امامت اورائمہ معصومین کی عصمت

امامت اورائمہ معصومین کی عصمت0%

امامت اورائمہ معصومین کی عصمت مؤلف:
زمرہ جات: امامت
صفحے: 271

امامت اورائمہ معصومین کی عصمت

مؤلف: رضاکاردان
زمرہ جات:

صفحے: 271
مشاہدے: 16991
ڈاؤنلوڈ: 972

تبصرے:

امامت اورائمہ معصومین کی عصمت
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 271 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 16991 / ڈاؤنلوڈ: 972
سائز سائز سائز
امامت اورائمہ معصومین کی عصمت

امامت اورائمہ معصومین کی عصمت

مؤلف:
اردو

ایک ایسی حدیث کو نمونہ کے طور پر پیش کررہے ہیں،جس کو شیعہ ۱ اورسنی دونوں نے نقل کیا ہے:

ابراھیم بن محمد جوینی نے ”فرائد السمطین ۲“ میں ایک مفصل روایت درج کی ہے۔چونکہ یہ حدیث امامت سے مربوط آیات کی تفسیر کے سلسلہ میں دوسری کتابوں میں درج کی گئی ہے، اس لئے ہم یہاں پر اس سے صرف آیہء تطہیر سے مربوط چند جملوں کی طرف اشارہ کرنے پر اکتفا کرتے ہیں۔

اس حدیث میں حضرت علی علیہ السلام مہاجر وانصار کے بزرگوں کے ایک گروہ کے سامنے اپنے فضائل بیان کرتے ہوئے اپنے اوراپنے اہل بیت کے بارے میں نازل ہوئی قرآن مجید کی چندآیتوں کی طرف اشارہ فرماتے ہیں،من جملہ آیہء تطہیرکی طرف کہ اس کے بارے میں حضرت علی علیہ السلام نے یوں فرمایا:

”اٴیّهاالنّاس اٴتعلمون اٴنّ اللّٰه اٴنزل فی کتابه: ( إنّما یرید اللّٰه لیذهب عنکم الرجس اٴهل البیت و یطهّرکم تطهیراً ) فجمعنی و فاطمة و ابنییّ الحسن و الحسین ثمّ اٴلقی علینا کساءً و قال: اللّهمّ هؤلاء اٴهل بیتی و لحمی یؤلمنی ما یؤلمهم، و یؤذینی ما یؤذیهم، و یحرجنی ما یحرجهم، فاٴذهب عنهم الرجس و طهّرهم تطهیراً ۔

فقالت اٴُمّ سلمة: و اٴنا یا رسول اللّٰه؟ فقال: اٴنت إلی خیر إنّما اُنزلت فی) و فی ابنتی) و فی اٴخی علیّ بن اٴبی طالب و فی ابنیَّ و

____________________

۱۔کمال الدین صدوق،ص۲۷۴

۲۔مؤلف اور کتاب کے اعتبار کے بارے میں تفسیر آیہء ”اولوالامر“کا آخر ملاحظ ہو۔

۲۲۱

فی تسعة من ولد ابنی الحسین خاصّة لیس معنا فیها لاٴحد شرک

فقالوا کلّهم: نشهد اٴنّ اٴمّ سلمة حدّثتنا بذلک فساٴلنا رسول اللّٰه فحدّثنا کما حدّثتنا اٴمّ سلمة(۱)

”اے لوگو!کیا تم جانتے ہو کہ جب خدا وند متعال نے اپنی کتاب سے آیہء:( إنّما یرید الله ) ۔۔۔ کو نازل فرمایا پیغمبر اکرم (ص)نے مجھے،فاطمہ اورمیرے بیٹے حسن وحسین )علیہم السلام)کوجمع کیا اور ہم پر ایک کپڑے کا سایہ کیا اورفرمایا:خداوندا! یہ میرے اہل بیت ہیں۔جس نے انھیں ناراض کیا اس نے مجھے ناراض کیا اورجس نے انھیں اذیت پہنچائی اس نے مجھے اذیت پہنچائی ہے جس نے ان پرسختی کی اس نے گویا مجھ پر سختی کی ۔)خدا وندا!)ان سے رجس کو دور رکھ اورانھیں خاص طورپرپاک وپاکیزہ قرار دے۔

ام سلمہ نے کہا:یارسول اللہ!میں بھی؟)رسول خدا (ص)نے)فرمایا:تم خیر ونیکی پرہو، لیکن یہ آیت صرف میرے اورمیری بیٹی )فاطمہ زہرا)میرے بھائی علی بن ابیطالب(علیہ السلام) اور میرے فرزند ) حسن و حسین علیہما السلام) اور حسین (علیہ السلام)کی ذریت سے نوائمہ معصومین کے بارے میں نازل ہوئی ہے اورکوئی دوسرااس آیت میں ہمارے ساتھ شریک نہیں ہے ۔اس جلسہ میں موجود تمام حضار نے کہا:ہم شہادت دیتے ہیں کہ ام سلمہ نے ہمارے سامنے ایسی حدیث بیان کی ہے اورہم نے خود پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے بھی پوچھا توانھوں نے بھی ام سلمہ کے مانند بیان فرمایا۔“

____________________

۱۔فرائد السمطین،ج۱،ص۳۱۶،موسةالمحمودی للطباعة والنشر،بیروت

۲۲۲

آیہء تطہیرکے بارے میں چند سوالات اور ان کے جوابات

اس بحث کے اختتام پر ہم مناسب سمجھتے ہیں کہ آیہء تطہیر کے بارے میں کئے گئے چند سوالات کے جوابات پیش کریں:

پہلاسوال

گزشتہ مطالب سے جب یہ معلوم ہوگیا کہ اس آیہء کریمہ میں ارادہ سے مرادارادہ تکوینی ہے۔اگرارادہ تکوینی ہوگا تو یہ دلالت کرے گا کہ اہل بیت کی معنوی طہارت قطعی اورناقابل تغیر ہے۔کیا اس مطلب کو قبول کرنے کی صورت میں جبر کا قول صادق نہیں آتا ہے؟

جواب

خدا وند متعال کا ارادہ تکوینی اس صورت میں جبر کا سبب بنے گا جب اھل بیت کا ارادہ واختیار ان کے عمل انجام دینے میں واسطہ نہ ہو لیکن اگر خداوند متعال کاارادہ تکوینی اس سے متعلق ہو کہ اہل بیت اپنی بصیرت آگاہی نیز اختیارسے گناہ اور معصیت سے دور ہیں،توارادہ کا تعلق اس کیفیت سے نہ صرف جبر نہیں ہوگا بلکہ مزیداختیار پر دلالت کرے گا اورجبر کے منافی ہوگا،کیونکہ اس فرض کے مطابق خدا وند متعال کے ارادہ کا تعلق اس طرح نہیں ہے کہ وہ چاہیں یا نہ چاہیں ،اپنے وظیفہ انجام دیں گے، بلکہ خدا وند متعال کے ارادہ کا تعلق ان کی طرف سے اطاعت کی انجام دہی اور معصیت سے اجتناب ان کے اختیار میں ہے اور ارادہ و اختیار کا پایا جا نا ہی خلاف جبر ہے۔

۲۲۳

اس کی مزید وضاحت یوں ہے کہ: عصمت درحقیقت معصوم شخص میں پائی جانے والی وہ بصیرت اور وہ وسیع و عمیق علم ہے، جس کے ذر یعہ وہ کبھی اطاعت الہیٰ سے منحرف ہو کر معصیت و گناہ کی طرف تمائل پیدا نہیں کرتا ہے اور اس بصیرت اور علم کی وجہ سے اس کے لئے گناہوں کی برائیاں اور نقصانات اس قدر واضح اور عیاں ہو جاتے ہیں کہ اس کے بعد اس کے لئے محال ہے کہ وہ گناہ کا مرتکب ہو جائے۔

مثال کے طور پرجب کوئی ادنی ٰشخص یہ دیکھتا ہے کہ وہ پانی گندا اور بدبو دار ہے، تو محال ہے و ہ اسے اپنے اختیارسے پی لے بلکہ اس کی بصیرت و آگاہی اسے اس پانی کے پینے سے روک دے گی۔

دوسرا سوال

آیہء شریفہ میں آیا ہے:( انّما یریدا للهليذهب عنکم الرّجس اهل البیت ويطهرکم تطهیرا ) ” اذھاب “ کے معنی لے جانا ہے اور اسی طرح ”تطہیر“ کے معنی پاک کر نا ہے اور یہ اس جگہ پر استعمال ہوتا ہے جہاں پر پہلے سے رجس وکثافت موجود ہو اور انھیں پاک کیا جائے ۔ اسی صورت میں ”اذھابکا اطلاق،رجس کو دور کر نااور تطھیر“ کااطلاق ”پاک کرنا“حقیقت میں صادق آسکتا ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اہل بیت پہلے گناہوں سے آلودہ تھے لہذا اس آلود گی کو ان سے دور کیا گیا ہے اور انھیں اس آلودگی سے پاکیزہ قرار دیا گیاہے۔

۲۲۴

جواب

جملہء( ليذهب عنکم الرجس ) میں لفظ ”اذھاب ‘ ‘لفظ ” عن“ سے متعدی ہوا ہے۔ اس کا معنی اہل بیت سے پلیدی اور رجس کو دور رکھنا ہے اور یہ ارادہ پہلے سے موجود تھا اور اسی طرح جاری ہے،نہ یہ کہ اس کے برعکس حال و کیفیت اہل بیت میں موجود تھی اور خداوند متعال نے ان سے اس حال و کیفیت )برائی) کو دور کیا ہے۔ اسی طرح اس سلسلہ میں تطہیر کا معنی کسی ناپاک چیز کو پاک کرنے کے معنی میں نہیں ہے بلکہ اہل بیت کے بارے میں اس کا مقصد ان کی خلقت ہی سے ہی انھیں پاک رکھنا ہے۔ اس آیہء کریمہ کے مانند( ولهم فیهاازواج مطهرة ) (۱) ” اور ان کے لئے وہاں)بہشت میں ) ایسی بیویاں ہیں جو پاک کی ہوئی ہوں گی“

”اذھاب “اور”تطھیر“کے مذکورہ معنی کا یقینی ہونا اس طرح ہے کہ اہل بیت کی نسبت خود پیغمبر صلی الله علیہ وآلہ وسلم کی طرف یقینی ہے اوریہ بھی معلوم ہے کہ آنحضرت صلی الله علیہ وآلہ وسلم ابتداء ہی سے معصوم تھے نہ یہ کہ آیہ تطہیر کے نازل ہونے کے بعد معصوم ہوئے ہیں۔جب آنحضرت صلی الله علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں مطلب اس طرح ہے اور لفظ ”اذھاب“ و ”تطھیر“ آپ میں سابقہ پلیدی اور نجاست کے موجود ہونے کا معنی نہیں ہے، اہل بیت کے دوسرے افراد کے بارے میں بھی قطعی طور پر اسی طرح ہونا چاہئے۔ ورنہ”اذھاب“ و ”تطھیر“ کے استعمال کا لازمہ پیغمبر صلی الله علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے خاندان کے بارے میں مختلف معنی میں ہوگا۔

