‌دروس تمهیدیة فی القواعد الرجالیة

‌دروس تمهیدیة فی القواعد الرجالیة0%

‌دروس تمهیدیة فی القواعد الرجالیة مؤلف:
: مصنف/ مؤلف
: مصنف/ مؤلف
زمرہ جات: علم رجال

‌دروس تمهیدیة فی القواعد الرجالیة

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

مؤلف: مصنف/ مؤلف
: مصنف/ مؤلف
: مصنف/ مؤلف
زمرہ جات: مشاہدے: 7566
ڈاؤنلوڈ: 304

تبصرے:

‌دروس تمهیدیة فی القواعد الرجالیة
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 106 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 7566 / ڈاؤنلوڈ: 304
سائز سائز سائز
‌دروس تمهیدیة فی القواعد الرجالیة

‌دروس تمهیدیة فی القواعد الرجالیة

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

تمرینات

س ۱: فقیہ کو کسی مخصوص روایت سے حکم نکالنے کے لیے چار امور کو ثابت کرنا ضروری ہے۔ان کا ذکر کریں اور ہر ایک کی ضرورت کی وضاحت کریں۔

س ۲: کیا علمِ رجال کے مطالب میں تقلید جائز ہے؟ اور کیوں؟

س ۳: اگر کہا جائے کہ ہمیں " علمِ رجال " یا زیارہ بہتر ہے کہ کہے " قواعدِ رجالیہ" کے عنوان سے کسی علم کے سیکھنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ روایتوں کی اسناد کی پہچان کے لیے شیخ ؒاور نجاشی ؒکے بیانات ملاحظہ کرنا کافی ہے، تو جب یہ دونوں کسی سند کے راویوں کی توثیق کریں، تو ہم اس روایت کو صحیح قرار دیں گے، ورنہ نہیں۔ تو اس طرح کے کلام کو آپ کیسے رد کریں گے؟

س ۴: معصوم علیہ السلام کی گواہی کی ایک مثال ذکر کریں جس سے راوی کی وثاقت حاصل ہوتی ہو۔

س ۵: معصوم علیہ السلام کی گواہی وثاقت ثابت کرنے میں حجّت ہے ایک شرط کے ساتھ، آپ اس شرط کو ذکر کریں اور اس شرط کو قرار دیئے جانے کا سبب بیان کریں۔

س ۶: تین بزرگ رجالیوں کے نام ذکر کریں جن کی گواہی پر وثاقت کے لیے انحصار کیا جا سکتا ہے۔

س ۷: وثاقت کے لیے رجالی کا قول اور اس کی گواہی کی حجّیت کا سبب بیان کریں۔

س ۸: وثاقت کے لیے ایک شخص کی گواہی کافی ہے، متعدد کی ضرورت نہیں ہے، کیوں؟

س ۹: وثاقت کو ثابت کرنے کا ایک طریقہ وثاقت پر اجماع ہے۔ ایک مثال ذکر کریں جو اس بات کو واضح کرتی ہو۔

س ۱۰: ہم نے وثاقت پر اجماع کی حجیت کے لیے ایک تشریح بیان کی ہے۔ اس تشریح کو واضح کریں۔

س ۱۱: امام علیہ السلام کی جانب سے وکالت دو اقسام پر مشتمل ہے۔ ان دونوں کا فرق واضح کریں۔

س ۱۲: ان دو اقسام میں سے کون سی وکالت کی قسم وثاقت پر دلالت کے بارے میں بحث کا موضوع واقع ہوئی ہے؟

س ۱۳: کیا امام علیہ السلام کا کسی شخص کو وکیل بنانا آپ کی نگاہ میں اس کی وثاقت کی علامت ہے؟ اور کیوں؟

س ۱۴: اگر وکالت وثاقت کی دلیل ہے تو پھر بعض راویوں کے حق میں صادر ہونے والی مذمت کی ہم کیسے تشریح کریں گے؟

س ۱۵: اگر وکالت وثاقت پر دلالت کرتی ہے تو اس سے کچھ راویوں کی وثاقت ثابت ہو جائےگی۔ اس کی ایک مثال ذکر کریں۔

س ۱۶: کیا ایک ثقہ کا کسی شخص سے روایت کرنا آپ کی نگاہ میں اس شخص کی وثاقت پر دلیل ہے؟ اور کیوں؟

س ۱۷: کیا کسی شخص سے جلیل القدر ثقہ راویوں کا کثرت سے روایت کرنا آپ کی نگاہ میں اس شخص کی وثاقت پر دلیل ہے؟ اور کیوں؟

س ۱۸: اس بنیاد پر کہ کسی شخص سے مروی روایت کی کثرت اس کی وثاقت پر دلیل ہے، ہمیں اہم نتائج برآمد ہوں گے۔ اس کی ایک مثال ذکر کریں۔

س ۱۹: " اجازت " کے طریقے سے روایت کے تحمل سے کیا مراد ہے؟ اور " شیخ الاجازة" سے کیا مراد ہے؟

