‌دروس تمهیدیة فی القواعد الرجالیة

‌دروس تمهیدیة فی القواعد الرجالیة0%

‌دروس تمهیدیة فی القواعد الرجالیة مؤلف:
: مصنف/ مؤلف
: مصنف/ مؤلف
زمرہ جات: علم رجال

‌دروس تمهیدیة فی القواعد الرجالیة

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

مؤلف: مصنف/ مؤلف
: مصنف/ مؤلف
: مصنف/ مؤلف
زمرہ جات: مشاہدے: 7565
ڈاؤنلوڈ: 304

تبصرے:

‌دروس تمهیدیة فی القواعد الرجالیة
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 106 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 7565 / ڈاؤنلوڈ: 304
سائز سائز سائز
‌دروس تمهیدیة فی القواعد الرجالیة

‌دروس تمهیدیة فی القواعد الرجالیة

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

ثقہ کی خبر یا قابلِ اعتماد خبر

۳۔ اس بنا پر کہ حجّت ثقہ کی خبر ہے کیا ثقہ کی خبر کا حجّت ہونا مطلق طور پر ہے یا اس بات سے مشروط ہے کہ اس خبر پر اعتماد اور اطمینان حاصل ہو۔

کہا جا سکتا ہے کہ (خبر کے حجت ہونے کے لیے) اعتماد پیدا ہونا شرط ہے، کیونکہ آیتِ نبأ کے آخر میں ذکر کردہ ندامت (پشیمانی) کا خوف، اس وقت تک باقی رہتا ہے جب تک خبر پر اطمینان حاصل نہ ہو۔

لیکن صحیح نظریہ یہ ہے کہ اطمینان شرط نہیں ہے چونکہ عبد العزیز بن مہتدی اور حسن بن علی بن یقطین کی امام رضا علیہ السلام سے یہ روایت موجود ہے کہ " میں نے عرض کی: اپنے جن دینی امور کی مجھے ضرورت پیش آتی ہیں ان میں سے ہر ایک کے لیے آپ (ع) سے سوال کرنے کے لیے آپ (ع) تک پہنچنا میرے لیے مشکل ہوتا ہے تو کیا یونس بن عبد الرحمن ثقہ ہیں کہ میں ان سے اپنے دینی امور میں سے جس چیز کا محتاج ہوں اسے اس سے حاصل کروں تو آپ علیہ السلام نے فرمایا: ہاں(۱)

(۱) وسائل الشيعة باب ۱۱ من صفات القاضي ح ۳۳

چونکہ یہ روایت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ سوال کرنے والے کے ذہن میں راوی کی وثاقت کا کافی ہونا مرتکز و طے شدہ تھا، اور امام علیہ السلام نے بھی اس بات کی تائید فرمائی ہے " ۔

خبرِ حسن

۴۔ کیا حسن روایت حجّت ہے؟ شیخ نائینی اور سید خوئی قدّس سرھما اس کی حجّیت کے قائل ہیں۔

اور مصباح الأصول میں انہوں نے اس بات پر سیرتِ عقلائیہ سے استدلال کیا ہے، اس دعوے کے ساتھ کہ عقلاء کا طرزِ عمل اس پر قائم ہے کہ اگر مولا (مالک) کا کوئی حکم اس کے بندے تک ایسے امامی راوی کے ذریعے پہنچے جو قابلِ تعریف (ممدوح) ہو، اور جس کا نہ فسق ظاہر ہو اور نہ عدالت، تو بھی اس پر عمل کیا جاتا ہے، اسی طرح جس طرح سے سیرت اس روایت پر عمل کرنے پر قائم ہے جو کسی امامی عادل راوی کے ذریعے پہنچی ہو۔ اور چونکہ اس سیرت سے شریعت نے منع (ردع) نہیں کیا ہے، تو ہم اس سے یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ شارع نے اس پر امضاء کیا ہے۔( مصباح الاصول ۲: ۲۰۰ )

اس پر بتصرہ ان شاء اللہ تعالی دوسرے حصے میں آئےگا۔

خبرِ ضعیف

۵۔ متأخر علماء کے درمیان معروف بات یہ ہے کہ ضعیف خبر کے لیے حجیت نہیں ہے، لیکن ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ضعیف خبر اس وقت حجیت کی سطح تک ترقی کر سکتی ہے جب اس کی موافقت میں شہرتِ فتوائیہ موجود ہو؟ یعنی کیا ممکن ہے کہ سند کی کمزوری کا تدارک اس کے موافقت میں موجود شہرتِ فتوائیہ سے ہو جائے ؟

مشہور یہ ہے کہ اس کے ذریعہ اس کے ضعف کا تدارک ہو جاتا ہے کیونکہ شہرت ایک طرح سے اس روایت کے متعلق " تبیّن" (تحقیق) ہے، اور یہ بات خبر کی حجیت کے لیے کافی ہے۔ کیونکہ آیتِ نبأ نے فاسق کی خبر کو مطلقاً ناقابلِ حجت قرار نہیں دیا بلکہ اس میں " تبیّن" یعنی تحقیق کرنے کا حکم دیا ہے، لہٰذا جب تحقیق کے بعد خبر کی صداقت واضح ہو جائے تو اس پر عمل کرنا ضروری ہے، اور فتوے کی شہرت اس صداقت کو واضح کرتی ہے۔

یہ اس بات کے علاوہ ہے کہ مشہور کی جانب سے کسی روایت پر عمل کرنے سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ وہ اس روایت کی توثیق کر رہے ہیں چونکہ اگر ایسا نہ ہوتا تو وہ کیوں اس پر عمل کرتے بلکہ متقدمین میں سے مشہور کا کسی روایت پر عمل اس روایت کے صدور کا اطمینان فراہم کرتا ہے۔

لیکن مسئلہ یہ باقی رہتا ہے کہ اس بات کو ثابت کیسے کریں، چونکہ متقدمین کی استدلالی کتابیں ہمیں دستیاب نہیں ہیں کہ ہم اس بات کو جان سکے کہ انہوں نے اپنے فتووں میں اس روایت کو بنیاد بنایا ہے اور اس روایت پر عمل کیا ہے، چونکہ اس بات کا امکان موجود ہے کہ مشہور کے فتوے کے درمیان اور اس روایت کے درمیان محض اتفاقی موافقت قائم ہو گئی ہو بغیر اس کے کہ مشہور نے اس روایت کو بنیاد بنایا ہوا۔

