‌دروس تمهیدیة فی القواعد الرجالیة

‌دروس تمهیدیة فی القواعد الرجالیة0%

‌دروس تمهیدیة فی القواعد الرجالیة مؤلف:
: مصنف/ مؤلف
: مصنف/ مؤلف
زمرہ جات: علم رجال

‌دروس تمهیدیة فی القواعد الرجالیة

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

مؤلف: مصنف/ مؤلف
: مصنف/ مؤلف
: مصنف/ مؤلف
زمرہ جات: مشاہدے: 7557
ڈاؤنلوڈ: 304

تبصرے:

‌دروس تمهیدیة فی القواعد الرجالیة
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 106 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 7557 / ڈاؤنلوڈ: 304
سائز سائز سائز
‌دروس تمهیدیة فی القواعد الرجالیة

‌دروس تمهیدیة فی القواعد الرجالیة

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

کتب اربعہ میں سب کچھ صحیح نہیں ہے

صاحب الوسائل ؒ اور ان کے پیروکاروں کی کتب اربعہ میں موجود تمام احادیث کی صحت کے دعوے کی تشریح سے واقف ہونے کے بعد، ہم اس پر درج ذیل طریقے سے اشکال کرتے ہیں:

۱۔ اصحاب کی جانب سے روایات کے بارے میں کیا گیا اہتمام و انتظام تمام احادیث کی صحت کا یقین پیدا نہیں کرتا، بلکہ اس کا زیادہ سے زیادہ تقاضا یہ ہے کہ اس بات کا علم و یقین حاصل ہوتا ہے کہ ان میں بہت سی روایات صحیح ہیں، کیونکہ عام طور سے یہ ممکن نہیں ہے کہ یہ تمام مشقتیں بےنتیجہ اور بےثمر ضائع ہو جائے۔

۲۔ خود محمدون ثلاثہ کو بھی اپنی کتابوں میں درج تمام احادیث کی صحت کا قطع و یقین نہیں تھا، تو پھر دوسروں کے لیے یہ مذکورہ قطع کیسے ثابت ہو سکتا ہے؟

اور جو بات اس پر دلالت کرتی ہے کہ انہیں قطع حاصل نہیں تھا وہ ان کا کتب اربعہ کی بعض روایات پر بحث و اشکال کرنا ہے۔ چنانچہ شیخ طوسی ؒ " الاستبصار" کے دوسرے حصے میں حدیث ۲۳۰، ۲۳۱ میں کہتے ہیں: " مذکورہ دونوں احادیث کا راوی عمران زعفرانی ہے اور وہ مجہول ہے، اس کے علاوہ ان دونوں کی سند میں بعض ضعیف لوگ بھی ہیں۔

اور تیسرے حصے میں حدیث ۹۳۳، ۹۳۵ میں وہ کہتے ہیں: " ان روایات میں سب سے پہلی بات یہ ہے کہ ان میں سے دو روایتیں، اور وہ آخری دو روایتیں ہیں، وہ مرسل ہیں۔ اور مراسیل کے ذریعے مسند روایات پر اعتراض نہیں کیا جاتا جیسا کہ ہم نے ایک سے زائدہ مقامات یہ بیان کیا ہے۔ اور جہاں تک پہلی روایت کا تعلق ہے تو اس کا راوی ابو سعید ادمی - سہل بن زیاد - ہے، اور وہ روایات کے ناقدین کے نزدیک انتہائی ضعیف ہے " ۔

اور شیخ مفید ؒ نے ایسی روایات بیان کی ہے جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ ماہ رمضان کبھی ناقص (۲۹ کا) نہیں ہوتا، جو " الکافی" اور " الفقیہ" میں موجود ہیں، اور انہوں نے سند کے لحاظ سے ان روایات پر اشکال کیا ہے۔

اور شیخ صدوق ؒ نے " باب الوصي يمنع الوارث" میں کہا: " میں نے یہ حدیث صرف محمد بن یعقوب کی کتاب میں پائی ہے اور میں نے اسے صرف ان کے سلسلہ سند سے روایت کیا ہے " ۔

اور یہ تعبیر صرف اسی صورت میں درست ہے جب کتبِ اربعہ کی تمام روایات کے غیر قطعی ہونے کو بنیاد بنایا جائے، ورنہ ان روایات کے متعدد طرق سے منقول ہونے یا بالخصوص کلینی ؒ کے ذریعے روایت کیے جانے کا کوئی اثر و فرق باقی نہیں رہتا۔

