شیعوں سے رابطہ
امام جوادؑ دنیائے اسلام کے مختلف علاقوں میں وکیلوں کے توسط سے شیعیان اہل بیتؑ سے رابطے میں تھے۔ بغداد، کوفہ، اہواز، بصرہ، ہمدان، قم، رے، سیستان اور بُست میں آپ کے نمائندے موجود تھے۔[۱۰۰]
آپ کے وکلاء کی تعداد ۱۳ نقل ہوئی ہے۔[۱۰۱]
وہ شیعوں سے موصول ہونے والی شرعی وجوہات کو امام تک پہچاتے تھے۔[۱۰۲]
ہمدان میں ابراہیم بن محمد ہمدانی[۱۰۳]
اور ابو حذاء بصرہ کے اطراف میں[۱۰۴]
آپ کے وکیل تھے۔ صالح بن محمد بن سہل قم میں امام کے موقوفات کی رسیدگی کرتے تھے۔[۱۰۵]
اسی طرح سے زکریا بن آدم قمی،[۱۰۶] عبد العزیز بن مهتدی اشعری قمی،[۱۰۷] صفوان بن یحیی،[۱۰۸] علی بن مهزیار[۱۰۹] و یحیی بن ابی عمران[۱۱۰] آپ کے وکلاء میں سے تھے۔
بعض اہل قلم نے بعض شواہد سے استناد کرتے ہوئے محمد بن فرج رخجی و ابو ہاشم جعفری کو بھی آپ کے وکلاء میں شمار کیا ہے۔[۱۱۱]
البتہ احمد بن محمد سیاری بھی وکالت کا دعوی کرتا تھا لیکن امام نے اس کے دعوی کو رد کرتے ہوئے انہیں شرعی وجوہات نہ دینے کا حکم دیا۔[۱۱۲]
آیت اللہ سید علی خامنہ ای اپنی ایک تحلیل میں کہتے ہیں کہ:
امام جوادؑ نے وکلائی نظام کے ذریعے امام مہدی(عج) کی غیبت کے لیے ماحول فراہم کیا حالانکہ امامؑ کے ہم عصر خلفا اس بات سے سخت خوف میں مبتلا تھے۔[۱۱۳]
نقل ہوا ہے کہ امام دو دلیل کی وجہ سے مستقیم رابطے کے بجائے وکیلوں کے ذریعے سے اپنے شیعوں سے رابطہ برقرار رکھتے تھے :
آپ حکومت وقت کے زیر نگرانی تھے۔
آپؑ لوگوں کو غیبت امام زمانہ (عج) کے لئے تیار کر رہے تھے۔[۱۱۴]
امامؑ حج کے ایام میں بھی شیعوں سے ملاقات اور گفتگو کرتے تھے۔ بعض محققین کا ماننا ہے کہ امام رضا (ع) کا سفر خراسان سبب بنا کہ شیعوں سے ائمہ کے ساتھ ارتباط میں وسعت پیدا ہو۔[۱۱۵]
اسی بناء پر شیعہ خراسان، ری، بست و سجستان سے ایام حج میں امام سے ملاقات کے لئے آتے تھے۔
آپ وکلا کے علاوہ خط و کتابت کے ذریعے بھی اپنے پیروکاروں کے ساتھ رابطے میں تھے۔
شیعہ اپنے سوالات خط و کتابت کے ذریعے بھجواتے تھے اور آپؑ ان کا جواب دیتے تھے جن میں سے اکثر کا تعلق فقہی مسائل سے ہوتا تھا۔[۱۱۶]
موسوعۃ الامام الجواد [۱۱۷] میں امامؑ کے والد اور فرزند کے علاوہ ۶۳ افراد کے نام حدیث و رجال کے مآخذ سے اکٹھے کئے گئے ہیں جن کا خط و کتابت کے ذریعے امامؑ کے ساتھ رابطہ رہتا تھا۔ البتہ امامؑ نے بعض خطوط اپنے پیروکاروں کے گروہوں کے نام تحریر فرمائے ہیں۔[۱۱۸]
دوسرے گروہوں سے مقابلہ
شیعہ منابع میں نقل ہونے والے شیعوں کے سوالات اور امام محمد تقی (ع) کے جوابات سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے دور امامت میں اہل حدیث، واقفیہ، زیدیہ و غلات جیسے فرقے سرگرم تھے۔ روایات کے مطابق امام کے زمانہ میں محدثین کے درمیان جو بحثیں ہوتی تھیں ان کے اعتبار سے بعض شیعہ خدا کے جسم ہونے کے بارے میں شک میں مبتلا ہو گئے تھے۔ امام نے خدا سے جسم و جسمانیت کی نسبت کو رد کرتے ہوئے ایسے لوگوں کی اقتداء میں نماز پڑھنے سے منع فرمایا جو خدا کے جسم ہونے کا عقیدہ رکھتے تھے بلکہ ایسے لوگوں کو زکات دینے سے بھی منع فرمایا۔
امام نے ابو ہاشم جعفری کے اس آیت کریمہ
لا تُدْرِکهُ الْأَبْصارُ وَ هُوَ یدْرِک الْأَبْصار[۱۱۹]
کی تفسیر میں کئے گئے سوال کے جواب میں فرمایا: خداوند عالم کو ان ظاہری آنکھوں سے دیکھنا (عقیدہ مجسمہ) ممکن نہیں ہے۔ دل کی آنکھوں سے دیکھنا ان آنکھوں سے زیادہ دقیق تر ہے۔
انسان نے جن چیزوں کو نہیں دیکھا ہے وہ ان کا تصور کر سکتا ہے لیکن انہیں دیکھ نہیں سکتا ہے۔ جب اوہام قلوب خدا کو درک نہیں کر سکتے ہیں تو آنکھیں جس طرح سے اسے درک کر پائیں گی؟[۱۲۰]
امام (ع) سے واقفیہ کی مذمت میں روایات نقل ہوئی ہیں۔[۱۲۱]
