امامت اورائمہ معصومین کی عصمت

امامت اورائمہ معصومین کی عصمت0%

امامت اورائمہ معصومین کی عصمت مؤلف:
زمرہ جات: امامت
صفحے: 271

امامت اورائمہ معصومین کی عصمت

مؤلف: رضاکاردان
زمرہ جات:

صفحے: 271
مشاہدے: 19053
ڈاؤنلوڈ: 1014

تبصرے:

امامت اورائمہ معصومین کی عصمت
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 271 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 19053 / ڈاؤنلوڈ: 1014
سائز سائز سائز
امامت اورائمہ معصومین کی عصمت

امامت اورائمہ معصومین کی عصمت

مؤلف:
اردو

اس لحاظ سے امامت سے مربوط آیات کی بحث و تحقیق میں یہ آیہ کریمہ بھی نمایاں اور قابل توجہ ہے۔ اس آیہ شریفہ کے سلسلہ میں بحث و تحقیق چند محوروں پرمشتمل ہے:

۱ ۔آیت کے مفردات اور مفاہیم کی تحقیق۔

۲ ۔مذکورہ آیت کااس سے پہلے والی آیات سے ربط

۳ ۔اس آیت کامسئلہ رہبری سے ربطہ اور اس کے قرائن کی چھان بین پڑتال۔

۴ ۔علما ء ومفسرین کے بیانات

۵ ۔شیعہ،سنی احادیث وروایات

آیت کے بارے مفردات میں بحث

اس حصہ میں جن الفاظ کی تحقیق ضروری ہے وہ لفظ”صدق“اور”صادقین“ہیں۔اس سلسلہ میں پہلے ہم ان کے لغوی معنی پر ایک نظرڈالیں گے اور ان کے بعد اس کے قرآنی استعمالات پر بحث کریں گے۔

استعمالا ت لغوی

اس سلسلہ میں ہم دو اہل لغت کے بیانات کی طرف اشارہ کرتے ہیں:

۱ ۔ ابن منظور نے ”لسان العرب(۱) “ میں لفظ”صدق“کے مختلف استعمالات کویوں بیان کیاہے:

الصدق:نقیض الکذب،سچ،جھوٹ کی ضدہے۔

رجل صدق:نقیض رجل سوء ۔اچھاانسان برے انسان کی ضدہے۔یعنی اچھائی اور برائی کی صفتیں ایک دوسرے کی ضدہیں۔

وکذالک ثواب صدق وخمارصدق،اسی طرح کہا جاتا ہے اچھا لباس اوراچھابرقعہ۔

ویقال: رجل صدق،مضاف بکسرالصادومعناه نعم الرجل هو نیزاسی

____________________

۱۔لسان العرب ،ج۱۰،ص۳۰۹۔۳۰۷

۱۶۱

طرح حالت اضا فت میں صاد کے کسرے کے ساتھ استعمال ہو تا ہے”رجل صدق“یعنی وہ ایک اچھا مردہے۔

رجل صدق اللقاء وصدق النظر، خوش اخلاق مرداور خوش بین انسان۔

والصّدق:بالفتح الصلب من الرماح وغیرها، ورمح صدق:مستو،وکذالک سیف صدق :

صاف اورسیدھا نیزہ ،اوراسی طرح سیدھی تلوارکو بھی صدق کہتے ہیں۔

عن ابن درستویہ:قال إنّما لصدق الجامع للاوصاف المحمودة۔ابن درستویہ کا کہنا ہے کہ”صدق“اس شخص کوکہاجاتاہے جس میں تمام پسندیدہ اوصاف موجودہوں۔

قال الخلیل:الصدق:الکامل کلّ شیءٍ ۔خلیل نے کہاہے کہ ہرمکمل چیزکو”صدق“کہتے ہیں۔

۲ ۔”مفردات قرآن(۱) “ میں راغب کاکہناہے:ویعبّرعن کل فعل فاضل ظاهراًوباطناًًبا لصدق،فیضاف إلیه ذٰلک الفعل الّذی یوصف به نحو قوله ۔۔۔“ہروہ کام جوظاہروباطن کے اعتبارسے اچھا اور پسندیدہ ہو اسے”صدق“ سے تعبیر کیا جاتا ہے اوراس کے موصوف کی”صدق“کی نسبت )اضافت) دی جاتی ہے۔استعما لات قرآ نی کے وقت ہم اس کے شاہدپیش کریں گے۔

استعمالات قرآنی

قرآن مجید میں ہمیں بہت سی ایسی آیات نظر آتی ہیں جن میں لفظ”صدق“کوایسی چیزوں کی صفت قرار دیا گیاہے جوگفتگووکلام کے مقولہ نہیں ہےں۔نمونہ کے طور پر درج ذیل آیات ملاحظ ہوں:

____________________

۱۔مفردات فی القرآن،ص۲۷۷،دارالمعرفة،بیروت

۱۶۲

( وبشّرالّذین آمنوا اٴنّ لهم قدم صدق عندربّهم )

(سورہ یونس/ ۲)

اس آیہء شریفہ میں ’ صدق“،”قدم“کی صفت واقع ہے۔

ولقدبوّاٴنا بنی اسرائیل مبوّاٴصدق )سورئہ یونس/ ۹۳)

اس آیہء شریفہ میں ”صدق“کو”جگہ“کی صفت قرار دیا گیاہے۔

وقل ربّ اٴدخلنی مدخل صدق واٴخرجنی مخرج صدق سورئہ اسراء/ ۸۰)

اس آیہء شریفہ میں ”مدخل“ و ”مخرج“ یااسم مکان)داخل اورخارج کرنے کی جگہ) ہیں یا مصدر) خودکوداخل کرنایاخارج کرنا)ہیں۔بہرحال کسی طرح بھی مقولہ کلام سے نہیں ہے۔

فی مقعد صدق عند ملیک مقتدر (سورئہ قمر/ ۵۰)

اس آیہ شریفہ میں ”صدق“،”مقعد“)جگہ اوربیٹھنے)کی صفت ہے۔

( لیس البرّاٴن ُتوَلّوُاوجوهکم قبل المشرق والمغرب ولکنّ البرّمن آمن باللّٰه والیوم الآخروالملائکة والکتاب والنبیّین وآتی المال علی حبّه ذوی القربی والیتامیٰ والمساکین وابن السبیل والسائلین وفی الرقاب واقام الصلوة وآتی الزکوةوالموفون بعهدهم إذاعاهدواوالصابرین فی الباٴسائ والضرّاء وحین الباٴس اولئک الّذین صدقواواٴُولئک هم المتّقون ) )سورئہ بقرہ/ ۱۷۷)

