کتب اربعہ میں سب کچھ صحیح نہیں ہے
صاحب الوسائل ؒ اور ان کے پیروکاروں کی کتب اربعہ میں موجود تمام احادیث کی صحت کے دعوے کی تشریح سے واقف ہونے کے بعد، ہم اس پر درج ذیل طریقے سے اشکال کرتے ہیں:
۱۔ اصحاب کی جانب سے روایات کے بارے میں کیا گیا اہتمام و انتظام تمام احادیث کی صحت کا یقین پیدا نہیں کرتا، بلکہ اس کا زیادہ سے زیادہ تقاضا یہ ہے کہ اس بات کا علم و یقین حاصل ہوتا ہے کہ ان میں بہت سی روایات صحیح ہیں، کیونکہ عام طور سے یہ ممکن نہیں ہے کہ یہ تمام مشقتیں بےنتیجہ اور بےثمر ضائع ہو جائے۔
۲۔ خود محمدون ثلاثہ کو بھی اپنی کتابوں میں درج تمام احادیث کی صحت کا قطع و یقین نہیں تھا، تو پھر دوسروں کے لیے یہ مذکورہ قطع کیسے ثابت ہو سکتا ہے؟
اور جو بات اس پر دلالت کرتی ہے کہ انہیں قطع حاصل نہیں تھا وہ ان کا کتب اربعہ کی بعض روایات پر بحث و اشکال کرنا ہے۔ چنانچہ شیخ طوسی ؒ " الاستبصار" کے دوسرے حصے میں حدیث ۲۳۰، ۲۳۱ میں کہتے ہیں: " مذکورہ دونوں احادیث کا راوی عمران زعفرانی ہے اور وہ مجہول ہے، اس کے علاوہ ان دونوں کی سند میں بعض ضعیف لوگ بھی ہیں۔
اور تیسرے حصے میں حدیث ۹۳۳، ۹۳۵ میں وہ کہتے ہیں: " ان روایات میں سب سے پہلی بات یہ ہے کہ ان میں سے دو روایتیں، اور وہ آخری دو روایتیں ہیں، وہ مرسل ہیں۔ اور مراسیل کے ذریعے مسند روایات پر اعتراض نہیں کیا جاتا جیسا کہ ہم نے ایک سے زائدہ مقامات یہ بیان کیا ہے۔ اور جہاں تک پہلی روایت کا تعلق ہے تو اس کا راوی ابو سعید ادمی - سہل بن زیاد - ہے، اور وہ روایات کے ناقدین کے نزدیک انتہائی ضعیف ہے " ۔
اور شیخ مفید ؒ نے ایسی روایات بیان کی ہے جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ ماہ رمضان کبھی ناقص (۲۹ کا) نہیں ہوتا، جو " الکافی" اور " الفقیہ" میں موجود ہیں، اور انہوں نے سند کے لحاظ سے ان روایات پر اشکال کیا ہے۔
اور شیخ صدوق ؒ نے " باب الوصي يمنع الوارث" میں کہا: " میں نے یہ حدیث صرف محمد بن یعقوب کی کتاب میں پائی ہے اور میں نے اسے صرف ان کے سلسلہ سند سے روایت کیا ہے " ۔
اور یہ تعبیر صرف اسی صورت میں درست ہے جب کتبِ اربعہ کی تمام روایات کے غیر قطعی ہونے کو بنیاد بنایا جائے، ورنہ ان روایات کے متعدد طرق سے منقول ہونے یا بالخصوص کلینی ؒ کے ذریعے روایت کیے جانے کا کوئی اثر و فرق باقی نہیں رہتا۔
اور التهذيب ج ۹ ص ۴۰ میں شیخ ؒ ایک روایت " الکافی" سے نقل کرتے ہیں جس کی انتہاء ابو سعید خدری تک ہے، پھر اپنے اس قول سے اس پر تبصرہ کرتے ہیں: " اس حدیث میں گدھے کے گوشت کی حرمت کی جو بات موجود ہے وہ اہل سنت کے نظریہ کے مطابق ہے۔ اور جن راویوں نے اس روایت کو روایت کیا ہے ان میں سے اکثر اہل سنت ہیں۔ اور جس کا نقل فقط ان ہی سے مخصوص ہو اس کی طرف توجہ نہیں دی جائےگی " ۔
