‌دروس تمهیدیة فی القواعد الرجالیة

‌دروس تمهیدیة فی القواعد الرجالیة0%

‌دروس تمهیدیة فی القواعد الرجالیة مؤلف:
: مصنف/ مؤلف
: مصنف/ مؤلف
زمرہ جات: علم رجال

‌دروس تمهیدیة فی القواعد الرجالیة

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

مؤلف: مصنف/ مؤلف
: مصنف/ مؤلف
: مصنف/ مؤلف
زمرہ جات: مشاہدے: 7564
ڈاؤنلوڈ: 304

تبصرے:

‌دروس تمهیدیة فی القواعد الرجالیة
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 106 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 7564 / ڈاؤنلوڈ: 304
سائز سائز سائز
‌دروس تمهیدیة فی القواعد الرجالیة

‌دروس تمهیدیة فی القواعد الرجالیة

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

۵۔ امام علیہ السلام کی طرف سے وکالت

اور ان طریقوں میں سے جن کے بارے میں دعوی کیا جاتا ہے کہ یہ وثاقت پر دلالت کرتے ہیں ایک امام علیہ السلام کا کسی شخص کو اپنے کسی کام میں وکیل بنانا ہے، کیونکہ ان حضرات علیہم السلام کے وکلاء دو اقسام کے ہوتے تھے: ایک تو وہ وکلاء جو امام علیہ السلام کی طرف سے عام نمائندگی کرتے تھے جیسا کہ سفراء اربعہ (نوابِ اربعہ) رضوان اللہ تعالیٰ علیہم کی صورت حال تھی، اور دوسرے وہ وکلاء جنہیں کسی خاص شعبہ میں خاص نمائندگی حاصل ہوتی تھی۔

اور پہلی قسم کی وکالت وکیل کے مقام کی بلندی اور اس کی شان کی رفعت پر دلالت کرتی ہے اس بات میں کوئی اشکال نہیں ہے۔ اور اشکال فقط دوسری قسم کی وکالت میں ہے کیونکہ ائمہ علیہم السلام کے اس قسم کے بہت سے وکلاء تھے جن کی طرف اشارہ رجالی کتابوں میں کیا گیا ہے۔

چنانچہ بعض تو وکیل بنانے کو نہ صرف وثاقت بلکہ عدالت پر بھی دلالت ہونے پر اصرار کرتے ہیں اور اس کی دلیل یہ دیتے ہیں کہ اگر وکیل عادل نہ ہو تو اس کو وکیل بنانا حرام ہے کیونکہ یہ ظالم کی طرف جھکاؤ کی ایک قسم ہے جس سے قرآن کریم کی آیت:

" وَ لا تَرْكَنُوا إِلَى الَّذِينَ ظَلَمُوا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ"

(اور تم لوگ ظالموں کی طرف جھکاؤ اختیار نہ کرنا کہ (جہّنم کی) آگ تمہیں چھولے گی)-( هود: ۱۱۳ )

نے منع کیا ہے، جبکہ ہم دوسروں کو دیکھتے ہیں کہ وہ وکالت کی وثاقت پر دلالت کا انکار کرتے ہیں اس دلیل سے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ ائمہ علیہم السلام کے بہت سے وکلاء کے حق میں مذمت صادر ہوئی ہے۔

اور شیخ طوسی قدس سرہ نے اپنی کتاب " الغیبۃ" میں ان وکلاء کے لیے ایک خاص باب تشکیل دیا ہے جن کے حق میں مذمت صادر ہوئی ہے۔

اور جب وہ واقفہ فرقہ کا ذکر کرتے ہیں تو ہمیں بتاتے ہیں کہ اس عقیدے کو سب سے پہلے علی بن ابی حمزہ بطائنی، زیاد بن مروان قندی اور عثمان بن عیسیٰ رواسی نے ظاہر کیا تھا، انہوں نے دنیا کی لالچ کی اور اس کے مال کی طرف مائل ہوئے اور ایک قوم کو اپنی طرف مائل کر لیا اور انہیں ان اموال میں سے کچھ دیا جو انہوں نے خیانت سے حاصل کیا تھا۔

اور امام رضا علیہ السلام سے مروی ہے کہ بطائنی کو دفن کرنے کے بعد اسے اس کی قبر میں بٹھایا گیا اور ائمہ علیہم السلام کے بارے میں پوچھا گیا تو اس نے ان کے نام بتائے یہاں تک کہ جب مجھ تک بات پہنچی تو اس سے پوچھا گیا تو وہ رک گیا تو اس کے سر پر ایک ایسی ضرب لگائی گئی کہ اس کی قبر آگ سے بھر گئی۔( معجم رجال الحديث ۱۱: ۲۱۷ )

یہ اپنے مقام پر، لیکن صحیح یہ ہے کہ وکالت وثاقت پر دلالت کرتی ہے کیونکہ عقلاء کی سیرت اس بات پر جاری ہے کہ اگر کسی شخص کی سچائی پر اور اس کے جان بوجھ کر جھوٹ نہ بولنے پر مکمل وثوق حاصل نہ ہو تو اسے کسی خاص معاملے میں وکیل نہیں بنایا جاتا۔ اور آپ اپنی ذات پر اس کا تجربہ کریں تو آپ ہماری بات کو سچی پائیں گے۔

اور اگر کہا جائے کہ تو پھر آپ لوگ بہت سے وکلاء کے حق میں صادر ہونے والی مذمت کی کیسے تفسیر کریں گے؟

ہم جواب دیں گے کہ انحراف انہیں وکالت دیئے جانے کے بعد واقع ہوا تھا، تو کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جن پر ہم بھروسہ کرتے ہیں اور انہیں وکالت دیتے ہیں اور اس کے بعد وہ منحرف ہو جاتے ہیں۔

