تیسرا نکتہ
ایک مشہور رائے یہ ہے کہ " الفقیہ" میں مذکور تمام احادیث حجت ہیں، اور ان کی اسناد میں تحقیق کی ضرورت نہیں ہے۔
اور اس رائے کی بنیاد درج ذیل دو پہلوؤں میں سے کسی ایک پر ہے:
۱۔ مقدمے میں مذکور بعض فقرات جہاں صدوق ؒ نے کہا: " اور میں نے اس میں مصنفین کی طرح ہر وہ چیز شامل کرنے کا قصد نہیں کیا جو انہوں نے روایت کی ہے بلکہ میرا مقصد صرف وہ چیزیں شامل کرنا ہے جن سے میں فتویٰ دیتا ہوں اور جن کی صحت کا حکم کرتا ہوں اور جن کے بارے میں میرا اعتقاد ہے کہ وہ میرے اور میرے ربّ تقدّس ذکرہ کے درمیان حجت ہیں " ۔
مذکورہ عبارت اس بات پر صریح ہے کہ وہ صرف صحیح احادیث ذکر کرتے ہیں۔ اور ایسی صورت میں " الفقيه" میں مذکور ہر حدیث کو قبول کرنا لازم آتا ہے۔
اور اس کا رد یہ ہے: کہ صدوق ؒ نے اگرچہ صرف صحیح خبر ذکر کرنے کا خود کو پابند کیا ہے، لیکن متقدمین کی اصطلاح میں صحیح کا مطلب متاخرین کی اصطلاح سے مختلف ہے، چونکہ صحیح متأخرین کی اصطلاح میں اس حدیث کو کہا جاتا ہے جس کے تمام راوی عادل اور امامی ہوں،
جبکہ متقدمین کی اصطلاح میں اس سے مراد ہر وہ حدیث ہے جس پر عمل واجب ہو، خواہ اس کے ساتھ کچھ ایسے قرائن موجود ہوں جو اس کے حق ہونے پر اطمینان پیدا کریں، چاہے بالفرض اس کے راوی فاسق یا غیر موثق ہی کیوں نہ ہوں۔
اور اگر صدوق ؒ کا اس خبرِ صحیح سے یہی مقصود ہے تو ان کا اپنی کتاب میں اس حدیث کا ذکر کرنا لازم نہیں کہ ہم پر اس کی حجیت ثابت ہو جائے، کیونکہ شاید اگر ہم ان قرائن سے مطلع ہوتے تو وہ ہمارے لیے باعث اطمینان نہ بنتے۔
مزید برآں صدوق ؒ کا احادیث کو صحیح قرار دینے کا ایک خاص طریقہ ہے، اور وہ یہ ہے کہ ہر وہ حدیث جسے ان کے شیخ محمد بن حسن بن ولید ؒ نے صحیح قرار دیا ہے وہ ان کے نزدیک صحیح ہے، اور ہر وہ حدیث جسے ان کے شیخ نے صحیح قرار نہیں دیا وہ ان کے نزدیک صحیح نہیں ہے۔
اور اس طریقہ کار کا ذکر بعض مقامات پر انہوں نے صراحت کے ساتھ کیا ہے۔ ایسی صورت میں، پھر ان کی گواہی کہ ان کی کتاب کی احادیث صحیح ہیں، ہمارے لیے ان احادیث کے قابلِ اعتبار ہونے کا سبب کیسے بن سکتی ہے؟
۲۔ صدوق ؒ نے اپنی کتاب کے مقدمے میں ایک اور عبارت بیان کی ہے جو سابقہ عبارت سے مختلف ہے
اور وہ ان کا یہ قول ہے:
" اور اس میں جو کچھ بھی ہے وہ ان مشہور کتابوں سے اخذ کیا گیا ہے جن پر اعتماد کیا جاتا ہے اور جن کی طرف رجوع کیا جاتا ہے جیسے حریز بن عبد اللہ سجستانی کی کتاب اور عبید اللہ بن علی الحلبی کی کتاب اور ۔۔۔ " ۔
اور چونکہ " الفقيه" کی احادیث مشہور کتابوں سے ماخوذ ہیں اور ان پر اصحاب کا اعتماد ہے اس لیے صدوق ؒ اور جس صاحب کتاب سے وہ حدیث نقل کرتے ہیں اس کے درمیان صحیح سلسلہ سند کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ ہاں، ہمیں صاحب کتاب اور امام علیہ السلام کے درمیان صحیح سلسلہ سند کی ضرورت ہے۔
اور اس رائے کی طرف اشارہ پہلے گزر چکا ہے۔
( اور کہا گیا ہے کہ ان شخصیات میں سے جنہوں نے اس مذکورہ رائے کو اختیار کیا، سیّد البروجردی (قدّس سرّه) بھی شامل ہیں )
اور اس کا رد یہ ہے:
اولاً: جو کچھ بیان کیا گیا ہے وہ اس صورت میں کامل و درست ہوگا جب یہ مفروضہ تسلیم کیا جائے کہ صدوق ؒ نے جس بھی راوی کا نام سند کے آغاز میں ذکر کیا ہے، اس سے حدیث اس کی کتاب ہی سے اخذ کی ہے۔ لیکن یہ امر ثابت نہیں ہے، کیونکہ نہ تو انہوں نے اپنی کتاب کے مقدمہ میں اور نہ ہی مشیخہ میں اس بات کی تصریح کی ہے۔
ہاں، شیخ طوسی ؒ نے " تھذیبین" کے مشیخہ کے مقدمے میں اس کی صراحت کی ہے، صدوق ؒ نے نہیں کی ہے۔
اور اس بات کی مزید تصدیق کہ صدوق ؒ اس طریقے کے پابند نہیں تھے، یہ ہے کہ انہوں نے مشیخہ میں ابراہیم بن سفیان، اسماعیل بن عیسیٰ، انس بن محمد، جعفر بن قاسم اور دیگر تک کا سلسلہ سند کا ذکر کیا ہے، جبکہ ان افراد کی کوئی کتاب موجود نہیں ہے اس قرینے سے کہ نجاشی ؒ اور شیخ ؒ نے اپنی فہرستوں میں جو صاحبانِ کتب کے بیان کے لیے تشکیل دی ہیں، ان افراد کا ذکر نہیں کیا ہے۔
بلکہ صدوق ؒ نے اسماء بنت عمیس (س) تک ایک سلسلہ سند ذکر کیا ہے، جبکہ ان کی کوئی کتاب موجود ہونا بعید ہے۔
اور اس سے بھی بڑھ کر، صدوق ؒ کبھی مشیخہ میں ایک خاص معین روایت تک سلسلہ سند ذکر کرتے ہیں، جیسے وہ روایت جو یہودیوں کے ایک گروہ کے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ کے پاس آنے کو نقل کرتی ہے۔
اگر آپ کہے: اگر صدوق ؒ نے جس شخص سے سند کا آغاز کیا ہے اس کی کوئی کتاب نہیں ہے تو پھر انہوں نے کیسے کہا کہ : اس میں جو کچھ بھی ہے وہ مشہور کتابوں سے ماخوذ ہے؟
تو میں کہوں گا: مذکورہ عبارت میں کوئی خامی نہیں ہے، کیونکہ یہ ممکن ہے کہ ہم فرض کریں کہ ابان بن تغلب جن سے صدوق ؒ نے سند کا آغاز کیا ہے جبکہ ان کی کوئی کتاب نہیں ہے، ان کی حدیث کو شیخ صدوق ؒ نے فقط اپنے شیخ و استاد محمد بن حسن بن ولید کی کتاب سے لی ہے۔ اور ان کے شیخ کی کتاب اگرچہ مشہور ہے لیکن اس کا زیادہ سے زیادہ لازمہ یہ ہے کہ ان کے اور ان کے شیخ کی کتاب کے درمیان صحیح سلسلہ سند کی ضرورت نہیں ہے، نہ کہ ان کے اور جس شخص سے انہوں نے سند کا آغاز کیا ہے، یعنی ابان، کے درمیان۔
اور دوسری بات: کسی کتاب کی شہرت اور اس پر اعتماد کرنا معتبر طریقے کی ضرورت کو ختم نہیں کرتا، کیونکہ ممکن ہے کہ اس کتاب کے متعدد نسخے ہوں جن میں بعض میں اضافہ، کمی یا تحریف ہو۔ لہذا کسی کتاب کی شہرت اور اس پر اعتماد کرنا مذکورہ احتمالات کے ختم ہونے کے مترادف نہیں ہے۔ مثال کے طور پر، " الکافی" ہمارے زمانے میں ان مشہور کتابوں میں شمار ہوتی ہے جن پر اعتماد کیا جاتا ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس کے تمام نسخے صحیح ہیں اور اضافہ یا کمی سے محفوظ ہیں۔
اور جو کچھ ہم نے ذکر کیا ہے اسے تسلیم کرتے ہوئے، ہمیں ایک معتبر سلسلہ سند کی ضرورت ہے جس کے ذریعے نسخے کی صحت ثابت ہو، اس طرح کہ صدوق ؒ یہ کہے کہ میرے شیخ نے مجھے حریز کی کتاب کے ایک مخصوص نسخے کی روایت کی اجازت دی ہے، مثلاً، اور ان کے شیخ کو بھی ان کے دور میں ان کے شیخ نے اجازت دی ہو یہاں تک کہ ثقہ راویوں کی اجازتوں کا سلسلہ خود حریز تک پہنچ جائے۔ پھر ضروری ہے کہ حریز نے خود اپنی کتاب کا ایک مخصوص نسخہ کسی ثقہ کو دیا ہو اور اسے روایت کرنے کی اجازت دی ہو، اور اس نے اپنے دور میں اسے کسی تیسرے کو دیا ہو اور اسے روایت کرنے کی اجازت دی ہو، اور اسی طرح یہ سلسلہ صدوق ؒ تک پہنچا ہو۔
