‌دروس تمهیدیة فی القواعد الرجالیة

‌دروس تمهیدیة فی القواعد الرجالیة0%

‌دروس تمهیدیة فی القواعد الرجالیة مؤلف:
: مصنف/ مؤلف
: مصنف/ مؤلف
زمرہ جات: علم رجال

‌دروس تمهیدیة فی القواعد الرجالیة

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

مؤلف: مصنف/ مؤلف
: مصنف/ مؤلف
: مصنف/ مؤلف
زمرہ جات: مشاہدے: 7563
ڈاؤنلوڈ: 304

تبصرے:

‌دروس تمهیدیة فی القواعد الرجالیة
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 106 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 7563 / ڈاؤنلوڈ: 304
سائز سائز سائز
‌دروس تمهیدیة فی القواعد الرجالیة

‌دروس تمهیدیة فی القواعد الرجالیة

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

عرض مترجم

تمام تعریفیں عالمین کے پروردگار اللہ کے لیے ہے، اور درود و سلام انبیاء و مرسلین کے سردار حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم اور آپ ؐ کی طیب و طاہر آل علیہم السلام پر اور دائمی لعنت ان کے تمام دشمنوں پر۔

علم و دانش کی وادیوں میں بعض علوم وہ ہیں جو صرف عقل کو جِلا بخشتے ہیں، مگر بعض ایسے بھی ہیں جو نہ صرف فکر کو روشن کرتے ہیں بلکہ عمل اور ایمان کی بنیاد کو بھی استحکام عطا کرتے ہیں۔ اہلِ معرفت پر روشن ہے کہ علومِ اسلامی کے دامن میں بے شمار گوہر پنہاں ہیں، اور ان میں علمِ رجال ایک ایسا گوہر ہے جو فقہ و حدیث کے خزانوں کی کنجی کی حیثیت رکھتا ہے۔ جب تک ایک روایت کی سند و راوی معتبر نہ ہو، اس پر فقہی و اعتقادی عمارت کھڑی کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ علمِ رجال احکامِ شریعت کے فہم اور احادیثِ معصومین علیہم السلام کے اعتماد و اعتبار کا سنگِ بنیاد ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صدیوں سے حوزہ ہائے علمیہ میں یہ علم اہمیت کا حامل رہا ہے۔

تاریخِ حوزہ پر نظر ڈالی جائے تو قدیم ادوار سے ہی مختلف درسی اور مطالعاتی کتابوں نے علمی سفر کے لیے اساس فراہم کی؛ یہ کتب متون کی گہرائی اور دقت اپنی مثال آپ ہیں، مگر اس کے ساتھ ساتھ ان کا اسلوب اور طرزِ بیان ایک خاص عہد کے علمی ماحول سے وابستہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ بعد کے زمانوں میں طلبہ کو براہِ راست ان کتابوں سے استفادہ کرنے میں دشواریاں لاحق ہوئیں؛ وقت گزرنے کے ساتھ یہ احساس بڑھتا گیا کہ ایک نئے طرز کی درسی کتب سامنے آئیں، جو علمی گہرائی کو برقرار رکھتے ہوئے سادہ، منظم اور عصرِ حاضر کے طلبہ کے ذوق کے مطابق ہوں۔اسی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے ہمارے عہد کے برجستہ عالم و محقق، آیت اللہ محمد باقر ایروانی دامت برکاتہ نے قدم بڑھایا۔ آپ نجفِ اشرف کے حوزہ علمیہ میں بلند مرتبہ استاد اور دقیق النظر محقق کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں۔ فقہ و اصول کے میدان میں آپ کی تحریریں پہلے ہی ایک نئی روشنی کا درجہ حاصل کر چکی ہیں، اور علمِ رجال میں بھی آپ کی کاوشیں حوزات کے لیے تازگی اور سہولت کا سامان فراہم کر رہی ہیں۔زیرِ نظر کتاب

" ‌دروس تمهیدیة فی القواعد الرجالیة"

دراصل اسی سلسلے کی ایک تابناک کڑی ہے؛ اس میں مؤلف نے علمِ رجال کے بنیادی قواعد کو نہایت تدریجی اور شفاف انداز میں بیان کیا ہے۔ کتاب کی امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں قدیم مآخذ کا علمی سرمایہ بھی اپنی اصل صورت میں جلوہ گر ہے، اور ساتھ ساتھ جدید اسلوب کی وضاحت بھی قاری کو سہولت بخشتی ہے۔ یوں یہ کتاب ایک ایسا پل ہے جو قدیم اور جدید کے درمیان فکری ربط و ہم آہنگی قائم کرتا ہے۔عرصہ دراز سے یہ خواہش تھی کہ درسی کتب اور خاص طور سے جدید انداز سے تحریر شدہ درسی کتب کا اردو ترجمہ سامنے آئے تاکہ حوزہات علمیہ کے طلاب کو اپنے درس کو پختہ کرنے میں اور اسی طرح سے بعض مقامات میں اساتذہ کو مشکل عبارات کو حل کرنے کے موقع پر مددگار ثابت ہو، یہ بات تو واضح ہے کہ یہ ترجمہ ہے اصل کتاب نہیں اور کوئی بھی ترجمہ کبھی بھی اصل کتاب کی جگہ نہیں لے سکتا، حقیقی محور تو اصل متن ہی رہے گا اور رہنا چاہیے۔

