‌دروس تمهیدیة فی القواعد الرجالیة

‌دروس تمهیدیة فی القواعد الرجالیة0%

‌دروس تمهیدیة فی القواعد الرجالیة مؤلف:
: مصنف/ مؤلف
: مولانا دلاور حُسین حجّتی
ناشر: الغدیر ایجوکیشنل نیٹ ورک
زمرہ جات: علم رجال

‌دروس تمهیدیة فی القواعد الرجالیة

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

مؤلف: آیت اللہ شیخ محمد باقر ایروانی
: مصنف/ مؤلف
: مولانا دلاور حُسین حجّتی
ناشر: الغدیر ایجوکیشنل نیٹ ورک
زمرہ جات: مشاہدے: 8087
ڈاؤنلوڈ: 337

‌دروس تمهیدیة فی القواعد الرجالیة
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 106 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 8087 / ڈاؤنلوڈ: 337
سائز سائز سائز
‌دروس تمهیدیة فی القواعد الرجالیة

‌دروس تمهیدیة فی القواعد الرجالیة

مؤلف:
ناشر: الغدیر ایجوکیشنل نیٹ ورک
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے


"‌کتاب: دروس تمهیدیة فی القواعد الرجالیة"

اسلامی ثقافتی ادارہ " امامین الحسنین(ع) نیٹ ورک " نے اس کتاب کو برقی شکل میں، قارئین کرام کےلئےشائع کیا ہے۔

اورادارہ کی گِروہ علمی کی زیر نگرانی حُرُوفِ چِینی، فنی تنظیم وتصحیح اور ممکنہ غلطیوں کو درست کرنے کی حدالامکان کوشش کی گئی ہے۔

مفت PDF فائل ڈاؤنلوڈ کےلئے کلک کیجئے

https://alhassanain.org/urdu/?com=book&id=476&view=download&format=pdf

ورڈ (word) فائل ڈاؤنلوڈ کےلئے کلک کیجئے

https://alhassanain.org/urdu/?com=book&id=476&view=download&format=doc

HTML- فائل ڈاؤنلوڈ کےلئے کلک کیجئے

https://alhassanain.org/urdu/?com=book&id=476&view=download&format=html

نیز اپنےمکتوبات و تحریر(مفید و علمی کتابیں اور مقالات) مفید مشورے، پیشنہادات، اعتراضات اور ہر قسم کےسوالات کو ادارہ کےایمیل  (ihcf.preach@gmail.com)  پر سینڈ کرسکتے ہیں

