خلاصہ دروس کتاب المیراث(اللمعۃ الدمشقیۃ)

خلاصہ دروس کتاب المیراث(اللمعۃ الدمشقیۃ)0%

خلاصہ دروس کتاب المیراث(اللمعۃ الدمشقیۃ) مؤلف:
زمرہ جات: فقہ استدلالی
صفحے: 42

خلاصہ دروس کتاب المیراث(اللمعۃ الدمشقیۃ)

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

مؤلف: صابرحسین سراج
زمرہ جات: صفحے: 42
مشاہدے: 1994
ڈاؤنلوڈ: 236

تبصرے:

خلاصہ دروس کتاب المیراث(اللمعۃ الدمشقیۃ)
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 42 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 1994 / ڈاؤنلوڈ: 236
سائز سائز سائز
خلاصہ دروس کتاب المیراث(اللمعۃ الدمشقیۃ)

خلاصہ دروس کتاب المیراث(اللمعۃ الدمشقیۃ)

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

۱

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے

۲

کتاب المیراث(اللمعۃ الدمشقیۃ)

خلاصہ دروس

استاد محترم آقائے ظفر عباس شہانی

ملخص

صابر حسین سراج

تدوین

سید محمد وجاہت عباس نقوی /سید حسن عسکری نقوی

پیشکش

Shahani.net

جامعۃ الکوثر اسلام آباد پاکستان

۳

آیات میراث

قرآن مجیدکی وہ آیات جن میں میراث کے احکام ذکر ہوئے ہیں

( بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ )

( يُوْصِيْكُمُ اللّٰهُ فِيْٓ اَوْلَادِكُمْ ۤ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَيَيْنِ ۚ فَاِنْ كُنَّ نِسَاۗءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ ۚ وَاِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ ۭ وَلِاَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ اِنْ كَانَ لَه وَلَدٌ ۚ فَاِنْ لَّمْ يَكُنْ لَّه وَلَدٌ وَّوَرِثَهٓ اَبَوٰهُ فَلِاُمِّهِ الثُّلُثُ ۚ فَاِنْ كَانَ لَهٓ اِخْوَةٌ فَلِاُمِّهِ السُّدُسُ مِنْۢ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُّوْصِيْ بِهَآ اَوْ دَيْنٍ ۭ اٰبَاۗؤُكُمْ وَاَبْنَاۗؤُكُمْ لَا تَدْرُوْنَ اَيُّهُمْ اَقْرَبُ لَكُمْ نَفْعًا ۭ فَرِيْضَةً مِّنَ اللّٰهِ ۭاِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيْمًا حَكِـيْمًا ) (سورہ نساء ۱۱)

"اللہ تمہاری اولاد کے بارے میں تمہیں ہدایت فرماتا ہے، ایک لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے حصے کے برابر ہے، پس اگر لڑکیاں دو سے زائد ہوں تو ترکے کا دو تہائی ان کا حق ہے اور اگر صرف ایک لڑکی ہے تو نصف (ترکہ) اس کا ہے اور میت کی اولاد ہونے کی صورت میں والدین میں سے ہر ایک کو ترکے کا چھٹا حصہ ملے گا اور اگر میت کی اولاد نہ ہو بلکہ صرف ماں باپ اس کے وارث ہوں تواس کی ماں کو تیسرا حصہ ملے گا، پس اگر میت کے بھائی ہوں تو ماں کوچھٹا حصہ ملے گا، یہ تقسیم میت کی وصیت پر عمل کرنے اور اس کے قرض کی ادائیگی کے بعد ہو گی، تمہیں نہیں معلوم تمہارے والدین اور تمہاری اولاد میں فائدے کے حوالے سے کون تمہارے زیادہ قریب ہے، یہ حصے اللہ کے مقرر کردہ ہیں ، یقینا اللہ بڑا جاننے والا، باحکمت ہے۔"