اور التهذيب ج ۹ ص ۴۰ میں شیخ ؒ ایک روایت " الکافی" سے نقل کرتے ہیں جس کی انتہاء ابو سعید خدری تک ہے، پھر اپنے اس قول سے اس پر تبصرہ کرتے ہیں: " اس حدیث میں گدھے کے گوشت کی حرمت کی جو بات موجود ہے وہ اہل سنت کے نظریہ کے مطابق ہے۔ اور جن راویوں نے اس روایت کو روایت کیا ہے ان میں سے اکثر اہل سنت ہیں۔ اور جس کا نقل فقط ان ہی سے مخصوص ہو اس کی طرف توجہ نہیں دی جائےگی " ۔

۳۔ اگر ہم یہ تسلیم بھی کر لیں کہ جن اصول و بنیادی کتابوں سے کتب اربعہ میں روایات نقل کی گئی ہیں وہ تمام قطعی الصدور ہیں یا ان کے مؤلفین سے نسبت میں متواتر ہیں، تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ معتبر سلسلہ سند کی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ کتاب کے اصل کا قطعی ہونا اور اس کی اپنے مؤلف سے نسبت کا متواتر ہونا، اس بات کو لازم نہیں کرتا کہ اس کے تمام نسخے قطعی ہو۔ مثال کے طور پر، " الکافی" کی نسبت کلینی ؒ کی طرف قطعی ہے، لیکن اس کا یہ لازمی نتیجہ نہیں کہ " الکافی" کے نسخوں میں سے ہر نسخہ قطعی ہے اور اس میں کلینی ؒ کے لکھے ہوئے اصل سے کوئی اختلاف نہیں، بلکہ یہ بھی ممکن ہے کہ بعض نسخے اضافہ، کمی یا تحریف پر مشتمل ہو، لہٰذا ہمیں - اس صورت میں - ان خطرات سے بچنے کے لیے خود صاحبِ کتاب تک ایک معتبر سلسلہ سند کی ضرورت ہے۔

دوسرے الفاظ میں: خود کتابوں کا متواتر ہونے کا مطلب ان کے نسخوں کا متواتر ہونا نہیں ہے۔

اور صاحبِ کتاب کا اس کی طرف سے اس کتاب کو روایت کرنے کی اجازت کا فائدہ اس مقام میں ظاہر ہوتا ہے۔

پس صاحبِ کتاب اپنی کتاب کا ایک نسخہ اپنے شاگرد کو دیتا ہے اور کہتا ہے کہ میں تمہیں اس نسخہ کی روایت میری طرف سے بیان کرنے کی اجازت دیتا ہوں، اور شاگرد اپنے موقع پر اسے اپنے شاگرد کو دیتا ہے اور اسے اس سے روایت کرنے کی اجازت دیتا ہے، اور تیسرا اسے چوتھے کو دیتا ہے۔ اور اسی طرح ہر ایک وہ نسخہ دوسرے کو دیتا ہے اور اس نسخے کی روایت اس کی طرف سے بیان کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ اور اس طرح مؤلّف کی کتاب کا ایک نسخہ ہم تک ہر قسم کی خرابیوں سے محفوظ پہنچ جاتا ہے۔ اور اگر ہر سابق کی اجازت کے ساتھ لاحق کو منتقل ہونے والی نسخے کی یہ سلسلہ وار روایت نہ ہوتی تو ہم اس نتیجے تک نہیں پہنچ سکتے تھے۔

۴۔ اگر کتب اربعہ میں موجود تمام احادیث قطعی ہوتی تو شیخ طوسی ؒ اور صدوق ؒ کو اپنی کتابوں کے آخر میں " المشیخہ" درج کرنے اور ان اصول تک اپنا سلسلہ سند ذکر کرنے کی ضرورت نہ ہوتی جن سے انہوں نے احادیث نقل کی ہیں۔ اور شیخ طوسی ؒ نے " مشیخہ" کے مقدمے میں جو یہ بیان کیا ہے کہ میں یہ " مشیخہ" اس لیے ذکر کر رہا ہوں تاکہ میری احادیث ارسال سے نکل کر اسناد کی طرف منتقل ہو جائے، اس کا بھی کوئی معنی نہ ہوتا۔

اور اگر یہ کہا جائے کہ ان کا سلسلہ سند ذکر کرنے کا مقصد برکت حاصل کرنے اور سند کو امام علیہ السلام سے متصل کرنے کے لیے تھا۔

تو ہم جواب دیں گے کہ اس بنیاد پر تو سلسلہ اسناد کی کثرت کی ضرورت نہیں ہے اور اصل کے مؤلف تک ایک سے زیادہ سلسلۂ اسناد ذکر کرنے کی بھی ضرورت نہیں ہے، بلکہ مناسب یہ تھا کہ اصل کے مؤلف تک ایک سلسلہ سند پر اکتفا کیا جاتا اور دوسرے سلسلہ سند کا ذکر کرنے کی ضرورت نہ ہوتی، کیونکہ برکت کا حصول ایک سلسلہ سند کے ذکر سے ہو جاتا ہے، جبکہ ہم دیکھتے ہیں کہ شیخ طوسی ؒ مثلاً بعض اصول تک ایک سے زیادہ سلسلہ اسناد ذکر کرتے ہیں۔

