‌دروس تمهیدیة فی القواعد الرجالیة

‌دروس تمهیدیة فی القواعد الرجالیة0%

‌دروس تمهیدیة فی القواعد الرجالیة مؤلف:
: مصنف/ مؤلف
: مصنف/ مؤلف
زمرہ جات: علم رجال

‌دروس تمهیدیة فی القواعد الرجالیة

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

مؤلف: مصنف/ مؤلف
: مصنف/ مؤلف
: مصنف/ مؤلف
زمرہ جات: مشاہدے: 7552
ڈاؤنلوڈ: 304

تبصرے:

‌دروس تمهیدیة فی القواعد الرجالیة
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 106 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 7552 / ڈاؤنلوڈ: 304
سائز سائز سائز
‌دروس تمهیدیة فی القواعد الرجالیة

‌دروس تمهیدیة فی القواعد الرجالیة

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

ب۔ یہ کہ وہ ضعیف سند، جس سے نجات حاصل کرنا مقصود ہے، محمد بن احمد بن یحییٰ تک پہنچنے والے طرق و اسناد میں سے ایک کے طور پر ذکر کی گئی ہو۔

چنانچہ سابقہ مثال میں وہ ضعیف سند جس کا تدارک مقصود تھا – یعنی حسین بن عبید اللہ، انہوں نے احمد بن محمد بن یحییٰ سے، انہوں نے اپنے والد سے – " الفھرست" میں محمد بن احمد بن یحییٰ کی روایات تک کے دو سلسلہ سند میں سے ایک کے طور پر مذکور ہو۔

اور مذکورہ شرط کے اعتبار کی وجہ یہ ہے: کہ اگر وہ سند جس کی مشکل سے نجات مقصود ہے وہ دو سلسلہ سند میں سے ایک نہ ہو بلکہ ایسی ایک یا دو سند مذکور ہو جس کا ضعیف سند سے کوئی تعلق نہ ہوں تو ہم یہ نتیجہ اخذ نہیں کر سکتے کہ شیخ ؒ نے جو روایت ضعیف سند سے بیان کی ہے وہ صحیح سند سے بھی روایت کی ہے بلکہ یہ ممکن ہے کہ انہوں نے اسے صرف ضعیف سند سے روایت کیا ہو۔ لیکن اگر انہوں نے اس کا دو اسناد میں سے ایک کے طور پر ذکر کیا ہو تو مذکورہ احتمال درپیش نہیں ہوگا، کیونکہ شیخ ؒ کی عبارت - ہمیں خبر دی ان کی تمام کتابوں اور روایات کی فلاں نے، انہوں نے ۔۔۔ اور فلان سے، انہوں نے ۔۔۔- کا ظاہر یہ ہے کہ جو کچھ انہوں نے ایک سند سے روایت کیا ہے وہ انہوں نے باقی اسناد سے بھی روایت کیا ہے اور اس سے یہ مقصود نہیں ہے کہ بعض روایات انہوں نے ان میں سے بعض اسناد سے روایت کی ہیں اور بعض دیگر روایات انہوں نے دوسرے سلسلہ اسناد سے روایت کی ہیں۔

یہ مذکورہ طریقے کا خلاصہ ہے۔ اگر یہ مکمل طور پر نافذ ہو جائے تو بہت سے مواقع پر مفید اور مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔

اور ہو سکتا ہے ذہن میں یہ اشکال پیدا ہو کہ: صرف محمد بن احمد بن یحییٰ کا سند میں آنا اس بات کے یقین کا باعث نہیں بنتا کہ یہ روایت ان کی جملہ روایات میں ہو، تاکہ شیخ طوسی ؒ کی یہ عبارت - ہمیں خبر دی ان کی تمام کتابوں اور روایات کی فلاں نے، انہوں نے ۔۔۔ اور فلان سے، انہوں نے ۔۔۔ - اس پر صادق آئے، کیونکہ یہ امکان ہے کہ احمد بن محمد بن یحییٰ نے مذکورہ سند کے ساتھ روایت گھڑ لی ہو اور اسے اپنے والد اور محمد بن احمد بن یحییٰ سے منسوب کیا ہو اور وہ دونوں اس سے بری ہوں۔

اور اگر آپ چاہے تو یوں کہے: کہ اس مذکورہ طریقے کا اطلاق اس بات کے یقین پر موقوف ہے کہ یہ روایت درحقیقت محمد بن احمد بن یحییٰ کی جملہ روایات میں سے ہے۔ اور اس بات کا یقین، اس پر یقین کرنے پر موقوف ہے کہ احمد نے اس سند کے ساتھ روایت گھڑ کر جھوٹ نہیں بولا۔ اور اگر ہم یہ یقین کر لیں کہ احمد نے جھوٹ نہیں بولا، تو پھر ہمیں اس طریقے اور تدارک کے تصور سے مدد لینے کی ضرورت ہی باقی نہیں رہتی۔

اس طرح مذکورہ طریقے پر اشکال کیا جا سکتا ہے۔

لیکن یہ اشکال سید شہید ؒ نے جس دوسری شرط کا اضافہ کیا ہے اس سے ختم ہو جاتا ہے، کیونکہ وہ ضعیف سند جس کے ضعف کی ہم تدارک چاہتے ہیں اگر وہ شیخ طوسی ؒ کے ذکر کردہ دو اسناد میں سے ایک ہو تو اس کا لازمہ یہ ہے کہ ہر وہ روایت جو ضعیف سند سے روایت کی گئی ہے وہ دوسرے صحیح سند سے بھی روایت کی گئی ہے، اور چونکہ ہمارے پاس موجود روایت جس کی ہم نئی سند حاصل کرنا چاہتے ہیں وہ ان میں سے ہے جسے پہلے ضعیف سند سے روایت کیا گیا تھا تو وہ یقیناً دوسرے صحیح طریق سے بھی روایت کی گئی ہے اور احمد کے جھوٹ کا احتمال بےوقعت ہو جاتا ہے، کیونکہ شیخ ؒ خود صراحت کرتے ہیں کہ میں اسے پہلے ضعیف سند سے روایت کرتا ہوں اور ہر وہ روایت جو میں ضعیف سند سے روایت کرتا ہوں وہ میں دوسری صحیح سند سے بھی روایت کرتا ہوں۔