اس آیہء شریفہ میں خداوندمتعال نے پہلے نیکیوں کوعقائد کے شعبہ میں یعنی خدا،قیامت،فرشتوں،آسمانی کتابوں اورانبیاء پرایمان کے سلسلہ میں اس کے بعدعمل کے شعبہ میں یعنی اپنے رشتہ داروں،محتاجوں،ابن سبیل اورسائلوں کوانفاق کرنا،خداکی راہ میں بندوں کو آزادکرنانیزایفائے عہدکرنا وغیرہ وغیرہ کی طرف اشارہ کیاہے۔اس کے بعداخلاقی شعبہ میں یعنی مشکلات و پریشاں نیوں میں صبروتحمل استقامت و پائیداری کا مظا ہرہ کر نے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔اورمذکورہ تینوں شعبوں میں نیکیاں کرنے والوںصد ق وتقویٰ کے ذریعہ تعریف کرتاہے۔

۱۶۳

لغت اورآیات کریمہ میں مذکورہ استعمالات کے پیش نظرواضح ہوجاتاہے کہ”صدق“کاایک ایساوسیع مفہوم ہے کہ جس کا دائرہ صرف مقولہء،کلام،وعدہ وخبرتک محدود نہیں ہے،بلکہ یہ فکرواندیشہ عقا ئد و اخلا قیات نیزانسانی رفتارجیسے دیگر مواردپربھی اطلاق کرتا ہے اوراس کااستعمال ان موا رد میں حقیقی ہے۔

اس آیت کا گزشتہ آیات سے ربط

اس آیت سے پہلی والی آیت )جیساکہ تفسیر وحدیث کی کتابوں میں آیا ہے )ان مومنین کے بارے میں ہے کہ جنہوں نے پیغمبراسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے ہمراہ جنگ تبوک میں جانے سے انکار کیا تھا اوراس کے بعدنادم اورپشیمان ہوکرانھوں نے توبہ کرلی تھی،مسلمانوں نے پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے حکم سے ان کے ساتھ اپنے رشتہ نا طے توڑ دئے تھے،یہاں تک کہ ان کی بیویوں نے بھی ان سے بات کرنا چھوڑدی تھی۔

انہوں نے جب شہر سے باہرنکل کربارگاہ الٰہی میں التماس والتجا کی اور خدا کی بار گاہ میں توبہ کی تو خدا وند متعال نے ان کی توبہ قبول کی اوروہ پھرسے اپنے لوگوں اوراپنے خانوادوں میں واپس لوٹے۔

بعد والی آیت میں بھی خدا وند متعال فرماتا ہے”اہل مدینہ اوراس کے اطراف کے لوگوں کو نہیں چا ہئیے کہ پیغمبر خدا (ص)کی مخالفت اوران سے رو گردانی کریں۔ اس کے بعد خدا کی راہ میں مشکلات و پریشا نیاں،بھوک وپیاس کی سختیاں برداشت کرنے کی قدرواہمیت کی طرف بھی اشارہ کرتاہے۔

اس آیہء شریفہ)زیر بحث آیت)میں مؤمنین کومخاطب کرکے انھیں تقویٰ و پر ہیز گاری کا حکم دیا گیا ہے،اورانھیں اس بات کا پیغام دیا گیا ہے کہ وہ”صادقین“کے ساتھ ہوجائیں۔اب دیکھنا یہ ہے کہ آیہء شریفہ میں ”صادقین“سے مراد کون لوگ ہیں؟

۱۶۴

اس آیت کا ائمہ معصومین(ع)کی امامت سے ربط

ابتدائی نظر میں )جیسا کہ”صدق“ کا مفہوم بیان کرتے ہوئے اشارہ کیا گیا ) ایسالگتاہے کہ جملہ کونوامع الصادقین سے مرادسچوں کے ساتھ ہونے کاحکم ہے۔

قابل غور بات اورجو چیز ضروری ہے وہ سچ بولنااورجھوٹ بولنے سے پر ہیز کر نا ہے۔ لیکن سچ بولنے والوں کے ساتھ ہونا یہ شر عی واجبات میں سے نہیں ہے،جبکہ سچوں کے ساتھ ہونے کا یہ آیہ شریفہ میں حکم ہواہے اور یہ امروجوبی ہے اور جملہ( کونوامع الصادقین ) کا وقوع”إ تقوااللّٰہ“کے سیاق میں ہے کہ جس میں تقوائے الٰہی کا حکم تھالہذایہ بیشک وجوب کے لئے ہے اوراس سے وجوب کی مزیدتاکیدہوتی ہے۔

مفہوم صدق کی وسعت کے پیش نظرمقولہ کلا م و گفتگو تک محدودیت نہیں ہے بلکہ اس کا دائرہ فکرو عقائد،اخلاق وکردار نیزرفتار و عمل تک پھیلا ہواہے کہ جس میں صادقین سے ہونے کو آیہء کریمہ میں واجب قرار دیا گیاہے،ہم اس نتیجہ پرپہنچتے ہیں کہ صادقین کے ساتھ ہونے سے مرادجسمانی معیت اورہمراہی نہیں ہے بلکہ ہمراہی ہراس چیز میں ہے جس میں صحت وسچائی پا ئی جاتی ہو اورآیہء کریمہ میں صادقین سے مرادوہ لوگ ہیں جوصدق مطلق کے مالک ہیں نہ مطلق صدق کے۔او رصدق مطلق وہ ہے جوہر جہت سے سچااورصحیح ہواورفکروعقائد،گفتاروکرداراور اخلاقیات کے لحاظ سے کسی طرح کا انحراف نہ رکھتاہو۔اس طرح کا شخص معصوم کے علاوہ کوئی اور نہیں ہوسکتاہے۔اس طرح کے انسان کے ساتھ ہونے کامطلب اس کے افکار و عقائد، کردارواخلاق کی پیروی کر نا ہے۔

۱۶۵

چونکہ مسلمانوں کااس بات پراجماع ہے کہ چودہ معصومین علیہم السلام کے علاوہ کوئی صاحب عصمت اور صدق مطلق کا مالک نہیں ہے،اس لئے”صادقین“ سے مرادپیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ائمہ معصومین علیہم السلام ہوں گے۔

