‌دروس تمهیدیة فی القواعد الرجالیة

‌دروس تمهیدیة فی القواعد الرجالیة0%

‌دروس تمهیدیة فی القواعد الرجالیة مؤلف:
: مصنف/ مؤلف
: مصنف/ مؤلف
زمرہ جات: علم رجال

‌دروس تمهیدیة فی القواعد الرجالیة

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

مؤلف: مصنف/ مؤلف
: مصنف/ مؤلف
: مصنف/ مؤلف
زمرہ جات: مشاہدے: 7551
ڈاؤنلوڈ: 304

تبصرے:

‌دروس تمهیدیة فی القواعد الرجالیة
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 106 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 7551 / ڈاؤنلوڈ: 304
سائز سائز سائز
‌دروس تمهیدیة فی القواعد الرجالیة

‌دروس تمهیدیة فی القواعد الرجالیة

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

خبرِ ضعیف

۵۔متأخرین کے درمیان یہ معروف ہے کہ خبر ضعیف حجت نہیں ہے، لیکن ایک سوال یہ ہے کہ کیا خبر ضعیف فقہاء کی فتوائی شہرت کے موافق ہونے کی صورت میں حجیت کے درجے تک پہنچ سکتی ہے؟

یعنی اگر خبر سند کے لحاظ سے ضعیف ہو لیکن مشہور فقہاء نے اس کے مطابق فتویٰ دیا ہو تو کیا ان کا فتویٰ اس کی سند کی کمزوری کا تدارک کر دیتا ہے؟

معروف یہ ہے کہ شہرت کے ذریعے اس کا تدارک ہو جاتا ہے۔

اور اس پر استدلال کے لیے جو وجوہات پیش کی جا سکتی ہیں، ان کا ذکر کرنے سے پہلے ہم اس بات کی طرف توجہ دلانا چاہتے ہیں کہ مذکورہ مسئلہ انتہائی اہم ہے، کیونکہ شہرت کے قابلِ تدارک ہونے کی بنا پر، بہت سی ایسی روایات حجیت کے دائرے میں داخل ہو جائیں گی جو شہرت کے قابلِ تدارک نہ ہونے کی بنا پر پہلے اس دائرے سے باہر تھیں۔

جیسا کہ شہرت باعث تدارک ہے اس کبریٰ و کلی قاعدے کو قبول کرنے کی صورت میں، علمِ رجال کی طرف ہماری محتاجی کم ہو جائےگی، کیونکہ روایت اگر سند کے لحاظ سے ضعیف بھی ہو، اس کی حجّیت پر بنا رکھنا ممکن ہے اگر مشہور نے اس کے مطابق فتوی دیا ہو بغیر اس کے راویوں کی وثاقت کی تحقیق کی طرف محتاج ہوئے۔

سند کی کمزوری کا شہرت کے ذریعہ تدارک پر متعدد دلائل موجود ہیں۔ اور وہ یہ ہیں :

الف۔ روایت کی فتوائی شہرت سے موافقت ایک طرح سے روایت کی سچائی کو ظاہر کرتی ہے، اور یہ حجیت کے ثبوت کے لیے کافی ہے، کیونکہ آیت کریمہ میں ہے: اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو تحقیق کرو۔ اس کا مفہوم ہے کہ فاسق کی خبر کی تحقیق اور اس کے صادق ہونے کے واضح ہو جانے کے بعد وہ حجّت ہو جاتی ہے اور اسے قبول کرنا واجب ہے۔

سید خوئی ؒ نے مصباح الاصول( مصباح الاصول ۲: ۲۰۱ ) میں اس پر یہ اشکال کیا ہے کہ جب شہرتِ فتوائی خود اپنی ذات میں حجت نہیں ہے تو اسے خبر کے ساتھ ملا دینا تبیّن (یقین و وضاحت) کا باعث نہیں بنےگا، کیونکہ تبیّن صرف اسی ذریعے سے ممکن ہے جو فی نفسہٖ حجت ہو۔

ب۔مشہور فقہاء کا کسی روایت پر عمل کرنا اس روایت کے راویوں کی توثیق کو ظاہر کرتا ہے، ورنہ وہ اس پر عمل نہ کرتے، اور جب ان کے راویوں کی توثیق ثابت ہو جائے تو وہ حجت ہو جاتی ہے۔

