اور اس بنا پر، " ثقات " سے ان کی مراد وہ لوگ ہیں جو حدیث کے ناقدین ہیں، اور وہ یہ نہیں کہنا چاہتے کہ میں وہ روایات درج کر رہا ہوں جو مجھے میرے ثقہ مشائخ سے ملی ہیں، بلکہ وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ میں وہ روایات ذکر کر رہا ہوں جو حدیث کے ناقدین نے اپنی کتابوں میں درج کی ہیں، اور وہ ناقدین کبھی ان کے براہِ راست مشائخ ہو سکتے ہیں اور کبھی ان کے مشائخ کے مشائخ۔
سید خوئی ؒنے صرف کامل الزیارہ کے بارے میں اپنے نظریہ کو کیوں تبدیل کیا؟
سید خوئی ؒنے اپنی زندگی کے آخری ایام میں کامل الزیارہ کے تمام راویوں کی توثیق کے اپنے نظریہ سے رجوع کر لیا تھا اور اسے صرف براہِ راست روایت کرنے والوں کے ساتھ مخصوص کر دیا تھا، لیکن انہوں نے تفسیرِ قمی کے رجال کے متعلق اپنے نظریہ کو تبدیل نہیں کیا تھا۔
اور یہاں ذہن میں یہ سوال آتا ہے کہ صرف کامل الزیارہ کے نظریہ سے رجوع کرنے کا سبب کیا تھا؟
اور جواب: یہ اس وجہ سے ہے کہ قمی ؒ نے اپنی سابقہ عبارت میں کہا:
" و نحن ذاکرون بما رواہ مشایخنا و ثقاتنا عن الذین فرض اللہ طاعتہم۔۔۔"
(اور ہم وہی ذکر کریں گے جو ہمارے مشائخ اور ہمارے ثقہ راویوں نے ان ہستیوں سے روایت کیا ہے جن کی اطاعت اللہ نے فرض کی ہے۔۔۔)۔ " عن الذین فرض اللہ طاعتہم" (جن کی اطاعت اللہ نے فرض کی ہے) سے مربوط " ثقاتنا" (ہمارے ثقہ) کا ذکر اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ جن کی اطاعت کو اللہ نے فرض کی ہے ان ائمہ علیہم السلام تک پہنچنے والے سلسلہ کے تمام راوی ثقات ہیں۔ جبکہ اس طرح کا اسلوب ابن قولویہ ؒ کی عبارت میں وارد نہیں ہے۔
۳۔ نجاشی ؒ کے مشائخ
نجاشی ؒ نے بعض راویوں کے حالات میں ایسی بات بیان کی ہے جس سے یہ معنی اخذ کیا جاتا ہے کہ وہ ضعیف راویوں سے روایت نہیں کرتے تھے، چنانچہ محمد بن عبید اللہ بن حسن جوہری کے حالات میں وہ کہتے ہیں: " میں نے اس شیخ کو دیکھا اور وہ میرے اور میرے والد کے دوست تھے اور میں نے ان سے بہت کچھ سنا اور میں نے اپنے شیوخ کو انہیں ضعیف قرار دیتے ہوئے دیکھا تو میں نے ان سے کچھ بھی روایت نہیں کیا اور ان سے گریز کیا۔۔۔ " ۔
اور محمد بن عبد اللہ بن محمد بن عبید اللہ بن بہلول کے حالات میں انہوں نے ذکر کیا: " اور وہ شروع میں ثبت (قوی) تھا پھر اختلاط کا شکار ہو گیا، اور میں نے اپنے اکثر اصحاب کو دیکھا کہ وہ اس پر طعن کرتے ہیں اور اسے ضعیف قرار دیتے ہیں۔۔۔ میں نے اس شیخ کو دیکھا اور ان سے بہت کچھ سنا پھر میں نے ان سے روایت کرنا بند کر دیا سوائے اس واسطے کے ذریعہ جو میرے اور ان کے درمیان ہو " ۔