اور اگر کہا جائے کہ کسی شخص کو کسی خاص شعبہ میں وکیل بنانا اس شعبہ میں اس کی وثاقت کا تقاضا کرتا ہے، نہ کہ کسی دوسرے شعبہ میں، تو کسی شخص کو گھر بیچنے میں وکیل بنانا اس کی وثاقت اور گھر بیچنے کے شعبہ میں اس کے جھوٹ نہ بولنے کو لازم کرتا ہے، نہ کہ دوسرے شعبوں میں جیسے حدیث نقل کرنے کا شعبہ جو ہمارے زیر بحث ہے۔

جواب یہ ہے: کہ سمجھدار شخص جب تک اسے وکیل میں مطلق وثاقت کا یقین حاصل نہیں ہوتا وہ اسے وکیل بنانے کا اقدام نہیں کرتا کیونکہ جب تک اسے دوسرے شعبوں میں اس کے جھوٹ بولنے کا احتمال ہو تو ہو سکتا ہے کہ وہ اس خاص شعبے میں بھی سرایت کر جائے جس میں اسے وکالت دی گئی ہے۔

اور کم از کم امام علیہ السلام کے لیے یہ مناسب نہیں کہ وہ اپنے بعض اہم معاملات ایسے شخص کے سپرد کریں جو بعض شعبوں میں خائن ہو۔

۶۔ ثقہ کی روایت

کیا ثقہ کا کسی شخص سے روایت کرنا اس شخص کی وثاقت پر دلالت کرتا ہے؟ ہرگز نہیں، کیونکہ ثقہ جس طرح سے ثقہ سے روایت کرتا ہے، اسی طرح دوسروں سے بھی روایت کرتا ہے۔ اور کتنی ہی بار ایسا ہوتا ہے کہ ثقہ راوی، غیر ثقہ راوی سے روایت کرتا ہے جیسا کہ یہ بات روایات کا مطالعہ کرنے سے واضح ہو جاتی ہے۔

یہ کیسے ممکن ہے، اور اگر کسی شخص سے ثقہ کا روایت کرنا اس شخص کی وثاقت پر دلیل قرار پاتا تو اکثر راوی یا تمام ہی ثقہ قرار پاتے کیونکہ شیخ طوسی قدس سرہ ثقہ ہیں، تو جب انہوں نے کسی شخص سے روایت کی تو وہ بھی ثقہ ہو گیا اور دوسرے کی روایت تیسرے کی وثاقت کی دلیل ہو جائےگی اور اسی طرح سلسلۂ سند کے آخر تک۔

اور اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ میرزا حسین نوری صاحب مستدرک ؒکا یہ قول کہ کسی شخص سے ثقہ کی روایت اس شخص کی وثاقت کی دلیل ہے، قابلِ تأمّل و غور ہے۔

ہاں، اگر جلیل القدر ثقہ افراد اور ان کے اکابرین کسی شخص سے کثرت سے روایت کریں تو یہ اس شخص کی وثاقت کی دلیل ہونا بعید نہیں ہے - سید خوئی ؒاور ایک جماعت کے برخلاف جنہوں نے اسے بھی قبول نہیں کیا ہے ، کیونکہ عاقل ایسے راوی سے روایت کرنے کا اقدام نہیں کرتا جس کے ضعیف ہونے کا اعتقاد رکھتا ہو، ایسا کرنا ایک بےوقوفی کا کام ہے جس کی ہمیں کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔

اور یہ ایک نہایت اہم نکتہ ہے جو ٹھہرنے اور طویل غور و فکر کے لائق ہے، کیونکہ اگر ہم ثقہ کے (کسی شخص سے) کثرت سے روایت کرنے کو (اس شخص کی) وثاقت کی دلیل مان لیں تو بہت سے راویوں کی وثاقت ثابت ہو جائےگی اور وہ جہالت کی حالت سے وثاقت کی حالت میں آ جائیں گے۔

مثال کے طور پر، " محمد بن اسماعیل " کا ذکر کرتے ہیں، کلینی ؒنے محمد بن اسماعیل سے، انہوں نے فضل بن شاذان سے بہت سی روایتیں بیان کی ہیں۔ اور محمد بن اسماعیل سے مقصود کون ہے اس میں بحث واقع ہوئی ہے۔ وہ محمد بن اسماعیل بن بزیع جو ثقہ اور جلیل القدر ہیں وہ نہیں ہو سکتے، کیونکہ وہ امام رضا علیہ السلام کے اصحاب میں سے ہیں۔ کلینی ؒان سے کیسے روایت کر سکتے ہیں؟ لہٰذا، یہ متعین ہے کہ مقصود کوئی اور ہے۔ اور چونکہ اس دوسرے شخص کی وثاقت ثابت نہیں ہے، لہذا کلینی ؒکی مذکورہ روایات، ان کی کثرت کے باوجود اعتبار سے ساقط ہو جاتی ہیں۔

جبکہ، اگر ہم مذکورہ رائے کو قبول کرتے اور یہ کہتے کہ کلینی ؒکے لیے ایسے شخص سے کثرت سے روایت کرنا مناسب نہیں ہے جس کے ضعیف ہونے کا وہ اعتقاد رکھتے ہوں، خاص طور پر جب وہ ان روایات کو اپنی اس کتاب میں درج کر رہے ہیں جو انہوں نے آئندہ نسلوں کے عمل کرنے کے لیے لکھی تھیں۔ ایک صاحبِ عقل اپنی کتاب میں ضعیف روایات درج کرنے پر راضی نہیں ہوتا، تو پھر یہ بات ایسے شخص سے کیسے ممکن ہے جس نے اپنی کتاب کو شروع سے ہی آئندہ نسلوں کے لیے ایک مرجع بنانے کی منصوبہ بندی کی ہو، اگر ہم مذکورہ رائے کو قبول کریں تو محمد بن اسماعیل کی وثاقت ثابت ہو جائےگی۔

