‌دروس تمهیدیة فی القواعد الرجالیة

‌دروس تمهیدیة فی القواعد الرجالیة0%

‌دروس تمهیدیة فی القواعد الرجالیة مؤلف:
: مصنف/ مؤلف
: مصنف/ مؤلف
زمرہ جات: علم رجال

‌دروس تمهیدیة فی القواعد الرجالیة

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

مؤلف: مصنف/ مؤلف
: مصنف/ مؤلف
: مصنف/ مؤلف
زمرہ جات: مشاہدے: 7560
ڈاؤنلوڈ: 304

تبصرے:

‌دروس تمهیدیة فی القواعد الرجالیة
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 106 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 7560 / ڈاؤنلوڈ: 304
سائز سائز سائز
‌دروس تمهیدیة فی القواعد الرجالیة

‌دروس تمهیدیة فی القواعد الرجالیة

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

اور جہاں تک تعلق دوسرے سلسلہ سند کا ہے تو اس کی ابتداء " عدۃ من اصحابنا " (ہمارے چند اصحاب) سے ہوتا ہے۔ اور یہ اصطلاح کلینی ؒکے ہاں رائج ہے اور کسی اور نے اسے استعمال نہیں کیا ہے، اور اس وجہ سے، جب بھی " عدۃ من اصحابنا " کی اصطلاح آئےگی تو ہم جان جائیں گے کہ حدیث کلینی ؒسے منقول ہے۔

اور " عدۃ " کے افراد سے مقصود اور ان کی توثیق ثابت کرنے کے طریقے کے بارے میں کلام واقع ہوا ہے، اور ہم ان شاء اللہ تعالیٰ عنقریب کتاب الکافی کے متعلق اپنی بحث میں اس کا مطالعہ کریں گے۔

ہم یہاں مختصر طور پر یہ کہتے ہیں کہ سب کے نزدیک " عدة" کے معتبر ہونے میں کوئی اشکال نہیں ہے، اصل بحث اس بات میں ہے کہ فنی طور پر اس کا استنباط کیسے کیا جائے۔ لہٰذا ہمارا " عدة" پر بحث کرنا اس کے اعتبار میں شک پیدا کرنا نہیں ہے، بلکہ اس پر متفقہ اعتبار کے فنی استنباط میں اختلاف کی نشاندہی کرنا ہے۔

اور جہاں تک سہل بن زیاد کا تعلق ہے تو یہ علماء کے درمیان ایک طویل بحث کا موضوع رہے ہیں۔ اور ہم طالب علم کو ان کے بارے میں ایک تحقیق لکھنے کا مشورہ دیتے ہیں تاکہ یہ ان کی رجالی معلومات کے لیے ایک کلید بن جائے۔

اور جہاں تک سند کے باقی افراد کا تعلق ہے تو ان کی وثاقت کا بیان پہلے گزر چکا ہے۔

اور اس بنا پر دوسرا سلسلہ سند سہل بن زیاد کی وجہ سے قابلِ بحث و اشکال ہے، البتہ پہلے سلسلہ سند کے صحیح ہونے کے بعد یہ کوئی اہم بات نہیں۔

ملاحظہ

پہلے بیان شدہ احادیث کو حر عاملی ؒنے کلینی رحمہ اللہ کی کتاب " الکافی" سے نقل کیا ہے۔ اب ہم وسائل کے دوسرے ابواب کی طرف منتقل ہوتے ہیں تاکہ ایسی احادیث کا مشاہدہ کریں جو الکافی کے علاوہ دیگر کتب سے نقل کی گئی ہیں۔

مطلق پانی کے ابواب، باب:۱، میں ان قدس سرہ نے یہ عبارت ذکر کی ہے :

۱۔ " محمد بن علي بن الحسين بن بابويه رضي اللّه عنه باسانيده عن محمد بن حمران و جميل بن دراج عن أبي عبد اللّه عليه السّلام ..."