۳۔ اگر ہم یہ تسلیم بھی کر لیں کہ جن اصول و بنیادی کتابوں سے کتب اربعہ میں روایات نقل کی گئی ہیں وہ تمام قطعی الصدور ہیں یا ان کے مؤلفین سے نسبت میں متواتر ہیں، تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ معتبر سلسلہ سند کی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ کتاب کے اصل کا قطعی ہونا اور اس کی اپنے مؤلف سے نسبت کا متواتر ہونا، اس بات کو لازم نہیں کرتا کہ اس کے تمام نسخے قطعی ہو۔ مثال کے طور پر، " الکافی" کی نسبت کلینی ؒ کی طرف قطعی ہے، لیکن اس کا یہ لازمی نتیجہ نہیں کہ " الکافی" کے نسخوں میں سے ہر نسخہ قطعی ہے اور اس میں کلینی ؒ کے لکھے ہوئے اصل سے کوئی اختلاف نہیں، بلکہ یہ بھی ممکن ہے کہ بعض نسخے اضافہ، کمی یا تحریف پر مشتمل ہو، لہٰذا ہمیں - اس صورت میں - ان خطرات سے بچنے کے لیے خود صاحبِ کتاب تک ایک معتبر سلسلہ سند کی ضرورت ہے۔
دوسرے الفاظ میں: خود کتابوں کا متواتر ہونے کا مطلب ان کے نسخوں کا متواتر ہونا نہیں ہے۔
اور صاحبِ کتاب کا اس کی طرف سے اس کتاب کو روایت کرنے کی اجازت کا فائدہ اس مقام میں ظاہر ہوتا ہے۔
پس صاحبِ کتاب اپنی کتاب کا ایک نسخہ اپنے شاگرد کو دیتا ہے اور کہتا ہے کہ میں تمہیں اس نسخہ کی روایت میری طرف سے بیان کرنے کی اجازت دیتا ہوں، اور شاگرد اپنے موقع پر اسے اپنے شاگرد کو دیتا ہے اور اسے اس سے روایت کرنے کی اجازت دیتا ہے، اور تیسرا اسے چوتھے کو دیتا ہے۔ اور اسی طرح ہر ایک وہ نسخہ دوسرے کو دیتا ہے اور اس نسخے کی روایت اس کی طرف سے بیان کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ اور اس طرح مؤلّف کی کتاب کا ایک نسخہ ہم تک ہر قسم کی خرابیوں سے محفوظ پہنچ جاتا ہے۔ اور اگر ہر سابق کی اجازت کے ساتھ لاحق کو منتقل ہونے والی نسخے کی یہ سلسلہ وار روایت نہ ہوتی تو ہم اس نتیجے تک نہیں پہنچ سکتے تھے۔
۴۔ اگر کتب اربعہ میں موجود تمام احادیث قطعی ہوتی تو شیخ طوسی ؒ اور صدوق ؒ کو اپنی کتابوں کے آخر میں " المشیخہ" درج کرنے اور ان اصول تک اپنا سلسلہ سند ذکر کرنے کی ضرورت نہ ہوتی جن سے انہوں نے احادیث نقل کی ہیں۔ اور شیخ طوسی ؒ نے " مشیخہ" کے مقدمے میں جو یہ بیان کیا ہے کہ میں یہ " مشیخہ" اس لیے ذکر کر رہا ہوں تاکہ میری احادیث ارسال سے نکل کر اسناد کی طرف منتقل ہو جائے، اس کا بھی کوئی معنی نہ ہوتا۔
