‌دروس تمهیدیة فی القواعد الرجالیة

‌دروس تمهیدیة فی القواعد الرجالیة0%

‌دروس تمهیدیة فی القواعد الرجالیة مؤلف:
: مصنف/ مؤلف
: مولانا دلاور حُسین حجّتی
ناشر: الغدیر ایجوکیشنل نیٹ ورک
زمرہ جات: علم رجال

‌دروس تمهیدیة فی القواعد الرجالیة

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

مؤلف: آیت اللہ شیخ محمد باقر ایروانی
: مصنف/ مؤلف
: مولانا دلاور حُسین حجّتی
ناشر: الغدیر ایجوکیشنل نیٹ ورک
زمرہ جات: مشاہدے: 8102
ڈاؤنلوڈ: 337

‌دروس تمهیدیة فی القواعد الرجالیة
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 106 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 8102 / ڈاؤنلوڈ: 337
سائز سائز سائز
‌دروس تمهیدیة فی القواعد الرجالیة

‌دروس تمهیدیة فی القواعد الرجالیة

مؤلف:
ناشر: الغدیر ایجوکیشنل نیٹ ورک
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے


"‌کتاب: دروس تمهیدیة فی القواعد الرجالیة"

اسلامی ثقافتی ادارہ " امامین الحسنین(ع) نیٹ ورک " نے اس کتاب کو برقی شکل میں، قارئین کرام کےلئےشائع کیا ہے۔

اورادارہ کی گِروہ علمی کی زیر نگرانی حُرُوفِ چِینی، فنی تنظیم وتصحیح اور ممکنہ غلطیوں کو درست کرنے کی حدالامکان کوشش کی گئی ہے۔

مفت PDF فائل ڈاؤنلوڈ کےلئے کلک کیجئے

https://alhassanain.org/urdu/?com=book&id=476&view=download&format=pdf

ورڈ (word) فائل ڈاؤنلوڈ کےلئے کلک کیجئے

https://alhassanain.org/urdu/?com=book&id=476&view=download&format=doc

HTML- فائل ڈاؤنلوڈ کےلئے کلک کیجئے

https://alhassanain.org/urdu/?com=book&id=476&view=download&format=html

نیز اپنےمکتوبات و تحریر(مفید و علمی کتابیں اور مقالات) مفید مشورے، پیشنہادات، اعتراضات اور ہر قسم کےسوالات کو ادارہ کےایمیل  (ihcf.preach@gmail.com)  پر سینڈ کرسکتے ہیں

۱۔ تفسیر قمی کے راویوں کی توثیق

تفسیر قمی، قرآن کریم کی ایک روایتی تفسیر ہے جو حال ہی میں نجفِ اشرف میں دو جلدوں میں طبع ہوئی ہے۔ اس کے مؤلف علی بن ابراہیم قمی ؒہیں، جن کا انتقال ۲۱۷ ہجری میں ہوا۔ وہ شیخ کلینی ؒکے مشائخ میں سے ہیں اور کلینی ؒنے الکافی میں ان سے کثرت سے روایت کی ہے۔

مذکورہ کتاب میں ایک طویل مقدمہ ہے جس کے ضمن میں انہوں نے یہ عبارت بیان کی ہے:

" و نحن ذاكرون و مخبرون بما ينتهي الينا، و رواه مشايخنا و ثقاتنا عن الذين فرض اللّه طاعتهم و اوجب ولايتهم ۔۔۔ "

(ہم بیان کرنے والے اور اطلاع دینے والے ہیں ان باتوں کی جو ہم تک پہنچی ہیں، اور جنہیں ہمارے مشائخ اور ہمارے ثقہ افراد نے ان معززین (ع) سے روایت کیا ہے جن کی اطاعت اللہ نے فرض کی ہے اور جن کی ولایت اللہ نے واجب کی ہے۔۔۔)۔

اس عبارت سے بزرگ علماء کی ایک تعداد نے یہ معنی اخذ کیا ہے کہ مذکورہ کتاب کی روایات کی سند میں موجود تمام افراد ثقہ ہیں۔

اور ان بزرگ علماء میں سید خوئی ؒبھی شامل ہیں۔

اور اس امکان کو کہ قمی ؒکا مقصود فقط اپنے براہِ راست مشائخ کی توثیق ہو، سید خوئی قدّس سرہ نے یہ کہتے ہوئے رد کیا ہے کہ قمی ؒاپنی تفسیر کی صحت کو ثابت کرنا چاہتے ہیں، اور یہ نہ صرف براہِ راست مشائخ بلکہ اس میں موجود تمام راویان کی توثیق پر موقوف ہے۔

اس کی روشنی میں سید خوئی ؒنے حکم دیا ہے کہ تفسیر قمی میں مذکور تمام راوی ثقہ ہیں، سوائے ان کے جنہیں نجاشی ؒیا دیگر نے ضعیف قرار دیا ہو، ایسی صورت میں توثیق کا اعتبار باقی نہیں رہےگا کیونکہ توثیق کا اعتبار اس وقت تک ہی ہے جب تک اس کی مخالفت میں جرح وارد نہ ہوئی ہو جیسا کہ یہ بات واضح ہے۔

پھر مذکورہ توثیقِ عام حاصل ہونے کی بنیاد پر ۲۶۰ راوی ثقہ راویوں کی فہرست میں منتقل ہو جائیں گے جبکہ پہلے ان کا شمار مجہول راویوں میں ہوتا تھا۔

اور اس کا رد یہ ہے کہ: مذکورہ کتاب کا اصلی نسخہ ہمارے ہاتھ میں نہیں ہے، اور جو ہمارے ہاتھ میں رائج مطبوعہ نسخہ ہے اس کے بارے میں ہم یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ یہ کامل طور پر تفسیر قمی ہے بلکہ بعض قرائن ایسے ہیں جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اس میں تفسیر قمی اور دوسرے مواد کو مخلوط کر دیا گیا ہے، چونکہ اس میں متعدد مقامات پر اس طرح کی تعبیرات وارد ہوئی ہے:

«رجع إلى تفسير علي بن إبراهيم» یا «رجع إلى رواية علي بن إبراهيم»یا «رجع الحديث إلى علي بن إبراهيم» یا ۔۔۔

