شبہات جدید قرآنی

شبہات جدید قرآنی0%

شبہات جدید قرآنی مؤلف:
: ندا زہراء رضوی
زمرہ جات: فلسفہ

شبہات جدید قرآنی

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

مؤلف: علامہ ڈاکٹر محمد علی رضائی اصفہانی_ مترجم : ندا زہراء رضوی
: ندا زہراء رضوی
زمرہ جات: مشاہدے: 24
ڈاؤنلوڈ: 2

شبہات جدید قرآنی
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 29 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 24 / ڈاؤنلوڈ: 2
سائز سائز سائز
شبہات جدید قرآنی

شبہات جدید قرآنی

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے


نوٹ:اسلامی ثقافتی ادارہ " امامین الحسنین(ع) نیٹ ورک " نے اس کتاب کو برقی شکل میں، قارئین کرام کےلئےشائع کیا ہے۔

اورادارہ کی گِروہ علمی کی زیر نگرانی حُرُوفِ چِینی، فنی تنظیم وتصحیح اور ممکنہ غلطیوں کو درست کرنے کی حدالامکان کوشش کی گئی ہے۔

مفت PDF ڈاؤنلوڈ لنک

https://alhassanain.org/urdu/?com=book&id=485&view=download&format=pdf

word

https://alhassanain.org/urdu/?com=book&id=485&view=download&format=doc

نیز اپنے مفید مشورے، پیشنہادات، اعتراضات اور ہر قسم کےسوالات کو ادارہ کےایمیل ( ihcf.preach@gmail.com

٧۔ شیخ قاسمی

قرآن میں سات آسمان وہی سات سیارے ہیں کہ جو بعض بعض کے اوپر برقرار ہیں۔( دیکھیے: ابوحجر احمدعمر، التفسیر العلمی فی المیزان، ص٣٨٠ )

نوٹ: فخر رازی اور شیخ قاسمی کو یہ معلوم نہیں تھا کہ مستقبل میں یورینس، نیپچون، پلوٹو اور مشتری و مریخ کے درمیان چھوٹے سیاروں کی وجہ سے نظام شمسی میں سیاروں کی تعداد بڑھ جائے گی۔

( نیپچون سال ١٨۴٦م اور پلوٹو سال ١٩٣٠ میں کشف ہوا )

درحقیقت جس طرح آگے جاکر بھی بیان کیا جائے گا کہ لفظ "آسمان" لغت و اصطلاح میں آسمانی کروں ستاروں اور سیاروں کے معنی میں نہیں آیا ہے کہ سات آسمانوں کو نظام شمسی کے ساتھ سیاروں پر حمل کیا جائے۔

قرآن کریم میں آسمان اونچائی و بلندی، زمین کی سطح سے بالا سطح اور ستاروں کے مقام کے معنی میں آیا ہے۔

( سورہ فرقان ٦١، ابراہیم ٢۴، ق٩ )

لیکن کہیں بھی خود ستاروں کے معنی میں نہیں آیا

( لفظ "سماء" کے لغوی اور اصطلاحی معنی رجوع کیے جائیں۔)

لہذا نیازمند شیرازی، فخررازی اور شیخ قاسمی کے نظریات بے دلیل ہیں اور یہ ایک طرح سے قرآن پر زبردستی تحمیل ہے۔

٨۔ عبدالقادر مغربی

قرآن میں سات آسمان کے ذکر کی حکمت یہ ہے کہ مخاطبین اور لوگ سات سیاروں سے زیادہ سیاروں کو دیکھنے اور ان کے بارے میں سوچ بچار سے قاصر ہیں۔ نیز سات کا عدد لوگوں میں مشہور تھا چنانچہ قرآن نے اسی تعداد پر اکتفا کیا۔

( عبدالقادر مغربی، تفسیر پارے٢٩ ص۴؛ابوحجر احمدعمر، التفسیر العلمی فی المیزان، ص٣٨٣ سے منقول )

تذکر:

اس مطلب کی دلیل بھی ذکر نہیں ہوئی اس کے علاوہ یہ حس بشر کے خلاف ہے کیونکہ عرب و غیرعرب راتوں کو بہت سے ستاروں کا مشاہدہ کرتے تھے اور ان کے بارے میں سوچ بچار کرنے پر بھی قادر تھے بلکہ قرآن نے بعض موارد ذکر کیے ہیں کہ انسان جن کو سمجھنے و شمار کرنے سے قاصر و ناتوان ہے جیسے ارشاد ہوتا ہے:

"إِن تَعُدُّواْ نِعمَتَ ٱللَّهِ لَا تُحصُوهَآ "( سورہ ابراہیم ٢۴؛ نحل ١٨)

ہاں البتہ اگر ان کی مراد یہ ہو کہ سات کا عدد کثرت پر دلالت کرتا ہے تو یہ احتمال معقول ہے کہ جس کا جائزہ لیا جاسکتا ہے۔

٩۔ بعض دیگر علماء

بعض علماء کا کہنا ہے کہ سات آسمان سے مراد سیاروں کے مدار( orbits ) ہیں کہ جو سورج کے گرد گھوم رہے ہیں۔( ابوحجر احمدعمر، التفسیر العلمی فی المیزان، ص٣٨۴ )

