اردو محاورات کا تہذیبی مطالعہ

اردو محاورات کا تہذیبی مطالعہ0%

اردو محاورات کا تہذیبی مطالعہ مؤلف:
زمرہ جات: متفرق کتب

اردو محاورات کا تہذیبی مطالعہ

مؤلف: ڈاکٹر عشرت جہاں ہاشمی
زمرہ جات:

مشاہدے: 3641
ڈاؤنلوڈ: 234

تبصرے:

اردو محاورات کا تہذیبی مطالعہ
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 81 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 3641 / ڈاؤنلوڈ: 234
سائز سائز سائز
اردو محاورات کا تہذیبی مطالعہ

اردو محاورات کا تہذیبی مطالعہ

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے

اردو محاورات کا تہذیبی مطالعہ

مصنف ڈاکٹر عشرت جہاں ہاشمی

پبلشر ہاشمی پبلیکیشنز ، ۱۷۵۴-۵۵ پہاڑی بھوجلہ، دہلی (۱۱۰۰۰۶) انڈیا

محاورے محض کسی زبان کا حصہ ہی نہیں ہوتے بلکہ وہ اپنے مختصر وجود میں نہ صرف کسی بھی معاشرہ کی نمائندگی کا کردار ادا کرتے ہیں بلکہ ایک بھر پور تہذیبی عکسبندی کا بار بھی اٹھاتے ہیں۔

انتسا ب

دہلی کی شہر ی تہذیب اور اُس سے وابستہ شعر و ادب کی روایت کے نام

"دہلی جو ایک شہر تھا عالم میں انتخاب"

دلّی کے نہ تھے کوچے اوراقِ مصّور تھے

جو شکل نظر آئی، تصویر نظر آئی

دل کی بربادی کا کیا مذکور ہے

یہ نگر سو مرتبہ لوٹا گیا

(میر تقی میر)

اردو محا ورات اور زبان وبیان میں اُس کی اہمیت

آب حیات میں مولانا محمد حسن آزاد نے میر سوز کا ذکر کرتے ہوئے یہ واقعہ بیان کیا ہے کہ ایک دن سودا کے ہاں میر سوز تشریف لائے۔ ان دنوں شیخ حزیں کی غزل کا چرچا تھا جس کا مطلع ہے۔

می گرفتیم بجا تا سرِ را ہے گا ہے

اُد ہم از لطفِ نہاں داشت نگا ہے گا ہے

میر سوز مرحوم نے اپنا مطلع پڑھا۔

نہیں نکلے ہے مرے دل کی اَپا ہے گا ہے

اے مُلک بہرِ خُدا رخصتِ آہے گا ہے

مرزا سن کر بو لے کہ میر صاحب بچپن میں ہمارے ہاں پشور کی ڈومنیاں آیا کرتی تھیں یا جب یہ لفظ سنا تھا یا آج سنا۔ میر سوز بچا رے ہنس کر چپ ہو رہے۔

پشا ور کی ڈومنیاں جو کہ نکسے اور اَیا ہے بو لتی تھیں فا رسی غزلوں کے بجائے ہندی چیزیں سنا تی ہونگی جو ان دنوں قریب الفہم اور مقبولِ عام تھیں۔

خلاصہ اس گفتگو کا یہ ہے کہ اردو جو کھڑی بو لی کا ایک مخصوص روپ ہے، عوام کی بولی چال کی زبان بنی اور ا س نے پہلی بار ان کے جذبہ اظہار کو زبان دی ادبی زبان اور بول چال کے فرق کو مٹا یا۔ چنانچہ اٹھارویں صدی پر دہلوی شعراء کا کلام با لعموم اسی لسانی اصول کا پا بند اور آئینہ دار ہے۔

آ گے چل کر جب مرزا مظہر جانجاناں، حا تم، سودا، نا سخ، شا ہ نصیر اور ذوق نے اپنے اپنے نقطہ ہائے نظر کے مطابق اصلا ح زبان کا کام کیا تو دہلی میں گاہ گا ہ متروک الفا ظ و محاورات کے سا تھ ساتھ جو قدیم لب و لہجے کی گونج سنا ئی دیتی رہی۔ اس کا سہرا مردوں سے زیادہ عورتوں کے سر ہے۔ عورتیں زبان کے معاملے میں قدامت پسند ہو تی ہیں۔ مردوں کے مقابلے میں ان کا ملنا جُلنا باہر والوں سے کم ہوتا ہے۔ نیز مختلف النوع اقوام اور بھانت بھانت کی زبان بولنے والوں سے بعد کی وجہ سے ان کی زبان بگڑ نے سے محفوظ رہتی ہے۔ عورتوں کی نما یاں خصوصیت انتخابِ الفاظ کے سلسلے میں یہ ہے کہ وہ کریہہ الفا ظ کی جگہ لطیف الفا ظ استعمال کرتی ہیں۔ ان جزوی اختلافاتِ زبان کے علاوہ انتہا ئی نما یاں خصوصیت مردوں اور عورتوں کی زبان کے اختلاف کی یہ ہے کہ عورتیں جنسیات سے متعلق باتیں واضح الفا ظ میں کہنے کے بجائے اشارے اور کنائے میں بیان کر تی ہیں۔ بیگمات کی زبان میں ہر قسم کا جنسی افعال کے لئے پر دہ پوش اصطلاحات و محاورات مو جود ہیں۔ مثلاً میلے سر سے ہو نا، گود میں پھول جھڑنا، دوجیاں ہونا بات کر نا جیسے متعدد محاورے عورتوں نے مختلف کیفیات کو ظاہر کر نے کے لئے بنائے اور اُن کا چلن عام کیا۔