اور اشکال میں صحیح یہ ہے کہ کہا جائے: ہم یہ احتمال رکھتے ہیں کہ جب شیخ طوسی ؒ نے کہا " اخبرنا بجميع رواياته و كتبه فلان۔۔۔" (ہمیں خبر دی ان کی تمام روایات اور کتابوں کی فلاں نے ۔۔۔) تو اس سے ان کی مراد یہ ہے کہ محمد بن احمد بن یحییٰ جب بھی سند کی ابتدا میں آئے، تو میں ان سے ان مختلف طریقوں سے روایت کرتا ہوں، اور اس سے یہ مراد نہیں کہ میں ان طریقوں سے محمد بن احمد بن یحییٰ سے روایت کرتا ہوں چاہے وہ سند کے درمیان میں واقع ہو۔ یہ احتمال موجود ہے، اور اس کے ہوتے ہوئے مذکورہ طریقہ کو نافذ نہیں کیا جا سکتا (۱) ۔

(۱)-یہ اشکال ہمارے ذہن میں تھا یہاں تک کہ ہم نے اس اشکال کو خود سید شھید کے بیانات میں اسے دیکھا تو رجوع کریں : ان کے اصولی بحث کی تحریر ۵ : ۶۰۔ ۴۳۶۔

عملی تطبیقات

۱۔ وسائل میں کتاب الصلاۃ کے ابواب القیام کے باب ۵ میں حدیث ۵ میں یہ نص وارد ہوئی ہے: " علی بن جعفر نے اپنی کتاب میں اپنے برادرِ محترم (ع) سے، انہوں نے کہا: میں نے آپ علیہ السلام سے اس مریض کے بارے میں سوال کیا ۔۔۔ " ۔

یہ روایت حر عاملی ؒ نے علی بن جعفر (رض) کی کتاب سے روایت کی ہے، کیونکہ علی بن جعفر (رض) کی کتاب حر عاملی ؒ کے پاس تھی، اور یہ کتاب وسائل الشیعہ کی احادیث کے مصادر میں سے ایک ہے۔

اور ان تک کا سلسلہ سند صحیح ہے، کیونکہ صاحب الوسائل نے اپنے تمام ان مصادر کو جن پر انہیں اعتماد تھا انہیں ایسے کثیر معتبر اسناد سے روایت کیا ہے جن کی انتہاء شیخ طوسی ؒ تک ہے، اور شیخ طوسی ؒ کا علی بن جعفر (رض) تک ایک معتبر سلسلہ سند ہے۔

جہاں تک یہ بات ہے کہ حر عاملی ؒ کے پاس شیخ طوسی ؒ تک ختم ہونے والے معتبر سلسلۂ اسناد تھے تو یہ بات وسائل کے آخر میں رجوع کرنے سے واضح ہو جاتی ہے جہاں انہوں نے کچھ فوائد ذکر کیے ہیں، اور ان میں سے بعض (۱) کے ضمن میں انہوں نے ان مصادر تک اپنے سلسلہ اسناد کو ذکر کیا ہے، اور یہ کثیر اسناد ہیں جو ہمارے نیک علماء پر مشتمل ہیں۔

اور جہاں تک یہ بات ہے کہ شیخ طوسی ؒ کے علی بن جعفر (رض) تک کے سلسلہ اسناد کا تعلق ہے تو یہ صحیح ہے چونکہ مشیخہ میں ان کا سلسلہ سند اگرچہ ضعیف ہے جہاں انہوں نے کہا: " اور جو کچھ میں نے علی بن جعفر (رض) سے ذکر کیا ہے اس کی مجھے خبر دی حسین بن عبید اللہ نے، انہوں نے احمد بن محمد بن یحییٰ سے، انہوں نے اپنے والد محمد بن یحییٰ سے، انہوں نے عمرکی نیسابوری بوفکی سے، انہوں نے علی بن جعفر (رض) سے " ۔ اور احمد بن محمد بن یحییٰ کی وثاقت ثابت نہیں ہے، وثاقت کے ثابت کرنے میں " شيخوخة الاجازة" ہونا کافی نہ ہونے کی بنا پر۔

حوالے:(۱)- اور یہ پانچواں فائدہ ہے۔

اور مختصراً، شیخ ؒ کا مشیخہ میں سلسلہ سند اگرچہ ضعیف ہے لیکن " الفھرست" میں صحیح ہے جہاں انہوں نے کہا: " ہمیں اس کے بارے میں خبر دی ایک جماعت نے، انہوں نے محمد بن علی بن حسین سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے محمد بن یحییٰ سے، انہوں نے عمرکی خراسانی بوفکی سے، انہوں نے علی بن جعفر (رض) سے، انہوں نے اپنے برادر محترم امام موسیٰ کاظم علیہ السلام سے۔ اور اسے روایت کیا ہے ابو جعفر محمد بن علی بن حسین بن بابویہ نے اپنے والد سے، انہوں نے سعد، حمیری اور احمد بن ادریس اور علی بن موسیٰ سے، انہوں نے احمد بن محمد سے، انہوں نے موسیٰ بن قاسم بجلی سے، انہوں نے ان سے " ۔

اس عبارت میں شیخ ؒ علی بن جعفر (رض) تک دو سلسلہ اسناد ذکر کرتے ہیں، جو یہ ہیں:-

الف ۔ جماعة عن محمد بن علي بن الحسين عن ابيه عن محمد بن يحيى عن العمركي عن علي بن جعفر

اور یہ سلسلہ سند صحیح ہے۔

جہاں تک جماعت کا تعلق ہے تو یہ کم از کم تین ہیں، اور ہم شیخ طوسی ؒ کے تین مشائخ کا جھوٹ پر جمع ہونے کا احتمال نہیں رکھتے، خاص طور سے جب اطمینان حاصل کیا جا سکتا ہے کہ تینوں میں سے ایک شیخ مفید ؒ یا حسین بن عبد اللہ غضائری ؒ ہیں کیونکہ شیخ ؒ ان سے " الفھرست" میں کثرت سے نقل کرتے ہیں۔

اور جہاں تک تعلق محمد بن علی ؒ اور ان کے والد ؒ کا ہے تو وہ صدوق بیٹا اور صدوق باپ ہیں، اور دونوں توثیق سے بےنیاز ہیں۔

اور جہاں تک محمد بن یحییٰ کا تعلق ہے تو یہ کلینی ؒ کے شیخ عطار ؒ ہیں اور وہ اجلہ و معزز ثقات میں سے ہیں۔