ان کتب کا اردو ترجمہ ہونا چاہیے یا نہیں اس کے متعلق متعدد اہل علم سے مشورہ کرتا رہا، مگر جن کی تائید اور مشورہ نے اس ارادے کو عملی جامہ پہنانے میں کلیدی کردار ادا کیا وہ برادر محترم حجّۃ الاسلام مولانا محمد رضا داؤدانی دامت برکاتہ ہیں کہ نہ فقط انہوں نے اس بات کی تائید کی کہ ان کتابوں کا ترجمہ ہونا چاہیے بلکہ اس کو امرِ لابدّ قرار دیا۔یہ اردو ترجمہ اسی آرزو کے تحت پیش کیا جا رہا ہے کہ برصغیر کے مدارس اور علمی حلقوں کے اہلِ علم و دانش بھی براہِ راست اس قیمتی علمی گنجینے سے بہرہ مند ہوں۔ امید ہے کہ یہ ترجمہ طلبہ کے لیے حصولِ فہم میں آسانی کا باعث ہوگا اور اہلِ تحقیق کے لیے رجالی مباحث میں ایک معتبر رہنما کی حیثیت اختیار کرے گا۔ ترجمہ کرتے ہوئے اس بات کا خیال رکھا ہے کہ عربی عبارت کی روانی اور علمی گہرائی کو اردو زبان کے قالب میں منتقل کیا جا سکے اور قارئین کو اس علم سے متعلق بنیادی مفاہیم کو سمجھنے میں آسانی ہو۔ اس ترجمہ میں اگر کوئی سقم یا کوتاہی نظر آئے تو اہلِ علم سے التماس ہے کہ وہ رہنمائی فرمائیں۔آخر میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کاوش کو بارگاہِ امامِ عصر عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف میں مقبول فرمائے، اور اس علمی خدمت کو دینِ مبین کے فروغ کا ذریعہ قرار دے۔

والسلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاته

دلاور حسین حجتی۹ربیع الاول ۱۴۴۷ ھ۔

حصۂ اول

تمہید

جب فقیہ کے سامنے کوئی روایت آئے اور وہ اس روایت سے کسی معین حکم کو استنباط کرنا چاہے تو اس پر مندرجہ ذیل امور کو انجام دینا لازم ہے:

الف: اس بات کو ثابت کرنا کہ اس معین حکم پر روایت دلالت کرتی ہے اور اس کا طریقہ استظہار ہے اور جب وہ اس روایت سے اس حکم پر دلالت کا استظہار کرےگا تو مذکورہ لحاظ سے مقصد تکمیل پا جائےگا۔

اور استظهار کا عمل ایک وجدانی عمل ہے جو عموماً کسی معین ضابطے کے تحت نہیں آسکتا۔

فقیہ عموماً استظهار کا دعویٰ کرنے اور اسے ثابت کرنے کا عمل فقہ میں اس وقت انجام دیتا ہے جب وہ حکم کے استنباط میں مصروف ہوتا ہے۔

ب۔دلالت کی حجّیت یا جسے اصطلاح میں حجّیتِ ظہور کہا جاتا ہے اسے ثابت کرنا۔

اور یہ وہ کام ہے جس کا اہتمام اصولی علمِ اصول کے مبحثِ حجج میں کرتا ہے۔

ج۔ خبرِ ثقہ کی حجّیت کو ثابت کرنا، ورنہ اس فرض کے بعد کہ روایت کا صادر ہونا یقینی نہیں ہے روایت کے صادر ہونے پر بنا رکھنا ممکن نہیں ہے۔

اور یہ وہ کام ہے جس کا اہتمام اصولی حجّیت خبر کی بحث میں انجام دیتا ہے۔

د۔ اس بات کو ثابت کرنا کہ یہ خبر ثقہ کی خبر ہے تاکہ خبرِ ثقہ کی حجّیت کے قاعدے کے مطابق اس کی حجّیت کا حکم جاری کرنا ممکن ہو۔ اس بات کو ثابت کرنے کے لیے سند کے راویوں کا مطالعہ ضروری ہے تاکہ معلوم ہو سکے کہ یہ اور وہ ثقہ ہے یا نہیں۔ در حقیقت ضروری ہے کہ پہلے تو اس بارے میں بحث کی جائے کہ حجّت فقط ثقہ کی خبر ہے یا اس کا دائرہ اس سے بڑھ کر ہے اور حسن یا ایسی ضعیف خبر بھی شامل ہے جس کے ضعف کا عملِ مشہور ذریعہ تدارک ہوا ہو یا۔۔۔ اور اگر حجت صرف خبرِ ثِقہ ہے تو راوی کی وثاقت ثابت کرنے کا طریقہ کیا ہے؟ کیا یہ طریقہ صرف شیخ طوسی ؒاور نجاشی ؒکی شہادت تک محدود ہے یا دیگر طریقے بھی ہیں، جیسے راوی کا سندِ کامل الزیارات یا تفسیرِ قمی میں آنا، یا اجلاء و اکابرین کا اس سے روایت کرنا، یا اس کا ایسی روایت کی سند میں ہونا جس میں بنی فضال کے بعض افراد شامل ہوں، یا ۔۔۔اور اگر خبر کی سند ضعیف ہو تو کیا اسے درست کرنے کے لیے نظریۂ تعویض (تلافی و تدارک کا نظریہ) سے مدد لی جا سکتی ہے؟یہ سوالات اور ان جیسے دیگر سوالات کے کچھ جوابات دینے کی ہم اس کتاب میں کوشش کریں گے تاکہ طالبِ علم جب استنباط کے مرحلے تک پہنچے اور اس میدان میں داخل ہونے کی کوشش کرے تو اس پہلو سے رکاوٹوں کو عبور کر سکے۔اور طالبِ علم پر لازم ہے کہ جب وہ ان مباحث کا مطالعہ کرے، جن میں سے کچھ کا ہم یہاں جائزہ لیں گے، تو وہ خود غور و فکر کرے، اجتہاد کرے اور ان کی صحت و ضعف پر تدبّر کرے، اسے ہمارے یا کسی اور کے اس دعویٰ پر کہ یہ بات درست ہے، بھروسہ نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ یہ میدان تقلید کا نہیں بلکہ اجتہاد کا ہے۔ تقلید کا میدان فقہ اور احکامِ فقہیہ ہے، نہ کہ رجالی مباحث۔

