‌دروس تمهیدیة فی القواعد الرجالیة

‌دروس تمهیدیة فی القواعد الرجالیة0%

‌دروس تمهیدیة فی القواعد الرجالیة مؤلف:
: مصنف/ مؤلف
: مصنف/ مؤلف
زمرہ جات: علم رجال

‌دروس تمهیدیة فی القواعد الرجالیة

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

مؤلف: مصنف/ مؤلف
: مصنف/ مؤلف
: مصنف/ مؤلف
زمرہ جات: مشاہدے: 7567
ڈاؤنلوڈ: 304

تبصرے:

‌دروس تمهیدیة فی القواعد الرجالیة
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 106 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 7567 / ڈاؤنلوڈ: 304
سائز سائز سائز
‌دروس تمهیدیة فی القواعد الرجالیة

‌دروس تمهیدیة فی القواعد الرجالیة

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

دونوں کتابوں کی تمام احادیث کی صحت

۲۔بعض افراد تھذیبین کی تمام احادیث کی صحت کے قائل ہیں۔ اور اس کی تشریح دو بیانات میں سے کسی ایک سے کی جا سکتی ہے:-

الف۔ فیض کاشانی ؒ سے الوافی میں شیخ ؒ کی عدۃ الاصول کے حوالے سے جو کچھ حکایت کیا گیا ہے است بنیاد بنایا جائے کہ انہوں نے کہا: " جو کچھ میں نے اپنی دونوں روایتی کتابوں میں درج کیا ہے وہ میں نے معتبر اصول سے لیا ہے " ۔ اور جب روایات معتبر کتابوں سے لی گئی ہوں تو شیخ ؒ اور صاحب کتاب کے درمیان صحیح سلسلہ سند کی ضرورت نہیں ہے۔

اور اس کا رد یہ ہے: کہ مذکورہ عبارت کا " العدۃ" میں ثابت ہونا واضح نہیں ہے۔ اور اگر اس کے ثابت ہونے کو تسلیم کر لیا جائے تو یہ جواب دیا جا سکتا ہے کہ اصل کے معتمد علیہ ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ اس کی تمام احادیث پر بلا استثناء اعتماد کیا جائے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ اس کی ایک عمومی خصوصیت ہے۔

اور یہی مقصود ہے اس بات کی تائید اس چیز سے ہوتی ہے کہ شیخ ؒ نے خود اپنی کتاب میں درج شدہ احادیث کے ایک مجموعے کی سند پر اشکال کیا ہے۔ اور جب وہ احادیث خود شیخ ؒ کی نظر میں صحیح نہیں تھیں تو ہم سے یہ کیسے توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ ہمارے نزدیک صحیح ہوں گی؟

ب۔ سید مصطفی تفریشی ؒ نے جو بات بیان کی ہے جیسا کہ صاحبِ "جامع الرواۃ"

(رجوع کریں جامع الرواة ۲: ۴۸ ۹)

نے ان کے حوالے سے نقل کیا گیا ہے کہ شیخ طوسی ؒ نے مشیخہ کے آغاز میں صراحت کی ہے کہ وہ احادیث کو اصحاب کی اصل کتابوں اور اصول سے نقل کرتے ہیں۔ پھر انہوں نے اس میں ایک دوسرے مقدمہ کا اضافہ کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ وہ کتابیں اور اصول معروف تھے اور ان کی ان کے مؤلفین کی طرف نسبت معلوم تھی اور اس میں کوئی شک نہیں تھا جیسے آج کل کتب اربعہ کی ان کے مؤلفین کی طرف نسبت کی کیفیت ہے۔ اور ایسی صورت میں ہمیں شیخ ؒ اور ان کتابوں کے مؤلفین کے درمیان صحیح سلسلہ سند کی ضرورت نہیں ہے۔

اور اس کا رد یہ ہے: جو بات پہلے بیان ہو چکی ہے کہ شیخ ؒ کے مشیخہ کے آغاز میں موجود کلام میں ایک قرینہ موجود ہے جو اس دعوے کو باطل کرتا ہے کہ یہ کتابیں اس قدر مشہور تھی کہ ان سے روایت کرنے کے لیے صحیح سند کی ضرورت نہیں رہتی۔

اور یہ قرینہ ان کا یہ قول ہے کہ میں کتابوں کے مؤلفین تک سلسلہ ذکر کرتا ہوں تاکہ جو احادیث میں نقل کر رہا ہوں وہ ارسال سے نکل کر اسناد کی طرف منتقل ہو جائیں۔

یہ اس کے علاوہ ہے جو پہلے بیان ہوا کہ کسی کتاب کی شہرت سے اس کے تمام نسخوں کی شہرت لازم نہیں آتی۔ اور ممکن ہے کہ بعض نسخے غلطیوں پر مشتمل ہوں، اس لیے ایک معتبر سند و طریق کا ہونا ضروری ہے تاکہ غلطی سے بچا جا سکے۔

علاوہ ازیں، مذکورہ دعوے کا لازمہ یہ ہے کہ شیخ ؒ کا مشیخہ لکھنا اور اس میں اپنی عمر کا ایک حصہ صرف کرنا لغو و بیکار تھا، سوائے اس کے کہ ان کا مقصد اپنی سند کو امام علیہ السلام تک پہنچا کر برکت حاصل کرنا ہو، لیکن یہ ضعیف ہے اس بنا پر کہ برکت کے لیے کثرت سے سلسلہ اسناد ذکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے، اور نہ ہی اسے کسی کتابی شکل میں درج کرنے کی ضرورت ہے بلکہ اسے دل میں یا ایک خاص کاغذ پر محفوظ رکھنا کافی ہے۔

ضعیف سلسلہ سند کا تدارک

۳۔ شیخ ؒ نے مشیخہ کے آغاز میں ذکر کیا ہے کہ جس شخص کے نام سے انہوں نے سند کا آغاز کیا ہے انہوں نے حدیث اس کی کتاب سے لی ہے۔

