عملی تطبیقات
۱۔ وسائل میں کتاب الصلاۃ کے ابواب القیام کے باب ۵ میں حدیث ۵ میں یہ نص وارد ہوئی ہے: " علی بن جعفر نے اپنی کتاب میں اپنے برادرِ محترم (ع) سے، انہوں نے کہا: میں نے آپ علیہ السلام سے اس مریض کے بارے میں سوال کیا ۔۔۔ " ۔
یہ روایت حر عاملی ؒ نے علی بن جعفر (رض) کی کتاب سے روایت کی ہے، کیونکہ علی بن جعفر (رض) کی کتاب حر عاملی ؒ کے پاس تھی، اور یہ کتاب وسائل الشیعہ کی احادیث کے مصادر میں سے ایک ہے۔
اور ان تک کا سلسلہ سند صحیح ہے، کیونکہ صاحب الوسائل نے اپنے تمام ان مصادر کو جن پر انہیں اعتماد تھا انہیں ایسے کثیر معتبر اسناد سے روایت کیا ہے جن کی انتہاء شیخ طوسی ؒ تک ہے، اور شیخ طوسی ؒ کا علی بن جعفر (رض) تک ایک معتبر سلسلہ سند ہے۔
جہاں تک یہ بات ہے کہ حر عاملی ؒ کے پاس شیخ طوسی ؒ تک ختم ہونے والے معتبر سلسلۂ اسناد تھے تو یہ بات وسائل کے آخر میں رجوع کرنے سے واضح ہو جاتی ہے جہاں انہوں نے کچھ فوائد ذکر کیے ہیں، اور ان میں سے بعض (۱) کے ضمن میں انہوں نے ان مصادر تک اپنے سلسلہ اسناد کو ذکر کیا ہے، اور یہ کثیر اسناد ہیں جو ہمارے نیک علماء پر مشتمل ہیں۔
اور جہاں تک یہ بات ہے کہ شیخ طوسی ؒ کے علی بن جعفر (رض) تک کے سلسلہ اسناد کا تعلق ہے تو یہ صحیح ہے چونکہ مشیخہ میں ان کا سلسلہ سند اگرچہ ضعیف ہے جہاں انہوں نے کہا: " اور جو کچھ میں نے علی بن جعفر (رض) سے ذکر کیا ہے اس کی مجھے خبر دی حسین بن عبید اللہ نے، انہوں نے احمد بن محمد بن یحییٰ سے، انہوں نے اپنے والد محمد بن یحییٰ سے، انہوں نے عمرکی نیسابوری بوفکی سے، انہوں نے علی بن جعفر (رض) سے " ۔ اور احمد بن محمد بن یحییٰ کی وثاقت ثابت نہیں ہے، وثاقت کے ثابت کرنے میں " شيخوخة الاجازة" ہونا کافی نہ ہونے کی بنا پر۔
حوالے:(۱)- اور یہ پانچواں فائدہ ہے۔
اور مختصراً، شیخ ؒ کا مشیخہ میں سلسلہ سند اگرچہ ضعیف ہے لیکن " الفھرست" میں صحیح ہے جہاں انہوں نے کہا: " ہمیں اس کے بارے میں خبر دی ایک جماعت نے، انہوں نے محمد بن علی بن حسین سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے محمد بن یحییٰ سے، انہوں نے عمرکی خراسانی بوفکی سے، انہوں نے علی بن جعفر (رض) سے، انہوں نے اپنے برادر محترم امام موسیٰ کاظم علیہ السلام سے۔ اور اسے روایت کیا ہے ابو جعفر محمد بن علی بن حسین بن بابویہ نے اپنے والد سے، انہوں نے سعد، حمیری اور احمد بن ادریس اور علی بن موسیٰ سے، انہوں نے احمد بن محمد سے، انہوں نے موسیٰ بن قاسم بجلی سے، انہوں نے ان سے " ۔
اس عبارت میں شیخ ؒ علی بن جعفر (رض) تک دو سلسلہ اسناد ذکر کرتے ہیں، جو یہ ہیں:-
الف ۔ جماعة عن محمد بن علي بن الحسين عن ابيه عن محمد بن يحيى عن العمركي عن علي بن جعفر
اور یہ سلسلہ سند صحیح ہے۔
جہاں تک جماعت کا تعلق ہے تو یہ کم از کم تین ہیں، اور ہم شیخ طوسی ؒ کے تین مشائخ کا جھوٹ پر جمع ہونے کا احتمال نہیں رکھتے، خاص طور سے جب اطمینان حاصل کیا جا سکتا ہے کہ تینوں میں سے ایک شیخ مفید ؒ یا حسین بن عبد اللہ غضائری ؒ ہیں کیونکہ شیخ ؒ ان سے " الفھرست" میں کثرت سے نقل کرتے ہیں۔