‌دروس تمهیدیة فی القواعد الرجالیة

مؤلف: آیت اللہ محمد باقر ایروانی

مترجم: دلاور حُسین حجّتی

ناشر: الغدیر ایجوکیشنل نیٹ ورک

بسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

الحمد لله رب العالمين،

والصلاة والسلام على أشرف الخلق

محمد و اهل بيته الطيبين الطاهرين

فہرست مطالب

پیش گفتار ۱۵

مقدمۂ مؤلف ۱۷

جدید اصولی نظریات سےواقفیت ۱۹

عرض مترجم ۲۷

تمہید ۳۱

عملی تطبیق ۳۴

تطبیق ( ۱) ۳۵

غلط فہمی ۳۹

فصل اول ۴۰

پہلا نکتہ راوی کی وثاقت ثابت کرنے کے طریقے ۴۱

۱ ۔ معصوم علیہ السلام کی گواہی ۴۱

۲ ۔ بزرگ علماء میں سے کسی ایک کی وثاقت کی گواہی ۴۲

۳ ۔ وثاقت پر اجماع ۴۴

۴ ۔ امام علیہ السلام کی طرف سے حاصل وکالت ۴۶

۵ ۔ ثقہ کی روایت ۴۹

۶ ۔ شیخوخۃ الاجازہ ۵۱

تطبیقات ۵۳

تطبیق ( ۲) ۵۳

تمرینات ۶۰

توثیقاتِ عامہ ۶۵

۱ ۔ تفسیر قمی کے راویوں کی توثیق ۶۶

۲ ۔ کامل الزیارت کے راوی ۶۹

۳ ۔ مشایخ نجاشی ۷۱

۴ ۔ سند میں بنو فضال کا واقع ہونا ۷۳

۵ ۔ تین اکابرین میں سے ایک کی روایت ۷۵

رجالی کے قول کی حجّیت کا مدرک ۷۷

تطبیقات ۸۰

تطبیق ( ۳) ۸۰

تمرينات ۸۳

فصل دوم: حدیث کی اقسام کے متعلق ۸۶

صحیح حدیث کے خلاف شہرت ۸۸

ثقہ یا عادل کی خبر ۹۰

ثقہ کی خبر یا قابلِ اعتماد خبر ۹۲

خبرِ حسن ۹۳

خبرِ ضعیف ۹۴

خبرِ مضمر ۹۵

خبرِ مرسل ۱۰۰

تطبیقات ۱۰۴

تطبیق( ۴) ۱۰۴

تمرینات ۱۱۰

حدیث کی بعض کتابوں کے بارے میں نظریات ۱۱۵

کتاب الکافی کے بارے میں نظریات ۱۱۹

" کتاب من لا یحضرہ الفقیہ " کے بارے میں نظریات ۱۲۸

تہذیبین (تہذیب و استبصار) کے بارے میں نظریات ۱۳۲

تمرینات ۱۳۶

ہماری بعض رجالی کتابوں کے بارے میں نظریات ۱۴۲

۱ ۔ رجال کشّی ۱۴۲

۲ ، ۳ ۔ رجالِ شیخ اور فھرستِ شیخ ۱۴۴

۴ ۔ رجالِ نجاشی ۱۴۸

تمرینات ۱۴۹

تمہید ۱۵۳

خبر کی حجیت کے مسئلے میں آراء ۱۵۴

تحقیق: کیا صحیح ہے؟ ۱۵۷

علمِ رجال کی ضرورت ۱۵۸

پھر وہیں سے آغاز ۱۶۰

تمرینات ۱۶۳

ہماری بحث کا اسلوب ۱۶۶

توثیق سے متعلق بحث ۱۶۷

حدیث کو چار اقسام میں تقسیم( ۱) کیا گیا ہے:- ۱۶۷

راوی کی وثاقت ثابت کرنے کے طریقے ۱۶۹

۱ ۔ معصومین علیہم السلام میں سے کسی کے حق میں صریح گواہی ۱۷۰

۲ ۔ بعض متقدمین رجالیوں کی صریح گواہی ۱۷۳

اعتراض اور جواب ۱۷۹

۳ ۔ متاخرین بزرگ علماء میں سے کسی کی صریح گواہی ۱۸۳

متاخرین کی توثیقات حجّت نہیں ہے اس کا سبب ۱۸۳

متاخرین کی توثیقات قابل قبول ہونے پر دلیل ۱۸۵

علامہ حلی ؒکے اقوال میں "اصالة العدالة" ۱۹۴

تمرینات ۱۹۹

عملی تطبیقات ۲۰۳

دیگر اسانید ۲۲۶

اصل موضوع کی طرف واپسی ۲۵۳