اور جعفر بن محمد بن مالک کے حالات میں انہوں نے ذکر کیا: " وہ حدیث میں ضعیف تھا۔ احمد بن حسین نے کہا: وہ حدیثیں وضع کرتا تھا اور مجاہیل سے روایت کرتا تھا۔ اور میں نے سنا کہ کسی نے کہا: وہ فاسد المذہب اور فاسد الروایت بھی تھا۔ اور مجھے نہیں معلوم کہ ہمارے معزز ثقہ شیخ ابو علی بن ہمام اور ہمارے جلیل القدر ثقہ شیخ ابو غالب زراری نے ان سے کیسے روایت کی ہے " ۔
اور بعض اکابرین نے ان مقامات سے یہ معنی اخذ کیا ہے کہ نجاشی ؒ اپنے تمام مشائخ کو ثقہ قرار دیتے ہیں اور وہ صرف اس سے روایت کرتے ہیں جسے وہ ثقہ سمجھتے ہیں۔
اور یہ رائے شیخ بہائی ؒ اور سید بحر العلوم( تنقيح المقال ۱: ۵۸ )سے منسوب ہے۔
اور متاخرین میں سے جن لوگوں نے اس نظریہ کو اختیار کیا ہے ان میں سید خوئی ؒ شامل ہیں۔
اور اس نظریہ پر یہ اشکال ہو سکتا ہے کہ نجاشی ؒ کی عبارت سے زیادہ سے زیادہ یہ معنی اخذ ہو سکتا ہے کہ وہ ان ضعیف راویوں سے گریز کرتے تھے جنہیں اصحاب ضعیف قرار دیتے تھے، نہ کہ وہ ان سے بھی گریز کرتے تھے جو ان کے نزدیک مجہول الحال تھے۔
اور اس کا جواب مندرجہ ذیل طریقے سے دیا جا سکتا ہے:
ا- نجاشی ؒ کا ان لوگوں سے روایت کرنے سے گریز کرنا جنہیں ضعیف قرار دیا گیا ہے، کسی تعبّدی امر کی وجہ سے نہیں ہے، بلکہ ضعیف کی روایت کی عدمِ حجّیت کی وجہ سے ہے، اور یہ واضح ہے کہ مجہول بھی ضعیف کے مانند ہے، اور اسی وجہ سے علماء مجاہیل کو ان کی روایت سے اجتناب لازم ہونے کے معاملہ میں ضعیفوں سے متصل کرتے ہیں۔
ب۔ یہ کہ نجاشی ؒ کا اپنے مشائخ کے ساتھ اتنا زیادہ تعلق رہا ہے کہ یہ ممکن نہیں ہے کہ انہیں اپنے مشائخ کے حالات کا علم نہ ہو، لہذا اب معاملہ دو باتوں کے درمیان گردش کرتا ہے: یا تو وہ ان کے نزدیک ضعیف تھے، جو کہ باطل ہے، اور یا وہ ثقہ تھے، اور یہی مطلوب ہے۔
اور اس طریقے کی برکت سے بعض ان مشایخ الاجازہ کی توثیق ممکن ہے جن کے توسّط سے بعض اصول و بنیادی کتابیں شیخ طوسی ؒ تک پہنچی ہیں، جیسے احمد بن عبدون ؒ اور ابو الحسین بن ابی جید ؒ، کیونکہ یہ دونوں شیخ طوسی ؒ کے مشائخ میں سے ہیں اور ان کی خاص طور پر توثیق نہیں کی گئی ہے، لیکن چونکہ وہ نجاشی ؒ کے بھی مشائخ میں سے ہیں، لہٰذا ان کی توثیق اس طریقے سے کی جا سکتی ہے۔
۴۔ اصحاب الاجماع کی سند میں واقع ہونا
کشی ؒ نے اپنی مشہور کتابِ رجال میں ذکر کیا ہے کہ بےشک، اس طائفہ (گروہِ علماءِ شیعہ) نے اس بات پر اجماع کیا ہے کہ جو ایک جماعت کے ذریعے صحیح قرار پایا ہو، اسے صحیح قرار دیا جائےگا۔ امام باقر علیہ السلام کے اصحاب میں سے چھ، امام صادق علیہ السلام کے اصحاب میں سے چھ اور امام کاظم علیہ السلام کے اصحاب میں سے چھ۔