تیسرا سوال

اس آیہء شریفہ میں کوئی ایسی دلالت نہیں ہے جس سے یہ معلوم ہو کہ یہ طہارت ، اہل بیت میں )آیہء تطہیر کے نازل ہونے سے پہلے) موجود تھی بلکہ آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ خدا وند متعال اس موضوع کا ارادہ کرے گا کیونکہ ”یرید“ فعل مضارع ہے اور مستقبل کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

____________________

۱۔بقرہ/۲۵

۲۲۵

جواب

اول یہ کہ:کلمہ ”یرید“ جو خداوند متعال کا فعل ہے، وہ مستقبل پردلالت نہیں کرتا ہے اور دوسری آیات میں اس طرح کے کا استعمالات اس مطلب کو واضح کرتے ہیں کہ جیسے کہ یہ آیات:( یریدالله لیبین لکم ویهديکم سنن الّذین من قبلکم ) (۱) اور( والله یرید اٴن یتوب عليکم ) (۲)

اس وصف کے پیش نظر آیت کے معنی یہ نہیں ہے کہ خداوند متعال ارادہ کرے گا، بلکہ یہ معنی ہے کہ خداوند متعال بد ستورارادہ رکھتا ہے اور ارادہ الہیٰ مسلسل جاری ہے۔

دوسرے یہ کہ اس ارادہ کا پیغمبر اکرم (ص)سے مربوط ہونا اس معنی کی تاکید ہے، کیونکہ آنحضرت صلی الله علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں ایسا نہیں تھا کہ پہلے تطہیر کا ارادہ نہیں تھا اور بعد میں حاصل ہواہے۔ بلکہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پہلے سے اس خصوصی طہارت کے حامل تھے اور معلوم ہے کہ آنحضرت (ص)کے بارے میں ”یرید“کا استعمال ایک طرح اور آپ کے اھل بیت کے لئے دوسری طرح نہیں ہوسکتا ہے۔

چوتھا سوال

احتمال ہے کہ ” لیذھب“ میں ”لام“ لام علت ہو اور ”یرید” کے مفعول سے مرادکچھ فرائض ہوں جو خاندان پیغمبرصلی الله علیہ وآلہ وسلم سے مربوط ہوں۔ اس حالت میں ارادہ تشر یعی اور آیت کے معنی یہ ہوں گے کہ خداوند متعال نے آپ اہل بیت سے مربوط خصوصی تکالیف اور فرائض کے پیش نظر یہ ارادہ کیا ہے تاکہ برائی اور آلودگی کو آپ سے دور کرے اور آپ کو پاک و پاکیزہ قرار دے، اس صورت میں آیت اہل بیت کی عصمت پر دلالت نہیں کرے گی۔

____________________

۱۔ سورہ نساء /۲۶

۲۔ سورہ نساء /۲۷

۲۲۶

جواب

پہلے یہ کہ: ” یرید“ کے مفعول کا مخدوف اور پوشدہ ہونا خلاف اصل ہے اور اصل عدم پوشیدہ ہو نا ہے۔ صرف دلیل اور قرینہ کے موجود ہونے کی صورت میں اس اصل کے خلاف ہونا ممکن ہے اور اس آیت میں اس کی کوئی دلیل نہیں ہے۔

دوسرے یہ کہ : ”لےذھب“ کے لام کے بارے میں چند احتمالات ہیں ان میں سے بعض کی بنا پر ارادہ کا تکونےی ہونا اور بعض کی بنا پر ارادہ کا تشر یعی ہونا ممکن ہے لیکن وہ احتمال کہ جو آیت میں متعین ہے وہ ارادہ تکوینی سے ساز گار ہے۔ اس کی دلیل وہ اسباب ہیں جو ارادہ تکوینی کے اسبات کے سلسلہ میں پیش کئے گئے ہیں من جملہ یہ کہ ارادہ تشر یعی کا لازمہ یہ ہے اس سے اھل بیت کی کوئی فضیلت ثابت نہیں ہوتی، جبکہ آیہ ء کریمہ نے اھل بیت کی عظیم اور گراں بہا فضیلت بیان کی ہے جیسا مذکورہ احادیث اس کی دلیل ہیں۔

اس بنا پر آیہ شریفہ میں لام سے مراد’ ’ لام تعد یہ “ اور مابعدلام ”یرید“کا مفعول ہے۔ چنانچہ ہم قرآن مجید کی دوسری آیات میں بھی مشاہدہ کرتے ہیں کہ ”یرید“کبھی لام کے ذریعہ اور کبھی لا م کے بغیر مفعول کے لئے متعدی ہوتا ہے ۔ قرآن مجید میں اس قسم کے متعدد مثالیں پائی جاتی ہیں۔ ہم یہاں پرا ن میں سے دو آیتوں کی طرف اشارہ کرنے پر اکتفا کرتے ہیں :

۱ ۔( فلا تعجبک اٴموالهم ولااولادهم،إنّمایریداللهليعذبهم بهافی الحيوةالدّنیا ) ۔۔۔(۱) اور آیہ( ولا تعجبک اموالهم إنّمایریداللهاٴن يعذّبهم بها فی الدّنیا ) (۲) ۔ اس سورہ مبارکہ میں ایک مضمون کے باوجود ”یرید“ ایک آیت میں ” ان یعذبھم“ سے بلا واسطہ اور دوسری آیت میں لام کے ذر یعہ متعدی ہوا ہے۔