س ۲۰: اثباتِ وثاقت میں " شیخ الاجازہ" کافی ہونے کے بارے میں بحث کیوں اہم ہے؟

س ۲۱: کیا متقدمین علماء اثباتِ وثاقت میں " شیخ الاجازہ" ہونے کو کافی سمجھتے تھے؟

س ۲۲: اثباتِ وثاقت میں " شیخ الاجازہ" ہونا کافی نہ ہونے پر کیسے استدلال کیا جائےگا؟

س ۲۳: حر عاملی ؒنے جو حدیث بیان کی ہے وسائل الشیعہ، ابواب الوضو میں سے باب ۶ حدیث ۱،میں، وہ صحیح ہے؟ اس کی وضاحت کریں۔

دوسرا نکتہ

توثیقاتِ عامہ

توثیق کا تعلق معین شخص یا معین اشخاص کے ساتھ ہو تو یہ توثیق خاص ہے، اور جب کلی عنوان کے ساتھ ہو تو یہ توثیق عام ہے۔

توثیق خاص کی مثال واضح ہے چونکہ شیخ ؒاور نجاشی ؒکی توثیقات عام طور سے خاص ہوتی ہے۔

توثیق عام کی مثال قمی ؒکی ان تمام افراد کی توثیق کرنا جن کے نام ان کی تفسیر میں ذکر ہوئے ہیں جیسا کہ عنقریب ہم واضح کریں گے۔

توثیقات عامہ کے لیے کثیر مثالیں ہیں ان میں سے ہم ذکر کرتے ہیں:

۱۔ تفسیر قمی کے راویوں کی توثیق

تفسیر قمی، قرآن کریم کی ایک روایتی تفسیر ہے جو حال ہی میں نجفِ اشرف میں دو جلدوں میں طبع ہوئی ہے۔ اس کے مؤلف علی بن ابراہیم قمی ؒہیں، جن کا انتقال ۲۱۷ ہجری میں ہوا۔ وہ شیخ کلینی ؒکے مشائخ میں سے ہیں اور کلینی ؒنے الکافی میں ان سے کثرت سے روایت کی ہے۔

مذکورہ کتاب میں ایک طویل مقدمہ ہے جس کے ضمن میں انہوں نے یہ عبارت بیان کی ہے:

" و نحن ذاكرون و مخبرون بما ينتهي الينا، و رواه مشايخنا و ثقاتنا عن الذين فرض اللّه طاعتهم و اوجب ولايتهم ۔۔۔ "

(ہم بیان کرنے والے اور اطلاع دینے والے ہیں ان باتوں کی جو ہم تک پہنچی ہیں، اور جنہیں ہمارے مشائخ اور ہمارے ثقہ افراد نے ان معززین (ع) سے روایت کیا ہے جن کی اطاعت اللہ نے فرض کی ہے اور جن کی ولایت اللہ نے واجب کی ہے۔۔۔)۔

اس عبارت سے بزرگ علماء کی ایک تعداد نے یہ معنی اخذ کیا ہے کہ مذکورہ کتاب کی روایات کی سند میں موجود تمام افراد ثقہ ہیں۔

اور ان بزرگ علماء میں سید خوئی ؒبھی شامل ہیں۔

اور اس امکان کو کہ قمی ؒکا مقصود فقط اپنے براہِ راست مشائخ کی توثیق ہو، سید خوئی قدّس سرہ نے یہ کہتے ہوئے رد کیا ہے کہ قمی ؒاپنی تفسیر کی صحت کو ثابت کرنا چاہتے ہیں، اور یہ نہ صرف براہِ راست مشائخ بلکہ اس میں موجود تمام راویان کی توثیق پر موقوف ہے۔

اس کی روشنی میں سید خوئی ؒنے حکم دیا ہے کہ تفسیر قمی میں مذکور تمام راوی ثقہ ہیں، سوائے ان کے جنہیں نجاشی ؒیا دیگر نے ضعیف قرار دیا ہو، ایسی صورت میں توثیق کا اعتبار باقی نہیں رہےگا کیونکہ توثیق کا اعتبار اس وقت تک ہی ہے جب تک اس کی مخالفت میں جرح وارد نہ ہوئی ہو جیسا کہ یہ بات واضح ہے۔

پھر مذکورہ توثیقِ عام حاصل ہونے کی بنیاد پر ۲۶۰ راوی ثقہ راویوں کی فہرست میں منتقل ہو جائیں گے جبکہ پہلے ان کا شمار مجہول راویوں میں ہوتا تھا۔

اور اس کا رد یہ ہے کہ: مذکورہ کتاب کا اصلی نسخہ ہمارے ہاتھ میں نہیں ہے، اور جو ہمارے ہاتھ میں رائج مطبوعہ نسخہ ہے اس کے بارے میں ہم یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ یہ کامل طور پر تفسیر قمی ہے بلکہ بعض قرائن ایسے ہیں جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اس میں تفسیر قمی اور دوسرے مواد کو مخلوط کر دیا گیا ہے، چونکہ اس میں متعدد مقامات پر اس طرح کی تعبیرات وارد ہوئی ہے:

«رجع إلى تفسير علي بن إبراهيم» یا «رجع إلى رواية علي بن إبراهيم»یا «رجع الحديث إلى علي بن إبراهيم» یا ۔۔۔

اور ایسی صورت میں اس بات کا علم اجمالی حاصل ہوتا ہے کہ اس میں تفسیر قمی کے ساتھ دوسرے مواد کو مخلوط کیا گیا ہے، وہ بھی اس طرح سے کہ دونوں کو ایک دوسرے سے جدا کرنا ممکن نہیں ہے لہذا یہ پوری کتاب اعتبار سے ساقط ہو جاتی ہے۔

۲۔ کامل الزیارت کے راوی

کامل الزیارت ایسی کتاب ہے جس میں تمام زیارات کو تالیف کیا گیا ہے، اس کے مؤلف ثقلہ جلیل (القدر) جعفر بن محمد بن قولویہ ہیں جو ہمارے نمایا متقدمین علماء میں سے ہیں۔

اس شیخ جلیل ؒنے اپنی کتاب کا مختصر مقدمہ بیان کیا ہے جس کے ضمن میں انہوں نے یہ عبارت بیان کی ہے:

" و قد علمنا بانا لا يخيط بجميع ما روي عنهم في هذا المعنى و لا في غيره لكن ما وقع لنا من جهة الثقات من أصحابنا رحمهم اللّه برحمته و لا أخرجت فيه حديثا روي عن الشذاذ من الرجال"

(اور ہمیں معلوم ہے کہ ہم اس موضوع میں اور نہ ہی دوسرے موضوعات میں ان حضرات سے مروی تمام روایات پر احاطہ نہیں رکھتے، لیکن جو روایات ہمیں اپنے ثقہ اصحاب کی طرف سے پہنچی ہیں، اللہ ان پر اپنی رحمت نازل کرے، اور میں نے اس میں کوئی ایسی حدیث بیان نہیں کی جو شاذ راویوں سے مروی ہو)۔ اور اس عبارت سے صاحب وسائل ؒنے یہ سمجھا ہے کہ ابن قولویہ ؒاپنے بلا واسطہ اور بالواسطہ تمام مشائخ کی توثیق کر رہے ہیں۔ اور اس پر سید خوئی ؒنے بھی اپنے سابقہ موقف میں موافقت کی تھی، جہاں انہوں نے یہ رائے اختیار کی تھی کہ جس کسی کا نام مذکورہ کتاب کی اسناد میں آیا ہے وہ ثقہ ہے، سوائے اس کے کہ کسی دوسرے کی طرف سے اس کی تضعیف کی گئی ہو۔ یہ اسی کلی اصول کے مطابق ہے جو ہر توثیق میں لاگو ہوتا ہے، یعنی توثیق کو اسی وقت قبول کیا جاتا ہے جب اس کے خلاف تضعیف موجود نہ ہو۔ اس نظریہ کی بنیاد پر ۳۸۸ راویوں کی وثاقت ثابت ہو جائےگی۔

اور اس کا رد: سابقہ عبارت سے جو بات طے شدہ ہے وہ یہ ہے کہ ابن قولویہ ؒفقط ان افراد کی توثیق کر رہے ہیں جن سے انہوں نے براہِ راست روایت بیان کی ہے نہ کہ تمام کی جیسا کہ اسی بات کو خود سید خوئی ؒنے قبول کیا ہے جب انہوں نے اپنی عمر شریف کے آخری حصہ میں اپنی سابقہ رائے سے رجوع کیا تھا۔

۳۔ مشایخ نجاشی

برزگ فقہاء کی ایک تعداد نجاشی ؒکے تمام مشایخ کی وثاقت کی قائل ہیں چونکہ انہوں نے متعدد افراد کے جو حالات بیان کیے ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ غیر ثقہ سے روایت نہ کرنے کے پابند تھے۔

پس انہوں نے جوہری کے حالات میں بیان کیا ہے: " میں نے اس شیخ کو دیکھا ہے، اور وہ میرا اور میرے والد کا دوست تھا اور میں نے اس سے بہت سی باتیں سنی تھیں، لیکن میں نے دیکھا کہ ہمارے مشائخ اسے ضعیف قرار دیتے ہیں، لہٰذا میں نے اس سے کوئی روایت بیان نہیں کی اور اس سے اجتناب کیا۔۔۔ " ۔

