• ابتداء
  • پچھلا
  • 18 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 716 / ڈاؤنلوڈ: 485
سائز سائز سائز
جنابِ فاطمہ زہراء (سلام اللہ علیہا)

جنابِ فاطمہ زہراء (سلام اللہ علیہا)

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے

جنابِ فاطمہ زہراؑ

دیوی روپ کنور کماری

ماخذ: اردو کی برقی کتاب

تدوین اور ای بک کی تشکیل: اعجاز عبید

٭٭٭

زینتِ حجلۂ عفّت ہیں جنابِ زہراؑ

زینتِ حجلۂ عفّت ہیں جنابِ زہراؑ

رونقِ کشور عصمت ہیں جنابِ زہراؑ

٭

خلق میں حق کی ودیعت ہے جنابِ زہراؑ

پرتوِ مہر نبوت ہیں جنابِ زہراؑ

٭

باپ کی طرح سے یکتائے زمانہ یہ ہوئیں

مختصر یہ ہے کہ دنیا میں یگانہ یہ ہوئیں

٭٭٭

مظہرِ نورِ رسالتؐ ہیں جنابِ زہرا

گل جو احمدؐ ہیں تو نگہت ہیں جنابِ زہراؑ

٭

دائی ملکِ شریعت ہیں جنابِ زہراؑ

منبعِ عفت و عصمت ہیں جنابِ زہراؑ

٭

مصحفِ پاک میں دیکھے کوئی قصہ ان کا

مہر کا خلد میں ہے پانچواں حصہ ان کا

٭٭٭

زینتِ پہلوئے محبوبِ خدا ہیں زہراؑ

مثل حیدرؑ کے معین الفعفا ہیں زہراؑ

٭

دردِ عصیاں کے مریضوں کی دوا ہیں زہراؑ

کیا کہوں دختر احمدؐ کو کہ کیا ہیں زہراؑ

٭

جس سے خوشبو ہے جہاں وہ گلِ سادات دئے

ان کو بھگوان نے دو گوہرِ نایاب دئے

٭٭٭

عرش و کرسی میں ہے تنویرِ جناب زہراؑ

حق کی تصویر ہے تصویر جناب زہراؑ

٭

کسے روشن نہیں توقیر جناب زہراؑ

حبّدا اخترِ تقدیر جناب زہراؑ

٭

گیارہ معصوموں کی ماں شاہِ زنان آپ ہوئیں

حد یہ ہے خلق میں خاتونِ جناں آپ ہوئیں

٭٭٭

دامنِ عفو ہے دامانِ جنابِ زہراؑ

خلق ہے بندۂ احسانِ جنابَ زہراؑ

٭

واہ کیا شان ہے قربانِ جنابِ زہراؑ

حق کا فرمان ہے فرمانِ جنابِ زہراؑ

٭

عین بھگوان کی رحمت ہے کرم زہراؑ کا

جب تلک دم ہے بھروں گی یوں ہی دم زہراؑ کا

٭٭٭

کس کا زہرہ ہے جو کرے وصفِ جنابِ زہراؑ

کس کا زہرہ ہے جو کرے وصفِ جنابِ زہراؑ

غیر ممکن ہے دو عالم میں جوابِ زہراؑ

٭

باعثِ قہرِ الہٰی ہے عتابِ زہراؑ

بے شمار آئے ہیں قرآن میں خطابِ زہراؑ

٭

وصف جس بی بی کا قرآن میں بھگوان کرے

اُس کی توصیف بھلا کیا کوئی انسان کرے

٭٭٭

زینتِ محفلِ حورانِ جناں ہیں زہراؑ

دلِ محبوبِؐ خدا جانِ جہاں ہیں زہراؑ

٭

ساکنِ فرش ہیں پر عرشِ مکاں ہیں زہراؑ

خلق میں احمد مرسلؐ کا نشاں ہے زہراؑ

٭

سہو و نسیاں سے بری مثلِ پدر ہیں بی بی

عین محبوبِ الہٰی کی نظر ہیں بی بی

٭٭٭

لکھنے گو بیٹھی ہوں اس صاحبِ عفت کا میں حال

پردہٗ دل سے یہ مضموں کا نکلنا ہے محال

٭

مدح زہراؑ کروں پر ہو گی نہیں میری مجال

مجھ سے در پردہ میرا ذہن یہ کرتا ہے مقال

٭

