‌دروس تمهیدیة فی القواعد الرجالیة

‌دروس تمهیدیة فی القواعد الرجالیة0%

‌دروس تمهیدیة فی القواعد الرجالیة مؤلف:
: مصنف/ مؤلف
: مولانا دلاور حُسین حجّتی
ناشر: الغدیر ایجوکیشنل نیٹ ورک
زمرہ جات: علم رجال

‌دروس تمهیدیة فی القواعد الرجالیة

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

مؤلف: آیت اللہ شیخ محمد باقر ایروانی
: مصنف/ مؤلف
: مولانا دلاور حُسین حجّتی
ناشر: الغدیر ایجوکیشنل نیٹ ورک
زمرہ جات: مشاہدے: 8097
ڈاؤنلوڈ: 337

‌دروس تمهیدیة فی القواعد الرجالیة
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 106 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 8097 / ڈاؤنلوڈ: 337
سائز سائز سائز
‌دروس تمهیدیة فی القواعد الرجالیة

‌دروس تمهیدیة فی القواعد الرجالیة

مؤلف:
ناشر: الغدیر ایجوکیشنل نیٹ ورک
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے


"‌کتاب: دروس تمهیدیة فی القواعد الرجالیة"

اسلامی ثقافتی ادارہ " امامین الحسنین(ع) نیٹ ورک " نے اس کتاب کو برقی شکل میں، قارئین کرام کےلئےشائع کیا ہے۔

اورادارہ کی گِروہ علمی کی زیر نگرانی حُرُوفِ چِینی، فنی تنظیم وتصحیح اور ممکنہ غلطیوں کو درست کرنے کی حدالامکان کوشش کی گئی ہے۔

مفت PDF فائل ڈاؤنلوڈ کےلئے کلک کیجئے

https://alhassanain.org/urdu/?com=book&id=476&view=download&format=pdf

ورڈ (word) فائل ڈاؤنلوڈ کےلئے کلک کیجئے

https://alhassanain.org/urdu/?com=book&id=476&view=download&format=doc

HTML- فائل ڈاؤنلوڈ کےلئے کلک کیجئے

https://alhassanain.org/urdu/?com=book&id=476&view=download&format=html

نیز اپنےمکتوبات و تحریر(مفید و علمی کتابیں اور مقالات) مفید مشورے، پیشنہادات، اعتراضات اور ہر قسم کےسوالات کو ادارہ کےایمیل  (ihcf.preach@gmail.com)  پر سینڈ کرسکتے ہیں

چوتھی فصل

ہماری بعض رجالی کتابوں کے بارے میں نظریات

۱۔ رجال کشّی

رجال کشّی ، یہ شیخ جلیل القدر محمد بن عمر بن عبد العزیز کشّی ؒکی تالیف ہے جو ابو عمرو کی کنیت سے مشہور تھے۔

یہ شیخِ جلیل القدر شیخ کلینی ؒکے ہم عصر تھے اور ان کے طبقے میں شمار ہوتے ہیں۔

اور ان کے بارے میں کہا گیا ہے: وہ ثقہ، عین و نمایا شخصیت کے حامل، روایات اور راویوں کے بارے میں بصیرت رکھنے والے تھے، لیکن وہ ضعیف راویوں سے روایت کرتے ہیں۔

یہ جلیل القدر شیخ، محمد بن مسعود عیاشی ؒکے شاگردوں میں سے تھے اور ان کے اس گھر سے تربیت حاصل کی جو شیعہ اور اہل علم کا مرکز تھا۔

اس جلیل القدر شیخ نے ایک کتاب تالیف کی جس میں راویوں کی تعریف یا مذمت میں وارد روایات کا ذکر ہے، پس وہ عام طور پر یہ نہیں بتاتے کہ یہ ثقہ ہے یا ضعیف، بلکہ پہلے راوی کا نام ذکر کرتے ہیں اور پھر اس کے بارے میں روایات میں جو کچھ وارد ہوا ہے اسے ذکر کرتے ہیں۔ اور اس بنا پر وہ تمام راویوں کا ذکر نہیں کرتے، بلکہ صرف ان کا ذکر کرتے ہیں جن کے بارے میں کوئی روایت وارد ہوئی ہوں۔ اور کہا گیا ہے کہ انہوں نے جن راویوں کا ذکر کیا ہے ان کی تعداد " ۵۲۰ " افراد تک پہنچتی ہے۔

اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اصلی رجال کشّی – جسے " معرفة الرجال" سے موسوم کیا جاتا ہے – وہ نہیں ہے جو آج کل ہاتھوں میں گردش کر رہی ہے، کیونکہ اصلی کتاب میں بہت سی غلطیاں تھیں، اور شیخ طوسی ؒنے اس کی طرف توجہ دی اور اسے ان غلطیوں سے پاک کیا، اور اسی لیے آج کل متداول و رائج کتاب " اختیار معرفة الرجال" کے نام سے جانی جاتی ہے، یعنی وہ جس کا انتخاب شیخ طوسی ؒنے کتاب " معرفة الرجال" سے کیا۔

اور اس کتاب کے بارے میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ چونکہ یہ عام طور پر راویوں کی توثیق یا تضعیف کے لیے نہیں لکھی گئی بلکہ راویوں کے حالات سے متعلقہ روایات کا ذکر کرتی ہے، لہٰذا یہ رجال نجاشی یا شیخ کی فہرست کے درجے میں نہیں آتی، بلکہ ان سے بعد کے مرحلے میں آتی ہے۔

