عملی تطبیقات
۱۔ حر عاملی ؒنے اپنی کتاب وسائل الشیعہ میں مقدمہ کے بعد سب سے پہلی حدیث اس طرح نقل کی ہے:
" محمد بن يعقوب الكليني رضي اللّه عنه عن ابي علي الأشعري عن الحسن ابن علي الكوفي عن عباس بن عامر عن إبان بن عثمان عن الفضيل بن يسار عن أبي جعفر عليه السّلام: بني الإسلام على خمس: على الصلاة و الزكاة و الحج و الصوم و الولاية"
(محمد بن یعقوب کلینی رضی اللہ عنہ، انہوں نے ابی علی اشعری سے، انہوں نے حسن بن علی کوفی سے، انہوں نے عباس بن عامر سے، انہوں نے ابان بن عثمان سے، انہوں نے فضیل بن یسار سے، وہ ابو جعفر علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ آپ علیہ السلام نے فرمایا:اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے: نماز، زکوٰۃ، حج، روزہ اور ولایت پر)۔
مذکورہ حدیث کو حر عاملی ؒنے کتاب الکافی سے نقل کیا ہے، اس کی دلیل ان کا قول " محمد بن یعقوب کلینی " ہے۔
اور مذکورہ سند کی صحت جاننے کے لیے اس کے رجال کا مطالعہ کرنا ضروری ہے۔
جہاں تک محمد بن یعقوب کلینی ؒکا تعلق ہے تو وہ کسی تعارّف کے محتاج نہیں ہیں اور وہ دوپہر کے سورج کی طرح ہیں، تاہم، مزید معلومات کے لیے ہم نجاشی ؒکا ان کے حق میں قول ذکر کرتے ہیں: " یہ اپنے زمانے میں ری (شہر) میں ہمارے اصحاب (یعنی شیعہ علماء) کے شیخ اور ان کی نمایا شخصیت تھے، اور حدیث کے معاملہ میں لوگوں میں سب سے زیادہ ثقہ اور سب سے زیادہ ثابت (پختہ) تھے۔ انہوں نے وہ عظیم کتاب تصنیف کی جو الکلینی کے نام سے مشہور ہے، اور اسے الکافی (۱)کہا جاتا ہے، اور اسے بیس سال میں مکمل کیا ۔۔۔ میں مسجد میں آیا جایا کرتا تھا، اور ہمارے اصحاب کی ایک جماعت ابو الحسین احمد بن محمد کوفی الکاتب کے سامنے " الکافی" کی قراءت کیا کرتی تھی ۔۔۔ " (۲) ۔
حوالہ جات:(۱)- رجال النجاشی میں عبارت اسی طرح ہے، اور بظاہر اس میں کوئی خلل (خرابی یا نقص) موجود ہے۔
(۲)-معجم رجال الحديث ۱۸: ۵۰
اور جہاں تک ابو علی اشعری کا تعلق ہے تو یہ احمد بن ادریس ؒکی کنیت ہے جو کلینی ؒکے شیخ ہیں اور کلینی ؒان کے حوالے سے الکافی میں کثرت سے روایت بیان کرتے ہیں۔ نجاشی ؒنے ان کے بارے میں کہا: " یہ ہمارے اصحاب میں ثقہ، فقیہ، کثیر الحدیث اور صحیح الروایۃ تھے " ۔ اور یہی مضمون شیخ طوسی ؒ (۱) نے بھی ذکر کیا ہے۔
اور جہاں تک تعلق حسن بن علی کوفی کا ہے تو یہ حسن بن علی بن عبد اللہ بن مغیرہ بجلی ہیں۔ نجاشی ؒنے ان کے بارے میں کہا: " ثقہ ثقہ (انتہائی ثقہ) " (۲) ۔
---حوالہ جات
(۱)- معجم رجال الحديث ۲: ۴۱
اور اس بات کی طرف توجہ ضروری ہے کہ ہمارے لیے دونوں بزرگوں یعنی نجاشی یا شیخ میں سے کسی ایک کی توثیق کافی ہے، اور ان دونوں کی توثیق کا بیک وقت ثابت ہونا ضروری نہیں ہے، کیونکہ سیرتِ عقلائیہ اسی پر جاری ہے کہ وثاقت ثابت کرنے کے لیے ایک کی توثیق پر اکتفا کیا جائے۔ البتہ، ان دونوں میں سے کسی ایک کی توثیق کافی تب ہے جب دوسرا تضعیف نہ کرے، ورنہ ساقط ہو جاتی ہے۔
(۲)- معجم رجال الحديث ۵: ۴۱
اور جہاں تک تعلق عباس بن عامر کا ہے تو ان کے بارے میں نجاشی ؒنے کہا: " شیخ، انتہائی سچے، ثقہ، کثیر الحدیث" [ (۱) ۔
