شبہات جدید قرآنی

شبہات جدید قرآنی0%

شبہات جدید قرآنی مؤلف:
: ندا زہراء رضوی
زمرہ جات: فلسفہ

شبہات جدید قرآنی

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

مؤلف: علامہ ڈاکٹر محمد علی رضائی اصفہانی_ مترجم : ندا زہراء رضوی
: ندا زہراء رضوی
زمرہ جات: مشاہدے: 25
ڈاؤنلوڈ: 2

شبہات جدید قرآنی
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 29 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 25 / ڈاؤنلوڈ: 2
سائز سائز سائز
شبہات جدید قرآنی

شبہات جدید قرآنی

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے


نوٹ:اسلامی ثقافتی ادارہ " امامین الحسنین(ع) نیٹ ورک " نے اس کتاب کو برقی شکل میں، قارئین کرام کےلئےشائع کیا ہے۔

اورادارہ کی گِروہ علمی کی زیر نگرانی حُرُوفِ چِینی، فنی تنظیم وتصحیح اور ممکنہ غلطیوں کو درست کرنے کی حدالامکان کوشش کی گئی ہے۔

مفت PDF ڈاؤنلوڈ لنک

https://alhassanain.org/urdu/?com=book&id=485&view=download&format=pdf

word

https://alhassanain.org/urdu/?com=book&id=485&view=download&format=doc

نیز اپنے مفید مشورے، پیشنہادات، اعتراضات اور ہر قسم کےسوالات کو ادارہ کےایمیل ( ihcf.preach@gmail.com

دوسرا نظریہ: لقاح سے مراد بادلوں کا ایک ہونا:

مرحوم طبرسی (٥٤٨ق) سب سے پہلے فرد ہیں کہ جو اس لقاح سے بادلوں کا ایک ہوجانا مراد لیتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں:

ہواؤں کو ملوانے والا بنا کر بھیجا یعنی بادلوں کے مل جانے اور ایک ہوجانے سے بادل بارش کرتے ہیں، بس آسمان سے پانی نازل کیا یعنی بارش برسائی۔( طبرسی، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، ج٣، ص٢٣٤)

اس معنی کو مہدی بازرگان بھی قبول کرتے ہیں اور لکھتے ہیں:

آیت کی دلالت بادلوں کے ملنے اور ان کے بھر جانے پر ہے کہ اس لقاح کے نتیجے میں بارش برستی ہے…

ایک اور جگہ مزید اضافہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

لیکن یہ جان لینا چاہیے کہ مذکورہ بالا دو شرائط کی تکمیل یعنی ہوا میں آبی بخارات کا موجود ہونا اور ان کا تقطیری و saturated یعنی سیر شدہ حالت میں ہونا ان کی فضا میں موجود ہوا کو اس saturated حالت میں پہنچانے کے لئے کھچنا بادل کی تشکیل اور بارش برسنے کے لئے کافی نہیں ہے۔ ایک اور عمل یا تیسری شرط کی بھی ضرورت ہے کہ جو بادلوں کا بھرنا یا ان کے لقاح کا عمل ہے۔( stimulation germination ) کیونکہ ممکن ہے آبی بخارات اس تقطیری حالت تک پہنچنے کے بعد بھی نہ کھینچیں اور جب کھینچیں تو بخارات کے ذرے انتہائی چھوٹے ہونے کی وجہ سے ہوا میں معلق رہ جائیں نیچے نہ گریں اور بارش نہ ہو۔ مگر یہ کہ نمک کے پوشیدہ ذرات سے کہ جو سمندروں سے ہواؤں کے ذریعے لائے جاتے ہیں جذب کرنے والے نطفے تشکیل ہوں۔ یا اس سے بھی اہم بات کہ ہوا کی نمی برف ک ی کرسٹلائزڈ چادروں کے گرد کہ جو بہت زیادہ اونچائی پر پائی جاتی ہیں اور ہوا کے ذریعے چھپ جاتی ہیں، جمع رہے اور بارش کے ابتدائی چھوٹے چھوٹے ذرات ہواؤں کے ٹکرانے سے ایک دوسرے سے ملیں پھر آہستہ آہستہ موٹے ہوجائیں اور وزن زیادہ ہوجانے کی وجہ سے بادل سے گرجائیں…

زمین اور ہوا میں معلق اشیاء کے ساتھ رگڑ کی وجہ سے مختلف بادلوں کے درمیان سے بجلی کا اخراج ہوا میں موجود بجلی کی مخالفت کرتا ہے۔ اور یہ خارج ہونے والا مادہ تیز گرج چمک اور ہوا کی آئنائزیشن نیز اوزون لیئر کی تشکیل کے ساتھ ہوتا ہے۔ اور بارش کے قطروں کے بننے میں بہت کارساز ہے۔

حاصل کلام:

یہ کہ بادلوں کا بننا، افزائش پانا اور بالخصوص بارش برسنا یا برف باری ہونا عمل لقاح کے بغیر کہ جو ہوا کی دخالت سے وقوع پذیر ہوتا ہے ممکن نہیں۔

مہدی بازرگان ان مفسروں کو جنہوں نے اس مورد کو واضح نہیں کیا غلط قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ اس کیفیت کا علم نہیں رکھتے تھے۔

( مھدی بازرگان، باد و باران در قرآن، ص٥٩ و ١٢٦)

احمد امین بھی لکھتے ہیں:

آیت کی مراد وہ تاثیر ہے جو ہوا کے دو بادلوں میں مثبت اور منفی بجلی کے ملاپ اور خود بادلوں کے ملاپ سے ہوتی ہے۔

لہذا آیت مبارکہ ایک زندہ و جاوید معجزہ ہے کیونکہ یہ تقریباً تیرا سو نوے سال پہلے اس موضوع کو بیان کررہی ہے جو جدید سائنسی تحقیقات کا نچوڑ ہے۔( احمد امین راہ تکامل، ص٥٧)

آیت اللہ مکارم شیرازی بھی اس آیت کے لئے بادلوں کے ملاپ کی تفسیر کو قبول کرتے ہیں اور پودوں کے ملاپ کے نظریہ کو رد کرتے ہیں، وہ لکھتے ہیں:

لواقح، لاقح کی جمع ہے جس کا مطلب زرخیر کرنے والا ہے، یہاں ان ہواؤں کی طرف اشارہ ہے کہ جو مختلف بادلوں کو آپس میں ایک کرتی اور انہیں بارش کے لئے تیار کرتی ہیں۔

اس کے بعد پودوں کے ملاپ کی تفسیر کو رد کرنے کی دلیل پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

مندرجہ بالا آیت کو پودوں کے ملاپ پر اشارہ قرار نہیں دیا جاسکتا کیونکہ لفظ لقاح کے فوراً بعد فاء تفریع " فأنزلنا " کے ساتھ آسمان سے بارش برسنے کا ذکر ہوا ہے جو اس بات کی علامت ہے کہ ہواؤں کا ملانا بارش برسنے کا مقدمہ ہے۔

البتہ انہوں نے یہ تذکرہ بھی کیا ہے کہ بعض افراد نے اس آیت کا سائنسی معجزہ پودوں کے ملاپ کو قرار دیا ہے۔

( ناصر مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ج١١، ص٦١/ وھمو، قرآن آخرین پیامبر، ص١٩٧)

احمد عمر ابوحجر بھی تفصیلی توضیحات کے بعد اس آیت کو بادلوں کے ملاپ کے مورد میں قرار دیتے ہیں۔

( دیکھیے: احمد عمر ابوحجر، التفسیر العلمی للقرآن فی المیزان، ٤٦١۔ ٤٦٣)

تیسرا نظریہ: لقاح سے مراد پودوں اور بادلوں دونوں کا زیرگی و لقاح کا عمل:

بعض صاحبان قلم سورہ حجر کی آیت ٢٢ کو بادلوں اور نباتات دونوں کے ملاپ کے معنی میں جانتے ہیں۔( گودرز نجفی، مطالب شگفت انگیز قرآن، ص ٦٢)

ایک اہل قلم سورہ حجر آیت ٢٢ اور سورہ روم آیت ٤٧ بیان کرنے کے بعد انہیں "نر ہواؤں" پر اشارہ قرار دیتے ہیں کہ جو بادلوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جاتی ہیں اور وہ وہاں بارش میں تبدیل ہوجاتے ہیں۔ اس کے بعد اسی آیت کے ذیل میں پودوں کی پولینیشن اور زیرگی کے عمل میں ہواؤں کے کردار کو بیان کرتے ہیں اور اسے قرآن کی ایک علمی پیشن گوئی قرار دیتے ہیں۔

( مصطفی زمانی، پیشگویی ھای علمی قرآن، ص٩١۔٩٣)

محمد علی سادات بھی سورہ حجر کی آیت ٢٢ کے ذیل میں لکھتے ہیں:

جدید سائنسی و علمی معلومات کی بنیاد پر واضح ہوتا ہے کہ مذکورہ آیت کلی طور پر ہوا کو ملاپ کا وسیلے متعارف کروا کرعالم خلقت کے دو عظیم رازوں یعنی بادلوں اور پودوں کے ملاپ سے پردہ اٹھارہی ہے۔ اور سائنس و جدید علوم کے ذریعے انسان کے ان مسائل سے آشنا ہونے سے صدیوں پہلے قرآن لوگوں کو ان مسائل کی آگاہی فراہم کر رہا ہے۔ ان دو قطعی سائنسی اصولوں میں سے ایک وہی پودوں کی افزائش و زیرگی کےعمل میں ہوا کا بنیادی کردار اور دوسرا بادلوں کی افزائش کا موضوع ہے۔( محمد علی سادات، زندہ و اعجاز جاویدان، ص٣٥ و٣٦)

اس کے بعد آیت

"فَأَنزَلنَا مِنَ ٱلسَّمَاءِ مَاء ٗ "

میں" فاء " کی وجہ سے معنی کا صرف پودوں کی زیرگی کے عمل پرمنحصر ہونے کے رد میں لکھتے ہیں:

آیت کے متن میں غور و فکر کرنے اور دیگر مشابہ آیات سے اس کے موازنہ سے یہ بات بلکل واضح ہوتی ہے کہ آیت کا پہلا حصہ کلی ہے اور اس میں کوئی حصر یا خصوصی حالت نہیں پائی جاتی۔

مثال کے طور پر قرآن کی دیگر آیات کے شواہد نقل کرتے ہیں:

وَهُوَ ٱلَّذِي أَنزَلَ مِنَ ٱلسَّمَاءِ مَاء فَأَخرَجنَا بِهِۦ نَبَاتَ كُلِّ شَيۡء( سورہ انعام ٩٩)

وہی خدا وہ ہے جس نے آسمان سے پانی نازل کیا ہے پھر ہم نے ہر شے کے کوئے نکالے پھر ہری بھری شاخیں نکالیں…

اسی طرح سورہ اعراف کی ٥٧ آیت میں ارشاد ہوتا ہے:

فَأَنزَلنَا بِهِ ٱلمَاءَ فَأَخرَجنَا بِهِ ۦ مِن كُلِّ ٱلثَّمَرَٰتِ

اور پھر پانی برسادیتے ہیں اور اس کے ذریعے مختلف پھل پیدا کرتے ہیں…

مذکورہ دونوں آیات میں پانی کا فقط ایک فائدہ اور اس کے برسنے کے صرف ایک اثر کی طرف اشارہ ہوا ہے کہ جو پودوں کا اگانا ہے جبکہ ہمیں معلوم ہے پانی کے نزول کا صرف ایک یہی فائدہ نہیں ہے۔ نیز مذکورہ دونوں آیات میں لفظ اخرجنا کے شروع میں "حرف ف" اضافہ ہوا ہے۔ لہذا اگر سورہ حجر آیت ٢٢ میں آسمان سے پانی برسنے کو صرف ہوا کے ملاپ کا ایک نتیجہ جانا جائے تو زیادہ مناسب ہوگا نیز اس کے علاوہ باقی کسی صورت میں آیت کو بلاوجہ ایک مورد سے منحصر قرار دینا ہے۔( محمد علی سادات، زندہ و اعجاز جاویدان، ص٣٩)

علمی جائزہ:

١۔ آیت

" وَأَرسَلنَا ٱلرِّيَٰحَ لَوَٰقِحَ"( سورہ حجر٢٢ )