اور ایسی صورت میں اس بات کا علم اجمالی حاصل ہوتا ہے کہ اس میں تفسیر قمی کے ساتھ دوسرے مواد کو مخلوط کیا گیا ہے، وہ بھی اس طرح سے کہ دونوں کو ایک دوسرے سے جدا کرنا ممکن نہیں ہے لہذا یہ پوری کتاب اعتبار سے ساقط ہو جاتی ہے۔

۲۔ کامل الزیارت کے راوی

کامل الزیارت ایسی کتاب ہے جس میں تمام زیارات کو تالیف کیا گیا ہے، اس کے مؤلف ثقلہ جلیل (القدر) جعفر بن محمد بن قولویہ ہیں جو ہمارے نمایا متقدمین علماء میں سے ہیں۔

اس شیخ جلیل ؒنے اپنی کتاب کا مختصر مقدمہ بیان کیا ہے جس کے ضمن میں انہوں نے یہ عبارت بیان کی ہے:

" و قد علمنا بانا لا يخيط بجميع ما روي عنهم في هذا المعنى و لا في غيره لكن ما وقع لنا من جهة الثقات من أصحابنا رحمهم اللّه برحمته و لا أخرجت فيه حديثا روي عن الشذاذ من الرجال"

(اور ہمیں معلوم ہے کہ ہم اس موضوع میں اور نہ ہی دوسرے موضوعات میں ان حضرات سے مروی تمام روایات پر احاطہ نہیں رکھتے، لیکن جو روایات ہمیں اپنے ثقہ اصحاب کی طرف سے پہنچی ہیں، اللہ ان پر اپنی رحمت نازل کرے، اور میں نے اس میں کوئی ایسی حدیث بیان نہیں کی جو شاذ راویوں سے مروی ہو)۔ اور اس عبارت سے صاحب وسائل ؒنے یہ سمجھا ہے کہ ابن قولویہ ؒاپنے بلا واسطہ اور بالواسطہ تمام مشائخ کی توثیق کر رہے ہیں۔ اور اس پر سید خوئی ؒنے بھی اپنے سابقہ موقف میں موافقت کی تھی، جہاں انہوں نے یہ رائے اختیار کی تھی کہ جس کسی کا نام مذکورہ کتاب کی اسناد میں آیا ہے وہ ثقہ ہے، سوائے اس کے کہ کسی دوسرے کی طرف سے اس کی تضعیف کی گئی ہو۔ یہ اسی کلی اصول کے مطابق ہے جو ہر توثیق میں لاگو ہوتا ہے، یعنی توثیق کو اسی وقت قبول کیا جاتا ہے جب اس کے خلاف تضعیف موجود نہ ہو۔ اس نظریہ کی بنیاد پر ۳۸۸ راویوں کی وثاقت ثابت ہو جائےگی۔

اور اس کا رد: سابقہ عبارت سے جو بات طے شدہ ہے وہ یہ ہے کہ ابن قولویہ ؒفقط ان افراد کی توثیق کر رہے ہیں جن سے انہوں نے براہِ راست روایت بیان کی ہے نہ کہ تمام کی جیسا کہ اسی بات کو خود سید خوئی ؒنے قبول کیا ہے جب انہوں نے اپنی عمر شریف کے آخری حصہ میں اپنی سابقہ رائے سے رجوع کیا تھا۔

۳۔ مشایخ نجاشی

برزگ فقہاء کی ایک تعداد نجاشی ؒکے تمام مشایخ کی وثاقت کی قائل ہیں چونکہ انہوں نے متعدد افراد کے جو حالات بیان کیے ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ غیر ثقہ سے روایت نہ کرنے کے پابند تھے۔

پس انہوں نے جوہری کے حالات میں بیان کیا ہے: " میں نے اس شیخ کو دیکھا ہے، اور وہ میرا اور میرے والد کا دوست تھا اور میں نے اس سے بہت سی باتیں سنی تھیں، لیکن میں نے دیکھا کہ ہمارے مشائخ اسے ضعیف قرار دیتے ہیں، لہٰذا میں نے اس سے کوئی روایت بیان نہیں کی اور اس سے اجتناب کیا۔۔۔ " ۔

اور ابن بھلول کے حالات میں وہ کہتے ہیں : " وہ اپنے ابتدائی دور میں ثابت (قابلِ اعتماد) تھا، پھر اس میں خلل پیدا ہو گیا، اور میں نے دیکھا کہ ہمارے اکثر اصحاب اس پر طعن کرتے اور اسے ضعیف قرار دیتے ہیں۔۔۔ میں نے اس شیخ کو دیکھا تھا اور اس سے بہت کچھ سنا تھا، پھر میں نے اس سے براہِ راست روایت کرنے سے توقف کیا، سوائے اس کے کہ میرے اور اس کے درمیان کوئی واسطہ ہو " ۔

اور اگر کہا جائے کہ: نجاشی ؒکے مشائخ کی وثاقت ثابت ہونے کا کیا فائدہ ہے جبکہ اس کی کوئی روایتی کتاب ہی موجود نہیں ہے۔

تو جواب یہ ہے کہ: فائدہ " التھذیب" اور " الاستبصار" کی روایات کے لحاظ سے ظاہر ہوگا چونکہ شیخ طوسی ؒنے بیان کیا ہے کہ اصحاب کے جملہ اصول و بنیادی کتابیں ان تک احمد بن عبدون یا ابن ابی جید کے توسّط سے پہنچی ہیں، اور یہ دونوں کے حق میں کسی قسم کی توثیقِ خاص وارد نہیں ہوئی ہے لیکن یہ دونوں نجاشی ؒکے مشائخ میں سے ہیں، لہذا نجاشی ؒکے مشائخ کی وثاقت ثابت ہونے کی صورت میں ان دونوں کی وثاقت بھی ثابت ہو جائےگی اور ان دونوں کے توسّط سے پہنچے والی روایات حجّت ہو جائےگی۔

۴۔ سند میں بنو فضال کا واقع ہونا

بنو فضال – یہ حسن بن علی بن فضّال، احمد بن حسن بن علی ابن فضّال اور علی بن حسن بن علی بن فضّال ہیں – یہ فطحیوں کا ایک گروہ ہیں۔

فطحی وہ فرقہ ہے جو امام صادق علیہ السلام کے فرزند عبد اللہ افطح کی امامت کے قائل ہیں۔