اور ابن بھلول کے حالات میں وہ کہتے ہیں : " وہ اپنے ابتدائی دور میں ثابت (قابلِ اعتماد) تھا، پھر اس میں خلل پیدا ہو گیا، اور میں نے دیکھا کہ ہمارے اکثر اصحاب اس پر طعن کرتے اور اسے ضعیف قرار دیتے ہیں۔۔۔ میں نے اس شیخ کو دیکھا تھا اور اس سے بہت کچھ سنا تھا، پھر میں نے اس سے براہِ راست روایت کرنے سے توقف کیا، سوائے اس کے کہ میرے اور اس کے درمیان کوئی واسطہ ہو " ۔

اور اگر کہا جائے کہ: نجاشی ؒکے مشائخ کی وثاقت ثابت ہونے کا کیا فائدہ ہے جبکہ اس کی کوئی روایتی کتاب ہی موجود نہیں ہے۔

تو جواب یہ ہے کہ: فائدہ " التھذیب" اور " الاستبصار" کی روایات کے لحاظ سے ظاہر ہوگا چونکہ شیخ طوسی ؒنے بیان کیا ہے کہ اصحاب کے جملہ اصول و بنیادی کتابیں ان تک احمد بن عبدون یا ابن ابی جید کے توسّط سے پہنچی ہیں، اور یہ دونوں کے حق میں کسی قسم کی توثیقِ خاص وارد نہیں ہوئی ہے لیکن یہ دونوں نجاشی ؒکے مشائخ میں سے ہیں، لہذا نجاشی ؒکے مشائخ کی وثاقت ثابت ہونے کی صورت میں ان دونوں کی وثاقت بھی ثابت ہو جائےگی اور ان دونوں کے توسّط سے پہنچے والی روایات حجّت ہو جائےگی۔

۴۔ سند میں بنو فضال کا واقع ہونا

بنو فضال – یہ حسن بن علی بن فضّال، احمد بن حسن بن علی ابن فضّال اور علی بن حسن بن علی بن فضّال ہیں – یہ فطحیوں کا ایک گروہ ہیں۔

فطحی وہ فرقہ ہے جو امام صادق علیہ السلام کے فرزند عبد اللہ افطح کی امامت کے قائل ہیں۔

ان لوگوں کی احادیث کے کثیر ہونے اور ان کے عقیدے کے فاسد ہونے کی وجہ سے بعض شیعوں نے امام عسکری علیہ السلام سے ان احادیث کے بارے میں کیا موقف اختیار کرنا چاہیے اس کے متعلق سوال کیا تو آپ علیہ السلام نے جواب میں ارشاد فرمایا: " جو انہوں نے روایت کیا ہے اسے لے لو اور جو انہوں نے رائے دی ہے اسے چھوڑ دو " [ ۔

( وسائل الشيعة/ باب ۱۱ من أبواب صفات القاضي حديث ۱۳ )

اور اس روایت کی وجہ سے بزرگ فقہاء کی ایک بڑی تعداد کہ جن میں شیخ انصاری ؒبھی شامل ہیں اس بات کی قائل ہیں کہ جب کسی روایت کی سند میں بنو فضال واقع ہوئے ہو تو وہ روایت حجّت ہے اور اس پر عمل کیا جائےگا یہاں تک کہ اس صورت میں بھی جب بنو فضال اور امام علیہ السلام کے درمیان بعض ضعیف راوی بھی موجود ہو۔

اور اس رائے کو بہت سے بزرگ علما نے مسترد کیا ہے، اس دعوے کے ساتھ کہ اس روایت کا مقصود یہ بیان کرنا ہے کہ عقیدے کا بگاڑ روایت لینے میں مانع نہیں ہے۔ لہٰذا یہ روایت صرف بنی فضّال کی طرف سے روایت لینے میں کسی ممانعت کے نہ ہونے کو بیان کرنے کے سلسلہ میں ہے، اس سے زیادہ کچھ نہیں۔

۵۔ تین اکابرین میں سے ایک کی روایت

کہا گیا ہے کہ تین بزرگوار – محمد بن ابی عمیر، صفوان اور بزنطی – جب کسی شخص سے روایت کرے تو یہ اس شخص کی وثاقت پر دلیل ہے۔

اس کی بنیاد شیخ طوسی ؒکی اپنی کتاب " عدۃ الاصول" کی یہ عبارت ہے :

" سوّت الطائفة بين ما يرويه محمد بن أبي عمير و صفوان بن يحيى و أحمد بن محمد ابن أبي نصر و غيرهم من الثقات الذين عرفوا بانهم لا يروون و لا يرسلون إلّا عمن يوثق به و بين ما اسنده غيرهم"

(گروہِ امامیہ نے محمد بن ابی عمیر، صفوان بن یحییٰ، احمد بن محمد بن ابی نصر اور دیگر ایسے ثقہ راویوں، جو اس بات سے معروف ہیں کہ وہ روایت اور ارسال صرف قابلِ اعتماد افراد سے ہی کرتے ہیں، ان کی مروی احادیث اور دوسروں کی مسند روایات کے درمیان برابری قائم کی ہے)۔

