‌دروس تمهیدیة فی القواعد الرجالیة

‌دروس تمهیدیة فی القواعد الرجالیة0%

‌دروس تمهیدیة فی القواعد الرجالیة مؤلف:
: مصنف/ مؤلف
: مصنف/ مؤلف
زمرہ جات: علم رجال

‌دروس تمهیدیة فی القواعد الرجالیة

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

مؤلف: مصنف/ مؤلف
: مصنف/ مؤلف
: مصنف/ مؤلف
زمرہ جات: مشاہدے: 7555
ڈاؤنلوڈ: 304

تبصرے:

‌دروس تمهیدیة فی القواعد الرجالیة
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 106 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 7555 / ڈاؤنلوڈ: 304
سائز سائز سائز
‌دروس تمهیدیة فی القواعد الرجالیة

‌دروس تمهیدیة فی القواعد الرجالیة

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

کتاب "من لا یحضرہ الفقیه" کے بارے میں نظریات

" من لا یحضرہ الفقیه" جلیل القدر شیخ محمد بن علی بن الحسین بن بابویہ القمی ؒ کی کتاب ہے جو شیخ صدوق سے معروف ہیں۔

اور مشہور ہے کہ مذکورہ شیخ کی ولادت امام حجت ارواحنا لہ الفداء کی دعا سے ہوئی تھی۔ نجاشی ؒ نے علی بن الحسین بن بابویہ ؒ، جو شیخ صدوق ؒ کے والد ہیں، کے حالات میں بیان کیا ہے کہ وہ عراق آئے اور ابو القاسم الحسین بن روح - رضوان اللہ تعالیٰ علیہ - سے ملاقات کی اور ان سے کچھ مسائل پوچھے، پھر بعد میں انہیں خط لکھا جس میں ان سے یہ درخواست کی کہ وہ ان کا ایک رقعہ الصاحب علیہ السلام تک پہنچا دیں اور اس میں آپ علیہ السلام سے اولاد کی درخواست کریں، تو آپ علیہ السلام نے انہیں لکھا کہ ہم نے اللہ سے تمہارے لیے اس کی دعا کی ہے اور تمہیں دو نیک بیٹے عطا ہوں گے۔ چنانچہ ان کے یہاں ابو جعفر اور ابو عبد اللہ پیدا ہوئے۔ اور ابو جعفر - یعنی شیخ صدوق - کہا کرتے تھے کہ میں صاحب الامر ؑ کی دعا سے پیدا ہوا ہوں اور اس پر فخر کرتے تھے۔ تمام۔

اور شیخ صدوق ؒ خود یہ قصہ اپنی کتاب " اکمال الدین " ص ۲۷۶ میں نقل کرتے ہیں۔

اور " روضات الجنات" میں نقل کیا گیا ہے کہ امام عسکری علیہ السلام کا علی بن الحسین سے مکاتبہ تھا اور اس ضمن میں آپ علیہ السلام فرماتے ہیں:

" اللہ تمہیں اپنی رضاؤں کی توفیق دے، اور تمہاری نسل سے صالح اولاد پیدا فرمائے اپنی رحمت سے جو اللہ سے ڈرنے والی ہو، نماز قائم کرنے والی ہو اور زکٰوة ادا کرنے والی ہو۔۔۔ اور تم پر لازم ہے کہ فرج (ظہور) کا انتظار کرو، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

میری امت کا سب سے افضل عمل فرج کا انتظار ہے، اور ہمارے شیعہ ہمیشہ غم میں رہیں گے یہاں تک کہ میرا بیٹا ظہور کرےگا۔

شیخ صدوق ؒ نے اپنی کتاب کے مقدمے میں مذکورہ کتاب کی تالیف کا سبب بیان کیا ہے،

اور وہ یہ ہے کہ جب انہیں قضا و قدر بلاد غربت کی طرف لے گئی اور وہ ایلاق (۱) کے قصبے بلخ میں پہنچے، تو وہاں " نعمہ " کے نام سے معروف شریف ابو عبد اللہ محمد بن حسن آئے اور ان سے یہ درخواست کی کہ وہ فقہ اور حلال و حرام پر ایک کتاب تصنیف کریں اور اس کا نام " من لا یحضرہ الفقیه" رکھیں، جیسے طبیب رازی محمد بن زکریا نے طب پر ایک کتاب " من لا یحضرہ الطبیب" کے نام سے تصنیف کی تھی، تو انہوں نے ان کی درخواست قبول کی اور مذکورہ کتاب تالیف کی (۲) ۔