اس کا جواب یہ ہے: کہ مشہور کا کسی خبر پر عمل کرنا اس کے راویوں کی توثیق پر دلالت نہیں کرتا، کیونکہ ان کا اس پر عمل کرنا ہو سکتا ہے ان کے نزدیک موجود بعض ایسے قرائن کی وجہ سے ہو جنہیں اگر ہم جان لیں تو ہم ان قرائن کو رد کر دیں۔

ج۔کسی روایت پر عمل کی شہرت اس کے صدور اور صحت پر اطمینان کا باعث بنتی ہے۔

یہ بات اس صورت میں اچھی ہے جب عمل کی شہرت ہمارے متقدمین علماء کی جماعت میں ثابت ہو جو غیبت صغریٰ کے ہم عصر تھے یا اس زمانہ کے قریب تھے۔

لیکن مسئلہ یہ ہے کہ یہ بات کیسے ثابت ہو کہ متقدمین کے درمیان جو مسئلہ مشہور تھا اس کی بنیاد یہی روایت تھی؟ اگر متقدمین کی جماعت نے اس روایت پر اعتماد کیا ہوتا تو اطمینان حاصل ہو سکتا تھا، لیکن ہم اسے کیسے ثابت کریں؟ کیونکہ صرف ان کے فتویٰ کا روایت کے مطابق ہونا ان کے اس روایت پر اعتماد پر دلالت نہیں کرتا بلکہ شاید ان کے پاس کوئی اور مستند و بنیاد ہو جس سے ہم واقف نہیں ہیں، کیونکہ ان کی استدلالی کتب ہمارے پاس نہیں ہیں تاکہ ہم جان سکیں کہ ان کے فتوے کی بنیاد روایت ہے یا کوئی اور چیز۔ چنانچہ حسن بن عقیل جو عمانی کے نام سے مشہور ہیں، ان کی ایک فقہی استدلالی کتاب ہے جسے

"المستمسک بحبل آل الرسول صلی اللہ علیہ و آلہ"

کہا جاتا ہے، اور نجاشی ؒ نے اس کتاب کے بارے میں کہا ہے: "یہ کتاب طائفہ (شیعوں) میں مشہور ہے، اور کہا گیا ہے کہ حاجی جب بھی خراسان سے آتے، تو اس کی نسخے طلب کرتے اور خریدتے تھے " ۔

یہ کتاب اب مفقود ہے، لہٰذا مذکورہ فقیہ کے مستندات کی شناخت نہیں کی جا سکتی۔

ابن جنید ؒ نقل کرتے ہیں کہ ان کے پاس ایک بڑی کتاب تھی جسے " تھذیب الشیعة لاحکام الشریعة" کہا جاتا تھا اور بعد میں انہوں نے اسے مختصر کر کے " الاحمدی فی الفقه المحمدی" نام دیا۔

بلکہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ پہلی فقہی استدلالی کتاب جو ہم تک پہنچی ہے وہ شیخ طوسی ؒ کی " المبسوط" ہے۔

خبرِ مضمر

۶۔ضعیف خبر کے کئی مصادیق ہیں جن میں سے ایک خبرِ مضمر (ضمیر والی روایت) ہے۔ اور اس کی حجّیت اور عدم حجّیت پر بحث واقع ہوئی ہے۔

خبرِ مضمر وہ روایت ہے جس میں جس سے سوال کیا گیا ہے ان کے نام کی صراحت و وضاحت نہیں کی جاتی کہ وہ امام علیہ السلام ہیں، بلکہ ایک ضمیر ذکر کی جاتی ہے احتمال ہوتا ہے کہ اس ضمیر کا مرجع امام علیہ السلام ہیں یا کوئی اور، جیسے مثال کے طور پر سماعہ کہتے ہیں : " میں نے ان (ضمیر) سے انگور کے رس کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا ۔۔۔ " یہاں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ جن سے سوال کیا گیا ہے وہ امام علیہ السلام تھے، اور یہ احتمال ہے کہ وہ کوئی اور ہوں۔ اور اسی وجہ سے بعض اوقات مضمر روایات کی عدم حجیت کا حکم دیا جاتا ہے کیونکہ یہ احتمال ہوتا ہے کہ جس سے سوال کیا گیا ہے وہ امام علیہ السلام کے علاوہ کوئی اور شخص ہو۔

