‌دروس تمهیدیة فی القواعد الرجالیة

‌دروس تمهیدیة فی القواعد الرجالیة0%

‌دروس تمهیدیة فی القواعد الرجالیة مؤلف:
: مصنف/ مؤلف
: مصنف/ مؤلف
زمرہ جات: علم رجال

‌دروس تمهیدیة فی القواعد الرجالیة

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

مؤلف: مصنف/ مؤلف
: مصنف/ مؤلف
: مصنف/ مؤلف
زمرہ جات: مشاہدے: 7554
ڈاؤنلوڈ: 304

تبصرے:

‌دروس تمهیدیة فی القواعد الرجالیة
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 106 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 7554 / ڈاؤنلوڈ: 304
سائز سائز سائز
‌دروس تمهیدیة فی القواعد الرجالیة

‌دروس تمهیدیة فی القواعد الرجالیة

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

تیسرا نقطہ

رجالی کے قول کی حجیت کا مدرک

ہم پہلے بیان میں چکے ہیں کہ راوی کی وثاقت ثابت کرنے کے کئی طریقے پائے جاتے ہیں، اور ان میں عمدہ طریقہ رجالی (علمِ رجال کے ماہر) کی توثیق تھا۔

اس نقطے میں ہم چاہتے ہیں کہ رجالی کے قول کی حجیت کے مدرک کا علم حاصل کریں۔ ذیل میں ہم چند صورتیں بیان کرتے ہیں :

۱۔ یہ شہادت کے عنوان سے ہونا، تو جس طرح حاکم کے سامنے خبر دینا کہ فلاں مکان زید کا ہے ایک شہادت ہے اور یہ شہادت کی حجیت کے عنوان سے حجت ہے، اسی طرح راوی کی وثاقت کے بارے میں رجالی کا خبر دینا بھی شہادت و گواہی ہے، اور یہ شہادت کی حجیت کے عنوان سے حجت ہے۔

اور یہ رائے کئی اکابرین نے اختیار کی ہے جن میں سے ایک صاحب المعالم ؒ ہیں اپنی کتاب " المعالم" میں۔( قدیمی طباعت صفحہ ۱۹۴ )

اور اس پر یہ اعتراض کیا گیا ہے کہ اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ نجاشی ؒ اور شیخ طوسی ؒ جیسے افراد کی وثاقت کی شہادت قبول نہ کی جائے، کیونکہ گواہ کے قول کی قبولیت کی شرط یہ ہے کہ وہ زندہ ہو، مردہ نہ ہو۔

اسی طرح یہ بھی لازم آتا ہے کہ جب ان میں سے ہر ایک تنہا ہو تو ان کی شہادت قبول نہ کی جائے، کیونکہ شہادت قبول کرنے کی شرط گواہوں کی کثرت اور ان کا دو ہونا ہے۔

اسی طرح یہ بھی لازم آتا ہے کہ غیر اثنا عشری امامی کی توثیق قبول نہ کی جائے، کیونکہ گواہ کی شہادت قبول کرنے کی شرط اس کی عدالت ہے اور صرف وثاقت کافی نہیں۔ اور اس بنا پر بنو فضال کی توثیقات کو رد کرنا لازم آئےگا جن میں سے بعض کو کشی ؒ نے نقل کیا ہے کیونکہ بنو فضال فطحیہ تھے، جبکہ یہ (رد کرنا) بعید ہے۔

۲۔ یہ اہل خبرہ (ماہرین) کے قول کی حجیت کے عنوان سے ہو، تو جس طرح دلال کا قول اشیاء کی قیمتیں متعین کرنے کے سلسلہ میں اہل خبرہ میں سے ہونے کے عنوان سے حجت ہوتا ہے، اسی طرح نجاشی ؒ کا راویوں کی وثاقت کے بارے میں خبر دینا مذکورہ جہت سے حجت ہے۔

اس بات کا رد و جواب یہ ہے کہ کسی بات کو " اہلِ خبرہ " (ماہرین) کی شہادت و گواہی میں شامل تبھی سمجھا جاتا ہے جب اس میں اجتہاد اور غور و فکر کی ضرورت ہو، جبکہ واضح ہے کہ نجاشی ؒ کی کسی راوی کے ثقہ ہونے کی خبر ایسی چیز پر موقوف نہیں ہے، کیونکہ " وثاقت " کا معاملہ محسوسات یا حس کے قریبی امور سے ہوتا ہے۔

اور اگر آپ چاہیں تو کہہ سکتے ہیں: نجاشی ؒ کے زمانے میں رجالی کتابیں بہت تھیں اور ان کے ذریعے وہ اِس اور اُس کی وثاقت پر حکم لگاتے تھے، اور محض یہ بات انہیں اہل خبرہ میں منتقل نہیں کرتی، کیونکہ یہ اس شخص کی مثال ہے جو کسی اونچے مقام پر کھڑا ہو اور اس پر سے اِس اور اُس کے آنے کو دیکھ رہا ہو، اور وہ ہمیں اس کی خبر دے، تو کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ہم اس کی خبر کو اہل خبرہ میں سے ہونے کے باب سے قبول کریں گے؟ نہیں، ہرگز نہیں۔

