تصور کائنات

تصور کائنات0%

تصور کائنات مؤلف:
زمرہ جات: فلسفہ

تصور کائنات

مؤلف: استاد شہید مرتضیٰ مطہری
زمرہ جات:

مشاہدے: 2113
ڈاؤنلوڈ: 407

تبصرے:

تصور کائنات
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 22 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 2113 / ڈاؤنلوڈ: 407
سائز سائز سائز
تصور کائنات

تصور کائنات

مؤلف:
اردو

شرک کے مراتب اور درجات

جس طرح توحید کے مراتب اور درجات ہیں‘ اسی طرح شرک کے بھی اپنے مقام پر کچھ مراتب ہیں اورتعرف الاشیاء باضدادھا(اشیاء اپنی اضداد سے پہچانی جاتی ہیں) کی رو سے مراتب شرک کے ساتھ مراتب توحید کا موازنہ کرنے سے توحید کو بھی بہتر طور پر پہچانا جا سکتا ہے اور شرک کو بھی۔

تاریخ بھی یہی بتاتی ہے کہ ابتدائے تاریخ سے انبیاء الٰہی جس توحید کی دعوت دیتے چلے آئے ہیں اس کے مقابلے میں طرح طرح کے شرک بھی موجود رہے ہیں۔

(الف) شرک ذاتی

بعض اقوام ثنویت یا تثلیت یا ایک دوسرے سے جدا کئی قدیم اوزاری مبداؤں کی قائل رہی ہیں اور کائنات کو چند محوروں اور کئی بنیادوں کی حامل سمجھتی رہی ہیں‘ اس قسم کے افکار کا منشاء کیا تھا‘ کیا ان میں سے ہر فکر اپنے دور کے عوام کی اجتماعی صورت حال کی آئینہ دار رہی ہے؟ مثلاً جب لوگ کائنات کے لئے دو قدیم اوزاری مبداؤں اور محوروں کے قائل تھے تو اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کا معاشرہ دو مختلف سمتوں میں تقسیم ہو چکا تھا اور جب لوگ تین مبداؤں اور تین خداؤں کے قائل تھے تو ان کا اجتماعی اور سماجی نظام ایک تثلیثی نظام تھا یعنی ہمیشہ سے اجتماعی نظام ایک اعتقادی اصول کی صورت میں لوگوں کے ذہنوں میں منعکس ہوتا رہا ہے اور لامحالہ جب انبیائے الٰہی کی جانب سے کائنات کے ایک مبداء اور عقیدہ توحید کو موضوع گفتگو بنایا گیا‘ تو یہ وہی وقت تھا جب اجتماعی نظام ایک قطبی ہو چکا تھا۔ یہ نظریہ ایک فلسفی نظریے سے ماخوذ ہے جس کے بارے میں ہم پہلے بھی روشنی ڈال چکے ہیں اس کے مطابق انسان کی فکری و معنوی جہات اور علم‘ قانون‘ فلسفہ‘ مذہب اور فن پر مبنی معاشرے کی معنوی و روحانی بنیادیں اس کے سماجی اور خاص کر اقتصادی نظام کے تابع ہیں اور ازخود اس کی کوئی اصلیت نہیں ہے۔ گذشتہ بحث میں ہم اس نظریے کا جواب دے چکے ہیں اور چونکہ ہم فکر و خیال‘ نظریہ حیات اور سب سے بڑھ کر انسانیت کے سلسلے میں اصالت و استقلال کے قائل ہیں لہٰذا شرک و توحید کے سلسلے میں اس طرح کے عمرانی نظریات کو بے بنیاد سمجھتے ہیں۔