اور جہاں تک عمرکی کا تعلق ہے تو یہ بھی ثقہ ہیں کیونکہ شیخ طوسی ؒ نے ان کی توثیق کی ہے۔

ب ۔ محمد بن علي عن ابيه عن سعد و الحميري و أحمد بن ادريس و علي بن موسى عن أحمد بن محمد عن موسى بن القاسم البجلي عنه

اور یہ سلسلہ سند بھی صحیح ہے۔ اور ہمیں پہلے سلسلہ سند کی صحت، اس سلسلہ سند کی صحت ثابت کرنے سے بےنیاز کر دیتی ہے۔

۲- حر عاملی ؒ نے اپنی وسائل کے کتاب الصلاۃ کے ابواب نافلہ شہر رمضان کے باب ۹ میں حدیث ۱ میں جو بیان کیا ہے اس کی عبارت یہ ہے: " محمد بن الحسن نے اپنی اسناد سے، انہوں نے حسین بن سعید سے، انہوں نے صفوان سے، انہوں نے ابن مسکان سے، انہوں نے الحلبی سے کہا ۔۔۔ " ۔

پھر انہوں نے روایت کا ذکر مکمل کرنے کے بعد یوں کہا: " اور اسے صدوق نے اپنی اسناد سے ابن مسکان سے روایت کیا ہے " ۔

حر عاملی ؒ کی یہ عبارت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ مذکورہ حدیث شیخ طوسی ؒ اور شیخ صدوق ؒ دونوں نے روایت کی ہے۔

اور روایت کی صحت کا حکم کرنے کے لیے دونوں سلسلہ اسناد میں سے ایک کی صحت کافی ہے، چنانچہ شیخ ؒ اور صدوق ؒ میں سے ہر ایک کے سلسلہ سند کی صحت ضروری نہیں بلکہ ان میں سے ایک کی صحت کافی ہے۔

اور چونکہ شیخ ؒ کا سلسلہ سند صحیح ہے تو صدوق ؒ کے سلسلہ سند کی حالت کی تحقیق کی ضرورت نہیں ہے۔

اور شیخ ؒ کے سلسلہ سند کی صحت ثابت کرنے کے لیے ہم کہتے ہیں:

جہاں تک حسین بن سعید اور امام علیہ السلام تک کے باقی راویوں کا تعلق ہے تو وہ سب ثقہ اجلاء ہیں۔

اور اہم شیخ ؒ کے حسین بن سعید تک کے سلسلہ سند کی حالت کی تحقیق ہے اور شیخ قدس سرہ نے مشیخہ(۱)میں اس شکل میں ایک پیچیدہ عبارت بیان کی ہے: " اور جو کچھ میں نے ذکر کیا ہے اس کتاب میں حسین بن سعید سے اس کی مجھے خبر دی شیخ ابو عبد اللہ محمد بن محمد بن نعمان اور حسین بن عبید اللہ اور احمد بن عبدون نے، ان سب نے احمد بن محمد بن حسن بن ولید سے، انہوں نے اپنے والد محمد بن حسن بن ولید سے۔

حوالہ:(۱)- رجوع کریں : "التھذیب" کے آخر میں مذکور مشیخہ کے ص ۶۳ کی طرف۔

اور مجھے اس کی خبر دی ابو الحسین بن ابی جید القمی نے بھی، انہوں نے محمد بن حسن بن ولید سے، انہوں نے حسین بن حسن بن ابان سے، انہوں نے حسین بن سعید سے۔

اور اس کی روایت کی ہے محمد بن حسن بن ولید نے بھی، انہوں نے محمد بن حسن صفار سے، انہوں نے احمد بن محمد سے، انہوں نے حسین بن سعید سے " (۱)

مذکورہ عبارت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ شیخ ؒ، ابن سعید کی احادیث کو ایسے سلسلہ سند سے روایت کرتے ہیں جس میں محمد بن حسن بن ولید واسطہ ہیں۔

حوالہ:

(۱)- اور شیخ نے اُس سابقہ عبارت کے بعد یہ الفاظ نقل کیے: "اور جو میں نے ذکر کیا ہے حسین بن سعید سے، انہوں نے حسن سے، انہوں نے زرعہ سے، انہوں نے سماعہ اور فضالۃ سے ۔۔۔"۔۔ اور یہ عبارت کسی اور سند سے حسین بن سعید تک پہنچنے کی بات بیان نہیں کر رہی، جیسا کہ یہ بات مخفی نہیں ہے اس شخص پر جس نے اس کا جائزہ لیا ہے۔

جیسا کہ یہ عبارت اس بات کی طرف بھی اشارہ کرتی ہے کہ شیخ کا ابن ولید تک دو سلسلہ سند ہیں، اور ابن ولید کے ابن سعید تک دو سلسلہ سند ہیں۔

جہاں تک شیخ سے ابن ولید تک کے دو سلسلہ سند کا تعلق ہے تو وہ یہ ہیں:-

الف- مفید اور ابن غضائری اور ابن عبدون، اور ان سب نے احمد بن محمد سے، انہوں نے اپنے والد سے۔

ب- ابن ابی جید، انہوں نے ابن الولید سے۔

اور جہاں تک ابن ولید سے ابن سعید تک کے دو سلسلہ سند کا تعلق ہے تو وہ یہ ہیں:-

الف- ابن ولید عن الحسین بن الحسن بن ابان عن ابن سعید ۔

ب- ابن ولید عن الصفار عن احمد بن محمد بن عیسیٰ عن ابن سعید ۔

اور اسے اس طرح واضح کیا جا سکتا ہے:-

شیخ طوسی ← تینوں (المفید، ابن الغضائري، ابن عبدون) احمد اور ابنِ ابی جید سے ← محمد بن حسن بن ولید سے ← حسین بن حسن بن ابان اور صفّار اور وہ ابن عیسی سے ← ابنِ سعید۔

اور شیخ کی ابن سعید تک کی سند کی صحت ثابت کرنے کے لیے، ابن ولید تک پہلے دو اسناد میں سے کسی ایک کی صحت ثابت کرنا ضروری ہے، نیز ابن سعید تک آخری دو اسناد میں سے کسی ایک کی صحت ثابت کرنا بھی ضروری ہے۔