اور جہاں تک تعلق ابان بن عثمان کا ہے تو ان کا ذکر نجاشی ؒاور شیخ ؒدونوں نے کیا ہے لیکن دونوں نے ان کی توثیق نہیں کی ہے، تاہم ان کی وثاقت کو کشّی کے اس دعوے سے ثابت کیا جا سکتا ہے کہ طائفہ و علماء شیعہ کا امام صادق علیہ السلام کے چھ اصحاب کی وثاقت پر اجماع ہے جن میں سے ایک ابان بن عثمان بھی ہیں۔ انہوں نے ایک عنوان اس طرح قائم کیا ہے: امام ابو عبد اللہ علیہ السلام کے اصحاب میں سے فقہاء کے نام، پھر کہا: " عصابہ (۲) کا اجماع ہے کہ ان (راویوں) کی طرف سے جو صحیح(۳)قرار دیا گیا ہے اسے صحیح قرار دیا جائےگا اور ان کے اقوال کی تصدیق کی جائےگی، اور ان کے حق میں فقاہت کا اقرار کیا جائےگا: جميل بن دراج، عبداللہ بن مسكان، عبداللہ بن بکير، حماد بن عثمان، حماد بن عيسى، اور أبان بن عثمان " (۴) ۔
مذکورہ اجماع کی حجیت کی وضاحت یہ کی جا سکتی ہے: کہ اگر مذکورہ اجماع واقع میں حق اور ثابت ہو تو یہ ان لوگوں کی وثاقت کی دلیل ہے، اور اگر (یہ اجماع) حقیقت میں ثابت نہ بھی ہو، تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ کشّی ؒکی طرف سے اس اجماع کا دعویٰ بذاتِ خود ان چھے افراد کی وثاقت پر ایک ضمنی گواہی کا درجہ رکھتا ہے۔
اور اگر کہا جائے کہ ان لوگوں کی روایت کو صحیح قرار دیئے جانے پر اجماع وثاقت پر اجماع کو لازم نہیں کرتا، کیونکہ روایت کو صحیح قرار دیئے جانے کا مطلب اسے قبول کرنا ہے، اور کسی شخص سے روایت کو قبول کرنے کا مطلب اس شخص کی توثیق کرنا نہیں ہے، کیونکہ ممکن ہے کہ وہ روایت بعض خاص قرائن کے ساتھ ہونے کی وجہ سے قابلِ قبول ہو گئی ہو، جن قرائن نے اس کی سچائی کا علم و یقین پیدا کر دیا ہو۔
حوالہ جات: (۱)-سابقہ مأخذ ۹: ۲۲۷
(۲)-یعنی گروہِ شیعہ
(۳)- یعنی روایت کو مقبول شمار کیا جائےگا جب اس روایت کا ان افراد کے ذریعہ سے وارد ہونا ثابت ہو جائے۔
(۴)-معجم رجال الحديث ۱: ۱۵۷
اس کا جواب یہ ہے کہ یہ بات اس صورت میں ہے جب کسی شخص کی مخصوص روایت کو قبول کرنے پر اجماع منعقد ہوا ہو، لیکن اگر اس کی تمام روایات قبول کرنے پر اجماع منعقد ہو تو یہ اس کی وثاقت کے حکم کے مساوی ہے۔
اور جہاں تک فضیل بن یسار کا تعلق ہے تو ان کی توثیق شیخ ؒاور نجاشی ؒدونوں نے کی ہے۔ اور کشّی ؒنے ان کے حق میں کئی احادیث روایت کی ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ امام صادق علیہ السلام جب فضیل کو دیکھتے تو فرماتے :
" بشارت دو عاجزی و فروتنی کرنے والے افراد کو۔ جس شخص کی یہ خواہش ہو کہ وہ اہل جنّت میں سے کسی شخص کو دیکھے، تو اسے چاہیے کہ اس کو دیکھے " ۔
اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ جب امام علیہ السلام اُسے دیکھتے، تو فرمایا کرتے: " خوش آمدید اُس شخصیت کو جس کی موجودگی زمین والوں کے لیے باعثِ سکون ہے " ۔
اور فضیل کی موت پر غسل دینے والے شخص سے نقل کیا گیا ہے کہ وہ کہتا تھا: " میں فضیل کو غسل دے رہا تھا اور ان کا ہاتھ ان کی شرمگاہ کی طرف مجھ سے پہلے بڑھ رہا تھا، تو میں نے یہ بات ابو عبد اللہ علیہ السلام کو بتائی، تو آپ نے مجھ سے فرمایا: اللہ فضیل بن یسار پر رحم کرے اور وہ ہم اہلِ بیت سے ہیں۔ "
( معجم رجال الحديث ۱۳: ۳۳۵ )
اور ان سب سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ اس سند کے تمام رجال ثقہ ہیں اور روایت حجت ہے۔
۲۔ دوسری روایت حر عاملی ؒنے اس طرح نقل کی ہے:
" و عن علي بن إبراهيم عن ابيه و عبد اللّه بن الصلت جميعا عن حماد بن عيسى عن حريز بن عبد اللّه عن زرارة عن أبي جعفر عليه السّلام قال: بني الإسلام ..."