میں لفظ "لواقح" کے لئے چار معنی ممکن ہیں:

الف) اور ہم نے ہواؤں کو "بادلوں کو" جنم دینے اور حمل کرنے کے لئے بھیجا۔

ب) اور ہم نے ہواؤں کو "پودوں کو" جنم دینے اور حمل کرنے کے لئے بھیجا۔

ج) اور ہم نے ہواؤں کو "بادلوں کو" جنم دینے اور حمل کرنے والا بھیجا۔

د) اور ہم نے ہواؤں کو "پودوں کو" جنم دینے اور حمل کرنے والا بھیجا۔

لفظ " لواقح " آیت میں مطلق آیا ہے یعنی مشخص نہیں کہ یہ لازم ہے یا متعدی؛ بالفرض اگر متعدی ہو تو اس کا متعلَق بادل یا پودے ہونگے لہذا چاروں پیش کردہ احتمالات میں سے کسی ایک کی بھی نفی نہیں کی جاسکتی۔

کیونکہ آیت میں آگے ارشاد ہوتا ہے:

"فَأَنزَلنَا مِنَ ٱلسَّمَاءِ مَاء"

آسمان سے بارش کا نازل ہونا بادلوں پر ہوا بھیجنے کا نتیجہ ہے، ممکن ہے یہ قرینہ ہو کہ آیت کی مراد مندرجہ بالا پہلا یا تیسرا احتمال ہو۔ نیز یہ کہنا بھی غلط نہیں ہوگا کہ آیت کا ابتدائی حصہ ایک کلی مطلب کا بیانگر ہے جو کہ ہواؤں کا ملاپ ہے۔ لہذا اس میں بادلوں اور پودوں دونوں کا ملاپ شامل ہے اور پھر آیت کے آخر میں اس ملاپ کے صرف ایک نتیجہ یا واضح ترین مصداق یا ایسے ایک مصداق کو ذکر کیا گیا ہے جس سے انسان آشنا نہ تھا۔ اور یوں قرآن کے معجزہ کو ثابت کیا جاتا ہے۔

جس طرح پہلے بھی عرض ہوا یہ مطلب قرآن کی بعض دیگر آیات سے بھی مشابہ ہے۔ جیسے

" وَهُوَ ٱلَّذِي أَنزَلَ مِنَ ٱلسَّمَاءِ مَآء فَأَخۡرَجۡنَا بِهِ نَبَاتَ كُلِّ شَيۡء"

( سورہ انعام ٩٩ + اعراف ٥٧ "فاخرجنا" کے فاء سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں بارش کا صرف ایک اثر بیان ہوا ہے جو پودوں کو اگانا ہے، لیکن بارش کے فوائد صرف اسی تک منحصر نہیں )

چنانچہ آیت کی صرف بادلوں کے ملاپ پر اجارہ داری (نظریہ دوم) یا صرف پودوں کے ملاپ (نظریہ اول) تک منحصر ہونے پر کوئی یقینی دلیل نہیں ہے بلکہ آیت کے معنی عام ہیں۔

٢۔ مورد بحث آیت میں لقاح سے مراد بادلوں اور پودوں کا ملاپ، ہوا کے ملاپ کے صرف دو مصداق ہیں جبکہ اس سے مراد ان دونوں سے بالاتر معاملہ بھی ہوسکتا ہے۔ ممکن ہے مستقبل میں علمی ترقیوں کے نتیجے میں ہواؤں کی تاثیر دیگر موارد میں بھی ثابت ہوجائے۔

٣۔ سورہ حجر آیت ٢٢ میں بادلوں کے ملاپ پر علمی و سائنسی اشارہ قرآن کا ایک سائنسی معجزہ ہے کیونکہ یہ مسئلہ حالیہ سالوں تک بھی انسان کے لیئے واضح نہیں ہوا تھا۔ البتہ پودوں کے ملاپ پر اشارہ حیران کن مطلب ضرور ہے لیکن سائنسی معجزہ نہیں کیونکہ لوگ اسلام سے پہلے بھی بعض پودوں میں پولینیشن کے اثر سے واقف تھے۔( دیکھیے: محمدعلی رضایی اصفھانی، پژوھشی در اعجاز علمی قرآن)

٣۔ پیغمبر گرامی(ص) کا پودوں ک ےزیرگی کے عمل اور زوجیت سےآگاہ ہونا

قرآن کریم نے تمام موجودات میں زوجیت،( سورہ ذاریات ٤٩)

پودوں کی خاص زوجیت( سورہ رعد ٣/ یس٣٦) اور بادلوں کے ملاپ و زوجیت( سورہ حجر٢٢ )،کو بیان کیا ہے۔ آغاز اسلام کے عرب بھی ہر سال کھجور کے نر درخت کو پولینیشن کے عمل کیلئے مادہ کھجور پر چھڑکتے تھے۔ اسی وجہ سے پیغمبر گرامی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم طبیعی طور پر اس معاملے سے آشنا تھے۔ لیکن اہل سنت کی بعض احادیث جیسے "حدیث تأبیر النخل" میں ایسے مطالب نقل ہوئے ہیں جو اس مورد میں ابہام و شبہات کا باعث بنے۔ یعنی کیا واقعی پیغمبر گرامی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پودوں کی زوجیت اور لقاح سے آشنا تھے؟ کیا آنحضرت پودوں کی پولینیشن کو ممنوع قرار دے کر خطا سے دوچار ہوئے تھے ؟!

