‌دروس تمهیدیة فی القواعد الرجالیة

‌دروس تمهیدیة فی القواعد الرجالیة0%

‌دروس تمهیدیة فی القواعد الرجالیة مؤلف:
: مصنف/ مؤلف
: مصنف/ مؤلف
زمرہ جات: علم رجال

‌دروس تمهیدیة فی القواعد الرجالیة

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

مؤلف: مصنف/ مؤلف
: مصنف/ مؤلف
: مصنف/ مؤلف
زمرہ جات: مشاہدے: 7561
ڈاؤنلوڈ: 304

تبصرے:

‌دروس تمهیدیة فی القواعد الرجالیة
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 106 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 7561 / ڈاؤنلوڈ: 304
سائز سائز سائز
‌دروس تمهیدیة فی القواعد الرجالیة

‌دروس تمهیدیة فی القواعد الرجالیة

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

الف۔ صدوق ؒنے " الفقیہ " کے مقدمہ میں یہ عبارت ذکر کی ہے:

" و لم اقصد فيه قصد المصنفين في ايراد جميع ما رووه، بل قصدت إلى ايراد ما افتي به و احكم بصحته و اعتقد فيه انه حجة فيما بيني و بين ربي تقدس ذكره"

(اور میں نے تصنیف شدہ کتابوں میں جو کچھ انہوں نے روایات کیا ہے ان تمام کو بیان کرنے کا ارادہ نہیں کیا، بلکہ میرا ارادہ صرف ان روایات کو درج کرنا تھا جن کے مطابق میں فتویٰ دیتا ہوں اور جن کی صحت کا میں حکم کرتا ہوں، اور جن کے بارے میں میرا اعتقاد ہے کہ وہ میرے اور میرے ربّ کہ جس کا ذکر پاک و مقدّس ہے- کے درمیان حجت ہیں)۔

مذکورہ فقره اس بات کو بالکل واضح طور پر بیان کرتا ہے کہ وہ اپنی کتاب میں صرف وہی ذکر کرتے ہیں جس کی صحت کا وہ حکم کرتے ہیں اور جس کے بارے میں ان کا اعتقاد ہے کہ وہ ان کے اور ان کے ربّ کے درمیان حجت ہے۔ لہٰذا، مذکورہ گواہی کی بنیاد پر " الفقیہ" کی تمام احادیث پر اعتماد کرنا لازم ہے۔

ب۔ صدوق ؒکی اپنی کتاب کے مقدمہ میں ایک اور عبارت ہے جس میں وہ کہتے ہیں:

" و جميع ما فيه مستخرج من كتب مشهورة عليها المعول و اليها المرجع مثل كتاب حريز ابن عبد اللّه السجستاني و كتاب عبيد اللّه بن علي الحلبي و ..."

(اور اس (کتاب) میں جو کچھ بھی ہے وہ ان مشہور کتابوں سے ماخوذ ہے، جن پر اعتماد کیا جاتا ہے اور جن کی طرف رجوع کیا جاتا ہے، جیسے حریز بن عبداللہ سجستانی کی کتاب اور عبید اللہ بن علی حلبی کی کتاب اور۔۔۔)۔

چونکہ " الفقیہ" کی احادیث مشہور کتابوں سے ماخوذ ہیں اور اصحاب ان کتابوں پر اعتماد کرتے تھے، لہٰذا ان کی سند کی جانچ پڑتال کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہتی۔

اور مذکورہ دونوں دلائل پر بحث کتاب کے دوسرے حصے میں آئےگی، ان شاء اللہ تعالیٰ۔

۲۔ کتاب " الفقیہ" میں بہت سی مراسيل شامل ہیں جو کُل کا ایک تہائی سے زیادہ ہیں۔ اور اسی وجہ سے ان مذکورہ مراسيل کو صحیح قرار دینے کے ممکنہ طریقے پر غور کرنے کی ضرورت پیش آئی ہے۔

اور اگر پہلے ذکر کردہ دونوں دلائل درست ثابت ہو جائیں تو ان پر اعتماد کرنا ممکن ہے۔

اور ایک رائے جو متعدد علما نے اختیار کی ہے جس کے مطابق فرق کیا جائےگا کہ آیا صدوق ؒنے ارسال میں " قال الصادق علیہ السلام" کا لفظ استعمال کیا ہے یا " روي عن الصادق علیہ السلام" کا لفظ استعمال کیا ہے، تو اول حجت ہے اور دوم نہیں۔

اور مذکورہ تفریق کی توضیح خبرِ مرسل کے متعلق بحث کے موقع پر پہلے بیان ہو چکی ہے۔

اور اس پر ہماری بحث ان شاء اللہ تعالیٰ کتاب کے دوسرے حصے میں آئےگی۔

تہذیبین (تہذیب و استبصار) کے بارے میں نظریات

تہذیب الاحکام اور الاستبصار شیخ طوسی قدس سرہ کی دو کتابیں ہیں۔

جہاں تک " تہذیب الاحکام" کا تعلق ہے، تو یہ ایک ایسی کتاب ہے جسے انہوں نے اپنے استاد شیخ مفید ؒکی کتاب "المقنعہ " کی شرح کے طور پر تالیف کیا ہے۔

اور جہاں تک " الاستبصار" کا تعلق ہے، تو انہوں نے اسے اس لیے تالیف کیا کہ ہمارے مخالفین کا ایک گروہ ہماری کتابوں کی احادیث میں اختلاف اور تعارض کا طعنہ دیتا تھا، تو انہوں نے مذکورہ کتاب کو روایات میں بظاہر دکھائی دینے والے اس تعارض کو دور کرنے کی کوشش کے طور پر تالیف کیا۔