بہت سے علماء نے اس صورت میں تفریق بیان کی ہے کہ آیا ضمیر بیان کرنے والا شخص ایسے اجلاء و معززین اصحاب میں سے ہیں جن کے لیے امام علیہ السلام کے علاوہ کسی اور سے روایت کرنا مناسب نہیں سمجھا جاتا، جیسے زرارہ اور محمد بن مسلم، یا ضمیر بیان کرنے والا شخص ان کے علاوہ کوئی اور ہے۔ چنانچہ پہلی قسم کی مضمرات حجّت ہیں جبکہ دوسری قسم کے حجّت نہیں ہیں۔

مذکورہ تفریق کی وجہ واضح ہے، کیونکہ زرارہ جیسے شخص کے لیے امام علیہ السلام کے علاوہ کسی اور سے روایت کرنا مناسب نہیں سمجھا جاتا، لہٰذا جن سے سوال کیا گیا وہ یقیناً امام علیہ السلام ہی ہوں گے۔ اور یہ اس وقت برعکس ہے جب ضمیر بیان کرنے والا شخص ان جیسا نہ ہو، کیونکہ اس صورت میں اس کے لیے امام علیہ السلام سے سوال کرنا متعین نہیں ہوتا، لہٰذا اس کی روایت حجت نہیں ہوگی۔

یہ تو تھا تفریق کا معاملہ، لیکن ہم ایک ایسا بیان پیش کر سکتے ہیں جس کے ذریعے تمام مضمرات کی حجیت کو بغیر کسی تفریق کے ثابت کیا جا سکے۔

مذکورہ بیان کا خلاصہ یہ ہے: کہ بغیر کسی مرجع کے ضمیر کا ذکر عربی زبان میں ایک غیر مانوس بات ہے، چنانچہ عربی کلام کے اسالیب سے واقف شخص کے لیے لوگوں کی جماعت میں داخل ہو کر بغیر کسی مرجع کا ذکر کیے " میں نے ان سے سوال کیا " کہنا مناسب نہیں ہے ۔

لہٰذا، جن مقامات پر ضمیر کا ذکر بغیر کسی واضح مرجع کے ہوتا ہے، وہاں ضروری ہے کہ دونوں فریق کے درمیان ضمیر کے مرجع کے بارے میں کوئی خاص عہد (پہلے سے ذہنی طور پر تعین شدہ مرجع) موجود ہو، جس پر ضمیر کے مرجع کی تشخیص میں اعتماد کیا گیا ہو، اور اسی وجہ سے ضمیر کو ذکر کیا گیا ہوتا ہے۔

پھر ہم اس میں ایک اور مقدمہ شامل کرتے ہیں: کہ امام علیہ السلام کے علاوہ کوئی ایسا شخص نہیں ہے جو معہود (پہلے سے ذہنی طور پر تعین شدہ مرجع) ہو، کیونکہ شیعہ حلقوں میں ذہنی طور پر طے شدہ بات یہ تھی کہ سوالات امام علیہ السلام سے ہی کیے جاتے ہیں۔

اس طرح جس سے سوال کیا گیا ان کا امام علیہ السلام ہونا ثابت ہو جاتا ہے، بغیر کسی تفریق کی ضرورت کے۔

اور اگر کوئی یہ کہے کہ شاید امام علیہ السلام کے علاوہ کوئی اور شخص بھی تھا جو دونوں فریق کے درمیان معہود (پہلے سے ذہنی طور پر تعین شدہ مرجع) ہو جس پر (مخاطب و متکلم) دونوں فریق نے ضمیر کے ذکر کے وقت اعتماد کیا ہو، اور یہ طے شدہ نہیں ہے کہ معہود (پہلے سے ذہنی طور پر تعین شدہ مرجع) امام علیہ السلام ہی ہوں۔

تو ہمارا جواب یہ ہے کہ ضمیر بیان کرنے والا جیسے سماعہ نے روایت کو اپنے تک محدود نہیں رکھا تھا بلکہ اسے دوسروں تک پہنچایا تھا یا اپنی کتاب میں درج کیا تھا، تو یہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ وہ اسے تمام نسلوں تک پہنچانا چاہتے تھے، اور چونکہ امام علیہ السلام کے علاوہ کوئی ایسا شخص نہیں ہے جن کے ساتھ تمام نسلیں عہد و پیمان رکھتی ہوں، لہٰذا اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ضمیر امام علیہ السلام کی طرف راجع ہے۔

ضمیر کےاستعمال کا سبب

یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ ضمیر کے استعمال کے سبب کو جاننا تمام مضمرات کی حجیت کا حکم دینے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے، بغیر کسی تفریق کے۔