طبعہ دانشگاه کے صفحہ ۲۳۸ پر کہا: " عصابہ (یعنی شیعہ علماء) ان اوّلین اصحابِ امام باقر علیہ السّلام اور امام جعفر صادق علیہ السّلام کی تصدیق پر متفق ہو گئے ہیں اور ان کے فقہ کے سامنے سر تسلیم خم کیا ہے۔ پس انہوں نے کہا کہ اوّلین میں سب سے زیادہ فقیہ چھ افراد ہیں: زرارة، معروف بن خرّبوذ، برید، ابو بصیر اسدی، فضیل بن یسار اور محمد بن مسلم طائفی " ۔
اور صفحہ ۳۷۵ پر کہا: " عصابہ (یعنی شیعہ علماء) اس بات پر اجماع ہے کہ جو کچھ ان حضرات کے ذریعے صحیح قرار پایا ہو، اسے صحیح قرار دیا جائےگا، اور وہ جو کچھ کہیں اس کی تصدیق کی جائےگی، اور انہوں نے ان کے فقہ (علم و اجتہاد) کا اقرار کیا ہے، ان چھ افراد کے علاوہ جنہیں ہم نے گنوایا اور نام لے کر بیان کیا تھا، یہ چھ افراد یہ ہیں: جمیل بن درّاج، عبد اللہ بن مسکان، عبد اللہ بن بکیر، حماد بن عیسیٰ، حماد بن عثمان اور ابان بن عثمان " ۔
اور صفحہ ۵۵۶ پر انہوں نے کہا: " ہمارے اصحاب کا اس بات پر اجماع ہے کہ جو کچھ ان حضرات کے ذریعے صحیح قرار پایا ہو، اسے صحیح قرار دیا جائےگا اور ان کی تصدیق کی جائےگی اور انہوں نے ان کے حق میں فقہ اور علم کا اقرار کیا ہے۔ اور یہ دوسرے چھ افراد ہیں، ان چھ افراد کے علاوہ جن کا ہم نے ابو عبد اللہ علیہ السلام کے اصحاب میں ذکر کیا تھا، ان میں سے: یونس بن عبد الرحمن، صفوان بن یحییٰ بیاع سابری، محمد بن ابی عمیر، عبد اللہ بن مغیرہ، حسن بن محبوب اور احمد بن محمد بن ابی نصر " ۔
اور ان عبارات کو سمجھنے میں علماء کے درمیان اختلاف واقع ہوا ہے پس کہا گیا ہے کہ: جب بھی ان (اصحابِ اجماع) میں سے کوئی ایک کسی روایت کی سند میں واقع ہو (یعنی ان میں سے کوئی راوی سند میں موجود ہو)، اور اگر مثلاً شیخ طوسی ؒ - جو ہمیں حدیث روایت کرتے ہیں - سے لے کر اس راوی تک کا سلسلہ معتبر ہو تو پھر اس اور امام علیہ السّلام کے درمیان جو واسطے (یعنی بیچ کے راوی) ہیں، اگر وہ مجہول بھی ہوں، تو ان کا مجہول ہونا مضر نہیں ہے۔
اور یہ رائے شہید ثانی ؒ، شیخ مجلسی ؒ، بہائی ؒ اور دیگر سے منسوب ہے۔
اور صاحب وسائل( الوسائل ۲۰: ۸۰- ۸۱ قدیم طباعت سے )اس سے بھی زیادہ آگے بڑھے اور کہا: مذکورہ واسطوں کا مجہول ہونا جس طرح نقصاندہ نہیں ہے اسی طرح انہیں ضعیف قرار دیا جانا بھی نقصاندہ نہیں ہے۔
لیکن صحیح یہ ہے کہ سابقہ عبارات سے زیادہ سے زیادہ یہ معنی اخذ کیا جا سکتا ہے کہ مذکورہ افراد کی جلالت اور ان کے حسنِ حال پر اجماع ہے، اور گویا یہ کہنا مقصود ہے کہ جب بھی ان میں سے کوئی ایک سند میں واقع ہو تو روایت اس کی حد تک بےعیب ہے، اور جہاں تک ان سے پہلے یا بعد والوں کا تعلق ہے، تو ان کی طرف یہاں نگاہ نہیں ہے۔