( اور علی بن ابراہیم سے، انہوں نے اپنے والد اور عبد اللہ بن صلت سے، ان سب (دونوں) نے حماد بن عیسیٰ سے، انہوں نے حریز بن عبد اللہ سے، انہوں نے زرارہ سے، انہوں نے ابو جعفر علیہ السلام سے کہ آپ نے فرمایا: اسلام کی بنیاد رکھی گئی ہے ۔۔۔)
مذکورہ روایت کو حر عاملی ؒنے الکافی سے نقل کیا ہے، اس کی دلیل سند کا علی بن ابراہیم ؒسے شروع ہونا ہے، کیونکہ کلینی ؒنے ہی الکافی میں علی بن ابراہیم ؒسے روایت نقل کی ہے۔
علی بن ابراہیم ؒتفسیر قمی کے نام سے مشہور تفسیر کے مصنف ہیں، اور وہ تعارّف کے محتاج نہیں ہیں۔ اور نجاشی ؒنے ان کے حق میں کہا: " حدیث میں ثقہ، ثابت، قابلِ اعتماد، صحیح المذہب۔۔۔ " ۔( سابقہ مأخذ ۱۱: ۱۹۳ )
اور ان کی وثاقت ثابت کرنے کے لیے یہی کافی ہے کہ کلینی ؒنے الکافی کی تقریباً ایک تہائی روایات ان سے نقل کی ہیں، اور ہم یہ ممکن نہیں جانتے کہ کلینی ؒاپنی کتاب کی ایک تہائی روایات ایسے شخص سے نقل کریں جسے وہ قابلِ اعتماد و ثقہ نہ سمجھتے ہوں، کیونکہ عقلمند آدمی کا یہ طریقہ نہیں ہو سکتا۔
اور جہاں تک ابراہیم بن ہاشم ؒکے نام سے مشہور علی ؒکے والد کا تعلق ہے تو ان کے بیٹے نے ان سے بہت زیادہ روایات نقل کی ہیں۔ اور نجاشی ؒاور شیخ ؒنے ان کا ذکر بغیر توثیق کے کیا ہے۔ اور زیادہ سے زیادہ جو انہوں نے ان کے حق میں ذکر کیا ہے وہ یہ ہے کہ وہ کوفی تھے جو قم منتقل ہوئے اور ہمارے اصحاب کہتے ہیں کہ وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے کوفیوں کی حدیثیں قم میں پھیلائیں۔
اور اس عبارت سے راوی کی مدح و تعریف کا فائدہ اٹھایا گیا ہے نہ کہ اس کی توثیق کا، اور اسی وجہ سے وہ روایت جس کی سند میں راوی کی مدح و تعریف ہو وہ " حسنہ " شمار ہوتی ہے نہ کہ " صحیحہ " ۔
( حسَنہ وہ روایت ہے جس کے تمام راوی یا ان میں سے بعض امامی ہوں اور ان کی مدح کی گئی ہو، لیکن ان کی تعدیل و توثیق نہ کی گئی ہو)
اور سید خوئی قدس سرہ نے ان (ابراہیم بن ہاشم) کی وثاقت ثابت کرنے کے لیے ان کے بیٹے کی ان کی تفسیر میں ان کے حوالے سے روایت کرنے کو دلیل بنایا ہے، اور ان کے بیٹے نے تفسیر کے مقدمہ میں کہا ہے کہ وہ اپنی تفسیر کو ثقہ راویوں سے روایت کرتے ہیں۔ اسی طرح ان کی توثیق ثابت کرنے کے لیے ان کے کامل الزیارات کی اسناد میں وارد ہونے کو بھی دلیل بنایا ہے، جس کے مؤلف جعفر بن محمد ابن قولویہ ؒنے مقدمہ میں ان تمام افراد کی وثاقت کی گواہی دی ہے جن کا نام انہوں نے اس میں شامل کیا ہے۔
اور یہ اس شخص کے لیے ایک اچھا طریقہ ہے جو مذکورہ اصول پر اعتقاد رکھتا ہو، لیکن ہم توثیقاتِ عامہ کی بحث میں اس پر اشکال پیش کریں گے۔
اور ہماری نظر میں ان (ابراہیم بن ہاشم) کی توثیق ثابت کرنے کے لیے سب سے مناسب یہ کہنا ہے :
