‌دروس تمهیدیة فی القواعد الرجالیة

‌دروس تمهیدیة فی القواعد الرجالیة0%

‌دروس تمهیدیة فی القواعد الرجالیة مؤلف:
: مصنف/ مؤلف
: مصنف/ مؤلف
زمرہ جات: علم رجال

‌دروس تمهیدیة فی القواعد الرجالیة

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

مؤلف: مصنف/ مؤلف
: مصنف/ مؤلف
: مصنف/ مؤلف
زمرہ جات: مشاہدے: 7562
ڈاؤنلوڈ: 304

تبصرے:

‌دروس تمهیدیة فی القواعد الرجالیة
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 106 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 7562 / ڈاؤنلوڈ: 304
سائز سائز سائز
‌دروس تمهیدیة فی القواعد الرجالیة

‌دروس تمهیدیة فی القواعد الرجالیة

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

عملی تطبیقات

۱۔ حر عاملی ؒنے اپنی کتاب وسائل الشیعہ میں مقدمہ کے بعد سب سے پہلی حدیث اس طرح نقل کی ہے:

" محمد بن يعقوب الكليني رضي اللّه عنه عن ابي علي الأشعري عن الحسن ابن علي الكوفي عن عباس بن عامر عن إبان بن عثمان عن الفضيل بن يسار عن أبي جعفر عليه السّلام: بني الإسلام على خمس: على الصلاة و الزكاة و الحج و الصوم و الولاية"

(محمد بن یعقوب کلینی رضی اللہ عنہ، انہوں نے ابی علی اشعری سے، انہوں نے حسن بن علی کوفی سے، انہوں نے عباس بن عامر سے، انہوں نے ابان بن عثمان سے، انہوں نے فضیل بن یسار سے، وہ ابو جعفر علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ آپ علیہ السلام نے فرمایا:اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے: نماز، زکوٰۃ، حج، روزہ اور ولایت پر)۔

مذکورہ حدیث کو حر عاملی ؒنے کتاب الکافی سے نقل کیا ہے، اس کی دلیل ان کا قول " محمد بن یعقوب کلینی " ہے۔

اور مذکورہ سند کی صحت جاننے کے لیے اس کے رجال کا مطالعہ کرنا ضروری ہے۔

جہاں تک محمد بن یعقوب کلینی ؒکا تعلق ہے تو وہ کسی تعارّف کے محتاج نہیں ہیں اور وہ دوپہر کے سورج کی طرح ہیں، تاہم، مزید معلومات کے لیے ہم نجاشی ؒکا ان کے حق میں قول ذکر کرتے ہیں: " یہ اپنے زمانے میں ری (شہر) میں ہمارے اصحاب (یعنی شیعہ علماء) کے شیخ اور ان کی نمایا شخصیت تھے، اور حدیث کے معاملہ میں لوگوں میں سب سے زیادہ ثقہ اور سب سے زیادہ ثابت (پختہ) تھے۔ انہوں نے وہ عظیم کتاب تصنیف کی جو الکلینی کے نام سے مشہور ہے، اور اسے الکافی (۱)کہا جاتا ہے، اور اسے بیس سال میں مکمل کیا ۔۔۔ میں مسجد میں آیا جایا کرتا تھا، اور ہمارے اصحاب کی ایک جماعت ابو الحسین احمد بن محمد کوفی الکاتب کے سامنے " الکافی" کی قراءت کیا کرتی تھی ۔۔۔ " (۲) ۔

حوالہ جات:(۱)- رجال النجاشی میں عبارت اسی طرح ہے، اور بظاہر اس میں کوئی خلل (خرابی یا نقص) موجود ہے۔

(۲)-معجم رجال الحديث ۱۸: ۵۰

اور جہاں تک ابو علی اشعری کا تعلق ہے تو یہ احمد بن ادریس ؒکی کنیت ہے جو کلینی ؒکے شیخ ہیں اور کلینی ؒان کے حوالے سے الکافی میں کثرت سے روایت بیان کرتے ہیں۔ نجاشی ؒنے ان کے بارے میں کہا: " یہ ہمارے اصحاب میں ثقہ، فقیہ، کثیر الحدیث اور صحیح الروایۃ تھے " ۔ اور یہی مضمون شیخ طوسی ؒ (۱) نے بھی ذکر کیا ہے۔

اور جہاں تک تعلق حسن بن علی کوفی کا ہے تو یہ حسن بن علی بن عبد اللہ بن مغیرہ بجلی ہیں۔ نجاشی ؒنے ان کے بارے میں کہا: " ثقہ ثقہ (انتہائی ثقہ) " (۲) ۔

---حوالہ جات

(۱)- معجم رجال الحديث ۲: ۴۱

اور اس بات کی طرف توجہ ضروری ہے کہ ہمارے لیے دونوں بزرگوں یعنی نجاشی یا شیخ میں سے کسی ایک کی توثیق کافی ہے، اور ان دونوں کی توثیق کا بیک وقت ثابت ہونا ضروری نہیں ہے، کیونکہ سیرتِ عقلائیہ اسی پر جاری ہے کہ وثاقت ثابت کرنے کے لیے ایک کی توثیق پر اکتفا کیا جائے۔ البتہ، ان دونوں میں سے کسی ایک کی توثیق کافی تب ہے جب دوسرا تضعیف نہ کرے، ورنہ ساقط ہو جاتی ہے۔

(۲)- معجم رجال الحديث ۵: ۴۱

اور جہاں تک تعلق عباس بن عامر کا ہے تو ان کے بارے میں نجاشی ؒنے کہا: " شیخ، انتہائی سچے، ثقہ، کثیر الحدیث" [ (۱) ۔

