ، يُحْيي وَيُميتُ ، وَيُميتُ وَيُحْيي ، وَهُوَ حَيٌّ لايَمُوتُ ، بِيَدِهِ الْخَيْرُ ، وَهُوَ عَلى كُلِّ شَيْ‏ءٍ قَديرٌ.

ثمّ تقول إحدى عشرة مرّة :

سُبْحانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ للَّهِِ وَلا إِلهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ ، أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ ، ما شاءَ اللَّهُ لا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ إِلّا بِاللَّهِ الْحَليمِ الْكَريمِ الْعَلِيِّ الْعَظيمِ الرَّحْمنِ الرَّحيمِ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ الْحَقِّ الْمُبينِ ، عَدَدَ خَلْقِهِ وَزِنَةَ عَرْشِهِ وَمِلْأَ سَماواتِهِ وَأَرَضيهِ ، وَعَدَدَ ما جَرى بِهِ قَلَمُهُ وَأَحْصاهُ كِتابُهُ وَمِدادُ كَلِماتِهِ وَرِضا نَفْسِهِ.

ثمّ قل :

أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَأَهْلِ بَيْتِ مُحَمَّدٍ الْمُبارَكينَ ، وَصَلِّ عَلى جَبْرَئيلَ وَميكائيلَ وَإِسْرافيلَ ، وَحَمَلَةِ عَرْشِكَ أَجْمَعينَ ، وَالْمَلائِكَةِ الْمُقَرَّبينَ أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِمْ حَتَّى تُبَلِّغَهُمُ الرِّضا ، وَتَزيدَهُمْ بَعْدَ الرِّضا مِمَّا أَنْتَ أَهْلُهُ ، يا أَرْحَمَ الرَّاحِمينَ.

أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ، وَصَلِّ عَلى مَلَكِ الْمَوْتِ وَأَعْوانِهِ ، وَصَلِّ عَلى رِضْوانَ وَخَزَنَةِ الْجِنانِ ، وَصَلِّ عَلى مالِكٍ وَخَزَنَةِ النّيرانِ أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِمْ حَتَّى تُبَلِّغَهُمُ الرِّضا ، وَتَزيدَهُمْ بَعْدَ الرِّضا مِمَّا أَنْتَ أَهْلُهُ ، يا أَرْحَمَ الرَّاحِمينَ.

أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى الْكِرامِ الْكاتِبينَ ، وَالسَّفَرَةِ الْكِرامِ الْبَرَرَةِ ، وَالْحَفَظَةِ لِبَني آدَمَ ، وَصَلِّ عَلى مَلائِكَةِ الْهَواءِ وَالسَّماواتِ الْعُلى ، وَمَلائِكَةِ الْأَرَضينَ السُّفْلى ، وَمَلائِكَةِ اللَّيْلِ وَالنَّهارِ ، وَالْأَرْضِ وَالْأَقْطارِ ، وَالْبِحارِ وَالْأَنْهارِ ، وَالْبَراري وَالْفَلَواتِ وَالْقِفارِ ، وَصَلِّ عَلى مَلائِكَتِكَ الَّذينَ أَغْنَيْتَهُمْ عَنِ الطَّعامِ وَالشَّرابِ بِتَسْبيحِكَ وَتَقْديسِكَ وَعِبادَتِكَ أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِمْ حَتَّى تُبَلِّغَهُمُ الرِّضا ، وَتَزيدَهُمْ بَعْدَ الرِّضا مِمَّا أَنْتَ أَهْلُهُ يا أَرْحَمَ الرَّاحِمينَ.

أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ، وَصَلِّ عَلى أَبينا آدَمَ ، وَاُمِّنا حَوَّاءَ وَما وَلَدا مِنَ النَّبيّينَ وَالصِّدّيقينَ وَالشُّهَداءِ وَالصَّالِحينَ أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِمْ حَتَّى تُبَلِّغَهُمُ الرِّضا ، وَتَزيدَهُمْ بَعْدَ الرِّضا مِمَّا أَنْتَ أَهْلُهُ ، يا أَرْحَمَ الرَّاحِمينَ.

أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَأَهْلِ بَيْتِهِ الطَّيِّبينَ ، وَعَلى أَصْحابِهِ الْمُنْتَجَبينَ ، وَعَلى أَزْواجِهِ الْمُطَهَّراتِ ، وَعَلى ذُرِّيَّةِ مُحَمَّدٍ ، وَعَلى كُلِّ نَبِيٍّ بَشَّرَ بِمُحَمَّدٍ ، وَعَلى كُلِّ نَبِيٍّ وَلَدَ مُحَمَّداً ، وَعَلى كُلِّ مَنْ في صَلَواتِكَ عَلَيْهِ رِضىً لَكَ وَرِضىً لِنَبِيِّكَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِمْ حَتَّى تُبَلِّغَهُمُ الرِّضا ، وَتَزيدَهُمْ بَعْدَ الرِّضا مِمَّا أَنْتَ أَهْلُهُ ، يا أَرْحَمَ الرَّاحِمينَ.

أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ، وَبارِكْ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ، وَارْحَمْ مُحَمَّداً وَآلِ مُحَمَّدٍ ، كَأَفْضَلِ ما صَلَّيْتَ وَبارَكْتَ وَتَرَحَّمْتَ عَلى إِبْراهيمَ وَآلِ إِبْراهيمَ ، إِنَّكَ حَميدٌ مَجيدٌ.

أَللَّهُمَّ أَعْطِ مُحَمَّداً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ الْوَسيلَةَ وَالْفَضْلَ ، وَالْفَضيلَةَ وَالدَّرَجَةَ الرَّفيعَةَ ، وَأَعْطِهِ حَتَّى يَرْضى ، وَزِدْهُ بَعْدَ الرِّضا مِمَّا أَنْتَ أَهْلُهُ ، يا أَرْحَمَ الرَّاحِمينَ.

أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ، كَما أَمَرْتَنا أَنْ نُصَلِّيَ عَلَيْهِ أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ، كَما يَنْبَغي لَنا أَنْ نُصَلِّيَ عَلَيْهِ أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ بِعَدَدِ مَنْ صَلَّى عَلَيْهِ.

أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ بِعَدَدِ مَنْ لَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ بِعَدَدِ كُلِّ حَرْفٍ في صَلوةٍ صُلِّيَتْ عَلَيْهِ أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ بِعَدَدِ مَنْ صَلَّى عَلَيْهِ وَمَنْ لَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ

أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ بِعَدَدِ كُلِّ شَعْرَةٍ وَلَفْظَةٍ وَلَحْظَةٍ وَنَفَسٍ وَصِفَةٍ وَسُكُونٍ وَحَرَكَةٍ مِمَّنْ صَلَّى عَلَيْهِ ، وَمِمَّنْ لَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ ، وَبِعَدَدِ ساعاتِهِمْ وَدَقائِقِهِمْ ، وَسُكُونِهِمْ وَحَرَكاتِهِمْ ، وَحَقائِقِهِمْ وَميقاتِهِمْ ، وَصِفاتِهِمْ وَأَيَّامِهِمْ ، وَشُهُورِهِمْ وَسِنيهِمْ ، وَأَشْعارِهِمْ وَأَبْشارِهِمْ ، وَبِعَدَدِ زِنَةِ ذَرِّ ما عَمِلُوا ، أَوْ يَعْمَلُونَ أَوْ بَلَغَهُمْ أَوْ رَأَوْا أَوْ ظَنُّوا أَوْ فَطِنُوا ، أَوْ كانَ مِنْهُمْ ، أَوْ يَكُونُ إِلى يَوْمِ الْقِيامَةِ ، وَكَأَضْعافِ ذلِكَ أَضْعافاً مُضاعَفَةً إِلى يَوْمِ الْقِيامَةِ ، يا أَرْحَمَ الرَّاحِمينَ.

أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ بِعَدَدِ ما خَلَقْتَ ، وَما أَنْتَ خالِقُهُ إِلى يَوْمِ الْقِيامَةِ ، صَلوةً تُرْضيهِ

أَللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ وَالثَّناءُ وَالشُّكْرُ ، وَالْمَنُّ وَالْفَضْلُ ، وَالطَّوْلُ وَالْخَيْرُ ، وَالْحُسْنى وَالنِّعْمَةُ ، وَالْعَظَمَةُ وَالْجَبَرُوتُ ، وَالْمُلْكُ وَالْمَلَكُوتُ ، وَالْقَهْرُ وَالسُّلْطانُ ، وَالْفَخْرُ وَالسُّؤْدَدُ ، وَالْإِمْتِنانُ وَالْكَرَمُ ، وَالْجَلالُ وَالْإِكْرامُ ، وَالْجَمالُ وَالْكَمالُ ، وَالْخَيْرُ وَالتَّوْحيدُ وَالتَّمْجيدُ ، وَالتَّحْميدُ وَالتَّهْليلُ وَالتَّكْبيرُ وَالتَّقْديسُ ، وَالرَّحْمَةُ وَالْمَغْفِرَةُ ، وَالْكِبْرِياءُ وَالْعَظَمَةُ

وَلَكَ ما زَكى وَطابَ وَطَهُرَ مِنَ الثَّناءِ الطَّيِّبِ ، وَالْمَديحِ الْفاخِرِ ، وَالْقَوْلِ الْحَسَنِ الْجَميلِ الَّذي تَرْضى بِهِ عَنْ قائِلِهِ ، وَتُرْضِيَ بِهِ قائِلَهُ وَهُوَ رِضىً لَكَ يَتَّصِلُ حَمْدي بِحَمْدِ أَوَّلِ الْحامِدينَ ، وَثَنائي بِثَناءِ أَوَّلِ الْمُثْنينَ عَلى رَبِّ الْعالَمينَ مُتَّصِلاً ذلِكَ بِذلِكَ ، وَتَهْليلي بِتَهْليلِ أَوَّلِ الْمُهَلِّلينَ ، وَتَكْبيري بِتَكْبيرِ أَوَّلِ الْمُكَبِّرينَ ، وَقَوْلِيَ الْحَسَنُ الْجَميلُ بِقَوْلِ أَوَّلِ الْقائِلينَ الْمُجْمِلينَ الْمُثْنينَ عَلى رَبِّ الْعالَمينَ ، مُتَّصِلاً ذلِكَ بِذلِكَ ، مِنْ أَوَّلِ الدَّهْرِ إِلى آخِرِهِ

وَبِعَدَدِ زِنَةِ ذَرِّ السَّماواتِ وَالْأَرَضينَ ، وَالرِّمالِ وَالتِّلالِ وَالْجِبالِ ، وَعَدَدِ جُرَعِ ماءِ الْبِحارِ، وَعَدَدِ قَطْرِ الْأَمْطارِ ، وَوَرَقِ الْأَشْجارِ ، وَعَدَدِ النُّجُومِ ، وَعَدَدِ الثَّرى وَالْحَصى وَالنَّوى وَالْمَدَرِ ، وَعَدَدِ زِنَةِ ذلِكَ كُلِّهِ ، وَعَدَدِ زِنَةِ ذَرِّ السَّماواتِ وَالْأَرَضينَ ، وَما فيهِنَّ وَما بَيْنَهُنَّ وَما تَحْتَهُنَّ ، وَما بَيْنَ ذلِكَ وَما فَوْقَهُنَّ إِلى يَوْمِ الْقِيامَةِ ، مِنْ لَدُنِ الْعَرْشِ إِلى قَرارِ أَرْضِكَ السَّابِعَةِ السُّفْلى

وَبِعَدَدِ حُرُوفِ أَلْفاظِ أَهْلِهِنِّ ، وَعَدَدِ أَزْمانِهِمْ وَدَقائِقِهِمْ وَشَعائِرِهِمْ وَساعاتِهِمْ وَأَيَّامِهِمْ ، وَشُهُورِهِمْ وَسِنيهِمْ ، وَسُكُونِهِمْ وَحَرَكاتِهِمْ ، وَأَشْعارِهِمْ وَأَبْشارِهِمْ

وَعَدَدِ زِنَةِ ذَرِّ ما عَمِلُوا أَوْ يَعْمَلُونَ أَوْ بَلَغَهُمْ أَوْ رَأَوْا أَوْ ظَنُّوا أَو فَطِنُوا أَوْ كانَ مِنْهُمْ أَوْ يَكُونُ إِلى يَوْمِ الْقِيامَةِ ، وَعَدَدِ زِنَةِ ذَرِّ ذلِكَ وَأَضْعافِ ذلِكَ ، وَكَأَضْعافِ ذلِكَ أَضْعافاً مُضاعَفَةً لايَعْلَمُها وَلايُحْصيها غَيْرُكَ يا ذَا الْجَلالِ وَالْإِكْرامِ ، وَأَهْلُ ذلِكَ أَنْتَ ، وَمُسْتَحِقُّهُ وَمُسْتَوْجِبُهُ مِنّي وَمِنْ جَميعِ خَلْقِكَ يا بَديعَ السَّمواتِ وَالْأَرْضِ