۲، ۳۔ رجالِ شیخ اور فھرستِ شیخ

شیخ طوسی قدس سرہ کی اس موضوع میں دو کتابیں ہیں۔

الف۔ ان کی رجالی کتاب جو رجال شیخ طوسی کے نام سے مشہور ہے۔ اور اس کتاب میں وہ عام طور پر راویوں کی توثیق یا تضعیف بیان نہیں کرتے، اور اگر ایسا کسی جگہ ہوا بھی ہے تو وہ نادر و بہت کم ہے۔ بلکہ انہوں نے اس میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے اصحاب اور اہلِ بیت علیہم السلام کے ہر امام کے اصحاب کا ذکر کیا ہے۔ تو وہ پہلے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے اصحاب کے نام ذکر کرتے ہیں، پھر امیر المومنین علیہ السلام کے اصحاب کے، پھر باقی ائمہ علیہم السلام کے اصحاب کے۔

اور آخر میں ان لوگوں کے ناموں کی ایک فہرست ذکر کی ہے جنہوں نے ائمہ علیہم السلام سے روایت نہیں کی ہے۔

اور اس بنا پر مذکورہ کتاب کا فائدہ راوی کی طبقے اور اس بات کو جاننے میں ظاہر ہوتا ہے کہ وہ کس زمانی مرحلے میں زندگی بسر کر رہا تھا اور کس امام کے اصحاب میں سے تھا۔

اور مذکورہ کتاب سے متعلق دو نمایاں پہلو ہیں۔

اول: یہ کہ وہ بعض راویوں کے نام دو بار ذکر کرتے ہیں، مثال کے طور پر قاسم بن محمد جوہری کا ایک بار اصحابِ امام صادق علیہ السلام میں ذکر کیا ہے اور دوسری بار ان لوگوں کے باب میں ذکر کیا ہے جنہوں نے ائمہ علیہم السلام سے روایت نہیں کی ہے۔ اور ایسا انہوں نے دوسرے راویوں کے بارے میں بھی کیا ہے۔

اور اس میں واضح تضاد شامل ہے، کیونکہ اگر کوئی شخص اصحابِ امام صادق علیہ السلام میں سے ہو اور آپ علیہ السلام سے روایت کرنے والوں میں سے ہو تو اسے ان لوگوں کے باب میں کیسے ذکر کیا جا سکتا ہے جنہوں نے ائمہ علیہم السلام سے روایت نہیں کی؟ اس کا لازمہ متضاد چیزوں کا ایک ساتھ جمع ہونا اور ایک ہی شخص کا ائمہ علیہم السلام سے روایت کرنے والا اور ائمہ علیہم السلام سے روایت نہ کرنے والا دونوں ہونا ہے۔

اور ان شاء اللہ تعالیٰ کتاب کے دوسرے حصے میں وہ وجوہات بیان کی جائیں گی جو مذکورہ تضاد کو دور کرنے کے لیے ذکر کی گئی ہیں۔

دوم:امام صادق علیہ السلام کے اصحاب کے باب میں شیخ ؒکی طرف سے لفظ " اسند عنہ" کا تکرار۔ تو جب وہ محمد بن مسلم کو مثلاً اصحابِ امام صادق علیہ السلام میں ذکر کرتے ہیں تو کہتے ہیں :

" اسند عنہ" اور یہ ایک ایسا انداز ہے جو شیخ قدس سرہ سے مخصوص ہے۔ اور اس سے مقصود کیا ہے اس کے بارے میں کلام واقع ہوا ہے۔ اور اس سلسلہ میں کئی احتمالات ذکر کیے گئے ہیں جن کی طرف ہم ان شاء اللہ تعالیٰ کتاب کے دوسرے حصے میں اشارہ کریں گے۔

ب۔ الفھرست ۔ اور یہ ایک ایسی کتاب ہے جسے انہوں نے ہمارے اصحاب میں سے جو کتب اور اصول کے مؤلفین ہیں ان کی تحقیق و جمع آوری کے لیے تالیف کیا ہے۔ تو انہوں نے ہر راوی کا ذکر نہیں کیا ہے بلکہ صرف ان کا ذکر کیا ہے جن کی کوئی کتاب ہے۔ اور راوی کا نام اور اس کی کتاب کا ذکر کرنے کے بعد وہ اس کتاب تک اپنے سلسلہ سند کو بیان کرتے ہیں۔

اور انہوں نے عملی طور پر خود کو اس بات کا پابند نہیں کیا کہ ہر راوی کی توثیق و تضعیف بھی بیان کریں، بلکہ یہ کام انہوں نے بعض مقامات پر کیا ہے اور یہ ان کا عمومی طریقہ کار نہیں ہے۔

۴۔ رجالِ نجاشی

رجالِ نجاشی یہ شیخ جلیل القدر احمد بن علی بن العباس نجاشی ؒکی تالیف ہے۔ اور ان کی کنیت ابو العباس ہے۔یہ شیخِ جلیل القدر شیخ طوسی ؒکے ہم عصر تھے اور وہ ان کے ساتھ ایک ہی شیخ و استاد یعنی حسین بن عبید اللہ غضائری سے استفادہ میں شریک تھے۔

اور اس شیخ ؒنے اپنی کتاب صرف کتب کے مؤلفین کو جمع کرنے کے لیے تالیف کی ہے، لہٰذا وہ – شیخ طوسی ؒکی فہرست کی طرح – صرف ہمارے اصحاب و علماء میں سے ان کا ذکر کرتے ہیں جن کی کوئی کتاب ہو۔

اور یہ کتاب شیخ طوسی ؒکی فہرست سے اس بات میں ممتاز ہے کہ اس کتاب کا عمومی طریقہ یہ ہے کہ جس کے نام کو اس میں پیش کیا گیا ہے ساتھ ہی اس کی توثیق و تضعیف بھی بیان کی گئی ہے۔

اور نجاشی ؒکے اس کتاب کو تالیف کرنے کی وجہ یہ تھی کہ مخالفین کے ایک گروہ نے شیعہ پر یہ طعن کیا کہ ان کے پاس نہ کوئی سلف ہے اور نہ ہی کوئی تصنیف شدہ کتاب۔