۵۔ بنو فضال کا سند میں واقع ہونا
بنو فضال - اور یہ حسن بن علی بن فضال، احمد بن حسن بن علی بن فضال، اور علی بن حسن بن علی بن فضال -فطحیہ فرقے سے تعلق رکھتے تھے۔
اور فطحیہ وہ فرقہ ہے جو امام صادق علیہ السلام کے بیٹے عبد اللہ الافطح کی امامت کا قائل ہے۔
اور اپنی وثاقت اور عبادت کے لیے مشہور بنو فضال کی بہت سی احادیث تھیں۔
اور ان کی کثرتِ احادیث اور ان کے عقیدے کے فساد کی وجہ سے بعض شیعوں نے امام عسکری علیہ السلام سے ان احادیث کے بارے میں سوال کیا کہ کیا موقف اختیار کیا جائے۔
شیخ طوسی ؒ کی کتاب " الغیبہ" میں ایک روایت ہے جو وہ شیخ نوبختی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کے خادم عبد اللہ کوفی، سے نقل کرتے ہیں، وہ اس میں کہتے ہیں: " شیخ یعنی حسین بن روح ؒ سے ابن ابی العزاقر کی کتابوں کے بارے میں پوچھا گیا جب اس کی مذمت کی گئی اور اس پر لعنت بھیجی گئی، تو ان سے کہا گیا کہ ہم ان کی کتابوں کے ساتھ کیا معاملہ کریں جب کہ ہمارے گھر ان سے بھرے پڑے ہیں؟ تو انہوں نے کہا: میں ان کے بارے میں وہی کہوں گا جو ابو محمد حسن بن علی صلوات اللہ علیہما نے فرمایا تھا جب آپ علیہ السلام سے بنی فضال کی کتابوں کے بارے میں سوال کرتے ہوئے لوگوں نے عرض کی تھی کہ ہم ان کی کتابوں کے ساتھ کیسا معاملہ کریں جب کہ ہمارے گھر ان سے بھرے پڑے ہیں؟ تو آپ صلوات اللہ علیہ نے فرمایا تھا: جو انہوں نے روایت کیا ہے اسے لے لو، اور جو انہوں نے رائے دی ہے اسے چھوڑ دو " ۔( ا لغيبة: ص ۲۳۹ )
اور اس روایت کی وجہ سے بہت سے اکابرین نے، جن میں شیخ انصاری ؒ بھی اپنی کتاب " الصلوۃ" (۱) میں شامل ہیں، یہ نظریہ اختیار کیا ہے کہ جس روایت کی سند میں بنو فضال میں سے کوئی ایک بھی وارد ہو، وہ حجت ہے اور اس پر عمل کیا جائےگا، یہاں تک کہ اگر بنو فضال اور امام علیہ السلام کے درمیان موجود راویوں میں سے بعض میں ضعف بھی پایا جائے۔
وہ قدس سرہ اپنی کتاب " الصلوۃ" کے اوائل میں داود بن فرقد کی روایت جو انہوں نے ہمارے بعض اصحاب سے بیان کی ہے اس کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں: "اور یہ روایت اگرچہ مرسل ہے، لیکن اس کی سند حسن بن فضال تک صحیح ہے(۲)۔
حوالے:(۱)- ص۲۔
(۲)- اس روایت کو شيخ طوسي نقل کرتے ہیں اپنی معتبر سند سے الحسن بن علي بن فضال تک، اس نے داود بن فرقد سے، انہوں نے ہمارے بعض اصحاب سے، انہوں نے ابو عبد اللّه عليه السّلام سے. الوسائل باب ۴ من أبواب المواقيت حديث ۷
اور بنو فضال ان میں سے ہیں جن کی کتابوں اور روایات کو لینے کا ہمیں حکم دیا گیا ہے " ۔
اور اس پر اعتراض : مذکورہ روایت سند اور دلالت دونوں لحاظ سے قابلِ بحث ہے۔