ان لوگوں کی احادیث کے کثیر ہونے اور ان کے عقیدے کے فاسد ہونے کی وجہ سے بعض شیعوں نے امام عسکری علیہ السلام سے ان احادیث کے بارے میں کیا موقف اختیار کرنا چاہیے اس کے متعلق سوال کیا تو آپ علیہ السلام نے جواب میں ارشاد فرمایا: " جو انہوں نے روایت کیا ہے اسے لے لو اور جو انہوں نے رائے دی ہے اسے چھوڑ دو " [ ۔

( وسائل الشيعة/ باب ۱۱ من أبواب صفات القاضي حديث ۱۳ )

اور اس روایت کی وجہ سے بزرگ فقہاء کی ایک بڑی تعداد کہ جن میں شیخ انصاری ؒبھی شامل ہیں اس بات کی قائل ہیں کہ جب کسی روایت کی سند میں بنو فضال واقع ہوئے ہو تو وہ روایت حجّت ہے اور اس پر عمل کیا جائےگا یہاں تک کہ اس صورت میں بھی جب بنو فضال اور امام علیہ السلام کے درمیان بعض ضعیف راوی بھی موجود ہو۔

اور اس رائے کو بہت سے بزرگ علما نے مسترد کیا ہے، اس دعوے کے ساتھ کہ اس روایت کا مقصود یہ بیان کرنا ہے کہ عقیدے کا بگاڑ روایت لینے میں مانع نہیں ہے۔ لہٰذا یہ روایت صرف بنی فضّال کی طرف سے روایت لینے میں کسی ممانعت کے نہ ہونے کو بیان کرنے کے سلسلہ میں ہے، اس سے زیادہ کچھ نہیں۔

۵۔ تین اکابرین میں سے ایک کی روایت

کہا گیا ہے کہ تین بزرگوار – محمد بن ابی عمیر، صفوان اور بزنطی – جب کسی شخص سے روایت کرے تو یہ اس شخص کی وثاقت پر دلیل ہے۔

اس کی بنیاد شیخ طوسی ؒکی اپنی کتاب " عدۃ الاصول" کی یہ عبارت ہے :

" سوّت الطائفة بين ما يرويه محمد بن أبي عمير و صفوان بن يحيى و أحمد بن محمد ابن أبي نصر و غيرهم من الثقات الذين عرفوا بانهم لا يروون و لا يرسلون إلّا عمن يوثق به و بين ما اسنده غيرهم"

(گروہِ امامیہ نے محمد بن ابی عمیر، صفوان بن یحییٰ، احمد بن محمد بن ابی نصر اور دیگر ایسے ثقہ راویوں، جو اس بات سے معروف ہیں کہ وہ روایت اور ارسال صرف قابلِ اعتماد افراد سے ہی کرتے ہیں، ان کی مروی احادیث اور دوسروں کی مسند روایات کے درمیان برابری قائم کی ہے)۔

اور اسی وجہ سے مشہور نے کہا ہے کہ ابن ابی عمیر – اور اسی طرح سے صفوان اور بزنطی – کی مرسل روایات ان کی مسند روایات کی طرح سے ہیں۔

اور سیّد خوئی ؒنے اس بیان کردہ رائے کو رد کر دیا ہے – باوجود اس کے کہ یہ مشہور رائے ہے– اس دلیل کے ساتھ کہ ان (تین راویوں) کا صرف ثقہ افراد سے روایت کرنا ایک ایسی بات ہے جس کا علم صرف انہی تین افراد کی جانب سے ہو سکتا ہے، اور انہوں نے خود اس بات کی صراحت نہیں کی ہے، چونکہ اگر انہوں نے ایسا کہا ہوتا تو ان سے یہ نقل کیا جاتا کہ " ہم صرف ثقہ افراد سے ہی روایت کرتے ہیں " ۔اور اس بنا پر لازم آتا ہے کہ شیخ (طوسی) کی اصحاب کی جانب تسویہ (یعنی برابری) کی نسبت ان کے حدس و اجتہاد پر مبنی ہے، نہ کہ ان کے حس (مشاہدہ یا سماع) پر۔

اور اس بات کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ متقدمین علماء میں سوائے شیخ طوسی ؒکے کسی اور کے یہاں یہ دعویٰ معروف نہیں ہے، اور متقدمین کے کلام میں اس (دعویٰ) کا کوئی نشان اور اثر موجود نہیں ہے۔

دیگر توثیقات عامہ

توثیقات عامہ ہم نے بیان کیا انہیں میں منحصر نہیں ہیں بلکہ دیگر مثالیں بھی ہیں جنہیں ہم طوالت کے خوف سے بیان نہیں کر رہے ہیں۔

تیسرا نکتہ

رجالی کے قول کی حجّیت کا مدرک

گذشتہ بحث میں ہم جان چکے ہیں کہ وثاقت کو ثابت کرنے کے لیے متعدد طریقے موجود ہیں اور ان میں سب سے عمدہ رجالی کی توثیق ہے۔

اس بحث میں ہم رجالی کے قول کی حجّیت کے مدرک کو جانیں گے۔ اور ذیل میں ہم درج ذیل پہلوؤں کا ذکر کریں گے:

۱۔ یہ بات شہادت کے باب سے ہے، جیسا کہ قاضی کے سامنے جب خبر دی جاتی ہے کہ فلاں مکان زید کا ہے تو یہ گواہی شمار ہوتی ہے اور جس طرح اس کی حجّیت کا تعلق شہادت کی حجّیت کے باب سے ہے اسی طرح سے رجالی کا کسی راوی کی وثاقت کی خبر دینا یہ ایک شہادت ہے اور اس کی حجّیت کا تعلق شہادت کی حجّیت کے باب سے قرار پائےگا۔ اور اس پر یہ اشکال وارد کیا گیا ہے: اس عنوان کا لازمہ یہ ہے کہ نجاشی ؒاور شیخ طوسی ؒجیسی شخصیات کی جانب سے دی گئی وثاقت کی گواہی کو قبول نہ کیا جائے چونکہ گواہ کی گواہی کو قبول کرنے کے لیے شرط ہے کہ وہ زند ہو، مردہ نہ ہو۔

جس طرح سے ان دونوں میں سے ہر ایک کی گواہی کو اس وقت قبول نہ کرنا لازم آئےگا جب فقط ایک کی گواہی ہو اور دوسرے کی نہ ہو چونکہ گواہی قبول کرنے میں گواہ کا متعدد ہونا اور کم از کم دو ہونا ہے شرط ہے۔