اور جہاں تک تعلق ابان بن عثمان کا ہے تو ان کا ذکر نجاشی ؒاور شیخ ؒدونوں نے کیا ہے لیکن دونوں نے ان کی توثیق نہیں کی ہے، تاہم ان کی وثاقت کو کشّی کے اس دعوے سے ثابت کیا جا سکتا ہے کہ طائفہ و علماء شیعہ کا امام صادق علیہ السلام کے چھ اصحاب کی وثاقت پر اجماع ہے جن میں سے ایک ابان بن عثمان بھی ہیں۔ انہوں نے ایک عنوان اس طرح قائم کیا ہے: امام ابو عبد اللہ علیہ السلام کے اصحاب میں سے فقہاء کے نام، پھر کہا: " عصابہ (۲) کا اجماع ہے کہ ان (راویوں) کی طرف سے جو صحیح(۳)قرار دیا گیا ہے اسے صحیح قرار دیا جائےگا اور ان کے اقوال کی تصدیق کی جائےگی، اور ان کے حق میں فقاہت کا اقرار کیا جائےگا: جميل بن دراج، عبداللہ بن مسكان، عبداللہ بن بکير، حماد بن عثمان، حماد بن عيسى، اور أبان بن عثمان " (۴) ۔

مذکورہ اجماع کی حجیت کی وضاحت یہ کی جا سکتی ہے: کہ اگر مذکورہ اجماع واقع میں حق اور ثابت ہو تو یہ ان لوگوں کی وثاقت کی دلیل ہے، اور اگر (یہ اجماع) حقیقت میں ثابت نہ بھی ہو، تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ کشّی ؒکی طرف سے اس اجماع کا دعویٰ بذاتِ خود ان چھے افراد کی وثاقت پر ایک ضمنی گواہی کا درجہ رکھتا ہے۔

اور اگر کہا جائے کہ ان لوگوں کی روایت کو صحیح قرار دیئے جانے پر اجماع وثاقت پر اجماع کو لازم نہیں کرتا، کیونکہ روایت کو صحیح قرار دیئے جانے کا مطلب اسے قبول کرنا ہے، اور کسی شخص سے روایت کو قبول کرنے کا مطلب اس شخص کی توثیق کرنا نہیں ہے، کیونکہ ممکن ہے کہ وہ روایت بعض خاص قرائن کے ساتھ ہونے کی وجہ سے قابلِ قبول ہو گئی ہو، جن قرائن نے اس کی سچائی کا علم و یقین پیدا کر دیا ہو۔

حوالہ جات: (۱)-سابقہ مأخذ ۹: ۲۲۷

(۲)-یعنی گروہِ شیعہ

(۳)- یعنی روایت کو مقبول شمار کیا جائےگا جب اس روایت کا ان افراد کے ذریعہ سے وارد ہونا ثابت ہو جائے۔

(۴)-معجم رجال الحديث ۱: ۱۵۷

اس کا جواب یہ ہے کہ یہ بات اس صورت میں ہے جب کسی شخص کی مخصوص روایت کو قبول کرنے پر اجماع منعقد ہوا ہو، لیکن اگر اس کی تمام روایات قبول کرنے پر اجماع منعقد ہو تو یہ اس کی وثاقت کے حکم کے مساوی ہے۔

اور جہاں تک فضیل بن یسار کا تعلق ہے تو ان کی توثیق شیخ ؒاور نجاشی ؒدونوں نے کی ہے۔ اور کشّی ؒنے ان کے حق میں کئی احادیث روایت کی ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ امام صادق علیہ السلام جب فضیل کو دیکھتے تو فرماتے :

" بشارت دو عاجزی و فروتنی کرنے والے افراد کو۔ جس شخص کی یہ خواہش ہو کہ وہ اہل جنّت میں سے کسی شخص کو دیکھے، تو اسے چاہیے کہ اس کو دیکھے " ۔

اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ جب امام علیہ السلام اُسے دیکھتے، تو فرمایا کرتے: " خوش آمدید اُس شخصیت کو جس کی موجودگی زمین والوں کے لیے باعثِ سکون ہے " ۔

اور فضیل کی موت پر غسل دینے والے شخص سے نقل کیا گیا ہے کہ وہ کہتا تھا: " میں فضیل کو غسل دے رہا تھا اور ان کا ہاتھ ان کی شرمگاہ کی طرف مجھ سے پہلے بڑھ رہا تھا، تو میں نے یہ بات ابو عبد اللہ علیہ السلام کو بتائی، تو آپ نے مجھ سے فرمایا: اللہ فضیل بن یسار پر رحم کرے اور وہ ہم اہلِ بیت سے ہیں۔ "

( معجم رجال الحديث ۱۳: ۳۳۵ )

اور ان سب سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ اس سند کے تمام رجال ثقہ ہیں اور روایت حجت ہے۔

۲۔ دوسری روایت حر عاملی ؒنے اس طرح نقل کی ہے:

" و عن علي بن إبراهيم عن ابيه و عبد اللّه بن الصلت جميعا عن حماد بن عيسى عن حريز بن عبد اللّه عن زرارة عن أبي جعفر عليه السّلام قال: بني الإسلام ..."

( اور علی بن ابراہیم سے، انہوں نے اپنے والد اور عبد اللہ بن صلت سے، ان سب (دونوں) نے حماد بن عیسیٰ سے، انہوں نے حریز بن عبد اللہ سے، انہوں نے زرارہ سے، انہوں نے ابو جعفر علیہ السلام سے کہ آپ نے فرمایا: اسلام کی بنیاد رکھی گئی ہے ۔۔۔)

مذکورہ روایت کو حر عاملی ؒنے الکافی سے نقل کیا ہے، اس کی دلیل سند کا علی بن ابراہیم ؒسے شروع ہونا ہے، کیونکہ کلینی ؒنے ہی الکافی میں علی بن ابراہیم ؒسے روایت نقل کی ہے۔

علی بن ابراہیم ؒتفسیر قمی کے نام سے مشہور تفسیر کے مصنف ہیں، اور وہ تعارّف کے محتاج نہیں ہیں۔ اور نجاشی ؒنے ان کے حق میں کہا: " حدیث میں ثقہ، ثابت، قابلِ اعتماد، صحیح المذہب۔۔۔ " ۔( سابقہ مأخذ ۱۱: ۱۹۳ )

اور ان کی وثاقت ثابت کرنے کے لیے یہی کافی ہے کہ کلینی ؒنے الکافی کی تقریباً ایک تہائی روایات ان سے نقل کی ہیں، اور ہم یہ ممکن نہیں جانتے کہ کلینی ؒاپنی کتاب کی ایک تہائی روایات ایسے شخص سے نقل کریں جسے وہ قابلِ اعتماد و ثقہ نہ سمجھتے ہوں، کیونکہ عقلمند آدمی کا یہ طریقہ نہیں ہو سکتا۔