جہاں تک پہلے دو اسناد کا تعلق ہے تو ان میں سے پہلے میں ممکن ہے کہ احمد بن محمد بن حسن بن ولید کے اعتبار سے غور و تأمّل کیا جائے اس ہر بنا رکھتے ہوئے کہ " شيخوخة الاجازة" ہونا وثاقت ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں ہے۔

اور جہاں تک دوسری سند کا تعلق ہے تو اسے صحیح قرار دیا جا سکتا ہے اس اعتبار سے کہ ابن ابی جید کی اگرچہ توثیق خاص واقع نہیں ہوئی ہے لیکن وہ نجاشی ؒ کے مشائخ میں سے ہیں، اور توثیقاتِ عامہ کے باب میں پہلے بیان ہو چکا ہے کہ نجاشی ؒ کے تمام مشائخ کی توثیق ان کی بعض عبارات کو بنیاد بنا کر کی جا سکتی ہے۔

اور جہاں تک آخری دو اسناد کا تعلق ہے تو ان میں سے پہلے پر اگرچہ حسین بن حسن بن ابان کے اعتبار سے اشکال کیا جا سکتا ہے کیونکہ ان کے حق میں کوئی توثیقِ خاص وارد نہیں ہوئی ہے (۱) ، لیکن ان میں سے دوسری سند صحیح ہے کیونکہ صفار اور احمد بن محمد بن عیسیٰ جلیل القدر ثقہ ہیں۔

چنانچہ شیخ کا ابن سعید تک کا سلسلہ سند صحیح ہے کیونکہ پہلے دو اسناد میں سے ایک اور آخری دو اسناد میں سے ایک صحیح ہے۔

حوالہ:

(۱)-کبھی ان کی توثیق اس بیان سے کی جاتی ہے کہ جب حسین بن سعید قم آئے تو وہ حسین بن حسن بن ابان کے گھر میں اترے، اور وہیں بیمار ہو گئے۔ اور وفات سے قبل انہوں نے اپنی کتابیں حسین بن حسن کے سپرد کرنے کی وصیت کی۔ ان تک ان کی کتابوں کی وصیت، جو کہ ایک اہم شیعہ حدیثی ورثہ کی حیثیت رکھتی ہیں، جنہیں انہوں نے بڑی محنت و مشقت سے حاصل کیا تھا، اور جنہیں نسل در نسل قیامت تک محفوظ رکھنا ان پر واجب ہے، یہ سب اس بات کو ظاہر و کشف کرتا ہے کہ حسین بن حسن ان کے نزدیک مکمل طور پر ثقہ تھے۔ ورنہ کیا کوئی عقلمند مؤمن یہ احتمال رکھ سکتا ہے کہ اتنے قیمتی سرمایہ کو کسی غیر ثقہ شخص کے سپرد کر دیا جائے۔

تمرینات

س۱: شیخ طوسی ؒ نے کتاب " التھذیب" کو ۔۔۔ کی شرح کے طور پر تالیف کیا، عبارت مکمل کریں۔

س۲: صاحب حدائق ؒ کا " التھذیب" کے بارے میں سخت بیان کیا ہے؟

س۳: شیخ طوسی ؒ نے کس وجہ سے کتاب " الاستبصار" تالیف کی؟

س۴: شیخ طوسی ؒ کا اپنی دونوں کتابوں میں احادیث نقل کرنے کا طریقہ کیا ہے؟

س۵: " التھذیب ین " میں موجود تمام احادیث کی صحت ثابت کرنے کے لیے پہلا بیان اور اس پر اشکال بیان کریں۔

س۶: اس کے لیے دوسرا بیان اور اس پر اشکال بیان کریں۔

س۷: ضعیف سند کے تدارک کے نظریہ سے کیا مراد ہے؟

س۸: اگر ہم حدیث کے راوی تک شیخ ؒ کا سلسلہ سند معلوم کرنے لیے " التھذیب" یا " الاستبصار" کے مشیخہ کی طرف رجوع کریں اور وہ ضعیف ہو تو ہم کیا کریں گے؟

س۹: تدارک کے باب میں شیخ اردبیلی ؒ کے طریقے کا خلاصہ بیان کریں۔

س۱۰: اس طریقے پر کس طرح سے اشکال کیا جائےگا؟

س۱۱: تدارک کے باب میں شیخ مجلسی ؒ کا طریقہ کیا ہے؟

س۱۲: اس طریقے پر کس طرح سے اشکال کیا جائےگا؟

س۱۳: تدارک کے باب میں تیسرا طریقہ واضح کریں؟

س۱۴: اس طریقے پر کس طرح سے اشکال کیا جائےگا؟

س۱۵: تدارک کے باب میں استرآبادی ؒ کا طریقہ واضح کریں؟

س۱۶: اس طریقے پر کس طرح سے اشکال کیا جائےگا؟

س۱۷: ابن فضال تک سند کو صحیح قرار دینے کے لیے سید خوئی ؒ کا طریقہ کیا ہے؟

س۱۸: مذکورہ طریقے پر کس طرح سے اشکال کیا جائےگا؟

س۱۹: تدارک کے باب میں سید خوئی ؒ کا دوسرا طریقہ کیا ہے؟

س۲۰: مذکورہ طریقے پر کس طرح سے اشکال کیا جائےگا؟

س۲۱: وہ دو شرطیں کیا ہیں جو سید شہید ؒ نے سید خوئی ؒ کے دوسرے طریقے کو قبول کرنے کے لیے بیان کیے ہیں؟

وسائل الشیعہ کے بارے میں نظریات

کتاب وسائل الشیعہ شیخ محمد بن حسن حر عاملی ؒ کی تالیف ہے جو علامہ مجلسی ؒ کے ہم عصر تھے۔

شیخ حر عاملی ؒ نے اپنی کتاب الوسائل کو متعدد مصادر سے جمع کیا جن میں سب سے اہم کتب اربعہ ہیں۔

اور ان قدس سرہ نے اپنی کتاب کے مصادر کو مقدمہ اور خاتمہ میں ذکر کیا ہے، اور ان کی تعداد تقریباً ۱۸۰ مصادر پر مشتمل ہیں۔