جہاں تک سند کا تعلق ہے، تو اس لیے کہ کوفی جو شیخ نوبختی ؒ کا خادم ہے وہ مجہول ہے، اس کے بارے میں کوئی چیز معلوم نہیں ہے۔
یہ، ساتھ یہ کہ شیخ طوسی ؒ اسے نقل کرتے ہیں ابو الحسین ابن تمام سے اور وہ عبد اللہ کوفی سے اور ابن تمام بھی مجہول ہے۔
جہاں تک دلالت کا تعلق ہے، تو اس سے کیا مقصود ہے اس میں دو احتمالات ہیں :
الف۔ بنو فضال کی تمام روایات کی صحت پر گواہی امام عسکری علیہ السلام کی جانب سے یونس بن عبد الرحمن کی کتاب " یوم و لیلہ " میں موجود تمام چیزوں کی صحت پر دی گئی گواہی کی مانند ہے، جب ابو ہاشم جعفری اسے امام عسکری علیہ السلام کے پاس لائے اور امام علیہ السلام نے اسے لے کر اس کی ورق گردانی کی اور اس پر تعریفی تبصرہ فرمایا: " یہ میرا اور میرے آباء و اجداد کا دین ہے اور یہ سب حق ہے " ۔( رجال الكشي: ص ۴۸۴ رقم ۹۱۵ )
اور اس احتمال کی بنا پر شیخ انصاری ؒ کا قول صحیح ہے، کیونکہ امام علیہ السلام کی بنو فضال کی تمام روایات کی صحت پر گواہی کے بعد سند میں باریک جانچ پڑتال کرنے کی گنجائش نہیں رہتی۔
ب۔ یہ بیان کہ راوی کے عقیدے کا فساد اس کی روایت لینے میں مانع نہیں ہے۔
اور اس احتمال کی بنا پر شیخ انصاری ؒ کا قول صحیح نہیں ہے، کیونکہ مقصود بنو فضال کی تمام روایات کی صحت پر گواہی نہیں ہے بلکہ صرف یہ بیان کرنا ہے کہ بنی فضال (سے عقیدے کے لحاظ) سے توقف کی کوئی وجہ نہیں ہے، اس سے زیادہ بیان مقصود نہیں ہے۔
اور اگر ہم دوسرے احتمال کے اظ ہ ر ہونے کا دعویٰ نہ بھی کریں، تو ہمارے لیے یہ احتمال ہی کافی ہے، چونکہ ایسے مقام میں استدلال کے باطل ہونے کے لیے احتمال کافی ہوتا ہے۔
۶۔ مشائخ ثلاثہ میں سے کسی ایک کی روایت
کہا گیا ہے کہ مشائخ ثلاثہ - محمد بن ابی عمیر، صفوان بن یحییٰ اور احمد بن محمد بن ابی نصر بزنطی - میں سے جب کوئی ایک کسی شخص سے روایت کرے تو یہ اس شخص کی وثاقت کی دلیل ہے۔
اور اس کی بنیاد شیخ طوسی ؒ کی ان کی کتاب " عدۃ الاصول" میں بیان کردہ عبارت ہے، جہاں انہوں نے کہا: " اور جب دو (۲)راویوں میں سے ایک سند کے ساتھ روایت کرے اور دوسرا مرسل (بغیر سند کے) روایت کرے، تو ارسال کرنے والے کی حالت کو دیکھا جائے گا۔ اگر وہ ان میں سے ہے جن کے بارے میں یہ بات معلوم ہے کہ وہ صرف ثقہ اور قابلِ اعتماد افراد ہی سے مرسل روایت بیان کرتے ہیں، تو پھر اس کی روایت پر دوسروں کی روایت کو کوئی ترجیح حاصل نہیں ہوگی۔ اور اسی وجہ سے طائفہ (علماء شیعہ) نے محمد بن ابی عمیر، صفوان بن یحییٰ، احمد بن محمد بن ابی نصر اور ان جیسے دیگر ثقہ راویوں کی مرسل روایات کو ان روایات کے برابر قرار دیا ہے جو دوسرے لوگ سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں، کیونکہ یہ حضرات صرف ثقہ راویوں ہی سے روایت کرتے اور ارسال کرتے ہیں۔۔۔ " ۔