اور جو بات ہماری دلیل کو مزید تقویت دیتی ہے، وہ یہ ہے کہ جب ہم رجالی کتب کا مطالعہ کرتے ہیں، تو ہم دیکھتے ہیں کہ ضعیف راویوں سے روایت کرنا ان کے نزدیک شخصیت کے لیے عیب شمار ہوتا تھا، یہی وجہ ہے کہ وہ بعض راویوں کے حالات میں اس بات سے خبردار کرتے ہیں کہ وہ ضعیف راویوں سے روایت کرتا ہے، جیسا کہ عیاشی ؒاور کشّی ؒوغیرہ کی جانب سے بیان کردہ راویوں کے حالات میں ملتا ہے۔

اور جب ہم احمد بن محمد بن خالد برقی کے حالات پڑھتے ہیں تو یہ بات ملاحظہ کرتے ہیں کہ احمد بن محمد بن عیسیٰ نے انہیں قم سے نکال دیا تھا، کیونکہ وہ ضعیف راویوں سے روایت کرتے تھے۔

اور اگر یہ کہا جائے کہ ہم یہ تسلیم کرتے ہیں کہ ثقہ راوی ایسے ضعیف راوی سے کثرت سے روایت نہیں کرتا جسے وہ اپنی نظر میں ضعیف سمجھتا ہو، لیکن مجہول الحال راوی سے روایت کرنے میں کیا رکاوٹ ہے؟ تو اس دلیل کی بنا پر یہ فرض کرنا ممکن ہے کہ محمد بن اسماعیل کلینی ؒکے نزدیک مجہول الحال تھے، اور اس وجہ ان کی وثاقت ثابت نہیں ہوتی۔

جواب یہ ہے کہ جب تک مجہول الحال راوی اس کی روایت مردود ہونے کے معاملہ میں ضعیف کے حکم میں ہے، تو عاقل کا اس کے حوالے سے بھی کثرت سے روایت کرنا مناسب نہیں ہے۔

اور جب ہم رجالی کتب کی طرف رجوع کرتے ہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ ان کے نزدیک مجہول سے روایت کرنا ضعیف سے روایت کرنے کے مترادف ہے اور ان دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ آپ محمد بن مالک کے حالات میں نجاشی ؒکے کلام کو دیکھے کہ وہ کہتے ہیں: " کہا احمد بن حسین نے کہا کہ وہ حدیثیں وضع کرتا تھا اور مجاہیل سے روایت کرتا تھا۔ اور میں نے کسی کو کہتے سنا کہ وہ فاسد المذہب اور فاسد الروایت بھی تھا۔

اور مجھے نہیں معلوم کہ ہمارے محترم ثقہ شیخ ابو علی بن ہمام اور ہمارے جلیل القدر اور ثقہ شیخ ابو غالب الزراری رحمھما اللہ نے ان سے کیسے روایت کی ہے " ۔

یہ سب کچھ اس کے علاوہ ہے کہ روایت کی کثرت بعض اوقات طویل صحبت کے ساتھ لازم آتی ہے، جس کے ساتھ یہ امکان نہیں رہتا کہ شخص مجہول الحال باقی رہے۔

اور اگر یہ کہا جائے کہ جب کثرتِ روایت وثاقت کی دلیل ہے، تو پھر ہم کیسے دیکھتے ہیں کہ بعض ضعیف راویوں سے اجلاء نے کثرت سے روایت کی ہے، جیسے محمد بن سنان، سہل بن زیاد، اور بطائنی وغیرہ، جن سے اجلاء نے کثرت سے روایت کی ہے۔

جواب یہ ہے: کہ اس بات کو تسلیم کرنے میں کیا مانع ہے کہ یہ لوگ اجلاء کی نظر میں ثقہ تھے اور اسی وجہ سے انہوں نے ان سے کثرت سے روایت کی اور یہ مقام تعدیل اور جرح کے تعارض کے مقامات میں سے ہو جائےگا، اور اسے ہمارے خلاف اعتراض کے طور پر درج کرنا صحیح نہیں ہے۔

ہاں، اعتراض تب صحیح ہوگا جب کوئی شخص سب کی نظر میں ضعیف ہو اور اس کے باوجود اجلاء نے اس سے کثرت سے روایت کی ہو، اور وہ صرف شیخ ؒاور نجاشی ؒکی نظر میں ضعیف نہ ہو۔ اور اس شکل کا ضعیف حاصل کرنا کہاں ممکن ہے؟

اور اگر یہ کہا جائے: کہ ثقہ جیسے کلینی ؒکا محمد بن اسماعیل سے کثرت سے روایت کرنا شاید ان کے نزدیک اس کی وثاقت کی وجہ سے نہیں تھا، بلکہ ان روایات کی حقانیت پر ان کے اطمینان کی وجہ سے تھا جو انہوں نے اس سے روایت کی ہیں، اور اسی اطمینان کی وجہ سے انہوں نے محمد بن اسماعیل سے نقل کرنے میں نرمی برتی اور ان سے کثرت سے روایت بیان کی۔

اور اگر ہم یہ امکان ظاہر کریں کہ کلینی ؒنے اپنے اطمینان پر اعتماد کیا تھا نہ کہ محمد بن اسماعیل کی وثاقت ثابت کرنے پر، تو ہم اس میں ایک دوسرا مقدمہ بھی شامل کریں گے، اور وہ یہ ہے کہ ہر شخص کا اطمینان صرف اس کے لیے حجت ہوتا ہے اور دوسروں کے لیے حجت نہیں ہوتا۔ کیونکہ ہو سکتا ہے کہ وہ قرائن جن پر انہوں نے اپنے اطمینان کے حصول میں بھروسہ کیا ہو، اگر ہم ان قرائن سے واقف ہوتے تو وہ ہمارے لیے اطمینان کا باعث نہ بنتے۔