خبرِ مضمر

۶۔ خبر مضمر ایسی روایت ہے جس میں جس سے سوال کیا گیا ہو اس کا تذکرہ نہ ہو کہ آیا وہ امام علیہ السلام ہیں یا کوئی اور، جسیا کہ یہی صورت حال زرارہ کی اس صحیح روایت میں ہے جسے شیخ طوسی ؒنے " التھذیب" میں اپنی سند کو حسین بن سعید تک اور انہوں نے حماد سے، انہوں نے حریز سے، انہوں نے زرارہ سے، انہوں نے کہاں: قلت لہ (میں نے ان سے کہا) اگر ایک شخص کو وضو کی حالت میں نیند آ جائے تو کیا ایک جھپکی یا دو جھپکیاں اس پر وضو کو واجب کر دےگی تو آپ علیہ السلام نے فرمایا۔۔۔ ( وسائل الشيعة باب ۱ من أبواب نواقض الوضوء ح ۱ )

زرارہ نے یہ نہ کہا کہ میں نے بطور مثال امام صادق علیہ السلام سے عرض کیا بلکہ فقط یہ کہا کہ میں نے ان سے عرض کیا، یعنی ایسی ضمیر کا ذکر کیا جس کے امام علیہ السلام کی طرف رجوع کا بھی امکان ہے اور غیر امام کی طرف بھی رجوع کا امکان ہے۔ اور اسی وجہ سے بعض اوقات روایاتِ مضمرہ کی عدمِ حجیت کا حکم دیا جاتا ہے، کیونکہ اس بات کا یقین نہیں ہوتا کہ جس شخص سے سوال کیا گیا وہ امام علیہ السلام ہی ہیں۔

اس کے مقابل میں دو نظریات پائے جاتے ہیں :

ان میں سے ایک: تمام مضمرات حجّیت رکھتی ہیں اس دعوے کے ساتھ کہ اضمٰار (ضمیر کے استعمال) کا سبب اور اس اسلوب کے پیدا ہونے کی وجہ یہ ہے کہ راوی بعض اوقات امام علیہ السلام سے کئی سوالات کرتا تھا، اور جب وہ ان سوالات کو نقل کرنا چاہتا تو شروع میں امام علیہ السلام کے نام کی وضاحت کرتا اور کہتا کہ

" سألت الصادق عليه السّلام عن كذا فاجاب بكذا، و سألته عن كذا فاجاب بكذا، و سألته عن ۔۔۔ "

(میں نے امام صادق علیہ السلام سے سوال کیا فلاں چیز کے بارے میں تو آپ علیہ السلام نے یہ جواب دیا اور میں نے ان سے یہ سوال کیا تو انہوں نے یہ جواب دیا اور میں نے یہ سوال کیا۔۔۔)۔

یہ کہ روایت کے آغاز میں امام علیہ السلام کا نام صراحت کے ساتھ ذکر کیا گیا تھا، اور اس کے بعد صرف ضمیر کے ذریعے اُن کی طرف اشارہ کرنے پر اکتفا کیا گیا، اور نام کی دوبارہ صراحت کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔ پھر بعد میں، جب احادیث کو تقطیع (ٹکڑوں) میں تقسیم کیا گیا تو ہر فقرہ (جزو) کو اس کے مناسب حدیثی باب میں اسی طرح درج کر دیا گیا جیسا وہ تھا، بغیر جن سے سوال کیا گیا ہے اس شخص یا امام علیہ السلام کے نام کی وضاحت کیے۔

یوں اضمار کا رجحان شروع ہوا۔۔

اور جب ہم اضمٰار (ضمیر کے استعمال) کی اس وجہ سے مطلع ہو جائیں گے، تو ہم بلا شک و شبہ تمام " مضمرات " (ضمیر والی روایات) کی حجّیت کا حکم دیں گے، کیونکہ جس شخص سے سوال کیا گیا تھا وہ شروع سے ہی امام علیہ السلام کے سوا کوئی اور نہیں تھا۔

اور یہ رائے قابلِ بحث و اشکال ہے، کیونکہ یہ بات اس فرض پر درست ہو سکتی ہے جب یہ یقینی ہو کہ شروع میں جن سے سوال کیا گیا وہ شخص امام علیہ السلام ہی تھے، لیکن ہم اس بات کا قطعی حکم کیسے لگا سکتے ہیں؟ ہمیں یہ احتمال بھی رہتا ہے کہ شاید جس سے سوال کیا گیا وہ امام علیہ السلام کے بجائے کوئی اور شخص ہو۔

اور دوسرا نظریہ جو بعض فقہاء نے اختیار کیا ہے، وہ یہ ہے کہ فرق کیا جائے : اگر مضمرہ روایت بیان کرنے والا شخص اصحابِ امام علیہ السلام میں سے جلیل القدر اور بزرگوں میں سے ہو، اس طرح کہ اس کے شایانِ شان نہیں کہ وہ امام علیہ السلام کے علاوہ کسی اور سے نقل کرے — جیسا کہ زرارہ کی صورت حال ہے — تو ایسی صورت میں مضمَرہ روایت حجت ہوگی، کیونکہ راوی کا بلند مقام خود ایک قرینہ ہے جو اس بات کا تعیّن کرتا ہے کہ جس شخص سے سوال کیا گیا ہے وہ امام علیہ السلام ہی ہیں، لیکن اگر راوی ایسا نہ ہو (یعنی عام راوی ہو)، تو ایسی روایت حجت نہیں ہوگی کیونکہ مذکورہ قرینہ موجود نہیں ہے۔

اور ہمارے نزدیک صحیح بات یہ ہے کہ تمام مضمرات (ضمیر والی روایات) حجت ہیں، ایک لطیف و باریک نکتہ کی وجہ سے جس کی وضاحت ان شاء اللہ تعالیٰ دوسرے حصے میں آئےگی