اور تیسری بات: کتاب کی شہرت اور اس پر اعتماد کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس کی تمام احادیث پر بلا استثناء اعتماد کیا جائے، اور اس کا مطلب یہ ہے کہ اس پر اعتماد کرنا اس کی عمومی خصوصیت ہے، چنانچہ مثال کے طور پر، کتاب الکافی کو شیعوں کے نزدیک مشہور اور قابلِ اعتماد کتابوں میں سے شمار کیا جاتا ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اس کی تمام احادیث صحیح ہیں اور ان میں سے ہر ایک پر عمل کیا جائےگا۔
چوتھا نکتہ
کتاب الفقيه کہا جاتا ہے کہ ۵۹۶۳ احادیث پر مشتمل ہے۔ لیکن ان میں سے ایک بڑا حصہ جو مبلغ ۲۰۵۰ حدیثوں پر مشتمل ہے وہ مرسل احادیث ہیں۔
اور اسی وجہ سے مذکورہ مرسل احادیث کو صحیح قرار دینے کے طریقے پر غور کرنے کی ضرورت پیدا ہوتی ہے۔
اور بعض نے ان کی حجیت اور اس بات کے قائل ہیں کہ " الفقيه" میں صدوق ؒ کی مراسیل، حجیت اور اعتبار میں ابن ابی عمیر کی مراسیل کی طرح ہیں۔
اور ان مراسیل کی حجیت کی اس طرح بھی ثابت کیا جا سکتا ہے کہ صدوق ؒ نے مقدمہ میں بیان کیا ہے کہ وہ اپنی کتاب میں صرف وہی چیزیں ذکر کرتے ہیں جن کی صحت پر وہ خود حکم دیتے ہیں اور جن پر فتویٰ دیتے ہیں، اور جو ان کے اور ان کے ربّ کے درمیان حجت ہیں، یا اس وجہ سے بھی کہ انہوں نے مقدمہ میں یہ بھی ذکر کیا ہے کہ اس کتاب میں موجود تمام مواد ایسی مشہور اور معتبر کتابوں سے اخذ کیا گیا ہے، جن پر اعتماد اور انحصار کیا جاتا ہے۔
اور مذکورہ دونوں بیانات پر اشکال کی طرف اشارہ پہلے گزر چکا ہے۔
اور ایک رائے جس کے متعدد علماء قائل ہیں جو اس بات میں تفریق کرتی ہے کہ آیا صدوق ؒ نے " قال" (فرمایا) کے لفظ سے تعبیر کیا ہے، مثلاً یوں ذکر کیا: قال الصادق علیہ السلام: ہر پانی پاک ہے جب تک کہ تمہیں معلوم نہ ہو کہ وہ نجس ہے، اور اس کے درمیان کہ جب انہوں نے " روی " (روایت کیا گیا) کے لفظ سے تعبیر کیا ہو، اس طرح کہ انہوں نے کہا ہو: " روی عن الصادق علیہ السلام: ہر پانی ۔۔۔ تو پہلی مرسل روایت حجت ہے دوسری نہیں۔
اور ان لوگوں میں سے جنہوں نے مذکورہ تفریق اختیار کی ہے سید خوئی قدس سرہ ہیں اپنی بعض پرانی اصولی ابحاثی نشستوں میں اس توضیح کے ساتھ کہ صدوق ؒ جب " قال" کے لفظ سے تعبیر کرتے ہیں تو یہ حدیث کی صحت اور حجیت پر ان کے پختہ یقین پر دلالت ہے، ورنہ وہ اس " قال" کے لفظ سے تعبیر نہ کرتے جو روایت کے مضمون کے امام علیہ السلام سے صادر ہونے پر ان کے پختہ یقین پر دلالت کرتا ہے(۱)۔
اور اس میں غور و تأمّل واضح ہے، کیونکہ صدوق ؒ کا " قال" کے لفظ سے تعبیر کرنا اگرچہ روایت کی صحت اور حجیت پر ان کے پختہ یقین پر دلالت کرتا ہے، لیکن اس کا مطلب سند کے راویوں کی وثاقت کی گواہی نہیں ہے بلکہ یہ اس لیے ہو سکتا ہے کہ اس روایت کے ساتھ ایسے قرائن متصل ہوں جو ان کی نگاہ میں اس روایت کی سچائی پر یقین کا باعث ہو، جبکہ ہماری نگاہ میں نہ ہو۔
اور اسی وجہ سے سید خوئی قدّس سرّه نے بعد کی درسی نشستوں میں اس سے رجوع کر لیا تھا (یعنی اپنا نظریہ تبدیل کر لیا تھا) (۲) ۔
حوالے (۱)-۔ رجوع کریں الدراسات: ص ۳۲۲.
(۲)- رجوع کریں مصباح الاصول ۲: ۵۲۰.