البتہ یہاں پر ایک اور مسئلہ بھی ہے جسے اس مسئلے کے ساتھ خلط ملط نہیں کرنا چاہیے اور وہ یہ کہ کبھی ایک اعتقادی اور مذہبی نظام کسی معاشی اور اجتماعی نظام میں ناجائز استفادہ کا ذریعہ بن جاتا ہے جیسا کہ مشرکین قریش کی بت پرستی سے متعلق خاص نظام سود خور عربوں کی مفاد پرستی کے لئے ایک وسیلہ تھا‘ حالانکہ ابوسفیان‘ ابوجہل اور ولید بن مغیرہ جیسے افراد پر مشتمل سود خوروں کا گروہ ان بتوں پر ذرہ برابر بھی ایمان نہیں رکھتا تھا بلکہ ان کے پیش نظر اس وقت کے معاشرتی نظام کی بقاء تھی اور وہ اسی کا دفاع کرتے تھے اور اس دفاع نے خاص کر اس وقت عملاً سنجیدہ صورت اختیار کر لی جب توحیدی نظام کو جو استحصال اور سود خؤری کا دشمن اور مخالف تھا‘ اسلام کی صورت میں نمودار ہوتا دیکھا۔ جب بت پرستوں نے اپنے وجود کو مٹتے دیکھا تو انہوں نے عوام الناس کے اعتقادات کی حرمت و تقدس کو بہانہ بنایا۔ قرآنی آیات میں اس نکتے کی طرف بہت زیادہ توجہ دلائی گئی ہے‘ خاص طور پر موسیٰ اور فرعون کے واقعے میں‘ لیکن جیسا کہ ہم جانتے ہیں یہ مسئلہ اس مسئلے سے مختلف ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اقتصادی نظام بطور کلی فکری مذہبی نظام کی بنیاد ہے۔ فکری و مذہبی نظام‘ اقتصادی اور معاشرتی نظام کا جبری ردعمل ہوتا ہے۔

جس چیز کی انبیاء کے مکتب نے شدت سے نفی کی ہے وہ یہ ہے کہ ہر مکتب فکر لازمی طور پر معاشرتی اور اجتماعی ضروریات و خواہشات کا آئینہ دار ہے اور یہ ضرورتیں اپنے مقام پر اقتصادی حالات اور شرائط کی پیداوار ہیں۔ اس بناء پر یہ نظریہ سو فیصد مادی ہے اور انبیائے الٰہی کا توحیدی مکتب بھی اپنے مقام پر اپنے زمانے کی معاشرتی ضرورتوں اور اقتصادی احتیاجات کی پیداوار ہے‘ یعنی پیداواری آلات ایسی معاشرتی خصوصیات کا سبب ہیں جن کی توحیدی فکر کی صورت میں توجیہہ کرنا پڑے گی اور انبیاء بھی درحقیقت اس معاشرتی اور اقتصادی ضرورت کے مبعوث کردہ ہوتے ہیں اور کسی فکر‘ عقیدہ و تصور کا اقتصادی بنیاد پر قائم ہونے کا یہی مفہوم ہے اور اسی میں توحید کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

چونکہ قرآن انسان کے لئے فطرت کا قائل ہے اور فطرت کو انسانی وجود کا ایک بنیادی پہلو سمجھتا ہے جو اپنے مقام پر افکار اور احتیاجات کی بنیاد بنتا ہے لہٰذا قرآن انبیاء کی دعوت توحید کو اسی فطری ضرورت کا جواب دہ سمجھتا ہے اور عام انسانی اور توحیدی فطرت کے سوا کسی دوسری چیز کو توحید کی بنیاد قرار نہیں دیتا۔

اسی لئے طبقاتی شرائط کو کسی فکر یا عقیدے کا جبری عامل نہیں جانتا اور طبقاتی حالات بنیادی حیثیت کے حامل ہوں اور فطرت کی کوئی حیثیت نہ ہو‘ تو پھر جبراً ہر شخص کی فکر کے شاہین اور خواہشات کا رخ اسی طرف ہو گا جس طرف اس کی طبقاتی شرائط کا تقاضا ہو گا۔ ایسی صورت میں اختیار و انتخاب کی بات ختم ہو جائے گی‘ نہ تو فرعون جیسے قابل ملامت ہوں گے اور نہ ہی ان کے مخالف ستائش و تحسین کے لائق‘ کیوں کہ انسان اسی لئے مستحق ملامت یا لائق تحسین ہوتا ہے‘ جب وہ ارادہ و اختیار رکھتا ہو۔ لیکن اگر اس کے ہاتھ میں اس کا اختیار نہ ہو (جیسے سیاہ فام باشندوں کی سیاہی اور سفید فام باشندوں کی سفیدی) نہ تو وہ ملامت کا مستحق ہو گا اور نہ ہی لائق تحسین و ستائش۔ لیکن ہم جانتے ہیں کہ انسان طبقاتی سوچ کا غلام نہیں ہے۔ وہ اپنے طبقاتی مفادات کے خلاف قیام کر سکتا ہے جیسا کہ فرعون کے ناز و نعم سے پلنے والے حضرت موسیٰ نے قیام کیا تھا اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اس قسم کی گفتگو کرنا جہاں انسان کی انسانیت کو سلب کر لیا جائے وہاں ایک بے ہودہ اور باطل بات سے زیادہ کچھ بھی نہیں ہے۔