خبرِ مرسل

خبر مرسل یعنی ایسی روایت جس میں سند کے بعض راویوں کے نام کا تذکرہ نہ کیا گیا ہو، جیسا کہ یہی صورت حال اس سند میں ہے کہ شیخ صدوق ؒنے اپنے والد سے، انہوں نے سعد بن عبد اللہ سے، انہوں نے ایوب بن نوح سے، انہوں نے محمد بن ابی عمیر سے، انہوں نے ایک سے زائد سے، انہوں نے ابو عبد اللہ علیہ السلام سے۔۔۔ ( وسائل الشيعة باب ۱۸ من أبواب أحكام الخلوة حديث ۴ )

اس میں ابن ابی عمیر نے اس راوی کے نام کی وضاحت نہیں کی ہے جس سے انہوں نے روایت کی ہے اور فقط " عن غیر واحد " (ایک سے زائد سے) کے الفاظ استعمال کیے ہے اور اس طرح کی روایت کو مرسلہ شمار کیا جاتا ہے۔

اور فقہاء کے درمیان مرسلہ روایات کی حجّیت کے بارے میں متعدد اقوال پر مبنی اختلاف واقع ہوا ہے جن میں سے ہم بعض کو مندرجہ ذیل میں ذکر کرتے ہیں:-

الف: مطلق طور پر (ہر حال میں) عدمِ حجیت، چونکہ مبہم و غیر واضح واسطہ کی وثاقت ثابت نہیں کی جا سکتی۔

ب: تفریق کی گئی ہے: اگر ارسال کرنے والا راوی ابنِ ابی عمیر، صفوان، یا بَزَنطی(۱)ہوں تو روایت حجت ہوگی؛ اور اگر ارسال کرنے والا ان کے علاوہ کوئی اور ہو، تو روایت حجت نہیں ہوگی۔

اور اس کی وجہ یہ ہے کہ شیخ طوسی ؒنے اپنی کتاب العدّة(۲)میں ذکر کیا ہے کہ شیعہ علماء نے ابنِ ابی عمیر، صفوان اور بَزَنطی کی مرسل روایات پر عمل کیا ہے، اس بنیاد پر کہ یہ حضرات صرف ثقہ افراد ہی سے روایت کرتے تھے اور انہی سے ارسال کرتے تھے، لہٰذا اگر ارسال کرنے والا راوی ان میں سے کوئی ہو، تو اس کی روایت حجت ہوگی کیونکہ وہ صرف ثقہ سے ہی مرسلہ روایت بیان کرتا ہے، اور اگر ارسال کرنے والا راوی ان کے علاوہ ہو، تو روایت رد کر دی جائےگی کیونکہ اس میں واسطے کی وثاقت کا احراز و اثبات نہیں ہے۔

-----

حوالہ جات:(۱) "یہ تینوں (راوی) ہمارے بڑے اصحاب میں سے ہیں۔ جہاں تک ابنِ ابی عُمَیر کا تعلق ہے، تو نجاشی نے ان کے بارے میں کہا : "جلیل القدر اور ہمارے نزدیک نیز مخالفین کے نزدیک بھی بلند مرتبہ رکھتے ہیں"۔ اور شیخ طوسی نے ان کے بارے میں کہا : "وہ خاصہ (شیعہ) اور عامہ (اہل سنت) دونوں کے نزدیک سب سے زیادہ قابلِ اعتماد، سب سے زیادہ عبادت گزار، پرہیزگار اور زاہد تھے"۔ اور ان کے مکمل حالات جاننے کے لیے معجم رجال الحدیث، جلد ۱۴، صفحہ ۲۷۹ کی طرف رجوع کیا جا سکتا ہے۔

اور جہاں تک صفوان بن یحییٰ کا تعلق ہے، تو نجاشی نے ان کے بارے میں کہا : "ثقہ، ثقہ، عین (یقینی قابلِ اعتماد)۔ اور ان کے حالات کے لیے المعجم، جلد ۹، صفحہ ۱۲۳ کی طرف رجوع کرنا مناسب ہوگا۔

اور جہاں تک احمد بن محمد بن ابی نصر بزنطی کا تعلق ہے تو یہ امام رضا علیہ السلام کے اصحاب میں سے ہے اور آپ علیہ السلام کے نزدیک عظیم المرتب تھے۔ ان کے حالات المعجم ح۲ ص۲۳۱ میں درج ہے۔

(۲)- کتاب "العدۃ" کی خبر واحد کی حجّیت کی بحث کے آخری حصے کی طرف رجوع کریں۔

ج۔ تفریق فقط شیخ صدوق ؒکی مرسلہ روایات میں اس طرح سے کہ فرق کریں گے جب وہ عبارت بیان کرے کہ: کہا صادق علیہ السلام نے اور اس میں جب وہ عبارت استعمال کرے کہ : مروی ہے صادق علیہ السلام سے۔ پہلی قسم حجّت ہے اور دوسری نہیں ہے، چونکہ " قال " (کہا) کے لفظ کا استعمال اس بات پر دلیل ہے کہ شیخ صدوق ؒکو اس روایت کے امام علیہ السلام سے صادر ہونے اور اس کی سند صحیح ہونے کا یقین ہے جبکہ اگر انہیں روایت کی صحت کا یقین نہ ہوتا تو ان کے لیے پختہ یقین کے ساتھ اس روایت کی امام علیہ السلام کی طرف نسبت دینا ممکن و جائز نہ ہوتا۔ اور یہ اس صورت کے برخلاف ہے جب " روی " (مروی ہے) کا لفظ استعمال کرتے ہیں تو یہ اصطلاح نسبت کے صحیح ہونے کے یقین پر دلالت نہیں کرتی لہذا یہ نقل حجّت نہیں ہے۔

تطبیقات

تطبیق(۴)

حر عاملی ؒنے وسائل الشیعہ وضو کے ابواب میں سے باب ۴۲ کی حدیث ۱ میں بیان کیا ہے، اس کی عبارت اس طرح سے ہے :

" محمد بن الحسن عن المفيد عن أحمد بن محمد عن ابيه عن أحمد بن ادريس و سعد بن عبد اللّه عن أحمد بن محمد عن الحسين بن سعيد عن حماد عن حريز عن زرارة عن أبي جعفر عليه السّلام

(محمد بن حسن، انہوں نے مفید سے، انہوں نے احمد بن محمد سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے احمد بن ادریس اور سعد بن عبد اللہ سے، انہوں نے احمد بن محمد سے، انہوں نے حسین بن سعید سے، انہوں نے حماد سے، انہوں نے حریز سے، انہوں نے زرارہ سے، انہوں نے ابو جعفر علیہ السلام سے ۔۔۔)