اور جس طرح سے یہ بھی لازم آئےگا کہ امامی شیعہ اثنا عشری کے علاوہ کی توثیق کو قبول نہ کیا جائے چونکہ گواہ کی گواہی قبول کرنے میں اس کا عادل ہونا شرط ہے، اس کا ثقہ ہونا کافی نہیں ہے۔ اور اس بنا پر لازم آئےگا کہ بنی فضّال کی ان توثیقات کو رد کیا جائے جن میں سے بعض کو کشّی ؒنے نقل کیا ہے چونکہ بنو فضّال فطحی تھے۔ جبکہ یہ بات بعید ہے۔

۲۔ یہ اہل خبرہ کے قول کی حجّیت کے باب و عنوان سے ہے، جس طرح سے چیزوں کی قیمت کا تعین کرنے والے دلال کا قول حجّت ہوتا ہے چونکہ وہ اہل خبرہ ہیں تو اسی طرح سے بطور مثال نجاشی ؒکا راویوں کی وثاقت کے بارے میں خبر دینا مذکورہ لحاظ سے حجّت ہے۔

۳۔ یہ ثقہ کی خبر کی حجّیت کے باب و عنوان سے ہے، چونکہ صاحبانِ عقل کا یہ طریقہ ہے کہ وہ تمام امور میں ثقہ کی خبر سے وابستہ ہوتے ہیں۔ اور یہ اس وقت تک حجّت ہے جب تک کسی خاص مقام کے متعلق منع ثابت نہ ہو، جیسا کہ زنا کا مسئلہ ہے کہ دلیل اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ یہ چار گواہ کے بغیر ثابت نہیں ہوتا ، اور جس طرح سے چوری کا معاملہ ہے کہ دلیل اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ بغیر دو گواہیوں کے چوری ثابت نہیں ہوتی۔

اس نطریہ کی بنیاد پر جس شخص کو ثقہ قرار دیا گیا ہو اس میں عدالت شرط نہیں ہے بلکہ یہی کافی ہے کہ وہ قابلِ اعتماد ہو اور جھوٹ سے پرہیز کرنے والا ہو۔ جس طرح سے اس میں متعدد و ایک سے زیادہ ہونا بھی شرط نہیں ہے بلکہ ایک کا خبر دینا کافی ہے۔ جس طرح سے اس کا زندہ ہونا بھی شرط نہیں ہے بلکہ اپنی زندگی میں اس کا خبر دینا کافی ہے چونکہ مرنے کے بعد بھی اس کی حجّیت برقرار رہتی ہے۔

یہ سب اس لحاظ سے ہے کہ عقلا کی سیرت اس بات پر قائم ہے کہ وہ تمام مذکورہ حالتوں میں خبرِ ثِقہ سے وابستہ ہوتے ہیں۔

تطبیقات

تطبیق (۳)

صاحب وسائل ؒنے " وسائل الشیعہ ابوابِ وضو میں سے پہلے باب کی حدیث ۲ " میں کہا، جس کی عبارت یہ ہے:

" و عنه عن حماد عن حريز عن زرارة عن أبي جعفر عليه السّلام في حديث قال: يا زرارة الوضوء فريضة"

(اور ان سے، انہوں نے حماد سے، انہوں نے حریز سے، انہوں نے زرارہ سے، انہوں نے ابو جعفر علیہ السلام سے ایک حدیث میں، فرمایا:اے زرارہ وضو فریضہ ہے)۔

اس حدیث کو حر عاملی ؒنے شیخ طوسی ؒسے نقل کیا ہے، اس بات پر قرینہ یہ ہے کہ اس حدیث سے پہلے جو حدیث تھی حر عاملی ؒنے اس کی ابتداء محمد بن حسن طوسی ؒسے کی تھی، اور اس حدیث کی ابتداء میں کلینی ؒیا کسی اور کے نام کا ذکر نہیں کیا ہے جو اس بات پر دلیل ہے کہ ان کا شیخ طوسی ؒسے نقل کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔

اور " عنہ " کے لفظ میں جو ضمیر ہے اس کا مرجع حسین بن سعید ہے نہ کہ محمد بن حسن۔ مقصود یہ ہے کہ محمد بن حسن اس دوسری حدیث کو بھی حسین بن سعید سے نقل کر رہے ہیں۔

اس بات کو جاننے کے لیے کہ مذکورہ حدیث کی سند صحیح ہے یا نہیں ضروری ہے کہ حسین بن سعید تک کی شیخ ؒکی سند کو دیکھا جائے اور حسین کے بعد کے اس سند کے باقی افراد کو دیکھا جائے یہاں تک کہ سلسلہ امام علیہ السلام تک پہنچے۔ اور یہ ساری باتیں تطبیق ۲ میں گذر چکی ہے۔

اور حرّ عاملی ؒنے سابقہ عنوان کی حدیث ۳ میں کہا جس کی عبارت یہ ہے:

" و بالاسناد عن زرارة قال سألت أبا جعفر عليه السّلام عن الفرض في الصلاة فقال: الوقت و الطهور و القبلة و التوجه و الركوع و السجود و الدعاء"

(اور اسناد کے ساتھ زرارہ سے، کہا میں نے ابو جعفر علیہ السلام سے نماز میں فرض کے متعلق سوال کیا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا: وقت، طہارت، قبلہ، توجہ، رکوع، سجود اور دعا)۔

اس حدیث کو بھی حرّ عاملی ؒنے شیخ طوسی ؒسے نقل کیا ہے چونکہ انہوں نے اس کی ابتداء میں کسی اور کے نام کا ذکر نہیں کیا ہے۔

اور " و بالاسناد " ساتھ سے مراد ہے کہ سابقہ حدیث میں پہلے بیان شدہ اسناد کے ساتھ، یعنی اس حدیث کو شیخ طوسی ؒحسین بن سعید سے اور انہوں نے حماد سے اور انہوں نے حریز سے اور انہوں نے زرارہ سے نقل کیا ہے۔

تمرينات

س ۱: توثیق کی دو اقسام ہیں: خاص اور عام۔ ان دونوں کے درمیان فرق مثال کے ساتھ واضح کریں۔

س ۲: تفسیر قمّی کے مؤلف کون ہیں؟

س ۳: سید خوئی ؒکی تفسیر قمّی کے راویوں کے بارے میں کیا رائے ہے؟ ساتھ میں اس کی بنیاد بھی بیان کریں۔