(محمد بن علی بن حسین بن بابویہ رضی اللہ عنہ اپنی اسانید(۱) کے ساتھ محمد بن حمران اور جمیل بن دراج سے، انہوں نے ابو عبداللہ علیہ السلام سے ۔۔۔)۔

حوالہ :

(۱)- درست (لفظ) "إسناده" ہے، جیسا کہ تیمم کے ابواب میں باب نمبر ۲۳، حدیث نمبر ۱ میں وارد ہوا ہے۔

اس حدیث کو حر عاملی ؒنے " الفقیہ" سے نقل کیا ہے، اس پر قرینہ ان کا قول " محمد بن علی بن الحسین " ہے جو صدوق ؒہیں۔

اور روایت کی صحت جاننے کے لیے صدوق ؒکی محمد بن حمران اور جمیل تک کی سند کی طرف رجوع کرنا ضروری ہے۔

اور جب ہم " مشیخة الفقیہ" جلد ۴، صفحہ ۱۷ پر رجوع کرتے ہیں تو ہم ان کے اس قول کو پاتے ہیں: " اور جو کچھ اس میں محمد بن حمران اور جمیل بن دراج سے ہے تو میں نے اسے اپنے والد رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے سعد بن عبد اللہ سے، انہوں نے یعقوب بن یزید سے، انہوں نے محمد بن ابی عمیر سے، انہوں نے محمد بن حمران اور جمیل بن دراج سے روایت کیا ہے " ۔

اور یہ سند صحیح ہے کیونکہ صدوق ؒکے والد جن کا نام علی بن الحسین بن بابویہ ؒہے، وہ کسی تعارّف کے محتاج نہیں ہے، کیونکہ جیسا کہ نجاشی ؒنے کہا: " وہ اپنے زمانے میں اہل قم کے شیخ اور ان کے متقدم و پیش رو اور ان کے فقیہ اور ان کے ثقہ تھے"

حوالہ: ۔ معجم رجال الحديث ۱۱: ۳۶۸

اور جہاں تک سعد بن عبداللہ کا تعلق ہے تو یہ اشعری قمی ہیں۔ نجاشی ؒنے ان کے بارے میں کہا: " یہ اس طائفہ کے شیخ، فقیہ اور وجہ (نمایا شخصیت) تھے " (۱) ۔ اور ان کا روایات میں کثرت سے ذکر آیا ہے۔

اور جہاں تک یعقوب بن یزید کا تعلق ہے تو نجاشی ؒکے قول کے مطابق وہ ثقہ صدوق (انتہائی سچے)ہیں (۲) ۔

اور جہاں تک محمد بن ابی عمیر کا تعلق ہے تو یہ کسی تعارّف کے محتاج نہیں ہیں، یہ ہمارے اور مخالفین کے نزدیک جلیل القدر اور عظیم المرتبت ہیں(۳)۔

حوالہ جات:

(۱)- معجم رجال الحديث ۸: ۷۴

(۲)- سابقہ مأخذ ۲۰: ۱۴۷

(۲)۔ سابقہ مأخذ ۱۴: ۲۷۹

ور کہا گیا ہے کہ ہارون (رشید) نے انہیں اس لیے قید کیا تاکہ وہ شیعوں کے مراکز کی نشاندہی کرے، تو ان کی بہن نے ان کی (حدیثی) کتب کو اس کے تحفظ کی خاطر زمین میں دفن کر دیا، جس سے وہ تلف ہو گئیں۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ کتب ایک کمرے میں تھیں، جن پر بارش کا پانی آ گیا، جس کی وجہ سے وہ تلف ہو گئیں، اور اسی وجہ سے انہوں نے اپنی یادداشت سے حدیثیں بیان کرنا شروع کر دیں اور ان کی مراسیل (مرسل روایات) کی کثرت ہو گئی۔