اور انہوں نے کتاب کے خاتمہ میں متعدد فوائد ذکر کیے ہیں جن کی تعداد ۱۲ ہیں۔

اور یہ کتاب قدیم زمانے میں تین جلدوں پر مشتمل سنگی طباعت (لیتھو پرنٹنگ) میں شائع ہوئی تھی۔ اور اس کے بعد ایران میں ۲۰ جلدوں میں طبع ہوئی تھی۔ اور پھر حال ہی میں مؤسسہ آل البیت نے زیادہ تحقیق کے ساتھ ۳۰ جلدوں میں طبع کی ہے۔

اور حر عاملی ؒ نے ہر کتاب کو متعدد ابواب میں تقسیم کیا ہے، چنانچہ کتاب الطہارۃ کو متعدد ابواب میں تقسیم کیا ہے اور انہوں نے ہر حدیث کو اس باب میں رکھا جو ان قدّس سرہ کے نزدیک اس کے مفہوم کے لحاظ سے مناسب تھا۔

اور اس کتاب کی تالیف میں ۲۰ سال صرف ہوئے۔

اور ہم اس بات کی طرف توجہ دلاتے ہیں کہ اگر معجزہ کا اطلاق ہمارے جیسے زمانے میں صحیح ہو تو اس کی ایک مثال حر عاملی ؒ کا الوسائل کی تالیف ہے، کیونکہ وہ ہر حدیث کو درج کرتے وقت کتب اربعہ کا مکمل جائزہ لیتے تاکہ یہ معلوم کر سکے کہ آیا وہ حدیث ان میں موجود ہے یا نہیں، چنانچہ اگر وہ موجود ہو تو اس کی نشاندہی کرتے ہوئے کہتے ہیں: اور صدوق ؒ یا شیخ ؒ یا کلینی ؒ نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے۔

بلکہ وہ ہر حدیث کو درج کرتے وقت صرف کتب اربعہ کے جائزے پر ہی اکتفا نہیں کرتے بلکہ تمام مصادر کا جائزہ لیتے ہیں جن کی تعداد تقریباً ایک ۱۸۰ مصادر پر مشتمل ہیں جیسا کہ پہلے بیان ہوا تھا۔

چنانچہ جب وہ طہارت کے ابواب میں سے کسی باب کے متعلق حدیث لکھتے ہیں تو وہ کتب اربعہ اور علی بن جعفر (رض) کی کتاب، الخصال، نہج البلاغہ، عیون اخبار الرضا علیہ السلام، الاختصاص، ثواب الاعمال اور دیگر مصادر کا جائزہ لیتے ہیں۔

جیسا کہ وہ ہر حدیث کو درج کرتے وقت اس میں باریک بینی سے تحقیق کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ اس سے مستفید ہونے والے احکام کو معلوم کر سکیں۔

جیسا کہ احادیث کا کوئی بھی مجموعہ اگر کسی معین حکم پر دلالت کرنے میں مشترک ہو تو وہ اس حکم کے لیے ایک خاص باب بناتے ہیں اور اس کے تحت وہ احادیث ذکر کرتے ہیں جو اس پر دلالت کرتی ہیں۔اور اس طرح کا مشکل کام سند یا متن کو نقل کرتے وقت بہت سی غلطیوں کا سبب بنتا ہے خاص طور سے جب اسانید میں نام متشابہ ہوتے ہیں جبکہ ہم الوسائل میں ایسا کچھ نہیں دیکھتے۔ اور اس سے ہمارا مقصد یہ دعویٰ کرنا نہیں ہے کہ اس میں بالکل غلطیاں نہیں ہیں بلکہ ہم یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اس میں ہونے والی غلطیاں اس طرح کے وسیع اور مشکل کام میں متوقع غلطوں سے بہت کم ہیں۔

وسائل الشیعہ پر ملاحظات

اور ہم جب حُرّ عاملی (رحمہ اللہ) کی ان عظیم اور قیمتی کوششوں کی قدر کرتے ہیں جو انہوں نے اپنی عظیم کتاب کی تالیف میں صرف کیں، جس کے ذریعے انہوں نے مجتہدین کے لیے استنباط کا راستہ ہموار کیا اور اس راستے سے بہت سی رکاوٹیں اور مشکلات کو دور کر دیا۔

اس کے ساتھ ساتھ ہم یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ اس طرح کا زبردست کام کوئی شخص الٰہی تائید اور عنایت کے بغیر انجام نہیں دے سکتا۔

ہم ساتھ میں اس بات کا بھی اعتقاد رکھتے ہیں کہ وسائل جیسی کتاب پر جو ربّانی عنایات سایہ فگن ہوئیں، ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ہمارے زمانے اور اس سے پہلے کے ہر طالب علم کی لائبریری اس کتاب پر مشتمل ہوتی ہے، اور روزانہ ہزاروں دینی طلبہ اس کا بارہا مطالعہ کرتے ہیں۔ نیز مؤلفِ وسائل کا نام ہمیشہ رحمت، رضا اور مغفرت کی دعاؤں کے ساتھ لیا جاتا ہے۔

ہم ان تمام باتوں کے باوجود بعض ضمنی نکات و ملاحظات سے صرفِ نظر نہیں کر سکتے، جن سے عام طور پر کوئی بھی کتاب خالی نہیں ہوتی۔ ہم انہیں درج ذیل طور پر پیش کرتے ہیں :

۱۔ ان قدس سرہ نے احادیث کو ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا ہے، یعنی اگر ایک ہی حدیث میں متعدد جملے ہوں تو وہ تمام جملوں کو ایک ہی باب میں ذکر نہیں کرتے بلکہ ہر جملے کو اس کے مناسب باب میں ذکر کرتے ہیں بلکہ کبھی کبھی وہ اس بات کا اشارہ بھی نہیں کرتے کہ یہ جملہ مکمل حدیث نہیں ہے بلکہ یہ ایک حدیث کے جملوں میں سے ایک جملہ ہے۔

اور کبھی کبھی اس کا منفی اثر بھی ہو سکتا ہے کیونکہ اگر جملوں کو جمع کیا جائے اور ایک دوسرے سے ملایا جائے تو ہو سکتا ہے اس سے ایسا نتیجہ حاصل کیا جائے جو ان کے متفرق ہونے کے صورت میں حاصل نہیں کیا جا سکتا تھا۔