اور اگر ہم مشیخہ کی طرف رجوع کریں تاکہ صاحب کتاب تک سلسلہ سند معلوم کر سکیں تو ہو سکتا ہے کہ شیخ ؒ نے ان تک کوئی سلسلہ سند ذکر نہ کیا ہو یا ان تک ان کا سلسلہ سند ضعیف ہو۔

اور ایسی صورت حال میں، اس " الفھرست" کی طرف رجوع کیا جا سکتا ہے جسے انہوں نے شیعوں کے صاحبانِ کتب کے نام جمع کرنے اور ان تک اپنے سلسلہ اسناد بیان کرنے کے لیے تالیف کیا ہے۔

اور اس کتاب میں وہ مشیخہ میں جو ذکر کیا ہے اس سے زیادہ سلسلہ اسناد ذکر کرتے ہیں، چنانچہ کبھی وہ مشیخہ میں صاحب کتاب تک ایک سلسلہ سند ذکر کرتے ہیں جبکہ فہرست میں دو یا تین بلکہ وہ کبھی مشیخہ میں کسی شخص تک کوئی سلسلہ سند ذکر نہیں کرتے اور " الفھرست" میں ان تک سلسلہ سند ذکر کرتے ہیں۔

چنانچہ اگر مشیخہ میں سلسلہ سند ضعیف ہو اور " الفھرست" میں ذکر کردہ بعض سلسلۂ اسناد صحیح ہوں تو تدارک کیا جا سکتا ہے اور " الفھرست" میں ذکر کردہ صحیح سلسلہ سند سے مدد لی جا سکتی ہے۔

اور اس کی وجہ یہ ہے کہ شیخ ؒ " الفھرست" میں عموماً جب کسی شخص اور اس کی کتابوں کا ذکر مکمل کر لیتے ہیں تو اس طرح تعبیر کرتے ہیں: ہمیں اس کی تمام کتابوں اور روایات کی خبر دی فلاں نے، فلاں سے، فلاں سے۔۔۔ اور اس تعبیر سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ وہ جو کچھ بھی ان سلسلۂ اسناد میں سے کسی ایک کے ذریعے روایت کرتے ہیں، تو وہی سب کچھ دوسرے سلسلہ سند سے بھی روایت کرتے ہیں، اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس شخص کی بعض روایات کو کسی ایک سلسلہ سند سے اور باقی روایات کو دوسرے سلسلہ سند سے روایت کرتے ہیں۔

جو ہم نے بیان کیا اس کی روشنی میں " الفھرست" کے سلسلہ اسناد کے ذریعہ تدارک کا پہلو واضح ہے۔ ہاں، مشکل اس صورت میں باقی رہتی ہے جب " الفھرست" کے سلسلہ اسناد بھی ضعیف ہوں، تو کیا کچھ دیگر طریقے ہیں جن سے مدد لی جا سکے تاکہ اس مشکل پر قابو پایا جا سکے؟

اور ذیل میں ہم جدید طریقوں کا ایک حصہ بیان کرتے ہیں۔

شیخ اردبیلی ؒ کا طریقہ

شیخ محمد اردبیلی ؒ - جو شیخ مجلسی ؒ کے شاگردوں میں سے ہیں اور " جامع الرواۃ" نامی معروف کتاب کے مؤلف ہیں - کا ایک غیر مطبوعہ رسالہ ہے جس کا نام انہوں نے " رسالة تصحیح الاسانید" رکھا ہے۔

اور انہوں نے مذکورہ رسالے کے مقدمے میں بعض اسانید کے ضعف پر قابو پانے (یعنی اس کا تدارک کرنے) کا ایک طریقہ بیان کیا ہے۔

اور انہوں نے اس طریقے کا خلاصہ اپنی کتاب " جامع الرواۃ" کے آخر میں ذکر کردہ فوائد میں سے ساتویں فائدے میں درج کیا ہے۔

اور انہوں نے جو طریقہ ذکر کیا ہے اس میں کچھ ابہام ہے، جسے سید بروجردی ؒ نے اچھے انداز سے واضح کیا ہے۔

اور اس کی وضاحت کے لیے ہم درج ذیل مثال ذکر کرتے ہیں: شیخ ؒ نے " التھذیب" میں علی بن حسن طاطری سے متعدد روایات نقل کی ہیں جو اجلہ و معزز ثقات میں سے ہیں۔

چنانچہ " التھذیب" ج ۲ حدیث ۵۴۹ میں انہوں نے یہ نص ذکر کی ہے: " علی بن حسن طاطری نے کہا: مجھے حدیث بیان کی عبد اللہ بن وضاح نے، انہوں نے سماعہ بن مہران سے، انہوں نے کہا: مجھ سے ابو عبد اللہ علیہ السلام نے فرمایا: خبردار! تم زوال سے پہلے نماز نہ پڑھو، کیونکہ تمہارے لیے زوال سے پہلے نماز پڑھنے سے بہتر یہ ہے کہ تم عصر کے وقت میں نماز پڑھو۔

اور جب ہم شیخ ؒ کے طاطری تک کے سلسلہ سند کو جاننے کے لیے مشیخہ کی طرف رجوع کرتے ہیں تو ہمیں ان کا یہ قول ملتا ہے: " اور جو کچھ میں نے علی بن حسن طاطری سے ذکر کیا ہے تو مجھے خبر دی ہے اس کی احمد بن عبدون نے، انہوں نے علی بن محمد بن زبیر سے، انہوں نے ابو الملک احمد بن عمر بن کیسہ سے، انہوں نے علی بن حسن طاطری سے " ۔

یہ جملہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ طاطری تک شیخ ؒ کا سلسلہ سند تین واسطوں پر مشتمل ہے: احمد بن عبدون، علی بن محمد بن زبیر، ابو الملک۔

اور ان تینوں واسطوں کے حق میں توثیق وارد نہیں ہوئی ہے، چنانچہ سلسلہ سند ضعیف ہو جائےگا اور نتیجۃً طاطری سے شروع ہونے والی تمام روایات - جن کی تعداد ۳۴ روایات تک پہنچتی ہیں - ضعیف اور ناقابل قبول ہوں گی۔