أَللَّهُمَّ إِنَّكَ لَسْتَ بِرَبٍّ اسْتَحْدَثْناكَ ، وَلا مَعَكَ إِلهٌ فَيَشْرَكَكَ في رُبُوبِيَّتِكَ ، وَلا مَعَكَ إِلهٌ أَعانَكَ عَلى خَلْقِنا ، أَنْتَ رَبُّنا كَما تَقُولُ وَفَوْقَ ما يَقُولُ الْقائِلُونَ ، أَسْأَلُكَ أَنْ تُصَلِّيَ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ، وَأَنْ تُعْطِيَ مُحَمَّداً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ أَفْضَلَ ما سَأَلَكَ ، وَأَفْضَلَ ما سُئِلْتَ ، وَأَفْضَلَ ما أَنْتَ مَسْؤُولٌ لَهُ إِلى يَوْمِ الْقِيامَةِ

اُعيذُ أَهْلَ بَيْتِ النَّبِيِّ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَنَفْسي وَديني وَذُرِّيَّتي وَمالي وَوَلَدي وَأَهْلي وَقَراباتي وَأَهْلَ بَيْتي وَكُلَّ ذي رَحِمٍ لي دَخَلَ فِي الْإِسْلامِ ، أَوْ يَدْخُلُ إِلى يَوْمِ الْقِيامَةِ ، وَحُزانَتي وَخاصَّتي ، وَمَنْ قَلَّدَني دُعاءً أَوْ أَسْدى إِلَيَّ يَداً ، أَوْ رَدَّ عَنّي غَيْبَةً ، أَوْ قالَ فِيَّ خَيْراً ، أَوِ اتَّخَذْتُ عِنْدَهُ يَداً أَوْ صَنيعَةً ، وَجيراني وَ إِخْواني مِنَ الْمُؤْمِنينَ وَالْمُؤْمِناتِ بِاللَّهِ وَبِأَسْمائِهِ التَّامَّةِ الْعامَّةِ الشَّامِلَةِ الْكامِلَةِ الطَّاهِرَةِ الْفاضِلَةِ الْمُبارَكَةِ الْمُتَعالِيَةِ الزَّاكِيَةِ الشَّريفَةِ الْمَنيعَةِ الْكَريمَةِ الْعَظيمَةِ الْمَخْزُونَةِ الْمَكْنُونَةِ الَّتي لايُجاوِزُهُنَّ بَرٌّ وَلا فاجِرٌ ، وَبِاُمِّ الْكِتابِ وَخاتِمَتِهِ ، وَما بَيْنَهُما مِنْ سُورَةٍ شَريفَةٍ ، وَآيَةٍ مُحْكَمَةٍ ، وَشِفاءٍ وَرَحْمَةٍ ، وَعَوْذَةٍ وَبَرَكَةٍ ، وَبِالتَّوْريةِ وَالْإِنْجيلِ وَالزَّبُورِ وَالْفُرْقانِ وَصُحُفِ إِبْراهيمَ وَمُوسى ، وَبِكُلِّ كِتابٍ أَنْزَلَهُ اللَّهُ ، وَبِكُلِّ رَسُولٍ أَرْسَلَهُ اللَّهُ ، وَبِكُلِّ حُجَّةٍ أَقامَهَا اللَّهُ ، وَبِكُلِّ بُرْهانٍ أَظْهَرَهُ اللَّهُ ، وَبِكُلِّ نُورٍ أَنارَهُ اللَّهُ ، وَبِكُلِّ آلاءِ اللَّهِ وَعَظَمَتِهِ

اُعيذُ وَأَسْتَعيذُ مِنْ شَرِّ كُلِّ ذِي شَرٍّ ، وَمِنْ شَرِّ ما أَخافُ وَأَحْذَرُ ، وَمِنْ شَرِّ ما رَبّي مِنْهُ أَكْبَرُ ، وَمِنْ شَرِّ فَسَقَةِ الْعَرَبِ وَالْعَجَمِ ، وَمِنْ شَرِّ فَسَقَةِ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ ، وَالشَّياطينِ وَالسَّلاطينِ ، وَإِبْليسَ وَجُنُودِهِ وَأَشْياعِهِ وَأَتْباعِهِ ، وَمِنْ شَرِّ ما فِي النُّورِ وَالظُّلْمَةِ ، وَمِنْ شَرِّ ما دَهَمَ أَوْ هَجَمَ أَوْ أَلَمَّ ، وَمِنْ شَرِّ كُلِّ غَمٍّ وَهَمٍّ وَآفَةٍ وَنَدَمٍ وَنازِلَةٍ وَسَقَمٍ

وَمِنْ شَرِّ ما يَحْدُثُ فِي اللَّيْلِ وَالنَّهارِ وَتَأْتي بِهِ الْأَقْدارُ ، وَمِنْ شَرِّ ما فِي النَّارِ ، وَمِنْ شَرِّ ما فِي الْأَرَضينَ وَالْأَقْطارِ وَالْفَلَواتِ وَالْقِفارِ وَالْبِحارِ وَالْأَنْهارِ ، وَمِنْ شَرِّ الْفُسَّاقِ وَالْفُجَّارِ وَالْكُهَّانِ وَالسُّحَّارِ وَالْحُسَّادِ وَالذُّعَّارِ وَالْأَشْرارِ ، وَمِنْ شَرِّ ما يَلِجُ فِي الْأَرْضِ ، وَما يَخْرُجُ مِنْها ، وَما يَنْزِلُ مِنَ السَّماءِ ، وَما يَعْرُجُ إِلَيْها ، وَمِنْ شَرِّ كُلِّ ذي شَرٍّ ، وَمِنْ شَرِّ كُلِّ دابَّةٍ رَبّي آخِذٌ بِناصِيَتِها ، إِنَّ رَبّي عَلى صِراطٍ مُسْتَقيمٍ ، فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ حَسْبِيَ اللَّهُ ، لا إِلهَ إِلّا هُوَ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ ، وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظيمِ

وَأَعُوذُ بِكَ اللَّهُمَّ مِنَ الْهَمِّ وَالْغَمِّ وَالْحُزْنِ ، وَالْعَجْزِ وَالْكَسَلِ ، وَالْجُبْنِ وَالْبُخْلِ ، وَمِنْ ضَلَعِ الدَّيْنِ وَغَلَبَةِ الرِّجالِ ، وَمِنْ عَمَلٍ لايَنْفَعُ ، وَمِنْ عَيْنٍ لاتَدْمَعُ ، وَمِنْ قَلْبٍ لايَخْشَعُ ، وَمِنْ دُعاءٍ لايُسْمَعُ ، وَمِنْ نَصيحَةٍ لاتَنْجَعُ ، وَمِنْ صَحابَةٍ لاتَرْدَعُ ، وَمِنْ إِجْماعٍ عَلى نُكْرٍ وَتَوَدُّدٍ عَلى خُسْرٍ أَوْ تَؤاخُذٍ عَلى خُبْثٍ ، وَمِمَّا اسْتَعاذَ مِنْهُ مَلائِكَتُكَ الْمُقَرَّبُونَ وَالْأَنْبِياءُ الْمُرْسَلُونَ ، وَالْأَئِمَّةُ الْمُطَهَّرُونَ ، وَالشُّهَداءُ وَالصَّالِحُونَ ، وَعِبادُكَ الْمُتَّقُونَ

وَأَسْأَلُكَ اللَّهُمَّ أَنْ تُصَلِّيَ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ، وَأَنْ تُعْطِيَني مِنَ الْخَيْرِ ما سَأَلُوا ، وَأَنْ تُعيذَني مِنْ شَرِّ مَا اسْتَعاذُوا ، وَأَسْأَلُكَ اللَّهُمَّ مِنَ الْخَيْرِ كُلِّهِ عاجِلِهِ وآجِلِهِ ما عَلِمْتُ مِنْهُ وَما لَمْ أَعْلَمْ ، وَأَعُوذُ بِكَ رَبِّ مِنْ هَمَزاتِ الشَّياطينِ ، وَأَعُوذُ بِكَ رَبِّ أَنْ يَحْضُرُونِ

بِسْمِ اللَّهِ عَلى أَهْلِ بَيْتِ النَّبِيِّ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ ، بِسْمِ اللَّهِ عَلى نَفْسي وَديني ، بِسْمِ اللَّهِ عَلى أَهْلي وَمالي ، بِسْمِ اللَّهِ عَلى كُلِّ شَيْ‏ءٍ أَعْطاني رَبّي ، بِسْمِ اللَّهِ عَلى أَحِبَّتي وَوَلَدي وَقَراباتي ، بِسْمِ اللَّهِ عَلى جيراني وَ إِخْواني ، وَمَنْ قَلَّدَني دُعاءً ، أَوِ اتَّخَذَ عِنْدي يَداً ، أَوِ ابْتَدَءَ إِلَيَّ بِرّاً مِنَ الْمُؤْمِنينَ وَالْمُؤْمِناتِ ، بِسْمِ اللَّهِ عَلى ما رَزَقَني رَبّي وَيَرْزُقُني ، بِسْمِ اللَّهِ الَّذي لايَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْ‏ءٌ فِي الْأَرْضِ وَلا فِي السَّماءِ وَهُوَ السَّميعُ الْعَليمُ

أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَصِلْني بِجَميعِ ما سَأَلَكَ عِبادُكَ الْمُؤْمِنُونَ ، أَنْ تَصِلَهُمْ بِهِ مِنَ الْخَيْرِ ، وَاصْرِفْ عَنّي جَميعَ ما سَأَلَكَ عِبادُكَ الْمُؤْمِنُونَ ، أَنْ تَصْرِفَهُ عَنْهُمْ مِنَ السُّوءِ وَالرَّدى ، وَزِدْني مِنْ فَضْلِكَ ما أَنْتَ أَهْلُهُ وَوَلِيُّهُ ، يا أَرْحَمَ الرَّاحِمينَ

أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَأَهْلِ بَيْتِهِ الطَّيِّبينَ ، وَعَجِّلِ اللَّهُمَّ فَرَجَهُمْ وَفَرَجي وَفَرِّجْ عَنْ كُلِّ مَهْمُومٍ مِنَ الْمُؤْمِنينَ وَالْمُؤْمِناتِ

أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ، وَارْزُقْني نَصْرَهُمْ ، وَأَشْهِدْني أَيَّامَهُمْ ، وَاجْمَعْ بَيْني وَبَيْنَهُمْ فِي الدُّنْيا وَالْآخِرَةِ ، وَاجْعَلْ مِنْكَ عَلَيْهِمْ واقِيَةً حَتَّى لايُخْلَصَ إِلَيْهِمْ إِلّا بِسَبيلِ خَيْرٍ ، وَعَلَيَّ مَعَهُمْ ، وَعَلى شيعَتِهِمْ وَمُحِبّيهِمْ ، وَعَلى أَوْلِيائِهِمْ ، وَعَلى جَميعِ الْمُؤْمِنينَ وَالْمُؤْمِناتِ ، فَإِنَّكَ عَلى كُلِّ شَيْ‏ءٍ قَديرٌ

بِسْمِ اللَّهِ وَبِاللَّهِ وَمِنَ اللَّهِ وَ إِلَى اللَّهِ ، وَلا غالِبَ إِلّاَ اللَّهُ ، ما شاءَ اللَّهُ ، لا قُوَّةَ إِلّا بِاللَّهِ ، حَسْبِيَ اللَّهُ ، تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ ، وَاُفَوِّضُ أَمْري إِلَى اللَّهِ ، وَأَلْتَجِئُ إِلَى اللَّهِ وَبِاللَّهِ اُحاوِلُ وَاُصاوِلُ وَاُكاثِرُ وَاُفاخِرُ وَأَعْتَزُّ وَأَعْتَصِمُ ، عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَ إِلَيْهِ مَتابُ ، لا إِلهَ إِلّاَ اللَّهُ الْحَيُّ الْقَيُّومُ ، عَدَدَ الثَّرى وَالنُّجُومِ ، وَالْمَلائِكَةِ الصُّفُوفِ لا إِلهَ إِلّاَ اللَّهُ ، وَحْدَهُ لا شَريكَ لَهُ الْعَلِيُّ الْعَظيمُ ، لا إِلهَ إِلّاَ اللَّهُ سُبْحانَكَ إِنّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمينَ

وممّا خرج عن صاحب الزّمان صلوات اللَّه عليه زيادة في هذا الدّعاء (دعاء الحريق) إلى محمّد بن الصّلت القمي :

أَللَّهُمَّ رَبَّ النُّورِ الْعَظيمِ ، وَرَبَّ الْكُرْسِيِّ الرَّفيعِ ، وَرَبَّ الْبَحْرِ الْمَسْجُورِ ، وَمُنْزِلَ التَّوْراةِ وَالْإِنْجيلِ ، وَرَبَّ الظِّلِّ وَالْحَرُورِ ، وَمُنْزِلَ الزَّبُورِ وَالْقُرْآنِ الْعَظيمِ ، وَرَبَّ الْمَلائِكَةِ الْمُقَرَّبينَ وَالْأَنْبِياءِ الْمُرْسَلينَ.