اور جہاں تک ابراہیم بن ہاشم ؒکے نام سے مشہور علی ؒکے والد کا تعلق ہے تو ان کے بیٹے نے ان سے بہت زیادہ روایات نقل کی ہیں۔ اور نجاشی ؒاور شیخ ؒنے ان کا ذکر بغیر توثیق کے کیا ہے۔ اور زیادہ سے زیادہ جو انہوں نے ان کے حق میں ذکر کیا ہے وہ یہ ہے کہ وہ کوفی تھے جو قم منتقل ہوئے اور ہمارے اصحاب کہتے ہیں کہ وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے کوفیوں کی حدیثیں قم میں پھیلائیں۔

اور اس عبارت سے راوی کی مدح و تعریف کا فائدہ اٹھایا گیا ہے نہ کہ اس کی توثیق کا، اور اسی وجہ سے وہ روایت جس کی سند میں راوی کی مدح و تعریف ہو وہ " حسنہ " شمار ہوتی ہے نہ کہ " صحیحہ " ۔

( حسَنہ وہ روایت ہے جس کے تمام راوی یا ان میں سے بعض امامی ہوں اور ان کی مدح کی گئی ہو، لیکن ان کی تعدیل و توثیق نہ کی گئی ہو)

اور سید خوئی قدس سرہ نے ان (ابراہیم بن ہاشم) کی وثاقت ثابت کرنے کے لیے ان کے بیٹے کی ان کی تفسیر میں ان کے حوالے سے روایت کرنے کو دلیل بنایا ہے، اور ان کے بیٹے نے تفسیر کے مقدمہ میں کہا ہے کہ وہ اپنی تفسیر کو ثقہ راویوں سے روایت کرتے ہیں۔ اسی طرح ان کی توثیق ثابت کرنے کے لیے ان کے کامل الزیارات کی اسناد میں وارد ہونے کو بھی دلیل بنایا ہے، جس کے مؤلف جعفر بن محمد ابن قولویہ ؒنے مقدمہ میں ان تمام افراد کی وثاقت کی گواہی دی ہے جن کا نام انہوں نے اس میں شامل کیا ہے۔

اور یہ اس شخص کے لیے ایک اچھا طریقہ ہے جو مذکورہ اصول پر اعتقاد رکھتا ہو، لیکن ہم توثیقاتِ عامہ کی بحث میں اس پر اشکال پیش کریں گے۔

اور ہماری نظر میں ان (ابراہیم بن ہاشم) کی توثیق ثابت کرنے کے لیے سب سے مناسب یہ کہنا ہے :

الف- کوفہ کے راویوں کی احادیث کو قم کی اُس علمی فضا میں جو سخت معیار رکھنے میں مشہور تھی عام کرنا ہم اُس وقت تک ممکن نہیں سمجھتے جب تک وہ احادیث کسی ایسے شخص کے ذریعے نہ آئی ہوں جو احادیث کے قابل قبول ہونے کے درجے پر ہو۔ اور وہ شخص صرف وہی ہو سکتا ہے جو ثقہ و قابلِ اعتماد ہو، بلکہ بہت اعلیٰ درجے کا ثقہ ہو۔ کیا یہ ممکن ہے کہ ایسی سخت گیر علمی فضا میں ایسے شخص سے احادیث قبول کی جائیں جس کی وثاقت ثابت نہ ہو؟

ب- ان کے بیٹے (یعنی علی بن ابراہیم) نے اپنے والد (ابراہیم بن ہاشم) سے بہت زیادہ روایات نقل کی ہیں، اور ہم یہ ممکن نہیں جانتے کہ یہ اتنی بڑی تعداد میں روایت کرنا اس حالت میں ہوا ہو کہ وہ اپنے والد کو قابلِ اعتماد و ثقہ نہ سمجھتے ہوں۔

اور جہاں تک تعلق عبد اللہ بن صلت کا ہے تو ان کے بارے میں نجاشی ؒنے کہا: " ثقہ ہے، ان کی روایت قابلِ اطمینان سمجھی گئی ہے " ( معجم رجال الحديث ۱۰: ۲۲۲ )

اور اس بات کی طرف متوجہ ہونا ضروری ہے کہ ہمارے لیے ان دو افراد – یعنی ابراہیم بن ہاشم یا عبد اللہ بن صلت – میں سے کسی ایک کی وثاقت ثابت ہونا ہی کافی ہے، اور ان دونوں کی وثاقت کا بیک وقت ثابت ہونا ضروری نہیں ہے، اگرچہ اتفاق سے دونوں ثقہ ہوں۔

اور جہاں تک حماد بن عیسیٰ کا تعلق ہے تو یہ جھنی ہیں جو جحفہ میں غرق ہو گئے تھے۔ نجاشی ؒنے ان کے بارے میں کہا: " وہ اپنی حدیث میں ثقہ اور انتہائی سچے تھے " ۔

( معجم رجال الحديث ۶: ۲۲۴)

اور انہوں نے امام کاظم علیہ السلام سے دعا کی درخواست کی کہ اللہ انہیں گھر، بیوی، بیٹا، خادم اور ہر سال حج کی توفیق عطا فرمائے تو آپ علیہ السلام نے فرمایا: " خداوندا درود نازل فرما محمد و آل محمد پر اور انہیں گھر، بیوی، بیٹا، خادم اور پچاس سال تک حج عطا فرما " ۔ حماد ؒنے کہا: جب آپ علیہ السلام نے پچاس سال کی شرط لگائی تو مجھے معلوم ہو گیا کہ میں پچاس سال سے زیادہ حج نہیں کروں گا، تو حماد نے کہا: اور میں نے اڑتالیس سال حج کیا، اور یہ میرا گھر ہے جو مجھے عطا ہوا ہے اور یہ میری بیوی پردے کے پیچھے میری بات سن رہی ہے اور یہ میرا بیٹا ہے اور یہ میرا خادم ہے اور مجھے یہ سب کچھ عطا ہو چکا ہے۔ اور اس کے بعد انہوں نے دو حج کیے جو پچاس پورے ہو گئے، پھر پچاس سال کے بعد حج کے لیے نکلے، تو جب وہ احرام کی جگہ پہنچے تو غسل کرنے لگے تو (اچانک) وادی (پانی کا بہاؤ یا ندی) آئی اور انہیں بہا لے گئی اور وہ غرق ہو گئے، اللہ تعالیٰ ان پر رحم فرمائے۔ (۱)