الف- کوفہ کے راویوں کی احادیث کو قم کی اُس علمی فضا میں جو سخت معیار رکھنے میں مشہور تھی عام کرنا ہم اُس وقت تک ممکن نہیں سمجھتے جب تک وہ احادیث کسی ایسے شخص کے ذریعے نہ آئی ہوں جو احادیث کے قابل قبول ہونے کے درجے پر ہو۔ اور وہ شخص صرف وہی ہو سکتا ہے جو ثقہ و قابلِ اعتماد ہو، بلکہ بہت اعلیٰ درجے کا ثقہ ہو۔ کیا یہ ممکن ہے کہ ایسی سخت گیر علمی فضا میں ایسے شخص سے احادیث قبول کی جائیں جس کی وثاقت ثابت نہ ہو؟
ب- ان کے بیٹے (یعنی علی بن ابراہیم) نے اپنے والد (ابراہیم بن ہاشم) سے بہت زیادہ روایات نقل کی ہیں، اور ہم یہ ممکن نہیں جانتے کہ یہ اتنی بڑی تعداد میں روایت کرنا اس حالت میں ہوا ہو کہ وہ اپنے والد کو قابلِ اعتماد و ثقہ نہ سمجھتے ہوں۔
اور جہاں تک تعلق عبد اللہ بن صلت کا ہے تو ان کے بارے میں نجاشی ؒنے کہا: " ثقہ ہے، ان کی روایت قابلِ اطمینان سمجھی گئی ہے " ( معجم رجال الحديث ۱۰: ۲۲۲ )
اور اس بات کی طرف متوجہ ہونا ضروری ہے کہ ہمارے لیے ان دو افراد – یعنی ابراہیم بن ہاشم یا عبد اللہ بن صلت – میں سے کسی ایک کی وثاقت ثابت ہونا ہی کافی ہے، اور ان دونوں کی وثاقت کا بیک وقت ثابت ہونا ضروری نہیں ہے، اگرچہ اتفاق سے دونوں ثقہ ہوں۔
اور جہاں تک حماد بن عیسیٰ کا تعلق ہے تو یہ جھنی ہیں جو جحفہ میں غرق ہو گئے تھے۔ نجاشی ؒنے ان کے بارے میں کہا: " وہ اپنی حدیث میں ثقہ اور انتہائی سچے تھے " ۔
( معجم رجال الحديث ۶: ۲۲۴)
اور انہوں نے امام کاظم علیہ السلام سے دعا کی درخواست کی کہ اللہ انہیں گھر، بیوی، بیٹا، خادم اور ہر سال حج کی توفیق عطا فرمائے تو آپ علیہ السلام نے فرمایا: " خداوندا درود نازل فرما محمد و آل محمد پر اور انہیں گھر، بیوی، بیٹا، خادم اور پچاس سال تک حج عطا فرما " ۔ حماد ؒنے کہا: جب آپ علیہ السلام نے پچاس سال کی شرط لگائی تو مجھے معلوم ہو گیا کہ میں پچاس سال سے زیادہ حج نہیں کروں گا، تو حماد نے کہا: اور میں نے اڑتالیس سال حج کیا، اور یہ میرا گھر ہے جو مجھے عطا ہوا ہے اور یہ میری بیوی پردے کے پیچھے میری بات سن رہی ہے اور یہ میرا بیٹا ہے اور یہ میرا خادم ہے اور مجھے یہ سب کچھ عطا ہو چکا ہے۔ اور اس کے بعد انہوں نے دو حج کیے جو پچاس پورے ہو گئے، پھر پچاس سال کے بعد حج کے لیے نکلے، تو جب وہ احرام کی جگہ پہنچے تو غسل کرنے لگے تو (اچانک) وادی (پانی کا بہاؤ یا ندی) آئی اور انہیں بہا لے گئی اور وہ غرق ہو گئے، اللہ تعالیٰ ان پر رحم فرمائے۔ (۱)
اور جہاں تک حریز بن عبد اللہ کا تعلق ہے تو یہ سجستانی ہیں۔ شیخ ؒنے ان کے بارے میں کہا: " ثقہ کوفی " ۔
حوالہ جات:
(۱)- معجم رجال الحديث ۶: ۲۲۷