اور شاید ان تینوں کی مراسیل روایات کی حجیت ہی مشہور رائے ہے کتاب " العدہ" کی عبارت کی بنیاد پر۔
یہ، لیکن سید خوئی ؒ نے اسے کئی وجوہات کی بنا پر رد کیا ہے، مثال کے طور پر یہ کہ شیخ ؒ کا اصحاب کی طرف مساوات کی نسبت ان کے اپنے حدس اور اجتہاد پر مبنی ہے نہ کہ ان کے اپنے حسّ پر، اس کی دلیل یہ ہے کہ اگر یہ بات صحیح ہوتی اور اصحاب کے درمیان یہ بات معروف ہوتی تو شیخ ؒ کے علاوہ دیگر قدماء کے کلام میں بھی بیان ہوتی، جبکہ اس کا کوئی سراغ یا نشان نہیں ہے۔
اور یہ کہ ان مشائخ ثلاثہ کا صرف ثقہ سے روایت کرنا ایک ایسا مسئلہ ہے جس کی اطلاع صرف انہی کے ذریعے حاصل ہو سکتی ہے، جبکہ انہوں نے اس کی صراحت نہیں کی ہے، ورنہ یہ بات ان کی طرف سے نقل کی گئی ہوتی، اور یہ کہ جیسے ابن ابی عمیر اس بات کا اعلان کر چکے تھے کہ وہ اس بات کے پابند ہیں کہ غیر ثقہ کے حوالے سے رویات بیان نہیں کرتے۔
یقیناً ان اعتراضات اور ان جیسے دیگر اشکالات دور کیے جا سکتے ہیں اس بات کے ذریعے کہ شیخ طوسی ؒ نے طائفہ کے مساوات (یعنی امامیہ علما کا دوسروں کی مسند اور ان تینوں کی مرسل کو برابر قرار دینے کی بات) کو اس سبب سے بیان کیا ہے کہ یہ لوگ غیر ثقہ سے روایت نہیں کرتے، تو اس سے ضمنی طور پر خود شیخ طوسی ؒ کی طرف سے ان مشائخ ثلاثہ کے تمام مشائخ کی وثاقت کی گواہی بھی لازم آتی ہے۔
اور اگر یہ کہا جائے کہ شیخ ؒ کی یہ گواہی حدس پر مبنی ہے لہذا یہ حجت نہیں ہے۔
جواب یہ ہے:کہ اس کا حسّ پر مبنی ہونے کا احتمال موجود ہے - اور ایسی صورت میں " اصالۃ الحس " پر بنا رکھی جائےگی - لیکن مشائخ ثلاثہ کی صراحت کی وجہ سے نہیں، کہ یہ کہا جائے کہ اگر ان کی صراحت ہوتی تو وہ نقل ہوتی، بلکہ ان سے معاشرت کے دوران ان کے حالات سے اس بات کا علم ہونے کی وجہ سے، کیونکہ بعض افراد کے ساتھ معاشرت سے کبھی اس بات کا علم ہو جاتا ہے کہ وہ کسی معین بات کے پابند ہیں، اور شیخ طوسی ؒ نے اس التزام (کہ یہ افراد اس بات کے پابند تھے) اور اس وضاحت کو براہِ راست حاصل کیا، اور اسی بنا پر انہوں نے اپنی ضمنی شہادت دی۔
اور اگر یہ کہا جائے کہ یہ بات نجاشی ؒ پر کیسے پوشیدہ رہی؟
جواب یہ ہے: کہ یہ دیگر مقامات کی طرح ہے جہاں دونوں میں سے ایک وثاقت کی گواہی دیتے ہیں بغیر دوسرے کے۔
اور ہم اس بات کی طرف توجہ دلاتے ہیں کہ ابن ابی عمیر کی روایت کی مثلاً تین صورتیں ہیں :
۱۔ انہوں نے " مروی عنه" کے نام کو صراحت سے بتایا ہے۔ اور ایسی صورت میں مروی عنہ کی وثاقت کا حکم لگایا جائےگا – شیخ ؒ کی ضمنی شہادت کی وجہ سے – بشرطیکہ اس کا کوئی معارض نہ ہو۔