اس کا سبب یہ ہے کہ اصحاب کبھی کبھی ائمہ علیہم السلام سے مختلف موضوعات کے متعدد سوالات کرتے تھے۔ اور جب انہوں نے بعد میں ان سوالات اور جوابات کو نقل کرنا چاہا تو انہوں نے سوالات کے آغاز میں صرف امام علیہ السلام کا ذکر کرنے پر اکتفا کیا اور اس کے بعد ان کی طرف ضمیر پلٹا دی۔ مثال کے طور پر زرارہ کہتے ہیں : میں نے امام صادق علیہ السلام سے نماز میں شک کے حکم کے بارے میں سوال تو آپ نے ایسا فرمایا، اور میں نے ان ؑ سے (انگور کے) رس کے حکم کے بارے میں سوال کیا تو آپؑ نے ایسا فرمایا، اور میں نے انؑ سے فقاع کے حکم کے بارے میں سوال کیا ۔۔۔

اور اس کے بعد، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ، احادیث کو ابواب میں تقسیم کیا گیا اور ہر جملے کو اس کے مناسب باب میں ذکر کیا گیا، مثلاً فقاع کا باب قائم کیا گیا اور اس کے تحت ذکر کیا گیا: زرارہ نے روایت کیا کہ میں نے ان (ضمیر) سے فقاع کے حکم کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے ایسا فرمایا، اس بات کی طرف اشارہ کیے بغیر کہ سوالات کے آغاز میں جن سے سوال کیا گیا تھا وہ امام علیہ السلام تھے۔

ضمیر کے استعمال کا یہ سبب تمام مضمرات کی حجیت کا حکم دینے میں دلیل کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے، بغیر کسی تفریق کے۔

اور اس پر یہ اعتراض کیا جا سکتا ہے کہ یہ احتمال موجود ہے کہ سوالات کے آغاز میں جس سے سوال کیا گیا ہے وہ شخص امام علیہ السلام کے علاوہ کوئی اور ہو۔

خبرِ مرسل

خبر مرسل وہ روایت ہے جس میں سند کے بعض راویوں کا نام ذکر نہیں کیا جاتا، جیسا کہ سند کے درمیان میں کہا جائے: " عن رجل" (ایک شخص سے) یا " عن بعض اصحابنا" (ہمارے بعض اصحاب سے) یا " عن غیر واحد" (ایک سے زائد افراد سے) اور اسی طرح کے الفاظ۔

اور مراسیل کی حجّیت اور عدم حجّیت پر کلام واقع ہوا ہے، اور اس بارے میں اقوال درج ذیل ہیں :

الف۔ حدیث مرسل کی عدم حجیت اس بنا پر کہ اس میں واسطہ (راوی) مبہم ہوتا ہے، اور ہم اس کی وثاقت کو ثابت نہیں کر سکتے، اور اگر بالفرض اس کی وثاقت کو مان بھی لیں، تب بھی یہ احتمال باقی رہتا ہے کہ اس کے خلاف کوئی جرح و اعتراض موجود ہو۔

اور " اصالۃ عدم وجود الجارح" کے لیے یہاں پر کوئی بنیاد نہیں ہے۔

ب۔ خبر مرسل حجّت ہے اگر اس کی سند میں اٹھارہ اصحاب اجماع میں سے کوئی شامل ہوں، کیونکہ کشی ؒ نے دعویٰ کیا ہے کہ عصابہ (امامیہ علماء) کا اجماع ہے اسے صحیح قرار دینے پر جسے اصحاب اجماع صحیح قرار دیں۔

اس کا جواب یہ ہے: کہ جیسا کہ پہلے بیان کیا گیا تھا، مذکورہ اجماع سے مراد اٹھارہ اصحاب کی وثاقت اور ان کے مقام کی عظمت پر اجماع ہے، اور یہ کہ وہ ایسے مرتبہ پر فائز تھے کہ شیعہ علماء نے ان کی وثاقت اور شان کی بلندی پر اجماع کیا ہے، کسی اور کے حال کو دیکھے بغیر (یعنی بغیر ان لوگوں کی طرف نگاہ کیے جنہوں نے ان سے روایت کی ہے اور جن سے انہوں نے روایت کی ہے)۔

ج۔ خبر مرسل حجّت ہے اگر ارسال کرنے والا ابن ابی عمیر، صفوان، اور بزنطی جیسا ہو، جیسا کہ پہلے بیان کیا گیا تھا، اور یہ بھی بیان ہو چکا ہے کہ اس طرح کے معاملے میں تفریق مناسب ہے۔

