امام مہدی(عجل اللہ فرجہ)احادیث ِاہل سنت کےآئینے میں

امام مہدی(عجل اللہ فرجہ)احادیث ِاہل سنت کےآئینے میں0%

امام مہدی(عجل اللہ فرجہ)احادیث ِاہل سنت کےآئینے میں مؤلف:
: شیخ محمد علی توحیدی
: شیخ محمد علی توحیدی
ناشر: عالمی مجلس اہل بیت علیہم السلام
زمرہ جات: امام مہدی(عجّل اللّہ فرجہ الشریف)

امام مہدی(عجل اللہ فرجہ)احادیث ِاہل سنت کےآئینے میں

مؤلف: حجۃ الاسلام سید عبد الرحیم موسوی
: شیخ محمد علی توحیدی
: شیخ محمد علی توحیدی
ناشر: عالمی مجلس اہل بیت علیہم السلام
زمرہ جات:

مشاہدے: 374
ڈاؤنلوڈ: 36

تبصرے:

امام مہدی(عجل اللہ فرجہ)احادیث ِاہل سنت کےآئینے میں
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 46 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 374 / ڈاؤنلوڈ: 36
سائز سائز سائز
امام مہدی(عجل اللہ فرجہ)احادیث ِاہل سنت کےآئینے میں

امام مہدی(عجل اللہ فرجہ)احادیث ِاہل سنت کےآئینے میں

مؤلف:
ناشر: عالمی مجلس اہل بیت علیہم السلام
اردو

بسم اللہ الرحمن الرحیم

امام مہدی علیہ السلام احادیث ِاہل سنت کے آئینے میں

مولف : حجۃ الاسلام سید عبد الرحیم الموسوی

مترجم : حجۃ الاسلام شیخ محمد علی توحیدی

نام کتاب: اہل بیت کی رکاب میں ۔امام مہدی علیہ السلام احادیث ِاہل سنت کے آئینے میں

موضوع : علم رجال ،عقائد

مولف : سید عبد الرحیم الموسوی

مترجم : حجۃ الاسلام شیخ محمد علی توحیدی

کمپوز نگ : حجۃ الاسلام غلام حسن جعفری

اشاعت : اول ۲۰۱۸

ناشر: عالمی مجلس اہل بیت

ایمیل : ahl-ulbait.og

جملہ حقوق محفوظ ہیں

فہرستِ مطالب

عرضِ مجلس ۹

امام مہدی علیہ السلام،احادیث ِاہل سنت کے آئینے میں ۱۱

تمہید : ۱۱

حصہ اول: علمائے اہل سنت کا اعترافِ ولادت ۱۷

علمائے اہل سنت کا اعتراف کہ مہدی(عج) کی ولادت ہوچکی ہے ۱۷

حصہ دوم: امام مہدی (ع)کا نام و نسب ۲۳

امام مہدی علیہ السلام کا نام و نسب : ۲۳

مہدی علیہ السلام کنانی ،قرشی اور ہاشمی ہیں ۲۴

مہدی علیہ السلام عبد المطلب کی نسل سے ہیں ۲۴

مہدی علیہ السلام ابو طالب کی ذریت سے ہیں ۲۵

مہدیؑ اہل بیت کا ایک فرد ہے : ۲۶

مہدی(ع)تعلق کا رسول اللہ (ص) کی ذرّیت سے ۲۸

مہدی علیہ السلام کا تعلق رسول اللہ صلی اللہ وعلیہ وآلہ وسلم کی ذرّیت سے ہے ۲۸

مہدی علیہ السلام فاطمہ کی اولاد سے ہے ۲۸

امام مہدی ؑ کا تعلق امام حسین کؑی ذریت سے ہے ۲۹

امام مہدی علیہ السلام کی والدہ کا نام، ۳۰

امام مہدیؑ امام صادق ؑ کی نسل سے ہوں گے : ۳۰

مہدی ؑرضاؑ کی نسل سے ہوں گے ۳۱

امام مہدی ؑ کے والد کا اسم گرامی ۳۲

حصہ سوم:امام مہدی علیہ السلام کی صفات ۳۳

پہلی روایت : ۳۳

دوسری روایت : ۳۴

تیسری روایت : ۳۵

چوتھی روایت : ۳۵

پانچویں روایت : ۳۵

چھٹی روایت: ۳۵

ساتویں روایت : ۳۶

آٹھویں روایت : ۳۶

نویں روایت : ۳۶

دسویں روایت: ۳۷

گیارہویں روایت : ۳۸

حصہ چہارم: اللہ کے ہاں امام مہدیؑ کا مقام ۳۹

پہلی حدیث : ۳۹

دوسری روایت : ۴۰

تیسری حدیث : ۴۰

چوتھی حدیث : ۴۰

پانچویں حدیث : ۴۰

حصہ پنجم:مہدی ؑاللہ کا خلیفہ اور آخری امام ہیں ۴۱

پہلی حدیث: ۴۱

دوسری حدیث : ۴۲

تیسری روایت : ۴۲

چوتھی روایت : ۴۳

پانچویں حدیث: ۴۳

حصہ ششم:امام مہدیؑ حضرت عیسی ؑ کی امامت کریں گے ۴۴

پہلی روایت : ۴۴

دوسری روایت: ۴۴

تیسری روایت : ۴۵

چوتھی حدیث : ۴۵

پانچویں روایت : ۴۶

حصہ ہفتم:امام مہدیؑ کا پرچم ۴۸

حصہ ہشتم:امام مہدی علیہ السلام کی عطا ۴۹

پہلی روایت : ۴۹

دوسری روایت : ۴۹

تیسری روایت : ۵۰

چوتھی روایت : ۵۰

پانچویں روایت : ۵۰

حصہ نہم:امام مہدی علیہ السلام کے معجزے ۵۱

درج ذیل روایات اس حقیقت کی ترجمانی کرتی ہیں : ۵۱

پہلی روایت : ۵۱

خلاصہ کلام ۵۳

اہل ا لبیت علیہم السلام قرآن کے آئینے میں:

إِنَّمَا يُرِيدُ اللهُ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا(سور ۃٔ احزاب/۳۲

ترجمہ :

اے اہل بیت!