اور اردبیلی ؒ ان روایات کی سند کو صحیح قرار دینے کے مقام پر کہتے ہیں: میں نے " التھذیب" کے مختلف ابواب کا جائزہ لیا تو میں نے باب الطواف میں دیکھا کہ شیخ ؒ چار روایات اس صورت میں ذکر کرتے ہیں: موسیٰ بن القاسم، انہوں نے علی بن حسن طاطری سے، انہوں نے درست بن ابو منصور سے، انہوں نے ابن مسکان سے، انہوں نے ابو عبد اللہ علیہ السلام سے۔

اور یہ چاروں افراد ثقہ ہیں۔

پھر انہوں نے ایک دوسرا کام کیا اور وہ یہ کہ انہوں نے " الفھرست" یا " مشیخہ" میں موسیٰ بن القاسم تک شیخ کے سلسلہ سند جائزہ لیا تو اسے صحیح پایا کیونکہ وہ اس طرح ہے: المفید، انہوں نے ابن بابویہ سے، انہوں نے محمد بن حسن بن ولید سے، انہوں نے صفار سے، انہوں نے احمد بن محمد بن عیسیٰ سے، انہوں نے موسیٰ بن القاسم سے۔

اور اس طرح ہمیں طاطری تک ایک نیا سلسلہ سند حاصل ہوتا ہے جو پہلی بات کو دوسری سے ملانے کا نتیجہ ہے، اور وہ اس صورت میں ہے: المفید، انہوں نے ابن بابویہ سے، انہوں نے محمد بن حسن بن ولید سے، انہوں نے صفار سے، انہوں نے احمد بن محمد بن عیسیٰ سے، انہوں نے موسیٰ بن قاسم سے، انہوں نے علی بن حسن طاطری سے۔ اور یہ ایک معتبر سلسلہ سند ہے۔

اور مذکورہ طریقے پر یہ اعتراض وارد ہوتا ہے کہ یہ اس فرض پر تکمیل پاتا ہے جب موسیٰ بن قاسم کے پاس طاطری کی کتاب موجود تھی جب انہوں نے اس سے مذکورہ چار روایات نقل کی تھیں۔ کیونکہ اگر یہ بنیاد مان لی جائے، تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ طاطری کی تمام روایات موسیٰ بن قاسم تک پہنچی تھیں، اور چونکہ شیخ کو موسیٰ بن قاسم تک ایک معتبر سند حاصل ہے، لہٰذا یہ نتیجہ نکلےگا کہ طاطری کی تمام روایات ہم تک ایک معتبر سند کے ذریعے پہنچی ہیں۔البتہ یہ ممکن ہے کہ موسیٰ بن قاسم کے پاس طاطری کی کتاب نہ ہو بلکہ ان کے پاس صرف طاطری سے پہلے کے راوی، جیسے درست یا ابن مسکان، کی کتاب ہو۔ تو مثال کے طور پر درست کے پاس ایک کتاب تھی جس میں بہت سی روایات تھیں جن میں سابقہ چار روایات بھی شامل تھیں، اور درست نے طاطری سے کہا: میں تمہیں اپنی اس کتاب کو روایت کرنے کی اجازت دیتا ہوں، اور طاطری نے اپنے دور میں موسیٰ بن القاسم سے کہا: میں تمہیں درست کی کتاب روایت کرنے کی اجازت دیتا ہوں " ، اور موسیٰ بن قاسم نے درست کی کتاب سے سابقہ چار روایات لی اور انہیں اپنی اس کتاب میں درج کیا جس میں وہ احادیث جمع کرتے تھے۔اس بنا پر موسیٰ بن قاسم، طاطری کی تمام روایات کے راوی نہیں ہوں گے بلکہ وہ درست کی کتاب کے راوی ہوں گے جو ان تک طاطری کے واسطے سے پہنچی ہے، اور موسیٰ کے لیے اس بنا پر یہ کہنا صحیح ہوگا کہ مجھے طاطری نے درست کے حوالے سے یہ چار روایات بیان کی۔

شیخ مجلسی ؒ کا طریقہ

شیخ مجلسی ؒ کی طرف ان کی کتاب " الاربعین" میں درج ذیل طریقہ منسوب کیا جاتا ہے: اگر شیخ طوسی ؒ کی صاحب کتاب تک سند ضعیف ہو تو جب بھی شیخ صدوق ؒ کی اس کتاب کے مؤلّف تک کی سند صحیح ہو تو شیخ صدوق ؒ کی سند پر اعتماد کیا جا سکتا ہے اور اس کے ذریعہ شیخ طوسی ؒ کی سند کا تدارک کیا جا سکتا ہے۔

اور اس کی وجہ یہ ہے: کہ شیخ طوسی ؒ کا شیخ صدوق ؒ کی تمام روایات تک سلسلہ سند صحیح ہے کیونکہ وہ شیخ صدوق ؒ کی تمام روایات شیخ مفید ؒ کے واسطے سے روایت کرتے ہیں۔

چنانچہ اگر شیخ طوسی ؒ کا شیخ صدوق ؒ کی تمام روایات تک سلسلہ سند صحیح ہو اور یہ فرض کیا جائے کہ شیخ صدوق ؒ کا بھی اس صاحبِ کتاب کی روایات تک سلسلہ سند صحیح ہے جس سے شیخ طوسی ؒ روایت کرتے ہیں تو اس طرح شیخ طوسی ؒ کا صاحبِ کتاب تک صحیح سلسلہ سند کا وجود ثابت ہو جائےگا۔

تو جب بھی شیخ طوسی ؒ کسی اصل کے مؤلف سے کوئی روایت نقل کریں اور شیخ صدوق ؒ نے وہ روایت ذکر نہ کی ہو لیکن ان کے پاس صاحبِ کتاب تک کا صحیح سلسلہ سند موجود ہو تو مذکورہ تدارک اور اس روایت تک ایک صحیح سلسلہ سند کا حصول ممکن ہو جاتا ہے۔