علماء ومفسرین کے بیانات کی تحقیق

اس سلسلہ میں ہم صرف دوبزرگ علماء کے بیانات کی طرف اشارہ کرتے ہیں:

علامہ بہبہانی کا قول:

پہلا قول شیعہ امامیہ کی ایک عظیم شخصیت وبزرگ عالم دین،گراں قدرمفکرمرحوم علامہ محقق سید علی بہبہانی کاہے۔وہ اپنی عظیم کتاب”مصباح الھدایہ“)کہ جوواقعاًامامت کے بارے میں ایک بے نظیرکتاب ہے )میں آیہء شریفہ کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

”وقداستفاضت الروایات من طریقناوطریق العامةاٴنّ الصادقین هم اٴهل بیت النبیّی المطهّرون“وقد ذکرفی غایة المرام عشرةخبارمن طریقنا وسبعة اٴخبار من طریق العامة(۱)

اٴقول:ویدّل علی اختصاص الصادقین فی الآیةالکریمه فی الاٴئمّة المعصومین الطبّین من آل محمد( ص) وعدم إرادة مطلق الصادقین منهکمادلّت علیه الروایات المستفیضة من الطر فین:اٴنّه لوکان المراد بالصدق مطلق الصدقالشامل لکلّ مرتبة منه المطلوب من کلّ مؤ من،وبالصادقین المعنی العام الشامل

____________________

۱۔نمایة المرام ،ص۲۴۸

۱۶۶

لکلّ من اتّصف بالصدق فی اٴیّ مرتبة کان،،لوجب اٴن یعبّرمکان”مع“ بکلمة”من“ضرورةاٴنّه یجب علی کلّ مؤمن اٴن یتحرزعن الکذب و یکون مع الصادقینفالعدول عن کلمة ”من“إلی”مع“ یکشف عن اٴن المراد ”باالصدق“مرتبةمخص صةو”باالصادقین“ طائفة معینةومن المعلوم اٴنّ هذه المرتبة مرتبة کاملة،بحیث یستحقالمتصفون بها اٴن یتبعهم سائر المؤمنین جمیعاً،وهذاالمرتبة الکاملة التی تکون بهذه المثا بة لیست إلاّ العصمة والطهارة التی لم یتطرّق معها کذب فی القول والفعل،إذفی الاٴمّة من طهّره اللّٰه تعالی واٴذهب عنه الرجس!وهم اٴهل بیت النبیّی بنصّایة التطهیرواتّفاق جمیع المسلمین

فلواٴُرید من الصّادقین غیر المعصومین لزم اٴن یکون المعصومون ماٴمورین بمتا بعة غیر المعصومین المتطرّق فیهم الکذب و لو جهلاً اٴو سهواً و هو قبیح عقلاً ، و تعیّن اٴن یکون المراد الصادقین المطهّرین الحائزین جمیع مراتب الصدق قولاً و فعلاً،ولا یصدق ذلک إلاّ علی اٴهل بیت النبیّیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم الّذین اٴذهب اللّٰٰه عنهم الرجس و طهرَّهم تطهیراً، و إلیه یشیر قول مولانا الرضا( علیه السلام) ”هم الاٴئمّة الصدیقون بطا عتهم“(۱)

و یدلّ علی کونهم اٴئمّة کمانبّه علیه مولانا الرضا( علیه السلام) فی هذه الروایة اٴمره سبحانه وتعالی جمیع المؤ منین بعد اٴمرهم بالاٴتّقاء عن محارمه باٴن یکونوا مع الصادقین، و لا یصدق الکون

___________________

۱۔فی المصدر:”والصدیقون بطا عتہم “فراجع

۱۶۷

معهم إلا باٴن یکونوا تحت طاعتهم ،متحرّزین عن مخا لفتهم ولیس للإمامة معنی إلاّافتراض طاعة الإمام علی الماٴموم من قبله تعالی،بل لا تعبیراٴقرب إلی معنی الإمامة من اٴمر المؤمنین باٴن یکونوامعه،إذ حقیقة الإئتمام عبارة عن متابعة الماٴموم إمامه وعدم مفارقته عنه ۔(۱)

شیعہ اور اہل سنّت سے مستفیض(۲) روایتیں نقل ہوئی ہیں کہ آیہء شریفہ میں صادقین سے مراد)پیغمبراسلام (ص))کے اہل بیت علیہم السلام ہیں۔مرحوم بحرانی نے اپنی کتاب ”غایة المرام“ میں شیعہ طریقہ سے دس احادیث اورسنی طریقہ سے سات احادیث نقل کی ہیں۔

آیہء کریمہ میں ”صادقین“سے مراد)جیساکہ فریقین کی احادیثوں میں ایاہے )ائمہء معصومین علیہم السلام ہیں اس کی دلیل یہ ہے کہ اگر ”صدق“)سچائی)کہ جو”صادقین“کے عنوان میں ماخوذہے،اس سے مرادمطلق سچائی ہے کہ جوہرمرتبہ کو شامل ہے اور”صادقین“کے زمرے میں ہروہ شخص شامل ہوکہ جو صفت صدق کے کسی بھی مرتبہ سے متصف ہے تو آیہء کریمہ کی تعبیر ”کو نوا من الصا دقین“ہونی چا ہئے تھی اوراسصورت میں اس آیت کے معنی یہ ہو تے کہ ہرمسلمان پر ضروری ہے کہ وہ سچ بو لنے والوں سے ہو اورجھوٹ سے پرہیزکرے۔

یہ جو”مع الصادقین“تعبیرہے،یہ خوداس بات کی دلیل ہے کہ”صدق“سے مراد ایک خاص مرتبہ و مقام ہے اور”صادقین“سے مرادایک مخصوص اور ممتازگروہ)اورصادقین کے ساتھ ہونے کا معنی ان کی پیروی کرنا)ہے۔

صفت صد ق کا کا مل اور نہائی مرتبہ وہی عصمت وطہارت ہے جس کی وجہ سے گفتار وکردار میں سچائی مکمل طورپرمحقق ہوتی ہے۔

____________________

۱-”مصباح الہدایة“ص۹۳۔۹۲،مطبع سلمان فارسی قم

۲۔سے دس تک کی احادیث پر”حدیث مستفیض“اطلاق ہوتا ہے

۱۶۸

(اس مطلب کاقطعی ثبوت یہ ہے کہ)اگر”صادقین“سے مرادائمہ معصومین(ع)کے علاوہ کوئی اورہوں تواس فرض کی بنیادپرکہ آیہء تطہیرکی نص مو جود ہے اورتمام مسلمانوں کا اہل بیت کے معصوم ہو نے پر اتفاق ہے ،اس کالازمہ یہ ہوتا کہ تمام انسان حتی کہ ائمہ معصو مین بھی غیرمعصوم کی اطاعت وپیروی کریں اوریہ عقلاًقبیح ہے۔لہذایہ مرتبہ)عصمت وطہارت)پیغمبر (ص)کے خاندان کے علاوہ کہیں اورنہیں پایا جاسکتاہے۔