البتہ اس کا مطلب یہ بھی نہیں ہے کہ مادی حالت کا فکری کیفیت اور فکری کیفیت کا مادی حالت پر کوئی اثر نہیں ہوتا اور یہ ایک دوسرے پر بے اثر ہیں بلکہ اس کے معنی ایک کے غالب اور دوسرے کے مغلوب ہونے کی نفی ہے وگرنہ قرآن نے خود کہا ہے کہ

( كَلَّآ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَيَطْغٰٓىۙاَنْ رَّاٰهُ اسْتَغْنٰى ) ”انسان جب اپنے آپ کو بے نیاز اور طاقت ور سمجھنے لگتا ہے تو باغی ہو جاتا ہے۔“(سورئہ علق‘ آیت ۔ ۶ ۔ ۷)

قرآن نے ایک طرف انبیاء کے خلاف سرمایہ داروں کے خصوصی کردار کا ذکر کیا ہے اور دوسری طرف یہ بھی بتایا ہے کہ مستضعفین نے انبیاء کی خصوصی حمایت کی ہے اور اس طرح سے یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ وہ ہر شخص میں‘ فطرت انسانی (کہ جو انسان کو دعوت بیداری دیتی ہے) کے وجود کا قائل ہے۔ ان دونوں گروہوں کے درمیان فرق یہ ہے کہ ان میں سے ایک گروہ (سرمایہ دار) کو روحانی اعتبار سے ایک بڑی رکاوٹ یعنی موجود مادی مفادات اور جن ظالمانہ امتیازات کو حاصل کیا ہے ان سے عبور کرنا ہو گا لیکن دوسرے گروہ کی راہ میں ایسی کوئی رکاوٹ نہیں ہے اور بقول سلمان فارسی ”نجی المحفون“ جن کا بوجھ ہلکا ہے‘ انہی کو نجات حاصل ہے بلکہ جہاں ان کی فطرت کو مثبت جواب فراہم کرنے کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں وہاں ایک سہولت اور بھی حاصل ہے اور وہ یہ کہ اپنی پرمشقت زندگی سے بہتر حالت تک پہنچتے ہیں اور اسی سبب پیغمبروں کے پیروکاروں میں اکثریت ان لوگوں کی رہی ہے جو اپنے معاشرے کے مستضعف لوگ تھے لیکن ہمیشہ ایسا ہوتا رہا ہے کہ انبیاء نے دوسرے گروہ میں سے اپنے حامی پیدا کئے اور انہیں اپنے طبقے اور طبقاتی نظام کے خلاف قیام پر ابھارا جیسا کہ مستضعفین کے گروہ میں سے کچھ لوگ اپنی بعض عادات و خصائل اور وراثتی میلانات وغیرہ کی وجہ سے انبیاء کے دشمنوں سے مل گئے۔ قرآن نے حضرت موسیٰ اور حضرت پیغمبر اکرم ﷺکے خلاف لوگوں کے جذبات کو بھڑکانے والے فرعونوں اور ابوسفیانوں کی اپنے زمانے کی شرک آلود نظام سے وابستگی اور حمایت کو طبقاتی نظام کی جبری سوچ پر محمول نہیں کیا اور یہ نہیں کہا کہ انہوں نے اپنے طبقاتی نظام کے تقاضے کی بناء پر ایسا کیا ہے اور وہ ایسی روش اختیار کرنے پر مجبور تھے اور ان کے عقائد میں معاشرتی تقاضوں کی چھاپ تھی‘ بلکہ قرآن نے یہ بات پیش کی کہ یہ لوگ دھوکہ باز تھے اور حقیقت کو خداداد فطرت پر سمجھنے کے باوجود اس کا انکار کرتے تھے۔

( وَجَحَدُوْا بِهَا وَاسْتَيْقَنَتْهَآ اَنْفُسُهُمْ ) (سورئہ نمل‘ آیت ۱۴)

قرآن کریم نے ان کے کفر کو کفر جحودی سے تعبیر کیا ہے یعنی دل میں اقرار اور زبان پر انکار۔ دوسرے الفاظ میں قرآن نے اس طرح کے انکار کو اپنے ضمیر کی آواز کے خلاف ایک طرح کے قیام سے تعبیر کیا ہے۔