عملی تطبیق

اور ہم نے محسوس کیا ہے کہ رجالی مباحث کا محض بیان کرنا، بغیر ان میں عملی تطبیقات کے ساتھ شامل کیے، ایک ناکام معاملہ ہے، کیونکہ اس صورت میں طالبِ علم محض خالص نظری مباحث ہی میں الجھا رہتا ہے، جو اس کے لیے بیزاری اور اُکتاہٹ کا باعث بنتا ہے۔

اور ان میں سے اہم ترین مسئلہ جو اسے پیش آتا ہے وہ یہ ہے کہ وسائل الشیعہ سے احادیث کو کیسے نکالے اور سند کی صحت کو کیسے معلوم کرے۔

لہٰذا ہم وقتاً فوقتاً وسائل الشیعہ سے بعض احادیث نقل کریں گے اور ان کی سند کے مطالعے کا عملی طور پر اہتمام کریں گے۔

تطبیق (۱)

اور بطورِ مثال ہم درج ذیل مثال پیش کرتے ہیں تاکہ طالبِ علم کو یہ باور کرائیں کہ رجالی مباحث کو سمجھنا اور ان سے عملی طور پر استفادہ کرنا کس قدر ضروری ہے اور ان سے عملی طور پر کیسے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔

وسائل الشیعہ، مقدمہ عبادات کے ابواب میں سے باب ۱۶ ح۱ میں جو کہا اس کی عبارت یہ ہے: " محمد بن يعقوب، انہوں نے محمد بن يحيى سے، انہوں نے أحمد بن محمد بن عيسى سے، انہوں نے علي ابن نعمان سے، انہوں نے أبو اسامہ سے، انہوں نے أبو عبد اللّه عليه السّلام سے کہ آپ علیہ السلام نے فرمایا ایک حدیث میں: تم لوگ اپنے نفسوں کی جانب سے تبلیغ کرنے والے بنو بغیر اپنی زبانوں کے، (بلکہ اپنے عمل و کردار کے ذریعے) اور زینت کا باعث بنو، بدنامی و شرمندگی کا باعث مت بنو " ۔

مذکورہ حدیث کو حر عاملی ؒنے شیخ کلینی ؒکی الکافی سے نقل کیا ہے سند کے شروع میں موجود قرینہ کی وجہ سے چونکہ انہوں نے اپنی سند کی ابتداء میں " محمد بن یعقوب " کہا ہے اور یہ کلینی ؒہیں۔

اور مذکورہ سند کی حالت جاننے کے لیے ہم اس کا اس طرح مطالعہ کریں گے۔

جہاں تک محمد بن یعقوب ؒکا تعلق ہے تو ان کے تعارف کی ضروری نہیں ہے، اور ہم اس کی وثاقت میں کوئی شک نہیں رکھتے، کیونکہ وہ ہمارے بڑے بزرگ علما میں سے ایک ہیں جنہیں مکتب جعفریہ فخر اور عزت کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ نجاشی ؒان کے بارے میں کہتے ہیں: " وہ اپنے زمانے میں ری (شہر) کے ہمارے علماء کے شیخ و بزرگ اور رہنما تھے، اور حدیث کے معاملہ میں لوگوں میں سب سے زیادہ معتبر اور مضبوط الثبت تھے " ( معجم رجال الحديث ۱۸: ۵۰ )

اور صرف نجاشی ؒیا شیخ طوسی ؒکی توثیق کافی ہے جیسا کہ پہلے بیان ہوا تھا اور دونوں کی توثیق کا یکجا ہونا ضروری نہیں ہے۔

اور جہاں تک محمد بن یحیی کا تعلق ہے تو یہ کلینی ؒکے شیخ و استاد ہیں اور انہوں نے ان کے حوالے سے کثرت سے روایات الکافی میں بیان کی ہے اور بہت بڑے ثقہ افراد میں سے تھے۔ ان کے بارے میں نجاشی ؒکہتے ہیں: " اپنے زمانے کے ہمارے علماء کے شیخ ثقہ، عین (انتہائی معتبر) کثرت سے حدیث بیان کرنے والے "( سابقہ مأخذ ۱۸: ۳۰ ) ۔

اور جہاں تک احمد بن محمد بن عیسی کا تعلق ہے تو اشعری قمی ہیں جو اپنے بلند مقام و مرتبے کی وجہ سے معروف ہیں۔

ان کے بارے میں نجاشی ؒنے کہا: " ابو جعفر رحمہ اللہ اہل قم کے شیخ اور ان کے نمایاں فرد اور ان کے بلا تردید فقیہ تھے۔ اور یہ قائد بھی تھے جو سلطان سے ملاقات کرتے تھے۔ اور ان کی امام رضا علیہ السلام سے ملاقات ہوئی تھی "

( سابقہ مأخذ ۲: ۲۹۶ ) ۔

اور جہاں تک علی بن نعمان کا تعلق ہے تو وہ جیسا کہ نجاشی ؒنے کہا ہے : " علی ایک ثقہ، نمایاں شخصیت کے حامل، ثابت، صحیح اور واضح طریق کے حامل تھے "( معجم رجال الحديث ۱۲: ۲۱۵ ) ۔

اور جہاں تک ابو اسامہ کا تعلق ہے تو یہ زید الشحام ہیں – اور ہم نے یہ بات (کہ ابو اسامہ سے مراد زید الشحام ہے) اپنے رجالی مطالعے اور تحقیق کے ذریعے جانی ہے – اور جن کے پاس کافی مہارت یا تجربہ نہیں ہے، وہ اس معاملے کے لیے کنیت کے بیان سے مخصوص معجم رجال الحدیث کی طرف رجوع کریں تاکہ وہ اس کی اطلاع حاصل کر سکیں، کہ حصہ ۲۱ ص ۱۳ میں انہوں نے بیان کیا ہے کہ ابو اسامہ یہ وہی ابو اسامہ الشحام اور وہی زید الشحام ہے۔