اور اسی وجہ سے مشہور نے کہا ہے کہ ابن ابی عمیر – اور اسی طرح سے صفوان اور بزنطی – کی مرسل روایات ان کی مسند روایات کی طرح سے ہیں۔

اور سیّد خوئی ؒنے اس بیان کردہ رائے کو رد کر دیا ہے – باوجود اس کے کہ یہ مشہور رائے ہے– اس دلیل کے ساتھ کہ ان (تین راویوں) کا صرف ثقہ افراد سے روایت کرنا ایک ایسی بات ہے جس کا علم صرف انہی تین افراد کی جانب سے ہو سکتا ہے، اور انہوں نے خود اس بات کی صراحت نہیں کی ہے، چونکہ اگر انہوں نے ایسا کہا ہوتا تو ان سے یہ نقل کیا جاتا کہ " ہم صرف ثقہ افراد سے ہی روایت کرتے ہیں " ۔اور اس بنا پر لازم آتا ہے کہ شیخ (طوسی) کی اصحاب کی جانب تسویہ (یعنی برابری) کی نسبت ان کے حدس و اجتہاد پر مبنی ہے، نہ کہ ان کے حس (مشاہدہ یا سماع) پر۔

اور اس بات کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ متقدمین علماء میں سوائے شیخ طوسی ؒکے کسی اور کے یہاں یہ دعویٰ معروف نہیں ہے، اور متقدمین کے کلام میں اس (دعویٰ) کا کوئی نشان اور اثر موجود نہیں ہے۔

دیگر توثیقات عامہ

توثیقات عامہ ہم نے بیان کیا انہیں میں منحصر نہیں ہیں بلکہ دیگر مثالیں بھی ہیں جنہیں ہم طوالت کے خوف سے بیان نہیں کر رہے ہیں۔

تیسرا نکتہ

رجالی کے قول کی حجّیت کا مدرک

گذشتہ بحث میں ہم جان چکے ہیں کہ وثاقت کو ثابت کرنے کے لیے متعدد طریقے موجود ہیں اور ان میں سب سے عمدہ رجالی کی توثیق ہے۔

اس بحث میں ہم رجالی کے قول کی حجّیت کے مدرک کو جانیں گے۔ اور ذیل میں ہم درج ذیل پہلوؤں کا ذکر کریں گے:

۱۔ یہ بات شہادت کے باب سے ہے، جیسا کہ قاضی کے سامنے جب خبر دی جاتی ہے کہ فلاں مکان زید کا ہے تو یہ گواہی شمار ہوتی ہے اور جس طرح اس کی حجّیت کا تعلق شہادت کی حجّیت کے باب سے ہے اسی طرح سے رجالی کا کسی راوی کی وثاقت کی خبر دینا یہ ایک شہادت ہے اور اس کی حجّیت کا تعلق شہادت کی حجّیت کے باب سے قرار پائےگا۔ اور اس پر یہ اشکال وارد کیا گیا ہے: اس عنوان کا لازمہ یہ ہے کہ نجاشی ؒاور شیخ طوسی ؒجیسی شخصیات کی جانب سے دی گئی وثاقت کی گواہی کو قبول نہ کیا جائے چونکہ گواہ کی گواہی کو قبول کرنے کے لیے شرط ہے کہ وہ زند ہو، مردہ نہ ہو۔

جس طرح سے ان دونوں میں سے ہر ایک کی گواہی کو اس وقت قبول نہ کرنا لازم آئےگا جب فقط ایک کی گواہی ہو اور دوسرے کی نہ ہو چونکہ گواہی قبول کرنے میں گواہ کا متعدد ہونا اور کم از کم دو ہونا ہے شرط ہے۔

اور جس طرح سے یہ بھی لازم آئےگا کہ امامی شیعہ اثنا عشری کے علاوہ کی توثیق کو قبول نہ کیا جائے چونکہ گواہ کی گواہی قبول کرنے میں اس کا عادل ہونا شرط ہے، اس کا ثقہ ہونا کافی نہیں ہے۔ اور اس بنا پر لازم آئےگا کہ بنی فضّال کی ان توثیقات کو رد کیا جائے جن میں سے بعض کو کشّی ؒنے نقل کیا ہے چونکہ بنو فضّال فطحی تھے۔ جبکہ یہ بات بعید ہے۔

۲۔ یہ اہل خبرہ کے قول کی حجّیت کے باب و عنوان سے ہے، جس طرح سے چیزوں کی قیمت کا تعین کرنے والے دلال کا قول حجّت ہوتا ہے چونکہ وہ اہل خبرہ ہیں تو اسی طرح سے بطور مثال نجاشی ؒکا راویوں کی وثاقت کے بارے میں خبر دینا مذکورہ لحاظ سے حجّت ہے۔