اور مذکورہ کتاب نجفِ اشرف میں سن ۱۳۷۶ ہجری میں چار جلدوں میں طبع ہوئی، اس سے پہلے یہ تین بار طبع ہو چکی تھی، جن میں سے ایک لکھنؤ، ہندوستان میں، دوسری تبریز میں، اور تیسری تہران میں۔

اور آج کل رائج ایڈیشن نجفِ اشرف کی طباعت کا عکس ہے۔

حوالے

(۱)-اور ایلاق آج جمہوریہ ترکستان یا ترکمانستان کے نام سے جانا جاتا ہے۔

(۲)- ہم توجہ دلانا چاہتے ہیں کہ لفظ "کتاب" کو نام کا حصہ ہونا چاہیے، لہٰذا کتاب "الفقیہ" کا نام صرف "من لا یحضره الفقیه" نہیں بلکہ "کتاب من لا یحضره الفقیه" ہے۔

اور مذکورہ جلیل القدر شیخ نے اپنی تالیف کردہ کتابوں کے ذریعے مذہب کی خدمت کی ہے جن کی تعداد تقریباً دو سو ۲۰۰ تالیفات ہیں۔

اور ان کی ایک تالیف کردہ کتاب " مدینة العلم" ہے جو دس جلدوں پر مشتمل ہے۔ اور یہ کتاب " الفقيه" سے بڑی تھی لیکن افسوس کہ آج اس کا کوئی اثر نہیں ہے۔

شیخ بہائی ؒ اپنی " درایہ " میں کہتے ہیں: " اور ہمارے پانچ اصول: الکافی ، مدینة العلم ، من لا یحضرہ الفقیه ، التھذیب ، اور الاستبصار" ۔

اور شیخ آقا بزرگ طہرانی ؒ " الذریعہ" میں کہتے ہیں: " افسوس ہے اس عظیم نعمت کے ہمارے درمیان اور ہاتھوں سے ضائع ہونے پر، شیخ بہائی ؒ کے والد کے زمانے سے جن کی عبارت اس کے ان کے پاس موجود ہونے پر دلالت کرتی ہے۔۔۔ حتیٰ کہ علامہ مجلسی ؒ نے اس کی تلاش میں کثیر رقم خرچ کی لیکن انہیں کامیابی نہ ملی۔۔۔ ہاں، ابن طاؤس ؒ فلاح السائل اور اپنی دیگر کتابوں میں اس سے نقل کرتے ہیں ۔۔۔ " ۔( الذريعة إلى تصانيف الشيعة ۲۰: ۲۵۲ )

اور مذکورہ جلیل القدر شیخ ؒ کی وفات سن ۳۸۱ ہجری میں ہوئی۔ اور وہ ری میں سید عبدالعظیم الحسنی (رہ) کی قبر کے قریب دفن ہوئے۔

اور کہا جاتا ہے کہ ان کی شریف قبر میں شدید بارش کی وجہ سے ایک شگاف پڑ گیا تو ان کا پاکیزہ جسم بغیر کسی تبدیلی کے پایا گیا، حتیٰ کہ ان کے ناخنوں پر مہندی کا اثر بھی موجود تھا، اس کے باوجود کہ ان کی تدفین کو ۸۵۷ سال گزر چکے تھے۔

" اور مذکورہ کتاب کے بارے میں کلام چند نکات کے تحت واقع ہوا ہے:

پہلا نکتہ

ہم نے پہلے ذکر کیا تھا کہ شیخ کلینی ؒ کی کتاب " الکافی" میں ان کی روش یہ رہی ہے کہ وہ اکثر اوقات مکمل سند بیان کرتے ہیں اور اس سے صرف شاذ و نادر ہی انحراف کرتے ہیں۔۔ جبکہ شیخ صدوق ؒ کا طریقہ اس کے برعکس ہے، چنانچہ وہ اکثر سند کو حذف کر دیتے ہیں اور براہِ راست امام علیہ السلام سے روایت کرنے والے راوی کا ذکر کرنے پر اکتفا کرتے ہیں، مثلاً کہتے ہیں: " زرارہ" یا " روایت کیا زرارہ نے امام باقر علیہ السلام سے " ۔ اور وہ شاذ و نادر ہی مکمل سند ذکر کرتے ہیں۔ اور انہوں نے اس کی وجہ مقدمے میں یہ بیان کی ہے: اور میں نے اس کتاب کو اسناد کو حذف کر کے تصنیف کیا ہے تاکہ اس کی سندیں زیادہ نہ ہو جائیں، اگرچہ اس کے فوائد بکثرت ہیں۔

