‌دروس تمهیدیة فی القواعد الرجالیة

‌دروس تمهیدیة فی القواعد الرجالیة0%

‌دروس تمهیدیة فی القواعد الرجالیة مؤلف:
: مصنف/ مؤلف
: مصنف/ مؤلف
زمرہ جات: علم رجال

‌دروس تمهیدیة فی القواعد الرجالیة

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

مؤلف: مصنف/ مؤلف
: مصنف/ مؤلف
: مصنف/ مؤلف
زمرہ جات: مشاہدے: 7556
ڈاؤنلوڈ: 304

تبصرے:

‌دروس تمهیدیة فی القواعد الرجالیة
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 106 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 7556 / ڈاؤنلوڈ: 304
سائز سائز سائز
‌دروس تمهیدیة فی القواعد الرجالیة

‌دروس تمهیدیة فی القواعد الرجالیة

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

تمرینات

س ۱: اصحاب اجماع کون ہیں؟ اور ان کی وثاقت پر اجماع کے ذریعہ کیسے استدلال کیا جاتا ہے؟

س ۲: سید خوئی ؒ نے اجماع کی حجیت کو اختیار کیا ہے، یہاں تک کہ اگر اجماع کا دعویٰ کرنے والا متأخرین میں سے ہو، اس نظریہ کے پیچھے جو استدلال انہوں نے اختیار کیا، اس کا ذکر کریں اور اس پر اشکال کی کیفیت بیان کریں۔

س ۳: معصوم علیہ السلام کی طرف سے وکالت کی دو صورتیں ہیں۔ ان کا ذکر کریں اور وضاحت کریں کہ ان میں سے کس صورت میں اس بات پر بحث ہے کہ آیا وہ وثاقت پر دلالت کرتی ہے یا نہیں۔

س ۴: وکالت کی وثاقت پر دلالت کے قائلین کی دلیل کیا ہے اور اس کا انکار کرنے والوں کی دلیل کیا ہے؟

س ۵: وکالت کے سلسلہ میں آپ کا کیا نظریہ ہے، کیا وکالت وثاقت پر دلالت کرتی ہے؟ اسے ایسی وضاحت کے ساتھ ذکر کریں جس پر آپ مطمئن ہیں۔

س ۶: اگر وکالت وثاقت پر دلالت کرتی ہے تو بعض وکلاء کے حق میں صادر ہونے والی مذمت کی آپ کیسے تشریح کریں گے؟

س ۷: کیا ثقہ کا کسی شخص سے روایت کرنا اس شخص کی وثاقت پر دلالت کرتا ہے؟ اس بات کو دلیل کے ساتھ بیان کریں۔

س ۸: وہ کون ہیں جن کا یہ نظریہ ہے کہ ثقہ کا کسی شخص سے روایت کرنا اس کی وثاقت پر دلالت کرتا ہے؟

س ۹: کیا آپ کے خیال میں ثقہ کا کسی شخص سے کثرت سے روایت کرنا اس شخص کی وثاقت پر دلالت کرتا ہے؟ اور کیوں؟

س ۱۰: ثقہ کے کسی شخص سے کثرت سے روایت کرنے کی اس شخص کی وثاقت پر دلالت کے بارے میں بحث کا فائدہ بیان کرنے کے لیے مثال ذکر کریں۔

س ۱۱: اگر یہ کہا جائے کہ ثقہ اگرچہ ضعیف سے کثرت سے روایت نہیں کرتا، لیکن وہ مجہول الحال سے کثرت سے روایت کر سکتا ہے تو ہم اس کا جواب کیسے دیں گے؟

س ۱۲: اگر یہ کہا جائے کہ ثقہ کی کثرتِ روایت وثاقت پر دلالت نہیں کرتی، اس دلیل سے کہ اجلاء نے بعض ضعیف راویوں سے کثرت سے روایت کی ہے تو ہم اس کا جواب کیسے دیں گے؟

س ۱۳: اگر یہ کہا جائے کہ کلینی ؒ کا محمد بن اسماعیل سے کثرتِ روایت شاید ان کی روایت کی حقانیت پر ان کے اطمینان کی وجہ سے ہے نہ کہ ان کی وثاقت کے اثبات کی وجہ سے تو ہم اس کا جواب کیسے دیں گے؟