اور جہاں تک حریز بن عبد اللہ کا تعلق ہے تو یہ سجستانی ہیں۔ شیخ ؒنے ان کے بارے میں کہا: " ثقہ کوفی " ۔

حوالہ جات:

(۱)- معجم رجال الحديث ۶: ۲۲۷

(۲)۔ معجم رجال الحديث ۴: ۲۴۹

اور حریز کے قتل کی وجہ کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ سجستان میں اپنے اصحاب کے ساتھ رہتے تھے اور مذکورہ شہر پر شراۃ (۱) کا غلبہ تھا، اور وہ ان سے امیر المومنین علیہ السلام کی توہین و سب و شتم سنتے تھے تو حریز کو خبر دیتے اور ان سے یہ رائے طلب کرتے کہ جس سے یہ سنا ہے اسے قتل کر دیں، تو انہوں نے انہیں اجازت دی، تو شراۃ کو مسلسل ایک کے بعد ایک مقتول ملتے رہے اور وہ شیعوں سے ایسا ہونے کا احتمال نہیں رکھتے تھے کیونکہ ان کی تعداد کم تھی، اور وہ مرجئہ پر الزام لگاتے اور ان سے لڑتے تھے، اور جب انہوں نے حقیقتِ حال کو جان لیا تو وہ شیعوں کی تلاش میں نکل پڑے، چنانچہ حریز اور ان کے ساتھی مسجد میں جمع ہوئے، تو ان لوگوں نے مسجد پر حملہ کیا اور اس کی زمین ان پر الٹ دی۔ اللہ تعالیٰ حریز اور ان کے ساتھیوں پر اپنی رحمت نازل فرمائے۔(۲)

حوالہ جات:

(۱)۔ یعنی خوارج۔

(۲) ۔ معجم رجال الحديث ۴: ۲۵۲.

اور حریز کی ایک کتاب ہے جسے کتاب الصلاۃ کے نام سے جانا جاتا ہے، اور یہ مشہور کتابوں میں سے ہے جس پر اعتماد کیا جاتا ہے جیسا کہ صدوق ؒنے مقدمہ الفقیہ جلد ۱، صفحہ ۳ پر بیان کیا ہے۔

اور ایک دن حماد بن عیسیٰ امام صادق علیہ السلام کے پاس حاضر ہوئے اور آپ علیہ السلام نے ان سے فرمایا: " کیا تم اچھی طرح نماز پڑھنا جانتے ہو، اے حماد؟ " تو انہوں نے عرض کی: " اے میرے سید و سردار! میں نے نماز کے متعلق حریز کی کتاب یاد کی ہوئی ہے " ۔ تو آپ علیہ السلام نے فرمایا : کوئی بات نہیں، کھڑے ہو کر نماز پڑھو، جب انہوں نے اپنی وہ نماز پڑھی جو جعفر صادق علیہ السلام کے شیعوں سے مناسبت نہیں رکھتی تھی، تو آپ علیہ السلام نے فرمایا: تم میں سے کسی شخص کے لیے کتنا برا ہے کہ اس پر ساٹھ یا ستر سال گزر جائیں اور وہ ایک بھی نماز اس کی تمام حدود کے ساتھ مکمل طور پر نہ پڑھ سکے۔(۱)

حوالہ(۱)- وسائل الشيعة باب ۱ من أبواب أفعال الصلاة حديث ۱

مذکورہ روایت حریز کی کتاب کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے یہاں تک کہ حماد نے اسے یاد کیا ہوا تھا۔

اور جہاں تک زرارہ کا تعلق ہے تو وہ تعارّف کے محتاج نہیں ہے۔ اور ان کی تعریف میں امام صادق علیہ السلام کا جمیل بن دراج سے فرمایا ہوا یہ قول ہمارے لیے کافی ہے: متواضع و خشوع اختیار کرنے والوں کو جنت کی بشارت دو: برید بن معاویہ عجلی، ابو بصیر لیث بن بختری مرادی، محمد بن مسلم اور زرارہ یہ چاروں نجیب (شریف و برگزیدہ) اور اللہ کے حلال و حرام پر امین ہیں۔ اگر یہ لوگ نہ ہوتے تو نبوت کی نشانیاں مٹ جاتیں اور (دین کے) آثار ختم ہو جاتے۔(۱)

حوالہ:

(۱)- معجم رجال الحديث ۷: ۲۲۲

توجہ طلب بات

صاحبِ وسائل ؒنے مذکورہ روایت کے آخر میں یہ عبارت ذکر کی ہے:

" و رواه أحمد بن ابي عبد اللّه البرقي في المحاسن عن عبد اللّه بن الصلت بالاسناد المذكور "

(اور اسے احمد بن ابی عبد اللہ برقی نے المحاسن میں عبد اللہ بن صلت سے مذکورہ سند کے ساتھ روایت کیا ہے)۔

اس عبارت کا مقصد یہ اشارہ کرنا ہے کہ مذکورہ روایت صرف شیخ کلینی ؒنے ہی نقل نہیں کی ہے، بلکہ برقی ؒنے بھی اپنی مشہور کتاب المحاسن میں اسے نقل کیا ہے۔

اور برقی اسے عبداللہ بن صلت سے، انہوں نے حماد بن عیسیٰ سے، انہوں نے حریز سے، انہوں نے زرارہ سے نقل کیا ہے جو کلینی کی روایت میں مذکورہ سابقہ سند ہی ہے۔

اور ہم اس بات کی طرف توجہ دلانا چاہتے ہیں کہ جب ہمارے پاس کلینی ؒکا سابقہ سلسلہ سند صحیح ثابت ہو چکا ہے تو ہمیں برقی ؒکے دوسرے سلسلہ سند کی صحت ثابت کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن اگر ہم فرض کریں کہ سابقہ سلسلہ سند صحیح نہ ہو تو ہم مذکورہ سلسلہ سند کی صحت کیسے ثابت کریں گے؟