اور اگر یہ کہا جائے کہ ان کا سلسلہ سند ذکر کرنے کا مقصد برکت حاصل کرنے اور سند کو امام علیہ السلام سے متصل کرنے کے لیے تھا۔
تو ہم جواب دیں گے کہ اس بنیاد پر تو سلسلہ اسناد کی کثرت کی ضرورت نہیں ہے اور اصل کے مؤلف تک ایک سے زیادہ سلسلۂ اسناد ذکر کرنے کی بھی ضرورت نہیں ہے، بلکہ مناسب یہ تھا کہ اصل کے مؤلف تک ایک سلسلہ سند پر اکتفا کیا جاتا اور دوسرے سلسلہ سند کا ذکر کرنے کی ضرورت نہ ہوتی، کیونکہ برکت کا حصول ایک سلسلہ سند کے ذکر سے ہو جاتا ہے، جبکہ ہم دیکھتے ہیں کہ شیخ طوسی ؒ مثلاً بعض اصول تک ایک سے زیادہ سلسلہ اسناد ذکر کرتے ہیں۔
بلکہ ممکن ہے کہ ہم اس سے بڑھ کر کہے: کہ برکت کے خیال پر بنا رکھتے ہوئے تو سلسلہ اسناد کو ایک کتابچہ میں درج کرنے اور اسے مشیخہ کا نام دینے اور لوگوں کے سامنے پیش کرنے کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ مذکورہ مقصد کے حصول کے لیے سلسلہ اسناد کو ایک کاغذ پر درج کرنا اور شیخ ؒ یا صدوق ؒ کا اسے اپنے پاس محفوظ رکھنا کافی ہے، بلکہ اسے کاغذ پر درج کرنے کی بھی ضرورت نہیں اور اسے دل میں محفوظ رکھنا ہی کافی ہے۔
سند کو امام علیہ السلام تک اس طرح پہنچانے سے بھی برکت حاصل ہو جاتی ہے، اور اسے مشیخہ کے عنوان سے کتاب میں درج کرنا کاغذ اور روشنائی کا ضیاع اور بلا جواز دونوں کا اسراف ہے۔
اور ہم جو کہہ رہے ہیں اسے مزید واضح کرنے کے لیے آج کی صورتحال پر غور کریں، اگر فرض کریں کہ کوئی شخص اپنی سند امام علیہ السلام سے متصل کر کے برکت حاصل کرنا چاہتا ہے تو کیا اس کے لیے یہ صحیح ہے کہ وہ ایک کتاب لکھے جس میں وہ شیخ آغا بزرگ تہرانی یا سید مرعشی نجفی قدس سرہما تک اپنا سلسلہ اسناد ذکر کرے اور پھر ان دونوں کے شیخ طوسی ؒ تک کے سلسلہ اسناد کو بھی ذکر کرے؟ صاحبانِ عقل یقینی طور پر اس پر ہنسیں گے اور اسے کہیں گے کہ ان سلسلہ اسناد کو اپنے دل میں یا اپنے لیے ایک کاغذ پر محفوظ رکھو۔
۵۔ نجاشی ؒ نے ضعفاء سے روایت کرنے سے پرہیز کیا ہے، جیسا کہ ان کی کتاب کے بعض مقامات پر ذکر کیا گیا ہے، اور اگر ان کتابوں کا جن سے یہ روایات نقل کی گئی ہیں، متواتر ہونا فرض کر لیا جائے، تو پھر یہ بات بےمعنی ہو جاتی ہے۔
اور احمد بن محمد بن عیسیٰ نے — جیسا کہ نجاشی ؒ نے نقل کیا ہے — حسن بن علی وشّاء سے مطالبہ کیا کہ وہ اسے ابان احمر کی کتاب نکال کر دے اور یہ بھی چاہا کہ وہ اسے براہِ راست اس سے سنے، تو اس پر وشّاء نے اس کی جلدبازی کو ناپسند کیا اور اس سے کہا: جاؤ، پہلے اس کتاب کی نقل تیار کرو، پھر اسے مجھ سے سنو۔ احمد نے جواب دیا: مجھے زمانے کے حوادث پر اطمینان نہیں ہے۔