د۔ تفریق اس بات میں کہ اگر شیخ صدوق ؒ روایت کو امام علیہ السلام کی طرف ارسال " قال الامام الصادق علیہ السلام" جیسے الفاظ کے ساتھ ارسال کریں، اور جب وہ کہے " روی عن الامام الصادق علیہ السلام" تو پہلی صورت میں حجّت ہے جبکہ دوسری صورت میں حجّت نہیں ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے: کہ " قال الامام الصادق علیہ السلام" کے الفاظ کا استعمال اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ صدوق ؒ کو روایت کے امام علیہ السلام سے صادر ہونے کا یقین ہے، ورنہ ان کے لیے روایت کی نسبت امام علیہ السلام کی طرف دینا جائز نہیں ہے۔اور شیخ صدوق ؒ کے اس یقین کو فرض کرتے ہوئے، ہم کہتے ہیں: کہ مذکورہ یقین یا تو حِسّ سے پیدا ہوا ہے یا حدس سے، اور " اصالة الحس " ثابت کرتا ہے کہ یہ حسّ سے پیدا ہونے والا یقین ہے، یعنی امام علیہ السلام سے منسوب مضمون کے بار بار اور کثرت سے نقل ہونے کی وجہ سے۔ اور اسی وجہ سے ان کا نقل ہمارے لیے حجّت ہوگا۔

اور یہ سب اس کے برخلاف ہے جب شیخ صدوق ؒ " روی عن الامام الصادق علیہ السلام" کہیں، کیونکہ مذکورہ عبارت شیخ صدوق ؒ کے یقین پر دلالت نہیں کرتی کہ " اصالة الحس " کا اطلاق کیا جا سکے۔اور اس تشریح کے ذریعے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ یہ تفریق صرف شیخ صدوق ؒ سے مخصوص نہیں ہے، بلکہ ان کا خاص طور پر ذکر اس وجہ سے کیا گیا ہے کہ ان کی فقہی کتابوں میں ارسال کا استعمال کثرت سے ہے، کبھی " قال" کے لفظ کے ساتھ اور کبھی " روی " کے لفظ کے ساتھ۔

اور اس کا رد یہ ہے: کہ اگر ہم تسلیم بھی کر لیں کہ " قال" کے الفاظ کا استعمال شیخ صدوق ؒ کے یقین پر دلالت کرتا ہے تب بھی یہ ضروری نہیں کہ یہ امام علیہ السلام سے بار بار نقل کرنے کی وجہ سے ہو - بلکہ یہ ضعیف ہے، کیونکہ اگر بار بار نقل ہوتا تو صدوق ؒ خود یا کوئی اور ان روایات کا کچھ حصہ نقل کرتا - بلکہ یہ احتمال ہے کہ شیخ صدوق ؒ کو یقین منقولہ مضمون کے ساتھ متصل بعض خاص قرائن کی وجہ سے پیدا ہوا ہو، اور اگر ہم ان قرائن سے واقف ہوتے تو وہ ہمارے لیے یقین کا باعث نہ بنتے اور ہم ان کے باطل ہونے کا حکم دیتے۔

تمرینات

س۱: حدیث کی چار اقسام کون سی ہیں؟ انہیں مکمل وضاحت کے ساتھ بیان کریں۔

س۲: قدیم فقہاء کی حدیث کی تقسیم اور علامہ ؒ کی تقسیم میں کیا فرق ہے؟

س۳: اخباریوں نے چارگانہ تقسیم کو کیوں رد کیا ہے؟

س۴: کہا گیا ہے کہ صحیح روایت کے خلاف شہرتِ فتوائیہ اسے حجیت سے ساقط کر دیتی ہے۔ اس سے کیا مراد ہے؟

س۵: شہرتِ فتوائیہ سے مخالفت کی وجہ سے صحیح روایت حجیت سے ساقط ہو جاتی ہے اس بات پر ہم کس طرح سے دلیل قائم کریں گے؟

س۶: مشہور کے اعراض سے روایت کے حجّیت سے ساقط ہونے کے لیے دو شرطیں ہیں۔ ان دونوں کو بیان کریں۔

س۷: روایت کی صحت جس حد تک زیادہ ہوتی جاتی ہے، مشہور کے اعراض کی وجہ سے کیوں اتنی ہی کمزور ہوتی جاتی ہے؟