۳۔ رجالی کے قول سے اطمینان حاصل ہونے کی وجہ سے اس کی خبر قبول کی جاتی ہے، اور چونکہ اطمینان سیرت عقلائیہ کی وجہ سے حجت ہے اور اس سیرت کو (شارع کی جانب سے) رد کیا جانا ثبوت نہیں ہے، لہٰذا رجالی کے قول کی حجیت ثابت ہوتی ہے۔

اور اس بات کا رد اور جواب یہ ہے کہ رجالی کے قول سے اطمینان حاصل ہونا بہت ہی نادر ہے۔

اور یہ عجیب بات ہے جو حوزۂ نجفِ اشرف کے بعض اکابرین سے نقل کی جاتی ہے کہ شیخ طوسی قدس سرہ جس کی توثیق کرتے ہیں اس کی وثاقت پر انہیں قطع و یقین حاصل ہو جاتا تھا۔

۴۔ یہ خبرِ ثقہ کی حجیت کے عنوان سے ہے، اس توضیح کے ساتھ کہ عقلاء کی سیرہ تمام شعبوں میں خبرِ ثقہ سے وابستگی پر جاری ہے۔ اور یہ حجت ہے جب تک کسی خاص مورد میں اس کا ممنوع ہونا ثابت نہ ہو جائے، جیسا کہ زنا کے معاملے میں ہے جہاں دلیل دلالت کرتی ہے کہ یہ چار گواہوں کے بغیر ثابت نہیں ہوتا، اور جیسا کہ چوری کے معاملے میں ہے جہاں دلیل دلالت کرتی ہے کہ یہ دو گواہوں کے بغیر ثابت نہیں ہوتی۔

اور اس رائے کی بنا پر، موثِّق (توثیق کرنے والے) میں عدالت شرط نہیں ہے بلکہ اس کا ثقہ اور جھوٹ سے بچنے والا ہونا کافی ہے۔ اسی طرح تعداد بھی شرط نہیں ہے بلکہ ایک کی خبر کافی ہے۔ اسی طرح اس کا زندہ ہونا بھی شرط نہیں ہے۔

یہ سب اس وجہ سے ہے کہ عقلاء کی سیرت اس بات پر قائم ہے کہ ثِقہ کی خبر پر بغیر تعدد، عدالت اور حیات کی شرط کے عمل کیا جائے۔

اور متاخرین میں سے جن لوگوں نے اس رائے کو اختیار کیا ہے ان میں سید خوئی قدس سرہ ہیں۔

توثیقات میں ارسال کا مسئلہ

ایک نہایت دلچسپ اشکال - جس کا ہم نے پہلے اشارہ کیا تھا - خاص طور پر آخری رائے کی بنا پر وارد ہوتا ہے۔

اور اس کا خلاصہ یہ ہے: کہ نجاشی ؒ جب کسی خاص شخص کی وثاقت کے بارے میں خبر دیتے ہیں، تو وہ اس بارے میں اس عنوان سے خبر دیتے ہیں کہ یہ بات ان تک ہاتھوں ہاتھ اور ثقہ سے ثقہ کے ذریعے پہنچی ہے، پس اس صورت میں ان کی وثاقت کی خبر دینا، ایسی خبر ہے جو ثقہ افراد کے ایک سلسلہ سے ہو کر گزرتی ہے۔

اور اس بنا پر کہا جاتا ہے: اگر نجاشی ؒ ہمیں امام صادق علیہ السلام کے کسی معین مسئلہ پر حکم کے بارے میں خبر دیتے، تو ہم ان کی خبر قبول نہ کرتے سوائے اس کے کہ جب وہ ہمیں ان راویوں کا سلسلہ بتائیں جن پر وہ نقل میں اعتماد کرتے ہیں۔ اور ہم ان سے اکتفا نہ کرتے اگر وہ جواب میں کہتے کہ سلسلے کے تمام افراد ثقہ ہیں۔ ہم ان کی اس بات کو رد کرتے کیونکہ یہ احتمال ہے کہ ان میں سے بعض جن کی وہ وثاقت کی گواہی دیتے ہیں ان کا کوئی جارح (ضعیف قرار دینے والا) ہو جو ان کے ضعف کی گواہی دیتا ہو، لہٰذا جب تک سلسلے کے افراد کے ناموں کی صراحت نہ کی جائے یہ احتمال ان کی وثاقت کی گواہی کو قبول کرنے میں مانع رہےگا۔

اور اسی وجہ سے شرعی احکام کے بارے میں خبر دینے کے باب میں مراسیل روایات مذکورہ نکتے کی وجہ سے رد کی گئی ہیں۔