اور اسی وجہ سے انہیں کتاب کے آخر میں ان لوگوں تک اپنے سلسلہ اسناد ذکر کرنے کی ضرورت پیش آئی جن سے وہ سند کا آغاز کرتے ہیں، مثلاً وہ کہتے ہیں: " اور جو کچھ میں نے زرارہ سے روایت کیا ہے وہ مجھے میرے والد نے بیان کیا، انہوں نے ۔۔۔

اور اسناد کے اس سلسلہ کو " مشیخہ" سے موسوم کیا جاتا ہے، جو شیخ کی جمع ہے۔

اور افسوس کی بات یہ ہے کہ انہوں نے ان میں سے بعض لوگوں تک اپنے سلسلہ اسناد ذکر نہیں کیے ہے جن سے انہوں نے سند کا آغاز کیا ہے۔ اور اسی وجہ سے مذکورہ احادیث مرسل ہو جاتی ہیں۔

دوسرا نکتہ

صدوق ؒ نے اپنی کتاب اہلِ بیت علیہم السلام کی احادیث کے جامع کے طور پر تالیف نہیں کی بلکہ انہوں نے اسے شیعوں کے لیے ایک عملی مرجع و رجوع گاہ کے طور پر تالیف کیا ہے نہ کہ حدیثی مرجع کے طور پر، اور یہ بات مقدمے کے بعض فقروں اور خود کتاب کے اسلوب سے ظاہر ہوتی ہے۔

اور اسی بنا پر اس میں ایک رجحان نمایاں ہوا ہے، اور وہ یہ کہ جب وہ بعض احادیث ذکر کرتے ہیں تو ان کے ساتھ تفسیر یا توضیح بھی بیان کرتے ہیں اور اسے حدیث سے متصل ذکر کر دیتے ہیں۔ بسا اوقات قاری پر یہ فرق مخفی رہ جاتا ہے اور وہ خیال کرتا ہے کہ یہ سب ایک ہی حدیث ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اس کا کچھ حصہ امام علیہ السّلام کا کلام ہے اور کچھ حصہ خود صدوق ؒ کا بیان ہے۔

اور مثال کے طور پر، صدوق ؒ نے پہلے حصے کی دوسری حدیث میں اس طرح سے ذکر کیا ہے: " اور آپ علیہ السلام نے فرمایا: پانی پاک کرتا ہے، لیکن اسے پاک نہیں کیا جاتا۔ چنانچہ جب تمہیں پانی ملے اور تمہیں اس میں کوئی نجاست معلوم نہ ہو تو اس سے وضو کرو اور پیو۔ اور اگر تمہیں اس میں کوئی ایسی چیز ملے جو اسے ناپاک کرے تو اس سے وضو نہ کرو اور نہ پیو سوائے حالت اضطرار کے تو اس سے پیو اور اس سے وضو نہ کرو اور تیمم کرو ۔۔۔ " ۔

رجوع کرنے والا یہ گمان کرتا ہے کہ مذکورہ تمام جملے امام علیہ السلام کا کلام ہے جبکہ امام علیہ السلام کا کلام صرف یہ جملہ ہے: " پانی پاک کرتا ہے، لیکن پاک نہیں کیا جاتا " ۔ اور باقی صدوق ؒ کا کلام ہے۔

تیسرا نکتہ

ایک مشہور رائے یہ ہے کہ " الفقیہ" میں مذکور تمام احادیث حجت ہیں، اور ان کی اسناد میں تحقیق کی ضرورت نہیں ہے۔

اور اس رائے کی بنیاد درج ذیل دو پہلوؤں میں سے کسی ایک پر ہے:

۱۔ مقدمے میں مذکور بعض فقرات جہاں صدوق ؒ نے کہا: " اور میں نے اس میں مصنفین کی طرح ہر وہ چیز شامل کرنے کا قصد نہیں کیا جو انہوں نے روایت کی ہے بلکہ میرا مقصد صرف وہ چیزیں شامل کرنا ہے جن سے میں فتویٰ دیتا ہوں اور جن کی صحت کا حکم کرتا ہوں اور جن کے بارے میں میرا اعتقاد ہے کہ وہ میرے اور میرے ربّ تقدّس ذکرہ کے درمیان حجت ہیں " ۔