(۲)۔ معجم رجال الحديث ۴: ۲۴۹
اور حریز کے قتل کی وجہ کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ سجستان میں اپنے اصحاب کے ساتھ رہتے تھے اور مذکورہ شہر پر شراۃ (۱) کا غلبہ تھا، اور وہ ان سے امیر المومنین علیہ السلام کی توہین و سب و شتم سنتے تھے تو حریز کو خبر دیتے اور ان سے یہ رائے طلب کرتے کہ جس سے یہ سنا ہے اسے قتل کر دیں، تو انہوں نے انہیں اجازت دی، تو شراۃ کو مسلسل ایک کے بعد ایک مقتول ملتے رہے اور وہ شیعوں سے ایسا ہونے کا احتمال نہیں رکھتے تھے کیونکہ ان کی تعداد کم تھی، اور وہ مرجئہ پر الزام لگاتے اور ان سے لڑتے تھے، اور جب انہوں نے حقیقتِ حال کو جان لیا تو وہ شیعوں کی تلاش میں نکل پڑے، چنانچہ حریز اور ان کے ساتھی مسجد میں جمع ہوئے، تو ان لوگوں نے مسجد پر حملہ کیا اور اس کی زمین ان پر الٹ دی۔ اللہ تعالیٰ حریز اور ان کے ساتھیوں پر اپنی رحمت نازل فرمائے۔(۲)
حوالہ جات:
(۱)۔ یعنی خوارج۔
(۲) ۔ معجم رجال الحديث ۴: ۲۵۲.
اور حریز کی ایک کتاب ہے جسے کتاب الصلاۃ کے نام سے جانا جاتا ہے، اور یہ مشہور کتابوں میں سے ہے جس پر اعتماد کیا جاتا ہے جیسا کہ صدوق ؒنے مقدمہ الفقیہ جلد ۱، صفحہ ۳ پر بیان کیا ہے۔
اور ایک دن حماد بن عیسیٰ امام صادق علیہ السلام کے پاس حاضر ہوئے اور آپ علیہ السلام نے ان سے فرمایا: " کیا تم اچھی طرح نماز پڑھنا جانتے ہو، اے حماد؟ " تو انہوں نے عرض کی: " اے میرے سید و سردار! میں نے نماز کے متعلق حریز کی کتاب یاد کی ہوئی ہے " ۔ تو آپ علیہ السلام نے فرمایا : کوئی بات نہیں، کھڑے ہو کر نماز پڑھو، جب انہوں نے اپنی وہ نماز پڑھی جو جعفر صادق علیہ السلام کے شیعوں سے مناسبت نہیں رکھتی تھی، تو آپ علیہ السلام نے فرمایا: تم میں سے کسی شخص کے لیے کتنا برا ہے کہ اس پر ساٹھ یا ستر سال گزر جائیں اور وہ ایک بھی نماز اس کی تمام حدود کے ساتھ مکمل طور پر نہ پڑھ سکے۔(۱)
حوالہ(۱)- وسائل الشيعة باب ۱ من أبواب أفعال الصلاة حديث ۱
مذکورہ روایت حریز کی کتاب کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے یہاں تک کہ حماد نے اسے یاد کیا ہوا تھا۔
اور جہاں تک زرارہ کا تعلق ہے تو وہ تعارّف کے محتاج نہیں ہے۔ اور ان کی تعریف میں امام صادق علیہ السلام کا جمیل بن دراج سے فرمایا ہوا یہ قول ہمارے لیے کافی ہے: متواضع و خشوع اختیار کرنے والوں کو جنت کی بشارت دو: برید بن معاویہ عجلی، ابو بصیر لیث بن بختری مرادی، محمد بن مسلم اور زرارہ یہ چاروں نجیب (شریف و برگزیدہ) اور اللہ کے حلال و حرام پر امین ہیں۔ اگر یہ لوگ نہ ہوتے تو نبوت کی نشانیاں مٹ جاتیں اور (دین کے) آثار ختم ہو جاتے۔(۱)
حوالہ:
(۱)- معجم رجال الحديث ۷: ۲۲۲