س ۱۴: اگر یہ کہا جائے کہ کلینی ؒ کا محمد بن اسماعیل سے کثرتِ روایت شاید ان کے "اصالۃ العدالۃ " پر اعتماد کی وجہ سے ہے نہ کہ ان کی وثاقت کے اثبات کی وجہ سے تو ہم اس کا جواب کیسے دیں گے؟

س ۱۵: روایت لینے اور اس کا تحمّل کرنے کی تین صورتیں ہیں۔ ان کا ذکر کریں۔

س ۱۶: مشائخ الاجازۃ سے کیا مراد ہے؟

س ۱۷: وثاقت ثابت کرنے میں شیخوخۃ الاجازۃ کافی ہونے کے بارے میں بحث کیوں اہم ہے؟

س ۱۸: مشائخ الاجازۃ کی چند مثالیں بیان کریں جن کی وثاقت ثابت نہیں ہوئی۔

س ۱۹: سید خوئی ؒ نے شیخوخۃ الاجازۃ کی وثاقت پر عدم دلالت ثابت کرنے کے لیے جس استدلال پر اعتماد کیا ہے وہ کیا ہے اور اس کا کیسے جواب دیا جائےگا؟

س ۲۰: شیخوخۃ الاجازۃ کی وثاقت پر عدم دلالت پر کبھی یہ دلیل دی جاتی ہے کہ صدوق ؒ کے بعض مشائخ ناصبی تھے۔ مذکورہ استدلال کا جواب کیسے دیا جائےگا؟

س ۲۱: سید بحر العلوم ؒ اور ایک جماعت نے مشائخ الاجازۃ کے مسئلہ کے حل کے لیے کون سا طریقہ اختیار کیا ہے؟

س ۲۲: کہا گیا ہے کہ راوی کا کسی ایسی سند میں واقع ہونا جس پر صحت کا حکم لگایا گیا ہو یہ اس کی وثاقت پر دلیل ہے۔ اس بات سے کیا مراد ہے؟ مثال کے ساتھ واضح کریں۔

س ۲۳: یہ کہا جا سکتا ہے کہ ابن ولید کا محمد بن احمد بن یحییٰ کی روایات کی صحت پر حکم شاید بعض قرائن کی وجہ سے ان روایات کی صحت پر ان کے اعتقاد کی وجہ سے تھا نہ کہ اس وجہ سے کہ محمد بن احمد بن یحییٰ جن سے روایت کرتے ہیں وہ سب ثقہ ہیں، اس کا کیسے جواب دیا جائےگا؟

س ۲۴: سید خوئی ؒ نے بیان کیا ہے کہ ابن ولید کا محمد بن احمد بن یحییٰ کی روایات کی صحت کا حکم راویوں کی وثاقت پر دلالت نہیں کرتا۔ اس کی دلیل ذکر کریں۔

س ۲۵: ابن نوح کی گواہی سے محمد بن أحمد بن يحيى کے تمام مشایخ کی وثاقت پر استدلال کیا جاتا ہے۔اس استدلال کی وضاحت اور اس پر اشکال بیان کریں۔

س ۲۶: وثاقت ثابت کرنے کے بہت سے طریقے ہیں۔ انہیں بیان کریں اور ان میں آپ کے نزدیک کون سے قابل قبول ہیں اور کون سے قابل قبول نہیں ہیں یہ بھی واضح کریں۔

س ۲۷: وثاقت ثابت کرنے کے بعض ایسے طریقے ذکر کریں جو کسی معین ضابطے میں شامل نہیں ہو سکتے۔

س ۲۸: کیا مقدمہ عبادات کے ابواب میں سے باب ۱۸ حدیث ۱ کی سند صحیح ہے؟

نکتہ دوم

عمومی توثیقات

توثیق کبھی کسی معین شخص یا اشخاص کے متعلق ہوتی ہے اور کبھی کسی کلی و عمومی عنوان کے متعلق ہوتی ہے۔