س۸: متقدمین کی جماعت کا کسی روایت سے اعراض اسے اعتبار سے ساقط کر دیتا ہے، لیکن ۔۔۔ عبارت مکمل کریں۔

س۹: خبرِ عادل اور خبرِ ثقہ میں کیا فرق ہے؟

س۱۰: صرف خبر عادل کی حجیت کا کون قائل ہیں؟

س۱۱: خبرِ ثقہ کی حجیت پر اور عدالت شرط نہ ہونے پر کیا دلیل ہے؟

س۱۲: کہا جاتا ہے کہ آیتِ نباء غیر عادل ثقہ کی خبر کے حجّت نہ ہونے پر دلالت کرتی ہے۔ ہم اس کا کیسے جواب دیں گے؟

س۱۳: کیا آیتِ نباء غیر عادل ثقہ کی خبر کے حجّت نہ ہونے پر اپنے منطوق کے ذریعہ دلالت کرتی ہے یا اپنے مفہوم کے ذریعہ؟

س۱۴: خبر ثقہ اور خبر موثوق بہ میں کیا فرق ہے؟

س۱۵: کیا شیخ اعظم ؒ خبرِ ثقہ کو حجت مانتے ہیں یا خبر موثوق بہ کو؟

س۱۶: وثوق و اطمینان کے حصول کی شرط کے بغیر خبرِ ثقہ کی حجیت پر کیا دلیل ہے؟

س۱۷: سید خوئی ؒ نے خبرِ حسن کی حجیت پر کس انداز سے استدلال کیا ہے؟ اور ہم اس دلیل پر کیسے اشکال کریں گے؟

س۱۸: خبرِ ضعیف کا شہرتِ فتوائیہ کے ذریعہ تدارک کا کیا مطلب ہے؟

س۱۹: خبر ضعیف کا شہرت کے ذریعہ تدارک ہونے کے مسئلے کی بحث کیوں اہم ہے؟

س۲۰: جبران و تدارک کا مسئلہ علمِ رجال کی ضرورت پر کیسے اثر انداز ہوتا ہے؟

س۲۱: خبر ضعیف کا شہرت سے تدارک ہونے پر پہلی دلیل کی وضاحت کریں اور سید خوئی ؒ نے اس پر کس انداز سے اشکال کیا ہے؟

س۲۲: تدارک پر دوسری دلیل اور اس پر اشکال کی وضاحت کریں۔

س۲۳: تدارک پر تیسری دلیل کی وضاحت کریں۔ اور اسے کس مسئلے کا سامنا ہے؟

س۲۴: خبرِ مضمر سے کیا مراد ہے؟

س۲۵: اس تفریق کو بیان کریں جسے بہت سے بزرگ علماء نے مضمرات کی حجیت میں اپنایا ہے۔

س۲۶: اس بیان کی وضاحت کریں جس سے ہم تمام مضمرات کی حجیت کو بغیر کسی تفریق کے ثابت کرنے کے لیے وابستہ ہوئے ہیں۔

س۲۷: روایات میں ضمیر کے استعمال کا سبب کیا ہے؟

س۲۸: ضمیر کے استعمال کے سبب کو جاننا تمام مضمرات کی حجیت کے حکم میں کیسے مددگار ثابت ہوتا ہے؟ اور ہم اس پر کیسے اشکال کریں گے؟

س۲۹: خبرِ مرسل کیا ہے؟

س۳۰: مراسیل کی حجیت کے باب میں پہلا قول بیان کریں۔ اور اس پر کیسے استدلال کیا جاتا ہے؟

س۳۱: مراسیل کی حجیت کے باب میں دوسرے قول کو اس کی تشریح کے ساتھ واضح کریں اور ہم اس تشریح پر کیسے اشکال کریں گے؟

س۳۲: مراسیل کی حجیت میں تیسرے قول کو اس کی تشریح کے ساتھ بیان کریں۔

س۳۳: مراسیل کی حجیت میں چوتھے قول کو اس کی مکمل واضح تشریح کے ساتھ بیان کریں۔

س۳۴: مراسیل کی حجیت کے چوتھے قول پر ہم کس انداز سے اشکال کریں گے؟

س۳۵: شیخ حر عاملی ؒ نے ابواب الخلل الواقع فی الصلاۃ کے باب ۲۳ میں حدیث ۱ میں یہ نص بیان کی ہے:

" محمد بن الحسن باسناده عن احمد بن محمد عن احمد بن محمد بن ابی نصر عن حماد بن عیسی عن حریز بن عبدالله عن زراره قلت لابی عبدا لله علیه السلام ۔۔۔ "