ایک بڑی غلطی یہ ہوتی ہے کہ بعض افراد نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ قرآن‘ مارکسزم ( Historical Materialism ) کو قبول کرتا ہے۔ ہم اسلامی تصور کائنات سے متعلق اپنی بحث کے دوسرے حصے میں جہاں ”معاشرے اور تاریخ“ کا اسلامی نقطہ نظر سے جائزہ لیں گے‘ اس موضوع پر تفصیل کے ساتھ گفتگو کریں گے۔ یہ نظریہ نہ تو تاریخ کے عینی حقائق پر منطبق ہے اور نہ علمی اعتبار سے اس پر بحث کی جا سکتی ہے۔

بہرحال متعدد مبداء پر اعتقاد شرک در ذات ہے اور توحید ذاتی کا مدمقابل ہے۔ قرآن برہان (برہان تمانع) قائم کرتے ہوئے کہتا ہے:

( لَوْ كَانَ فِيْهِمَآ اٰلِهَةٌ اِلَّا اللهُ لَفَسَدَتَاۚ )

”اگر آسمان اور زمین میں اللہ کے سوا کئی خدا ہوتے تو یہ دونوں تباہ ہو چکے ہوتے۔“(سورہ انبیاء۔ ۲۲)

بہرحال اس قسم کا اعتقاد اہل توحید کی صفت اور دائرئہ اسلام سے خارج ہو جانے کا باعث بنتا ہے اور اسلام شرک در ذات کو ہر صورت میں بطور کلی رد کرتا ہے۔

(ب) شرک در خالقیت

بعض قومیں اللہ کو بے مثل و مانند اور عالم ہستی کا واحد مبداء سمجھتی تھیں لیکن بعض دوسری قومیں مخلوقات کو اس کے ساتھ خالقیت میں شریک گردانتی تھیں مثلاً وہ کہتی تھیں کہ خداوند عالم ”شر اور برائی“ کی خلقت کا ذمہ دار نہیں بلکہ ”شر“ کو بعض دیگر مخلوقات نے جنم دیا ہے۔

اس طرح کا شرک جو خالقیت اور فاعلیت میں شرک ہے‘ توحید افعالی کا مدمقابل ہے۔ اسلام اس طرح کے شرک کو بھی ناقابل معافی سمجھتا ہے۔ البتہ شرک در خالقیت کے بھی اپنے مقام پر کئی درجات ہیں کہ جن سے بعض کا تعلق شرک خفی سے ہے نہ کہ شرک جلی سے‘ اور اس میں انسان اہل توحید کے زمرے اور دائرئہ اسلام سے مکمل طور پر خارج نہیں ہوتا۔

(ج) شرک صفاتی

شرک در صفات انتہائی دقیق اور مشکل ہونے کے سبب عام لوگوں کے درمیان موضوع گفتگو نہیں ہوتا۔ یہ موضوع صاحبان فکر و فہم اور اہل نظر کے لئے مخصوص ہے جو ان مسائل پر غور و فکر تو کرتے ہیں لیکن کافی مقدار میں تعمق و صلاحیت نہیں رکھتے۔ مسلمان متکلمین میں اشاعرہ اس طرح کے شرک کے مرتکب ہوئے اور اس طرح کا شرک بھی شرک خفی کہلاتا ہے البتہ دائرئہ اسلام سے خارج ہونے کا موجب نہیں بنتا۔

(د) شرک در پرستش

بعض قومیں پرستش کے مرحلے میں لکڑی‘ پتھر‘ دھات‘ حیوان‘ ستارے‘ چاند‘ سورج‘ درخت یا دریا وغیرہ کو پوجتی رہی ہیں۔ اس نوعیت کا شرک کثرت سے تھا اور آج بھی دنیا کے بعض حصوں میں یہ موجود ہے۔ یہ شرک‘ شرک در عبادت میں شمار ہوتا ہے اور یہ توحید در عبادت کا مقابل ہے۔ اوپر بیان کئے جانے والے شرک کی اقسام اور مراتب نظری سے منسوب ہیں اور غلط معرفت پر مبنی ہیں لیکن یہ شرک‘ شرک عملی ہے اور اس کا تعلق غلط ہونے اور غلط انجام پانے سے ہے۔

البتہ شرک عملی کی بھی اقسام اور درجات ہیں اور ان میں سب سے بلند درجہ وہ ہے جو انسان کو دائرئہ اسلام سے خارج کر دیتا ہے اور جسے شرک جلی کہا جاتا ہے لیکن شرک خفی کی بعض ایسی اقسام ہیں کہ جن کا اسلام اپنی توحید عملی کے پروگرام میں سخت مقابلہ کرتا ہے۔ ان میں سے بعض شرک تو اتنے چھوٹے اور مخفی ہوتے ہیں جن کو طاقت ور ترین خوردبین سے بمشکل دیکھا جا سکتا ہے۔