ہمیں سب سے پہلے صاحبِ وسائل ؒکا برقی ؒتک کا سلسلہ سند جاننا ہوگا، پھر برقی ؒکا امام علیہ السلام تک کا سلسلہ سند جاننا ہوگا۔

جہاں تک صاحبِ وسائل ؒکا برقی ؒتک سند و طریق کا تعلق ہے تو وہ صحیح ہے، کیونکہ انہوں نے وسائل کی آخر میں یہ ذکر کیا ہے کہ وہ تمام کتابیں جن سے وہ روایت کرتے ہیں، جیسے کہ " المحاسن" وغیرہ، وہ ان تک متعدد اسناد کے ذریعے پہنچی ہیں، اور وہ تمام اسناد شیخ طوسی ؒپر ختم ہوتی ہیں۔

اور جب ہم شیخ طوسی ؒکی فہرست میں برقی ؒکے حالات کی طرف رجوع کرتے ہیں تو ہمیں ان کا ایک معتبر سلسلہ سند ملتا ہے۔

اور اس طرح حر عاملی ؒکا برقی ؒتک کا سلسلہ سند صحیح ثابت ہو جاتا ہے۔

اور جہاں تک برقی ؒکا امام علیہ السلام تک کے سلسلہ سند کا تعلق ہے تو وہ کلینی ؒکے سلسلہ سند کے بیان میں پہلے ہی ثابت ہو چکا ہے کہ وہ صحیح ہے۔

اب ہمیں صرف یہ جاننا باقی رہ جاتا ہے کہ برقی ؒکا کیا مقام و مرتبہ ہے، اور چونکہ وہ ثقہ ہیں، لہٰذا اس سلسلہ سند میں اس پہلو سے بھی کوئی اشکال باقی نہیں رہتا۔

۳۔ صاحبِ وسائل ؒنے تیسری روایت میں اس طرح کہا ہے:

" و عن محمد بن يحيى عن أحمد بن محمد عن علي بن النعمان عن ابن مسكان عن سليمان بن خالد عن أبي جعفر عليه السّلام قال الا (أخبرك بالاسلام) "

(اور محمد بن یحییٰ سے، انہوں نے احمد بن محمد سے، انہوں نے علی بن نعمان سے، انہوں نے ابن مسکان سے، انہوں نے سلیمان بن خالد سے، انہوں نے ابو جعفر علیہ السلام سے فرمایا کہ کیا نہ (بتاؤں میں تمہیں اسلام کے بارے میں؟۔۔۔)

اور یہ روایت بھی حر عاملی ؒنے الکافی سے نقل کی ہے، اس کی دلیل یہ ہے کہ انہوں نے سند کا آغاز محمد بن یحییٰ سے کیا ہے جو کلینی ؒکے شیخ ہیں اور کلینی ؒان کے حوالے سے کثرت سے روایات بیان کرتے ہیں۔

اس کے علاوہ، انہوں نے اسے کلینی ؒسے نقل کردہ سابقہ دو روایات کے بعد ذکر کیا ہے، تو اگر وہ مثلاً شیخ طوسی ؒسے نقل کرنا چاہتے تو سند کا آغاز محمد بن حسن طوسی سے کرتے،

لیکن چونکہ وہ مسلسل کلینی ؒسے نقل کر رہے ہیں لہذا انہیں ہر بار کلینی ؒکا نام ذکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

اور مذکورہ سند کے حال کو جاننے کے لیے ہم کہتے ہیں :

جہاں تک محمد بن یحییٰ کا تعلق ہے تو یہ محمد بن یحییٰ عطار قمی اشعری ہیں جو کلینی ؒکے شیخ ہیں اور کلینی ؒنے ان کے حوالے سے الکافی میں کثرت سے روایات بیان کی ہیں۔ نجاشی ؒان کے بارے میں کہتے ہیں:

" وہ اپنے زمانے میں ہمارے اصحاب کے شیخ تھے، ثقہ، عین (یعنی انتہائی ممتاز و معتمد شخص) اور کثیر الحدیث تھے " (۱) ۔

اور جہاں تک احمد بن محمد کا تعلق ہے تو یہ احمد بن محمد بن عیسیٰ اشعری ہیں جو عظیم المرتبت اور کثرتِ روایت اور وثاقت کے لیے مشہور ہیں۔

مذکورہ نام اگرچہ کئی افراد کے درمیان مشترک ہے، لیکن ہم نے یقین کے ساتھ اسے ابن عیسیٰ اشعری قرار دیا ہے، محمد بن یحییٰ کی اس سے روایت کی بنیاد پر، کیونکہ محمد بن یحییٰ احمد بن محمد بن عیسیٰ سے روایت کرتے ہیں، اور وہ ان کے شاگرد اور ہم نشین تھے۔نجاشی ؒان کے بارے میں کہتے ہیں: " ابو جعفر رحمہ اللہ اہل قم کے شیخ اور ان کے نمایا فرد اور ان کے بلا تردید فقیہ تھے۔ اور یہ قائد بھی تھے جو سلطان سے ملاقات کرتے تھے۔ اور ان کی امام رضا علیہ السلام سے ملاقات ہوئی تھی " (۲) ۔

حوالہ جات:

(۱)۔ معجم رجال الحديث ۱۸: ۳۰.

(۲) ۔ سابقہ مأخذ ۲: ۲۹۶.