۴

( وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ اَزْوَاجُكُمْ اِنْ لَّمْ يَكُنْ لَّهُنَّ وَلَدٌ ۚ فَاِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِنْۢ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُّوْصِيْنَ بِهَآ اَوْ دَيْنٍ ۭوَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ اِنْ لَّمْ يَكُنْ لَّكُمْ وَلَدٌ ۚ فَاِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوْصُوْنَ بِهَآ اَوْ دَيْنٍ ۭ وَاِنْ كَانَ رَجُلٌ يُّوْرَثُ كَلٰلَةً اَوِ امْرَاَةٌ وَّلَهٓ اَخٌ اَوْ اُخْتٌ فَلِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ ۚ فَاِنْ كَانُوْٓا اَكْثَرَ مِنْ ذٰلِكَ فَهُمْ شُرَكَاۗءُ فِي الثُّلُثِ مِنْۢ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُّوْصٰى بِهَآ اَوْ دَيْنٍ ۙغَيْرَ مُضَاۗرٍّ ۚ وَصِيَّةً مِّنَ اللّٰهِ ۭ وَاللّٰهُ عَلِيْمٌ حَلِيْمٌ ) (سورہ نساء ۱۲)

"اور تمہیں اپنی بیویوں کے ترکے میں سے اگر ان کی اولاد نہ ہو نصف حصہ ملے گا اور اگر ان کی اولاد ہو تو ان کے ترکے میں سے چوتھائی تمہارا ہو گا، یہ تقسیم میت کی وصیت پر عمل کرنے اور قرض ادا کرنے کے بعد ہو گی اگر تمہاری اولاد نہ ہو تو انہیں تمہارے ترکے میں سے چوتھائی ملے گااور اگر تمہاری اولاد ہو تو انہیں تمہارے ترکے میں سے آٹھواں حصہ ملے گا، یہ تقسیم تمہاری وصیت پر عمل کرنے اور قرض ادا کرنے کے بعد ہو گی اور اگر کوئی مرد یا عورت بے اولادہو اور والدین بھی زندہ نہ ہوں اور اس کا ایک بھائی یا ایک بہن ہو تو بھائی اور بہن میں سے ہر ایک کو چھٹا حصہ ملے گا، پس اگر بہن بھائی ایک سے زیادہ ہوں تو سب ایک تہائی حصے میں شریک ہوں گے، یہ تقسیم وصیت پرعمل کرنے اور قرض ادا کرنے کے بعد ہو گی، بشرطیکہ ضرر رساں نہ ہو، یہ نصیحت اللہ کی طرف سے ہے اور اللہ بڑا دانا، بردبار ہے۔"

۵

( يَسْتَـفْتُوْنَكَ ۭ قُلِ اللّٰهُ يُفْتِيْكُمْ فِي الْكَلٰلَةِ ۭاِنِ امْرُؤٌا هَلَكَ لَيْسَ لَه وَلَدٌ وَّلَهٓ اُخْتٌ فَلَهَا نِصْفُ مَا تَرَكَ ۚ وَهُوَ يَرِثُهَآ اِنْ لَّمْ يَكُنْ لَّهَا وَلَدٌ ۭفَاِنْ كَانَتَا اثْنَـتَيْنِ فَلَهُمَا الثُّلُثٰنِ مِمَّا تَرَكَ ۭوَاِنْ كَانُوْٓا اِخْوَةً رِّجَالًا وَّنِسَاۗءً فَلِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَـيَيْنِ ۭ يُـبَيِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اَنْ تَضِلُّوْا ۭوَاللّٰهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ ) (سورہ نساء ۱۷۶)

"لوگ آپ سے(کلالہ کے بارے میں ) دریافت کرتے ہیں ، ان سے کہدیجیے : اللہ کلالہ کے بارے میں تمہیں یہ حکم دیتا ہے: اگر کوئی مرد مر جائے اور اس کی اولاد نہ ہو اور اس کی ایک بہن ہو تو اسے (بھائی کے) ترکے سے نصف حصہ ملے گا اور اگر بہن (مر جائے اور اس) کی کوئی اولاد نہ ہو تو بھائی کو بہن کا پورا ترکہ ملے گا اور اگر بہنیں دو ہوں تو دونوں کو (بھائی کے) ترکے سے دو تہائی ملے گااور اگر بھائی بہن دونوں ہیں تو مرد کا حصہ دو عورتوں کے حصے کے برابر ہو گا، اللہ تمہارے لیے (احکام) بیان فرماتا ہے تاکہ تم گمراہ نہ ہو جاؤ اور اللہ ہر چیز کا پورا علم رکھتا ہے۔"

( وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْۢ بَعْدُ وَهَاجَرُوْا وَجٰهَدُوْا مَعَكُمْ فَاُولٰۗىِٕكَ مِنْكُمْ ۭ وَاُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُهُمْ اَوْلٰى بِبَعْضٍ فِيْ كِتٰبِ اللّٰهِ ۭاِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ ) (سورہ انفال ۷۵)

"اور جو لوگ بعد میں ایمان لائے اور ہجرت کی اور تمہارے ہمراہ جہاد کیا وہ بھی تم میں شامل ہیں اور اللہ کی کتاب میں خونی رشتہ دار ایک دوسرے کے زیادہ حقدار ہیں ، بے شک اللہ ہر چیز کا خوب علم رکھتا ہے ۔"

۶

میراث کی تعریف

لغوی تعریف

میراث یا تومفعال کے وزن پر مصدر میمی ہےاصل میں موروث تھا اور اسکی یاء واؤ سے منقلب شدہ ہے ، اور اگر موروث سے مشتق ہوا ہوتو اسم ذات ہو گا ۔اوریاتو میراث ارث سے مشتق ہے (ورث یرث ارثا و ورثۃ )اس صورت میں یہ اسم معنیٰ ہو گا ۔

اصطلاحی تعریف

علماء نے دو طرح سے میراث کی تعریف کی ہے

اول ۔

اگر میراث میں معنی مصدری کا لحاظ کیا جائے تو تعریف یوں کریں گے"ایک انسان کا دوسرے انسان کی موت کی وجہ سے نسب یا سبب کی بناء پر اصالۃ کچھ چیزوں کا مستحق ہونا "(اصالۃ کہہ کر ھبہ اور وصیت وغیرہ کو خارج کیا ہے )

دوم ۔

اگر میراث اسم عین سےہو یعنی موروث سے مشتق ہو تو تعریف یوں کریں گے" وہ مال جس کا انسان دوسرے کی موت سے نسب یا سبب کی بناء پر بالاصل مستحق ہوتا ہے۔"

نوٹ :۔شرائع الاسلام میں اسے کتاب الفرائض سے تعبیر کیا جاتا ہے اگر اس سے فرائض معین و مفصل مراد لیں تو میراث اس سے اعم ہے بہر حال میراث کی تعبیر اولیٰ ہے ۔

۷

موجبات (اسباب )ارث

موجبات ارث دو ہیں:

۱۔نسب ۲۔سبب

نسبی ورثاء کی تین طبقے ہیں

طبقہ اول میت کے ماں باپ اور اولاد (اولاد کی اولاد)

طبقہ ثانیہ میت کے بھائی بہن اور اجداد

طبقہ ثالثہ میت کے اعمام و اخوال اور ان کی اولاد

قواعد میراث

قاعدہ۱:

نسبی ورثاء میں قانون یہ ہے کہ پہلے طبقے میں سے جب تک کوئی ایک وارث بھی موجود ہو گا بعد والے طبقے وارث نہیں بن سکتے سوائے اس کے کہ ان میں کوئی مانع ارث آجائے

جو لوگ بالسبب وارث بنتے ہیں ان کی دو قسمیں ہیں

۱۔ بالزوجیت ۲۔ بالولاء

ولاء کی تین قسمیں ہیں

۱۔ولاء عتق ۲۔ولاء ضامن جریرہ ۳۔ولاء امامت

زوج اور زوجہ میں اگر کوئی مانع ارث نہ ہو تو ہر طبقے کے ساتھ شریک ہونگے۔

۸

موانع ارث

چھ چیزیں موانع ارث شمار کی جاتی ہیں۔

۱ ۔ الکفر ؛ کافر مسلمان کا وارث نہین بن سکتا (کافر کی تمام اقسام اس میں شامل ہیں )