مذکورہ عبارت اس بات پر صریح ہے کہ وہ صرف صحیح احادیث ذکر کرتے ہیں۔ اور ایسی صورت میں " الفقيه" میں مذکور ہر حدیث کو قبول کرنا لازم آتا ہے۔

اور اس کا رد یہ ہے: کہ صدوق ؒ نے اگرچہ صرف صحیح خبر ذکر کرنے کا خود کو پابند کیا ہے، لیکن متقدمین کی اصطلاح میں صحیح کا مطلب متاخرین کی اصطلاح سے مختلف ہے، چونکہ صحیح متأخرین کی اصطلاح میں اس حدیث کو کہا جاتا ہے جس کے تمام راوی عادل اور امامی ہوں،

جبکہ متقدمین کی اصطلاح میں اس سے مراد ہر وہ حدیث ہے جس پر عمل واجب ہو، خواہ اس کے ساتھ کچھ ایسے قرائن موجود ہوں جو اس کے حق ہونے پر اطمینان پیدا کریں، چاہے بالفرض اس کے راوی فاسق یا غیر موثق ہی کیوں نہ ہوں۔

اور اگر صدوق ؒ کا اس خبرِ صحیح سے یہی مقصود ہے تو ان کا اپنی کتاب میں اس حدیث کا ذکر کرنا لازم نہیں کہ ہم پر اس کی حجیت ثابت ہو جائے، کیونکہ شاید اگر ہم ان قرائن سے مطلع ہوتے تو وہ ہمارے لیے باعث اطمینان نہ بنتے۔

مزید برآں صدوق ؒ کا احادیث کو صحیح قرار دینے کا ایک خاص طریقہ ہے، اور وہ یہ ہے کہ ہر وہ حدیث جسے ان کے شیخ محمد بن حسن بن ولید ؒ نے صحیح قرار دیا ہے وہ ان کے نزدیک صحیح ہے، اور ہر وہ حدیث جسے ان کے شیخ نے صحیح قرار نہیں دیا وہ ان کے نزدیک صحیح نہیں ہے۔

اور اس طریقہ کار کا ذکر بعض مقامات پر انہوں نے صراحت کے ساتھ کیا ہے۔ ایسی صورت میں، پھر ان کی گواہی کہ ان کی کتاب کی احادیث صحیح ہیں، ہمارے لیے ان احادیث کے قابلِ اعتبار ہونے کا سبب کیسے بن سکتی ہے؟

۲۔ صدوق ؒ نے اپنی کتاب کے مقدمے میں ایک اور عبارت بیان کی ہے جو سابقہ عبارت سے مختلف ہے

اور وہ ان کا یہ قول ہے:

" اور اس میں جو کچھ بھی ہے وہ ان مشہور کتابوں سے اخذ کیا گیا ہے جن پر اعتماد کیا جاتا ہے اور جن کی طرف رجوع کیا جاتا ہے جیسے حریز بن عبد اللہ سجستانی کی کتاب اور عبید اللہ بن علی الحلبی کی کتاب اور ۔۔۔ " ۔

اور چونکہ " الفقيه" کی احادیث مشہور کتابوں سے ماخوذ ہیں اور ان پر اصحاب کا اعتماد ہے اس لیے صدوق ؒ اور جس صاحب کتاب سے وہ حدیث نقل کرتے ہیں اس کے درمیان صحیح سلسلہ سند کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ ہاں، ہمیں صاحب کتاب اور امام علیہ السلام کے درمیان صحیح سلسلہ سند کی ضرورت ہے۔

اور اس رائے کی طرف اشارہ پہلے گزر چکا ہے۔

( اور کہا گیا ہے کہ ان شخصیات میں سے جنہوں نے اس مذکورہ رائے کو اختیار کیا، سیّد البروجردی (قدّس سرّه) بھی شامل ہیں )

اور اس کا رد یہ ہے:

اولاً: جو کچھ بیان کیا گیا ہے وہ اس صورت میں کامل و درست ہوگا جب یہ مفروضہ تسلیم کیا جائے کہ صدوق ؒ نے جس بھی راوی کا نام سند کے آغاز میں ذکر کیا ہے، اس سے حدیث اس کی کتاب ہی سے اخذ کی ہے۔ لیکن یہ امر ثابت نہیں ہے، کیونکہ نہ تو انہوں نے اپنی کتاب کے مقدمہ میں اور نہ ہی مشیخہ میں اس بات کی تصریح کی ہے۔