اور جہاں تک علی بن نعمان کا تعلق ہے تو نجاشی کے بقول: " علی ثقة، باوقار (وجیہ)، مضبوط (ثبت)، درست عقیدے والا (صحیح) اور صاف و واضح طریقے پر چلنے والا شخص تھا " (۱) ۔

اور کہا گیا ہے کہ مسجد الحرام میں تین افراد جمع ہوئے جو صفوان بن یحییٰ، عبد اللہ بن جندب اور علی بن نعمان تھے، تو ان سب نے عہد کیا کہ اگر ان میں سے کوئی ایک بھی مر گیا تو جو باقی رہےگا وہ اپنی زندگی تک اس کی نماز پڑھےگا، روزہ رکھےگا، حج کرےگا اور زکوٰۃ ادا کرےگا۔ پس علی اور عبد اللہ وفات پا گئے اور صفوان ان کے بعد زندہ رہے، اور وہ ان کے لیے اس عہد کو پورا کرتے رہے (۲) ۔

حوالہ جات:

(۱)۔ معجم رجال الحديث ۱۲: ۲۱۵

(۲)- معجم رجال الحديث ۹: ۱۲۴

اور جہاں تک ابن مسکان کا تعلق ہے تو یہ عبد اللہ بن مسکان ہیں۔ نجاشی ؒان کے بارے میں کہتے ہیں: " ثقہ، عین (انتہائی ممتاز و معتمد شخص) " اور یہ امام صادق علیہ السلام کے اصحاب میں سے ان چھ اصحاب میں سے ایک ہیں جن (کی وثاقت) پر اجماع ہے۔

اور کہا گیا ہے کہ وہ امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں اس لیے حاضر نہیں ہوتے تھے کہ کہیں وہ مقامِ امامت کو وہ عظمت اور تعظیم پیش نہ کر سکیں جو اس مقام کا حق ہے (۱) ۔

اور جہاں تک سلیمان بن خالد کا تعلق ہے تو نجاشی ؒکے بقول: " وہ قاری، فقیہ، وجہ (معروف شخصیت)۔۔۔

حوالہ:

معجم رجال الحديث ۱۰: ۳۲۴

اور وہ زید (ابن امام سجاد علیہ السلام) کے ساتھ خروج میں شامل ہوئے، اور امام ابو جعفر علیہ السلام کے اصحاب میں سے ان کے ساتھ جانے والے صرف یہی ایک تھے، پھر ان کا ہاتھ کاٹ دیا گیا، اور وہ شخص جس نے خود ان کا ہاتھ کاٹا، وہ یوسف بن عمر تھا۔ اور وہ امام ابو عبداللہ (امام جعفر صادق علیہ السلام) کی زندگی میں وفات پا گئے، تو امام علیہ السلام نے ان کے فُقدان (انتقال) پر غم کا اظہار کیا، ان کی اولاد کے لیے دعا کی، اور اپنے اصحاب کو ان (کی اولاد) کی وصیت کی (یعنی ان کا خیال رکھنے کی ہدایت فرمائی)۔۔۔ " (۱) ۔

حوالہ:

معجم رجال الحديث ۸: ۲۴۵

دیگر اسانید

صاحبِ وسائل ؒنے تیسری حدیث کی نقل کی تکمیل کے بعد یہ عبارت کہی ہے:

" و رواه البرقي في المحاسن عن أبيه عن علي بن النعمان. و رواه الشيخ باسناده عن الحسن بن محمد بن سماعة عن ابن رباط عن ابن مسكان عن سليمان بن خالد عن أبي عبد اللّه عليه السّلام عن رسول اللّه صلّى اللّه عليه و آله نحوه. و رواه الحسين بن سعيد في كتاب الزهد عن علي بن النعمان مثله إلى قوله الجهاد. و عن محمد بن يحيى عن أحمد ابن محمد بن عيسى عن ابن فضال عن ثعلبة عن علي بن عبد العزيز عن ابي عبد اللّه عليه السّلام نحوه. و رواه الشيخ باسناده عن محمد بن يعقوب عن محمد بن يحيى. و رواه الصدوق باسناده عن علي بن عبد العزيز. و رواه البرقي في المحاسن عن الحسن بن علي بن فضال مثله"

(اور اسے برقی نے " المحاسن" میں اپنے والد سے، انہوں نے علی بن نعمان سے روایت کیا ہے۔ اور شیخ نے اسے اپنی اسناد سے حسن بن محمد بن سماعہ سے، انہوں نے ابن رباط سے، انہوں نے ابن مسکان سے، انہوں نے سلیمان بن خالد سے، انہوں نے ابو عبد اللہ علیہ السلام سے، آپ علیہ السلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ اور اسے حسین بن سعید نے کتاب " الزھد" میں علی بن نعمان سے ان کے قول " الجھاد " تک اسی طرح روایت کیا ہے۔ اور محمد بن یحییٰ سے، انہوں نے احمد بن محمد بن عیسیٰ سے، انہوں نے ابن فضال سے، انہوں نے ثعلبہ سے، انہوں نے علی بن عبد العزیز سے، انہوں نے ابو عبد اللہ علیہ السلام سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ اور اسے شیخ نے اپنی اسناد کے ساتھ محمد بن یعقوب سے، انہوں نے محمد بن یحییٰ سے روایت کیا ہے۔ اور اسے صدوق نے اپنی اسناد کے ساتھ علی بن عبد العزیز سے روایت کیا ہے۔ اور اسے برقی نے " المحاسن" میں حسن بن علی بن فضال سے اسی کی مثل روایت کیا ہے)۔

حر عاملی ؒکا اس عبارت سے مقصود مذکورہ حدیث کے لیے دیگر اسناد اور طریقوں کی موجودگی کی طرف اشارہ کرنا ہے۔ اور اگر ہم اسے مزید مکمل طور پر واضح کرنا چاہیں تو اسے یوں بیان کیا جا سکتا ہے :

اول: مذکورہ حدیث کو برقی نے اپنی کتاب " المحاسن" میں اپنے والد سے، انہوں نے علی بن نعمان سے، انہوں ابن مسکان سے، انہوں نے سلیمان بن خالد سے، انہوں نے ابو جعفر علیہ السلام سے روایت کیا ہے۔۔۔

حر عاملی ؒنے اس سلسلہ میں علی بن نعمان اور امام علیہ السلام کے درمیان کے واسطوں کی طرف اشارہ نہیں کیا ہے کیونکہ یہ واسطے اس سلسلہ سند اور الکافی میں ثابت شدہ سابقہ سلسلہ سند کے درمیان مشترک ہیں، لہٰذا اختصار کی خاطر انہوں نے دونوں سلسلہ سند کے درمیان کے مشترک واسطوں کو حذف کر دیا ہے۔