تمرینات

س ۱: رجال کشّی کے مؤلف کون ہیں؟

س ۲: شیخ کشّی ؒکو ۔۔۔ کے ہم عصر شمار کیا جاتا ہے؟

س ۳: کشّی ؒکے بارے میں کہا گیا ہے کہ ۔۔۔

س ۴: کشّی ؒنے ۔۔۔ سے تعلیم و تربیت حاصل کی؟

س ۵: کشّی ؒکا اپنی کتاب میں کیا طریقہ ہے؟

س ۶: کشّی ؒکی کتاب کو " اختیار معرفة الرجال" کیوں کہا جاتا ہے؟

س ۷: شیخ طوسی ؒکی دو کتابیں ہیں۔ وہ کون سی ہیں؟

س ۸: شیخ ؒکا اپنی رجال میں کیا طریقہ ہے اور کیا وہ ان کی کتاب " الفھرست" کے طریقے سے مختلف ہے؟

س ۹: شیخ ؒکی رجال میں ایک دوسرے سے مربوط دو نمایا پہلو ہیں۔ پہلےپہلو کو واضح کیجیے؟

س ۱۰: دوسرےپہلو کو واضح کیجیے؟

س ۱۱: کیا شیخ طوسی ؒکی فہرست اور رجال النجاشی میں کوئی نمایاں فرق یا امتیاز موجود ہے؟

س ۱۲: رجال نجاشی کے مؤلف کا نام کیا ہے؟

س ۱۳: نجاشی ؒ۔۔۔ کے ہم عصر تھے؟

س ۱۴: نجاشی ؒنے اپنی کتاب کس وجہ سے تالیف کی؟

س ۱۵: کیا شیخ ؒکی فہرست اور رجالِ نجاشی غیر شیعہ راویوں کا ذکر کرتی ہیں؟

س ۱۶: حر عاملی ؒنے وسائل الشیعہ کے باب ۲، ابواب صلاة الجماعة کی حدیث ۴ میں یہ عبارت نقل کی ہے:

" قال: و قال رسول اللّه صلّى اللّه عليه و آله لقوم: لتحضرن المسجد أو لاحرقن عليكم منازلكم "

(یعنی: انہوں نے کہا: اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ایک قوم سے فرمایا: تم ضرور مسجد میں حاضر ہوا کرو، ورنہ میں تمہارے گھروں کو جلا دوں گا)۔ پہلے " قال " کا فاعل واضح کیجیے؟ اور مذکورہ حدیث کی سند کو کس رائے کی بنیاد پر صحیح قرار دیا جا سکتا ہے؟

یہ ہماری کتاب کے پہلے حصے میں جن باتوں کا ہم نے ذکر کرنا چاہا تھا ان کا اختتام ہے۔ اور یہ نبوی مبعث کے دن ۲۷ رجب المرجب، ۱۴۱۶ ہجری کو مقدس شہر قم میں، اس شخص کے قلم سے مکمل ہوا جو کریم سے اپنے گناہوں سے درگزر کی امید رکھتا ہے۔

باقر الایروانی

‌دروس تمهیدیة فی القواعد الرجالیة

حصۂ دوم

مؤلف: آیت اللہ محمد باقر ایروانی

مترجم: دلاور حُسین حجّتی

تمہید

جب فقیہ کسی خاص و معین حکم کا استنباط کرنا چاہتا ہے تو وہ تشریع کے چاروں مصادر کی طرف رجوع کرتا ہے , مثال کے طور پر اگر وہ ریاکاری (دکھاوے) کا حکم جاننا چاہے تو وہ وسائل الشیعہ کے عبادات کے مقدمہ کے ابواب میں سے بارہویں باب کی طرف رجوع کرے گا، تو وہاں اسے حر عاملی ؒایک حدیث کو اس شکل میں نقل کرتے ہوئے ملیں گے:

" أحمد ابن محمد بن خالد البرقي في المحاسن عن أبيه عن ابن أبي عمير عن هشام بن سالم عن أبي عبد اللّه عليه السّلام قال: يقول اللّه عزّ و جلّ انا خير شريك فمن عمل لي و لغيري فهو لمن عمله غيري"

(احمد بن محمد بن خالد برقی نے المحاسن میں اپنے والد سے، انہوں نے ابن ابی عمیر سے، انہوں نے ہشام بن سالم سے، انہوں نے ابو عبد اللہ علیہ السلام سے روایت کیا ہے کہ آپ علیہ السلام نے فرمایا: اللہ عزّ و جلّ فرماتا ہے کہ میں بہترین شریک ہوں، پس جو شخص میرے لیے اور کسی اور کے لیے عمل انجام دےگا، تو وہ عمل اُس غیر کے لیے ہو جائےگا جس کے لیے اس نےعمل کیا ہے)۔

اگرچہ اس معزز روایت کی دلالت ریاکاری کے ساتھ کیے گئے عمل کے باطل ہونے پر واضح ہے، لیکن کیا ہر روایت کو قبول کر لیا جائےگا یا مخصوص شرائط کے تحت ہی ایسا کرنا جائز ہے؟

( روایت سے حکم کا اخذ کرنا فطری طور پر تین امور کا محتاج ہوتا ہے: ظہور کا ثابت ہونا، اس کی حجیت، اور سند کی حجیت، جیسا کہ کتاب کے پہلے حصے میں گزر چکا ہے )

اس سوال کے جوابات مختلف ہیں۔ ہم ان میں سے کچھ کا ذکر کرتے ہیں :

خبر کی حجیت کے مسئلے میں آراء

۱۔ اگر روایت متواتر ہو یا قطعی قرینہ سے گھری ہوئی ہو تو اس پر عمل کرنا جائز ہے، ورنہ نہیں۔ یہ رائے سید مرتضیٰ ؒاور دیگر کئی افراد سے منسوب ہے۔