أَنْتَ إِلهُ مَنْ فِي السَّماءِ ، وَ إِلهُ مَنْ فِي الْأَرْضِ ، لا إِلهَ فيهِما غَيْرُكَ ، وَأَنْتَ جَبَّارُ مَنْ فِي السَّماءِ ، وَجَبَّارُ مَنْ فِي الْأَرْضِ ، لا جَبَّارَ فيهِما غَيْرُكَ ، وَأَنْتَ خالِقُ مَنْ فِى السَّماءِ ، وَخالِقُ مَنْ فِي الْأَرْضِ ، لا خالِقَ فيهِما غَيْرُكَ ، وَأَنْتَ حَكَمُ مَنْ فِي السَّماءِ ، وَحَكَمُ مَنْ فِي الْأَرْضِ ، لا حَكَمَ فيهِما غَيْرُكَ.

أَللَّهُمَّ إِنّي أَسْأَلُكَ بِوَجْهِكَ الْكَريمِ ، وَبِنُورِ وَجْهِكَ الْمُنيرِ ، وَمُلْكِكَ الْقَديمِ ، يا حَيُّ يا قَيُّومُ ، أَسْأَلُكَ بِاسْمِكَ الَّذي أَشْرَقَتْ بِهِ السَّماواتُ وَالْأَرَضُونَ ، وَبِاسْمِكَ الَّذي يَصْلُحُ بِهِ الْأَوَّلُونَ وَالْآخِرُونَ ، يا حَيّاً قَبْلَ كُلِّ حَيٍّ ، وَيا حَيّاً بَعْدَ كُلِّ حَيٍّ ، وَيا حَيّاً حينَ لا حَيَّ ، وَيا مُحْيِيَ الْمَوْتى ، وَيا حَيُّ لا إِلهَ إِلّا أَنْتَ ، يا حَيُّ يا قَيُّومُ.

أَسْأَلُكَ أَنْ تُصَلِّيَ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ، وَارْزُقْني مِنْ حَيْثُ أَحْتَسِبُ وَمِنْ حَيْثُ لا أَحْتَسِبُ رِزْقاً واسِعاً حَلالاً طَيِّباً ، وَأَنْ تُفَرِّجَ عَنِّي كُلَّ غَمٍّ وَهَمٍّ ، وَأَنْ تُعْطِيَني ما أَرْجُوهُ وَآمُلُهُ ، إِنَّكَ عَلى كُلِّ شَيْ‏ءٍ قَديرٌ.

۔ امام صادق کی دعاء الحاح آخری حجت سے منقول

ابو نعیم انصاری کہتاہے کہ مسجد الحرام میں تھا چند آدمی عمرہ کے لئے آئے ہوئے تھے ان میں سے ایک محمودی علّان کلینی ابو حیشم دیناری ابوجعفر احوال ہمدانی حجر اسود کے قریب کھڑے تھے تقریباً تین آدمی تھے اور ان کے درمیان میں جہاں تک میں جانتاہوں کہ محمد بن قاسم عقیقی کے علاوہ کوئی اور مخلص شخص نہیں تھا اس دن چھ ذوالحجہ سال ۲۹۳ تھا جیسے ہی ہم کھڑے تھے کہ اچانک ایک جوان طواف کعبہ مکمل کرنے کے بعد ہماری طرف آیا وہ احرام کے دو لباس پہنے ہوئے تھا اور کفش اس کے ہاتھ میں تھے جب ان کو دیکھا تو اس کی ہیبت اور متانت کو دیکھ کر ہم سب کھڑے ہوگئے اور اس کو سلام کیا وہ بیٹھا اور دائیں بائیں دیکھتا تھا اس وقت فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ حضرت صادق نے دعائے الحاح میں کیا فرمایا ہے ہم نے کہا کیا کہا ہے فرمایا کہ فرماتے تھے:

اللهم انی اسالک باسمک الذی به تقوم السماء و به تقوم الارض و به تفرق بین الحق والباطل و به تجمع بین المتفرق و به تفرق بین المجتمع و به احصیت عدد الرمال و زنه الجبال وکیل البحار ان تصلی علی محمد و آل محمد و ان تجعل لی من امری فرجاً و مخرجاً

جنة الواقیہ میں لکھتے ہیں کہ اس دعا کو ہر مشکل وقت میں صبح کے وقت پڑھے۔

ہر واجب نماز کے بعد آخری حجت سے منقول

ابو نعیم کہتاہے اس وقت حضرت اٹھا اور کعبہ کا طواف کرنے لگا ہم بھی اُٹھے اور ہم نے فراموش کیا کہ پوچھے کہ یہ کیا ہے وہ کون ہے کل اسی وقت اسی جگہ پر طواف سے باہر آیا اور ہم بھی کل کی طرف اتھے اس کے بعد جمعیت کے درمیان بیٹھیا ور دائیں بائیں دیکھا اور فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ حضرت امیرالمومنین واجب نماز کے بعد کیا دعا پڑھتے تھے ہم نے کہا وہ کیا پڑھتے ہیں فرمایا پڑھتا تھا

أَللَّهُمَّ إِلَيْكَ رُفِعَتِ الْأَصْواتُ ، ] وَدُعِيَتِ الدَّعَواتُ [ ، وَلَكَ عَنَتِ الْوُجُوهُ ، وَلَكَ خَضَعَتِ الرِّقابُ ، وَإِلَيْكَ التَّحاكُمُ فِي الْأَعْمالِ ، يا خَيْرَ مَسْؤُولٍ وَخَيْرَ مَنْ أَعْطى ، يا صادِقُ يا بارِئُ ، يا مَنْ لايُخْلِفُ الْميعادَ ، يا مَنْ أَمَرَ بِالدُّعاءِ وَتَكَفَّلَ بِالْإِجابَةِ.