اور اس کا رد یہ ہے: کہ یہ بات اس فرض پر تکمیل پائےگی جب ہم یہ امکان نہ رکھے کہ کتاب کے دو مختلف نسخے موجود تھے جن میں سے ایک کو شیخ ؒ نے ضعیف سلسلہ سند سے روایت کیا ہے اور دوسرے کو صدوق ؒ نے اپنے صحیح سلسلہ سند سے روایت کیا ہے۔ لیکن یہ امکان - جو ثابت ہے اور جس کی نفی ممکن نہیں ہے - کے ہوتے ہوئے مذکورہ طریقے سے مدد نہیں لی جا سکتی کیونکہ یہ امکان ہے کہ جو حدیث شیخ طوسی ؒ روایت کرتے ہیں وہ ان کے نسخے میں موجود ہو نہ کہ شیخ صدوق ؒ کے نسخے میں۔

اور اس بات کی تائید کہ نسخے متعدد ہونے کا احتمال ہے، یہ ہے کہ شیخ طوسی ؒ نے اپنی " الفھرست" ص ۱۱۲ میں علاء بن رزین کے حالات میں بیان کیا ہے کہ ان کی ایک کتاب ہے جس کے چار نسخے ہیں اور ان کا ہر نسخے تک کا ایک خاص سلسلہ سند ہے جو دوسرے نسخے تک کے سلسلہ سند سے مختلف ہے۔

تیسرا طریقہ

جب ہمارے پاس ایک ہی روایت دو مختلف اسناد سے پہنچی ہو، اور دونوں میں کسی خاص لحاظ سے ضعف موجود ہو تو دونوں اسناد کو ملا کر ایک تیسرا سلسلہ سند حاصل کیا جا سکتا ہے۔

اس کی مثال: شیخ طوسی ؒ نے ایک روایت اس سند کے ساتھ روایت کی ہے: المفید، انہوں نے احمد بن محمد سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے سعد بن عبد اللہ سے، انہوں نے احمد بن محمد سے، انہوں نے حسین سے، انہوں نے حسن سے، انہوں نے زرعہ سے، انہوں نے سماعہ سے، انہوں نے امام صادق علیہ السلام سے ۔۔۔(۱)

اور یہی روایت کلینی ؒ نے اس طرح روایت کی ہے: محمد بن یحییٰ، انہوں نے احمد بن محمد سے، انہوں نے علی بن اسماعیل سے، انہوں نے عثمان بن عیسیٰ سے، انہوں نے زرعہ سے، انہوں نے سماعہ سے، انہوں نے امام علیہ السلام سے(۲)۔

حوالے:

(۱)- اس سند کے تمام راوی ثقہ ہیں، سوائے احمد بن محمد، شیخ مفید کے اُستاد کے، جو کہ احمد بن محمد بن حسن بن ولید ہیں۔ اس بنا پر کہ صرف "شیخوختہ الاجازۃ" ہونا اثباتِ وثاقت کے لیے کافی نہیں ہے۔

اور جہاں تک محمد بن یحییٰ، سعد، احمد بن محمد — یعنی احمد بن محمد بن عیسیٰ — اور حسین بن سعید اھوازی، حسن بن سعید اھوازی، زرعہ اور سماعہ کا تعلق ہے، تو یہ سب کے سب ثقہ ہیں۔

(۲)- اس سند کے تمام راوی ثقہ ہیں سوائے علی بن اسماعیل کے، کیونکہ محمد بن یحییٰ عطار کلینی کے معروف شیخ ہیں جو وثاقت اور جلالت کے حامل ہیں۔ اور جہاں تک احمد بن محمد بن عیسیٰ اور باقیوں کا تعلق ہے تو وہ ثقہ ہیں۔

پہلی سند میں احمد بن محمد کی وجہ سے ضعف ہے جن کے حوالے سے مفید ؒ روایت کرتے ہیں کیونکہ وہ احمد بن محمد بن حسن بن ولید ہیں جو مشائخ اجازہ میں سے ہیں،لیکن ان کی وثاقت ثابت نہیں ہے۔

اور جہاں تک دوسری سند کا تعلق ہے تو اس کا ضعف علی بن اسماعیل کی وجہ سے ہے۔

جہاں تک پہلی سند میں موجود ضعف کا تعلق ہے تو اس پر قابو پایا جا سکتا ہے اس اعتبار سے کہ احمد بن محمد بن الحسن کی موجودگی سے پیدا ہونے والا خدشہ یہ ہے کہ کیا احمد کے والد نے واقعی اپنے بیٹے احمد کو مذکورہ حدیث سنائی تھی یا احمد نے اس حدیث کو ان کی طرف جھوٹ اور بہتان کے طور پر منسوب کیا، کیونکہ اگر احمد ثقہ ہوتے تو ان کی وثاقت کے واسطے سے یہ یقین کیا جا سکتا تھا کہ ان کے والد نے انہیں خبر دی تھی اور انہوں نے اپنے والد پر بہتان نہیں باندھا تھا، اور لیکن چونکہ ہمیں ان کی وثاقت ثابت نہیں ہے اس لیے ہم اس کے اپنے والد پر جھوٹ باندھنے کا احتمال رکھتے ہیں۔

اور اس جہت کی یہ مشکل دوسری سند کے ذریعے حل کی جا سکتی ہے، کیونکہ یہ فرض کیا گیا ہے کہ کلینی ؒ دوسری سند میں کہتے ہیں کہ محمد بن یحییٰ نے مجھے مذکورہ حدیث بیان کی ہے بغیر احمد کو درمیان میں لائے۔

اور جہاں تک دوسری سند میں موجود ضعف کا تعلق ہے جو علی بن اسماعیل کی وجہ سے ہے تو اس پر پہلی سند کے ذریعے قابو پایا جا سکتا ہے، کیونکہ اگر یہ ثابت ہو جائے کہ محمد بن یحییٰ نے کلینی ؒ کو روایت بیان کی ہے تو ہم پہلی سند کو قبول کر لیں گے اور اس طرح علی بن اسماعیل کی وجہ سے پیدا ہونے والے خدشے پر قابو پا لیا جائےگا۔ اور ان دونوں سندوں کو ملانے کے بعد روایت کو قبول کیا جا سکتا ہے۔