۴ ۔ تصدیق یا توثیق پر اجماع کا دعویٰ ۲۵۳

۵ ۔ امام علیہ السلام کی طرف سے وکالت ۲۵۷

۶ ۔ ثقہ کی روایت ۲۶۱

۷ ۔ شیخوخۃ الاجازۃ ۲۷۰

۸ ۔ ایسی سند میں واقع ہونا جس پر صحت کا حکم لگایا گیا ہو ۲۷۹

وثاقت ثابت کرنے کے دیگر طریقے ۲۸۵

عمومی توثیقات ۲۹۳

۱ ۔ راویانِ تفسیرِ قمی ۲۹۴

۲ ۔راویانِ کامل الزیارۃ ۳۰۳

۳ ۔ نجاشی ؒ کے مشائخ ۳۱۰

۴ ۔ اصحاب الاجماع کی سند میں واقع ہونا ۳۱۴

۵ ۔ بنو فضال کا سند میں واقع ہونا ۳۱۶

۶ ۔ مشائخ ثلاثہ میں سے کسی ایک کی روایت ۳۲۱

مذکورہ بالا کا نتیجہ ۳۲۷

دیگر توثیقاتِ عامہ ۳۲۸

تمرینات ۳۲۹

رجالی کے قول کی حجیت کا مدرک ۳۳۳

توثیقات میں ارسال کا مسئلہ ۳۳۸

تطبیقات ۳۴۴

تمرینات ۳۴۷

حدیث کی اقسام کے بارے میں بحث ۳۴۹

صحیح روایت کےخلاف شہرت کا وجود ۳۵۲

ثقہ کی خبر یا عادل کی خبر ۳۵۵

خبرِ ثقہ یا الموثوق بہ ۳۵۶

خبرِ حسن ۳۵۹

خبرِ ضعیف ۳۶۱

خبرِ مضمر ۳۶۵

ضمیر کےاستعمال کا سبب ۳۶۹

خبرِ مرسل ۳۷۱

تمرینات ۳۷۵

بعض حدیث کی کتابوں کے بارے میں نظریات ۳۸۱

کتب اربعہ میں سب کچھ صحیح نہیں ہے ۳۸۷

خصوصی اشکالات ۳۹۷

مسترد شدہ مستندات ۳۹۸

برعکس دعویٰ ۴۰۱

تمرینات ۴۰۵

کتاب "الکافی" کے بارے میں نظریات ۴۰۸

چار نکات ۴۱۵

کلینی ؒ کا سلسلہ سند ۴۱۵

الکافی کی تمام احادیث کی صحت ۴۱۸

عدۃ من اصحابنا (ہمارے چند اصحاب) ۴۲۴

کلینی کے مشائخ ۴۳۴

تمرینات ۴۴۶

کتاب "من لا یحضرہ الفقیه" کے بارے میں نظریات ۴۴۹

پہلا نکتہ ۴۵۴

دوسرا نکتہ ۴۵۶

تیسرا نکتہ ۴۵۸

چوتھا نکتہ ۴۶۴

تمرینات ۴۶۸

"التھذیبین" کے بارے میں نظریات ۴۷۰

شیخ ؒ کا سلسلہ سند بیان کرنے کا طریقہ ۴۷۴

دونوں کتابوں کی تمام احادیث کی صحت ۴۷۵

ضعیف سلسلہ سند کا تدارک ۴۷۸

شیخ اردبیلی ؒ کا طریقہ ۴۸۰

شیخ مجلسی ؒ کا طریقہ ۴۸۵

تیسرا طریقہ ۴۸۷

میرزا محمد استرآبادی ؒ کا طریقہ ۴۹۱

سید خوئی ؒ کا طریقہ ۴۹۵

سید خوئی ؒ کا ایک اور طریقہ ۵۰۳

عملی تطبیقات ۵۱۳

تمرینات ۵۲۳

وسائل الشیعہ کے بارے میں نظریات ۵۲۶

وسائل الشیعہ پر ملاحظات ۵۲۹

مستدرک الوسائل ۵۳۵

الوافی ۵۳۶

بحار الانوار ۵۳۸

ہماری رجالی کتابوں کے بارے میں نظریات ۵۴۳

رجال کشی کے بارے میں نظریات ۵۴۵

رجال شیخ طوسی ۵۴۹

پہلا نکتہ ۵۵۰

دوسرا نکتہ ۵۵۷

فہرست شیخ طوسی ۵۶۰

" جماعت " کی اصطلاح ۵۶۲

رجال نجاشی ۵۶۳

دوسری تالیف کیوں؟ ۵۶۶

برقی اور ابن غضائری کی رجال ۵۶۹

دیگر رجالی کتب ۵۷۱

تمرینات ۵۷۹

بسمہ تعالی

پیش گفتار

از: حجّۃ الاسلام مولانا محمد رضا داؤدانی دامت برکاتہ

آپ کے پیش نظر جناب آیت اللہ باقر ایروانی مدظلہ کی کتاب

"‌دروس تمهیدیة فی القواعد الرجالیة"