اور یہ سلسلہ سند بھی صحیح ہے کیونکہ حر عاملی ؒکا برقی تک کی سند صحیح ہے جیسا کہ دوسری حدیث کے ذیل میں اشارہ کیا جا چکا ہے۔

اور برقی خود ثقہ ہیں اور ان کے والد بھی ثقہ ہیں۔ اور علی بن نعمان سے لے کر امام علیہ السلام تک کے باقی تمام راوی بھی سب ثقہ ہیں اس حساب سے جو پہلے بیان ہوا تھا۔

دوم: مذکورہ حدیث کو شیخ طوسی ؒنے بھی " التھذیب" میں حسن بن محمد بن سماعہ تک کی اپنی سند سے، حسن بن محمد بن سماعہ نے ابن رباط سے، انہوں نے ابن مسکان سے، انہوں نے سلیمان بن خالد سے، انہوں نے ابو عبد اللہ علیہ السلام سے روایت کیا ہے۔

اور مذکورہ سلسلہ سند کا حال جاننے کے لیے شیخ طوسی ؒکی حسن بن محمد بن سماعہ تک کی سند جاننا ضروری ہے، اور اسے مشیخة التھذیب جلد ۱۰، صفحہ ۷۵ کی طرف رجوع کر کے دیکھا جا سکتا ہے، کیونکہ انہوں نے مذکورہ شخص تک اپنا سلسلہ سند ذکر کیا ہے۔

سوم: مذکورہ حدیث حسین بن سعید صاحبِ کتاب " الزھد" نے بھی علی بن نعمان سے، انہوں نے ابن مسکان سے، انہوں نے سلیمان بن خالد سے روایت کیا ہے۔

اور حر عاملی ؒکا حسین بن سعید تک کی سند جاننا ضروری ہے، اور وہ صحیح ہے جیسا کہ وسائل کے آخر میں ہے کیونکہ وہ سند شیخ طوسی ؒپر ختم ہوتی ہے اور ان کے پاس " الفھرست" میں حسین بن سعید تک ایک معتبر سلسلہ سند ہے۔

اور باقی یہ ہے کہ ہم حسین بن سعید سے لے کر امام علیہ السلام تک کی سند جانیں، اور وہ صحیح ہے۔

چہارم: مذکورہ حدیث کلینی ؒنے دوسری بار ایک اور مقام پر محمد بن یحییٰ سے، انہوں نے احمد بن محمد بن عیسیٰ سے، انہوں نے ابن فضال سے، انہوں نے ثعلبہ سے، انہوں نے علی بن عبد العزیز سے روایت کی ہے۔

پنجم: شیخ طوسی ؒنے " التھذیب" میں دوسری بار کلینی ؒسے، انہوں نے " الکافی" میں محمد بن یحییٰ سے حدیث روایت کی ہے۔ اور جہاں تک محمد بن یحییٰ کا تعلق ہے تو انہوں نے حدیث احمد بن محمد بن عیسیٰ سے، انہوں نے ابن فضال سے، انہوں نے ثعلبہ سے، انہوں نے علی بن عبد العزیز سے روایت کی ہے۔ اور صاحب وسائل ؒنے اسے گزشتہ بیان پر اعتماد کرتے ہوئے حذف کیا ہے۔

ششم: مذکورہ حدیث کو صدوق ؒنے بھی " الفقیہ" میں روایت کیا ہے علی بن عبد العزیز سے، انہوں نے امام علیہ السلام سے۔

اور جہاں تک صدوق ؒکی علی بن عبد العزیز تک کی سند کا تعلق ہے تو ضروری ہے کہ اس سند کے لیے " مشیخة الفقیہ" کی طرف رجوع کیا جائے۔

ہفتم: مذکورہ حدیث کو برقی ؒنے بھی " المحاسن" میں دوسری بار حسن ابن علی بن فضال سے روایت کیا ہے۔ اور جہاں تک ابن فضال کا تعلق ہے تو اس نے اسے ثعلبہ سے، انہوں نے علی بن عبد العزیز سے، انہوں نے امام علیہ السلام سے روایت کیا ہے۔ اور صاحب وسائل ؒنے گزشتہ بیان پر اعتماد کرتے ہوئے اس کا ذکر نہیں کیا ہے۔

۴۔ صاحبِ وسائل ؒنے کہا:

" و عن علي بن إبراهيم عن ابيه و عن ابي علي الأشعري عن محمد بن عبد الجبار جميعا عن صفوان عن عمرو بن حريث انه قال لأبي عبد اللّه عليه السّلام ألا أقص عليك ديني ..."

(اور علی بن ابراہیم سے، انہوں نے اپنے والد سے، اور ابو علی اشعری سے، انہوں نے محمد بن عبد الجبار سے، " جمیعا" (ان سب یعنی ان دونوں) نے صفوان سے، انہوں عمرو بن حریث سے کہ انہوں نے ابو عبد اللہ علیہ السلام سے عرض کی: کیا میں آپ کو اپنا دین نہ سناؤں۔۔۔؟)

مذکورہ حدیث کو حر عاملی ؒنے الکافی سے نقل کیا ہے، اس کی دلیل دوسری حدیث میں مذکور سابقہ قرینہ ہے۔

اور مذکورہ حدیث کو کلینی ؒصفوان سے، انہوں نے عمرو بن حریث سے دو سلسلہ اسناد سے نقل کرتے ہیں اور یہ دونوں :

الف۔ علی بن ابراہیم، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے صفوان سے، انہوں نے عمرو بن حریث سے۔

ب۔ ابو علی اشعری، انہوں نے محمد بن عبد الجبار سے، انہوں نے صفوان سے، انہوں نے عمرو بن حریث سے۔

اور اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ان کا قول: " اور ابو علی اشعری سے، انہوں نے محمد بن عبد الجبار سے " یہ عطف ہو رہا ہے " اور علی بن ابراہیم سے، انہوں نے اپنے والد سے " پر۔

اور " جمیعاً " (سب) کا معنی یہ ہے کہ ابراہیم بن ہاشم اور محمد بن عبد الجبار دونوں نے حدیث صفوان سے روایت کی ہے۔

اسی طرح یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ حدیث کی صحت کے لیے اس کے دو میں سے کسی ایک سلسلہ سند کی صحت کافی ہے اور دونوں کی صحت ضروری نہیں ہے۔