اور جہاں تک تعلق محمد بن علی ؒ اور ان کے والد ؒ کا ہے تو وہ صدوق بیٹا اور صدوق باپ ہیں، اور دونوں توثیق سے بےنیاز ہیں۔
اور جہاں تک محمد بن یحییٰ کا تعلق ہے تو یہ کلینی ؒ کے شیخ عطار ؒ ہیں اور وہ اجلہ و معزز ثقات میں سے ہیں۔
اور جہاں تک عمرکی کا تعلق ہے تو یہ بھی ثقہ ہیں کیونکہ شیخ طوسی ؒ نے ان کی توثیق کی ہے۔
ب ۔ محمد بن علي عن ابيه عن سعد و الحميري و أحمد بن ادريس و علي بن موسى عن أحمد بن محمد عن موسى بن القاسم البجلي عنه
اور یہ سلسلہ سند بھی صحیح ہے۔ اور ہمیں پہلے سلسلہ سند کی صحت، اس سلسلہ سند کی صحت ثابت کرنے سے بےنیاز کر دیتی ہے۔
۲- حر عاملی ؒ نے اپنی وسائل کے کتاب الصلاۃ کے ابواب نافلہ شہر رمضان کے باب ۹ میں حدیث ۱ میں جو بیان کیا ہے اس کی عبارت یہ ہے: " محمد بن الحسن نے اپنی اسناد سے، انہوں نے حسین بن سعید سے، انہوں نے صفوان سے، انہوں نے ابن مسکان سے، انہوں نے الحلبی سے کہا ۔۔۔ " ۔
پھر انہوں نے روایت کا ذکر مکمل کرنے کے بعد یوں کہا: " اور اسے صدوق نے اپنی اسناد سے ابن مسکان سے روایت کیا ہے " ۔
حر عاملی ؒ کی یہ عبارت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ مذکورہ حدیث شیخ طوسی ؒ اور شیخ صدوق ؒ دونوں نے روایت کی ہے۔
اور روایت کی صحت کا حکم کرنے کے لیے دونوں سلسلہ اسناد میں سے ایک کی صحت کافی ہے، چنانچہ شیخ ؒ اور صدوق ؒ میں سے ہر ایک کے سلسلہ سند کی صحت ضروری نہیں بلکہ ان میں سے ایک کی صحت کافی ہے۔
اور چونکہ شیخ ؒ کا سلسلہ سند صحیح ہے تو صدوق ؒ کے سلسلہ سند کی حالت کی تحقیق کی ضرورت نہیں ہے۔
اور شیخ ؒ کے سلسلہ سند کی صحت ثابت کرنے کے لیے ہم کہتے ہیں:
جہاں تک حسین بن سعید اور امام علیہ السلام تک کے باقی راویوں کا تعلق ہے تو وہ سب ثقہ اجلاء ہیں۔
اور اہم شیخ ؒ کے حسین بن سعید تک کے سلسلہ سند کی حالت کی تحقیق ہے اور شیخ قدس سرہ نے مشیخہ(۱)میں اس شکل میں ایک پیچیدہ عبارت بیان کی ہے: " اور جو کچھ میں نے ذکر کیا ہے اس کتاب میں حسین بن سعید سے اس کی مجھے خبر دی شیخ ابو عبد اللہ محمد بن محمد بن نعمان اور حسین بن عبید اللہ اور احمد بن عبدون نے، ان سب نے احمد بن محمد بن حسن بن ولید سے، انہوں نے اپنے والد محمد بن حسن بن ولید سے۔
حوالہ:(۱)- رجوع کریں : "التھذیب" کے آخر میں مذکور مشیخہ کے ص ۶۳ کی طرف۔
اور مجھے اس کی خبر دی ابو الحسین بن ابی جید القمی نے بھی، انہوں نے محمد بن حسن بن ولید سے، انہوں نے حسین بن حسن بن ابان سے، انہوں نے حسین بن سعید سے۔
اور اس کی روایت کی ہے محمد بن حسن بن ولید نے بھی، انہوں نے محمد بن حسن صفار سے، انہوں نے احمد بن محمد سے، انہوں نے حسین بن سعید سے " (۱)
مذکورہ عبارت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ شیخ ؒ، ابن سعید کی احادیث کو ایسے سلسلہ سند سے روایت کرتے ہیں جس میں محمد بن حسن بن ولید واسطہ ہیں۔
حوالہ:
(۱)- اور شیخ نے اُس سابقہ عبارت کے بعد یہ الفاظ نقل کیے: "اور جو میں نے ذکر کیا ہے حسین بن سعید سے، انہوں نے حسن سے، انہوں نے زرعہ سے، انہوں نے سماعہ اور فضالۃ سے ۔۔۔"۔۔ اور یہ عبارت کسی اور سند سے حسین بن سعید تک پہنچنے کی بات بیان نہیں کر رہی، جیسا کہ یہ بات مخفی نہیں ہے اس شخص پر جس نے اس کا جائزہ لیا ہے۔