دوسراثبوت یہ ہے کہ خدا وند متعال نے آیت کی ابتداء میں تمام مؤمنین کو تقویٰ اورگناہوں سے اجتبا ب کر نے کاحکم دیاہے اوراس کے بعد انہیں”صادقین“ کے ساتھ ہونے کا فرمان جاری کیا ہے،اوران کے ساتھ ہونے کا مطلب ان کی اطاعت کرنے اوران کی نافرمانی نہ کرنے کے علاوہ کچھ نہیں ہے اور امامت کے معنی بھی اس کے علاوہ کچھ نہیں ہےں کہ ماموم پر امام کی اطاعت واجب ہے۔

اگرہم امامت واطاعت کی صحیح تعبیر کرناچاہیں توبہترین تعبیریہ ہے کہ امام کے ساتھ ہونا اوراس کی پیروی و اطا عت سے جدانہ ہو ناہے۔

فخررازی کا قول

دوسراقول اہل سنت کے مشہورومعرو ف علا مہ فخررازی کاہے۔وہ آیہء شریفہ کی تفسیر میں کہتے ہیں:

”و فی الآیة مسائل: المساٴلة الاٴولی: اٴنّه تعالی اٴمرالمؤمنین بالکون مع الصادقین! و متی وجب الکون مع الصادقین فلا بدّمن وجود الصادقین فی کلّ وقت، و ذلک یمنع من إطباق الکلّ علی الباطل، و متی إمتنع إطباق الکلّ علی الباطل وجب إذا اٴطبقوا علی شیء اٴن یکونوا محقّین فهذا یدل علی اٴنّ إجماع الاٴمّة حجّة

فإن قیل: لمَ لا یجوز اٴن یقال: المراد بقوله:( کونوا مع الصادقین ) اٴی کونوا علی طریقة الصادقین، کما اٴنّ الرجل إذا قال لولده: ”کن مع الصالحین“ لا یفید إلاّ ذلک؟

سلّمنا ذلک، لکن نقول: إن ّ هذا الاٴمر کان موجوداً فی زمان الرسول فقط، فکان هذا اٴمراً بالکون مع الرسول، فلا یدّل علی وجود صادق فی سائر الاٴز منة

۱۶۹

سلّمنا ذلک لکن لم لا یجوز اٴن یکون الصادق هو المعصوم الذی یمتنع خلوّ زمان التکلیف عنه کما تقو له الشیعة؟

و الجواب عن الاول: اٴنّ قوله:( کونوا مع الصادقین ) اٴمر بموافقة الصادقین، و نهی عن مفارقتهم، و ذلک مشروط بوجود الصادقین وما لا یتمّ الواجب إلاّ به فهو واجب فدّلت هذه الآیة علی وجود الصادقین و قوله: ” إنّه عدول عن الظاهر من غیر دلیل

قوله: ” هذا الاٴمر مختصّ بزمان الرسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم اٴنّ التکالیف المذکورة فی القرآن متوجهة إلی المکلّفین إلی قیام القیامة، فکان الاٴمر فی هذا التکلیف کذلک

الثانی : اٴنّ الصیغة تتناولال اٴوقات کلّها بدلیل صحة الاستثناء الثالث: لمّا لم یکن الوقت المعین مذکوراً فی لفظ الآیة لم یکن حمل الآیة علی البعض اٴولی من حمله علی الباقی فإماّ اٴن لا یحمل علی شیء من الاٴوقات فیفضی إلی التعطیل و هو باطل ! اٴو علی الکلّ فهو المطلوبو الرابع: و هو اٴنّ قوله:( یا اٴیّها الّذین آمنوا اتّقوا اللّٰه ) اٴمر لهم بالتقوی و هذا الاٴمر إنّما یتناول من یصحّ منه اٴن لا یکون متّقیاً، و إنّما یکون کذلک لو کان جائز الخطاٴ فکانت الآیة دالّة علی اٴنّ من کان جائز الخطاٴ وجب کونه مقتدیاً بمن کان واجب المعصمة، و هم الّذین حکم اللّٰه تعالی بکونهم صادقین فهذ ایدّل علی اٴنّه واجب علی جائز الخطاٴ کونه مع المعصوم عن الخطاٴ حتی یکون المعصوم عن الخطاٴ مانعا لجائز الخطاٴ عن الخطاٴ! و هذا المعنی قائم فی جمیع الاٴزمان، فوجب حصوله فی کل الازمان

قوله:”لم لا یجوزاٴن یکون المراد هو کون المؤمن مع المعصوم الموجود فی کلّ زمان“

قلنا:نحن نعترف باٴنّه لابدّ من معصوم فی کلّ زمان،إلا اٴناّ نقول: ذلک المعصوم هو مجموع الاٴمّة و اٴنتم تقولون ذلک المعصوم واحد منهم فنقول: هذا الثانی باطل، لاٴنّه تعالی اٴوجب علی کلّ واحدمن المؤمنین اٴن یکون مع الصادقین،وإنّما یمکنه ذلک لو کان عالماً بان ذلک الصادق من هو ،لاالجاهلباٴنّه من هو

فلو کان ماٴموراً بالکون معه کان ذلک تکلیف مالا یطاق، واٴنّه لا یجوز، لکنّا لا نعلم إنساناً معیّناً موصوفاً بوصف العصمة، و العلم

۱۷۰

باٴنّا لانعلم هذا الانسان حاصل بالضرورة، فثبت اٴنّ قوله: وکونوا مع الصادقین لیس اٴمراً بالکون مع شخص معیّن

و لمّا بطل هذا بقی اٴنّ المراد منه الکون مع مجموع الاُمّة، وذلک یدل علی اٴنّ قول مجموع الاُمّة حقّ و صواب ، و لا معنی لقولنا،”الإجماع حجة“إلاّ ذلک“(۱)

ترجمہ:

”خداوند متعال نے مو منین کو صادقین کے ساتھ ہو نے کا حکم دیا ہے۔اس مطلب کا لازمہ یہ ہے کہ ہرزمانہ میں صادقین کاوجودہو اور یہ اس بات کے لئے ما نع ہے کہ پوری امت کسی باطل امر پر ا تفاق کر ے ۔اس لئے اگر پوری امت کسی چیز پر اتفاق کرتی ہے تو ان کا یہ اتفاق صحیح و بر حق ہو گا اوریہ،اجماع امت کے حجت ہونے کی دلیل ہے۔

اگر کہا جائے:صادقین کے ساتھ ہو نے کا مقصد یہ کیوں نہیں ہے کہ صادقین کے طریقہ کار کی پیروی کرے ،چنانچہ اگر ایک باپ اپنے بیٹے سے کہے:”صالحین کے ساتھ ہو جاؤ“یعنی صالحین کی روش پر چلو )اور یہ امر اس بات پر دلالت نہیں کرتا ہے کہ ہرزمانہ میں صادقین کا وجود ہو)

جواب یہ ہے کہ:یہ خلاف ظاہر ہے،کیونکہ وکون امع الصادقین یہ ہے کہ پہلے ان صادقین کا و جود ہو جن کے ساتھ ہو نے کا حکم دیا گیا ہے۔

مزید اگریہ کہا جائے کہ:یہ جملہ صرف رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے زمانہ میں موضوعیت رکھتا تھا،کیونکہ اس زمانہ میں صرف آنحضرت (ص)کی ذات صادق کے عنوان سے مو جود تھی اور یہ اس بات پردلالت نہیں کرتاہے کہ ہرزمانہ میں صادقین موجود ہوں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ:یہ خطاب قرآن مجید کے دوسرے خطابوں کے مانندقیامت تک

____________________

۱۔التفسیر الکبیر ،فخررازی ،ص۲۲۱۔۲۲۰،دار احیاء التراث العربی ،بیروت

۱۷۱

کے لئے تمام مکلفین سے متعلق و مر بوط ہے اوراس میں ہر زمانہ کے مکلفین سے مخطاب ہے اور یہ خطاب رسول اللہ (ص)کے زمانہ سے مخصوص نہیں ہے۔اس کی دلیل یہ ہے کہ یہ استثناء صحیح ہے)اوراستثناء کے صحیح ہو نے کی دلیل ہمیشہ مستثنی منہ میں عمومیت کا پا یا جا تا ہے ) ۔

اس کے علاوہ خدا وند متعال نے پہلے مرحلہ میں مؤ منین کو تقویٰ کا حکم دیا ہے،اور یہ انھیں تمام افراد کے لئے تقویٰ کا حکم ہے کہ جن کے لئے امکان ہے کہ متقی نہ ہوں اوراس خطاب کے مخاطبین وہ لوگ ہیں جو جائزالخطاء ہیں۔لہذاآیہء شریفہ اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ جائز الخطاء افراد کو ہمیشہ ایسے لوگوں کے ساتھ ہونا چاہئے کہ جو خطا سے معصوم ہوں تاکہ وہ معصوم لوگ انھیں خطا سے بچا سکیں۔اور اس طرح کاامکان ہرزمانہ میں ہے۔اس لئے آیہء شریفہ تمام زمانوں سے متعلق ہے اورصرف پیغمبر (ص)کے زمانہ سے مخصوص نہیں ہے۔

یہاں تک فخررازی کے بیان سے یہ بات واضح ہو جا تی ہے کہ صادقین سے مراد خطا سے معصوم افراد ہیں اور یہ افراد ہر زمانہ میں موجود ہیں اوریہ مطلب صحیح اور نا قابل اشکال ہے۔ لیکن فخررازی کاکہنا ہے:

”معصوم”صادقین“ امت کے مجموعی افراد ہیں اور یہ امت کے خاص اورمشخص افراد نہیں ہو سکتے ہیں کیونکہ اس صورت میں ہر ایک پر لازم ہے کہ ان معین مشخص افراد کو پہچانے ان کی معرفت حاصل کرے تا کہ ان کے ساتھ ہو جائے جبکہ یہ معرفت اورآگا ہی ممکن نہیں ہے اورہم ایسے خاص افراد کو نہیں پہچانتے ہیں کہ جو خطا و غلطی سے پاک اورمعصوم ہوں۔ لہذااس بات کے پیش نظر معصوم صادقین سے مراد مجموعہ امت ہے کہ جس کا نتیجہ اجماع کی حجیّت ہے۔“

۱۷۲

فخررازی کے قول کا جواب

فخررازی کے بیان میں دونمایاں نکتے ہیں:

پہلانکتہ:یہ ہے کہ معصوم صادقین سے مراد مشخص و معیّن افراد نہیں ہو سکتے ہیں کیونکہ ہمیں ان کے بارے میں علم وآگاہی نہیں ہے۔

اس قول کا صحیح نہ ہو نا واضح و روشن ہے،کیونکہ شیعہ اما موں کی عصمت کی دلیلوں کی طرف رجوع کرنا ہرایک کے لئے ممکن ہے،جن احادیث میں ان معصوم اما موں کاصراحتاًنام لیا گیا ہے،وہ تواتر کی مقدار سے زیادہ ہیں نیزیہ حدیثیں بعض سنی منابع اور بے شما ر شیعہ منابع میں ذکر ہوئی ہیں۔

دوسرا نکتہ:یہ کہ” معصوم صادقین سے مراد تمام امت ہے“اس پر بہت سا رے اعتراضات ہیں ذیل کے عبا رت میں ملا حظہ ہو:

۱ ۔چودہ معصومین(ع)کی عصمت کے علاوہ کسی اور کی عصمت کا قول تمام مسلمانوں کے قطعی اجماع کے خلاف ہے

۲ ۔آیہ شریفہ میں صادقین کے عنوان )جو ایک عام عنوان ہے )سے جو چیز ظاہر ہے وہ اس کااستغراقی اورشمولی ہو نا ہے نہ کہ مجموعی ہونا اور فخررازی کے کلام سے جو بات ظاہر اور واضح ہے کہ عصمت مجموعہ امت کی صورت میں ہے نہ جمیع امت کی صورت میں اور”مجموعہ“ایک اعتباری عنوان ہے جووحدت افراد کو ایک دوسرے سے منسلک کر دیتا ہے۔عنوان عام میں اصل”استغراقی ہو نا“ہے،کیونکہ عام مجموعی مجازہے اور اسے قرینہ کی ضرورت ہے جبکہ اصالةالحقیقة کا تقاضا یہ ہے کہ عام،جس کا حقیقی عنوان استغراقی ہو نا ہے اس پر حمل ہو۔