پہلی قسم کی مثال: حماد کے حق میں نجاشی ؒ کو قول مثلا: "ثقة فی حدیثه " (وہ اپنی حدیث میں ثقہ تھے)۔

دوسری قسم کی مثال: جس بات کا علی بن ابراہیم ؒ کے حق میں دعوی کیا گیا ہے کہ انہوں نے ان تمام افراد کی توثیق کی ہے جو روایات کے ان اسانید میں وارد ہوئے ہیں جنہیں انہوں نے اپنی تفسیر میں نقل کیا ہے۔

توثیقات عامہ کثرت سے ہیں، جن میں سے ہم چند کا ذکر کرتے ہیں:-

۱۔ راویانِ تفسیرِ قمی

تفسیر قمی، قرآن کریم کی ایک روائی (۱) تفسیر ہے امام عسکری علیہ السلام کے زمانہ کے ہمارے علماء میں سے ایک مردِ عظیم کی جنہیں علی بن ابراہیم قمی ؒ سے جانا جاتا ہے، جن کی وفات سن ۲۱۷ ہجری میں ہوئی تھی۔

نجفِ اشرف کی دوسری طباعت مذکورہ کتاب کی آخری و جدید طباعت ہے اس میں ایک طویل مقدمہ ہے جس میں قمی ؒ نے ایک جملہ بیان کیا ہے جس سے بعض بزرگ علماء نے یہ معنی اخذ کیا ہے کہ انہوں نے ان تمام راویوں کی توثیق کی ہے جنہیں انہوں نے اپنی تفسیر میں بیان کیا ہے۔

حوالہ:

(۱)- یعنی ایسی تفسیر جو روایات کے ذریعہ کی گئی ہو۔

وہ عبارت اس طرح سے ہے :

" و نحن ذاكرون و مخبرون بما ينتهي الينا، و رواه مشايخنا و ثقاتنا عن الذين فرض اللّه طاعتهم و اوجب ولايتهم "

(ہم بیان کرنے والے اور اطلاع دینے والے ہیں ان باتوں کی جو ہم تک پہنچی ہیں، اور جنہیں ہمارے مشائخ اور ہمارے ثقہ افراد نے ان معززین سے روایت کیا ہے جن کی اطاعت اللہ نے فرض کی ہے اور جن کی ولایت اللہ نے واجب کی ہے۔۔۔)۔

مذکورہ عبارت سے صاحب وسائل ؒ نے یہ معنی اخذ کیا ہے کہ قمی ؒ نے مذکورہ تفسیر میں بیان شدہ تمام افراد کی اس شرط کے ساتھ توثیق کی ہے کہ سند کا اختتام معصوم علیہ السلام کی طرف ہوتا ہو۔

انہوں نے " الوسائل ج۲۰ ص۶۸ میں کہا: " اور علی بن ابراہیم ؒ بھی گواہی دے چکے ہیں کہ ان کی تفسیر کی احادیث ثابت ہے اور انہیں ایسے ثقہ افراد سے روایت کیا گیا ہے جنہوں نے ائمہ علیہم السلام سے بیان کیا ہے " ۔

اور اس نظریہ کو سید خوئی ؒ نے بھی " المعجم ج۱ ص۴۹ " میں اختیار کیا ہے۔

اور اگر مذکورہ بات ثابت ہو جائے تو جیسا کہ کہا گیا ہے ۲۶۰ راوی ثقہ راویوں کی فہرست میں منتقل ہو جائیں گے۔ اور یہی ں سے ہم اس مذکورہ بحث کی اہمیت کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔

مذکورہ عبارت میں ایک اور امکان بھی ہے، اور وہ یہ کہ قمی ؒ اپنے براہِ راست مشایخ و اساتذہ کی توثیق کرنا چاہتے ہیں نہ کہ روایت کی سند میں شامل ہر شخص کی۔

سید خوئی ؒ نے اس امکان کو یہ کہتے ہوئے رد کیا ہے کہ قمی ؒ اپنی تفسیر کی صحت کو ثابت کرنا چاہتے ہیں، اور یہ اس میں موجود تمام راویان (نہ صرف براہِ راست مشائخ) کی توثیق پر موقوف ہے۔