۲۔ اگر روایت پر مشہور نے عمل کیا ہو تو وہ حجت ہے، چاہے اس کی سند ضعیف ہو اور اسے غیر ثقہ راویوں نے روایت کیا ہو، اور اگر مشہور نے اس پر عمل نہ کیا ہو تو وہ حجت نہیں ہے، چاہے اس کی سند صحیح ہو اور اسے ثقہ راویوں نے روایت کیا ہو۔ یہ رائے محقق حلی ؒسے منسوب ہے۔

۳۔ اگر روایت کتب اربعہ(۱) میں موجود ہو تو اس کی سند میں غور کیے بغیر اسے قبول کیا جائےگا، اس اعتبار سے کہ کتب اربعہ میں موجود تمام چیزیں ائمہ علیہم السلام سے قطعی طور پر صادر ہوئی ہیں۔ یہ رائے بعض اخباریوں سے منسوب ہے۔

(۱)- یعنی: 'الکافی' محمد بن یعقوب کلینی کی تالیف، 'الاستبصار' اور 'تہذیب الاحکام' محمد بن حسن، جو شیخ طوسی کے نام سے مشہور ہیں، کی تالیفات، اور 'من لا یحضره الفقیہ' محمد بن علی بن حسین بن بابویہ قمی کی تالیف۔

۴۔ اگر روایت کتب اربعہ میں موجود ہو تو اس کی سند میں غور کیے بغیر اسے قبول کیا جائےگا، اس لیے نہیں کہ کتب اربعہ میں موجود تمام چیزیں قطعی الصدور ہیں، بلکہ اس لیے کہ اس میں موجود تمام چیزیں معتبر اور ان کی حجّیت قطعی ہیں۔ اور شاید یہی رائے اخباریوں میں مشہور ہے، بلکہ شاید بعض اصولیوں سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ انہوں نے اس رائے کو اختیار کیا ہے، پس سید خوئی اپنے استاد شیخ نائینی قدس سرّھما سے نقل کرتے ہیں کہ وہ اپنی درسی نشست میں کہتے تھے: " الکافی کی روایات کی اسناد پر بحث و اشکال عاجز کا پیشہ ہے "

( معجم رجال الحديث ۱: ۸۷ )

۵۔ اگر روایت کی سند کے راوی عادل ہوں تو وہ حجت ہے، اور اگر وہ عادل نہ ہوں تو وہ حجت نہیں ہے، چاہے وہ ثقہ ہی کیوں نہ ہوں۔ یہ رائے صاحب مدارک ؒسے منسوب ہے، اور شاید علامہ حلی ؒکے بعض بیانات سے بھی یہ رائے ظاہر ہوتی ہے۔

۶۔ اگر روایت کی سند کے راوی ثقہ ہوں تو وہ حجت ہے، چاہے وہ عادل نہ ہوں، اور اگر وہ ثقہ نہ ہوں تو وہ حجت نہیں ہے۔ یہ رائے ہمارے متاخرین علماء میں مشہور ہے۔

ہاں، اس رائے کے پیروکاروں میں اس بات میں اختلاف ہے کہ اگر روایت کی سند کے راوی ثقہ نہ ہوں لیکن مشہور نے اس روایت پر عمل کیا ہو تو کیا ان کا یہ عمل اس روایت کے سندی ضعف کا تدارک کرتا ہے یا نہیں؟اور سید خوئی ؒکے دور سے پہلے کے علماء میں یہ معروف تھا کہ وہ تدارک کے کبری و کلیہ کو تسلیم کرتے تھے لیکن ان کے زمانہ سے اس بات کا انکار معروف ہو گیا ہے۔

تحقیق: کیا صحیح ہے؟

اور علمِ اصول کی " خبر کی حجیت " کی بحث نے ان اقوال کی تحقیق اور ان کے دلائل کا جائزہ لینے کے بعد صحیح قول کو واضح کرنے کی ذمہ داری لی ہے۔

لیکن اجمالی طور پر ہم کہتے ہیں: ان اقوال میں سے صحیح آخری قول ہے، یعنی حجت خبرِ ثقہ ہے، کیونکہ عقلاء کی سیرت ثقہ افراد کی خبروں پر عمل کرنے پر استوار ہے اور شارع کی طرف سے اس کی ممانعت واقع نہیں ہوئی ہے، لہٰذا اس سے شارع کی جانب سے امضاء و اجازت کا انکشاف ہوتا ہے۔

علمِ رجال کی ضرورت

علماء کے درمیان اس بات میں اختلاف ہے کہ علمِ رجال اور نجاشی ؒو شیخ طوسی ؒکے بیانات کی طرف رجوع کرنا، تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ کون سا راوی ثقہ (قابلِ اعتماد) ہے اور کون سا ضعیف، آیا یہ ایک لازمی عمل ہے جس کی فقیہ کو اشد ضرورت ہے، یا یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس سے بےنیاز ہوا جا سکتا ہے؟

کچھ علماء نے علمِ رجال کی ضرورت کو مسترد کیا ہے، بلکہ بعض نے تو اسے حرام تک قرار دیا ہے، اس دعوے کے ساتھ کہ اس میں مومنین کے عیب ظاہر ہوتے ہیں اس طرح سے کہ فلاں راوی ضعیف ہے، اس کی حدیث نہیں لی جائے گی، اور فلاں انتہائی جھوٹا ہے۔

علمِ رجال کی ضرورت یا عدم ضرورت کا یہ اختلاف پہلے ذکر کردہ آراء سے منسلک کیا جا سکتا ہے، مثال کے طور پر، اگر یہ مان لیا جائے کہ اگر کسی خبر پر مشہور نے عمل کیا ہو تو وہ حجّت ہے، چاہے اس کے راوی ثقہ نہ ہوں، تو اس صورت میں علمِ رجال کی کوئی ضرورت نہیں رہتی، کیونکہ اصل بنیاد مشہور کا عمل ہے نہ کہ راوی کی وثاقت، کہ جس کی خاطر وثاقت کی تشخیص کی ضرورت ہو۔