بے خبر بنتِ پیمبرؐ کی ثنا مشکل ہے

ہو سکے مدحتِ داور بخدا مشکل ہے

٭٭٭

کس قدر آپ کے یا فاطمہؑ اچھے ہوئے بھاگ

کوکھ ٹھنڈی رہی قائم رہا حیدرؑ کا سہاگ

٭

خلق کے سارے رشی آپ کے گاتے رہے راگ

جس کو جی چاہا عطا کیا اُسے جنت بے لاگ

٭

سب سے بڑھ کر یہ نئی بات نیا طور سنو

کلمہ زہراؑ کا پیمبرؐ نے پڑھا اور سنو

٭٭٭

کس کو کونین میں حاصل ہوئی عزت ایسی

کب ملی یوسفِ کنعان کو صورت ایسی

٭

طاہرہ ہو گئیں مشہور طہارت ایسی

فخرِ کونین ہوئیں پائی سعادت ایسی

٭

دیکھ کر بیٹا کا منہ شکرِ خدا کرتے تھے

اس کی تعظیم رسولؐ دوسَرا کرتے تھے

٭٭٭

آپ ہی حق کی کنیزوں میں ہیں مخصوص کنیز

آپ ہی حق کی کنیزوں میں ہیں مخصوص کنیز

با حیا، عاقلہ، با عفّت و با ہوش تمیز

٭

جانِ محبوبِؐ خدا حضرتِ عمراں کی عزیز

اس شرف پر سمجھتی رہیں خود کو ناچیز

٭

راز اللہ و نبیؐ نے کئے ظاہر ان سے

گیارہ معصومؑ ہوئے طیّب و طاہر ان سے

٭٭٭

ان کے بچے ہوئے سردارِ جوانانِ جناں

رونقِ خانۂ دل نورِ نظر راحتِ جاں

٭

انہی بچوں کا تو پرماتما ہے مرتبہ داں

دور ان سے کیا خالق نے خطا و نسیاں

٭

روح ناناؐ کی فدا باپؑ کی جاں قرباں ہو

تربیت ایسی ہو بچوں کی، جب ایسی ماں ہو

٭٭٭

ان کی ہمسر ہوئیں مریمؑ نہ جنابِ حواؑ

آسیہؑ خود درِ زیراؑ پہ رہیں ناصیہ سا

٭

مرتبہ آپ سے آدھا بھی نہ ساراؑ کو ملا

ان کی توقیر کجا مادرِ شبیرؑ کجا

٭

ان کی تعظیم شہنشاہِ عرب کرتے تھے

یہ وہ بی بی ہیں مَلک جن کا ادب کرتے تھے

٭٭٭

زینتِ عرشِ بریں پاک چلن خوش اوقات

باپ کی طرح سے مقبول خدا نیک صفات

٭

وہی احمدؐ کی سی خو بو وہی ساری عادات

ساری خالق کی کنیزوں میں رفیع الدرجات

٭

کس نے زہراؑ کی طرح رتبہ عالی پایا

کون سی بی بی کو تطہیر کا آیہ آیا

٭٭٭

ہمسرِ حیدرِؑ صفدر بنیں اللہ رے وقار

حکمراں کشورِ عصمت کی ہوئیں بے تکرار

٭

حامیِ دینِ خدا گلشنِ ایماں کی بہار

زینتِ عرشِ عُلا شاہِ زنان نیک شعار

٭

فطرتاً سیب کی بو ان سے سدا آتی تھی

چمنِ خلد تلک جس کی مہک جاتی تھی

٭٭٭

راج دربار میں بھگوان کے عزّت پائی

راج دربار میں بھگوان کے عزّت پائی

اشرفِ خلق ہوئیں ایسی شرافت پائی

٭

مثلِ قرآنِ مبیں نور کی صورت پائی

حق رسیدہ ہوئیں راج کی رفعت پائی

٭

باپ کی طرح سے امت کی مدد گار ہے یہ

کُل کی سرکار ہیں سرتاج ہیں سردار ہیں یہ

٭٭٭

آپ ایشور کی یگانی بھی ہیں بیگانی بھی

اس کے محبوبؐ کی محبوب ہیں جانی بھی

٭

آپ کے پانے میں مشکل بھی ہے آسانی بھی

آپ مسلم بھی ہیں اسلام کی بانی بھی

٭

پنجتن مل گئے زہراؑ کو اگر جان لیا

ان کو پہچانا تو بھگوان کو پہچان لیا