بلکہ ممکن ہے کہ ہم اس سے بڑھ کر کہے: کہ برکت کے خیال پر بنا رکھتے ہوئے تو سلسلہ اسناد کو ایک کتابچہ میں درج کرنے اور اسے مشیخہ کا نام دینے اور لوگوں کے سامنے پیش کرنے کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ مذکورہ مقصد کے حصول کے لیے سلسلہ اسناد کو ایک کاغذ پر درج کرنا اور شیخ ؒ یا صدوق ؒ کا اسے اپنے پاس محفوظ رکھنا کافی ہے، بلکہ اسے کاغذ پر درج کرنے کی بھی ضرورت نہیں اور اسے دل میں محفوظ رکھنا ہی کافی ہے۔

سند کو امام علیہ السلام تک اس طرح پہنچانے سے بھی برکت حاصل ہو جاتی ہے، اور اسے مشیخہ کے عنوان سے کتاب میں درج کرنا کاغذ اور روشنائی کا ضیاع اور بلا جواز دونوں کا اسراف ہے۔

اور ہم جو کہہ رہے ہیں اسے مزید واضح کرنے کے لیے آج کی صورتحال پر غور کریں، اگر فرض کریں کہ کوئی شخص اپنی سند امام علیہ السلام سے متصل کر کے برکت حاصل کرنا چاہتا ہے تو کیا اس کے لیے یہ صحیح ہے کہ وہ ایک کتاب لکھے جس میں وہ شیخ آغا بزرگ تہرانی یا سید مرعشی نجفی قدس سرہما تک اپنا سلسلہ اسناد ذکر کرے اور پھر ان دونوں کے شیخ طوسی ؒ تک کے سلسلہ اسناد کو بھی ذکر کرے؟ صاحبانِ عقل یقینی طور پر اس پر ہنسیں گے اور اسے کہیں گے کہ ان سلسلہ اسناد کو اپنے دل میں یا اپنے لیے ایک کاغذ پر محفوظ رکھو۔

۵۔ نجاشی ؒ نے ضعفاء سے روایت کرنے سے پرہیز کیا ہے، جیسا کہ ان کی کتاب کے بعض مقامات پر ذکر کیا گیا ہے، اور اگر ان کتابوں کا جن سے یہ روایات نقل کی گئی ہیں، متواتر ہونا فرض کر لیا جائے، تو پھر یہ بات بےمعنی ہو جاتی ہے۔

اور احمد بن محمد بن عیسیٰ نے — جیسا کہ نجاشی ؒ نے نقل کیا ہے — حسن بن علی وشّاء سے مطالبہ کیا کہ وہ اسے ابان احمر کی کتاب نکال کر دے اور یہ بھی چاہا کہ وہ اسے براہِ راست اس سے سنے، تو اس پر وشّاء نے اس کی جلدبازی کو ناپسند کیا اور اس سے کہا: جاؤ، پہلے اس کتاب کی نقل تیار کرو، پھر اسے مجھ سے سنو۔ احمد نے جواب دیا: مجھے زمانے کے حوادث پر اطمینان نہیں ہے۔

ان کتابوں کے متواتر ہونے کے بعد، ان سے براہِ راست سماعت کی ضرورت اور احمد بن محمد بن عیسیٰ کا یہ عذر پیش کرنا کہ " مجھے زمانے کے حوادث کا خوف ہے " — اس کی کوئی معقول وجہ باقی نہیں رہتی۔

۶۔کتب اربعہ میں ایسی احادیث بھی ہیں جن کے صدور کی تصدیق کرنا ممکن نہیں ہے۔ مثال کے طور پر، " الکافی" میں کتاب الطلاق میں یہ ذکر کیا گیا ہے کہ امیر المؤمنین علیہ السلام منبر پر تشریف لائے اور فرمایا: میرے بیٹے حسن علیہ السلام سے شادی نہ کرنا، کیونکہ وہ نکاح کرتا اور طلاق دیتا ہیں " (۱) ۔

ہم کتاب الکافی کی تقدیس اس بھاری قیمت پر قبول نہیں کرتے کہ اس میں ہمارے امام حسن علیہ السلام کی عزت کم ہو۔

اور " الکافی" میں ابو بصیر سے، انہوں نے ابو عبد اللہ علیہ السلام سے، اللہ عز و جل کے اس قول کے بارے میں بھی روایت ہے :