۲۔ ان کا کہنا " عن بعض اصحابنا" (ہمارے بعض اصحاب سے)۔ اور ایسی صورت میں وثاقت کا حکم نہیں لگایا جائےگا کیونکہ ابن ابی عمیر کے بعض مشائخ غیر ثقہ ہیں اور یہ احتمال ہے کہ یہ بعض انہی ضعیفوں میں سے ہوں۔
۳۔ ان کا کہنا " عن غیر واحد من اصحابنا" (ہمارے اصحاب میں سے ایک سے زائد سے) ۔
(کیونکہ ابن ابی عمیر کے ہاں یہ رواج تھا کہ وہ "عن غير واحد من اصحابنا " سے روایت بیان کرتے تھے۔)
اور ایسی صورت میں روایت قابل قبول ہونے کا حکم لگایا جا سکتا ہے کیونکہ اگر ہم ابن ابی عمیر کے مشائخ کا احصاء کریں تو ہمیں ان کی تعداد تقریباً ۴۰۰ افراد کے قریب ملےگی، اور ان میں سے پانچ ضعیف ہیں اور باقی ثقہ ہیں۔ اور اگر ہم اس کے ساتھ ایک اور بات شامل کریں اور وہ یہ ہے کہ " عن غیر واحد" کے الفاظ عرفاً کم از کم تین افراد پر دلالت کرتے ہیں، تو یہ ثابت ہوگا کہ تینوں کا ان پانچ ضعیفوں میں سے ہونے کا احتمال، اور ان میں سے کسی ایک کا بھی باقی تین سو پچانوے میں سے نہ ہونے کا احتمال انتہائی ضعیف ہے۔
اور اگر ہم مذکورہ امکانی قدر نکالنا چاہیں تو ہم کہہ سکتے ہیں :
تینوں میں سے ہر ایک کے پانچ میں سے ایک ہونے کی امکانی قدر چارسو میں سے سے پانچ یعنی انسی میں سے ایک ہونے کے برابر ہے (۱) ۔
اور تینوں کے مجموعے کا پانچ میں سے ہونے کا امکان اور ان میں سے کوئی بھی باقی میں سے نہ ہو۔
اور اس بنا پر تینوں کے مجموعے کا صرف پانچ (ضعیفوں) میں سے ہونے کا امکان، اور ان میں سے کسی ایک کا بھی باقی میں سے نہ ہونا یہ ۵۱۲۰۰۰ امکانات میں سے ایک امکان کے برابر ہے۔ اور یہ انتہائی ضعیف ہے کہ صاحبانِ عقل اس کی پرواہ نہیں کرتے(۲)۔
حوالے:
(۱)- یعنی اسّی امکانات میں سے ایک امکان۔۔
(۲)-رجال کے مقام میں، اصولِ فقہ اور فقہ میں دونوں کی بعض بحثوں میں امکانی حساب کی تطبیق ایک نہایت عمدہ و شاندار خیال شمار کیا جانا چاہیے۔
مذکورہ بالا کا نتیجہ
مذکورہ بالا سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ ابن ابی عمیر جب اپنے شیخ کے نام کی صراحت کرے تو اس شیخ کی وثاقت کا حکم لگایا جائےگا بشرطیکہ اس کے لیے کوئی معارض نہ ہو۔
اور اگر وہ " بعض اصحابنا" کے الفاظ سے تعبیر کرے تو وثاقت کا حکم نہیں لگایا جائےگا۔
اور اگر وہ " غیر واحد" کے الفاظ سے تعبیر کرے تو سند معتبر ہونے کا حکم لگایا جائےگا۔
دیگر توثیقاتِ عامہ
اور توثیقاتِ عامہ - جن میں سے بعض کی صحت معلوم ہو چکی ہے، سب کی نہیں – یہ صرف وہی نہیں ہیں جو بیان کی گئیں بلکہ ان کے لیے دیگر مصادیق بھی ہیں جنہیں ہم طوالت کے خوف سے ذکر نہیں کر رہے۔