ڈاکٹر سروش جیسے افراد اسی امر کے پیش نظر مختلف شبہات اٹھاتے ہیں اور لکھتے ہیں:

ابن عربی

( وہی جس کی فتوحات کو پڑھنے کو آیت اللہ خمینی نے گورباچوف کو مشورہ دیا کہ وہ اسکی فتوحات کو اسلامی اور عرفانی معارف کے تاج کے طور پر پڑھے ۔)

فصوص الحکم کی فصل شیثیؑ کے ایک باب "تمام کائنات سے کامل، ناقص سے برتر نہیں"میں لکھتے ہیں: پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عربوں کو پودوں کے ملاپ میں دخالت اور کھجور کے نر پیڑوں کو مادہ پیڑوں کے ذریعے پولینیشن کے عمل سے منع فرمایا لیکن جب درختوں میں کھجور کم آئے تو آپ(ص)(نعوذوباللہ) اپنی غلطی پر متوجہ ہوئے اور فرمایا: "تم لوگ دنیوی امور کو بہتر جانتے ہو اور میں دینی امور کو تم سے زیادہ بہتر جانتا ہوں"

( عبدالکریم سروش، نامہ "بشر و بشیر" روزنامہ کارگزاران، ١٩ و ٢٠ اسفند٨٧)

حدیث تأبیر النخل کا جائزہ و تحلیل

اس حدیث کا چند زوایوں سے جائزہ لینے اور تحلیل کرنے کی ضرورت ہے:

ایک۔ حدیث کا متن:

یہ حدیث مختلف الفاظ سے نقل ہوئی ہے لیکن یہاں صرف اصلی متن کو ذکر کیا جاتا ہے:

اول: جناب عائشہ سے صحیح مسلم میں روایت ہے:

حدثنا ابوبکر بن ابی شیبه و عمرو الناقد کلاهما، عن الاسود بن عامر قال ابوبکر: حدثنا اسود بن عامر، حدثنا حماد بن سلمة عن هشام بن عروة، عن ابیه، عن عائشه و عن ثابت، عن انس ان النبی- صلی الله علیه وا ٓ ل ہ و سلم، مرّ بقوم یلقحون فقال: « لو لم تفعلوا لصلح » ؟ قال فخرج شیصا فمر بهم فقال: « ما لنخلکم » قالوا: قلت کذا و کذا. قال « انتم اعلم بامر دنیاکم »

( مسلم، صحیح، کتاب الفضائل، باب وجوب الامتثال، ح٤٣٥٦، ٤٣٥٨)

اہل سنت کے دیگر حدیثی منابع میں بھی اس حدیث کی مشابہ احادیث اس جملے کے اضافے کے ساتھ نقل ہوئی ہیں:

فقال (ص): اذا کان من امر دنیاکم فشأنکم و اذا کان شیئي من امر دینکم فاليّ

( ابی یعلی، مسند/ ثابت البنانب عن انس، مسند، ج٨، ص٥١ و٥٠٠/ابن حبان، صحیح، باب ذکر البیان اذا امرتکم بشیئی/ ابن ماجہ، کتاب الاحکام، باب تلقیح النخل، ح٢٤٦٢/ احمد بن حنبل، باقی مسند الانصار، حدیث سیرہ عائشہ، ح٢٣٧٧٣ )

دو: صحیح مسلم میں طلحہ سے نقل :

حَدّثنا قُتَيبةُ بنُ سعيدٍ الثّقض وَ أَبُو كَاملٍ الجـَحدَريُّ وَ تقارَبَا في اللَّفظِ وَ هَذا حديثُ قتيبةَ قَالَا: حدَّثنا أَبو عوانةَ، عَن سِماكٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلحةَ، عَنْ أَبيهِ، قالَ: مررتُ مع رَسُولِ اللَّـهِ ـ صلَّى اللَّه عَليهِ وَ ا ٓ ل ہ و سلَّم ـ بقومٍ عَلَى رُءُوسِ النّخلِ، فقال: مَا يصنعُ هؤلَاءِ فَقالُوا: يُلَقِّحُونَهُ يَجعلونَ الذَّكر فِي الْأُنْثى فَيلقحُ، فقالَ رَسُولُ اللَّـهِ ـ صَلَّى اللَّهم عَلَيْهِ وآل ہ وَ سَلَّمَ: مَا أَظُنُّ يُغْنِي ذَلِكَ شَيْئًا قالَ: فَأخْبِرُوا بِذلِك فَتَرَكُوهُ، فَأخْبِرَ رَسُولُ اللَّـهِ ـ صَلَّى اللَّهم عَلَيْهِ وَ سَلّم ـ بِذَلِكَ، فَقَالَ: إِنْ كَانَ يَنْفَعُهُمْ ذَلِكَ فَلْيَصْنَعُوهُ فإِنّي إِنَّما ظننتُ ظَنًّا فَلا تُؤاخذُونِي بِالظَّنِّ وَ لَكِنْ إِذَا حدّثتكُمْ عَنِ اللَّـهِ شيئًا فَخذوا بهِ فإِنّي لَنْ أَكذبَ عَلَى اللَّـهِ عَزَّ وَجلَّ" "

( مسلم، صحیح، کتاب الفضائل، حدیث سیرہ عائشہ، ح١٣٢٦/ ابن ماجہ، مسند، ح٢٤٦١ )

یہی حدیث معمولی تبدیلی کے ساتھ دیگر منابع میں بھی نقل ہوئی ہے: جیسے لوگوں نے آنحضرت کے فرمان پر عمل کیا اور فصل کے محصولات میں خسارہ اٹھایا چنانچہ آپ (ص) نے فرمایا:

"انا بشر مثلکم و الظن یخطي و یصیب "

( ابن حنبل، باقی مسند الانصار، حدیث سیرہ عائشہ، ح١٣٦٢/ ابن ماجہ، مسند، ح٢٤٦١ )

تین: رافع بن خدیج سے غیرمعروف کتابوں میں نقل :

حَدّثَني رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ قَالَ: قَدِمَ نَبِيُّ اللَّـهِ ـ صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ والهِ وَ سَلَّمَ ـ الْمـَدِينَةَ وَ هُمْ يَوبُرُونَ النَّخْلَ يَقولُ: يُلَقِّحُونَ، قَالَ: مَا تَصْنَعُونَ قَالُوا: كُنَّا نَصْنَعُهُ، قَالَ: لَوْ لَمْ تَفْعَلُوا كَانَ خَيْرًا.فَتَرَكُوها فَشیصتْ، فَذَكَر ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ فإِذَا أَمَرْتُكُمْ بِشَيْءٍ مِنْ دِينِكُمْ فَخُذُوا بِهِ وَ إِذَا أَمَرْتُكُمْ بِشَيْءٍ مِنْ دنیاکم فَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ"

( طبرانی، المعجم الکبیر، باب٢، ج٤، ص٣٧٩ )

چار: جابر سے غیر معروف کتابوں میں نقل :