" «اور بےشک یہ ایک ذکر ہے تمہارے لیے اور تمہاری قوم کے لیے، اور عنقریب تم سے اس کے بارے میں سوال کیا جائے گا»۔ رسولِ خدا صلّى اللّه علیہ و آلہ ذکر ہیں، اور آپ ؐ کے اہلِ بیت علیہم السّلام وہ ہیں جن سے سوال کیا جائے گا، اور یہی وہ ہیں جو اہلِ ذکر ہیں " (۲) ۔

حوالے :

(۱)- الكافي ۶: ۵۶

(۲)- الجزء الأول من اصول الكافي: ص ۲۱۱ حديث ۴

اس قسم کی روایت کا صدور ایسا ہے جو ترکیب کے اختلال کی وجہ سے قطعی طور پر باطل ہے۔

اور اگر یہ کہا جائے کہ ایسی احادیث کے ظاہری معنی سے دست بردار ہونا اور ان کی کسی نہ کسی طرح کی تاویل کرنا ضروری ہے، مثلاً پہلی حدیث کی تاویل یہ کی جائے کہ کوفہ کے بعض خاندان امام حسن علیہ السلام کی شادی اپنی بعض بیٹیوں سے کرانے کی کوشش میں تھے اور امیر المؤمنین علیہ السلام اپنے بیٹے کو ان بیٹیوں سے بچانا چاہتے تھے، چنانچہ وہ منبر پر تشریف لائے اور اپنے بیٹے کی حفاظت کے لیے فرمایا: میرے بیٹے حسن ؑ سے شادی نہ کراؤ، کیونکہ وہ کثرت سے نکاح کرتے ہیں اور طلاق دیتے ہیں۔

تو ہم جواب دیں گے کہ صدور کو برقرار رکھنے اور ظہور کو ختم کرنے میں کیا فائدہ ہے؟!! اہلِ بیت علیہم السلام اور ان کی روایت کی تقدیس لازمی طور سے ہمیں اس بات کی دعوت دیتی ہے کہ ہم صدور اور ظہور دونوں لحاظ سے ان کی حفاظت کریں، لیکن ان کے صدور کو تسلیم کرنا اور ان کے ظہور پر عمل نہ کرنا درحقیقت اہلِ بیت علیہم السلام کی روایات سے دست بردار ہونا ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم ان پر عمل نہیں کر رہے ہیں۔

خصوصی اشکالات

کتب اربعہ میں موجود تمام احادیث کی قطعیت کے دعوے پر یہ کچھ اشکالات ہیں اور یہ عمومی اشکالات ہیں۔

اور ہم ہر ایک کتاب کے بارے میں بات کرتے وقت ان خاص اشکالات کا ذکر کریں گے جو ہر ایک سے متعلق ہیں۔

مسترد شدہ مستندات

کبھی کتب اربعہ میں موجود تمام احادیث کی قطعیت کے دعوے کی تصدیق کے لیے بعض روایات سے تمسک کیا جاتا ہے، جیسے علی بن حنظلہ کی روایت امام صادق علیہ السلام سے: " ہم سے روایت کرنے والوں کے مقامات کو ہم سے ان کی روایات کی مقدار کی بنیاد پر پہچانو "( الكافي ۱: ۵۰ )

اور محمد بن حسن بن ابی خالد کی روایت ہے، میں نے عرض کیا ابو جعفر الثانی علیہ السلام سے :

" میں آپ پر فدا، انہوں نے ابو جعفر اور ابو عبد اللہ علیہما السلام سے روایت کیا ہے اور تقیہ شدید تھا تو انہوں نے اپنی کتابیں چھپا لیں اور ان سے روایت نہیں کی گئی، پھر جب وہ وفات پا گئے تو کتابیں ہم تک پہنچیں، تو آپؑ نے فرمایا:

" حدّثوا بها فإنها حق"

(انہیں بیان کرو کیونکہ یہ حق ہیں)۔( الكافي۱: ص ۵۳ )

مذکورہ روایات کی دلالت میں غور و تأمّل واضح ہے، کیونکہ اگرچہ وہ اجمالی طور پر روایات کے نقل کے حجّت ہونے اور اس کے قبول کرنے کے وجوب پر دلالت کرتی ہیں ـ اور ورنہ اس بات کا کوئی مطلب نہ ہوتا کہ کسی شخص کا مقام و مرتبہ اس کی روایت کی مقدار کے مطابق قرار دیا جائے، اور نہ ہی اس بات کا کوئی مفہوم ہوتا کہ انہیں ان احادیث کو

" حدّثوا بها فإنها حق"

کہہ کر نقل کرنے پر ابھارا جائے ـ لیکن وہ ہر نقل کے حجّت ہونے پر دلالت نہیں کرتیں۔ اور کیا یہ احتمال ہے کہ اہلِ بیت علیہم السلام ہمیں ہر روایت کی پیروی کا حکم دیں، جس میں فاسق کی روایت بھی شامل ہو، جبکہ قرآن کریم کہتا ہے: اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو تحقیق کرو۔