اور جہاں تک محمد بن حمران کا تعلق ہے تو ان کا ذکر شیخ ؒنے محمد بن حمران بن اعین کے عنوان سے کیا ہے اور ان کی توثیق نہیں کی جبکہ نجاشی ؒنے ان کا ذکر محمد بن حمران النہدی کے عنوان سے کیا اور ان کے بارے میں کہا ہے کہ یہ ثقہ ہیں۔

اور یہ دونوں ایک ہی شخص ہے یا الگ الگ اس کے بارے میں بحث ہے، لیکن جمیل بن دراج کی وثاقت کے بعد اس مقام پر یہ بات مہم نہیں ہے۔

۲۔ حر عاملی ؒنے کہا: " کہا: اور صادق علیہ السلام نے فرمایا: ہر پانی پاک ہے سوائے اس کے جس کے بارے میں تمہیں معلوم ہو کہ وہ نجس ہے " ۔

اور (کہا سے) مقصود: صدوق ؒنے کہا: اور صادق علیہ السلام نے فرمایا ۔۔۔

اور یہ روایت مرسل ہے۔ اور صدوق ؒکے یہاں ان کی کتاب " الفقیہ" میں ارسال کا رجحان بہت زیادہ ہے، اور یہ ان کے مخصوص رجحانات میں سے ایک ہے۔

اور اسی وجہ سے ان کی مراسیل کی حجیت پر بحث واقع ہوئی ہے۔

اور ایک رائے تفریق پر مشتمل ہے جو اس میں فرق کرتی ہے کہ اگر صدوق ؒنے امام علیہ السلام سے " قال الامام علیہ السلام" (امام علیہ السلام نے فرمایا) کے الفاظ میں ارسال کیا ہو اور اگر " روی عن الامام علیہ السلام " (امام علیہ السلام سے روایت کیا گیا ہے) کے الفاظ میں ارسال کیا ہو تو اول الذکر ( قال الامام علیہ السلام ) حجت ہے، جبکہ مؤخر الذکر (روی عن الامام علیہ السلام) حجت نہیں ہے۔ دعوی یہ ہے کہ جب بھی وہ امام علیہ السلام سے " قال " کے الفاظ میں ارسال کرتے ہیں تو یہ اس بات پر دلیل ہے کہ وہ روایت کے امام علیہ السلام سے صادر ہونے پر یقین رکھتے ہیں، اور ان کے اس یقین کی وجہ سے ہم کہتے ہیں: کہ مذکورہ یقین حسّ سے پیدا ہونے اور حدس سے پیدا ہونے کے درمیان متردّد ہے، اور عقلائی اصول " اصالة الحس" کے ذریعے ہم یہ ثابت کر سکتے ہیں کہ ان کا یقین حسّ سے پیدا ہوا ہے اور اس وجہ سے یہ مرسل روایت حجت ہے۔

اور ان شاء اللہ تعالیٰ کتاب " من لا یحضرہ الفقیہ" کی بحث کے دوران اس پر تفصیلی بحث آئےگی۔

۳۔ حر عاملی ؒنے کہا: " کہا: اور آپ علیہ السلام نے فرمایا ۔۔۔ " ، اور اس میں کوئی نئی بات نہیں ہے۔

۴۔ حر عاملی ؒنے کہا:

" محمد بن الحسن الطوسي رضي اللّه عنه باسناده عن محمد بن أحمد ابن يحيى عن يعقوب بن يزيد عن ابن أبي عمير عن داود بن فرقد عن أبي عبد اللّه عليه السّلام ..."