اللہ کا ارادہ بس یہی ہے

کہ وہ آپ سےہر طرح کی ناپاکی کو دور رکھے

اور آپ کو ایسے پاک و پاکیزہ رکھے

جیسے پاکیزہ رکھنے کا حق ہے ۔

اہل بیت رسول علیہم السلام , سنت نبوی کے آئینے میں:

’’ اِنِّیْ تَارِکٌ فِیْکُمُ الثَّقْلَیْنِ کِتَابَ اللهِ وَعِتْرَتِیْ اَهْلَ بَیْتِیْ مَا اِنْ تَمَسَّکْتُمْ بِهِمَا لَنْ تضلُّوْا بَعْدِیْ ‘‘

(صحاح و مسانید)

ترجمہ:میں تمہارے درمیان دوگرانقدر چیزیں چھوڑے جارہاہوں۔وہ اللہ کی کتاب اور میری عترت

یعنی میرےاہل بیت ہیں۔

جب تک تم ان سے تمسک رکھوگے

تب تک تم میرے بعد ہرگز گمراہ نہیں ہوگے ۔

عرضِ مجلس

اہل بیت علیہم السلام کا علمی و فکری ورثہ جسے مکتب اہل بیت نے اپنے دامن میں سمیٹا ہے اور اہل بیت کے پیروکاروں نے اسے ضائع ہونے سے بچایا ہے ایک ایسے مکتب فکر کی تصویر پیش کرتا ہے جو معارف ِاسلامیہ کی مختلف جہات کو محیط ہے ۔اس مکتب فکر نے اسلامی معارف کے اس صاف سرچشمے سے سیراب ہونے کے لائق نفوس کی ایک کھیپ کو پروان چڑھایا ہے ۔اس مکتب فکر نے امت مسلمہ کو ایسے عظیم علماء سے نوازا ہے جو اہل بیت علیہم السلام کے نظریاتی نقش قدم پر چلے ہیں ۔اسلامی معاشرے کے اندر اور باہر سے تعلق رکھنے والے مختلف فکری مناہج اور مذاہب کی جانب سے اُٹھنے والے سوالات ،شبہات اور تحفظات پر ان علماء کی مکمل نظر رہی ہے ۔

یہ علماء اور دانشور مسلسل کئی صدیوں تک ان سوالات اور شبہات کے معقول ترین اور محکم ترین جوابات پیش کرتے رہے ہیں ۔ عالمی مجلس اہل بیت نے اپنی سنگین ذمہ داریوں کو محسوس کرتے ہوئے ان اسلامی تعلیمات و حقائق کی حفاظت کی خاطر قدم بڑھایا ہے جن پر مخالف فِرق و مذاہب اور اسلام دشمن مکاتب و مسالک کے اربابِ بست و کشاد نے معاندانہ توجہ مرکوز رکھی ہے ۔ عالمی مجلس اہل بیت نے اس سلسلے میں اہل بیتعلیہم السلام اور مکتب اہلبیت کے ان پیروکاروں کے نقش قدم پر چلنے کی سعی کی ہے جنہوں نے ہر دور کے مسلسل چیلنجوں سے معقول ،مناسب اور مطلوبہ انداز میں نمٹنے کی کوشش کی ہے ۔

اس سلسلے میں مکتب اہل بیت کے علماء کی کتابوں کے اندر محفوظ علمی تحقیقات بے نظیر اور اپنی مثال آپ ہیں کیونکہ یہ تحقیقات بلند علمی سطح کی حامل ہیں ،عقل و برہان کی بنیادوں پر استوار ہیں اور مذموم تعصبات و خواہشات سے پاک ہیں نیز یہ بلند پایہ علماء و مفکرین کو اس انداز میں اپنا مخاطب قرار دیتی ہیں جو عقل سلیم اور فطرت سلیمہ کے ہاں مقبول اور پسندیدہ ہے ۔

عالمی مجلس اہل بیت کی کوشش رہی ہے کہ حقیقت کے متلاشیوں کے سامنے ان پربار حقائق اور معلومات کے حوالے سے گفتگو ،ڈائیلاگ اور شبہات و اعتراضات کے بارے میں بے لاگ سوال و جواب کا ایک جدید اسلوب پیش کیا جائے ۔ اس قسم کے شبہات و عتراضات گذشتہ ادوار میں بھی اٹھائے جاتے رہے ہیں اور آج بھی انہیں ہوا دی جارہی ہے ۔