اسی طرح، علمِ رجال کی ضرورت کمزور پڑ جاتی ہے، اگرچہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوتی، جب یہ اصول تسلیم کیا جائے کہ سند کے ضعف کا مشہور کے عمل سے تدارک ہو جاتا ہے، چونکہ اس رائے کی بنیاد پر جب ہم یہ فرض کر لیتے ہیں کہ مشہور نے روایت پر عمل کیا ہے، تو پھر راویوں کی وثاقت کی تحقیق کی ضرورت باقی نہیں رہتی، ایسی صورت میں، تحقیق کی ضرورت صرف اس روایت کی حد تک محدود ہو جاتی ہے جس پر مشہور نے عمل نہ کیا ہو۔

اور چونکہ ہمارے نزدیک — جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا — صحیح بات یہ ہے کہ ثقہ راوی کی خبر حجت ہے، اور انجبار (یعنی عملِ علما سے سند کے ضعف کا تدارک) اس وقت تک کافی نہیں ہے جب تک وہ سچائی کا اطمینان پیدا کرنے کی سطح تک نہ پہنچے، لہٰذا علمِ رجال کی ضرورت ثابت اور شدت کے ساتھ باقی رہتی ہے۔

اور یہ دعویٰ کہ یہ حرام ہے اور اس میں مؤمنین کے عیوب ظاہر ہوتے ہیں۔

مردود ہے، کیونکہ جب یہ کسی اہم تر مقصد کے لیے ہو ـ اور وہ مقصد یہ ہے کہ ثقہ کی روایت کو پہچاننا اور اسے غیر ثقہ کی روایت سے جدا کرنا ہے ـ تو اس میں کوئی قباحت نہیں، جیسے بابِ قضاء میں معاملہ ہے، جہاں گواہوں کو جرح کرنا اور ان کے فسق کو ظاہر کرنا بالاتفاق جائز ہے، کیونکہ ایک بڑے اہم کام کا انحصار اس پر ہے۔

پھر وہیں سے آغاز

ہم نے پہلے اس روایت کا ذکر کیا تھا جسے صاحب وسائل ؒاس طرح نقل کرتے ہیں:

" أحمد ابن محمد بن خالد البرقي في المحاسن عن أبيه عن ابن أبي عمير عن هشام بن سالم عن أبي عبد اللّه عليه السّلام ..."

(احمد بن محمد بن خالد برقی نے المحاسن میں اپنے والد سے، انہوں نے ابن ابی عمیر سے، انہوں نے ہشام بن سالم سے، انہوں نے ابو عبد اللہ علیہ السلام سے۔۔۔)۔

اور اگر ہم یہ جاننا چاہیں کہ مذکورہ روایت کی سند معتبر ہے یا نہیں تو ہمیں دو امور کو مد نظر رکھنا ہوگا :

الف۔ برقی اور امام علیہ السلام کے درمیان کی سند کا جائزہ لینا۔ اگر سند کے تمام افراد کی وثاقت ثابت ہو جائے تو اس لحاظ سے کوئی مشکل نہیں ہوگی۔

لیکن مذکورہ سند کے افراد کی وثاقت ہم کیسے ثابت کریں گے؟ یہ وثاقت کو ثابت کرنے کے طریقوں میں سے کسی ایک کو استعمال کر کے ہو سکتا ہے جس کی طرف ہم تھوڑی دیر بعد اشارہ کریں گے۔

ب۔ حر عاملی ؒاور برقی ؒکے درمیان کی سند کا جائزہ لینا۔ کیونکہ یہ دونوں ہم عصر نہیں ہیں بلکہ ان کے درمیان ایک بڑا زمانی فاصلہ ہے، تو اگر مذکورہ سند کے تمام افراد کی وثاقت ثابت ہو جائے تو اس لحاظ سے بھی کوئی مشکل نہیں ہوگی۔

لیکن ہم حر عاملی ؒکی سند کو برقی ؒتک کیسے جانیں گے، یا دوسرے الفاظ میں ہم ان راویوں کے نام کیسے جانیں گے جن کے حوالے سے حر عاملی ؒنے برقی ؒکی کتاب روایت کی ہے؟

یہ اس طرح واضح کیا جا سکتا ہے: شیخ طوسی ؒکا برقی ؒکی کتابِ محاسن تک ایک سلسلہ سند ہے جس کا انہوں نے اپنی کتاب " الفھرست" میں احمد بن محمد بن خالد برقی کے حالات میں اشارہ کیا ہے۔

اور صاحب وسائل ؒکے پاس ان تمام کتابوں تک سلسلہ سند ہے ہیں جنہیں شیخ طوسی ؒنے روایت کیا ہیں، اور انہوں نے وہ سلسلہ اسناد وسائل کے آخر میں درج کیے ہیں۔ تو جب ہم اِس کو اُس کے ساتھ ملائیں گے تو ہمارے لیے حر عاملی ؒکا برقی ؒتک سلسلہ سند ثابت ہو جائےگا۔

تمرینات

س ۱: اگر فقیہ کسی روایت سے حکم استنباط کرنا چاہے تو اسے تین امور ثابت کرنا ضروری ہے۔

انہیں ہر ایک کی ضرورت کی وجہ بیان کرتے ہوئے ذکر کیجیے؟

س ۲: خبر یا تو متواتر ہوتی ہے یا واحد۔ ان میں کیا فرق ہے؟ اور ان میں سے کس کی حجیت پر اتفاق ہے؟