(محمد بن الحسن طوسی رضی اللہ عنہ اپنی اسناد کے ساتھ محمد بن احمد بن یحییٰ سے، انہوں نے یعقوب بن یزید سے، انہوں نے ابن ابی عمیر سے، انہوں نے داود بن فرقد سے، انہوں نے ابو عبد اللہ علیہ السلام سے۔۔۔)

اور یہاں یہ بات قابلِ غور ہے کہ جب حر عاملی ؒنے اس مقام پر شیخ طوسی ؒسے نقل کرنا چاہا تو انہوں نے سند کا آغاز " محمد بن الحسن الطوسی " کہہ کر کیا، جو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ انہوں نے سابقہ نقل جو صدوق ؒسے تھا، اس سلسلہ کو ترک کر دیا ہے۔

اور شیخ ؒکا محمد بن احمد بن یحییٰ تک کا سلسلہ سند جاننے کے لیے "مشیخة التھذیب" جلد ۱۰، صفحہ ۷۱(۱)کی طرف رجوع کرنا ضروری ہے۔

حوالہ:

اسی طرح اس کے لیے "الفھرست" کی طرف رجوع بھی ممکن ہے۔

اور ان قدس سرہ نے سلسلہ کے چار اسناد بیان کیے ہیں، ہمارے لیے ان میں سے کسی ایک کی صحت کافی ہے اور وہ یہ ہے:

" الشيخ أبو عبد اللّه و الحسين بن عبيد اللّه و أحمد بن عبدون كلهم عن أبي محمد الحسن بن حمزة العلوي و أبي جعفر محمد ابن الحسين البزوفري جميعا عن أحمد بن ادريس عن محمد بن أحمد بن يحيى"

(الشیخ ابو عبد اللہ اور حسین بن عبید اللہ اور احمد بن عبدون یہ سب ابو محمد حسن بن حمزہ علوی اور ابو جعفر محمد بن حسین بزوفری سے، یہ سب ( یعنی دونوں) نے احمد بن ادریس سے، انہوں نے محمد بن احمد بن یحییٰ سے)۔

جہاں تک شیخ ابو عبد اللہ کا تعلق ہے تو یہ شیخ مفید ؒہیں،

اور ان کی وثاقت ہمیں حسین اور احمد کی وثاقت پر بحث سے بےنیاز کر دیتی ہے۔

اور جہاں تک تعلق حسن بن حمزہ علوی کا ہے تو یہ مرعش یا مرعشی کے نام سے مشہور ہیں اور نجاشی ؒکے قول کے مطابق اس طائفہ (گروہ امامیہ) کے جلیل القدر اور فقیہ ہیں (۱) ۔

اور جہاں تک بزوفری کا تعلق ہے تو ان کا ذکر نہ شیخ ؒنے کیا ہے اور نہ ہی نجاشی ؒنے (۲) ، اور ان کی وثاقت ثابت نہیں ہے لیکن حسن بن حمزہ کی وثاقت کے بعد ان کی وثاقت کا ثابت نہ ہونا نقصاندہ نہیں ہے۔

اور جہاں تک احمد بن ادریس ؒکا تعلق ہے تو ان کے بارے میں پہلے بیان ہو چکا ہے کہ وہ ابو علی اشعری ثقہ، جلیل القدر اور کلینی ؒکے شیخ ہیں۔

حوالے:

(۱)-معجم رجال الحديث ۴: ۳۱۳

(۲)- سابقہ مأخذ ۱۵: ۲۹۰

اور جہاں تک محمد بن احمد بن یحییٰ کا تعلق ہے تو نجاشی ؒکے بیان کے مطابق یہ حدیث میں ثقہ ہیں۔اور یہ کثیر الروایت ہیں، اور ان کی کتاب " نوادر الحکمۃ" ہے جسے قم والے " دبة شبیب" کے نام سے جانتے ہیں۔

اور شبیب قم میں ایک شخص تھا جس کے پاس ایک " دبۃ" (برتن) تھا جس سے وہ جو بھی تیل مانگتا تھا اس سے دیتا تھا، تو انہوں نے اس کتاب کو اس سے تشبیہ دی (۱) ۔

اور جہاں تک یعقوب بن یزید اور ابن ابی عمیر کا تعلق ہے تو ان دونوں کے بارے میں پہلے بیان ہو چکا ہے کہ یہ دونوں ثقہ ہیں۔