اسلام اور مسلمانوں سے عداوت رکھنے والے بعض حلقے اس سلسلے میں انٹرنیٹ وغیرہ کے ذریعے بطور خاص جدو جہد کررہے ہیں ۔اس بارے میں مجلس اہل بیت کی یہ پالیسی رہی ہے کہ لوگوں کے جذبات اور تعصبات کو مذموم طریقے سے بھڑکانے سے اجتناب برتا جائے جبکہ عقل و فکر اور طالبِ حق نفوس کو بیدار کیا جائے تاکہ وہ ان حقائق سے آگاہ ہوں جنہیں اہل بیت علیہم السلام کا نظریاتی مکتب پورے عالم کے سامنے پیش کرتا ہے اور وہ بھی اس عصر میں جب انسانی عقول کے تکامل اور نفوس و ارواح کے ارتباط کا سفر منفرد انداز میں تیزی کے ساتھ جاری و ساری ہے ۔

یہاں اس بات کی طرف اشارہ ضروری ہے کہ زیر نظر تحقیقی مباحث ممتاز علماء اور دانشوروں کی ایک خاص کمیٹی کی کاوشوں کا نتیجہ ہیں ۔ہم ان تمام حضرات اور ان ارباب ِعلم و تحقیق کے شاکر اور قدر دان ہیں جن میں سے ہر ایک نے ان علمی مباحث کے مختلف حصوں کا جائزہ لے کر ان کے بارے میں اپنے قیمتی ملاحظات سے نوازا ہے ۔

ہمیں امید ہے کہ ہم نے اپنی ان ذمہ داریوں میں سے بعض کو ادا کرنے میں ممکنہ کوشش سے کام لیا ہے جو ہمارے اس عظیم رب کے پیغام کو پہنچانے کے حوالے سے ہمارے اوپر عائد ہوتی ہیں جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور برحق دین کے ساتھ بھیجا ہے تاکہ وہ اسے تمام ادیان پر غالب کرے اور گواہی کے لیے تو اللہ ہی کافی ہے ۔

عالمی مجلس اہل بیت شعبہ ثقافت

امام مہدی علیہ السلام،احادیث ِاہل سنت کے آئینے میں

تمہید :

مصلح ِعالم کے قطعی ظہور ار اس کی عادلانہ حکومت کے یقینی قیام پر ایمان صرف آسمانی ادیان کے ساتھ مختص نہیں ہے بلکہ اس اعتقاد کا دائرہ غیر دینی فلسفی اور نظریاتی مکاتب ِ فکر کو بھی محیط ہے ۔

بطور مثال جدلی مادیت جس نے تناقضات کی بنیاد پر تاریخ کی تفسیر پیش کی ہے اس بات کی معتقد ہے کہ وہ یوم ِموعود ضرور آئے گا جس میں تناقضات کا خاتمہ ہوگا اور الفت و سلامتی کا دور دورہ ہوگا ۔

(دیکھئےشہید سید محمد باقر الصدر کی بحث حول المہدی ؑ ،ص ۸۷)

اسی طرح بعض غیر دینی مفکرین بھی اس بات کے معتقد ہیں کہ ایسا ضرور ہوگا ۔بطور مثال معروف برطانوی مفکر بر ٹرینڈ رَسَل کہتا ہے :

یہ عالم ایک ایسے مصلح کا منتظر ہے جو ایک ہی پرچم تلے اور ایک ہی نعرے کے زیر سایہ پورے عالم کو ایک مرکز پر جمع کرے گا ۔

(دیکھئے سید عبد الرضا شہرستانی کی’’ المہدی الموعودودفع الشبہات عنہ‘‘ ص ۶)

معروف سائنسدان البرٹ آئن سٹائن نے بھی بالکل یہی نقطہ نظر پیش کرتے ہوئے کہا ہے : اس دن کی آمد بعید نہیں ہے جب پورے عالم میں امن و سلامتی اور اخلاص کا دور دورہ ہوگا نیز لوگوں کے درمیان محبت اور بھائی چارے کی فضا حاکم ہوگی ۔

( دیکھئے سید عبد الرضا شہرستانی کی’’ المہدی الموعودودفع الشبہات عنہ‘‘ ص ۶)

آئرش مفکر برنارڈ شانے دونوں سابق الذکر صریح بیانات سے زیادہ صریح اور دقیق انداز میں مصلح ِعالم کی توصیف کرتے ہوئے اور اس کے ظہور سے پہلے اس کی طویل عمر کو لازم قرار دیتے ہوئے کہا ہے : وہ ایک زندہ انسان ہے جو ایک صحیح و سالم جسمانی ساخت اور غیر معمولی عقلی قوت کا حامل ہوگا ۔

وہ ایک اعلیٰ انسان ہے اور یہ ادنیٰ انسان طویل جد جہد کے بعد اس کی جانب بڑھتا ہے ۔اس کی عمر طویل یہاں تک کہ تین سو سال سے بھی زیادہ ہوگی ۔وہ اس بات پر قادر ہوگا کہ اپنی طویل زندگی کے دوران حاصل شدہ مجموعی تجربات سے استفادہ کر سکے ۔

(دیکھیے: عباس محمود العقاد کی کتاب برنارڈ شا ،ص ۱۲۴۔۱۲۵)

ادھر آسمانی ادیان نے اس مصلح عالم کے ظہور کے قطعی ہونے کی جانب اشارہ کیا ہے ۔مقدس آسمانی کتابوں میں مذکور بشارتوں کے تحقیقی جائزے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی رو سے یہ مصلح وہی مہدیؑ ہے جو مذہب اہل بیت کے اعتقادات کا حصہ ہے ۔ ان بشارتوں پر مشتمل بیانات کے بارے میں انجام پانے والی متعدد تحقیقات سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے ۔