جیسا کہ یہ عبارت اس بات کی طرف بھی اشارہ کرتی ہے کہ شیخ کا ابن ولید تک دو سلسلہ سند ہیں، اور ابن ولید کے ابن سعید تک دو سلسلہ سند ہیں۔
جہاں تک شیخ سے ابن ولید تک کے دو سلسلہ سند کا تعلق ہے تو وہ یہ ہیں:-
الف- مفید اور ابن غضائری اور ابن عبدون، اور ان سب نے احمد بن محمد سے، انہوں نے اپنے والد سے۔
ب- ابن ابی جید، انہوں نے ابن الولید سے۔
اور جہاں تک ابن ولید سے ابن سعید تک کے دو سلسلہ سند کا تعلق ہے تو وہ یہ ہیں:-
الف- ابن ولید عن الحسین بن الحسن بن ابان عن ابن سعید ۔
ب- ابن ولید عن الصفار عن احمد بن محمد بن عیسیٰ عن ابن سعید ۔
اور اسے اس طرح واضح کیا جا سکتا ہے:-
شیخ طوسی ← تینوں (المفید، ابن الغضائري، ابن عبدون) احمد اور ابنِ ابی جید سے ← محمد بن حسن بن ولید سے ← حسین بن حسن بن ابان اور صفّار اور وہ ابن عیسی سے ← ابنِ سعید۔
اور شیخ کی ابن سعید تک کی سند کی صحت ثابت کرنے کے لیے، ابن ولید تک پہلے دو اسناد میں سے کسی ایک کی صحت ثابت کرنا ضروری ہے، نیز ابن سعید تک آخری دو اسناد میں سے کسی ایک کی صحت ثابت کرنا بھی ضروری ہے۔
جہاں تک پہلے دو اسناد کا تعلق ہے تو ان میں سے پہلے میں ممکن ہے کہ احمد بن محمد بن حسن بن ولید کے اعتبار سے غور و تأمّل کیا جائے اس ہر بنا رکھتے ہوئے کہ " شيخوخة الاجازة" ہونا وثاقت ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں ہے۔
اور جہاں تک دوسری سند کا تعلق ہے تو اسے صحیح قرار دیا جا سکتا ہے اس اعتبار سے کہ ابن ابی جید کی اگرچہ توثیق خاص واقع نہیں ہوئی ہے لیکن وہ نجاشی ؒ کے مشائخ میں سے ہیں، اور توثیقاتِ عامہ کے باب میں پہلے بیان ہو چکا ہے کہ نجاشی ؒ کے تمام مشائخ کی توثیق ان کی بعض عبارات کو بنیاد بنا کر کی جا سکتی ہے۔
اور جہاں تک آخری دو اسناد کا تعلق ہے تو ان میں سے پہلے پر اگرچہ حسین بن حسن بن ابان کے اعتبار سے اشکال کیا جا سکتا ہے کیونکہ ان کے حق میں کوئی توثیقِ خاص وارد نہیں ہوئی ہے (۱) ، لیکن ان میں سے دوسری سند صحیح ہے کیونکہ صفار اور احمد بن محمد بن عیسیٰ جلیل القدر ثقہ ہیں۔
چنانچہ شیخ کا ابن سعید تک کا سلسلہ سند صحیح ہے کیونکہ پہلے دو اسناد میں سے ایک اور آخری دو اسناد میں سے ایک صحیح ہے۔
حوالہ:
(۱)-کبھی ان کی توثیق اس بیان سے کی جاتی ہے کہ جب حسین بن سعید قم آئے تو وہ حسین بن حسن بن ابان کے گھر میں اترے، اور وہیں بیمار ہو گئے۔ اور وفات سے قبل انہوں نے اپنی کتابیں حسین بن حسن کے سپرد کرنے کی وصیت کی۔ ان تک ان کی کتابوں کی وصیت، جو کہ ایک اہم شیعہ حدیثی ورثہ کی حیثیت رکھتی ہیں، جنہیں انہوں نے بڑی محنت و مشقت سے حاصل کیا تھا، اور جنہیں نسل در نسل قیامت تک محفوظ رکھنا ان پر واجب ہے، یہ سب اس بات کو ظاہر و کشف کرتا ہے کہ حسین بن حسن ان کے نزدیک مکمل طور پر ثقہ تھے۔ ورنہ کیا کوئی عقلمند مؤمن یہ احتمال رکھ سکتا ہے کہ اتنے قیمتی سرمایہ کو کسی غیر ثقہ شخص کے سپرد کر دیا جائے۔