اور جہاں تک داود بن فرقد کا تعلق ہے تو نجاشی ؒکے قول کے مطابق یہ کوفی (اور) ثقہ ہیں(۲)۔

حوالے:

(۱)۔ معجم رجال الحديثر ۱۵: ۴۴

(۲)۔ سابقہ مأخذ ۷: ۱۱۴

اور اس بنا پر روایت صحیح السند ہے۔

۵۔ حر عاملی ؒنے ساتویں حدیث میں کہا:

" محمد يعقوب الكليني رضي اللّه عنه عن علي ابن إبراهيم عن أبيه عن النوفلي عن السكوني عن أبي عبد اللّه عليه السّلام ..."

(محمد یعقوب کلینی رضی اللہ عنہ، انہوں نے علی ابن ابراہیم سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے نوفلی سے، انہوں نے سکونی سے، انہوں نے ابو عبد اللہ علیہ السلام سے ۔۔۔)۔

جہاں تک علی اور ان کے والد کا تعلق ہیں تو ان دونوں کے بارے میں پہلے بات ہو چکی ہے کہ یہ دونوں ثقہ ہیں۔جہاں تک سکونی کا تعلق ہے تو ان کی توثیق کی کوئی راہ نہیں سوائے شیخ طوسی ؒکی " العدۃ " میں موجود اس عبارت کے کہ طائفہ (شیعہ علماء) نے ان کی روایات پر عمل کیا ہے، کیونکہ اس طرح کا بیان توثیق کا ایک اور انداز ہے۔اور جہاں تک نوفلی کا تعلق ہے تو یہ عام طور پر سکونی کے ساتھ ہی ہوتے ہیں اور ان سے روایت کرتے ہیں۔ اور ان کے حق میں کوئی خصوصی توثیق وارد نہیں ہوئی ہے۔

ہاں، ان کا نام تفسیر قمی اور کامل الزیارات کی اسانید میں وارد ہوا ہے، لہٰذا جو شخص ان دونوں کتابوں میں سے کسی ایک میں بھی مذکور ہر نام کی وثاقت کا قائل ہو، وہ مذکورہ شخص کی وثاقت کا بھی قائل ہوگا، لیکن مذکورہ اصول ہمارے نزدیک قابلِ قبول نہیں ہے۔

اور ایک اور طریقہ ہے جسے ہم مذکورہ شخص کی وثاقت ثابت کرنے کے لیے اختیار کرتے ہیں، اور وہ یہ ہے کہ طائفہ (شیعہ علماء) کا سکونی کی روایات پر عمل کے بارے میں اتفاق اس بات کو لازم کرتا ہے کہ وہ نوفلی کو بھی ثقہ مانتے ہوں، کیونکہ اگر نوفلی کو ثقہ نہ مانا جائے تو سکونی کی روایات پر عمل کرنا ممکن ہی نہ ہوگا۔

اصل موضوع کی طرف واپسی

ہم پہلے - تطبيقات کی طرف متوجہ ہونے سے پہلے- وثاقت ثابت کرنے کے طریقوں کے بارے میں بات کر رہے تھے۔ اور ہم اب دوبارہ ان طریقوں کی طرف آتے ہیں۔

۴۔ تصدیق یا توثیق پر اجماع کا دعویٰ

اور وثاقت ثابت کرنے کے دعویٰ شدہ طریقوں میں سے ایک راوی کی تصدیق یا توثیق پر اجماع کا دعویٰ ہے۔

چنانچہ کشّی ؒنے ائمہ علیہم السلام کے اٹھارہ راویوں کی تصدیق پر طائفہ (شیعہ علماء) کے اجماع کا دعویٰ کیا ہے۔

ان میں سے چھ امام باقر اور صادق علیہما السلام کے اصحاب میں سے ہیں، اور وہ یہ ہیں: زرارہ، معروف بن خرّبوذ، برید، ابو بصیر اسدی، فضیل بن یسار، اور محمد بن مسلم طائفی [ ۔( رجال الكشي: رقم ۴۳۱ )