ان کتابوں کے متواتر ہونے کے بعد، ان سے براہِ راست سماعت کی ضرورت اور احمد بن محمد بن عیسیٰ کا یہ عذر پیش کرنا کہ " مجھے زمانے کے حوادث کا خوف ہے " — اس کی کوئی معقول وجہ باقی نہیں رہتی۔
۶۔کتب اربعہ میں ایسی احادیث بھی ہیں جن کے صدور کی تصدیق کرنا ممکن نہیں ہے۔ مثال کے طور پر، " الکافی" میں کتاب الطلاق میں یہ ذکر کیا گیا ہے کہ امیر المؤمنین علیہ السلام منبر پر تشریف لائے اور فرمایا: میرے بیٹے حسن علیہ السلام سے شادی نہ کرنا، کیونکہ وہ نکاح کرتا اور طلاق دیتا ہیں " (۱) ۔
ہم کتاب الکافی کی تقدیس اس بھاری قیمت پر قبول نہیں کرتے کہ اس میں ہمارے امام حسن علیہ السلام کی عزت کم ہو۔
اور " الکافی" میں ابو بصیر سے، انہوں نے ابو عبد اللہ علیہ السلام سے، اللہ عز و جل کے اس قول کے بارے میں بھی روایت ہے :
" «اور بےشک یہ ایک ذکر ہے تمہارے لیے اور تمہاری قوم کے لیے، اور عنقریب تم سے اس کے بارے میں سوال کیا جائے گا»۔ رسولِ خدا صلّى اللّه علیہ و آلہ ذکر ہیں، اور آپ ؐ کے اہلِ بیت علیہم السّلام وہ ہیں جن سے سوال کیا جائے گا، اور یہی وہ ہیں جو اہلِ ذکر ہیں " (۲) ۔
حوالے :
(۱)- الكافي ۶: ۵۶
(۲)- الجزء الأول من اصول الكافي: ص ۲۱۱ حديث ۴
اس قسم کی روایت کا صدور ایسا ہے جو ترکیب کے اختلال کی وجہ سے قطعی طور پر باطل ہے۔
اور اگر یہ کہا جائے کہ ایسی احادیث کے ظاہری معنی سے دست بردار ہونا اور ان کی کسی نہ کسی طرح کی تاویل کرنا ضروری ہے، مثلاً پہلی حدیث کی تاویل یہ کی جائے کہ کوفہ کے بعض خاندان امام حسن علیہ السلام کی شادی اپنی بعض بیٹیوں سے کرانے کی کوشش میں تھے اور امیر المؤمنین علیہ السلام اپنے بیٹے کو ان بیٹیوں سے بچانا چاہتے تھے، چنانچہ وہ منبر پر تشریف لائے اور اپنے بیٹے کی حفاظت کے لیے فرمایا: میرے بیٹے حسن ؑ سے شادی نہ کراؤ، کیونکہ وہ کثرت سے نکاح کرتے ہیں اور طلاق دیتے ہیں۔
تو ہم جواب دیں گے کہ صدور کو برقرار رکھنے اور ظہور کو ختم کرنے میں کیا فائدہ ہے؟!! اہلِ بیت علیہم السلام اور ان کی روایت کی تقدیس لازمی طور سے ہمیں اس بات کی دعوت دیتی ہے کہ ہم صدور اور ظہور دونوں لحاظ سے ان کی حفاظت کریں، لیکن ان کے صدور کو تسلیم کرنا اور ان کے ظہور پر عمل نہ کرنا درحقیقت اہلِ بیت علیہم السلام کی روایات سے دست بردار ہونا ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم ان پر عمل نہیں کر رہے ہیں۔
خصوصی اشکالات
کتب اربعہ میں موجود تمام احادیث کی قطعیت کے دعوے پر یہ کچھ اشکالات ہیں اور یہ عمومی اشکالات ہیں۔
اور ہم ہر ایک کتاب کے بارے میں بات کرتے وقت ان خاص اشکالات کا ذکر کریں گے جو ہر ایک سے متعلق ہیں۔