خبرِ ضعیف
۵۔متأخرین کے درمیان یہ معروف ہے کہ خبر ضعیف حجت نہیں ہے، لیکن ایک سوال یہ ہے کہ کیا خبر ضعیف فقہاء کی فتوائی شہرت کے موافق ہونے کی صورت میں حجیت کے درجے تک پہنچ سکتی ہے؟
یعنی اگر خبر سند کے لحاظ سے ضعیف ہو لیکن مشہور فقہاء نے اس کے مطابق فتویٰ دیا ہو تو کیا ان کا فتویٰ اس کی سند کی کمزوری کا تدارک کر دیتا ہے؟
معروف یہ ہے کہ شہرت کے ذریعے اس کا تدارک ہو جاتا ہے۔
اور اس پر استدلال کے لیے جو وجوہات پیش کی جا سکتی ہیں، ان کا ذکر کرنے سے پہلے ہم اس بات کی طرف توجہ دلانا چاہتے ہیں کہ مذکورہ مسئلہ انتہائی اہم ہے، کیونکہ شہرت کے قابلِ تدارک ہونے کی بنا پر، بہت سی ایسی روایات حجیت کے دائرے میں داخل ہو جائیں گی جو شہرت کے قابلِ تدارک نہ ہونے کی بنا پر پہلے اس دائرے سے باہر تھیں۔
جیسا کہ شہرت باعث تدارک ہے اس کبریٰ و کلی قاعدے کو قبول کرنے کی صورت میں، علمِ رجال کی طرف ہماری محتاجی کم ہو جائےگی، کیونکہ روایت اگر سند کے لحاظ سے ضعیف بھی ہو، اس کی حجّیت پر بنا رکھنا ممکن ہے اگر مشہور نے اس کے مطابق فتوی دیا ہو بغیر اس کے راویوں کی وثاقت کی تحقیق کی طرف محتاج ہوئے۔
سند کی کمزوری کا شہرت کے ذریعہ تدارک پر متعدد دلائل موجود ہیں۔ اور وہ یہ ہیں :
الف۔ روایت کی فتوائی شہرت سے موافقت ایک طرح سے روایت کی سچائی کو ظاہر کرتی ہے، اور یہ حجیت کے ثبوت کے لیے کافی ہے، کیونکہ آیت کریمہ میں ہے: اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو تحقیق کرو۔ اس کا مفہوم ہے کہ فاسق کی خبر کی تحقیق اور اس کے صادق ہونے کے واضح ہو جانے کے بعد وہ حجّت ہو جاتی ہے اور اسے قبول کرنا واجب ہے۔
سید خوئی ؒ نے مصباح الاصول( مصباح الاصول ۲: ۲۰۱ ) میں اس پر یہ اشکال کیا ہے کہ جب شہرتِ فتوائی خود اپنی ذات میں حجت نہیں ہے تو اسے خبر کے ساتھ ملا دینا تبیّن (یقین و وضاحت) کا باعث نہیں بنےگا، کیونکہ تبیّن صرف اسی ذریعے سے ممکن ہے جو فی نفسہٖ حجت ہو۔
ب۔مشہور فقہاء کا کسی روایت پر عمل کرنا اس روایت کے راویوں کی توثیق کو ظاہر کرتا ہے، ورنہ وہ اس پر عمل نہ کرتے، اور جب ان کے راویوں کی توثیق ثابت ہو جائے تو وہ حجت ہو جاتی ہے۔
اس کا جواب یہ ہے: کہ مشہور کا کسی خبر پر عمل کرنا اس کے راویوں کی توثیق پر دلالت نہیں کرتا، کیونکہ ان کا اس پر عمل کرنا ہو سکتا ہے ان کے نزدیک موجود بعض ایسے قرائن کی وجہ سے ہو جنہیں اگر ہم جان لیں تو ہم ان قرائن کو رد کر دیں۔
ج۔کسی روایت پر عمل کی شہرت اس کے صدور اور صحت پر اطمینان کا باعث بنتی ہے۔
یہ بات اس صورت میں اچھی ہے جب عمل کی شہرت ہمارے متقدمین علماء کی جماعت میں ثابت ہو جو غیبت صغریٰ کے ہم عصر تھے یا اس زمانہ کے قریب تھے۔
لیکن مسئلہ یہ ہے کہ یہ بات کیسے ثابت ہو کہ متقدمین کے درمیان جو مسئلہ مشہور تھا اس کی بنیاد یہی روایت تھی؟ اگر متقدمین کی جماعت نے اس روایت پر اعتماد کیا ہوتا تو اطمینان حاصل ہو سکتا تھا، لیکن ہم اسے کیسے ثابت کریں؟ کیونکہ صرف ان کے فتویٰ کا روایت کے مطابق ہونا ان کے اس روایت پر اعتماد پر دلالت نہیں کرتا بلکہ شاید ان کے پاس کوئی اور مستند و بنیاد ہو جس سے ہم واقف نہیں ہیں، کیونکہ ان کی استدلالی کتب ہمارے پاس نہیں ہیں تاکہ ہم جان سکیں کہ ان کے فتوے کی بنیاد روایت ہے یا کوئی اور چیز۔ چنانچہ حسن بن عقیل جو عمانی کے نام سے مشہور ہیں، ان کی ایک فقہی استدلالی کتاب ہے جسے