۲۔ کبھی کبھی رجوع کرنے والے کے لیے روایت کی سند نکالنا مشکل ہو جاتا ہے، مثلاً جب وہ متعدد احادیث نقل کرتے ہیں تو پہلی حدیث میں یوں کہتے ہیں: محمد بن حسن نے اپنی اسناد سے حسین بن سعید سے، انہوں نے محمد بن ابی عمیر سے ۔۔۔ اور جب وہ دوسری سند نقل کرتے ہیں تو یوں کہتے ہیں: " و عنه عن صفوان عن منصور " (اور ان سے، انہوں نے صفوان سے، انہوں نے منصور سے ۔۔۔)

اور رجوع کرنے والے پر پر کبھی " عنه " (ان سے) کی ضمیر سے کون مراد ہے یہ مخفی ہو جاتا ہے اور وہ یہ خیال کرتا ہیں کہ یہ ضمیر شیخ طوسی (محمد بن حسن) کی طرف پلٹ رہی ہے جبکہ وہ حسین بن سعید کی طرف پلٹ رہی ہے اور مراد یوں ہے: محمد بن حسن طوسی نے اپنی اسناد سے حسین بن سعید سے، انہوں نے صفوان سے، انہوں نے منصور سے۔

یہ اور اس جیسی چیزیں وسائل میں کثیر ہیں۔ اور ممکن ہے کہ اصل ماخذ کی طرف رجوع کیے بغیر مقصود پوشیدہ رہ جائے۔

۳۔ جب وہ شیخ طوسی ؒ سے کوئی حدیث نقل کرتے ہیں تو اگر شیخ کلینی ؒ نے اس کے قریب قریب کچھ نقل کیا ہو تو حدیث کے آخر میں کہتے ہیں: اور کلینی ؒ نے بھی اسی کی مثل نقل کیا ہے، حالانکہ کلینی ؒ جو روایت نقل کرتے ہیں وہ کبھی کبھی اس روایت سے کچھ مختلف ہوتی ہے جو شیخ طوسی ؒ نقل کرتے ہیں، لیکن (صاحب وسائل ق) اس اختلاف اور اس کی نوعیت کی طرف کوئی اشارہ نہیں کرتے۔

۴۔ سند یا متن کے لحاظ سے احادیث کو نقل کرتے وقت ان کے ضبط و پختگی کا نہ ہونا، چنانچہ اگر کوئی شخص اصلی مأخذ کی طرف رجوع کرے تو وہ حر عاملی ؒ کی نقل کردہ اور اصلی مأخذ میں موجود چیزوں کے درمیان اختلاف پاتا ہے۔ اور یہ ایسی بات ہے جو اس امر کی ضرورت کو لازم کرتی ہے کہ فقیہ کو اصل ماخذ کی طرف رجوع کرنا چاہیے اور صرف " وسائل " پر اکتفا نہیں کرنا چاہیے۔

۵۔جب وہ کسی خاص مأخذ سے نقل کرتے ہیں تو اگر اس مأخذ میں کوئی اختلاف ہو تو اس مأخذ کے اختلاف کی طرف اشارہ نہیں کرتے۔ اور اسی وجہ سے استنباط کے مقام پر فقيه کے لیے اصلی مأخذ کا جائزہ لینا ضروری ہو جاتا ہے۔

۶۔ان کا صفحہ نمبر یا باب نمبر یا حدیث نمبر کے لحاظ سے مأخذ کی تشخیص نہ کرنا، چنانچہ رجوع کرنے والے کو کبھی اس جہت سے نقل کے مأخذ کی تشخیص کرنے میں طویل وقت صرف کرنا پڑتا ہے، بلکہ جب وہ شیخ طوسی ؒ سے نقل کرتے ہیں تو نقل کے مأخذ کی طرف اشارہ نہیں کرتے کہ یہ مأخذ الطہارۃ ہے یا " الاستبصار" ۔

۷۔کبھی کبھی حر عاملی ؒ باب سے مربوط بعض احادیث کو حذف کر دیتے ہیں اور ان کی طرف یہ کہتے ہوئے اشارہ کرتے ہیں: اور باب سے مربوط بعض احادیث پہلے گزر چکی ہیں یا بعد میں آئیں گی بغیر ان پہلے گزر چکی یا بعد میں آنے والی احادیث کی وضاحت کیے۔ اور اسی لیے بعض بزرگ علماء(۱)نے ان احادیث کی تشخیص کا کام انجام دیا ہے اور " الاشارات و الدلائل إلى ما تقدم و يأتي في الوسائل " کے نام سے ایک کتاب لکھی۔

۸۔حر عاملی ؒ نے ہر باب کے لیے اس سے مناسبت رکھنے والی قرآنی آیات کا موجودگی کے باوجود ذکر نہیں کیا ہے اور وہ صرف روایات کے ذکر پر اکتفا کرتے ہیں۔

حوالہ: (۱)- اور یہ شيخ عبد الصاحب الجواهري رحمه اللّه تعالى ہیں۔

اور ان ملاحظات و اشکالات سے بچنے کے لیے سید بروجردی قدس سرہ نے اپنے شاگردوں کی ایک کمیٹی تشکیل دی اور ان سے ایک حدیثی کتاب " جامع احادیث الشیعہ" کے نام سے تالیف کرنے کی درخواست کی جو سابقہ ملاحظات سے محفوظ ہوں بلکہ اس میں دیگر خصوصیات بھی ہوں جیسے دیگر ان احادیث کا ذکر جن کو صاحبِ وسائل نے بیان نہیں کیا ہے، اور یہ وہ احادیث ہیں جن کی نشاندہی بعد میں شیخ نوری ؒ نے اپنی کتاب " مستدرک الوسائل " میں کی تھی۔

اور سید بروجردی ؒ نے خود اس کمیٹی کی نگرانی کی اور ان کی زندگی میں کتاب کی تالیف مکمل ہوئی اور اس کا پہلا حصہ طبع ہوا، اور ان کی وفات کے بعد باقی حصوں کی طباعت جاری رہی، اللہ تعالیٰ ان سب کو بہترین جزا دے، جیسی جزا وہ نیکوکاروں کو عطا فرماتا ہے۔

مستدرک الوسائل

کچھ حدیثی مصادر ایسے ہیں جن سے حر عاملی ؒ نے نقل نہیں کیا ہے جیسے دعائم الاسلام اور الاشعثیات وغیرہ۔ چنانچہ میرزا حسین نوری طبرسی قدس سرہ نے ان میں چھوٹ جانے والی چیز کا تدارک کیا اور مستدرک الوسائل کے نام سے ایک کتاب تالیف کی اور ان ابواب کا ذکر بغیر کسی تبدیلی کے کیا جن کا حر عاملی ؒ نے اشارہ کیا تھا اور ہر باب کے تحت وہ احادیث ذکر کیں جو صاحب الوسائل ؒ نے ذکر نہیں کی تھیں اور وہ ان احادیث کو دوبارہ ذکر نہیں کیا ہے جن کی طرف حر عاملی ؒ نے اشارہ کیا ہے۔