اور ان دونوں کتابوں میں شیخ ؒکا طریقہ شیخ کلینی ؒکے الکافی کے طریقے سے مختلف ہے۔ کلینی ؒعام طور پر روایت کی پوری سند ذکر کرتے ہیں اور اس کا کوئی حصہ حذف نہیں کرتے، اس کے برعکس شیخ ؒشاذ و نادر ہی پوری سند ذکر کرتے ہیں، اور عام طور پر سند کا آغاز اس اصل و بنیادی کتاب کے مؤلف کے نام سے کرتے ہیں جس کے حوالے سے وہ حدیث نقل کرتے ہیں۔ تو اگر انہوں نے حدیث عمار بن موسیٰ ساباطی کے اصل سے لی ہو تو وہ سند کا آغاز عمار سے کرتے ہیں اور یوں کہتے ہیں: عمار بن موسیٰ عن۔۔۔

جہاں تک عمار تک ان کی اپنی سند کا تعلق ہے تو وہ اسے حدیث نقل کرتے وقت ذکر نہیں کرتے، بلکہ اسے وہ مشیخہ( مشیخہ شیخ کی جمع ہے ) میں ذکر کرتے ہیں، کیونکہ انہوں نے ایک کتابچہ تالیف کیا ہے جسے " تہذیب" اور " الاستبصار" کے آخر میں شامل کیا ہے، اس میں انہوں نے ان اصولوں و بنیادی کتابوں کے مؤلفین تک کا اپنا وہ سلسلہ سند ذکر کیا ہے جس سے انہوں نے احادیث نقل کی ہے اور اسے مشیخہ کا نام دیا ہے۔

تو اگر ہم عمار تک ان کی سند جاننا چاہیں تو ہم مشیخہ کی طرف رجوع کریں گے، اگر وہ صحیح ہو تو ہم روایت کو لیں گے اور اس کی حجیت کا حکم لگائیں گے، بشرطیکہ عمار اور امام علیہ السلام کے درمیان کی سند بھی صحیح ہو۔

چونکہ شیخ ؒاپنی دونوں کتابوں میں احادیث کو عام طور پر اصول کے مؤلفین سے نقل کرتے ہیں اور سند کا آغاز اصل کے مؤلف کے نام سے کرتے ہیں، لہٰذا حدیث کی صحت ثابت کرنے کے لیے دو باتوں کو ثابت کرنا ضروری ہے :

۱۔ شیخ اور اصل کتاب کے مؤلف درمیان سند کی صحت۔

۲۔ اصل کتاب کے مؤلف اور امام علیہ السلام کے درمیان سند کی صحت۔

شیخ ؒاور صاحبِ اصل کے درمیان کا طریقہ " مشیخہ" یا " الفھرست" کا مطالعہ کر کے معلوم کیا جا سکتا ہے، کیونکہ انہوں نے کتاب "الفھرست" میں بھی اصول کے مؤلفین تک کے اپنے سلسلہ سند کو ذکر کیا ہے۔ اور "الفھرست" میں ذکر کردہ طریقوں کی تعداد " مشیخہ" میں ذکر کردہ طریقوں سے زیادہ ہے کیونکہ " الفھرست" انہوں نے اصول کے مؤلفین اور ان تک کے سلسلہ سند کی مکمل معلومات حاصل کرنے کے لیے تالیف کی تھی۔

پھر شیخ ؒکبھی " مشیخہ" یا " الفھرست" میں صاحبِ اصل تک رسائی کے لیے اسناد کے کئی سلسلہ ذکر کرتے ہیں اور صرف ایک سلسلہ سند پر اکتفا نہیں کرتے۔

اس روشنی میں، یہ سوال کیا جا سکتا ہے: کیا ان تمام سلسلہ اسناد کا صحیح ہونا ضروری ہے یا ان میں سے کسی ایک کا صحیح ہونا کافی ہے؟

یہ واضح ہونا چاہیے کہ ان میں سے کسی ایک کا صحیح ہونا کافی ہے اور ان سب کی صحت ضروری قرار دینے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔

اور اس میں نکتہ واضح ہے کیونکہ روایت کی صحت اس کے تمام سلسلہ اسناد کی صحت پر موقوف نہیں ہے، بلکہ اس کے لیے اس میں سے صرف ایک سلسلہ سند کی صحت کافی ہے۔

تمرینات

س ۱: اخباریوں کی کتب اربعہ کی روایات کے بارے میں ایک خاص رائے ہے۔ وہ رائے بیان کیجیے؟

س ۲: کتب اربعہ کی تمام روایات کی صحت پر دو دلائل سے استدلال کیا جاتا ہے۔ وہ دو دلائل کیا ہیں؟

س ۳: وہ پہلی دلیل بیان کیجیے جسے حر عاملی ؒنے کتب اربعہ میں موجود ہر چیز کی حجیت کے نظریہ کے لیے بنیاد بنایا ہے؟

س ۴: صاحب وسائل ؒنے کتب اربعہ میں موجود ہر چیز کی حجیت کے مسئلہ کو پیش کیا ہے۔

انہوں نے کتنے دلائل دیئے ہیں اور ان میں سب سے قوی کون سی دلیل ہے؟

س ۵: کتب اربعہ میں موجود ہر چیز کی حجیت کی تردید میں کئی دلائل ہیں۔ پہلی دلیل ذکر کیجیے؟

س ۶: اس کی دوسری دلیل ذکر کیجیے؟

س ۷: اس کی تیسری دلیل ذکر کیجیے؟

س ۸: شیخ کلینی ؒکس زمانہ میں زندگی بسر کرتے تھے؟

س ۹: چاروں معزز سفیر کون ہیں؟ اور سفارت سے کیا مراد ہے؟

س ۱۰: الکافی کا تشکیلی انداز بیان کیجیے؟

س ۱۱: شیخ نوری ؒکی " الکافی" کی احادیث کے بارے میں ایک رائے ہے اور انہوں نے اس رائے کے حق میں چار دلائل کی مدد سے استدلال کیا ہے۔ وہ رائے کیا ہے؟

س ۱۲: ان دلائل میں سے کوئی ایک دلیل بیان کیجیے جسے نوری ؒنے الکافی کی تمام احادیث کی صحت ثابت کرنے کے لیے پیش کیا ہے۔