جواب یہ ہے:کہ اطمینان حاصل کرنے کے لیے سب سے اہم قرینہ جس پر بھروسہ کیا جا سکتا ہے، وہ روایت کا کسی ایسی اصل و بنیادی کتاب میں موجود ہونا ہے جس پر اصحاب اعتماد کرتے ہیں۔ اور یہ واضح ہے کہ اصل و بنیادی کتاب میں روایت کا موجود ہونا محمد بن اسماعیل کی وثاقت کے ثابت ہونے پر موقوف ہے، اور واضح ہے کہ اصل میں روایت کا ہونا، محمد بن اسماعیل کی ثقہ ہونے کی صحت پر منحصر ہے، ورنہ اس کے جھوٹ بولنے اور اس اصل میں روایت درج کرنے میں دھوکہ دینے کا امکان ہو سکتا ہے۔

اور ممکن ہے کہ دیگر قرائن بھی موجود ہوں جن پر کلینی ؒنے اعتماد کیا ہو، جو محمد بن اسماعیل کی وثاقت کے پہلے سے ثابت ہونے پر موقوف نہ ہوں، اگرچہ یہ امکان موجود ہے، لیکن یہ محض ایک نظری احتمال ہے جس پر اعتنا نہیں کیا جاتا، کیونکہ ان کے نزدیک اہم قرینہ یہی ہے کہ روایت کسی معتبر کتاب میں موجود ہو، اس کے علاوہ کچھ نہیں، اور اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ صدوق ؒاپنی کتاب کے مقدمے میں کہتے ہیں: اور اس میں جو کچھ بھی ہے، وہ مشہور اور معتبر کتابوں سے ماخوذ ہے جن پر اعتماد کیا جاتا ہے، تو اگر اس کے علاوہ کوئی اور قرینہ موجود ہوتا جو اس کے برابر یا اس سے قوی تر ہوتا، تو وہ اس کی طرف اشارہ کرتے۔

اور اگر یہ کہا جائے: کہ شاید کلینی ؒنے محمد بن اسماعیل سے کثرت سے روایت کرنے میں " اصالة العدالة" پر اعتماد کیا ہو نہ کہ ان کی وثاقت کے اثبات پر، اور چونکہ "اصالة العدالة" ہمارے نزدیک مسترد ہے، تو ان کی کثرتِ روایت پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا اور اس سے محمد بن اسماعیل کی وثاقت کو کشف نہیں کیا جا سکتا۔

جواب یہ ہے: کہ ہم اس بات کو ممکن نہیں جانتے کہ کلینی ؒنے " اصالة العدالة" پر اعتماد کیا ہو، کیونکہ اس پر اعتماد کرنے کا دوسرا معنی یہ ہے کہ کلینی ؒنے ایک ایسے شخص کو پایا جس کے بارے میں وہ کچھ نہیں جانتے تھے اور اس نے انہیں ایک کتاب دی جس میں احادیث تھیں اور کلینی ؒنے اسے لیا اور اس سے اپنی کتاب الکافی درج کی، جس کتاب کے بارے میں ان کا ارادہ یہ تھا کہ وہ شیعوں کے لیے ان کے دین کے احکام میں ایک شرعی مرجع بنے، کلینی ؒنے ایسا اس لیے کیا کیونکہ انہوں نے انہیں کتاب دینے والے محمد بن اسماعیل سے کوئی فسق نہیں جانا لہذا انہوں نے اس کے بارے میں " اصالة العدالة" پر اعتماد کیا۔

کلینی ؒکے حق میں ممکن نہیں کہ انہوں نے ایسا کیا ہو۔

۷۔ شیخوخۃ الاجازۃ

کسی شخص سے روایت حاصل کرنے کی کئی صورتیں ہیں: کبھی شاگرد استاد سے روایت سنتا ہے، اور کبھی استاد شاگرد کو روایت پڑھ کر سناتا ہے، اور تیسری صورت یہ ہے کہ استاد شاگرد کو اجازت دیتا ہے، یعنی اسے وہ کتاب دیتا ہے جس میں اس نے روایات کو درج کیا تھا اور جمع کیا تھا اور اس سے کہتا ہے کہ میں نے تمہیں اجازت دیتا ہوں کہ تم میرے حوالے سے اس میں موجود روایات بیان کرو۔

اور اس تیسری صورت کو اصطلاح میں روایت کو اجازۃ کے ذریعے تحمل کرنا کہتے ہیں۔ اسی طرح جس سے اجازت صادر ہوئی تھی اس صاحبِ کتاب کو اصطلاح میں " شیخ الاجازۃ" کہتے ہیں۔

اور اس بات پر بحث واقع ہوئی ہے کہ کیا کسی شخص کا مشائخ الاجازۃ میں سے ہونا اس کی وثاقت ثابت کرنے کے لیے کافی ہے۔

اور اس نقطے پر بحث انتہائی اہم ہے، کیونکہ شیخ طوسی ؒکو حدیثی اصولوں میں سے بہت سے ایسے اصول پہنچے ہیں جن سے انہوں نے اپنی کتابیں " التھذیب" اور " الاستبصار" تالیف کی ہیں، ان اصولوں کے درمیان ایسے افراد بھی تھے جن کی خصوصی توثیق واقع نہیں ہوئی تھی، بلکہ وہ صرف مشائخ الاجازۃ میں سے تھے اور اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ مثال کے طور پر احمد بن محمد بن حسن بن ولید، جس سے شیخ طوسی ؒبعض اصول و بنیادی کتابیں شیخ مفید ؒکے واسطے سے روایت کرتے ہیں۔ اور اسی طرح ہیں احمد بن محمد بن یحییٰ، اور احمد بن عبد الواحد جو ابن عبدون یا ابن الحاشر کے نام سے مشہور ہیں، اور علی بن محمد بن الزبیر القرشی، اور ابو الحسین بن ابی جید اور ان کے علاوہ۔

بلاشبہ اگر " شیخوخۃ اجازہ" وثاقت ثابت کرنے کے لیے کافی نہ ہو تو بہت سی روایات میں ان کی وجہ سے مشکل پیش آئے گی۔ یہی امر اس بات کا سبب بنا کہ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے نئے طریقے ایجاد کرنے پر غور کیا جائے۔ اور ہم ان میں سے بعض طریقوں کا ہم اس کتاب کے آخر میں، ان شاء اللہ تعالیٰ، جائزہ لیں گے۔