٭٭٭

صدقے میں ہیں آپ کے اسمِ گرامی کیا کیا

فاطمہؑ زاہدہؑ صدیقہؑ بتولؑ و عذراؑ

٭

طاہرہؑ سیّدہؑ محبوبۂ محبوبِ خدا

ہاجرہؑ راضیہؑ مرضیہ جنابِ زہراؑ

٭

مرتضٰیؑ آپ کو حسنینؑ کی ماں کہتے تھے

خلد والے انہیں خاتونِ جناں کہتے تھے

٭٭٭

اسی بی بی سے ہوا گیارہ اماموں کا ظہور

اسی بی بی سے رجس کو کیا بھگوان نے دور

٭

نیکیوں کا اسی بی بی نے نکالا دستور

حوریں آتی رہیں مجری کے لئے ان کے حضور

٭

پیشِ حق ان کی توقیر بڑی رہتی ہے

رحمتِ حق درِ دولت پہ کھڑی رہتی ہے

٭٭٭

کس کو بھگوان نے یہ رتبہ ذی جاہ دیا

کچھ یہ کم رتبہ ہے شوہر اسداللہ دیا

٭

مہرِ تاباں دیا اک لال تو اک ماہ دیا

باپ ایشور نے محمدؐ سا شہنشاہ دیا

٭

شافعِ حشر کیا اک یہ شرف اور دیا

ان کو سردار زنان حق نے بہر طور کیا

٭٭٭

کس سے تشبیہ دوں زہراؑ کو عجب ہے مرا حال

کس سے تشبیہ دوں زہراؑ کو عجب ہے مرا حال

سوچتی ہوں کوئی ملتی نہیں عالم میں مثال

٭

کی نظر مہرِ مبیں پر تو اسے بھی ہے زوال

کہوں گر ماہ تو اس میں نہیں ہے یہ کمال

٭

اس میں تو داغ ہے دھبہ ہے یہ نورانی ہیں

آپ کونین میں بے مثل ہیں لاثانی ہیں

٭٭٭

آپ کا فرقۂ نسواں پہ ہے احسان عظیم

صنف نازک کے لیے ہے یہی عمدہ تعلیم

٭

مثلِ شوہر کے ملا آپ کو بھی قلبِ سلیم

سب مٹا دیں وہ جہالت کی جو رسمیں تھیں قدیم

٭

نا پسندیدہ جو باتیں تھیں اسے دور کیا

حکم جو باپ سے پایا اسے منظور کیا

٭٭٭

پارسائی میں خواتین جو مشہور ہیں آج

یہی خاتونِ قیامت ہوئیں ان کی سرتاج

٭

اسی بی بی نے لیا حق سے مناسب یوراج

اسی خاتون سے جاری ہوا پردہ کا رواج

٭

آپ سے سب نے محبت کا طریقہ سیکھا

خوبیاں سیکھیں ادب سیکھا سلیقہ سیکھا

٭٭٭ 

پہلے یوں شوہر و زوجہ میں مساوات نہ تھی

اب زمانے میں طریقہ جو ہے یہ بات نہ تھی

٭

سچ یہ ہے پہلے تو عورت کی کوئی ذات نہ تھی

غم سے اک دم کے لیے ترکِ ملاقات نہ تھی

٭

بھیڑ بکری سے بھی عورت کی تھی بد تر حالت

ان سے پہلے تھی عجب طرح کی ابتر حالت

٭٭٭ 

آپ سنسار میں آئیں تو گئی خیر سے شر

آپ کُل پردہ نشینوں کی بنی ہیں افسر

٭

عین احسان و کرم آپ کا ہے نسواں پر

واہ کیا بات ہے اے فاطمہؑ نیک سر

٭

آپ پیدا ہوئیں ہم سب کی ہدایت کے لیے

حق نے بھیجا ہے تمہیں لطف و عنایت کے لیے

٭٭٭

کس قدر آپ کا چال و چلن نستعلیق

کس قدر آپ کا چال و چلن نستعلیق

بیکسوں پر رہیں شوہر کی طرح شفیق

٭

اپنے دشمن کی بھی محسن تو محبوں کی رفیق

ہم کو بتلا گئیں دنیا میں مشیت کے طریق

٭

باپ کے ساتھ رسالت کا ہر اک کام کیا

تم نے عورت کے پردہ کا سر انجام دیا

٭٭٭