اور اگر یہ کہا جائے کہ آپ علیہ السلام کا قول " انہیں بیان کرو کیونکہ یہ حق ہیں " متقدمین اصحاب کی کتابوں میں موجود تمام احادیث کی حقانیت پر دلالت کرتا ہے۔

تو جواب یہ ہوگا: کہ روایت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو کچھ بھی امامین باقرین علیہما السلام سے صادر ہوا اور کتابوں میں درج ہوا وہ حق ہے۔ اور یہ ایک صحیح بات ہے جسے ہم تسلیم کرتے ہیں۔ اور کیا یہ امکان ہے کہ کوئی شیعہ اپنے ائمہ علیہم السلام سے صادر شدہ باتوں کی حقانیت کو تسلیم نہ کرے !!!

لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہم یہ کیسے ثابت کریں کہ کتبِ اربعہ میں موجود تمام احادیث ائمہ علیہم السلام سے صادر ہوئی ہیں اور وہ حق ہیں اور انہیں بیان کرنا واجب ہے؟ سابقہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو کچھ ائمہ علیہم السلام سے صادر ہوا ہے وہ حق ہے نہ کہ ہر وہ چیز جو کتبِ اربعہ میں موجود ہے وہ حق ہے اور ائمہ علیہم السلام سے صادر ہوا ہے۔

برعکس دعویٰ

اور ممکن ہے کہ ذہن میں اس کے برعکس ایک دوسرا دعویٰ پیدا ہو، اور وہ یہ ہے کہ شیخ صدوق ؒ اور طوسی ؒ نے اپنی کتابوں میں جو کچھ درج کیا ہے وہ حجت نہیں ہے اس بنا پر کہ مشیخہ میں مذکور سلسلہ اسناد کتابوں کے مؤلفین تک کے سلسلہ اسناد ہیں، اور دوسرے الفاظ میں اصل کتاب تک کے، نہ کہ شیخ طوسی ؒ یا صدوق ؒ کے پاس موجود اس نسخے تک کے جس سے وہ اپنی کتاب میں احادیث نقل کرتے ہیں۔ اور ایسی صورت میں مذکورہ روایات مرسل ہو جاتی ہیں اور بابِ علم اور علمی منسدّ و بند ہونے کا قول لازم آتا ہے۔

اور اس کا رد یہ ہے:-

۱۔ اس دعوے کا لازمہ یہ ہے کہ شیخ ؒ کا مشیخہ میں مذکور سلسلہ اسناد درج کرنا لغو (بے معنی) ہے اور یہ ان کی طرف سے وقت، روشنائی اور کاغذوں کا ضیاع ہے۔ اور برکت کی خاطر ایسا کیا ہو یہ خیال باطل ہے کیونکہ برکت کے لیے ان کثیر سلسلہ اسناد کی ضرورت نہیں ہوتی۔

۲۔شیخ ؒ کا مشیخہ میں یہ قول کہ میں سلسلہ اسناد اس لیے ذکر کر رہا ہوں تاکہ احادیث ارسال سے نکل کر اسناد کی طرف منتقل ہو جائے، مذکورہ دعوے کو رد کرتا ہے۔

۳۔شیخ ؒ نے الفھرست میں علاء بن زرین کے حالات میں بیان کیا ہے کہ ان کی کتاب کے چار نسخے ہیں اور ہر نسخے کو ایک خاص سلسلہ سند سے روایت کیا گیا ہے، پھر ہر نسخے تک کا سلسلہ سند بیان کیا ہے۔

یہ اس بات پر دلیل ہے کہ ان کے جو سلسلہ اسناد ہیں وہ ان کے پاس موجود نسخے تک کے ہیں نہ کہ اصل کتاب تک کے۔

۴۔شیخ ؒ نے " الفھرست" میں شیخ مفید ؒ کا ذکر کرتے ہوئے اور ان کی کتابوں کا جائزہ لیتے ہوئے کہا: " ہم نے ان کی یہ تمام کتابیں ان سے سنیں، بعض ان کے سامنے پڑھی گئی اور بعض ہم نے ایک سے زائدہ دفعہ ان کے سامنے پڑھیں جبکہ وہ سن رہے تھے " ۔ اور یہ جملہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ تمام تر کوششیں ایک معیّن نسخے پر مرکوز تھیں جسے یا تو پڑھا جاتا تھا یا سنا جاتا تھا۔

۵۔شیخ ؒ نے ابن مہزیار کے حالات میں ان کی کتابوں تک اپنے سلسلہ اسناد کا ذکر کرنے کے بعد کہا: سوائے " کتاب المثالب" کے، کیونکہ عباس نے اس کا نصف علی بن مہزیار سے روایت کیا ہے۔