اور جن لوگوں نے توثیق ثابت کرنے کے لیے " شیخوخۃ الاجازۃ" کو کافی سمجھا ہے ان میں شیخ بحرانی ؒاپنی حدائق جلد ۶ صفحہ ۴۸ میں، اور شیخ آغا رضا ہمدانی ؒاپنی کتاب صلاۃ صفحہ ۱۲ میں اور ان دونوں کے علاوہ دیگر افراد شامل ہیں، بلکہ شاید یہی مشہور اور مروجہ رائے یہی ہے۔

البتہ بعض متاخرین جیسے سید خوئی ؒاور سید شہید ؒنے اسے مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ " شیخوخۃ الاجازۃ" وثاقت پر دلیل نہیں ہے۔

سید خوئی ؒنے اس کی وضاحت اس طرح پیش کی ہے کہ اجازہ کا فائدہ بس اتنا ہے کہ شیخ مفید ؒ، مثال کے طور پر، اجازہ کی وجہ سے یہ کہنے کے حقدار ہو جائیں گے کہ مجھے خبر دی احمد بن محمد بن حسن بن ولید نے ان روایات کی جو اس کتاب میں موجود ہیں جس کی روایت کی انہوں نے مجھے اجازت دی ہے اور گویا انہوں نے یہ روایت ان سے سنی تھی۔

اور چونکہ ثقہ راوی کا کسی شخص سے روایت سننا اور اس سے نقل کرنا اس کی وثاقت پر دلالت نہیں کرتا – کیونکہ پہلے بیان ہو چکا ہے کہ ثقہ کی کسی شخص سے روایت اس شخص کی توثیق پر دلیل نہیں ہے – لہٰذا " شیخوخۃ الاجازۃ" ہونا توثیق پر دلیل نہیں بن سکتی۔( معجم رجال الحديث ۱: ۷۷ )

اور اس پر ہم یہ کہہ کر اشکال کر سکتے ہیں: کہ اگر " شیخ الاجازۃ" ایسا شخص ہوں جو اس بات میں معروف ہو کہ اس سے کثرت سے اجازت لی جاتی ہے، تو یہ توثیق پر دلالت کے لیے کافی ہے، کیونکہ یہ بعید ہے کہ بڑے بڑے ثقہ افراد کسی ایسے شخص کے پاس جائیں اور اس سے کسی کتاب کی روایات بیان کرنے کی اجازت طلب کریں جس کی وثاقت ان کے نزدیک ثابت نہ ہو۔ اور اس کا تجربہ خود آپ اپنی ذات پر کریں، تو کیا آپ کسی ایسے شخص کے پاس جائیں گے اور اس سے کسی ایک یا دو کتابوں کی احادیث روایت کرنے کی اجازت لیں گے جبکہ آپ کے لیے اس کی وثاقت ثابت نہ ہو؟ !!

اور اگر آپ کہیں: جس بعید ہونے کی بات آپ نے بیان کی ہے، وہ اس بات سے رد ہو جاتی ہے جو شیخ صدوق ؒاپنی کتاب " عیون اخبار الرضا علیہ السلام " جلد ۲، صفحہ ۲۷۹ میں نقل کرتے ہیں کہ ان کے ایک شیخ جن کا نام احمد ابن الحسین بن احمد بن عبید نیشاپوری مروانی تھا، ناصبی تھا اور وہ اس سے زیادہ کسی ناصبی کو نہیں ملے، اور اس کی ناصبیت اس حد تک تھی کہ وہ کہتا تھا " اللہم صل علی محمد فرداً " (اے اللہ صرف محمد (ص) پر درود بھیج) اور آپ (ص) کے طیب و طاہر آل علیہم السلام پر درود پڑھنے سے گریز کرتا تھا۔

جواب یہ ہے : کہ یہ عقیدے کے فساد پر دلالت کرتا ہے، اور یہ وثاقت سے متصادم نہیں ہے۔

البتہ جو استبعاد (یعنی بعید سمجھنا) ہم نے ذکر کیا ہے، وہ خاصہ (شیعہ) کے مشایخِ اجازہ کے ساتھ مخصوص ہے، نہ کہ اس صورت میں جب وہ عامہ (اہلِ سنت) میں سے ہوں۔ کیونکہ جلیل القدر علماء بعض خاص مقاصد کے لیے عامہ سے بھی اجازتِ روایت حاصل کر لیتے ہیں، جیسا کہ شہیدِ اوّل رحمہ اللہ کے بارے میں منقول ہے کہ ان کے پاس عامہ کی طرف سے دی گئی بہت سی اجازتیں موجود تھیں۔

اور اگر آپ کہیں: جب " شیخوخۃ" وثاقت ثابت کرنے کے لیے کافی ہے، تو شیخ ؒاور نجاشی ؒنے احمد بن محمد بن حسن بن ولید اور ان جیسے دیگر افراد کی وثاقت پر صراحت کیوں نہیں کی؟ ان افراد کی وثاقت پر صراحت نہ کرنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ ان دونوں کے نزدیک وثاقت ثابت نہیں تھی۔

میں کہوں گا: سید بروجردی ؒنے اس کا جواب یہ دیا ہے کہ رجالی کتب یعنی : رجال نجاشی، رجال کشی، اور رجال شیخ۔

جہاں تک رجال نجاشی کا تعلق ہے تو اس کا مقصد اصحابِ کتب کا احاطہ کرنا تھا، اور شاید احمد بن محمد اور ان جیسے دیگر افراد کی کوئی کتابیں نہیں تھیں۔

اور جہاں تک تعلق رجال کشّی کا ہے تو اس کا مقصد ان افراد کا ذکر کرنا تھا جن کے حق میں کوئی روایت موجود ہو، اور ان افراد کے حق میں کوئی روایت نہیں ہے۔