۲۔القتل ؛ قاتل مقتول کا وارث نہیں بن سکتا ۔

۳۔الرق ؛ غلام کسی آزاد کا وارث نہیں بن سکتا ۔

۴۔اللعان؛ شوہر اپنی بیوی پر زنا کی تہمت لگائے یا اسکے بطن سے پیدا ہونے والے بچے کی نفی کر ے اور اس کے پاس گواہ بھی نہ ہوں تو حاکم شرعی کے پاس میاں بیوی ایک دوسرے پر ایک خاص طریقے سےلعنت کرتے ہیں جس کے بعد وہ ایک دوسرے کے لئے حرام ہو جاتے ہیں اور ایک دوسرے کے وارث بھی نہیں بن سکتے ۔

۵۔الحمل: یعنی جس مرحوم کی زوجہ حاملہ ہو تو وہ حمل میراث کی تقسیم سے مانع بنتا ہے کہ اس کےپیدا ہونے کا انتظار کیا جائے۔

۶۔غیبت منقطعہ: ایک شخص اس طرح غائب ہو کہ اس کی کوئی اطلاع نہ ہو لہٰذا اس کے بارے آگاہی تک میراث تقسیم نہیں کر سکتے ۔

قاعدہ ۲:

کسی بھی شخص کا وارث وہی بن سکتا ہے کہ جو موروث کی موت کے وقت زندہ ہو۔

قاعدہ ۳:

میراث میں اقرب فالاقرب کا لحاظ ضروری ہے یعنی جب تک میت کا قریبی موجود ہے بعیدی وارث نہیں بن سکتا ۔

۹

قاعدہ ۴:

نسبی ورثاء کے ہوتے ہوئے ولاء والے وارث نہیں بن سکتے اور معتق ضامن جریرہ کے لئے اور ضامن جریرہ امام کے لئے(۱) حاجب بنتے ہیں۔

قاعدہ ۵:

ابوینی رشتہ داروں کی موجودگی میں فقط پدری رشتہ دار وارث نہیں بن سکتے ۔

اہم نکتہ :: میت کے بھائی اپنی ماں کےلئےسات شرائط کے ساتھ سدس سے زیادہ لینے میں حاجب بنتے ہیں۔

۱۔ میت کا باپ موجود ہو ۔

۲۔ وہ حاجب بننے والے دو یا دو سے زیادہ بھائی یا چار بہنیں ہوں یا ایک بھائی اور دو بہنیں ہوں ۔

۳۔ وہ بھائی ابوینی(۲) یا پدری ہو ،فقط مادری حاجب نہیں بن سکتے۔

۴۔ مانع ارث بھی موجود نہ ہو۔

۵۔ وہ بھائی پیدا ہو چکے ہوں حمل حاجب نہیں بن سکتا۔

۶۔ مورث کی موت کے وقت وہ زندہ ہوں ۔

۷۔ حاجب اور محجوب میں مغایرت ہو۔

____________________

۱)حاجب ، حجب یحجب سے اسم فاعل کا صیغہ ہے حجب کا معنی ،پردہ کرنا ،اندر آنے سے روکنا اور درمیان میں حائل ہونا ہے،یہاں حاجب سے مراد ہے مانع اور رکاوٹ بننا یعنی ایک وارث کی موجودگی دوسرے کیلے وراثت لینے سے رکاوٹ بنے جیسے طبقہ اولی والے طبقہ ثانیہ والوں کیلے مانع ہیں،اسی طرح ابوینی صرف پدری رشتہ داروں کیلےمانع ہیں۔

۲)۔ابوینی سے مراد جو ماں باپ دونوں کی طرف سے رشتہ دار ہو جسے اردو میں سگا کہا جاتا ہے مثلا سگا بھائی ،سگی بہن،

پدری جو صرف باپ کی طرف سے رشتہ دار ہو اور مادری جو صرف ماں کی طرف سے رشتہ دار ہو۔

۱۰

میراث میں جن لوگوں کا حصہ معین اور مشخص ہوتا ہے ان کو ان چھ سہام سے ہی دیا جا سکتا ہے اس کے علاوہ نہیں وہ یہ ہیں۔

۱۔نصف ۲۔ ربع ۳۔ثمن ۴۔ثلثان ۵۔ثلث ۶۔سدس

لہٰذا جن کا حصہ معین نہیں ہوتا ان کو وارث بالقرابۃ کہا جاتا ہے۔

سہام اوراہل سہام

جن لوگوں کا حصہ نص قرآنی کی روشنی میں معین اور مشخص ہیں وہ درج ذیل ہیں (سہام چھ اور اہل سہام پندرہ ہیں )