اور یہی بات خود نجاشی ؒ کی توثیقات میں بھی وارد ہوتی ہے، جب وہ کسی خاص راوی کی وثاقت کے بارے میں خبر دیتے ہیں تو ان کی خبر ثقات کے سلسلے کے ضمن میں ہوتی ہے، اور چونکہ سلسلے کے افراد کے نام وہ نقل نہیں کرتے، لہٰذا ہمیں ان میں سے بعض کے لیے جارح کی موجودگی کا احتمال رہتا ہے۔

اور مختصر الفاظ میں: جس طرح نجاشی ؒ اگر کہتے: " امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: شراب نجس ہے " ، تو ہم ان کی خبر قبول نہ کرتے کیونکہ وہ مرسل ہے، اسی طرح ان کی وثاقت کے بارے میں خبر بھی مرسل ہونے کی وجہ سے قبول نہیں کی جائےگی۔

اور یہ اشکال - جیسا کہ ہم نے کہا - خاص طور پر آخری رائے پر وارد ہوتا ہے، باقی آراء پر نہیں، کیونکہ باقی آراء کی بنا پر رجالی کا قول خبر دینے کے عنوان سے حجت نہیں ہے کہ یہ کہا جائے کہ مرسل خبریں حجت نہیں ہیں۔

اور ہم پہلے اس اشکال کا جواب ذکر کر چکے ہیں جس کا خلاصہ یہ ہے کہ چونکہ رجالی کتابیں نجاشی ؒ اور شیخ طوسی ؒ کے زمانے میں بہت تھیں، لہذا اس کے ذریعے یہ دونوں اِس اور اُس کی وثاقت کے بارے میں ایسی فضا سے روبرو ہوئے تھے جو بالکل واضح اور نمایاں تھی، اور انہوں نے اسی واضح فضا پر اعتماد کیا نہ کہ اکابرین سے اکابرین کے ذریعے نقل کرنے پر تاکہ یہ کہا جائے کہ تمام سلسلے کی بغیر معارض کے وثاقت ثابت کرنا ضروری ہے، اور جب تک واسطوں کے اسماء معلوم نہ ہو یہ ناممکن ہے۔

اور اگر یہ جواب کامل ہے تو ٹھیک ہے، ورنہ ہم دو (دیگر) جوابات پیش کر سکتے ہیں :

۱۔ ہم اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ رجالی کے قول کی حجیت کا سبب اس کا خبر ثقہ کی حجیت کے کُبریٰ و کلی قاعدے میں داخل ہونا ہے۔ اور توثیق میں ارسال نقصاندہ نہیں ہے اس بیان کی وجہ سے جو دو مقدمات پر مشتمل ہے:

الف۔ یہ کہ سیرت عقلائیہ اس بات پر جاری ہے کہ اگر ثقہ یہ کہے کہ مجھے ثقہ نے فلاں بات بتائی ہے تو اسے قبول کر لیا جاتا ہے اور اس سے یہ نہیں کہا جاتا کہ وہ ثقہ کون ہے جس نے تمہیں خبر دی، شاید تم غلطی پر ہو یا اس خبر دینے والے کا کوئی جارح (اسے غیر ثقہ قرار دینے والا) ہو۔

ب۔ یہ کہ ثقہ جب ہمیں کسی شخص کی توثیق نقل کرتا ہے تو وہ توثیق کو ثقات سے نقل کرنے کا پابند ہوتا ہے، ورنہ غیر ثقہ سے کسی شخص کی توثیق کی خبر دینے کا کیا فائدہ؟

اور دونوں مقدموں میں سے ایک کو دوسرے سے ملانے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ شیخ طوسی ؒ جب کسی شخص کی وثاقت نقل کرتے ہیں تو وہ اس بات کے معتقد ہوتے ہیں اور گواہی دیتے ہیں کہ وہ ثقہ ہے، اور یہ دوسرا ثقہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ جس سے وہ نقل کر رہا ہے وہ ثقہ ہے، اور اسی طرح۔

۲۔ یہ کہ ایک نیا مدرک پیش کیا جا سکتا ہے اور وہ شہادت ہے، اس طرح کہ یہ کہا جائے کہ ہمارے پاس دو چیزیں ہیں:ثقہ کی شہادت اور ثقہ کی خبر۔ اور سیرت عقلائیہ اس بات پر جاری ہے کہ ثقہ کی شہادت کو اس کے مدرک و مأخذ کی تفتیش کیے بغیر قبول کیا جائے، اور اس میں کوئی فرق نہیں ہے کہ گواہ زندہ ہو یا نہ ہو، عادل ہو یا ثقہ، ایک ہو یا متعدد۔ اور چونکہ مذکورہ سیرت پر شرعاً کوئی روک نہیں ہے، لہٰذا وہ حجت ہے۔