پھر انہوں نے اس حدیث کے آخر میں جو بیان کیا اس کی عبارت اس طرح سے ہے:

" و رواه الكليني عن علي بن إبراهيم عن ابيه و عن محمد بن اسماعيل عن الفضل بن شاذان جميعا عن حماد بن عيسى عن حريز"

(اور اسے روایت کیا ہے کلینی نے علی بن ابراہیم سے، انہوں نے اپنے والد سے اور محمد بن اسماعیل سے، انہوں نے فضل بن شاذان سے ان سب نے حماد بن عیسی سے، انہوں نے حریز سے)۔

حر عاملی ؒکی یہ عبارت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ انہوں نے شیخ طوسی ؒکی دو کتابوں میں سے کسی ایک سے اور شیخ کلینی ؒسے یعنی ان دونوں سے اس روایت کو بیان کیا ہے۔ اور دونوں میں سے ایک کا سلسلہ سند دوسرے سے مختلف ہے۔ اور اس کا لازمہ یہ ہے کہ اس روایت کے صحیح ہونے کے لیے ان دونوں میں سے ایک کی سند کا صحیح ہونا کافی ہے۔ تو اگر فرض کریں کہ کسی لحاظ سے شیخ طوسی ؒکا سلسلہ سند ضعیف ہے تو ہمارے لیے کلینی ؒکے سلسلہ سند کا صحیح ہونا کافی ہے۔

دونوں سلسلہ سند کی حالت کی تحقیق کے لیے ہم کہتے ہیں:

جہاں تک پہلے سلسلہ سند کا تعلق ہے تو اس میں کوئی اشکال نہیں ہے سوائے احمد بن محمد کے لحاظ سے جن سے شیخ مفید ؒنے روایت کو بیان کیا ہے چونکہ یہ احمد بن محمد بن حسن بن ولید ہیں۔ اور یہ راوی شیخ مفید ؒکے شیخ و استاد ہیں۔ اور ہم تک بہت سی حدیث کی بنیادی کتابیں ان کے ذریعہ پہنچی ہیں چونکہ شیخ طوسی ؒنے ان بنیادی کتابوں میں سے کثیر کو اپنے استاد مفید ؒکے توسّط سے بیان کیا ہے اور مفید ؒنے ان کی روایت مذکورہ راوی کے توسّط سے کی ہے۔ اور مقام افسوس یہ ہے کہ ان کے حق میں کوئی توثیق وارد نہیں ہوئی ہے۔ ہاں اگر ہم اس بات کو قبول کرتے ہو کہ " شیخوخۃ الاجازہ " ہونا توثیق پر دلالت کرتا ہے تو اس کے ذریعہ ان کی وثاقت ثابت ہو جائےگی، لیکن اگر ہم اس بات کو رد کرتے ہو تو پہلا سلسلہ سند فقط ان کی وجہ سے ضعیف قرار پائےگا چونکہ محمد بن حسن طوسی ؒاور شیخ مفید ؒتو تعارّف کے محتاج نہیں ہیں۔

جہاں تک احمد کے والد کا تعلق ہے یعنی محمد بن حسن بن ولید قمی تو یہ ثقہ و جلیل (القدر) ہیں یہ شیخ صدوق ؒکے استاد ہیں۔

جہاں تک احمد بن ادریس کا تعلق ہے تو یہ ابو علی اشعری ثقہ اور جلیل (القدر) ہیں اس بنا پر جو نجاشی ؒاور شیخ(۱)نے بیان کیا ہے اور یہ کلینی ؒکے استاد ہیں اور انہوں نے ان کے حوالے سے کثیر روایات بیان کی ہے۔

اور جہاں تک سعد بن عبد اللہ قمی کا تعلق ہے تو یہ ثقہ اور جلیل (القدر) ہیں اس بنا پر جو نجاشی ؒاور شیخ ؒنے بیان کیا ہے۔

اور جہاں تک احمد بن محمد کا تعلق ہے تو یہ احمد بن محمد بن عیسی اشعری قمی ہیں جو ثقہ اور جلیل (القدر) ہیں سعد بن عبد اللہ کے قرینہ سے چونکہ انہوں نے ابن عیسی اشعری سے کثرت سے روایات بیان کی ہے۔(۲)

اور رہی بات حسین بن سعید اور اس سے اوپر (سند میں) امام علیہ السلام تک کے راویوں کی، تو وہ سب کے سب ثقہ اور جلیل القدر ہیں، جیسا کہ ان کی طرف سابقہ تطبیقات میں اشارہ کیا جا چکا ہے۔

حوالہ:(۱) -رجوع کریں معجم رجال الحديث ۲: ۴۱ (۲)- اور اس کی طرف اشارہ تطبیق :۱ میں گذر چکا ہے۔

اور اس بنا پر پہلا سلسلہ سند احمد بن محمد بن حسن ابن ولید کے لحاظ سے قابل تأمل ہے اس بات پر بنا رکھتے ہوئے کہ وثاقت ثابت ہونے میں " شیخوخۃ الاجازہ" (اجازہ دینے والے شیخ ہونا) ہونا کافی نہیں ہے۔

اور جو بات مشکل کو آسان کر دیتی ہے وہ یہ ہے کہ دوسرا سلسلہ سند صحیح ہے۔

یہ اس لیے چونکہ دوسرا سلسلہ سند در حقیقت دو سلسلہ سند کی طرف پلٹتا ہے، مندرجہ ذیل شکل میں:-

الف: کلینی ؒ، انہوں نے علی بن ابراہیم ؒسے، انہوں نے اپنے والد ابراہیم بن ھاشم سے، انہوں نے حماد سے، انہوں نے حریز سے۔

ب: کلینی ؒ، انہوں نے محمد بن اسماعیل سے، انہوں نے فضل بن شاذان سے، انہوں نے حماد سے، انہوں نے حریز سے۔

اور کلینی ؒکے سلسلہ سند میں وارد ہونے والا " جمیعا" کا معنی یہ ہے کہ ابراہیم اور فضل دونوں نے اس حدیث کو حمّاد سے روایت کیا ہے، لہذا " جمیعا" کے لفظ کا معنی یہ دونوں ہیں۔