کا اردو ترجمہ ہے۔ محترم مؤلف کی یہ خوبی ہر صاحب علم پر عیاں ہے کہ وہ مشکل مباحث کو انتہائی آسان اور سہل انداز میں بیان کر دیتے ہیں۔

ان کی تمام کتب اس حقیقت پر شاہد ہیں۔ یہ کتاب انہوں نے بنیادی طور پر حوزۂ علمیہ اور مدارس کے طلاب کے لیے بطور نصاب تحریر کی ہے۔

یونیورسٹی کے طلبا اور دانشور حضرات بھی مکتب اہلِ بیت علیہم السلام کے راویان حدیث سے آشنائی کے لیے اس کتاب سے استفادہ کر سکتے ہیں۔

اصل کتاب عربی میں ہے جس سے اردو دان طبقے کا براہِ راست فائدہ اٹھانا ناممکن تھا۔ اردو ترجمہ استاد محترم حجۃ الاسلام مولانا دلاور حسین حجّتی مدظلہ کی کوشش ہے۔

ترجمہ اور تالیف کا شعبہ ان کے لیے نیا نہیں ہے۔ وہ اس شعبے میں سالوں کا تجربہ رکھتے ہیں۔ برجستہ خطیب ہونے کے باوجود انہوں نے خود کو حوزوی علوم کے لیے وقف کر رکھا ہے۔ مجھے ان کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کرنے کا شرف حاصل رہا ہے بلکہ حوزوی علوم کی طرف راغب کرنے والی اوّلین شخصیت مولانا حجّتی کی ہی تھی۔

خواہش اور تمنا ہے کہ طلاب اور دانشور اس کتاب سے استفادہ کریں اور مولانا دلاور حجّتی تا دیر مکتب اہلِ بیت علیہم السلام کی خدمت کرتے رہیں۔

محمد رضا داؤدانی

۶ ستمبر ۲۰۲۵ / ۱۲ ربیع الاول سن ۱۴۴۷ ھ

مقدمۂ مؤلف

میں نے اپنی آنکھیں نجفِ اشرف کے محبوب مدرسہ میں فقہ اور اصول کے شعبوں میں کھولیں، اور اس کے ساتھ مجھے علمِ رجال اور اس کے قواعد کا کوئی شعبہ نہ ملا، بلکہ میں تو صرف نامور شخصیات کی سوانح عمریوں میں پڑھا کرتا تھا کہ فلاں نے فلاں سے رجال کا علم پڑھا ہے، مگر عملی سطح پر اس کا کوئی نمونہ یا مشاہدہ مجھے دیکھنے کو نہ ملا۔

میں نے سطوح کا مرحلہ مکمل کیا اور خارج کے مرحلہ میں داخل ہوا، جبکہ رجال کے مسائل سے میرا نہ قریب کا اور نہ ہی بعید کا کوئی تعلق تھا، خاص طور پر جب میں نے فقہ میں " الروضة البهية" (شرح لمعہ) اور " المکاسب" کو پڑھا، تو دونوں ہی اس بات سے مکمل طور پر دور تھیں۔

میں جب درسِ خارج میں شرکت کرتا تھا تو اِس یا اُس علم کے توسّط سے علمِ رجال کے بعض مسائل سنتا تھا، جس سے مجھے ایک واضح خلاء کا احساس ہوا۔

میں نے یہ خلا تین مقامات پر محسوس کیا ہے، جن کا میں ذکر کرتا ہوں، شاید جو لوگ اس کے ناممکن ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں وہ ہمیں اس کا کوئی حل فراہم کر سکیں۔

۱۔ میں نے سطوح کے مرحلہ میں اصول کی جن کتابوں کو پڑھا، ان میں تین اکابرین - نائینی ؒ، عراقی ؒاور اصفہانی ؒ - کے نظریات شامل نہیں تھے۔ اور میں نے صرف اصفهانی ؒکی فصول، قمي ؒکی قوانین، رشتي ؒکی بدائع، شیخ انصاری ؒکی رسائل اور آخوند خراسانی ؒکی کفایہ جیسے پرانے نظریات کا مطالعہ کیا۔