س ۴: کس طرح اس امکان کو رد کیا گیا ہے کہ قمّی کا مقصد صرف اُن کے خاص ان مشایخ کی توثیق ہے جن سے انہوں نے براہِ راست روایت کی ہے؟

س ۵: تفسیر قمّی کے تمام راوی ثقہ ہیں اس نظریہ پر آپ کیسے اشکال کریں گے؟

س ۶: " کامل الزيارة " کتاب کے مؤلف کون ہیں؟ اور اس کتاب کو اس نام سے کیوں موسوم کیا گیا؟ اس کتاب کے متعلق کیا رائے ہے؟

س ۷: راویانِ " کامل الزيارة " کی وثاقت کے حکم کی کیا بنیاد ہے؟

س ۸: " کامل الزيارة" کے تمام راوی ثقہ ہیں اس نظریہ پر آپ کیسے اشکال کریں گے؟

س ۹: نجاشی ؒکے مشایخ کے متعلق ایک نطریہ ہے۔ اسے واضح کریں اور اس کی بنیاد بیان کریں۔

س ۱۰: نجاشی ؒکی کوئی روائی کتاب نہیں ہے تو نجاشی ؒکے تمام مشایخ کی وثاقت کا دعویٰ کرنے کا کیا فائدہ ہے؟

س ۱۱: بنو فضّال کون تھے؟

س۱۲: ایک نظریہ ہے کہ اگر بنو فضّال میں سے کوئی شخص کسی روایت کے سند میں موجود ہو تو وہ روایت مقبول ہے۔ اس رائے کی وضاحت کریں اور اس کی بنیاد بیان کریں۔

س۱۳: بنو فضّال سے متعلق پیش کردہ نظریہ پر کس طرح سے اشکال کیا جائےگا؟

س۱۴: " تین اکابرین میں سے ایک کی روایت " کا کیا مطلب ہے؟ اور اس سے متعلق کیا رائے ہے؟

س ۱۵: سید خوئی ؒنے " تین اکابرین " کے متعلق رائے کیوں مسترد کی ہے؟

س ۱۶: رجالی کے قول کی حجیت کے مدارک بیان کریں۔

س ۱۷: رجالی کے قول کی حجیت کے پہلے مدرک پر کیا اعتراض ہے؟

س۱۸: کیا آپ کی نگاہ میں وسائل الشیعہ کے ابوابِ وضو کے باب ۱۲ کی حدیث ۱ کی سند صحیح ہے؟ اس کی وضاحت کریں۔

فصل دوم: حدیث کی اقسام کے متعلق

حدیث کو چار اقسام میں تقسیم(۱) کیا گیا ہے:-

۱۔ صحیح: جس کے تمام راوی عادل اور امامی ہو۔

۲۔ موثق: جس کے تمام یا بعض راوی غیر امامی ہو لیکن ان کی توثیق ہوئی ہو۔

۳۔ حسن: جس کے تمام یا بعض راوی امامی ہو لیکن عادل نہ ہو بلکہ صرف ممدوح ہو۔

۴۔ ضعیف: جو ان تین اقسام میں سے نہ ہو، اس طرح سے کہ اس کے راوی مجہول ہو یا انہیں ضعیف قرار دیا گیا ہو۔

----------

(۱) ہم اس بات کی طرف متوجہ کرتے ہیں کہ روایت اگر متواتر یا ایسے قرائن سے متصل ہو جو اس کی حقانیت کا یقین فراہم کرتے ہو تو اس کی حجّیت اور اس کی قبولت میں کوئی اشکال نہیں ہے، بحث ان دونوں اقسام کے علاوہ میں ہے۔ اور جو تقسیم ہم عنقریب بیان کریں گے اس کی نگاہ ان دو قسموں کی علاوہ کی طرف ہے۔

اور اخباریوں نے اس چہار گانہ تقسیم کی مذمت کی ہے اور اس تقسیم کی ایجاد کی جن کی طرف نسبت ہے یعنی علامہ حلی ؒپر اعتراض کیا ہے۔اور اخباریوں کے اس تقسیم کو رد کرنے کی وجہ یہ ہے کہ ان کی نگاہ میں کتب اربعہ کی تمام روایات صحیح ہیں اور ان پر عمل کرنا واجب ہے۔ اور حر عاملی ؒنے اپنی کتاب وسائل میں اس – یعنی کتب اربعہ میں موجود تمام روایات کے صحیح ہونے – پر قرائن جمع کیے ہے جن کی تعداد ۲۲ ہیں (۱) ۔

ان قدّس سرہ نے کہا: " اور اس سے حدیث کی صحیح، حسن، موثق اور ضعیف کی تقسیم پر مبنی جدید اصطلاح کا ضعف ظاہر ہو جاتا ہے جو اصطلاح علامہ ؒاور ان کے استاد احمد ابن طاووس ؒکے زمانہ میں نئی نئی وجود میں آئی تھی۔

اور اس دعوے پر مختصر طور پر تبصرہ ان شاء اللہ تیسری فصل میں آئےگا۔

روایات کی ان چار اقسام سے مربوط چند ابحاث ہیں جنہیں ہم چند نکات کے ضمن میں بیان کرتے ہیں۔

(۱)- وسائل کے آخر میں ذکر کردہ فوائد میں سے نواں فائدہ ملاحظہ کریں۔

صحیح حدیث کے خلاف شہرت

۱۔ جب روایت صحیح السند ہو تو اس کی حجّیت معروف ہے، لیکن بحث اس وقت واقع ہوتی ہے جب شہرتِ فتوائیہ اس صحیح روایت کے برخلاف ہو، تو کیا یہ بات اس روایت کی حجّیت کو ساقط کر دےگی یا نہیں؟

مشہور یہ ہے کہ ایسی صورت میں یہ روایت اعتبار سے ساقط ہو جائےگی سوائے سید خوئی ؒکے جنہوں نے ساقط نہ ہونے کے نظریہ کو اپنایا ہے بعد اس کے کہ (پہلے) وہ ساقط ہونے کے مشہور کے نظریہ کے موافق تھے (۱) ۔

ساقط ہونے کے نظریہ کی یہ تشریح کی جا سکتی ہے کہ ہمارے بزرگ علماء کے سابقہ طبقے نے جب اس روایت کو نظر انداز کیا ہے تو اس سے آشکار ہوتا ہے کہ اس روایت میں بعض لحاظ سے خلل موجود تھا ورنہ وہ کیوں اس روایت کو نظر انداز کرتے۔