اور محمد بن حسن صفار کے حالات میں بیان کیا ہے کہ شیخ صدوق ؒ نے ان کی تمام کتابیں روایت کیں سوائے کتاب " بصائر الدرجات" کے۔

اور شلمغانی کے حالات میں بیان کیا: ہمیں ایک جماعت نے " کتاب التکلیف" کی خبر دی سوائے باب شہادت میں موجود ایک حدیث کے۔

ان کے علاوہ بھی ایسے کئی مواقع ہیں جہاں انہوں نے ایک حدیث یا ایک کتاب کا استثناء کیا ہے۔

مذکورہ استثناء اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ جو سلسلہ سند شیخ ؒ ذکر کرتے ہیں وہ اس نسخے تک کا سلسلہ سند ہے نہ کہ اصل کتاب تک کا، ورنہ ایک یا دو حدیثوں کے استثناء کی کوئی وجہ نہیں ہے۔

بےشک یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اجازت، قراءت یا سماعت کا تعلق ایک خاص نسخے سے ہوتا تھا، چنانچہ اس نسخے کی تمام احادیث کو یا تو پڑھا جاتا، یا سنا جاتا، یا ان کی اجازت دی جاتی، بغیر ایک یا دو حدیثوں پر اکتفا کیے۔

اور اسی طرح پوری ایک کتاب کو استثنا دینے کا کوئی معنی نہیں بنتا کیونکہ اگر شیخ ؒ کا سلسلہ (طریق) اصل کتاب تک پہنچتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کا سلسلہ (طریق) لازماً صاحبِ کتاب تک بھی پہنچتا ہے۔ اور جب شیخ ؒ کا سلسلہ صاحبِ کتاب تک ہے جیسے ابن مہزیار، تو پھر ان کی بعض کتابوں کو مستثنیٰ کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔

تمرینات

س۱: کہا گیا ہے کہ کتب اربعہ کی تمام احادیث قطعی طور پر قابل اعتبار ہیں۔ مذکورہ دعوے سے کیا مراد ہے؟ اور اس پر کیسے استدلال کیا جاتا ہے؟

س۲: وہ تیسری وجہ بیان کریں جس سے حر عاملی ؒ کتب اربعہ کی احادیث کی حجیت ثابت کرنے کے لیے وابستہ ہوئے ہیں۔

س۳: اس کی ساتویں وجہ بیان کریں۔

س۴: اس کی بارہویں وجہ بیان کریں۔

س۵: اس کی سولہویں وجہ بیان کریں۔

س۶: حدیثی اصول کے بارے میں سید بحر العلوم ؒ کا کیا دعویٰ ہے؟

س۷: سید بحر العلوم ؒ کے دعوے کا صاحب وسائل ؒ کے دعوے سے کیا ربط ہے؟

س۸: کتب اربعہ میں موجود تمام احادیث کی صحت کے دعوے پر پہلا اشکال بیان کریں۔

س۹: مذکورہ دعوے پر دوسرا اشکال بیان کریں۔

س۱۰: اس پر تیسرا اشکال بیان کریں۔

س۱۱: اس پر چوتھا اشکال بیان کریں۔

س۱۲: اس پر پانچواں اشکال بیان کریں۔

س۱۳: اس پر چھٹا اشکال بیان کریں۔

س۱۴: ایسے مسترد شدہ مستندات ہیں جن سے کتب اربعہ میں موجود تمام احادیث کی صحت ثابت کرنے کے لیے تمسّک کیا جاتا ہے۔ انہیں اشکال کے ساتھ بیان کریں۔

س۱۵: ذہن میں ایک شبہ پیدا ہو سکتا ہے جو یہ کہتا ہے کہ شیخ صدوق ؒ اور شیخ طوسی ؒ نے جو کچھ اپنی تین کتابوں میں قرار دیا ہے، وہ حجت نہیں ہے۔ اُس شبہ کو واضح کریں۔

س۱۶: اس شبہ پر پہلا اشکال بیان کریں۔

س۱۷: اس پر دوسرا اشکال بیان کریں۔

س۱۸: اس پر تیسرا اشکال بیان کریں۔

س۱۹: اس پر چوتھا اشکال بیان کریں۔

س۲۰: اس پر پانچواں اشکال بیان کریں۔

س۲۱: وسائل الشیعہ میں ابواب الخلل فی الصلاۃ کے باب ۱ کی حدیث ۱ کی طرف رجوع کریں اور اس کی سند کی حالت واضح کریں۔