صاحبِ شرم و حیا صاحب اخلاقِ خلیق

ذی چشم ذی قدم و ذی شرف و ذی توفیق

٭

واقفِ سرِ خدا عالم و دانا و لئیق

خالق کل کو پسند آیا وہ تھا ان کا طریق

٭

گر زمانہ میں نہ یہ صاحبِ عصمت ہوتیں

پھر تو نسوانِ جہاں قابلِ نفرت ہوتیں

٭٭٭

اک رسالہ میں یہ مضمون ہے میں نے دیکھا

باپ کے پاس تھیں اک روز جنابِ زہراؑ

٭

ناگہاں کان میں آئی کسی سائل کی صدا

آپ چھپنے لگیں آواز کو اس کی جا سنا

٭

اُس کی آنے کی خبر پاتے ہی تھرانے لگیں

پردہ کرنے لگیں چھپنے لگیں گھبرانے لگیں

٭٭٭

ہنس کے فرمایا پیمبرؐ نے کہ بی بی میں فدا

کس لئے چھپتی ہو کیوں کرتی ہو اس سے پردا

٭

اے مری نورِ نظر یہ تو ہے خود نابینا

عرض کی آپ نے بینا تو مگر ہے زہراؑ

٭

غیر محرم پہ نظر گر میری پڑ جائے گی

بابا غیرت سے وہیں فاطمہؑ گڑ جائے گی

٭٭٭

ہے کوئی پردۂ زہراؑ کی زمانے میں مثال

مرتے مرتے رہا جس بی بی کو پردہ کا خیال

٭

مرحبا مرحبا اے فاطمہؑ نیک خصال

نزع میں بھی رہی تاکید یہ حیدرؑ سے کمال

٭

میرا تابوت کسی کو نہ دکھانا صاحب

رات کے وقت جنازے کو اُٹھانا صاحب

٭٭٭

کربلا یاد ہے کچھ تجھ کو قیامت کا وہ دن

کربلا یاد ہے کچھ تجھ کو قیامت کا وہ دن

وہ بلا خیز سماں حشر کا آفت کا وہ دن

٭

اسی بی بی کے گھرانے کی حراست کا وہ دن

بنتِ زہراؑ کی مصیبت کا ندامت کا وہ دن

٭

خلق کو ہائے ستم جانے سکھایا پردہ

اس کی بیٹی کا لعینوں نے اٹھایا پردہ

٭٭٭

کیا نہ تھی دخترِ خاتون قیامت زینبؑ

کیا نہ تھی حضرتِ زہراؑ کی امانت زینبؑ

٭

کیا نہ تھی فاطمہؑ پاک کی راحت زینبؑ

کیا قیامت ہے کہ ہو زیرِ حراست زینبؑ

٭

کیا ستم ہے نہ مقنہ ہو نہ چادر ہوئے

بیٹی خاتونِ قیمت کے کھلے سر ہوئے

٭٭٭

گلشنِ دہر میں ہے فاطمی پھولوں کی بہار

صدقے ان پھولوں کے ہو جائے نہ کیوں روپ کنوارؔ

٭

ان نہالوں کے چمن میں ہے نہ گل میں کوئی خار

ان کا ہمسر ہو دو عالم میں کوئی استغفار

٭

منتخب گل ہیں پسندیدۂ یزدان ہیں یہ

عرش تک جن کی رسائی ہے وہ ذی شان ہیں یہ

٭٭٭

یہی فردوس کا رستہ ہیں یہی خلد کا راہ

نوحؑ کا بھی تو سفینہ ہیں یہی ظلِ الہ

٭

یہ ضیائے رخِ خورشید ہیں نور رخِ ماہ

یہی کونین میں ہیں سب کے لیے پشت و پناہ

٭

آسرا آپ ہی کا رکھتے ہیں عقبا والے

پیروی آپ ہی کی کرتے ہیں دنیا والے

٭٭٭

راز یہ تھا جنم حیدرؑ کا جو کعبہ میں ہوا

یعنی جب گھر میں ہو بھگوان کا بیٹا پیدا

٭

ہو پھر دخترِ محبوب سے اس کا رشتا

اُنس تا عاشق و معشوق میں بڑھ جائے سوا

٭

ایک ہو جائیں دوئی کی صورت نہ رہے

غیر توحید و رسالت سے امامت نہ رہے

٭٭٭

وصف میں آپ کے مداحوں نے کیا کیا نہ کہا