اور اگرچہ نوری ؒ کا ان کے اس عظیم کام پر شکریہ ادا کیا جاتا ہے، لیکن انہوں نے جن مصادر پر اعتماد کیا ہے ان میں سے اکثر، اصحاب کے نزدیک معتبر نہیں ہیں۔ اور شاید اسی وجہ سے حر عاملی ؒ نے انہیں اپنی کتاب میں مصادر کے طور پر استعمال نہیں کیا تھا، کیونکہ یہ بعید ہے کہ صاحب وسائل ؒ کو ان مصادر تک رسائی حاصل نہ ہوئی ہو یا ان سے غفلت برتی ہو بلکہ انہیں ترک کرنا ان کے نزدیک ان مصادر کی کمزوری کی وجہ سے تھا۔

اور نوری ؒ نے اپنی کتاب میں ایک اہم کام کیا ہے اور وہ اہم رجالی فوائد کی طرف اشارہ ہے جو متلاشی و محقق کے لیے ناگزیر ہیں، جسے انہوں نے کتاب کے آخر میں ملحق کیا ہے۔ اور شاید مستدرک الوسائل کی اہمیت مذکورہ فوائد میں ہی مضمر ہے۔

اور یہ کتاب قدیم زمانے میں سنگی طباعت (لیتھو پرنٹنگ) کے ذریعے تین بڑی جلدوں میں شائع ہوئی تھی۔ اور تیسری جلد کا زیادہ تر حصہ ان رجالی فوائد پر مشتمل تھا۔

اور یہ نئی طباعت میں متعدد جلدوں میں تحقیق کے ساتھ طبع ہوئی ہے۔

الوافی

کتاب الوافی ایک حدیثی کتاب ہے جسے فیض کاشانی ؒ نے تالیف کیا ہے جو محمد بن محسن کے نام سے معروف ہیں اور کتاب " المحجۃ البیضاء" اور " تفسیر صافی" کے نام سے معروف تفسیر کے مؤلف ہیں۔

حوالہ: وہ معروف فلسفی صدرالدین شیرازی، مؤلفِ 'الأسفار الأربعة'، کے داماد تھے۔

اور انہوں نے اس میں کتب اربعہ کی احادیث جمع کی ہیں اور اس میں ان کے علاوہ کوئی احادیث شامل نہیں ہیں۔

اور اس کتاب کو جس خصوصیت نے اہم بنایا ہے وہ اس کے بیانات ہیں، چنانچہ جب وہ کوئی حدیث ذکر کرتے ہیں جس میں معنی کے لحاظ سے یا اس کے بعض لغوی مفردات کے لحاظ سے یا دیگر جہات سے کچھ ابہام ہو تو وہ اس کے آخر میں " بیان " کا لفظ ذکر کرتے ہیں اور پھر ان ابہامات کی وضاحت شروع کر دیتے ہیں، یہ وہ چیز ہے جو فیض قدس سرہ کے وسیع علم اور ان کی گہرائی کی نشاندہی کرتی ہے۔

اور انہوں نے اپنی کتاب کو ایک مقدمہ اور چودہ کتابوں اور ایک خاتمہ پر ترتیب دیا ہے۔ اور ہر کتاب کا ایک مقدمہ اور ایک خاتمہ ہے۔

اور یہ قدیم زمانے میں تین ضخیم جلدوں میں طبع ہوئی تھی۔ اور حال ہی میں متعدد جلدوں میں طبع ہوئی ہے۔

بحار الانوار

کتاب بحار الانوار شیخ محمد باقر مجلسی ؒ کی تالیف ہے جن کی وفات ۱۱۱۱ ہجری میں ہوئی تھی۔

یہ جلیل القدر شیخ، شیخ حر عاملی صاحب الوسائل ؒ کے ہم عصر تھے۔ ان میں سے ایک نے الوسائل تالیف کی اور دوسرے نے البحار۔ اور ان میں سے ہر ایک اپنی نوعیت میں ایک معجزہ ہے۔ اور بحار کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ ایک اسلامی دائرۃ المعارف (انسائیکلوپیڈیا) ہے، کیونکہ یہ فقہ و اصول، تفسیر، تاریخ، فلکیات، فلسفہ اور دیگر بہت سی چیزوں کا مجموعہ ہے۔

اور بعض لوگوں کا خیال ہے کہ علامہ مجلسی ؒ کا کارنامہ محض مختلف مصادر سے مواد جمع کرنے تک محدود ہے، مگر یہ رائے انصاف کے خلاف ہے۔ انہوں نے اپنی کتاب کو پچیس قدیمی ضخیم جلدوں(۱)میں تالیف کیا جن میں سے آٹھ جلدیں اہلِ بیت علیہم السلام کی تاریخ کے لیے مختص کی ہیں اور پانچ جلدیں مختلف شرعی احکام کے لیے اور باقی جلدیں مختلف دیگر علوم کے لیے ہیں۔

حوالہ: (۱)- اور حال ہی میں اس کی ایک نئی محقق شدہ اشاعت شائع ہوئی ہے جو سو سے زائد جلدوں پر مشتمل ہے۔

اور جب وہ ہر باب کا ذکر کرتے ہیں تو اس باب سے متعلق آیات کا ذکر کرتے ہیں اور ان کی تفسیر کرتے ہیں پھر ہر حدیث میں پیچیدہ مسائل کی وضاحت شروع کر دیتے ہیں، یہ وہ چیز ہے جو مختلف اسلامی فنون میں ان کی مکمل مہارت کی نشاندہی کرتی ہے۔

اور وہ قاری کو حیران کر دیتے ہیں جب وہ کتاب کی جلدوں کا مطالعہ کرتا ہے کہ انہیں اس عظیم ورثے کو جمع کرنے کے لیے وقت کیسے ملا اور وہ ہر حدیث میں کیسے غور و فکر کر سکے اور اس میں جو ابہام تھا اسے کیسے واضح کر سکے اور وہ ہر فن میں اس انداز سے داخل ہوئے جیسے وہی اس فن کے اصل ماہر ہے کوئی اور نہیں۔ وہ حقیقت میں اپنے دور بلکہ تمام ادوار کا معجزہ ہیں۔