س ۱۳: اس دلیل پر آپ کیسے اشکال کریں گے؟

س ۱۴: شیخ نوری ؒنے جن چار دلائل کو بنیاد بنایا ہے ان میں سے دوسری دلیل ذکر کیجیے؟

س ۱۵: اس دلیل پر آپ کیسے اشکال کریں گے؟

س ۱۶: ایک مخصوص اسلوب و طریقہ ہے جسے کلینی ؒ "عدة" سے روایت کرنے میں اپنایا ہے۔ اس سے کیا مراد ہے؟

س ۱۷: " عدة" کی پہلی تفسیر ذکر کیجیے؟

س ۱۸: " عدة" کی دوسری تفسیر ذکر کیجیے؟

س ۱۹: تیسری تفسیر ذکر کیجیے؟

س ۲۰: شیخ صدوق ؒنے جو حدیث کی کتاب تالیف کی ہے اس کا نام کیا ہے؟ اور اس نام کی وجہ واضح کیجیے؟

س ۲۱: " کتاب من لا یحضرہ الفقیہ" کی احادیث سے متعلق ایک مشہور رائے ہے۔ وہ رائے کیا ہے؟

س ۲۲: " الفقیہ" کی احادیث کی حجیت ثابت کرنے کے لیے پہلی دلیل بیان کیجیے؟

س ۲۳: اس کی دوسری دلیل ذکر کیجیے؟

س ۲۴: کتاب " الفقیہ" میں ۔۔۔شامل ہیں جو کُل کا ایک تہائی سے زیادہ ہیں۔ مناسب الفاظ سے مکمل کیجیے؟ اور اس سے کیا مراد ہے یہ واضح کیجیے؟

س ۲۵: وہ کیا وجہ ہے جس کی بنیاد پر " الفقیہ" کی مراسل کو صحیح قرار دینے کا طریقہ سوچا گیا؟

س ۲۶: " الفقیہ" کی مراسيل کو صحیح قرار دینے کے لیے کس چیز پر اعتماد کیا جا سکتا ہے؟

س ۲۷: صدوق ؒکی مراسيل کی حجیت میں ایک رائے تفریق پر مشتمل ہے۔ وہ تفریق بیان کیجیے؟

س ۲۸: " تھذیب الاحکام" وہ کتاب ہے جسے شیخ طوسی ؒنے ۔۔۔ کے لیے تالیف کیا۔

س ۲۹: " الاستبصار" کی تالیف کا مقصد کیا تھا؟

س ۳۰: احادیث ذکر کرتے وقت شیخ طوسی ؒکے طریقے اور شیخ کلینی ؒکے طریقے میں کیا فرق ہے؟

س ۳۱: " مشیخہ" سے کیا مراد ہے؟ اور اس کی تالیف کا سبب کیا تھا؟

س ۳۲: اگر ہم شیخ ؒکے اس اصل کے مؤلف تک کے سلسلہ سند کو جاننا چاہیں جس سے وہ نقل کرتے ہیں تو ہمیں کیا کرنا چاہیے؟

س ۳۳: شیخ ؒکے اس اصل کے مؤلف تک کے سلسلہ سند کو جاننے کے لیے ہم یا تو ۔۔۔ یا۔۔۔ کی طرف رجوع کر سکتے ہیں۔

س ۳۴: " مشیخہ" میں مذکور سلسلہ اسناد اور " الفھرست" میں مذکور سلسلہ اسناد کے درمیان فرق ہے، وہ فرق ذکر کیجیے؟

س ۳۵: اگر ہمیں " مشیخہ" میں سلسلہ سند ضعیف ملے تو ہمیں کیا کرنا چاہیے؟

س ۳۶: اگر شیخ ؒ "مشیخہ" میں کئی سلسلہ اسناد بیان کریں تو کیا ان سب کا صحیح ہونا ضروری ہے اور کیوں؟

س ۳۷: اگر ہم کسی ایسی روایت کو لینا چاہیں جو شیخ ؒنے اپنی دونوں کتابوں میں سے کسی ایک میں ذکر کی ہو تو دو باتوں کو ثابت کرنا ضروری ہے۔ انہیں ذکر کیجیے؟ اور یہ دونوں باتیں لازم ہونے میں موجود نکتہ واضح کیجیے؟

س ۳۸: وسائل الشیعہ کے باب ۳، أبواب مقدمة العبادات میں مذکور حدیث : ۱ : کی سند کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ اپنے جواب کی تائید میں دلیل پیش کریں؟

چوتھی فصل

ہماری بعض رجالی کتابوں کے بارے میں نظریات

۱۔ رجال کشّی

رجال کشّی ، یہ شیخ جلیل القدر محمد بن عمر بن عبد العزیز کشّی ؒکی تالیف ہے جو ابو عمرو کی کنیت سے مشہور تھے۔

یہ شیخِ جلیل القدر شیخ کلینی ؒکے ہم عصر تھے اور ان کے طبقے میں شمار ہوتے ہیں۔

اور ان کے بارے میں کہا گیا ہے: وہ ثقہ، عین و نمایا شخصیت کے حامل، روایات اور راویوں کے بارے میں بصیرت رکھنے والے تھے، لیکن وہ ضعیف راویوں سے روایت کرتے ہیں۔

یہ جلیل القدر شیخ، محمد بن مسعود عیاشی ؒکے شاگردوں میں سے تھے اور ان کے اس گھر سے تربیت حاصل کی جو شیعہ اور اہل علم کا مرکز تھا۔

اس جلیل القدر شیخ نے ایک کتاب تالیف کی جس میں راویوں کی تعریف یا مذمت میں وارد روایات کا ذکر ہے، پس وہ عام طور پر یہ نہیں بتاتے کہ یہ ثقہ ہے یا ضعیف، بلکہ پہلے راوی کا نام ذکر کرتے ہیں اور پھر اس کے بارے میں روایات میں جو کچھ وارد ہوا ہے اسے ذکر کرتے ہیں۔ اور اس بنا پر وہ تمام راویوں کا ذکر نہیں کرتے، بلکہ صرف ان کا ذکر کرتے ہیں جن کے بارے میں کوئی روایت وارد ہوئی ہوں۔ اور کہا گیا ہے کہ انہوں نے جن راویوں کا ذکر کیا ہے ان کی تعداد " ۵۲۰ " افراد تک پہنچتی ہے۔

اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اصلی رجال کشّی – جسے " معرفة الرجال" سے موسوم کیا جاتا ہے – وہ نہیں ہے جو آج کل ہاتھوں میں گردش کر رہی ہے، کیونکہ اصلی کتاب میں بہت سی غلطیاں تھیں، اور شیخ طوسی ؒنے اس کی طرف توجہ دی اور اسے ان غلطیوں سے پاک کیا، اور اسی لیے آج کل متداول و رائج کتاب " اختیار معرفة الرجال" کے نام سے جانی جاتی ہے، یعنی وہ جس کا انتخاب شیخ طوسی ؒنے کتاب " معرفة الرجال" سے کیا۔

اور اس کتاب کے بارے میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ چونکہ یہ عام طور پر راویوں کی توثیق یا تضعیف کے لیے نہیں لکھی گئی بلکہ راویوں کے حالات سے متعلقہ روایات کا ذکر کرتی ہے، لہٰذا یہ رجال نجاشی یا شیخ کی فہرست کے درجے میں نہیں آتی، بلکہ ان سے بعد کے مرحلے میں آتی ہے۔

۲، ۳۔ رجالِ شیخ اور فھرستِ شیخ

شیخ طوسی قدس سرہ کی اس موضوع میں دو کتابیں ہیں۔

الف۔ ان کی رجالی کتاب جو رجال شیخ طوسی کے نام سے مشہور ہے۔ اور اس کتاب میں وہ عام طور پر راویوں کی توثیق یا تضعیف بیان نہیں کرتے، اور اگر ایسا کسی جگہ ہوا بھی ہے تو وہ نادر و بہت کم ہے۔ بلکہ انہوں نے اس میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے اصحاب اور اہلِ بیت علیہم السلام کے ہر امام کے اصحاب کا ذکر کیا ہے۔ تو وہ پہلے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے اصحاب کے نام ذکر کرتے ہیں، پھر امیر المومنین علیہ السلام کے اصحاب کے، پھر باقی ائمہ علیہم السلام کے اصحاب کے۔

اور آخر میں ان لوگوں کے ناموں کی ایک فہرست ذکر کی ہے جنہوں نے ائمہ علیہم السلام سے روایت نہیں کی ہے۔

اور اس بنا پر مذکورہ کتاب کا فائدہ راوی کی طبقے اور اس بات کو جاننے میں ظاہر ہوتا ہے کہ وہ کس زمانی مرحلے میں زندگی بسر کر رہا تھا اور کس امام کے اصحاب میں سے تھا۔

اور مذکورہ کتاب سے متعلق دو نمایاں پہلو ہیں۔

اول: یہ کہ وہ بعض راویوں کے نام دو بار ذکر کرتے ہیں، مثال کے طور پر قاسم بن محمد جوہری کا ایک بار اصحابِ امام صادق علیہ السلام میں ذکر کیا ہے اور دوسری بار ان لوگوں کے باب میں ذکر کیا ہے جنہوں نے ائمہ علیہم السلام سے روایت نہیں کی ہے۔ اور ایسا انہوں نے دوسرے راویوں کے بارے میں بھی کیا ہے۔

اور اس میں واضح تضاد شامل ہے، کیونکہ اگر کوئی شخص اصحابِ امام صادق علیہ السلام میں سے ہو اور آپ علیہ السلام سے روایت کرنے والوں میں سے ہو تو اسے ان لوگوں کے باب میں کیسے ذکر کیا جا سکتا ہے جنہوں نے ائمہ علیہم السلام سے روایت نہیں کی؟ اس کا لازمہ متضاد چیزوں کا ایک ساتھ جمع ہونا اور ایک ہی شخص کا ائمہ علیہم السلام سے روایت کرنے والا اور ائمہ علیہم السلام سے روایت نہ کرنے والا دونوں ہونا ہے۔

اور ان شاء اللہ تعالیٰ کتاب کے دوسرے حصے میں وہ وجوہات بیان کی جائیں گی جو مذکورہ تضاد کو دور کرنے کے لیے ذکر کی گئی ہیں۔

دوم:امام صادق علیہ السلام کے اصحاب کے باب میں شیخ ؒکی طرف سے لفظ " اسند عنہ" کا تکرار۔ تو جب وہ محمد بن مسلم کو مثلاً اصحابِ امام صادق علیہ السلام میں ذکر کرتے ہیں تو کہتے ہیں :

" اسند عنہ" اور یہ ایک ایسا انداز ہے جو شیخ قدس سرہ سے مخصوص ہے۔ اور اس سے مقصود کیا ہے اس کے بارے میں کلام واقع ہوا ہے۔ اور اس سلسلہ میں کئی احتمالات ذکر کیے گئے ہیں جن کی طرف ہم ان شاء اللہ تعالیٰ کتاب کے دوسرے حصے میں اشارہ کریں گے۔

ب۔ الفھرست ۔ اور یہ ایک ایسی کتاب ہے جسے انہوں نے ہمارے اصحاب میں سے جو کتب اور اصول کے مؤلفین ہیں ان کی تحقیق و جمع آوری کے لیے تالیف کیا ہے۔ تو انہوں نے ہر راوی کا ذکر نہیں کیا ہے بلکہ صرف ان کا ذکر کیا ہے جن کی کوئی کتاب ہے۔ اور راوی کا نام اور اس کی کتاب کا ذکر کرنے کے بعد وہ اس کتاب تک اپنے سلسلہ سند کو بیان کرتے ہیں۔

اور انہوں نے عملی طور پر خود کو اس بات کا پابند نہیں کیا کہ ہر راوی کی توثیق و تضعیف بھی بیان کریں، بلکہ یہ کام انہوں نے بعض مقامات پر کیا ہے اور یہ ان کا عمومی طریقہ کار نہیں ہے۔