اور دونوں سلسلہ سند کے حال کی تحقیق کے سلسلے میں ہم کہتے ہیں:

جہاں تک تعلق پہلے سلسلہ سند کے بارے میں تو علی بن ابراہیم اور ان کے والد کے بارے میں بات پہلے ہو چکی ہے کہ وہ دونوں ثقہ ہیں، حدیث ۲ کی طرف رجوع کریں۔

اور جہاں تک صفوان کا تعلق ہے تو یہ نام اگرچہ کئی راویوں میں مشترک ہے، لیکن ان میں سے مشہور اور جب صفوان کا نام مطلق(یعنی نام کے ساتھ بغیر کسی اضافے کے) آئے تو جس کی طرف ذہن منتقل ہوتا ہے وہ یا تو صفوان بن یحییٰ بیاع السابری ہیں یا صفوان بن مہران الجمال ہیں، اور نجاشی ؒکی گواہی کے مطابق دونوں ہی ثقہ ہیں (۱) ، اور اس صورت میں اس تعیّن میں بحث کرنے کی کوئی ضرورت نہیں کہ مراد یہ ہیں یا وہ۔

اور جہاں تک عمرو بن حریث کا تعلق ہے تو یہ ابو احمد صیرفی اسدی کوفی ہیں، نجاشی ؒنے جو بیان کیا ہے اس کے مطابق وہ ثقہ ہیں (۲) ۔

حوالہ جات:

(۱)- معجم رجال الحديث ۹: ۱۲۱، ۱۲۳

(۲)- سابقہ مأخذ ۱۳: ۸۵

اور اس طرح یہ سلسلہ سند صحیح ثابت ہو جاتا ہے۔

اور جہاں تک تعلق دوسرے سلسلہ سند کا ہے تو یہ بھی صحیح ہے کیونکہ ابو علی اشعری کے بارے میں حدیث :۱ میں بیان ہو چکا ہے کہ وہ احمد بن ادریس ؒہیں جو ثقہ اور کلینی ؒکے شیخ ہیں۔

اور جہاں تک صفوان اور عمرو بن حریث کا تعلق ہیں تو ان کے بارے میں پہلے بیان ہو چکا ہے کہ یہ دونوں ثقہ ہیں۔

لہذا صرف محمد بن عبد الجبار باقی رہ جاتے ہیں اور وہ محمد بن ابی الصہبان ہیں اور شیخ طوسی ؒنے ان کے بارے میں کہا ہے کہ: یہ قمی ثقہ ہیں۔

( سابقہ مأخذ ۱۴: ۲۶۳ )

۵۔ اور چھٹی حدیث میں حر عاملی ؒنے جو کہا وہ یہ ہے:

" و عن محمد بن يحيى عن أحمد بن محمد. و عن عدة من أصحابنا عن سهل بن زياد جميعا عن الحسن بن محبوب عن هشام بن سالم عن عبد الحميد بن أبي العلا عن أبي عبد اللّه عليه السّلام في جملة حديث ..."

(اور محمد بن یحییٰ سے، انہوں نے احمد بن محمد سے۔ اور ہمارے چند اصحاب سے، انہوں نے سہل بن زیاد سے، سب نے حسن بن محبوب سے، انہوں نے ہشام بن سالم سے، انہوں نے عبد الحمید بن ابی العلاء سے، انہوں نے ابو عبد اللہ علیہ السلام سے حدیث کے ضمن میں۔۔۔)

یہ حدیث حر عاملی ؒنے کلینی ؒکی الکافی سے نقل کی ہے، اس قرینہ کی وجہ سے جو پہلے بیان ہوا تھا۔

اور اس عبارت میں کلینی ؒہمیں یہ بتاتے ہیں کہ مذکورہ حدیث نقل کرنے کے ان کے پاس دو سلسلہ سند ہیں۔

اور دونوں سلسلۂ اسناد کا اختتام حسن بن محبوب، انہوں نے ہشام بن سالم، انہوں نے عبد الحمید بن ابی العلاء پر ہوتا ہے۔

لہٰذا، سلسلہ سند میں تعدّد (یعنی راویوں کا مختلف ہونا) کلینی اور حسن بن محبوب کے درمیان حائل واسطے سے مخصوص ہے، اور جہاں تک تعلق اُس سلسلہ سند کا ہے جو حسن بن محبوب اور امام علیہ السلام کے درمیان ہے تو اس میں کوئی تعدّد نہیں ہے۔

اور اس بنا پر روایت کے دونوں سلسلہ اسناد کو اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے :

الف۔ محمد بن یحییٰ سے، انہوں نے احمد بن محمد سے، انہوں نے حسن بن محبوب سے، انہوں نے ہشام بن سالم سے، انہوں نے عبد الحمید بن ابی العلاء سے۔

ب۔ ہمارے چند اصحاب سے، انہوں نے سہل بن زیاد سے، انہوں نے حسن بن محبوب سے، انہوں نے ہشام بن سالم سے، انہوں نے عبد الحمید سے۔

اور پہلا سلسلہ سند صحیح ہے

کیونکہ محمد بن یحییٰ اور احمد بن محمد کے بارے میں حدیث : ۳ میں بیان ہو چکا ہے کہ یہ دونوں ثقہ اور جلیل القدر ہیں۔

اور جہاں تک حسن بن محبوب کا تعلق ہے تو یہ صاحبِ " کتاب المشیخہ" ہیں۔ اور شیخ طوسی ؒنے ان کے بارے میں کہا : کوفی ثقہ (۱) ۔

اور جہاں تک ہشام بن سالم کا تعلق ہے تو نجاشی ؒکے قول کے مطابق: ثقہ، ثقہ (انتہائی ثقہ) (۲) ۔

اور جہاں تک تعلق عبد الحمید بن ابی العلاء کا ہے تو یہ ازدی ہیں، نجاشی ؒکے قول کے مطابق ثقہ ہیں (۳) ۔

حوالہ جات:

(۱)- معجم رجال الحديث ۵: ۸۹

(۲)- سابقہ مأخذ ۱۹: ۲۹۷

(۳)- سابقہ مأخذ ۹: ۲۷۱