قال: أبصر رسول الله ـ صلى الله عليه وسلم الناس يلقحون النخل، فقال: ما للناس. قال: يلقحون يا رسول الله! قال: لا لقاح أو ما أرى اللقاح بشيء. قال: فتركوا اللقاح، فجاء تمر الناس شيصاً، فقال رسول الله ـ صلى الله عليه وآل ہ وسلم: ما أنا بزراع ولا صاحب نخل لقحوا"

( طبرانی، المعجم الوسیط، باب من اسمہ احمد، ج ٣،ص٤١،ح١٠٤٣)

دو: سند حدیث

مذکورہ حدیث اہل سنت کے پچاس سے زیادہ حدیثی منابع میں نقل ہوئی ہے لیکن اکثر موارد میں تکرار ہوئی ہے۔ اور صحیح مسلم، ابن ماجہ، مسند احمد، صحیح ابن حبان، معجم الکبیر طبرانی، المعجم الوسیط و مسند ابی یعلی میں نقل ہوئی ہے۔

یہ روایت بیس مشہور طریق سے مندرجہ بالا کتابوں میں کہ جو پانچ راویوں عائشہ، انس، طلحہ، رافع بن خدیج اور جابر پر پلٹتی ہے۔ البتہ آخری دو راوی رافع و جابر غیر مشہور ہیں اور دونوں کا ایک ہی طریق ہے۔

( جابر، شعبی، مجال، محمد، عیاش، احمد، طبرانی )

بہرحال اس حدیث کے بعض طریق اہل سنت رجال کے نزدیک موثق سمجھتے جاتے ہیں۔ لیکن اس کی سند میں کچھ بنیادی نکتے قابل ذکر ہیں:

١۔ شیعہ حدیثی منابع میں بھی یہ حدیث نقل ہوئی ہے لیکن اسے رد کرنے کے لئے نقل کیا ہے۔

٢۔ اہل سنت کے پہلی اور دوسری صدی کے حدیثی منابع جیسے موطا بن مالک میں یہ حدیث نقل نہیں ہوئی۔ بلکہ تیسری صدی ہجری سے اہل سنت کی کتابوں میں نظر آئی ہے؛ وہ صدی کہ جس میں بنو عباس کی حکومتی قدرت عروج پر تھی اور اہل بیت علیھم السلام کو منظر عام سے غائب کرنے کی سازشوں میں سرگرم تھے۔ اسی وجہ سے کوشش کرتے تھے حکومتی امور کو لوگوں کے دین سے جدا ثابت کریں اور حکومت کو محض ایک دنیوی اور حکمرانوں کے اختیار تک کا امر قرار دیں تاکہ علماء دینی اور ان کی آڑ میں اہل بیت علیھم السلام کو ایک طرف لگاسکیں۔

٣۔ یہ حدیث اہل سنت کے تیسری صدی کے منابع جیسے مسلم اور مسند احمد میں نقل ہوئی ہے لیکن حیرت کی بات ہے کہ ڈاکٹر سروش نے اسے ساتویں صدی کے ابن عربی سے نقل کیا ہے۔ جبکہ نہ ابن عربی محدث ہے اور نہ اس کی کتاب فصوص الحکم حدیثی منبع ہے۔ نیز ابن عربی کی معروف شخصیت اور آیت اللہ خمینی کی اس کے عرفانی پہلو پر توجہ کا مطلب اس کی کتابوں کے تمام مطالب اور تمام نقل کردہ احادیث کی تائید نہیں ہے۔

کیا یہ شائستہ ہے کہ ہم ایسی حدیث کو جس میں جعلی ہونے کے امکان ہوں، غیرمحدث افراد سے نقل کریں اور اس کے جعلی ہونے کو قبول بھی کریں

( دیکھیے: عبدالکریم سروش، خط طوطی و زنبور

ڈاکٹر سروش اس خط میں اس حدیث کے جعلی ہونے کو قبول کرتے ہیں اور لکھتے ہیں: پودوں کے ملاپ کی حدیث اور کھجور کے درخت کی پولینیشن، ممکن ہے آپ کے نزدیک ضعیف یا جعلی ہو۔ لیکن بہت سی جعلی احادیث شیعہ و سنی منابع میں موجود ہیں یہ بھی ان میں سے ایک ہے بس یہ مہم نہیں؛ اصل بات یہ ہے کہ مسلمان اور ان کے علم و عرفان کے اکابر نے صدیوں ان احایث کو ساتھ رکھا اور ان پر یقین رکھا ہے نیز وہ ان احادیث کو ایمان اور نبوت کے منافی بھی نہیں جانتے تھے۔)

لیکن پھر بھی اصرار کریں کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم علمی غلطی سے دوچار ہوئے ہیں؟

کیا صرف عرفانی شخصیتوں سے ایک حدیث نقل کرلینا اس حدیث کے صحیح ہونے کا باعث ہے۔ کہ ہم ہرحال میں ان کی تقلید کریں اور ان کے مفاد کو قبول کریں، نقد و تحلیل نہ کریں! کیا اسی کو تحقیق کہتے ہیں؟!

تین: حدیث کی دلالت

اس حدیث کے متن میں متعدد اشکال موجود ہیں، من جملہ:

١۔ ان احادیث میں سے بعض قرآن کی مخالف ہیں کیونکہ حدیث جابر میں آیا ہے کہ پیغمبر گرامی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

"لا لقاح" یا "ما اري اللقاح بشیئي"

یہ قرآن کی آیت کے ظاہر سے کہ جو پودوں اور ہواؤں کے ملاپ کو بیان کررہی ہے( سورہ حجر٢٢) اور ان آیات کی دلالت التزامی سے کہ جو پودوں اور تمام موجودات میں زوجیت کو بیان کررہی ہیں،( سورہ رعد٣، یس ٣٦، ذاریات ٥١)

مخالف ہے کیونکہ زوجیت کا لازمہ ملاپ ہے۔

اس بنا پر کہ سورہ حجر، یس اور ذاریات مکی ہیں بس پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ تشریف آوری سے پہلے وحی کے ذریعے موجودات کی زوجیت اور پودوں کے ملاپ کے بارے میں اطلاعات رکھتے تھے۔ چنانچہ ان روایات کی بنیاد پر کہ جو حکم دیتی ہیں قرآن سے مخالف حدیثوں کو رد کیا جائے یہ حدیث ناقابل قبول ہوگی۔