يا مَنْ قالَ «اُدْعُوني أَسْتَجِبْ لَكُمْ » ، يا مَنْ قالَ «وَ إِذا سَأَلَكَ عِبادي عَنّي فَإِنّي قَريبٌ اُجيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذا دَعانِ فَلْيَسْتَجيبُوا لي وَلْيُؤْمِنُوا بي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ » ، يا مَنْ قالَ «يا عِبادِيَ الَّذينَ أَسْرَفُوا عَلى أَنْفُسِهِمْ لاتَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَميعاً إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحيمُ » وفي البحار:

لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، ها أَنَا ذا بَيْنَ يَدَيْكَ، اَلْمُسْرِفُ عَلى نَفْسي، وَأَنْتَ الْقائِلُ «لاتَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَميعاً ».

۶ ۔ دعاء حضرت امیرالمومنین سجدہ شکر میں آخری حجت سے منقول

اس وقت حضرت نے اس دعا کے بعد دائیں اور بائیں دیکھا اور فرمایا کیا تم جانتے ہو حضرت امیرالمومنین نے سجدہ شکر میں کیا پڑھتے تھے میں نے عرض کیا کہ کیا پڑھتے تھے فرمایا پڑھتے تھے۔

يا مَنْ لا يَزيدُهُ إِلْحاحُ الْمُلِحّينَ إِلّا جُوداً وَكَرَماً ، يا مَنْ لَهُ خَزائِنُ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ ، يا مَنْ لَهُ خَزائِنُ ما دَقَّ وَجَلَّ ، لاتَمْنَعُكَ إِساءَتي مِنْ إِحْسانِكَ إِلَيَّ.

إِنّي أَسْأَلُكَ أَنْ تَفْعَلَ بي ما أَنْتَ أَهْلُهُ ، وَأَنْتَ أَهْلُ الْجُودِ وَالْكَرَمِ وَالْعَفْوِ يا رَبَّاهُ يا اَللَّهُ ، إِفْعَلْ بي ما أَنْتَ أَهْلُهُ ، فَأَنْتَ قادِرٌ عَلَى الْعُقُوبَةِ وَقَدِ اسْتَحْقَقْتُها ، لا حُجَّةَ لي ، وَلا عُذْرَ لي عِنْدَكَ.

أَبُوءُ إِلَيْكَ بِذُنُوبي كُلِّها ، وَأَعْتَرِفُ بِها كَيْ تَعْفُوَ عَنّي ، وَأَنْتَ أَعْلَمُ بِها مِنّي ، بُؤْتُ إِلَيْكَ بِكُلِّ ذَنْبٍ أَذْنَبْتُهُ ، وَبِكُلِّ خَطيئَةٍ أَخْطَأْتُها ، وَبِكُلِّ سَيِّئَةٍ عَمِلْتُها، يا رَبِّ اغْفِرْ لي وَارْحَمْ وَتَجاوَزْ عَمَّا تَعْلَمُ إِنَّكَ أَنْتَ الْأَعَزُّ الْأَكْرَمُ.

۔ امام سجّاد کا سجدہ کی دعا مسجد الحرام میں آخری حجت سے منقول

ابو نعیم کہتاہے دوسرے دن اسی وقت حضرت تشریف لے آئے اور ہم نے پہلے دن کی طرح ان کا استقبال کیا اور وہ درمیان میں بیٹھے بائیں دائیں توجہ کی اور فرمایا حضرت علی بن الحسین سید العابدین نے اس مکان میں اپنے ہاتھ سے حجر الاسود کے پرنالہ کی طرف اشارہ کیا اور سجدہ میں اس طرح فرماتے تھے عبیدک بفنائک (وق فقیرک بفنائک) مسکینک ببابک اسالک مالا یقدر علیہ سواک پس اس کے بعد حضرت نے بائیں اور دائیں طرف نگاہ کی اور محمد بن قاسم علوی کو دیکھا اور فرمایا اے محمد بن قاسم! انشاء اللہ تو خیر اور نیکی پڑھے اس کے بعد اٹھا اور طواف میں مشغول ہوا جو دعائیں بھی ہمیں یاد کرائی سب کو یاد کیا اور فراموش کیا کہ اس کے بارے میں کوئی بات کرلوں سوائے آخری دن کے جب آخر روز ہوا محمد نے ہم سے کہا رفقا تم جانتے ہو کہ یہ کون ہے ہم نے کہا کہ نہیں کہا خدا کی قسم وہ صاحب الزمان ہے ہم نے کہا اے ابو علی وہ کس طرح ہے کہا تقریباً سات سال کا تھا کہ میں دعا کرتا تھا اور خداوند متعال سے چاہا کہ آخری حجت ہمیں دکھادے۔ شب عرفہ اسی شخص کو دیکھا وہ دعا پڑھ رہا تھا میں غور سے دعا کو حفظ کیا اور اس سے پوچھا کہ تم کون ہو فرمایا میں مردوں میں سے ہوں فرمایا کن لوگوں میں سے عرب ہو یا عجم؟ فرمایا کہ عرب ہوں میں نے کہا کہ عرب کے کس قبیلہ سے تعلق رکھتے ہو فرمایا ان میں سے شریف ترین عرب سے ہوں کس قبیلہ سے تعلق رکھتے ہو فرمایا بنی ہاشم سے میں نے کہا کہ بنی ہاشم میں سے کس سے تعلق رکھتے ہو فرمایا سب سے بلند ترین میں سے ہوں میں نے کہا کہ کس سے تعلق رکھتے ہو فرمایا کہ جس نے کفار کے سروں کو شگافتہ کیا اور لوگوں کو کھانا کھلا دیا اور نماز پڑھی حالانکہ لوگ سوئے ہوئے تھے میں نے سمجھا کہ وہ علوی ہے علوی ہونے کی وجہ سے اس کو دوست رکھتا ہوں پس اس کے بعد میرے سامنے سے غائب ہوئے اور میں ان کو گم کردیا ہمیں پتہ نہیں چلا کہ کہاں گئے آسمان میں چلے گئے یا زمین میں میرے اطراف میں جو تھے ان سے پوچھا اس سید علوی کو جانتے ہو انہوں نے کہا کہ کیوں نہیں وہ ہر سال ہمارے ساتھ پیادہ مکہ آتاہے۔ میں نے کہا سبھان اللہ خدا کی قسم میں نے اس کے پیادہ آنے کے آچار نہیں دیکھا اس کی جدائی کے غم نے میرے بدن کو گھیر لیا ہے اسی حالت میں مزد لفہ کی طرف چل پڑا رات کو وہیں پر سویا عالم خواب میں رسول خدا کو دیکھا فرمایا اے محمد جو کچھ تم چاہتے تھے اس کو دیکھ لیا میں نے عرض کیا اے میرے آقا وہ کون تھا فرمایا جس شخص کو تم نے کل دیکھا تھا وہ تیرا امام زمان تھا۔