------

(۱)- مصباح الاصول ۲: ۲۰۳

ہاں، یہ لازم ہے کہ ان کا اس روایت کو نظر انداز کرنا ان کے اپنے نظریہ اور اجتہاد پر عمل کے نتیجہ میں نہ ہو چونکہ ان کا اجتہاد ان پر حجّت ہے نہ کہ ہم پر۔

لیکن اس کے بعد مسئلہ یہ باقی رہتا ہے کہ ہم یہ کیسے ثابت کریں کہ متقدمین نے اس روایت کو نظر انداز کیا تھا جبکہ ان میں سے کثیر کے بیانایت ہمیں دستیاب نہیں ہیں۔

ثقہ یا عادل کی خبر

۲۔ فقہا؍ کے درمیان یہ مشہور ہے کہ حجّت فقط عادل کی خبر نہیں ہے بلکہ ثقہ کی خبر بھی حجّت ہے۔

ثقہ کی خبر کی حجّیت اور عدالت شرط نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ سیرتِ عقلائیہ ثقہ کی خبر پر عمل کے بارے میں اسی انداز سے قائم ہے جس طرح سے عادل کی خبر پر عمل کے بارے میں قائم ہے۔ اور چونکہ مذکورہ سیرت سے منع نہیں کیا گیا، اس لیے یہ حجت ہے۔

اور اگر کہا جائے کہ آیتِ نبأ ثقہ کی خبر پر عمل کو ممنوع قرار دیتی ہے اگر وہ ثقہ عادل نہ ہو چونکہ آیت کہتی ہے: اگر تمہارے پاس فاسق کوئی خبر لے کر آئے تو تحقیق کرو، اور ثقہ جب عادل نہ ہو تو وہ فاسق ہے تو اس کی خبر کی تحقیق ضروری ہے اور اس کا مطلب ہے کہ حجّیت نہیں ہے۔

ہم جواب دیں گے کہ اس آیتِ کریمہ میں فاسق سے مراد ایسا شخص ہے جو جھوٹ سے پرہیز نہ کرتا ہو، فاسق سے ایسا شخص مراد نہیں ہے جو عادل کے مقابل ہو، چونکہ دو قرینے موجود ہیں:

الف: حکم اور موضوع کی مناسبت چونکہ عدمِ حجّیت کے حکم سے جو بات مناسب ہے وہ ایسے شخص کی خبر ہے جو جھوٹ سے پرہیز نہ کرتا ہو نہ کہ ایسے شخص کی خبر جو جھوٹ سے پرہیز کرتا ہے لیکن کبھی بعض دیگر گناہوں کا مرتکب ہو جاتا ہو۔

ب۔ آیتِ کریمہ کے آخر میں جو ندامت (پشیمانی) کی علت مذکور ہے، اس وقت وجود میں آتی ہے جب جھوٹ سے پرہیز نہ کرنے والے (غیر متحرز عن الکذب) کی خبر پر عمل کیا جائے، اور یہ علت اُس شخص کو شامل نہیں کرتی جو جھوٹ سے پرہیز کرتا ہو۔

ثقہ کی خبر یا قابلِ اعتماد خبر

۳۔ اس بنا پر کہ حجّت ثقہ کی خبر ہے کیا ثقہ کی خبر کا حجّت ہونا مطلق طور پر ہے یا اس بات سے مشروط ہے کہ اس خبر پر اعتماد اور اطمینان حاصل ہو۔

کہا جا سکتا ہے کہ (خبر کے حجت ہونے کے لیے) اعتماد پیدا ہونا شرط ہے، کیونکہ آیتِ نبأ کے آخر میں ذکر کردہ ندامت (پشیمانی) کا خوف، اس وقت تک باقی رہتا ہے جب تک خبر پر اطمینان حاصل نہ ہو۔

لیکن صحیح نظریہ یہ ہے کہ اطمینان شرط نہیں ہے چونکہ عبد العزیز بن مہتدی اور حسن بن علی بن یقطین کی امام رضا علیہ السلام سے یہ روایت موجود ہے کہ " میں نے عرض کی: اپنے جن دینی امور کی مجھے ضرورت پیش آتی ہیں ان میں سے ہر ایک کے لیے آپ (ع) سے سوال کرنے کے لیے آپ (ع) تک پہنچنا میرے لیے مشکل ہوتا ہے تو کیا یونس بن عبد الرحمن ثقہ ہیں کہ میں ان سے اپنے دینی امور میں سے جس چیز کا محتاج ہوں اسے اس سے حاصل کروں تو آپ علیہ السلام نے فرمایا: ہاں(۱)

(۱) وسائل الشيعة باب ۱۱ من صفات القاضي ح ۳۳

چونکہ یہ روایت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ سوال کرنے والے کے ذہن میں راوی کی وثاقت کا کافی ہونا مرتکز و طے شدہ تھا، اور امام علیہ السلام نے بھی اس بات کی تائید فرمائی ہے " ۔

خبرِ حسن

۴۔ کیا حسن روایت حجّت ہے؟ شیخ نائینی اور سید خوئی قدّس سرھما اس کی حجّیت کے قائل ہیں۔

اور مصباح الأصول میں انہوں نے اس بات پر سیرتِ عقلائیہ سے استدلال کیا ہے، اس دعوے کے ساتھ کہ عقلاء کا طرزِ عمل اس پر قائم ہے کہ اگر مولا (مالک) کا کوئی حکم اس کے بندے تک ایسے امامی راوی کے ذریعے پہنچے جو قابلِ تعریف (ممدوح) ہو، اور جس کا نہ فسق ظاہر ہو اور نہ عدالت، تو بھی اس پر عمل کیا جاتا ہے، اسی طرح جس طرح سے سیرت اس روایت پر عمل کرنے پر قائم ہے جو کسی امامی عادل راوی کے ذریعے پہنچی ہو۔ اور چونکہ اس سیرت سے شریعت نے منع (ردع) نہیں کیا ہے، تو ہم اس سے یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ شارع نے اس پر امضاء کیا ہے۔( مصباح الاصول ۲: ۲۰۰ )