جو ہونی تھی وہ بات ہو ئی کہاروں

چلو لے چلو میری ڈولی کہاروں

مَردُوا کہتا ہے آؤ چلو آرام کریں

جس کو آرام یہ سمجھے ہے وہ آرام ہو نوج۔

عورتیں اپنے گرد و پیش کے الفاظ چنتی ہیں ان کے ہاں کسی شئے کی جزئیات کو پیش کر نے کے لئے الفاظ کی کمی نہیں ہو تی اسی لئے مردوں کی بجائے عورتوں کی لکھی ہو ئی کتابیں زیادہ عام فہم صاف اور شستہ ہو تی ہیں۔ عورتیں لسانی اعتبار سے مردوں سے زیادہ تیز طرار ہوتی ہیں۔ وہ سیکھنے کا شوق رکھتی ہیں۔ سننے میں تیز ہیں اور جواب دینے پر زیادہ قدرت رکھتی ہیں۔ دنیا بھر میں عورتیں باتونی مشہور ہیں۔ مردوں کے برعکس انہیں الفاظ ٹٹولنے اور تولنے میں دیر نہیں لگتی۔ عورتیں نئی نئی اصطلاحیں محاورے وضع کر لیتی ہیں، جن میں اکثر خوش آواز مترنم اور پرلطف ہو تے ہیں۔ ہر زبان کی لغت میں ایک ایسی فرہنگ موجود ہوتی ہے جو عورتوں کی بول چال کے لئے مخصوص ہے۔ مردوں کی گفتگو میں یہ الفا ظ شاذ ہی نظر آتے ہیں۔ اُردو نثر میں عورتوں کی بول چال کم و بیش طلسمِ باغ و بہار اور دیگر نثری داستانوں میں سمٹ آئی ہے۔ ایک اور مثال واجد علی شاہ کی بیگمات کے وہ خطوط ہیں جو انہوں نے واجد علی شاہ کو مٹیا برج جانے کے بعد لکھے ہیں۔

زبان سے ملک کا سکّہ ہے عورت

انوکھا ہے چلن سارے جہاں سے

زباں کا فیصلہ ہے عورتوں پر

یہ باتیں مردوئے لائیں کہاں سے

عورتوں کی زبان سے خدا بچائے، بیگمات کی بول چال سے گو کان آشنا نہیں، آنکھوں نے اور اقِ پارینہ میں اُن کی جھلکیاں دیکھی ہیں۔ ان کے ممتاز محاورات پر نظر ڈالئے تو آنکھوں کے سامنے رمز و کنائے کا ایک رنگیں چمن ہو گا۔ اُن کی صناعی طباعی کا جوہر منہ بند کلیوں کی طرح کھلتا اور خندۂ مل کی طرح مہکتا نظر آئے گا۔

بہادر شاہ ظفر کے عہد پر تبصرہ کرتے ہوئے ڈاکٹر اسلم پرویز نے لکھا ہے۔

قلعہ معلیٰ کی تہذیب کا ایک اہم جز وہ زبان تھی جس میں شاہ علم ثانی اور اُن کے بعد ظفر نے بھرپور شاعری کی تھی۔ اس زبان کی گونج اور بازار سے گزرتی ہوئی کابلی دروازے کے اس تنگ و تاریک مکان تک سنائی دیتی تھی جہاں ذوق کا مسکن تھا اور پھر یہ گونج سننے والوں کو اپنی طرف کھینچتی تھی۔ اس گونج میں ذوق بھی کھنچے چلے گئے اور پھر دلّی کا محاورہ اور روزمرہ جس طرح ذوق کی شاعری میں رچ بس گیا، اس کی دوسری اور نسبتاً زیادہ خوبصورت مثال داغ کے یہاں ملتی ہے۔

زبان کی خوبی اس کی سلاست، عام فہمی، نرمی، موزونی، چھوٹے چھوٹے الفاظ اور بڑے بڑے مطالب پر موقوف ہے۔ محاورات وہ ننھے مرقع ہیں جو کسی سماج کے تجربات، تصورات اور تاثرات کی نمائندگی کرتے ہیں۔ عام لوگوں کی زبان کو پایۂ اعتبار سے گرانا زبان کے زوال اور عدم مقبولیت کا سبب بنتا ہے۔ بیگمات نے اپنے محاوراتی اسلوب میں مجاز و مبالغہ تشبیہ اور تمثیل، مصوری و محاکات اور رمزیت و اشاریت کے سارے جوہر محفوظ کر لئے تھے۔ اسی لئے جب ہم ان کی صدائے بازگشت سنتے ہیں تو بیقرار ہو جاتے ہیں اظہارِ خیال اور ادائے مطلب میں پیچیدگی سے بچنے کے لئے بول چال کی زبان روزمرہ اور محاورے کا استعمال ناگزیر ہو جاتا ہے زبان کا ذوق رکھنے والوں نے ادبی شبہ پاروں میں محاورات پر ضرور نظر کی ہو گی۔ یہاں چند محاورات مثال دینے کے لئے پیش کئے جاتے ہیں۔

چلوؤں لہو خشک ہونا، اُوڑا پھڑنا، سر بالوں کو آنا، اٹھوائی کھٹوائی لینا، منہ تھوتھائے رہنا، دے دوں کا پانی ڈھلنا، تکلفی کے سے بل نکالنا، آنکھوں پر چربی چھانا، نعمت کی اماں کا کلیجہ ہونا، محاوروں کے علاوہ ضرب الامثال کا بھی ایک بیش بہا خزانہ ہے جو ہماری زبان میں پایا جاتا ہے۔ مثلاً ایک توے کی روٹی کیا چھوٹی کیا موٹی، جس کے ہاتھ ہنڈیا ڈوئی اس کا ہر کوئی، انیس و بیس روڑے اُچھلیں، سرخ رو چونڈا ایمان بھونڈا، مائی جی کا تھان کھیلے چوگان، ٹاٹ کی انگیا، مونچھ کا بخیا، جہاں بہو کا پسار وہیں خسر کی کھاٹ، ان محاورات اور ضرب الامثال کی مدد سے کچھ مصنفین نے ابلاغ اور معانی آفرینی کے کمالات دکھائے ہیں اور کچھ مصنفین صناعی کلام کی ان بھول بھلیوں میں گم ہوکے رہ گئے۔

سنا ہے کوئی جاٹ سرپر چارپائی لئے کہیں جا رہا تھا۔ ایک تیلی نے دیکھ لیا اور جھٹ پھبتی کسی۔ ۔ جاٹ رے جاٹ تیرے سر پہ کھاٹ۔ جاٹ اُس وقت تو چُپ ہو گیا مگر دل میں بدلے کی بھاؤنا لئے بیٹھا رہا۔ ایک دن دیکھا کہ تیلی اپنا کولہو لئے جاتا ہے جاٹ نے جواباً کہا تیلی رے تیلی ترے سر پہ کولہو۔ تیلی ہنسا اور کہنے لگا جچی نہیں۔ جاٹ نے جواب دیا جچے نہ جچے تو بھوجھوں تو مرے گا۔ محاوراتی اُسلوب کا راستہ پل صراط سے زیادہ خطرناک ہے غزل کے ہر شعر کی طرح اس کا تعلق آبدار اور برجستگی سے ہے پھر یہ کہ عورتوں سے محاورے زبان کی طراری اور ایک مخصوص معاشرتی تربیت کے بغیر اس پر شکوہ اور پر خطر مہم کا سر کرنا ممکن نہیں ہے۔ نذیر احمد کی زبان ٹکسالی ہے لیکن ان کی تصنیف امہات الامۃ کو لوگ کہتے ہیں اسی لئے نذر آتش کیا گیا تھا کہ اس میں ایک محاورہ یہ بھی تھا کہ جوتیوں میں دال بٹنے لگے گی۔