۳۔ یہ ثقہ کی خبر کی حجّیت کے باب و عنوان سے ہے، چونکہ صاحبانِ عقل کا یہ طریقہ ہے کہ وہ تمام امور میں ثقہ کی خبر سے وابستہ ہوتے ہیں۔ اور یہ اس وقت تک حجّت ہے جب تک کسی خاص مقام کے متعلق منع ثابت نہ ہو، جیسا کہ زنا کا مسئلہ ہے کہ دلیل اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ یہ چار گواہ کے بغیر ثابت نہیں ہوتا ، اور جس طرح سے چوری کا معاملہ ہے کہ دلیل اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ بغیر دو گواہیوں کے چوری ثابت نہیں ہوتی۔

اس نطریہ کی بنیاد پر جس شخص کو ثقہ قرار دیا گیا ہو اس میں عدالت شرط نہیں ہے بلکہ یہی کافی ہے کہ وہ قابلِ اعتماد ہو اور جھوٹ سے پرہیز کرنے والا ہو۔ جس طرح سے اس میں متعدد و ایک سے زیادہ ہونا بھی شرط نہیں ہے بلکہ ایک کا خبر دینا کافی ہے۔ جس طرح سے اس کا زندہ ہونا بھی شرط نہیں ہے بلکہ اپنی زندگی میں اس کا خبر دینا کافی ہے چونکہ مرنے کے بعد بھی اس کی حجّیت برقرار رہتی ہے۔

یہ سب اس لحاظ سے ہے کہ عقلا کی سیرت اس بات پر قائم ہے کہ وہ تمام مذکورہ حالتوں میں خبرِ ثِقہ سے وابستہ ہوتے ہیں۔

تطبیقات

تطبیق (۳)

صاحب وسائل ؒنے " وسائل الشیعہ ابوابِ وضو میں سے پہلے باب کی حدیث ۲ " میں کہا، جس کی عبارت یہ ہے:

" و عنه عن حماد عن حريز عن زرارة عن أبي جعفر عليه السّلام في حديث قال: يا زرارة الوضوء فريضة"

(اور ان سے، انہوں نے حماد سے، انہوں نے حریز سے، انہوں نے زرارہ سے، انہوں نے ابو جعفر علیہ السلام سے ایک حدیث میں، فرمایا:اے زرارہ وضو فریضہ ہے)۔

اس حدیث کو حر عاملی ؒنے شیخ طوسی ؒسے نقل کیا ہے، اس بات پر قرینہ یہ ہے کہ اس حدیث سے پہلے جو حدیث تھی حر عاملی ؒنے اس کی ابتداء محمد بن حسن طوسی ؒسے کی تھی، اور اس حدیث کی ابتداء میں کلینی ؒیا کسی اور کے نام کا ذکر نہیں کیا ہے جو اس بات پر دلیل ہے کہ ان کا شیخ طوسی ؒسے نقل کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔

اور " عنہ " کے لفظ میں جو ضمیر ہے اس کا مرجع حسین بن سعید ہے نہ کہ محمد بن حسن۔ مقصود یہ ہے کہ محمد بن حسن اس دوسری حدیث کو بھی حسین بن سعید سے نقل کر رہے ہیں۔

اس بات کو جاننے کے لیے کہ مذکورہ حدیث کی سند صحیح ہے یا نہیں ضروری ہے کہ حسین بن سعید تک کی شیخ ؒکی سند کو دیکھا جائے اور حسین کے بعد کے اس سند کے باقی افراد کو دیکھا جائے یہاں تک کہ سلسلہ امام علیہ السلام تک پہنچے۔ اور یہ ساری باتیں تطبیق ۲ میں گذر چکی ہے۔

اور حرّ عاملی ؒنے سابقہ عنوان کی حدیث ۳ میں کہا جس کی عبارت یہ ہے:

" و بالاسناد عن زرارة قال سألت أبا جعفر عليه السّلام عن الفرض في الصلاة فقال: الوقت و الطهور و القبلة و التوجه و الركوع و السجود و الدعاء"

(اور اسناد کے ساتھ زرارہ سے، کہا میں نے ابو جعفر علیہ السلام سے نماز میں فرض کے متعلق سوال کیا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا: وقت، طہارت، قبلہ، توجہ، رکوع، سجود اور دعا)۔

اس حدیث کو بھی حرّ عاملی ؒنے شیخ طوسی ؒسے نقل کیا ہے چونکہ انہوں نے اس کی ابتداء میں کسی اور کے نام کا ذکر نہیں کیا ہے۔

اور " و بالاسناد " ساتھ سے مراد ہے کہ سابقہ حدیث میں پہلے بیان شدہ اسناد کے ساتھ، یعنی اس حدیث کو شیخ طوسی ؒحسین بن سعید سے اور انہوں نے حماد سے اور انہوں نے حریز سے اور انہوں نے زرارہ سے نقل کیا ہے۔

تمرينات

س ۱: توثیق کی دو اقسام ہیں: خاص اور عام۔ ان دونوں کے درمیان فرق مثال کے ساتھ واضح کریں۔