پھر " الف " میں بیان شدہ سلسلہ سند صحیح ہے چونکہ اس کے تمام راوی ثقہ ہیں اس لیے کہ علی بن ابراہیم ؒیہ تو مشہور تفسیر کے مؤلف اور جلیل القدر ثقہ افراد میں سے ہیں۔ اور کلینی ؒنے الکافی کی تقریباً ایک تہائی احادیث ان کے حوالے سے بیان کی ہے۔

اور جہاں تک ابراہیم کا تعلق ہیں تو ان کی توثیق ممکن ہے اس سبب سے جس کا بیان ان شاء اللہ اس کتاب کے دوسرے حصے میں آئےگا۔

اور جہاں تک حمّاد اور حریز کا تعلق ہے تو سابقہ تطبیقات میں بیان ہو چکا ہے کہ یہ دونوں ثقہ ہیں۔

اور جب " الف " کا سلسلہ سند صحیح ہیں تو پھر ہمیں " ب " کے سلسلہ سند کو دیکھنے کی ضرورت نہیں ہے اور اس روایت کی صحت ثابت ہو جائےگی۔

تمرینات

س ۱: حدیث کی چار اقسام کیا ہیں؟ انہیں بیان کریں اور ان کے معنی واضح کریں۔

س ۲: اخباری علماء نے حدیث کی چار اقسام میں تقسیم کی مذمّت کیوں کی؟

س ۳: کہا جاتا ہے کہ صحیح خبر حجیت سے ساقط ہو جاتی ہے اگر وہ شہرتِ فتوائیہ کے مخالف ہو۔ اس بات کا مقصود واضح کریں۔

س ۴: مشہور کی مخالفت کی وجہ سے صحیح روایت حجیت ساقط ہو جاتی ہے اس بات کو ہم کیسے واضح کریں گے؟

س ۵: مشہور کی مخالفت کی وجہ سے صحیح روایت کی حجیت سے ساقط ہونے کی بنیاد پر مسئلہ یہ باقی رہ جاتا ہے کہ ہم کیسے احراز و ثابت کریں کہ۔۔۔ جو مناسب ہو، اس کے ذریعہ جملہ مکمل کریں۔

س ۶: خبرِ ثقہ اور خبرِ عادل میں کیا فرق ہے؟ اور ان میں سے کس کی حجیت مشہور ہے؟

س ۷: خبرِ ثقہ کی حجیت اور عدالت کے شرط نہ ہونے پر ہم کیسے استدلال کریں گے؟

س ۸: اگر کہا جائے کہ خبرِ ثقہ پر عمل کے لیے جس سیرتِ عقلائیہ کا دعوی کیا گیا ہے اس کے ذریعہ استدلال ممکن نہیں ہے کیونکہ آیت النبأ نے اسے رد کر دیا ہے، تو ہم اس دعوے کو کیسے رد کریں گے؟

س ۹: سیرتِ عقلائیہ پر عمل کرنے میں ہمیں شارع کی جانب سے منع نہ ہونے کا ثبوت کیوں درکار ہے؟

س ۱۰: ثقہ کی خبر اور قابل اطمینان خبر میں کیا فرق ہے؟

س ۱۱: اگر کہا جائے کہ خبر کی حجّیت کے ثبوت میں اس روایت پر اطمینان ہونا ضروری ہے تو اس پر کیسے دلیل قائم کی جائےگی۔

س ۱۲: حجیتِ خبر میں اطمینان ضروری نہیں ہے (بلکہ صرف راوی کا ثقہ ہونا کافی ہے) اس بات پر ہم کیسے استدلال کریں گے؟

س ۱۳: خبرِ حسن کی حجیت کےکون قائل ہیں؟

س ۱۴: خبرِ حسن کی حجیت پر استدلال کیسے کیا جا سکتا ہے؟

س ۱۵: خبرِ ضعیف کی عدم حجیت معروف ہے۔ اس میں کیا نکتہ ہے؟

س ۱۶: کہا گیا ہے کہ خبرِ ضعیف خاص حالت میں حجیت رکھتی ہے۔ وہ حالت بیان کریں۔

س ۱۷: شہرتِ فتوائیہ سے تدارک یافتہ خبرِ ضعیف کی حجیت پر ہم کیسے استدلال کریں گے؟

س ۱۸: تلافی و تدارک کے اصول کو قبول کرنے کی بنیاد پر مسئلہ یہ باقی رہ جاتا ہے کہ۔۔۔ جو مناسب ہو اسے بیان کرتے ہوئے اس جملے کو مکمل کریں۔

س ۱۹: خبرِ مضمر کیا ہے؟

س ۲۰: خبرِ مضمر کی ایک مثال دیں۔

س ۲۱: بعض اوقات ابتدائی نگاہ میں کہا جاتا ہے کہ مضمرہ روایات حجّت نہیں ہے۔ اس کی کیا وجہ ہے؟

س ۲۲: کہا گیا ہے کہ تمام مضمرہ روایات حجت ہیں۔ اس بات کی وضاحت کریں۔

س ۲۳: مشہور نے مضمرہ روایات کی حجیت میں تفریق قائم کی ہے۔ وہ تفریق اور اس کی تشریح بیان کریں۔

س ۲۴: خبرِ مرسل کیا ہے؟ اس کی ایک مثال دیں۔

س ۲۵: مرسلہ روایات کی حجیت پر تین اقوال پائے جاتے ہیں۔ انہیں بیان کریں۔

س ۲۶: مرسلہ روایات کی حجیت کے متعلق پہلے قول کو ہم کیسے واضح کریں گے؟

س ۲۷: مرسلہ روایات کی حجیت کے متعلق دوسرے قول کو ہم کیسے واضح کریں گے؟

س ۲۸: تیسرے قول کو ہم کیسے واضح کریں گے؟

تیسری فصل

حدیث کی بعض کتابوں کے بارے میں نظریات

اس سے پہلے کہ ہم اپنی حدیثی کتابوں کے بارے میں گفتگو کریں، ہم اس دعوے کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو اخباریوں کی طرف منسوب ہے، کہ وہ کہتے ہیں ہے کہ ہماری چاروں کتابوں یعنی الکافی، من لا یحضره الفقیه، تہذیب الاحکام اور الاستبصار میں موجود ہر چیز صحیح ہے۔