دعائے عبرات کا واقعہ

آیة اللہ علامہ حلی کتاب منھاج الصلاح کے آخری میں دعائے عبرات کے بارے میں کہتے ہیں یہ معروف دعا ہے کہ جو امام صادق سے روایت ہوئی ہے یہ دعا سید بزرگوار راضی الدین محمد بن محمد کی جانب سے ہے اس میں ایک معروف حکایت ہے اسی کتاب کے ھاشیہ پر فضلاء میں سے کسی ایک کے خط کے ساتھ لکھا گیا ہے مولا سعید فخر الدین محمد فرزند شیخ بزرگوار جمال الدین نے اپنے باپ سے اس نے جد یوسف سے اس نے رضی مذکور سے نقل کیا ہے اور کہتاہے: سید رضی الدین جرماغنون کے امراء میں سے کسی ایک کے ہاتھ میں کافی مدت تک اسیر تھے اس کے ساتھ سختی سے پیش آتے تھے کھانے اور پینے میں تنگ کرتے تھے ایک رات امام زمانہ کو خواب میں دیکھتاہے اور گریہ کرتاہے اور کہتاہے اے میرے مولا ان ظالموں کے ہاتھ سے رہائی کے لئے شفاعت کریں حضرت نے فرمایا دعائے عبرات پڑھ لیں کہا کہ دعائے عبرات کونسی ہے فرماتے ہیں وہ دعا آپکی کتاب مصباح میں لکھی ہوئی ہے کہتاہے میرے مولا مصباح میں ایسی دعا نہیں ہے فرمایا دیکھ لیں مل جائی گی سید خواب سے بیدار ہوا اور نماز صبح پڑھی کتاب مصباح میں تلاش کیا ورقوں کے درمیان اس دعا کو دیکھا اس دعا کو چالیس مرتبہ پڑھا دوسری طرف جرماغون کے امیر کی دو بیویاں تھیں ان میں سے ایک عاقل و باتدبیر عورت تھی کہ وہ اپنے کاموں میں ان سے مشاورت کرتے تھے امیر کو اس عورت پر بہت زیادہ اعتماد تھا ایک دن اس کی باری تھی امیر اس کے گھر میں آیا اس کی بیوی نے کہا کیا حضرت امیرالمومنین کی اولاد میں کسی کو گرفتار کیا گیاہے وہ کہنے لگا کہ تم کس لئے مجھ سے پوچھتی ہو عورت کہنتے لگی میں نے ایک شخص کو دیکھا کہ جو سورج کی طرح درخشان تھا اس کو عالم خواب میں دیکھا اس نے اپنے دونوں انگلیوں کے ساتھ میرا گلا گھونٹا اور فرمایا کہ تمہارے شوہر نے میرے فرزند کو گرفتار کیا ہے اس نے اس کو کھانے اور پینے میں تنگ کیا ہے میں نے عرض کیا میرے آقا آپ کون ہیں فرمایا میں علی بن ابی طالب ہوں اور اپنے شوہر سے کہٰن اگر میرے فرزند کو رہا نہ کیا تو اس کے گھر کو خراب کروں گا جب یہ خبر بادشاہ کے کان میں پہنچی اس نے معلوم نہ ہونے کا اظہار کیا اس نے امیروں اور نائبوں کو طلب کیا اور کہا تمہارے پاس کون قید ہے انہوں نے کہا ایک بوڑھا علوی مرد ہے آپ نے خود گرفتاری کا حکم دیا ہے کہا اس کو چھوڑ دو اور سواری کے لئے اس کو گھوڑا دیدو اور اس کو راستہ بتادو تا کہ وہ اپنے گھر چلا جائے۔

سید بزرگوار علی بن طاوؤس مجھے الدعوات کے آخر میں کہتے ہیں کہ میرا دوست اور میرا بھائی محمد بن محمد قاضی نے اس دعا کے بارے میں تعجب آور اور حیرت انگیز واقعہ میرے لئے نقل کیا ہے اور ہو یہ کہ ایک واقعہ میرے لئے پیش آیا اور اس دعا کو اوراق کے درمیان سے نکالا حالانکہ اس سے پہلے یہ اوراق کتاب کے درمیان نہیں رکھے تھے۔ چونکہ اس سے نسخہ اٹھا لیتاہے اور اصلی دعا گم ہوجاتی ہے۔

دعائے عبرات

دعائے عبرات کو جو نسخہ مرحوم شیخ کفعمی نے ذکر کیا ہے اس کو ذکر کرتاہوں جناب شیخ البلد الامین میں کہتے ہیں کہ دعائے عبرات بہت عظیم دعا ہے یہ حضرت حجت سے روایت ہوئی ہے اور یہ دعا مہم امور اور بہت بڑی مشکلات میں پڑھی جاتی ہے اور وہ دعا یہ ہے۔