س ۲: تفسیر قمّی کے مؤلف کون ہیں؟

س ۳: سید خوئی ؒکی تفسیر قمّی کے راویوں کے بارے میں کیا رائے ہے؟ ساتھ میں اس کی بنیاد بھی بیان کریں۔

س ۴: کس طرح اس امکان کو رد کیا گیا ہے کہ قمّی کا مقصد صرف اُن کے خاص ان مشایخ کی توثیق ہے جن سے انہوں نے براہِ راست روایت کی ہے؟

س ۵: تفسیر قمّی کے تمام راوی ثقہ ہیں اس نظریہ پر آپ کیسے اشکال کریں گے؟

س ۶: " کامل الزيارة " کتاب کے مؤلف کون ہیں؟ اور اس کتاب کو اس نام سے کیوں موسوم کیا گیا؟ اس کتاب کے متعلق کیا رائے ہے؟

س ۷: راویانِ " کامل الزيارة " کی وثاقت کے حکم کی کیا بنیاد ہے؟

س ۸: " کامل الزيارة" کے تمام راوی ثقہ ہیں اس نظریہ پر آپ کیسے اشکال کریں گے؟

س ۹: نجاشی ؒکے مشایخ کے متعلق ایک نطریہ ہے۔ اسے واضح کریں اور اس کی بنیاد بیان کریں۔

س ۱۰: نجاشی ؒکی کوئی روائی کتاب نہیں ہے تو نجاشی ؒکے تمام مشایخ کی وثاقت کا دعویٰ کرنے کا کیا فائدہ ہے؟

س ۱۱: بنو فضّال کون تھے؟

س۱۲: ایک نظریہ ہے کہ اگر بنو فضّال میں سے کوئی شخص کسی روایت کے سند میں موجود ہو تو وہ روایت مقبول ہے۔ اس رائے کی وضاحت کریں اور اس کی بنیاد بیان کریں۔

س۱۳: بنو فضّال سے متعلق پیش کردہ نظریہ پر کس طرح سے اشکال کیا جائےگا؟

س۱۴: " تین اکابرین میں سے ایک کی روایت " کا کیا مطلب ہے؟ اور اس سے متعلق کیا رائے ہے؟

س ۱۵: سید خوئی ؒنے " تین اکابرین " کے متعلق رائے کیوں مسترد کی ہے؟

س ۱۶: رجالی کے قول کی حجیت کے مدارک بیان کریں۔

س ۱۷: رجالی کے قول کی حجیت کے پہلے مدرک پر کیا اعتراض ہے؟

س۱۸: کیا آپ کی نگاہ میں وسائل الشیعہ کے ابوابِ وضو کے باب ۱۲ کی حدیث ۱ کی سند صحیح ہے؟ اس کی وضاحت کریں۔

فصل دوم: حدیث کی اقسام کے متعلق

حدیث کو چار اقسام میں تقسیم(۱) کیا گیا ہے:-

۱۔ صحیح: جس کے تمام راوی عادل اور امامی ہو۔

۲۔ موثق: جس کے تمام یا بعض راوی غیر امامی ہو لیکن ان کی توثیق ہوئی ہو۔

۳۔ حسن: جس کے تمام یا بعض راوی امامی ہو لیکن عادل نہ ہو بلکہ صرف ممدوح ہو۔

۴۔ ضعیف: جو ان تین اقسام میں سے نہ ہو، اس طرح سے کہ اس کے راوی مجہول ہو یا انہیں ضعیف قرار دیا گیا ہو۔

----------

(۱) ہم اس بات کی طرف متوجہ کرتے ہیں کہ روایت اگر متواتر یا ایسے قرائن سے متصل ہو جو اس کی حقانیت کا یقین فراہم کرتے ہو تو اس کی حجّیت اور اس کی قبولت میں کوئی اشکال نہیں ہے، بحث ان دونوں اقسام کے علاوہ میں ہے۔ اور جو تقسیم ہم عنقریب بیان کریں گے اس کی نگاہ ان دو قسموں کی علاوہ کی طرف ہے۔

اور اخباریوں نے اس چہار گانہ تقسیم کی مذمت کی ہے اور اس تقسیم کی ایجاد کی جن کی طرف نسبت ہے یعنی علامہ حلی ؒپر اعتراض کیا ہے۔اور اخباریوں کے اس تقسیم کو رد کرنے کی وجہ یہ ہے کہ ان کی نگاہ میں کتب اربعہ کی تمام روایات صحیح ہیں اور ان پر عمل کرنا واجب ہے۔ اور حر عاملی ؒنے اپنی کتاب وسائل میں اس – یعنی کتب اربعہ میں موجود تمام روایات کے صحیح ہونے – پر قرائن جمع کیے ہے جن کی تعداد ۲۲ ہیں (۱) ۔