وصف میں آپ کے مداحوں نے کیا کیا نہ کہا

کون سی بات ہے جو چھوڑ گئے ہیں شعرا

٭

لاکھ کچھ کہہ گئے پھر کچھ بھی نہیں ہے بخدا

ختم پر مدحتِ زہرا کا فسانہ نہ ہوا

٭

وصف جس بی بی کا قرآن میں بھگوان کرے

اس کی تعریف بھلا کیا کوئی انسان کرے

٭٭٭

اللہ اللہ یہ شرف باپ نبیؐ پوتے امام

پایا شوہر بھی مقدر سے خدا کا ہم نام

٭

خادمہ حوریں فرشتے درِ دولت کے غلام

نعمتیں اپنی کیں اللہ نے سن ان پر تمام

٭

پیشِ حق کون سی بی بی کی توقیر ہوئی

کس کی زہراؑ کی سی کونین میں تقدیر ہوئی

٭٭٭

گلشنِ عالمِ امکاں میں انھیں کی ہے بہار

ان کی جبریلؑ نے کی آسیا سائی سو بار

٭

نسل میں ان کی جہاں میں ہوئے گیارہ اوتار

آئے فردوس سے ان کے لئے میوے کئی بار

٭

ان کی خدمت سے فرشتوں نے بھی عظمت پائی

پر ملے جب کے مقرب ہوئے عزت پائی

٭٭٭

ناز برداریاں سہتے تھے محمدؐ ان کی

قدر کرتے تھے جبریلؑ کے مرشد ان کی

٭

پانچ معصوموں میں ہے تیسری مسند ان کی

مدح کی مرے بھگوان نے بے حد ان کی

٭

چار جب تک رہے چادر میں نہ حق کو بھایا

جب یہ داخل ہوئیں تطہیر کا آیہ آیا

٭٭٭

اسد اللہ کی مونس بھی ہیں ناموس بھی ہیں

شمع دیں بھی ہیں ایمان کی فانوس بھی ہیں

٭

حق سے بھی انس ہے بھگوان سے مانوس بھی ہیں

عکس بھی نورِ امامت کا ہیں معکوس بھی ہیں

حق تو یہ ہے کہ جو حیدرؑ ہیں وہی ہیں زہراؑ

کیوں نہ ہوں خلق میں جب ایک رہی ہیں زہراؑ

٭٭٭

پارسا ایسی کہ حیدرؑ پڑھیں دامن پہ نماز

پارسا ایسی کہ حیدرؑ پڑھیں دامن پہ نماز

زہد و تقویٰ میں طہارت میں جہاں سے ممتاز

٭

ناز ہے جن پہ نمازوں کو وہ ہے ان کی نماز

کیسا بھایا میرے پرماتما کو حُسنِ نیاز

٭

تھیں جو محبوب کی محبوب تو محبوب ہوئیں

کل ادائیں مرے بھگوان کو مرغوب ہوئیں

٭٭٭

منزلت آپ کی کرتے رہے سلطانِ حجاز

آپ کی خلقتِ پاکیزہ ہے بھگوان کا راز

٭

خاص ایشور نے کیا آپ کو زہراؑ ممتاز

بہ درِ فیض تو استادہ بصد عجز و نیاز

٭

زنگیؔ و رومیؔ و طوسیؔ، یمنیؔ و چلبی

فخر سمجھا کئے سب آپ کی جاروب کشی

٭٭٭

وجہ خلقت ہیں یہی آب و نمک ان کا ہے

بحر و بر ان کا زمیں ان کی فلک ان کا ہے

٭

حوریں سب ان کی ہیں غلماں و مَلک ان کا ہے

کچھ خدائی نہیں اللہ تلک ان کا ہے

٭

سب ہیں اللہ و علیؑ ان کے محمدؐ ان کے

ساری دنیا سے فضائل ہوئے بے حد ان کے

٭٭٭

وہ زمیں پوش ترے در کا ہے ایشور کی قسم

گرچہ پا جاؤں تو آنکھوں پہ رکھوں ہر دم

٭

دل سے یا فاطمہؑ آتی ہے صدا یہ پیہم

نسبت خود بہ سگت کردم پس متعنم

٭

یہ خطا ہے یہ غلط ہے نہیں عزت طلبی

با چہ نسبت بہ سگِ کوی تو شد بے ادبی

٭٭٭

بادۂ الفتِ زہراؑ کی طلب گار ہوں میں