ہاں، شیخ طوسی ؒ نے " تھذیبین" کے مشیخہ کے مقدمے میں اس کی صراحت کی ہے، صدوق ؒ نے نہیں کی ہے۔

اور اس بات کی مزید تصدیق کہ صدوق ؒ اس طریقے کے پابند نہیں تھے، یہ ہے کہ انہوں نے مشیخہ میں ابراہیم بن سفیان، اسماعیل بن عیسیٰ، انس بن محمد، جعفر بن قاسم اور دیگر تک کا سلسلہ سند کا ذکر کیا ہے، جبکہ ان افراد کی کوئی کتاب موجود نہیں ہے اس قرینے سے کہ نجاشی ؒ اور شیخ ؒ نے اپنی فہرستوں میں جو صاحبانِ کتب کے بیان کے لیے تشکیل دی ہیں، ان افراد کا ذکر نہیں کیا ہے۔

بلکہ صدوق ؒ نے اسماء بنت عمیس (س) تک ایک سلسلہ سند ذکر کیا ہے، جبکہ ان کی کوئی کتاب موجود ہونا بعید ہے۔

اور اس سے بھی بڑھ کر، صدوق ؒ کبھی مشیخہ میں ایک خاص معین روایت تک سلسلہ سند ذکر کرتے ہیں، جیسے وہ روایت جو یہودیوں کے ایک گروہ کے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ کے پاس آنے کو نقل کرتی ہے۔

اگر آپ کہے: اگر صدوق ؒ نے جس شخص سے سند کا آغاز کیا ہے اس کی کوئی کتاب نہیں ہے تو پھر انہوں نے کیسے کہا کہ : اس میں جو کچھ بھی ہے وہ مشہور کتابوں سے ماخوذ ہے؟

تو میں کہوں گا: مذکورہ عبارت میں کوئی خامی نہیں ہے، کیونکہ یہ ممکن ہے کہ ہم فرض کریں کہ ابان بن تغلب جن سے صدوق ؒ نے سند کا آغاز کیا ہے جبکہ ان کی کوئی کتاب نہیں ہے، ان کی حدیث کو شیخ صدوق ؒ نے فقط اپنے شیخ و استاد محمد بن حسن بن ولید کی کتاب سے لی ہے۔ اور ان کے شیخ کی کتاب اگرچہ مشہور ہے لیکن اس کا زیادہ سے زیادہ لازمہ یہ ہے کہ ان کے اور ان کے شیخ کی کتاب کے درمیان صحیح سلسلہ سند کی ضرورت نہیں ہے، نہ کہ ان کے اور جس شخص سے انہوں نے سند کا آغاز کیا ہے، یعنی ابان، کے درمیان۔

اور دوسری بات: کسی کتاب کی شہرت اور اس پر اعتماد کرنا معتبر طریقے کی ضرورت کو ختم نہیں کرتا، کیونکہ ممکن ہے کہ اس کتاب کے متعدد نسخے ہوں جن میں بعض میں اضافہ، کمی یا تحریف ہو۔ لہذا کسی کتاب کی شہرت اور اس پر اعتماد کرنا مذکورہ احتمالات کے ختم ہونے کے مترادف نہیں ہے۔ مثال کے طور پر، " الکافی" ہمارے زمانے میں ان مشہور کتابوں میں شمار ہوتی ہے جن پر اعتماد کیا جاتا ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس کے تمام نسخے صحیح ہیں اور اضافہ یا کمی سے محفوظ ہیں۔

اور جو کچھ ہم نے ذکر کیا ہے اسے تسلیم کرتے ہوئے، ہمیں ایک معتبر سلسلہ سند کی ضرورت ہے جس کے ذریعے نسخے کی صحت ثابت ہو، اس طرح کہ صدوق ؒ یہ کہے کہ میرے شیخ نے مجھے حریز کی کتاب کے ایک مخصوص نسخے کی روایت کی اجازت دی ہے، مثلاً، اور ان کے شیخ کو بھی ان کے دور میں ان کے شیخ نے اجازت دی ہو یہاں تک کہ ثقہ راویوں کی اجازتوں کا سلسلہ خود حریز تک پہنچ جائے۔ پھر ضروری ہے کہ حریز نے خود اپنی کتاب کا ایک مخصوص نسخہ کسی ثقہ کو دیا ہو اور اسے روایت کرنے کی اجازت دی ہو، اور اس نے اپنے دور میں اسے کسی تیسرے کو دیا ہو اور اسے روایت کرنے کی اجازت دی ہو، اور اسی طرح یہ سلسلہ صدوق ؒ تک پہنچا ہو۔