____________________

۱۔ سور ہء توبہ/۵۵ ۲۔سورہ توبہ/۸۵

۲۲۷

۲ ۔( یرید ون اٴن يطفئوانوراللهباٴفواههم ویاٴبی اللهإلّا اٴن یتم نوره ولوکره الکافرون ) (۱) اور آیہء( یرید ون ليطفئوانورالله بافواههم واللهمتم نوره ولوکره الکافرون ) (۲) ایک آیت میں ”یریدون“ ، ”ان ےطفئو“ پربلا واسطہ اور دوسری آیت میں لام کے واسطہ سے متعدی ہوا ہے۔

پانچواں سوال

آیہ شریفہ میں ”اھل البیت “سے مراد فقط پنجتن نہیں ہیں بلکہ اس میں پیغمبر )صلی الله علیہ وآلہ وسلم) کے دوسرے رشتہ دار بھی شامل ہیں ۔ کیونکہ بعض احادیث میں آیا ہے کہ پیغمبر صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے اپنے چچا عباس اور ان کے فرزند وں کو بھی ایک کپڑے کے نیچے جمع کیا اور فرمایا: ”ھو لاء اھل بیتی“ اور ان کے بارے میں دعا کی۔

جواب

اہل بیت کی تعدادکو پنجتن پاک یا چودہ معصومین علیھم السلام میں منحصر کر نے کے حوالے سے اس قدراحادیث وروایات مو جود ہیں کہ اس کے سامنے مذکورہ حدیث کا کوئی اعتبار نہیں رہ جاتاہے۔

اس کے علاوہ وہ حدیث سند کے لحاظ سے بھی معتبر نہیں ہے کیونکہ اس کی سند میں ”محمدبن یونسی“ ہے کہ جس کے بارے میں ابن حجر نے ابن حبان سے نقل کیا ہے کہ وہ حدیث جعل کرتا تھا۔ شا ئد اس نے ایک ہزار سے زیادہ جھوٹی حدیثیں جعل کی ہیں۔ ابن عدی نے اس

پر حدیث گھڑنے کا الزام لگا یا ہے۔(۳)

____________________

۱۔سورہ توبہ/۳۲

۲۔سورہ صف/۸

۳۔ تہذیب،ج،ص۵۴۲،طبع ھندوستان

۲۲۸

اس کے علاوہ حدیث کی سند میں ” مالک بن حمزہ“ ہے کہ بخاری نے اپنی کتاب ” ضعفا“ میں اسے ضعیف راویوں کے زمرہ میں درج کیا ہے۔(۱)

اس کے علاوہ اس کی سند میں ” عبدالله بن عثمان بن اسحاق“ ہے کہ جس کے بارے میں ابن حجرنے عثمان کا قول نقل کیا ہے اور کہا ہے : میں نے ابن معین سے کہا: یہ راوی کیسا ہے؟ اس نے کہا : میں اسے نہیں پہچانتا ہوں اور ابن عدمی نے کہا : وہ مجہول اور غیر معروف ہے۔

اس صورت حال کے پیش نظر یہ حدیث کسی صورت میں مذکورہ احادیث کے ساتھ مقابلہ نہیں کرسکتی ہے۔

چھٹا سوال

ام سلمہ جب پیغمبر اکر مصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے سوال کرتی ہیں کہ: کیا میں بھی آپ کے اہل بیت میں شامل ہوں؟ تو آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم فرماتے ہیں: ” انت الیٰ خیر“یا ” انت علیٰ خیر“ ّاس کے معنی یہ ہیں کہ تمھیں اس کی ضرورت نہیں ہے کہ تمھارے لئے دعا کروں ، کیونکہ تمھارے لئے پہلے ہی سے قرآن مجید میں آیت نازل ہوچکی ہیں اور جملہ ” انت علی خیر“ کے معنی یہ ہیں کہ تمھاری حالت بہترہے۔ یہ اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ ام سلمہ اہلبیت میں داخل نہیں ہیں۔

جواب

سیاق آیت کے بارے میں کی گئی بحث سے نتےجہ حاصل کیا جاسکتا ہے کہ آیہ ء تطہیرکا سیاق اس سے پہلی والی آیتوں کے ساتھ یکسان نہیں ہے اور پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بیویاں اہل بیت میں داخل نہیں ہیں۔

____________________

۱۔ م یز ان الاعتدال،ج۲،ص۳۲۵، دارالمعرفہ،بیروت

۲۲۹

جملہء ”علی خیر“ یا ” الیٰ خیر“ اس قسم کے موارد میں افضل تفضیل کے معنی میں نہیں ہے اور اس امر کی دلیل نہیں ہے کہ پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بیویاں پنجتن پاک )علیہم السلام) سے افضل وبہتر ہوں۔ اس کے علاوہ خود ان احادیث میں اس مطلب کے بارے میں بہت سے قرآئن موجود ہیں ، من جملہ ام سلمہ آرزو کرتی ہیں کہ کاش انھیں بھی اجازت ملتی تاکہ اہل بیت کے زمرہ میں داخل ہوجاتیں اور یہ اس کے لئے ان تمام چیزوں سے بہترتھا جن پر سورج طلوع و غروب کرتا ہے۔

پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بیویوں سے مربوط قرآن مجید کی آیتوں ، من جملہ آیہ ء تطہیر سے پہلی والی آیتوں اور سورئہ تحریم کی آیتوں کی شان نزول پر غور کرنے سے مذکورہ مطلب کی مکمل طور پر وضاحت ہوجاتی ہے۔ نمونہ کے طور پر سورہ تحریم کی درج ذیل آیتیں بیشتر تامل کی سزاوار ہیں۔

( إن تتو با إلی الله فقد صغت قلو بکما ) (۱) ( عسی ربه إن طلقکنّ اٴن یبد له اٴزواجاً خیراً منکنّ مسلمات مئومنات قانتات تائبات عبادات سائحات ثیبات واٴ بکاراً ) (۲) ( ضرب الله مثلاً للّذین کفرواامراٴة نوح و امراٴة لوط کانتا تحت عبدین من عبادنا صالحین فخانتا هما فلم يغنیا عنهما من الله شيئاً و قیل اد خلا النار مع الداخلین ) (۳)