۴۔ رجالِ نجاشی

رجالِ نجاشی یہ شیخ جلیل القدر احمد بن علی بن العباس نجاشی ؒکی تالیف ہے۔ اور ان کی کنیت ابو العباس ہے۔یہ شیخِ جلیل القدر شیخ طوسی ؒکے ہم عصر تھے اور وہ ان کے ساتھ ایک ہی شیخ و استاد یعنی حسین بن عبید اللہ غضائری سے استفادہ میں شریک تھے۔

اور اس شیخ ؒنے اپنی کتاب صرف کتب کے مؤلفین کو جمع کرنے کے لیے تالیف کی ہے، لہٰذا وہ – شیخ طوسی ؒکی فہرست کی طرح – صرف ہمارے اصحاب و علماء میں سے ان کا ذکر کرتے ہیں جن کی کوئی کتاب ہو۔

اور یہ کتاب شیخ طوسی ؒکی فہرست سے اس بات میں ممتاز ہے کہ اس کتاب کا عمومی طریقہ یہ ہے کہ جس کے نام کو اس میں پیش کیا گیا ہے ساتھ ہی اس کی توثیق و تضعیف بھی بیان کی گئی ہے۔

اور نجاشی ؒکے اس کتاب کو تالیف کرنے کی وجہ یہ تھی کہ مخالفین کے ایک گروہ نے شیعہ پر یہ طعن کیا کہ ان کے پاس نہ کوئی سلف ہے اور نہ ہی کوئی تصنیف شدہ کتاب۔

تمرینات

س ۱: رجال کشّی کے مؤلف کون ہیں؟

س ۲: شیخ کشّی ؒکو ۔۔۔ کے ہم عصر شمار کیا جاتا ہے؟

س ۳: کشّی ؒکے بارے میں کہا گیا ہے کہ ۔۔۔

س ۴: کشّی ؒنے ۔۔۔ سے تعلیم و تربیت حاصل کی؟

س ۵: کشّی ؒکا اپنی کتاب میں کیا طریقہ ہے؟

س ۶: کشّی ؒکی کتاب کو " اختیار معرفة الرجال" کیوں کہا جاتا ہے؟

س ۷: شیخ طوسی ؒکی دو کتابیں ہیں۔ وہ کون سی ہیں؟

س ۸: شیخ ؒکا اپنی رجال میں کیا طریقہ ہے اور کیا وہ ان کی کتاب " الفھرست" کے طریقے سے مختلف ہے؟

س ۹: شیخ ؒکی رجال میں ایک دوسرے سے مربوط دو نمایا پہلو ہیں۔ پہلےپہلو کو واضح کیجیے؟

س ۱۰: دوسرےپہلو کو واضح کیجیے؟

س ۱۱: کیا شیخ طوسی ؒکی فہرست اور رجال النجاشی میں کوئی نمایاں فرق یا امتیاز موجود ہے؟

س ۱۲: رجال نجاشی کے مؤلف کا نام کیا ہے؟

س ۱۳: نجاشی ؒ۔۔۔ کے ہم عصر تھے؟

س ۱۴: نجاشی ؒنے اپنی کتاب کس وجہ سے تالیف کی؟

س ۱۵: کیا شیخ ؒکی فہرست اور رجالِ نجاشی غیر شیعہ راویوں کا ذکر کرتی ہیں؟

س ۱۶: حر عاملی ؒنے وسائل الشیعہ کے باب ۲، ابواب صلاة الجماعة کی حدیث ۴ میں یہ عبارت نقل کی ہے:

" قال: و قال رسول اللّه صلّى اللّه عليه و آله لقوم: لتحضرن المسجد أو لاحرقن عليكم منازلكم "

(یعنی: انہوں نے کہا: اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ایک قوم سے فرمایا: تم ضرور مسجد میں حاضر ہوا کرو، ورنہ میں تمہارے گھروں کو جلا دوں گا)۔ پہلے " قال " کا فاعل واضح کیجیے؟ اور مذکورہ حدیث کی سند کو کس رائے کی بنیاد پر صحیح قرار دیا جا سکتا ہے؟

یہ ہماری کتاب کے پہلے حصے میں جن باتوں کا ہم نے ذکر کرنا چاہا تھا ان کا اختتام ہے۔ اور یہ نبوی مبعث کے دن ۲۷ رجب المرجب، ۱۴۱۶ ہجری کو مقدس شہر قم میں، اس شخص کے قلم سے مکمل ہوا جو کریم سے اپنے گناہوں سے درگزر کی امید رکھتا ہے۔

باقر الایروانی

‌دروس تمهیدیة فی القواعد الرجالیة

حصۂ دوم

مؤلف: آیت اللہ محمد باقر ایروانی

مترجم: دلاور حُسین حجّتی

تمہید

جب فقیہ کسی خاص و معین حکم کا استنباط کرنا چاہتا ہے تو وہ تشریع کے چاروں مصادر کی طرف رجوع کرتا ہے , مثال کے طور پر اگر وہ ریاکاری (دکھاوے) کا حکم جاننا چاہے تو وہ وسائل الشیعہ کے عبادات کے مقدمہ کے ابواب میں سے بارہویں باب کی طرف رجوع کرے گا، تو وہاں اسے حر عاملی ؒایک حدیث کو اس شکل میں نقل کرتے ہوئے ملیں گے:

" أحمد ابن محمد بن خالد البرقي في المحاسن عن أبيه عن ابن أبي عمير عن هشام بن سالم عن أبي عبد اللّه عليه السّلام قال: يقول اللّه عزّ و جلّ انا خير شريك فمن عمل لي و لغيري فهو لمن عمله غيري"

(احمد بن محمد بن خالد برقی نے المحاسن میں اپنے والد سے، انہوں نے ابن ابی عمیر سے، انہوں نے ہشام بن سالم سے، انہوں نے ابو عبد اللہ علیہ السلام سے روایت کیا ہے کہ آپ علیہ السلام نے فرمایا: اللہ عزّ و جلّ فرماتا ہے کہ میں بہترین شریک ہوں، پس جو شخص میرے لیے اور کسی اور کے لیے عمل انجام دےگا، تو وہ عمل اُس غیر کے لیے ہو جائےگا جس کے لیے اس نےعمل کیا ہے)۔