اور تیسری بات: کتاب کی شہرت اور اس پر اعتماد کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس کی تمام احادیث پر بلا استثناء اعتماد کیا جائے، اور اس کا مطلب یہ ہے کہ اس پر اعتماد کرنا اس کی عمومی خصوصیت ہے، چنانچہ مثال کے طور پر، کتاب الکافی کو شیعوں کے نزدیک مشہور اور قابلِ اعتماد کتابوں میں سے شمار کیا جاتا ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اس کی تمام احادیث صحیح ہیں اور ان میں سے ہر ایک پر عمل کیا جائےگا۔

چوتھا نکتہ

کتاب الفقيه کہا جاتا ہے کہ ۵۹۶۳ احادیث پر مشتمل ہے۔ لیکن ان میں سے ایک بڑا حصہ جو مبلغ ۲۰۵۰ حدیثوں پر مشتمل ہے وہ مرسل احادیث ہیں۔

اور اسی وجہ سے مذکورہ مرسل احادیث کو صحیح قرار دینے کے طریقے پر غور کرنے کی ضرورت پیدا ہوتی ہے۔

اور بعض نے ان کی حجیت اور اس بات کے قائل ہیں کہ " الفقيه" میں صدوق ؒ کی مراسیل، حجیت اور اعتبار میں ابن ابی عمیر کی مراسیل کی طرح ہیں۔

اور ان مراسیل کی حجیت کی اس طرح بھی ثابت کیا جا سکتا ہے کہ صدوق ؒ نے مقدمہ میں بیان کیا ہے کہ وہ اپنی کتاب میں صرف وہی چیزیں ذکر کرتے ہیں جن کی صحت پر وہ خود حکم دیتے ہیں اور جن پر فتویٰ دیتے ہیں، اور جو ان کے اور ان کے ربّ کے درمیان حجت ہیں، یا اس وجہ سے بھی کہ انہوں نے مقدمہ میں یہ بھی ذکر کیا ہے کہ اس کتاب میں موجود تمام مواد ایسی مشہور اور معتبر کتابوں سے اخذ کیا گیا ہے، جن پر اعتماد اور انحصار کیا جاتا ہے۔

اور مذکورہ دونوں بیانات پر اشکال کی طرف اشارہ پہلے گزر چکا ہے۔

اور ایک رائے جس کے متعدد علماء قائل ہیں جو اس بات میں تفریق کرتی ہے کہ آیا صدوق ؒ نے " قال" (فرمایا) کے لفظ سے تعبیر کیا ہے، مثلاً یوں ذکر کیا: قال الصادق علیہ السلام: ہر پانی پاک ہے جب تک کہ تمہیں معلوم نہ ہو کہ وہ نجس ہے، اور اس کے درمیان کہ جب انہوں نے " روی " (روایت کیا گیا) کے لفظ سے تعبیر کیا ہو، اس طرح کہ انہوں نے کہا ہو: " روی عن الصادق علیہ السلام: ہر پانی ۔۔۔ تو پہلی مرسل روایت حجت ہے دوسری نہیں۔

اور ان لوگوں میں سے جنہوں نے مذکورہ تفریق اختیار کی ہے سید خوئی قدس سرہ ہیں اپنی بعض پرانی اصولی ابحاثی نشستوں میں اس توضیح کے ساتھ کہ صدوق ؒ جب " قال" کے لفظ سے تعبیر کرتے ہیں تو یہ حدیث کی صحت اور حجیت پر ان کے پختہ یقین پر دلالت ہے، ورنہ وہ اس " قال" کے لفظ سے تعبیر نہ کرتے جو روایت کے مضمون کے امام علیہ السلام سے صادر ہونے پر ان کے پختہ یقین پر دلالت کرتا ہے(۱)۔