ان کے مطابق، ان کتابوں میں جو کچھ بھی موجود ہے وہ سب صحیح ہے اور اس میں سندی دقت و تحقیق کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

اور اس دعوے کے قائل بعض اوقات ان عبارات پر اعتماد کرتے ہیں جو ان میں سے ہر ایک کتاب کے مقدمه میں وارد ہوئی ہیں۔

اور اس دعوے کی وضاحت ان شاء اللہ تعالیٰ اس وقت بیان کی جائے گی جب ان کتابوں پر گفتگو ہوگی۔

اور کبھی وہ ایسے دلائل پر اعتماد کرتے ہیں جو چاروں کتابوں پر عمومی طور پر لاگو ہوتے ہیں، کسی ایک کے ساتھ خاص نہیں ہوتے۔ ان دلائل کی مثال ان وجوہات سے دی جا سکتی ہے جنہیں صاحبِ وسائل ؒنے اپنی کتاب کے آخر میں درج بعض فوائد میں ذکر کیا ہے، کیونکہ ان قدس سرہ نےاس بات کو ثابت کرنے کے لیے بائیس (۲۲) وجوہات بیان کی ہیں۔

اور شاید ان میں سب سے قوی دلیل پہلی دلیل ہے، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اصحابِ ائمہ علیہم السلام نے احادیث کو محفوظ رکھنے اور ان کی ضبط و تدوین میں بھرپور کوششیں کیں، یہاں تک کہ یہ احادیث محمدونِ ثلاثہ کے زمانے تک پہنچ گئیں۔ پھر محمدونِ ثلاثہ نے اپنی طرف سے ان احادیث کو مدوّن کیا اور انہیں نئی کتابوں کی صورت میں پیش کیا، جن کے نام ہیں: الکافی، من لا یحضره الفقیه، تہذیب الاحکام اور الاستبصار ۔

اور یہ پختہ اہتمام عام طور سے ان کتابوں میں موجود احادیث کے صادر ہونے کے بارے میں یقین پیدا کرتا ہے۔

اور اس مذکورہ اہتمام کو ثابت کرنے کے لیے کئی شواہد موجود ہیں جو ان شاء اللہ تعالیٰ اس کتاب کے دوسرے حصے میں آئیں گے۔

اور ہم کتب اربعہ کی تمام احادیث کے صحیح ہونے کے دعوے کو متعدد وجوہات کی بنا پر شدّت سے رد کرتے ہیں، جن میں سے ہم کچھ کا ذکر کرتے ہیں :

۱۔ اصحاب کی طرف سے اہلِ بیت علیہم السلام کی احادیث پر شدید و خاص توجہ ان تمام احادیث کے صحیح ہونے کا یقین پیدا نہیں کرتا جو انہوں نے نقل کی ہیں، بلکہ یہ زیادہ سے زیادہ اس علم و یقین کا باعث بنتا ہے کہ ان میں موجود تمام باتیں باطل و غلط نہیں ہیں کیونکہ اس طرح کی پختہ و خاص توجہ ان سب کے باطل ہونے کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتی۔

۲۔ کتب اربعہ کے مؤلفین کو خود ان میں موجود تمام احادیث کے صحیح ہونے کا قطعاً یقین نہیں تھا، تو ہم سے اس کا یقین رکھنے کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے؟

اور اس بات کی دلیل کہ انہیں یقین حاصل نہیں تھا یہ ہے کہ شیخ طوسی قدس سرہ نے اپنی دونوں کتابوں میں درج بعض احادیث کو قابل بحث و اشکال قرار دیا ہے۔ ہم نے اس کتاب کے دوسرے حصے میں کچھ شواہد پیش کیے ہیں۔

۳۔ یہ کہ اگر کتب اربعہ میں موجود تمام چیزوں کو قطعی مان لیا جائے تو شیخ طوسی ؒاور صدوق ؒکے لیے اپنی کتاب کے آخر میں مشیخہ اورجن سے انہوں نے روایت نقل کی ہے ان کے نام درج کرنے اور ان بنیادی کتابوں تک اپنے ان سلسلہ اسناد ذکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں رہتی جن سے انہوں نے احادیث نقل کی ہیں۔ جبکہ ہم دیکھتے ہیں کہ شیخ طوسی ؒ التھذیب کی مشیخہ میں صراحت سے کہتے ہیں کہ میں یہ مشیخہ اس لیے ذکر کر رہا ہوں تاکہ میری کتاب کی احادیث ارسال سے خارج ہو کر اسنادکی طرف منتقل ہو جائیں۔

کتاب الکافی کے بارے میں نظریات

کتاب الکافی شیخ جلیل القدر محمد بن یعقوب کلینی کی تالیف ہے جن کی وفات ۳۲۸ ہجری میں ہوئی تھی۔ انہوں نے اپنی معزز کتاب نجاشی ؒنے جو بات ان کے حالات میں بیان کی ہے اس کے مطابق ۲۰ سال کے عرصے میں تالیف کی۔

یہ جلیل القدر شیخ غیبت صغریٰ کے زمانے میں زندہ تھے اور ناحیۂ مقدسہ کے عظیم سفیروں کے ہم عصر تھے، جو یہ ہیں :

۱۔ ابو عمرو عثمان بن سعید اسدی ؒ۔

۲۔ ابو جعفر محمد بن عثمان ؒ۔

۳۔ شیخ ابو القاسم حسین بن روح نوبختی ؒ۔

۴۔ شیخ ابو الحسن علی بن محمد سمری ؒ۔

کلینی ؒان معزز مشایخ کے ہم عصر تھے۔ اور چوتھے سفیر کی وفات سے ایک سال پہلے یا ان کی وفات کے سال ہی انتقال کر گئے۔

اور الکافی تین حصوں پر مشتمل ہے : الاصول، الفروع، اور الروضہ ۔

جہاں تک " الاصول " کا تعلق ہے، تو یہ دو جلدوں میں ہے، جن میں سے ایک عقل اور جہل، علم کی فضیلت، توحید اور معصومین علیہم السلام سے متعلق ابحاث پر گفتگو کرتی ہے، اور دوسری جلد ایمان اور کفر کے مسائل، دعا، قرآن کی فضیلت اور اسلامی طرزِ عمل کے آداب پر بحث کرتی ہے۔