اگرچہ اس معزز روایت کی دلالت ریاکاری کے ساتھ کیے گئے عمل کے باطل ہونے پر واضح ہے، لیکن کیا ہر روایت کو قبول کر لیا جائےگا یا مخصوص شرائط کے تحت ہی ایسا کرنا جائز ہے؟

( روایت سے حکم کا اخذ کرنا فطری طور پر تین امور کا محتاج ہوتا ہے: ظہور کا ثابت ہونا، اس کی حجیت، اور سند کی حجیت، جیسا کہ کتاب کے پہلے حصے میں گزر چکا ہے )

اس سوال کے جوابات مختلف ہیں۔ ہم ان میں سے کچھ کا ذکر کرتے ہیں :

خبر کی حجیت کے مسئلے میں آراء

۱۔ اگر روایت متواتر ہو یا قطعی قرینہ سے گھری ہوئی ہو تو اس پر عمل کرنا جائز ہے، ورنہ نہیں۔ یہ رائے سید مرتضیٰ ؒاور دیگر کئی افراد سے منسوب ہے۔

۲۔ اگر روایت پر مشہور نے عمل کیا ہو تو وہ حجت ہے، چاہے اس کی سند ضعیف ہو اور اسے غیر ثقہ راویوں نے روایت کیا ہو، اور اگر مشہور نے اس پر عمل نہ کیا ہو تو وہ حجت نہیں ہے، چاہے اس کی سند صحیح ہو اور اسے ثقہ راویوں نے روایت کیا ہو۔ یہ رائے محقق حلی ؒسے منسوب ہے۔

۳۔ اگر روایت کتب اربعہ(۱) میں موجود ہو تو اس کی سند میں غور کیے بغیر اسے قبول کیا جائےگا، اس اعتبار سے کہ کتب اربعہ میں موجود تمام چیزیں ائمہ علیہم السلام سے قطعی طور پر صادر ہوئی ہیں۔ یہ رائے بعض اخباریوں سے منسوب ہے۔

(۱)- یعنی: 'الکافی' محمد بن یعقوب کلینی کی تالیف، 'الاستبصار' اور 'تہذیب الاحکام' محمد بن حسن، جو شیخ طوسی کے نام سے مشہور ہیں، کی تالیفات، اور 'من لا یحضره الفقیہ' محمد بن علی بن حسین بن بابویہ قمی کی تالیف۔

۴۔ اگر روایت کتب اربعہ میں موجود ہو تو اس کی سند میں غور کیے بغیر اسے قبول کیا جائےگا، اس لیے نہیں کہ کتب اربعہ میں موجود تمام چیزیں قطعی الصدور ہیں، بلکہ اس لیے کہ اس میں موجود تمام چیزیں معتبر اور ان کی حجّیت قطعی ہیں۔ اور شاید یہی رائے اخباریوں میں مشہور ہے، بلکہ شاید بعض اصولیوں سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ انہوں نے اس رائے کو اختیار کیا ہے، پس سید خوئی اپنے استاد شیخ نائینی قدس سرّھما سے نقل کرتے ہیں کہ وہ اپنی درسی نشست میں کہتے تھے: " الکافی کی روایات کی اسناد پر بحث و اشکال عاجز کا پیشہ ہے "

( معجم رجال الحديث ۱: ۸۷ )

۵۔ اگر روایت کی سند کے راوی عادل ہوں تو وہ حجت ہے، اور اگر وہ عادل نہ ہوں تو وہ حجت نہیں ہے، چاہے وہ ثقہ ہی کیوں نہ ہوں۔ یہ رائے صاحب مدارک ؒسے منسوب ہے، اور شاید علامہ حلی ؒکے بعض بیانات سے بھی یہ رائے ظاہر ہوتی ہے۔

۶۔ اگر روایت کی سند کے راوی ثقہ ہوں تو وہ حجت ہے، چاہے وہ عادل نہ ہوں، اور اگر وہ ثقہ نہ ہوں تو وہ حجت نہیں ہے۔ یہ رائے ہمارے متاخرین علماء میں مشہور ہے۔

ہاں، اس رائے کے پیروکاروں میں اس بات میں اختلاف ہے کہ اگر روایت کی سند کے راوی ثقہ نہ ہوں لیکن مشہور نے اس روایت پر عمل کیا ہو تو کیا ان کا یہ عمل اس روایت کے سندی ضعف کا تدارک کرتا ہے یا نہیں؟اور سید خوئی ؒکے دور سے پہلے کے علماء میں یہ معروف تھا کہ وہ تدارک کے کبری و کلیہ کو تسلیم کرتے تھے لیکن ان کے زمانہ سے اس بات کا انکار معروف ہو گیا ہے۔

تحقیق: کیا صحیح ہے؟

اور علمِ اصول کی " خبر کی حجیت " کی بحث نے ان اقوال کی تحقیق اور ان کے دلائل کا جائزہ لینے کے بعد صحیح قول کو واضح کرنے کی ذمہ داری لی ہے۔

لیکن اجمالی طور پر ہم کہتے ہیں: ان اقوال میں سے صحیح آخری قول ہے، یعنی حجت خبرِ ثقہ ہے، کیونکہ عقلاء کی سیرت ثقہ افراد کی خبروں پر عمل کرنے پر استوار ہے اور شارع کی طرف سے اس کی ممانعت واقع نہیں ہوئی ہے، لہٰذا اس سے شارع کی جانب سے امضاء و اجازت کا انکشاف ہوتا ہے۔

علمِ رجال کی ضرورت

علماء کے درمیان اس بات میں اختلاف ہے کہ علمِ رجال اور نجاشی ؒو شیخ طوسی ؒکے بیانات کی طرف رجوع کرنا، تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ کون سا راوی ثقہ (قابلِ اعتماد) ہے اور کون سا ضعیف، آیا یہ ایک لازمی عمل ہے جس کی فقیہ کو اشد ضرورت ہے، یا یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس سے بےنیاز ہوا جا سکتا ہے؟