تذکر: یہ مطلب بھی "سماء" کے لغوی و اصطلاحی معنی سے مناسبت نہیں رکھتا۔

١٠۔ بعض دیگر افراد

بعض افراد کا کہنا ہے کہ سات آسمان سے مراد وہ مختلف طبقات ہیں جو زمین پر احاطہ رکھتے ہیں۔ من جملہ کتاب "راز آسمان ھای ھفت گانہ" کے مؤلف لکھتے ہیں:

اس معاملے پر اپنے مطالعے اور تحقیق سے میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ " سبع سماوات " سے مراد فضا کی سات الگ الگ تہیں ہیں جو زمین کو گھیرے ہوئے ہیں اور زمین کے قرب و جوار سے شروع ہوتی ہیں اور اس سے ہزاروں کیلومیٹر تک پھیلی ہوئی ہیں۔ یہ سات تہیں کہ جو دکھائی دیتی ہیں۔ زمین کی نزدیکی کی ترتیب سےیہ یوں ہیں: ہیموسفیئر کی تہ، آئونوسفیئر کی تہ، مالیکیولر N کی تہ، O آیٹم کی تہ، He ایٹم کی تہ، H ایٹم کی تہ اور آخر میں خلا کی تہ جو کل سات ہیں۔ یہاں یہ بیان کرنا بھی ضروری ہے کہ یہ تہیں ایک دوسرے سے جدا جدا ہیں۔

مصنف مزید یوں لکھتے ہیں:

سات آسمانوں کو مادی قرار دینا ان کے معنوی ہونے کے نظریہ کی نفی نہیں کرتا؛ کیونکہ ماوراء مادہ اجناس خود مادے میں یا عالم مادہ میں ظہور پیدا کرسکتے ہیں۔نیز وہ ان تہوں کی شکلیں بیان کر کے ان کی ضخامت کے بارے میں بھی مزید تفصیلی بیان کرتے ہیں۔( ایمان مرادہ، رازھای آسمان‌ھای ھفت‌گانه، ص۸۴ کے بعد )

تذکر: آسمان بعض اوقات زمین کی فضا کے معنی میں بھی ذکر ہوا ہے۔

( سورہ ق ٧ )

اسی لئے یہ احتمال قابل بیان ہے چنانچہ آگے جا کر اس کا جائزہ لیا جائے گا۔

١١۔ علامہ شہرستانی

قرآن اور احادیث میں آیا ہے کہ ہم نے سات زمینیں اور سات آسمان خلق کیے۔ سات زمین یہ ہیں: مرکری، زہرہ، زمین، مریخ، مشتری، زحل، یورینس؛ اور سات آسمان وہی فضا کا ماحول ہے کہ جو ان سات سیاروں کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔

نکتہ: جب علامہ شہرستانی سے پوچھا گیا کہ نپپچون اور پلوٹو کو کیوں نہیں شامل کیا؟ جواب دیتے ہیں:

یہ دو سیارے عام آنکھ سے نہیں دیکھ سکتے اسی وجہ سے قرآن و حدیث میں نہیں آئے۔

( محمدباقربھبودی، ھفت آسمان، ص١٠؛ محمد صادقی، زمین و آسمان و ستارگان از منظر قرآن ص٢٢٩ )

علامہ شہرستانی کے نظریہ پر بنیادی ترین اشکال یہ ہے کہ لغت اور اصطلاح میں "ارض" کا لفظ مندرجہ بالا چھ سیاروں پر قابل تطبیق نہیں ہے۔

١٢۔ بعض دیگر علماء و مفسرین

یہ تمام سیارے، نظام، ستارے یہاں تک کہ کہکشائیں فقط قرآن کا پہلا آسمان ہیں جبکہ باقی چھ آسمان انسانی کی دید و پہنچ سے بالاتر قرار دیئے گئے ہیں۔

( محمدباقربھبودی، ھفت آسمان، ص١١ )

یہ احتمال تفسیر نمونہ کے مؤلفین کے نزدیک بھی قابل قبول ہے۔

( دیکھیے: ناصر مکارم شیراز، تفسیر نمونہ، ج١، ص١٦٥ ـ ١٦٧ )

نوٹ:

یہ کلام ایک امکان و احتمال کے سوا کچھ نہیں، آگے اس پر بات کی جائے گی۔

١٣۔ محمد باقر بہبودی

محمد باقر بہبودی کتاب "ھفت آسمان" میں اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ قرآن نے سات آسمان میں سے صرف نظام شمسی کے بارے میں نظر دی ہے باقی نظاموں کے بارے میں نہیں کیونکہ زمین کی تقدیر کا تعلق صرف نظام شمسی کی تقدیر سے ہے۔ نظام شمسی میں سات آسمان وہی سات سیارے ہیں جو کہ زمین اور موجوادت زمینی کے اوپر موجود ہیں؛ نہ کہ وہ نچلے سیارے جو زمین کے حکم میں آتے ہیں۔ یہ سات آسمان: مریخ، مشتری، زحل، یورینس، نیپچون، پلوٹو اور آسٹروئیڈ (بونے ستارے) کے سیارے ہیں۔

( محمدباقربھبودی، ھفت آسمان، ص١٣)

انہوں نے آگے ان تمام آسمانی سیاروں کی تفصیلی وضاحت بھی بیان کی ہے۔