کتاب "الکافی" کے بارے میں نظریات

کتاب " الکافی" جلیل القدر شیخ محمد بن یعقوب کلینی ؒ (۱) کی کتاب ہے جن کی کنیت ابو جعفر الاعور تھی اور ان کی وفات سن ۳۲۸ ہجری میں ہوئی تھی۔

انہوں نے اپنی باشرف کتاب بیس سال کی مدت میں تصنیف کی جیسا کہ نجاشی ؒ نے ان کے حالات میں نقل کیا ہے۔

اور بےشک اس جلیل القدر شیخ نے زمانۂ غیبتِ صغریٰ میں زندگی گزاری اور وہ ناحیہ مقدسہ کے عظیم سفیروں کے ہم عصر تھے۔ اور انہوں نے چوتھے سفیر یعنی علی بن محمد سمری کی وفات سے پہلے وفات پائی، کیونکہ یہ عظیم سفیر سن ۳۲۹ ہجری میں وفات پا گئے جبکہ کلینی ؒ کی وفات سن ۳۲۸ ہجری میں ہوئی۔ اور یہ بھی نقل کیا گیا ہے کہ ان کی وفات سن ۳۲۹ ہجری میں ہوئی تو اس حساب سے ان دونوں بزرگواروں کی وفات کا سال ایک ہی ہو جائےگا۔

حوالہ:

(۱)-"زبیر" کے وزن پر "کلین" ری کے قریب ایک بستی ہے۔ اور کہا گیا ہے کہ یہ "امیر" کے وزن پر ہے۔

اور بحرانی ؒ نے اپنی کتاب " لؤلؤۃ البحرین" میں سید ہاشم بحرانی ؒ سے، انہوں نے بعض ثقات سے نقل کیا ہے کہ بغداد کے کسی حاکم نے کلینی ؒ کے قبر کی عمارت دیکھی تو اس کے بارے میں پوچھا، تو اسے بتایا گیا کہ یہ کسی شیعہ کی قبر ہے۔ چنانچہ اس نے اس کے منہدم کرنے اور قبر کو کھودنے کا حکم دے دیا۔ جب قبر کھودی گئی تو دیکھا کہ کلینی ؒ کا جسم ان کے کفن میں تھا اور بالکل تغیر سے محفوظ تھا، ساتھ ہی ایک دوسرا ننھا بچہ بھی ان کے ساتھ کفن میں دفن تھا، جس کا جسم بھی بالکل تغیر سے محفوظ تھا۔ اس واقعہ کو دیکھ کر حاکم نے نہ صرف قبر کو دوبارہ بنا دیا، بلکہ اس کے اوپر گنبد بھی تعمیر کروایا۔

اور یہ بھی نقل کیا گیا ہے کہ بغداد میں کسی حاکم کو تعصب نے اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ امام کاظم علیہ السلام کی قبر مطہر کھودنے کا حکم دے۔ تو اس سے کہا گیا: یہاں ان کے (شیعوں کے) علما میں سے ایک آدمی یعنی کلینی ؒ دفن ہے، اُن کی قبر کھود کر ہی عبرت حاصل کر لو تو اس نے ان کی قبر کھودنے کا حکم دیا، تو انہیں اپنی ہیئت پر ایسا پایا گویا انہیں اسی گھڑی دفن کیا گیا ہو تو اس نے اس پر ایک عظیم گنبد بنانے کا حکم دیا اور وہ مقام ایک مشہور زیارت گاہ بن گیا۔

" " "

اور کتاب " الکافی" تین اقسام پر مشتمل ہے: کتاب الروضہ ، الاصول ، اور الفروع ۔

جہاں تک کتاب الروضہ کا تعلق ہے تو وہ ایک حصہ و جلد میں طبع ہوئی ہے۔ اور اس میں ائمہ علیہم السلام کے بعض خطبات اور مواعظ، اور ائمہ علیہم السلام اور دوسروں سے مربوط بعض تاریخی واقعات شامل ہیں۔

اور بعض(۱) نے بیان کیا ہے کہ جب کلینی ؒ نے اپنی کتاب (الکافی) کو مکمل کر لیا اور اس کی روایات کو ان کے متعلقہ ابواب میں مرتب کر دیا، تو اہلِ بیت علیہم السلام کے خطبات، ائمہ علیہم السلام کے رسائل، صالحین کے آداب اور حکیمانہ لطائف و اقوال جیسا بہت سا اضافی مواد باقی رہ گیا، جنہیں چھوڑنا مناسب نہ تھا تو انہوں نے ایک اور کتاب تالیف کی جس میں ان سب کو جمع کیا، اور اس کا نام " الروضہ" رکھا، کیونکہ روضہ (باغ) کھجور کی مختلف اقسام کے اگنے کی جگہ ہوتی ہے۔