ان قدّس سرہ نے کہا: " اور اس سے حدیث کی صحیح، حسن، موثق اور ضعیف کی تقسیم پر مبنی جدید اصطلاح کا ضعف ظاہر ہو جاتا ہے جو اصطلاح علامہ ؒاور ان کے استاد احمد ابن طاووس ؒکے زمانہ میں نئی نئی وجود میں آئی تھی۔

اور اس دعوے پر مختصر طور پر تبصرہ ان شاء اللہ تیسری فصل میں آئےگا۔

روایات کی ان چار اقسام سے مربوط چند ابحاث ہیں جنہیں ہم چند نکات کے ضمن میں بیان کرتے ہیں۔

(۱)- وسائل کے آخر میں ذکر کردہ فوائد میں سے نواں فائدہ ملاحظہ کریں۔

صحیح حدیث کے خلاف شہرت

۱۔ جب روایت صحیح السند ہو تو اس کی حجّیت معروف ہے، لیکن بحث اس وقت واقع ہوتی ہے جب شہرتِ فتوائیہ اس صحیح روایت کے برخلاف ہو، تو کیا یہ بات اس روایت کی حجّیت کو ساقط کر دےگی یا نہیں؟

مشہور یہ ہے کہ ایسی صورت میں یہ روایت اعتبار سے ساقط ہو جائےگی سوائے سید خوئی ؒکے جنہوں نے ساقط نہ ہونے کے نظریہ کو اپنایا ہے بعد اس کے کہ (پہلے) وہ ساقط ہونے کے مشہور کے نظریہ کے موافق تھے (۱) ۔

ساقط ہونے کے نظریہ کی یہ تشریح کی جا سکتی ہے کہ ہمارے بزرگ علماء کے سابقہ طبقے نے جب اس روایت کو نظر انداز کیا ہے تو اس سے آشکار ہوتا ہے کہ اس روایت میں بعض لحاظ سے خلل موجود تھا ورنہ وہ کیوں اس روایت کو نظر انداز کرتے۔

------

(۱)- مصباح الاصول ۲: ۲۰۳

ہاں، یہ لازم ہے کہ ان کا اس روایت کو نظر انداز کرنا ان کے اپنے نظریہ اور اجتہاد پر عمل کے نتیجہ میں نہ ہو چونکہ ان کا اجتہاد ان پر حجّت ہے نہ کہ ہم پر۔

لیکن اس کے بعد مسئلہ یہ باقی رہتا ہے کہ ہم یہ کیسے ثابت کریں کہ متقدمین نے اس روایت کو نظر انداز کیا تھا جبکہ ان میں سے کثیر کے بیانایت ہمیں دستیاب نہیں ہیں۔

ثقہ یا عادل کی خبر

۲۔ فقہا؍ کے درمیان یہ مشہور ہے کہ حجّت فقط عادل کی خبر نہیں ہے بلکہ ثقہ کی خبر بھی حجّت ہے۔

ثقہ کی خبر کی حجّیت اور عدالت شرط نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ سیرتِ عقلائیہ ثقہ کی خبر پر عمل کے بارے میں اسی انداز سے قائم ہے جس طرح سے عادل کی خبر پر عمل کے بارے میں قائم ہے۔ اور چونکہ مذکورہ سیرت سے منع نہیں کیا گیا، اس لیے یہ حجت ہے۔

اور اگر کہا جائے کہ آیتِ نبأ ثقہ کی خبر پر عمل کو ممنوع قرار دیتی ہے اگر وہ ثقہ عادل نہ ہو چونکہ آیت کہتی ہے: اگر تمہارے پاس فاسق کوئی خبر لے کر آئے تو تحقیق کرو، اور ثقہ جب عادل نہ ہو تو وہ فاسق ہے تو اس کی خبر کی تحقیق ضروری ہے اور اس کا مطلب ہے کہ حجّیت نہیں ہے۔

ہم جواب دیں گے کہ اس آیتِ کریمہ میں فاسق سے مراد ایسا شخص ہے جو جھوٹ سے پرہیز نہ کرتا ہو، فاسق سے ایسا شخص مراد نہیں ہے جو عادل کے مقابل ہو، چونکہ دو قرینے موجود ہیں:

الف: حکم اور موضوع کی مناسبت چونکہ عدمِ حجّیت کے حکم سے جو بات مناسب ہے وہ ایسے شخص کی خبر ہے جو جھوٹ سے پرہیز نہ کرتا ہو نہ کہ ایسے شخص کی خبر جو جھوٹ سے پرہیز کرتا ہے لیکن کبھی بعض دیگر گناہوں کا مرتکب ہو جاتا ہو۔

ب۔ آیتِ کریمہ کے آخر میں جو ندامت (پشیمانی) کی علت مذکور ہے، اس وقت وجود میں آتی ہے جب جھوٹ سے پرہیز نہ کرنے والے (غیر متحرز عن الکذب) کی خبر پر عمل کیا جائے، اور یہ علت اُس شخص کو شامل نہیں کرتی جو جھوٹ سے پرہیز کرتا ہو۔