اور اس کا رد یہ ہے: کہ ہم یہ احتمال رکھتے ہیں کہ احمد بن محمد بن حسن نے سند کے رجال کو اپنے اور امام علیہ السلام کے درمیان گھڑ لیا ہو۔ اور ہم اس کے ذریعہ یہ دعویٰ نہیں کرنا چاہتے کہ انہوں نے روایت گھڑی ہے بلکہ ہم یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ سند گھڑنے کا امکان ہے، اور ایسی صورت میں ہمارے ہاتھ میں صرف دوسری سند رہ جاتی ہے، اور اس میں علی بن اسماعیل کا وجود فرض کیا گیا ہے جس کی وثاقت ثابت نہیں ہے۔

میرزا محمد استرآبادی ؒ کا طریقہ

میرزا محمد استرآبادی ؒ - جو " منهج المقال" نامی معروف رجالی کتاب کے مؤلف ہیں - نے بعض ضعیف اسانید کو صحیح قرار دینے کا ایک طریقہ بیان کیا ہے۔

اور اس کا خلاصہ یہ ہے: کہ صدوق ؒ کا سلسلہ سند عبید بن زرارہ تک، مثلاً، حکم بن مسکین(۱)کے وجود کی وجہ سے ضعیف ہے۔ اور دو امور پر توجہ دینے کے بعد صدوق ؒ کے لیے عبید تک ایک صحیح سند نکالی جا سکتی ہے:-

حوالہ:

(۱)-رجوع کریں مشيخة الفقيه: ص ۳۱

ان میں سے ایک: نجاشی ؒ کے پاس عبید تک صحیح سند موجود ہے جہاں انہوں نے عبید کے حالات میں یہ عبارت بیان کی ہے: " ان کی ایک کتاب ہے جس کے حوالے سے ایک جماعت روایت کرتی ہے۔ ہمیں خبر دی ہمارے چند اصحاب نے، انہوں نے احمد بن محمد بن یحییٰ سے، انہوں نے عبد اللہ بن جعفر سے، انہوں نے ابو الخطاب اور محمد بن عبد الجبار اور احمد بن محمد بن عیسیٰ سے، انہوں نے محمد بن اسماعیل بن بزیع سے، انہوں نے حماد بن عثمان سے، انہوں نے عبید سے اس کی کتاب کے ذریعہ " ۔

ان میں سے دوسرا: یہ کہ عبید تک کی نجاشی ؒ کی سند کا جائزہ لینے سے یہ واضح ہوا کہ نجاشی ؒ کی سند میں موجود راویوں میں سے ایک عبد اللہ بن جعفر(۱)ہیں۔ اور جب ہم شیخ طوسی ؒ کی فہرست کا جائزہ لیں تو ہمیں ان کی عبد اللہ بن جعفر تک کی ایک سند اس طرح ملتی ہے: " ہمیں ان کی تمام کتابوں اور روایات کی خبر شیخ مفید رحمہ اللہ نے، انہوں نے ابو جعفر ابن بابویہ ؒ سے، انہوں نے اپنے والد اور محمد بن الحسن سے، انہوں نے ان سے۔

حوالہ:(۱)- اور یہ عبداللہ بن جعفر حميری ہیں، جو کہ ثقہ اور جلیل القدر شخصیت ہیں۔

اس سے ہمیں معلوم ہو جاتا ہے کہ صدوق ؒ حمیری کی تمام روایات کو صحیح سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں۔

اور ان دو امور کے واضح ہونے سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ عبید تک صدوق ؒ کا سلسلہ سند حاصل کرنا ممکن ہے کیونکہ دوسرے امر سے ہمیں معلوم ہوا تھا کہ صدوق ؒحمیری کی تمام روایات کو صحیح سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں اور فرض یہ ہے کہ ہم نے پہلے امر میں جانا تھا کہ حمیری عبید کی روایات کو صحیح سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں تو اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ صدوق ؒ، نتیجتاً، عبید تک اپنی تمام روایات ایک صحیح سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں۔

اور نئی سند اس طرح ہے: صدوق، انہوں نے اپنے والد اور محمد بن حسن سے، انہوں نے حمیری سے، انہوں نے ابو الخطاب اور محمد بن عبد الجبار اور احمد بن محمد بن عیسیٰ سے، انہوں نے محمد بن اسماعیل بن بزیع سے، انہوں نے حماد بن عثمان سے، انہوں نے عبید سے۔

یہ مذکورہ طریقہ کا خلاصہ ہے۔

اور اس کا رد یہ ہے: کہ اس طریقے سے ہر اس روایت کو صحیح قرار دیا جا سکتا ہے جس کا عبید کی کتاب میں موجود ہونا ثابت ہو اور وہ اس کی جملہ روایات میں سے ہو، لیکن یہ کیسے ثابت کیا جا سکتا ہے کہ صدوق ؒ نے اپنی کتاب " الفقيه" میں جو روایت نقل کی ہے اور جس کی سند میں حکم بن مسکین واقع ہوا ہے وہ روایت عبید کی کتاب میں موجود ہے اور اس کی جملہ روایات میں سے ہے، کیونکہ یہ فرض کیا گیا ہے کہ صدوق ؒ نے اسے حکم بن مسکین کے واسطے سے نقل کیا ہے، اور یہ ممکن ہے کہ حکم - اس کی وثاقت ثابت نہ ہونے کی بنا پر - نے اس روایت کو گھڑ لیا ہو یا اس میں اضافہ کیا ہو۔

ہاں، اگر یہ فرض کیا جائے کہ صدوق ؒ نے روایت حمیری کی کتاب سے لی ہے نہ کہ عبید کی کتاب سے تو مذکورہ طریقہ کامل و درست ہوگا، لیکن ہم یہ احتمال رکھتے ہیں کہ صدوق ؒ نے اسے عبید کی کتاب سے لیا ہے جو ان تک حکم بن مسکین کے واسطے سے پہنچی ہے۔

