سيرت آل محمد(عليهم السلام)

سيرت آل محمد(عليهم السلام)27%

سيرت آل محمد(عليهم السلام) مؤلف:
زمرہ جات: متفرق کتب

سيرت آل محمد(عليهم السلام)
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 19 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 28425 / ڈاؤنلوڈ: 5389
سائز سائز سائز

1

2

3

امام موسی کاظمعليه‌السلام کی شھادت اور اس کے محرکات

"انتم الصراط الاقوم والسبیل الاعظم وشهداء دار الفناء وشفعاء دار البقاء" (۲۸)

"آپ ہی صراط اقوام (بہت ہی سیدھا راستہ) ہیں، عظیم ترین راستہ (وسیلہ) اس فانی دنیا کے گواہ، باقی رہنے والی دنیا کے شفیع ہیں۔"

چونکہ حضرت امام زمانہ علیہ السلام اللہ تعالی کے حکم اور مشیت سے زندہ ہیں ان کے علاوہ باقی آئمہ طاہر ین علیھم السلام جام شھادت نوش فرما چکے ہیں۔ان میں سے کوئی امام بھی طبعی موت یا کسی بیماری کی وجہ سے اس دنیا سے نہیں گیا۔ ہمارے آئمہ اطہار شھادت کو اپنے لئے باعث افتخار سمجھتے ہیں۔ سب سے پھلے تو ہمارا ہر امام ہمیشہ اپنے لیے خدا سے شھادت کی دعا کرتا ہے۔ پھر انھوں نے جو ہمیں دعائیں تعلیم فرمائیں ہیں ان میں سے بھی شھادت سب سے پسندیدہ چیز متعارف کی گئی ہے جیسا کہ ہمارا آقا و مولا حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں۔ میں بستر کی موت کو سخت ناپسند کرتا ہوں۔ مجھ پر ھزار ٹوٹ پڑنے والی تلواریں اور ھزاروں زخم اس سے کھیں بھتر ہیں کہ میں آرام سے بستر کی موت مروں۔ ان کی دعاؤں میں یھی التجاء ہے، تمناؤں میں یھی تمنا، آرزوؤں میں یھی آرزو، مناجات میں یھی دعا ہے کہ خدا ہمیں شھادت کے سرخ خون سے نھلا کر اپنی ابدی زندگی عطا فرما، غیرت رحمیت، حریت، و عظمت میری زندگی کا نصب العین ٹھرے۔ زیارت جامعہ کبیرہ میں ہم پڑھتے ہیں کہ:

"انتم الصراط الاقوم، والسبیل الاعظم و شهداء دار الفناء وشفعاء دار البقاء"

کہ آپ بہت ہی سیدھا راستہ، عظیم ترین شاہر اہ آپ اس جھان کے شھید اور اس جھان کے شفاعت کرنے، بخشوانے والے ہیں۔"

لفظ شھید امام حسین علیہ السلام کی ذات گرامی کے ساتھ وقف کیا گیا ہے ہم عام طور پر جب بھی آپ کا نام لیتے ہیں"تو الحسین الشھید"کھتے ہیں اسی طرح امام جعفر صادق علیہ السلام کے ساتھ صادق اور امام موسی ابن جعفر کا لقب موسی الکاظم اور سید الشھداء کا لقب حضرت امام حسین علیہ السلام کے ساتھ خاص ہے۔ اس کا یہ مطلب ہر گز نہ لیا جائے کہ ائمہ طاہر ین علیھم السلام میں سے امام حسین علیہ السلام ہی شھید ہوئے ہیں؟ اس طرح موسی ابن جعفر کے ساتھ کاظم کا لقب ہے اس کا مقصد یہ نہیں ہے کہ صرف وھی کاظم ہیں، امام رضا علیہ السلام کے ساتھ الرضا کا لقب خاص ہے اس کا یہ معنی نہیں کہ دوسرے ائمہ رضا نہیں ہیں اگر امام جعفر صادق کو صادقعليه‌السلام کھتے ہیں تو اس کا یہ مفھوم نہیں ہے کہ دوسرے ائمہ صادق نہیں ہیں۔ یہ سارے کے سارے محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم بھی ہیں اور علیعليه‌السلام بھی ان کی زندگی ایک دوسرے کی زندگی کا عکس ہے۔ تاثیر بھی ایک، خوشبو بھی، ایک سلسلہ نسب بھی ایک مقصد حیات بھی ایک۔

جھاد اور عصری تقاضے

یھاں پر ایک سوال اٹھتا ہے کہ تمام ائمہ اطہار علیھم السلام شھید کیوں ہوئے ہیں؟ حالانکہ تاریخ ہمیں بتلاتی ہے کہ امام حسین علیہ السلام کے سوا کوئی امام تلوار لے کر میدان جھاد میں نہیں آیا۔ امام سجادعليه‌السلام خاموشی کے باوجود شھید کیوں ہوئے؟ اسی طرح امام باقرعليه‌السلام ، امام صادقعليه‌السلام امام موسی کاظمعليه‌السلام اور باقی تمام ائمہ شھید کیوں ہوئے ہیں؟ اس کا جواب یہ ہے یہ ہماری بہت بڑی غلطی ہوگی کہ اگر یہ سمجھیں کہ امام حسینعليه‌السلام اور دیگر ائمہ طاہر ینعليه‌السلام کے انداز جھاد میں فرق ہے؟ اسی طرح کچھ ناسمجھ لوگ تک بھی کھہ دیتے ہیں کہ امام حسین علیہ السلام ظالم حکمرانوں کے ساتھ لڑنے کو ترجیح دیتے تھے اور باقی ائمہ خاموشی کے ساتھ زندگی گزارنا پسند کرتے تھے۔ درحقیقت اعتراض کرنے والے یہ کہہ کر بہت غلطی کرتے ہیں۔ ہمارے مسلمان بھائیوں کو حقیقت حال کو جانچنا اور پھچاننا چاہی ے۔ ہمارے ائمہ طاہر ینعليه‌السلام میں سے کوئی امام ظالم حکومت کے ساتھ سمجھوتہ نہیں کرسکتا اور نہ ہی وہ اس لیے خاموش رہتے تھے کہ ظالم حکمران حکومت کرتے رہیں۔ حالات و واقعات کا فرق تھا موقعہ محل کی مناسبت کے ساتھ ساتھ جھاد میں بھی فرق ہے۔ کسی وقت ان کو مجبوراً تلوار اٹھانا پڑی اور ایک وقت ایسا بھی آیا کہ حالات میں سخت گھٹن پیدا ہوگئی، یہاں تک کہ لوگوں کا سانس لینا بھی مشکل ہو گیا تھا۔ اس کے باوجود ہمارے کسی امام نے بھی حکومت وقت کے ساتھ سمجھوتہ نہ کیا بلکہ وہ ظالموں، آمروں کو بار بار ٹوکتے اور ان کے مظالم کے خلاف آواز حق بلند کرتے تھے۔

آپ اگر ائمہ طاہر ینعليه‌السلام کی سیرت طیبہ کا مطالعہ کریں تو آپ دیکھیں گے کہ آل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم نے ہمیشہ اور ہر دور میں ظلم کے خلاف آواز اٹھائی اور مظلوموں کی نہ صرف حمایت کی بلکہ ان کی ہر طرح کی مدد بھی کی۔ جب کبھی ان کی اپنے دور کے حکمران سے ملاقات ہوتی تھی تو وہ اس کے منہ پر ٹوک دیتے تھے۔ آپ کو تاریخ میں یہ کبھی نہیں ملے گا کہ آئمہ اطہارعليه‌السلام میں کسی امام نے کسی حکمران کی حمایت کی ہو۔ وہ ہمیشہ مجاہدت میں رہے۔ تقیہ کا یہ مقصد نہیں ہے کہ وہ آرام و سکون سے زندگی بسر کرنا چاہتے تھے تقیہ وقی سے جیسا کہ تقوی کا مادہ بھی وقی ہے ۔ تقیہ کا معنی یہ ہے کہ خفیہ طور پر اپنا اور اپنے نظریے کا دفاع کرنا۔ ہمارے ائمہ طاہر ینعليه‌السلام تقیہ کی حالت میں جو جو کارنامے سرانجام دیتے شاید تلوار ٹھانے کی صورت میں حاصل نہ ہوتے۔ ہمارے ائمہ کی بھترین حکمت عملی، حسن تدبر اور مجاہدت کی زندگی بسر کرنا ہمارے لیے باعث فخر ہے۔ وقت گزر گیا مورخین نے لکھ دیا کہ آل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم حق پر تھے۔ ان کا ہر کام اپنے جد امجد رسول اکرمصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم کے مقدس ترین دین کو تحفظ فراہم کر نے کیلئے تھا۔ آج ان کا دشمن دنیا بھر کے مسلمانوں کے نزدیک قابل نفرین اور مستحق لعنت ہے۔ صدیاں بیت گئیں۔ عبدالملک مروان، اولاد عبدالملک، عبد الملک کے بھتیجے بنی العباس، منصور دوانیقی، ابو العباس سفاح، ہارون الرشید، مامون و متوکل تاریخ انسانیت کے بدنام ترین انسان شمار کیے جاتے ہیں۔ ہم شیعوں کے نزدیک یہ لوگ غاصب ترین حکمران تھے انھوں نے شریعت اسلامیہ کو جتنا نقصان پھنچایا ہے۔ اس پر ان کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ اگر ہمارے ائمہ طاہر ینعليه‌السلام ان کے خلاف جھاد نہ کرتے تو وہ اس سے بڑھ کر بلکہ علانیہ طور پر فسق و فجور کا مظاہر ہ کرتے، نہ جانے کیا سے کیا ہو جاتا۔ یہ لوگ اسلام اور مسلمانوں کے حق میں مخلص نہ تھےائمہ طاہر ینعليه‌السلام کے ساتھ مقابلہ کرنے اور لوگوں کو دھوکہ دینے کے لیے ظاہر ی طور پر اسلام کا نام لیتے اور علمی مراکز اور مساجد قائم کر کے لوگوں کو باور کرانے کی کوشش کرتے کہ وہ پکے اور سچے مسلمان ہیں۔ لیکن ائمہ حق نے نہ صرف ان کے منافقانہ چھروں سے نقاب اٹھا کر ان کا ڈٹ کر مقابلہ کیا بلکہ لوگوں کو بھی راہ راست پر لانے کی بھر پور کوشش کی۔

اگر آل محمدصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم ان ظالموں کے خلاف مجاہدت و مقاومت نہ کرتے تو آج تاریخ اسلام میں ان جیسے منافق، خود نما مسلمان حکمرانوں کو اسلام کے ھیرو کے طور پر متعارف کرایا جاتا۔ اگر چہ کچھ اب بھی ان کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔لیکن مسلمان کی اکثریت تاریخی حقائق کو ان کی بات کی طرف دھیان نہیں دیتی۔ اس نشست میں ہم امام موسی کاظم علیہ السلام کی شھادت کی وجوہات اور محرکات پر روشنی ڈالنا چاہتے ہیں کہ امام علیہ السلام کو شھید کیوں کیا گیا؟ آپ کو سالھا سال کی قید با مشقت اور اسیری کے انتھائی تکلیف دہ ایام گزارنے کے باوجود آپ کو زھر دے کر شھید کیوں کردیا گیا؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ پر بے پناہ مظالم ڈھانے کے بعد بھی وہ امام کو اپنے ساتھ ملانے میں کامیاب نہ ہوسکے۔ جب وہ ہر طرح سے ناکام و نامراد ہوگئے تو استقامت اور پائیداری کے اس عظیم المنزلت پہاڑ کو بزدلانہ حرکت کے ذریعہ گرانے کی ناکام کوشش کی گئی کہ آپ کو زھر دے کر شھید کر دیا گیا۔

امام زندان بصرہ میں

امام موسی کاظم علیہ السلام کو ایک زندان میں نہیں رکھا گیا بلکہ آپ کو مختلف زندانوں میں رکھا جاتا۔ آج ایک زندان میں توکل کسی اور زندانوں میں منتقل کیا جاتا تھا۔ اس کی ایک وجہ تو آپ کو طرح طرح کی اذیتیں دینا مقصود تھا اور دوسری وجہ آپ جس جیل میں جاتے وہاں کے قیدی آپ کے مرید بن جاتے۔ سب سے پھلے امام کو عیسی بن ابی جعفر منصور کے زندان میں بھیجا گیا۔ یہ منصور دوانیقی کا پوتا تھا اور بصرہ کا گورنر تھا امام علیہ السلام کی نگرانی اس کے ذمہ تھی۔ یہ عیاش ترین شخص تھا۔ھر وقت نشہ میں مدھوش رھتا اور رقص و سرور، ناچ گانے کی محفلیں منعقد کرتا تھا۔ ایک کسان کے بقول کہ اس عارف خدا ترس، عابد و زاہد انسان کو ایسی جگہ پر قیدی بنا کر لایا گیا کہ جس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا، آپ کے کانوں میں ناچنے گانے والوں کی آوازیں آتی تھیں۔ ایسی آوازیں کہ آپ نے زندگی بھر نہ سنی تھیں۔ ۷ ذی الحجہ سال ۱۷۸ کو امام علیہ السلام کو زندان بصرہ میں لایا گیا۔ عید الاضحی کا دن تھا اس لیے لوگ خوشیاں اور جشن منارہے تھے۔ آپ کو روحانی و ذھنی لحاظ سے بہت زیادہ تکلیف پھنچائی گئی۔

آپعليه‌السلام ایک طویل مدت تک اس زندان میں رہے۔ عیسی بن جعفر اہستہ اہستہ آپ کا مرید ہوگیا۔ وہ پھلے آپ کے بارے میں کچھ اور خیال کرتا تھا وہ سمجھتا تھا کہ امام موسی کاظمعليه‌السلام حکومت و سیاست کیلئے کوشاں ہیں لیکن اس نے جب دیکھا کہ امام علیہ السلام تو بہت ہی عظیم اور عبادت گزار شخصیت ہیں۔ اس کے بعد اس کی سوچ یکسر بدل گئی چناچہ اس نے اپنے نوکروں کو حکم دیا کہ امام علیہ السلام کے لیے بھترین کمرہ مھیا کیا جائے۔ آپ کا غیر معمولی طور پر احترام کیا جانے لگا۔ ہارون نے اسے پیغام بھیجا کہ اس قیدی کا خاتمہ کر دے۔ عیسی نے جواب میں کھا کہ میں ایسا ہر گز نہیں کرسکتا۔ بھتر یہ ہے کہ یہ قیدی مجھ سے واپس لے لیا جائے۔ ورنہ میں ان کو آزاد کردوں گا۔ میں اس قسم کے عظیم انسان کو اپنے قید خانے میں نہیں رکھ سکتا چونکہ وہ خلیفہ وقت کا چچا زاد بھائی اور منصور کا پوتا تھا اس لیے اس کی بات میں وزن تھا اور امام کو کسی دوسرے زندان میں منتقل کر دیا گیا۔

امام علیہ السلام مختلف زندانوں میں

حضرت امام موسی کاظم کو بغداد لایا گیا یہاں پر فضل بن ربیع مشھور دروغہ تھا۔ امامعليه‌السلام کو اس کے سپرد کر دیا گیا۔ اس پر تمام خلفاء اعتماد کرتے تھے۔

ہارون نے اس سے خاص تاکید کی تھی کہ امام علیہ السلام کے ساتھ کسی قسم کی نرمی نہ برتے بلکہ جتنا ہوسکے ان پر سختی کی جائے لیکن فضل امام کے معصومانہ کردار کو دیکھ کر پسیج گیا اور آپ کا عقیدت مند بن گیا۔ سختی کی بجائے نرمی سے پیش آنے لگا۔ زندان کے کمرے کو ٹھیک کیا اور امام علیہ السلام کو قدرے سھولتیں فراہم کیں۔ جاسوس نے ہارون کو خبر دی کہ امام موسی کاظم فضل بن ربیع کے زندان میں آرام و سکون کے ساتھ زندگی بسر کررہے ہیں۔ یوں محسوس ہورہا ہے کہ زندان نہیں ہے بلکہ مھمان سرا ہے۔ ہارون نے امام علیہ السلام کو اس سے لے کر فضل بن یحیی برمکی کی نگرانی میں دے دیا۔ فضل بن یحیی بھی کچھ عرصہ کے بعد امامعليه‌السلام سے محبت کرنے لگا۔ ہارون کو جب اس کے رویے کی تبدیلی کی خبر ملی تو سخت غضبناک ہوا اور اپنے جاسوس کو بھیجا کہ جاکر معاملہ کی تحقیق کریں۔ جب جاسوس آئے تو معاملہ ویسا ہی تھا جیسا کہ ہارون کو بتیا گیا تھا۔ہارون فضل برم، کی پر سخت ناراض ہوا اس کا باپ وزیر تھا، یہ ایرانی النسل تھا۔ بہت ہی ملعون شخص تھا۔ اس کو ڈر لاحق ہوا کہ کھیں اس کا بیٹا خلیفہ کی نظروں میں گر نہ جائے، یہ فوری طور پر ہارون کے پاس آیا اور کھا کہ وہ اس کے بیٹے کی غلطی کو معاف کر دے۔ اس کی جگہ پر میں معافی مانگتا ہوں۔ اور میرا بیٹا بھی اپنے کیے پر شرمندہ ہے۔ پھر وہ بغداد آیا امامعليه‌السلام کو اپنے بیٹے کی نگرانی سے لے کر سندی بن شاہک کی نگرانی میں دیا۔ یہ انتھائی ظالم اور سفاک آدمی میں تھا اور مسلمان بھی نہ تھا، اس لیے امام علیہ السلام کے بارے میں اس کے دل ذرا بھر رحم نہ تھا۔ پھر کیا ہوا؟ امام علیہ السلام پر سختی کی جانے لگی اس کے بعد میرے آقا نے کسی لحاظ سے سکون نہیں دیکھا ۔

ہارون کا امام علیہ السلام سے تقاضا

امام علیہ السلام کے زندان میں آخری دن تھے، یہ تقریباً شھادت سے ایک ھفتہ پھلے کی بات ہے۔ ہارون نے یحیی برمکی کو امام علیہ السلام کے پاس بھیجا اور انتھائی نرم اور ملائم لھجہ کے ساتھ اس سے کھا کہ میری طرف سے میرے چچا زاد بھائی کو سلام کھنا اور ان سے یہ بھی کھنا کہ ہم پر ثابت ہو چکا ہے کہ آپ بے قصور ہیں آپ کا کوئی گناہ نہیں ہے لیکن افسوس کہ میں نے قسم اٹھا رکھی ہے کہ اس کو توڑ نہیں سکتا۔ میری قسم یہ کہ جب تک آپ اپنے گناہ کا اعتراف نہ کریں گے اور مجھ سے معافی نہیں مانگیں گے تو آپ کو آزاد نہیں کروں گا اور کسی کو پتہ بھی نہ چلے آپ صرف یحیی کے سامنے اعتراف جرم کرلیں۔ میرے سامنے معافی مانگنے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ یہ بھی ضروری نہیں ہے کہ اعتراف جرم کے وقت بہت سے لوگ موجود ہوں میں تو صرف اتنا ہی چاہتا ہوں کہ اپنی قسم نہ توڑوں۔ آپ یحیی برمکی کے سامنے اعتراف گناہ کر لیں اور صرف اتنا کھہ دیں کہ معافی چاہتا ہوں، میں نے غلطی کی ہے مجھے معاف کر دیجئے تو میں آپ کو آزاد کردوں گا۔ اس کے بعد میرے پاس تشریف لے آیئے اور میں آپ کی ہر طرح کی خدمت کروں گا۔

اب اس استقامت کوہ گراں کی طرف دیکھئے۔ یہ شفیح روز جزاء کیوں ہیں؟ یہ شھید کیوں ہو جاتے ہیں؟ یہ ایمان اور اپنے نظریہ کی پختگی کی وجہ سے شھید کیے گئے اگر یہ سب آئمہ اپنے موقف کو بدل دیتے اور احکام وقت کی ہاں میں ہاں ملاتے تو ہر طرح کا آرام و سکون حاصل کر سکتے تھے۔ لیکن رات اور دن اور حق و باطل، روشنی اور تاریکی، سچ اور جھوٹ ایک جگہ پر جمع نہیں ہوسکتے۔ بھلا امام وقت کسی حاکم وقت کے ساتھ کس طرح سمجھوتہ کر سکتا ہے؟! آپ نے یحی کو جو جواب دیا وہ یہ تھا کہ ہارون سے کھہ دینا کہ میری زندگی کے دن ختم ہو چکے ہیں اس کے بعد تو جان اور تیرا کام جانے۔ ہم نے جو کرنا تھا وہ کرچکے۔ اس کے بعد میرے آقا کو زھر دے کر شھید کر دیا گیا ۔

امام علیہ السلام کی گرفتاری کی وجہ

اب سوال یہ ہوتا ہے کہ ہارون نے امام علیہ السلام کو گرفتار کرنے کا حکم کیوں دیا تھا؟ اس لیے کہ وہ امام علیہ السلام کی عوام میں غیر معمولی مقبولیت کے باعث آپ سے حسد کرتا تھا اور اس کو یہ بھی ڈر تھا کہ لوگ ہمیں چھوڑ کر امام علیہ السلام کو اپنا مذھبی و سیاسی رھنما نہ بنالیں۔ ہارون دیگر خلفاء کی مانند آل محمد علیھم السلام کے ہر فرد سے ھراساں رھتا وہ اس خدشہ کے تحت ہمیشہ چوکنا رھتا تھا کہ آل رسول کھیں انقلاب نہ لے آئیں۔ وہ روحانی و نظریاتی انقلاب سے بھی ڈرتے تھے۔ اس لیے وہ لوگوں کو آئمہ طاہر ین علیھم السلام کے ساتھ ملنے نہ دیا کرتے، لوگوں کی آمد و رفت پر مکمل طور پر پابندی تھی۔ جب ہارون نے چاہا کہ اپنے بیٹوں امین اور اس کے بعد مامون اور اس کے بعد موتمن کی ولیعھدی کا دوبارہ رسمی طور پر اعلان کرے تو وہ شھر کے علماء اور زعماء کو دعوت کرتا ہے کہ وہ مکہ میں اس سلسلے میں بلائی جانے والی عالمی کانفرنس میں شرکت کریں اور سب لوگ اس کی دوبارہ بیعت کریں لیکن سوچتا ہے کہ اس منصوبہ اور پروگرام کے سامنے رکاوٹ کون ہے؟وہ کون ہے کہ جس کی موجودگی خلیفہ کے لیے بہت بڑی مشکل کھڑی کر سکتی ہے۔ کون ہے وہ کہ جس کی علمی استعداد اور پاکیزگی کردار لوگوں کو اپنا گرویدہ بنا لیتی ہے۔

کون ہے وہ کہ جس کی معصومانہ کشش اور مظلومانہ انداز احتجاج اس کی حکومت ظلم کی چولیں ھلاسکتا ہے؟ ظاہر ہے وہ امام موسی کاظم علیہ السلام ہی ہو سکتے ہیں۔ وہ مدینہ آتے ہی امامعليه‌السلام کی گرفتاری کا آرڈر جاری کر دیتا ہے۔ یھی یحیی برمکی ایک شخص سے کھتا ہے کہ مجھے گمان ہے کہ خلیفہ وقت آج نہیں توکل امام علیہ السلام کو گرفتار کرنے کا حکم صادر کر دے گا۔ اس شخص نے پوچھا وہ کیسے؟ بولا میں خلیفہ مسجد النبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں گئے تو اس نے اس انداز میں حضور پر سلام کیا السلام علیک یاابن العم۔ سلام ہو آپ پر اے میرے چچا کے بیٹے۔ آپ سے معزرت چاہتا ہوں ۔ میں آپ کے بیٹے موسی کاظم کو گرفتار کرنے پر مجبور ہوں (گویا وہ پیغمبر اسلام کے سامنے بھی جھوٹ بول رہا تھا) اگر میں ایسا اقدام نہ کروں تو ملک میں بہت بڑا فتنہ کھڑا ہوجائے گا۔ اجتماعی اور ملکی مفاد کیلئے کچھ دیر کیلئے امام علیہ السلام کو نظر بند کر رہا ہوں۔ یا رسول اللہ میں آپ سے معافی چاہتا ہوں۔ یحیی نے اپنے ساتھی سے کھا دیکھ لینا آج کل امام علیہ السلام نظر بند ہو جائیں گے۔ چناچہ ہارون نے امام کی گرفتاری کے لیے احکامات صادر کر دیئے۔ پولیس امامعليه‌السلام کے گھر گئی تو آپ وہاں پر موجود نہ تھے۔ پھر وہ مسجد النبیصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم میں آئے دیکھا تو آپ نماز پڑھ رہے تھے۔ ان ظالموں نے آپ کو نماز مکمل کرنے کا موقعہ ہی نہ دیا۔ نماز کے دوران امام کو پکڑ کر زبردستی مسجد سے باہر لے آئے۔ اس وقت حضرت نے قبر رسولصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم پر حسرت بھری نگاہ سے دیکھا اور عرض کی "السلام علیک یا رسول اللہ السلام علیک یا جداہ" نانا اپنے اسیر و مجبور بیٹے کا سلام قبول فرمائے دیکھ لیا آپ نے کہ آپ کی امت آپ کی اولاد کے ساتھ کیا سلوک کر رہی ہے؟

ہارون ایسا کیوں کر رہا ہے؟اس لیے کہ اپنے بیٹوں کی ولی عھدی کیلئے لوگوں کو بیعت پر مجبور کرے ۔ امام موسی کاظم علیہ السلام خاموش رہے ۔ صبر و تحمل سے کام لیا کسی قسم کا انقلاب برپا کرنے کی بات نہ کی کیونکہ اس وقت کا ماحول بالکل آپ کے خلاف تھا کوئی بھی نہ تھا کہ جو آپ کی حمایت کرتا جو حامی تھے وہ بہت مجبور تھے۔ لیکن آپ کی اسیری کا انداز ظالمانہ نظام حکومت کے خلاف پر زور احتجاج بھی تھا اور آمریت کے منہ پر طمانچہ بھی آپ نے قول و فعل سے ثابت کر دیا ہے کہ ہارون اور اس کے بیٹے غاصب ہیں، مجرم ہیں ملت اسلامیہ کے دشمن ہیں ۔

مامون کی باتیں

مامون کا طرز زندگی ایسا تھا کہ بہت سے مورخین اس کو شیعہ کھتے اور لکھتے ہیں۔ میرے عقیدہ کے مطابق یہ ضروری نہیں ہے کہ ایک شخص ایک چیز پر عقیدہ رکھتا ہو لیکن وہ عمل بھی اس پر کرے۔ ہو سکتا ہے کہ وہ شیعہ ہو اور اس کا شمار شیعہ دانشوروں میں سے ہوتا ہو۔ تاریخ میں یہ بھی درج ہے کہ اس نے علماء اہل سنت کے ساتھ متعدد بار مباحثے و مناظرے کیے ہیں۔ میں نے کسی ایسے شیعہ عالم کو نہیں دیکھا جو اس جیسی بھترین گفتگو کرتا ہو۔ چند سال پیش ترکی کے ایک سنی جج کی ایک کتاب چھپی اس کا فارسی زبان میں بھی ترجمہ ہو چکا ہے ۔ اس کتاب میں مامون کے اہل سنت علماء کے ساتھ حضرت علی علیہ السلام کی خلافت حقہ کے بارے میں مباحثے، مناظرے درج کیے گئے ہیں۔ مامون کی عالمانہ، فاضلانہ، دانشمندانہ آراء کو پڑھ کر انسان حیران ہو کر رہ جاتا ہے۔ اس طرح کی بحثیں تو بڑے سےبڑا عالم بھی نہ کرسکے ۔ مورخین نے لکھا ہے کہ مامون نے ایک مرتبہ کھا ہے کہ اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ میں نے شیعہ ہونا کس سے سیکھا ہے تو میں کھوں گا کہ میں نے شیعیت کا درس اپنے بابا ہارون سے حاصل کیا ہے ۔

کسی نے بالآخر کھہ ہی دیا کہ تمہارے بابا تو شیعہ اور آئمہ شیعہ کا سخت ترین مخالف ار کٹر دشمن تھا، تو اس نے کھا ھاں ایسا ہی ہے، لیکن میں آپ کو ایک واقعہ سنا تا ہوں وہ یہ کہ میں ایک مرتبہ اپنے بابا کے ہمراہ حج پر گیا اس وقت میں بچہ تھا سب لوگ بابا سے ملنے کیلئے آجارہے تھے ۔ خاص طور پر علماؤ، مشائخ اور زعمائے ملت کی خلیفہ وقت کے ساتھ خصوصی میٹنگیں تھیں ۔ بابا کا حکم تھا کہ جو بھی آئے سب سے پھلے اپنا تعارف خود کروائے، یعنی اپنا نام تمام شجرہ نسب بیان کرے تاکہ خلیفہ کو معلوم ہو کہ یہ قریش سے ہے یا غیر قریش ہے۔ اگر انصار میں سے ہے تو خرزی قبیلہ سے ہے یا اوسی قبیلہ سے۔ سب سے پھلے نوکر اطلاع کرتا کہ آپ کو فلاں شخص، فلاں کا بیٹا ملنے آیا ہے ۔ ایک روز نوکر آیا اس نے بابا سے کھا کہ آپ سے ایک نوجوان ملنے آیا ہے، اور کھتا ہے کہ وہ موسی ابن جعفر بن محمد بن علی ابن الحسین بن علی ابن ابی طالبعليه‌السلام ہے۔ اس نے اتنا ہی کھنا تھا کہ میرا بابا اپنی جگہ سے اٹھا اور کھا کہ ان سے کھو کہ تشریف لے آئیں۔ پھر بولا کہ ان کو سواری سمیت آنے دیا جائے اور ہمیں حکم دیا کہ اس عظیم القدر شھزادے کا استقبال کیا جائے۔ جب ہم استقبال کیلئے گئے تو دیکھا کہ عبادت وتقوی کے آثار آپ کی پیشانی سے جھلک رہے تھے۔ چھرہ اقدس پر نور ہی نور تھا۔ ان کو دیکھتے ہی ہر انسان نجوبی سمجھ جاتا تھا کہ یہ نوجوان انتھائی پ رہی زگار اور متقی شخص ہے۔ بابا نے دور سے زور سے آواز دی کہ آپ کو قسم دیتا ہوں کہ آپ سواری سمیت آئیں۔ وہ نوجوان چند قدم سواری سمیت آیا ہم جلدی سے دوڑے اور اس کی رکاب پکڑ کر اس کو نیچے اتارا۔ انھوں نے انتھائی شائستگی و متانت سے سب کو سلام کیا۔ بابا نے ان کا بہت زیادہ احترام کیا ان کی اور ان کے بچوں کی خیر خیریت دریافت کی۔ پھر پوچھا کوئی مالی پریشانی تو نہیں ہے۔ انھوں نے جواب میں کھا الحمد للہ میں اور میرے اہل و عیال سب ٹھیک ہیں۔ اور کسی قسم کی پریشانی نہیں ہے ۔ جب وہ جانے لگے تو بابا نے ہم سے کھا جاؤ ان کو گھوڑے پر سوار کراؤ۔

جب میں ان کے قریب گیا تو اہستگی سے مجھ سے کھا کہ تم ایک وقت خلیفہ بنو گے میں تم کو ایک نصیحت کرتا ہوں کہ میری اولاد سے برا سلوک نہ کرنا۔ مجھے پتہ نہیں تھا کہ یہ کون ہیں۔ واپس آیا مین تمام بھائیوں کی نسبت زیادہ جرات مند تھا۔ موقع پا کر بابا کے پاس آیا اور کھا کہ جس کا آپ اتنا زیادہ احترام کر رہے تھے وہ تھا کون؟ بابا مسکرا کر کھنے لگے بیٹا اگر تو سچ پوچھتا ہے تو جس مسند پر ہم بیٹھے ہیں یہ ان ہی کی تو ہے ۔ میں نے کھا کیا آپ جو کھہ رہے ہیں دل سے کھہ رہے ہیں؟ بابا نے کھا کیوں نھیں۔ میں نے کھا بس خلافت ان کو دے کیوں نہیں دیتے؟کھا کیا تو نہیں جانتا کہ "الملک عقیم"؟ تو میرا بیٹا ہے اگر مجھے پتا چلے کہ میری حکومت کے خلاف تیرے دل میں فطور پیدا ہوا ہے اور تو میرے خلاف سازش کرنا چاہتا ہے تو تیرا سر قلم کر دوں گا۔ وقت گزرتا رہا ہارون لوگوں کو انعامات سے نوازتا رہا۔ پانچ ھزار سرخ دینار ایک شخص کی طرف اور چار ھزار دینار کسی دوسرے شخص کی طرف۔ میں نے سمجھا کہ بابا جس شخصیت کا حد سے زیادہ احترام کر رہے تھے ان کی طرف بھی زیادہ مقدار میں بھیجیں گے لیکن اس نے ان کی طرف سے سب سے کم رقم ارسال کی یعنی دوسو دینار۔ میں نے وجہ پوچھی تو بابا نے کھا کیا تو نہیں جانتا کہ یہ ہمارے رقیب ہیں سیاست کا تقاضا یہ ہے کہ یہ ہمیشہ تنگدست رہیں۔ ان کے پاس پیسہ نہ ہو کیونکہ اگر ان کے پاس دولت آگئی تو ممکن ہے ایک لاکھ تلوار کے ساتھ تمہارے بابا کے خلاف انقلاب برپا کردیں ۔

روحانی اعتبار سے امامعليه‌السلام کا اثر و رسوخ

یھاں سے آپ اندازہ لگایئے کہ شیعوں کے آئمہ کا روحانی اثر و رسوخ کس قدر زیادہ تھا۔ وہ نہ تلوار اٹھاتے تھے اور نہ کھلے عام تبلیغ کر سکتے تھے ۔ لیکن ان کی عوام کے دلوں پر حکومت تھی۔ ہارون کی حکومتی مشنری میں ایسے ایسے افراد موجود تھے جو امام علیہ السلام کو دل و جان سے چاہتے تھے ۔ دراصل حق اور سچ ایسی حقیقت ہے جو اندر بلا کی کشش رکھتی ہے ۔ آج آپ نے اخبار میں پڑھا ہو گا کہ اردن کے شاہ حسین نے کھا کہ میں اب سمجھا کہ میرا ڈرائیور میرے مخالفوں کا آلہ کار ہے اور میرا کچن بھی انھیں کی سازشوں کی زد میں ہے ۔ ادھر علی بن یقطین ہارون الرشید کا وزیر ہے یہ مملکت کا دوسرا ستون ہے۔ لیکن شیعہ ہے۔ تقیہ کی حالت میں زندگی بسر کررہا ہے۔ ظاہر میں ہارون کا کارندہ ہے لیکن پس پردہ امام امام موسی علیہ السلام کے پاک و پاکیزہ اہداف کی ترجمانی کرتا ہے۔ دو تین مرتبہ علی بن یقطین کے خلاف خلیفہ کو رپوٹ پیش کی گئی لیکن امام علیہ السلام نے اسے قبل از وقت بتا دیا اور اس کو ہوشیار رہنے ک تلقین ک جس کی وجہ سے علی بن یقطین حاکم وقت کے شر سے محفوظ رہا۔ ہارون کی حکومت میں ایسے افراد بھی موجود تھے جو امام علیہ السلام کے بیحد عقیدت مند تھے۔ لیکن حالات کی وجہ سے امام علیہ السلام سے رابط نہیں رکھ سکتے تھے ۔ اہواز کا رہنے والا ایک ایرانی شیعہ کھتا ہے کہ حکومت وقت نے مجھ پر بہت زیادہ ٹیکس عائد کر دیا تھا۔ ادائیگی ک صورت ہی میں مجھے چھٹکارا مل سکتا تھا۔ اتفاق سے انھیں دنوں میں اہواز کا گورنر معزدل ہوگیا۔ نیا گورنر آیا مجھے خوف تھا کہ اس نے آتے ہی مجھ سے ٹیکس کا مطالبہ کرنا ہے ۔ میری فائل کھل گئی تو میرا کیا بنے گا؟ لیکن میرے بعض دوستوں نے مجھ سے کھا کہ گھبراؤ نہیں نیا گورنر اندر سے شیعہ ہے اور تم بھی شیعہ ہو۔ ان کی باتوں کو سن کر مجھے قدرے دلی سکون ہوا۔ لیکن مجھ میں گورنر کے پاس جانے کی ہمت نہ تھی ۔