ہاں، ہم اس کی تلافی کے لیے کہتے ہیں کہ صاحبانِ عقل ثقہ کی گواہی اس شرط پر قبول کرتے ہیں کہ خبر کے حِس پر مبنی ہونے کا احتمال قابلِ توجہ حد تک ہو۔

اور یہ احتمال نجاشی ؒ اور شیخ ؒ کے حق میں ان کے زمانے میں رجالی کتابوں کی کثرت کی وجہ سے ثابت ہے۔

اور اگر آپ نے اس جواب اور چار سابقہ جوابات میں سے پہلے جواب کے درمیان فرق کے متعلق سوال کیا۔

تو جواب یہ ہے: کہ جو پہلے ذکر کیا گیا تھا اس کی نگاہ شہادت کے شرعی معنی کی طرف تھی جو گواہ کی کثرت، اس کے زندہ ہونے اور اس کی عدالت پر منحصر ہے، جبکہ اس جواب کی نگاہ شہادت کے دوسرے معنی کی طرف ہے جس پر عقلاء کی سیرت جاری ہوئی ہے اور وہ یہ ہے کہ ایک ثقہ اگر کسی چیز کی گواہی دے تو اس کی شہادت قبول کی جاتی ہے چاہے وہ زندہ نہ ہو اور نہ ہی عادل ہو۔

اور اگر یہ کہا جائے کہ ثقہ کی خبر اور ثقہ کی شہادت میں کیا فرق ہے؟

تو جواب یہ ہے: کہ ثقہ کی خبر میں صرف اس کا ناقل ہونا ملحوظ ہوتا ہے بغیر اس کے کہ اس کا خاص حکم فرض کیا جائے، جبکہ ثقہ کی شہادت میں مدّ نظر اس کا کسی شے کو نقل کرنا ہوتا ہے اس فرض کے ساتھ کہ اس کا حکم بھی اس کے نقل کے مطابق ہے اور اس نقل کی بنیاد پر قائم رائے پر وہ عمل بھی کرتا ہے۔ تو ثقہ کبھی وثاقت کو بغیر اس پر بنا رکھے نقل کرتا ہے اور کبھی اسے اختیار کرتے ہوئے اور اس کے مطابق حکم لگاتے ہوئے نقل کرتا ہے۔ اور پہلی بات خبر ثقہ کے عنوان میں آتی ہے اور دوسری بات شہادتِ ثقہ کے عنوان میں آتی ہے۔

تطبیقات

ہم دوبارہ عملی مثالوں کی طرف آتے ہیں۔

حر عاملی ؒ نے " الوسائل"ابواب الماء المطلق میں باب ۳، میں یہ بیان کیا ہے جو اس طرح سے ہے:

۱۔ محمد بن حسن، انہوں نے محمد بن محمد بن نعمان المفید سے، انہوں نے ابو القاسم جعفر بن محمد بن قولویہ سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے سعد بن عبد اللہ سے، انہوں نے احمد بن محمد سے، انہوں نے حسین بن سعید اور عبد الرحمن بن ابی نجران سے، انہوں نے حماد بن عیسیٰ سے، انہوں نے حریز بن عبد اللہ سے، انہوں نے ابو عبد اللہ علیہ السلام سے ۔۔۔

مذکورہ روایت کو حر عاملی ؒ نے شیخ طوسی ؒ کی دو کتابوں میں سے ایک سے نقل کیا ہے ان کے قول محمد بن حسن یعنی شیخ طوسی ؒ کے قرینہ کی وجہ سے۔

اور روایت صحیح السند ہے کیونکہ اس سند کے تمام افراد ثقہ ہیں۔ اور پہلے بھی ان کی طرف اشارہ کیا جا چکا ہے۔

اور ہم اس بات کی طرف توجہ دلاتے ہیں کہ مذکورہ روایت، شیخ طوسی ؒ کے سلسلہ سند سے صحیح ہونے کے باوجود، اس پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا کیونکہ حر عاملی ؒ نے اس کے بعد کہا: اور اسے کلینی ؒ نے علی بن ابراہیم ؒ سے، انہوں نے اپنے والد سے اور محمد بن اسماعیل سے، انہوں نے فضل بن شاذان سے، سب نے حماد سے، انہوں نے حریز سے، انہوں نے ان سے جس نے انہیں خبر دی، انہوں نے ابو عبد اللہ علیہ السلام سے اسی کی مثل۔ اور یہ روایت حریز اور امام علیہ السلام کے درمیان ایک مجہول واسطہ کے وجود پر دلالت کرتی ہے، اور چونکہ ہمیں یہ احتمال نہیں ہے کہ روایت متعدد (دو مختلف) ہے، لہٰذا مجہول واسطہ کے وجود کے احتمال کی وجہ سے روایت اعتبار سے ساقط ہو جاتی ہے۔