"المستمسک بحبل آل الرسول صلی اللہ علیہ و آلہ"
کہا جاتا ہے، اور نجاشی ؒ نے اس کتاب کے بارے میں کہا ہے: "یہ کتاب طائفہ (شیعوں) میں مشہور ہے، اور کہا گیا ہے کہ حاجی جب بھی خراسان سے آتے، تو اس کی نسخے طلب کرتے اور خریدتے تھے " ۔
یہ کتاب اب مفقود ہے، لہٰذا مذکورہ فقیہ کے مستندات کی شناخت نہیں کی جا سکتی۔
ابن جنید ؒ نقل کرتے ہیں کہ ان کے پاس ایک بڑی کتاب تھی جسے " تھذیب الشیعة لاحکام الشریعة" کہا جاتا تھا اور بعد میں انہوں نے اسے مختصر کر کے " الاحمدی فی الفقه المحمدی" نام دیا۔
بلکہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ پہلی فقہی استدلالی کتاب جو ہم تک پہنچی ہے وہ شیخ طوسی ؒ کی " المبسوط" ہے۔
خبرِ مضمر
۶۔ضعیف خبر کے کئی مصادیق ہیں جن میں سے ایک خبرِ مضمر (ضمیر والی روایت) ہے۔ اور اس کی حجّیت اور عدم حجّیت پر بحث واقع ہوئی ہے۔
خبرِ مضمر وہ روایت ہے جس میں جس سے سوال کیا گیا ہے ان کے نام کی صراحت و وضاحت نہیں کی جاتی کہ وہ امام علیہ السلام ہیں، بلکہ ایک ضمیر ذکر کی جاتی ہے احتمال ہوتا ہے کہ اس ضمیر کا مرجع امام علیہ السلام ہیں یا کوئی اور، جیسے مثال کے طور پر سماعہ کہتے ہیں : " میں نے ان (ضمیر) سے انگور کے رس کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا ۔۔۔ " یہاں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ جن سے سوال کیا گیا ہے وہ امام علیہ السلام تھے، اور یہ احتمال ہے کہ وہ کوئی اور ہوں۔ اور اسی وجہ سے بعض اوقات مضمر روایات کی عدم حجیت کا حکم دیا جاتا ہے کیونکہ یہ احتمال ہوتا ہے کہ جس سے سوال کیا گیا ہے وہ امام علیہ السلام کے علاوہ کوئی اور شخص ہو۔
بہت سے علماء نے اس صورت میں تفریق بیان کی ہے کہ آیا ضمیر بیان کرنے والا شخص ایسے اجلاء و معززین اصحاب میں سے ہیں جن کے لیے امام علیہ السلام کے علاوہ کسی اور سے روایت کرنا مناسب نہیں سمجھا جاتا، جیسے زرارہ اور محمد بن مسلم، یا ضمیر بیان کرنے والا شخص ان کے علاوہ کوئی اور ہے۔ چنانچہ پہلی قسم کی مضمرات حجّت ہیں جبکہ دوسری قسم کے حجّت نہیں ہیں۔
مذکورہ تفریق کی وجہ واضح ہے، کیونکہ زرارہ جیسے شخص کے لیے امام علیہ السلام کے علاوہ کسی اور سے روایت کرنا مناسب نہیں سمجھا جاتا، لہٰذا جن سے سوال کیا گیا وہ یقیناً امام علیہ السلام ہی ہوں گے۔ اور یہ اس وقت برعکس ہے جب ضمیر بیان کرنے والا شخص ان جیسا نہ ہو، کیونکہ اس صورت میں اس کے لیے امام علیہ السلام سے سوال کرنا متعین نہیں ہوتا، لہٰذا اس کی روایت حجت نہیں ہوگی۔
یہ تو تھا تفریق کا معاملہ، لیکن ہم ایک ایسا بیان پیش کر سکتے ہیں جس کے ذریعے تمام مضمرات کی حجیت کو بغیر کسی تفریق کے ثابت کیا جا سکے۔
مذکورہ بیان کا خلاصہ یہ ہے: کہ بغیر کسی مرجع کے ضمیر کا ذکر عربی زبان میں ایک غیر مانوس بات ہے، چنانچہ عربی کلام کے اسالیب سے واقف شخص کے لیے لوگوں کی جماعت میں داخل ہو کر بغیر کسی مرجع کا ذکر کیے " میں نے ان سے سوال کیا " کہنا مناسب نہیں ہے ۔