اور جب ہم زید الشحام کے حالات کی طرف رجوع کرتے ہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ نجاشی ؒنے ان کی توثیق نہیں کی ہے اور فقط شیخ طوسی ؒنے ان کی توثیق یہ کہتے ہوئے کی ہے کہ : " زید الشحام جس کی کنیت ابو اسامہ تھی ثقہ ہے "

( معجم رجال الحديث ۱۲: ۲۱۵ ) ،

اور یہ کافی ہے۔

اور اس سے یہ واضح ہو گیا کہ یہ روایت صحیح السند ہے چونکہ اس کے سند کے تمام راوی ثقہ ہیں۔

غلط فہمی

کچھ لوگ سابقہ تطبیق سے اس غلط فہمی میں مبتلا ہو سکتے ہیں کہ روایات کے اسناد کی صحت یا ناسازگاری کا جاننا ایک آسان مسئلہ ہے اور اس کے لیے کسی تحقیق یا مطالعه کی ضرورت نہیں ہے، اور ایک ہی جملہ میں یہ کہنا ممکن ہے کہ: روایت اس وقت صحیح السند ہوتی ہے جب سند کے تمام راویوں کی وثاقت کی شیخ طوسی ؒیا نجاشی ؒنے گواہی دی ہو اور اگر ایسا نہ ہو تو وہ سند ضعیف ہے۔

لیکن یہ غلط فہمی ہے چونکہ وثاقت کا راستہ فقط شیخ ؒیا نجاشی ؒکی گواہی پر منحصر نہیں ہے بلکہ دیگر بہت سارے طریقے ہیں جن طریقوں کی صحت کی مقدار کا جائزہ لینا ضروری ہے، جس طرح سے اس مقام میں دیگر ایسی ابحاث بھی ہیں جن سے طالب علم بےنیاز نہیں ہو سکتا جیسا کہ یہ بات عنقریب واضح ہوگی۔

اور ایک نگاہ ابحاث کے اس طریقہ کار پر جنہیں ہم ان شاء اللہ تشکیل دیں گے، اور اس کتاب کی معلومات کی فہرست اس بات پر دلالت کرتی ہے جو ہم کہہ رہے ہیں۔

فصل اول

اور فصل اول میں ہماری گفتگو تین نکات میں واقع ہوگی:

" پہلا نکتہ: راوی کی وثاقت ثابت کرنے کے طریقوں کے متعلق بحث۔

" دوسرا نکتہ: توثیقات عامہ کے متعلق بحث۔

" تیسرا نکتہ: رجالی کے قول کی حجّیت کے مدرک کے متعلق بحث۔

ہماری ابحاث کا اسلوب

ہم اپنے رجالی ابحاث کے بیان کے طریقے کو مندرجہ ذیل فصلوں میں ترتیب دیں گے:

" فصل اول: توثیق سے مربوط امور کے بارے میں بحث۔

" فصل دوم: حدیث کی اقسام کے بارے میں بحث۔

" فصل سوم: حدیث کی بعض کتابوں کے سلسلہ میں نظریات۔

" فصل چہارم: ہماری بعض رجالی کتابوں کے سلسلہ میں نظریات۔

پہلا نکتہ راوی کی وثاقت ثابت کرنے کے طریقے

راوی کی وثاقت ثابت کرنےکے متعدد طریقے ہیں ہم ان میں سے بعض کا تذکرہ کرتے ہیں:

۱۔ معصوم علیہ السلام کی گواہی

جب معصوم علیہ السلام کسی شخص کی وثاقت کی گواہی دے تو اس طریقے سے اس شخص کی وثاقت ثابت ہو جاتی ہے اس میں کوئی اشکال نہیں ہے، جیسے جو بات زرارہ کے بارے میں وارد ہوئی ہے اس صحیح سلسلہ سند سے جس کا اختتام جمیل بن دراج پر ہوتا ہے کہ انہوں نے امام صادق علیہ السلام کے حوالے سے بیان کیا ہے کہ: متواضع و فروتن لوگوں کو جنت کی خوشخبری دو: برید بن معاویہ عجلی، ابو بصیر لیث بن بختری مرادی، محمد بن مسلم اور زرارہ یہ چار صاحبانِ فضل ہیں جو اللہ کے امانتدار ہیں اس کے حلال اور حرام پر۔ اگر یہ لوگ نہ ہوتے تو آثار نبوت ختم ہو جاتے اور نابود ہو جاتے

( معجم رجال الحديث ۷: ۲۲۲ )۔

ہاں یہ ضروری ہے کہ امام علیہ السلام کی طرف سے توثیق بیان کرنے والا راوی بذات خود وہی شخص نہ ہو جس کی امام علیہ السلام کی گواہی کے ذریعہ وثاقت ثابت کرنا مقصود ہو، ورنہ یہ دور سے زیادہ مشابہ ہو جائےگا۔

۲۔ بزرگ علماء میں سے کسی ایک کی وثاقت کی گواہی

نجاشی کے نام سے معروف شیخ ابو العباس احمد بن علی بن عباس ؒ– جو شیخ طوسی ؒکے ہم عصر تھے اور بعض دروس میں ان کے ساتھی تھے – نے اپنی مشہور کتاب " فہرست مصنفی الشیعۃ" تالیف کی اور اس میں ان افراد کو جمع کیا جنہوں نے کتاب تالیف کی ہے اور ساتھ ہی اکثر جگہوں پر اس صاحب کتاب کے ثقہ یا ضعیف ہونے کی طرف بھی اشارہ کیا ہے۔