اس بنیاد پر سید خوئی ؒ نے حکم دیا کہ تفسیر قمی میں مذکور تمام راوی ثقہ ہیں، سوائے ان کے جنہیں نجاشی ؒ یا دیگر نے ضعیف قرار دیا ہو، ایسی صورت میں توثیق کا اعتبار باقی نہیں رہےگا کیونکہ توثیق کا اعتبار اسی وقت تک ہے جب تک اس کی مخالفت میں جرح وارد نہ ہو جیسا کہ یہ بات واضح ہے۔

یہ تفسیر قمی کے راویوں کی حجیت کے بارے میں کہی گئی باتوں کا خلاصہ ہے۔

لیکن اس پر مندرجہ ذیل بحث کی جا سکتی ہے:

۱۔ مذکورہ تفسیر کا راوی یعنی أبو الفضل العباس بن محمد بن القاسم بن حمزة بن الإمام موسى بن جعفر سلام اللّه عليه ہے جیسا کہ یہ بات اسی تفسیر کی طرف رجوع کے دوران واضح ہو جاتی ہے۔ اور مذکورہ شخص مجہول الحال ہے کہ اس کے بارے میں کوئی شے معلوم نہیں ہے اور ایسی صورت میں یہ کتاب اعتبار سے ساقط ہو جاتی ہے چونکہ اس کے راوی کا علم نہیں ہے۔

اس بات کا جواب: بےشک شیخ طوسی ؒ اپنی فہرست میں علی بن ابراہیم ؒ کی تمام کتابوں تک پہنچنے کا ایک صحیح سلسلہ سند بیان کرتے ہیں، جن میں ان کی تفسیر بھی شامل ہے، اور وہ اس سلسلہ سند کے ذریعے خود قمی ؒ تک پہنچتے ہیں۔

اور یہ فرض کرتے ہوئے کہ قمی ؒ خود شیخ طوسی ؒ کو مختلف واسطوں کےذریعہ اپنی تفسیر نقل کرنے کی اجازت دے چکے ہیں، اب ابو الفضل کے متعلق جہالت کوئی نقصان نہیں پہنچاتی۔

۲۔ اس کتاب کی مذکورہ مقدمہ، جو ایک طویل مقدمہ ہے، اس کا قمی کی تحریر ہونا ثابت نہیں ہے، کیونکہ مقدمہ کے تسلسل کے دوران اس میں یہ عبارت آئی ہے:

" قال أبو الحسن علي بن إبراهيم الهاشمي القمي فالقرآن منه ناسخ و منه منسوخ "

(ابو الحسن علی بن ابراہیم الہاشمی القمی نے کہا: پس قرآن میں کچھ آیات ناسخ ہیں اور کچھ منسوخ ہیں۔۔۔

اس سے یہ امکان پیدا ہوتا ہے کہ مقدمہ کا ابتدائی حصہ قمی ؒ کا نہیں ہے بلکہ قمی ؒ کے کلام کی ابتداء " فالقرآن منه ناسخ و منه منسوخ۔۔۔" سے ہوتی ہے۔

اور سابقہ عبارت جسے بطور ثبوت پیش کیا گیا تھا - ہم بیان کرنے والے اور اطلاع دینے والے ہیں ان باتوں کی جو ہم تک پہنچی ہیں۔۔۔ – وہ اس سے پہلے مذکور ہے، یعنی " قال أبو الحسن۔۔۔" کے جملے سے پہلے اور ایسی صورت میں اس جملے کو بطور ثبوت پیش نہیں کیا جا سکتا چونکہ اس کا قمی ؒ کا کلام ہونا یقینی نہیں ہے۔

اس میں اشکال: سابقہ جملہ جسے بطور ثبوت پیش کرنا مقصود ہے اسے صاحب وسائل ؒ نے اپنی کتاب " الوسائل" میں نقل کیا ہے، اور ان کو شیخ طوسی ؒ اور پھر ان کے توسّط سے خود قمی ؒ تک صحیح سلسلہ حاصل ہے، لہذا یہ بات ثابت ہے کہ قمی ؒ نے ہی سابقہ جملہ بیان کیا ہے اور یہ صاحبِ وسائل ؒ تک شیخ طوسی ؒ کے توسّط سے پہنچا ہے۔