پی چکی جو کئی ساغر وہی میخوار ہوں میں

٭

گو خطاوار ہوں دیرینہ گناہ گار ہوں میں

پر ازل سے اسی بادہ کی پرستار ہوں میں

٭

مرے دیرینہ گناہوں کی دوا دے ساقی

آج زہراؑ کی ردا دھو کے پلا دے ساقی

٭٭٭

وہ پلا کو کہ ہے زہراؑ کی محبت کی شراب

وہ پلا کو کہ ہے زہراؑ کی محبت کی شراب

وہ پلا ہو جو حقیقت میں حقیقت کی شراب

٭

ساقیا دے مجھے خمخانۂ قدرت کی شراب

ہاں پلا پنجتنِؑ پاک کی الفت کی شراب

٭

ماسوا اس کے جو ہیں اس سے سروکار نہیں

اور بادہ کسی عنواں مجھ درکار نہیں

٭٭٭

جس میں شامل رہی بھگوان کی رحمت وہ پلا

نکھری جس بادہ سے اسلام کی رنگت وہ پلا

٭

جس کی پینے کی ہے اسلام میں ہدایت وہ پلا

پی گئے جس کو شہیدانِ محبت وہ پلا

٭

ہاں پلا جلد کہ میخوار کا جی چھوٹتا ہے

دیکھ انگڑائیاں آتی ہیں بدن ٹوٹتا ہے

٭٭٭

ڈھانپ لے جو مرے عصیاں وہی دینا ساقی

جس میں ہو جوشِ طہارت وہی دینا ساقی

٭

نور عفت کا ہو جس میں وہی صہبا ساقی

مہر عصمت کی ہو جس پر وہی مینا ساقی

٭

پردہ پوشی کی ہو خُو جس میں وہ صہبا دے دے

سیر ہو کر پیوں خود ساغر و مینا دے دے

٭٭٭

جب سے منہ مرے لگی ہے یہ شرابِ عالی

کوئی بادہ نہ پیوں گی یہ قسم ہے کھا لی

٭

کبھی اب تک نہ ترے در سے پھری ہوں خالی

ہاں اُٹھا دے ترے صدقے وہی زہراؑ والی

٭

دور چلتا رہے ساقی اُسی پیمانہ کا

کہ بڑا نام ہوا ہے ترے میخانے کا

٭٭٭

اللہ اللہ مرا منہ اور یہ شرابِ طاہر

غیر مسلم ہوں بظاہر ہوں ثنا گستر

٭

دل سے ہوں پر درِ میخانہ پہ تیرے حاضر

اور عقائد سے بھی اسلام کے اب ہوں ماہر

٭

یوں تو کہنے کو تہی دست ہوں کیا رکھتی ہوں

دل میں پر آلِ پیمبرؐ سے ولا رکھتی ہوں

٭٭٭

پہلے بھگوان سے پوچھے کوئی لذت اس کی

پہلے بھگوان سے پوچھے کوئی لذت اس کی

مدتوں حق سے رہی عرش پہ صحبت اس کی

٭

مستند صورت قرآن ہے طہارت اس کی

ہر زمانے کے رشی کرتے تھے رغبت اس کی

٭

نام پر فاطمہؑ زہراؑ کے یہ تاثیر بڑھی

پاشا بنت عنب ہو گئی توقیر بڑھی

٭٭٭

طاہر ایسی کہ نازاں ہے طہارت اس پر

اس کی پاکی پہ ہوئی مُہر نبوّت اس پر

٭

ہوئی اللہ و پیمبرؐ کی شہادت اس پر

حد ہے موقوف رسالت اس پر

٭

بے پیئے اس کے عبادت کوئی مقبول نہیں

یہ وہ فاعل ہے جس کا کوئی مفعول نہیں

٭٭٭

کیوں بہکنے لگی تُو پی کرے سوا روپ ؔکنوار

مجھ سے مفعول کی تفصیل کو سن ہو ہوشیار

٭

فعل جب اس پہ ہوا الفتِ شاہ ابرار

ساتھ بھی اس کے ہے عترت آلِ اطہار

٭

سب وہ مفعول ہیں اس مئے کے جو میخوار بنے

جان کو بیچ کے اس مئے کے خریدار بنے

٭٭٭

تو بھی مفعول ہے لے بن گئی قسمت تیری