۱۔مستحق نصف چار افراد ہیں:

۱۔ زوج اولادنہ ہونے کی صورت میں ۔

۲۔ ایک ہی بیٹی ہو تو مستحق نصف بالفریضہ اور باقی بالرد ہوگی ۔

۳۔ ایک ابوینی بہن ہو ۔

۴۔ ایک ہی پدری بہن ہو ، اخت ابوینی نہ ہو نے کی صورت میں۔

یہ آخری دونوں (۳،۴)اس صورت میں مستحق نصف ہوں گی جب ان کے ساتھ ورثاء میں کوئی مذکر نہ ہو

۱۱

۲۔مستحق ربع دو افراد ہیں :

۱۔ زوج اولاد ہونے کی صورت میں ۔

۲۔ زوجہ اولاد نہ ہونے کی صورت میں ،زوجات چاہے متعدد ہی کیوں نہ ہوں ۔

۳۔مستحق ثمن ایک ہی فر د ہے۔

۱۔ زوجہ اولاد ہونے کی صورت میں ،زوجات چاہے متعدد ہی کیوں نہ ہوں ۔

۴۔مستحق ثلثان تین افراد ہیں:

۱۔ دو یا دو سے زیادہ بیٹیاں

۲۔ دو یا دو سے زیادہ ابوینی بہنیں

۳۔ دو یا دو سے زیادہ پدری بہنیں (جب سگی بہنیں نہ ہوں تو)

۵۔مستحق ثلث دو افراد ہیں :

۱۔ ماں جب اس کے لئے حاجب نہ ہوں

۲۔ دو مادری بھائی /دو مادری بہنیں /ایک مادری بھائی اور ایک مادری بہن

۱۲

۶۔مستحق سدس تین افراد ہیں :

۱۔ باپ اولاد ہونے کی صورت میں

۲۔ ام اولاد ہونے کی صورت میں

۳۔ مادری رشتہ دار اگر ایک ہی فرد ہو تو

قاعدہ ۶ :

زوج اور زوجہ کو اولاد ہونے کی صورت میں نصیب ادنیٰ اور اولاد نہ ہونے کی صورت میں نصیب اعلیٰ ملیں گے۔زوج کا نصیب اعلیٰ نصف جبکہ نصیب ادنیٰ ربع ہے ۔ اور زوجہ کا نصیب اعلیٰ ربع اور نصیب ادنیٰ ثمن ہے ۔

اہم نکتہ:

اگر میت کے ورثا میں ایک سے زیادہ ایسے افراد موجود ہوں جن کا فریضہ معین ہوتو ہر ایک کو اسکے معین حصے کے مطابق ملے گا،چونکہ معین فریضے چھے ہیں لہذاچھے کو چھے سے ضرب دینے سے کل چھتیس صورتیں فرض ہو سکتی ہیں اس میں سے کچھ صحیح صورتیں ہیں اور کچھ ممتنع۔چھتیس میں سے پندرہ صورتیں تکراری ہیں،باقی اکیس صورتوں میں سےآٹھ صورتیں ممتنع ہیں اور تیرہ صورتیں صحیح ہیں۔

۱۳

آٹھ ممتنع صورتیں

۱۔نصف مع الثلثین: کیونکہ اس سے عول لازم آتا ہے۔

۲۔ربع مع ربع: کیونکہ ربع زوج کا اولاد ہونے کی صورت میں جبکہ زوجہ کا اولاد نہ ہونے کی صورت میں فریضہ ہے۔

۳۔ربع مع الثمن : کیونکہ ربع زوجہ کا اولاد نہ ہونے کی صورت میں فریضہ ہے جبکہ ثمن زوجہ کا اولاد ہونے کی صورت میں فریضہ ہے،دونوں کا جمع ممکن نہیں۔

۴۔ثمن مع الثمن : کیونکہ ثمن صرف زوجہ کا فریضہ ہے چاہے متعدد ہی کیوں نہ ہوں۔

۵۔ثمن مع الثلث: کیونکہ ثمن زوجہ اولاد ہونے کی صورت میں حصہ ہے جبکہ ثلث ماں کا اولاد نہ ہونے کی صورت میں حصہ ہے۔