ساتواں سوال

احادیث میں آیا ہے کہ پیغمبر خدا (ص)نے آیہ تطہیر کے نازل ہونے کے بعد اپنے خاندان کے حق میں یہ دعا کی: ”( اللّهم اٴ ذهب عنهم الّرجس و طهّرهم تطهّیرا ) “ ”خداوندا: ان سے رجس وپلیدی کو دور کر اور انھیں خاص طور سے پاک و پاکیزہ قرار

____________________

۱۔سورہ تحرم/۴

۲۔ سورہ تحریم/۵

۳۔سورہ تحریم /۱۰

۲۳۰

دے“آیہ کریمہ سے عصمت کا استفادہ کرنے کی صورت میں اس طرح کی دعا منا فات رکھتی ہے، کیونکہ آیہ کریمہ عصمت پر دلالت کرتی ہے اور عصمت کے حاصل ہونے کے بعدان کے لئے اس طرح دعا کرنا تحصیل حاصل اور بے معنی ہے۔

جواب

اول یہ کہ: یہ دعا بذات خود اس امر کی واضح دلیل ہے کہ ان کے لئے اس طہارت کے بارے میں خداوند متعال کا ارادہ ارادہ تکوینی تھا نہ تشر یعی ۔ کیونکہ ” اذھاب رجس“ اور ”تطہیر “ کا خدا سے جو مطالبہ کیا گیا ہے وہ قطعاً ایک تشر یعی امر نہیں ہے اور آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی دعا یقینا مستجاب ہے۔ اس لئے مذکورہ دعا آیہء تطہیر کے مضمون پر تاکید ہے۔

دوسرے یہ کہ عصمت ایک فیض اور لطف الہیٰ ہے جو خدا وند متعال کی طرف سے ان مقدس شخصیات کو ان کی زندگی کے ہرہر لمحہ عطا ہوتی رہتی ہے کیونکہ وہ بھی دوسری مخلوقات کے مانند ہر لمحہ خدا کے محتاج ہیں اور ایسا نہیں ہے کہ ایک لمحہ کی نعمت اور فےض الہیٰ انھیں دوسرے لمحہ کے فےض و عطیہ الہیٰ سے بے نیاز کردے۔

یہ اس کے مانند ہے کہ پیغمبر اسلامصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم جملہ ”( إهد نا الصراط المستقیم ) “کو ہمیشہ تلاوت فرماتے تھے اور اس ہدآیت کو خدا وندمتعال سے طلب کرتے رہتے تھے ،باوجود اس کے کہ وہ اس ہدآیت کے اعلیٰ ترین درجہ پر فائز تھے اور یہ تحصیل حاصل نہیں ہے بلکہ یہ اس بات پر دلیل ہے کہ بندہ چاہے جس مقام پر بھی فائز ہو وہ ذاتی طور پر خدا کا محتاج ہوتا ہے اور اس احتیاج کا اظہار کرنا اور خدا وندمتعال سے دوسرے لمحات میں نعمت و الطاف الہیٰ کی درخواست کرنا بندہ کے لئے بذات خود ایک کمال ہے۔

۲۳۱

اس بات کا علم کہ خدا وندمتعال مستقبل میں اس نعمت کو عطا کرے گا ، دعا کے لئے مانع نہیں بن سکتا ہے،کیونکہ خدا وندمتعال ”اولواالباب“ کی دعا کو بیان کرتا ہے کہ وہ کہتے ہیں :( ربّنا وآتنا ما و عدتنا علی رسلک و لا تخذنا يوم القیامة إنّک ولا تخلف الميعاد ) (۱) ” پرور دگار جو تو نے اپنے رسولوں کے ذریعہ ہم سے وعدہ کیا ہے اسے ہمیں عطا کر اور روز قیامت ہمیں رسوانہ کر کیونکہ تو وعدہ کے خلاف نہیں کرتا “ ہم دیکھتے ہیں اور یہ جانتے ہوئے بھی کہ خدا وند متعال وعدہ خلافی نہیں کرتا اور مو منین کو دیا گیا وعدہ حتماً پور کرے گا ، پھر بھی اس سے اس طرح دعا کرتے ہیں۔

پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی اھل بیت کے حق میں دعا بھی اسی طرح ہے کہ طہارت اور عصمت الہیٰ اگر چہ انھیں حاصل تھی اور آئندہ بھی یہ نعمت ان کے شامل حال رہتی، لیکن یہ دعا اس کی طرف توجہ مبذول کرانے کے لئے ہے کہ باوجود اس کے کہ یہ اھل بیت (ع) اس عظمت و منزلت پر فائز ہیں لیکن ہمیشہ اپنے کو خدا کا محتاج تصور کرتے ہیں اور یہ خدا وندمتعال ہے کہ جو ہر لمحہ عظیم اور گرانقدرنعمت انھیں عطا کرتا ہے۔

اس لئے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی دعا خواہ آیہ ء تطہیر نازل ہونے سے پہلے ہو یا اس کے بعد ، ان کی عصمت کے منافی نہیں ہے ۔

آٹھواں سوال

انبیاء علیہم السلام کی عصمت وحی کے تحقط کے لئے ہے،انبیاء کے علاوہ کیا ضرورت ہے کہ ہم کسی کی عصمت کے قائل ہو ں؟