آپ نے واقفیہ و زیدیہ کو نواصب کی فہرست میں قرار دیا ہے۔[۱۲۲]
آپ فرماتے تھے: آیہ کریمہ:
وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ خَاشِعَةٌ عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ ۔
ترجمہ: اس دن کچھ چہرے تذلل کا منظر پیش کرنے والے ہوں گے (۲) بہت کام کیے ہوئے بڑی محنت و مشقت اٹھائے ہوئے ہیں (مگر بے سود)۔[۱۲۳] ان کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔[۱۲۴] اسی طرح سے نے آپ نے اپنے اصحاب سے واقفیوں کے پیچھے نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔ [ ۱۲۵ ]
امام جواد (ع) غالیوں، ابو الخطاب اور اس کے ماننے والوں پر لعنت کیا کرتے تھے۔ اسی طرح سے آپ ان لوگوں پر بھی لعنت کرتے تھے جو ان پر لعنت میں شک و تردید کرتے تھے۔[۱۲۶]
آپ ابو الغمر، جعفر بن واقد و ہاشم بن ابی ہاشم جیسے افراد کو" ابو الخطاب" کا پیرو شمار کرتے تھے اور فرماتے تھے یہ لوگ ہم (اہل بیت) کے نام سے لوگوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔[۱۲۷]
اس روایت کے مطابق جو رجال کشی میں ذکر ہوئی ہے، آپ نے غلات میں سے ابو السَّمہری اور ابن ابی زرقاء نامی دو لوگوں کے قتل کو جائز قرار دیا تھا اور اس کی دلیل آپ نے شیعوں کو گمراہ کرنے میں ان کے کردار کو قرار دیا تھا۔[۱۲۸]
اسی طرح سے آپ نے اس دور کے غالیوں کے عقاید سے مقابلہ بھی کیا اور کوشش کی کہ ان کے عقاید کی تبیین سے شیعوں کو ان کی پیروی سے دور کریں۔[۱۲۹]
اسی طرح سے آپ نے محمد بن سنان کو خطاب کرتے ہوئے مفوضہ کے اس دعوی کو کہ اللہ نے تخلیق و تدبیر سب کچھ محمد و آل محمد کے حوالے کر دیا، رد کیا۔ البتہ احکام کو تفویض کرنے کے عقیدہ کو صحیح عقیدہ کے طور پر پیش کیا اور اسے مشیت االہی سے منسوب کیا اور فرمایا: یہ وہ عقیدہ ہے کہ جو بھی اس سے آگے بڑھے گا وہ اسلام سے خارج ہو جائے گا، جو اس کو قبول نہیں کرے گا وہ (اس کا دین) نابود ہو جائے گا اور جو اسے قبول کرے گا وہ حق سے ملحق ہو جائے گا۔ [ ۱۳۰ ]
مناظرات و احادیث
امام محمد تقی (ع) سے تقریبا دو سو پچاس احادیث نقل ہوئی ہیں۔[۱۳۱]
یہ روایات فقہی، تفسیری و اعتقادی موضوعات پر مشتمل ہیں۔
دوسرے ائمہ (ع) کی بنسبت آپ سے کم احادیث نقل ہونے کا سبب، آپ کا تحت نظارت ہونا اور شہادت کے وقت آپ کی عمر کم ہونا ذکر ہوا ہے۔
سید بن طاووس نے اپنی کتاب مہج الدعوات میں آپ سے ایک حرز مامون عباسی کی حٖفاظت کے لئے نقل کیا ہے۔[۱۳۲]
اسی طرح سے یہ حرز:
يَا نُورُ يَا بُرْهَانُ يَا مُبِينُ يَا مُنِيرُ يَا رَبِّ اكْفِنِي الشُّرُورَ وَ آفَاتِ الدُّهُورِ
وَ أَسْأَلُكَ النَّجَاةَ يَوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّورِ،
آپ سے منسوب ہے۔[۱۳۳] حرز امام جواد اپنے ہمراہ رکھنا شیعوں کے درمیان متداول ہو چکا ہے۔[۱۳۴]
امام (ع) نے اپنے دور امامت میں متعدد مرتبہ مامون عباسی کے بعض درباری فقہاء کے ساتھ مناظرے کئے ہیں۔
تاریخی گزارشات کے مطابق ان میں سے بعض مناظرے مامون و معتصم کے درباریوں کی درخواست پر اور امام (ع) کو آزمانے کی غرض سے ہوتے ہیں اور اس کے نتائج حاضرین کے استعجاب و تحسین کا باعث بنتے تھے۔[۱۳۵]
مصادر میں امام جواد کے ۹ مناظروں و گفتگو کا تذکرہ ہوا ہے۔ جن میں چار بار یحیی بن اکثم کے ساتھ اور ایک بار قاضی القضاۃ بغداد احمد بن ابی داود کے ساتھ ہونے والا مناظرہ شامل ہے۔
اسی طرح سے عبد الله بن موسی، ابو ہاشم جعفری، عبد العظیم حسنی و معتصم کے ساتھ ہونے والی آپ کی گفتگو بھی نقل ہوئی ہے۔ ان بحثوں کا موضوع فقہی مباحث میں حج، طلاق، چوری کی سزا و دیگر مباحث میں امام زمانہ (ع) کے اصحاب کی خصوصیات، شیخین کے جعلی فضائل اور اسماء و صفات خداوند شامل ہیں۔[۱۳۶]