کچھ علماء نے علمِ رجال کی ضرورت کو مسترد کیا ہے، بلکہ بعض نے تو اسے حرام تک قرار دیا ہے، اس دعوے کے ساتھ کہ اس میں مومنین کے عیب ظاہر ہوتے ہیں اس طرح سے کہ فلاں راوی ضعیف ہے، اس کی حدیث نہیں لی جائے گی، اور فلاں انتہائی جھوٹا ہے۔

علمِ رجال کی ضرورت یا عدم ضرورت کا یہ اختلاف پہلے ذکر کردہ آراء سے منسلک کیا جا سکتا ہے، مثال کے طور پر، اگر یہ مان لیا جائے کہ اگر کسی خبر پر مشہور نے عمل کیا ہو تو وہ حجّت ہے، چاہے اس کے راوی ثقہ نہ ہوں، تو اس صورت میں علمِ رجال کی کوئی ضرورت نہیں رہتی، کیونکہ اصل بنیاد مشہور کا عمل ہے نہ کہ راوی کی وثاقت، کہ جس کی خاطر وثاقت کی تشخیص کی ضرورت ہو۔

اسی طرح، علمِ رجال کی ضرورت کمزور پڑ جاتی ہے، اگرچہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوتی، جب یہ اصول تسلیم کیا جائے کہ سند کے ضعف کا مشہور کے عمل سے تدارک ہو جاتا ہے، چونکہ اس رائے کی بنیاد پر جب ہم یہ فرض کر لیتے ہیں کہ مشہور نے روایت پر عمل کیا ہے، تو پھر راویوں کی وثاقت کی تحقیق کی ضرورت باقی نہیں رہتی، ایسی صورت میں، تحقیق کی ضرورت صرف اس روایت کی حد تک محدود ہو جاتی ہے جس پر مشہور نے عمل نہ کیا ہو۔

اور چونکہ ہمارے نزدیک — جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا — صحیح بات یہ ہے کہ ثقہ راوی کی خبر حجت ہے، اور انجبار (یعنی عملِ علما سے سند کے ضعف کا تدارک) اس وقت تک کافی نہیں ہے جب تک وہ سچائی کا اطمینان پیدا کرنے کی سطح تک نہ پہنچے، لہٰذا علمِ رجال کی ضرورت ثابت اور شدت کے ساتھ باقی رہتی ہے۔

اور یہ دعویٰ کہ یہ حرام ہے اور اس میں مؤمنین کے عیوب ظاہر ہوتے ہیں۔

مردود ہے، کیونکہ جب یہ کسی اہم تر مقصد کے لیے ہو ـ اور وہ مقصد یہ ہے کہ ثقہ کی روایت کو پہچاننا اور اسے غیر ثقہ کی روایت سے جدا کرنا ہے ـ تو اس میں کوئی قباحت نہیں، جیسے بابِ قضاء میں معاملہ ہے، جہاں گواہوں کو جرح کرنا اور ان کے فسق کو ظاہر کرنا بالاتفاق جائز ہے، کیونکہ ایک بڑے اہم کام کا انحصار اس پر ہے۔

پھر وہیں سے آغاز

ہم نے پہلے اس روایت کا ذکر کیا تھا جسے صاحب وسائل ؒاس طرح نقل کرتے ہیں:

" أحمد ابن محمد بن خالد البرقي في المحاسن عن أبيه عن ابن أبي عمير عن هشام بن سالم عن أبي عبد اللّه عليه السّلام ..."

(احمد بن محمد بن خالد برقی نے المحاسن میں اپنے والد سے، انہوں نے ابن ابی عمیر سے، انہوں نے ہشام بن سالم سے، انہوں نے ابو عبد اللہ علیہ السلام سے۔۔۔)۔

اور اگر ہم یہ جاننا چاہیں کہ مذکورہ روایت کی سند معتبر ہے یا نہیں تو ہمیں دو امور کو مد نظر رکھنا ہوگا :

الف۔ برقی اور امام علیہ السلام کے درمیان کی سند کا جائزہ لینا۔ اگر سند کے تمام افراد کی وثاقت ثابت ہو جائے تو اس لحاظ سے کوئی مشکل نہیں ہوگی۔

لیکن مذکورہ سند کے افراد کی وثاقت ہم کیسے ثابت کریں گے؟ یہ وثاقت کو ثابت کرنے کے طریقوں میں سے کسی ایک کو استعمال کر کے ہو سکتا ہے جس کی طرف ہم تھوڑی دیر بعد اشارہ کریں گے۔

ب۔ حر عاملی ؒاور برقی ؒکے درمیان کی سند کا جائزہ لینا۔ کیونکہ یہ دونوں ہم عصر نہیں ہیں بلکہ ان کے درمیان ایک بڑا زمانی فاصلہ ہے، تو اگر مذکورہ سند کے تمام افراد کی وثاقت ثابت ہو جائے تو اس لحاظ سے بھی کوئی مشکل نہیں ہوگی۔

لیکن ہم حر عاملی ؒکی سند کو برقی ؒتک کیسے جانیں گے، یا دوسرے الفاظ میں ہم ان راویوں کے نام کیسے جانیں گے جن کے حوالے سے حر عاملی ؒنے برقی ؒکی کتاب روایت کی ہے؟

یہ اس طرح واضح کیا جا سکتا ہے: شیخ طوسی ؒکا برقی ؒکی کتابِ محاسن تک ایک سلسلہ سند ہے جس کا انہوں نے اپنی کتاب " الفھرست" میں احمد بن محمد بن خالد برقی کے حالات میں اشارہ کیا ہے۔