اور اس میں غور و تأمّل واضح ہے، کیونکہ صدوق ؒ کا " قال" کے لفظ سے تعبیر کرنا اگرچہ روایت کی صحت اور حجیت پر ان کے پختہ یقین پر دلالت کرتا ہے، لیکن اس کا مطلب سند کے راویوں کی وثاقت کی گواہی نہیں ہے بلکہ یہ اس لیے ہو سکتا ہے کہ اس روایت کے ساتھ ایسے قرائن متصل ہوں جو ان کی نگاہ میں اس روایت کی سچائی پر یقین کا باعث ہو، جبکہ ہماری نگاہ میں نہ ہو۔

اور اسی وجہ سے سید خوئی قدّس سرّه نے بعد کی درسی نشستوں میں اس سے رجوع کر لیا تھا (یعنی اپنا نظریہ تبدیل کر لیا تھا) (۲) ۔

حوالے (۱)-۔ رجوع کریں الدراسات: ص ۳۲۲.

(۲)- رجوع کریں مصباح الاصول ۲: ۵۲۰.

تمرینات

س۱: مشیخہ سے کیا مراد ہے؟ اور شیخ صدوق ؒ کو اپنی کتاب کے آخر میں مشیخہ ذکر کرنے کی کیوں ضرورت پیش آئی؟

س۲: ایک اسلوب ہے جو صدوق ؒ سے مخصوص ہے جس کا ہم نے دوسرے نکتہ کے عنوان کے تحت اشارہ کیا ہے۔ اس کی وضاحت کریں۔

س۳: پہلی وجہ بیان کریں جس سے " الفقيه" کی تمام احادیث کی حجیت ثابت کرنے کے لیے تمسّک کیا جا سکتا ہے بغیر ان کی سند میں دقیق تحقیق کو ضروری قرار دیئے۔ اور اس پر اشکال بھی ذکر کریں۔

س۴: اس کی دوسری وجہ کو اس پر ہونے والے پہلے اشکال کے ساتھ بیان کریں۔

س۵: دوسری وجہ پر دوسرے اشکال کو بیان کریں۔

س۶: دوسری وجہ پر تیسرے اشکال کو بیان کریں۔

س۷: صدوق ؒ نے اپنی کتاب میں مرسل روایات کثرت سے ذکر کی ہیں۔ اور کہا گیا ہے کہ یہ تمام مراسیل حجت ہیں دو بیانات کی وجہ۔ آپ ان دونوں کو بیان کریں۔

س۸: صدوق ؒ کی مراسیل کی حجیت میں ایک تفریق ہے۔ اسے اس کی تشریح کے ساتھ بیان کریں۔

س۹: مذکورہ تفریق پر ہم کس طرح سے اشکال کریں گے؟

س۱۰: وسائل الشیعہ باب ۱۴، ابواب الخلل الواقع فی الصلاۃ ، حدیث ۱ کا جائزہ لیں۔ اور اس کی سند کی حالت واضح کریں۔

"التھذیبین" کے بارے میں نظریات

التھذیب اور الاستبصار شیخ طوسی قدس سرہ کی دو کتابیں ہیں۔

جہاں تک کتاب تھذیب الاحکام کا تعلق ہے تو اسے شیخ الطائفہ ؒ نے اپنے استاد شیخ مفید ؒ کی کتاب " المقنعہ " کی شرح کے طور پر تالیف کیا ہے۔

اور انہوں نے کتاب کے اوائل میں شرح و استدلال کا عمل شروع کیا، چنانچہ وہ پہلے اپنے استاد کی عبارت قوسین میں ذکر کرتے ہیں اور پھر اس کی شرح کرتے ہیں اور اس میں موجود احکام پر استدلال کرتے ہیں۔ لیکن اس کے بعد انہوں نے صرف احادیث بیان کرنے پر اکتفا کیا۔ اور انہوں نے خود مشیخہ کے آغاز میں اس بات کی طرف متوجہ کیا ہے۔ اور اس کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ انہیں یہ ڈر تھا کہ زیادہ تفصیل مقصد سے انحراف اور کتاب کو نامکمل اور غیر جامع بنا دےگی۔

چنانچہ کتاب تہذیب محض حدیثی کتاب نہیں ہے بلکہ یہ ایک فقہی استدلالی حدیثی کتاب ہے۔

اور کہا گیا ہے کہ یہ جلیل القدر کتاب شیخ الطائفہ ؒ کی پہلی تالیف ہے جسے انہوں نے اس وقت تالیف کیا جب ان کی عمر پچیس یا چھبیس سال تھی۔