اب نہ اُردوئے معلیٰ رہی اور نہ گلی کوچوں میں بولا جانے والا ریختہ، جمہوری انقلابات نے ماضی کے تمام امتیازات کی جڑیں اکھاڑ پھینکی ہیں عورت مرد سب بچھڑی زبان بول رہے ہیں۔ جو لوگ زبان کا حسن اور محاورے کی وابستگی کا رونا روتے تھے وہ بھی قصہ پارینہ ہوئے۔ جواب دکھائی دیتے ہیں وہ کل ناپید ہو جائیں گے۔ ہمیشہ رہے نام اللہ کا۔

ایسے میں عشرت ہاشمی کا یہ کارنامہ ایک تاریخی دستاویز کا درجہ رکھتا ہے۔ عشرت نے بہادر شاہ ظفر کے عہد اور شاعری پر پہلے بھی کام کیا ہے انہیں اس دور سے ربطِ خاص ہے جس میں محاورات اور ضرب الامثال کا چلن نے اُردو زبان کو مقبولیتِ عام اور شہرتِ دوام بخشی تھی۔ محاورے کیسے بنتے ہیں، ان کی ساخت میں معاشرت کا کس کس عمل اور انسانی فکر کے کن کن زاویوں کا دخل ہوتا ہے، یہ سمجھے بغیر محاوراتی اسلوب کو برقرار رکھنا ناممکن ہے۔ اور محاوراتی اسلوب کے ہاتھ سے نکلنے کے بعد اردو زبان کی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ جائے گی، ہماری ہزار آٹھ سو سال کی محنت اور جانفشانی رائیگاں ہو جائے گی۔ محاورات اور ضرب الامثال پر اردو میں متعدد لغتیں اور فرہنگیں موجود ہیں۔ لیکن اُنکی تہذیبی اور کلیدی جہتوں پر اہل زبان کی نظر کم گئی ہے۔ کچھ عرصے پہلے تک یہ ضروری بھی نہیں تھا۔ کیونکہ تہذیب کے سوتے ہمارے وجود میں ضم ہو گئے تھے۔ ملک کی تقسیم نے اُردو کو دو خطوں میں باٹ کر ظلم عظیم کیا ہے۔ وہ خطّہ جو پاکستان کہلاتا ہے، ہمارے تہذیبی شعور سے متعلق ناآشنا ہے۔ اور ہندوستان میں بھی طرح طرح کے سیاسی انقلاب نے تہذیب اور تمدن کو نزاعی مسئلہ بنا دیا ہے۔ چنانچہ اس نازک دور میں ڈاکٹر عشرت ہاشمی کا یہ کام جودقیع اور جامع ہونے کے ساتھ ساتھ تہذیبی مرقعوں کی افہام و تفہیم کا فریضہ انجام دیتا ہے، لایقِ ستائش ہے۔ مجھے یقین ہے کہ یہ اُردو بولنے والوں کے لئے سیکھنے اور سکھانے کا ذریعہ بنے گا مرتب کی ذہانت کاوش دیدہ ریزی اور تاریخِ معاشرت سے دلچسپی کتاب کی مقبولیت کی ضامن ہے۔ اشاعت کے لئے اردو اکادمی بھی شکر یہ اور مبارکباد کی مستحق ہے۔

سید ضمیر حسن دہلوی

۱۲/مارچ ۲۰۰۶ء

پیش حرف (مقدمہ)

محاورہ عربی زبان کا لفظ معلوم ہوتا ہے اس لئے کہ اس میں"محور" شامل ہے جس کے معنی ہیں مرکزی نقطہ فکر و عمل۔ جس کے گرد دائرے بنائے جاتے ہیں۔ یہاں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ محاورہ زبان کا مرکزی نقطہ ہوتا ہے یعنی وہ دائرہ جو مختصر ہونے کے باوجود اپنے گرد پھیلی ہوئی بہت ساری حقیقتوں کو یہ کہیے کہ اپنے اندر سمیٹ لیتا ہے۔ ہمارے محاورات ہمارے مُشاہدوں اور طرح طرح کے تجربوں کو پیش کرتے ہیں اور انہیں کہیں عام معاشرتی انداز فلسفیانہ اور کہیں شاعرانہ انداز سے سامنے لایا جاتا ہے۔ اس میں گاہ گاہ پیشہ وارانہ انداز بھی شامل رہتا ہے۔ اور طبقہ وارانہ بھی اس میں ہمارے قدیم الفاظ بھی محفوظ ہیں اور قدیم روز مرّہ بھی یہ عمومی زبان اور عام لب و لہجہ سے قریب ہوتا ہے اور ایک حد تک اِس میں تخیل اور تجربہ کا اور تجزیہ کا آمیزہ بھی پایا جاتا ہے۔

"زبان" کے آگے بڑھنے میں سماج کے ذہنی ارتقاء کو دخل ہوتا ہے۔ ذہن پہلے کچھ باتیں سوچتا ہے، اُن پر عمل درآمد ہوتا ہے، اور وہیں سے اُس سوچ یا اُس عمل کے لئے الفاظ تراشے جاتے ہیں۔ اور پھر اُن میں سے کچھ فقرہ اور جملے محاورات کے سانچے میں ڈھلتے ہیں۔ اور ایک طرح سے محاورہ کی اِس حیثیت پر ہم نے کوئی کام نہیں کیا۔ اب تک یہ تو ہوتا رہا کہ محاورہ کی صحتِ استعمال پر زور دیا گیا۔ اُس کی نوکِ پلک دُرست رکھی گئی۔ اور اِس طرح کی کتابیں بھی بعد کے زمانے میں تحریر ہوئیں کہ محاورے کے معنی یہ ہیں اور اِس کا استعمال یہ ہے۔ یہ کام تدریسی نقطہ نظر کی سطح پر ہوا۔ یا پھر زبان کے ایک بڑے حصّے کو محفوظ کرنے کی غرض سے اسے انجام دیا گیا۔ چرنجی لال کی لغت مخزالمحاورات اسی کا ایک اہم نمونہ ہے اور قابلِ تعریف کام ہے۔ جس کو اب ایک طویل عرصہ گزرنے پر ایک یادگار عملی کام قرار دیا جا سکتا ہے۔