میں نے دل ہی دل میں سوچا کہ مدینہ جا کر امام موسی کاظم علیہ السلام کا رقعہ لے آؤں (اس وقت آقا گھر پر تھے) میں امام علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور سارا ماجرا گوش گزارا کیا۔ آپ نے تین چار جملے تحریر فرمائے جس میں آپ نے تحریر فرمایا کہ ہمارا حکم ہے کہ اس مرد مومن کی مشکل حل کی جائے ۔ آخر میں آپ نے لکھا کہ مومن کی مشکل کو حل کرنا اللہ کے نزدیک بہت ہی پسندیدہ عمل ہے۔وہ خط لے کر چھپتے چھپاتے اہواز آیا۔ اب مسئلہ خط پھنچانے کا تھا۔ چناچہ میں رات کی تاریکی میں بڑی احتیاط کے ساتھ گورنر صاحب کے گھر پھنچا۔ دق الباب کیا۔ گورنر کا نوکر باہر آیا میں نے کھا اپنے صاحب سے کھہ دو کہ ایک شخص موسی ابن جعفرعليه‌السلام کی طرف سے آپ کو ملنے آیا ہے۔ میں نے دیکھا کہ گورنر صاحب فوری طور پر خود دروازے پر آگئے۔ سلام ودعا کے بعد آنے کی وجہ پوچھی میں نے امام علیہ السلام کا خط اس کو دے دیا۔ اس نے خط کو کھول کر اپنی آنکھوں پر لگایا اور آگے بڑھ کر مجھے گلے لگایا اور میری پیشانی پر بوسہ دیا۔ اس کے بعد مجھے اپنے گھر میں لے گیا۔ اور مجھے کرسی پر بٹھایا اور خود زمین پر بیٹھ گیا۔ بولا کیا تم امام علیہ السلام کی خدمت اقدس سے ہوکر آئے ہو؟ میں نے کھا جی ھاں پھر گورنر بولا کی آپ نے انھیں آنکھوں سے امام علیہ السلام کی زیارت کی ہے۔ میں نے کھا جی ھاں۔ پھر کھا آپ کی پریشانی کیا ہے؟میں نے اپنی مجبوری بتائی۔ آپ نے اسی وقت افسروں کو بلایا اور میری فائل کی درستگی کے آرڈر جاری کیے۔ چونکہ امام علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ مومن کو خوش کرنے سے اللہ تعالی کی رضا حاصل ہوتی ہے گورنر صاحب جب میرا کام کرچکے تھے تو مجھ سے بولے ذرا ٹھر جاؤ میں آپ کی خدمت کرنا چاہتا ہوں، وہ یہ کہ میرے پاس جتنا سرمایہ ہے اس کا آدھا حصہ آپ کو دیتا ہوں، میری آدھی رقم اور میرا آدھا سرمایہ آپ کا ہے۔ وہ مومن روایت کرتا ہے کہ ایک تو میری بہت بڑی مشکل حل ہوچکی تھی دوسرا گورنر صاحب نے مجھے امام علیہ السلام کی برکت سے مالا مال کردیا تھا۔ میں گورنر کو دعائیں دیتا ہوا گھر واپس آگیا۔ ایک سفر پہ میں امامعليه‌السلام کی خدمت اقدس میں گیا تو سارا ماجرہ عرض کیا آپ علیہ السلام سن کر مسکرا دیئے اور خوشی کا اظہار فرمایا۔

اب سوال یہ ہے کہ ہاروں کو ڈر کس چیز سے تھا؟ جواب صاف ظاہر ہے وہ حق ک جاذبیت اور کشش سے خوف زدہ تھا:

"کونوا دعاة الناس بغیر السنتکم"

"یعنی آپ لوگ کچھ کھے بغیر لوگوں کو حق کی دعوت دیں۔ زبان کی باتوں میں اثر اکثر کم ہی ہوتا ہے۔ اثر و تاثیر تو عمل ہی سے ہے۔"

وہ شخص جو امام موسی کاظم علیہ السلام یا آپ کے اباؤ اجداد اور اولاد کا نزدیک سے مشاہدہ کر چکا ہو۔ وہ جانتا ہے کہ یہ سب حق پر ہیں اور حق ان کے ساتھ ہے ۔ یہ پاک وپاکیزہ ہستیاں خدا کی حقیقی معرفت رکھتے ہیں۔ اور خوف خدا صحیح معنوں میں انھی میں ہے۔ یہ خدا سے صحیح محبت کرنے والے ہیں، اور جو کچھ بھی کرتے ہیں اسی میں خدا کی رضا ضرور شامل حال ہوتی ہے ۔

ایک جیسی عادتیں

دو عاتیں ایسی ہیں جو تمام آئمہ طاہر ین علیھم السلام میں مشترک ہیں۔ عبادت اور خدا خوفی کا جذبہ۔ ۔ ۔ ۔ یہ ہستیاں خدا کو اس طرح مانتی ہیں جیسا کہ ماننا چاہی ے۔ خدا خوفی ایسی کہ نام الھی زبان پر آنے یا سننے سے ان کا جسم کانپ اٹھتا تھا یوں محسوس ہوتا ھتا جیسا کہ وہ خدا کو دیکھ رہے ہوں۔ جنت و جھنم کے مناظر آنکھوں کے سامنے ہوں؟ امام موسی کاظم علیہ السلام کے بارے میں تاریخ میں ملتا ہے ۔

"حلیف السجده الطویلة والدموع الغزیرة" (۲۹)

"طویل سجدوں اور تیزی کے ساتھ بھنے والے آنسوؤں کے مالک امام ۔"

جب انسان کا دل اندر سے جوش مارتا ہے تو تب اس کی آنکھوں سے آنسو بھتے ۔ آئمہ طاہر ین علیھم السلام کی دوسری مشترک صفت اور عادت یہ ہے کہ تمام آئمہ طاہر ین علیھم السلام غریبوں سے محبت کرتے ان کے ساتھ ہمدردی کے ساتھ پیش آتے اور غریبوں، بے نواؤں کی فوری اور ہر طرح کی مدد کرتے تھے۔ امام حسنعليه‌السلام ، امام حسینعليه‌السلام ، امام زین العابدینعليه‌السلام ، امام محمد باقرعليه‌السلام ، امام جعفر صادقعليه‌السلام ، امام موسی کاظمعليه‌السلام ، اور دیگر آئمہ سیرت و کردار کے اعتبار سے اپنی مثال آپ ہیں۔ جب ہم ان کی سیرت طیبہ کا مطالعہ کرتے ہیں تو دیکھتے ہیں مظلوموں، بے کسوں، یتییموں، اور فقراء کی مدد کرنے میں ان کا کوئی ثانی نہیں ہے۔ ظاہر ی سی بات ہے یہ بے سہارا لوگ ان کو دیکھتے بھی ہوں گے۔ ان کے عمل نے ان کو وہاں تک پھنچا دیا جھاں کوئی بھی نہیں پھنچ سکتا ہے ۔

ہارون کی حکومتی مشنری

امام علیہ السلام ایک عرصہ سے زندان سے مظلومانہ زندگی گزار رہے تھے کہ ہارون نے سازش تیار کی کہ امام علیہ السلام کی حیثیت اور عزت کم کی جائے۔

ایک خوبصورت کنیز کی ڈیوٹی لگائی گئی کہ زندان میں امام علیہ السلام کے ساتھ رہے اور کھانا پینا آپ کی خدمت میں پیش کرتی رہے۔ انھوں نے انتھائی حیسن عورت کو اس لیے ڈیوٹی پر متعین کیا کہ امام ایک قیدی ہیں اور مرد ہونے کی وجہ سے ان کی خوابیدہ خواہشات بیدار ہوں گی اور وہ کوئی ایسا قدم اٹھائیں گے کہ ہم ان کو گناہ میں ملوث کرلیں گے۔ ہارون اور اس کے کارندوں کی غلط فھمی تھی لیکن ادھر کیا ہوا یہ کنیز جب تنگ و تاریک کمرہ میں گئی تو اس کی زندگی میں بہت بڑا انقلاب برپا ہوگیا۔ اور اس نےبھی اپنا سر سجدہ میں رکھ دیا اور عبادت میں مشغول ہوگئی۔ جاسوسوں نے ہارون کو خبر دی کہ کنیز بھی عبادت کرنے لگی ہے۔ ہارون نے اس کو اپنے دربار میں بلوایا دیکھا وہ تو وہ نہ رہی ، کبھی آسمان کی طرف دیکھتی ہے اور کبھی زمین کی طرف۔ پوچھا گیا اے کنیز تو نے اپنا یہ حال کیوں بنایا ہے؟ کھنے لگی میں تو گناہ کی غرض سے گئی تھی جب تقوی اور پ رہی ز گاری کے عظیم پیکر کو دیکھا تو مجھ میں احساس شرمندگی پیدا ہوا کہ ہم کیا کرنا چاہتے ہیں۔ اور یہ قیدی کس طرح عبادت الھی میں منھمک ہے۔ میں اپنی اس غلطی پر اللہ تعالی سے معافی مانگتی ہوں۔ اللہ میرے دوسرے گناہ بھی بخش دے گا۔ یہ کھتے کھتے وہ وھیں پر انتقال کر گئی۔

امام موسی کاظمعليه‌السلام اور بشر حافی

آپ نے بشر حافی کا واقعہ سنا ہے کہ ایک روز امام علیہ السلام بغداد کے ایک کوچے سے گزر رہے تھے۔ اچانک آپ کو رقص وسرود اور ناچ گانے کی آواز سنائی دی۔ اتفاق سے اسی گھر سے ایک نوکرانی باہر نکلی کہ گھر کا کوڑا کرکٹ ایک جگہ پر پھینکنے۔ آپ نے اس کنیز سے فرمایا کہ کیا یہ گھر کسی آزاد شخص کا ہے یا کسی غلام کا؟ سوال بڑا عجیب تھا وہ کنیز بولی آپ مکان کی ظاہر ی خوبصورتی اور زیبائش و آسائش کو نہیں دیکھ رہے کہ یہ کس شخص کا گھر ہوسکتا ہے۔ یہ گھر بشر حافی کا ہے ۔ بغداد کا امیر ترین یہ شخص۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ سن کر فرمایا ہاں یہ گھر کسی آزاد ہی کا ہے۔ اگر بندہ ہوتا تو اس کے گھر سے موسیقی، راگ رنگ کی آوازیں بلند نہ ہوتی؟ عجیب تاثیر تھی امام کے جملوں میں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔جب وہ نوکرانی کوڑا ڈال کر واپس اپنے مالک کے گھر گئی تو اس نے نوکرانی سے تاخیر کی وجہ پوچھی، تو اس نے کھا کہ ایک شخص نے مجھ سے عجیب و غریب بات کھی ہے۔ بشر بولا وہ کیا؟ بولی کہ اس نے مجھ سے پوچھا کہ یہ گھر کسی آزاد کا ہے یا غلام کا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں نے کھا آزاد کا ہی گھر ہے۔ اس شخص نے کھاں ہاں واقعی وہ آزاد ہے۔ اگر بندہ ہوتا تو رقص وسرود کی آوازیں اس کے گھر سے بلند نہ ہوتیں۔ بشر نےپوچھا اس شخص کی کوئی خاص نشانی؟ کنیز نے جب اس کی وضع قطع بتائی تو سمجھا کہ آپ موسی بن جعفرعليه‌السلام ہی تھے۔

بشر نے پوچھا پھر وہ شخص کھاں گیا؟ اس نے اشارہ کر کے بتایا کہ وہ بزرگ اس طرف جارہے تھے۔ چونکہ وقت کم تھا اگر جوتا پھنتا تو شاید امام علیہ السلام آگے جا چکے ہوتے۔ لہذا وہ پا برھنہ امام علیہ السلام کے پیچھے دوڑ پڑا۔ آقا کے اس جملے نے اس کی زندگی میں انقلاب برپا کردیا تھا۔ کہ اگر وہ بندہ ہوتا تو اس قسم کا گناہ نہ کرتا۔ یہ ہانپتا کانپتا امام علیہ السلام کی خدمت میں پھنچا۔ مولاعليه‌السلام آپ نےجو کچھ فرمایا سچ فرمایا ہے ۔ میں اپنی غلطی پر خدا سے توبہ کرتا ہوں اور واقعی طور پر اس کا بندہ بننا چاہتا ہوں۔ امام علیہ السلام نےاس کے حق میں دعا کی اور وہ توبہ تائب ہوکر اللہ تعالی کے صالح ترین بندوں میں شامل ہو گیا۔ جب اس طرح کی خبریں ہارون الرشید تک پھنچیں تو وہ اپنے اندر حساس خطر کرنے لگا۔ دل ہی دل میں کھا کہ ایسا نہیں ہونا چاہی ے گویا وہ کھہ رہا تھا کہ "وجودک ذنب" کہ اے موسی ابن جعفر آپ کا زندہ رھنا میرے نزدیک گناہ ہے۔ امام علیہ السلام نے فرمایا میں تمہارے کیا بگاڑا؟ میں نے کونسا انقلاب برپا کیا ہے؟ میں نے ایسا کونسا کام کیا ہے کہ تم مجھ سے گبھراتے ہو؟ ہارون جواب نہ دے سکا لیکن دل میں کھہ رہا تھا کہ آپ کا موجود رھنا بھی خطرے سے خالی نھین ہے۔ امام علیہ السلام یہ باتیں اپنے تحفظ اور دفاع کی خاطر کرتے تاکہ مومنین ہوشیار رہیں اور حکومتی ھتکنڑوں میں پھنس کر اپنا نقصان نہ کر بیٹھیں۔ ہارون کو ہر وقت آپ سے اور آپ کے ماننے والوں سے خطرہ لاحق رھتا تھا۔ اس لیے وہ امام اور ان کے چند خاص موالیوں کے خاتمہ کیلئے مشیروں سے مشورہ کرتا رھتا تھا۔

صفوان جمال اور ہارون

آپ نے صفوان کا واقعہ سنا ہے؟ یہ شخص اس دور میں اونٹ کرائے پر دیتا تھا۔ اس زمانے میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والی سواری اونٹ ہی ہوا کرتا تھا۔ صفوان کا حکومت وقت کےساتھ بھی اچھا رابطہ تھا۔ کبھی کببہار سرکاری ڈیوٹی کے لیے بھی حکومت کو اونٹ مھیا کرتا تھا۔ ایک روز ہارون نے پروگرام بنایا کہ مکہ جائے۔ چناچہ اس نے صفوان کو بلوایا کہ وہ اس کے لیے چند اونٹ تیار کر لے کرایہ وغیرہ طے پاگیا۔ صفوان امام موسی کاظم علیہ السلام کے خاص شیعوں میں تھا۔ ایک روز امام علیہ السلام کی خدمت اقدس مین حاضر ہوا اس نے آتے ہی امام علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا کہ مولاعليه‌السلام میں نے ہارون کو اونٹ کرائے پر دیئے ہیں۔ حضرت نے فرمایا تو نے اس ظالم، ستم گر شخص کو اونٹ کیوں دیئے ہیں۔ صفوان بولا مولاعليه‌السلام میں تو اس سے کرایہ لیا ہے، پھر اس کا سفر کوئی گناہ کی غرض سے نہ تھا بلکہ سفر حج کیلئے ہے۔ اگر وہ حج پر نہ جاتا تو میں اونٹ اس کو کرائے پر نہ دیتا۔ فرمایا تو نے اس سے پیسے لے لیے ہیں؟ یا اس رقم کا بقایا رھتا ہے؟ اپنے دل سے سوال کر، میں نے اونٹ اس کو کرائے پر دیئے ہیں اس لیے دیئے ہیں کہ ہارون واپس لوٹے گا اور میں اس سے کرایہ لوں گا۔ صفوان بولا جی ھاں مولا ایسا ہی ہے آپ نے فرمایا ظالم کی زندگی پر راضی رھنا بھی گناہ ہے ۔ صفوان باہر آیا ۔ ہارون سے دیرینہ تعلقات کے باوجود اس نے اپنے تمام اونٹ بیچ دیئے اور اعلان کیا کہ آئندہ وہ یہ کاروبار بلکل نہیں کرے گا۔ اس کے بعد ہارون کے پاس آیا کہ میں نے جو آپ سے معاہدہ کیا تھا وہ منسوخ کرتا ہوں کیونکہ میں نے مجبوری کی وجہ سے اپنے تمام اونٹ فروخت کر دیئے ہیں۔ ہارون نے پوچھا پھر بھی بتائے کہ اونٹ بیچنے کی وجہ کیا ہے؟ صفوان بولا اے بادشاہ سلامت میں بوڑھا ہوچکا ہوں اب اس طرح کا کام مجھ سے نہیں ہوسکتا ۔

ہارون بڑا چالاک شخص تھا اس نے کھا ایسا نہیں ہے کہ جو تم کھہ رہے ہو دراصل تجھے موسی ابن جعفرعليه‌السلام نے منع کردیا ہے ۔ اور انھوں نے اس کام کو غیر شرعی قرار دیتے ہوئے اونٹ بیچنے کی تلقین کی ہے ۔ بخدا اگر تمہارے اور ہمارے درمیان پرانی دوستی نہ ہوتی تو تجھے ابھی اور اسی وقت قتل کردیتا ۔ یہ تھے وہ عوامل جو امام علیہ السلام کی شھادت کا سبب بنے ۔ سب سے پھلے تو دشمن کو آپ کے وجود سے سخت خطرہ لاحق تھا۔ دوسرا آپ تقیہ کی حالت میں زندگی گزارتے رہے، یعنی آپ نے اس انداز سے اپنا طور طریقہ رکھا کہ آپ کا دشمن کسی لحاظ سے بھی آپ کو نقصان نہ پھنچا سکا۔ اس کے باوجود آپ تبلیغی فرائض بھی سرانجام دیتے تھے۔ لوگوں کی روحانی و علمی ضروریات پوری کرتے، پسماندہ طبقے کے حقوق کے لیے بھر پور طریقے سے آواز بلند کرتے تھے۔ لیکن آپ نے اس تمام مدت دشمن کو انگشت نمائی کا موقعہ نہ دیا۔

وہ اپنے جاسوسوں، گماشتوں کے ذریعے اس کو کوشش میں رہا کہ امام علیہ السلام پر کوئی نہ کوئی سیاسی یا مذھبی جرم عائد کرکے ان کو سزا دے سکے۔ تیسرا آپ استقامت کا کوہ گراں تھے ۔ جب یحیی برمکی نے آپ سے کھا کہ آپ ایک مرتبہ ہارون سے معافی مانگ لیجئے تو آپ کو نہ صرف رہائی مل سکتی ہے بلکہ وافر مقدار میں انعام واکرام بھی ملے گا۔ آپ نے فرمایا اس زندگی سے مرجانا بھتر ہے اور ہم بہت جلد اس فانی دنیا سے کوچ ہی کرنے والے ہیں ۔

ایک دفعہ ہارون نے کسی دوسرے شخص کو امام کے پاس زندان میں بھیجا اور چاہا کہ پیار و محبت سے امام علیہ السلام سے گناہ کا اعتراف کروایا جائے۔ پھر بھی اس نے یہ لب و لھجہ اپنایا کہ ہم آپ سے دلی عقیدت رکھتے ہیں۔ آپ کا دل و جان سے احترام کرتے ہیں۔ ہماری دلی خواہش ہے کہ آپ یھیں پہ رہیں اور مدینہ نہ جائیں۔ ہم آپ کو زندان میں رکھنا نہیں چاہتے ۔ ہم آپ کو اپنے پاس ایک محفوظ مکان میں رکھنا چاہتے ہیں۔ میں نے آپ کے پاس ایک ماہر باورچی بھیجا ہے تاکہ آپ اپنی پسند کا کھانا تیار کرواسکیں۔ یہ تھا فضل بن ربیع۔ ہارون کو اس پر بہت زیادہ اعتماد تھا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یھی فضل سادہ لباس میں تلوار اپنے ساتھ حمائل کرکے امام کے پاس پھنچا۔ امام علیہ السلام نماز پڑھنے میں مشغول تھے ۔

امام علیہ السلام کو جب پتہ چلا کہ فضل بن ربیع آیا ہے ۔ فضل اس انتظار میں تھا کہ آپ نماز کو ختم کریں اور میں آپ کو خلیفہ کا پیغام پھنچاؤں۔ آپ نے نماز ختم کرتے ہی دوبارہ اور نماز شروع کردی۔ اس طرح اس کو سلام کرنے اور بات کرنے کی مھلت بھی نہ دی۔ پھلے تو اس نے سمجھا کہ امام علیہ السلام نے چند نمازیں پڑھنی ہیں لیکن پھر اس کو پتہ چلا کہ آپ اس سے بات کرنا نہیں چاہتے ۔ اس لیے وہ نماز پہ نماز پڑھ رہے ہیں۔ کافی انتظار کرتا رہا پھر اس کے ذھن میں خیال گزرا کہ ہارون کے ذھن میں بدگمانی نہ ہو۔ امام نماز میں مشغول تھے کہ اس نے بات شروع کردی کہ آپ کے چچازاد بھائی ہارون نے آپ کو اس طرح پیغام بھیجا ہے ۔ ہارون نے پیغام میں کھا ہے کہ ہم پر آپ کی بے گناہی ثابت ہو چکی ہے ۔ اسلئے مصلحت کا تقاضا یہ ہے کہ آپ مدینہ جانے کی بجائے یھیں پہ رہیں۔ مجھے ہارون کی طرف سے حکم ملا ہے کہ بھترین باورچی آپ کی خدمت میں پیش کروں تاکہ حسب خواہش آپ اپنا کھانا تیار کرواسکیں ۔

مؤرخین نے لکھا ہے امام علیہ السلام نے اس کے جواب میں صرف اتنا کھہ کر دوبارہ نماز شروع کرلی:

"لا حاضر لی مال فینفصنی وما خلقت سؤولا، الله اکبر"

میرے پاس اپنا مال نہیں ہے کہ خرچ کرسکوں میں مال حلال سے کچھ کھاتا پیتا ہوں باقی رہی کسی سے مانگنے کی بات تو مانگنا تو ہم نے اپنی زندگی میں سیکھا ہی نہیں ہے۔ بھلا دینے والے مانگنا گوارا کب کرسکتے ہیں۔ اس کے بعد کھا اللہ اکبر اور نماز شروع کر لی۔ "

یہ تھا خلفاء کا ہمارے اماموں کےساتھ رویے، وہ کسی نہ کسی طریقے سے آئمہ کو مجبور کرتے رہتے تھے، لیکن آئمہ طاہر ین علیھم السلام کی حسن سیاست اور تدبر کا کیا کھنا کہ دنیا کے طاقتور ترین حکمران ان کی استقامت کے مقابلے میں گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو گئے۔ وہ آئمہ کے وجود کو اس لیے برداشت نہیں کرتے تھے کہ ان کا وجود ہی ظالموں کی موت ہے اس لیے وہ تلوار کے ذریعہ یا زھر دے کر دنیا میں اللہ تعالی کی خاص نشانیوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کےلیے عملی طور پر اس قبیح حرکت کے مرتکب ہوتے تھے، لیکن حق کی سچائی اور فتح ملاحظہ کیجئے کہ وہ قتل کر کے آرام سے نہیں رہ سکتے تھے اور یہ مرکر بھی امر ہوجاتے تھے ۔

شھادت امام علیہ السلام

جیسا کہ ہم نے پھلے عرض کیا ہے کہ امام علیہ السلام کے لیے آخری زندان سندی بن شاہک کا تھا۔ وہ مسلمان نہ تھا اس کے دل میں کسی کے بارے میں کسی قسم کا رحم نہ تھا۔ خلیفہ اس کو جو بھی حکم دیتا وہ فوری طور پر بجا لاتا تھا۔ امام علیہ السلام کو تنگ و تاریک کمرہ میں رکھا گیا۔ ان کا خیال تھا کہ آپ اس کمرے کی وحشتناکی سے گھبرا کر اور بیماری سے نڑھال ہوکر یو نھی انتقال کر جائیں گے۔ اس سے عوام میں حکومت کےخلاف رد عمل ظاہر نہ ہوگا۔ مؤرخین نےلکھا ہے کہ یحیی برمکی نے ہارون سے کھا کہ امام علیہ السلام کو قتل کرنے کا کام وہ خود ہی کرے گا۔ اس نے سندی کو بلوایا اور اس کو مزید انعام واکرام اور اعلی عھدے کی لالچ دی اور اس کو حکم دیا کہ وہ امام علیہ السلام کا کام تمام کردے۔ یحیی نے انتھائی خطرناک زھر منگوا کر سندی کو دیا وہ زھر کھجور میں رکھ کر امام علیہ السلام کو کھلایا۔ اس کے فوراً بعد انھوں نے چند سرکاری گواہ منگوائے اور چند علماء اور قاضیوں کو بلوایا گیا۔ حضرت کو اس میٹنگ میں لایا گیا۔ ہارون نے کھا لوگو! گواہ رھنا شیعہ امام موسی کاظم علیہ السلام کے بارے میں طرح طرح کے پروپیگنڑے کرتے ہیں اور ان کا کھنا کہ امام علیہ السلام زندان میں سخت تکلیف میں ہیں آپ خود اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کر لیں کہ وہ تندرست و صحیح و سالم ہیں۔ ہارون کی بات ابھی مکمل نہ ہوئی تھی کہ قیدی امام علیہ السلام بول پڑے فرمایا ہارون جھوٹ کھتا ہے مجھے ابھی ابھی زھر دیا گیا اور میں چند لمحوں کا مھمان ہوں۔ ۔ ۔ ۔ یھان پر بھی ان عیار ترین حکمرانوں کا منصوبہ بھی پورا نہ ہوسکا۔

پھر کیا ہوا بغداد کا قیدی اور شیعوں و مومنوں کا ساتواں امام شھید ہوگیا۔ شھادت کے بعد غریب بغداد کا جنازہ پل بغداد پر رکھا گیا۔ لوگوں میں پھر پروپیگنڑا کیا گیا کہ ویکھو تو سھی امام کا کوئٰ عضو متاثر نہیں ہوا ہے۔ سر اور زبان سلامت ہے۔ یہ اپنی موت آپ مرے ہیں، ان کی وفات میں ہمارا کسی قسم کا ہاتھ نہیں ہے۔ تین دن تک اس پردیسی اور مظلوم ومسموم امام کا جنازہ بغداد کے پل پر پڑا رہا۔ اس سے صرف لوگوں کو یہ بتانا مقصود تھا کہ قتل امام علیہ السلام میں حکومت کا ہاتھ نہیں ہے۔ لیکن امام علیہ السلام کے ماننے والے (جو اس وقت سخت کرب اور پریشانی میں مبتلا تھے) جانتے تھے۔ امام علیہ السلام کو زھر ہی کے ذریعہ شھید کردیا گیا۔

مورخین لکھتے ہیں کہ ایران سے چند مومنین بغداد آئے ان کی دلی خواہش تھے کہ امام علیہ السلام کی زندان میں ملاقات کریں گے ۔ انھوں نے دروغہ جیل سے ملاقات کی اجازت چاہی تو اس نے انکار کر دیا۔ انھوں نے عھد کر لیا کہ وہ ہر ھال میں اپنے غریب و مظلوم آقا سے مل کر جائیں گے۔ حکام نے ان کے پاس چند سپاہی بھیجے کھا کہ آپ کی درخواست منظور کر لی گئی۔ آپ فلاں جگہ پر انتظار کریں۔ آپ کو اپنے امامعليه‌السلام سے ملایا جائے گا۔ یہ بیچارے اس انتظار میں کھڑے رہے اور دل ہی دل میں کھنے لگے جب ہم واپس اپنے وطن لوٹیں گے تو وہاں لوگوں کو امام علیہ السلام کی زیارت کے بارے میں بتائیں گے پھر ہم اپنے آقا سے شرعی مسائل بھی دریافت کریں گے۔ ابھی یہ اس طرح کی باتیں آپس میں ک رہی رہے تھے کہ دیکھا چار مزدوروں نے ایک جنازہ اٹھایا ہوا ہے ہمیں جیل کا ایک ملازم کھنے لگا۔ "امام شما ہمین است"کہ آپ نے جس امام سے ملنا ہے وہ یھی ہے ۔ یہ جنازہ تمہارے بیکس امام ہی کا ہے۔ یہ ایرانی مومنین اپنا منہ پیٹتے رہ گئے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ غریب بغداد کا جنازہ آگے سے گزر گیا۔

باب دہم

وہ دعائیں کہ جو حضرت حجت نے اپنے آباء و اجداد سے نقل کی ہے

حضرت امیر المومنین کی دعا سختیوں کے موقع پر

سید بزرگوار علی بن طاوؤس نے حضرت امیرالمومنین علی سے ایک دعا نقل کیا ہے کہ سختیوں اور مشکلات کو دور کرنے کے لئے پڑھی جاتی ہے اور اس کی سند کو ذکر نہیں کیا گیا ہے لیکن علامہ مجلسی کہتے ہیں کہ اس دعا کے لئے ہمارے پاس عالی سند اور تعجب انگیز ہے چونکہ اس دعا کو واسطہ کے بغیر اپنے باپ سے اس نے بعض صالحین سے انہوں نے ہمارے مولیٰ حضرت حجت سے روایت کی ہے میں اس روایت کو بیان کرتاہوں۔

أَللَّهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ الْحَقُّ الَّذي لا إِلهَ إِلّا أَنْتَ وَأَنَا عَبْدُكَ ، ظَلَمْتُ نَفْسي وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبي ، فَاغْفِرْ لِيَ الذُّنُوبَ لا إِلهَ إِلّا أَنْتَ يا غَفُورُ.

أَللَّهُمَّ إِنّي أَحْمَدُكَ وَأَنْتَ لِلْحَمْدِ أَهْلٌ ، عَلى ما خَصَصْتَني بِهِ مِنْ مَواهِبِ الرَّغائِبِ ، وَوَصَلَ إِلَيَّ مِنْ فَضائِلِ الصَّنايِعِ ، وَعَلى ما أَوْلَيْتَني بِهِ ، وَتَوَلَّيْتَني بِهِ مِنْ رِضْوانِكَ ، وَأَنَلْتَني مِنْ مَنِّكَ الْواصِلِ إِلَيَّ ، وَمِنَ الدِّفاعِ عَنّي ، وَالتَّوْفيقِ لي ، وَالْإِجابَةِ لِدُعائي ، حَتَّى اُناجيكَ راغِباً ، وَأَدْعُوكَ مُصافِياً ، وَحتَّى أَرْجُوكَ فَأَجِدُكَ فِي الْمَواطِنِ كُلِّها لي جابِراً ، وَفي اُمُوري ناظِراً ، وَلِذُنُوبي غافِراً ، وَلِعَوْراتي ساتِراً ، لَمْ أَعْدِمْ خَيْرَكَ طَرْفَةَ عَيْنٍ مُذْ أَنْزَلْتَني دارَ الْإِخْتِبارِ ، لِتَنْظُرَ ماذا اُقَدِّمُ لِدارِ الْقَرارِ.

فَأَنَا عَتيقُكَ اللَّهُمَّ مِنْ جَميعِ الْمَصائِبِ وَاللَّوازِبِ ، وَالْغُمُومِ الَّتي ساوَرَتْني فيهَا الْهُمُومُ ، بِمَعاريضِ الْقَضاءِ ، وَمَصْرُوفِ جُهْدِ الْبَلاءِ ، لا أَذْكُرُ مِنْكَ إِلّاَ الْجَميلَ ، وَلا أَرى مِنْكَ غَيْرَ التَّفْضيلِ.

خَيْرُكَ لي شامِلٌ ، وَفَضْلُكَ عَلَيَّ مُتَواتِرٌ ، وَنِعَمُكَ عِنْدي مُتَّصِلَةٌ ، سَوابِغُ لَمْ تُحَقِّقْ حِذاري ، بَلْ صَدَّقْتَ رَجائي ، وَصاحَبْتَ أَسْفاري ، وَأَكْرَمْتَ أَحْضاري ، وَشَفَيْتَ أَمْراضي ، وَعافَيْتَ أَوْصابي ، وَأَحْسَنْتَ مُنْقَلَبي وَمَثْوايَ ، وَلَمْ تُشْمِتْ بي أَعْدائي ، وَرَمَيْتَ مَنْ رَماني ، وَكَفَيْتَني شَرَّ مَنْ عاداني.

أَللَّهُمَّ كَمْ مِنْ عَدُوٍّ انْتَضى عَلَيَّ سَيْفَ عَداوَتِهِ ، وَشَحَذَ لِقَتْلي ظُبَةَ مُدْيَتِهِ ، وَأَرْهَفَ لي شَبا حَدِّهِ ، وَدافَ لي قَواتِلَ سُمُومِهِ ، وَسَدَّدَ لي صَوائِبَ سِهامِهِ ، وَأَضْمَرَ أَنْ يَسُومَنِي الْمَكْرُوهَ ، وَيُجَرِّعَني ذُعافَ مَرارَتِهِ ، فَنَظَرْتَ يا إِلهي إِلى ضَعْفي عَنِ احْتِمالِ الْفَوادِحِ ، وَعَجْزي عَنِ الْإِنْتِصارِ مِمَّنْ قَصَدَني بِمُحارَبَتِهِ ، وَوَحْدَتي في كَثيرِ مَنْ ناواني ، وَأَرْصَدَ لي فيما لَمْ أَعْمَلْ فِكْري فِي الْإِنْتِصارِ مِنْ مِثْلِهِ.

فَأَيَّدْتَني يا رَبِّ بِعَوْنِكَ ، وَشَدَدْتَ أَيْدي بِنَصْرِكَ ، ثُمَّ فَلَلْتَ لي حَدَّهُ ، وَصَيَّرْتَهُ بَعْدَ جَمْعِ عَديدِهِ وَحْدَهُ ، وَأَعْلَيْتَ كَعْبي عَلَيْهِ ، وَرَدَدْتَهُ حَسيراً لَمْ تَشْفِ غَليلَهُ ، وَلَمْ تُبَرِّدْ حَزازاتِ غَيْظِهِ ، وَقَدْ غَضَّ عَلَيَّ شَواهُ ، وَآبَ مُوَلِّياً قَدْ أَخْلَفْتَ سَراياهُ ، وَأَخْلَفْتَ آمالَهُ.

أَللَّهُمَّ وَكَمْ مِنْ باغٍ بَغى عَلَيَّ بِمَكائِدِهِ ، وَنَصَبَ لي شَرَكَ مَصائِدِهِ ، وَضَبَأَ إِلَيَّ ضُبُوءَ السَّبُعِ لِطَريدَتِهِ ، وَانْتَهَزَ فُرْصَتَهُ ، وَاللِّحاقَ لِفَريسَتِهِ ، وَهُوَ مُظْهِرٌ بَشاشَةَ الْمَلَقِ ، وَيَبْسُطُ إِلَيَّ وَجْهاً طَلِقاً.

فَلَمَّا رَأَيْتَ يا إِلهي دَغَلَ سَريرَتِهِ ، وَقُبْحَ طَوِيَّتِهِ ، أَنْكَسْتَهُ لِاُمِّ رَأْسِهِ في زُبْيَتِهِ ، وَأَرْكَسْتَهُ في مَهوى حَفيرَتِهِ ، وَأَنْكَصْتَهُ عَلى عَقِبَيْهِ ، وَرَمَيْتَهُ بِحَجَرِهِ ، وَنَكَأْتَهُ بِمِشْقَصِهِ ، وَخَنَقْتَهُ بِوَتَرِهِ ، وَرَدَدْتَ كَيْدَهُ في نَحْرِهِ ، وَرَبَقْتَهُ بِنَدامَتِهِ فَاسْتَخْذَلَ وَتَضاءَلَ بَعْدَ نِخْوَتِهِ ، وَبَخَعَ وَانْقَمَعَ بَعْدَ اسْتِطالَتِهِ ، ذَليلاً مَأْسُوراً في حَبائِلِهِ الَّتي كانَ يُحِبُّ أَنْ يَراني فيها ، وَقَدْ كِدْتُ لَوْلا رَحْمَتُكَ أَنْ يَحِلَّ بي ما حَلَّ بِساحَتِهِ ، فَالْحَمْدُ لِرَبٍّ مُقْتَدِرٍ لايُنازَعُ ، وَلِوَلِيٍّ ذي أَناةٍ لايَعْجَلُ ، وَقَيُّومٍ لايَغْفُلُ ، وَحَليمٍ لايَجْهَلُ.

نادَيْتُكَ يا إِلهي مُسْتَجيراً بِكَ ، واثِقاً بِسُرْعَةِ إِجابَتِكَ ، مُتَوَكِّلاً عَلى ما لَمْ أَزَلْ أَعْرِفُهُ مِنْ حُسْنِ دِفاعِكَ عَنّي ، عالِماً أَنَّهُ لَنْ يُضْطَهَدَ مَنْ آوى إِلى ظِلِّ كِفايَتِكَ ، وَلايَقْرَعُ الْقَوارِعُ مَنْ لَجَأَ إِلى مَعْقِلِ الْإِنْتِصارِ بِكَ ، فَخَلَّصْتَني يا رَبِّ بِقُدْرَتِكَ وَنَجَّيْتَني مِنْ بَأْسِهِ بِتَطَوُّلِكَ وَمَنِّكَ.

أَللَّهُمَّ وَكَمْ مِنْ سَحائِبَ مَكْرُوهٍ جَلَّيْتَها، وَسَماءِ نِعْمَةٍ أَمْطَرْتَها ، وَجَداوِلَ كَرامَةٍ أَجْرَيْتَها ، وَأَعْيُنِ أَحْداثٍ طَمَسْتَها ، وَناشِىِ رَحْمَةٍ نَشَرْتَها ، وَغَواشِيَ كُرَبٍ فَرَّجْتَها ، وَغُمَمِ بَلاءٍ كَشَفْتَها ، وَجُنَّةِ عافِيَةٍ أَلْبَسْتَها ، وَاُمُورٍ حادِثَةٍ قَدَّرْتَها ، لَمْ تُعْجِزْكَ إِذْ طَلَبْتَها ، فَلَمْ تَمْتَنِعْ مِنْكَ إِذْ أَرَدْتَها.

أَللَّهُمَّ وَكَمْ مِنْ حاسِدِ سُوءٍ تَوَلَّني بِحَسَدِهِ ، وَسَلَقَني بِحَدِّ لِسانِهِ ، وَوَخَزَني بِقَرْفِ عَيْبِهِ ، وَجَعَلَ عِرْضي غَرَضاً لِمَراميهِ ، وَقَلَّدَني خِلالاً لَمْ تَزَلْ فيهِ كَفَيْتَني أَمْرَهُ.