کیا مذکورہ سند مکمل و درست ہے؟ اسے اچھی طرح واضح کریں۔

س۳۶: اور اسی باب میں حدیث ۲ میں یہ نص بیان کی ہے:

" و باسناد ہ عن الحسین ابن سعید عن النضر عن محمد بن ابی حمز ہ عن عبد الرحمن بن الحجاج و علی جمیعا عن ابی ابرا ہ یم علی ہ السلام فی ۔۔۔ "

کیا مذکورہ سند مکمل و درست ہے؟ اور سند میں وارد " جمیعا" کے لفظ سے کیا مراد ہے اسے واضح کریں۔

س۳۷: کیا اسی سابقہ باب میں مذکور حدیث ۳ کی سند مکمل و درست ہے؟

فصل سوم

بعض حدیث کی کتابوں کے بارے میں نظریات

حدیث کی کتابوں میں سے ہر کتاب کے بارے میں بات کرنے سے پہلے ہم ایک اہم دعوے کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو اخباریوں کی طرف منسوب ہے اور جسے اصولیوں میں سے بعض نے جزوی طور پر اختیار کیا ہے۔

وہ دعویٰ یہ ہے: کہ کتب اربع کی تمام احادیث قطعی طور پر صحیح اور قابل اعتبار ہیں، اور ان کی اسناد کے رجال میں غور و فکر کی گنجائش نہیں ہے، بلکہ سزاوار ہے کہ اس میں مذکور ہر روایت پر بلا توقف عمل کیا جائے۔

اور اس دعوے کی صحت کو ثابت کرنے کے لیے کبھی ان تعبیرات سے استدلال کیا جاتا ہے جو ان کتابوں کے مقدمے میں وارد ہوئی ہیں، جن سے یہ بات سمجھی گئی کہ ان کتابوں کے مؤلفین نے ان میں مذکور تمام راویوں کی توثیق کی ہے۔

اور اس کی وضاحت ہر ایک کتاب کے بارے میں گفتگو کرتے وقت آئےگی۔

اور کبھی ان وجوہات سے تمسک کیا جاتا ہے جو کتب اربعہ میں مشترک ہیں اور بعض سے مخصوص نہیں ہیں، مثلاً وہ وجوہات جن سے صاحب وسائل ؒ نے تمسک کیا ہے، اور وہ ۲۲ وجوہات ہیں جن کا ذکر انہوں نے ان بعض فوائد میں کیا ہے جنہیں انہوں نے اپنی کتاب کے آخر میں درج کیے ہیں۔

اور شاید ان وجوہات میں سب سے قوی پہلی وجہ ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ائمہ علیہم السلام کے اصحاب نے محمدون ثلاثہ (تین محمد: شیخ کلینی ؒ، شیخ صدوق ؒ اور شیخ طوسی ؒ) کے زمانے تک احادیث کو ضبط، تدوین اور محفوظ کے لیے خود کو بہت مشقت میں ڈالا اور محمدون نے بھی اپنا کردار ادا کرتے ہوئے ان احادیث کو اپنی چاروں کتابوں میں تدوین کیا۔

اور یہ پختہ اہتمام عادتاً ان کتابوں میں درج احادیث کے صدور کے بارے میں علم و یقین پیدا کر دیتا ہے۔

اور اس اہتمام و انتظام کے کئی شواہد ہیں: جب شلمغانی نے کتاب " التکلیف" لکھی تو جلیل القدر شیخ، ناحیہ مقدسہ کے سفیر حسین بن روح رحمہ اللہ نے کہا: تم لوگ وہ کتاب میرے لیے طلب کرو تاکہ میں اسے دیکھوں، چنانچہ انہوں نے اسے شروع سے آخر تک پڑھا اور کہا: اس میں کوئی چیز نہیں مگر یہ کہ وہ ائمہ علیہم السلام سے روایت کی گئی ہے، سوائے دو یا تین مقامات کے کہ وہ ان پر جھوٹ باندھا گیا ہے۔

بلکہ خود اسی جلیل القدر شیخ نے جب اپنی مشہور کتاب " کتاب التأدیب" لکھی تو اسے قم کے مدرسے بھیجا، اور وہاں کے فقہاء سے اس پر نگاہ کرنے کی درخواست کی۔ چنانچہ انہوں نے اس کی ہر چیز کی تائید کی سوائے اس کے جو انہوں نے ذکر کیا تھا کہ زکاتِ فطرہ نصف صاع طعام کے برابر ہے، جبکہ مناسب ایک صاع طعام ہے۔