مگر اِس ضمن میں محاورے پراس پہلو سے غور و فکر نہیں کیا گیا کہ اُس نے ہماری زبان و بیان، تہذیبی رویوں اور معاشرتی تقاضوں سے کس طرح کے رشتہ پیدا کئے۔ اُن کو زبان و ادب اور معاشرت کا آئینہ دار بنایا۔ جب کہ محاورات کے سلسلہ میں راقمہ کی محدود نظر کے مطابق یہی سب سے اہم پہلو تھا اس لئے کہ زبان اور ادب کا ایک"اٹوٹ" اور"گہرا رشتہ" تہذیب سے ہوتا ہے۔ اور تہذیبی رشتہ وہ ہوتا ہے جو ہمارے معاشرتی رویوں کو سمجھنے اور سمجھانے میں مدد دیتا ہے بلکہ اُن کے لئے روشنی اور رہنمائی کے طور پر کام آتا ہے۔

راقمہ الحروف نے اِس کام کو اسی نقطہ نظر سے کیا ہے اور اس سلسلہ میں بطورِ خاص مخزالمحاورات کو سامنے رکھا ہے تاکہ محاورات کی ایک بڑی تعداد تک رسائی ہو جائے۔ اُن کے معنی اور اُن کی بنیادی معنویت کو سمجھ لیآ جائے۔

تہذیبی مطالعہ ایک الگ سلسلہ فکر و نظر ہے اور اخذِ نتائج کے لئے ایک جُداگانہ زاویہ نگاہ ہے۔ کیونکہ اس پہلو ( Angle ) سے محاورے پر ہنوز کوئی کام نہیں ہوا۔ اس لیے مجھ ایسے اُردو زبان و ادب کی ایک طالبِ علم کے لئے یہ سوچنا مشکل ہے کہ مجھے اس میں کیا کامیابی ہوئی اور کس حد تک اس موضوع پر ادبی مطالعہ کی حدود آگے بڑھی ہیں۔ اس کا فیصلہ تو اصحابِ دید و دریافت اور زبان و محاورات کے ماہرین ہی کچھ زیادہ بہتر طور پر کر سکتے ہیں۔ اور یہ توقع ہے کہ آیندہ یہ کام آگے بڑھے گا اور اس کے خطوط فِکر اور زیادہ روشن اور واضح ہوں گے۔

حقیقت یہ ہے کہ الفاظ و صویتات ہوں یا پھر لغت و قواعد کے دائرہ میں آنے والی کچھ خاص اور اہم باتیں ہوں، اُن کو کلیتاً عصری تہذیب اور دواری دائرہ ہائے فکر و عمل سے آزاد نہیں کر سکتے۔ ایک زمانہ میں کچھ الفاظ رائج ہوتے ہیں اور دوسرے زمانہ میں اُن کا استعمال پھر بحیثیت مجموعی اُن پر توجہ وہی کم ہو جاتی ہے۔ اِس کی وجہ بھی بہت کچھ سماجی اور معاشرتی ہوتی ہے۔ اس کے لئے ہم دہلی اور اُس کے قرب و جوار کی زبان نیز بولی کو سامنے رکھ سکتے ہیں کہ شہری زبان کے ساتھ قصبہ و دیہات کی زبان میں بھی فرق آیا ہے۔ اور ایک زبان نے دوسری زبان کو متاثر بھی کیا ہے اور اِس سے تاثر بھی قبول کیا ہے۔

زبان میں اردو محاورہ کی حیثیت بنیادی کلمہ کی بھی ہے اور زبان کو سجانے اور سنوارنے والے عنصر کی بھی اس لئے کہ عام طور پر اہلِ زبان محاورہ کے معنی یہ لیتے ہیں کہ ان کی زبان کا جو اصل ڈول اور کینڈا ہے یعنی Basic structure جس کے لیے پروفیسر مسعود حسن خاں نے ڈول اور کینڈا کا لفظ استعمال کیا ہے۔ جو اہلِ زبان کی لبوں پر آتا رہتا ہے۔ اور جسے نسلوں کے دور بہ دور استعمال نے سانچے میں ڈھال دیا ہے۔ اسی کو صحیح اور دُرست سمجھا جائے۔ اہلِ دہلی اپنی زبان کے لئے محاورہ"بحث خالص محاورہ استعمال کرتے تھے۔ اور اس محاورہ بحث کو ہم میر کے اس بیان کی روشنی میں زیادہ بہتر سمجھ سکتے ہیں کہ میرے کلام کے لئے یا محاورۂ اہلِ دہلی ہے یا جامع مسجد کی سیڑھیاں یعنی جو زبان صحیح اور فصیح دہلی والے بولتے ہیں جامع مسجد کی سیڑھیوں پر یا اُس کے آس پاس اس کو سُنا جا سکتا ہے۔ وہی میرے کلام کی کسوٹی ہے۔

ہم ذوق کی زندگی میں ایک واقع پڑھتے ہیں کہ کوئی شخص لکھنؤ یا کسی دوسرے شہر سے آیا اور پوچھا کہ یہ محاورہ کس طرح استعمال ہوتا ہے۔ انہوں نے بتلایا۔ مگر پوچھنے والے کو ان کے جواب سے اطمینان نہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ اس کی سند کیا ہے۔ ذوق ان کو جامع مسجد کی سیڑھیوں پر لے گئے۔ انہوں نے جب لوگوں کو وہ محاورہ بولتے دیکھا تو اس بات کو مان گئے اور اس طرح معلوم ہو گیا کہ جامع مسجد کی سیڑھیاں کس معنی میں محاورہ کے لئے سندِ اعتبار تھیں۔ میر انشاء اللہ خاں نے اپنی تصنیف دریائے لطافت میں جو زبان و قواعد کے مسئلہ پر اُن کی مشہور تالیف ہے، اُن محلوں کی نشاندہی کی ہے جہاں کی زبان اُس زمانہ میں زیادہ صحیح اور فصیح خیال کی جاتی تھی شہر دہلی فصیل بند تھا اور شہر سے باہر کی بستیاں اپنے بولنے والوں کے اعتبار سے اگرچہ زبان اور محاورہ میں اس وقت اصلاح و اضافہ کے عمل میں ایک گوناگوں Contribution کرتی تھیں لیکن اُن کی زبان محاورہ اور روزمرّہ پر اعتبار نہیں کیا جاتا تھا۔ اِس کا اظہار دہلی والوں نے اکثر کیا ہے۔