اس پر بتصرہ ان شاء اللہ تعالی دوسرے حصے میں آئےگا۔

خبرِ ضعیف

۵۔ متأخر علماء کے درمیان معروف بات یہ ہے کہ ضعیف خبر کے لیے حجیت نہیں ہے، لیکن ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ضعیف خبر اس وقت حجیت کی سطح تک ترقی کر سکتی ہے جب اس کی موافقت میں شہرتِ فتوائیہ موجود ہو؟ یعنی کیا ممکن ہے کہ سند کی کمزوری کا تدارک اس کے موافقت میں موجود شہرتِ فتوائیہ سے ہو جائے ؟

مشہور یہ ہے کہ اس کے ذریعہ اس کے ضعف کا تدارک ہو جاتا ہے کیونکہ شہرت ایک طرح سے اس روایت کے متعلق " تبیّن" (تحقیق) ہے، اور یہ بات خبر کی حجیت کے لیے کافی ہے۔ کیونکہ آیتِ نبأ نے فاسق کی خبر کو مطلقاً ناقابلِ حجت قرار نہیں دیا بلکہ اس میں " تبیّن" یعنی تحقیق کرنے کا حکم دیا ہے، لہٰذا جب تحقیق کے بعد خبر کی صداقت واضح ہو جائے تو اس پر عمل کرنا ضروری ہے، اور فتوے کی شہرت اس صداقت کو واضح کرتی ہے۔

یہ اس بات کے علاوہ ہے کہ مشہور کی جانب سے کسی روایت پر عمل کرنے سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ وہ اس روایت کی توثیق کر رہے ہیں چونکہ اگر ایسا نہ ہوتا تو وہ کیوں اس پر عمل کرتے بلکہ متقدمین میں سے مشہور کا کسی روایت پر عمل اس روایت کے صدور کا اطمینان فراہم کرتا ہے۔

لیکن مسئلہ یہ باقی رہتا ہے کہ اس بات کو ثابت کیسے کریں، چونکہ متقدمین کی استدلالی کتابیں ہمیں دستیاب نہیں ہیں کہ ہم اس بات کو جان سکے کہ انہوں نے اپنے فتووں میں اس روایت کو بنیاد بنایا ہے اور اس روایت پر عمل کیا ہے، چونکہ اس بات کا امکان موجود ہے کہ مشہور کے فتوے کے درمیان اور اس روایت کے درمیان محض اتفاقی موافقت قائم ہو گئی ہو بغیر اس کے کہ مشہور نے اس روایت کو بنیاد بنایا ہوا۔

خبرِ مضمر

۶۔ خبر مضمر ایسی روایت ہے جس میں جس سے سوال کیا گیا ہو اس کا تذکرہ نہ ہو کہ آیا وہ امام علیہ السلام ہیں یا کوئی اور، جسیا کہ یہی صورت حال زرارہ کی اس صحیح روایت میں ہے جسے شیخ طوسی ؒنے " التھذیب" میں اپنی سند کو حسین بن سعید تک اور انہوں نے حماد سے، انہوں نے حریز سے، انہوں نے زرارہ سے، انہوں نے کہاں: قلت لہ (میں نے ان سے کہا) اگر ایک شخص کو وضو کی حالت میں نیند آ جائے تو کیا ایک جھپکی یا دو جھپکیاں اس پر وضو کو واجب کر دےگی تو آپ علیہ السلام نے فرمایا۔۔۔ ( وسائل الشيعة باب ۱ من أبواب نواقض الوضوء ح ۱ )

زرارہ نے یہ نہ کہا کہ میں نے بطور مثال امام صادق علیہ السلام سے عرض کیا بلکہ فقط یہ کہا کہ میں نے ان سے عرض کیا، یعنی ایسی ضمیر کا ذکر کیا جس کے امام علیہ السلام کی طرف رجوع کا بھی امکان ہے اور غیر امام کی طرف بھی رجوع کا امکان ہے۔ اور اسی وجہ سے بعض اوقات روایاتِ مضمرہ کی عدمِ حجیت کا حکم دیا جاتا ہے، کیونکہ اس بات کا یقین نہیں ہوتا کہ جس شخص سے سوال کیا گیا وہ امام علیہ السلام ہی ہیں۔

اس کے مقابل میں دو نظریات پائے جاتے ہیں :

ان میں سے ایک: تمام مضمرات حجّیت رکھتی ہیں اس دعوے کے ساتھ کہ اضمٰار (ضمیر کے استعمال) کا سبب اور اس اسلوب کے پیدا ہونے کی وجہ یہ ہے کہ راوی بعض اوقات امام علیہ السلام سے کئی سوالات کرتا تھا، اور جب وہ ان سوالات کو نقل کرنا چاہتا تو شروع میں امام علیہ السلام کے نام کی وضاحت کرتا اور کہتا کہ

" سألت الصادق عليه السّلام عن كذا فاجاب بكذا، و سألته عن كذا فاجاب بكذا، و سألته عن ۔۔۔ "

(میں نے امام صادق علیہ السلام سے سوال کیا فلاں چیز کے بارے میں تو آپ علیہ السلام نے یہ جواب دیا اور میں نے ان سے یہ سوال کیا تو انہوں نے یہ جواب دیا اور میں نے یہ سوال کیا۔۔۔)۔

یہ کہ روایت کے آغاز میں امام علیہ السلام کا نام صراحت کے ساتھ ذکر کیا گیا تھا، اور اس کے بعد صرف ضمیر کے ذریعے اُن کی طرف اشارہ کرنے پر اکتفا کیا گیا، اور نام کی دوبارہ صراحت کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔ پھر بعد میں، جب احادیث کو تقطیع (ٹکڑوں) میں تقسیم کیا گیا تو ہر فقرہ (جزو) کو اس کے مناسب حدیثی باب میں اسی طرح درج کر دیا گیا جیسا وہ تھا، بغیر جن سے سوال کیا گیا ہے اس شخص یا امام علیہ السلام کے نام کی وضاحت کیے۔

یوں اضمار کا رجحان شروع ہوا۔۔

اور جب ہم اضمٰار (ضمیر کے استعمال) کی اس وجہ سے مطلع ہو جائیں گے، تو ہم بلا شک و شبہ تمام " مضمرات " (ضمیر والی روایات) کی حجّیت کا حکم دیں گے، کیونکہ جس شخص سے سوال کیا گیا تھا وہ شروع سے ہی امام علیہ السلام کے سوا کوئی اور نہیں تھا۔