اور جہاں تک شیخ ؒکی رجال کا تعلق ہے تو ظاہر یہ ہوتا ہے کہ یہ مسودے کی صورت میں تھی، اور شیخ ؒکا ارادہ یہ تھا کہ بعد میں دوبارہ اس کی طرف رجوع کر کے اسے منظم اور مرتب کریں، اور اس میں ذکر کیے گئے بعض افراد کے حالات کو واضح کریں، اس پر اس بات سے بھی دلیل ملتی ہے کہ بعض راویوں کے بارے میں صرف ان کا نام اور ان کے والد کا نام ذکر کیا ہے، بغیر اس کے کہ ان کے حالات کی مزید وضاحت کی ہو۔ اسی طرح بعض راویوں کا بار بار ذکر کیا ہے اور دیگر ایسی چیزیں جو اس بات کا گمان دلاتی ہیں کہ کتاب اپنے مطلوبہ معیار تک نہیں پہنچی تھی، اور یہ سب کچھ شیخ ؒکی کثرتِ تالیف اور تصنیف میں مشغولیت کی وجہ سے تھا، اس طرح کہ اگر ان کی عمر کو ان کی تالیفات پر تقسیم کیا جائے تو ان کی رجال کی کتابت کے مقابلے میں چند گھنٹے ہی آتے ہیں۔

( نهاية التقرير ۲: ۲۷۰ )

سید بحر العلوم ؒاور ایک جماعت کا مسلک

اور " مشائخ الاجازۃ" کے مسئلے کے حل کے لیے – اس بنیاد پر کہ " شیخوخہ" وثاقت ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں – سید بحر العلوم ؒاور ایک جماعت نے ایک دوسرا مسلک اختیار کیا ہے، چنانچہ بحر العلوم ؒنے اپنی کتاب " رجال " میں سہل بن زیاد پر بحث کرتے ہوئے جلد تین ۳، صفحہ ۲۵ پر ذکر کیا ہے: کہ وہ روایت جس کی سند میں " مشائخ الاجازۃ" میں سے کوئی ایک شامل ہو وہ صحیح اور حجّت ہے، لیکن اس وجہ سے نہیں کہ " شیخوخۃ الاجازۃ" وثاقت کو ظاہر کرتی ہے، بلکہ اس وجہ سے کہ جن کتابوں سے روایت لی گئی ہے وہ معلوم اور متواتر تھیں، جس طرح ہمارے زمانے میں کتبِ اربعہ اپنے مؤلفین کی طرف نسبت کے اعتبار سے معلوم و مسلّم ہیں، اور ان سے روایت لینے کے لیے کسی معتبر سند کی ضرورت نہیں ہوتی، سوائے اس کے کہ بطورِ تبرّک اور تیمّن (برکت و نیک شگون) کی خاطر سند بیان کی جائے، اسی طرح اُس زمانے میں وہ اصول و بنیادی کتابیں بھی، جن سے روایات لی جاتی تھیں، اپنے مؤلفین کی طرف نسبت کے اعتبار سے معلوم تھیں، اور ان سے روایت لینے کے لیے بھی صحیح سند کی ضرورت نہ تھی، اور اس صورت میں، اگر " مشائخ الاجازۃ" یا دیگر راویوں میں سے کوئی شخص جس کی وثاقت ثابت نہ ہو، سند کے اندر موجود ہو، تو اس کا ہونا کوئی ضرر نہیں پہنچاتا، جب تک سلسلہ سند ذکر کرنے کا مقصد صرف تبرک و تیمن ہو اور اس سے زیادہ نہ ہو۔

اور ان قدس سرہ نے مزید کہا: اور شیخ طاب ثراہ کا طریقہ اس پر متوجہ کرتا ہے، کیونکہ وہ کبھی مکمل سند ذکر کرتے ہیں جیسا کہ قدماء کا معمول تھا اور کبھی مشائخ کو حذف کر دیتے ہیں اور صرف روایات کو ذکر کرنے پر اکتفا کرتے ہیں، اور یہ صرف اس لیے ہے کہ مشائخ کے ذکر کرنے یا ترک کرنے سے سند کے حالت میں کوئی فرق واقع نہیں ہوتا ہے۔

اور شیخ نوری ؒنے اپنی مستدرک جلد ۳، صفحہ ۳۷۳ پر تیسرے فائدے کے آغاز میں اس طریقے کی طرف اشارہ کیا ہے اور اسے شہید ثانی ؒاور دیگر کی طرف منسوب کیا ہے۔

اور جن لوگوں نے اسے اختیار کیا ہے ان میں حر عاملی ؒبھی اپنی کتاب " وسائل الشیعہ " میں فائدۂ پنجم کے آغاز میں شامل ہیں۔ اور فائدۂ نہم میں انہوں نے جن کتابوں سے روایات لی گئی ہیں ان کی صحت اور تواتر پر دلالت کرنے والے بعض قرائن کا ذکر کیا ہے اور انہیں بائیس قرائن تک پہنچایا ہے۔

اور شاید یہ بات شیخ تستری رحمہ اللہ کی قاموسِ رجال سے بھی ظاہر ہوتی ہے، تو رجوع کریں۔

اور ہم، اِن شاء اللہ تعالیٰ، کسی مناسب دوسرے مقام پر اس طریقۂ کار اور اس کے اندازِ بحث کا جائزہ لیں گے، البتہ فی الحال ہم یہ کہتے ہیں: کہ خود سید بحر العلوم ؒنے جلد ۴، صفحہ ۴۷ پر بعض فوائد کے ذکر میں کہا ہے کہ وہ کتابیں متواتر نہیں ہیں اور اس پر بعض شواہد پیش کیے ہیں، اور ایسی صورت میں صحیح سند کی ضرورت اپنے مقام پر برقرار رہتی ہے۔