میر امن نے باغ و بہار کے دیباچہ میں اِس کا ذکر کیا ہے کہ جو لوگ اپنی سات پشتوں سے دہلی میں نہیں رہتے وہ دہلی کے محاورے میں سند نہیں قرار پا سکتے کہیں نہ کہیں اُن سے چُوک ہو جائے گا اور وہی صحیح بولے گا جس کی"آنول نال" دہلی میں گڑی ہو گی اِس سے دہلی والوں کی اپنی زبان کے معاملہ میں ترجیحات کا اندازہ ہوتا ہے۔ محاورے سے مراد انگریزی میں Proverb بھی ہے اور زبان و بیان کی اپنی ادائے محاورہ کے دو معنی ہیں ایک محاورہ با معنی Proverb اور دوسرا محاورہ زبان و بیان کا سلیقہ طریقہ اور لفظوں کی Setting بھی۔

اس کے مقابلہ میں لکھنؤ والے اپنی زبان پر اور اپنے شہر کے روزمرہ اور محاورے کو سند سمجھتے تھے رجب علی بیگ سرور نے فسانہ عجائب میں میر امن کے چیلینج یا دعوے کا جواب دیا اور یہ کہا کہ لکھنؤ کی شہریت یہ ہے کہ باہر سے کوئی کیسا ہی گھامڑ اور کندۂ نا تراش آتا ہے بے وقوف جاہل اور نامہذب ہو اور ہفتوں مہینوں میں ڈھل ڈھلا کر اہلِ زبان کی طرح ہو جاتا ہے یہ گویا میرا من کے مقابلہ میں دوسرا معیار پیش کیا جاتا ہے بہرحال گفتگو محاورے اور شہر کے روزمرہ ہی کے بارے میں رہی۔

ہماری زبان میں ایک رجحان تو یہ رہا ہے اور ایک پُر قوت رجحان کے طور پر رہا کہ شہری زبان کو اور شرفاء کے محاورات کو ترجیح دی جائے اور اسی کو سندِ اعتبار خیال کیا جائے اور اِس کی کسوٹی محاورۂ اہلِ دہلی قرار پایا۔

اس سلسلہ میں ایک اور رجحان رہا جو رفتہ رفتہ پُر قوت ہوتا چلا گیا کہ زبان کو پھیلا یا جائے اور دوسری زبانوں اور علوم و فنون کے ذریعہ اس میں اضافہ کیا جاتا ہے کہ زبان سکڑ کر اور ٹھٹھر کر نہ رہ جائے شہری سطح پر امتیاز پسندی آ جاتی ہے تو وہ لوگ اپنی تہذیب کو زیادہ بہتر اور شائستہ سمجھتے ہیں۔ اور اپنے لب و لہجہ کو دوسروں پر ترجیح دیتے ہیں اور امتیازات کو قائم رکھتے ہیں۔ لکھنؤ اور دہلی نے یہی کیا۔ اس کے مقابلہ میں لاہور کلکتہ اور حیدر آباد کا کردار دوسرا رہا۔ شاید اس لئے کہ وہ اپنی مرکزیت کو زیادہ اہم خیال نہیں کرتے تھے۔ اور اُس پر زور نہیں دیتے تھے اور نتیجہ یہ ہے کہ وہ آگے بڑھتے انہوں نے اضافہ سنئے اور نئی تبدیلیوں کو قبول کیا۔ زمانہ بھی بدل گیا تھا نئے حالات نئے خیالات اور نئے سوالات پیدا ہو گئے تھے۔

محاورہ کی ایک جہت ادبی ہے اور ایک معاشرتی۔ یعنی زبان کے استعمال کی صحیح صورت جب دہلی والے اپنے محاورہ کی بات کرتے ہیں تو اُن کی مراد صرف Proverb سے نہیں ہوتی، بلکہ اُس روز مرّہ سے ہوتی ہے۔ جس میں بولی ٹھولی کا اپنا جینیس ( Genius ) چھُپا رہتا ہے اسی لئے دہلی والے ایک وقت اپنے محاورہ پر بہت زور دیتے تھے۔ اب وہ صُورت تو نہیں رہی مگر محاورے کی ادبی اور تہذیبی اہمیت کو پیشِ نظر رکھا جائے یہ مسئلہ اب بھی اہم بلکہ یہ کہئے کہ غیر معمولی طور پر اہم ہے اس لئے کہ محاورہ زبان کی ساخت اور پرداخت پر بھی روشنی ڈالتا ہے اور زبان کے استعمال کی پہلو داریوں کو بھی سامنے لاتا ہے۔ دہلی والے جامع مسجد کی سیڑھیوں کو اپنے محاورہ کی کسوٹی قرار دیتے تھے۔ اُس کی اپنی لِسانی ادبی تاریخی اور معاشرتی پہلو داریاں ہیں۔ جن کو اِن خاص علاقوں میں بولے جانے والی زبان اور اندازِ بیان نے اپنے ساتھ خصوصی طور پر رکھا ہے اور اس طرح کئی صدیوں کے چلن نے اسے سندِ اعتبار عطا کی ہے۔ زبان اور بیان کی روایتی صورتوں کو الفاظ کلمات اور جملوں کو ایک خاص شکل دیتا ہے۔ اس میں روایت بھی شامل ہوتی ہے اور بولنے والوں کا اپنا ترجیحی رو یہ بھی۔ کہ وہ کس بات کو کس طرح کہتے اور سمجھتے ہیں۔ محاورہ میں آنے والے الفاظ تین پانچ کرنا یا نو دو گیارہ ہونا تین تیرہ بارہ باٹ یہ ایک طرح سے محاورے بھی ہیں اور جملے کی وہ لفظی اور ترکیبی ساخت بھی جو اپنا ایک خاص Setting کا اندازہ رکھتی ہے۔