جناب رسالت مآب سے ایک حدیث میں وارد ہوا ہے:

الشرک اخفی من دبیب الذر علی الصفافی اللیلة الظلما و ادناه یحب علی شئی من الجور و یبغض علی شئی من العدل و هل الدین الا الحب و البغض فی الله قال الله ان کنتم تحبون الله فاتبعونی یحببکم اللّٰه (تفسیرالمیزان (عربی متن) آیت( قل ان کنتم تحبون اللّٰه فاتبعونی ) کے ذیل میں)۔

شرک کی چال اس چیونٹی کی چال سے بھی زیادہ مخفی ہے کہ جو گھپ اندھیری رات میں ایک صاف پتھر پر قدم جمائے آگے بڑھ رہی ہے۔ سب سے چھوٹا اور کم ترین شرک یہ ہے کہ انسان بہت معمولی ظلم کو پسند کرے اور اس پر راضی ہو جائے یا پھر بہت معمولی حد تک عدل سے دشمنی اختیار کرے۔ کیا دین اللہ کے لئے دوستی اور اللہ کے لئے دشمنی کے علاوہ بھی کوئی چیز ہے؟ خداوند عالم ارشاد فرماتا ہے:

”کہہ دو اے رسول! اگر تم اللہ سے دوستی کے دعویدار ہو تو میری پیروی کرو (میرے ان احکامات کی پیروی کرو جو اللہ کی طرف سے نازل ہوئے ہیں) اللہ تم کو دوست رکھے گا۔“

اسلام ہر طرح کی نفس پرستی‘ مقام پرستی‘ مال پرستی اور شخصیت پرستی کو شرک گردانتا ہے۔ قرآن جناب موسیٰ اور فرعون کے قصے میں بنی اسرائیل پر فرعون کے جابرانہ تسلط کو ”بندہ بنانے“ سے تعبیر کرتا ہے۔ خداوند عالم جناب موسیٰ کی زبانی فرعون سے اس کے جواب میں ارشاد فرماتا ہے:

( وَتِلْكَ نِعْمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَيَّ اَنْ عَبَّدْتَّ بَنِيْٓ اِسْرَاءِيْلَ ) (سورئہ اشعراء آیت۔ ۲۲)

”یعنی تو نے ایک بنی اسرائیل کو اپنا بندہ بنا لیا ہے اور پھر مجھ پر احسان جتاتا ہے کہ جب میں تیرے گھر میں تھا تو ایسا یا ویسا تھا؟“

واضح سی بات ہے کہ بنی اسرائیل نہ تو فرعون کی پرستش کرتے تھے اور نہ ہی فرعون کے غلام تھے بلکہ اس کے ظالمانہ طاغوتی نظام کے تحت تسلط تھے۔ قرآن ایک اور مقام پر فرعون کی زبان سے اس غلبے اور ظالمانہ تسلط کو ان الفاظ میں نقل کرتا ہے:

( انا فوقهم قاهرون ) (سورئہ مومنون‘ آیت ۴۷)

”لوگ ہمارے ماتحت اور ہم ان پر حاکم اور قاہر ہیں۔“

اسی طرح ایک اور مقام پر پھر فرعون کی زبان سے نقل کرتا ہے:

( وَقَوْمُهُمَا لَنَا عٰبِدُوْنَ ) ”یعنی جناب موسیٰ اور ہارون کی قوم (بنی اسرائیل) ہماری غلام ہے۔“

اس آیہ کریمہ میں ”لنا“ کا لفظ (ہمارے لئے) اس امر کا بہترین قرینہ ہے کہ یہاں پرستش مراد نہیں ہے کیوں کہ اگر بالفرض بنی اسرائیل پرستش پر مجبور ہوتے تو وہ تنہا فرعون کی پرستش کرتے نہ کہ فرعون کے سب ساتھیوں کی۔ وہ چیز جو فرعون اور فرعون کے تمام ساتھیوں کی طرف سے (جسے قرآن کی اصطلاح میں ”ملا“( ۱) فرعون) ان پر مسلط کی گئی تھی‘ جبری اطاعت تھی۔