اسی طرح سے شیخ طوسی ؒنے دو کتابیں تالیف کی جن میں سے ایک کا نام " الفہرست " ہے اور دوسرے کا نام " رجال الشیخ الطوسی" ہے۔ اور انہوں نے ان دونوں کتابوں میں بعض اوقات بعض راویوں کی توثیق یا تضعیف کا ذکر کیا ہے۔اور اسی طرح سے کشی ؒکے نام سے معروف شیخ ابو عمرو محمد بن عمر بن عبد العزیر – انہیں شیخ کلینی ؒکے طبقہ میں شمار کیا جاتا ہے – نے اپنی مشہور کتاب " رجال الکشی " تالیف کی۔ اور انہوں نے اس میں بعض راویوں کے بارے میں وارد شدہ روایات کو جمع کرنے کا اہتمام کیا ہے، البتہ انہوں نے اکثر مقامات میں اور براہِ راست راویوں کی تضعیف اور توثیق کرنے سے اجتناب کیا ہے۔ ان تینوں بزرگواروں میں سے کسی ایک کا کسی معین راوی کی توثیق کرنا اس کی وثاقت ثابت کرنے کا ذریعہ ہے، اس کی دلیل یہ ہے کہ صاحبانِ عقل کی یہ سیرت و طریقہ ہے کہ تمام مقامات میں ثقہ کی خبر پر عمل کرتے ہیں اور ان مقامات میں سے ایک توثیق کا مقام بھی ہے، اور چونکہ اس سیرت کو (معصومین علیہم السلام کی جانب سے) ممنوع قرار دیا جانا ثابت نہیں ہے لہذا یہ شرعی طور پر امضاء شدہ تصوّر کی جائےگی

( اور دوسرے نکتہ میں یہ بات آئےگی کہ رجالی کے قول کی حجّیت کا مدرک بیان کرنے کے لیے دوسری صورتیں بھی ہیں۔)

اور ایک کی گواہی کافی ہے ایک سے زائد کی گواہی لازم نہیں ہے چونکہ مذکورہ سیرت ایک پر اکتفاء کرنے سے قائم ہو جاتی ہے۔

کیا ہمارے بعض متأخرین علماء کی توثیق – جیسے علامہ حلی ؒ، ابن طاوس ؒ، شہید ثانی ؒاور ابن داؤد ؒ– اس بات کا ذریعہ بن سکتی ہے؟ اس میں اختلاف ہے جس کا ہم ان شاء اللہ دوسرے حصے میں جائزہ لیں گے۔

۳۔ وثاقت پر اجماع

بعض ایسے راوی ہیں جن کی وثاقت کی نجاشی ؒاور دوسروں نے وضاحت نہیں کی ہے لیکن ان افراد میں سے ہیں جن کی روایت قابل قبول ہونے پر شیعوں کا اجماع ہونے کا کشی ؒنے دعوی کیا ہے۔

بطور مثال ابان بن عثمان جو ابان الاحمر کے نام سے معروف ہیں جن کی وثاقت کی گواہی نہ تو نجاشی ؒنے دی ہے اور نہ ہی کسی اور نے لیکن یہ امام صادق علیہ السلام کے ان چھ اصحاب میں سے ہیں جن کی تصدیق پر اجماع ہونے کا کشی ؒنے دعوی کیا ہے جیسا کہ انہوں نے کہا اپنی اس عبارت میں: " شیعہ علماء کا اجماع ہے اسے صحیح قرار دینے پر جسے یہ افراد صحیح قرار دیں اور اس بات کی تصدیق پر جسے یہ افراد بیان کریں اور شیعہ علماء نے ان کے فقه (علم و فقاہت) کو تسلیم کیا ہے: جمیل بن دراج، عبد اللہ بن بکیر، حماد بن عثمان، حماد بن عیسی اور ابان ابن عثمان" ( رجال الكشي: رقم ۷۰۵ )

اور وثاقت کے اثبات کے لیے مذکورہ اجماع کی حجیت کو اس طرح واضح کیا جاتا ہے: اگر کشی ؒاپنے اجماع کے دعوی میں حق پر ہے اور واقعی وہاں وثاقت پر اجماع موجود ہے، تو یہی مطلوب ہے، اور اگر وہ اس سلسلہ میں حق تک نہیں پہنچ سکے ہیں، اور حقیقت میں اجماع کا وجود نہیں ہے تو ہمارے لیے وثاقت کے اثبات کے لیے کشی ؒکی ضمنی اور پوشیدہ گواہی کافی ہے، چونکہ ان کا ان چھ افراد کی وثاقت پر اجماع کا دعوی ان کی طرف سے ان افراد کی وثاقت کی گواہی کو اپنے اندر مضمر اور پوشیدہ کیے ہوئے ہے، اور وثاقت ثابت کرنے کے لیے یہ کافی ہے۔

۴۔ امام علیہ السلام کی طرف سے حاصل وکالت

وکالت کبھی عمومی نمائندگی کی سطح پر اور تمام شعبوں میں ہوتی ہے، اور کبھی کسی خاص شعبے تک محدود ہوتی ہے۔

پہلی وکالت وہ ہے جسے سفارت کہا جاتا ہے، اور اس کی وثاقت پر دلالت میں کوئی شک نہیں ہے بلکہ یہ تو اس سے بھی اعلیٰ مرتبے اور بلند مقام پر دلیل ہے۔

بحث فقط دوسری قسم کے وثاقت پر دلالت کے بارے میں ہے کہ فقہاء کی ایک جماعت جن میں سید خوئی قدّس سرہ بھی شامل ہیں، نے اس کا انکار کیا ہے یہ دلیل پیش کرتے ہوئے کہ ہم بہت سے ایسے وکلاء کا مشاہدہ کرتے ہیں کہ ائمہ علیہم السلام کی طرف سے ان کی مذمت صادر ہوئی ہیں۔ اور شیخ طوسی ؒنے اپنی کتاب " الغیبہ" میں " الوکلاء المذمومین" کے نام سے ایک خاص باب تشکیل دیا ہے۔( معجم رجال الحديث ۱: ۷۵ )