۳ ۔عصمت ایک حقیقی عنوان ہے اوراسے ایک حقیقی موضوع کی ضرورت ہے،اور عام مجموعی ایک اعتباری موضوع ہے اورحقیقی موجود کا اعتباری موضوع پر قائم ہو نا محال ہے۔

۱۷۳

۴ ۔فخررازی کا قول”( یاایهاالذین آمنوا ) “اور صا دقینکے درمیان ایک دوسرے مقابل ہو نے کا جو قرینہ پا یا جا تا ہے اس کے خلاف ہے اور ان دو عناوین کے درمیان مقا بلہ کا تقاضا ہے کہ وہ مومنین کہ جن کو خطاب کیا جا رہا ہے وہ دوسرے ہوں اور وہ صادقین جوان کے مقا بل میں قرار دیئے گئے ہیں اور جن کے ساتھ ہو نے کا حکم دیا گیا ہے وہ دوسرے ہوں۔

۵ ۔صادقین سے مراد مجموعہ امت )عام مجموعی) ہونا خود فخررازی کے بیان سے متناقص ہے،کیونکہ اس نے اس مطلب کی توجیہ میں کہ صادقین کا اطلاق فقط پیغمبر (ص)کی ذات میں منحصر نہیں ہے ،کہاہے:

”آیہء شریفہ اس پہلو کو بیان کر نے والی ہے کہ ہرزمانے میں ایسے مؤ منین کا وجود رہا ہے کہ جو جائزالخطا ہوں اور ایسے صادقین بھی پائے جاتے رہے ہیں کہ جوخطا سے محفوظ اورمعصوم ہوں اور ان مؤمنین کو چاہئیے کہ ہمیشہ ان صادقین کے ساتھ ہوں۔“

لہذا فخر رازی نے ان مؤمنین کو کہ جن کوخطاب کیا گیا ہے جائز الخطا اور صادقین کو خطا سے معصوم فرض کیا ہے۔

اس آیت کے بارے میں شیعہ اورسنّی احادیث

حاکم حسکانی(۱) نے تفسیر”شواہد التنزیل(۲) “ میں چند ایسی حدیثیں ذکرکی ہیں،جن سے ثابت ہو تا ہے کہ آیہ شریفہ میں ”صادقین“ سے مراد (ص)اورحضرت علی بن ابیطالب علیہ السلام یاپیغمبراکرم (ص)کے اھل بیت(ع)ہیں۔یہاں پرہم ان احادیث میں سے صرف

____________________

۱۔اہل سنت کے بڑے مشہور معروف عالم دین، ذہبی نے حسکانی کے بارے میں کہاہے:”شیخ متقن ذوعنایة تامة بعلم الحدیث،وکان معمّراً عالی الاسناد۔تذکرة الحفاظ،ج۳،ص۱۲۰۰،دارالکتب العلمیة بیروت۔یعنی:متقن اورمحکم اسناد میں علم حدیث کے بارے میں خاص اہمیت و توجہ کے کامل رکھتے ہیں۔انہوں نے ایک طولانی عمر گذاری ہے اور)حدیث میں )عالی اسنادکے مالک تھے ۔

۲۔شواہد التنزیل،ج۱،ص۳۴۱

۱۷۴

ایک کی جا نب اشارہ کرتے ہیں:

”حدثنایعقوب بن سفیان البسوی قال:حدثناابن قعنب،عن مالک بن اٴنس،عن نافع،عن عبداللّٰه بن عمرفی قوله تعالی:

( اتقوااللّٰه ) قال:اٴمراللّٰه اصحاب محمد( ص) باٴجمعهم اٴن یخافوا للّٰه،ثمّ قال لهم :( کونوامع الصادقین ) یعنی محمداً واهل بیته“(۱)

”یعقوب بن سفیان بسوی نے ابن قنعب سے،اس نے مالک بن انس سے،اس نے نافع سے اس نے عبداللہ بن عمر سے روایت کی ہے کہ خداوندمتعال کے اس قول:”اتقوااللّٰہ“کے بارے میں کہا:خداوندمتعال نے پیغمبراکرم (ص)کے تمام اصحاب کوحکم دیاکہ خداسے ڈریں۔اس کے بعدان سے کہا’:’صادقین“یعنی پیغمبر (ص)اور ان کے اہل بیت علیہم السلام کے ساتھ ہوجائیں۔“

اسی حدیث کوشیعوں کے عظیم محدث اوربزرگ عالم دین ابن شہر آشوب(۲) نے تفسیر یعقوب بن سفیان سے،مالک بن انس سے،نافع بن عمرسے روایت کی ہے۔

شیعوں کے ایک بہت بڑے محدث کلینی نے اس سلسلہ میں اصول کافی میں یوں روایت کی ہے:

”عن ابن اُذینه،عن برید بن معاویةالعجلی قال: اٴباجعفر-علیه السلام-عن قول اللّٰه عزّوجلّ: ( اتقوااللّٰه وکونوامع الصادقین ) قال: إیاّ نا عنی“ ۔(۳)

___________________

۱۔شواہد التنزیل،ج۱،ص۳۴۵،ح۳۵۷

۲۔ذہبی نے تاریخ اسلام میں ۵۸۱ئھ سے ۵۹۰ئھ کے حوادث کے بارے میں بعض بزرگ علماء )ابن ابی طی)کی زبانی اس کی تمجیدکی ہے اور اسے اپنے زمانہ کے امام اورمختلف علوم میں بے مثال شمار کیا ہے اورعلم حدیث میں اسے خطیب بغدادی کے ہم پلہ اورعلم رجال میں یحیی بن معین کے مانند قراردیاہے اور اس کی سچائی وسیع معلو مات نیز،کثرت خشوع وعبادت اورتہجدکا پابند ہو نے سے متصف کیاہے۔مناقب،ابن شہرآشوب،ج۳،ص۱۱۱،ذوی القربیٰ

۳۔اصول کافی ،ج۱،ص۲۰۸،مکتبةالصدق

۱۷۵

”ابن اذینہ نے برید بن معاویہ عجلی سے روایت کی ہے انھوں نے کہا:میں نےخداوندمتعال کے قول( اتقوااللّٰه وکونوامع الصادقین ) کے بارے میں امام باقر(علیہ السلام)سے سوال کیا،حضرت(ع)نے فرمایا:خداوندمتعال نے اس سے صرف ہمارے)اہل بیت پیغمبرعلیہم السلام کے)بارے میں قصدکیاہے۔“