اور یہ رائے قابلِ بحث و اشکال ہے، کیونکہ یہ بات اس فرض پر درست ہو سکتی ہے جب یہ یقینی ہو کہ شروع میں جن سے سوال کیا گیا وہ شخص امام علیہ السلام ہی تھے، لیکن ہم اس بات کا قطعی حکم کیسے لگا سکتے ہیں؟ ہمیں یہ احتمال بھی رہتا ہے کہ شاید جس سے سوال کیا گیا وہ امام علیہ السلام کے بجائے کوئی اور شخص ہو۔

اور دوسرا نظریہ جو بعض فقہاء نے اختیار کیا ہے، وہ یہ ہے کہ فرق کیا جائے : اگر مضمرہ روایت بیان کرنے والا شخص اصحابِ امام علیہ السلام میں سے جلیل القدر اور بزرگوں میں سے ہو، اس طرح کہ اس کے شایانِ شان نہیں کہ وہ امام علیہ السلام کے علاوہ کسی اور سے نقل کرے — جیسا کہ زرارہ کی صورت حال ہے — تو ایسی صورت میں مضمَرہ روایت حجت ہوگی، کیونکہ راوی کا بلند مقام خود ایک قرینہ ہے جو اس بات کا تعیّن کرتا ہے کہ جس شخص سے سوال کیا گیا ہے وہ امام علیہ السلام ہی ہیں، لیکن اگر راوی ایسا نہ ہو (یعنی عام راوی ہو)، تو ایسی روایت حجت نہیں ہوگی کیونکہ مذکورہ قرینہ موجود نہیں ہے۔

اور ہمارے نزدیک صحیح بات یہ ہے کہ تمام مضمرات (ضمیر والی روایات) حجت ہیں، ایک لطیف و باریک نکتہ کی وجہ سے جس کی وضاحت ان شاء اللہ تعالیٰ دوسرے حصے میں آئےگی

خبرِ مرسل

خبر مرسل یعنی ایسی روایت جس میں سند کے بعض راویوں کے نام کا تذکرہ نہ کیا گیا ہو، جیسا کہ یہی صورت حال اس سند میں ہے کہ شیخ صدوق ؒنے اپنے والد سے، انہوں نے سعد بن عبد اللہ سے، انہوں نے ایوب بن نوح سے، انہوں نے محمد بن ابی عمیر سے، انہوں نے ایک سے زائد سے، انہوں نے ابو عبد اللہ علیہ السلام سے۔۔۔ ( وسائل الشيعة باب ۱۸ من أبواب أحكام الخلوة حديث ۴ )

اس میں ابن ابی عمیر نے اس راوی کے نام کی وضاحت نہیں کی ہے جس سے انہوں نے روایت کی ہے اور فقط " عن غیر واحد " (ایک سے زائد سے) کے الفاظ استعمال کیے ہے اور اس طرح کی روایت کو مرسلہ شمار کیا جاتا ہے۔

اور فقہاء کے درمیان مرسلہ روایات کی حجّیت کے بارے میں متعدد اقوال پر مبنی اختلاف واقع ہوا ہے جن میں سے ہم بعض کو مندرجہ ذیل میں ذکر کرتے ہیں:-

الف: مطلق طور پر (ہر حال میں) عدمِ حجیت، چونکہ مبہم و غیر واضح واسطہ کی وثاقت ثابت نہیں کی جا سکتی۔

ب: تفریق کی گئی ہے: اگر ارسال کرنے والا راوی ابنِ ابی عمیر، صفوان، یا بَزَنطی(۱)ہوں تو روایت حجت ہوگی؛ اور اگر ارسال کرنے والا ان کے علاوہ کوئی اور ہو، تو روایت حجت نہیں ہوگی۔

اور اس کی وجہ یہ ہے کہ شیخ طوسی ؒنے اپنی کتاب العدّة(۲)میں ذکر کیا ہے کہ شیعہ علماء نے ابنِ ابی عمیر، صفوان اور بَزَنطی کی مرسل روایات پر عمل کیا ہے، اس بنیاد پر کہ یہ حضرات صرف ثقہ افراد ہی سے روایت کرتے تھے اور انہی سے ارسال کرتے تھے، لہٰذا اگر ارسال کرنے والا راوی ان میں سے کوئی ہو، تو اس کی روایت حجت ہوگی کیونکہ وہ صرف ثقہ سے ہی مرسلہ روایت بیان کرتا ہے، اور اگر ارسال کرنے والا راوی ان کے علاوہ ہو، تو روایت رد کر دی جائےگی کیونکہ اس میں واسطے کی وثاقت کا احراز و اثبات نہیں ہے۔

-----

حوالہ جات:(۱) "یہ تینوں (راوی) ہمارے بڑے اصحاب میں سے ہیں۔ جہاں تک ابنِ ابی عُمَیر کا تعلق ہے، تو نجاشی نے ان کے بارے میں کہا : "جلیل القدر اور ہمارے نزدیک نیز مخالفین کے نزدیک بھی بلند مرتبہ رکھتے ہیں"۔ اور شیخ طوسی نے ان کے بارے میں کہا : "وہ خاصہ (شیعہ) اور عامہ (اہل سنت) دونوں کے نزدیک سب سے زیادہ قابلِ اعتماد، سب سے زیادہ عبادت گزار، پرہیزگار اور زاہد تھے"۔ اور ان کے مکمل حالات جاننے کے لیے معجم رجال الحدیث، جلد ۱۴، صفحہ ۲۷۹ کی طرف رجوع کیا جا سکتا ہے۔

اور جہاں تک صفوان بن یحییٰ کا تعلق ہے، تو نجاشی نے ان کے بارے میں کہا : "ثقہ، ثقہ، عین (یقینی قابلِ اعتماد)۔ اور ان کے حالات کے لیے المعجم، جلد ۹، صفحہ ۱۲۳ کی طرف رجوع کرنا مناسب ہوگا۔

اور جہاں تک احمد بن محمد بن ابی نصر بزنطی کا تعلق ہے تو یہ امام رضا علیہ السلام کے اصحاب میں سے ہے اور آپ علیہ السلام کے نزدیک عظیم المرتب تھے۔ ان کے حالات المعجم ح۲ ص۲۳۱ میں درج ہے۔

(۲)- کتاب "العدۃ" کی خبر واحد کی حجّیت کی بحث کے آخری حصے کی طرف رجوع کریں۔