حوالہ: (۱)- اور وہ ڈاکٹر حسین علی محفوظ ہیں، جن کا ایک بیان الکافی کی مقدمہ میں مذکور ہے۔

اور اس بارے میں بحث ہے کہ آیا کتاب " الروضہ" کلینی ؒ کی تالیف ہے یا نہیں، چنانچہ بعض نے یہ رائے دی ہے کہ یہ ابن ادریس ؒ کی تالیف ہے۔

اور شیخ نوری ؒ نے اپنی کتاب مستدرک میں ریاض العلماء ؒ سے، انہوں نے مولا خلیل قزوینی ؒ سے نقل کیا ہے کہ وہ یہی رائے رکھتے تھے، یعنی " الروضہ" ابن ادریس ؒ کی تالیف ہے۔ اور کبھی اسے شہید ثانی ؒ کی طرف بھی منسوب کیا جاتا ہے۔

شیخ نوری ؒ نے اسے رد کیا ہے، کیونکہ اکابرین نے واضح طور پر بیان کیا ہے کہ یہ کتاب کلینی ؒ کی تالیف ہے، جس کا اسلوب روضہ اور کافی کی دیگر کتابوں کے اسلوب سے ملتا جلتا ہے۔

اور اکابرین سے شاید ان کا مقصود نجاشی ؒ اور شیخ طوسی ؒ جیسے حضرات کی طرف اشارہ کرنا ہے، کیونکہ ان دونوں نے بیان کیا ہے کہ " الروضہ" کلینی ؒ کی تالیفات میں سے ہے تو پھر یہ ابن ادریس ؒ کی تالیف کیسے ہو سکتی ہے جو ان کے زمانہ کے کافی عرصہ بعد دنیا میں تشریف لائے؟

" " "

جہاں تک " الاصول" (اصول کافی) کا تعلق ہے تو یہ دو حصوں میں طبع ہوئی ہے، ہر حصہ چار کتابوں پر مشتمل ہے۔ چنانچہ پہلا حصہ کتاب " العقل و الجہل" پر مشتمل ہے جس میں بحث عقل اور جہل کے متعلق ہے، اور کتاب " فضل العلم " جس میں علم اور اس کی فضیلت کے متعلق بحث ہے، اور کتاب " التوحید" جس میں توحید کے متعلق بحث ہے، اور کتاب الحجہ اور اس میں ان موضوعات پر بحث کی جاتی ہے جو معصومین علیہم السلام سے متعلق ہیں، جیسے ان کے علم اور ان کی زندگی کی تاریخ اور دیگر امور جو ان سے وابستہ ہیں اس کے متعلق بحث۔

اور دوسرا حصہ کتاب " الایمان والکفر"، کتاب " الدعاء"، کتاب " فضل القرآن" ، اور کتاب " العشرہ" پر مشتمل ہے۔

جہاں تک " الفروع" (فروع کافی) کا تعلق ہے تو وہ پانچ حصوں میں طبع ہوئی ہیں، جو تمام فقہی فروع میں وارد احادیث پر مشتمل ہیں۔

" " "

اور شیعوں نے الکافی کو بہت بڑی اہمیت دی ہے، اور قدیم زمانے سے لے کر آج کے دن تک اس پر تحقیق، قراءت اور مطالعہ میں اپنی کوششیں یکجا کی ہیں۔

نجاشی ؒ کہتے ہیں: میں اُس مسجد میں جایا کرتا تھا جو مسجد لؤلؤی کے نام سے معروف ہے، اور یہ مسجد نفطویہ نحوی کی ہے۔ میں اس مسجد کے مالک کے پاس قرآن مجید پڑھا کرتا تھا، اور ہمارے کچھ ساتھی ابو الحسین احمد بن احمد کوفی کاتب کے پاس کتاب الکافی پڑھا کرتے تھے۔ (انہوں نے کہا کہ) تمہیں محمد بن یعقوب کلینی ؒ نے یہ حدیث بیان کی ہے، اور میں نے ابو الحسن عقرائی کو دیکھا کہ وہ یہ روایت اُن کے حوالے حوالے سے بیان کرتے ہیں۔

الکافی کی مجموعی احادیث جیسا کہ کہا گیا ہے اہل سنت کی صحاح ستہ کی مجموعی احادیث سے زیادہ ہیں، کیونکہ الکافی کی مجموعی احادیث ۱۶۱۹۹ ہیں جبکہ صحاح کی مجموعی احادیث ۹۴۸۳ ہیں۔

اور یہاں سے ہمیں مذکورہ کتاب کی عظمت اور اس کے مؤلف ؒ کی طرف سے کی گئی انتھک محنت کا اندازہ ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اُن کی ان کوششوں پر انہیں بہترین بدلہ عطا فرمائے، جس طرح وہ اپنے نیک بندوں کو جزا دیتا ہے۔