أَللَّهُمَّ وَكَمْ مِنْ ظَنٍّ حَسَنٍ حَقَّقْتَ ، وَعُدْمِ إِمْلاقٍ ضَرَّني جَبَرْتَ وَأَوْسَعْتَ ، وَمِنْ صَرْعَةٍ أَقَمْتَ ، وَمِنْ كُرْبَةٍ نَفَّسْتَ ، وَمِنْ مَسْكَنَةٍ حَوَّلْتَ ، وَمِنْ نِعْمَةٍ خَوَّلْتَ ، لاتُسْأَلُ عَمَّا تَفْعَلُ ، وَلا بِما أَعْطَيْتَ تَبْخَلُ ، وَلَقَدْ سُئِلْتَ فَبَذَلْتَ ، وَلَمْ تُسْئَلْ فَابْتَدَأْتَ وَاسْتُميحَ فَضْلُكَ فَما أَكْدَيْتَ ، أَبْيَتَ إِلّا إِنْعاماً وَامْتِناناً وَتَطَوُّلاً ، وَأَبْيَتُ إِلّا تَقَحُّماً عَلى مَعاصيكَ ، وَانْتِهاكاً لِحُرُماتِكَ ، وَتَعَدِّياً لِحُدُودِكَ ، وَغَفْلَةً عَنْ وَعيدِكَ ، وَطاعَةً لِعَدُوّي وَعَدُوِّكَ ، لَمْ تَمْتَنِعْ عَنْ إِتْمامِ إِحْسانِكَ ، وَتَتابُعِ امْتِنانِكَ ، وَلَمْ يَحْجُزْني ذلِكَ عَنِ ارْتِكابِ مَساخِطِكَ.

أَللَّهُمَّ فَهذا مَقامُ الْمُعْتَرِفِ لَكَ بِالتَّقْصيرِ عَنْ أَداءِ حَقِّكَ ، اَلشَّاهِدِ عَلى نَفْسِهِ بِسُبُوغِ نِعْمَتِكَ ، وَحُسْنِ كِفايَتِكَ ، فَهَبْ لِيَ اللَّهُمَّ يا إِلهي ما أَصِلُ بِهِ إِلى رَحْمَتِكَ ، وَأَتَّخِذُهُ سُلَّماً أَعْرُجُ فيهِ إِلى مَرْضاتِكَ ، وَآمَنُ بِهِ مِنْ عِقابِكَ ، فَإِنَّكَ تَفْعَلُ ما تَشاءُ وَتَحْكُمُ ما تُريدُ ، وَأَنْتَ عَلى كُلِّ شَيْ‏ءٍ قَديرٌ.

أَللَّهُمَّ حَمْدي لَكَ مُتَواصِلٌ ، وَثَنائي عَلَيْكَ دائِمٌ ، مِنَ الدَّهْرِ إِلَى الدَّهْرِ بِأَلْوانِ التَّسْبيحِ ، وَفُنُونِ التَّقْديسِ ، خالِصاً لِذِكْرِكَ ، وَمَرْضِيّاً لَكَ بِناصِعِ التَّوْحيدِ ، وَمَحْضِ التَحْميدِ ، وَطُولِ التَّعْديدِ في إِكْذابِ أَهْلِ التَّنْديدِ.

لَمْ تُعَنْ في شَيْ‏ءٍ مِنْ قُدْرَتِكَ ، وَلَمْ تُشارَكْ في إِلهِيَّتِكَ ، وَلَمْ تُعايَنْ إِذْ حَبَسْتَ الْأَشْياءَ عَلَى الْغَرائِزِ الْمُخْتَلِفاتِ ، وَفَطَرْتَ الْخَلائِقَ عَلى صُنُوفِ الْهَيَئاتِ ، وَلا خَرَقَتِ الْأَوْهامُ حُجُبَ الْغُيُوبِ إِلَيْكَ ، فَاعْتَقَدَتْ مِنْكَ مَحْدُوداً في عَظَمَتِكَ ، وَلا كَيْفِيَّةً في أَزَلِيَّتِكَ ، وَلا مُمْكِناً في قِدَمِكَ ، وَلايَبْلُغُكَ بُعْدُ الْهِمَمِ ، وَلايَنالُكَ غَوْصُ الْفِطَنِ ، وَلايَنْتَهي إِلَيْكَ نَظَرُ النَّاظِرينَ في مَجْدِ جَبَرُوتِكَ ، وَعَظيمِ قُدْرَتِكَ.

إِرْتَفَعَتْ عَنْ صِفَةِ الْمَخْلُوقينَ صِفَةُ قُدْرَتِكَ ، وَعَلا عَنْ ذلِكَ كِبْرِياءُ عَظَمَتِكَ ، وَلايَنْتَقِصُ ما أَرَدْتَ أَنْ يَزْدادَ ، وَلايَزْدادُ ما أَرَدْتَ أَنْ يَنْتَقِصَ ، وَلا أَحَدٌ شَهِدَكَ حينَ فَطَرْتَ الْخَلْقَ، وَلا ضِدٌّ حَضَرَكَ حينَ بَرَأْتَ النُّفُوسَ.

كَلَّتِ الْأَلْسُنُ عَنْ تَبْيينِ صِفَتِكَ ، وَانْحَسَرَتِ الْعُقُولُ عَنْ كُنْهِ مَعْرِفَتِكَ ، وَكَيْفَ تُدْرِكُكَ الصِّفاتُ ، أَوْ تَحْويكَ الْجِهاتُ ، وَأَنْتَ الْجَبَّارُ الْقُدُّوسُ الَّذي لَمْ تَزَلْ أَزَلِيّاً دائِماً فِي الْغُيُوبِ وَحْدَكَ ، لَيْسَ فيها غَيْرُكَ ، وَلَمْ يَكُنْ لَها سِواكَ.

حارَتْ في مَلَكُوتِكَ عَميقاتُ مَذاهِبِ التَّفْكيرِ ، وَحَسُرَ عَنْ إِدْراكِكَ بَصَرُ الْبَصيرِ ، وَتَواضَعَتِ الْمُلُوكُ لِهَيْبَتِكَ ، وَعَنَتِ الْوُجُوهُ بِذُلِّ الْإِسْتِكانَةِ لِعِزَّتِكَ ، وَانْقادَ كُلُّ شَيْ‏ءٍ لِعَظَمَتِكَ ، وَاسْتَسْلَمَ كُلُّ شَيْ‏ءٍ لِقُدْرَتِكَ ، وَخَضَعَتِ الرِّقابُ بِسُلْطانِكَ ، فَضَلَّ هُنالِكَ التَّدْبيرُ في تَصاريفِ الصِّفاتِ لَكَ ، فَمَنْ تَفَكَّرَ في ذلِكَ رَجَعَ طَرْفُهُ إِلَيْهِ حَسيراً ، وَعَقْلُهُ مَبْهُوتاً مَبْهُوراً ، وَفِكْرُهُ مُتَحَيِّراً.

أَللَّهُمَّ فَلَكَ الْحَمْدُ حَمْداً مُتَواتِراً مُتَوالِياً مُتَّسِقاً مُسْتَوْثِقاً يَدُومُ وَلايَبيدُ غَيْرَ مَفْقُودٍ فِي الْمَلَكُوتِ ، وَلا مَطْمُوسٍ فِي الْعالَمِ ، وَلامُنْتَقَصٍ فِي الْعِرْفانِ ، فَلَكَ الْحَمْدُ حَمْداً لاتُحْصى مَكارِمُهُ فِي اللَّيْلِ إِذا أَدْبَرَ ، وَفِي الصُّبْحِ إِذا أَسْفَرَ ، وَفِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ ، وَبِالْغُدُوِّ وَالْآصالِ ، وَالْعَشِيِّ وَالْإِبْكارِ ، وَالظَّهيرَةِ وَالْأَسْحارِ.

أَللَّهُمَّ بِتَوْفيقِكَ أَحْضَرْتَنِي النَّجاةَ ، وَجَعَلْتَني مِنْكَ في وَلايَةِ الْعِصْمَةِ ، لَمْ تُكَلِّفْني فَوْقَ طاقَتي إِذْ لَمْ تَرْضَ مِنّي إِلّا بِطاعَتي ، فَلَيْسَ شُكْري وَ إِنْ دَأَبْتُ مِنْهُ فِي الْمَقالِ ، وَبالَغْتُ مِنْهُ فِي الْفِعالِ بِبالِغِ أَداءِ حَقِّكَ ، وَلا مُكافٍ فَضْلَكَ ، لِأَنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ لا إِلهَ إِلّا أَنْتَ ، لَمْ تَغِبْ عَنْكَ غائِبَةٌ ، وَلا تَخْفى عَلَيْكَ خافِيَةٌ ، وَلاتَضِلُّ لَكَ في ظُلَمِ الْخَفِيَّاتِ ضالَّةٌ ، إِنَّما أَمْرُكَ إِذا أَرَدْتَ شَيْئاً أَنْ تَقُولُ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ.

أَللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ مِثْلَ ما حَمِدْتَ بِهِ نَفْسَكَ ، وَحَمِدَكَ بِهِ الْحامِدُونَ ، وَمَجَّدَكَ بِهِ الْمُمَجِّدُونَ ، وَكَبَّرَكَ بِهِ الْمُكَبِّرُونَ ، وَعَظَّمَكَ بِهِ الْمُعَظِّمُونَ ، حَتَّى يَكُونَ لَكَ مِنّي وَحْدي في كُلِّ طَرْفَةِ عَيْنٍ ، وَأَقَلَّ مِنْ ذلِكَ ، مِثْلُ حَمْدِ جَميعِ الْحامِدينَ وَتَوْحيدِ أَصْنافِ الْمُخْلِصينَ ، وَتَقْديسِ أَحِبَّائِكَ الْعارِفينَ ، وَثَناءِ جَميعِ الْمُهَلِّلينَ وَمِثْلُ ما أَنْتَ عارِفٌ بِهِ ، وَمَحْمُودٌ بِهِ مِنْ جَميعِ خَلْقِكَ مِنَ الْحَيَوانِ وَالْجَمادِ.

وَأَرْغَبُ إِلَيْكَ اللَّهُمَّ في شُكْرِ ما أَنْطَقْتَني بِهِ مِنْ حَمْدِكَ ، فَما أَيْسَرَ ما كَلَّفْتَني مِنْ ذلِكَ ، وَأَعْظَمَ ما وَعَدْتَني عَلى شُكْرِكَ ، إِبْتَدَأْتَني بِالنِّعَمِ فَضْلاً وَطَوْلاً ، وَأَمَرْتَني بِالشُّكْرِ حَقّاً وَعَدْلاً ، وَوَعَدْتَني عَلَيْهِ أَضْعافاً وَمَزيداً ، وَأَعْطَيْتَني مِنْ رِزْقِكَ اعْتِباراً وَامْتِحاناً ، وَسَأَلْتَني مِنْهُ فَرْضاً يَسيراً صَغيراً ، وَوَعَدْتَني عَلَيْهِ أَضْعافاً وَمَزيداً وَ إِعْطاءً كَثيراً.

وَعافَيْتَني مِنْ جُهْدِ الْبَلاءِ ، وَلَمْ تُسْلِمْني لِلسُّوءِ مِنْ بَلائِكَ ، وَمَنَحْتَنِي الْعافِيَةَ ، وَأَوْلَيْتَني بِالْبَسْطَةِ وَالرَّخاءِ ، وَضاعَفْتَ لِيَ الْفَضْلَ مَعَ ما وَعَدْتَني بِهِ مِنَ الْمَحَلَّةِ الشَّريفَةِ ، وَبَشَّرْتَني بِهِ مِنَ الدَّرَجَةِ الرَّفيعَةِ الْمَنيعَةِ ، وَاصْطَفَيْتَني بِأَعْظَمِ النَّبيّينَ دَعْوَةً ، وَأَفْضَلِهِمْ شَفاعَةً مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ.

أَللَّهُمَّ اغْفِرْ لي ما لايَسَعُهُ إِلّا مَغْفِرَتُكَ ، وَلايَمْحَقُهُ إِلّا عَفْوُكَ ، وَهَبْ لي في يَوْمي هذا وَساعَتي هذِهِ يَقيناً يُهَوِّنُ عَلَيَّ مُصيباتِ الدُّنْيا وَأَحْزانَها ، وَيُشَوِّقُني إِلَيْكَ ، وَيُرَغِّبُني فيما عِنْدَكَ ، وَاكْتُبْ لِيَ الْمَغْفِرَةَ ، وَبَلِّغْنِي الْكَرامَةَ ، وَارْزُقْني شُكْرَ ما أَنْعَمْتَ بِهِ عَلَيَّ ، فَإِنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ الْواحِدُ الرَّفيعُ الْبَدي‏ءُ الْبَديعُ السَّميعُ الْعَليمُ الَّذي لَيْسَ لِأَمْرِكَ مَدْفَعٌ ، وَلا عَنْ قَضائِكَ مُمْتَنِعٌ ، وَأَشْهَدُ أَنَّكَ رَبّي وَرَبُّ كُلِّ شَيْ‏ءٍ فاطِرُ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ ، عالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهادَةِ ، اَلْعَلِيُّ الْكَبيرُ الْمُتَعالُ.

أَللَّهُمَّ إِنّي أَسْأَلُكَ الثَّباتَ فِي الْأَمْرِ ، وَالْعَزيمَةَ فِي الرُّشْدِ ، وَ إِلْهامَ الشُّكْرِ عَلى نِعْمَتِكَ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ جَوْرِ كُلِّ جائِرٍ ، وَبَغْيِ كُلِّ باغٍ ، وَحَسَدِ كُلِّ حاسِدٍ.

أَللَّهُمَّ بِكَ أَصُولُ عَلَى الْأَعْداءِ ، وَ إِيَّاكَ أَرْجُو وِلايَةَ الْأَحِبَّاءِ ، مَعَ ما لا أَسْتَطيعُ إِحْصاءَهُ مِنْ فَوائِدِ فَضْلِكَ ، وَأَصْنافِ رِفْدِكَ ، وَأَنْواعِ رِزْقِكَ ، فَإِنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ لا إِلهَ إِلّا أَنْتَ الْفاشي فِي الْخَلْقِ حَمْدُكَ ، اَلْباسِطُ بِالْجُودِ يَدُكَ ، لاتُضادُّ في حُكْمِكَ ، وَلاتُنازَعُ في سُلْطانِكَ وَمُلْكِكَ ، وَلاتُراجَعُ في أَمْرِكَ ، تَمْلِكُ مِنَ الْأَنامِ ما شِئْتَ ، وَلايَمْلِكُونَ إِلّا ما تُريدُ.

أَللَّهُمَّ أَنْتَ الْمُنْعِمُ الْمُفْضِلُ الْقادِرُ الْقاهِرُ الْمُقَدَّسُ في نُورِ الْقُدْسِ ، تَرَدَّيْتَ بِالْعِزَّةِ وَالْمَجْدِ ، وَتَعَظَّمْتَ بِالْقُدْرَةِ وَالْكِبْرياءِ ، وَغَشَّيْتَ النُّورَ بِالْبَهاءِ ، وَجَلَّلْتَ الْبَهاءَ بِالْمَهابَةِ.

أَللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ الْعَظيمُ ، وَالْمَنُّ الْقَديمُ ، وَالسُلْطانُ الشَّامِخُ ، وَالْحَوْلُ الْواسِعُ ، وَالْقُدْرَةُ الْمُقْتَدِرَةُ ، وَالْحَمْدُ الْمُتَتابَعُ الَّذي لايَنْفَدُ بِالشُّكْرِ سَرْمَداً وَلايَنْقَضي أَبَداً ، إِذْ جَعَلْتَني مِنْ أَفاضِلِ بَني آدَمَ ، وَجَعَلْتَني سَميعاً بَصيراً صَحيحاً سَويّاً مُعافاً لَمْ تَشْغَلْني بِنُقْصانٍ في بَدَني ، وَلا بِآفَةٍ في جَوارِحي ، وَلا عاهَةٍ في نَفْسي وَلا في عَقْلي.

وَلَمْ يَمْنَعْكَ كَرامَتُكَ إِيَّايَ ، وَحُسْنُ صُنْعِكَ عِنْدي ، وَفَضْلُ نَعْمائِكَ عَلَيَّ إِذْ وَسَّعْتَ عَلَيَّ فِي الدُّنْيا ، وَفَضَّلْتَني عَلى كَثيرٍ مِنْ أَهْلِها تَفْضيلاً ، وَجَعَلْتَني سَميعاً أَعي ما كَلَّفْتَني بَصيراً ، أَرى قُدْرَتَكَ فيما ظَهَرَ لي ، وَاسْتَرْعَيْتَني وَاسْتَوْدَعْتَني قَلْباً يَشْهَدُ بِعَظَمَتِكَ ، وَلِساناً ناطِقاً بِتَوْحيدِكَ، فَإِنّي لِفَضْلِكَ عَلَيَّ حامِدٌ، وَلِتَوْفيقِكَ إِيَّايَ بِحَمْدِكَ شاكِرٌ ، وَبِحَقِّكَ شاهِدٌ، وَ إِلَيْكَ في مُلِمّي وَمُهِمّي ضارِعٌ ، لِأَنَّكَ حَيٌّ قَبْلَ كُلِّ حَيٍّ ، وَحَيٌّ بَعْدَ كُلِّ مَيِّتٍ ، وَحَيٌّ تَرِثُ الْأَرْضَ وَمَنْ عَلَيْها ، وَأَنْتَ خَيْرُ الْوارِثينَ

أَللَّهُمَّ لاتَقْطَعْ عَنّي خَيْرَكَ في كُلِّ وَقْتٍ ، وَلَمْ تُنْزِلْ بي عُقُوباتِ النِّقَمِ ، وَلَمْ تُغَيِّرْ ما بي مِنَ النِّعَمِ ، وَلا أَخْلَيْتَني مِنْ وَثيقِ الْعِصَمِ ، فَلَوْ لَمْ أَذْكُرْ مِنْ إِحْسانِكَ إِلَيَّ وَ إِنْعامِكَ عَلَيَّ إِلّا عَفْوَكَ عَنّي ، وَالْإِسْتِجابَةَ لِدُعائي ، حينَ رَفَعْتُ رَأْسي بِتَحْميدِكَ وَتَمْجيدِكَ، لا في تَقْديرِكَ جَزيلَ حَظّي حينَ وَفَّرْتَهُ انْتَقَصَ مُلْكُكَ ، وَلا في قِسْمَةِ الْأَرْزاقِ حينَ قَتَّرْتَ عَلَيَّ تَوَفَّرَ مُلْكُكَ.

أَللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ عَدَدَ ما أَحاطَ بِهِ عِلْمُكَ ، وَعَدَدَ ما أَدْرَكَتْهُ قُدْرَتُكَ ، وَعَدَدَ ما وَسِعَتْهُ رَحْمَتُكَ ، وَأَضْعافَ ذلِكَ كُلِّهِ ، حَمْداً واصِلاً مُتَواتِراً مُتَوازِياً لِآلائِكَ وَأَسْمائِكَ.

أَللَّهُمَّ فَتَمِّمْ إِحْسانَكَ إِلَيَّ فيما بَقِيَ مِنْ عُمْري ، كَما أَحْسَنْتَ إِلَيَّ ] مِنْهُ [فيما مَضى ، فَإِنّي أَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ بِتَوْحيدِكَ وَتَهْليلِكَ وَتَمْجيدِكَ وَتَكْبيرِكَ وَتَعْظيمِكَ ، ] وَأَسْأَلُكَ بِاسْمِكَ الَّذي خَلَقْتَهُ مِنْ ذلِكَ فَلايَخْرُجُ مِنْكَ إِلّا إِلَيْكَ[.

وَأَسْأَلُكَ بِاسْمِكَ الرُّوحِ الْمَكْنُونِ الْحَيِّ الْحَيِّ الْحَيِّ وَبِهِ وَبِهِ وَبِهِ ، وَبِكَ وَبِكَ وَبِكَ ، أَلّا تَحْرِمَني رِفْدَكَ ، وَفَوائِدَ كَرامَتِكَ ، وَلاتُوَلِّني غَيْرَكَ ، وَلاتُسْلِمَني إِلى عَدُوّي ، وَلاتَكِلَني إِلى نَفْسي ، وَأَحْسِنْ إِلَيَّ أَتَمَّ الْإِحْسانِ عاجِلاً وَآجِلاً ، وَحَسِّنْ فِي الْعاجِلَةِ عَمَلي ، وَبَلِّغْني فيها أَمَلي وَفِي الْآجِلَةِ ، وَالْخَيْرَ في مُنْقَلَبي ، فَإِنَّهُ لاتُفْقِرُكَ كَثْرَةُ ما يَنْدَفِقُ بِهِ فَضْلُكَ ، وَسَيْبُ الْعَطايا مِنْ مَنِّكَ ، وَلايُنْقِصُ جُودَكَ تَقْصيري في شُكْرِ نِعْمَتِكَ ، وَلاتُجِمُّ خَزائِنَ نِعْمَتِكَ النِّعَمُ ، وَلايُنْقِصُ عَظيمَ مَواهِبِكَ مِنْ سِعَتِكَ الْإِعْطاءُ ، وَلاتُؤَثِّرُ في جُودِكَ الْعَظيمِ الْفاضِلِ الْجَليلِ مِنَحُكَ ، وَلاتَخافُ ضَيْمَ إِمْلاقٍ فَتُكْدِيَ ، وَلايَلْحَقُكَ خَوْفُ عُدْمٍ فَيَنْقُصَ فَيْضُ مُلْكِكَ وَفَضْلِكَ.

أَللَّهُمَّ ارْزُقْني قَلْباً خاشِعاً ، وَيَقيناً صادِقاً ، وَبِالْحَقِّ صادِعاً ، وَلاتُؤْمِنّي مَكْرَكَ ، وَلاتُنْسِني ذِكْرَكَ ، وَلاتَهْتِكَ عَنّي سِتْرَكَ ، وَلاتُوَلِّني غَيْرَكَ ، وَلاتُقَنِّطْني مِنْ رَحْمَتِكَ بَلْ تَغَمَّدْني بِفَوائِدِكَ ، وَلاتَمْنَعْني جَميلَ عَوائِدِكَ ، وَكُنْ لي في كُلِّ وَحْشَةٍ أَنيساً ، وَفي كُلِّ جَزَعٍ حِصْناً ، وَمِنْ كُلِّ هَلَكَةٍ غِياثاً.

وَنَجِّني مِنْ كُلِّ بَلاءٍ ، وَاعْصِمْني مِنْ كُلِّ زَلَلٍ وَخَطاءٍ ، وَتَمِّمْ لي فَوائِدَكَ ، وَقِني وَعيدَكَ ، وَاصْرِفْ عَنّي أَليمَ عَذابِكَ وَتَدْميرَ تَنْكيلِكَ ، وَشَرِّفْني بِحِفْظِ كِتابِكَ ، وَأَصْلِحْ لي ديني وَدُنْيايَ وَآخِرَتي وَأَهْلي وَوَلَدي ، وَوَسِّعْ رِزْقي ، وَأَدِرَّهُ عَلَيَّ ، وَأَقْبِلْ عَلَيَّ ، وَلاتُعْرِضْ عَنّي.

أَللَّهُمَّ ارْفَعْني وَلاتَضَعْني ، وَارْحَمْني وَلاتُعَذِّبْني ، وَانْصُرْني وَلاتَخْذُلْني ، وَآثِرْني وَلاتُؤْثِرْ عَلَيَّ ، وَاجْعَلْ لي مِنْ أَمْري يُسْراً وَفَرَجاً ، وَعَجِّلْ إِجابَتي ، وَاسْتَنْقِذْني مِمَّا قَدْ نَزَلَ بي ، إِنَّكَ عَلى كُلِّ شَيْ‏ءٍ قَديرٌ ، وَذلِكَ عَلَيْكَ يَسيرٌ ، وَأَنْتَ الْجَوادُ الْكَريمُ.( البحار : ۲۵۹/۹۵ ، مهج الدعوات : ۱۶۱ ).

حرز یمانی کا واقعہ

محدّث نوری کتاب دارالسّلام میں نقل کرتے ہیں اور کہتے ہیں معروف دعا حرز یمانی کے پشت پر علامہ شیخ محمد تقی مجلسی کے خط سے اس طرح پایا بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ رب العالمین و الصلواة علی اشرف المرسلین محمد و عترتہ الطاھرین۔ و بعد سید نجیب اور ادیب امیر محمد ہاشم بزرگوار سادات میں سے ہے اس نے مجھے سے درخواست کی کہ میں حرز یمانی کی قرائت کی اجازت اس کو دے دوں یہ حرز حضرت امیرالمومنین کی طرف منسوب ہے کہ جو خاتم الانبیاء کے بعد سے بہترین مخلوق ہیں میں نے اس کو اجازت دے دی میں نے سید بزرگوار امیر اسحاق الہ آبادی سے کہ جو کربلاء میں مدفعن ہیں اس نے ہمارے مولیٰ کہ جو کہ جن و انس کے امام ہیں حضرت صاحب العصر سے روایت کی ہے کہ امیر اسحاق استر آبادی کہتے ہیں کہ مکہ کے راستے میں تھکاوٹ نے مجھے کمزور کردیا اور چلنے سے رہ گیا اور کاروا سے پیچھے رہ گیا اور قافلہ سے پیچھے رہ جانے کی وجہ سے میں اپنی زندگی سے مایوس ہوا اس دنیا سے نامید ہوگیا جسے کوئی مر رہاہے اسی طرح پشت کے بل سویا اور شہادتین پڑھنا شروع کیا اچانک میرے سرہانے پر میرے اور دونوں جہاں کے مولیٰ حضرت صاحب الزمان جلو گر ہوئے اور فرمایا اے اسحاق اٹھو میں اُٹھا تشنگی اور پیاس مجھ پر غالب آگئی تھی انہوں نے مجھے پانی دیا اور اپنے سواری پر مجھے سوار کیا جاتے ہوئے میں نے حرز یمانی پڑھنی شروع کی حضرت میری غلطیوں کے تصحیح کرتے تھے یہاں تک کہ حرز تمام ہوا اچانک میں متوجہ ہوا کہ ابطع (مکہ) کی سرزمین پر ہوں سواری سے نیچے اتر آیا اور آنحضرت کو نہیں دیکھا ہمارا قافلہ نوروز کے بعد مکہ میں وارد ہوا جب انہوں نے مجھے مکہ میں دیکھا تو انہوں نے تعجب کیا اور مکہ والوں کے درمیان مشہور ہوا کہ میں طتی الارض کے ساتھ آیا ہوں اس لئے حج کے مراسم کے بعد ایک مدت تک مخفی زندگی گزارتارہا۔

علامہ محمد تقی مجلسی اپنے کلام کو جاری رکھتے ہوئے فرماتے ہیں کہ یہ چالیس مرتبہ خانہ کعبہ کی زیارت سے مشرف ہوا تھا جب کربلاء سے مولائے دوجہاں حضرت امام علی بن موسیٰ الرضا کی زیارت کا عزم کیا تو اصفہان میں ان کی خدمت میں مشرف ہوا تھا اس کے عیال کا مہر یہ ساتھ تومان اس کے ذمہ میں تھا یہ رقم مشہد مقدس میں اپنے سوا کسی ایک شخص کے پاس تھی سید خواب دیکھتاہے کہ اس کی موت قریب آچکی ہے اس لئے وہ کہتاہے کہ میں پچاس سال سے کربلاء میں حضرت امام حسین کے جوار میں ہوں تا کہ وہاں پر مروں یہ کہ میں ڈرتاہوں کہ میری موت کسی اور جگہ نہ آئے ان میں سے ایک رفیق اس واقعہ سے مطلع ہوا اس رقم کو لیکر سیّد کو دیا میں نے سید کو ہمراہ برادران دینی میں سے ایک کے ساتھ کربلاء بھیجا وہ کہتاہے کہ جب سید کربلاء پہنچا اس نے اپنا قرض ادا کیا اس کے بعد بیمار ہوا اور نویں دن اس دار فانی سے دار باقی کی طرف چلا گیا اور ان کو اپنکے گھر میں دفن کردیا گیا جس زمانے میں سید اصفہان میں رہتے تھے میں نے ان سے بہت زیادہ کرامات دیکھے۔ یہ کہنے والی بات ہے کہ اس دعا کے لئے میرے پاس بہت زیادہ اجازت موجود ہیں لیکن میں اسی اجازت پر اکتفا کرتاہوں میں امید رکھتا ہوں کہ مجھ کو دعائے خیر سے فراموش نہ کریں اور آپ سے خواہش ہے کہ یہ دعا صرف خدا کے لئے پڑھو اور دشمن کے نابودی کے لئے کہ جو مومن ہے اگر فاسق و ظالم ہوں ان کے لئے نہ پرھے اور اس دعا کو بے قدر دنیا کے جمع کرنے کے لئے نہ پڑھے بلکہ سزاوار ہے کہ اس دعا کو قرب الٰہی حاصل کرنے کے لئے اور جن و انس کے شیاطین کے ضرر کو دور کرنے کے لئے پڑھے نیاز مند بروردگار غنی محمد تقی مجلسی اصفہانی۔

یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ اس حکایت کی پہلی قسمت کہ جو حضرت حجت کے ساتھ ملاقات کے بارے میں ہے اس کو علامہ مجلسی نے بحار الانوار کی تیرہویں جلد میں کافی اختلاف کے ساتھ نقل کیا ہے۔

علامہ بزرگوار مجلسی کہتے ہیں جو دعا حرز یمانی کے نام سے معروف ہے یہی دعاء سیفی کے نام سے بھی معروف ہے اس دعا کے لئے متعدد سند اور قسم قسم کے روایت دیکھی ہیں لیکن ان میں سے جو سب سے مہم ہے اس کو یہاں پر بیان کرتاہوں۔

عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن جعفر کہتے ہیں کہ ایک دن امیرالمومنین کی خدمت میں حاضر تھا اتنے میں امام حسن وارد ہوئے اور فرمایا اے امیرالمومنین ایک مرد دروازے پر کھڑا ہے اس سے کستوری کی خوشبو آتی ہے۔ اور وہ اندر آنا چاہتاہے حضرت نے فرمایا اس کو اندر آنے کی اجازت دیں اس وقت ایک تنومند مرد خوش شکل اور خوبصورت بڑی آنکھوں والا اور فصیح زبان بولنے والا ہے۔ اس کے بدن پر بادشاہوں کے لباس تھے داخل ہوا اور کہا السلام علیک یا امیرالمومنین و رحمة اللہ و برکاتہ میں یمن کے دور دراز شہر کا رہنے والا ایک مرد ہوں اشراف میں سے اور عرب کے بزرگان میں سے کہ آپ سے منسوب ہوں میں آپ کے پاس آیا ہوں۔ میں نے اپنے پیچھے ایک عطیم ملک اور بہت زیادہ نعمتیں چھوڑ کر آیا ہوں میری زندگی اچھی گزرتی تھی میرے کاروبار میں ترقی ہوتی تھی زندگی کے انجام کو جانت اھتا اچانک میری کسی سے دشمنی ہوئی اور اس نے مجھ پر ظلم کیا اس کے حامی قبیلہ کی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے وہ مجھ پر غالب آگیا میں نے مہم تدبیر کو اپنایا لیکن اس میں بھی کامیاب نہیں ہوا میں نے کوئی اور چارہ کار نہیں دیکھا میں ان تدابیر سے تھک گیا ایک رات عالم خواب میں ایک شخص کو دیکھا کہ وہ میرے پاس آیا اور مجھ سے کہا ایے مرد اٹھو اور پیغمبر کے بعد سب سے بہترین مخلوق علی کے پاس جاؤ اور اس سے دعا طلب کرو کہ جس دعا کو حبیب خدا محمد نے اس کو یاد کرایا ہے کہ وہ تمہیں یاد کرائے کہ اس دعا میں اسم اعظم ہے اور اس دعا کو اس دشمن کے سامنے پڑھو کہ جو تیرے ساتھ جنگ کرتاہے اے امیرالمومنین میں خواب سے بیدار ہوا میں نے کوئی کام نہیں کیا بلا فاصلہ چار سو غلاموں کو لیکر آپکی طرف آیا ہوں میں خدا پیغمبر اور تجھ کو گواہ قرار دیتاہوں کہ میں نے ان غلاموں کو خدا کی خاطر آزاد کرلیا اب اے امیرالمومنین میں دور دراز اور پر پیچ و خم والے راستے سے بہت زیادہ مسافت طے کرکے آپ کی خدمت میں آیا ہوں میرا بدن لاغر ہوا ہے اور بدن کے اعضاء راستے کی تھکاوٹ اور سفر کی وجہ سے کمزور ہوئے ہیں اے امیرالمومین مجھ پر احسان کریں اور آپکو آپکے باپ اور رشتہ داری کی قسم دیتاہوں کہ آپ اپنے فضل سے جو خواب میں دیکھاہے اور مجھے بتایا گیا ہے کہ میں آپ کے پاس آؤں اس دعا کو مجھے یاد کرادیں حضرت امیرالمومنین علی نے فرمایا کیوں نہیں انشاء اللہ میں اس دعا کو یاد کرادوں گا اس وقت حضرت نے کاغذ اور قلم طلب کیا اور اس دعا کو لکھا۔

حرز یمانی

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمنِ الرَّحيمِ

أَللَّهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ الْحَقُّ الَّذي لا إِلهَ إِلّا أَنْتَ ، وَأَنَا عَبْدُكَ ، ظَلَمْتُ نَفْسي ، وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبي ، وَلايَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلّا أَنْتَ ، فَاغْفِرْ لي يا غَفُورُ يا شَكُورُ.

أَللَّهُمَّ إِنّي أَحْمَدُكَ، وَأَنْتَ لِلْحَمْدِ أَهْلٌ ، عَلى ما خَصَصْتَني بِهِ مِنْ مَواهِبِ الرَّغائِبِ، وَما وَصَلَ إِلَيَّ مِنْ فَضْلِكَ السَّابِغِ، وَما أَوْلَيْتَني بِهِ مِنْ إِحْسانِكَ إِلَيَّ ، وَبَوَّأْتَني بِهِ مِنْ مَظَنَّةِ الْعَدْلِ ، وَأَنَلْتَني مِنْ مَنِّكَ الْواصِلِ إِلَيَّ ، وَمِنَ الدِّفاعِ عَنّي ، وَالتَّوْفيقِ لي ، وَالْإِجابَةِ لِدُعائي حَيْنَ اُناجيكَ داعِياً.

وَأَدْعُوكَ مُضاماً ، وَأَسْأَلُكَ فَأَجِدُكَ فِي الْمَواطِنِ كُلِّها لي جابِراً ، وَفِي الْاُمُورِ ناظِراً ، وَلِذُنُوبي غافِراً ، وَلِعَوْراتي ساتِراً ، لَمْ أَعْدَمْ خَيْرَكَ طَرْفَةَ عَيْنٍ مُنْذُ أَنْزَلْتَني دارَ الْإِخْتِيارِ ، لِتَنْظُرَ ما اُقَدِّمُ لِدارِ الْقَرارِ ، فَأَنَا عَتيقُكَ مِنْ جَميعِ الْآفاتِ وَالْمَصائِبِ ، فِي اللَّوازِبِ وَالْغُمُومِ الَّتي ساوَرَتْني فيهَا الْهُمُومُ ، بِمَعاريضِ أَصْنافِ الْبَلاءِ ، وَمَصْرُوفِ جُهْدِ الْقَضاءِ ، لا أَذْكُرُ مِنْكَ إِلّاَ الْجَميلَ ، وَلا أَرى مِنْكَ غَيْرَ التَّفْضيلِ.

خَيْرُكَ لي شامِلٌ ، وَفَضْلُكَ عَلَيَّ مُتَواتِرٌ ، وَنِعْمَتُكَ عِنْدي مُتَّصِلَةٌ ، وَسَوابِقُ لَمْ تُحَقِّقْ حِذاري ، بَلْ صَدَّقْتَ رَجائي ، وَصاحَبْتَ أَسْفاري ، وَأَكْرَمْتَ أَحْضاري ، وَشَفَيْتَ أَمْراضي وَأَوْهاني ، وَعافَيْتَ مُنْقَلَبي وَمَثْوايَ ، وَلَمْ تُشْمِتْ بي أَعْدائي ، وَرَمَيْتَ مَنْ رَماني ، وَكَفَيْتَني مَؤُونَةَ مَنْ عاداني.

فَحَمْدي لَكَ واصِلٌ ، وَثَنائي عَلَيْكَ دائِمٌ ، مِنَ الدَّهْرِ إِلَى الدَّهْرِ ، بِأَلْوانِ التَّسْبيحِ ، خالِصاً لِذِكْرِكَ ، وَمَرْضِيّاً لَكَ بِناصِعِ التَّوْحيدِ ، وَإِمْحاضِ التَّمْجيدِ بِطُوْلِ التَّعْديدِ ، وَمَزِيَّةِ أَهْلِ الْمَزيدِ ، لَمْ تُعَنْ في قُدْرَتِكَ ، وَلَمْ تُشارَكَ في إِلهِيَّتِكَ ، وَلَمْ تُعْلَمْ لَكَ مائِيَّةً فَتَكُونَ لِلْأَشْياءِ الْمُخْتَلِفَةِ مُجانِساً ، وَلَمْ تُعايَنْ إِذْ حَبَسْتَ الْأَشْياءَ عَلَى الْغَرائِزِ ، وَلا خَرَقَتِ الْأَوْهامُ حُجُبَ الغُيُوبِ ، فَتَعْتَقِدُ فيكَ مَحْدُوداً في عَظَمَتِكَ ، فَلا يَبْلُغُكَ بُعْدُ الْهِمَمِ ، وَلايَنالُكَ غَوْصُ الْفِكَرِ ، وَلايَنْتَهي إِلَيْكَ نَظَرُ ناظِرٍ في مَجْدِ جَبَرُوتِكَ.

اِرْتَفَعَتْ عِنْ صِفَةِ الْمَخْلُوقينَ صِفاتُ قُدْرَتِكَ ، وَعَلا عَنْ ذلِكَ كِبْرِياءُ عَظَمَتِكَ ، لايَنْقُصُ ما أَرَدْتَ أَنْ يَزْدادَ ، وَلايَزْدادُ ما أَرَدْتَ أَنْ يَنْقُصَ ، لا أَحَدَ حَضَرَكَ حينَ بَرَأْتَ النُّفُوسَ ، كَلَّتِ الْأَوْهامُ عَنْ تَفْسيرِ صِفَتِكَ ، وَانْحَسَرَتِ الْعُقُولُ عَنْ كُنْهِ عَظَمَتِكَ ، وَكَيْفَ تُوْصَفُ وَأَنْتَ الْجَبَّارُ الْقُدُّوسُ ، اَلَّذي لَمْ تَزَلْ أَزَلِيّاً دائِماً فِي الْغُيُوبِ وَحْدَكَ لَيْسَ فيها غَيْرُكَ وَلَمْ يَكُنْ لَها سِواكَ.