میرا مقصد ان مکاتب ِفکر کے نظریات کو کم تر سمجھنا نہیں ہے۔ خدا کی پناہ کہ میں ایسا تصور بھی کروں، اور میں اپنے ربّ سے معافی مانگتا ہوں اگر میں نے ایسا ارادہ کیا ہو، میرا اصل مطلب یہ ہے کہ کسی بھی مکتب کے افکار مخصوص زمانی مرحلے میں جیتے ہیں اور قانونِ ارتقا ان پر بھی لاگو رہتا ہے۔ قانونِ ارتقا اگر کسی چیز میں استثنا پاتا ہے تو وہ صرف ان نظریات میں ہے جو قرآنِ کریم نے پیش کیے اور وہ افکار جو اہلِ بیت علیہم السلام نے بیان فرمائے ہیں۔

جدید اصولی نظریات سےواقفیت

میں ان تین نمایا ں شخصیتوں کے افکار کا عاشق ہوں جن کے ساتھ میں نے اپنی اصولِ خارج کی تعلیم کے دوران وقت گزارا، اور پھر میں سید شہید ؒکے اصولی حلقات کا بھی عاشق ہوں اور جن کے ذریعے ہم اس فکری خلا پر قابو پانے میں کامیاب ہوئے۔

۲۔میں نے اپنے سطوح کے دروس کے دوران اہلِ بیت علیہم السلام کی احادیث دیات، حدود، اور تعزیرات تو درکنار نہ روزہ کے بارے میں پڑھی، نہ نماز کے بارے میں اور نہ ہی طہارت کے بارے میں پڑھی۔ اسی طرح سے میں نے استدلال کے ان طریقوں کو بھی نہیں پڑھا جن سے استنباط کے مقام پر فقیہ مدد لیتا ہے۔ میں یہ سنتا تھا کہ "الروضہ البھیہ"(شرح لمعہ) ایک استدلالی دورہ ہے جو استدلال کے ذریعے فقہ سکھاتی ہے اور میں اسے فقط بطور تعبّد قبول کرتا رہا یہاں تک کہ جب میں نے آنکھیں کھولیں تومیں نےمعاملہ اس کےبرخلافپایا۔ "الروضۃ البھیۃ"ہمیں سکھاتی ہےکہ ہم کیسےپیچیدہ الفاظ کےساتھت لفظ کرسکتے ہیں اوررموزاورمبہم الفاظ کوکیسےحل کرسکتےہیں۔

میں کچھ عرصےتک مبہم الفاظ کوحل کرتارہااورجوباتیں ان مبہم الفاظ کےاندرتھیں وہ مجھ سےپوشیدہ رہیں۔ میں یہ سیکھتارہاکہ یہ اصل کے لیے شرط نہیں ہےاور وہ روایت کی وجہ سے واجب ہے۔ میں نے اس قدر جانا، بس اس سے زیادہ نہیں، اور میں اس مسئلے میں وارد ہونے والی روایات کو نہیں جانتا تھا کہ جب میں ابھی انہیں سنوں تو میرے لیے اجنبی نہ ہوں۔

میں نے نہیں سنا کہ یہ کس طرح متعارض ہیں اور ہم تعارض کو کیسے حل کریں گے اور جب تعارض مستحکم ہو جائے تو ہم کس طرف رجوع کریں گے؟ میں نے یہ چیز " الروضہ"(شرح لمعہ) میں نہیں دیکھی۔ ہاں، میں نے اس کا کچھ حصہ المکاسب میں دیکھا، لیکن المکاسب کی حدود تنگ ہیں اور یہ صرف بیع اور خیارات تک محدود ہے، تو نماز کہاں ہے، روزہ کہاں ہے، حج کہاں ہے، خمس کہاں ہے، اور کہاں ہیں اور کہاں ہیں اور کہاں ہیں۔