س ۳: حجیتِ خبر کے باب میں سید مرتضیٰ ؒکی کیا رائے ہے؟

س ۴: حجیتِ خبر کے باب میں محقق حلی ؒکی رائے ذکر کیجیے؟

س ۵: روایات کے باب میں اخباریوں سے منسوب رائے ذکر کیجیے؟

س ۶: رواہات کے باب میں صاحبِ مدارک ؒکی کیا رائے ہے؟

س ۷: حجیتِ خبر کے باب میں متاخرین کے درمیان مشہور رائے کیا ہے؟

س ۸: سند کے ضعف کا شہرت کے ذریعے تدارک کرنے کے اصول سے کیا مراد ہے؟

س ۹: شیخ نائینی ؒکی کتاب الکافی کی احادیث کے بارے میں کیا رائے ہے؟

س ۱۰: حجیتِ خبر کے باب میں متاخرین کی رائے پر ہم کیسے استدلال کریں گے؟

س ۱۱: کیا علمِ رجال کی کوئی ضرورت ہے؟

س ۱۲: بعض نے علمِ رجال کو کیوں حرام قرار دیا ہے؟ اور ہم اس کو کیسے جواب دیں گے؟

س ۱۳: علمِ رجال کی ضرورت کو حجیتِ خبر کے مسئلہ میں موجود اقوال سے مربوط کیا جا سکتا ہے۔ اس کی وضاحت کیجیے؟

س ۱۴: اگر ہم کسی روایت کی سند کو جاننا چاہیں اور یہ کہ کیا وہ صحیح ہے یا نہیں، تو کون سا طریقہ اختیار کرنا ضروری ہے؟

س ۱۵: صاحب وسائل ؒنے باب ۳، ابواب مقدمۃ العبادات میں نمبر ۱ میں ایک حدیث بیان کی ہے جو عقل کی اہمیت اور تکلیف کے ثبوت میں اس کے کردار سے متعلق ہے۔ کیا مذکورہ حدیث کی سند صحیح ہے؟ اس کی وضاحت کیجیے؟

س ۱۶: کیا رجالی مبانی (یعنی علمِ رجال کے اصول و نظریات) میں تقلید ممکن ہے؟ اور کیوں؟

ہماری بحث کا اسلوب

مذکورہ تمہید کی وضاحت کے بعد، ہم ان مباحث کے اسلوب پر بات کریں گے

جنہیں ہم چار فصلوں میں پیش کریں گے :

" فصلِ اول : توثیق سے متعلق بحث۔

" فصلِ دوم : حدیث کی اقسام پر بحث۔

" فصلِ سوم : بعض کتبِ حدیث کے متعلق نظریات۔

" فصلِ چہارم : بعض کتبِ رجالی کے متعلق نظریات۔

فصلِ اول

توثیق سے متعلق بحث

فصل اول میں ہماری گفتگو تین نکات پر مشتمل ہوگی : -

" نکتہٗ اول : راوی کی وثاقت ثابت کرنے کے طریقوں کے متعلق بحث۔

" نکتہٗ دوم : توثیقاتِ عامہ کے متعلق بحث۔

" نکتۂ سوم : رجالی کے قول کی حجیت کے مدرک کے متعلق بحث۔

حدیث کو چار اقسام میں تقسیم(۱) کیا گیا ہے:-

۱۔ صحیح: جس کے تمام راوی عادل اور امامی ہو۔

۲۔ موثق: جس کے تمام یا بعض راوی غیر امامی ہو لیکن ان کی توثیق ہوئی ہو۔

حوالہ:(۱)- ہم اس بات کی طرف متوجہ کرتے ہیں کہ روایت اگر متواتر یا ایسے قرائن سے متصل ہو جو اس کی حقانیت کا یقین فراہم کرتے ہو تو اس کی حجّیت اور اس کی قبولت میں کوئی اشکال نہیں ہے، بحث ان دونوں اقسام کے علاوہ میں ہے۔ اور جو تقسیم ہم عنقریب بیان کریں گے اس کی نگاہ ان دو قسموں کی علاوہ کی طرف ہے۔

۳۔ حسن: جس کے تمام یا بعض راوی امامی ہو لیکن عادل نہ بلکہ صرف ممدوح ہو۔

۴۔ ضعیف: جو ان تین اقسام میں سے نہ ہو، اس طرح سے کہ اس کے راوی مجہول ہو یا انہیں ضعیف قرار دیا گیا ہو۔

اور اخباریوں نے اس چہار گانہ تقسیم کی مذمت کی ہے۔

نکتۂ اول

راوی کی وثاقت ثابت کرنے کے طریقے

نکتۂ اول پر اپنی بحث کے ضمن میں ہم کہتے ہیں: راوی کی وثاقت ثابت کرنے کے لیے کئی طریقے ذکر کیے گئے ہیں(۱)، جنہیں وحید بہبہانی ؒنے انتالیس طریقوں تک پہنچایا ہے، ہم ان میں سے اہم طریقوں پر بحث کریں گے، جو درج ذیل ہیں :

حوالہ(۱)- عنقریب یہ واضح ہو جائےگا کہ ان میں سے کچھ طریقہ بننے میں کامل و درست نہیں ہیں، جیسے تیسرا، چھٹا اور آٹھواں۔

۱۔ معصومین علیہم السلام میں سے کسی کے حق میں صریح گواہی

اگر کسی معصوم علیہ السلام نے کسی مخصوص راوی کی وثاقت پر صراحت کے ساتھ گواہی دی ہو تو اس سے وثاقت ثابت ہونے میں کوئی شک نہیں ہے۔

اور کشّی نے اپنی مشہور کتاب میں راویوں کے حق میں وارد بہت سی روایات جمع کی ہیں، بلکہ ان کی مذکورہ کتاب صرف انہی روایات کا مجموعہ ہے۔