____________________

ا۔۷۱ سورہ آل عمران/۱۹۴

۲۳۲

جواب

اول یہ کہ : ش یعہ عقیدہ کے مطابق مسئلہ امامت ، نبوت ہی کا ایک سلسلہ ہے اور یہ عہدہ نبوت کے ہم پلہ بلکہ اس سے بالاتر ہے۔(۱) امام ، مسئلہ وحی کے علاوہ بالکل وہی کردار ادا کرتا ہے جو پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم ادا کرتے تھے۔

اس لحاظ سے ش یعہ امامیہ کے نزدیک امام میں عصمت کا ہوناعقلی او ر نقلی دلیلوں کی بنیاد پر شرط ہے۔

دوسرے یہ کہ : عصمت کے لئے ملزم عقلی کا نہ ہونا اس کے عدم وجود کی دلیل نہیں بن سکتی ہے ۔ اس کی مزید وضاحت یہ ہے کہ: نبی اور امام کے لئے ، عقل لزوم عصمت کا حکم کرتی ہے اور ان کے علاوہ کسی اور کے لئے یہ حکم ثابت نہیں ہے۔ عصمت خدا کی ایک خاص نعمت ہے،خدا وندمتعال جسے چاہتا ہے اسے عطا کرتا ہے ۔ انبیاء اور ائمہ کی عصمت کے وجود پربرھان عقلی قائم ہے اور ان کے علاوہ اگر کسی کے لئے قرآن وسنت کی دلیل عصمت کو ثابت کرے تو اس پر یقین کرنا چاہئے اور آیہء تطہیر پیغمبر اسلام (ص)،ائمہ علیہم السلام اور حضرت زہراء سلام الله علیہا کی عصمت کی دلیل ہے۔

نواں سوال

حدیث ثقلین کے بارے میں صحیح(۲) مسلم کی روآیت کے مطابق پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے صحابی زید بن ارقم نے پیغمبر اکرم (ص)سے روآیت کی ہے کہ آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: ”اٴنا تارک فيکم الثقلین: کتاب الله و اهل بیتی “ زیدبن ا رقم سے سوال ہو تا ہے: آنحضرت (ص)

____________________

۱۔ اس سلسلہ میں مصنف کی کتابچہ ” امامت ، حدیث غدیر ، تقلین اور منزلت کی روشنی ہیں“ کی طرف رجوع کیا جائے

۲۔ص یح ع مسلم، کتاب فضائل،باب فضائل علی بن ابطالب-

۲۳۳

کے اہل بیت کون ہیں؟ کیا عورتیں )ازواج پیغمبر)بھی آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اہل بیت میں شامل ہیں؟جواب دیتے ہیں کہ : نہیں، سوال کرتے ہیں :پس آنحضرت کے اہل بیت کون ہیں؟جواب میں کہتے ہیں : آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اہل بیت وہ لوگ ہیں جن پر صدقہ حرام ہے۔ وہ علی ،عباس ،جعفر اورعقیل کی اولاد ہیں۔ اس بات کے پیش نظر اہل بیت کو کیسے پنجتن یا چودہ معصومین(ع)میں محدودکیا جا سکتا ہے؟

جواب

اول یہ کہ: یہ حدیث پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بیویوں کو اہل بیت علیہم السلام کی فہرست سے خارج کرتی ہے۔

دوسرے یہ کہ :یہ حدیث بہت سے طرق سے نقل ہونے کے باوجود یزید بن حیان پراس حدیث کی سند کا سلسلہ منتہی ہوتا ہے اوریہ حدیث آیہ شریفہ اور دوسری بہت سی آحادیث کی دلالت سے مقابلہ کی صلاحیت نہیں رکھتی ہے۔

تیسرے یہ کہ:بالفرض اگر اس کا صدور ثابت بھی ہو جائے تو بھی یہ ایک صحابی کا اجتہاد ہے اور یہ حجت نہیں بن سکتا۔

چوتھے یہ کہ: حدیث ثقلین بہت طریقوں سے زید بن ارقم سے نقل ہوئی ہے اور اس میں جملہء: ”ماإن تمسکتم لن تضلّوااٴبداً وإنّهمالن یفترقا حتّی یردا علیّ الحوض “ موجود ہے جو اہل بیت کی رہبری اور ان کے قرآن مجید سے لازم و ملزوم ہونے کو بیان کرتا ہے جو زیدبن ارقم کی مذکورہ تفسیر سے کسی بھی طرح سازگار نہیں ہے، کیونکہ مذکورہ تفسیر کی بنا پر خلفائے بنی عباس بھی اپنے تمام ترظلم و جرائم کے مرتکب ہونے کے باوجود اہل بیت کے زمرے میں شامل ہوجائیں گے اور یہ حدیث ثقلین کے الفاظ کے ساتھ سازگار نہیں ہے۔

۲۳۴

دسواں سوال

بعض احادیث میں آیا ہے کہ جب ام سلمہ نے سوال کیا کہ : ” کیا میں بھی اہل بیت میں داخل ہوں ؟“ یا ” مجھے بھی ان کے زمرہ میں شامل کر لیجئے “ تو پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے جواب دیا: ” ہاں انشاء الله“یا یوں فرمایا: ” انت من اھلی“ اس لئے نہیں کہا جاسکتا ہے کہ : اہل بیت پنجتن پاک میں منحصر ہیں؟

جواب

بیان کی گئی بہت سی حدیثوں سے کلمہ ” اہل بیت“ کی ایک خاص اصطلاح ہے جس کے مطابق صرف پنجتن پاک کا ان میں شامل ہونا اور دوسروں کی اس میں عدم شمولیت ثابت ہوتی ہے ۔ اس لئے کہا جاسکتا ہے کہ سوال میں اشارہ کی گئی احادیث میں ”اھل “ یا ”اہل بیت“سے مراد اس کے لغوی معنی ہوں گے جس میں آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بیویاں بھی شامل ہیں۔

