ص۱۶
صحابہ وتابعین کا تقیہ پر عمل
اگر ہم قرآن اور سنت نبوی سے قطع نظر صحابہ وتابعین اور صدر اول کے فقہاء کی روش کا مطالعہ کریں تو تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ وہ سب ضرورت پڑنے پر تقیہ کرتے تھے ۔ اس بارے میں ان کے واقعات اور قصے معروف ہیں ۔
ان لوگوں میں عبد اللہ بن مسعود ،ابو درداء ،ابو موسی اشعری ،ابو ہریرہ ،ابن عباس ،سعید بن جبیر ،رجاء بن حَیْوِہ ،واصل بن عطا ،عمرو بن عبید معتزلی اور امام ابو حنیفہ شامل ہیں ۔
مروی ہے کہ حارث بن سوید نے کہا : میں نے عبد اللہ بن مسعود کو یہ کہتے سنا : اگر کوئی مقتدر قوت مجھے کوئی ایسی بات کہنے کا حکم دے جو مجھے ایک تازیانے یا دو تازیانوں سے محفوظ رکھے تو میں وہ بات کہوں گا ۔
ابن حزم نے اس روایت کو المحلی میں نقل کیا ہے ۔ صحابہ (رضی اللہ عنہم ) میں سے کوئی اس کا مخالف نظر نہیں آتا ۔
(دیکھئے ابن حزم کی المحلی ،ج۸ ،ص ۳۳۶ ،مسئلہ ۱۴۰۹ ، مطبوعہ دار الآفاق الجدیدۃ،بیروت )
امام بخاری نے اپنی سند کے ساتھ صحیح بخاری میں ابو درداء سے روایت کی ہے کہ وہ کہا کرتے تھے :ہم بہت سے لوگوں کے ساتھ ہنسی و خوشی ملتے ہیں جبکہ ہم دل سے ان پر لعنت کرتے ہیں ۔ (دیکھیے صحیح بخاری ،ج۸،ص ۳۷ ، کتاب الادب، باب المداراۃ مع الناس )
یہ قول ابو موسی اشعری سے بھی منسوب ہے ۔
(دیکھئے قاضی مالکی کی الفروق ،ج۴،ص ۲۳۶، فرق نمبر ۲۶۴)
ص۱۷
امیر المومنین علیہ السلام کے بارے میں بھی یہی مروی ہے ۔
(دیکھئے مستدرک الوسائل ۱۲ / ۲۶۱ ، ابواب الامر بالمعروف والنہی عن المنکر ،ح ۲ )
امام بخاری نے اپنی سند کے ساتھ ابو ہریرہ سے نقل کیا ہے : میں نے رسول اللہ سے دو قسم کی چیزیں یاد کی ہیں ۔ ان میں سے ایک کو میں نے (لوگوں کے درمیان ) پھیلایا ہے ( بیان کیا ہے ) ۔دوسری وہ ہے جسے میں فاش کروں تو میرا یہ حلقوم کاٹ لیا جائے گا ۔
(دیکھیےصحیح بخاری ،۱/ ۴۱، کتاب العلم ،باب حفظ العلم کی آخری حدیث)
ابن حجر نے فتح الباری میں تصریح کی ہے کہ علماء نے اس چیز کو جسے ابو ہریرہ نے فاش نہیں کیا ان احادیث پر حمل کیا ہے جن میں برے حکمرانوں اور ان کے کرتوتوں کا ذکر ہوا ہے ۔ وہ (ابو ہریرہ )ان میں سے بعض کی طرف اشارہ و کنایہ سے کام لیتے تھے لیکن تصریح سے اجتناب کرتے تھے ۔ کیونکہ انہیں ان لوگوں سے اپنی جان کو خطرہ محسوس ہوتا تھا ۔ بطور مثال وہ کہتے تھے :
اعوذ باللّه من راس الستین وامارة الصبیان