اور اس کتاب کو دیکھنے والا اس بات سے مستفید ہوتا ہے کہ اس کا ایک حصہ شیخ ؒ نے اپنے استاد مفید ؒ کی زندگی میں تالیف کیا تھا اور باقی حصہ انہوں نے اپنے استاد کی وفات کے بعد تالیف کیا۔ چنانچہ کتاب کے آغاز سے لے کر کتاب الصلاۃ کے آخر تک جب وہ اپنے شیخ ؒ کی عبارت ذکر کرنا چاہتے ہیں تو کہتے ہیں: " قال الشیخ ایدہ اللہ تعالیٰ" (کہا استاد نے اللہ ان کی تائید فرمائے) لیکن اس کے بعد سے وہ کہتے ہیں: " قال الشیخ رحمہ اللہ " (کہا استاد نے اللہ ان پر رحمت فرمائے)۔

اور یہ کتاب کی حال ہی میں نجفِ اشرف میں دس جلدوں میں طباعت ہوئی ہے۔

اور اس کتاب کی مجموع احادیث کو شمار کیا گیا تو شیخ نوری کے بیان کے مطابق یہ ۱۳۵۹۰ احادیث بنتی ہیں۔

اور صاحب حدائق قدس سرہ کا تھذیب کے بارے میں ایک قول ہے جو کسی حد تک سخت یا مبالغہ آرائی پر مبنی ہے، جہاں انہوں نے اپنی حدائق( الحدائق الناظرة ۴: ۲۰۹ )میں ذکر کیا ہے: "تہذیب کی احادیث میں سے شاذ و نادر ہی کوئی حدیث تحریف یا تصحیف یا متن یا سند میں زیادتی و کمی سے خالی ہو " ۔

جہاں تک کتاب " الاستبصار" کا تعلق ہے تو شیخ طوسی ؒ نے اسے اس وجہ سے تالیف کیا کہ جماعتِ شیعہ کو ان کی احادیث کے اختلاف اور تعارض (ٹکراؤ) کے سبب ملامت کا سامنا تھا چنانچہ انہوں نے یہ کتاب تالیف کی اور کوشش کی کہ ہر ایسی روایت کے درمیان جو بظاہر ایک دوسرے سے متعارض نظر آتی ہیں، تعارض کو دور کریں، چنانچہ یہ کتاب متعارض روایات کے ذکر اور ان کے درمیان جمع کرنے کی روش بیان کرنے کے لیے لکھی اور ترتیب دی گئی ہے۔ اور اسی وجہ سے کتاب کا نام " الاستبصار فیما اختلف من الاخبار" رکھا گیا۔

اور اس کتاب کی حال ہی میں نجفِ اشرف میں چار جلدوں میں طباعت ہوئی ہے۔

اور شیخ ؒ نے خود مذکورہ کتاب کی احادیث کو ۵۵۱۱ حدیثوں میں محدود کیا ہے۔ انہوں نے کتاب کے آخر میں یہ بیان کیا ہے اور کہا کہ میں نے انہیں محدود کیا ہے تاکہ ان میں کوئی زیادتی یا کمی واقع نہ ہو۔

اور ہمارا کلام ان دونوں کتابوں کے بارے میں چند نکات پر مشتمل ہے۔

شیخ ؒ کا سلسلہ سند بیان کرنے کا طریقہ

۱۔ ان دونوں کتابوں میں حدیث نقل کرنے کا شیخ ؒ کا طریقہ مختلف ہے، چنانچہ کبھی وہ مکمل سند نقل کرتے ہیں اور کبھی سند کا کچھ حصہ نقل کرتے ہیں، اور ان پر نہ ہی مکمل سند نقل کرنے کا رجحان غالب ہے جیسا کہ الکافی میں ہے اور نہ ہی سند کا کچھ حصہ نقل کرنے کا جیسا کہ الفقيه میں ہے۔

اور اسی وجہ سے انہیں مشیخہ کی تالیف کی ضرورت پیش آئی تاکہ وہ ان لوگوں تک اپنے سلسلہ اسناد درج کر سکیں جن سے وہ احادیث نقل کرتے ہیں تاکہ وہ اس طرح ارسال سے نکل کر اسناد کی طرف منتقل ہو جائیں۔

اور تہذیب کے آخر میں مذکورہ مشیخہ اکثر مقامات میں استبصار کے مشیخہ کے مطابق ہے۔