۲۔ اور اپنی اسناد سے علی بن ابراہیم سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے ابن ابی عمیر سے، انہوں نے حماد یعنی ابن عثمان سے، انہوں نے حلبی سے، انہوں نے ابو عبد اللہ علیہ السلام سے ۔۔۔

یعنی شیخ طوسی ؒ کی اسناد سے انہوں نے علی بن ابراہیم ؒ سے۔

اور روایت صحیح السند ہے کیونکہ شیخ ؒ کی سند علی بن ابراہیم ؒ تک صحیح ہے، تو مشیخہ کی طرف رجوع کریں۔ اور سند کے باقی افراد ثقہ ہیں۔

جہاں تک علی اور ان کے والد اور ابن ابی عمیر کا تعلق ہے، تو ان کے متعلق گفتگو پہلے ہو چکی ہیں۔

اور جہاں تک حماد کا تعلق ہے، تو وہ اصحاب اجماع میں سے ہیں۔

اور جہاں تک حلبی کا تعلق ہے، تو یہ عبید اللہ بن علی بن ابی شعبہ حلبی ہیں۔ نجاشی ؒ نے کہا: وہ اور ان کے والد اور ان کے بھائی حلب کی طرف تجارت کرتے تھے تو ان پر حلب کی نسبت غالب آ گئی۔ اور آل ابی شعبہ کوفہ میں ہمارے اصحاب کا ایک مشہور خاندان تھا ۔۔ اور وہ سب ثقہ تھے اور ان کی باتوں کی طرف رجوع کیا جاتا تھا، اور عبید اللہ ان میں سب سے بڑے اور ان کی نمایا شخصیت تھے۔ اور انہوں نے وہ کتاب تصنیف کی جو ان سے منسوب ہے اور اسے ابو عبد اللہ علیہ السلام کی خدمت میں پیش کی اور آپ علیہ السلام نے اسے صحیح قرار دیا۔ آپ علیہ السلام نے اسے پڑھتے ہوئے فرمایا: کیا تم نے ایسے لوگوں کے لیے ایسا (بدلہ) دیکھا ہے؟ ۔( معجم رجال الحديث ۱۱: ۷۷

تمرینات

س ۱: رجالی کے قول کے اعتبار کے لیے چند مدارک ہیں۔ ان میں سے پہلے مدرک کو اس پر ہونے والے اشکال کے ساتھ ذکر کریں۔

س ۲: کیا رجالی کے قول کے اعتبار کا دوسرا مدرک آپ کے نزدیک حجت ہے؟

س ۳: چوتھے مدرک کو اس کی تشریح کے ساتھ واضح کریں۔

س ۴: توثیقات میں ارسال کے اشکال کو واضح کریں؟

س ۵: توثیقات میں ارسال کا اشکال خاص طور پر چوتھے مدرک کے ساتھ کیوں مخصوص ہے؟

س ۶: وہ سابقہ جواب ذکر کریں جو ہم نے توثیقات میں ارسال کے مسئلے کے بارے میں نقل کیا تھا۔

س ۷: پہلے جواب کو واضح کریں جو ہم نے توثیقات میں ارسال کے اشکال کے بارے میں ذکر کیا تھا۔

س ۸: اس کے متعلق دوسرا جواب واضح کریں۔

س ۹: ہم نے جو دوسرا جواب ذکر کیا تھا اس میں اور چار سابقہ جوابات میں سے پہلے جواب کے درمیان کیا فرق ہے؟

س ۱۰: ثقہ کی خبر اور ثقہ کی شہادت میں کیا فرق ہے؟

س ۱۱: کیا وسائل الشیعہ میں مقدمہ العبادات کے ابواب کے باب ۲۰ کی حدیث ۱ کی سند صحیح ہے؟ اسے مکمل بیان کے ساتھ واضح کریں۔

فصل دوم

حدیث کی اقسام کے بارے میں بحث

حدیث کو چار اقسام میں تقسیم کیا گیا ہے :

۱۔ صحیح: وہ حدیث جس کے تمام راوی عادل اور امامی ہوں۔

۲۔ موثق: وہ حدیث جس کے تمام یا بعض راوی غیر امامی ہوں لیکن ثقہ ہوں۔

۳۔ حسن: وہ حدیث جس کے تمام یا بعض راوی امامی ہوں لیکن ان کی توثیق نہ کی گئی ہو، بلکہ صرف مدح کی گئی ہو۔

۴۔ ضعیف: وہ حدیث جو مذکورہ بالا تین اقسام میں سے کوئی ایک بھی نہ ہو، یعنی اس کے راوی مجہول ہوں یا ضعیف قرار دیے گئے ہوں۔

یہ چار اقسام خود بھی مزید دیگر اقسام میں تقسیم ہو سکتی ہیں جن کا ذکر یہاں اہم نہیں ہے۔