اور ہم اعتقاد رکھتے ہیں کہ اس طرح کا زبردست کام کوئی شخص انجام نہیں دے سکتا جب تک کہ اسے الٰہی عنایات حاصل نہ ہوں اور ہمارے مولا و امام زمانہ حجت بن الحسن العسکری - میری روح اور تمام جہانوں کی ارواح ان پر فدا ہوں - کی دعاؤں میں شامل نہ ہو۔

اور اس عظیم شخص کا اس کتاب کو تالیف کرنے کا مقصد صرف اہلِ بیت علیہم السلام کے ورثے کو جمع کرنا اور اسے ضائع ہونے سے بچانا تھا اور رجوع کرنے والے پر اس ورثے کی حالت کی تحقیق کرنا، اور اس میں سے جو صحیح ہے اسے لینا اور ضعیف کو چھوڑنے کی ذمہ داری برقرار ہے۔ وہ اپنی کتاب کے مقدمے میں جن مصادر پر انہوں نے اعتماد کیا ہے ان کا جائزہ لیتے وقت ان میں سے بہت سے مصادر کی کمزوری کی صراحت کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود انہوں نے انہیں اپنی کتاب میں محفوظ رکھا ہے جیسا کہ سمندر موتی اور غیر موتی (دونوں) کو محفوظ رکھتا ہے اور غوطہ خور کی ذمہ داری ہے کہ وہ تمیز کرے اور پہلے کو لے اور دوسرے کو چھوڑ دے۔

چنانچہ ان کی وہ عبارتیں جن سے ہمیں تمام مصادر پر ان کے اعتماد نہ ہونے کا سمجھ میں آتا ہے، ان کا جلد اول کے صفحہ ۱۴ پر یہ قول ہے: " اور کتاب مصباح الشریعۃ و مفتاح الحقیقۃ جو ہمارے مولا صادق علیہ السلام کی طرف منسوب ہے " ۔

ان کا " المنسوب" کے لفظ سے تعبیر کرنا کتاب کی صحت پر ان کے مکمل اعتقاد نہ ہونے پر دلالت کرتا ہے۔

اور ان کا قول صفحہ ۱۶ پر: " اور وہ قدیم کتاب جسے ہم نے غَری ( نجفِ اشرف ) میں پایا - اللہ کی رحمت ہو اس سرزمین کو شرف بخشنے والے پر - وہ دعاؤں کے بارے میں بعض قدیم محدثین کی تالیف ہے۔ اور ہم نے اسے " کتابِ غَرَوی" کا نام دیا ہے " ۔

اور ان کا قول صفحہ ۱۷ پر: " کتاب التمحیص ہمارے ایک قدیم عالم کی تصنیف ہے " ۔

اس کے علاوہ دیگر مقامات بھی ہیں۔

اور اس بنا پر البحار میں جو کچھ بھی ذکر ہے اس کی کلی طور پر صحت کا حکم کرنا صحیح نہیں ہے جیسا کہ کلی طور پر عدم صحت کا حکم بھی نہیں کیا جا سکتا۔

ہاں، چونکہ مجلسی ؒ نے جن معتبر مصادر پر اعتماد کیا ہے جیسے کتب اربعہ اور دیگر جو ہمارے پاس موجود ہیں تو ہمارے لیے ان کا جائزہ لینا کافی ہے بغیر البحار کا جائزہ لینے کی ضرورت کے سوائے ان وضاحتوں اور بیانات کے جو ان قدس سرہ نے بیان کیے ہیں۔ اور باقی وہ مصادر جو ہمارے پاس نہیں ہیں چونکہ وہ ضعیف ہیں تو ہمیں ان کی جہت سے البحار کا جائزہ لینے کی ضرورت نہیں ہے۔

فصل چہارم

ہماری رجالی کتابوں کے بارے میں نظریات

حدیث کی کتابوں پر بات کرتے ہوئے ہم نے بیان کیا تھا کہ ائمہ علیہم السلام کے اصحاب نے ائمہ علیہم السلام سے جو کچھ سنا اسے ۴۰۰ مسودات میں جمع کیا جنہیں بعد میں اصول اربع مائة (چار سو اصول) کا نام دیا گیا۔ اور اس کے بعد تینوں محمدوں رضوان اللہ علیہم نے ان اصولوں کو جمع کیا اور ان کی ترتیب و تدوین کی جس کے نتیجے میں کتب اربعہ وجود میں آئیں۔

رجال کے باب میں بھی ایسی ہی صورت حال پیش آئی۔ چونکہ ائمہ علیہم السلام کے بعض اصحاب نے رجال پر کتابیں تالیف کیں۔ اور بعض کا کتاب تالیف کرنے کا طریقہ دوسروں سے مختلف تھا۔ چنانچہ بعض نے ایسی کتاب تالیف کی جس میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ان اصحاب کے نام شمار کیے گئے جنہوں نے امام امیر المؤمنین علیہم السلام کے ساتھ آپ علیہ السلام کی جنگوں میں حصہ لیا تھا۔ اور بعض نے احادیث کے راویوں کے عیوب و فضائل بیان کرنے کے لیے کتابیں لکھیں۔ اور بعض نے ایسی کتاب تالیف کی جس میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے لے کر آخری معصوم علیہ السلام تک معصومین علیہم السلام کے اصحاب کے طبقات کا ذکر تھا۔

اور شاید رجال پر سب سے پہلے لکھنے والے عبید اللہ بن ابی رافع ہیں جو امیر المؤمنین علیہم السلام کے کاتب تھے، انہوں نے ایک کتاب تالیف کی جس میں انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ان صحابہ کے نام ذکر کیے جو امیر المؤمنین علیہم السلام کے ساتھ آپ علیہ السلام کی جنگوں میں شامل تھے۔

اور اس کے بعد نجاشی ؒ، کشی ؒ اور شیخ طوسی ؒ نے ان کتابوں کو جمع کیا اور نئی رجالی کتابیں تالیف کیں جو چار معروف رجالی کتابیں ہیں۔

اور ہم ہر ایک کے بارے میں مختصر طور پر بات کریں گے۔