اور امام صادق علیہ السلام کے اصحاب میں سے چھ ہیں، اور وہ یہ ہیں: جمیل بن دراج، عبد اللہ بن مسکان، عبداللہ بن بکیر، حماد بن عیسیٰ، حماد بن عثمان، اور ابان بن عثمان (۱) ۔

اور امام کاظم اور رضا علیہما السلام کے اصحاب میں سے چھ ہیں، اور وہ یہ ہیں: یونس بن عبد الرحمن، صفوان بن یحییٰ بیاع السابری، محمد بن ابی عمیر، عبد اللہ بن مغیرہ، حسن ابن محبوب، اور احمد بن محمد بن نصر (۲) ۔

مذکورہ اجماع کی حجیت کی وضاحت: اگر کشّی ؒکا اجماع کا دعوی مطابقِ واقع ہوں اور طائفہ نے واقعی اس پر اجماع کیا ہو تو یہی مطلوب ہے، اور اگر وہ مطابقِ واقع نہ ہوں اور اس بارے میں کوئی اجماع موجود نہ ہو تو ہمارے لیے کشّی ؒکی خود کی شہادت ہی کافی ہے جو ہمیں مذکورہ اجماع نقل کرنے کے ذریعے ضمنی طور پر حاصل ہوتی ہے،

حوالے:

(۱)- رجال الكشي: رقم ۷۰۵

(۲)- سابقہ مأخذ: رقم ۱۰۵۰

کیونکہ ان کا اس اجماع کو نقل کرنا دراصل اس بات کی ضمنی گواہی ہے کہ وہ جس مضمون کو نقل کر رے ہیں وہ حق و درست ہے۔لیکن یہ بات اس وقت درست و کامل ہو سکتی ہے جب اجماع نقل کرنے والا متقدمین اکابرین میں سے ہو، لیکن اگر وہ متاخرین میں سے ہو جیسے ابن طاؤس ؒکا نقل کرنا کہ ابراہیم بن ہاشم ؒکی وثاقت پر اتفاق ہے، تو یہاں یہ بات درست و کامل نہیں ہوگی، کیونکہ متاخرین کی توثیق حجت نہیں ہے جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا ہے۔

یہ بات اپنے مقام پر، لیکن سید خوئی ؒنے مذکورہ صورت حال میں حجیت کو قریب کرنے کی کوشش کی ہے کہ ابن طاؤس ؒکا دعویٰ کم از کم قدماء میں سے کسی ایک کی اس شخص کی وثاقت پر شہادت کو ظاہر کرتا ہے، اور یہ توثیق کے ثبوت کے لیے کافی ہے۔( معجم رجال الحديث ۱: ۴۶ )

اور اس پر اشکال یہ ہے:

کہ ابن طاؤس ؒکے دعوے سے اگر واقعی اتفاق ثابت ہونا کشف و ظاہر نہ ہوتا ہو تو پھر یہ بھی ممکن ہے کہ اس سے بزرگ متقدمین علماء میں سے کسی ایک کی وثاقت کی گواہی بھی ظاہر و کشف نہ ہو، جیسا کہ اگر ہم یہ فرض کریں کہ ابن طاؤس ؒکا اجماع کا دعویٰ تفسیر قمی کی اسناد میں ابراہیم بن ہاشم ؒکے وجود کو ملاحظہ کرنے اور – اس تفسیر کے مقدمہ کی عبارت کی وجہ سے- یہ خیال کرنے سے پیدا ہوا ہو کہ جو بھی نام اس میں آیا ہے اس کے ثقہ ہونے پر اتفاق ہے، جو ہو سکتا ہے یہ ابن طاؤس ؒکا اپنا خاص اجتہاد ہو جس کا ان کے علاوہ کوئی قائل نہ ہو۔