حارَ في مَلَكُوتِكَ عَميقاتُ مَذاهِبِ التَّفْكيرِ ، فَتَواضَعَتِ الْمُلُوكُ لِهَيْبَتِكَ ، وَعَنَتِ الْوُجُوهُ بِذُلِّ الْإِسْتِكانَةِ لَكَ ، وَانْقادَ كُلُّ شَيْ‏ءٍ لِعَظَمَتِكَ ، وَاسْتَسْلَمَ كُلُّ شَيْ‏ءٍ لِقُدْرَتِكَ ، وَخَضَعَتْ لَكَ الرِّقابُ ، وَ كَلَّ دُونَ ذلِكَ تَحْبيرُ اللُّغاتِ ، وَضَلَّ هُنالِكَ التَّدْبيرُ في تَصاريفِ الصِّفاتِ ، فَمَنْ تَفَكَّرَ في ذلِكَ رَجَعَ طَرْفُهُ إِلَيْهِ حَسيراً ، وَعَقْلُهُ مَبْهُوراً ، وَتَفَكُّرُهُ مُتَحَيِّراً.

أَللَّهُمَّ فَلَكَ الْحَمْدُ مُتَواتِراً مُتَوالِياً مُتَّسِقاً مُسْتَوْثِقاً ، يَدُومُ وَلايَبيدُ غَيْرَ مَفْقُودٍ فِي الْمَلَكُوتِ ، وَلا مَطْمُوسٍ فِي الْمَعالِمِ ، وَلا مُنْتَقِصٍ فِي الْعِرْفانِ ، وَلَكَ الْحَمْدُ ما لاتُحْصى مَكارِمُهُ فِي اللَّيْلِ إِذا أَدْبَرَ ، وَالصُّبْحِ إِذا أَسْفَرَ ، وَفِي الْبَراري وَالْبِحارِ ، وَالْغُدُوِّ وَالْآصالِ ، وَالْعَشِيِّ وَالْإِبْكارِ ، وَفِي الظَّهائِرِ وَالْأَسْحارِ.

أَللَّهُمَّ بِتَوْفيقِكَ قَدْ أَحْضَرْتَنِي الرَّغْبَةَ ، وَجَعَلْتَني مِنْكَ في وِلايَةِ الْعِصْمَةِ لَمْ أَبْرَحْ في سُبُوغِ نَعْمائِكَ ، وَتَتابُعِ آلائِكَ مَحْفُوظاً لَكَ فِي الْمَنْعَةِ وَالدِّفاعِ مَحُوطاً بِكَ في مَثْوايَ وَمُنْقَلَبي ، وَلَمْ تُكَلِّفْني فَوْقَ طاقَتي ، إِذْ لَمْ تَرْضَ مِنّي إِلّا طاعَتي ، وَلَيْسَ شُكْري وَإِنْ أَبْلَغْتُ فِي الْمَقالِ وَبالَغْتُ فِي الْفِعالِ بِبالِغِ أَداءِ حَقِّكَ ، وَلا مُكافِياً لِفَضْلِكَ ، لِأَنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ الَّذي لا إِلهَ إِلّا أَنْتَ ، لَمْ تَغِبْ وَلا تَغيبُ عَنْكَ غائِبَةٌ ، وَلاتَخْفى عَلَيْكَ خافِيَةٌ ، وَلَمْ تَضِلَّ لَكَ في ظُلَمِ الْخَفِيَّاتِ ضالَّةٌ ، إِنَّما أَمْرُكَ إِذا أَرَدْتَ شَيْئاً أَنْ تَقُولَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ.

أَللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ مِثْلَ ما حَمِدْتَ بِهِ نَفْسَكَ ، وَحَمِدَكَ بِهِ الْحامِدُونَ ، وَمَجَّدَكَ بِهِ الْمُمَجِّدُونَ ، وَكَبَّرَكَ بِهِ الْمُكَبِّرُونَ ، وَعَظَّمَكَ بِهِ الْمُعَظِّمُونَ ، حَتَّى يَكُونَ لَكَ مِنّي وَحْدي بِكُلِّ طَرْفَةِ عَيْنٍ ، وَأَقَلَّ مِنْ ذلِكَ مِثْلُ حَمْدِ الْحامِدينَ ، وَتَوْحيدِ أَصْنافِ الْمُخْلِصينَ ، وَتَقْديسِ أَجْناسِ الْعارِفينَ ، وَثَناءِ جَميعِ الْمُهَلِّلينَ ، وَمِثْلُ ما أَنْتَ بِهِ عارِفٌ مِنْ جَميعِ خَلْقِكَ مِنَ الْحَيَوانِ ، وَأَرْغَبُ إِلَيْكَ في رَغْبَةِ ما أَنْطَقْتَني بِهِ مِنْ حَمْدِكَ ، فَما أَيْسَرَ ما كَلَّفْتَني بِهِ مِنْ حَقِّكَ ، وَأَعْظَمَ ما وَعَدْتَني عَلى شُكْرِكَ.

اِبْتَدَأْتَني بِالنِّعَمِ فَضْلاً وَطَوْلاً ، وَأَمَرْتَني بِالشُّكْرِ حَقّاً وَعَدْلاً ، وَوَعَدْتَني عَلَيْهِ أَضْعافاً وَمَزيداً ، وَأَعْطَيْتَني مِنْ رِزْقِكَ اعْتِباراً وَفَضْلاً ، وَسَأَلْتَني مِنْهُ يَسيراً صَغيراً ، وَأَعْفَيْتَني مِنْ جُهْدِ الْبَلاءِ وَلَمْ تُسْلِمْني لِلسُّوءِ مِنْ بَلاءِكَ مَعَ ما أَوْلَيْتَني مِنَ الْعافِيَةِ ، وَسَوَّغْتَ مِنْ كَرائِمِ النَّحْلِ ، وَضاعَفْتَ لِيَ الْفَضْلَ مَعَ ما أَوْدَعْتَني مِنَ الْمَحَجَّةِ الشَّريفَةِ ، وَيَسَّرْتَ لي مِنَ الدَّرَجَةِ الْعالِيَةِ الرَّفيعَةِ ، وَاصْطَفَيْتَني بِأَعْظَمِ النَّبِيّينَ دَعْوَةً ، وَأَفْضَلِهِمْ شَفاعَةً ، مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ.

أَللَّهُمَّ فَاغْفِرْ لي ما لايَسَعُهُ إِلّا مَغْفِرَتُكَ ، وَلا يَمْحَقُهُ إِلّا عَفْوُكَ ، وَلا يُكَفِّرُهُ إِلّا فَضْلُكَ ، وَهَبْ لي في يَوْمي يَقيناً تُهَوِّنُ عَلَيَّ بِهِ مُصيباتِ الدُّنْيا وَأَحْزانَها بِشَوْقٍ إِلَيْكَ ، وَرَغْبَةٍ فيما عِنْدَكَ ، وَاكْتُبْ لي عِنْدَكَ الْمَغْفِرَةَ ، وَبَلِّغْنِي الْكَرامَةَ ، وَارْزُقْني شُكْرَ ما أَنْعَمْتَ بِهِ عَلَيَّ ، فَإِنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ الْواحِدُ الرَّفيعُ الْبَدي‏ءُ الْبَديعُ السَّميعُ الْعَليمُ ، اَلَّذي لَيْسَ لِأَمْرِكَ مَدْفَعٌ ، وَلا عَنْ قَضائِكَ مُمْتَنِعٌ ، أَشْهَدُ أَنَّكَ رَبّي وَرَبُّ كُلِّ شَيْ‏ءٍ ، فاطِرُ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ ، عالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهادَةِ ، اَلْعَلِيُّ الْكَبيرُ.

أَللَّهُمَّ إِنّي أَسْأَلُكَ الثَّباتَ فِي الْأَمْرِ ، وَالْعَزيمَةَ عَلَى الرُّشْدِ ، وَالشُّكْرَ عَلى نِعْمَتِكَ ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ جَوْرِ كُلِّ جائِرٍ ، وَبَغْيِ كُلِّ باغٍ ، وَحَسَدِ كُلِّ حاسِدٍ ، بِكَ أَصُولُ عَلَى الْأَعْداءِ ، وَبِكَ أَرْجُو وِلايَةَ الْأَحِبَّاءِ مَعَ ما لا أَسْتَطيعُ إِحْصاءَهُ ، وَلاتَعْديدَهُ مِنْ عَوائِدِ فَضْلِكَ ، وَطُرَفِ رِزْقِكَ ، وَأَلْوانِ ما أَوْلَيْتَ مِنْ إِرْفادِكَ ، فَإِنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ الَّذي لا إِلهَ إِلّا أَنْتَ ، اَلْفاشي فِي الْخَلْقِ رِفْدُكَ ، اَلْباسِطُ بِالْجُودِ يَدُكَ ، وَلاتُضادُّ في حُكْمِكَ ، وَلاتُنازَعُ في أَمْرِكَ ، تَمْلِكُ مِنَ الْأَنامِ ما تَشاءُ ، وَلايَمْلِكُونَ إِلّا ما تُريدُ.

«قُلِ اللَّهُمَّ مالِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشاءُ ، وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشاءُ ، وَتُعِزُّ مَنْ تَشاءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشاءُ بِيَدِكَ الْخَيْرُ إِنَّكَ عَلى كُلِّ شَيْ‏ءٍ قَديرٌ × تُولِجُ اللَّيْلَ فِي النَّهارِ وَتُولِجُ النَّهارَ فِي اللَّيْلِ وَتُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَتُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ وَتَرْزُقُ مَنْ تَشاءُ بِغَيْرِ حِسابٍ »

أَنْتَ الْمُنْعِمُ الْمُفْضِلُ الْخالِقُ الْبارِئُ الْقادِرُ الْقاهِرُ الْمُقَدَّسُ في نُورِ الْقُدْسِ ، تَرَدَّيْتَ بِالْمَجْدِ وَالْعِزِّ ، وَتَعَظَّمْتَ بِالْكِبْرِياءِ ، وَتَغَشَّيْتَ بِالنُّورِ وَالْبَهاءِ ، وَتَجَلَّلْتَ بِالْمَهابَةِ وَالسَّناءِ ، لَكَ الْمَنُّ الْقَديمُ ، وَالسُّلْطانُ الشَّامِخُ ، وَالْجُودُ الْواسِعُ ، وَالْقُدْرَةُ الْمُقْتَدِرَةُ ، جَعَلْتَني مِنْ أَفْضَلِ بَني آدَمَ ، وَجَعَلْتَني سَميعاً بَصيراً ، صَحيحاً سَوِيّاً مُعافاً ، لَمْ تَشْغَلْني بِنُقْصانٍ في بَدَني ، وَلَمْ تَمْنَعْكَ كَرامَتُكَ إِيَّايَ ، وَحُسْنُ صَنيعِكَ عِنْدي ، وَفَضْلُ إِنْعامِكَ عَلَيَّ ، أَنْ وَسَّعْتَ عَلَيَّ فِي الدُّنْيا ، وَفَضَّلْتَني عَلى كَثيرٍ مِنْ أَهْلِها ، فَجَعَلْتَ لي سَمْعاً يَسْمَعُ آياتِكَ ، وَفُؤاداً يَعْرِفُ عَظَمَتِكَ ، وَأَنَا بِفَضْلِكَ حامِدٌ ، وَبِجُهْدِ يَقيني لَكَ شاكِرٌ ، وَبِحَقِّكَ شاهِدٌ.

فَإِنَّكَ حَيٌّ قَبْلَ كُلِّ حَيٍّ ، وَحَيٌّ بَعْدَ كُلِّ حَيٍّ ، وَحَيٌّ لَمْ تَرِثِ الْحَياةَ مِنْ حَيٍّ ، وَلَمْ تَقْطَعْ خَيْرَكَ عَنّي طَرْفَةَ عَيْنٍ في كُلِّ وَقْتٍ ، وَلَمْ تُنْزِلْ بي عُقُوباتِ النِّقَمِ ، وَلَمْ تُغَيِّرْ عَلَيَّ دَقائِقَ الْعِصَمِ ، فَلَوْ لَمْ أَذْكُرْ مِنْ إِحْسانِكَ إِلّا عَفْوَكَ ، وَ إِجابَةَ دُعائي حينَ رَفَعْتُ رَأْسي بِتَحْميدِكَ وَتَمْجيدِكَ ، وَفي قِسْمَةِ الْأَرْزاقِ حينَ قَدَّرْتَ ، فَلَكَ الْحَمْدُ عَدَدَ ما حَفَظَهُ عِلْمُكَ ، وَعَدَدَ ما أَحاطَتْ بِهِ قُدْرَتُكَ ، وَعَدَدَ ما وَسِعَتْهُ رَحْمَتُكَ.

أَللَّهُمَّ فَتَمِّمْ إِحْسانَكَ فيما بَقِيَ ، كَما أَحْسَنْتَ فيما مَضى ، فَإِنّي أَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ بِتَوْحيدِكَ وَتَمْجيدِكَ ، وَتَحْميدِكَ وَتَهْليلِكَ ، وَتَكْبيرِكَ وَتَعْظيمِكَ ، وَبِنُورِكَ وَرَأْفَتِكَ ، وَرَحْمَتِكَ وَعُلُوِّكَ ، وَجَمالِكَ وَجَلالِكَ ، وَبَهائِكَ وَسُلْطانِكَ ، وَقُدْرَتِكَ وَبِمُحَمَّدٍ وَآلِهِ الطَّاهِرينَ ، أَلّا تَحْرِمَني رِفْدَكَ وَفَوائِدَكَ.

فَإِنَّهُ لايَعْتَريكَ لِكَثْرَةِ ما يَتَدَفَّقُ بِهِ عَوائِقُ الْبُخْلِ ، وَلايَنْقُصُ جُودَكَ تَقْصيرٌ في شُكْرِ نِعْمَتِكَ ، وَلاتُفْني خَزائِنَ مَواهِبِكَ النِّعَمُ ، وَلاتَخافُ ضَيْمَ إِمْلاقٍ فَتُكْدِيَ وَلايَلْحَقُكَ خَوْفُ عُدْمٍ فَيَنْقُصَ فَيْضُ فَضْلِكَ.

أَللَّهُمَّ ارْزُقْني قَلْباً خاشِعاً ، وَيَقيناً صادِقاً ، وَلِساناً ذاكِراً ، وَلاتُؤْمِنّي مَكْرَكَ ، وَلاتَكْشِفْ عَنّي سِتْرَكَ ، وَلاتُنْسِني ذِكْرَكَ ، وَلاتُباعِدْني مِنْ جَوارِكَ ، وَلاتَقْطَعْني مِنْ رَحْمَتِكَ ، وَلاتُؤْيِسْني مِنْ رَوْحِكَ ، وَكُنْ لي أَنيساً مِنْ كُلِّ وَحْشَةٍ ، وَاعْصِمْني مِنْ كُلِّ هَلَكَةٍ ، وَنَجِّني مِنْ كُلِّ بَلاءٍ ، فَإِنَّكَ لاتُخْلِفُ الْميعادَ.

أَللَّهُمَّ ارْفَعْني وَلاتَضَعْني، وَزِدْني وَلاتَنْقُصْني، وَارْحَمْني وَلاتُعَذِّبْني، وَانْصُرْني وَلاتَخْذُلْني ، وَآثِرْني وَلاتُؤْثِرْ عَلَيَّ ، وَصَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ الطَّيِّبينَ الطَّاهِرينَ ، وَسَلَّمَ تَسْليماً كَثيراً.

ابن عباس کہتاہے: حضرت نے یہ دعا یمنی مرد کو دی اور فرمایا اس دعا کی اچھی طرح حفاظت کرلو ہر روز ایک دفعہ پڑھ لو مجھے امید ہے کہ آپ کے اپنے شہر پہنچنے سے پہلے اللہ تعالیٰ تمہارے دشمن کو ہلاک کرے گا چونکہ میں نے سنا ہے کہ جو بھی اس دعا کو صحیح نیت اور متواضع دل کے ساتھ پڑھ لے اس وقت پہاڑوں کو حکم دیا جائے کہ حرکت کریں تو حرکت کرنے لگیں گے اگر کہین سفر کرنے کا ارادہ کروگے اس دعا کی برکت سے خطراف سے محفوظ ہو کر سلامتی کے ساتھ اپنے سفر کو ختم کروگے یمنی مرد اپنے شہر کی طرف روانہ ہوا چالیس دن گزرنے کے بعد حضرت کی خدمت میں اس یمنی شخص کا خط پہنچا کہ خدا نے اس کے دشمن کو ہلاک کیا ہے اور اس کے دشمن یہاں پر ایک بھی نہیں بچا ہے۔

حضرت امیرالمومنین نے فرمایا:

میں جانتا تھا کہ ایسا ہی ہوگا اس دعا کو رسول خدا نے مجھے تعلیم دی تھی کوئی سختی اور دشواری میرے لئے پیش نہیں اتی مگر یہ کہ میں اس دعا کو پڑھا اور وہ سختی اور دشواری میرے لیئے آسان ہوگئی۔

۔ دعائے حریق

أَللَّهُمَّ إِنّي أَصْبَحْتُ اُشْهِدُكَ وَكَفى بِكَ شَهِيداً ، وَاُشْهِدُ مَلائِكَتَكَ وَحَمَلَةَ عَرْشِكَ وَسُكَّانَ سَبْعِ سَماواتِكَ وَأَرَضيكَ وَأَنْبِياءَكَ وَرُسُلَكَ وَوَرَثَةَ أَنْبِياءِكَ وَرُسُلِكَ وَالصَّالِحينَ مِنْ عِبادِكَ وَجَميعَ خَلْقِكَ ، فَاشْهَدْ لي وَكَفى بِكَ شَهيداً ، أَنّي أَشْهَدُ أَنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ لا إِلهَ إِلّا أَنْتَ الْمَعْبُودُ وَحْدَكَ لا شَريكَ لَكَ ، وَأَنَّ مُحَمَّداً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ ، وَأَنَّ كُلَّ مَعْبُودٍ مِمَّا دُونَ عَرْشِكَ إِلى قَرارِ أَرْضِكَ السَّابِعَةِ السُّفْلى باطِلٌ مُضْمَحِلٌّ ما خَلا وَجْهَكَ الْكَريمَ ، فَإِنَّهُ أَعَزُّ وَأَكْرَمُ وَأَجَلُّ وَأَعْظَمُ مِنْ أَنْ يَصِفَ الْواصِفُونَ كُنْهَ جَلالِهِ أَوْ تَهْتَدِيَ الْقُلُوبُ إِلى كُنْهِ عَظَمَتِهِ ، يا مَنْ فاقَ مَدْحَ الْمادِحينَ فَخْرُ مَدْحِهِ ، وَعَدا وَصْفَ الْواصِفينَ مَآثِرُ حَمْدِهِ ، وَجَلَّ عَنْ مَقالَةِ النَّاطِقينَ تَعْظيمُ شَأْنِهِ ، صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ، وَافْعَلْ بِنا ما أَنْتَ أَهْلُهُ ، يا أَهْلَ التَّقْوى وَأَهْلَ الْمَغْفِرَةِ ثلاثاً.

ثمّ تقول إحدى عشرة مرةّ :

لا إِلهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لا شَريكَ لَهُ ، سُبْحانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ ، أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ ، ما شاءَ اللَّهُ وَلا قُوَّةَ إِلّا بِاللَّهِ ، هُوَ الْأَوَّلُ وَالْآخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْباطِنُ ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ ، يُحْيي وَيُميتُ ، وَيُميتُ وَيُحْيي ، وَهُوَ حَيٌّ لايَمُوتُ ، بِيَدِهِ الْخَيْرُ ، وَهُوَ عَلى كُلِّ شَيْ‏ءٍ قَديرٌ.

ثمّ تقول إحدى عشرة مرّة :

سُبْحانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ للَّهِِ وَلا إِلهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ ، أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ ، ما شاءَ اللَّهُ لا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ إِلّا بِاللَّهِ الْحَليمِ الْكَريمِ الْعَلِيِّ الْعَظيمِ الرَّحْمنِ الرَّحيمِ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ الْحَقِّ الْمُبينِ ، عَدَدَ خَلْقِهِ وَزِنَةَ عَرْشِهِ وَمِلْأَ سَماواتِهِ وَأَرَضيهِ ، وَعَدَدَ ما جَرى بِهِ قَلَمُهُ وَأَحْصاهُ كِتابُهُ وَمِدادُ كَلِماتِهِ وَرِضا نَفْسِهِ.

ثمّ قل :

أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَأَهْلِ بَيْتِ مُحَمَّدٍ الْمُبارَكينَ ، وَصَلِّ عَلى جَبْرَئيلَ وَميكائيلَ وَإِسْرافيلَ ، وَحَمَلَةِ عَرْشِكَ أَجْمَعينَ ، وَالْمَلائِكَةِ الْمُقَرَّبينَ أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِمْ حَتَّى تُبَلِّغَهُمُ الرِّضا ، وَتَزيدَهُمْ بَعْدَ الرِّضا مِمَّا أَنْتَ أَهْلُهُ ، يا أَرْحَمَ الرَّاحِمينَ.

أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ، وَصَلِّ عَلى مَلَكِ الْمَوْتِ وَأَعْوانِهِ ، وَصَلِّ عَلى رِضْوانَ وَخَزَنَةِ الْجِنانِ ، وَصَلِّ عَلى مالِكٍ وَخَزَنَةِ النّيرانِ أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِمْ حَتَّى تُبَلِّغَهُمُ الرِّضا ، وَتَزيدَهُمْ بَعْدَ الرِّضا مِمَّا أَنْتَ أَهْلُهُ ، يا أَرْحَمَ الرَّاحِمينَ.

أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى الْكِرامِ الْكاتِبينَ ، وَالسَّفَرَةِ الْكِرامِ الْبَرَرَةِ ، وَالْحَفَظَةِ لِبَني آدَمَ ، وَصَلِّ عَلى مَلائِكَةِ الْهَواءِ وَالسَّماواتِ الْعُلى ، وَمَلائِكَةِ الْأَرَضينَ السُّفْلى ، وَمَلائِكَةِ اللَّيْلِ وَالنَّهارِ ، وَالْأَرْضِ وَالْأَقْطارِ ، وَالْبِحارِ وَالْأَنْهارِ ، وَالْبَراري وَالْفَلَواتِ وَالْقِفارِ ، وَصَلِّ عَلى مَلائِكَتِكَ الَّذينَ أَغْنَيْتَهُمْ عَنِ الطَّعامِ وَالشَّرابِ بِتَسْبيحِكَ وَتَقْديسِكَ وَعِبادَتِكَ أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِمْ حَتَّى تُبَلِّغَهُمُ الرِّضا ، وَتَزيدَهُمْ بَعْدَ الرِّضا مِمَّا أَنْتَ أَهْلُهُ يا أَرْحَمَ الرَّاحِمينَ.

أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ، وَصَلِّ عَلى أَبينا آدَمَ ، وَاُمِّنا حَوَّاءَ وَما وَلَدا مِنَ النَّبيّينَ وَالصِّدّيقينَ وَالشُّهَداءِ وَالصَّالِحينَ أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِمْ حَتَّى تُبَلِّغَهُمُ الرِّضا ، وَتَزيدَهُمْ بَعْدَ الرِّضا مِمَّا أَنْتَ أَهْلُهُ ، يا أَرْحَمَ الرَّاحِمينَ.

أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَأَهْلِ بَيْتِهِ الطَّيِّبينَ ، وَعَلى أَصْحابِهِ الْمُنْتَجَبينَ ، وَعَلى أَزْواجِهِ الْمُطَهَّراتِ ، وَعَلى ذُرِّيَّةِ مُحَمَّدٍ ، وَعَلى كُلِّ نَبِيٍّ بَشَّرَ بِمُحَمَّدٍ ، وَعَلى كُلِّ نَبِيٍّ وَلَدَ مُحَمَّداً ، وَعَلى كُلِّ مَنْ في صَلَواتِكَ عَلَيْهِ رِضىً لَكَ وَرِضىً لِنَبِيِّكَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِمْ حَتَّى تُبَلِّغَهُمُ الرِّضا ، وَتَزيدَهُمْ بَعْدَ الرِّضا مِمَّا أَنْتَ أَهْلُهُ ، يا أَرْحَمَ الرَّاحِمينَ.

أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ، وَبارِكْ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ، وَارْحَمْ مُحَمَّداً وَآلِ مُحَمَّدٍ ، كَأَفْضَلِ ما صَلَّيْتَ وَبارَكْتَ وَتَرَحَّمْتَ عَلى إِبْراهيمَ وَآلِ إِبْراهيمَ ، إِنَّكَ حَميدٌ مَجيدٌ.

أَللَّهُمَّ أَعْطِ مُحَمَّداً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ الْوَسيلَةَ وَالْفَضْلَ ، وَالْفَضيلَةَ وَالدَّرَجَةَ الرَّفيعَةَ ، وَأَعْطِهِ حَتَّى يَرْضى ، وَزِدْهُ بَعْدَ الرِّضا مِمَّا أَنْتَ أَهْلُهُ ، يا أَرْحَمَ الرَّاحِمينَ.

أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ، كَما أَمَرْتَنا أَنْ نُصَلِّيَ عَلَيْهِ أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ، كَما يَنْبَغي لَنا أَنْ نُصَلِّيَ عَلَيْهِ أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ بِعَدَدِ مَنْ صَلَّى عَلَيْهِ.

أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ بِعَدَدِ مَنْ لَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ بِعَدَدِ كُلِّ حَرْفٍ في صَلوةٍ صُلِّيَتْ عَلَيْهِ أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ بِعَدَدِ مَنْ صَلَّى عَلَيْهِ وَمَنْ لَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ

أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ بِعَدَدِ كُلِّ شَعْرَةٍ وَلَفْظَةٍ وَلَحْظَةٍ وَنَفَسٍ وَصِفَةٍ وَسُكُونٍ وَحَرَكَةٍ مِمَّنْ صَلَّى عَلَيْهِ ، وَمِمَّنْ لَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ ، وَبِعَدَدِ ساعاتِهِمْ وَدَقائِقِهِمْ ، وَسُكُونِهِمْ وَحَرَكاتِهِمْ ، وَحَقائِقِهِمْ وَميقاتِهِمْ ، وَصِفاتِهِمْ وَأَيَّامِهِمْ ، وَشُهُورِهِمْ وَسِنيهِمْ ، وَأَشْعارِهِمْ وَأَبْشارِهِمْ ، وَبِعَدَدِ زِنَةِ ذَرِّ ما عَمِلُوا ، أَوْ يَعْمَلُونَ أَوْ بَلَغَهُمْ أَوْ رَأَوْا أَوْ ظَنُّوا أَوْ فَطِنُوا ، أَوْ كانَ مِنْهُمْ ، أَوْ يَكُونُ إِلى يَوْمِ الْقِيامَةِ ، وَكَأَضْعافِ ذلِكَ أَضْعافاً مُضاعَفَةً إِلى يَوْمِ الْقِيامَةِ ، يا أَرْحَمَ الرَّاحِمينَ.

أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ بِعَدَدِ ما خَلَقْتَ ، وَما أَنْتَ خالِقُهُ إِلى يَوْمِ الْقِيامَةِ ، صَلوةً تُرْضيهِ

أَللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ وَالثَّناءُ وَالشُّكْرُ ، وَالْمَنُّ وَالْفَضْلُ ، وَالطَّوْلُ وَالْخَيْرُ ، وَالْحُسْنى وَالنِّعْمَةُ ، وَالْعَظَمَةُ وَالْجَبَرُوتُ ، وَالْمُلْكُ وَالْمَلَكُوتُ ، وَالْقَهْرُ وَالسُّلْطانُ ، وَالْفَخْرُ وَالسُّؤْدَدُ ، وَالْإِمْتِنانُ وَالْكَرَمُ ، وَالْجَلالُ وَالْإِكْرامُ ، وَالْجَمالُ وَالْكَمالُ ، وَالْخَيْرُ وَالتَّوْحيدُ وَالتَّمْجيدُ ، وَالتَّحْميدُ وَالتَّهْليلُ وَالتَّكْبيرُ وَالتَّقْديسُ ، وَالرَّحْمَةُ وَالْمَغْفِرَةُ ، وَالْكِبْرِياءُ وَالْعَظَمَةُ

وَلَكَ ما زَكى وَطابَ وَطَهُرَ مِنَ الثَّناءِ الطَّيِّبِ ، وَالْمَديحِ الْفاخِرِ ، وَالْقَوْلِ الْحَسَنِ الْجَميلِ الَّذي تَرْضى بِهِ عَنْ قائِلِهِ ، وَتُرْضِيَ بِهِ قائِلَهُ وَهُوَ رِضىً لَكَ يَتَّصِلُ حَمْدي بِحَمْدِ أَوَّلِ الْحامِدينَ ، وَثَنائي بِثَناءِ أَوَّلِ الْمُثْنينَ عَلى رَبِّ الْعالَمينَ مُتَّصِلاً ذلِكَ بِذلِكَ ، وَتَهْليلي بِتَهْليلِ أَوَّلِ الْمُهَلِّلينَ ، وَتَكْبيري بِتَكْبيرِ أَوَّلِ الْمُكَبِّرينَ ، وَقَوْلِيَ الْحَسَنُ الْجَميلُ بِقَوْلِ أَوَّلِ الْقائِلينَ الْمُجْمِلينَ الْمُثْنينَ عَلى رَبِّ الْعالَمينَ ، مُتَّصِلاً ذلِكَ بِذلِكَ ، مِنْ أَوَّلِ الدَّهْرِ إِلى آخِرِهِ

وَبِعَدَدِ زِنَةِ ذَرِّ السَّماواتِ وَالْأَرَضينَ ، وَالرِّمالِ وَالتِّلالِ وَالْجِبالِ ، وَعَدَدِ جُرَعِ ماءِ الْبِحارِ، وَعَدَدِ قَطْرِ الْأَمْطارِ ، وَوَرَقِ الْأَشْجارِ ، وَعَدَدِ النُّجُومِ ، وَعَدَدِ الثَّرى وَالْحَصى وَالنَّوى وَالْمَدَرِ ، وَعَدَدِ زِنَةِ ذلِكَ كُلِّهِ ، وَعَدَدِ زِنَةِ ذَرِّ السَّماواتِ وَالْأَرَضينَ ، وَما فيهِنَّ وَما بَيْنَهُنَّ وَما تَحْتَهُنَّ ، وَما بَيْنَ ذلِكَ وَما فَوْقَهُنَّ إِلى يَوْمِ الْقِيامَةِ ، مِنْ لَدُنِ الْعَرْشِ إِلى قَرارِ أَرْضِكَ السَّابِعَةِ السُّفْلى

وَبِعَدَدِ حُرُوفِ أَلْفاظِ أَهْلِهِنِّ ، وَعَدَدِ أَزْمانِهِمْ وَدَقائِقِهِمْ وَشَعائِرِهِمْ وَساعاتِهِمْ وَأَيَّامِهِمْ ، وَشُهُورِهِمْ وَسِنيهِمْ ، وَسُكُونِهِمْ وَحَرَكاتِهِمْ ، وَأَشْعارِهِمْ وَأَبْشارِهِمْ

وَعَدَدِ زِنَةِ ذَرِّ ما عَمِلُوا أَوْ يَعْمَلُونَ أَوْ بَلَغَهُمْ أَوْ رَأَوْا أَوْ ظَنُّوا أَو فَطِنُوا أَوْ كانَ مِنْهُمْ أَوْ يَكُونُ إِلى يَوْمِ الْقِيامَةِ ، وَعَدَدِ زِنَةِ ذَرِّ ذلِكَ وَأَضْعافِ ذلِكَ ، وَكَأَضْعافِ ذلِكَ أَضْعافاً مُضاعَفَةً لايَعْلَمُها وَلايُحْصيها غَيْرُكَ يا ذَا الْجَلالِ وَالْإِكْرامِ ، وَأَهْلُ ذلِكَ أَنْتَ ، وَمُسْتَحِقُّهُ وَمُسْتَوْجِبُهُ مِنّي وَمِنْ جَميعِ خَلْقِكَ يا بَديعَ السَّمواتِ وَالْأَرْضِ

أَللَّهُمَّ إِنَّكَ لَسْتَ بِرَبٍّ اسْتَحْدَثْناكَ ، وَلا مَعَكَ إِلهٌ فَيَشْرَكَكَ في رُبُوبِيَّتِكَ ، وَلا مَعَكَ إِلهٌ أَعانَكَ عَلى خَلْقِنا ، أَنْتَ رَبُّنا كَما تَقُولُ وَفَوْقَ ما يَقُولُ الْقائِلُونَ ، أَسْأَلُكَ أَنْ تُصَلِّيَ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ، وَأَنْ تُعْطِيَ مُحَمَّداً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ أَفْضَلَ ما سَأَلَكَ ، وَأَفْضَلَ ما سُئِلْتَ ، وَأَفْضَلَ ما أَنْتَ مَسْؤُولٌ لَهُ إِلى يَوْمِ الْقِيامَةِ

اُعيذُ أَهْلَ بَيْتِ النَّبِيِّ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَنَفْسي وَديني وَذُرِّيَّتي وَمالي وَوَلَدي وَأَهْلي وَقَراباتي وَأَهْلَ بَيْتي وَكُلَّ ذي رَحِمٍ لي دَخَلَ فِي الْإِسْلامِ ، أَوْ يَدْخُلُ إِلى يَوْمِ الْقِيامَةِ ، وَحُزانَتي وَخاصَّتي ، وَمَنْ قَلَّدَني دُعاءً أَوْ أَسْدى إِلَيَّ يَداً ، أَوْ رَدَّ عَنّي غَيْبَةً ، أَوْ قالَ فِيَّ خَيْراً ، أَوِ اتَّخَذْتُ عِنْدَهُ يَداً أَوْ صَنيعَةً ، وَجيراني وَ إِخْواني مِنَ الْمُؤْمِنينَ وَالْمُؤْمِناتِ بِاللَّهِ وَبِأَسْمائِهِ التَّامَّةِ الْعامَّةِ الشَّامِلَةِ الْكامِلَةِ الطَّاهِرَةِ الْفاضِلَةِ الْمُبارَكَةِ الْمُتَعالِيَةِ الزَّاكِيَةِ الشَّريفَةِ الْمَنيعَةِ الْكَريمَةِ الْعَظيمَةِ الْمَخْزُونَةِ الْمَكْنُونَةِ الَّتي لايُجاوِزُهُنَّ بَرٌّ وَلا فاجِرٌ ، وَبِاُمِّ الْكِتابِ وَخاتِمَتِهِ ، وَما بَيْنَهُما مِنْ سُورَةٍ شَريفَةٍ ، وَآيَةٍ مُحْكَمَةٍ ، وَشِفاءٍ وَرَحْمَةٍ ، وَعَوْذَةٍ وَبَرَكَةٍ ، وَبِالتَّوْريةِ وَالْإِنْجيلِ وَالزَّبُورِ وَالْفُرْقانِ وَصُحُفِ إِبْراهيمَ وَمُوسى ، وَبِكُلِّ كِتابٍ أَنْزَلَهُ اللَّهُ ، وَبِكُلِّ رَسُولٍ أَرْسَلَهُ اللَّهُ ، وَبِكُلِّ حُجَّةٍ أَقامَهَا اللَّهُ ، وَبِكُلِّ بُرْهانٍ أَظْهَرَهُ اللَّهُ ، وَبِكُلِّ نُورٍ أَنارَهُ اللَّهُ ، وَبِكُلِّ آلاءِ اللَّهِ وَعَظَمَتِهِ

اُعيذُ وَأَسْتَعيذُ مِنْ شَرِّ كُلِّ ذِي شَرٍّ ، وَمِنْ شَرِّ ما أَخافُ وَأَحْذَرُ ، وَمِنْ شَرِّ ما رَبّي مِنْهُ أَكْبَرُ ، وَمِنْ شَرِّ فَسَقَةِ الْعَرَبِ وَالْعَجَمِ ، وَمِنْ شَرِّ فَسَقَةِ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ ، وَالشَّياطينِ وَالسَّلاطينِ ، وَإِبْليسَ وَجُنُودِهِ وَأَشْياعِهِ وَأَتْباعِهِ ، وَمِنْ شَرِّ ما فِي النُّورِ وَالظُّلْمَةِ ، وَمِنْ شَرِّ ما دَهَمَ أَوْ هَجَمَ أَوْ أَلَمَّ ، وَمِنْ شَرِّ كُلِّ غَمٍّ وَهَمٍّ وَآفَةٍ وَنَدَمٍ وَنازِلَةٍ وَسَقَمٍ

وَمِنْ شَرِّ ما يَحْدُثُ فِي اللَّيْلِ وَالنَّهارِ وَتَأْتي بِهِ الْأَقْدارُ ، وَمِنْ شَرِّ ما فِي النَّارِ ، وَمِنْ شَرِّ ما فِي الْأَرَضينَ وَالْأَقْطارِ وَالْفَلَواتِ وَالْقِفارِ وَالْبِحارِ وَالْأَنْهارِ ، وَمِنْ شَرِّ الْفُسَّاقِ وَالْفُجَّارِ وَالْكُهَّانِ وَالسُّحَّارِ وَالْحُسَّادِ وَالذُّعَّارِ وَالْأَشْرارِ ، وَمِنْ شَرِّ ما يَلِجُ فِي الْأَرْضِ ، وَما يَخْرُجُ مِنْها ، وَما يَنْزِلُ مِنَ السَّماءِ ، وَما يَعْرُجُ إِلَيْها ، وَمِنْ شَرِّ كُلِّ ذي شَرٍّ ، وَمِنْ شَرِّ كُلِّ دابَّةٍ رَبّي آخِذٌ بِناصِيَتِها ، إِنَّ رَبّي عَلى صِراطٍ مُسْتَقيمٍ ، فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ حَسْبِيَ اللَّهُ ، لا إِلهَ إِلّا هُوَ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ ، وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظيمِ

وَأَعُوذُ بِكَ اللَّهُمَّ مِنَ الْهَمِّ وَالْغَمِّ وَالْحُزْنِ ، وَالْعَجْزِ وَالْكَسَلِ ، وَالْجُبْنِ وَالْبُخْلِ ، وَمِنْ ضَلَعِ الدَّيْنِ وَغَلَبَةِ الرِّجالِ ، وَمِنْ عَمَلٍ لايَنْفَعُ ، وَمِنْ عَيْنٍ لاتَدْمَعُ ، وَمِنْ قَلْبٍ لايَخْشَعُ ، وَمِنْ دُعاءٍ لايُسْمَعُ ، وَمِنْ نَصيحَةٍ لاتَنْجَعُ ، وَمِنْ صَحابَةٍ لاتَرْدَعُ ، وَمِنْ إِجْماعٍ عَلى نُكْرٍ وَتَوَدُّدٍ عَلى خُسْرٍ أَوْ تَؤاخُذٍ عَلى خُبْثٍ ، وَمِمَّا اسْتَعاذَ مِنْهُ مَلائِكَتُكَ الْمُقَرَّبُونَ وَالْأَنْبِياءُ الْمُرْسَلُونَ ، وَالْأَئِمَّةُ الْمُطَهَّرُونَ ، وَالشُّهَداءُ وَالصَّالِحُونَ ، وَعِبادُكَ الْمُتَّقُونَ

وَأَسْأَلُكَ اللَّهُمَّ أَنْ تُصَلِّيَ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ، وَأَنْ تُعْطِيَني مِنَ الْخَيْرِ ما سَأَلُوا ، وَأَنْ تُعيذَني مِنْ شَرِّ مَا اسْتَعاذُوا ، وَأَسْأَلُكَ اللَّهُمَّ مِنَ الْخَيْرِ كُلِّهِ عاجِلِهِ وآجِلِهِ ما عَلِمْتُ مِنْهُ وَما لَمْ أَعْلَمْ ، وَأَعُوذُ بِكَ رَبِّ مِنْ هَمَزاتِ الشَّياطينِ ، وَأَعُوذُ بِكَ رَبِّ أَنْ يَحْضُرُونِ

بِسْمِ اللَّهِ عَلى أَهْلِ بَيْتِ النَّبِيِّ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ ، بِسْمِ اللَّهِ عَلى نَفْسي وَديني ، بِسْمِ اللَّهِ عَلى أَهْلي وَمالي ، بِسْمِ اللَّهِ عَلى كُلِّ شَيْ‏ءٍ أَعْطاني رَبّي ، بِسْمِ اللَّهِ عَلى أَحِبَّتي وَوَلَدي وَقَراباتي ، بِسْمِ اللَّهِ عَلى جيراني وَ إِخْواني ، وَمَنْ قَلَّدَني دُعاءً ، أَوِ اتَّخَذَ عِنْدي يَداً ، أَوِ ابْتَدَءَ إِلَيَّ بِرّاً مِنَ الْمُؤْمِنينَ وَالْمُؤْمِناتِ ، بِسْمِ اللَّهِ عَلى ما رَزَقَني رَبّي وَيَرْزُقُني ، بِسْمِ اللَّهِ الَّذي لايَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْ‏ءٌ فِي الْأَرْضِ وَلا فِي السَّماءِ وَهُوَ السَّميعُ الْعَليمُ

أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَصِلْني بِجَميعِ ما سَأَلَكَ عِبادُكَ الْمُؤْمِنُونَ ، أَنْ تَصِلَهُمْ بِهِ مِنَ الْخَيْرِ ، وَاصْرِفْ عَنّي جَميعَ ما سَأَلَكَ عِبادُكَ الْمُؤْمِنُونَ ، أَنْ تَصْرِفَهُ عَنْهُمْ مِنَ السُّوءِ وَالرَّدى ، وَزِدْني مِنْ فَضْلِكَ ما أَنْتَ أَهْلُهُ وَوَلِيُّهُ ، يا أَرْحَمَ الرَّاحِمينَ

أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَأَهْلِ بَيْتِهِ الطَّيِّبينَ ، وَعَجِّلِ اللَّهُمَّ فَرَجَهُمْ وَفَرَجي وَفَرِّجْ عَنْ كُلِّ مَهْمُومٍ مِنَ الْمُؤْمِنينَ وَالْمُؤْمِناتِ

أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ، وَارْزُقْني نَصْرَهُمْ ، وَأَشْهِدْني أَيَّامَهُمْ ، وَاجْمَعْ بَيْني وَبَيْنَهُمْ فِي الدُّنْيا وَالْآخِرَةِ ، وَاجْعَلْ مِنْكَ عَلَيْهِمْ واقِيَةً حَتَّى لايُخْلَصَ إِلَيْهِمْ إِلّا بِسَبيلِ خَيْرٍ ، وَعَلَيَّ مَعَهُمْ ، وَعَلى شيعَتِهِمْ وَمُحِبّيهِمْ ، وَعَلى أَوْلِيائِهِمْ ، وَعَلى جَميعِ الْمُؤْمِنينَ وَالْمُؤْمِناتِ ، فَإِنَّكَ عَلى كُلِّ شَيْ‏ءٍ قَديرٌ

بِسْمِ اللَّهِ وَبِاللَّهِ وَمِنَ اللَّهِ وَ إِلَى اللَّهِ ، وَلا غالِبَ إِلّاَ اللَّهُ ، ما شاءَ اللَّهُ ، لا قُوَّةَ إِلّا بِاللَّهِ ، حَسْبِيَ اللَّهُ ، تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ ، وَاُفَوِّضُ أَمْري إِلَى اللَّهِ ، وَأَلْتَجِئُ إِلَى اللَّهِ وَبِاللَّهِ اُحاوِلُ وَاُصاوِلُ وَاُكاثِرُ وَاُفاخِرُ وَأَعْتَزُّ وَأَعْتَصِمُ ، عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَ إِلَيْهِ مَتابُ ، لا إِلهَ إِلّاَ اللَّهُ الْحَيُّ الْقَيُّومُ ، عَدَدَ الثَّرى وَالنُّجُومِ ، وَالْمَلائِكَةِ الصُّفُوفِ لا إِلهَ إِلّاَ اللَّهُ ، وَحْدَهُ لا شَريكَ لَهُ الْعَلِيُّ الْعَظيمُ ، لا إِلهَ إِلّاَ اللَّهُ سُبْحانَكَ إِنّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمينَ

وممّا خرج عن صاحب الزّمان صلوات اللَّه عليه زيادة في هذا الدّعاء (دعاء الحريق) إلى محمّد بن الصّلت القمي :

أَللَّهُمَّ رَبَّ النُّورِ الْعَظيمِ ، وَرَبَّ الْكُرْسِيِّ الرَّفيعِ ، وَرَبَّ الْبَحْرِ الْمَسْجُورِ ، وَمُنْزِلَ التَّوْراةِ وَالْإِنْجيلِ ، وَرَبَّ الظِّلِّ وَالْحَرُورِ ، وَمُنْزِلَ الزَّبُورِ وَالْقُرْآنِ الْعَظيمِ ، وَرَبَّ الْمَلائِكَةِ الْمُقَرَّبينَ وَالْأَنْبِياءِ الْمُرْسَلينَ.

أَنْتَ إِلهُ مَنْ فِي السَّماءِ ، وَ إِلهُ مَنْ فِي الْأَرْضِ ، لا إِلهَ فيهِما غَيْرُكَ ، وَأَنْتَ جَبَّارُ مَنْ فِي السَّماءِ ، وَجَبَّارُ مَنْ فِي الْأَرْضِ ، لا جَبَّارَ فيهِما غَيْرُكَ ، وَأَنْتَ خالِقُ مَنْ فِى السَّماءِ ، وَخالِقُ مَنْ فِي الْأَرْضِ ، لا خالِقَ فيهِما غَيْرُكَ ، وَأَنْتَ حَكَمُ مَنْ فِي السَّماءِ ، وَحَكَمُ مَنْ فِي الْأَرْضِ ، لا حَكَمَ فيهِما غَيْرُكَ.

أَللَّهُمَّ إِنّي أَسْأَلُكَ بِوَجْهِكَ الْكَريمِ ، وَبِنُورِ وَجْهِكَ الْمُنيرِ ، وَمُلْكِكَ الْقَديمِ ، يا حَيُّ يا قَيُّومُ ، أَسْأَلُكَ بِاسْمِكَ الَّذي أَشْرَقَتْ بِهِ السَّماواتُ وَالْأَرَضُونَ ، وَبِاسْمِكَ الَّذي يَصْلُحُ بِهِ الْأَوَّلُونَ وَالْآخِرُونَ ، يا حَيّاً قَبْلَ كُلِّ حَيٍّ ، وَيا حَيّاً بَعْدَ كُلِّ حَيٍّ ، وَيا حَيّاً حينَ لا حَيَّ ، وَيا مُحْيِيَ الْمَوْتى ، وَيا حَيُّ لا إِلهَ إِلّا أَنْتَ ، يا حَيُّ يا قَيُّومُ.

أَسْأَلُكَ أَنْ تُصَلِّيَ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ، وَارْزُقْني مِنْ حَيْثُ أَحْتَسِبُ وَمِنْ حَيْثُ لا أَحْتَسِبُ رِزْقاً واسِعاً حَلالاً طَيِّباً ، وَأَنْ تُفَرِّجَ عَنِّي كُلَّ غَمٍّ وَهَمٍّ ، وَأَنْ تُعْطِيَني ما أَرْجُوهُ وَآمُلُهُ ، إِنَّكَ عَلى كُلِّ شَيْ‏ءٍ قَديرٌ.

۔ امام صادق کی دعاء الحاح آخری حجت سے منقول

ابو نعیم انصاری کہتاہے کہ مسجد الحرام میں تھا چند آدمی عمرہ کے لئے آئے ہوئے تھے ان میں سے ایک محمودی علّان کلینی ابو حیشم دیناری ابوجعفر احوال ہمدانی حجر اسود کے قریب کھڑے تھے تقریباً تین آدمی تھے اور ان کے درمیان میں جہاں تک میں جانتاہوں کہ محمد بن قاسم عقیقی کے علاوہ کوئی اور مخلص شخص نہیں تھا اس دن چھ ذوالحجہ سال ۲۹۳ تھا جیسے ہی ہم کھڑے تھے کہ اچانک ایک جوان طواف کعبہ مکمل کرنے کے بعد ہماری طرف آیا وہ احرام کے دو لباس پہنے ہوئے تھا اور کفش اس کے ہاتھ میں تھے جب ان کو دیکھا تو اس کی ہیبت اور متانت کو دیکھ کر ہم سب کھڑے ہوگئے اور اس کو سلام کیا وہ بیٹھا اور دائیں بائیں دیکھتا تھا اس وقت فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ حضرت صادق نے دعائے الحاح میں کیا فرمایا ہے ہم نے کہا کیا کہا ہے فرمایا کہ فرماتے تھے:

اللهم انی اسالک باسمک الذی به تقوم السماء و به تقوم الارض و به تفرق بین الحق والباطل و به تجمع بین المتفرق و به تفرق بین المجتمع و به احصیت عدد الرمال و زنه الجبال وکیل البحار ان تصلی علی محمد و آل محمد و ان تجعل لی من امری فرجاً و مخرجاً

جنة الواقیہ میں لکھتے ہیں کہ اس دعا کو ہر مشکل وقت میں صبح کے وقت پڑھے۔

ہر واجب نماز کے بعد آخری حجت سے منقول

ابو نعیم کہتاہے اس وقت حضرت اٹھا اور کعبہ کا طواف کرنے لگا ہم بھی اُٹھے اور ہم نے فراموش کیا کہ پوچھے کہ یہ کیا ہے وہ کون ہے کل اسی وقت اسی جگہ پر طواف سے باہر آیا اور ہم بھی کل کی طرف اتھے اس کے بعد جمعیت کے درمیان بیٹھیا ور دائیں بائیں دیکھا اور فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ حضرت امیرالمومنین واجب نماز کے بعد کیا دعا پڑھتے تھے ہم نے کہا وہ کیا پڑھتے ہیں فرمایا پڑھتا تھا

أَللَّهُمَّ إِلَيْكَ رُفِعَتِ الْأَصْواتُ ، ] وَدُعِيَتِ الدَّعَواتُ [ ، وَلَكَ عَنَتِ الْوُجُوهُ ، وَلَكَ خَضَعَتِ الرِّقابُ ، وَإِلَيْكَ التَّحاكُمُ فِي الْأَعْمالِ ، يا خَيْرَ مَسْؤُولٍ وَخَيْرَ مَنْ أَعْطى ، يا صادِقُ يا بارِئُ ، يا مَنْ لايُخْلِفُ الْميعادَ ، يا مَنْ أَمَرَ بِالدُّعاءِ وَتَكَفَّلَ بِالْإِجابَةِ.

يا مَنْ قالَ «اُدْعُوني أَسْتَجِبْ لَكُمْ » ، يا مَنْ قالَ «وَ إِذا سَأَلَكَ عِبادي عَنّي فَإِنّي قَريبٌ اُجيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذا دَعانِ فَلْيَسْتَجيبُوا لي وَلْيُؤْمِنُوا بي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ » ، يا مَنْ قالَ «يا عِبادِيَ الَّذينَ أَسْرَفُوا عَلى أَنْفُسِهِمْ لاتَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَميعاً إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحيمُ » وفي البحار:

لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، ها أَنَا ذا بَيْنَ يَدَيْكَ، اَلْمُسْرِفُ عَلى نَفْسي، وَأَنْتَ الْقائِلُ «لاتَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَميعاً ».

۶ ۔ دعاء حضرت امیرالمومنین سجدہ شکر میں آخری حجت سے منقول

اس وقت حضرت نے اس دعا کے بعد دائیں اور بائیں دیکھا اور فرمایا کیا تم جانتے ہو حضرت امیرالمومنین نے سجدہ شکر میں کیا پڑھتے تھے میں نے عرض کیا کہ کیا پڑھتے تھے فرمایا پڑھتے تھے۔

يا مَنْ لا يَزيدُهُ إِلْحاحُ الْمُلِحّينَ إِلّا جُوداً وَكَرَماً ، يا مَنْ لَهُ خَزائِنُ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ ، يا مَنْ لَهُ خَزائِنُ ما دَقَّ وَجَلَّ ، لاتَمْنَعُكَ إِساءَتي مِنْ إِحْسانِكَ إِلَيَّ.

إِنّي أَسْأَلُكَ أَنْ تَفْعَلَ بي ما أَنْتَ أَهْلُهُ ، وَأَنْتَ أَهْلُ الْجُودِ وَالْكَرَمِ وَالْعَفْوِ يا رَبَّاهُ يا اَللَّهُ ، إِفْعَلْ بي ما أَنْتَ أَهْلُهُ ، فَأَنْتَ قادِرٌ عَلَى الْعُقُوبَةِ وَقَدِ اسْتَحْقَقْتُها ، لا حُجَّةَ لي ، وَلا عُذْرَ لي عِنْدَكَ.

أَبُوءُ إِلَيْكَ بِذُنُوبي كُلِّها ، وَأَعْتَرِفُ بِها كَيْ تَعْفُوَ عَنّي ، وَأَنْتَ أَعْلَمُ بِها مِنّي ، بُؤْتُ إِلَيْكَ بِكُلِّ ذَنْبٍ أَذْنَبْتُهُ ، وَبِكُلِّ خَطيئَةٍ أَخْطَأْتُها ، وَبِكُلِّ سَيِّئَةٍ عَمِلْتُها، يا رَبِّ اغْفِرْ لي وَارْحَمْ وَتَجاوَزْ عَمَّا تَعْلَمُ إِنَّكَ أَنْتَ الْأَعَزُّ الْأَكْرَمُ.

۔ امام سجّاد کا سجدہ کی دعا مسجد الحرام میں آخری حجت سے منقول

ابو نعیم کہتاہے دوسرے دن اسی وقت حضرت تشریف لے آئے اور ہم نے پہلے دن کی طرح ان کا استقبال کیا اور وہ درمیان میں بیٹھے بائیں دائیں توجہ کی اور فرمایا حضرت علی بن الحسین سید العابدین نے اس مکان میں اپنے ہاتھ سے حجر الاسود کے پرنالہ کی طرف اشارہ کیا اور سجدہ میں اس طرح فرماتے تھے عبیدک بفنائک (وق فقیرک بفنائک) مسکینک ببابک اسالک مالا یقدر علیہ سواک پس اس کے بعد حضرت نے بائیں اور دائیں طرف نگاہ کی اور محمد بن قاسم علوی کو دیکھا اور فرمایا اے محمد بن قاسم! انشاء اللہ تو خیر اور نیکی پڑھے اس کے بعد اٹھا اور طواف میں مشغول ہوا جو دعائیں بھی ہمیں یاد کرائی سب کو یاد کیا اور فراموش کیا کہ اس کے بارے میں کوئی بات کرلوں سوائے آخری دن کے جب آخر روز ہوا محمد نے ہم سے کہا رفقا تم جانتے ہو کہ یہ کون ہے ہم نے کہا کہ نہیں کہا خدا کی قسم وہ صاحب الزمان ہے ہم نے کہا اے ابو علی وہ کس طرح ہے کہا تقریباً سات سال کا تھا کہ میں دعا کرتا تھا اور خداوند متعال سے چاہا کہ آخری حجت ہمیں دکھادے۔ شب عرفہ اسی شخص کو دیکھا وہ دعا پڑھ رہا تھا میں غور سے دعا کو حفظ کیا اور اس سے پوچھا کہ تم کون ہو فرمایا میں مردوں میں سے ہوں فرمایا کن لوگوں میں سے عرب ہو یا عجم؟ فرمایا کہ عرب ہوں میں نے کہا کہ عرب کے کس قبیلہ سے تعلق رکھتے ہو فرمایا ان میں سے شریف ترین عرب سے ہوں کس قبیلہ سے تعلق رکھتے ہو فرمایا بنی ہاشم سے میں نے کہا کہ بنی ہاشم میں سے کس سے تعلق رکھتے ہو فرمایا سب سے بلند ترین میں سے ہوں میں نے کہا کہ کس سے تعلق رکھتے ہو فرمایا کہ جس نے کفار کے سروں کو شگافتہ کیا اور لوگوں کو کھانا کھلا دیا اور نماز پڑھی حالانکہ لوگ سوئے ہوئے تھے میں نے سمجھا کہ وہ علوی ہے علوی ہونے کی وجہ سے اس کو دوست رکھتا ہوں پس اس کے بعد میرے سامنے سے غائب ہوئے اور میں ان کو گم کردیا ہمیں پتہ نہیں چلا کہ کہاں گئے آسمان میں چلے گئے یا زمین میں میرے اطراف میں جو تھے ان سے پوچھا اس سید علوی کو جانتے ہو انہوں نے کہا کہ کیوں نہیں وہ ہر سال ہمارے ساتھ پیادہ مکہ آتاہے۔ میں نے کہا سبھان اللہ خدا کی قسم میں نے اس کے پیادہ آنے کے آچار نہیں دیکھا اس کی جدائی کے غم نے میرے بدن کو گھیر لیا ہے اسی حالت میں مزد لفہ کی طرف چل پڑا رات کو وہیں پر سویا عالم خواب میں رسول خدا کو دیکھا فرمایا اے محمد جو کچھ تم چاہتے تھے اس کو دیکھ لیا میں نے عرض کیا اے میرے آقا وہ کون تھا فرمایا جس شخص کو تم نے کل دیکھا تھا وہ تیرا امام زمان تھا۔

دعائے عبرات کا واقعہ

آیة اللہ علامہ حلی کتاب منھاج الصلاح کے آخری میں دعائے عبرات کے بارے میں کہتے ہیں یہ معروف دعا ہے کہ جو امام صادق سے روایت ہوئی ہے یہ دعا سید بزرگوار راضی الدین محمد بن محمد کی جانب سے ہے اس میں ایک معروف حکایت ہے اسی کتاب کے ھاشیہ پر فضلاء میں سے کسی ایک کے خط کے ساتھ لکھا گیا ہے مولا سعید فخر الدین محمد فرزند شیخ بزرگوار جمال الدین نے اپنے باپ سے اس نے جد یوسف سے اس نے رضی مذکور سے نقل کیا ہے اور کہتاہے: سید رضی الدین جرماغنون کے امراء میں سے کسی ایک کے ہاتھ میں کافی مدت تک اسیر تھے اس کے ساتھ سختی سے پیش آتے تھے کھانے اور پینے میں تنگ کرتے تھے ایک رات امام زمانہ کو خواب میں دیکھتاہے اور گریہ کرتاہے اور کہتاہے اے میرے مولا ان ظالموں کے ہاتھ سے رہائی کے لئے شفاعت کریں حضرت نے فرمایا دعائے عبرات پڑھ لیں کہا کہ دعائے عبرات کونسی ہے فرماتے ہیں وہ دعا آپکی کتاب مصباح میں لکھی ہوئی ہے کہتاہے میرے مولا مصباح میں ایسی دعا نہیں ہے فرمایا دیکھ لیں مل جائی گی سید خواب سے بیدار ہوا اور نماز صبح پڑھی کتاب مصباح میں تلاش کیا ورقوں کے درمیان اس دعا کو دیکھا اس دعا کو چالیس مرتبہ پڑھا دوسری طرف جرماغون کے امیر کی دو بیویاں تھیں ان میں سے ایک عاقل و باتدبیر عورت تھی کہ وہ اپنے کاموں میں ان سے مشاورت کرتے تھے امیر کو اس عورت پر بہت زیادہ اعتماد تھا ایک دن اس کی باری تھی امیر اس کے گھر میں آیا اس کی بیوی نے کہا کیا حضرت امیرالمومنین کی اولاد میں کسی کو گرفتار کیا گیاہے وہ کہنے لگا کہ تم کس لئے مجھ سے پوچھتی ہو عورت کہنتے لگی میں نے ایک شخص کو دیکھا کہ جو سورج کی طرح درخشان تھا اس کو عالم خواب میں دیکھا اس نے اپنے دونوں انگلیوں کے ساتھ میرا گلا گھونٹا اور فرمایا کہ تمہارے شوہر نے میرے فرزند کو گرفتار کیا ہے اس نے اس کو کھانے اور پینے میں تنگ کیا ہے میں نے عرض کیا میرے آقا آپ کون ہیں فرمایا میں علی بن ابی طالب ہوں اور اپنے شوہر سے کہٰن اگر میرے فرزند کو رہا نہ کیا تو اس کے گھر کو خراب کروں گا جب یہ خبر بادشاہ کے کان میں پہنچی اس نے معلوم نہ ہونے کا اظہار کیا اس نے امیروں اور نائبوں کو طلب کیا اور کہا تمہارے پاس کون قید ہے انہوں نے کہا ایک بوڑھا علوی مرد ہے آپ نے خود گرفتاری کا حکم دیا ہے کہا اس کو چھوڑ دو اور سواری کے لئے اس کو گھوڑا دیدو اور اس کو راستہ بتادو تا کہ وہ اپنے گھر چلا جائے۔

سید بزرگوار علی بن طاوؤس مجھے الدعوات کے آخر میں کہتے ہیں کہ میرا دوست اور میرا بھائی محمد بن محمد قاضی نے اس دعا کے بارے میں تعجب آور اور حیرت انگیز واقعہ میرے لئے نقل کیا ہے اور ہو یہ کہ ایک واقعہ میرے لئے پیش آیا اور اس دعا کو اوراق کے درمیان سے نکالا حالانکہ اس سے پہلے یہ اوراق کتاب کے درمیان نہیں رکھے تھے۔ چونکہ اس سے نسخہ اٹھا لیتاہے اور اصلی دعا گم ہوجاتی ہے۔

دعائے عبرات

دعائے عبرات کو جو نسخہ مرحوم شیخ کفعمی نے ذکر کیا ہے اس کو ذکر کرتاہوں جناب شیخ البلد الامین میں کہتے ہیں کہ دعائے عبرات بہت عظیم دعا ہے یہ حضرت حجت سے روایت ہوئی ہے اور یہ دعا مہم امور اور بہت بڑی مشکلات میں پڑھی جاتی ہے اور وہ دعا یہ ہے۔

بسم الله الرّحمن الرّحیم اللّهمّ إنّی أسألک یا راحم العبرات و یا کاشف الکربات أنت الّذی تقشع سحائب المحن و قد أمست ثقالاً و تجلو ضباب الإحن و قد سحبت أذیالاً و تجعل زرعها هشیماً و عظامها رمیماً و تردّ المغلوب غالباً والمطلوب طالباً إلهی فکم من عبدٍ ناداک أنّی مغلوبٌ فانتصر ففتحت له من نصرک أبواب السّماء بماءٍ منهمرٍ و فجّرت له من عونک عیوناً فالتقی ماء فرجه علی أمرِ قدر و حملته من کفایتک علی ذات ألواحٍ و دسرٍ یا ربّ إنّی مغلوبٌ فانتصر یا ربّ إنّی مغلوبٌ فانتصر یا ربّ إنّی مغلوبٌ فانتصر فصلّ علی محمّد و آل محمّد وافتح لی من نصرک أبواب السّماء بماءٍ منهمرِ و فجّر لی من عونک عیوناً لیلتقی ماء فرجی علی أمرٍ قد قدر واحملنی یا ربّ من کفایتک علی ذات ألواحٍ و دسرٍ یا من إذا ولج العبد فی لیلٍ من حیرته یهیم فلم یجد له صریخاً یصرخه من ولیٍّ و لا حمیمٍ صلّ محمّد و آل محمّد و جد یا ربّ من معونتک صریخاً معیناً و ولیّاً یطلبه حثیثاً ینجّیه من ضیق أمره و حرجه و یظهر له المهمّ من أعلام فرجه اللّهمّ فیا من قدرته قاهرة و آیاته باهرةٌ و نقماته فاصمةٌ لکلّ جبارٍ دامغةٌ لکلّ کفورٍ ختّارٍ صلّ یا ربّ علی محمّد و آل محمّد وانظر إلیّ یا ربّ نظرةً من نظراتک رحیمةً تجلو بها عنّی ظلمةً واقفةً مقیمةً من عاهةً جفّت منها الضّروع و قلفت منها الزّروع واشتمل بها علی القلوب الیأس و جرت بسببها الأنفاس اللّهمّ صلّ علی محمّد و آل محمّد و حفظاً حفظاً لغرائس غرستها ید الرّحمن و شرّبها من ماء الحیوان أن تکون بید الشّیطان تجزّ و بفأسه تقطع و تحزّ إلهی من أولی منک أن یکون عن حماک حارساً و مانعاً إلهی إنّ الأمر قد هال فهوّنه و خشن فألنه و إنّ القلوب کاعت فطنّها والنّفوس ارتاعت فسکّنها إلهی تدارک أقداماً قد زلّت و أفهاماً فی مهامه الحیرة ضلّت أجحف الضّرّ بالمضرور فی داعیة الویل والثّبور فهل یحسن من فضلک أن تجعله فریسةً للبلاء و هو لک راجٍ أم هل یحمل من عدلک أن یخوض لجّة الغمّاء و هو إلیک لاجٍ مولای لئن کنت لا أشقّ علی نفسی فی التّقی و لا أبلغ فی حمل أعباء الطّاعة مبلغ الرّضا و لا أنتظم فی سلک قومٍ رفضوا الدّنیا فهم خمص البطون عمش العیون من البکاء بل أتیتک یا ربّ بضعفٍ من العمل و ظهرٍ ثقیلٍ بالخطاء والزّلل و نفسٍ للرّاحة معتادةٍ و لدواعی التّسویف منقادةٍ أما یکفیک یا ربّ وسیلةً إلیک و ذریعةً لدیک أنّی لأولیائک موالٍ و فی محبّتک مغالٍ أما یکفینی أن أرواح فیهم مظلوماً و أغدو مکظوماً و أقضی بعد همومٍ و بعد رجومٍ رجوماً أما عندک یا ربّ بهذه حرمةٌ لا تضیّع و ذمّةٌ بأدناها یقتنع فلم لا یمنعنی یا ربّ وها أنا ذا غریقٌ و تدعنی بنار عدوّک حریقٌ أتجعل أولیاءک لأعدائک مصائد و تقلّدهم من خسفهم قلائد و أنت مالک نفوسهم لو قبضتها جمدوا و فی قبضتک موادّ أنفاسهم لو قطعتها خمدوا و ما یمنعک یا ربّ أن تکفّ بأسهم و تنزع عنهم من حفظک لباسهم و تعریهم من سلامةٍ بها فی أرضک یسرحون و فی میدان البغی علی عبادک یمرحون اللّهمّ صلّ علی محمّد و آل محمّد و أدرکنی و لمّا یدرکنی الغرق و تدارکنی و لمّا غیّب شمسی للشّفق إلهی کم من خائف التجأ إلی سلطانٍ فآب عنه محفوفاً بأمنٍ و أمانٍ أ فأقصد یا ربّ بأعظم من سلطانک سلطاناً أم أوسع من إحسانک إحساناً أم أکثر من اقتدارک اقتداراً أم أکرم من انتصارک انتصاراً اللّهمّ أین کفایتک الّتی هی نصرة المستغیثین من الأنام و أین عنیتک الّتی هی جنّة المستهدفین لجور الأیّام إلیّ إلیّ بها یا ربّ نجّنی من القوم الظّالمین إنّی مسّنی الضّرّ و أنت أرحم الرّاحمین مولای تری تحیّری فی أمری و تقلّبی فی ضرّی و انطوای علی حرقة قلبی و حرارة صدری فصلّ یا ربّ علی محمّد و آل محمّد و جدلی یا ربّ بما أنت أهله فرجاً و مخرجاً و یسّرلی یا ربّ نحو الیسری منهجاً واجعل لی یا ربّ من نصب حبالاً لی لیصرعنی بها صریع ما مکره و من حفرلی البئر لیوقعنی فیها واقعاً فیما حفره و اصرف اللّهمّ عنّی شرّه و مکره و فساده و ضرّه ما تصرفه عمّن قاد نفسه لدین الدّیّان و منادٍ ینادی للأیمان إلهی عبدک عبدک أجب دعوته و ضعیفک ضعیفک فرّج غمّته فقد انقطع کلّ حبلٍ إلّا حبلک و تقلّص کلّ ظلٍّ إلّا ظلّک مولای دعوتی هذه إن رددتها أین تصادف موضع الإجابة و یجعلنی [مخلیلتی] إن کذّبتها أین تلاقی موضع الإجابة فلا تردّ عن بابک من لا یعرف غیره باباً و لا یمتنع دون جنابک من لا یعرف سواه جناباً و یسجد و یقول إلهی أنّ وجهاً إلیک برغبته توجّه فالرّاغب خلیقٌ بأن تجیبه و إنّ جبیناً لک بابتهاله سجد حقیقٌ أن یبلغ ما قصد و إنّ خدّاً إلیک بمسألته یعفّر جدیرٌ بأن یفوز بمراده و یظفر و ها أنا ذا یا إلهی قد تری تعفیر خدّی و ابتهالی و اجتهادی فی مسألتک و جدّی فتلقّ یا ربّ رغباتی برأفتک قبولاً و سهّل إلیّ طلباتی برأفتک وصولاً و ذلّل لی قطوف ثمرات إجابتک تذلیلاً إلهی لا رکن أشدّ منک ف آوی إلی رکنٍ شدیدٍ و قد أویت إلیک و عوّلت فی قضاء حوائجی علیک و لا قول أسدّ من دعائک فأستظهر بقولٍ سدیدٍ و قد دعوتک کما أمرت فاستجب لی بفضلک کما وعدت فهل بقی یا ربّ إلّا أن تجیب و ترحم منّی البکاء و النّحیب یا من لا إله سواه و یا من یجیب المضطرّ أذا دعاه ربّ انصرنی علی القوم الظّالمین وافتح لی و أنت خیر الفاتحین و الطف بی یا ربّ و بجمیع المؤمنین و المؤمنات برحمتک یا أرحم الرّاحمین

باب دہم

وہ دعائیں کہ جو حضرت حجت نے اپنے آباء و اجداد سے نقل کی ہے

حضرت امیر المومنین کی دعا سختیوں کے موقع پر

سید بزرگوار علی بن طاوؤس نے حضرت امیرالمومنین علی سے ایک دعا نقل کیا ہے کہ سختیوں اور مشکلات کو دور کرنے کے لئے پڑھی جاتی ہے اور اس کی سند کو ذکر نہیں کیا گیا ہے لیکن علامہ مجلسی کہتے ہیں کہ اس دعا کے لئے ہمارے پاس عالی سند اور تعجب انگیز ہے چونکہ اس دعا کو واسطہ کے بغیر اپنے باپ سے اس نے بعض صالحین سے انہوں نے ہمارے مولیٰ حضرت حجت سے روایت کی ہے میں اس روایت کو بیان کرتاہوں۔

أَللَّهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ الْحَقُّ الَّذي لا إِلهَ إِلّا أَنْتَ وَأَنَا عَبْدُكَ ، ظَلَمْتُ نَفْسي وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبي ، فَاغْفِرْ لِيَ الذُّنُوبَ لا إِلهَ إِلّا أَنْتَ يا غَفُورُ.

أَللَّهُمَّ إِنّي أَحْمَدُكَ وَأَنْتَ لِلْحَمْدِ أَهْلٌ ، عَلى ما خَصَصْتَني بِهِ مِنْ مَواهِبِ الرَّغائِبِ ، وَوَصَلَ إِلَيَّ مِنْ فَضائِلِ الصَّنايِعِ ، وَعَلى ما أَوْلَيْتَني بِهِ ، وَتَوَلَّيْتَني بِهِ مِنْ رِضْوانِكَ ، وَأَنَلْتَني مِنْ مَنِّكَ الْواصِلِ إِلَيَّ ، وَمِنَ الدِّفاعِ عَنّي ، وَالتَّوْفيقِ لي ، وَالْإِجابَةِ لِدُعائي ، حَتَّى اُناجيكَ راغِباً ، وَأَدْعُوكَ مُصافِياً ، وَحتَّى أَرْجُوكَ فَأَجِدُكَ فِي الْمَواطِنِ كُلِّها لي جابِراً ، وَفي اُمُوري ناظِراً ، وَلِذُنُوبي غافِراً ، وَلِعَوْراتي ساتِراً ، لَمْ أَعْدِمْ خَيْرَكَ طَرْفَةَ عَيْنٍ مُذْ أَنْزَلْتَني دارَ الْإِخْتِبارِ ، لِتَنْظُرَ ماذا اُقَدِّمُ لِدارِ الْقَرارِ.

فَأَنَا عَتيقُكَ اللَّهُمَّ مِنْ جَميعِ الْمَصائِبِ وَاللَّوازِبِ ، وَالْغُمُومِ الَّتي ساوَرَتْني فيهَا الْهُمُومُ ، بِمَعاريضِ الْقَضاءِ ، وَمَصْرُوفِ جُهْدِ الْبَلاءِ ، لا أَذْكُرُ مِنْكَ إِلّاَ الْجَميلَ ، وَلا أَرى مِنْكَ غَيْرَ التَّفْضيلِ.

خَيْرُكَ لي شامِلٌ ، وَفَضْلُكَ عَلَيَّ مُتَواتِرٌ ، وَنِعَمُكَ عِنْدي مُتَّصِلَةٌ ، سَوابِغُ لَمْ تُحَقِّقْ حِذاري ، بَلْ صَدَّقْتَ رَجائي ، وَصاحَبْتَ أَسْفاري ، وَأَكْرَمْتَ أَحْضاري ، وَشَفَيْتَ أَمْراضي ، وَعافَيْتَ أَوْصابي ، وَأَحْسَنْتَ مُنْقَلَبي وَمَثْوايَ ، وَلَمْ تُشْمِتْ بي أَعْدائي ، وَرَمَيْتَ مَنْ رَماني ، وَكَفَيْتَني شَرَّ مَنْ عاداني.

أَللَّهُمَّ كَمْ مِنْ عَدُوٍّ انْتَضى عَلَيَّ سَيْفَ عَداوَتِهِ ، وَشَحَذَ لِقَتْلي ظُبَةَ مُدْيَتِهِ ، وَأَرْهَفَ لي شَبا حَدِّهِ ، وَدافَ لي قَواتِلَ سُمُومِهِ ، وَسَدَّدَ لي صَوائِبَ سِهامِهِ ، وَأَضْمَرَ أَنْ يَسُومَنِي الْمَكْرُوهَ ، وَيُجَرِّعَني ذُعافَ مَرارَتِهِ ، فَنَظَرْتَ يا إِلهي إِلى ضَعْفي عَنِ احْتِمالِ الْفَوادِحِ ، وَعَجْزي عَنِ الْإِنْتِصارِ مِمَّنْ قَصَدَني بِمُحارَبَتِهِ ، وَوَحْدَتي في كَثيرِ مَنْ ناواني ، وَأَرْصَدَ لي فيما لَمْ أَعْمَلْ فِكْري فِي الْإِنْتِصارِ مِنْ مِثْلِهِ.

فَأَيَّدْتَني يا رَبِّ بِعَوْنِكَ ، وَشَدَدْتَ أَيْدي بِنَصْرِكَ ، ثُمَّ فَلَلْتَ لي حَدَّهُ ، وَصَيَّرْتَهُ بَعْدَ جَمْعِ عَديدِهِ وَحْدَهُ ، وَأَعْلَيْتَ كَعْبي عَلَيْهِ ، وَرَدَدْتَهُ حَسيراً لَمْ تَشْفِ غَليلَهُ ، وَلَمْ تُبَرِّدْ حَزازاتِ غَيْظِهِ ، وَقَدْ غَضَّ عَلَيَّ شَواهُ ، وَآبَ مُوَلِّياً قَدْ أَخْلَفْتَ سَراياهُ ، وَأَخْلَفْتَ آمالَهُ.