(دیکھئے شیخ صادقی کی بشارات عہدین ،ترجمۂ: البشارات و المقارنات )

قاضی ساباطی نے مصلح عالم کے بارے میں حضرت عیسیعلیہ السلام کے دور سے پہلے کی مقدس کتابوں میں سے کتاب اشعیا کے اندر مذکور ایک بشارت تک رسائی حاصل کرتے ہوئے کہا ہے :

یہ مہدی علیہ السلام کے بارے میں صریح بیان ہے ۔

اس کے بعد وہ کہتے ہیں :

’’امامیہ کہتے ہیں کہ:اس سے مراد محمد بن حسن عسکری ہیں جو ۲۵۵ ھ میں حسن عسکری کی کنیز" نرجس خاتون"کے بطن سے معتمد کے عہد میں عراق کےشہر ’’سُرَّ مَنْ رَأیٰ ‘‘ میں پیدا ہو ئے پھر ایک سال غائب رہے ،

(یہ بات ثابت ہے کہ امام مہدی علیہ السلام اپنے پدر گرامی کی رحلت کے بعد ۶۹ سال مسلسل غائب رہے )

پھر ظاہر ہوئے اور پھر غیبت کبریٰ میں چلے گئے ۔

اس کے بعد آپ اس وقت تک ظاہر نہیں ہوں گے جب تک اللہ ارادہ نہ فرمائے ۔

چونکہ امامیہ کا قول اس نص کے ساتھ زیادہ ہماہنگ ہے اور میرا مقصد بھی یہ ہے کہ میں کسی قسم کے مذہبی تعصب کے بغیر امت محمد کا دفاع کروں اس لئے آپ سے میری عرض ہے کہ امامیہ حضرات کا دعویٰ اس نص کے ساتھ ہماہنگ ہے ۔‘‘

( البراہین الساباطیہ میں اسے میرزا نوری کی کتاب کشف الاستار ،ص ۸۴ سے نقل کیا گیا ہے )

اسی طرح علامہ محمد رضا فخر الاسلام (جو پہلے نصرانی تھے پھر مسلمان ہوکر مذہب اہل بیت کے پیروکار بن گئے ) بھی اسی نتیجے تک پہنچ گئے جس تک ساباطی پہنچے تھے ۔موصوف نے یہودو نصاریٰ کی ردّ میں ایک تفصیلی کتاب ’’انیس الاعلام ‘‘لکھی ہے اور اپنی تحقیقی کاوش میں ان بشارتوں کا ذکر کیا ہے اور یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ یہ بشارتیں مہدی بن حسن عسکریعلیہما السلام پر منطبق ہوتی ہیں ۔

( دیکھئے محمد صادقی کی کتاب بشارات عہدین ،ص ۲۳۲)

جو شخص ان بشارتوں کے الفاظ کا بغور جائزہ لے وہ دیکھے گا کہ ان میں مصلح عالم کی جو صفات مذکور ہیں وہ حضرت مہدی منتظر علیہ السلام کے علاوہ کسی پر منطبق نہیں ہوتیں ۔

یہ وہی مہدی منتظر ہے جو مکتب اہل بیت علیہم السلام کے عقیدے کا حصہ ہے ۔

یہی وجہ ہے کہ جو شخص اس عقیدے سے نابلد ہو وہ مذکورہ بشارتوں کے حقیقی مصداق سے آشنائی حاصل نہیں کرسکتا۔

بطور مثال ہم انجیل کے سفر الرؤیا ،فصل ۱۲، (مکاشفات یوحنا لاہوتی )ٗ، جملہ نمبر ۱ تا ۱۷ کے بارے میں انجیل کے مفسرین کے اقوال میں اس بات کا مشاہدہ کرسکتے ہیں ۔

وہ اس بات کی تصریح کرتے ہیں کہ ان بشارتوں کے ان جملوں میں جس شخص کے بارے میں گفتگوہوئی ہے وہ اب تک پیدا نہیں ہوا ہے ۔بنابریں ان جملوں کی واضح تفسیر اور ان کا روشن مفہوم مستقبل میں ہی ظاہر ہوگا جس کا وقت مجہول ہے ۔

(دیکھئے محمد صادقی کی بشارات عہدین ،ص ۲۶۴)

اہل سنت کے بعض علماء بھی مذکورہ تحقیقات اور ان کے نتائج کو ہوبہو قبول کرتے ہیں ۔بطور مثال استاد سعید ایوب اس نتیجے تک پہنچے ہیں کہ ’’سفر الرؤیا ‘‘کے مذکورہ جملوں میں جس مصداق کا تذکرہ ہوا ہے وہ وہی مصداق ہے جو مکتب اہل بیت علیہم السلام کے عقیدے میں شامل ہے ۔

وہ رقمطراز ہیں : ’’اسفار انبیاء میں لکھا ہوا ہے کہ مہدی کے عمل میں کوئی عیب نہیں ہوگا ۔‘‘

اس کے بعد وہ اس بیان پر یوں تبصرہ کرتے ہیں :

’’میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے اہل کتاب کی کتابوں میں اسے ایسا ہی پایا ہے۔اہلِ کتاب نے مہدی کے بارے میں مذکور پیشگوئیوں کا جائزہ لیا ہے اور ساتھ ہی آپ کے جد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی احادیث کا بھی جائزہ لیا ہے ۔

سفر الرؤیا کی پیشگوئیاں ایک عورت کی نشاندہی کرتی ہیں جس کی نسل سے بارہ مرد پیدا ہوں گے ۔‘‘