اور جہاں تک " الفروع" کا تعلق ہے، تو یہ پانچ جلدوں میں ہے جو نماز، روزہ وغیرہ جیسے فقہی احکام سے متعلق احادیث پر مشتمل ہے۔

اور جہاں تک " الروضہ" کا تعلق ہے، تو یہ ایک ہی جلد میں ہے۔ اور یہ اہلِ بیت علیہم السلام کی کچھ نصیحتوں، ان کے خطبوں اور ان سے متعلق بعض تاریخی واقعات پر مشتمل ہے۔

اور کتاب الکافی سے متعلق کئی ابحاث پائی جاتی ہیں، جن میں سے ہم مندرجہ ذیل میں دو نکات کے تحت دو ابحاث کی طرف اشارہ کرتے ہیں :

۱۔ کہا گیا ہے کہ " الکافی" کی تمام احادیث صحیح اور معتبر ہیں۔ اور شیخ نوری ؒنے اس پر چار دلائل سے استدلال کیا ہے جن میں سے ہم دو کا ذکر کرتے ہیں :

الف۔ کلینی ؒچاروں معزز سفیروں کے ہم عصر تھے۔ اور یہ بہت بعید ہے کہ انہوں نے اپنی کتاب ان میں سے کسی ایک کو پیش نہ کی ہو، خصوصاً جب کہ کلینی ؒنے اپنی کتاب شیعوں کے لیے ایک مرجع و رجوع گاہ بنانے کے لیے تالیف کی تھی جیسا کہ انہوں نے اس بات کو مقدمے میں صراحت سے بیان کیا ہے۔

اور کتابوں کو کسی ایک سفیر کے سامنے پیش کرنا ایک عام رواج تھا۔

اور اس سے ہمارا مقصد یہ نہیں کہ بعض زبانوں پر رائج اس بات کو صحیح قرار دیا جائے کہ ناحیۂ مقدسہ سے یہ صادر ہوا تھا کہ " الکافی ہمارے شیعوں کے لیے کافی ہے " ، یہ ثابت نہیں ہے، بلکہ مقصد یہ دعویٰ ہے کہ معزز سفیروں میں سے کسی کے سامنے پیش کیے جانے کی وجہ سے کسی کتاب پر اطمینان حاصل ہوتا ہے۔

اور اس بات پر یہ اشکال کیا جا سکتا ہے کہ اطمینان حاصل ہونے کا دعویٰ سخت و مشکل ہے، کیونکہ بعض کتابیں اگرچہ معزز سفیروں سے سامنے پیش کی گئیں — جیسے شلمغانی کی کتاب جو اپنی ابتدائی زندگی میں سلیم سیرت کا مالک تھا اور اس نے " کتاب التکلیف" کے نام سے ایک کتاب تالیف کی تھی، اور آخری عمر میں شیخ نوبختی ؒسے سفارت کے معاملے میں حسد کی وجہ سے منحرف ہو گیا تھا، اور اس کے انحراف کے بعد اس کی کتابیں شیخ نوبختی ؒکے سامنے پیش کی گئیں اور ان سے کہا گیا کہ ہم ان کی کتابوں کے ساتھ کیا کریں جب کہ ہمارے گھر ان سے بھرے ہوئے ہیں؟ تو انہوں نے کہا: میں اس میں وہی کہتا ہوں جو ابو محمد حسن بن علی صلوات اللہ علیہما نے فرمایا تھا جب آپ (ع) سے بنی فضال کی کتابوں کے بارے میں پوچھا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ ہم ان کی کتابوں کے ساتھ کیا کریں جب کہ ہمارے گھر ان سے بھرے ہوئے ہیں؟ تو آپ صلوات اللہ علیہ نے فرمایا تھا: " جو انہوں نے روایت کیا ہے اسے لے لو اور جو انہوں نے رائے دی ہے اسے چھوڑ دو "

( كتاب الغيبة للشيخ الطوسي: ص ۲۳۹ )

لیکن یہ اس صورت میں تھا جب کتاب کا مؤلف منحرف ہو گیا تھا اور فرض یہ ہے کہ پیش کرنے کا عمل خود اس کتاب کے مؤلف کے علاوہ دوسرے افراد کی جانب سے واقع ہوا تھا۔ اور اس کا موازنہ اس مقام سے کیسے کیا جا سکتا ہے جس میں کلینی ؒکو استقامات و دیانت کے کمال و عروج پر سمجھا جاتا ہے؟ اور ان کی استقامت کے فرض کے بعد دوسروں کی جانب سے پیش کیے جانے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔

اور اگر اس سے صرفِ نظر بھی کیا جائے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ دو یا تین بار کتاب (نائب خاص کی خدمت میں) پیش کیے جانے سے کلی اطمینان حاصل نہیں ہوتا (کہ کتاب پوری کی پوری صحیح ہے)، اور نہ ہی یہ ضروری ہے کہ جو شخص بھی کسی کتاب کو تالیف کرے لازمی ہے کہ وہ اپنی کتاب (نائب خاص کے سامنے) پیش کرے۔

ب۔ اصول کافی کے مقدمے میں کلینی ؒکے اس بیان کو دلیل بنانا کہ بعض لوگوں نے ان سے ایک ایسی کتاب تالیف کرنے کی درخواست کی جس کی طرف رجوع کیا جا سکے، تو انہوں نے اس کا جواب یوں دیا: " میں نے کہا کہ آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے پاس ایک ایسی کتابِ کافی ہو جس میں دینی علم کی تمام شاخیں شامل ہوں، جو سیکھنے والوں کے لیے کافی ہو اور جس کی طرف ہدایت کا متلاشی رجوع کرے، اور دین کے علم اور صادقین علیہم السلام کی صحیح روایات پر عمل کرنے کا خواہشمند اس سے فائدہ اٹھائے۔ اور اللہ تعالیٰ نے، کہ اسی کے لیے حمد ہے، جو کچھ آپ نے طلب کیا تھا اس کی تالیف کو آسان کر دیا۔۔۔ " ۔

ان سے ایک ایسی کتاب کی تالیف کی درخواست کی گئی جو صحیح روایات پر مشتمل ہو تاکہ ان پر عمل کیا جا سکے، اور کلینی ؒنے اس کا جواب دیا اور کہا: " اور اللہ تعالیٰ نے آسان کر دیا۔۔۔ " ۔ اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ انہوں نے اس بات کو قبول کیا ہے کہ ان کی کتاب میں جو کچھ بھی ذکر کیا گیا ہے وہ صحیح روایات میں سے ہے۔