اور صحیح یہ ہے کہ وکالت وثاقت کی دلیل ہے، کیونکہ سیرت عقلائیہ اس بات پر قائم ہے کہ صاحبِ عقل اپنے کسی بھی کام کو غیر قابلِ اعتماد شخص کو نہیں سونپتا، اور خاص طور پر امام علیہ السلام، کیونکہ غیر قابلِ اعتماد شخص امام کے مقام کے لیے کوئی ایسی بات منسوب کر سکتا ہے جس کا امام علیہ السلام سے کوئی تعلق نہ ہو، اور یہ بات بعض پہلوؤں سے نقصان دہ یا خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

اور اگر کہا جائے کے ایسی صورت میں بعض وکلاء کے بارے میں صادر ہونے والی مذمت کی کیا تشریح کی جائےگی؟

تو جواب یہ ہے کہ: یہ مذمت ان کو وکیل بنا دیئے جانے کے بعد صادر ہوئی تھی نہ کہ اس سے پہلے۔

اور یہ بات مخفی نہیں ہے کہ اگر ہم وکیل ہونا ثقہ ہونے پر دلیل ہونے کی بات کو قبول کریں تو ہم ایسے متعدد راویوں کی وثاقت حاصل کر سکتے ہیں جنہیں مجہول اور ضعیف راویوں کی صف میں شمار کیا جاتا ہے، ہم ان کے درمیان میں سے علی بن حمزہ بطائنی کا تذکرہ کرتے ہیں، یہ امام کاظم علیہ السلام کے وکلاء اور آپ علیہ السلام کے اموال کے منتظمین میں سے تھا۔ بزرگ علماء کا اس کے بارے میں اختلاف ہے (کہ آیا یہ ثقہ تھا یا غیر ثقہ) تو اگر ہم اس بات کے قائل ہیں کہ وکالت وثاقت پر دلیل ہے تو اس بات کو بنیاد بنا کر اسے ثقہ قرار دینا ممکن ہو جائےگا اور ہم نتیجۃً ان روایات کے ایک بڑے مجموعے کو صحیح قرار دیں گے جن کی سند میں بطائنی ہے چونکہ بطائنی بہت ساری روایات کی اسناد میں واقع ہے۔

۵۔ ثقہ کی روایت

صاحب مستدرک میرزا حسین نوری ؒاس بات کے قائل ہیں کہ ثقہ جب کسی شخص سے روایت کرے تو یہ اس شخص کی وثاقت پر دلیل ہے۔

اور صحیح یہ ہے کہ یہ وثاقت پر دلیل نہیں ہے، کیونکہ کتنے ہی ثقہ راوی ایسے ہیں جو غیر ثقہ سے روایت کرتے ہیں۔ اور اگر ثقہ کی کسی شخص سے روایت کرنا اس شخص کی وثاقت پر دلیل ہوتی تو زیادہ تر بلکہ تمام کے تمام راویوں کا ثقہ ہونا لازم آتا چونکہ شیخ طوسی رحمہ اللہ ثقہ ہیں تو اگر وہ کسی شخص سے روایت کرے تو وہ شخص ثقہ ہو جائےگا، اور جب مذکورہ شخص تیسرے سے روایت کرےگا تو وہ بھی ثقہ ہو جائےگا، اور اسی طرح سے سلسلہ آگے بڑھےگا۔

ہاں! اگر بڑے بڑے جلیل القدر اور ثقہ راوی کسی شخص سے کثرت سے روایت کریں تو یہ اس کی وثاقت کی دلیل ہو یہ بعید نہیں ہے، کیونکہ کوئی عقلمند شخص کسی کی وثاقت پر یقین رکھے بغیر اس سے بکثرت روایت نہیں کرتا، ورنہ یہ اپنے وقت کو بلا وجہ ضائع کرنا قرار پائےگا، کیونکہ کمزور راویوں سے روایات جمع کرنے میں کوئی فائدہ نہیں ہے۔

اور اگر ہم اس رائے کو قبول کر لیں تو اس سے اہم نتائج برآمد ہوں گے جن میں سے ہم بطور مثال محمد بن اسماعیل کی توثیق کو بیان کرتے ہیں، چونکہ کلینی ؒنے " الکافی" میں محمد بن اسماعیل سے، انہوں نے فضل بن شاذان کے حوالے سے کثرت سے روایات بیان کی ہے جبکہ کہا گیا ہے کہ محمد بن اسماعیل مجہول الحال ہیں لہذا ان کی مذکورہ کثیر روایات اعتبار سے ساقط ہیں، جبکہ اگر ہم بیان شدہ نظریہ پر بنا رکھے تو محمد بن اسماعیل کی وثاقت کا حکم ممکن ہے چاہے ہم انہیں تفصیل کے ساتھ شناخت نہ کر سکتے ہو، اور اس طرح سے بہت بڑی تعداد میں روایات حجّیت کی سطح پر آ جائےگی۔