۳۔ تفسیر قمی میں مذکور بعض راویوں کو نجاشی ؒ یا شیخ ؒ کی طرف سے ضعیف قرار دیا گیا ہے، جو اس بات پر دلیل ہے کہ قمی ؒ کا مقصود اپنی تفسیر میں بیان شدہ ہر راوی کی توثیق نہیں ہے۔

اس میں اشکال: ہو سکتا ہے جس راوی کو ضعیف قرار دیا گیا ہے وہ قمی ؒ کی نگاہ میں ثقہ ہو تو ایسی صورت میں یہ تعدیل اور جرح کے درمیان تعارض کے مقامات میں سے ایک مقام قرار پائےگا اور کسی راوی کو ضعیف قرار دیا جانا اس بات پر قرینہ نہیں بن سکتا کہ قمی ؒ نے اپنی تفسیر میں بیان شدہ ہر راوی کی توثیق کا ارادہ نہیں کیا ہے۔

ہاں راوی کا ضعیف ہونا تمام کے نزدیک مسلّم اور واضح ہو تو ممکن ہے کہ اسے مذکورہ بات پر قرینہ قرار دیا جائے، لیکن ایسی چیز کہاں موجود ہے۔ لہذا مذکورہ اشکالات وارد نہیں ہوتے ہیں۔

مہم یہ کہنا ہے کہ:-

۱۔ قمی ؒ کی اگرچہ تفسیر کے نام سے ایک کتاب تھی اور اس بارے میں شک قائم کرنا ممکن نہیں ہے چونکہ نجاشی ؒ اور شیخ ؒ نے مذکورہ تفسیر کے وجود کی صاف وضاحت کی ہے اور دونوں بزرگواروں نے ان سے متصل ہونے والے صحیح سلسلہ کو بیان کیا ہے، لیکن ہم اس بارے میں شک قائم کر سکتے ہیں کہ آج کے دور میں جو رائج تفسیر ہے یہ وہی تفسیرِ قمی ہے، جبکہ ہم یہ احتمال رکھتے ہیں کہ یہ تفسیر بالکل بھی قمی کی نہ ہو، یا کم از کم اس کا کچھ حصہ قمی کا ہو اور باقی حصہ اس میں مخلوط کر دیا گیا ہو۔

ہم نے جو بات بیان کی اس کی تائید مذکورہ جملے ہیں :

" رجع إلى تفسير علي بن إبراهيم" یا " رجع إلى رواية علي بن إبراهيم" یا " رجع الحديث إلى علي بن إبراهيم" یا " في رواية علي بن إبراهيم"

(رجوع کیا جائے علی بن ابراہیم کی تفسیر کی طرف " یا " رجوع کیا جائے علی بن ابراہیم کی روایت کی طرف " یا " حدیث کو علی بن ابراہیم کی طرف منسوب کیا گیا ہے " یا " علی بن ابراہیم کی روایت میں ہے)۔ اور اس کا جائزہ لیا جا سکتا ہے تفسیر علی ابن ابراہیم:جلد ۱، صفحات ۲۷۱، ۲۷۲، ۳۸۹، ۲۹۹، ۳۱۳، ۳۸۹، ۲۹۲، ۲۹۴۔۔

۲۔ اس تفسیر میں بعض ایسے قرائن موجود ہیں جو اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ قمی ؒ اپنی کتاب کے تمام راویوں کی توثیق بیان کرنا نہیں چاہتے تھے۔ پس ج۱ ص۶۶ میں وہ کہتے ہیں: مجھ سے بیان کیا میرے والد نے مرفوعہ طور پر، کہا: امام صادق علیہ السلام نے فرمایا۔ اور ج۱ ص۹۹ میں کہتے ہیں: اور مجھ سے بیان کیا محمد بن یحیی بغدادی نے، انہوں نے اس حدیث کو مرفوعہ طور پر بیان کیا امیر المؤمنین علیہ السلام سے۔ اور ج۱ ص۲۱۴ میں وہ کہتے ہیں: اور مجھ سے بیان کیا میرے والد نے، انہوں نے حسین بن سعید سے، انہوں نے اپنے بعض راویوں سے، انہوں نے ابو عبد اللہ علیہ السلام سے، اور اس کے علاوہ ایسے مقامات کہ جن میں توثیق ممکن نہیں ہے چونکہ اس سند کے راویان مشخص نہیں ہیں۔