اِن دو جہتوں کے ماسوا محاورہ کے مطالعہ کی ایک اور بڑی جہت ہے جس پر ہنوز کوئی توجہ نہیں دی گئی یہ جہت محاورہ کے تہذیبی مطالعہ کی ہے اور اُس کے ذہنی زمانی انفرادی اور اجتماعی رشتوں کو سمجھنے سے تعلق رکھتی ہے اس تعلق کو اُس وقت تک پورے طور پر نہیں سمجھا جا سکتا جب تک اُن تمام نفسیاتی سماجیاتی اور شخصی رشتوں کو ذہن میں نہ رکھا جائے جو محاورہ کو جنم دیتے ہیں۔ اور لفظوں کا رشتہ معنی اور معنی کا رشتہ معنویت یعنی ہمارے سماجیاتی پس منظر اور تاریخی و تہذیبی ماحول سے جوڑتے ہیں یہ مطالعہ بے حد اہمیت رکھتا ہے اور اُس کے ذریعہ ہم زبان اُس کی تہذیبی ساخت اور سماجیاتی پرداخت کا صحیح اندازہ کر سکتے ہیں۔

عام طور پر ہمارے ادیبوں، نقادوں اور لِسانیاتی ماہروں نے اِس پہلو کو نظرانداز کیا اور اِس کی معنویت پر نظر نہیں گئی۔ اِس کے لئے ہم ایک سے زیادہ محاوراتی صورتوں کو پیشِ نظر رکھ سکتے ہیں۔

راقمہ الحروف نے اسی نسبت سے محاورے کے مطالعہ کو اپنا موضوع بنایا اور مختلف محاورے کے سلسلہ میں جو باتیں ذہن کی سطح پر تہذیب و معاشرت کے لحاظ سے اُبھر کر سامنے آئیں۔ اُن کو اپنے معروضات میں پیش کر دیا۔ اسی کے ذیل میں مختلف محاورات اور اُن کے فِکر و فہم سے جو اُمور وابستہ ہیں اُن کی طرف اشارہ کر دیا گیا ہے جس سے متعلق کچھ باتیں یہاں پیش کی جاتی ہیں۔

مثلاً پانی آب ہی کو کہتے ہیں۔ روشنی شفافیت اور کشِش کے طور پر پانی کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ پانی تلوار اور آئینہ کے ساتھ یہی معنی دیتا ہے اور آنکھوں کے ساتھ بھی ہم کچھ اپنی مثالوں کو سامنے رکھ سکتے ہیں۔ جن سے یہ معلوم کیا جا سکتا ہے کہ محاورے کی سادہ سی صورت کے پسِ منظر میں تہذیبی معنی اور معنویت کے کیا کیا سلسلے ملتے ہیں مثلاً جب ہم یہ کہتے ہیں کہ اُس کی آنکھوں کا پانی ڈھل گیا تو اِس سے مراد آنکھوں کی کشش بھی ہوتی ہے حیاء و شرم اور غیرت کی وہ خوبی و خوبصورتی بھی جو آنکھوں سے وابستہ ہوتی ہے۔ اور جب وہ نہیں رہتی، تبھی تو یہ کہتے ہیں کہ آنکھوں کا پانی ڈھل گیا۔ ہم استعارہ کی طرح محاورہ میں بھی لفظ سے معنی اور معنی سے در معنی کی طرف آتے ہیں۔ "رنگ" کا لفظ خوبصورتی کشش انداز و ادا سب کو دھنک کی طرح اپنے حلقوں میں لے لیتا ہے اس سے رنگینی بھی مُراد ہوتی ہے۔ اور خوبصورتی بھی اور اہلِ زبان خاص انداز بھی شاعری میں طرزِ فکر اور اندازِ ادا کو"رنگ" سے تعبیر کیا جاتا ہے اور بے رنگ ہونے کے یہ معنی ہوتے ہیں کہ اُس میں کوئی خاص خوبصورتی و کشش نہ ہو۔ اسی لئے بے رنگی اشعار کی اس سادگی کو کہا جاتا ہے۔ جن میں سپاٹ پن ہوتا ہے اور یہ کبھی کہا جا سکتا ہے کہ اُن کے اشعار تو بالکل بے آب و رنگ ہیں۔ یعنی اُن میں فکر و خیال کے اعتبار سے کوئی حُسن کوئی جاذبیت اور کشش تھی ہی نہیں۔ اِس اعتبار سے اس محاورہ کو ہم اپنی ذہنی زندگی اپنے احساسِ جمال اور سماجی رو یہ کا نمائندہ کہہ سکتے ہیں۔

زباندانی کا جو معیار اہلِ شہر اپنی شہریت، اپنی گفتگو اور اپنے لب و لہجہ سے وابستہ کرتے ہیں اُس کا ایک گہرا تعلق محاورہ سے بھی ہے کہ بغیر شہر میں قیام اور اُس کے باشندوں سے تعلقات کے محاورے پر قدر ت ممکن نہیں یہ بات ہم اہلِ شہر کی زبان پر اُس حوالہ یا اس حوالہ سے برابر آتے ہوئے دیکھتے ہیں جن باتوں کا ذکر ہمارے یہاں زیادہ آتا ہے وہ ہمارے معاشرتی رو یہ کی نفسیات یا (سائیکی) کا ایک بڑا حصّہ ہوتی ہے اس اعتبار سے بھی محاوروں کا مطالعہ کیا جا سکتا ہے کہ وہ ہمارے نفسیاتی ماحول میں داخل ہیں اور جن باتوں سے ہم بہت متاثر ہیں محاورات میں اُن کا ذکر آتا ہے اور اُن کے لئے بار بار کوئی محاورہ ہمارے لبوں یا زبان قلم پر آتا رہتا ہے۔

محاورے ہماری ذاتی اور معاشرتی زندگی سے گہرا رشتہ رکھتے ہیں محاوروں میں ہماری نفسیات بھی شریک رہتی ہیں مگر بیشتر اور اُن کی طرف ہمارا ذہن منتقل نہیں ہوتا کہ یہ ہماری اجتماعی یا اِنفرادی نفسی کیفیتوں کی آئینہ داری ہے اسی طرح ہمارے اعضاء پر ناک، کان اور آنکھ بھوں سے ہمارے محاورات کا گہرا رشتہ ہے۔ مثلاً آنکھ آنا، آنکھیں دیکھنا، آنکھوں میں سمانا، اور آنکھوں میں کھٹکنا آنکھوں کا لڑنا یہ محاورے مختلف المعنی ہیں اور کہیں ایک دوسرے سے تضاد کا رشتہ بھی رکھتے ہیں۔