۶۔ شیخوخۃ الاجازہ

کسی شخص سے روایت اخذ کرنے کی متعدد صورتیں ہیں، کبھی شاگرد اس روایت کو استاد سے سنتا ہے، اور دوسری صورت میں استاد روایت کو شاگرد کے سامنے پڑھتا ہے، اور تیسری صورت میں استاد شاگرد کو اجازت دیتا ہے اس طرح سے کہ وہ اسے وہ کتاب دیتا ہے جس میں اس نے روایات درج کی ہے اور جس میں اس نے روایات کو جمع کیا ہوتا ہے اور اس سے کہتا ہے میں تمہیں اس کتاب میں موجود روایات کو میرے حوالے سے نقل کرنے کی اجازت دیتا ہوں۔تیسری صورت کو اصطلاحی طور پر " تحمّل الروایۃ بنحو الاجازۃ" کہا جاتا ہے، اسی طرح سے اجازت صادر کرنے والے صاحب کتاب کو اصطلاحاً " شیخ الاجازۃ" کہا جاتا ہے۔اس بارے میں اختلاف ہے کہ " شیخوخۃ الاجازہ" اثباتِ وثاقت کے لیے کافی ہے یا نہیں ؟ مذکور نکتہ پر بحث اہم ہے چونکہ بہت سی حدیثی اصول و بنیادی کتابیں جن سے " التھذیب" ، " الاستبصار" اور " من لا یحضرہ الفقیہ" کو تالیف کیا گیا ہے وہ شیخ صدوق اور شیخ طوسی قدّس سرھما تک ایسے افراد کے واسطے سے پہنچی ہیں جن کے حق میں کوئی توثیقِ خاص وارد نہیں ہوئی ہے، زیادہ سے زیادہ یہ ہے کہ یہ افراد " مشایخ الاجازہ" تھے جیسے احمد بن عبدون، احمد بن محمد بن حسن بن ولید اور احمد ابن محمد بن یحیی وغیرہ۔۔۔متقدمین فقہاء کے نزدیک شاید معروف یہ تھا کہ وثاقت کو ثابت کرنے کے لیے مشایخ الاجازہ ہونا کافی ہے برخلاف دوسروں کے جن میں سید خوئی ؒبھی شامل ہیں ان کے نزدیک یہ کافی نہیں ہے۔

یہ کافی نہ ہونے پر یہ دلیل پیش کی جا سکتی ہے کہ اجازت کا فائدہ فقط یہ ہے کہ شیخ مفید ؒکو مثلاً اجازت کی وجہ سے یہ حق حاصل ہوا کہ وہ یہ کہے کہ مجھے احمد بن محمد بن حسن بن ولید نے خبر دی ان روایات کی جو اس کتاب میں موجود ہیں جس کی روایات بیان کرنے کی انہوں نے مجھے اجازت دی ہے اور گویا کہ انہوں نے ان سے روایت سنی تھی۔

اور جب ثقہ کا کسی شخص سے روایت سننا اور اس کے حوالے سے نقل کرنا اس شخص کی وثاقت پر دلیل نہیں ہے تو مشایخ الاجازہ ہونا بھی وثاقت پر دلیل نہیں ہے۔

تطبیقات

تطبیق (۲)

حر عاملی ؒنے وسائل الشیعہ وضو کے ابواب میں سے باب ۱، حدیث ۱، میں کہا جس کی عبارت اس طرح سے ہے:

۱۔ " محمد بن الحسن باسناده عن الحسين بن سعيد عن حماد بن عيسى عن حريز عن زرارة عن أبي جعفر عليه السّلام قال: لا صلاة إلّا بطهور"

(محمد بن حسن نے اپنی اسناد سے حسین بن سعید سے، انہوں نے حماد بن عیسی سے، انہوں نے حریز سے، انہوں نے زرارہ سے، انہوں نے ابو جعفر علیہ السلام سے کہ فرمایا: کوئی نماز نہیں ہےمگر طہارت کے ساتھ)۔

مذکوہ سند کی حالت کو جاننے کے لیے ضروری ہے کہ سب سے پہلے حسین بن سعید تک شیخ طوسی ؒکی سند کی طرف رجوع کیا جائے، اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ " مشیخۃ التھذیب ج۱۰ ص۶۳" کو ملاحظہ کیا جائے کہ انہوں نے کہا : " جس چیز کو میں نے اس کتاب میں حسین بن سعید کے حوالے سے بیان کیا ہے تو اس کی مجھے خبر شیخ ابو عبد اللہ محمد بن محمد بن نعمان

( یہ شیخ مفید قدّس سرہ ہیں۔ اور جہاں تک حسن بن عبید اللہ کا تعلق ہے تو یہ غضائری سے معروف ہیں جو ثقہ، جلیل (القدر) اور شیخ طوسی کے استاد تھے۔ اور جہاں تک احمد بن عبدون کا تعلق ہے تو ان کے حق میں توثیقِ خاص وارد نہیں ہوئی ہے۔ ہاں ان کی توثیق ممکن ہے یا تو اس عنوان سے کہ یہ مشایخ الاجازہ میں سے ہیں یا اس عنوان سے کہ یہ نجاشی کے شیخ و استاد ہے اس بات پر بنا رکھتے ہوئے کہ نجاشی کے تمام مشایخ ثقہ ہیں اس مبنیٰ پر جو ان شاء اللہ تعالی آئےگا۔ لیکن ان کے لحاظ سے معاملہ آسان ہے چونکہ ان تین میں سے کسی ایک کا ثقہ ہونا کافی ہے)

اور حسین بن عبید اللہ اور احمد بن عبدون نے دی ہے اور ان تمام نے احمد بن محمد بن حسن بن ولید سے، انہوں نے اپنے والد محمد بن حسن بن ولید سے۔

اور اس کے علاوہ مجھے اس کی خبر دی ہے ابو الحسین بن ابی جید قمی نے، انہوں نے محمد بن حسن ابن ولید سے، انہوں نے حسین بن حسن بن ابان سے، انہوں نے حسین بن سعید سے " ۔

یہ روایت اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ حسین بن سعید کی طرف دو سلسلہ سند موجود ہیں جن دونوں کی انتہاء محمد بن حسن بن ولید پر ہوتی ہے۔ اور یہ دونوں:

الف: مفید، انہوں نے احمد سے، انہوں نے اپنے والد محمد بن حسن بن ولید سے۔

ب: ابن ابی جید، انہوں نے محمد بن حسن بن ولید سے۔

اور محمد بن حسن بن ولید نے نقل کیا ہے حسین بن حسن بن ابان سے، انہوں نے حسین بن سعید سے۔