أَللَّهُمَّ وَكَمْ مِنْ باغٍ بَغى عَلَيَّ بِمَكائِدِهِ ، وَنَصَبَ لي شَرَكَ مَصائِدِهِ ، وَضَبَأَ إِلَيَّ ضُبُوءَ السَّبُعِ لِطَريدَتِهِ ، وَانْتَهَزَ فُرْصَتَهُ ، وَاللِّحاقَ لِفَريسَتِهِ ، وَهُوَ مُظْهِرٌ بَشاشَةَ الْمَلَقِ ، وَيَبْسُطُ إِلَيَّ وَجْهاً طَلِقاً.

فَلَمَّا رَأَيْتَ يا إِلهي دَغَلَ سَريرَتِهِ ، وَقُبْحَ طَوِيَّتِهِ ، أَنْكَسْتَهُ لِاُمِّ رَأْسِهِ في زُبْيَتِهِ ، وَأَرْكَسْتَهُ في مَهوى حَفيرَتِهِ ، وَأَنْكَصْتَهُ عَلى عَقِبَيْهِ ، وَرَمَيْتَهُ بِحَجَرِهِ ، وَنَكَأْتَهُ بِمِشْقَصِهِ ، وَخَنَقْتَهُ بِوَتَرِهِ ، وَرَدَدْتَ كَيْدَهُ في نَحْرِهِ ، وَرَبَقْتَهُ بِنَدامَتِهِ فَاسْتَخْذَلَ وَتَضاءَلَ بَعْدَ نِخْوَتِهِ ، وَبَخَعَ وَانْقَمَعَ بَعْدَ اسْتِطالَتِهِ ، ذَليلاً مَأْسُوراً في حَبائِلِهِ الَّتي كانَ يُحِبُّ أَنْ يَراني فيها ، وَقَدْ كِدْتُ لَوْلا رَحْمَتُكَ أَنْ يَحِلَّ بي ما حَلَّ بِساحَتِهِ ، فَالْحَمْدُ لِرَبٍّ مُقْتَدِرٍ لايُنازَعُ ، وَلِوَلِيٍّ ذي أَناةٍ لايَعْجَلُ ، وَقَيُّومٍ لايَغْفُلُ ، وَحَليمٍ لايَجْهَلُ.

نادَيْتُكَ يا إِلهي مُسْتَجيراً بِكَ ، واثِقاً بِسُرْعَةِ إِجابَتِكَ ، مُتَوَكِّلاً عَلى ما لَمْ أَزَلْ أَعْرِفُهُ مِنْ حُسْنِ دِفاعِكَ عَنّي ، عالِماً أَنَّهُ لَنْ يُضْطَهَدَ مَنْ آوى إِلى ظِلِّ كِفايَتِكَ ، وَلايَقْرَعُ الْقَوارِعُ مَنْ لَجَأَ إِلى مَعْقِلِ الْإِنْتِصارِ بِكَ ، فَخَلَّصْتَني يا رَبِّ بِقُدْرَتِكَ وَنَجَّيْتَني مِنْ بَأْسِهِ بِتَطَوُّلِكَ وَمَنِّكَ.

أَللَّهُمَّ وَكَمْ مِنْ سَحائِبَ مَكْرُوهٍ جَلَّيْتَها، وَسَماءِ نِعْمَةٍ أَمْطَرْتَها ، وَجَداوِلَ كَرامَةٍ أَجْرَيْتَها ، وَأَعْيُنِ أَحْداثٍ طَمَسْتَها ، وَناشِىِ رَحْمَةٍ نَشَرْتَها ، وَغَواشِيَ كُرَبٍ فَرَّجْتَها ، وَغُمَمِ بَلاءٍ كَشَفْتَها ، وَجُنَّةِ عافِيَةٍ أَلْبَسْتَها ، وَاُمُورٍ حادِثَةٍ قَدَّرْتَها ، لَمْ تُعْجِزْكَ إِذْ طَلَبْتَها ، فَلَمْ تَمْتَنِعْ مِنْكَ إِذْ أَرَدْتَها.

أَللَّهُمَّ وَكَمْ مِنْ حاسِدِ سُوءٍ تَوَلَّني بِحَسَدِهِ ، وَسَلَقَني بِحَدِّ لِسانِهِ ، وَوَخَزَني بِقَرْفِ عَيْبِهِ ، وَجَعَلَ عِرْضي غَرَضاً لِمَراميهِ ، وَقَلَّدَني خِلالاً لَمْ تَزَلْ فيهِ كَفَيْتَني أَمْرَهُ.

أَللَّهُمَّ وَكَمْ مِنْ ظَنٍّ حَسَنٍ حَقَّقْتَ ، وَعُدْمِ إِمْلاقٍ ضَرَّني جَبَرْتَ وَأَوْسَعْتَ ، وَمِنْ صَرْعَةٍ أَقَمْتَ ، وَمِنْ كُرْبَةٍ نَفَّسْتَ ، وَمِنْ مَسْكَنَةٍ حَوَّلْتَ ، وَمِنْ نِعْمَةٍ خَوَّلْتَ ، لاتُسْأَلُ عَمَّا تَفْعَلُ ، وَلا بِما أَعْطَيْتَ تَبْخَلُ ، وَلَقَدْ سُئِلْتَ فَبَذَلْتَ ، وَلَمْ تُسْئَلْ فَابْتَدَأْتَ وَاسْتُميحَ فَضْلُكَ فَما أَكْدَيْتَ ، أَبْيَتَ إِلّا إِنْعاماً وَامْتِناناً وَتَطَوُّلاً ، وَأَبْيَتُ إِلّا تَقَحُّماً عَلى مَعاصيكَ ، وَانْتِهاكاً لِحُرُماتِكَ ، وَتَعَدِّياً لِحُدُودِكَ ، وَغَفْلَةً عَنْ وَعيدِكَ ، وَطاعَةً لِعَدُوّي وَعَدُوِّكَ ، لَمْ تَمْتَنِعْ عَنْ إِتْمامِ إِحْسانِكَ ، وَتَتابُعِ امْتِنانِكَ ، وَلَمْ يَحْجُزْني ذلِكَ عَنِ ارْتِكابِ مَساخِطِكَ.

أَللَّهُمَّ فَهذا مَقامُ الْمُعْتَرِفِ لَكَ بِالتَّقْصيرِ عَنْ أَداءِ حَقِّكَ ، اَلشَّاهِدِ عَلى نَفْسِهِ بِسُبُوغِ نِعْمَتِكَ ، وَحُسْنِ كِفايَتِكَ ، فَهَبْ لِيَ اللَّهُمَّ يا إِلهي ما أَصِلُ بِهِ إِلى رَحْمَتِكَ ، وَأَتَّخِذُهُ سُلَّماً أَعْرُجُ فيهِ إِلى مَرْضاتِكَ ، وَآمَنُ بِهِ مِنْ عِقابِكَ ، فَإِنَّكَ تَفْعَلُ ما تَشاءُ وَتَحْكُمُ ما تُريدُ ، وَأَنْتَ عَلى كُلِّ شَيْ‏ءٍ قَديرٌ.

أَللَّهُمَّ حَمْدي لَكَ مُتَواصِلٌ ، وَثَنائي عَلَيْكَ دائِمٌ ، مِنَ الدَّهْرِ إِلَى الدَّهْرِ بِأَلْوانِ التَّسْبيحِ ، وَفُنُونِ التَّقْديسِ ، خالِصاً لِذِكْرِكَ ، وَمَرْضِيّاً لَكَ بِناصِعِ التَّوْحيدِ ، وَمَحْضِ التَحْميدِ ، وَطُولِ التَّعْديدِ في إِكْذابِ أَهْلِ التَّنْديدِ.

لَمْ تُعَنْ في شَيْ‏ءٍ مِنْ قُدْرَتِكَ ، وَلَمْ تُشارَكْ في إِلهِيَّتِكَ ، وَلَمْ تُعايَنْ إِذْ حَبَسْتَ الْأَشْياءَ عَلَى الْغَرائِزِ الْمُخْتَلِفاتِ ، وَفَطَرْتَ الْخَلائِقَ عَلى صُنُوفِ الْهَيَئاتِ ، وَلا خَرَقَتِ الْأَوْهامُ حُجُبَ الْغُيُوبِ إِلَيْكَ ، فَاعْتَقَدَتْ مِنْكَ مَحْدُوداً في عَظَمَتِكَ ، وَلا كَيْفِيَّةً في أَزَلِيَّتِكَ ، وَلا مُمْكِناً في قِدَمِكَ ، وَلايَبْلُغُكَ بُعْدُ الْهِمَمِ ، وَلايَنالُكَ غَوْصُ الْفِطَنِ ، وَلايَنْتَهي إِلَيْكَ نَظَرُ النَّاظِرينَ في مَجْدِ جَبَرُوتِكَ ، وَعَظيمِ قُدْرَتِكَ.

إِرْتَفَعَتْ عَنْ صِفَةِ الْمَخْلُوقينَ صِفَةُ قُدْرَتِكَ ، وَعَلا عَنْ ذلِكَ كِبْرِياءُ عَظَمَتِكَ ، وَلايَنْتَقِصُ ما أَرَدْتَ أَنْ يَزْدادَ ، وَلايَزْدادُ ما أَرَدْتَ أَنْ يَنْتَقِصَ ، وَلا أَحَدٌ شَهِدَكَ حينَ فَطَرْتَ الْخَلْقَ، وَلا ضِدٌّ حَضَرَكَ حينَ بَرَأْتَ النُّفُوسَ.

كَلَّتِ الْأَلْسُنُ عَنْ تَبْيينِ صِفَتِكَ ، وَانْحَسَرَتِ الْعُقُولُ عَنْ كُنْهِ مَعْرِفَتِكَ ، وَكَيْفَ تُدْرِكُكَ الصِّفاتُ ، أَوْ تَحْويكَ الْجِهاتُ ، وَأَنْتَ الْجَبَّارُ الْقُدُّوسُ الَّذي لَمْ تَزَلْ أَزَلِيّاً دائِماً فِي الْغُيُوبِ وَحْدَكَ ، لَيْسَ فيها غَيْرُكَ ، وَلَمْ يَكُنْ لَها سِواكَ.

حارَتْ في مَلَكُوتِكَ عَميقاتُ مَذاهِبِ التَّفْكيرِ ، وَحَسُرَ عَنْ إِدْراكِكَ بَصَرُ الْبَصيرِ ، وَتَواضَعَتِ الْمُلُوكُ لِهَيْبَتِكَ ، وَعَنَتِ الْوُجُوهُ بِذُلِّ الْإِسْتِكانَةِ لِعِزَّتِكَ ، وَانْقادَ كُلُّ شَيْ‏ءٍ لِعَظَمَتِكَ ، وَاسْتَسْلَمَ كُلُّ شَيْ‏ءٍ لِقُدْرَتِكَ ، وَخَضَعَتِ الرِّقابُ بِسُلْطانِكَ ، فَضَلَّ هُنالِكَ التَّدْبيرُ في تَصاريفِ الصِّفاتِ لَكَ ، فَمَنْ تَفَكَّرَ في ذلِكَ رَجَعَ طَرْفُهُ إِلَيْهِ حَسيراً ، وَعَقْلُهُ مَبْهُوتاً مَبْهُوراً ، وَفِكْرُهُ مُتَحَيِّراً.

أَللَّهُمَّ فَلَكَ الْحَمْدُ حَمْداً مُتَواتِراً مُتَوالِياً مُتَّسِقاً مُسْتَوْثِقاً يَدُومُ وَلايَبيدُ غَيْرَ مَفْقُودٍ فِي الْمَلَكُوتِ ، وَلا مَطْمُوسٍ فِي الْعالَمِ ، وَلامُنْتَقَصٍ فِي الْعِرْفانِ ، فَلَكَ الْحَمْدُ حَمْداً لاتُحْصى مَكارِمُهُ فِي اللَّيْلِ إِذا أَدْبَرَ ، وَفِي الصُّبْحِ إِذا أَسْفَرَ ، وَفِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ ، وَبِالْغُدُوِّ وَالْآصالِ ، وَالْعَشِيِّ وَالْإِبْكارِ ، وَالظَّهيرَةِ وَالْأَسْحارِ.

أَللَّهُمَّ بِتَوْفيقِكَ أَحْضَرْتَنِي النَّجاةَ ، وَجَعَلْتَني مِنْكَ في وَلايَةِ الْعِصْمَةِ ، لَمْ تُكَلِّفْني فَوْقَ طاقَتي إِذْ لَمْ تَرْضَ مِنّي إِلّا بِطاعَتي ، فَلَيْسَ شُكْري وَ إِنْ دَأَبْتُ مِنْهُ فِي الْمَقالِ ، وَبالَغْتُ مِنْهُ فِي الْفِعالِ بِبالِغِ أَداءِ حَقِّكَ ، وَلا مُكافٍ فَضْلَكَ ، لِأَنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ لا إِلهَ إِلّا أَنْتَ ، لَمْ تَغِبْ عَنْكَ غائِبَةٌ ، وَلا تَخْفى عَلَيْكَ خافِيَةٌ ، وَلاتَضِلُّ لَكَ في ظُلَمِ الْخَفِيَّاتِ ضالَّةٌ ، إِنَّما أَمْرُكَ إِذا أَرَدْتَ شَيْئاً أَنْ تَقُولُ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ.

أَللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ مِثْلَ ما حَمِدْتَ بِهِ نَفْسَكَ ، وَحَمِدَكَ بِهِ الْحامِدُونَ ، وَمَجَّدَكَ بِهِ الْمُمَجِّدُونَ ، وَكَبَّرَكَ بِهِ الْمُكَبِّرُونَ ، وَعَظَّمَكَ بِهِ الْمُعَظِّمُونَ ، حَتَّى يَكُونَ لَكَ مِنّي وَحْدي في كُلِّ طَرْفَةِ عَيْنٍ ، وَأَقَلَّ مِنْ ذلِكَ ، مِثْلُ حَمْدِ جَميعِ الْحامِدينَ وَتَوْحيدِ أَصْنافِ الْمُخْلِصينَ ، وَتَقْديسِ أَحِبَّائِكَ الْعارِفينَ ، وَثَناءِ جَميعِ الْمُهَلِّلينَ وَمِثْلُ ما أَنْتَ عارِفٌ بِهِ ، وَمَحْمُودٌ بِهِ مِنْ جَميعِ خَلْقِكَ مِنَ الْحَيَوانِ وَالْجَمادِ.

وَأَرْغَبُ إِلَيْكَ اللَّهُمَّ في شُكْرِ ما أَنْطَقْتَني بِهِ مِنْ حَمْدِكَ ، فَما أَيْسَرَ ما كَلَّفْتَني مِنْ ذلِكَ ، وَأَعْظَمَ ما وَعَدْتَني عَلى شُكْرِكَ ، إِبْتَدَأْتَني بِالنِّعَمِ فَضْلاً وَطَوْلاً ، وَأَمَرْتَني بِالشُّكْرِ حَقّاً وَعَدْلاً ، وَوَعَدْتَني عَلَيْهِ أَضْعافاً وَمَزيداً ، وَأَعْطَيْتَني مِنْ رِزْقِكَ اعْتِباراً وَامْتِحاناً ، وَسَأَلْتَني مِنْهُ فَرْضاً يَسيراً صَغيراً ، وَوَعَدْتَني عَلَيْهِ أَضْعافاً وَمَزيداً وَ إِعْطاءً كَثيراً.

وَعافَيْتَني مِنْ جُهْدِ الْبَلاءِ ، وَلَمْ تُسْلِمْني لِلسُّوءِ مِنْ بَلائِكَ ، وَمَنَحْتَنِي الْعافِيَةَ ، وَأَوْلَيْتَني بِالْبَسْطَةِ وَالرَّخاءِ ، وَضاعَفْتَ لِيَ الْفَضْلَ مَعَ ما وَعَدْتَني بِهِ مِنَ الْمَحَلَّةِ الشَّريفَةِ ، وَبَشَّرْتَني بِهِ مِنَ الدَّرَجَةِ الرَّفيعَةِ الْمَنيعَةِ ، وَاصْطَفَيْتَني بِأَعْظَمِ النَّبيّينَ دَعْوَةً ، وَأَفْضَلِهِمْ شَفاعَةً مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ.

أَللَّهُمَّ اغْفِرْ لي ما لايَسَعُهُ إِلّا مَغْفِرَتُكَ ، وَلايَمْحَقُهُ إِلّا عَفْوُكَ ، وَهَبْ لي في يَوْمي هذا وَساعَتي هذِهِ يَقيناً يُهَوِّنُ عَلَيَّ مُصيباتِ الدُّنْيا وَأَحْزانَها ، وَيُشَوِّقُني إِلَيْكَ ، وَيُرَغِّبُني فيما عِنْدَكَ ، وَاكْتُبْ لِيَ الْمَغْفِرَةَ ، وَبَلِّغْنِي الْكَرامَةَ ، وَارْزُقْني شُكْرَ ما أَنْعَمْتَ بِهِ عَلَيَّ ، فَإِنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ الْواحِدُ الرَّفيعُ الْبَدي‏ءُ الْبَديعُ السَّميعُ الْعَليمُ الَّذي لَيْسَ لِأَمْرِكَ مَدْفَعٌ ، وَلا عَنْ قَضائِكَ مُمْتَنِعٌ ، وَأَشْهَدُ أَنَّكَ رَبّي وَرَبُّ كُلِّ شَيْ‏ءٍ فاطِرُ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ ، عالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهادَةِ ، اَلْعَلِيُّ الْكَبيرُ الْمُتَعالُ.

أَللَّهُمَّ إِنّي أَسْأَلُكَ الثَّباتَ فِي الْأَمْرِ ، وَالْعَزيمَةَ فِي الرُّشْدِ ، وَ إِلْهامَ الشُّكْرِ عَلى نِعْمَتِكَ ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ جَوْرِ كُلِّ جائِرٍ ، وَبَغْيِ كُلِّ باغٍ ، وَحَسَدِ كُلِّ حاسِدٍ.

أَللَّهُمَّ بِكَ أَصُولُ عَلَى الْأَعْداءِ ، وَ إِيَّاكَ أَرْجُو وِلايَةَ الْأَحِبَّاءِ ، مَعَ ما لا أَسْتَطيعُ إِحْصاءَهُ مِنْ فَوائِدِ فَضْلِكَ ، وَأَصْنافِ رِفْدِكَ ، وَأَنْواعِ رِزْقِكَ ، فَإِنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ لا إِلهَ إِلّا أَنْتَ الْفاشي فِي الْخَلْقِ حَمْدُكَ ، اَلْباسِطُ بِالْجُودِ يَدُكَ ، لاتُضادُّ في حُكْمِكَ ، وَلاتُنازَعُ في سُلْطانِكَ وَمُلْكِكَ ، وَلاتُراجَعُ في أَمْرِكَ ، تَمْلِكُ مِنَ الْأَنامِ ما شِئْتَ ، وَلايَمْلِكُونَ إِلّا ما تُريدُ.

أَللَّهُمَّ أَنْتَ الْمُنْعِمُ الْمُفْضِلُ الْقادِرُ الْقاهِرُ الْمُقَدَّسُ في نُورِ الْقُدْسِ ، تَرَدَّيْتَ بِالْعِزَّةِ وَالْمَجْدِ ، وَتَعَظَّمْتَ بِالْقُدْرَةِ وَالْكِبْرياءِ ، وَغَشَّيْتَ النُّورَ بِالْبَهاءِ ، وَجَلَّلْتَ الْبَهاءَ بِالْمَهابَةِ.

أَللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ الْعَظيمُ ، وَالْمَنُّ الْقَديمُ ، وَالسُلْطانُ الشَّامِخُ ، وَالْحَوْلُ الْواسِعُ ، وَالْقُدْرَةُ الْمُقْتَدِرَةُ ، وَالْحَمْدُ الْمُتَتابَعُ الَّذي لايَنْفَدُ بِالشُّكْرِ سَرْمَداً وَلايَنْقَضي أَبَداً ، إِذْ جَعَلْتَني مِنْ أَفاضِلِ بَني آدَمَ ، وَجَعَلْتَني سَميعاً بَصيراً صَحيحاً سَويّاً مُعافاً لَمْ تَشْغَلْني بِنُقْصانٍ في بَدَني ، وَلا بِآفَةٍ في جَوارِحي ، وَلا عاهَةٍ في نَفْسي وَلا في عَقْلي.

وَلَمْ يَمْنَعْكَ كَرامَتُكَ إِيَّايَ ، وَحُسْنُ صُنْعِكَ عِنْدي ، وَفَضْلُ نَعْمائِكَ عَلَيَّ إِذْ وَسَّعْتَ عَلَيَّ فِي الدُّنْيا ، وَفَضَّلْتَني عَلى كَثيرٍ مِنْ أَهْلِها تَفْضيلاً ، وَجَعَلْتَني سَميعاً أَعي ما كَلَّفْتَني بَصيراً ، أَرى قُدْرَتَكَ فيما ظَهَرَ لي ، وَاسْتَرْعَيْتَني وَاسْتَوْدَعْتَني قَلْباً يَشْهَدُ بِعَظَمَتِكَ ، وَلِساناً ناطِقاً بِتَوْحيدِكَ، فَإِنّي لِفَضْلِكَ عَلَيَّ حامِدٌ، وَلِتَوْفيقِكَ إِيَّايَ بِحَمْدِكَ شاكِرٌ ، وَبِحَقِّكَ شاهِدٌ، وَ إِلَيْكَ في مُلِمّي وَمُهِمّي ضارِعٌ ، لِأَنَّكَ حَيٌّ قَبْلَ كُلِّ حَيٍّ ، وَحَيٌّ بَعْدَ كُلِّ مَيِّتٍ ، وَحَيٌّ تَرِثُ الْأَرْضَ وَمَنْ عَلَيْها ، وَأَنْتَ خَيْرُ الْوارِثينَ

أَللَّهُمَّ لاتَقْطَعْ عَنّي خَيْرَكَ في كُلِّ وَقْتٍ ، وَلَمْ تُنْزِلْ بي عُقُوباتِ النِّقَمِ ، وَلَمْ تُغَيِّرْ ما بي مِنَ النِّعَمِ ، وَلا أَخْلَيْتَني مِنْ وَثيقِ الْعِصَمِ ، فَلَوْ لَمْ أَذْكُرْ مِنْ إِحْسانِكَ إِلَيَّ وَ إِنْعامِكَ عَلَيَّ إِلّا عَفْوَكَ عَنّي ، وَالْإِسْتِجابَةَ لِدُعائي ، حينَ رَفَعْتُ رَأْسي بِتَحْميدِكَ وَتَمْجيدِكَ، لا في تَقْديرِكَ جَزيلَ حَظّي حينَ وَفَّرْتَهُ انْتَقَصَ مُلْكُكَ ، وَلا في قِسْمَةِ الْأَرْزاقِ حينَ قَتَّرْتَ عَلَيَّ تَوَفَّرَ مُلْكُكَ.

أَللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ عَدَدَ ما أَحاطَ بِهِ عِلْمُكَ ، وَعَدَدَ ما أَدْرَكَتْهُ قُدْرَتُكَ ، وَعَدَدَ ما وَسِعَتْهُ رَحْمَتُكَ ، وَأَضْعافَ ذلِكَ كُلِّهِ ، حَمْداً واصِلاً مُتَواتِراً مُتَوازِياً لِآلائِكَ وَأَسْمائِكَ.

أَللَّهُمَّ فَتَمِّمْ إِحْسانَكَ إِلَيَّ فيما بَقِيَ مِنْ عُمْري ، كَما أَحْسَنْتَ إِلَيَّ ] مِنْهُ [فيما مَضى ، فَإِنّي أَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ بِتَوْحيدِكَ وَتَهْليلِكَ وَتَمْجيدِكَ وَتَكْبيرِكَ وَتَعْظيمِكَ ، ] وَأَسْأَلُكَ بِاسْمِكَ الَّذي خَلَقْتَهُ مِنْ ذلِكَ فَلايَخْرُجُ مِنْكَ إِلّا إِلَيْكَ[.

وَأَسْأَلُكَ بِاسْمِكَ الرُّوحِ الْمَكْنُونِ الْحَيِّ الْحَيِّ الْحَيِّ وَبِهِ وَبِهِ وَبِهِ ، وَبِكَ وَبِكَ وَبِكَ ، أَلّا تَحْرِمَني رِفْدَكَ ، وَفَوائِدَ كَرامَتِكَ ، وَلاتُوَلِّني غَيْرَكَ ، وَلاتُسْلِمَني إِلى عَدُوّي ، وَلاتَكِلَني إِلى نَفْسي ، وَأَحْسِنْ إِلَيَّ أَتَمَّ الْإِحْسانِ عاجِلاً وَآجِلاً ، وَحَسِّنْ فِي الْعاجِلَةِ عَمَلي ، وَبَلِّغْني فيها أَمَلي وَفِي الْآجِلَةِ ، وَالْخَيْرَ في مُنْقَلَبي ، فَإِنَّهُ لاتُفْقِرُكَ كَثْرَةُ ما يَنْدَفِقُ بِهِ فَضْلُكَ ، وَسَيْبُ الْعَطايا مِنْ مَنِّكَ ، وَلايُنْقِصُ جُودَكَ تَقْصيري في شُكْرِ نِعْمَتِكَ ، وَلاتُجِمُّ خَزائِنَ نِعْمَتِكَ النِّعَمُ ، وَلايُنْقِصُ عَظيمَ مَواهِبِكَ مِنْ سِعَتِكَ الْإِعْطاءُ ، وَلاتُؤَثِّرُ في جُودِكَ الْعَظيمِ الْفاضِلِ الْجَليلِ مِنَحُكَ ، وَلاتَخافُ ضَيْمَ إِمْلاقٍ فَتُكْدِيَ ، وَلايَلْحَقُكَ خَوْفُ عُدْمٍ فَيَنْقُصَ فَيْضُ مُلْكِكَ وَفَضْلِكَ.

أَللَّهُمَّ ارْزُقْني قَلْباً خاشِعاً ، وَيَقيناً صادِقاً ، وَبِالْحَقِّ صادِعاً ، وَلاتُؤْمِنّي مَكْرَكَ ، وَلاتُنْسِني ذِكْرَكَ ، وَلاتَهْتِكَ عَنّي سِتْرَكَ ، وَلاتُوَلِّني غَيْرَكَ ، وَلاتُقَنِّطْني مِنْ رَحْمَتِكَ بَلْ تَغَمَّدْني بِفَوائِدِكَ ، وَلاتَمْنَعْني جَميلَ عَوائِدِكَ ، وَكُنْ لي في كُلِّ وَحْشَةٍ أَنيساً ، وَفي كُلِّ جَزَعٍ حِصْناً ، وَمِنْ كُلِّ هَلَكَةٍ غِياثاً.

وَنَجِّني مِنْ كُلِّ بَلاءٍ ، وَاعْصِمْني مِنْ كُلِّ زَلَلٍ وَخَطاءٍ ، وَتَمِّمْ لي فَوائِدَكَ ، وَقِني وَعيدَكَ ، وَاصْرِفْ عَنّي أَليمَ عَذابِكَ وَتَدْميرَ تَنْكيلِكَ ، وَشَرِّفْني بِحِفْظِ كِتابِكَ ، وَأَصْلِحْ لي ديني وَدُنْيايَ وَآخِرَتي وَأَهْلي وَوَلَدي ، وَوَسِّعْ رِزْقي ، وَأَدِرَّهُ عَلَيَّ ، وَأَقْبِلْ عَلَيَّ ، وَلاتُعْرِضْ عَنّي.

أَللَّهُمَّ ارْفَعْني وَلاتَضَعْني ، وَارْحَمْني وَلاتُعَذِّبْني ، وَانْصُرْني وَلاتَخْذُلْني ، وَآثِرْني وَلاتُؤْثِرْ عَلَيَّ ، وَاجْعَلْ لي مِنْ أَمْري يُسْراً وَفَرَجاً ، وَعَجِّلْ إِجابَتي ، وَاسْتَنْقِذْني مِمَّا قَدْ نَزَلَ بي ، إِنَّكَ عَلى كُلِّ شَيْ‏ءٍ قَديرٌ ، وَذلِكَ عَلَيْكَ يَسيرٌ ، وَأَنْتَ الْجَوادُ الْكَريمُ.( البحار : ۲۵۹/۹۵ ، مهج الدعوات : ۱۶۱ ).

حرز یمانی کا واقعہ

محدّث نوری کتاب دارالسّلام میں نقل کرتے ہیں اور کہتے ہیں معروف دعا حرز یمانی کے پشت پر علامہ شیخ محمد تقی مجلسی کے خط سے اس طرح پایا بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ رب العالمین و الصلواة علی اشرف المرسلین محمد و عترتہ الطاھرین۔ و بعد سید نجیب اور ادیب امیر محمد ہاشم بزرگوار سادات میں سے ہے اس نے مجھے سے درخواست کی کہ میں حرز یمانی کی قرائت کی اجازت اس کو دے دوں یہ حرز حضرت امیرالمومنین کی طرف منسوب ہے کہ جو خاتم الانبیاء کے بعد سے بہترین مخلوق ہیں میں نے اس کو اجازت دے دی میں نے سید بزرگوار امیر اسحاق الہ آبادی سے کہ جو کربلاء میں مدفعن ہیں اس نے ہمارے مولیٰ کہ جو کہ جن و انس کے امام ہیں حضرت صاحب العصر سے روایت کی ہے کہ امیر اسحاق استر آبادی کہتے ہیں کہ مکہ کے راستے میں تھکاوٹ نے مجھے کمزور کردیا اور چلنے سے رہ گیا اور کاروا سے پیچھے رہ گیا اور قافلہ سے پیچھے رہ جانے کی وجہ سے میں اپنی زندگی سے مایوس ہوا اس دنیا سے نامید ہوگیا جسے کوئی مر رہاہے اسی طرح پشت کے بل سویا اور شہادتین پڑھنا شروع کیا اچانک میرے سرہانے پر میرے اور دونوں جہاں کے مولیٰ حضرت صاحب الزمان جلو گر ہوئے اور فرمایا اے اسحاق اٹھو میں اُٹھا تشنگی اور پیاس مجھ پر غالب آگئی تھی انہوں نے مجھے پانی دیا اور اپنے سواری پر مجھے سوار کیا جاتے ہوئے میں نے حرز یمانی پڑھنی شروع کی حضرت میری غلطیوں کے تصحیح کرتے تھے یہاں تک کہ حرز تمام ہوا اچانک میں متوجہ ہوا کہ ابطع (مکہ) کی سرزمین پر ہوں سواری سے نیچے اتر آیا اور آنحضرت کو نہیں دیکھا ہمارا قافلہ نوروز کے بعد مکہ میں وارد ہوا جب انہوں نے مجھے مکہ میں دیکھا تو انہوں نے تعجب کیا اور مکہ والوں کے درمیان مشہور ہوا کہ میں طتی الارض کے ساتھ آیا ہوں اس لئے حج کے مراسم کے بعد ایک مدت تک مخفی زندگی گزارتارہا۔

علامہ محمد تقی مجلسی اپنے کلام کو جاری رکھتے ہوئے فرماتے ہیں کہ یہ چالیس مرتبہ خانہ کعبہ کی زیارت سے مشرف ہوا تھا جب کربلاء سے مولائے دوجہاں حضرت امام علی بن موسیٰ الرضا کی زیارت کا عزم کیا تو اصفہان میں ان کی خدمت میں مشرف ہوا تھا اس کے عیال کا مہر یہ ساتھ تومان اس کے ذمہ میں تھا یہ رقم مشہد مقدس میں اپنے سوا کسی ایک شخص کے پاس تھی سید خواب دیکھتاہے کہ اس کی موت قریب آچکی ہے اس لئے وہ کہتاہے کہ میں پچاس سال سے کربلاء میں حضرت امام حسین کے جوار میں ہوں تا کہ وہاں پر مروں یہ کہ میں ڈرتاہوں کہ میری موت کسی اور جگہ نہ آئے ان میں سے ایک رفیق اس واقعہ سے مطلع ہوا اس رقم کو لیکر سیّد کو دیا میں نے سید کو ہمراہ برادران دینی میں سے ایک کے ساتھ کربلاء بھیجا وہ کہتاہے کہ جب سید کربلاء پہنچا اس نے اپنا قرض ادا کیا اس کے بعد بیمار ہوا اور نویں دن اس دار فانی سے دار باقی کی طرف چلا گیا اور ان کو اپنکے گھر میں دفن کردیا گیا جس زمانے میں سید اصفہان میں رہتے تھے میں نے ان سے بہت زیادہ کرامات دیکھے۔ یہ کہنے والی بات ہے کہ اس دعا کے لئے میرے پاس بہت زیادہ اجازت موجود ہیں لیکن میں اسی اجازت پر اکتفا کرتاہوں میں امید رکھتا ہوں کہ مجھ کو دعائے خیر سے فراموش نہ کریں اور آپ سے خواہش ہے کہ یہ دعا صرف خدا کے لئے پڑھو اور دشمن کے نابودی کے لئے کہ جو مومن ہے اگر فاسق و ظالم ہوں ان کے لئے نہ پرھے اور اس دعا کو بے قدر دنیا کے جمع کرنے کے لئے نہ پڑھے بلکہ سزاوار ہے کہ اس دعا کو قرب الٰہی حاصل کرنے کے لئے اور جن و انس کے شیاطین کے ضرر کو دور کرنے کے لئے پڑھے نیاز مند بروردگار غنی محمد تقی مجلسی اصفہانی۔

یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ اس حکایت کی پہلی قسمت کہ جو حضرت حجت کے ساتھ ملاقات کے بارے میں ہے اس کو علامہ مجلسی نے بحار الانوار کی تیرہویں جلد میں کافی اختلاف کے ساتھ نقل کیا ہے۔

علامہ بزرگوار مجلسی کہتے ہیں جو دعا حرز یمانی کے نام سے معروف ہے یہی دعاء سیفی کے نام سے بھی معروف ہے اس دعا کے لئے متعدد سند اور قسم قسم کے روایت دیکھی ہیں لیکن ان میں سے جو سب سے مہم ہے اس کو یہاں پر بیان کرتاہوں۔

عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن جعفر کہتے ہیں کہ ایک دن امیرالمومنین کی خدمت میں حاضر تھا اتنے میں امام حسن وارد ہوئے اور فرمایا اے امیرالمومنین ایک مرد دروازے پر کھڑا ہے اس سے کستوری کی خوشبو آتی ہے۔ اور وہ اندر آنا چاہتاہے حضرت نے فرمایا اس کو اندر آنے کی اجازت دیں اس وقت ایک تنومند مرد خوش شکل اور خوبصورت بڑی آنکھوں والا اور فصیح زبان بولنے والا ہے۔ اس کے بدن پر بادشاہوں کے لباس تھے داخل ہوا اور کہا السلام علیک یا امیرالمومنین و رحمة اللہ و برکاتہ میں یمن کے دور دراز شہر کا رہنے والا ایک مرد ہوں اشراف میں سے اور عرب کے بزرگان میں سے کہ آپ سے منسوب ہوں میں آپ کے پاس آیا ہوں۔ میں نے اپنے پیچھے ایک عطیم ملک اور بہت زیادہ نعمتیں چھوڑ کر آیا ہوں میری زندگی اچھی گزرتی تھی میرے کاروبار میں ترقی ہوتی تھی زندگی کے انجام کو جانت اھتا اچانک میری کسی سے دشمنی ہوئی اور اس نے مجھ پر ظلم کیا اس کے حامی قبیلہ کی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے وہ مجھ پر غالب آگیا میں نے مہم تدبیر کو اپنایا لیکن اس میں بھی کامیاب نہیں ہوا میں نے کوئی اور چارہ کار نہیں دیکھا میں ان تدابیر سے تھک گیا ایک رات عالم خواب میں ایک شخص کو دیکھا کہ وہ میرے پاس آیا اور مجھ سے کہا ایے مرد اٹھو اور پیغمبر کے بعد سب سے بہترین مخلوق علی کے پاس جاؤ اور اس سے دعا طلب کرو کہ جس دعا کو حبیب خدا محمد نے اس کو یاد کرایا ہے کہ وہ تمہیں یاد کرائے کہ اس دعا میں اسم اعظم ہے اور اس دعا کو اس دشمن کے سامنے پڑھو کہ جو تیرے ساتھ جنگ کرتاہے اے امیرالمومنین میں خواب سے بیدار ہوا میں نے کوئی کام نہیں کیا بلا فاصلہ چار سو غلاموں کو لیکر آپکی طرف آیا ہوں میں خدا پیغمبر اور تجھ کو گواہ قرار دیتاہوں کہ میں نے ان غلاموں کو خدا کی خاطر آزاد کرلیا اب اے امیرالمومنین میں دور دراز اور پر پیچ و خم والے راستے سے بہت زیادہ مسافت طے کرکے آپ کی خدمت میں آیا ہوں میرا بدن لاغر ہوا ہے اور بدن کے اعضاء راستے کی تھکاوٹ اور سفر کی وجہ سے کمزور ہوئے ہیں اے امیرالمومین مجھ پر احسان کریں اور آپکو آپکے باپ اور رشتہ داری کی قسم دیتاہوں کہ آپ اپنے فضل سے جو خواب میں دیکھاہے اور مجھے بتایا گیا ہے کہ میں آپ کے پاس آؤں اس دعا کو مجھے یاد کرادیں حضرت امیرالمومنین علی نے فرمایا کیوں نہیں انشاء اللہ میں اس دعا کو یاد کرادوں گا اس وقت حضرت نے کاغذ اور قلم طلب کیا اور اس دعا کو لکھا۔

حرز یمانی

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمنِ الرَّحيمِ

أَللَّهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ الْحَقُّ الَّذي لا إِلهَ إِلّا أَنْتَ ، وَأَنَا عَبْدُكَ ، ظَلَمْتُ نَفْسي ، وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبي ، وَلايَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلّا أَنْتَ ، فَاغْفِرْ لي يا غَفُورُ يا شَكُورُ.