اور کہا جاتا ہے کہ متقدمین کے درمیان یہ چارگانہ تقسیم رائج نہیں تھی، بلکہ ان کے نزدیک تقسیم دوگانہ تھی، یعنی انہوں نے حدیث کو دو اقسام میں تقسیم کیا تھا : صحیح اور ضعیف۔ ان کی اصطلاح میں صحیح وہ روایت تھی جس پر عمل کرنا لازم ہو اس کے ایسے قرائن سے گھیرے ہونے کے وجہ سے جو اس کے صدور کے قطع یا اطمینان کا فائدہ دیتے ہو جبکہ ضعیف وہ ہے جو اس طرح سے نہ ہو۔

اخباریوں، جیسے صاحب حدائق ؒ، صاحب وسائل ؒ، اور فیض کاشانی ؒ نے چارگانہ تقسیم کو مسترد کیا ہے اور اس تقسیم کے موجد یعنی علامہ حلی ؒ (۱) پر اعتراض کیا۔

اخباریوں کی دلیل اس بارے میں یہ ہے کہ ہماری حدیثوں کی جامع کتب متواتر ہیں اور ان کی صحت پر قرائن قائم ہیں۔ صاحب وسائل ؒ نے ان کتب کی صحت پر دلالت کرنے والے قرائن کی تعداد ۲۲ تک پہنچائی ہے، جیسا کہ یہ بات الوسائل کے آخری حصے میں مذکور نویں فائدے کا مطالعہ کرنے والے پر واضح ہو جاتی ہے۔

حوالہ:(۱)-اور کہا گیا ہے کہ وہ موجد سید احمد بن طاؤس ہیں جو علامہ حلی کے شیخ و استاد ہیں۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ تقسیم علامہ اور ابن طاؤس سے پہلے ہی قدماء کے ہاں ثابت تھی۔

صاحب وسائل قدّس سرہ نے اپنے کلام میں کہا: " اور اس سے جدید اصطلاح کی کمزوری ظاہر ہوتی ہے جو حدیث کو صحیح، حسن، موثق اور ضعیف میں تقسیم کرتی ہے، اور یہ علامہ ؒ اور ان کے شیخ احمد بن طاؤس ؒ کے زمانے میں نئی رائج ہوئی تھی " ۔

آئندہ ابحاث میں ان شاء اللہ اس دعوے کو باطل ثابت کیا جائےگا جس میں کہا گیا ہے کہ ہماری حدیثی کتب میں موجود تمام احادیث صحیح ہیں۔ اور اس دعوے کے باطل ہونے کے بعد مذکورہ چارگانہ تقسیم معقول و قابل توجہ قرار پاتی ہے۔

روایت کی مذکورہ چار اقسام سے متعلق کئی ابحاث ہیں جنہیں ہم چند نکات میں ذکر کریں گے :

صحیح روایت کےخلاف شہرت کا وجود

۱۔ اگر روایت صحیح السند ہو تو معروف یہ ہے کہ وہ حجّت ہے، لیکن یہاں ایک معروف و مشہور سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر فقہاء کے درمیان فتوائی شہرت صحیح روایت کے مضمون کے برخلاف ہو تو کیا اس سے وہ (صحیح روایت) حجیت سے ساقط ہو جاتی ہے یا نہیں؟ معروف یہ ہے کہ وہ (صحیح خبر) اعتبار سے ساقط ہو جاتی ہے۔

اس کی تشریح یہ کی جا سکتی ہے کہ ہمارے متقدمین علماء جیسے کلینی ؒ، صدوق ؒ اور ان جیسے دیگر افراد اگر کسی روایت سے اعراض (رو گردانی) کریں تو ان کا یہ عمل اس روایت کے بعض پہلوؤں میں خلل کی موجودگی کو ظاہر کرتا ہے، ورنہ انہوں نے اس سے اعراض کیوں کیا؟

حوالہ:

(۱)- خلاف سید خوئی کے، جنہوں نے اس کے حجیت سے ساقط نہ ہونے کا نظریہ اختیار کیا ہے، اس اعتبار سے کہ اگر خبر بذاتِ خود حجت ہو تو صرف مشہور کی مخالفت کی وجہ سے اس کی حجیت سے دستبردار ہونے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ (اس کے لیے) مصباح الاصول جلد ۲، صفحہ ۲۰۳ کی طرف رجوع کریں۔

شاید سیرت عقلائیہ بھی اس کی تائید کرتی ہے، کیونکہ اگر کوئی ثقہ شخص خبر دے اور ماہرین کی جماعت اس کے مضمون سے اعراض و چشم پوشی کرے، تو باقی لوگ اس پر عمل کرنے سے رک جاتے ہیں۔

جس روایت سے اعراض کیا گیا ہے اس کے اعتبار سے ساقط ہونے کی تشریح میں یہ بھی اضافہ کیا جا سکتا ہے کہ خبر و روایت کی حجیت پر سب سے اہم دلیل سیرت عقلائیہ ہے، اور چونکہ یہ ایک لُبّی و عقلی دلیل ہے، لہٰذا اس میں قدرِ متقین پر اکتفا کیا جائےگا، اور قدر متیقن ایسے ثقہ شخص کی خبر ہے جس سے اس کے ہم عصر ماہرین کی جماعت نے اعراض نہ کیا ہو۔