اس کے بعد وہ ایک اور عورت کا ذکر کرتے ہیں جو اس آخری مرد کو جنم دے گی جس کا تعلق اس کی جدّہ کے بطن سے ہوگا ۔سفر میں مذکور ہے : یہ عورت خطرات میں گھر جائے گی ۔

اس نے ان خطرات کو اژدھے سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا ہے : اژدھا اس عورت کے سامنے کھڑا ہوگا تاکہ جب وہ بچے کو جنم دے تو وہ اسے نگل لے ۔‘‘

(سفر الرؤیا ،ج۱۲،ص۳)

بالفاظ دیگر حکومت کا ارادہ یہ ہوگا کہ اس بچے کو قتل کردے ۔ بچے کی ولادت کے بعد کیا ہوگا ؟

اس بارے میں برکلے اپنی تفسیر میں رقمطراز ہے : ’’جب خطرات اس عورت پر حملہ آور ہوں گے تو اللہ اس کے بچے کو اُٹھا لے گا اور اس کی حفاظت کرے گا ۔‘‘

نص کہتی ہے :’’ اللہ اس کے بیٹے کو اُٹھا لے گا

(سفر الرؤیا ،ج۱۲،ص۵)

یعنی اللہ اس بچے کو چھپالے گا۔ ‘‘

برکلے کہتا ہے : سفر میں مذکور ہے :’’ یہ بچہ ایک ہزار دوسو ساٹھ دن

(یہ مدت بطور اشارہ بیان ہوئی ہے ۔عبرانی نسخے میں اس کا ذکر یوں ہوا ہے : ’’وہ اس اژدھے سے ایک عرصہ اور ڈھائی عرصہ غائب رہے گا )۔

‘‘ بشارات عہدین ،ص ۲۶۳)

غائب رہے گا ۔ یہ وہ مدت ہے جس کی علامات اہل کتاب کے ہاں مذکور ہیں ۔‘‘

اس کے بعد برکلے اس (پہلی) خاتون کی نسل کے بارے میں بطور عام لکھتے ہیں :اژدھا اس خاتون کی نسل کے ساتھ معاندانہ جنگ کرے گا جیساکہ سفر میں مذکور ہے :اژدھا اس خاتون سے غضبناک ہوگا اور اس کی نسل کے باقی افراد جو وصایائے الہی کے محافظ ہیں ،کے ساتھ جنگ برپا کرنے کے لئے جائے گا ۔‘‘

(سفر الرؤیا ۱۲/۱۳)

استادسعید ایوب مذکورہ بیان کے بعد لکھتے ہیں : یہ ہیں مہدی ؑ کے اوصاف ۔یہ بالکل وہی اوصاف ہیں جو شیعہ امامیہ اثناعشریہ کے ہاں مذکور ہیں ۔

( المسیح الدجال :سعید ایوب، ۳۷۹ ۔ ۳۸۰ ،المہدی المنتظر فی الفکر الاسلامی سے ماخوذ ،مطبوعۂ مرکزالرسالہ ،ص ۱۳۔۱۴)

موصوف نے اپنے قول کی تقویت ان تبصروں کے ذریعے کی ہے جن کا ذکر انہوں نے حاشیے میں کیا ہے تاکہ آل محمد علیہم السلام کے مہدی علیہ السلام پر ان اوصاف کی تطبیق ہو ۔

( دیکھئے مجمع عالمی اہل بیت کی شایع کردہ :الامام المہدی ، سلسلۃ اعلام الہدایۃ ،ص ۹۔۲۴)

بنابریں بہت سی تحقیقات اس بات کی تائید کرتی ہیں کہ ان بشارتوں کا اشارہ ہو بہو اس مہدی منتظر کی طرف ہے جو مکتب اہل بیت کے عقیدے میں شامل ہے ۔

یہاں ہم اہل سنت کی ان احادیث و روایات کا رخ کریں گے جن میں امام علیہ السلام کی ذات اور ذاتی خصوصیات کا ذکر ہوا ہے تاکہ ہم یہ دیکھ لیں کہ کیا روایات نے صرف کلی عنوان کی تصریح پر اکتفا کیا ہے یا آپؑ کے ظہور کو تواتر کے ساتھ ثابت کرنے کے علاوہ آپ ؑ کی ذاتی خصوصیات کا بھی تذکرہ کیا ہے ؟

جواب : ظاہر ہے کہ جو شخص ظہور کا معتقد ہو اور اس کے وقوع کا یقین بھی رکھتا ہو لیکن اس کے سامنے واضح اور معین نہ ہو کہ آخری زمانے کا مہدی موعود جو ایک زمینی حقیقت ہے کون ہے تو اس شخص کو مہدی کا معتقد شمار نہیں کیا جاسکتا کیونکہ یہ (مبہم اعتقاد ) اسلام کے اصل مقصد کے ساتھ ہماہنگ نہیں ہے ۔

گویا یہ شخص مہدویت کے عنوان پر تو ایمان و اعتقاد کا حامل ہے لیکن اس کے مضمون کا معتقد نہیں ۔اگر ہم امام علیہ السلام کی ذات پر اعتقاد اور ظہور پر اعتقاد کو ایک دوسرے سے الگ کریں تو مہدی موعود پر اعتقاد سرے سے فاسد ہوجائے گا ۔اس کی مثال کچھ یوں ہے کہ کوئی شخص نماز کے وجوب کا تو معتقد ہو لیکن اس کے ارکان سے نابلد ہو ۔