بسم الله الرّحمن الرّحیم اللّهمّ إنّی أسألک یا راحم العبرات و یا کاشف الکربات أنت الّذی تقشع سحائب المحن و قد أمست ثقالاً و تجلو ضباب الإحن و قد سحبت أذیالاً و تجعل زرعها هشیماً و عظامها رمیماً و تردّ المغلوب غالباً والمطلوب طالباً إلهی فکم من عبدٍ ناداک أنّی مغلوبٌ فانتصر ففتحت له من نصرک أبواب السّماء بماءٍ منهمرٍ و فجّرت له من عونک عیوناً فالتقی ماء فرجه علی أمرِ قدر و حملته من کفایتک علی ذات ألواحٍ و دسرٍ یا ربّ إنّی مغلوبٌ فانتصر یا ربّ إنّی مغلوبٌ فانتصر یا ربّ إنّی مغلوبٌ فانتصر فصلّ علی محمّد و آل محمّد وافتح لی من نصرک أبواب السّماء بماءٍ منهمرِ و فجّر لی من عونک عیوناً لیلتقی ماء فرجی علی أمرٍ قد قدر واحملنی یا ربّ من کفایتک علی ذات ألواحٍ و دسرٍ یا من إذا ولج العبد فی لیلٍ من حیرته یهیم فلم یجد له صریخاً یصرخه من ولیٍّ و لا حمیمٍ صلّ محمّد و آل محمّد و جد یا ربّ من معونتک صریخاً معیناً و ولیّاً یطلبه حثیثاً ینجّیه من ضیق أمره و حرجه و یظهر له المهمّ من أعلام فرجه اللّهمّ فیا من قدرته قاهرة و آیاته باهرةٌ و نقماته فاصمةٌ لکلّ جبارٍ دامغةٌ لکلّ کفورٍ ختّارٍ صلّ یا ربّ علی محمّد و آل محمّد وانظر إلیّ یا ربّ نظرةً من نظراتک رحیمةً تجلو بها عنّی ظلمةً واقفةً مقیمةً من عاهةً جفّت منها الضّروع و قلفت منها الزّروع واشتمل بها علی القلوب الیأس و جرت بسببها الأنفاس اللّهمّ صلّ علی محمّد و آل محمّد و حفظاً حفظاً لغرائس غرستها ید الرّحمن و شرّبها من ماء الحیوان أن تکون بید الشّیطان تجزّ و بفأسه تقطع و تحزّ إلهی من أولی منک أن یکون عن حماک حارساً و مانعاً إلهی إنّ الأمر قد هال فهوّنه و خشن فألنه و إنّ القلوب کاعت فطنّها والنّفوس ارتاعت فسکّنها إلهی تدارک أقداماً قد زلّت و أفهاماً فی مهامه الحیرة ضلّت أجحف الضّرّ بالمضرور فی داعیة الویل والثّبور فهل یحسن من فضلک أن تجعله فریسةً للبلاء و هو لک راجٍ أم هل یحمل من عدلک أن یخوض لجّة الغمّاء و هو إلیک لاجٍ مولای لئن کنت لا أشقّ علی نفسی فی التّقی و لا أبلغ فی حمل أعباء الطّاعة مبلغ الرّضا و لا أنتظم فی سلک قومٍ رفضوا الدّنیا فهم خمص البطون عمش العیون من البکاء بل أتیتک یا ربّ بضعفٍ من العمل و ظهرٍ ثقیلٍ بالخطاء والزّلل و نفسٍ للرّاحة معتادةٍ و لدواعی التّسویف منقادةٍ أما یکفیک یا ربّ وسیلةً إلیک و ذریعةً لدیک أنّی لأولیائک موالٍ و فی محبّتک مغالٍ أما یکفینی أن أرواح فیهم مظلوماً و أغدو مکظوماً و أقضی بعد همومٍ و بعد رجومٍ رجوماً أما عندک یا ربّ بهذه حرمةٌ لا تضیّع و ذمّةٌ بأدناها یقتنع فلم لا یمنعنی یا ربّ وها أنا ذا غریقٌ و تدعنی بنار عدوّک حریقٌ أتجعل أولیاءک لأعدائک مصائد و تقلّدهم من خسفهم قلائد و أنت مالک نفوسهم لو قبضتها جمدوا و فی قبضتک موادّ أنفاسهم لو قطعتها خمدوا و ما یمنعک یا ربّ أن تکفّ بأسهم و تنزع عنهم من حفظک لباسهم و تعریهم من سلامةٍ بها فی أرضک یسرحون و فی میدان البغی علی عبادک یمرحون اللّهمّ صلّ علی محمّد و آل محمّد و أدرکنی و لمّا یدرکنی الغرق و تدارکنی و لمّا غیّب شمسی للشّفق إلهی کم من خائف التجأ إلی سلطانٍ فآب عنه محفوفاً بأمنٍ و أمانٍ أ فأقصد یا ربّ بأعظم من سلطانک سلطاناً أم أوسع من إحسانک إحساناً أم أکثر من اقتدارک اقتداراً أم أکرم من انتصارک انتصاراً اللّهمّ أین کفایتک الّتی هی نصرة المستغیثین من الأنام و أین عنیتک الّتی هی جنّة المستهدفین لجور الأیّام إلیّ إلیّ بها یا ربّ نجّنی من القوم الظّالمین إنّی مسّنی الضّرّ و أنت أرحم الرّاحمین مولای تری تحیّری فی أمری و تقلّبی فی ضرّی و انطوای علی حرقة قلبی و حرارة صدری فصلّ یا ربّ علی محمّد و آل محمّد و جدلی یا ربّ بما أنت أهله فرجاً و مخرجاً و یسّرلی یا ربّ نحو الیسری منهجاً واجعل لی یا ربّ من نصب حبالاً لی لیصرعنی بها صریع ما مکره و من حفرلی البئر لیوقعنی فیها واقعاً فیما حفره و اصرف اللّهمّ عنّی شرّه و مکره و فساده و ضرّه ما تصرفه عمّن قاد نفسه لدین الدّیّان و منادٍ ینادی للأیمان إلهی عبدک عبدک أجب دعوته و ضعیفک ضعیفک فرّج غمّته فقد انقطع کلّ حبلٍ إلّا حبلک و تقلّص کلّ ظلٍّ إلّا ظلّک مولای دعوتی هذه إن رددتها أین تصادف موضع الإجابة و یجعلنی [مخلیلتی] إن کذّبتها أین تلاقی موضع الإجابة فلا تردّ عن بابک من لا یعرف غیره باباً و لا یمتنع دون جنابک من لا یعرف سواه جناباً و یسجد و یقول إلهی أنّ وجهاً إلیک برغبته توجّه فالرّاغب خلیقٌ بأن تجیبه و إنّ جبیناً لک بابتهاله سجد حقیقٌ أن یبلغ ما قصد و إنّ خدّاً إلیک بمسألته یعفّر جدیرٌ بأن یفوز بمراده و یظفر و ها أنا ذا یا إلهی قد تری تعفیر خدّی و ابتهالی و اجتهادی فی مسألتک و جدّی فتلقّ یا ربّ رغباتی برأفتک قبولاً و سهّل إلیّ طلباتی برأفتک وصولاً و ذلّل لی قطوف ثمرات إجابتک تذلیلاً إلهی لا رکن أشدّ منک ف آوی إلی رکنٍ شدیدٍ و قد أویت إلیک و عوّلت فی قضاء حوائجی علیک و لا قول أسدّ من دعائک فأستظهر بقولٍ سدیدٍ و قد دعوتک کما أمرت فاستجب لی بفضلک کما وعدت فهل بقی یا ربّ إلّا أن تجیب و ترحم منّی البکاء و النّحیب یا من لا إله سواه و یا من یجیب المضطرّ أذا دعاه ربّ انصرنی علی القوم الظّالمین وافتح لی و أنت خیر الفاتحین و الطف بی یا ربّ و بجمیع المؤمنین و المؤمنات برحمتک یا أرحم الرّاحمین


4

5

6

7