ہم یہ بطور وضاحت کہیں گے کہ : اصحاب و علماء کا کسی روایت سے اعراض دو شرطوں کی موجودگی میں اسے حجیت سے ساقط کر دےگا :

الف- اعراض ان متقدمین علماء کے یہاں ثابت ہو، جن کا زمانہ غیبت صغریٰ کے قریب تھا، جیسے شیخ کلینی ؒ اور صدوق ؒ، نہ کہ متاخرین، کیونکہ متقدمین کا اعراض، ان کا زمانہ روایت کے صدور کے زمانہ سے قریب ہونے کی وجہ سے، روایت کے بعض پہلوؤں میں خلل کی موجودگی کو ظاہر کرتا ہے، جبکہ متاخرین کے اعراض میں یہ بات موجود نہیں ہے۔

ب- متقدمین کے درمیان ثابت شدہ اعراض ان کے نظریاتی غور و فکر اور اجتہاد کا نتیجہ نہ ہو، کیونکہ ان کا اجتہاد ان پر حجت ہے نہ کہ ہم پر۔

اور اسی وجہ سے یہ کہنا صحیح ہے کہ خبر و روایت جتنی زیادہ صحیح ہوتی جائےگی، مشہور کے اعراض و روگردانی سے اس کا ضعف اتنا ہی بڑھتا جائےگا، کیونکہ اس کی صحت کا بڑھنا اس احتمال کو کمزور کر دیتا ہے کہ اس (روایت) سے اعراض کا سبب اجتہاد ہے۔

ہم یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ طبقۂ متقدمین کا اعراض اگرچہ اعتبار سے ساقط ہونے کا سبب بنتا ہے، لیکن اس - متقدمین کی جماعت کا اعراض – کو ثابت کرنا اکثر اوقات مشکل و سخت ہوتا ہے۔

ثقہ کی خبر یا عادل کی خبر

۲۔بزرگ علماء کے درمیان یہ معروف ہے کہ حجّت صرف عادل کی خبر نہیں ہے بلکہ ثقہ کی خبر بھی حجّت ہے، برخلاف صاحب مدارک ؒ جیسے حضرات کے جنہوں نے صرف عادل کی خبر کی حجّیت کا نظریہ اختیار کیا ہے۔

ثقہ کی خبر کی حجیت اور اس میں عدالت کی شرط نہ ہونے کی وجہ سیرت عقلائیہ ہے جو ثقہ کی خبر پر عمل کرنے پر قائم ہے۔ اور شرعاً اس سیرت عقلائیہ تائید یافتہ ہے کیونکہ اس سے کوئی ممانعت وارد نہیں ہوئی ہے۔

اگر یہ کہا جائے کہ آیتِ نباء اپنے منطوق ( براہِ راست معنی) سے فاسق کی خبر کے عدمِ حجّت ہونے پر دلالت کرتی ہے، جہاں فرمایا گیا ہے کہ اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو تحقیق کرو ۔۔۔ اور فاسق کا عنوان اس ثقہ پر بھی صادق آتا ہے جو عادل نہ ہو۔

تو جواب یہ ہوگا: کہ آیتِ کریمہ میں فاسق سے مراد جھوٹ سے پرہیز نہ کرنے والا ہے، دو قرائن کی وجہ سے:

الف- حکم اور موضوع کی مناسبت، کیونکہ عدم حجّیت کے حکم کے لیے مناسب وہ خبر ہے جو جھوٹ سے پرہیز نہ کرنے والے کی ہو، نہ کہ اس کی جو جھوٹ سے پرہیز کرتا ہو چاہے وہ بعض دیگر محرمات کا ارتکاب کرتا ہو۔

ب- آیہ کریمہ کے آخر میں ندامت کو بطور علّت پیش کیا گیا ہے - ایسا نہ ہو کہ کسی قوم تک ناواقفیت میں پہنچ جاؤ اور اس کے بعد اپنے اقدام پر نادم ہونا پڑے - کیونکہ ندامت اس خبر کو قبول کرنے سے واقع ہوتی ہے جو جھوٹ سے پرہیز نہ کرنے والے کی ہو، نہ کہ اس کی جو کبھی اپنے اعضاء سے گناہ کرتا ہو لیکن جھوٹ سے پرہیز کرتا ہو۔

خبرِ ثقہ یا الموثوق بہ

۳۔ اور کیا حجّت کا تعلق فقط خبرِ ثقہ سے ہے یا ساتھ میں یہ بھی شرط ہے کہ خبر وثوق اور اطمینان کا فائدہ دیتی ہو؟