یہاں ہم احادیث اہل سنت کی روشنی میں ایک زمینی حقیقت کے طور پر امام مہدی علیہ السلام کی ذات سے آشنائی حاصل کرنے کی خاطر اس مبحث کو کئی حصوں میں تقسیم کریں گے ۔

حصہ اول: علمائے اہل سنت کا اعترافِ ولادت

علمائے اہل سنت کا اعتراف کہ مہدی(عج) کی ولادت ہوچکی ہے

برادرانِ اہل سنت کی ایک بڑی تعداد نے امام مہدی علیہ السلام کی ولادت کے بارے میں اپنے ہاتھوں سے بہت سارے اعترافات کو سپرد قلم کیا ہے۔ بعض حضرات نے ان تمام اعترافات کو جمع کرنے کے لئے خاص تحقیقات انجام دی ہیں۔

ان اعترافات کے ادوار باہم متصل ہیں۔ امام مہدی علیہ السلام کی ولادت کے بارے میں بعد میں اعتراف کرنے والے شخص کا اس سے پہلے اعتراف کرنے والے شخص کا ہم عصر ہونا کوئی مشکل امر نہیں ۔امام عصر علیہ السلام کی غیبت صغریٰ ( ۲۶۰ ھ تا ۳۲۹ ھ) سے لے کر عصر حاضر تک یہ امر تسلسل کے ساتھ جاری ہے ۔

یہاں ہم ان میں سے بعض کے ذکر پر اکتفا کریں گے جو درجِ ذیل ہیں:

(مزید معلومات کے خواہشمند افراد ان اعترافات کی جمع آوری کے بارے میں انجام پانے والی سابق الذکر تفصیلی تحقیقات کی طرف مراجعہ فرمائیں)

-۱- (دیکھئے :سید قزوینی کی کتاب :

الایمان الصحیح ، شیخ مہدی فقیہ ایمانی کی کتاب : الامام المہدی فی نہج البلاغۃ ،تبریزی کی کتاب : من ھو الامام المہدی ، شیخ علی یزدی حائری کی کتاب :الزام الناصب ،استاد محمد دخیل کی کتاب : الامام المہدی اور سید ثامر العمیدی کی کتاب : دفاع عن الکافی ۔

موخر الذکر کتاب میں اہل سنت کے ۱۲۸، افرد کا ذکر ہوا ہے جنہوں نے امام مہدی علیہ السلام کی ولادت کا اعتراف کیا ہے ۔مولف نے صدیوں کی ترتیب کے ساتھ ان کا ذکر کیا ہے ۔

ان میں سب سے پہلے ابو بکر محمد بن ہارون رویانی (ت ۳۰۷ ھ ) ہیں جنہوں نے اپنی کتاب (خطی) میں امام مہدی علیہ السلام کی ولادت کا اعتراف کیا ہے جبکہ سب سے آخر میں معاصر دانشور یونس احمد سامرائی مذکور ہیں جنہوں نے اپنی کتاب: سامراء فی ادب القرن الثالث الہجری میں اپنانقطہ نظر بیان کیا ہے ۔

بغداد یونیورسٹی نے ۱۹۶۸ میں اس کتاب کی طباعت کا اہتمام کیا تھا ۔

دیکھئے دفاع عن الکافی ،ج۱،ص ۵۶۸۔۵۹۲،الدلیل السادس ،اعترافات اہل السنۃ ۔)

۱۔عزالدین ابن اثیر جزری (متوفی ۶۳۰ ھ) اپنی کتاب الکامل فی التاریخ میں سنہ ۲۶۰ھ کے واقعات میں رقمطراز ہیں : اس سال ابو محمد علوی عسکری کی رحلت ہوئی ۔آپ مذہب امامیہ کے بارہ اماموں میں سے ایک تھے ۔آپ اس محمد کے والد ہیں جو ان کے اعتقاد کی رو سے (مہدی) منتظر ہیں ۔

(دیکھئے الکامل فی التاریخ ،ج۷،ص ۲۷۴ ،سنہ ۲۶۰ ھ کے واقعات کا آخری حصہ )

۲۔ابن خلکان (متوفی ۶۸۱ ھ ) وفیات الاعیان میں لکھتے ہیں : ابو القاسم محمد بن حسن عسکری بن علی الہادی بن محمد الجواد جن کا ذکر اس سے قبل ہوچکا مذہب امامیہ کے بارہ اماموں میں سے بارہویں امام ہیں اور حجت کے نام سے معروف ہیں۔ آپ بروز جمعہ ۱۵ شعبان ۲۵۵ ھ میں متولد ہوئے ۔

اس کے بعد ابن خلکان کثیر السفر مورخ ابن ازرق فارقی (متوفی ۵۷۷ ھ) سے نقل کرتے ہیں کہ موصوف نے تاریخ میّا فارقین میں کہا ہے :

’’سابق الذکر حجت ۹ ربیع الاول ،۲۵۸ ھ کو پیدا ہوئے ۔یہ بھی منقول ہے کہ ۸ شعبان سنہ (دوسو) چھپن میں پیدا ہوئے جو زیادہ صحیح ہے ۔

(وفیات الاعیان ،ج۴،ص۱۷۶،۵۶۲)

میری عرض ہے :

امام مہدی علیہ السلام کی ولادت کے بارے میں صحیح قول وہی ہے جس کا ابن خلکان نے پہلے ذکر کیا ہے یعنی جمعہ ۱۵ شعبان ۲۵۵ ھ ۔تمام شیعوں کا اس پر اتفاق ہے ۔