ہم سوال میں اشارہ کی گئی احا دیث کے بارے میں اہل سنت کے فقہ و حدیث کے ایک امام، ابو جعفر طحاوی کے نظریہ کی طرف اشارہ کرتے ہیں ۔ طحاوی ان افراد میں سے ہیں جو آیہء شریفہ تطہیر میں ” اہل بیت “ کو پنجتن پاک علیہم السلام سے مخصوص جانتے ہیں اور پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی ازواج کو اس آیہء شریفہ سے خارج جانتے ہیں ۔ انھوں نے اپنی کتاب ”مشکل آلاثار‘(۱) ‘ میں ایک ایسی حدیث نقل کی ہے جو اس بات پردلالت کرتی ہے کہ ام سلمہ نے کہا:”مجھے ان )اہل بیت) کے ساتھ شامل کر لیجئے تو“ پیغمبر اکر مصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے فرمایا: ” انت من اھلی“ ”تم میرے اہل میں سے ہو“ اس کے بعد طحاوی کہتے ہیں:

” فکان ذالک ممّا قد يجوز اٴن يکون إرادة اٴ نّها من اٴهله، لاٴنّها من

____________________

۱۔مشکل الاثار،ج۱،ص۳۳۳۔۳۳۲

۲۳۵

اٴزواجه و ازواجه اهله“

ممکن ہے پیغمبراکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کا مقصد یہ ہو کہ ام سلمہ آپ کی بیویوں میں سے ایک ہے اور آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بیویاں آپ کے اہل ہیں۔

اس کے بعد طحاوی اس سلسلہ میں شاہد کے طور پر آٹھ حدیثیں نقل کرتے ہیں جو اس بات پر دلا لت کر تی ہیں کہ ام سلمہ آیہء تطہیر میں ” اہل بیت“ میں سے نہیں ہیں۔وہ مزید لکھتے ہیں :

” فدلّ ماروینا فی هذه الآثار ممّا کان رسول الله ( ص ) إلی اُمّ سلمة، ممّا ذکر نا فیهالم یرداٴنهاکانت ممّااُریدبه ممّافی الآیة المتلوة فی هذاالباب،واٴن المراد بما فیهاهم رسول الله صلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم و علیّ و فاطمة والحسن والحسین دون ماسواهم“ (۱)

یہ حدیثیں دلالت کرتی ہیں کہ ام سلمہ ان اہل بیت میں سے نہیں ہیں کہ جن کی طرف آیہ ء تطہیر اشارہ کرتی ہے ۔اورآیہ ء تطہیر میں موجود ” اہل بیت “ سے مراد صرف رسول خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ، علی وفاطمہ،حسن و حسین)علیہم السلام) ہیں۔

طحاوی کی نظر میں ایک اوراحتمال یہ ہے کہ ”انت اھلی“ کا مقصد یہ ہے کہ تم میرے دین کی پیروی کرنے کی وجہ سے میرے اہل میں شمار ہوتی ہو، کیونکہ حضرت نوح علیہ السلام کی داستان میں ان کا بےٹا ان کی اہل سے خارج ہے اور اس کے بارے میں کہا گیا :إنّه ليس من اٴهلک إنّه عمل غیر صالح (۲) اس سے استفادہ کیاجاسکتا ہے کہ جو صاحب )ایمان اور) عمل صالح ہیںوہ ان کے اہل ہیں۔

____________________

۱۔ مشکل ا لآثار، ج۱،ص۳۳۶

۲۔ سورئہ ہود/۴۶

۲۳۶

طحاوی نے اس احتمال کو واثلہ کی حدیث بیان کرنے کے بعد پیش کیا ہے۔ واثلہ بھی ان صحابیوں میں سے ایک ہے، جس نے حدیث کساء کی روآیت کی ہے۔وہ اپنی روآیت میں پنجتن پاک کے کساء کے نیچے جمع ہونے کی طرف اشارہ کرتا ہے اور پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے بیان کو نقل کرتا ہے کہ آپ نے فرمایا: ”اٴللّهم هولاء اهل بیتی واهل بیتی احق “ اس کے بعد کہتا ہے:میں نے کہا : یا رسول الله کیا میں بھی آپ کے اہل بیت میں شامل ہوں ؟ فرمایا: ” تم میرے اہل سے ہو“۔

طحاوی اپنے بیان کو جاری رکھتے ہوئے کہتے ہیں:

” واثلہ کا ربط، ام سلمہ کی بہ نسبت پیغمبر اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم سے بہت دور کا ہے۔کیونکہ واثلہ )پیغمبر خداصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے گھر کا ایک خادم ہے )بنی لیث کا ایک شخص ہے اور قریش میں شمار نہیں ہوتا ہے اور ام سلمہ ) پیغمبرصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کی بیوی ) قریش سے ہیں۔ اس کے باوجود ہم دیکھتے ہیں کہ آنحضرت (ص)واثلہ سے فرماتے ہیں : ” تم میرے اہل میں سے ہو“ لہذا اس کے یہ معنی ہیں کہ تم میرے دین کی پیروی کرنے کی خاطر اور مجھ سے ایمان رکھنے کے سبب ہم اھل بیت کے زمرہ میں داخل ہو۔

بیہقی نے بھی ” السنن الکبریٰ “(۱) میں واثلہ کی حدیث کو نقل کیا ہے اور کہاہے:

” وکانّه جعل فی حکم الاٴهل، تشبیها بمن يسحق هذاالابسم لا تحقيقاً“

”گویا اس حدیث میں واثلہ کو تشبیہ کے لحاظ سے آنحضرتصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے اہل کے حکم میں قرار دیاگیا ہے نہ اس لئے کہ وہ حقیقی طور پر اہل بیت کا مصداق تھا۔“