حسن تقریر سے ظاہر ہے عقیدت تیری

٭

فاطمہؑ زہرا سے رعشن ہے محبت تیری

آلِ اطہار کے بھی ساتھ ہے الفت تیری

٭

نکلی گنگا سے تو پھر اب نہ گنہگار رہی

کوثر و خلد کی نعمات کی حقدار رہی

٭٭٭

عقد جب مخبرِ صادقؐ کا خدیجہ سے ہوا

منحرف ہو گئیں بی بی سے زنانِ مکّا

٭

طعنہ زن ہو کے ہر ایک کرنے لگی ترکِ وفا

آپ مغموم و حزیں رہتی تھی اکثر تنہا

٭

ہے عجب بات نہ ہوتا تھا کوئی جب گھر میں

فاطمہؑ کرتی تھیں باتیں شکمِ مادر میں

٭٭٭

آپ پیدا ہوئیں امت کی ہدایت کے لیے

آپ پیدا ہوئیں امت کی ہدایت کے لیے

منتخب ہو گئیں حیدرؑ کی قرابت کے لیے

٭

کارِ حق کرتی رہیں اخذِ سعادت کے لیے

دکھ سہے آپ نے سنسار کی راحت کے لیے

٭

دوستوں کی طرح غیروں کی خطا پوش رہیں

پہلوئے پاک شکستہ ہوا خاموش رہیں

٭٭٭

بالخصوص آپ نے نے اسلام پہ احسان کیا

اسی اسلام پہ شبیرؑ کو قربان کیا

٭

اپنی بیٹی کے بھی پردے کا نہ کچھ دھیان کیا

جو کیا کام پسندیدہ بھگوان کیا

٭

ایسی محسن سے بھی غداروں نے غداری کی

غضب حق کرنے کو مکاروں نے مکاری کی

٭٭٭

صدمے کیا کیا ہوئے چھوڑا نہ مگر استقلال

مرتے مرتے بھی رہا باپ کی امت کا خیال

٭

گو کہ امت نہ کیا آپ کا حق پامال

میں فدا، صبر کا دکھلا گئیں دنیا کو کمال

٭

اپنے بچوں کو بھی تعلیمِ وفا دے کے گئیں

اٹھیں دنیا سے تو امت کو دعا دے کے گئیں

٭٭٭

سختیاں جھیلیں زمانے کی ہراساں نہ ہوئیں

دکھ سہے، سکھ سے نہ رہنے دیا گریاں نہ ہوئیں

٭

خدمتی بن گئیں بی بی پر پریشاں نہ ہوئیں

بے وفائی کی شکایت نہ کی نالاں نہ ہوئیں

٭

رنج تا زیست سہے غم سے ہم آغوش رہیں

دکھ اُٹھاتی رہیں پر ساکت و خاموش رہیں

٭٭٭

سر سے جب اُٹھا سایہ محبوبِ خداؐ

سوگ میں باپ کے تا زیست نہ بدلا کرتا

٭

عمر بھر سر پہ رہی ایک وہی میلی ردا

بس عبادت سے سروکار تھا با آہ و بکا

٭

نہ تکلم نہ تبسم نہ کچھ کہتی تھیں

بی بی ڈھان کے ہوئے منہ گھر پڑی رہتی تھیں

٭٭٭

باپ کی موت کا ایسا ہوا زہراؑ پہ اثر

باپ کی موت کا ایسا ہوا زہراؑ پہ اثر

مرتے دم تک رہیں نالاں و پریشان مضطر

٭

گھر میں رونے کے سوا کام نہ تھا آٹھ پہر

شب کو آہیں تھیں گزر جاتا تھا روتے دن بھر

٭

رفتہ رفتہ اسی حالت میں بخار آنے لگا

دن بدن پھول محمدؐ کا یہ کملانے لگا

٭٭٭

راتیں رونے میں تو دن آہ و بکا میں گزرا

وقتِ شب فرقتِ شاہِ دوسراؐ میں گزرا

٭

گزرا جو دم وہ اسی رنج و بلا میں گزرا

وقت باقی کا عباداتِ خدا میں گزرا

٭

کبھی رونے میں کبھی آہ و بکا میں کاٹے

آخری زیست کے دن جور و جفا میں کاٹے

٭٭٭

دن بدن مرض بڑھا خون گھٹا ضعف ہوا

باتیں کرنے میں الٹنے لگا دم حد سے سوا