بلکہ بعض مقامات میں تو ایسے شخص کا نام بیان کیا ہے جس کا ثقہ راویوں میں ہونا ممکن نہیں ہے جیسے یحیی بن اکثم بطور مثال جیسا کہ ج۱ ص۳۵۶ میں ہے۔

۲۔راویانِ کامل الزیارۃ

کامل الزیارۃ تمام زیارات کو یکجا کرنے کے مقصد سے تالیف کی گئی کتاب ہے۔ اس کتاب کے مؤلف ثقة جلیل جعفر بن محمد بن قولویہ ؒ ہیں، جو ہمارے بزرگ متقدمین علماء میں سے ہیں۔

اس شیخ جلیل ؒ نے اپنی کتاب میں ایک مختصر مقدمہ بیان کیا ہے جس کے ضمن میں مذکورہ عبارت ہے:

" و قد علمنا بانا لا نحيط بجميع ما روي عنهم في هذا المعنى و لا في غيره لكن ما وقع لنا من جهة الثقات من اصحابنا رحمهم اللّه برحمته و لا اخرجت فيه حديثا روي عن الشذاذ من الرجال "

(اور ہم جانتے ہیں کہ ہم نہ اس معنی میں، اور نہ ہی اس کے علاوہ میں، ان (اہلِ بیت علیہم السلام) سے مروی تمام احادیث کا احاطہ نہیں کر سکتے،

لیکن جو کچھ ہم تک ہمارے ثقہ اصحاب –

اللہ تعالیٰ ان پر اپنی رحمت نازل فرمائے - کے ذریعے پہنچا ہے، میں نے اس میں کوئی حدیث بیان نہیں کی جو شذّاذ راویوں سے روایت کی گئی ہو۔۔۔) "(۱)

شیخ نوری ؒ نے اپنی کتاب " مستدرک الوسائل ج۳ ص۵۲۲ " میں یہ معنی اخذ کیا ہے کہ ابن قولویہ ؒ کا مقصد ان راویوں کی توثیق کرنا ہے جس کے حوالے سے انہوں نے براہِ راست روایت بیان کی ہے۔ اور تحقیق و جستجو کے بعد یہ تعداد ۳۱ مشائخ تک پہنچتی ہیں۔

جبکہ اس عبارت سے صاحب وسائل ؒ نے یہ سمجھا کہ ابن قولویہ ؒ اپنے (بلا واسطہ اور بالواسطہ) تمام مشائخ کی توثیق کر رہے ہیں (۲) ۔

حوالے:

(۱)۔ کامل الزیارۃ: ص۴۔ مذکورہ عبارت سے مقصود: ہم اہل بیت علیہم السلام سے منقول زیارات اور دیگر شعبوں میں بیان کردہ تمام روایات کا احاطہ نہیں کرتے ہیں۔ بلکہ ہم فقط ثقہ راویوں سے ہم تک جو پہنچا ہے اسے بیان کرتے ہیں اور شاذ راویوں سے مروی احادیث کو میں نے بیان نہیں کیا ہے۔

(۲)- وسائل الشيعة: ج ۲۰ الفائدة ۶

اور جن افراد نے یہ رائے اختیار کی ہے ان میں سید خوئی ؒ بھی شامل ہے جیسا کہ " المعجم ج۱ ص ۵۰ " میں انہوں نے اس نطریہ کو بیان کیا ہے کہ " کامل الزیارۃ " کے اسانید میں جو راوی بھی مذکور ہے وہ ثقہ ہے سوائے یہ کہ دوسروں کی جانب سے ضعیف قرار دینا معارض ہوتا ہو، اس کلی قانون کے مطابق جو ہر توثیق کے سلسلہ میں قائم ہے کہ راوی کی توثیق کو اس شرط کے ساتھ قبول کیا جائےگا جب اس سے ضعیف قرار دیئے جانے کا قول متصادم نہ ہو۔