أَللَّهُمَّ إِنّي أَحْمَدُكَ، وَأَنْتَ لِلْحَمْدِ أَهْلٌ ، عَلى ما خَصَصْتَني بِهِ مِنْ مَواهِبِ الرَّغائِبِ، وَما وَصَلَ إِلَيَّ مِنْ فَضْلِكَ السَّابِغِ، وَما أَوْلَيْتَني بِهِ مِنْ إِحْسانِكَ إِلَيَّ ، وَبَوَّأْتَني بِهِ مِنْ مَظَنَّةِ الْعَدْلِ ، وَأَنَلْتَني مِنْ مَنِّكَ الْواصِلِ إِلَيَّ ، وَمِنَ الدِّفاعِ عَنّي ، وَالتَّوْفيقِ لي ، وَالْإِجابَةِ لِدُعائي حَيْنَ اُناجيكَ داعِياً.

وَأَدْعُوكَ مُضاماً ، وَأَسْأَلُكَ فَأَجِدُكَ فِي الْمَواطِنِ كُلِّها لي جابِراً ، وَفِي الْاُمُورِ ناظِراً ، وَلِذُنُوبي غافِراً ، وَلِعَوْراتي ساتِراً ، لَمْ أَعْدَمْ خَيْرَكَ طَرْفَةَ عَيْنٍ مُنْذُ أَنْزَلْتَني دارَ الْإِخْتِيارِ ، لِتَنْظُرَ ما اُقَدِّمُ لِدارِ الْقَرارِ ، فَأَنَا عَتيقُكَ مِنْ جَميعِ الْآفاتِ وَالْمَصائِبِ ، فِي اللَّوازِبِ وَالْغُمُومِ الَّتي ساوَرَتْني فيهَا الْهُمُومُ ، بِمَعاريضِ أَصْنافِ الْبَلاءِ ، وَمَصْرُوفِ جُهْدِ الْقَضاءِ ، لا أَذْكُرُ مِنْكَ إِلّاَ الْجَميلَ ، وَلا أَرى مِنْكَ غَيْرَ التَّفْضيلِ.

خَيْرُكَ لي شامِلٌ ، وَفَضْلُكَ عَلَيَّ مُتَواتِرٌ ، وَنِعْمَتُكَ عِنْدي مُتَّصِلَةٌ ، وَسَوابِقُ لَمْ تُحَقِّقْ حِذاري ، بَلْ صَدَّقْتَ رَجائي ، وَصاحَبْتَ أَسْفاري ، وَأَكْرَمْتَ أَحْضاري ، وَشَفَيْتَ أَمْراضي وَأَوْهاني ، وَعافَيْتَ مُنْقَلَبي وَمَثْوايَ ، وَلَمْ تُشْمِتْ بي أَعْدائي ، وَرَمَيْتَ مَنْ رَماني ، وَكَفَيْتَني مَؤُونَةَ مَنْ عاداني.

فَحَمْدي لَكَ واصِلٌ ، وَثَنائي عَلَيْكَ دائِمٌ ، مِنَ الدَّهْرِ إِلَى الدَّهْرِ ، بِأَلْوانِ التَّسْبيحِ ، خالِصاً لِذِكْرِكَ ، وَمَرْضِيّاً لَكَ بِناصِعِ التَّوْحيدِ ، وَإِمْحاضِ التَّمْجيدِ بِطُوْلِ التَّعْديدِ ، وَمَزِيَّةِ أَهْلِ الْمَزيدِ ، لَمْ تُعَنْ في قُدْرَتِكَ ، وَلَمْ تُشارَكَ في إِلهِيَّتِكَ ، وَلَمْ تُعْلَمْ لَكَ مائِيَّةً فَتَكُونَ لِلْأَشْياءِ الْمُخْتَلِفَةِ مُجانِساً ، وَلَمْ تُعايَنْ إِذْ حَبَسْتَ الْأَشْياءَ عَلَى الْغَرائِزِ ، وَلا خَرَقَتِ الْأَوْهامُ حُجُبَ الغُيُوبِ ، فَتَعْتَقِدُ فيكَ مَحْدُوداً في عَظَمَتِكَ ، فَلا يَبْلُغُكَ بُعْدُ الْهِمَمِ ، وَلايَنالُكَ غَوْصُ الْفِكَرِ ، وَلايَنْتَهي إِلَيْكَ نَظَرُ ناظِرٍ في مَجْدِ جَبَرُوتِكَ.

اِرْتَفَعَتْ عِنْ صِفَةِ الْمَخْلُوقينَ صِفاتُ قُدْرَتِكَ ، وَعَلا عَنْ ذلِكَ كِبْرِياءُ عَظَمَتِكَ ، لايَنْقُصُ ما أَرَدْتَ أَنْ يَزْدادَ ، وَلايَزْدادُ ما أَرَدْتَ أَنْ يَنْقُصَ ، لا أَحَدَ حَضَرَكَ حينَ بَرَأْتَ النُّفُوسَ ، كَلَّتِ الْأَوْهامُ عَنْ تَفْسيرِ صِفَتِكَ ، وَانْحَسَرَتِ الْعُقُولُ عَنْ كُنْهِ عَظَمَتِكَ ، وَكَيْفَ تُوْصَفُ وَأَنْتَ الْجَبَّارُ الْقُدُّوسُ ، اَلَّذي لَمْ تَزَلْ أَزَلِيّاً دائِماً فِي الْغُيُوبِ وَحْدَكَ لَيْسَ فيها غَيْرُكَ وَلَمْ يَكُنْ لَها سِواكَ.

حارَ في مَلَكُوتِكَ عَميقاتُ مَذاهِبِ التَّفْكيرِ ، فَتَواضَعَتِ الْمُلُوكُ لِهَيْبَتِكَ ، وَعَنَتِ الْوُجُوهُ بِذُلِّ الْإِسْتِكانَةِ لَكَ ، وَانْقادَ كُلُّ شَيْ‏ءٍ لِعَظَمَتِكَ ، وَاسْتَسْلَمَ كُلُّ شَيْ‏ءٍ لِقُدْرَتِكَ ، وَخَضَعَتْ لَكَ الرِّقابُ ، وَ كَلَّ دُونَ ذلِكَ تَحْبيرُ اللُّغاتِ ، وَضَلَّ هُنالِكَ التَّدْبيرُ في تَصاريفِ الصِّفاتِ ، فَمَنْ تَفَكَّرَ في ذلِكَ رَجَعَ طَرْفُهُ إِلَيْهِ حَسيراً ، وَعَقْلُهُ مَبْهُوراً ، وَتَفَكُّرُهُ مُتَحَيِّراً.

أَللَّهُمَّ فَلَكَ الْحَمْدُ مُتَواتِراً مُتَوالِياً مُتَّسِقاً مُسْتَوْثِقاً ، يَدُومُ وَلايَبيدُ غَيْرَ مَفْقُودٍ فِي الْمَلَكُوتِ ، وَلا مَطْمُوسٍ فِي الْمَعالِمِ ، وَلا مُنْتَقِصٍ فِي الْعِرْفانِ ، وَلَكَ الْحَمْدُ ما لاتُحْصى مَكارِمُهُ فِي اللَّيْلِ إِذا أَدْبَرَ ، وَالصُّبْحِ إِذا أَسْفَرَ ، وَفِي الْبَراري وَالْبِحارِ ، وَالْغُدُوِّ وَالْآصالِ ، وَالْعَشِيِّ وَالْإِبْكارِ ، وَفِي الظَّهائِرِ وَالْأَسْحارِ.

أَللَّهُمَّ بِتَوْفيقِكَ قَدْ أَحْضَرْتَنِي الرَّغْبَةَ ، وَجَعَلْتَني مِنْكَ في وِلايَةِ الْعِصْمَةِ لَمْ أَبْرَحْ في سُبُوغِ نَعْمائِكَ ، وَتَتابُعِ آلائِكَ مَحْفُوظاً لَكَ فِي الْمَنْعَةِ وَالدِّفاعِ مَحُوطاً بِكَ في مَثْوايَ وَمُنْقَلَبي ، وَلَمْ تُكَلِّفْني فَوْقَ طاقَتي ، إِذْ لَمْ تَرْضَ مِنّي إِلّا طاعَتي ، وَلَيْسَ شُكْري وَإِنْ أَبْلَغْتُ فِي الْمَقالِ وَبالَغْتُ فِي الْفِعالِ بِبالِغِ أَداءِ حَقِّكَ ، وَلا مُكافِياً لِفَضْلِكَ ، لِأَنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ الَّذي لا إِلهَ إِلّا أَنْتَ ، لَمْ تَغِبْ وَلا تَغيبُ عَنْكَ غائِبَةٌ ، وَلاتَخْفى عَلَيْكَ خافِيَةٌ ، وَلَمْ تَضِلَّ لَكَ في ظُلَمِ الْخَفِيَّاتِ ضالَّةٌ ، إِنَّما أَمْرُكَ إِذا أَرَدْتَ شَيْئاً أَنْ تَقُولَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ.

أَللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ مِثْلَ ما حَمِدْتَ بِهِ نَفْسَكَ ، وَحَمِدَكَ بِهِ الْحامِدُونَ ، وَمَجَّدَكَ بِهِ الْمُمَجِّدُونَ ، وَكَبَّرَكَ بِهِ الْمُكَبِّرُونَ ، وَعَظَّمَكَ بِهِ الْمُعَظِّمُونَ ، حَتَّى يَكُونَ لَكَ مِنّي وَحْدي بِكُلِّ طَرْفَةِ عَيْنٍ ، وَأَقَلَّ مِنْ ذلِكَ مِثْلُ حَمْدِ الْحامِدينَ ، وَتَوْحيدِ أَصْنافِ الْمُخْلِصينَ ، وَتَقْديسِ أَجْناسِ الْعارِفينَ ، وَثَناءِ جَميعِ الْمُهَلِّلينَ ، وَمِثْلُ ما أَنْتَ بِهِ عارِفٌ مِنْ جَميعِ خَلْقِكَ مِنَ الْحَيَوانِ ، وَأَرْغَبُ إِلَيْكَ في رَغْبَةِ ما أَنْطَقْتَني بِهِ مِنْ حَمْدِكَ ، فَما أَيْسَرَ ما كَلَّفْتَني بِهِ مِنْ حَقِّكَ ، وَأَعْظَمَ ما وَعَدْتَني عَلى شُكْرِكَ.

اِبْتَدَأْتَني بِالنِّعَمِ فَضْلاً وَطَوْلاً ، وَأَمَرْتَني بِالشُّكْرِ حَقّاً وَعَدْلاً ، وَوَعَدْتَني عَلَيْهِ أَضْعافاً وَمَزيداً ، وَأَعْطَيْتَني مِنْ رِزْقِكَ اعْتِباراً وَفَضْلاً ، وَسَأَلْتَني مِنْهُ يَسيراً صَغيراً ، وَأَعْفَيْتَني مِنْ جُهْدِ الْبَلاءِ وَلَمْ تُسْلِمْني لِلسُّوءِ مِنْ بَلاءِكَ مَعَ ما أَوْلَيْتَني مِنَ الْعافِيَةِ ، وَسَوَّغْتَ مِنْ كَرائِمِ النَّحْلِ ، وَضاعَفْتَ لِيَ الْفَضْلَ مَعَ ما أَوْدَعْتَني مِنَ الْمَحَجَّةِ الشَّريفَةِ ، وَيَسَّرْتَ لي مِنَ الدَّرَجَةِ الْعالِيَةِ الرَّفيعَةِ ، وَاصْطَفَيْتَني بِأَعْظَمِ النَّبِيّينَ دَعْوَةً ، وَأَفْضَلِهِمْ شَفاعَةً ، مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ.

أَللَّهُمَّ فَاغْفِرْ لي ما لايَسَعُهُ إِلّا مَغْفِرَتُكَ ، وَلا يَمْحَقُهُ إِلّا عَفْوُكَ ، وَلا يُكَفِّرُهُ إِلّا فَضْلُكَ ، وَهَبْ لي في يَوْمي يَقيناً تُهَوِّنُ عَلَيَّ بِهِ مُصيباتِ الدُّنْيا وَأَحْزانَها بِشَوْقٍ إِلَيْكَ ، وَرَغْبَةٍ فيما عِنْدَكَ ، وَاكْتُبْ لي عِنْدَكَ الْمَغْفِرَةَ ، وَبَلِّغْنِي الْكَرامَةَ ، وَارْزُقْني شُكْرَ ما أَنْعَمْتَ بِهِ عَلَيَّ ، فَإِنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ الْواحِدُ الرَّفيعُ الْبَدي‏ءُ الْبَديعُ السَّميعُ الْعَليمُ ، اَلَّذي لَيْسَ لِأَمْرِكَ مَدْفَعٌ ، وَلا عَنْ قَضائِكَ مُمْتَنِعٌ ، أَشْهَدُ أَنَّكَ رَبّي وَرَبُّ كُلِّ شَيْ‏ءٍ ، فاطِرُ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ ، عالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهادَةِ ، اَلْعَلِيُّ الْكَبيرُ.

أَللَّهُمَّ إِنّي أَسْأَلُكَ الثَّباتَ فِي الْأَمْرِ ، وَالْعَزيمَةَ عَلَى الرُّشْدِ ، وَالشُّكْرَ عَلى نِعْمَتِكَ ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ جَوْرِ كُلِّ جائِرٍ ، وَبَغْيِ كُلِّ باغٍ ، وَحَسَدِ كُلِّ حاسِدٍ ، بِكَ أَصُولُ عَلَى الْأَعْداءِ ، وَبِكَ أَرْجُو وِلايَةَ الْأَحِبَّاءِ مَعَ ما لا أَسْتَطيعُ إِحْصاءَهُ ، وَلاتَعْديدَهُ مِنْ عَوائِدِ فَضْلِكَ ، وَطُرَفِ رِزْقِكَ ، وَأَلْوانِ ما أَوْلَيْتَ مِنْ إِرْفادِكَ ، فَإِنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ الَّذي لا إِلهَ إِلّا أَنْتَ ، اَلْفاشي فِي الْخَلْقِ رِفْدُكَ ، اَلْباسِطُ بِالْجُودِ يَدُكَ ، وَلاتُضادُّ في حُكْمِكَ ، وَلاتُنازَعُ في أَمْرِكَ ، تَمْلِكُ مِنَ الْأَنامِ ما تَشاءُ ، وَلايَمْلِكُونَ إِلّا ما تُريدُ.

«قُلِ اللَّهُمَّ مالِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشاءُ ، وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشاءُ ، وَتُعِزُّ مَنْ تَشاءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشاءُ بِيَدِكَ الْخَيْرُ إِنَّكَ عَلى كُلِّ شَيْ‏ءٍ قَديرٌ × تُولِجُ اللَّيْلَ فِي النَّهارِ وَتُولِجُ النَّهارَ فِي اللَّيْلِ وَتُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَتُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ وَتَرْزُقُ مَنْ تَشاءُ بِغَيْرِ حِسابٍ »

أَنْتَ الْمُنْعِمُ الْمُفْضِلُ الْخالِقُ الْبارِئُ الْقادِرُ الْقاهِرُ الْمُقَدَّسُ في نُورِ الْقُدْسِ ، تَرَدَّيْتَ بِالْمَجْدِ وَالْعِزِّ ، وَتَعَظَّمْتَ بِالْكِبْرِياءِ ، وَتَغَشَّيْتَ بِالنُّورِ وَالْبَهاءِ ، وَتَجَلَّلْتَ بِالْمَهابَةِ وَالسَّناءِ ، لَكَ الْمَنُّ الْقَديمُ ، وَالسُّلْطانُ الشَّامِخُ ، وَالْجُودُ الْواسِعُ ، وَالْقُدْرَةُ الْمُقْتَدِرَةُ ، جَعَلْتَني مِنْ أَفْضَلِ بَني آدَمَ ، وَجَعَلْتَني سَميعاً بَصيراً ، صَحيحاً سَوِيّاً مُعافاً ، لَمْ تَشْغَلْني بِنُقْصانٍ في بَدَني ، وَلَمْ تَمْنَعْكَ كَرامَتُكَ إِيَّايَ ، وَحُسْنُ صَنيعِكَ عِنْدي ، وَفَضْلُ إِنْعامِكَ عَلَيَّ ، أَنْ وَسَّعْتَ عَلَيَّ فِي الدُّنْيا ، وَفَضَّلْتَني عَلى كَثيرٍ مِنْ أَهْلِها ، فَجَعَلْتَ لي سَمْعاً يَسْمَعُ آياتِكَ ، وَفُؤاداً يَعْرِفُ عَظَمَتِكَ ، وَأَنَا بِفَضْلِكَ حامِدٌ ، وَبِجُهْدِ يَقيني لَكَ شاكِرٌ ، وَبِحَقِّكَ شاهِدٌ.

فَإِنَّكَ حَيٌّ قَبْلَ كُلِّ حَيٍّ ، وَحَيٌّ بَعْدَ كُلِّ حَيٍّ ، وَحَيٌّ لَمْ تَرِثِ الْحَياةَ مِنْ حَيٍّ ، وَلَمْ تَقْطَعْ خَيْرَكَ عَنّي طَرْفَةَ عَيْنٍ في كُلِّ وَقْتٍ ، وَلَمْ تُنْزِلْ بي عُقُوباتِ النِّقَمِ ، وَلَمْ تُغَيِّرْ عَلَيَّ دَقائِقَ الْعِصَمِ ، فَلَوْ لَمْ أَذْكُرْ مِنْ إِحْسانِكَ إِلّا عَفْوَكَ ، وَ إِجابَةَ دُعائي حينَ رَفَعْتُ رَأْسي بِتَحْميدِكَ وَتَمْجيدِكَ ، وَفي قِسْمَةِ الْأَرْزاقِ حينَ قَدَّرْتَ ، فَلَكَ الْحَمْدُ عَدَدَ ما حَفَظَهُ عِلْمُكَ ، وَعَدَدَ ما أَحاطَتْ بِهِ قُدْرَتُكَ ، وَعَدَدَ ما وَسِعَتْهُ رَحْمَتُكَ.

أَللَّهُمَّ فَتَمِّمْ إِحْسانَكَ فيما بَقِيَ ، كَما أَحْسَنْتَ فيما مَضى ، فَإِنّي أَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ بِتَوْحيدِكَ وَتَمْجيدِكَ ، وَتَحْميدِكَ وَتَهْليلِكَ ، وَتَكْبيرِكَ وَتَعْظيمِكَ ، وَبِنُورِكَ وَرَأْفَتِكَ ، وَرَحْمَتِكَ وَعُلُوِّكَ ، وَجَمالِكَ وَجَلالِكَ ، وَبَهائِكَ وَسُلْطانِكَ ، وَقُدْرَتِكَ وَبِمُحَمَّدٍ وَآلِهِ الطَّاهِرينَ ، أَلّا تَحْرِمَني رِفْدَكَ وَفَوائِدَكَ.

فَإِنَّهُ لايَعْتَريكَ لِكَثْرَةِ ما يَتَدَفَّقُ بِهِ عَوائِقُ الْبُخْلِ ، وَلايَنْقُصُ جُودَكَ تَقْصيرٌ في شُكْرِ نِعْمَتِكَ ، وَلاتُفْني خَزائِنَ مَواهِبِكَ النِّعَمُ ، وَلاتَخافُ ضَيْمَ إِمْلاقٍ فَتُكْدِيَ وَلايَلْحَقُكَ خَوْفُ عُدْمٍ فَيَنْقُصَ فَيْضُ فَضْلِكَ.

أَللَّهُمَّ ارْزُقْني قَلْباً خاشِعاً ، وَيَقيناً صادِقاً ، وَلِساناً ذاكِراً ، وَلاتُؤْمِنّي مَكْرَكَ ، وَلاتَكْشِفْ عَنّي سِتْرَكَ ، وَلاتُنْسِني ذِكْرَكَ ، وَلاتُباعِدْني مِنْ جَوارِكَ ، وَلاتَقْطَعْني مِنْ رَحْمَتِكَ ، وَلاتُؤْيِسْني مِنْ رَوْحِكَ ، وَكُنْ لي أَنيساً مِنْ كُلِّ وَحْشَةٍ ، وَاعْصِمْني مِنْ كُلِّ هَلَكَةٍ ، وَنَجِّني مِنْ كُلِّ بَلاءٍ ، فَإِنَّكَ لاتُخْلِفُ الْميعادَ.

أَللَّهُمَّ ارْفَعْني وَلاتَضَعْني، وَزِدْني وَلاتَنْقُصْني، وَارْحَمْني وَلاتُعَذِّبْني، وَانْصُرْني وَلاتَخْذُلْني ، وَآثِرْني وَلاتُؤْثِرْ عَلَيَّ ، وَصَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ الطَّيِّبينَ الطَّاهِرينَ ، وَسَلَّمَ تَسْليماً كَثيراً.

ابن عباس کہتاہے: حضرت نے یہ دعا یمنی مرد کو دی اور فرمایا اس دعا کی اچھی طرح حفاظت کرلو ہر روز ایک دفعہ پڑھ لو مجھے امید ہے کہ آپ کے اپنے شہر پہنچنے سے پہلے اللہ تعالیٰ تمہارے دشمن کو ہلاک کرے گا چونکہ میں نے سنا ہے کہ جو بھی اس دعا کو صحیح نیت اور متواضع دل کے ساتھ پڑھ لے اس وقت پہاڑوں کو حکم دیا جائے کہ حرکت کریں تو حرکت کرنے لگیں گے اگر کہین سفر کرنے کا ارادہ کروگے اس دعا کی برکت سے خطراف سے محفوظ ہو کر سلامتی کے ساتھ اپنے سفر کو ختم کروگے یمنی مرد اپنے شہر کی طرف روانہ ہوا چالیس دن گزرنے کے بعد حضرت کی خدمت میں اس یمنی شخص کا خط پہنچا کہ خدا نے اس کے دشمن کو ہلاک کیا ہے اور اس کے دشمن یہاں پر ایک بھی نہیں بچا ہے۔

حضرت امیرالمومنین نے فرمایا:

میں جانتا تھا کہ ایسا ہی ہوگا اس دعا کو رسول خدا نے مجھے تعلیم دی تھی کوئی سختی اور دشواری میرے لئے پیش نہیں اتی مگر یہ کہ میں اس دعا کو پڑھا اور وہ سختی اور دشواری میرے لیئے آسان ہوگئی۔

۔ دعائے حریق

أَللَّهُمَّ إِنّي أَصْبَحْتُ اُشْهِدُكَ وَكَفى بِكَ شَهِيداً ، وَاُشْهِدُ مَلائِكَتَكَ وَحَمَلَةَ عَرْشِكَ وَسُكَّانَ سَبْعِ سَماواتِكَ وَأَرَضيكَ وَأَنْبِياءَكَ وَرُسُلَكَ وَوَرَثَةَ أَنْبِياءِكَ وَرُسُلِكَ وَالصَّالِحينَ مِنْ عِبادِكَ وَجَميعَ خَلْقِكَ ، فَاشْهَدْ لي وَكَفى بِكَ شَهيداً ، أَنّي أَشْهَدُ أَنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ لا إِلهَ إِلّا أَنْتَ الْمَعْبُودُ وَحْدَكَ لا شَريكَ لَكَ ، وَأَنَّ مُحَمَّداً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ ، وَأَنَّ كُلَّ مَعْبُودٍ مِمَّا دُونَ عَرْشِكَ إِلى قَرارِ أَرْضِكَ السَّابِعَةِ السُّفْلى باطِلٌ مُضْمَحِلٌّ ما خَلا وَجْهَكَ الْكَريمَ ، فَإِنَّهُ أَعَزُّ وَأَكْرَمُ وَأَجَلُّ وَأَعْظَمُ مِنْ أَنْ يَصِفَ الْواصِفُونَ كُنْهَ جَلالِهِ أَوْ تَهْتَدِيَ الْقُلُوبُ إِلى كُنْهِ عَظَمَتِهِ ، يا مَنْ فاقَ مَدْحَ الْمادِحينَ فَخْرُ مَدْحِهِ ، وَعَدا وَصْفَ الْواصِفينَ مَآثِرُ حَمْدِهِ ، وَجَلَّ عَنْ مَقالَةِ النَّاطِقينَ تَعْظيمُ شَأْنِهِ ، صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ، وَافْعَلْ بِنا ما أَنْتَ أَهْلُهُ ، يا أَهْلَ التَّقْوى وَأَهْلَ الْمَغْفِرَةِ ثلاثاً.

ثمّ تقول إحدى عشرة مرةّ :

لا إِلهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لا شَريكَ لَهُ ، سُبْحانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ ، أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ ، ما شاءَ اللَّهُ وَلا قُوَّةَ إِلّا بِاللَّهِ ، هُوَ الْأَوَّلُ وَالْآخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْباطِنُ ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ ، يُحْيي وَيُميتُ ، وَيُميتُ وَيُحْيي ، وَهُوَ حَيٌّ لايَمُوتُ ، بِيَدِهِ الْخَيْرُ ، وَهُوَ عَلى كُلِّ شَيْ‏ءٍ قَديرٌ.

ثمّ تقول إحدى عشرة مرّة :

سُبْحانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ للَّهِِ وَلا إِلهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ ، أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ ، ما شاءَ اللَّهُ لا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ إِلّا بِاللَّهِ الْحَليمِ الْكَريمِ الْعَلِيِّ الْعَظيمِ الرَّحْمنِ الرَّحيمِ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ الْحَقِّ الْمُبينِ ، عَدَدَ خَلْقِهِ وَزِنَةَ عَرْشِهِ وَمِلْأَ سَماواتِهِ وَأَرَضيهِ ، وَعَدَدَ ما جَرى بِهِ قَلَمُهُ وَأَحْصاهُ كِتابُهُ وَمِدادُ كَلِماتِهِ وَرِضا نَفْسِهِ.

ثمّ قل :

أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَأَهْلِ بَيْتِ مُحَمَّدٍ الْمُبارَكينَ ، وَصَلِّ عَلى جَبْرَئيلَ وَميكائيلَ وَإِسْرافيلَ ، وَحَمَلَةِ عَرْشِكَ أَجْمَعينَ ، وَالْمَلائِكَةِ الْمُقَرَّبينَ أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِمْ حَتَّى تُبَلِّغَهُمُ الرِّضا ، وَتَزيدَهُمْ بَعْدَ الرِّضا مِمَّا أَنْتَ أَهْلُهُ ، يا أَرْحَمَ الرَّاحِمينَ.

أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ، وَصَلِّ عَلى مَلَكِ الْمَوْتِ وَأَعْوانِهِ ، وَصَلِّ عَلى رِضْوانَ وَخَزَنَةِ الْجِنانِ ، وَصَلِّ عَلى مالِكٍ وَخَزَنَةِ النّيرانِ أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِمْ حَتَّى تُبَلِّغَهُمُ الرِّضا ، وَتَزيدَهُمْ بَعْدَ الرِّضا مِمَّا أَنْتَ أَهْلُهُ ، يا أَرْحَمَ الرَّاحِمينَ.

أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى الْكِرامِ الْكاتِبينَ ، وَالسَّفَرَةِ الْكِرامِ الْبَرَرَةِ ، وَالْحَفَظَةِ لِبَني آدَمَ ، وَصَلِّ عَلى مَلائِكَةِ الْهَواءِ وَالسَّماواتِ الْعُلى ، وَمَلائِكَةِ الْأَرَضينَ السُّفْلى ، وَمَلائِكَةِ اللَّيْلِ وَالنَّهارِ ، وَالْأَرْضِ وَالْأَقْطارِ ، وَالْبِحارِ وَالْأَنْهارِ ، وَالْبَراري وَالْفَلَواتِ وَالْقِفارِ ، وَصَلِّ عَلى مَلائِكَتِكَ الَّذينَ أَغْنَيْتَهُمْ عَنِ الطَّعامِ وَالشَّرابِ بِتَسْبيحِكَ وَتَقْديسِكَ وَعِبادَتِكَ أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِمْ حَتَّى تُبَلِّغَهُمُ الرِّضا ، وَتَزيدَهُمْ بَعْدَ الرِّضا مِمَّا أَنْتَ أَهْلُهُ يا أَرْحَمَ الرَّاحِمينَ.

أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ، وَصَلِّ عَلى أَبينا آدَمَ ، وَاُمِّنا حَوَّاءَ وَما وَلَدا مِنَ النَّبيّينَ وَالصِّدّيقينَ وَالشُّهَداءِ وَالصَّالِحينَ أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِمْ حَتَّى تُبَلِّغَهُمُ الرِّضا ، وَتَزيدَهُمْ بَعْدَ الرِّضا مِمَّا أَنْتَ أَهْلُهُ ، يا أَرْحَمَ الرَّاحِمينَ.

أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَأَهْلِ بَيْتِهِ الطَّيِّبينَ ، وَعَلى أَصْحابِهِ الْمُنْتَجَبينَ ، وَعَلى أَزْواجِهِ الْمُطَهَّراتِ ، وَعَلى ذُرِّيَّةِ مُحَمَّدٍ ، وَعَلى كُلِّ نَبِيٍّ بَشَّرَ بِمُحَمَّدٍ ، وَعَلى كُلِّ نَبِيٍّ وَلَدَ مُحَمَّداً ، وَعَلى كُلِّ مَنْ في صَلَواتِكَ عَلَيْهِ رِضىً لَكَ وَرِضىً لِنَبِيِّكَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِمْ حَتَّى تُبَلِّغَهُمُ الرِّضا ، وَتَزيدَهُمْ بَعْدَ الرِّضا مِمَّا أَنْتَ أَهْلُهُ ، يا أَرْحَمَ الرَّاحِمينَ.

أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ، وَبارِكْ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ، وَارْحَمْ مُحَمَّداً وَآلِ مُحَمَّدٍ ، كَأَفْضَلِ ما صَلَّيْتَ وَبارَكْتَ وَتَرَحَّمْتَ عَلى إِبْراهيمَ وَآلِ إِبْراهيمَ ، إِنَّكَ حَميدٌ مَجيدٌ.

أَللَّهُمَّ أَعْطِ مُحَمَّداً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ الْوَسيلَةَ وَالْفَضْلَ ، وَالْفَضيلَةَ وَالدَّرَجَةَ الرَّفيعَةَ ، وَأَعْطِهِ حَتَّى يَرْضى ، وَزِدْهُ بَعْدَ الرِّضا مِمَّا أَنْتَ أَهْلُهُ ، يا أَرْحَمَ الرَّاحِمينَ.

أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ، كَما أَمَرْتَنا أَنْ نُصَلِّيَ عَلَيْهِ أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ، كَما يَنْبَغي لَنا أَنْ نُصَلِّيَ عَلَيْهِ أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ بِعَدَدِ مَنْ صَلَّى عَلَيْهِ.

أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ بِعَدَدِ مَنْ لَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ بِعَدَدِ كُلِّ حَرْفٍ في صَلوةٍ صُلِّيَتْ عَلَيْهِ أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ بِعَدَدِ مَنْ صَلَّى عَلَيْهِ وَمَنْ لَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ

أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ بِعَدَدِ كُلِّ شَعْرَةٍ وَلَفْظَةٍ وَلَحْظَةٍ وَنَفَسٍ وَصِفَةٍ وَسُكُونٍ وَحَرَكَةٍ مِمَّنْ صَلَّى عَلَيْهِ ، وَمِمَّنْ لَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ ، وَبِعَدَدِ ساعاتِهِمْ وَدَقائِقِهِمْ ، وَسُكُونِهِمْ وَحَرَكاتِهِمْ ، وَحَقائِقِهِمْ وَميقاتِهِمْ ، وَصِفاتِهِمْ وَأَيَّامِهِمْ ، وَشُهُورِهِمْ وَسِنيهِمْ ، وَأَشْعارِهِمْ وَأَبْشارِهِمْ ، وَبِعَدَدِ زِنَةِ ذَرِّ ما عَمِلُوا ، أَوْ يَعْمَلُونَ أَوْ بَلَغَهُمْ أَوْ رَأَوْا أَوْ ظَنُّوا أَوْ فَطِنُوا ، أَوْ كانَ مِنْهُمْ ، أَوْ يَكُونُ إِلى يَوْمِ الْقِيامَةِ ، وَكَأَضْعافِ ذلِكَ أَضْعافاً مُضاعَفَةً إِلى يَوْمِ الْقِيامَةِ ، يا أَرْحَمَ الرَّاحِمينَ.

أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ بِعَدَدِ ما خَلَقْتَ ، وَما أَنْتَ خالِقُهُ إِلى يَوْمِ الْقِيامَةِ ، صَلوةً تُرْضيهِ

أَللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ وَالثَّناءُ وَالشُّكْرُ ، وَالْمَنُّ وَالْفَضْلُ ، وَالطَّوْلُ وَالْخَيْرُ ، وَالْحُسْنى وَالنِّعْمَةُ ، وَالْعَظَمَةُ وَالْجَبَرُوتُ ، وَالْمُلْكُ وَالْمَلَكُوتُ ، وَالْقَهْرُ وَالسُّلْطانُ ، وَالْفَخْرُ وَالسُّؤْدَدُ ، وَالْإِمْتِنانُ وَالْكَرَمُ ، وَالْجَلالُ وَالْإِكْرامُ ، وَالْجَمالُ وَالْكَمالُ ، وَالْخَيْرُ وَالتَّوْحيدُ وَالتَّمْجيدُ ، وَالتَّحْميدُ وَالتَّهْليلُ وَالتَّكْبيرُ وَالتَّقْديسُ ، وَالرَّحْمَةُ وَالْمَغْفِرَةُ ، وَالْكِبْرِياءُ وَالْعَظَمَةُ

وَلَكَ ما زَكى وَطابَ وَطَهُرَ مِنَ الثَّناءِ الطَّيِّبِ ، وَالْمَديحِ الْفاخِرِ ، وَالْقَوْلِ الْحَسَنِ الْجَميلِ الَّذي تَرْضى بِهِ عَنْ قائِلِهِ ، وَتُرْضِيَ بِهِ قائِلَهُ وَهُوَ رِضىً لَكَ يَتَّصِلُ حَمْدي بِحَمْدِ أَوَّلِ الْحامِدينَ ، وَثَنائي بِثَناءِ أَوَّلِ الْمُثْنينَ عَلى رَبِّ الْعالَمينَ مُتَّصِلاً ذلِكَ بِذلِكَ ، وَتَهْليلي بِتَهْليلِ أَوَّلِ الْمُهَلِّلينَ ، وَتَكْبيري بِتَكْبيرِ أَوَّلِ الْمُكَبِّرينَ ، وَقَوْلِيَ الْحَسَنُ الْجَميلُ بِقَوْلِ أَوَّلِ الْقائِلينَ الْمُجْمِلينَ الْمُثْنينَ عَلى رَبِّ الْعالَمينَ ، مُتَّصِلاً ذلِكَ بِذلِكَ ، مِنْ أَوَّلِ الدَّهْرِ إِلى آخِرِهِ

وَبِعَدَدِ زِنَةِ ذَرِّ السَّماواتِ وَالْأَرَضينَ ، وَالرِّمالِ وَالتِّلالِ وَالْجِبالِ ، وَعَدَدِ جُرَعِ ماءِ الْبِحارِ، وَعَدَدِ قَطْرِ الْأَمْطارِ ، وَوَرَقِ الْأَشْجارِ ، وَعَدَدِ النُّجُومِ ، وَعَدَدِ الثَّرى وَالْحَصى وَالنَّوى وَالْمَدَرِ ، وَعَدَدِ زِنَةِ ذلِكَ كُلِّهِ ، وَعَدَدِ زِنَةِ ذَرِّ السَّماواتِ وَالْأَرَضينَ ، وَما فيهِنَّ وَما بَيْنَهُنَّ وَما تَحْتَهُنَّ ، وَما بَيْنَ ذلِكَ وَما فَوْقَهُنَّ إِلى يَوْمِ الْقِيامَةِ ، مِنْ لَدُنِ الْعَرْشِ إِلى قَرارِ أَرْضِكَ السَّابِعَةِ السُّفْلى

وَبِعَدَدِ حُرُوفِ أَلْفاظِ أَهْلِهِنِّ ، وَعَدَدِ أَزْمانِهِمْ وَدَقائِقِهِمْ وَشَعائِرِهِمْ وَساعاتِهِمْ وَأَيَّامِهِمْ ، وَشُهُورِهِمْ وَسِنيهِمْ ، وَسُكُونِهِمْ وَحَرَكاتِهِمْ ، وَأَشْعارِهِمْ وَأَبْشارِهِمْ

وَعَدَدِ زِنَةِ ذَرِّ ما عَمِلُوا أَوْ يَعْمَلُونَ أَوْ بَلَغَهُمْ أَوْ رَأَوْا أَوْ ظَنُّوا أَو فَطِنُوا أَوْ كانَ مِنْهُمْ أَوْ يَكُونُ إِلى يَوْمِ الْقِيامَةِ ، وَعَدَدِ زِنَةِ ذَرِّ ذلِكَ وَأَضْعافِ ذلِكَ ، وَكَأَضْعافِ ذلِكَ أَضْعافاً مُضاعَفَةً لايَعْلَمُها وَلايُحْصيها غَيْرُكَ يا ذَا الْجَلالِ وَالْإِكْرامِ ، وَأَهْلُ ذلِكَ أَنْتَ ، وَمُسْتَحِقُّهُ وَمُسْتَوْجِبُهُ مِنّي وَمِنْ جَميعِ خَلْقِكَ يا بَديعَ السَّمواتِ وَالْأَرْضِ

أَللَّهُمَّ إِنَّكَ لَسْتَ بِرَبٍّ اسْتَحْدَثْناكَ ، وَلا مَعَكَ إِلهٌ فَيَشْرَكَكَ في رُبُوبِيَّتِكَ ، وَلا مَعَكَ إِلهٌ أَعانَكَ عَلى خَلْقِنا ، أَنْتَ رَبُّنا كَما تَقُولُ وَفَوْقَ ما يَقُولُ الْقائِلُونَ ، أَسْأَلُكَ أَنْ تُصَلِّيَ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ، وَأَنْ تُعْطِيَ مُحَمَّداً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ أَفْضَلَ ما سَأَلَكَ ، وَأَفْضَلَ ما سُئِلْتَ ، وَأَفْضَلَ ما أَنْتَ مَسْؤُولٌ لَهُ إِلى يَوْمِ الْقِيامَةِ

اُعيذُ أَهْلَ بَيْتِ النَّبِيِّ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَنَفْسي وَديني وَذُرِّيَّتي وَمالي وَوَلَدي وَأَهْلي وَقَراباتي وَأَهْلَ بَيْتي وَكُلَّ ذي رَحِمٍ لي دَخَلَ فِي الْإِسْلامِ ، أَوْ يَدْخُلُ إِلى يَوْمِ الْقِيامَةِ ، وَحُزانَتي وَخاصَّتي ، وَمَنْ قَلَّدَني دُعاءً أَوْ أَسْدى إِلَيَّ يَداً ، أَوْ رَدَّ عَنّي غَيْبَةً ، أَوْ قالَ فِيَّ خَيْراً ، أَوِ اتَّخَذْتُ عِنْدَهُ يَداً أَوْ صَنيعَةً ، وَجيراني وَ إِخْواني مِنَ الْمُؤْمِنينَ وَالْمُؤْمِناتِ بِاللَّهِ وَبِأَسْمائِهِ التَّامَّةِ الْعامَّةِ الشَّامِلَةِ الْكامِلَةِ الطَّاهِرَةِ الْفاضِلَةِ الْمُبارَكَةِ الْمُتَعالِيَةِ الزَّاكِيَةِ الشَّريفَةِ الْمَنيعَةِ الْكَريمَةِ الْعَظيمَةِ الْمَخْزُونَةِ الْمَكْنُونَةِ الَّتي لايُجاوِزُهُنَّ بَرٌّ وَلا فاجِرٌ ، وَبِاُمِّ الْكِتابِ وَخاتِمَتِهِ ، وَما بَيْنَهُما مِنْ سُورَةٍ شَريفَةٍ ، وَآيَةٍ مُحْكَمَةٍ ، وَشِفاءٍ وَرَحْمَةٍ ، وَعَوْذَةٍ وَبَرَكَةٍ ، وَبِالتَّوْريةِ وَالْإِنْجيلِ وَالزَّبُورِ وَالْفُرْقانِ وَصُحُفِ إِبْراهيمَ وَمُوسى ، وَبِكُلِّ كِتابٍ أَنْزَلَهُ اللَّهُ ، وَبِكُلِّ رَسُولٍ أَرْسَلَهُ اللَّهُ ، وَبِكُلِّ حُجَّةٍ أَقامَهَا اللَّهُ ، وَبِكُلِّ بُرْهانٍ أَظْهَرَهُ اللَّهُ ، وَبِكُلِّ نُورٍ أَنارَهُ اللَّهُ ، وَبِكُلِّ آلاءِ اللَّهِ وَعَظَمَتِهِ

اُعيذُ وَأَسْتَعيذُ مِنْ شَرِّ كُلِّ ذِي شَرٍّ ، وَمِنْ شَرِّ ما أَخافُ وَأَحْذَرُ ، وَمِنْ شَرِّ ما رَبّي مِنْهُ أَكْبَرُ ، وَمِنْ شَرِّ فَسَقَةِ الْعَرَبِ وَالْعَجَمِ ، وَمِنْ شَرِّ فَسَقَةِ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ ، وَالشَّياطينِ وَالسَّلاطينِ ، وَإِبْليسَ وَجُنُودِهِ وَأَشْياعِهِ وَأَتْباعِهِ ، وَمِنْ شَرِّ ما فِي النُّورِ وَالظُّلْمَةِ ، وَمِنْ شَرِّ ما دَهَمَ أَوْ هَجَمَ أَوْ أَلَمَّ ، وَمِنْ شَرِّ كُلِّ غَمٍّ وَهَمٍّ وَآفَةٍ وَنَدَمٍ وَنازِلَةٍ وَسَقَمٍ

وَمِنْ شَرِّ ما يَحْدُثُ فِي اللَّيْلِ وَالنَّهارِ وَتَأْتي بِهِ الْأَقْدارُ ، وَمِنْ شَرِّ ما فِي النَّارِ ، وَمِنْ شَرِّ ما فِي الْأَرَضينَ وَالْأَقْطارِ وَالْفَلَواتِ وَالْقِفارِ وَالْبِحارِ وَالْأَنْهارِ ، وَمِنْ شَرِّ الْفُسَّاقِ وَالْفُجَّارِ وَالْكُهَّانِ وَالسُّحَّارِ وَالْحُسَّادِ وَالذُّعَّارِ وَالْأَشْرارِ ، وَمِنْ شَرِّ ما يَلِجُ فِي الْأَرْضِ ، وَما يَخْرُجُ مِنْها ، وَما يَنْزِلُ مِنَ السَّماءِ ، وَما يَعْرُجُ إِلَيْها ، وَمِنْ شَرِّ كُلِّ ذي شَرٍّ ، وَمِنْ شَرِّ كُلِّ دابَّةٍ رَبّي آخِذٌ بِناصِيَتِها ، إِنَّ رَبّي عَلى صِراطٍ مُسْتَقيمٍ ، فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ حَسْبِيَ اللَّهُ ، لا إِلهَ إِلّا هُوَ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ ، وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظيمِ

وَأَعُوذُ بِكَ اللَّهُمَّ مِنَ الْهَمِّ وَالْغَمِّ وَالْحُزْنِ ، وَالْعَجْزِ وَالْكَسَلِ ، وَالْجُبْنِ وَالْبُخْلِ ، وَمِنْ ضَلَعِ الدَّيْنِ وَغَلَبَةِ الرِّجالِ ، وَمِنْ عَمَلٍ لايَنْفَعُ ، وَمِنْ عَيْنٍ لاتَدْمَعُ ، وَمِنْ قَلْبٍ لايَخْشَعُ ، وَمِنْ دُعاءٍ لايُسْمَعُ ، وَمِنْ نَصيحَةٍ لاتَنْجَعُ ، وَمِنْ صَحابَةٍ لاتَرْدَعُ ، وَمِنْ إِجْماعٍ عَلى نُكْرٍ وَتَوَدُّدٍ عَلى خُسْرٍ أَوْ تَؤاخُذٍ عَلى خُبْثٍ ، وَمِمَّا اسْتَعاذَ مِنْهُ مَلائِكَتُكَ الْمُقَرَّبُونَ وَالْأَنْبِياءُ الْمُرْسَلُونَ ، وَالْأَئِمَّةُ الْمُطَهَّرُونَ ، وَالشُّهَداءُ وَالصَّالِحُونَ ، وَعِبادُكَ الْمُتَّقُونَ

وَأَسْأَلُكَ اللَّهُمَّ أَنْ تُصَلِّيَ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ، وَأَنْ تُعْطِيَني مِنَ الْخَيْرِ ما سَأَلُوا ، وَأَنْ تُعيذَني مِنْ شَرِّ مَا اسْتَعاذُوا ، وَأَسْأَلُكَ اللَّهُمَّ مِنَ الْخَيْرِ كُلِّهِ عاجِلِهِ وآجِلِهِ ما عَلِمْتُ مِنْهُ وَما لَمْ أَعْلَمْ ، وَأَعُوذُ بِكَ رَبِّ مِنْ هَمَزاتِ الشَّياطينِ ، وَأَعُوذُ بِكَ رَبِّ أَنْ يَحْضُرُونِ

بِسْمِ اللَّهِ عَلى أَهْلِ بَيْتِ النَّبِيِّ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ ، بِسْمِ اللَّهِ عَلى نَفْسي وَديني ، بِسْمِ اللَّهِ عَلى أَهْلي وَمالي ، بِسْمِ اللَّهِ عَلى كُلِّ شَيْ‏ءٍ أَعْطاني رَبّي ، بِسْمِ اللَّهِ عَلى أَحِبَّتي وَوَلَدي وَقَراباتي ، بِسْمِ اللَّهِ عَلى جيراني وَ إِخْواني ، وَمَنْ قَلَّدَني دُعاءً ، أَوِ اتَّخَذَ عِنْدي يَداً ، أَوِ ابْتَدَءَ إِلَيَّ بِرّاً مِنَ الْمُؤْمِنينَ وَالْمُؤْمِناتِ ، بِسْمِ اللَّهِ عَلى ما رَزَقَني رَبّي وَيَرْزُقُني ، بِسْمِ اللَّهِ الَّذي لايَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْ‏ءٌ فِي الْأَرْضِ وَلا فِي السَّماءِ وَهُوَ السَّميعُ الْعَليمُ

أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَصِلْني بِجَميعِ ما سَأَلَكَ عِبادُكَ الْمُؤْمِنُونَ ، أَنْ تَصِلَهُمْ بِهِ مِنَ الْخَيْرِ ، وَاصْرِفْ عَنّي جَميعَ ما سَأَلَكَ عِبادُكَ الْمُؤْمِنُونَ ، أَنْ تَصْرِفَهُ عَنْهُمْ مِنَ السُّوءِ وَالرَّدى ، وَزِدْني مِنْ فَضْلِكَ ما أَنْتَ أَهْلُهُ وَوَلِيُّهُ ، يا أَرْحَمَ الرَّاحِمينَ

أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَأَهْلِ بَيْتِهِ الطَّيِّبينَ ، وَعَجِّلِ اللَّهُمَّ فَرَجَهُمْ وَفَرَجي وَفَرِّجْ عَنْ كُلِّ مَهْمُومٍ مِنَ الْمُؤْمِنينَ وَالْمُؤْمِناتِ

أَللَّهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ، وَارْزُقْني نَصْرَهُمْ ، وَأَشْهِدْني أَيَّامَهُمْ ، وَاجْمَعْ بَيْني وَبَيْنَهُمْ فِي الدُّنْيا وَالْآخِرَةِ ، وَاجْعَلْ مِنْكَ عَلَيْهِمْ واقِيَةً حَتَّى لايُخْلَصَ إِلَيْهِمْ إِلّا بِسَبيلِ خَيْرٍ ، وَعَلَيَّ مَعَهُمْ ، وَعَلى شيعَتِهِمْ وَمُحِبّيهِمْ ، وَعَلى أَوْلِيائِهِمْ ، وَعَلى جَميعِ الْمُؤْمِنينَ وَالْمُؤْمِناتِ ، فَإِنَّكَ عَلى كُلِّ شَيْ‏ءٍ قَديرٌ

بِسْمِ اللَّهِ وَبِاللَّهِ وَمِنَ اللَّهِ وَ إِلَى اللَّهِ ، وَلا غالِبَ إِلّاَ اللَّهُ ، ما شاءَ اللَّهُ ، لا قُوَّةَ إِلّا بِاللَّهِ ، حَسْبِيَ اللَّهُ ، تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ ، وَاُفَوِّضُ أَمْري إِلَى اللَّهِ ، وَأَلْتَجِئُ إِلَى اللَّهِ وَبِاللَّهِ اُحاوِلُ وَاُصاوِلُ وَاُكاثِرُ وَاُفاخِرُ وَأَعْتَزُّ وَأَعْتَصِمُ ، عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَ إِلَيْهِ مَتابُ ، لا إِلهَ إِلّاَ اللَّهُ الْحَيُّ الْقَيُّومُ ، عَدَدَ الثَّرى وَالنُّجُومِ ، وَالْمَلائِكَةِ الصُّفُوفِ لا إِلهَ إِلّاَ اللَّهُ ، وَحْدَهُ لا شَريكَ لَهُ الْعَلِيُّ الْعَظيمُ ، لا إِلهَ إِلّاَ اللَّهُ سُبْحانَكَ إِنّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمينَ

وممّا خرج عن صاحب الزّمان صلوات اللَّه عليه زيادة في هذا الدّعاء (دعاء الحريق) إلى محمّد بن الصّلت القمي :

أَللَّهُمَّ رَبَّ النُّورِ الْعَظيمِ ، وَرَبَّ الْكُرْسِيِّ الرَّفيعِ ، وَرَبَّ الْبَحْرِ الْمَسْجُورِ ، وَمُنْزِلَ التَّوْراةِ وَالْإِنْجيلِ ، وَرَبَّ الظِّلِّ وَالْحَرُورِ ، وَمُنْزِلَ الزَّبُورِ وَالْقُرْآنِ الْعَظيمِ ، وَرَبَّ الْمَلائِكَةِ الْمُقَرَّبينَ وَالْأَنْبِياءِ الْمُرْسَلينَ.

أَنْتَ إِلهُ مَنْ فِي السَّماءِ ، وَ إِلهُ مَنْ فِي الْأَرْضِ ، لا إِلهَ فيهِما غَيْرُكَ ، وَأَنْتَ جَبَّارُ مَنْ فِي السَّماءِ ، وَجَبَّارُ مَنْ فِي الْأَرْضِ ، لا جَبَّارَ فيهِما غَيْرُكَ ، وَأَنْتَ خالِقُ مَنْ فِى السَّماءِ ، وَخالِقُ مَنْ فِي الْأَرْضِ ، لا خالِقَ فيهِما غَيْرُكَ ، وَأَنْتَ حَكَمُ مَنْ فِي السَّماءِ ، وَحَكَمُ مَنْ فِي الْأَرْضِ ، لا حَكَمَ فيهِما غَيْرُكَ.

أَللَّهُمَّ إِنّي أَسْأَلُكَ بِوَجْهِكَ الْكَريمِ ، وَبِنُورِ وَجْهِكَ الْمُنيرِ ، وَمُلْكِكَ الْقَديمِ ، يا حَيُّ يا قَيُّومُ ، أَسْأَلُكَ بِاسْمِكَ الَّذي أَشْرَقَتْ بِهِ السَّماواتُ وَالْأَرَضُونَ ، وَبِاسْمِكَ الَّذي يَصْلُحُ بِهِ الْأَوَّلُونَ وَالْآخِرُونَ ، يا حَيّاً قَبْلَ كُلِّ حَيٍّ ، وَيا حَيّاً بَعْدَ كُلِّ حَيٍّ ، وَيا حَيّاً حينَ لا حَيَّ ، وَيا مُحْيِيَ الْمَوْتى ، وَيا حَيُّ لا إِلهَ إِلّا أَنْتَ ، يا حَيُّ يا قَيُّومُ.

أَسْأَلُكَ أَنْ تُصَلِّيَ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ ، وَارْزُقْني مِنْ حَيْثُ أَحْتَسِبُ وَمِنْ حَيْثُ لا أَحْتَسِبُ رِزْقاً واسِعاً حَلالاً طَيِّباً ، وَأَنْ تُفَرِّجَ عَنِّي كُلَّ غَمٍّ وَهَمٍّ ، وَأَنْ تُعْطِيَني ما أَرْجُوهُ وَآمُلُهُ ، إِنَّكَ عَلى كُلِّ شَيْ‏ءٍ قَديرٌ.

۔ امام صادق کی دعاء الحاح آخری حجت سے منقول

ابو نعیم انصاری کہتاہے کہ مسجد الحرام میں تھا چند آدمی عمرہ کے لئے آئے ہوئے تھے ان میں سے ایک محمودی علّان کلینی ابو حیشم دیناری ابوجعفر احوال ہمدانی حجر اسود کے قریب کھڑے تھے تقریباً تین آدمی تھے اور ان کے درمیان میں جہاں تک میں جانتاہوں کہ محمد بن قاسم عقیقی کے علاوہ کوئی اور مخلص شخص نہیں تھا اس دن چھ ذوالحجہ سال ۲۹۳ تھا جیسے ہی ہم کھڑے تھے کہ اچانک ایک جوان طواف کعبہ مکمل کرنے کے بعد ہماری طرف آیا وہ احرام کے دو لباس پہنے ہوئے تھا اور کفش اس کے ہاتھ میں تھے جب ان کو دیکھا تو اس کی ہیبت اور متانت کو دیکھ کر ہم سب کھڑے ہوگئے اور اس کو سلام کیا وہ بیٹھا اور دائیں بائیں دیکھتا تھا اس وقت فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ حضرت صادق نے دعائے الحاح میں کیا فرمایا ہے ہم نے کہا کیا کہا ہے فرمایا کہ فرماتے تھے:

اللهم انی اسالک باسمک الذی به تقوم السماء و به تقوم الارض و به تفرق بین الحق والباطل و به تجمع بین المتفرق و به تفرق بین المجتمع و به احصیت عدد الرمال و زنه الجبال وکیل البحار ان تصلی علی محمد و آل محمد و ان تجعل لی من امری فرجاً و مخرجاً

جنة الواقیہ میں لکھتے ہیں کہ اس دعا کو ہر مشکل وقت میں صبح کے وقت پڑھے۔

ہر واجب نماز کے بعد آخری حجت سے منقول

ابو نعیم کہتاہے اس وقت حضرت اٹھا اور کعبہ کا طواف کرنے لگا ہم بھی اُٹھے اور ہم نے فراموش کیا کہ پوچھے کہ یہ کیا ہے وہ کون ہے کل اسی وقت اسی جگہ پر طواف سے باہر آیا اور ہم بھی کل کی طرف اتھے اس کے بعد جمعیت کے درمیان بیٹھیا ور دائیں بائیں دیکھا اور فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ حضرت امیرالمومنین واجب نماز کے بعد کیا دعا پڑھتے تھے ہم نے کہا وہ کیا پڑھتے ہیں فرمایا پڑھتا تھا

أَللَّهُمَّ إِلَيْكَ رُفِعَتِ الْأَصْواتُ ، ] وَدُعِيَتِ الدَّعَواتُ [ ، وَلَكَ عَنَتِ الْوُجُوهُ ، وَلَكَ خَضَعَتِ الرِّقابُ ، وَإِلَيْكَ التَّحاكُمُ فِي الْأَعْمالِ ، يا خَيْرَ مَسْؤُولٍ وَخَيْرَ مَنْ أَعْطى ، يا صادِقُ يا بارِئُ ، يا مَنْ لايُخْلِفُ الْميعادَ ، يا مَنْ أَمَرَ بِالدُّعاءِ وَتَكَفَّلَ بِالْإِجابَةِ.

يا مَنْ قالَ «اُدْعُوني أَسْتَجِبْ لَكُمْ » ، يا مَنْ قالَ «وَ إِذا سَأَلَكَ عِبادي عَنّي فَإِنّي قَريبٌ اُجيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذا دَعانِ فَلْيَسْتَجيبُوا لي وَلْيُؤْمِنُوا بي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ » ، يا مَنْ قالَ «يا عِبادِيَ الَّذينَ أَسْرَفُوا عَلى أَنْفُسِهِمْ لاتَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَميعاً إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحيمُ » وفي البحار:

لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، ها أَنَا ذا بَيْنَ يَدَيْكَ، اَلْمُسْرِفُ عَلى نَفْسي، وَأَنْتَ الْقائِلُ «لاتَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَميعاً ».

۶ ۔ دعاء حضرت امیرالمومنین سجدہ شکر میں آخری حجت سے منقول

اس وقت حضرت نے اس دعا کے بعد دائیں اور بائیں دیکھا اور فرمایا کیا تم جانتے ہو حضرت امیرالمومنین نے سجدہ شکر میں کیا پڑھتے تھے میں نے عرض کیا کہ کیا پڑھتے تھے فرمایا پڑھتے تھے۔

يا مَنْ لا يَزيدُهُ إِلْحاحُ الْمُلِحّينَ إِلّا جُوداً وَكَرَماً ، يا مَنْ لَهُ خَزائِنُ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ ، يا مَنْ لَهُ خَزائِنُ ما دَقَّ وَجَلَّ ، لاتَمْنَعُكَ إِساءَتي مِنْ إِحْسانِكَ إِلَيَّ.

إِنّي أَسْأَلُكَ أَنْ تَفْعَلَ بي ما أَنْتَ أَهْلُهُ ، وَأَنْتَ أَهْلُ الْجُودِ وَالْكَرَمِ وَالْعَفْوِ يا رَبَّاهُ يا اَللَّهُ ، إِفْعَلْ بي ما أَنْتَ أَهْلُهُ ، فَأَنْتَ قادِرٌ عَلَى الْعُقُوبَةِ وَقَدِ اسْتَحْقَقْتُها ، لا حُجَّةَ لي ، وَلا عُذْرَ لي عِنْدَكَ.

أَبُوءُ إِلَيْكَ بِذُنُوبي كُلِّها ، وَأَعْتَرِفُ بِها كَيْ تَعْفُوَ عَنّي ، وَأَنْتَ أَعْلَمُ بِها مِنّي ، بُؤْتُ إِلَيْكَ بِكُلِّ ذَنْبٍ أَذْنَبْتُهُ ، وَبِكُلِّ خَطيئَةٍ أَخْطَأْتُها ، وَبِكُلِّ سَيِّئَةٍ عَمِلْتُها، يا رَبِّ اغْفِرْ لي وَارْحَمْ وَتَجاوَزْ عَمَّا تَعْلَمُ إِنَّكَ أَنْتَ الْأَعَزُّ الْأَكْرَمُ.

۔ امام سجّاد کا سجدہ کی دعا مسجد الحرام میں آخری حجت سے منقول

ابو نعیم کہتاہے دوسرے دن اسی وقت حضرت تشریف لے آئے اور ہم نے پہلے دن کی طرح ان کا استقبال کیا اور وہ درمیان میں بیٹھے بائیں دائیں توجہ کی اور فرمایا حضرت علی بن الحسین سید العابدین نے اس مکان میں اپنے ہاتھ سے حجر الاسود کے پرنالہ کی طرف اشارہ کیا اور سجدہ میں اس طرح فرماتے تھے عبیدک بفنائک (وق فقیرک بفنائک) مسکینک ببابک اسالک مالا یقدر علیہ سواک پس اس کے بعد حضرت نے بائیں اور دائیں طرف نگاہ کی اور محمد بن قاسم علوی کو دیکھا اور فرمایا اے محمد بن قاسم! انشاء اللہ تو خیر اور نیکی پڑھے اس کے بعد اٹھا اور طواف میں مشغول ہوا جو دعائیں بھی ہمیں یاد کرائی سب کو یاد کیا اور فراموش کیا کہ اس کے بارے میں کوئی بات کرلوں سوائے آخری دن کے جب آخر روز ہوا محمد نے ہم سے کہا رفقا تم جانتے ہو کہ یہ کون ہے ہم نے کہا کہ نہیں کہا خدا کی قسم وہ صاحب الزمان ہے ہم نے کہا اے ابو علی وہ کس طرح ہے کہا تقریباً سات سال کا تھا کہ میں دعا کرتا تھا اور خداوند متعال سے چاہا کہ آخری حجت ہمیں دکھادے۔ شب عرفہ اسی شخص کو دیکھا وہ دعا پڑھ رہا تھا میں غور سے دعا کو حفظ کیا اور اس سے پوچھا کہ تم کون ہو فرمایا میں مردوں میں سے ہوں فرمایا کن لوگوں میں سے عرب ہو یا عجم؟ فرمایا کہ عرب ہوں میں نے کہا کہ عرب کے کس قبیلہ سے تعلق رکھتے ہو فرمایا ان میں سے شریف ترین عرب سے ہوں کس قبیلہ سے تعلق رکھتے ہو فرمایا بنی ہاشم سے میں نے کہا کہ بنی ہاشم میں سے کس سے تعلق رکھتے ہو فرمایا سب سے بلند ترین میں سے ہوں میں نے کہا کہ کس سے تعلق رکھتے ہو فرمایا کہ جس نے کفار کے سروں کو شگافتہ کیا اور لوگوں کو کھانا کھلا دیا اور نماز پڑھی حالانکہ لوگ سوئے ہوئے تھے میں نے سمجھا کہ وہ علوی ہے علوی ہونے کی وجہ سے اس کو دوست رکھتا ہوں پس اس کے بعد میرے سامنے سے غائب ہوئے اور میں ان کو گم کردیا ہمیں پتہ نہیں چلا کہ کہاں گئے آسمان میں چلے گئے یا زمین میں میرے اطراف میں جو تھے ان سے پوچھا اس سید علوی کو جانتے ہو انہوں نے کہا کہ کیوں نہیں وہ ہر سال ہمارے ساتھ پیادہ مکہ آتاہے۔ میں نے کہا سبھان اللہ خدا کی قسم میں نے اس کے پیادہ آنے کے آچار نہیں دیکھا اس کی جدائی کے غم نے میرے بدن کو گھیر لیا ہے اسی حالت میں مزد لفہ کی طرف چل پڑا رات کو وہیں پر سویا عالم خواب میں رسول خدا کو دیکھا فرمایا اے محمد جو کچھ تم چاہتے تھے اس کو دیکھ لیا میں نے عرض کیا اے میرے آقا وہ کون تھا فرمایا جس شخص کو تم نے کل دیکھا تھا وہ تیرا امام زمان تھا۔

دعائے عبرات کا واقعہ

آیة اللہ علامہ حلی کتاب منھاج الصلاح کے آخری میں دعائے عبرات کے بارے میں کہتے ہیں یہ معروف دعا ہے کہ جو امام صادق سے روایت ہوئی ہے یہ دعا سید بزرگوار راضی الدین محمد بن محمد کی جانب سے ہے اس میں ایک معروف حکایت ہے اسی کتاب کے ھاشیہ پر فضلاء میں سے کسی ایک کے خط کے ساتھ لکھا گیا ہے مولا سعید فخر الدین محمد فرزند شیخ بزرگوار جمال الدین نے اپنے باپ سے اس نے جد یوسف سے اس نے رضی مذکور سے نقل کیا ہے اور کہتاہے: سید رضی الدین جرماغنون کے امراء میں سے کسی ایک کے ہاتھ میں کافی مدت تک اسیر تھے اس کے ساتھ سختی سے پیش آتے تھے کھانے اور پینے میں تنگ کرتے تھے ایک رات امام زمانہ کو خواب میں دیکھتاہے اور گریہ کرتاہے اور کہتاہے اے میرے مولا ان ظالموں کے ہاتھ سے رہائی کے لئے شفاعت کریں حضرت نے فرمایا دعائے عبرات پڑھ لیں کہا کہ دعائے عبرات کونسی ہے فرماتے ہیں وہ دعا آپکی کتاب مصباح میں لکھی ہوئی ہے کہتاہے میرے مولا مصباح میں ایسی دعا نہیں ہے فرمایا دیکھ لیں مل جائی گی سید خواب سے بیدار ہوا اور نماز صبح پڑھی کتاب مصباح میں تلاش کیا ورقوں کے درمیان اس دعا کو دیکھا اس دعا کو چالیس مرتبہ پڑھا دوسری طرف جرماغون کے امیر کی دو بیویاں تھیں ان میں سے ایک عاقل و باتدبیر عورت تھی کہ وہ اپنے کاموں میں ان سے مشاورت کرتے تھے امیر کو اس عورت پر بہت زیادہ اعتماد تھا ایک دن اس کی باری تھی امیر اس کے گھر میں آیا اس کی بیوی نے کہا کیا حضرت امیرالمومنین کی اولاد میں کسی کو گرفتار کیا گیاہے وہ کہنے لگا کہ تم کس لئے مجھ سے پوچھتی ہو عورت کہنتے لگی میں نے ایک شخص کو دیکھا کہ جو سورج کی طرح درخشان تھا اس کو عالم خواب میں دیکھا اس نے اپنے دونوں انگلیوں کے ساتھ میرا گلا گھونٹا اور فرمایا کہ تمہارے شوہر نے میرے فرزند کو گرفتار کیا ہے اس نے اس کو کھانے اور پینے میں تنگ کیا ہے میں نے عرض کیا میرے آقا آپ کون ہیں فرمایا میں علی بن ابی طالب ہوں اور اپنے شوہر سے کہٰن اگر میرے فرزند کو رہا نہ کیا تو اس کے گھر کو خراب کروں گا جب یہ خبر بادشاہ کے کان میں پہنچی اس نے معلوم نہ ہونے کا اظہار کیا اس نے امیروں اور نائبوں کو طلب کیا اور کہا تمہارے پاس کون قید ہے انہوں نے کہا ایک بوڑھا علوی مرد ہے آپ نے خود گرفتاری کا حکم دیا ہے کہا اس کو چھوڑ دو اور سواری کے لئے اس کو گھوڑا دیدو اور اس کو راستہ بتادو تا کہ وہ اپنے گھر چلا جائے۔

سید بزرگوار علی بن طاوؤس مجھے الدعوات کے آخر میں کہتے ہیں کہ میرا دوست اور میرا بھائی محمد بن محمد قاضی نے اس دعا کے بارے میں تعجب آور اور حیرت انگیز واقعہ میرے لئے نقل کیا ہے اور ہو یہ کہ ایک واقعہ میرے لئے پیش آیا اور اس دعا کو اوراق کے درمیان سے نکالا حالانکہ اس سے پہلے یہ اوراق کتاب کے درمیان نہیں رکھے تھے۔ چونکہ اس سے نسخہ اٹھا لیتاہے اور اصلی دعا گم ہوجاتی ہے۔

دعائے عبرات

دعائے عبرات کو جو نسخہ مرحوم شیخ کفعمی نے ذکر کیا ہے اس کو ذکر کرتاہوں جناب شیخ البلد الامین میں کہتے ہیں کہ دعائے عبرات بہت عظیم دعا ہے یہ حضرت حجت سے روایت ہوئی ہے اور یہ دعا مہم امور اور بہت بڑی مشکلات میں پڑھی جاتی ہے اور وہ دعا یہ ہے۔

بسم الله الرّحمن الرّحیم اللّهمّ إنّی أسألک یا راحم العبرات و یا کاشف الکربات أنت الّذی تقشع سحائب المحن و قد أمست ثقالاً و تجلو ضباب الإحن و قد سحبت أذیالاً و تجعل زرعها هشیماً و عظامها رمیماً و تردّ المغلوب غالباً والمطلوب طالباً إلهی فکم من عبدٍ ناداک أنّی مغلوبٌ فانتصر ففتحت له من نصرک أبواب السّماء بماءٍ منهمرٍ و فجّرت له من عونک عیوناً فالتقی ماء فرجه علی أمرِ قدر و حملته من کفایتک علی ذات ألواحٍ و دسرٍ یا ربّ إنّی مغلوبٌ فانتصر یا ربّ إنّی مغلوبٌ فانتصر یا ربّ إنّی مغلوبٌ فانتصر فصلّ علی محمّد و آل محمّد وافتح لی من نصرک أبواب السّماء بماءٍ منهمرِ و فجّر لی من عونک عیوناً لیلتقی ماء فرجی علی أمرٍ قد قدر واحملنی یا ربّ من کفایتک علی ذات ألواحٍ و دسرٍ یا من إذا ولج العبد فی لیلٍ من حیرته یهیم فلم یجد له صریخاً یصرخه من ولیٍّ و لا حمیمٍ صلّ محمّد و آل محمّد و جد یا ربّ من معونتک صریخاً معیناً و ولیّاً یطلبه حثیثاً ینجّیه من ضیق أمره و حرجه و یظهر له المهمّ من أعلام فرجه اللّهمّ فیا من قدرته قاهرة و آیاته باهرةٌ و نقماته فاصمةٌ لکلّ جبارٍ دامغةٌ لکلّ کفورٍ ختّارٍ صلّ یا ربّ علی محمّد و آل محمّد وانظر إلیّ یا ربّ نظرةً من نظراتک رحیمةً تجلو بها عنّی ظلمةً واقفةً مقیمةً من عاهةً جفّت منها الضّروع و قلفت منها الزّروع واشتمل بها علی القلوب الیأس و جرت بسببها الأنفاس اللّهمّ صلّ علی محمّد و آل محمّد و حفظاً حفظاً لغرائس غرستها ید الرّحمن و شرّبها من ماء الحیوان أن تکون بید الشّیطان تجزّ و بفأسه تقطع و تحزّ إلهی من أولی منک أن یکون عن حماک حارساً و مانعاً إلهی إنّ الأمر قد هال فهوّنه و خشن فألنه و إنّ القلوب کاعت فطنّها والنّفوس ارتاعت فسکّنها إلهی تدارک أقداماً قد زلّت و أفهاماً فی مهامه الحیرة ضلّت أجحف الضّرّ بالمضرور فی داعیة الویل والثّبور فهل یحسن من فضلک أن تجعله فریسةً للبلاء و هو لک راجٍ أم هل یحمل من عدلک أن یخوض لجّة الغمّاء و هو إلیک لاجٍ مولای لئن کنت لا أشقّ علی نفسی فی التّقی و لا أبلغ فی حمل أعباء الطّاعة مبلغ الرّضا و لا أنتظم فی سلک قومٍ رفضوا الدّنیا فهم خمص البطون عمش العیون من البکاء بل أتیتک یا ربّ بضعفٍ من العمل و ظهرٍ ثقیلٍ بالخطاء والزّلل و نفسٍ للرّاحة معتادةٍ و لدواعی التّسویف منقادةٍ أما یکفیک یا ربّ وسیلةً إلیک و ذریعةً لدیک أنّی لأولیائک موالٍ و فی محبّتک مغالٍ أما یکفینی أن أرواح فیهم مظلوماً و أغدو مکظوماً و أقضی بعد همومٍ و بعد رجومٍ رجوماً أما عندک یا ربّ بهذه حرمةٌ لا تضیّع و ذمّةٌ بأدناها یقتنع فلم لا یمنعنی یا ربّ وها أنا ذا غریقٌ و تدعنی بنار عدوّک حریقٌ أتجعل أولیاءک لأعدائک مصائد و تقلّدهم من خسفهم قلائد و أنت مالک نفوسهم لو قبضتها جمدوا و فی قبضتک موادّ أنفاسهم لو قطعتها خمدوا و ما یمنعک یا ربّ أن تکفّ بأسهم و تنزع عنهم من حفظک لباسهم و تعریهم من سلامةٍ بها فی أرضک یسرحون و فی میدان البغی علی عبادک یمرحون اللّهمّ صلّ علی محمّد و آل محمّد و أدرکنی و لمّا یدرکنی الغرق و تدارکنی و لمّا غیّب شمسی للشّفق إلهی کم من خائف التجأ إلی سلطانٍ فآب عنه محفوفاً بأمنٍ و أمانٍ أ فأقصد یا ربّ بأعظم من سلطانک سلطاناً أم أوسع من إحسانک إحساناً أم أکثر من اقتدارک اقتداراً أم أکرم من انتصارک انتصاراً اللّهمّ أین کفایتک الّتی هی نصرة المستغیثین من الأنام و أین عنیتک الّتی هی جنّة المستهدفین لجور الأیّام إلیّ إلیّ بها یا ربّ نجّنی من القوم الظّالمین إنّی مسّنی الضّرّ و أنت أرحم الرّاحمین مولای تری تحیّری فی أمری و تقلّبی فی ضرّی و انطوای علی حرقة قلبی و حرارة صدری فصلّ یا ربّ علی محمّد و آل محمّد و جدلی یا ربّ بما أنت أهله فرجاً و مخرجاً و یسّرلی یا ربّ نحو الیسری منهجاً واجعل لی یا ربّ من نصب حبالاً لی لیصرعنی بها صریع ما مکره و من حفرلی البئر لیوقعنی فیها واقعاً فیما حفره و اصرف اللّهمّ عنّی شرّه و مکره و فساده و ضرّه ما تصرفه عمّن قاد نفسه لدین الدّیّان و منادٍ ینادی للأیمان إلهی عبدک عبدک أجب دعوته و ضعیفک ضعیفک فرّج غمّته فقد انقطع کلّ حبلٍ إلّا حبلک و تقلّص کلّ ظلٍّ إلّا ظلّک مولای دعوتی هذه إن رددتها أین تصادف موضع الإجابة و یجعلنی [مخلیلتی] إن کذّبتها أین تلاقی موضع الإجابة فلا تردّ عن بابک من لا یعرف غیره باباً و لا یمتنع دون جنابک من لا یعرف سواه جناباً و یسجد و یقول إلهی أنّ وجهاً إلیک برغبته توجّه فالرّاغب خلیقٌ بأن تجیبه و إنّ جبیناً لک بابتهاله سجد حقیقٌ أن یبلغ ما قصد و إنّ خدّاً إلیک بمسألته یعفّر جدیرٌ بأن یفوز بمراده و یظفر و ها أنا ذا یا إلهی قد تری تعفیر خدّی و ابتهالی و اجتهادی فی مسألتک و جدّی فتلقّ یا ربّ رغباتی برأفتک قبولاً و سهّل إلیّ طلباتی برأفتک وصولاً و ذلّل لی قطوف ثمرات إجابتک تذلیلاً إلهی لا رکن أشدّ منک ف آوی إلی رکنٍ شدیدٍ و قد أویت إلیک و عوّلت فی قضاء حوائجی علیک و لا قول أسدّ من دعائک فأستظهر بقولٍ سدیدٍ و قد دعوتک کما أمرت فاستجب لی بفضلک کما وعدت فهل بقی یا ربّ إلّا أن تجیب و ترحم منّی البکاء و النّحیب یا من لا إله سواه و یا من یجیب المضطرّ أذا دعاه ربّ انصرنی علی القوم الظّالمین وافتح لی و أنت خیر الفاتحین و الطف بی یا ربّ و بجمیع المؤمنین و المؤمنات برحمتک یا أرحم الرّاحمین


7

8

9

10

11