انہوں نے اس بارے میں صحیح روایات نقل کی ہیں اور بڑے بڑے شیعہ متقد مین نے بھی اس کی گواہی دی ہے ۔شیخ کلینی ؒ نے جو عصر غیبت صغری کے تقریبا پورے دورانیے کے معاصر عالم ہیں مسلّمات کی طرح اس تاریخ کا بطور مطلق ذکر کیا ہے ۔

موصوف نے اس روایت کو اس کے برخلاف مروی روایات پرترجیح دی ہے چنانچہ وہ آپ ؑ کی تاریخ ولادت کے باب میں لکھتے ہیں : آپ ۱۵ شعبان ،۲۵۵ ھ کو پیدا ہوئے ۔

(اصول کافی ،ج۱،ص ۵۱۴،باب ۱۲۵)

شیخ صدوقؒ (متوفی ۳۸۱ ھ ) نے اپنے استاد محمد بن محمد بن عصام کلینی سے اور انہوں نے محمد بن یعقوب کلینی سے روایت کی ہے کہ علی بن محمد بن بندار نے کہا : صاحب (العصر) علیہ السلام ۱۵ شعبان ۲۵۵، ھ کو متولد ہوئے ۔

( کمال الدین ،ج۲،ص ۴۳۰ ،باب ۴۲)

یادرہے کہ کلینی ؒ نے اپنے قول کو علی بن محمد سے منسوب نہیں کیا کیونکہ یہ قول مشہور اور متفق علیہ ہے ۔

۳۔ ذہبی (متوفی ۷۴۸ ھ ) نے اپنی تین کتابوں میں مہدی علیہ السلام کی ولادت کا اعتراف کیا ہے ۔ہم نے موصوف کی دیگر کتابوں کا جائزہ نہیں لیا ہے ۔

موصوف اپنی کتاب ’’العبر ‘‘ میں لکھتے ہیں :

اس سال (یعنی ۲۵۶ ھ ) میں ابو القاسم محمد بن حسن بن علی الہادی بن محمد الجواد بن علی الرضا بن موسی کاظم ابن جعفر صادق علوی حسینی پیداہوئے جسے رافضی الخلف الحجۃ ،المہدی ، المنتظر اور صاحب الزمان کے القاب سے یاد کرتے ہیں ۔آپ بارہ اماموں میں سے آخری امام ہیں ۔

(العبر فی خبر من غبر ،ج۳،ص ۳۱)

موصوف اسلامی ممالک کی تاریخ میں امام حسن عسکری علیہ السلام کے حالات میں لکھتے ہیں :

ابو محمد حسن بن علی بن محمدبن علی الرضا بن موسی بن جعفر الصادق ہاشمی حسینی شیعوں کے اماموں میں سے ایک ہیں ۔شیعہ ان کی عصمت کا دعویٰ کرتے ہیں۔ آپ کو حسن عسکری کہا جاتا ہے کیونکہ آپ سامراء میں ساکن تھے اور سامراء کو عسکر کہا جاتا ہے ۔آپ رافضیوں کے منتظر کے والد ہیں ۔آپ ۸ ربیع الاول ،۲۶۰ ھ کو ۲۹ سال کی عمر میں سامراء میں اللہ کو پیارے ہوگئے اور اپنے والد کے پہلو میں مدفون ہوئے ۔

آپ کے فرزند محمد بن حسن جسے رافضی القائم الخلف الحجۃ کے ناموں سے پکارتے ہیں (دو سو) اٹھاون میں اور بقولے (دوسو) چھپن ھ میں پیدا ہوئے ۔

(تاریخ الاسلام ، ج۱۹، فی حوادث ووفیات ۲۵۱ ھ تا ۲۶۰ ھ ،ص ۱۱۳)

ذہبی سیر اعلام النبلاء میں لکھتے ہیں :

المنتظر الشریف ،ابو القاسم محمد بن الحسن العسکری ابن علی الہادی ابن محمد الجواد ابن علی الرضا ابن موسی الکاظم ابن جعفر الصادق ابن محمد الباقر ابن زین العابدین علی ابن الحسین الشہید ابن الامام علی ابن ابی طالب ،علوی ،حسینی بارہ (اماموں ) میں سے آخری سید ہیں ۔

(سیر اعلام النبلاء ،۱۳،۱۱۹ ،سوانح نمبر ۶۰)

میری عرض ہے : امام مہدی علیہ السلام کی ولادت کے بارے میں ذہبی کے قول کا جوحصہ ہمیں مطلوب تھا وہ ہم نے بیان کیا ۔رہا مہدی علیہ السلام کے بارے میں ذہبی کا عقیدہ تو وہ وہی ہے جو اس کے دیگر تمام اقوال میں جلوہ گر ہے ۔وہ (کچھ اور لوگوں کی طرح ) ایک سراب کا منتظر تھا جیساکہ ہم نے محمد بن عبداللہ کو مہدی ماننے والوں کے بارے میں بیان کیا ہے ۔

۴۔ ابن الوردی (متوفی ۷۴۹ ھ) اپنی کتاب تتمۃ المختصر (جو تاریخ ابن الوردی کے نام سے معروف ہے) کے

ذیل میں رقمطراز ہے : محمد بن الحسن الخالص سنہ ۲۵۵ ھ میں متولد ہوئے ۔

(نور الابصار ،۱۸۶۔ہم نے تاریخ ابن الوردی میں مذکور ہ سال کے حالات میں اسے نہیں پایا ۔کیا اسے حذ ف کیا گیا ہے ؟)