اس نظریہ کی بنیاد پر جیسا کہ کہا گیا ہے ۳۸۸ راویوں کی وثاقت ثابت ہو جاتی ہے (۱) ۔

حوالہ:

(۱)- یہ بات قابل توجہ ہے کہ سید خوئی قدّس سرہ اپنے ابتدائی دور میں کامل الزیارۃ کے راویوں کی وثاقت کے معتقد نہیں تھا یہاں تک کہ ان کے براہِ راست راویوں کے سلسلہ میں بھی – جیسا کہ اس بات کی طرف انہوں نے "فقہ الشیعۃ ج۳ ص۲۷" میں اشارہ کیا ہے – لیکن اس کے بعد ہم ایسے زمانہ کے شاہد ہیں جن میں ان کا اعتقاد یہ بن گیا تھا کہ اس کے تمام راوی ثقہ ہیں یہاں تک کہ جو براہِ راست نہیں ہیں وہ بھی، پھر انہوں نے اپنی زندگی کے آخری ایّام میں تفریق کے نظریہ کو اختیار کیا اور توثیق کو فقط براہِ راست راویوں سے مخصوص قرار دیا۔

اور اس پر اعتراض: تمام راویوں کی توثیق کا معنی اخذ کرنا مشکل کام ہے، بلکہ مناسب یہ ہے کہ صرف براہِ راست روایت کرنے والوں کی توثیق کا معنی اخذ کیا جائے، کیونکہ سابقہ عبارت اس لحاظ سے مجمل ہے، اور اس سے یقینی طور پر جو سمجھا جاتا ہے وہ صرف براہِ راست روایت کرنے والوں کی توثیق کا ارادہ ہے۔

اور جو بات ہم کہہ رہے ہیں اس کی تائید اس بات سے ہوتی ہے کہ ابن قولویہ ؒ نے ایسے راویوں کا ذکر کیا ہے جنہیں وہ خود بھی نہیں جانتے تھے، چنانچہ پہلے باب کی تیسری حدیث میں وہ کہتے ہیں: اس کے حوالے سے جس کا انہوں نے ذکر کیا ہے، اور انہوں نے محمد بن سنان سے، اور انہوں نے محمد بن علی سے جنہوں نے اسے مرفوعہ طور پر بیان کیا ہے (عمن ذكره عن محمد بن سنان عن محمد بن علي رفعه)۔

اور سابقہ باب کی چوتھی حدیث میں وہ کہتے ہیں: ہمارے بعض اصحاب سے جس نے اسے مرفوعہ طور پر بیان کیا ہے ( عن بعض اصحابنا رفعه )، اور چوتھے باب کی دوسری حدیث میں وہ کہتے ہیں: اس شخص سے جس نے اسے حدیث بیان کی تھی۔ ( عمن حدّثه )۔

اور اس قسم کے اور بھی بہت سے مقامات موجود ہیں۔

بلکہ کبھی کہا گیا ہے(۱)کہ نہ فقط یہ بلکہ اس سے بڑھ کر ان کے براہِ راست مشائخ کی توثیق کا معنی اخذ ہونے سے بھی انکار کیا جا سکتا ہے، کیونکہ یہ احتمال ہے کہ مذکورہ عبارت سے ان کا مقصود یہ ہو: ہم تمام روایات کا احاطہ نہیں کریں گے لیکن ہم وہ روایات نقل کریں گے جو خاص طور پر ان لوگوں نے درج کی ہیں جنہیں حدیث میں خبرویت و مہارت حاصل ہے اور جو حدیث کے ناقدین میں شمار ہوتے ہیں۔

حوالہ:

(۱)-

اس کے قائل سید سیستانی دام ظلہ ہے "قاعدۃ لا ضرر : ص۲۱"۔