( فیض کاشانی، وافی، ج١، ص٢٨٩۔ ٢٩٠، ح١٣/ محمدحسن حر عاملی، وسائل الشیعہ، باب ٩ من ابواب صفات القاضی، ح٢١ وغیرہ )

٢۔ متنی لحاظ سے یہ احادیث مضطرب ہیں کیونکہ ان کا متن ایک جیسا نہیں۔ بعض میں آیا ہے کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یقین سے فرمایا

"لا لقاح"

جبکہ بعض میں ہے اپنے گمان کی بنیاد پر فرمایا تھا۔ احادیث کے آخر کے الفاظ

"اعلم بامر دنیاکم، فإذا أَمرتكم بشيءٍ من دنیاکم فإنما أنا بشر، ما أنا بزراع"

دنیوی اور دینی امور بھی آپس میں مربوط نہیں۔

بعض دیگر نقل میں بھی آیا ہے: اگر لقاح و ملاپ سے نفع ہو انجام دو، بعض میں ہے اس میں کوئی نفع و خیر نہیں۔

٣۔ یہ احادیث بعض اثبات شدہ دلائل کی بنیاد پر کہ جو عصمت کو تمام دینی و دنیوی امور میں شامل کرتی ہیں

( دیکھیے: حلی، کشف المراد فی شرح تجرید الاعتقاد، ص٣٤٩ )

پیغمبر گرامی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عصمت کے منافی ہیں۔ کیونکہ ان میں بلکل واضح طور پر پیغمبر (ص) کی خطا کا ذکر ہے۔

٤۔ یہ احادیث ایک اور پہلو سے بھی قرآن اور سنت کے برخلاف ہیں کیونکہ اول یہ کہ آیات‌ اور روایات و سنت کی بنیاد پر رسول گرامی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمام دینی و دنیوی امور میں لوگوں کے لئے مرجع ہیں۔

آنحضرت لوگوں کے حکومتی، سیاسی، قضاوتی اور جنگی امور وغیرہ میں رہنمائی کرتے تھے کہ جو سب کے سب دنیوی امور ہیں۔ چنانچہ جس طرح آیات قرآن اقتصادی و سیاسی مسائل اور ان میں مسلمانوں کا وظیفہ بیان کرتی اور دنیوی امور میں رہنمائی کرتی ہیں۔

اسی طرح پیغمبر (ص) کی اطاعت بھی مختلف آیات قرآنی جیسے

أَطِيعُواْ ٱللَّهَ وَأَطِيعُواْ ٱلرَّسُولَ" ( سورہ نساء٥٩ /انفال ٤٩)

وَمَا ءَاتَىٰكُمُ ٱلرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَىٰكُم عَنهُ فَٱنتَهُواْ"( سورہ حشر٧ )

کی بنیاد پر کلی ہے اور تمام پہلوؤں کو شامل کرتی ہے۔

اصولی طور پر قرآن اور احادیث میں ہدایتی مسائل لوگوں کے دنیوی اور اُخروی دونوں امور کو شامل ہیں اور اسلام میں یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نہیں جبکہ مذکورہ احادیث میں لوگوں کے دینی و دنیوی امور کو الگ الگ کر کے پیغمبر گرامی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو صرف دینی امور میں مرجع قرار دے رہی ہیں اور دنیوی امور میں عام افراد کو شائستہ قرار دے رہی ہے۔

٥۔ یہ احادیث پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان اور شخصیت کے منافی ہیں کیونکہ کوئی عام شخص بھی اپنی خام خیال اور قیاس کی بنیاد پر لوگوں کی کھیتی باڑی کے امور میں دخل اندازی کر کے ان کے مالی نقصان کا باعث نہیں بنتا پیغمبر خدا سے تو ہرگز یہ توقع نہیں رکھی جاسکتی۔ اگرچہ یہ ضروری ہے کہ خصوصی امور کو اس کے ماہرین پر چھوڑا جائے لیکن جب کبھی پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یا معصومین علیہم السلام لوگوں کے دنیوی امور میں مداخلت کرتے ہوئے نادانی اور مغالطہ کا شکار نہ ہوتے تھے۔ یعنی یہ ممکن ہے کہ مداخلت نہ کریں لیکن اگر اظہار نظر کرتے درست اور حق بات کرتے تھے ورنہ ان کی ساکھ داغدار ہوجاتی اور لوگوں کا ان پر سے اعتماد اٹھ جاتا۔

نتیجہ

حدیث تابیر النخل سندی اور متنی لحاظ سے مشتبہ ہے۔ عین ممکن ہے بنوعباس کے جابر حکمرانوں نے لوگوں کے دین اور دنیا کو جدا جدا قرار دینے کے غرض سے اسے گھڑا ہو۔ چنانچہ یہ حدیث پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علمی و سائنسی غلطی کے مرتکب ہونے کے دعوے کو ثابت نہیں کرتی۔ پیغمبر گرامی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نہ صرف مکہ میں نازل شدہ آیات سے پودوں کی زوجیت و ملاپ کی معلومات رکھتے تھے بلکہ اس زمانہ کے عرف میں رائج عربوں کے طریقہ کار کے ذریعے بھی اس کا علم رکھ سکتے تھے۔

ھ) قرآن میں انسانی شخصیت کا دوسرا پہلو (صدر و قلب)

قرآن کریم میں تقریباً ١٠٠ بار لفظ " قلب " اور ٤٤ بار لفظ " صدر " اور ان کے مشتقات آئے ہیں۔ ہر علم اور کتاب اپنی خاص اصطلاحات رکھتے ہیں اسی وجہ سے ان کیلئے اصطلاح نامے تیار کیے جاتے ہیں۔

قرآن کریم بھی اپنی خاص اصطلاحات رکھتا ہے جیسے مؤمن یعنی ایمان رکھنے والا، کافر چھپانے والا، جن چھپا ہوا وغیرہ لہذا ان معنی کو فقط لغوی معنی تک محدود نہیں کرسکتے ہیں۔ بلکہ ضروری ہے کہ قرآن میں تلاش اور آیات کے جائزے کے بعد لغوی معنی کے ساتھ ساتھ اصطلاحی معنی بھی جانے جائیں۔ یہ وہ کام ہے جو قرآن کے لغت نگاروں نے سینکڑوں سال پہلے انجام دیا ہے۔