آنکھ سے متعلق کچھ اور محاورے یہاں پیش کئے جاتے ہیں۔ آنکھ اٹھا کر نہ دیکھنا، آنکھ اٹھانا، آنکھوں کی ٹھنڈک، آنکھ پھوڑ ٹڈا، آنکھیں ٹیڑھی کرنا، آنکھ بدل کر بات کرنا، رخ بدلنا آنکھوں میں رات کاٹنا، آنکھوں کا نمک کی ڈلیاں ہونا۔ استعاراتی اندازِ بیان ہے۔ جس کا تعلق ہماری شاعری سے بھی ہے اور سماجی شعور سے بھی یہ بے حد اہم اور دلچسپ بات ہے آنکھ بدل کر بات کرنا۔ ناگواری نا خوشی اور غصّہ کے موڈ میں بات کرنا ہے جو آدمی اپنا کام نکالنے کے لئے بھی کرتا ہے۔ آنکھیں اگر تکلیف کی وجہ سے تمام رات کڑواتی رہیں۔ اور اُن میں برابر شدید تکلیف ہوتی رہی تو اُسے آنکھوں کا نمک کی ڈلیاں ہونا کہتے ہیں یعنی یہ صورت تکلیف کی انتہائی شدت کو ظاہر کرتی ہے نمک کی ڈلیاں ہونا کہتے ہیں۔ آنکھیں پتھرانا اس کے مقابلہ میں ایک دوسری صورت ہے یعنی اتنا انتظار کیا کہ آنکھیں پتھر ہو گئیں۔ آنکھوں میں رات کاٹنا بھی انتظار کی شدت اور شام سے صبح تک اسی حالت میں رہنے کی طرف اشارہ ہے جو گویا رات کے وقت انتظار کرنے والے کی حالت کو ظاہر کرتا ہے۔ آنکھ لگنا سو جانا اور کسی سے محبت ہو جانا جیسے میری آنکھ نہ لگنے کی وجہ سے میرے یار دوستوں نے اُس کا چرچہ کیا کہ اِس کا دل کسی پر آگیا ہے۔ اور کسی سے اس کی آنکھ لگی ہے۔ اس سے ہم اندازہ کر سکتے ہیں کہ نہ جانے ہماری کتنی باتوں اور ذہنی حالتوں کو صبح و شام کی وارداتوں اور زندگی کے واقعات کو ہم نے مختصراً محاورہ میں سمیٹا ہے اور جب محاورہ شعر میں بندھ گیا تو وہ ہمارے شعور اور ذہنی تجربوں کا ایک حصّہ بن گیا۔

راقمہ نے جن محاورات پر کام کیا ہے اور جن کا تہذیبی مطالعہ پیش کیا گیا ہے وہ Proverb کے معنی میں آئے ہیں۔ صرف Setting کے معنی میں نہیں Proverb (محاورے) سے لفظوں کی ایک ترکیبی یونٹ واحدہ ہوتا ہے جو ایک خاص انداز سے ترکیب پاتا ہے اپنے معنی کا تعین کرتا ہے اور اپنی ہیئت اور صُورت شکل پر قائم رہتا ہے محاورہ کی زبان بدلتی نہیں ہے جس کا تعین ایک مرتبہ ہو گیا اُس کو ایک مستقل صورت مل جاتی ہے۔

راقمہ نے محاورات کے لفظ و معنی کے اعتبار سے کوئی تبدیلی نہیں کی۔ اِس کے مقابلہ میں محاورات کے لفظ و معنی میں تہذیب و تاریخ کے جو محرکات اور موثرات ملتے ہیں اُن کو اُردو کی اپنی معاشرت کے پس منظر میں سمجھنے کی کوشش کی ہے اور اُس کے وسیلے سے بہت سے نئے معنی کا محاورات میں موجود ہونے کا انکشاف کیا ہے اِس طرح کا کوئی کام اُردو میں اب تک نہیں ہوا۔ جس سے محاورات کی تہذیبی اور تاریخی اہمیت کا حال معلوم ہو سکے۔

مختلف لغات میں جو محاورات دوسرے الفاظ کے ساتھ شریک ہیں اُن کے معنی بھی لفظوں ہی کے طور پر دیئے گئے ہیں۔ اِن سے اخذِ نتائج کا کوئی عمل وابستہ نہیں کیا گیا۔ شہر دہلی لال قلعہ نیز دہلی اور لکھنؤ کے محاورے میں جو فرق کیا گیا ہے۔ وہ اپنی جگہ ایک اہم کام ضرور ہے مگر تہذیبی اور معاشرتی نقطہ نظر سے ہنوز کوئی کام راقمہ کی محدود معلومات کے مطابق ابھی تک نہیں ہوا۔ دو شہروں کی زبان کا الگ الگ انداز اُس میں ضرور زیر بحث آیا ہے۔ لیکن ہمارے سماج ہماری معاشرت اور ہمارے تہذیبی رویوں سے محاورہ کا جو خاص اور معنی خیز رشتہ رہا ہے اُس پر کوئی گفتگو نہیں ہوئی اِس پر بھی صاحبانِ قلم نے کوئی روشنی نہیں ڈالی کہ ہمارے یہاں جو محاورات موجود ہیں اور ہماری زبان کا حصہ ہیں اُن میں سے بعض پر دوسری زبانوں کے کیا اثرات ہیں عربی فارسی ہندی اور دیہاتی کا اُن پر کیا اثر ہے اور اُن کی لفظیات کو کس طرح دوسری زبانوں نے متاثر کیا ہے۔ یہ اہم مسئلہ بھی محاورات پر علمی اور ادبی کام کرنے والوں کے سامنے نہیں آیا۔ اُن کی توجہ زیادہ تر لُغت پر رہی ہے اور اُسی دائرہ میں رہ کر انہوں نے سوچا اور اپنے طور پر پُر وقار کام کیا ہے۔

ایسے لغت بھی تیار ہوئے جس میں محاورات کو لفظی وحدتوں کے طور پر جمع کیا گیا اور اُن کے معنی بتلائے گئے۔ ہماری درسیات میں یہ شامل رہا ہے کہ محاورات پر اُن کے معنی سمجھانے کے لئے ضرور روشنی ڈالی جائے اور معنوی سطح پر لغوی نقطہ نظر سے اُن کے معنی لکھ دیئے جائیں۔ لیکن محاورے وہ شہروں میں رائج ہوں یا قصبہ میں ادبی زبان میں یا عام بول چال میں اُن کا ہماری تہذیبی ماحول سے کیا رشتہ ہے اِس طرف ہنوز کسی کی توجہ مبذول نہیں ہوئی۔ محاورات پر دوسرے اہلِ قلم نے جو کام کیا ہے اُس کی نوعیت بہرحال جُدا گانہ ہے وہ کام اُس نقطہ نظر سے نہیں ہوا جو راقمہ کے سامنے رہا ہے۔ آج تو اِس کی بھی بہت ضرورت ہے کہ اُردو میں محاوروں کو جمع کیا جائے اور لُغت المحاورات مُرتب کی جائے۔ پہلے ایسا ہوتا رہا ہے۔ اس کی ایک نمایاں مثال چرنجی لال کی معروف تصنیف مخزن المحاورات معروف کتاب سے بہت پہلے شائع ہو چکی ہے مولانا سید احمد دہلوی کی معروف لغت آصف الغات اور نورالغات مصنفہ مولانا نورالحسن علوی کاکوروی بھی اپنے دامن میں بہت سے محاورات کو سمیٹے ہوئے ہیں۔