شیخ اعظم ؒ رسائل میں آیتِ نباء سے استدلال سے فراغت کے بعد اور سنت سے استدلال شروع کرنے سے پہلے، وثوق معتبر ہونے کی طرف مائل ہوئے ہیں، آیتِ نباء میں وارد علّت سے تمسّک کرتے ہوئے، کیونکہ جب تک خبر سے وثوق و اطمینان حاصل نہ ہو، ندامت میں پڑنے کا خوف موجود رہتا ہے۔

لیکن صحیح اس کا ضروری نہ ہونا اور راوی کی وثاقت کا کافی ہونا ہے، کیونکہ عبد العزیز بن مہتدی اور حسن بن علی بن یقطین کی صحیح روایت امام رضا علیہ السلام سے ہے: " میں نے عرض کی: اپنے جن دینی امور کی مجھے ضرورت پیش آتی ہیں ان میں سے ہر ایک کے لیے آپ سے سوال کرنے کے لیے آپ تک پہنچنا میرے لیے مشکل ہوتا ہے تو کیا یونس بن عبد الرحمن ثقہ ہیں کہ میں اپنے دینی امور میں سے جس چیز کا محتاج ہوں اسے ان سے حاصل کروں تو آپ علیہ السلام نے فرمایا ہاں " ۔ ( وسائل الشيعة باب ۱۱ من صفات القاضي ح ۳۳ )

یہ روایت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ سائل کے ذہن میں راوی کی وثاقت کا کافی ہونا مرتکز تھا، اور امام علیہ السلام نے اس بات کی تائید کی۔

اور اسی طرح یہ احمد بن اسحاق کی صحیح روایت سے بھی سمجھا جا سکتا ہے جسے کلینی ؒ نے محمد بن عبد اللہ حمیری اور محمد بن یحییٰ سے، ان سب (دونوں) نے، عبد اللہ بن جعفر حمیری سے، انہوں نے احمد بن اسحاق سے، انہوں نے ابو الحسن علیہ السلام سے روایت کیا ہے، انہوں نے کہا: میں نے آپ علیہ السلام سے سوال کرتے ہوئے عرض کیا: میں کس سے معاملہ کروں اور کس سے لوں اور کس کی بات قبول کروں؟ تو آپ نے فرمایا: العمری میرا ثقہ ہے، پس جو کچھ وہ میرے حوالے سے جو تمہیں پہنچائے وہ میری طرف سے ہی پہنچاتا ہے، اور جو کچھ وہ میری طرف سے تمہیں کہے وہ میری طرف سے ہی کہتا ہے، پس اس کی بات سنو اور اطاعت کرو، کیونکہ وہ ثقہ اور امانت دار ہے ۔۔۔ "

( سابقہ مأخذ: من أبواب صفات القاضي ح ۴ )

پس پیش کی گئی یہ علّت کہ " کیونکہ وہ ثقہ اور امین ہے " اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ دارومدار شخص کی وثاقت اور امانت پر ہے نہ کہ خبر کے وثوق پر۔

خبرِ حسن

۴۔اور کیا خبرِ حسن حجت ہے؟ میرزا نائینی ؒ اور سید خوئی ؒ نے اس کی حجیت کے نظریہ کو اختیار کیا ہے۔

اور مصباح الاصول

( مصباح الاصول ۲: ۲۰۰ )

میں اس پر سیرت عقلائیہ کے ذریعہ استدلال کیا گیا ہے، اس دعوے کے ساتھ کہ سیرتِ عقلائیہ اس بات پر قائم ہے کہ مولا کا اپنے بندے کو دیا گیا حکم جب کسی ایسے امامی ممدوح (قابل تعریف) کے نقل کے ذریعہ پہنچے جس بندے کا نہ تو فسق ظاہر ہو اور نہ ہی عدالت، تو اس پر عمل کیا جائےگا، اسی طرح جیسے سیرتِ عقلائیہ عادل امامی کی نقل سے پہنچی ہوئی خبر پر عمل کرنے پر قائم ہے۔

اور اس کا رد یہ ہے: کہ شخص کی مدح سے یا تو اس کی توثیق حاصل ہوگی یا نہیں ہوگی۔

پہلی صورت میں یہ خبر ثقہ کی خبر کے تحت داخل ہو جائےگی اور حسن سے خارج ہو جائےگی۔

اور دوسری صورت میں اگرچہ یہ خبر ثقہ کی خبر کے تحت داخل نہیں ہوگی، لیکن اس پر عمل کرنے پر سیرت جاری ہونے کا یقین انتہائی مشکل ہے، کیونکہ مدح سے توثیق حاصل نہ ہونے کی صورت میں، جان بوجھ کر جھوٹ بولنے کا احتمال اپنے مقام پر برقرار رہتا ہے، اور صاحبانِ عقل کے کسی ایسے شخص کی خبر پر عمل کرنے کا دعویٰ کیسے کیا جا سکتا ہے جس کے جان بوجھ کر جھوٹ بولنے کا احتمال ہو !!