سید خوئی ؒ کا طریقہ

شیخ طوسی قدس سرہ نے علی بن حسن بن فضال سے کئی روایات نقل کی ہیں۔

اور جب ہم " الفھرست" کی طرف رجوع کرتے ہیں، تو ہم پاتے ہیں کہ شیخ ؒ یوں کہتے ہیں: " ہمیں ان کی تمام کتابوں کی خبر، اس حالت می کہ اکثر ان پر قرائت کی گئی تھی اور باقی اجازت کی صورت میں تھی، احمد بن عبدون نے دی، انہوں نے علی بن محمد بن زبیر سے ان سے سماعت اور اجازت کی صورت میں " ۔

اگرچہ شیخ ؒ اور نجاشی ؒ نے احمد بن عبدون کی صراحت کے ساتھ توثیق نہیں کی ہے، لیکن ان کی توثیق اس جہت سے کی جا سکتی ہے کہ وہ نجاشی ؒ کے مشائخ میں سے ہیں۔ اور سابقہ ابحاث میں نجاشی ؒ کے تمام مشائخ کی توثیق کا امکان بیان ہو چکا ہے۔

اور مشکل صرف علی بن محمد بن زبیر کی جہت سے ہے کیونکہ ان کی توثیق نہیں کی گئی۔

اور اس کا لازمہ یہ ہے کہ شیخ ؒ نے ابن فضال کی کتاب سے جو بھی روایات ابن زبیر کے واسطے سے روایت کی ہیں وہ سب ساقط ہو جاتی ہیں۔

اور سید خوئی قدس سرہ(۱)نے ابن زبیر کے مسئلہ پر درج ذیل بیان سے قابو پانے کی کوشش کی ہے : اگر ہم نجاشی ؒ کے رجال میں علی بن حسن بن فضال کے حالات کی طرف رجوع کریں تو ہم پاتے ہیں کہ نجاشی ؒ ابن فضال کی تمام روایات کو اس سند سے روایت کرتے ہیں جس کی ابتداء ابن عبدون سے ہوتی ہے اور اس میں ابن الزبیر واسطہ نہیں ہے، یعنی یہ ایک صحیح سند ہے۔

اس سے ہمیں یہ سمجھ آتا ہے کہ شیخ طوسی ؒ اور نجاشی ؒ کے استاد جن کے حوالے سے یہ دونوں بزرگوار ابن فضال کی روایات نقل کرتے ہیں وہ ابن عبدون ہیں۔

حوالہ:

(۱)-معجم رجال الحديث ۱: ۸۲

اور جب نجاشی ؒ کی سند صحیح ثابت ہو جائےگی تو اس طرح شیخ ؒ نے ابن فضال سے جو بھی روایات نقل کی ہیں وہ سب صحیح ثابت ہو جائےگی کیونکہ ان دونوں کا استاد ایک ہی ہے - اور یہ فرض کیا گیا ہے کہ وہ ثقہ ہیں - تو اس کا لازمہ یہ ہے کہ وہ جو کچھ اپنے دو شاگردوں - شیخ ؒ اور نجاشی ؒ - کو نقل کیا ہے وہ ایک ہی ہوگا، کیونکہ اگر نقل شدہ بات ایک نہ ہو تو اس کا لازمہ یہ ہوتا کہ وہ اپنے دو نقلوں میں سے ایک میں جھوٹے ہیں، اور یہ اس کی وثاقت کے فرض کے خلاف ہے۔

اور جب نقل کی وحدت اور عدم اختلاف ثابت ہو جائے تو چونکہ یہ ایک نقل ابن عبدون تک صحیح سند سے پہنچا ہے - اور وہ دوسری سند ہے جو نجاشی ؒ نقل کرتے ہیں - تو اس کا لازمہ یہ ہے کہ شیخ ؒ نے ابن فضال سے جو روایات نقل کی ہیں وہ صحیح ہیں۔

اور مختصراً: ابن فضال کی کتاب چونکہ ابن عبدون تک دو سلسلہ سند سے پہنچی ہے جن میں سے ایک صحیح ہے تو اس کا لازمہ یہ ہے کہ شیخ ؒ ابن فضال کی جو بھی روایات ابن عبدون کے واسطے سے نقل کریں گے وہ حجت ہوگی۔

اور اس طریقے کا عمومی ضابطہ یہ ہے: کہ اگر شیخ ؒ کا کسی خاص راوی کی کتاب تک سند " الفھرست" اور "المشيخة" دونوں میں ضعیف ہو تو جب بھی نجاشی ؒ کی اس کتاب تک سند صحیح ہو اور ان دونوں کے شیخ و استاد جن سے وہ کتاب روایت کرتے ہیں ایک ہی ہو تو نجاشی ؒ کی صحیح سند کی مدد سے شیخ ؒ کی ضعیف سند کا تدارک کا جا سکتا ہے۔

اور سید خوئی ؒ سے پہلے سید بحر العلوم ؒ نے اپنے رجال میں اس طریقے کو اپنایا تھا جہاں انہوں نے یہ کہا تھا: " اور کبھی اس (۱) کا علم نجاشی ؒ کی کتاب سے معلوم ہوتا ہے کیونکہ وہ شیخ ؒ کے ہم عصر تھے اور ان کے اکثر مشائخ میں شریک تھے جیسے مفید، حسین بن عبید اللہ، احمد بن عبدون اور دیگر، چنانچہ جب ان کی اصل یا کتاب کی روایت ان میں سے کسی ایک کے واسطے سے معلوم ہو جائے تو وہ شیخ ؒ کے لیے سند ہوگی " (۲) ۔

حوالے:

(۱)- یعنی شیخ طوسی کی سند۔

(۲)- رجال السيد بحر العلوم ۴: ۷۵

اور مذکورہ طریقے پر دو لحاظ سے سے غور و تأمّل ممکن ہے:-

الف۔ یہ ممکن ہے کہ ابن عبدون کے پاس ابن فضال کی کتاب کے دو مختلف نسخے ہوں جن میں سے ایک دوسرے سے مختلف ہو، اور انہوں نے ایک نسخہ شیخ طوسی ؒ کو ابن زبیر کے واسطے سے نقل کیا ہو اور دوسرا نسخہ نجاشی ؒ کو کسی اور کے واسطے سے نقل کیا ہو۔ اور اس احتمال کی موجودگی میں یقین نہیں کیا جا سکتا کہ ابن عبدون نے نجاشی کو جو کچھ بھی حدیث بیان کی ہے وہ انہوں نے شیخ طوسی کو بھی بیان کی ہے۔ اور ان کے نقل کے اختلاف سے ان پر جھوٹ لازم نہیں آتا چونکہ نسخے مختلف ہیں۔