راقمہ کے اس کام کو نوعیت اِس سے مختلف ہے اور وہ محاورات کی صرف جمع اور ی یا اُن کی (لغوی) سطح پر معنی نگاری نہیں ہے بلکہ اُن کی تہذیبی نوعیت کو سمجھنے کی کوشش ہے کہ ہمارے محاورے اپنے لفظ و معنی میں کس حد تک تہذیبی تصورات یا تصویروں کو جمع کئے ہوئے ہیں کہ یہ ایک جُدا گانہ کام ہے بلکہ محاورات کا"ایک تہذیبی مطالعہ" ہے کہ وہ ہماری زندگی ہمارے ذہن ہماری معاشرتی فکر اور تہذیبی تقاضوں کی طرح عکاسی کرتے ہیں۔

راقمہ سُطور نے اِسی نقطہ نظر سے محاورے کے مطالعہ اور اُن کے پیش کش کا یہ منصوبہ اپنے سامنے رکھا ہے اور اس پر اپنی محدود نظر کے مطابق محاورات کو جمع کرنے کے علاوہ اُن پر تنقیدی اور تہذیبی گفتگو کی ہے محاورات کو حروفِ تہجی کے تحت رکھا گیا ہے۔ اور اِس ضمن میں نسبتاً اہم محاورات ہی کو سامنے رکھا گیا ہے۔ اور اِس کا اظہار کیا گیا ہے کہ اس محاورہ سے ہمارے ذہن زندگی اور زمانہ کا کیا رشتہ ہے۔

ہم اپنے معاشرتی رویوں کو اس لئے بھی سمجھنا چاہتے ہیں کہ ہماری تہذیبی تاریخ جن جن مرحلوں سے گزری ہے اور جن معاشرتی آداب و رسوم نے ہمارے طبقاتی معاشرے علاقائی سطح پر بننے بگڑنے والے سماج کو متاثر کیا ہے۔ اُن کی ایک متحرک تصویر سامنے آتی ہے۔

راقمہ الحروف کے سامنے اُردو کا وہ لغت خاص طور پر رہا ہے جو محاورات پر مشتمل ہے۔ اور جسے چرنجی لال نے ترتیب دیا ہے اِس کام نام مخزن المحاورات ہے۔ چرنجی لال نے۲۵ مئی ۱۸۸۶ء میں منشی بُلاتی داس دہلوی کے مطبع سے شائع کیا۔ اِس کے کاتب کا نام سید عبد اللطیف اور اُس کے ساتھ ساکن سبز منڈی بیرونِ شہر لکھا ہوا ہے۔

اِس کے بعد غلط نامہ کے صفحات آئے ہیں جن کا سلسلۂ تحریر و نگارش سات سوا کسٹھ صفحہ پر ختم ہوتا ہے۔ اس کے بعد تمام شد تحریر ہے۔ اِس کے ذیل میں قطعہ تاریخ بابو ٹھاکر گلاب سنگھ صاحب متخلص بہ مشتاق سب در سیر ہنر جمن غربی ڈویزن دہلی ساکِن شہر میرٹھ لکھا ہوا ہے۔

قطعہ

لکھتے ہیں اِس کتاب میں مُشتاق

خوب اُردو مُحاوروں کے حال

میں نے بھی اس کا بے سرا عدا

نسخۂ بے نظیر لکھّا سال

۱۸۸۶

نسخۂ بے نظیر مادہ تاریخ ہے پہلے مصرعہ میں بے سراعدا لکھ کر تخرجہ کے اعداد کی طرف اشارہ کیا گیا ہے یہ عدد خارج ہونا۔ اتنے عدد مادہ تاریخ سے نکالے جائیں گے تب جا کے سالِ تاریخ کے اعداد آئیں گے۔

یہ کتاب اب نایاب ہو چکی ہے اِس کا ایک ہی نسخہ اب دہلی جیسے شہر میں موجود ہے۔ اور ڈاکٹر تنویر احمد علوی کے ذاتی کتب خانہ کی زینت ہے۔ موصوف ہی نے مجھے مشورہ بھی دیا کہ میں محاورات کے تہذیبی مطالعہ پر کام کروں یہ کام اب تک راقمہ کی محدُود معلومات کے مطابق کسی دوسرے شخص یا ادارے نے نہیں کیا۔

میرے بعض ساتھیوں اور احباب نے مجھے اس نئی تنقیدی اور تہذیبی مطالعہ کے کام میں مشورہ دیا۔ اور اپنی رائے اور اظہارِ خیال سے میری راہِ فکر و عمل کو روشن کیا۔ میں اپنی اس ناچیز کو شش کے سلسلہ میں اپنے اساتذہ ڈاکٹر تنویر احمد علوی (دہلی یونیورسٹی) ڈاکٹر شریف احمد (دہلی یونیورسٹی ) اور سید ضمیر حسن دہلوی (ذاکر حسین کالج) نیز اپنے علمی احباب اور ساتھیوں کا شکر یہ ادا کرنا اپنا ادبی فریضہ خیال کرتی ہوں۔ علاوہ بریں میں دہلی اُردو اکادمی کی اشاعتی کمیٹی کے اراکین نیز اِدارے کے دوسرے معزز کار کُنان اور اکادمی کی ایکزیکٹیو کمیٹی کے وائس چیئرمین جناب م۔ افضل صاحب اور مرغوب حیدر عابدی (سکریٹری دہلی اردو اکادمی) کی ممنون ہوں کہ انہوں نے میرے اِس کام کی انجام دہی میں خاص طور پر تعاون کیا اور اس کی اشاعت میں خصوصی دلچسپی لی۔

ڈاکٹر عشرت جہاں ہاشمی، دہلی