۶۔ثلثین مع الثلثین: کیونکہ مرتبہ واحد میں ثلثین کے دو مستحقین کا اجتماع ممکن نہیں ہے اور اس سے عول بھی لازم آتا ہے جوکہ باطل ہے۔

۷۔ثلث مع الثلث: کیونکہ دو مستحق ثلث وہی ثلثین کےمستحق ہوتے ہیں ۔علیحدہ ثلث ،ثلث کے مستحق نہیں ہوتے۔

۸۔ثلث مع السدس: کیونکہ ثلث ماں کا حاجب نہ ہونے کی صورت میں حصہ ہوتا ہے،جبکہ سدس ماں کا حاجب ہونے کی صورت میں حصہ ہوتا ہے۔

۱۴

صحیح صورتیں

اب تیرہ صحیح صورتیں مندرجہ ذیل ہیں ۔

۱۔نصف مع النصف: ورثاء میں زوج اور ایک پدری بہن ہو ۔

۲۔نصف مع الربع : ورثاء میں زوجہ اور ایک پدری بہن ہو۔

۳۔نصف مع الثمن : ورثاء میں زوجہ اور ایک بیٹی ہو۔

۴۔نصف مع السدس: ورثاء میں زوج اور کلالہ ام میں سے ایک فرد ہو۔

۵۔نصف مع الثلث : ورثاء میں زوج اور ماں ہو جبکہ اس (ماں)کے لئے کوئی حاجب بھی نہ ہو۔

۶۔ربع مع الثلثین : ورثاء میں زوج اور دو بیٹیاں ہوں ۔

۷۔ثمن مع الثلثین : ورثاء میں زوجہ اور دو بیٹیاں ہوں ۔

۸۔ربع مع الثلث : ورثاء میں زوجہ اور ماں یا کلالہ ام میں سے ایک سے زیادہ فرد ہوں ۔

۹۔ربع مع سدس : ورثاء میں زوجہ اور کلالہ ام میں سے ایک ہو ۔

۱۰۔ثمن مع السدس: ورثاء میں زوجہ ،احدالابوین اور ایک بیٹا ہو ۔

۱۱۔ثلثان مع الثلث: ورثاء میں دو پدری بہنیں اور دو مادری بھائی ہوں۔

۱۲۔ثلثان مع السدس: ورثاء میں دو بیٹیاں اور احد الابوین ہو ۔

۱۳۔سدس مع السدس: ورثاء میں ابوین ۔ اولاد کے ساتھ ہوں۔

۱۵

قاعدہ ۷ :

مادری رشتہ دار اگر ایک ہوتو مستحق سدس اور اگر ایک سے زیادہ ہوں تو مستحق ثلث ہونگے۔

قاعدہ : ۸

ا یک بیٹی مستحق نصف جبکہ دو یا دو سے زیادہ بیٹاں مستحق ثلثان ہونگی۔اسی طرح ایک بہن مستحق نصف جبکہ دو یا دو سے زیادہ بہنیں مستحق ثلثان ہونگی۔

قاعدہ: ۹

والدین (ماں ،باپ)مرحوم کی اولاد ہونے کی صورت میں مستحق سدس ہوتے ہیں اگر مرحوم کی اولاد نہ ہو تو مرحوم کا باپ بالقرابۃ وارث بنتاہے جبکہ مرحوم کی ماں حاجب نہ ہونے کی صورت میں مستحق ثلث اور حاجب ہونے کی صورت میں مستحق سدس ہو گی

قاعدہ : ۱۰

مادری رشتہ دار ہمیشہ آپس میں مال بالسویہ تقسیم کریں گے،جبکہ ابوینی اور پدری رشتہ دار آپس میں( فَلِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَـيَيْنِ ) (۱) کے مطابق تقسیم کرتے ہوئے مذکر کو دو برابر اور مؤنث کو ایک حصہ دینگے۔

قاعدہ ۱۱:

اگر ورثاء میں کچھ بالقرابۃ(۲) وارث ہوں اور کچھ بالفریضہ تو پہلےفریضہ والوں کو ان کا حصہ دیا جائے گا ،اور بعد میں جو بچ جائے گا اس سے بالقرابۃ والوں کو حصہ ملے گا ۔