اور اگر آپ کہے: کہ ابن فضال کی احادیث جو انہوں نے امام علیہ السلام سے سنی تھیں جب ایک ہی ہیں تو پھر دونوں نسخوں کا اختلاف کہاں سے آیا؟

تو میں کہوں گا: اس کے کئی اسباب ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ ابن زبیر نے – اس اعتبار سے کہ ان کی وثاقت ثابت نہیں ہے - اپنے اس نسخے میں جو انہیں ابن فضال سے ملا تھا اس میں اضافہ کیا ہو یا اس میں تحریف کی ہو۔

ب۔ اگر مذکورہ طریقہ کبریٰ و کلی قاعدے کے لحاظ سے مکمل ہو تب بھی وہ صغریٰ و ذیلی قاعدے کے لحاظ سے مکمل نہیں ہے، یعنی مذکورہ مثال کے ذریعہ اس کے لیے ثبوت پیش کرنا کامل و درست نہیں ہے کیونکہ ابن فضال کی روایات میں شیخ (اور) نجاشی کے استاد ایک نہیں ہے، چنانچہ شیخ ؒ کی سند ابن فضال تک اگرچہ اس شکل میں ہے: ابن عبدون، انہوں نے علی بن محمد بن زبیر سے، انہوں نے ابن فضال سے، لیکن نجاشی ؒ کی سند کسی اور شکل میں ہے اور اس طرح ہے: " احمد بن حسین (۱) نے کتاب الصلاۃ ، کتاب الزکاۃ ، کتاب مناسکِ حج وغیرہ احمد بن عبد الواحد (۲) پر اس مدت میں پڑھی، جس میں نے بھی اس کے ساتھ سنا تھا۔ اور میں نے خود کتاب الصیام ان پر مشہدِ عقیقہ میں پڑھی، ابن الزبیر (۳) کے واسطے سے، انہوں نے علی بن حسن کے حوالے سے۔ اور ہمیں ابن فضال کی دیگر کتابوں کی اس سند کے ذریعہ خبر دی گئی۔ اور ہمیں خبر دی محمد بن جعفر نے " آخرین "(۴) میں، انہوں نے احمد بن محمد بن سعید سے، انہوں نے علی بن حسن سے ان کی کتابوں کے بارے میں " ۔

حوالہ جات:

(۱)-اور وہ معروف ہیں بطور ابن الغضائیری، اور وہ نجاشی اور شیخ طوسی کے ہم عصر (ساتھی) تھے۔

(۲)-اور یہ ابن عبدون ہیں۔

(۳)۔ اور یہ علی بن محمد بن زبیر ہیں۔

(۴)-یہ ایک خاص جگہ کا نام ہے۔

ان جملوں سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاتا ہے کہ نجاشی ؒ کے ابن فضال تک دو سلسلہ سند ہیں :

۱۔ابن عبدون، انہوں نے ابن زبیر سے، انہوں نے علی بن الحسن سے۔

۲۔ محمد بن جعفر، انہوں نے احمد بن محمد بن سعید سے، انہوں نے علی بن الحسن۔

اور پہلا سلسلہ سند فائدہ مند نہیں ہے کیونکہ اگرچہ وہ ابن عبدون سے شروع ہوتا ہے لیکن اس میں ابن زبیر شامل ہے جیسا کہ شیخ ؒ کی سند میں بھی شامل ہے۔

اور دوسرے سلسلہ سند اگرچہ ابن زبیر پر مشتمل نہیں ہے لیکن یہ ابن عبدون سے شروع نہیں ہوتا۔

لہذا اس صورت میں دونوں طریقے مفید نہیں ہیں، مفید وہی طریقہ ہے جو ابن عبدون سے شروع ہو اور اس کے درمیان ابن الزبیر شامل نہ ہو، کیونکہ اگر ابن عبدون سے آغاز نہ کیا جائے تو نجاشی ؒ اور شیخ طوسی ؒ کے شیخ ایک نہیں ہوں گے۔ اور اگر اس کے درمیان ابن الزبیر شامل ہو جائے تو اس اشکال کا ازالہ نہیں ہوگا جو شیخ ؒ کے اس سلسلہ سند میں موجود ہے جس سے ہم چھٹکارا حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

سید خوئی ؒ کا ایک اور طریقہ

سید خوئی قدس سرہ کا ایک اور طریقہ ہے جس سے انہوں نے احمد بن محمد بن یحییٰ اور دیگر لوگوں کے مسئلے پر قابو پانے کی کوشش کی ہے جن کی وثاقت ثابت نہیں ہوئی تھی۔

اور اس کی وضاحت کے لیے ہم درج ذیل مثال بیان کرتے ہیں: شیخ طوسی ؒ نے الاستبصار ج ۱ ص ۲۳ میں ایک روایت اس سند کے ساتھ بیان کی ہے: حسین بن عبید اللہ، انہوں نے احمد بن محمد بن یحییٰ سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے محمد بن احمد بن یحییٰ سے ،انہوں نے عمرکی سے، انہوں نے علی بن جعفر سے۔

مذکورہ سند میں کوئی خامی نہیں ہے سوائے احمد بن محمد بن یحییٰ کے لحاظ سے جہاں وثاقت ثابت کرنے کے لیے شیخوخیت الاجازہ ہونا کافی نہ ہونے کی بنا پر ان کی وثاقت ثابت نہیں ہے۔