راغب اصفہانی صدر، عقل، قلب اور ان کے باہمی رابطے کے بارے میں کہتے ہیں:

جب بھی خداوند "قلب" کو ذکر کرتا ہے اس سے مراد علم اور عقل ہے مثلاً:

إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَذِكرَىٰ لِمَن كَانَ لَهُ ۥ قَلۡبٌ۔ ( سورہ ق ٣٧)

اور جب کبھی " صدر " کا ذکر کرتا ہے علم، عقل اور باقی انسانی قوتیں جیسے ہوا و ہوس، غصہ وغیرہ کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اور سینوں میں موجود

"قلب" وَلَٰكِن تَعمَى ٱلقُلُوبُ ٱلَّتِي فِي ٱلصُّدُور" (سور ہ حج ٤٦)

سے مراد وہ عقل ہے کہ جو دیگر قوتوں سے متاثر ہو اور ہدایت کرنے والی نہ ہو۔( راغب اصفہانی، المفرادات فی غریب القرآن، مادہ صدر )

اس بنا پر لفظ عقل، قلب، نفس، فؤاد، روح اور صدر ایک ہی حقیقت یعنی انسان کی شخصیت کا دوسرا پہلو ہیں۔ بس انہیں فکر و فہم اور برے کاموں سے روکنے کے لحاظ سے عقل کہا جاتا ہے، مسلسل تبدیلی کی وجہ سے قلب کا نام دیا جاتا ہے اور بدن کے سانس لینے کے اعتبار سے کہ جو انسان کی خوراک کی طرح ہے نفس کہا جاتا ہے۔ اور نفس وہی روح و ذات ہے۔( ایضا، مادہ نفس )

نیز روح لطیف ہونے کی بنا پر اور فؤاد انسان کے دل سوز ہونے کی وجہ سے کہا جاتا ہے۔ اسی طرح صدر سینہ کے معنی میں ہے لیکن قرآن میں انسانی شخصیت کے دوسرے پہلو یعنی عقل، روح اور نفس کا کنایہ ہے۔

( مندرجہ بالا آیت کی تفاسیر جیسے سید محمد حسین طباطبائی، المیزان فی تفسیر القرآن، ج١٤، ص ٣٨٩ رجوع کریں۔ )

نتیجہ

١۔ جدید علوم اور قرآن میں تضاد و ٹکراؤ نہیں ہے کیونکہ قرآن میں قلب اور صدر کی اصطلاح میڈیکل سائنس میں قلب و صدر کی اصطلاح اور بدن کی تشریح مشترک لفظی ہے۔

٢۔ ڈاکٹر سروش جو اشکال کرتے ہیں:

" ادراکات کا مرکز دماغ کے بجائے دل کو قرار دینا… یہ سب اس زمانے کا ادہورا علم ہے" صحیح نہیں ہے۔

( دیکھیے: عبدالکریم سروش، خط، "طوطی و زنبور" )

کیونکہ اول تو قرآن دماغ کے ادراک کی نفی نہیں کررہا نیز یہ کہ قرآن کی قلب سے مراد وہی انسانی عقل ہے۔ ضروری تھا کہ قرآنی اصطلاحات کا درست طریقے سے جائزہ لیا جاتا اور سمجھا جاتا ۔

٣۔ یہ احتمال بھی موجود ہے کہ انسان کے قلب اور سینہ کا اس کی عقل و روح سے رابطہ ہو کہ جسے اب تک جدید علوم نے کشف نہ کیا ہو اور ہمارا علم ناقص ہو۔ با الفاظ دیگر درک ایک غیر مادی امر ہے کہ جو انسان کے بدن کے کچھ حصے جیسے دماغ یا قلب سے تعلق رکھتا ہے۔

تیسرا باب: شناختِ قرآن

مقدمہ

شناختِ قرآن یعنی نزول قرآن سے لے کر اس کے فہم و تفسیر تک کی ابحاث، جو کہ بہت زیادہ ہیں اور علومِ قرآن، تفسیری مبانی و قواعد اور تفسیری روشوں کی کتابوں میں بیان ہوتی ہیں۔

( دیکھیے: محمد علی رضایی اصفہانی، منطق تفسیر قرآن ١، مبانی و قواعد تفسیر/ منطق تفسیر قرآن٢، روش ھا و گرایش ھای تفسیر قرآن )

چنانچہ یہاں صرف وہ ابحاث جن پر ڈاکٹر سروش کے کلام میں اشارہ ہوا ہے مختصراً بیان کی جائیں گی۔

الف) پیغمبر(ص):پر قرآن کے الفاظ اور معنی دونوں کا نزول

اس مورد میں دو نقطہ نظر کے ذریعے استدلال کیا جاسکتا ہے:

الف۔ درون متنی نقطہ نظر (خود قرآن میں)

قرآن کی تمام کی تمام عبارتیں اور کلمات خدا کی جانب سے نازل ہوئے ہیں؛ نہ کہ صرف اس کے معنی۔

قرآن کریم خدا کا کلام ہے اور اس کے الفاظ اور معنی پیغمبر(ص)پر وحی ہوئے ہیں اور آنحضرت(ص)نے بغیر کسی رد و بدل کے اسے لوگوں تک پہنچایا ہے۔ یہ نظریہ ظاہر قرآن سے اخذ شدہ ہے۔( مثلاً سورہ حاقہ ۴٠ )

یہاں تک کہ پیغمبر اکرم(ص) کو ہوشیار کیا گیا کہ اگر اپنے پاس سے کسی بات کو خدا کی جانب نسبت دیں گے تو آپ کی زندگی کا آخری دن آپہنچے گا۔

إِنَّهُ ۥ لَقَوۡلُ رَسُول كَرِيم وَمَا هُوَ بِقَوۡلِ شَاعِرۚ قَلِيلا مَّا تُؤۡمِنُون وَلَا بِقَوۡلِ كَاهِن قَلِيلا مَّا تَذَكَّرُونَ