اس لئے بہت سی حدیثیں کہ جو اہل بیت کے دائرہ کو منحصر کرنے کے سلسلہ میں وارد ہوئی ہیں اس میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔

____________________

۱-السنن الکبریٰ ، ج۲،ص۵۲،دارالمعرفة،بیروت

۲۳۷

گیارہواں سوال

آیہء( إنّما یرید الله ) اس آیت کے مانند ہے:( مایریدالله ليجعل عليکم من حرج ولکن یرید ليطهّرکم ولیتمّ نعمتة عليکم ) (۱) یعنی: ” خدا تمھارے لئے کسی طرح کی زحمت نہیں چاہتا ، بلکہ یہ چاہتا ہے کہ تمھیں پاک و پاکیزہ بنادے اور تم پر اپنی نعمت کو تمام کردے “اور اسی طرح آیہء( إنّما یرید الله ) اس آیت کے مانند ہے:( ليطهّرکم ويذهب عنکم رجز الشيطان ) (۲) یعنی ” تاکہ تمھیں پاکیزہ بنادے اور تم سے شیطان کی کثافت کو دور کردے “

اگر آیہء تطہیر عصمت پر دلالت کرتی ہے تو مذکورہ دو آیتوں کی بناپرہمیں بہت سارے اصحاب کی عصمت کے قائل ہونا چائیے۔

جواب

پہلافقرہ وہ ہے جو وضو کی آیت کے آخر میں آیا ہے۔ آیہ شریفہ یوں ہے:

( یا إیهاالّذین آمنواإذا قمتم إلی الصلوٰة فاغسلوا وجوهکم و اٴ یديکم إلی المرافق و اٴمسحوا برء وسکم و اٴرجلکم إلی الکعبین وإن کنتم جنباً فاطهّروا فتیمموا صعیداً طیباً فاٴمسحوا بو جوهکم واٴیديکم منه مایرید الله ليجعل عليکم من حرج ولکن یرید ليطهِّرکم و لیتم نعمته عليکم لولعلکم تشکرون ) (۳)

____________________

۱۔ سورہ مائدہ/۶

۲۔سورہ انفال/۱۱

۳۔ سورئہ مائدہ/۶

۲۳۸

اس آیہء کریمہ میں خدا وند متعال وضو، غسل اور تیمم کا حکم بیان کرنے کے بعد فرما تا ہے: ”خدا وندمتعال ) ان احکام کی تشر یع سے ) تمھارے لئے کسی طرح کی زحمت نہیں چاہتا ہے، بلکہ یہ چاہتا ہے کہ تمھیں )وضویا غسل یا تیمم سے ) پاک و پاکیزہ بنادے“۔ یہ حدث پاک کرنا ہے جو وضو یا غسل یا تیمم سے حاصل ہوتاہے ، اور اس کا آیہ ء تطہیر کی مطلق طہارت تکوینی سے کوئی ربط نہیں ہے۔

دوسری آیت میں بھی ”رجز اللشیطان “یعنی شیطان کی نجاست سے مرا دوہ جنابت ہے جس سے جنگ بدر میں مسلمان دو چار ہوئے تھے اور خدا وندمتعال نے ان کے لئے بارش نازل کی اور انہوں نے بارش کے پانی سے غسل کیا اوراپنے جنابت کے حدث کو غسل سے برطرف کیا۔ اس آیت میں ایک خاص طہارت بیان کی گئی ہے اور اس طہارت کا تعلق ان صحابہ سے ہے جو جنگ بدر میں موجود تھے اور جنھوں نے بارش کے پانی سے غسل کرکے یہ طہارت حاصل کی تھی لہذا آیہ تطہیر سے استفادہ ہونے والی مطلق تکوینی طہارت سے اس کا کو ئی ربط نہیں ہے۔

۲۳۹

ساتواں باب :

امامت آیہ ” علم الکتاب“ کی روشنی میں

( و یقول الّذین کفرو الست مرسلاً قل کفی بالله شهیداً بینی و بینکم ومن عنده علم الکتاب )

سورہ رعد/ ۴۳

” اور یہ کافر کہتے ہیں کہ آپ رسول نہیں ہیں تو کہدےجئے کہ ہمارے اور تمھارے درمیان رسالت کی گواہی کے لئے خدا کافی ہے اور وہ شخص کافی ہے جس کے پاس پوری کتاب کا علم ہے۔“

یہ آیہ شریفہ ان آیتوں میں سے ہے جن میں امیرالمئومنین حضرت علی علیہ السلام کے بارے میں ایک بڑی فضیلت بلکہ احتجاج(۱) کی روآیت کے مطابق سب سے بڑی فضیلت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ اس لئے مناسب ہے اس کے معنی میں مزید غور وخوض کیا جائے۔

اس آیت میں پہلے کفار کی طرف سے پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم کی رسالت کا انکار بیان کیا گیا ہے ۔ اس کے بعد آنحضرت صلی الله علیہ وآلہ وسلم کی رسالت کے دو گواہ ذکر کئے گئے ہیں ایک خدا وند عالم کی ذات اور دوسرے وہ کہ جس کے پاس کتاب کا علم ہے۔

آیت کی دلالت کو واضح کرنے کے لئے ضروری ہے کہ بحث کو درج ذیل دو محوروں پر جاری رکھا جا ئے

۱ ۔ خداوندمتعال کی گواہی کس طرح سے ہے؟

۲ ۔من عندہ علم الکتابسے مراد کون ہے؟

____________________

۱-مصباح الھدایة،ص ۴۳

۲۴۰