اور ان کے مسئلے کے حل کے لیے ہم احمد اور امام علیہ السلام کے درمیان سے کسی بھی دوسرے راوی کا انتخاب کر سکتے ہیں۔ اور فرض کریں کہ ہم نے محمد بن احمد بن یحییٰ کا انتخاب کیا۔ اور اس کے بعد ہم شیخ ؒ کی کتاب " الفھرست" کی طرف رجوع کرتے ہیں، تو جب ہم پاتے ہیں کہ شیخ ؒ کا محمد بن احمد بن یحییٰ تک ایک صحیح سلسلہ سند ہے تو ہم اس صحیح سلسلہ سند سے سابقہ سند میں موجود اس ضعیف سلسلہ سند کا تدارک کریں گے(۱)۔

حوالہ:

(۱)-اور جب ہم 'الفہرست' کے صفحہ ۱۴۴ کی طرف رجوع کرتے ہیں تو ہم پاتے ہیں کہ شیخ طوسی محمد بن احمد بن یحییٰ تک دو اسناد ذکر کرتے ہیں: ان میں سے ایک صحیح ہے اور دوسرا ضعیف۔ جہاں تک ضعیف سند کا تعلق ہے، تو وہی سابقہ سند ہے جس سے ہم نجات چاہتے ہیں، اور وہ اس طرح ہے: "حسین بن عبید اللہ، انہوں نے احمد بن محمد بن یحیییٰ سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے محمد بن احمد بن یحیییٰ سے"۔ اور جو صحیح سند ہے، وہ اس طرح ہے: "ہمیں ایک جماعت نے خبر دی، انہوں نے محمد بن علی بن حسین سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے احمد بن ادریس سے، انہوں نے محمد بن احمد بن یحیییٰ سے"۔

تدارک کے اس نظریہ کی فنی و علمی تشریح یہ ہے کہ شیخ طوسی ؒ جس کے حالات بیان کرتے ہے اس کا نام اور اس کی کتابوں کا جائزہ لینے کے بعد اس طرح کہتے ہیں: ہمیں خبر دی ان کی تمام کتابوں اور روایات کی فلاں نے، انہوں نے ۔۔۔ اور فلان سے، انہوں نے ۔۔۔

چونکہ ہم نے محمد بن احمد بن یحییٰ کو سند کے درمیان میں فرض کیا ہے لہذا یہ اس بات کی تصدیق ہے کہ جس روایت کی سند زیر بحث ہے وہ ان کی جملہ روایات میں سے ہے۔ اور جب اس بات کی تصدیق ہو گئی کہ یہ ان کی جملہ روایات میں سے ہے تو اس پر پہلے بیان شدہ عمومی عبارت - ہمیں خبر دی ان کی تمام کتابوں اور روایات کی - کا اطلاق ہو جائےگا اور محمد بن احمد بن یحییٰ کے حالات میں " الفھرست" میں مذکور ان اسناد میں سے کسی ایک سے اسے صحیح قرار دینا ممکن ہو جائےگا، کیونکہ شیخ طوسی ؒ کی عبارت کا ظاہر جب وہ کہتے ہیں ہمیں خبر دی ان کی تمام کتابوں اور روایات کی۔۔۔

یہ ہے کہ جو کچھ بھی ان تک دونوں میں سے ایک سلسلہ سند سے پہنچا ہے وہ انہیں دوسرے سلسلہ سند سے بھی پہنچا ہے، چنانچہ محمد بن احمد بن یحییٰ سے ضعیف سند سے نقل کردہ روایت شیخ ؒ تک دوسری صحیح سند سے بھی پہنچی ہے۔

اور اس کے ذریعہ ہمیں ایک صحیح سند اس طرح حاصل ہو جائےگی: ایک جماعت نے محمد بن علی بن حسین سے،

انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے احمد بن ادریس سے، انہوں نے محمد بن احمد بن یحییٰ سے، انہوں نے عمرکی سے، انہوں نے علی بن جعفر سے۔

ضروری ہے کہ اس بات کی طرف توجہ دی جائے کہ جس شخص کو ہم سند کے افراد میں سے منتخب کرنے کی کوشش کریں اسے احمد بن محمد بن یحییٰ سے پہلے واقع ہونا ضروری ہے،

یعنی اس کے اور امام علیہ السلام کے درمیان واقع ہونا چاہیے اور احمد کے بعد ہونے سے فائدہ نہیں ہوگا ورنہ ہم اس مشکل سے نجات حاصل نہیں کر پائیں گے جیسا کہ واضح ہے۔

جیسا کہ یہ بھی ضروری ہے اس شخص کو جس کا انتخاب کیا گیا ہے اسے شیخ ؒ نے " الفھرست" میں ذکر کیا ہو اور اس تک بعض صحیح اسناد ذکر کیے ہوں (۱) ۔

اور سید الشہید قدس سرہ نے اپنی بعض عبارات میں اس طریقے کو پیش کیا ہے (۲)

اور اسے دو شرطوں کے ساتھ پسند کیا ہے:-

الف۔ ضعیف شخص - جس کی مشکل سے نجات مقصود ہے - سے پہلے کوئی ثقہ شخص ہو، اور شیخ طوسی ؒ کا اس تک صحیح سلسلہ سند ہو۔

اور ہماری سابقہ مثال میں احمد سے پہلے محمد بن احمد بن یحییٰ ایک ثقہ شخص ہے، اور شیخ ؒ کا ان تک صحیح سلسلہ سند ہے (۳) ۔

حوالے:

(۱)- اس طریقے کا ذکر سید خوئی نے اپنے قدیم ابحاث میں متعدد مقامات پر کیا ہے، پس تنقیح جلد ۲ صفحہ ۴۶۳، اور جلد ۳ صفحہ ۴۸۶ کی طرف رجوع کریں۔ لیکن ہم نے اپنی تمام مدتِ شاگردی کے دوران ان سے یہ بات نہیں سنی، اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اس سے عدول کر چکے تھے۔

(۲)- رجوع کریں كتاب بحوث في شرح العروة الوثقى ج ۳: ص ۱۲۵، ج ۴ ص ۵۱

(۳)- توجہ دینا چاہیے کہ یہ شرط کوئی نئی چیز نہیں ہے، اور نہ ہی سید خوئی کی مذکورہ بات پر کوئی اضافہ ہے۔