ہمیں سطوح کی مرحلے میں ایک ایسی فقہی کتاب کی ضرورت ہے جو کم از کم اکثر فقہی ابواب پر مشتمل ہو، تاکہ ہم اہلِ بیت علیہم السلام کی روایات کو سنیں اور جب تعارض ہو تو ہم کیسے عمل کریں اور ہمارے نامور علماء کی طرف سے استعمال ہونے والے جدید استدلال کے طریقے کیا ہیں، ساتھ ہی کچھ رجال کے مسائل کا مختصر ذکر ہو۔

اور اس کے بعد ہمیں طلاسم اور رموز والی عبارات کی ضرورت نہیں ہے۔ کیا ہمارے علمی مطالب اور ہمارے استدلال کے طریقوں میں کوئی کمی ہے کہ ہم اس کی اس کے ذریعہ تکمیل کی ضرورت محسوس کریں؟

میں تجربے کی بنا پر کہتا ہوں: میں نے اہلِ بیت علیہم السلام کی مختلف فقہی ابواب کی روایات کو صرف خارج کی بحث میں شرکت کے دوران ہی جانا، اور اس وقت مجھے دوبارہ ایک نئی اور غیر معمولی کیفیت کا سامنا کرنا پڑا۔

ہمیں ایک ایسی کتاب تالیف کرنے کی شدید ضرورت ہے جو ایک مکمل یا تقریباً مکمل فقہی دورے پر مشتمل ہو اور اس میں اہلِ بیت علیہم السلام کی روایات کی بڑی تعداد اور جدید استدلال کے طریقے شامل ہوں، تاکہ خارج کے مرحلے میں منتقل ہوتے وقت ہمارا افق مکمل ہو۔

اور اس تجویز کو ہم عالمِ امکان سے عالمِ فعلیت میں نہیں لا سکتے، سوائے اس کے کہ ہم اپنی نیت اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے لیے خالص کریں، جیسے شہید ثانی ؒ، شیخِ اعظم ؒاور آخوند خراسانی ؒاور دیگر بزرگوں نے اپنی نیت خالص کی، جن کی کتابیں آج تک پڑھائی جاتی ہیں۔

یقیناً ایسی خالص نیت پہاڑ جیسے مشکل حالات کو دور کر دیتی ہے۔ ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہم سب کو ایسا خلوص عطا فرمائے تاکہ ہم اس کے ذریعے ان درسی مشکلات پر قابو پا سکیں جن کا ہم سامنا کر رہے ہیں۔

۳۔ اور تیسرا میدان جس میں مجھے خلا کا سامنا ہوا، وہ رجال اور روایات کی اسناد کا میدان تھا۔ تو وثاقت کے ثابت ہونے کے کیا طریقے ہیں اور ہم کیسے جانیں کہ فلاں شخص ثقہ ہے یا نہیں؟ اور روایت کی حجیت کا کیا ضابطہ ہے؟ اور عمومی توثیقات کیا ہیں؟ یہ سب میں نے مرحلۂ سطوح میں نہیں جانا تھا، بلکہ اساتذہ سے یہ نکتہ اور وہ نکتہ سیکھتا رہا اور باقی چیزوں کو جاننے کے لیے کوشش کرتا رہا۔

اور میں رجال کے نکات کا عاشق تھا اور میں اس استاد یا کتاب کو پسند کرتا تھا جو مجھے واضح طور پر رجال کے نکات کا ایک مجموعہ پیش کرے تاکہ میں اس سے سیراب ہو سکوں۔

اور میرے پاس ان نکات کا ایک مجموعہ جمع ہو گیا اور میں ایک مدت تک ان نکات کو معزز اساتذہ اور علمی مباحثات کے ذریعے سمجھنے میں لگا رہا۔

اور تھوڑی بہت سمجھ آنے کے بعد، میں نے یہ پایا کہ جو کچھ بھی میں نے سمجھا ہے، ہمارے بزرگ علماء نے اپنی کتابوں اور بیانات میں اس کی طرف اشارہ کیا ہے، اور کوتاہی میری جانب سے تھی یا عبارات میں کوئی کمزوری تھی۔