اس بات پر یہ اشکال ممکن ہے کہ متقدمین علماء کی اصطلاح میں خبرِ صحیح سے مراد وہ خبر نہیں جس کے راوی عادل ہوں، بلکہ وہ خبر ہے جس پر عمل کرنا واجب ہو کیونکہ اس کے ساتھ ایسے قرائن موجود ہوتے ہیں جو اس کی حقانیت کے علم و یقین کا باعث بنتے ہیں، چاہے کلینی ؒکے نزدیک ہی کیوں نہ ہو۔ اور یہ بات معلوم و ظاہر ہے کہ اس معنی میں صحیح ہونا یہ لازم نہیں کرتا کہ وہ ہمارے نزدیک بھی صحیح ہو، کیونکہ یہ احتمال ہے کہ اگر ہم ان قرائن سے مطلع ہوتے تو وہ ہمارے نزدیک حقانیت کے علم و یقین کا باعث نہ بنتے۔

ہاں، اگر خبر صحیح سے مقصود وہ اصطلاح ہو جو آج کے دور میں رائج ہے، یعنی وہ جس کے راوی عادل امامی ہوں، تو کلینی ؒکی یہ گواہی کہ ان کی کتاب صحیح روایات پر مشتمل ہے، ان کی روایات کی سند کے رجال کے عادل ہونے کی گواہی بن جاتی اور اس سے مطلوب ثابت ہو جاتا، لیکن یہ مقصود نہیں ہے، کیونکہ خبر صحیح کی یہ اصطلاح علامہ ؒکے زمانے سے رائج ہونے والی جدید اصطلاح ہے۔

۲۔ یہاں ایک ایسا رجحان و اسلوب ہے جو کلینی ؒکی کافی سے مخصوص ہے، اور وہ یہ کہ وہ اکثر " عدة من الاصحاب" (اصحاب و علماء کے ایک گروہ) سے روایت کرتے ہیں، تو وہ اس طرح کہتے ہیں:

" عدة من اصحابنا عن سہل بن زیاد " یا کہتے ہیں : " عدة من اصحابنا عن احمد بن محمد بن عیسی " ، یا " عدة من اصحابنا عن احمد بن محمد بن خالد برقی " ۔

اور یہ کہا جا سکتا ہے کہ چونکہ " عدة" سے مقصود اور یہ بات واضح نہیں ہے کہ اس میں کون کون شامل ہیں، لہٰذا " عدة" کے واسطے سے نقل کردہ روایت اعتبار سے ساقط ہو جاتی ہے۔

اور اس کے جواب میں کئی دلائل دیئے جاتے ہیں جن میں سے ہم کچھ کا ذکر کرتے ہیں :

الف۔ علامہ حلی ؒنے " الخلاصة" کے آخر میں تیسرے فائدے میں خود شیخ کلینی ؒسے نقل کیا ہے کہ میرے قول " عدة من اصحابنا عن احمد بن محمد ابن عیسی " سے مقصود: محمد بن یحییٰ، علی بن موسیٰ کمندانی، داؤد بن کورة، احمد ابن ادریس اور علی بن ابراہیم ہیں۔ اور میرے قول " عدة من اصحابنا عن احمد ابن محمد بن خالد برقی " سے مقصود: علی بن ابراہیم اور ۔۔۔ ہیں کہ اس صورت میں " عدة" کا مسئلہ حل ہو جاتا ہے اور اس کا اعتبار ثابت ہو جاتا ہے کیونکہ " عدة" کا کوئی ایک فرد ثقہ ہو — جیسے پہلے " عدة" میں محمد بن یحییٰ اور دوسرے "عدة" میں علی بن ابراہیم — تو یہ اس کے اعتبار کے لیے کافی ہے۔

ب۔ لفظ " عدة" کا اطلاق تین یا اس سے زیادہ پر ہوتا ہے، اور کلینی ؒکے تین یا اس سے زیادہ مشائخ کا جھوٹ پر جمع ہونا بعید ہے۔

ج۔ کلینی ؒنے اصول کافی کی پہلی حدیث میں ذکر کیا ہے: " ہمیں خبر دی ابو جعفر محمد بن یعقوب نے، انہوں نے کہا کہ مجھے حدیث بیان کی ہمارے اصحاب میں سے ایک گروہ (عدۃ) نے جن میں محمد بن یحییٰ عطار شامل ہیں، انہوں نے ۔۔۔ " ۔

یہ فقره اس بات کی دلیل ہے کہ " عدة" کے افراد میں سے ایک محمد بن یحییٰ عطار ہیں، اور چونکہ وہ ثقہ ہیں، تو اس مقام میں اور باقی تمام مقامات میں بھی " عدة" کا اعتبار ثابت ہو جاتا ہے کیونکہ " عدة" کی مذکورہ تفسیر کسی خاص مقام سے مخصوص نہیں ہے۔

" کتاب من لا یحضرہ الفقیہ " کے بارے میں نظریات

" کتاب من لا یحضرہ الفقیہ" شیخ جلیل القدر محمد بن علی بن حسین بن بابویہ قمی کی تصنیف ہے جو شیخ صدوق ؒکے نام سے مشہور ہیں۔

اور اس کتاب کی تالیف کا سبب جیسا کہ خود صدوق ؒنے مقدمہ میں بیان کیا ہے کہ جب تقدیر انہیں پردیس لے گئی اور ان کی ملاقات شریف ابو عبداللہ محمد بن الحسن المعروف بنعمہ سے ہوئی، تو انہوں نے ان سے ایک کتاب تالیف کرنے کی درخواست کی جس کا نام " کتاب من لا یحضرہ الفقیہ" ہو، جس طرح سے طبیب رازی نے " کتاب من لا یحضرہ الطبیب" کے نام سے ایک کتاب تصنیف کی تھی۔

اور یہاں دو نکات قابلِ بحث ہیں۔

۱۔ مشہور کی رائے ہے جس کا کہنا ہے کہ " الفقیه " کی تمام احادیث حجت ہیں اور ان کے اسناد میں تحقیق و دقّت کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اور اس کی بنیاد درج ذیل دو وجوہات ہیں :