اور یونس بن عبد الرحمن کی تالیف کردہ کتاب " یوم و لیلة" امام ابو محمد صاحب العسکر علیہ السلام کے سامنے پیش کی گئی تو آپ ؑ نے اس پر اپنے اس قول سے تعریفی تبصرہ فرمایا: اللہ اسے قیامت کے دن ہر حرف کے بدلے ایک نور عطا فرمائے۔

یہ بعض شواہد ہیں جو اصحاب کی جانب سے احادیث کے اہتمام و انتظام پر دلالت کرتے ہیں۔

شیخ اعظم (انصاری) ؒ نے اپنی کتاب " الرسائل" میں " حجیت خبر" کی بحث میں ان شواہد کا ایک وافر حصہ نقل کیا ہے، تو رجوع کریں۔

حر عاملی ؒ نے جو کثیر وجوہات ذکر کی ہیں ان میں سب سے اہم یہی وجہ ہے، ورنہ باقی وجوہات پر واضح غور و تأمّل کی گنجائش ہے۔

مثال کے طور پر، وہ تیسری وجہ میں کہتے ہیں: بےشک ربانی حکمت اور اہلِ بیت علیہم السلام کی شیعوں پر شفقت کا تقاضا یہی تھا کہ ان کے لیے ایسے قابلِ اعتماد اصول فراہم کیے جائیں جن پر وہ زمانۂ غیبت میں عمل کر سکیں، اور وہ اصول دراصل وہی مصادر ہیں جن پر اعتماد کیا گیا اور جن سے کتاب وسائل کو جمع کیا گیا ہے۔

اسی طرح جو انہوں نے ساتویں وجہ میں ذکر کیا ہے کہ اگر اس کی کتاب کی احادیث صحیح نہ ہوں تو اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلےگا کہ شیعہ قیامت کے دن تک گمراہی میں مبتلا رہیں، حالانکہ معمول کا تقاضا اس کے بطلان پر دلالت کرتا ہے، اور ائمۂ اہلِ بیت علیہم السلام اس پر ہرگز راضی نہیں ہو سکتے۔

اسی طرح جو انہوں نے بارہویں وجہ میں ذکر کیا ہے کہ حدیث کی چارگانہ تقسیم غیر شیعہ کتابوں سے لی گئی ہے، اور ہمیں ان کے طریقے سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے۔

اور اسی طرح جو انہوں نے سولہویں وجہ میں ذکر کیا ہے کہ چارگانہ تقسیم علامہ ؒ اور ابن طاؤس ؒ نے ایجاد کی ہے، اور یہ صرف اجتہاد اور ظنّ ہے، اور ہمیں ظنّ سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اور ان (ائمہ) علیہم السلام سے وارد ہوا ہے: بدترین امور وہ ہیں جو نئے ایجاد کیے گئے ہوں، اور تم پر لازم ہے کہ پرانی و اصلی باتوں کو لازمی طور پر پکڑے رہو۔

یہ تو صاحب الوسائل ؒ کے متعلق ہے۔

جہاں تک دوسروں کا تعلق ہے، تو سید بحر العلوم ؒ اور دیگر ایک جماعت نے ایک اور دعوے کا اضافہ کیا ہے، اور وہ یہ ہے کہ وہ حدیثی اصول و بنیادی کتابیں جن سے محمدون ثلاثہ نے اپنی کتابوں کی احادیث نقل کی ہیں وہ متواتر ہیں اور ان کی اپنے مؤلفین سے نسبت معلوم ہے، جیسے آج کتب اربعہ کی نسبت ان کے مؤلفین سے معلوم ہے۔

اور انہوں نے اس پر یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ محمدون ثلاثہ اور ان اصول کے مؤلفین کے درمیان صحیح سلسلہ سند کے وجود کی ضرورت نہیں ہے، لہذا اس سلسلہ سند میں بعض ایسے مشائخ اجازہ کا وجود جن کی وثاقت ثابت نہیں ہے - جیسے احمد بن محمد بن حسن بن ولید اور احمد بن محمد بن یحییٰ اور علی بن محمد بن زبیر قرشی اور حسین بن ابی جید اور احمد بن عبدون اور ۔۔۔ - روایت کو قبول کرنے میں مانع نہیں ہوگا۔