اور میرے لیے یہ واضح ہو گیا کہ ہمیں صرف ایک قلم کی ضرورت ہے جو ان اعلیٰ مطالب کی وضاحت کرے جنہیں ہمارے علماء کے افکار نے شامل کیا ہے۔

میں نے دس سال قبل جب ہجرت کر کے شہر قم مقدس میں قدم رکھا، ایک علمِ رجال کا دوره تحریر کیا جو تقریباً مسئلہ کے ایک حصے کو حل کر دینے کے مترادف ہے، اور میں نے اسے شائع نہ کرنے کا عہد کیا کیونکہ میں نے اس میں کوئی ایسی چیز نہیں دیکھی جو شائع کرنے کے قابل ہو۔

اور دس سال گزرنے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا کہ اگر مسئلہ حوزہ علمیہ کی خدمت کا ہے تو ہمارے علماء کی بات کو آسان زبان میں بیان کر دینا کافی ہے اور اس کے لیے یہ شرط نہیں کہ کوئی نئی بات سامنے آئے۔

اور اس کے بعد میں نے عزم کیا کہ جو کچھ میں نے لکھا ہے اسے دو حصوں میں تقسیم کروں: ایک حصہ جس کی طرف طالب علم اپنے ابتدائی ایام میں رجوع کرےگا اور دوسرا حصہ پہلے سے مختلف نہیں ہوگا مگر کچھ وسعت کے ساتھ ہوگا۔ اور میں نے دونوں حصوں پر

" ‌دروس تمهیدیة فی القواعد الرجالیة"

کا عنوان دیا تاکہ وہ شخص جو مجھ سے زیادہ وسیع فکر اور علم رکھتا ہو، میرے لکھے ہوئے سے زیادہ وسیع افق کے ساتھ ایک دوسری کتاب لکھنے کی جانب متوجہ ہو سکے۔

اور میرا خیال ہے— اگر میں غلط نہیں ہوں — کہ جو شخص میرے لکھے ہوئے کی طرف رجوع کرےگا، وہ خارج کی مرحلے میں خلا کا سامنا نہیں کرے گا یا سامنا کرےگا بھی تو جزوی طور پر۔

اور میرا یہ بھی گمان ہے کہ جو کچھ میں نے لکھا ہے، اگرچہ میں نے اسے آسان الفاظ میں بیان کرنے کی کوشش کی ہے لیکن پھر بھی بعض مقامات میں خاص استاد کی ضرورت ہے تاکہ پھل کی مکمل طور پر بارآوری ہو سکے۔

اور میرا اعتقاد یہ بھی ہے کہ اگر اس کتاب کو اس کی اس عملی تطبیق کے بغیر پڑھا جائے جو ہم نے کتاب کے مختلف مقامات پر بیان کرنے کی کوشش کی ہے، تو یہ درخت اپنے پھل نہیں دے گا۔

نظریہ کو علمی تطبیق سے جدا رکھنا علم نحو میں بُرے نتائج کا باعث بنتا ہے، لہذا جو شخص عربی قواعد کو بغیر تطبیق کے پڑھتا ہے، وہ کسی قسم کا فائدہ حاصل نہیں کرتا ہے۔ اور فقہ میں، جو شخص اصول کو بغیر ذاتی عملی استنباط کی تمرین کیے پڑھتا ہے، وہ کسی قسم کا فائدہ حاصل نہیں کرتا ہے اور ہماری اس کتاب کے حوالے سے، جو اس کو بغیر تطبیق کے پڑھےگا، وہ کسی قسم کا فائدہ حاصل نہیں کرےگا۔