____________________

۱)۔ یہ قرآن مجید کی آیت کا ایک حصہ ہے اور باب میراث کا ایک قاعدہ کلیہ ہےکی میراث کی تقسیم میں مرد کو عورت سے دوگنا حصہ ملے گا لہذا اگر مال کے تین حصے کئے جائے تو اس میں سے دو حصے مرد کو اور ایک حصہ عورت کو دیا جائے گا۔

۲) ۔ بالقرابہ وارث سے مراد جن کا حصہ معین و مشخص نہیں مثلا بیٹا

۱۶

مسئلہ تعصیب۔(مشہور اختلافی مسئلہ)

اگر کسی میت کے ورثاء ایسے ہوں کہ ان سب کو بالفرض دینا ہو اور ان کو معین حصہ دینے کے باوجود بھی کچھ حصہ بچ جاتا ہو تو علماء امامیہ کے نزدیک بچا ہوا مال بھی انہی صاحبان فریضہ پر رد کیا جائے گاجبکہ اس مسئلہ میں اہل سنت کا نظریہ یہ ہے کہ باقی ماندہ مال میت کے دیگر ورثاء میں تقسیم کیا جائے گا ۔کتاب "المیراث "میں اس مسئلہ کو مسئلہ تعصیب کہا جاتا ہے۔ تعصیب عصبہ سے ہے اور عصبہ میت کے پدری رشتہ داروں کو کہتے ہیں۔

* البتہ کوئی قریبی رشتہ دار نہ ہو تو میت کے دیگر رشتہ داروں کو دیں گے۔

* بچے ہوئے مال کو ہمیشہ ان پر رد کیا جاتا ہے جن کو بالفریضہ ملتاہے۔

* ابوینی اور پدری اخوۃ کے ہوتے ہوئے ام اور کلالہ(۱) ام پر رد نہیں ہوتا ۔

قاعدہ :۱۲

صاحبان فریضہ میں سے زوج اور زوجہ کو کبھی بالرد نہیں ملے گا سوائے ایک صورت کے،کہ میت کے ورثاء میں سے زوج /زوجہ کے علاوہ سوائے امام کے دیگر کوئی نسبی یا سببی رشتہ دار وارث نہ ہو تو ان (زوج/زوجہ )پر رد ہو گا ۔یعنی اگر زوج یا زوجہ کے ساتھ صرف امام وارث ہو تو اس صورت میں زوج/زوجہ پر رد ہو سکتا ہے۔

____________________

۱)۔ ( باب میراث میں) کلالہ ام سے مراد وہ اشخاص ہیں جو ماں کی طرف سے رشتہ دار بنتے ہیں مثلا مادری بھائی،مادری چچا وغیرہ۔

۱۷

مسئلہ عول(اختلافی مسئلہ)

اگر کسی میت کے ورثاء میں ایسے ذوی الفروض جمع ہو جائیں کہ اگر ان سب کو ان کامعین حصہ دیتے ہیں تو اصل ترکہ ان پر پورا نہیں ہوتا ۔! تو قاعدہ یہ ہے کہ اصل ترکہ کو اتنا ہی رکھنا ہے لیکن کچھ لوگوں کو ان کے معین حصے سے کم دیا جائے گا (یعنی ان پر نقص لازم آئے گا )یہ بھی امامیہ و عامہ کے مابین اختلافی مسئلہ ہے ۔کتاب ارث میں اسے "مسئلۃ العول "سے تعبیر کیا جاتا ہے۔اہل سنت کا نظریہ یہ ہے کہ اصل ترکہ کو زیادہ کر دیں گے تا کہ کمی سب ورثاء پر برابر تقسیم ہو ۔ علمائے امامیہ عول کے قائل نہیں ہیں اور فرماتے ہیں کہ سہام وہی چھ ہیں جو قرآن میں ذکر ہوئے ہیں فریضہ کم ہونے کی صورت میں بعض ورثاء کو ان کے حصہ سے کم دیا جائے گا ۔