لہٰذا، جن مقامات پر ضمیر کا ذکر بغیر کسی واضح مرجع کے ہوتا ہے، وہاں ضروری ہے کہ دونوں فریق کے درمیان ضمیر کے مرجع کے بارے میں کوئی خاص عہد (پہلے سے ذہنی طور پر تعین شدہ مرجع) موجود ہو، جس پر ضمیر کے مرجع کی تشخیص میں اعتماد کیا گیا ہو، اور اسی وجہ سے ضمیر کو ذکر کیا گیا ہوتا ہے۔
پھر ہم اس میں ایک اور مقدمہ شامل کرتے ہیں: کہ امام علیہ السلام کے علاوہ کوئی ایسا شخص نہیں ہے جو معہود (پہلے سے ذہنی طور پر تعین شدہ مرجع) ہو، کیونکہ شیعہ حلقوں میں ذہنی طور پر طے شدہ بات یہ تھی کہ سوالات امام علیہ السلام سے ہی کیے جاتے ہیں۔
اس طرح جس سے سوال کیا گیا ان کا امام علیہ السلام ہونا ثابت ہو جاتا ہے، بغیر کسی تفریق کی ضرورت کے۔
اور اگر کوئی یہ کہے کہ شاید امام علیہ السلام کے علاوہ کوئی اور شخص بھی تھا جو دونوں فریق کے درمیان معہود (پہلے سے ذہنی طور پر تعین شدہ مرجع) ہو جس پر (مخاطب و متکلم) دونوں فریق نے ضمیر کے ذکر کے وقت اعتماد کیا ہو، اور یہ طے شدہ نہیں ہے کہ معہود (پہلے سے ذہنی طور پر تعین شدہ مرجع) امام علیہ السلام ہی ہوں۔
تو ہمارا جواب یہ ہے کہ ضمیر بیان کرنے والا جیسے سماعہ نے روایت کو اپنے تک محدود نہیں رکھا تھا بلکہ اسے دوسروں تک پہنچایا تھا یا اپنی کتاب میں درج کیا تھا، تو یہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ وہ اسے تمام نسلوں تک پہنچانا چاہتے تھے، اور چونکہ امام علیہ السلام کے علاوہ کوئی ایسا شخص نہیں ہے جن کے ساتھ تمام نسلیں عہد و پیمان رکھتی ہوں، لہٰذا اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ضمیر امام علیہ السلام کی طرف راجع ہے۔
ضمیر کےاستعمال کا سبب
یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ ضمیر کے استعمال کے سبب کو جاننا تمام مضمرات کی حجیت کا حکم دینے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے، بغیر کسی تفریق کے۔
اس کا سبب یہ ہے کہ اصحاب کبھی کبھی ائمہ علیہم السلام سے مختلف موضوعات کے متعدد سوالات کرتے تھے۔ اور جب انہوں نے بعد میں ان سوالات اور جوابات کو نقل کرنا چاہا تو انہوں نے سوالات کے آغاز میں صرف امام علیہ السلام کا ذکر کرنے پر اکتفا کیا اور اس کے بعد ان کی طرف ضمیر پلٹا دی۔ مثال کے طور پر زرارہ کہتے ہیں : میں نے امام صادق علیہ السلام سے نماز میں شک کے حکم کے بارے میں سوال تو آپ نے ایسا فرمایا، اور میں نے ان ؑ سے (انگور کے) رس کے حکم کے بارے میں سوال کیا تو آپؑ نے ایسا فرمایا، اور میں نے انؑ سے فقاع کے حکم کے بارے میں سوال کیا ۔۔۔
اور اس کے بعد، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ، احادیث کو ابواب میں تقسیم کیا گیا اور ہر جملے کو اس کے مناسب باب میں ذکر کیا گیا، مثلاً فقاع کا باب قائم کیا گیا اور اس کے تحت ذکر کیا گیا: زرارہ نے روایت کیا کہ میں نے ان (ضمیر) سے فقاع کے حکم کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے ایسا فرمایا، اس بات کی طرف اشارہ کیے بغیر کہ سوالات کے آغاز میں جن سے سوال کیا گیا تھا وہ امام علیہ السلام تھے۔
ضمیر کے استعمال کا یہ سبب تمام مضمرات کی حجیت کا حکم دینے میں دلیل کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے، بغیر کسی تفریق کے۔
اور اس پر یہ اعتراض کیا جا سکتا ہے کہ یہ احتمال موجود ہے کہ سوالات کے آغاز میں جس سے سوال کیا گیا ہے وہ شخص امام علیہ السلام کے علاوہ کوئی اور ہو۔