اس کی مثال: وہ جس کا ذکر کیا ہے - کشّی نے - محمد بن سنان کے حالات میں نمبر ۹۶۵ کے تحت اپنی اس سند سے جو محمد بن اسماعیل بن بزیع تک ختم ہوتی ہے، کہ: امام ابو جعفر علیہ السلام صفوان بن یحییٰ اور محمد بن سنان پر لعنت بھیجتے تھے، پس آپ (ع) نے فرمایا کہ ان دونوں نے میرے حکم کی مخالفت کی۔ راوی کہتا ہے کہ جب اگلے سال آیا تو امام ابو جعفر علیہ السلام نے محمد بن سہل بحرانی سے فرمایا: صفوان بن یحییٰ اور محمد بن سنان کی ولایت و دوستی اختیار کرو کہ میں ان دونوں سے راضی ہو گیا ہوں۔

امام علیہ السلام کا صفوان اور محمد بن سنان سے راضی ہونے کو فقیہ مذکورہ دونوں شخصیات کی توثیق سمجھ سکتا ہے، جیسا کہ یہ بعید نہیں ہے۔

اور اس بات پر توجہ ضروری ہے کہ وہ روایت جو کسی شخص کی توثیق پر دلالت کرتی ہے، اس روایت کو معصوم علیہ السلام سے روایت کرنے والا راوی خود وہی شخص نہیں ہونا چاہیے جس کی وثاقت ثابت کرنا مقصود ہے، ورنہ یہ بات " دور " سے زیادہ مشابہ ہوگی۔

اس کی مثال: وہ بات جو کشّی نے اپنی کتاب میں نمبر ۷۵۸ کے تحت علی بن ابی حمزہ بطائنی کے حالات میں ذکر کی ہے – جس کی وثاقت کے بارے میں شدید اختلاف پایا جاتا ہے – کہ امام ابو الحسن علیہ السلام نے اس سے فرمایا: میں نے اللہ سے تیرے لیے مغفرت طلب کی ہے۔

مذکورہ روایت کو بطائنی کی وثاقت ثابت کرنے کے لیے بنیاد نہیں بنایا جا سکتا کیونکہ امام علیہ السلام سے روایت کرنے والا اس روایت کا راوی خود وہی شخص ہے۔

اور یہ بات عجیب ہے کہ بعض بزرگ علماء نے اس طرح کی بات کو توثیق ثابت کرنے کے لیے کافی قرار دیا ہے، یا تو اس دعوے کے ساتھ کہ شیعہ اپنے امام علیہ السلام پر جھوٹ نہیں باندھتا اور نہ ہی امام علیہ السلام کی طرف کوئی جھوٹی روایت منسوب کرتا ہے، یا اس دعوے کے ساتھ کہ مذکورہ روایت ظنّ بالوثاقت (وثاقت کا گمان) پیدا کرتی ہے، اور ظنّ توثیقات کے باب میں حجت ہے۔

اور جن سے اس طرز عمل کو اختیار کرنا ظاہر ہوا ہے ان میں محدث نوری ؒعمران ابن عبد اللہ قمی کے حالات میں ہیں۔ انہوں نے کہا: " کشّی نے دو ایسی روایات نقل کی ہیں جن میں عظیم مدح و تعریف پائی جاتی ہے، اور ان دونوں کی سند کا ضعیف ہونا مضر نہیں ہے، کیونکہ ان دونوں سے ظنّ حاصل ہو جاتا ہے '( معجم رجال الحديث ۱: ۳۹ )

اور پہلے دعوے پر یہ اعتراض وارد ہوتا ہے کہ جو شخص امامی ہو لیکن شریعت کے راستے کا پابند نہ ہو، اس کے لیے اپنے امام پر جھوٹ باندھنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ زیادہ سے زیادہ جو حاصل ہوتا ہے وہ یہ ظنّ و گمان ہے کہ اس سے جھوٹ صادر نہیں ہوا، اور ہر قسم کا ظنّ حجت نہیں ہے۔

اسی طرح دوسرے دعوے پر یہ اعتراض وارد ہوتا ہے کہ توثیقات کے باب میں ظنّ کی حجیت کو ثابت کرنے کے لیے دلیل درکار ہے، جو موجود نہیں ہے۔

۲۔ بعض متقدمین رجالیوں کی صریح گواہی

رجالی جو توثیق اور تضعیف کا کام کرتے ہیں، کبھی متقدمین میں سے ہوتے ہیں جیسے نجاشی ؒاور شیخ طوسی ؒ، اور کبھی متاخرین میں سے ہوتے ہیں جیسے علامہ ؒاور ابن طاووس ؒ۔

اور جس چیز کی طرف اب اشارہ کرنا مقصود ہے وہ بعض متقدمین رجالیوں کا کسی شخص کی وثاقت پر صریح گواہی ہے، اور جہاں تک بعض متاخرین کی صریح گواہی کا تعلق ہے تو اس کی طرف ان شاء اللہ تعالیٰ بعد میں اشارہ آئےگا۔

اور متقدمین کی توثیق کی حجیت کی وجہ – جیسا کہ کہا گیا ہے – یہ ہے کہ نجاشی ؒجیسے افراد ثقہ ہیں، اور چونکہ خبر ثقہ شارع کی جانب سے تائید یافتہ سیرت عقلائیہ کی بنا پر حجّت ہے چونکہ شارع نے اسے ممنوع قرار نہیں دیا ہے، لہٰذا نجاشی ؒجیسے افراد کی جانب سے کی جانے والی توثیق کی حجیت ثابت ہو جاتی ہے۔

اور وثاقت کے بارے میں خبر دینا اگرچہ موضوعات میں سے کسی موضوع کے بارے میں خبر دینا ہے(۱)،

اور یہ شرعی حکم کے بارے میں خبر نہیں ہے، لیکن خبر ثقہ کی حجیت کی دلیل – یعنی سیرتِ عقلائیہ– عام ہے جس میں موضوع کے بارے میں خبر بھی شامل ہے، برخلاف بعض کے جنہوں نے حجیت کو اس صورت سے مخصوص کیا ہے جب خبر حکم کے بارے میں ہو۔