(میں اللہ کے ہاں پناہ مانگتا ہوں ساٹھ کی ابتداء سے اور بچوں کی حکمرانی سے ) ۔
یہاں ان کا اشارہ یزید بن معاویہ کی حکومت کی طرف ہے کیونکہ اسے سنہ ۶۰ میں حکومت ملی تھی ۔ (دیکھئے ابن حجرعسقلانی کی فتح الباری ،ج۱،ص ۱۷۳)
طحاوی نے اپنی سند کے ساتھ عطاء سے روایت کی ہے کہ اس نے کہا : کسی شخص نے ابن عباس سے کہا :معاویہ کے بارے میں آپ کیا تبصرہ کریں گے جس نے ایک رکعت کے ساتھ نماز وتر پڑھی ہے ؟
( وہ شخص چاہتا تھا کہ ابن عباس معاویہ کی برائی بیان کرے لیکن ) ابن عباس نے جواب دیا : ’’معاویہ نےٹھیک کہا ہے ‘‘ حالانکہ اس روایت کے برخلاف طحاوی کی روایت سے واضح ہے کہ ابن عباس کی نظر میں معاویہ کی نماز درست نہیں تھی ۔
چنانچہ طحاوی اپنی سند کے ساتھ عکرمہ سے روایت کرتے ہیں : میں ابن عباس کے ساتھ معاویہ کے پاس موجود تھا ۔ ہم گفتگو میں مشغول رہے یہاں تک کہ رات کا ایک حصہ گزر گیا تو معاویہ نے کھڑے ہوکر ایک رکعت نماز پڑھی ۔
تب ابن عباس نے کہا : تیرے خیال میں اس گدھے نے یہ کہاں سے لی ہے ؟
اس کے بعد طحاوی کہتے ہیں : ممکن ہے کہ ابن عباس کا یہ قول کہ ’’معاویہ نے ٹھیک کہا ہے ‘‘ تقیہ پر مبنی ہو ۔
پھر طحاوی ابن عباس سے روایت کرتے ہیں کہ وتر کی نماز تین رکعتوں پر مشتمل ہوتی ہے ۔
(دیکھئے طحاوی کی شرح معانی الآثار ۱/ ۳۸۹ ، باب الوتر ،اشاعت دوم ،دار الکتب العلمیہ ،بیروت ،۱۴۰۷ھ )
ابو عبیدہ قاسم بن سلام نے حسان بن ابی یحیی کندی سے نقل کیا ہے کہ اس نے کہا : میں نے سعید بن جبیر سے زکات کے بارے میں پوچھا تو اس نے کہا : اسے حاکموں کے حوالے کرو ۔
جب سعید جانے لگا تو میں نے اس کے پیچھے جاکر اس سے کہا : آپ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں زکات حاکموں کے حوالے کروں حالانکہ وہ اس زکات کے ذریعے فلاں فلاں ۔۔۔کام کرتے ہیں ؟ ( زکات کا غلط استعمال کرتے ہیں ۔ مترجم)
سعید نے کہا : زکات وہاں دو جہاں دینے کا خدا نے حکم دیا ہے ۔ آپ نے لوگوں کے سامنے مجھ سے سوال کیا ۔ اس لئے میں آپ کو درست جواب نہیں بتا سکتا تھا ۔
(دیکھئے ابو عبیدہ قاسم بن سلام کی کتاب الاموال ،ص۵۶۷، ۱۸۱۳ ، تحقیق ڈاکٹر محمد خلیل ہراس ،اشاعت اول، دار الکتب العلمیہ ،بیروت ، ۱۴۰۶ ھ )
ابو عبیدہ قاسم بن سلام نے قتادہ سے بھی روایت کی ہے کہ اس نے سعید بن مسیب سے یہی سوال کیا تو سعید بن مسیب نے خاموشی اختیار کی اور اسے کوئی جواب نہیں دیا ۔