دونوں سلسلہ سند قابل تأمل و غور ہے۔

جہاں تک پہلے سلسلہ سند کا تعلق ہے: تو احمد بن محمد بن حسن بن ولید کے لحاظ سے چونکہ ان کے حق میں توثیقِ خاص وارد نہیں ہوئی ہے۔

ہاں اس بات پر بنا رکھتے ہوئے کہ توثیق کو ثابت کرنے کے لیے شیخوخۃ الاجازہ ہونا کافی ہے مذکورہ لحاظ سے ان کی وثاقت کا حکم دیا جا سکتا ہے۔

اور جہاں تک دوسرے سلسلہ سند کا تعلق ہے: تو ابن ابی جید کے لحاظ سے چونکہ ان کے حق میں بھی توثیقِ خاص وارد نہیں ہوئی ہے۔

ہاں یہ بھی شیوخ الاجازہ میں سے اور نجاشی ؒکے شیخ ہیں تو تمام مشایخ الاجازہ کی وثاقت یا نجاشی ؒکے تمام مشایخ کی وثاقت پر بنا رکھتے ہوئے – اس بیان کے ساتھ جو ان شاء اللہ تعالی توثیقات عامہ کی بحث میں آئےگا – ان کی وثاقت ثابت ہو جائےگی۔

اور اگر ہم ان تمام باتوں سے چشم پوشی کریں تو حسین بن حسن ابن ابان کے لحاظ سے مشکل درپیش ہے چونکہ ان کی وثاقت ثابت نہیں ہے۔

خلاصہ یہ کہ اگر مذکورہ دونوں یا ان میں سے ایک سلسلہ سند کی صحت ثابت ہو جائے تو یہی مقصود ہے ورنہ ہم شیخ طوسی ؒکی " الفھرست" کی طرف رجوع کریں گے چونکہ اس میں اس سے زیادہ سلسلہ اسناد مذکور ہیں۔ پس ص ۵۸ میں ایک نیا سلسلہ اسناد مذکور ہے اور وہ یہ ہے: " ہمیں اس کی خبر دی ہمارے چند اصحاب (عدة من أصحابنا) نے، انہوں نے محمد بن علی بن حسین سے، انہوں نے اپنے والد اور محمد بن حسن اور محمد بن موسی بن متوکل سے، انہوں (یعنی ان تینوں) نے سعد ابن عبد اللہ اور حمیری سے، انہوں (یعنی ان دونوں) نے احمد بن محمد بن عیسی بن حسین بن سعید سے " ۔

مذکورہ سلسلہ سند صحیح ہے چونکہ " عدة من أصحابنا" کی اصطلاح کم از کم تین کی نمائندگی کرتی ہے اور ہمارے نزدیک یہ قبول کرنا ممکن نہیں ہے کہ شیخ ؒکے مشایخ میں سے تین افراد کذب پر یکجا ہو جائے۔

اور جہاں تک محمد بن علی بن حسین کا تعلق ہے تو یہ صدوق، ثقہ اور جلیل (القدر) ہیں۔

اور یہ تین افراد سے روایت کو نقل کر رہے ہیں وہ تین افراد: اپنے والد، محمد بن حسن اور محمد بن موسی بن متوکل سے اور ان تینوں میں سے ایک کی وثاقت ہمارے لیے کافی ہے، جبکہ اتفاقاً ان تینوں میں سے دو بہت بڑے ثقہ و قابلِ اعتماد شخصیات میں سے ہیں اور وہ دو میں سے ایک تو ان کے والد اور دوسرے محمد بن حسن بن ولید ہیں۔

اور جہاں تک سعد اور حمیری کا تعلق ہے تو یہ دونوں بھی بزرگ ثقہ افراد میں سے ہیں اگرچہ ان دونوں میں سے ایک کی وثاقت ہی ہمارے لیے کافی ہے۔

اور جہاں تک احمد بن محمد بن عیسی کا تعلق ہے تو پہلے بیان ہو چکا ہے کہ یہ اشعری ہیں جو ثقہ ہیں۔

اس سے جو نتیجہ حاصل ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ حسین بن سعید تک کے شیخ طوسی ؒکے سلسلہ سند کو صحیح قرار دینا ممکن ہے۔

اب یہ باقی رہتا ہے کہ ہم حسین بن سعید سے امام علیہ السلام تک کی سند میں موجود افراد کو ملاحظہ کریں۔

جہاں تک حسین بن سعید کا تعلق ہے تو یہ اہوازی اور کثیر کتابوں کے مؤلف ہیں۔ جن کے بارے میں شیخ ؒنے " الفھرست صفحہ ۵۸" میں کہا ہے کہ یہ ثقہ ہیں۔

اور جہاں تک حماد بن عیسی کا تعلق ہے تو ان کے بارے میں نجاشی ؒنے کہا ہے: "یہ اپنی حدیث میں ثقہ تھے اور انتہائی سچے" ( معجم رجال الحديث ۶: ۲۲۴ )

اور جہاں تک حریز کا تعلق ہے تو ان کے بارے میں شیخ ؒکہتے ہیں: " ثقہ ہیں کوفی ہیں " [ ۔

( معجم رجال الحديث ۴: ۲۲۹ )

اور جہاں تک زرارہ کا تعلق ہے تو ہمارے لیے امام صادق علیہ السلام کی ان کے حق میں یہ تعریف ہی کافی ہے: " متواضع و فروتن لوگوں کو جنت کی خوشخبری دو: برید بن معاویہ عجلی، ابو بصیر لیث بن بختری مرادی، محمد بن مسلم اور زرارہ یہ چار صاحبانِ فضل ہیں جو اللہ کے امانتدار ہیں اس کے حلال اور حرام پر۔ اگر یہ لوگ نہ ہوتے تو آثار نبوت ختم ہو جاتے اور نابود ہو جاتے "

(معجم رجال الحديث ۷: ۲۲۲)