۸۔ ایسی سند میں واقع ہونا جس پر صحت کا حکم لگایا گیا ہو

جب ہمارے پاس کسی کتاب یا کسی معین راوی کی سند ہو اور توثیق میں جن اکابرین کی بات قبول کی جاتی ہے ان میں سے کسی نے اس پر صحت کا حکم لگایا ہو اور یہ فرض کیا جائے کہ اس سند میں شامل کسی راوی کی توثیق یا تضعیف پر کوئی وضاحت موجود نہ ہو، تو کیا اس راوی پر اس سند کے صحیح ہونے پر لگائے گئے حکم کی وجہ سے وثاقت کا حکم لگایا جائےگا جس سند میں وہ راوی واقع ہے؟

بعض اس کے قائل ہیں، یعنی اس شخص کی وثاقت کو اس سند کے صحیح ہونے کے حکم سے کشف کیا جائےگا جس میں وہ واقع ہے۔

مثال کے طور پر، محمد بن حسن بن ولید - جو صدوق ؒکے استاد اور معززین و اکابرین میں سے ہیں - کے بارے میں نقل کیا جاتا ہے کہ انہوں نے محمد بن احمد بن یحییٰ - جو خود بھی اجلاء و اکابرین میں سے ہیں - سے منقول روایات کی صحت کا حکم لگایا ہے، چاہے وہ کسی بھی سند سے ہوں، سوائے بعض خاص روایات کے جو مخصوص اسانید میں وارد ہوئی ہیں۔

اس مسلک کی بنا پر جو سند کے صحیح ہونے کے حکم سے وثاقت کشف کرنے کا قائل ہے، لازم آئےگا کہ محمد بن احمد بن یحییٰ سے منقول روایات کی سند میں شامل تمام افراد کی وثاقت کا حکم لگانا جائے، بشرطیکہ وہ مستثنیٰ افراد میں سے نہ ہوں۔

اور اس پر یہ اعتراض وارد کیا جا سکتا ہے کہ قدماء کے ہاں روایت پر صحت کا حکم لگانے کا مطلب اس روایت پر عمل کرنا ہے، اور یہ واضح ہے کہ کسی خاص روایت پر عمل کرنا جس طرح سے اس کے راویوں کے ثقہ ہونے کی وجہ سے ہو سکتا ہے، اسی طرح سے عمل کرنے والے کے اس اعتقاد کی وجہ سے بھی ہو سکتا ہے کہ وہ روایت بعض خاص قرائن سے گھری ہوئی ہے۔ اور یہ ممکن ہے کہ اگر ہم ان قرائن سے مطلع ہوتے تو وہ ہماری نظر میں معتبر نہ ہوتے۔

اور صحیح بات یہ ہے کہ یہ اعتراض اس مثالِ مذکورہ میں درست نہیں ہے، اگرچہ دوسری صورتوں میں یہ قابلِ لحاظ ہے، اس قرینہ کی وجہ سے کہ ابنِ ولید نے مخصوص روایات کو مستثنیٰ نہیں کیا، بلکہ مخصوص اشخاص کو مستثنیٰ کیا ہے انہوں نے یہ نہیں کہا کہ میں محمد بن احمد یحییٰ کی تمام روایات پر عمل کرتا ہوں سوائے اِس یا اُس روایت کے، بلکہ انہوں نے کہا سوائے فلاں اور فلاں کی روایات کے، تو اگر ان کا ان روایات پر عمل کرنا جن کے صاحبان کو انہوں نے مستثنیٰ نہیں کیا تھا، قرائن کی وجہ سے ہوتا تو روایات کو مستثنیٰ کرنا مناسب ہوتا کیونکہ وہ قرائن سے گھری ہوئی ہیں نہ کہ خود افراد کو۔

اور سید خوئی ؒنے اس طریقے پر یہ اعتراض کیا ہے کہ ابن ولید کا کسی سلسلہ سند کی صحت پر حکم لگانا اس کے راویوں کی وثاقت پر دلالت نہیں کرتا، کیونکہ ہو سکتا ہے کہ انہوں نے " اصالة العدالة" پر اعتماد کیا ہو اور ہر اس مؤمن کی بیان کردہ روایت کی حجیت پر اعتقاد رکھا ہو جس سے فسق ظاہر نہ ہوا ہو۔

( معجم رجال الحديث ۱: ۷۴ )

اور مذکورہ اعتراض کو اس طرح دفع کیا جا سکتا ہے کہ یہ احتمال اگرچہ ابن ولید کے کلام میں موجود ہے، لیکن ابن نوح کے کلام میں موجود نہیں۔

اس کی وضاحت: نجاشی ؒنے اپنی فہرست میں محمد بن احمد بن یحییٰ کے حالات میں کہا: اور محمد بن حسن بن ولید، محمد بن احمد بن یحییٰ کی روایت سے وہ تمام روایتیں مستثنیٰ کرتے تھے جو انہوں نے محمد بن موسیٰ ہمدانی سے روایت کی ہیں، اور وہ جو " عن رجل " کہہ کر روایت کی ہیں، یا " بعض اصحابنا " کہا ہے، یا محمد بن یحییٰ المعاذی سے روایت کی ہے ۔۔۔ یا محمد بن عیسیٰ بن عبید سے روایت کی ہے ۔۔۔ پھر انہوں نے مزید کہا جو اس طرح سے ہے:

" ابو العباس بن نوح (۱) نے کہا: اور ہمارے شیخ، ابو جعفر محمد بن حسن ابنِ ولید نے اس تمام معاملے میں درست رائے قائم کی ہے، اور ابو جعفر ابن بابویہ رحمہ اللہ نے بھی اس پر عمل کیا ہے سوائے محمد بن عیسیٰ بن عبید کے سلسلہ میں، تو مجھے نہیں معلوم کہ ان کی اس کے بارے میں کیا رائے ہے، کیونکہ وہ ظاہر العدالۃ اور وثاقت پر تھے " ۔