تَنزِيل مِّن رَّبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَ وَلَوۡ تَقَوَّلَ عَلَيۡنَا بَعۡضَ ٱلۡأَقَاوِيلِ لَأَخَذۡنَا مِنۡهُ بِٱلۡيَمِينِ ثُمَّ لَقَطَعۡنَا مِنۡهُ ٱلۡوَتِينَ

( سورہ حاقہ ۴٠ ۔ ۴٦ )

کہ یہ ایک محترم فرشتے کا بیان ہے اور یہ کسی شاعر کا قول نہیں ہے ہاں تم بہت کم ایمان لاتے ہو۔

اور یہ کسی کاہن کا کلام بھی نہیں ہے جس پر تم بہت کم غور کرتے ہو۔ یہ رب العالمین کا نازل کردہ ہے۔ اگر یہ پیغمبر ہماری طرف سے کوئی بات گڑھ لیتا تو ہم اس کے ہاتھ کو پکڑلیتے۔ اور پھر اس کی گردن اڑا دیتے۔

اس وجہ سے پیغمبر گرامی(ص)وحی الہی کے ابلاغ میں اس قدر باریک بینی سے کام لیتے تھے کہ لفظ "قل کہہ دیجیے" کو بھی نقل فرماتے تھے، جیسے

قُل هُوَ ٱللَّهُ أَحَدٌ( سورہ اخلاص ١) قُل أَعُوذُ بِرَبِّ ٱلنَّاسِ( سورہ ناس ۱) قُلۡ أَعُوذُ بِرَبِّ ٱلۡفَلَقِ( سورہ فلق ١)

جبکہ رواج یہ ہے کہ اگر کوئی کسی دوسرے کی طرف سے پیغام لاتا ہے لفظ "کہہ دیجیے" کو حذف کردیتا ہے؛ لیکن پیغمبر(ص)امانت کی حفاظت اور اس لیے کہ یہ لفظ نازل ہوا ہے اور قرآن کا حصہ ہے، ہمیشہ اس لفظ کو بھی نقل فرماتے تھے۔

بس ایسا نہیں تھا کہ پیغمبر(ص)پر معنی نازل ہوئے ہوں اور الفاظ آپ کے ہوں۔

بلکہ قرآن کا لفظی معجزہ یعنی فصاحت و بلاغت بھی اسی مطلب پر موقوف ہے۔ پیغمبر(ص)کی احادیث کا قرآن کے معجز نما الفاظ سے فرق رکھنا بھی خود اس مطلب پر گواہ ہے کہ قرآن کسی انسان کا کلام نہیں ہے۔

با الفاظ دیگر قرآن اور احادیث دونوں کے معنی خدا کی جانب سے ہیں لیکن ان دونوں میں یہ فرق ہے کہ احادیث کے الفاظ پیغمبر(ص)کے ہیں اور قرآن کے الفاظ خدا کی جانب سے ہیں۔

دوسری جانب سے، ہر وہ مطلب جو قرآن کے نزول کے وقت پیغمبر گرامی(ص)پر وحی ہوتا تھا آپ زبان پر جاری کرتے تھے؛ یہاں تک کہ آپ کو حکم دیا گیا کہ جب تک آپ پر تمام آیات نازل نہ ہوجائیں جلدی نہ کریں اور انہیں ہمارے قرائت کردینے کے بعد قرائت کریں۔

لَا تُحَرِّك بِهِ لِسَانَكَ لِتَعجَلَ بِهِۦٓ إِنَّ عَلَيۡنَا جَمۡعَهُ ۥ وَقُرۡءَانَهُ ۥ فَإِذَا قَرَأۡنَٰهُ فَٱتَّبِعۡ قُرۡءَانَهُ ۥ ثُمَّ إِنَّ عَلَيۡنَا بَيَانَهُ ۥ( سورہ قیامت ١٦ تا ١٩)

دیکھیے آپ قرآن کی تلاوت میں عجلت کے ساتھ زبان کو حرکت نہ دیں۔ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اسے جمع کریں اور پڑھوائیں۔ پھر جب ہم پڑھوادیں تو آپ اس کی تلاوت کو دہرائیں۔ پھر اس کے بعد اس کی وضاحت کرنا بھی ہماری ذمہ داری ہے۔

یہ آیات قرائت اور قرآن کے پڑھانے کو اس کے نازل کرنے والے کی جانب نسبت دے رہی ہے اور پیغمبر(ص)کو قرائت کا تابع متعارف کروا رہی ہیں۔

واضح ہے کہ قرائت قرآن اس کے الفاظ پر مشتمل ہے۔ اس بنا پر قرآن کا تفسیری مبنا اس کی عین عبارت و الفاظ ہیں کہ جو وحی کے ذریعے پیغمبر(ص)تک پہنچے ہیں اور آپ سے تواتر سے ہم تک پہنچے ہیں۔

ب۔ برون متنی نقطہ نظر (قرآن کے باہر سے)

پیغمبر گرامی(ص)عقلی اور نقلی دلائل کی بنا پر معصوم ہیں۔

( عقائد و علم کلام کی کتب کی جانب رجوع کریں مثلاً: حلی، کشف المراد من شرح تجرید الاعتقاد، ص٣۴٩ )

اور وحی کے فہم اور اس کے ابلاغ میں خطا سے دوچار نہیں ہوسکتے۔ کیونکہ ان کی خطا ان کے فرامین اور وحی الہی سے لوگوں کا اعتماد اٹھ جانے کا باعث بنے گی۔

جو لوگوں کی گمراہی کا سبب بنے گا، اس وجہ سے عقلی تقاضہ ہے کہ وحی کا واسطہ بننے والا معصوم ہو تاکہ لوگوں کے لیے مورد اعتماد ہو اور انہیں گمراہ نہ کرے ورنہ حکمت خدا کے خلاف ہوگا اور غرض حقیقی میں نقض کا باعث بنے گا۔ چنانچہ اگر پیغمبر(ص)معنی یا الفاظ قرآن میں معمولی سا رد و بدل بھی کریں قرآن کی حجیت اور معجزہ ہونے سے ہاتھ اٹھ جائے گا۔ نیز یہ آپ کی عصمت سے بھی ناسازگار ہے۔