اور آخر میں، میں نے جو کچھ لکھا اس کا مقصد صرف ہمارے حوزات کے طلباء اور اہلِ بیت علیہم السلام کے مدرسے کی خدمت ہے، اگر میں کامیاب ہوا تو یہی میری حقیقی خواہش ہے، ورنہ میرے فخر کے لیے اتنا کافی ہے کہ جو غلطیاں مجھ سے سرزد ہوئی ہے اس میں، میں جاہلِ بسیط ہوں جاہل ِمرکب نہیں ہوں۔اور میں اللہ تعالیٰ سے ہمارے ولی اور ہمارے زمانے کے امام – کہ ان پر میری روح اور تمام عالمین کے ارواح فدا ہو - کے حق کے واسطے سوال کرتا ہوں کہ وہ مجھے امام علیہ السلام کی مبارک دعا کے ذریعہ قوت عطا فرمائے کہ جس کے ذریعے ہر مشکل حل ہوتی ہے اور ہر کمزور کو کامیابی ملتی ہے، اور میری توفیق تو اللہ ہی کی طرف سے ہے، اور میں اس سے مغفرت چاہتا ہوں اور اسی کی طرف توبہ و رجوع کرتا ہوں۔

باقر ایروانی

۲۵/ رجب المرجب/ ۱۴۱۶ھ

عرض مترجم

تمام تعریفیں عالمین کے پروردگار اللہ کے لیے ہے، اور درود و سلام انبیاء و مرسلین کے سردار حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم اور آپ ؐ کی طیب و طاہر آل علیہم السلام پر اور دائمی لعنت ان کے تمام دشمنوں پر۔

علم و دانش کی وادیوں میں بعض علوم وہ ہیں جو صرف عقل کو جِلا بخشتے ہیں، مگر بعض ایسے بھی ہیں جو نہ صرف فکر کو روشن کرتے ہیں بلکہ عمل اور ایمان کی بنیاد کو بھی استحکام عطا کرتے ہیں۔ اہلِ معرفت پر روشن ہے کہ علومِ اسلامی کے دامن میں بے شمار گوہر پنہاں ہیں، اور ان میں علمِ رجال ایک ایسا گوہر ہے جو فقہ و حدیث کے خزانوں کی کنجی کی حیثیت رکھتا ہے۔ جب تک ایک روایت کی سند و راوی معتبر نہ ہو، اس پر فقہی و اعتقادی عمارت کھڑی کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ علمِ رجال احکامِ شریعت کے فہم اور احادیثِ معصومین علیہم السلام کے اعتماد و اعتبار کا سنگِ بنیاد ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صدیوں سے حوزہ ہائے علمیہ میں یہ علم اہمیت کا حامل رہا ہے۔

تاریخِ حوزہ پر نظر ڈالی جائے تو قدیم ادوار سے ہی مختلف درسی اور مطالعاتی کتابوں نے علمی سفر کے لیے اساس فراہم کی؛ یہ کتب متون کی گہرائی اور دقت اپنی مثال آپ ہیں، مگر اس کے ساتھ ساتھ ان کا اسلوب اور طرزِ بیان ایک خاص عہد کے علمی ماحول سے وابستہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ بعد کے زمانوں میں طلبہ کو براہِ راست ان کتابوں سے استفادہ کرنے میں دشواریاں لاحق ہوئیں؛ وقت گزرنے کے ساتھ یہ احساس بڑھتا گیا کہ ایک نئے طرز کی درسی کتب سامنے آئیں، جو علمی گہرائی کو برقرار رکھتے ہوئے سادہ، منظم اور عصرِ حاضر کے طلبہ کے ذوق کے مطابق ہوں۔اسی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے ہمارے عہد کے برجستہ عالم و محقق، آیت اللہ محمد باقر ایروانی دامت برکاتہ نے قدم بڑھایا۔ آپ نجفِ اشرف کے حوزہ علمیہ میں بلند مرتبہ استاد اور دقیق النظر محقق کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں۔ فقہ و اصول کے میدان میں آپ کی تحریریں پہلے ہی ایک نئی روشنی کا درجہ حاصل کر چکی ہیں، اور علمِ رجال میں بھی آپ کی کاوشیں حوزات کے لیے تازگی اور سہولت کا سامان فراہم کر رہی ہیں۔زیرِ نظر کتاب