اور صاحب وسائل ؒکے پاس ان تمام کتابوں تک سلسلہ سند ہے ہیں جنہیں شیخ طوسی ؒنے روایت کیا ہیں، اور انہوں نے وہ سلسلہ اسناد وسائل کے آخر میں درج کیے ہیں۔ تو جب ہم اِس کو اُس کے ساتھ ملائیں گے تو ہمارے لیے حر عاملی ؒکا برقی ؒتک سلسلہ سند ثابت ہو جائےگا۔

تمرینات

س ۱: اگر فقیہ کسی روایت سے حکم استنباط کرنا چاہے تو اسے تین امور ثابت کرنا ضروری ہے۔

انہیں ہر ایک کی ضرورت کی وجہ بیان کرتے ہوئے ذکر کیجیے؟

س ۲: خبر یا تو متواتر ہوتی ہے یا واحد۔ ان میں کیا فرق ہے؟ اور ان میں سے کس کی حجیت پر اتفاق ہے؟

س ۳: حجیتِ خبر کے باب میں سید مرتضیٰ ؒکی کیا رائے ہے؟

س ۴: حجیتِ خبر کے باب میں محقق حلی ؒکی رائے ذکر کیجیے؟

س ۵: روایات کے باب میں اخباریوں سے منسوب رائے ذکر کیجیے؟

س ۶: رواہات کے باب میں صاحبِ مدارک ؒکی کیا رائے ہے؟

س ۷: حجیتِ خبر کے باب میں متاخرین کے درمیان مشہور رائے کیا ہے؟

س ۸: سند کے ضعف کا شہرت کے ذریعے تدارک کرنے کے اصول سے کیا مراد ہے؟

س ۹: شیخ نائینی ؒکی کتاب الکافی کی احادیث کے بارے میں کیا رائے ہے؟

س ۱۰: حجیتِ خبر کے باب میں متاخرین کی رائے پر ہم کیسے استدلال کریں گے؟

س ۱۱: کیا علمِ رجال کی کوئی ضرورت ہے؟

س ۱۲: بعض نے علمِ رجال کو کیوں حرام قرار دیا ہے؟ اور ہم اس کو کیسے جواب دیں گے؟

س ۱۳: علمِ رجال کی ضرورت کو حجیتِ خبر کے مسئلہ میں موجود اقوال سے مربوط کیا جا سکتا ہے۔ اس کی وضاحت کیجیے؟

س ۱۴: اگر ہم کسی روایت کی سند کو جاننا چاہیں اور یہ کہ کیا وہ صحیح ہے یا نہیں، تو کون سا طریقہ اختیار کرنا ضروری ہے؟

س ۱۵: صاحب وسائل ؒنے باب ۳، ابواب مقدمۃ العبادات میں نمبر ۱ میں ایک حدیث بیان کی ہے جو عقل کی اہمیت اور تکلیف کے ثبوت میں اس کے کردار سے متعلق ہے۔ کیا مذکورہ حدیث کی سند صحیح ہے؟ اس کی وضاحت کیجیے؟

س ۱۶: کیا رجالی مبانی (یعنی علمِ رجال کے اصول و نظریات) میں تقلید ممکن ہے؟ اور کیوں؟

ہماری بحث کا اسلوب

مذکورہ تمہید کی وضاحت کے بعد، ہم ان مباحث کے اسلوب پر بات کریں گے

جنہیں ہم چار فصلوں میں پیش کریں گے :

" فصلِ اول : توثیق سے متعلق بحث۔

" فصلِ دوم : حدیث کی اقسام پر بحث۔

" فصلِ سوم : بعض کتبِ حدیث کے متعلق نظریات۔

" فصلِ چہارم : بعض کتبِ رجالی کے متعلق نظریات۔

فصلِ اول

توثیق سے متعلق بحث

فصل اول میں ہماری گفتگو تین نکات پر مشتمل ہوگی : -

" نکتہٗ اول : راوی کی وثاقت ثابت کرنے کے طریقوں کے متعلق بحث۔

" نکتہٗ دوم : توثیقاتِ عامہ کے متعلق بحث۔

" نکتۂ سوم : رجالی کے قول کی حجیت کے مدرک کے متعلق بحث۔

حدیث کو چار اقسام میں تقسیم(۱) کیا گیا ہے:-

۱۔ صحیح: جس کے تمام راوی عادل اور امامی ہو۔

۲۔ موثق: جس کے تمام یا بعض راوی غیر امامی ہو لیکن ان کی توثیق ہوئی ہو۔

حوالہ:(۱)- ہم اس بات کی طرف متوجہ کرتے ہیں کہ روایت اگر متواتر یا ایسے قرائن سے متصل ہو جو اس کی حقانیت کا یقین فراہم کرتے ہو تو اس کی حجّیت اور اس کی قبولت میں کوئی اشکال نہیں ہے، بحث ان دونوں اقسام کے علاوہ میں ہے۔ اور جو تقسیم ہم عنقریب بیان کریں گے اس کی نگاہ ان دو قسموں کی علاوہ کی طرف ہے۔

۳۔ حسن: جس کے تمام یا بعض راوی امامی ہو لیکن عادل نہ بلکہ صرف ممدوح ہو۔

۴۔ ضعیف: جو ان تین اقسام میں سے نہ ہو، اس طرح سے کہ اس کے راوی مجہول ہو یا انہیں ضعیف قرار دیا گیا ہو۔

اور اخباریوں نے اس چہار گانہ تقسیم کی مذمت کی ہے۔

نکتۂ اول

راوی کی وثاقت ثابت کرنے کے طریقے

نکتۂ اول پر اپنی بحث کے ضمن میں ہم کہتے ہیں: راوی کی وثاقت ثابت کرنے کے لیے کئی طریقے ذکر کیے گئے ہیں(۱)، جنہیں وحید بہبہانی ؒنے انتالیس طریقوں تک پہنچایا ہے، ہم ان میں سے اہم طریقوں پر بحث کریں گے، جو درج ذیل ہیں :

حوالہ(۱)- عنقریب یہ واضح ہو جائےگا کہ ان میں سے کچھ طریقہ بننے میں کامل و درست نہیں ہیں، جیسے تیسرا، چھٹا اور آٹھواں۔