٭

رات بے چینی میں دن کرب میں سارا گزرا

آہ لب تک کبھی آئی تو کبھی غش آیا

٭

اشک باری سے کسی وقت بھی فرصت نہ ملی

باپ کے بعد زمانے میں طبیعت نہ لگی

٭٭٭

کر دیا ضعف و نقاہت نے تکلم دشوار

چین دل کو کبھی ملتا نہ تھا شب کو قرار

٭

غش پہ غش آ گئے کروٹ جو کبھی لی اک بار

آخرش موت کے جو ہو گئے ظاہر آثار

٭

جمع بچوں کو کیا پند و نصیحت کے لیے

پاس حیدرؑ کو بھی بلوایا وصیت کے لیے

٭٭٭

بولی زینبؑ سے وہ ناموس بدر اور حنین

تجھ سے اک آخری خواہش ہے مری نور العین

٭

پہنچے جس وقت کہ تو کرب و بلا کے مابین

اور پاس آئے تیرے آخری رخصت کو حسینؑ

٭

صدقہ جاؤں نہ کہا بھولیو اس دائی کا

چوم لینا مری جانب سے گلا بھائی کا

٭٭٭

پھر کہا فخر امامت سے کہ اے شاہِ ہُدا

پھر کہا فخر امامت سے کہ اے شاہِ ہُدا

وقت آخر ہے مرا آپ سے ہوتی ہوں جدا

٭

معاف کر دیجئے ہو آپ کو مجھ سے جو گِلا

گر خطا کوئی ہوئی ہو تو بحل کر دینا

٭

چاہتے ہوں قیامت میں نہ روپؔ وش رہوں

آپ کے حق سے بھی محشر میں سبکدوش رہوں

٭٭٭

شہؑ نے فرمایا رضامند ہے حیدرؑ تم سے

کچھ شکایت نہیں اے بنت پیمبر تم سے

٭

آپ میں ہوتا ہوں محجوبِ سراسر تم سے

ضبط دشوار ہے زہراؑ کہوں کیوں کر تم سے

٭

فاقہ پر فاقے کیے تم نے علیؑ کے گھر میں

چکیاں پیسی ہیں خالق کے ولیؑ کے گھر میں

٭٭٭

فاطمہؑ بولیں نہ اس طرح کی کیجئے گا مقال

آپ پر کب ہے چھپا اے مرے والی مرا حال

٭

خشک و تر آپ سے مخفی ہو یہ ہے امر محال

ملتجی ہوں کہ رہے میری وصیت کا خیال

٭

بعد میرے میرے بچوں پہ عنایت رکھنا

یہی الطاف کا شیوہ یہی شفقت رکھنا

٭٭٭

یوں تو مظلوموں کا شبیرؑ حزیں ہے سرتاج

پر تمھیں علم ہے جس طرح کا نازک ہے مزاج

٭

صدمہ اس کا ہے زہراؑ سے یہ چھٹ جائے گا آج

بعد میرے نہ کسی شے کا رہے یہ محتاج

٭

اس کو دکھ ہو گا تو میں قبر میں دکھ پاؤں گی

یہ جو روئے گا تو مرقد سے نکل آؤں گی

٭٭٭

فہرست

زینتِ حجلۂ عفّت ہیں جنابِ زہراؑ ۴

کس کا زہرہ ہے جو کرے وصفِ جنابِ زہراؑ ۷

آپ ہی حق کی کنیزوں میں ہیں مخصوص کنیز ۱۰

راج دربار میں بھگوان کے عزّت پائی ۱۳

کس سے تشبیہ دوں زہراؑ کو عجب ہے مرا حال ۱۶

کس قدر آپ کا چال و چلن نستعلیق ۱۹

کربلا یاد ہے کچھ تجھ کو قیامت کا وہ دن ۲۲

وصف میں آپ کے مداحوں نے کیا کیا نہ کہا ۲۵

پارسا ایسی کہ حیدرؑ پڑھیں دامن پہ نماز ۲۸

وہ پلا کو کہ ہے زہراؑ کی محبت کی شراب ۳۱

پہلے بھگوان سے پوچھے کوئی لذت اس کی ۳۴

آپ پیدا ہوئیں امت کی ہدایت کے لیے ۳۷

باپ کی موت کا ایسا ہوا زہراؑ پہ اثر ۴۰

پھر کہا فخر امامت سے کہ اے شاہِ ہُدا ۴۳