حوالہ:

(۱)-

چونکہ راوی کا ثقہ ہونا شرعاً اس کی تصدیق کے وجوب کا موضوع ہے، لہٰذا شرعی حکم وجوبِ تصدیق ہے، اور وثاقت اس (وجوبِ تصدیق) کا موضوع ہے۔

یہ نہیں کہا جائےگا: کہ خبر ثقہ اگرچہ سیرتِ عقلائیہ کی وجہ سے حجت ہے، لیکن یہ اس صورت میں ہے جب خبر حسّی ہو نہ کہ حدسی اور اجتہادی، اور یہ واضح ہے کہ جب نجاشی ؒزرارہ کی توثیق کرتے ہیں، مثال کے طور پر، تو چونکہ وہ ان کے ہم عصر نہیں تھے، لہٰذا ان کی وثاقت کے بارے میں ان کی خبر حدسی تھی نہ کہ حسّی۔

کیونکہ (جواب میں) یہ کہا جائےگا: کہ نجاشی ؒاگرچہ زرارہ کے ہم عصر نہیں تھے، لیکن یہ احتمال ہے کہ انہوں نے ان کی وثاقت کی جو خبر دی ہے وہ حسّ پر مبنی ہو، اور اس کے حسّ پر مبنی ہونے کے احتمال کے ہوتے ہوئے لازم ہے کہ اس پر – یعنی خبر کے حسّی ہونے پر – بنا رکھی جائے، چونکہ جب خبر کے حسّی یا حدسی ہونے کے درمیان تردّد واقع ہو تو عقلائی اصول یہ ہے کہ اسے حسّی قرار دیا جائے۔

لہٰذا، ہمارے پاس دو دعوے ہیں جنہیں ثابت کرنا ضروری ہے :

دونوں میں سے ایک: یہ کہ اس بات کا احتمال ہے کہ نجاشی ؒکی زرارہ کی وثاقت کے بارے میں خبر حسّی ہو۔

دونوں میں سے دوسرا: جب حسّی اور حدسی کے درمیان شک ہو تو حسّی پر بنا رکھنا ضروری ہے۔

جہاں تک پہلے دعوے کا تعلق ہے تو اس کے اثبات میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ فقط اس بات سے کہ زرارہ ؒاور نجاشی ؒایک دوسرے کے ہم عصر نہیں تھے ان کی وثاقت کے بارے میں ان کی خبر کا حدسی ہونا لازم نہیں آتا۔ ہم شیخ طوسی ؒ، انصاری ؒ، آخوند خراسانی ؒاور ان کی مانند ہمارے دوسرے متقدمین علماء کی وثاقت کے بارے میں خبر دیتے ہیں، لیکن کیا ہماری یہ خبر، خبرِ حدسی ہوتی ہے؟ ہرگز نہیں، یہ حسّی ہوتی ہے، کیونکہ ایسے بزرگ علما کی وثاقت ہمارے زمانے میں ایسے ہی واضح ہے جیسے دوپہر کے وقت کی سورج کی روشنی۔ اور یہی بات ہم نجاشی ؒکی جانب سے زرارہ ؒکی توثیق کے بارے میں بھی کہہ سکتے ہیں، کیونکہ نجاشی ؒاور شیخ طوسی ؒکے دور میں توثیق اور تضعیف کے لیے تیار کی گئی رجالی کتابیں بہت تھیں اور ان کتابوں کے نتیجے میں واضح صورت حاصل ہو جاتی تھی۔

اور شاید سب سے پہلے جس نے اس موضوع میں تالیف کا آغاز کیا وہ جلیل القدر راوی حسن بن محبوب ؒتھے کہ انہوں نے اپنی مشہور کتاب " المشیخہ"

( مفعلۃ" کے وزن پر اور یہ شیخ کی جمع ہے )

تالیف کی، اور اس کے بعد اسی طرز پر دیگر کتابیں بھی لکھی گئیں۔

اور شیخ آغا بزرگ تہرانی قدس سرہ نے مذکورہ موضوع میں تالیف کرنے والوں کی معلومات کو ایک کتاب میں یکجا کیا ہے جس کا نام انہوں نے " مصفی المقال" (مصفی المقال فی مصنفی علم الرجال) رکھا، جس میں انہوں نے ایک سو سے زیادہ تالیفات کا ذکر کیا ہے۔

اور ہماری بات کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے جو شیخ طوسی ؒنے اپنی کتاب " عدۃ " میں بیان کی ہے، جہاں وہ کہتے ہیں: " ہم نے پایا کہ اس طائفہ (علماء شیعہ) نے یہ روایات نقل کرنے والے راویوں کو پرکھا ہے، پس انہوں نے ان میں سے ثقہ افراد کی توثیق کی ہے اور کمزوروں کی تضعیف کی ہے... اور انہوں نے اس بارے میں کتابیں بھی تصنیف کیں۔۔۔ " ۔

اور نجاشی ؒکبھی بعض راویوں کے حالات میں یہ عبارت استعمال کرتے ہوئے کہتے ہیں: " اس کا ذکر اصحابِ رجال نے کیا ہے " ۔

اور جہاں تک دوسرے دعوے کا تعلق ہے، تو اس کے اثبات میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ صاحبانِ عقل جب کسی ثقہ شخص کی خبر سنتے ہیں تو وہ اس کے ساتھ یہ دقیق تحقیق نہیں کرتے کہ آیا تمہاری یہ خبر حِس پر مبنی ہے یا حدس پر بلکہ جب تک اس کے حِسّ پر مبنی ہونے کا احتمال ہو، وہ اس پر بنا رکھتے ہیں۔

متقدمین کی توثیقات کی وضاحت میں اس طرح کہا گیا ہے۔

(- رجوع کریں معجم رجال الحديث ۱: ۴۱)