اہل سنّت کے ایک بہت بڑے محدث جوینی نے ایک روایت میں یوں نقل کیا ہے:

”ثمّ قال علیّ( علیه السلام) :اٴنشدکم اللّٰه اٴتعلمون اٴنّ اللّٰه اٴنزل( یااٴیّهاالّذین آمنوااتّقوااللّٰه وکونوامع الصادقین ) فقال سلمان:

یارسول اللّٰه،عامّة هذااٴم خاصّة؟قال:اٴماّ المؤمنون فعامّة المؤمنین اٴمروابذلک،واٴمّاالصادقون فخاصّة لاٴخی علیّ واٴوصیائی من بعد إلی یوم القیامة قالوا:اللّهمّ نعم“(۱)

”اس کے بعد علی(علیہ السلام) نے فرمایا:تمھیں خداکا واسطہ دے کر کہتا ہوں۔کیاتم جانتے ہو،جب یہ آیہء یا ایّہاالذین آمنوا اتقوااللّٰہ وکونوامع الصادقین نازل ہوئی،توسلمان نے آنحضرت سے کہا :یارسول اللہ! (ص)کیا یہ آیت اس قدرعمومیت رکھتی ہے تمام مؤمنین اس میں شامل ہو جا ئیںیا اس سے کچھ خاص افراد مراد ہیں؟پیغمبر (ص)نے فرمایا:جنہیںیہ حکم دیا گیا ہے اس سے مرادعام مؤمنین ہیں،لیکن صادقین سے مرادمیرے بھائی علی(علیہ السلام)اوراس کے بعدقیامت تک آنے والے میرے دوسرے اوصیاء ہیں؟انہوں نے جواب میں کہا:خداشاہدہے،جی ہاں۔“

البتہ اہل سنت کی حدیث وتفسیرکی بعض کتا بوں میں چند دوسری ایسی روایتیں بھی نقل

___________________

۱۔فرائدالسبطین ،ج۱،ص،۳۱۷،مؤسسہ المحمودی للطبا عة والنشر ،بیروت،کماالدین ،ص۲۶۴۔بحار الا نور ،ج۳۳ص۱۴۹۔مصباح الہدایة،ص۹۱طبع سلمان الفارسی۔قابل ذکر ہے کہ مؤخر الذکر مد رک میں بجائے ”انشدکم اللّٰہ“’اسالکم باللّٰہ“آیا ہے۔

۱۷۶

ہوئی ہیں،جن میں ”صادقین“سے مرادکے بارے میں ابوبکروعمریا پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے دوسرے اصحاب کو لیا گیا ہے۔البتہ یہ روایتیں سندکے لحاظ سے قابل اعتماد نہیں ہیں۔ہم ان میں سے بعض کی طرف اشارہ کرتے ہیں:

۱ ۔ابن عساکرنے ضحاک سے روایت کی ہے کہ:( یاایّهاالذین آمنوااتقوااللّٰه وکونوامع الصادقین ) قال:مع ابی بکروعمراصحابهما (۱)

آیہء شریفہ میں ”صادقین“سے ابوبکر،عمراوران کے اصحاب کا قصد کیا گیا ہے ۲ ۔طبری نے سعیدبن جبیرسے ایک اورروایت نقل کی ہے کہ”صادقین“سے مراد ابوبکروعمرہیں۔(۲)

ان احادیث کاجواب:

پہلی حدیث کی سندمیں جویبربن سعیدازدی ہے کہ ابن حجرنے تہذیب التہذیب(۳) میں علم رجال کے بہت سارے علما،جیسے ابن معین،ابن داؤد،ابن عدی اورنسائی کے قول سے اسے ضعیف بتا یاہے،اورطبری(۴) نے اسی روایت کوضحاک سے نقل کیاہے کہ اس کی سندمیں بھی جویبرہے۔

دوسری روایت کی سندمیں اسحاق بن بشرکاہلی ہے کہ ذہبی نے میزان الاعتدال میں(۵) ابن ابی شیبہ،موسی بن ہارون،ابوذرعہ اوردارقطنی کی روایت سے اسے جھوٹا اور حدیث روایت سے اسے جھوٹااورحدیث جعل کرنے والابتایاہے۔

دوسرے یہ کہ:اس کے بعدکہ ہم نے خود آیہء شریفہ اوراس کے شواہد سے جان لیاکہ آیت میں ”صادقین“ سے مرادوہ معصوم ہیں جن کے ساتھ ہونے کا ہمیں حکم دیا گیاہے،اور یہ بات ہم جانتے ہیں کہ جو بھی مسلمانوں کے اتفاق نظر سے معصوم نہ ہووہ اس آیت)صادقین کے دائرے) سے خارج ہے۔

____________________

۱۔تاریخ مدینةدمشق،ج۳۰،ص۳۱۰دارالفکر

۲۔جامع البیان،ج ۱۱،ص۴۶

۳۔تہذیب التہذیب، ج۲ص۱۰۶دارالفکر۔

۴۔جامع البیان،ج۱۱،ص۴۶

۵۔میزان الاعتدال،ج۱،ص۱۸۶،دارالفکر

۱۷۷

چھٹاباب :

امامت آیہء تطہیرکی روشنی میں

( إنّمایریداللّٰه لیذهب عنکم الرجس اٴهل البیت ویطهّرکم تطهرا ) (سورہرئہ احزاب/ ۳۳)

”بس اللہ کاارادہ یہ ہے اے اہل بیت!تم سے ہرقسم کی برائی کودوررکھے اوراس طرح پاک وپاکیزہ رکھے جوپاک وپاکیزہ رکھنے کاحق ہے۔“

ایک اورآیت جوشیعوں کے ائمہء معصومین(ع)کی عصمت پر دلالت کرتی ہے وہ آیہ تطہیرہے۔یہ آیہء کریمہ پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپکے اہل بیت علیہم السلام،یعنی حضرت فاطمہ زہراسلام اللہ علیہااورشیعہ امامیہ کے بارہ معصوم اماموں کی عصمت پردلالت کرتی ہے۔

آیہء کریمہ کی دلالت کو بیان کرنے کے لئے اس کے چند پہلوقابل بحث ہیں:

۱ ۔آیہء کریمہ میں لفظ”إنّما“فقط اورانحصارپردلالت کرتاہے۔

۲ ۔آیہء کریمہ میں ارادہ سے مرادارادہ،تکو ینی ہے نہ ارادہ تشریعی۔

۳ ۔آیہء کریمہ میں ”اہل بیت“سے مرادصرف حضرت علی،فاطمہ،وحسن وحسین )علیہم السلام)اوران کے علاوہ شیعوں کے دوسرے ائمہ معصو مین علیہم السلام ہیں اورپیغمبراسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بیویاں اس سے خارج ہیں۔

۴ ۔آیہء کریمہ کے بارے میں چندسوالات اوران کے جوابات

۱۷۸

”إنّما“حصرکا فائدئہ دیتا ہے

جیساکہ ہم نے آیہء ولایت کی تفسیرمیں اشارہ کیاکہ علمائے لغت وادبیات نے صراحتاًبیان کیاہے لفظ”إنّما“حصرپردلالت کرتاہے۔لہذااس سلسلہ میں جوکچھ ہم نے وہاں بیان کیااس کی طرف رجوع کیاجائے۔اس سلسلہ میں فخررازی کے اعتراض کاجواب بھی آیہ ولایت کے اعتراضات کے جوابات میں دے دیاگیاہے۔

آیہء تطہیرمیں ارادے سے مرادارادہ تکوینی ہے نہ تشریعی

آیہء شریفہ کے بارے میں بحث کادوسراپہلویہ ہے کہ:آیہء شریفہ میں جوارادہ ذکر کیاگیاہے،اس سے مرادارادہ تکوینی ہے نہ ارادہ تشریعی۔خداوندمتعال کے ارادے دوقسم کے ہیں:

۱ ۔ارادہ تکوینی:اس ارادہ میں ارادہ کامتعلق اس کے ساتھ ہی واقع ہوتاہے،جیسے، خداوندمتعال نے ارادہ کیاکہ حضرت ابراھیم علیہ السلام پرآگ ٹھنڈی اورسالم)بے ضرر)ہو جائے توایساہی ہوا۔

۲ ۔ارادہ تشریعی:یہ ارادہ انسانوں کی تکالیف سے متعلق ہے۔واضح ر ہے کہ اس قسم کے ارادہ میں ارادہ اپنے مراداورمقصودکے لئے لازم وملزوم نہیں ہے۔خداوندمتعال نے چاہاہے کہ تمام انسان نماز پڑھیں، لیکن بہت سے لوگ نماز نہیں پڑھتے ہیں۔تشریعی ارادہ میں مقصود اور مراد کی خلات ورزی ممکن ہے، اس کے برعکس تکوینی ارادہ میں ارادے کی اپنے مراد اور مقصود سے خلاف ورزی ممکن نہیں ہے۔

اس آیہ شریفہ میں ارادے سے مراد ارادہ تکوینی ہے نہ تشریعی اور اس کے معنی یہ ہے کہ:خداوند متعال نے ارادہ کیاہے کہ اہل بیت)علیہم اسلام)کو ہرقسم کی ناپاکی من جملہ گناہ و معصیت سے محفوظ رکھے اورانھیں پاک و پاکیزہ قراردے۔

۱۷۹

خداوندمتعال کے اس ارادہ کے ساتھ ہی اہل بیت اطہارسے ناپاکیاں دور نیزمعنوی طہارت اور پاکیزہ گی محقق ہوگئی ،خداوندمتعال نے یہ ارادہ نہیں کیاہے کہ وہ خود اپنے آپ کو گناہ کی پلیدی اور ناپاکی سے محفوظ رکھیں اورخداوندمتعال کے حکم اور فرائض پر عمل کرکے اپنے آپ کوپاک وپاکیزہ بنائیں۔

آیہ تطہیر میں ارادہ کے تکوینی ہونے کے دلائل:

۱ ۔ارادہ تشریعی فریضہ شرعی کے مانند،دوسروں کے امورسے متعلق ہوتا ہے، جبکہ آیہ شریفہ میں ارادہ کا تعلق ناپاکی اور پلیدی کودورکرنے سے ہے جو ایک الہی فعل ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ اس آیہ شریفہ میں ارا دے سے مرادارادہ،تشریعی نہیں ہے۔

۲ ۔ انسانوں کوپلیدی اور ناپاکیوں سے دور رہنے اورپاک وپاکیزہ ہونے کے بارے میں خداوند متعال کا تشریعی ارادہ پیغمبر اکر (ص)کے اہل بیت (ع)سے مخصوص نہیں ہے بلکہ خدا وند متعال کا یہ ارادہ ہے کہ تمام انسان ناپاکیوں سے محفوظ رہیں اورطہارت وپاکیزگی کے مالک بن جائیں۔جبکہ آیہ تطہیرسے استفادہ ہوتاہے کہ یہ ارادہ صرف پیغمبراکرم (ص)کے اہل بیت علیہم السلام سے مخصوص ہے اور یہ اس کلمہ حصر کی وجہ سے ہے کہ جو آیہ شریفہ کی شروع میں آیا ہے۔ اس سے بالکل واضح ہو جا تا ہے کہ ارادہ کامتعلق)جوناپا کیوں سے دوری اورخداکی جا نب سے خاص طہا رت ہے )خارج میں متحقق ہے۔

۳ ۔آیہ شریفہ شیعوں اورسنیوں کے تفسیرواحادیث کی کتا بوں میں مذکوربے شمار احادیث اورروایتوں کے مطابق اہل بیت پیغمبر (ص)کی فضیلت وستائش کی ضامن ہے۔ اگرآیہ شریفہ میں ارادہ الہی سے مراد،ارادہ تشریعی ہوتاتویہ آیت فضیلت وستائش کی حامل نہیں ہوتی۔اس بناپر،جوکچھ ہمیں اس آیہ شریفہ سے معلوم ہوتاہے،وہ اہل بیت پیغمبر (ص)سے مخصوص طہارت و پاکیزگی اوران کاپلیدی اورناپاکیوں سے دور ہو ناارادہ الٰہی کے تحقق سے مر بوط ہے۔اوریہ ان منتخب انسانوں کے بارے میں خداکی جانب سے عصمت ہے۔ اس ارادہ الٰہی کے تکوینی ہونے کا ایک اورثبوت وہ احادیث ہیں جو خاص طور سے خدا وند متعال کی طرف سے اہل بیت علیہم السلام کی طہارت پر دلالت کرتی ہیں۔ہم یہاں پر ان احادیث میں سے دوحدیثوں کونمونہ کے طورپرذکرکرتے ہیں:

۱۸۰