قاعدہ: ۱۳

نقص کی صورت ہمیشہ اس وقت پیش آتی ہے جب ورثاء میں زوج یا زوجہ شریک ہوں ۔

قاعدہ: ۱۴

نقص پدری یا ابوینی ایک بیٹی یا دو بیٹیاں ،یا ابوینی یا پدری بہنوں پر لازم آتا ہے

بیٹیاں اگر بیٹوں کے ساتھ ہوں تو بالقرابۃ وارث بنیں گی اور اگر ابوین کے ساتھ ہوں تو بالفرض وارث بنیں گی۔اسی طرح بہنیں بھائیوں کے ساتھ ہوں تو بالقرابۃ اور کلالہ ام کے ساتھ ہوں تو بالفرض وارث بنیں گی

۱۸

مثال

ایک مرحوم کے تین وارث ہیں ۔باپ ماں اور ایک بیٹی، میراث کیسے تقسیم ہو گی؟

باپ ،مستحق سدس ۶/۱ ماں ، مستحق سدس ۶/۱ بیٹی ،مستحق نصف۲/۱

کل فریضہ چھ(۶) بنائیں گے

اس میں سے نصف(۳)بیٹی کو دیں گے اور ایک ایک حصہ ماں اور باپ کو دیا جائے گا ۔ باقی ایک حصہ بچ جائے گا اس کو ان پر تقسیم کرنے سے کسر لازم آتا ہے لہٰذاان کے سہام (۵)کو اصل فریضہ (۶)سے ضرب دیں گے۔

اب کل ترکہ (۳۰)بن گیا ،اس سے اب کو (۵)اور ام کو (۵)اور بنت کو( ۱۵) باقی (۵ )بچ جائیں گے اس میں سے ایک باپ کو ایک ماں کو اور تین بیٹی کو دینگے۔ اور اگر ماں کے لئے حاجب ہو تو اسے بالرد نہیں ملے گا۔

۱۹

اعداد کی قسمیں

اعداد کی ایک دوسرے کے ساتھ چار قسم کی نسبتیں ہوتی ہیں

۱۔ تباین

جب دو مختلف اعداد میں نسبت اس طرح سے ہو کہ اگر ان میں سے چھوٹے عد دکو بڑے عدد میں سے ایک بار یا چند بار نفی کر دیں تو آخر میں ایک بچ جائے اور ان دونوں اعداد کو ایک کے علاوہ کوئی اور عدد پورا تقسیم نہ کر دے ۔ اعداد کے مابین اس طرح کی نسبت کو تباین کہتے ہیں۔ اور ان اعداد کو عددان متباینان کہا جاتا ہے۔ فرق نہیں کرتا چھوٹا عدد بڑے عدد کے نصف سے کم ہو یا زیادہ جیسے ( ۲ اور ۳)، (۳اور۷)اور (۴اور۹) ۔

۲۔ تماثل:

جب دو اعداد میں اس طرح کی نسبت ہو کہ وہ اعداد متساوی القدر ہوں یعنی ان کی قدر و قیمت برابر ہو تو اعداد کی اس نسبت کو تماثل کہتے ہیں ۔ اور ان اعداد کو عددان متماثلان کہا جائے گا۔ جیسے (۳اور۳) (۲اور۲) اور (۴اور۴)۔

۳۔ توافق:

جب دو مختلف اعداد میں نسبت اس طرح سے ہو کہ ان کو ایک کے علاوہ کوئی اور عدد بھی پورا پورا تقسیم کرے اور ان میں سے چھوٹے عدد کو بڑے عدد سے ایک بار یا چند بار نفی کر دیں توآخر میں ایک سے زیادہ بچ جائے البتہ چھوٹا عدد بڑے عدد سے نصف سے زیادہ ہو اعداد میں اس طرح کی نسبت کو توافق کہا جاتا ہے ۔ اور ان اعداد کو عددان متوافقان کہیں گے۔(اس نسبت کو توافق بالمعنی الاخص بھی کہتے ہیں)

نوٹ:

جو عدد ان دونوں اعداد کو پورا تقسیم کرے اسی کی نسبت توافق ہو گا لھذا اگر وہ عدد ۲ ہو تو توافق بالنصف کہلائے گا جیسے (۴اور۶کے مابین) اور اگر وہ عدد ۳ ہو تو توافق بالثلث کہلائے گا جیسے (۶اور۹ میں) ،(۱۲ اور ۱۸)

۲۰