حضرت علی علیہ السلام خطبہ قاصعہ میں فرعون کے ہاتھوں بنی اسرائیل کی محکومیت اور اس کے ظالمانہ تسلط کو بندہ بنانے سے تعبیر کرتے ہیں اور فرماتے ہیں:

اتخذ تهم الفراعنة عبیدا

”فراعنہ نے انہیں اپنا عبد بنا رکھا تھا۔“

اس کے بعد آپ اس بندگی کی وضاحت یوں کرتے ہیں:

فسا موھوم العذاب و جرعوھم المرار فلم تبرح الحال بھم من ذل الھلکۃ و قھر الغلبۃ لا یجدون حیلۃ فی امتناع و لا سبیلا الی دفاع

”فرعونوں نے انہیں تکلیفیں دیں‘ عذاب میں ڈالا‘ کڑوے گھونٹ پلائے‘ لوگ ہلاکت میں ڈالنے والی ذلت اور دشمن کی ظالمانہ فرماں روائی پر مبنی مقہوریت میں اپنی زندگی کے دن کاٹ رہے تھے ان کے پاس اپنے بچاؤ کا کوئی راستہ نہیں تھا۔“

سب سے زیادہ واضح اور روشن گفتگو اس آیت میں ہے جس میں اہل ایمان سے خلافت الٰہیہ کا وعدہ کیا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے:

( وَعَدَ اللهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْاَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِيْنَهُمُ الَّذِي ارْتَضٰى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِّنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ اَمْنًاۭيَعْبُدُوْنَنِيْ لَا يُشْرِكُوْنَ بِيْ شَيْـــًٔا ) (سورئہ نور‘ آیت ۵۵)

”خداوند عالم نے ان سب لوگوں سے جو تم میں ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل انجام دیئے‘ یہ وعدہ کیا ہے کہ ضرور ان کو زمین کی خلافت دے گا جیسا کہ ان سے پہلے والوں کو دے چکا ہے اور ان کے اس دین کو جسے اس نے ان کے لئے پسند کر لیا ہے‘ اقتدار عطا کرے گا اور ان کے خوف کو امن سے بدل دے گا‘ اس وقت وہ میری عبادت کریں گے اور کسی چیز کو میرا شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔“

اس آیت کا آخری جملہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ جب حق کی حکومت اور خلافت الٰہیہ کا قیام عمل میں آئے گا اور اہل ایمان ہر ظالم کی قید اطاعت سے آزاد ہوں گے تو وہ صرف میری عبادت کریں گے اور کسی کو میرا شریک نہیں بنائیں گے۔ یہاں سے یہ بات معلوم ہو جاتی ہے کہ قرآن کی نظر میں ہر حکم کی اطاعت عبادت ہے‘ اگر خدا کے لئے ہو تو اطاعت الٰہی ہے اور اگر غیر اللہ کے لئے ہو تو شرک ہے۔

یہ ایک عجیب بات ہے کہ جبری اطاعتیں جو اخلاقی نقطہ نظر سے ہرگز عبادت نہیں ہیں معاشرتی نقطہ نگاہ سے عبادت محسوب ہوتی ہیں- رسول اکرم کا ارشاد ہے:

اذا بلغ بنو العاص ثلثین اتخذوا مال اللّٰه دولا و عباد اللّٰه خولا و دین الله دخل (شرح ابن ابی الحدید‘ شرح نہج البلاغہ‘ خطبہ ۱۲۸ کی شرح)

”جس وقت عاص بن امیہ کی اولاد (مروان بن حکم کا دادا اور اکثر خلفائے بنی امیہ) ۳۰ کی تعداد تک پہنچ جائے گی تو اللہ کا مال ان کے درمیان تقسیم ہونے لگے گا اور یہ لوگ اللہ کے بندوں کو اپنا بندہ قرار دیں گے اور اللہ کے دین میں دخل اندازی کریں گے۔“

یہاں پر بنی امیہ کے ظلم و استبداد کی طرف اشارہ ہے۔ ظاہر ہے کہ بنی امیہ نہ لوگوں کو اپنی پرستش کی دعوت دیتے تھے اور نہ انہوں نے لوگوں کو اپنا غلام بنایا ہوا تھا‘ بلکہ انہوں نے لوگوں پر اپنے استبداد اور جبر کو مسلط کر رکھا تھا‘ جناب رسول خدا نے اپنی مستقبل بین الٰہی نگاہوں سے اس صورت حال کو ایک طرح کا شرک اور ”رب و مربوب“ کا رابطہ قرار دیا ہے۔