ابن نوح کا کلام اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ وہ محمد بن احمد بن یحییٰ کے تمام راویوں کی عدالت کی گواہی دے رہے ہیں، جن میں محمد بن عیسیٰ بن عبید بھی شامل ہے اس لیے کہ انہوں نے کہا: " کیونکہ وہ ظاہر العدالۃ اور وثاقت پر تھے " تو اگر ابن نوح کے نزدیک معیار " اصالة العدالة" کا اصول ہوتا تو ان کے لیے یہ کہنا مناسب ہوتا کہ " کیونکہ ان کا ضعف ثابت نہیں ہوا " ، اور ان کے لیے " کیونکہ وہ تھے...(ظاہر العدالۃ اور وثاقت پر) " کہہ کر علت پیش کرنے کی ضرورت نہ ہوتی۔

حوالہ:(۱)-نجاشی نے ان کے بارے میں کہا: "احمد بن نوح بن علی بن عباس بن نوح سیرافی – بصرہ کے رہائشی – اپنی حدیث میں ثقہ تھے، جو کچھ روایت کرتے تھے اس میں پختگی رکھتے تھے، فقیہ تھے، حدیث اور روایت میں بابصیرت تھے، اور وہ ہمارے استاد، شیخ اور اُن میں سے تھے جن سے ہم نے استفادہ کیا"۔

یہ سب اس کے علاوہ ہے کہ اگر انہوں نے " اصالة العدالة" پر اعتماد کیا ہوتا تو مناسب تھا کہ باقیوں کی عدالت پر بھی حکم لگائے کیونکہ " اصالة العدالة" پر اعتماد کے عنوان سے ان کی عدالت پر حکم لگانے میں ان کا " ظاہر العدالة " نہ ہونا مانع نہیں ہے۔

اور صحیح یہ ہے کہ دونوں بیانات باطل ہیں۔

جہاں تک پہلے بیان کا تعلق ہے، تو جس طرح یہ علت پیش کرنا صحیح ہے کہ " ان کا ضعف ثابت نہیں ہوا " ، اسی طرح یہ بھی صحیح ہے کہ " وہ ظاہر العدالۃ پر ہیں " ۔ کیونکہ جب ایک قوی علت موجود ہو تو ضعیف کی طرف جانے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔

جہاں تک دوسرے بیان کا تعلق ہے، تو چونکہ محمد بن عیسیٰ کے ظاہر العدالۃ پر ہونے کا دعویٰ اس بات پر دلالت نہیں کرتا کہ مستثنیٰ شدہ دیگر افراد ظاہر الفسق پر نہیں تھے، بلکہ ہو سکتا ہے کہ وہ ظاہر الفسق پر بھی ہوں، اور اسی لیے ان کے سلسلہ میں اصالۃ العدالۃ جاری نہ کی گئی ہو۔

وثاقت ثابت کرنے کے دیگر طریقے

یہ آٹھ طریقے ہیں وثاقت ثابت کرنے کے لیے جن کو بطور دعویٰ پیش کیا گیا تھا۔ اور یہ واضح ہو چکا ہے کہ ان میں سے تیسرا، چھٹا، اور آٹھواں مکمل نہیں ہیں۔

اور دیگر طریقے بھی ہیں – جیسے صدوق ؒکی مشیخہ میں کسی شخص کے کی طرف سلسلہ سند کا ذکر یا اس پر " رحمہ اللہ " کہہ کر رحمت کی دعا کرنا، یا معصوم علیہ السلام کی صحبت، یا کتاب یا اصل کی تالیف وغیرہ – ان طریقوں کے حجّت نہ ہونے اور طوالت کے خوف سے ہم انہیں نظر انداز کرتے ہیں۔

اور جس بات کی طرف ہم توجہ دلانا چاہتے ہیں وہ یہ ہے کہ دیگر طریقے بھی موجود ہیں جنہیں کسی خاص ضابطے میں محدود نہیں کیا جا سکتا، جیسے ابراہیم بن ہاشم ؒکی کوفیوں کی حدیث کو نشر کرنے کے سبب توثیق کرنا، اس اعتبار سے کہ جس شخص کی وثاقت معلوم نہ ہو اس کی حدیثیں قبول نہیں کی جاتیں اور اس طرح وہ کسی ایک مکتبہ فکر کی حدیثیں دوسرے مکتبہ فکر میں منتقل نہیں کر سکتا۔اور جیسے سکونی کی توثیق شیخ طوسی ؒکے " العدۃ " میں کیے اس دعویٰ سے کرنا کہ طائفہ نے ان کی روایات پر عمل کیا ہے، کہ انہوں نے حجیت خبر کی بحث میں ذکر کیا ہے کہ راوی کا عقیدے میں انحراف اس کی روایات کو قبول کرنے میں مضرّ نہیں ہے، اور اس پر انہوں نے اس قول کو بطور ثبوت پیش کیا ہے کہ: اور جو کچھ ہم نے کہا ہے اسی وجہ سے طائفہ نے حفص بن غیاث، غیاث بن کلوب، نوح بن دراج اور سکونی اور دیگر غیر شیعہ راویوں کی ہمارے ائمہ علیہم السلام سے مروی روایات پر عمل کیا ہے " ۔( معجم رجال الحديث ۳: ۱۰۶ )

اور جیسے نوفلی - جو اپنی روایت میں عام طور پر سکونی کے ساتھ ہے - کی توثیق، چونکہ علماء کے درمیان معروف یہ ہے کہ اس کی روایت قبول نہیں کی جائےگی کیونکہ اس کی وثاقت ثابت نہیں ہے، لیکن کامل الزیارات یا تفسیر القمی کے توسّط سے، تاہم اس کی وثاقت کو دوسرے طریقے سے بھی ثابت کیا جا سکتا ہے، یہ کہہ کر کہ طائفہ کا سکونی کی روایات پر عمل کرنا نوفلی کی روایات پر عمل کرنے کو لازم کرتا ہے، کیونکہ سکونی کی روایات کا راوی عام طور پر نوفلی ہے، تو اگر نوفلی کی روایات قبول نہ کی جائیں تو لازم آئےگا کہ سکونی کی روایات بھی قبول نہ کی جائے۔اور ایسے دوسرے طریقے بھی ہیں جنہیں جستجو اور تحقیق کرنے سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