۵۔ احمد بن حجر ہیثمی شافعی (متوفی ۹۵۴ ھ ) اپنی کتاب الصواعق المحرقۃ کے گیارہویں باب کی تیسری فصل میں لکھتے ہیں :

ابو محمد الحسن الخالص جسے ابن خلکان نے عسکری کہا ہے ۲۳۲ ھ میں پیدا ہوئے اور" سُرَّ مَنْ رَأیٰ" میں وفات پاگئے ۔آپ اپنے والد اور چچا کے پہلو میں مدفون ہوئے ۔اس وقت آپ کی عمر ۲۸ سال تھی ۔ کہا جاتا ہے کہ آپ کو بھی زہر دیا گیا تھا ۔

آپ نے اپنے بیٹے ابو القاسم محمد الحجت کے علاوہ کوئی اولاد نہیں چھوڑی۔ اپنے والد کی رحلت کے وقت آپ ( ابو القاسم محمد ) پانچ سال کے تھے لیکن اللہ نے آپ کو اس عمر میں حکمت سے نوازا۔ آپ کو القائم المنتظر کہا جاتا ہے ۔

اس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ آپ مدینہ میں مستور اور غائب ہوئے اور یہ معلوم نہیں ہوا کہ آپ کہاں چلے گئے ۔

(دیکھئے ابن حجر ہیثمی کی الصواعق المحرقۃ ،اشاعت اول ،ص ۲۰۷ ،اشاعت دوم ،ص ۱۲۴ ،اور اشاعت سوم ،ص ۳۱۳ ۔۳۱۴ )

۶۔شبراوی شافعی (متوفی ۱۱۷۱ ھ )نے اپنی کتاب الاتحاف میں صریحاکہا ہے کہ امام مہدی محمد بن حسن عسکری علیہ السلام ۱۵ شعبان کی رات ۲۵۵ ھ میں پیدا ہوئے ۔

(الاتحاف بحب الاشراف ،ص۶۸)

۷۔ مومن بن حسن شبلنجی (متوفی ۱۳۰۸ ھ) نے اپنی کتاب نور الابصار کے ایک طویل بیان میں امام مہدی علیہ السلام کے نام ،آپ کے باشرف و پاکیزہ نسب ،آپ کی کنیت اور آپ کے القاب کا اعتراف کرنے کے بعد کہا ہے :

امامیہ مذہب کے عقیدے کی روسے آپ بارہ اماموں میں سے آخری امام ہیں ۔

(نور الابصار ،ص ۱۸۶)

۸۔ خیر الدین زرکلی (متوفی ۱۳۹۶ ھ ) اپنی کتاب ’’الاعلام ‘ میں امام مہدی المنتظر علیہ السلام کے حالات میں رقمطراز ہیں :

ابو القاسم محمد بن الحسن العسکری الخالص بن علی الہادی امامیہ عقیدے کی رو سے بارہ اماموں میں سے آخری امام ہیں ۔آپ کی ولادت سامرّاء میں ہوئی۔

آپ پانچ سال کے تھے کہ آپ کے والد کا انتقال ہوا ۔آپ کی تاریخ ولادت کے بارے میں کہا گیا ہے کہ آپ ۱۵ شعبان کی رات ،۲۵۵ ھ میں پیدا ہوئے ۔آپ کی تاریخ غیبت ۲۶۵ ہجری بتائی گئی ہے ۔

(الاعلام ،ج۶،ص ۸۰)

میری عرض ہے کہ غیبت صغری کا آغاز ۲۶۰ ھ میں ہوا۔اس پر تمام شیعوں کا اتفاق ہے اور ان لوگوں کا بھی جنہوں نے ہماری معلومات کے مطابق غیبت کی تاریخ بیان کی ہے ۔ممکن ہے کہ ’’الاعلام ‘‘ میں جو تاریخ مذکور ہے وہ طباعت کی غلطی ہو کیونکہ زرکلی نے غیبت کے سال کو الفاظ میں نہیں بلکہ ہندسوں میں لکھا ہے اور ہندسوں کی طباعت میں غلطی کا امکان بہت زیادہ ہوتا ہے ۔

ان کے علاوہ دیگر اعترافات کی تعداد بہت زیادہ ہے جن کے ذکر کی یہاں گنجائش نہیں ہے ۔

(دیکھئے المہدی المنتظر فی الفکر الاسلامی ، مرکز الرسالۃ ،ص ۱۲۳۔۱۲۷)

حصہ دوم: امام مہدی (ع)کا نام و نسب

امام مہدی علیہ السلام کا نام و نسب :

برادران اہل سنت کی کتابوں میں مہدی علیہ السلام کے نام و نسب کے بارے میں مذکور صحیح احادیث کے تحقیقی مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ احادیث اچھی خاصی تعداد میں موجود ہونے کے علاوہ ایک حقیقت کی پر زور ترجمانی کرتی ہیں اور وہ یہ کہ مہدی علیہ السلام کا نسب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جا ملتا ہے نیز آپ اہل بیت رسول کا ایک فرد اور بارہ معصوم اماموں میں آخری امام یعنی محمد بن حسن عسکری بن علی ہادی بن محمد جواد بن علی رضا بن موسی کاظم بن جعفر الصادق بن محمد باقر بن علی زین العابدین بن حسین شہید کربلا بن علی ابن ابی طالب ہیں ۔

آپ کا لقب مہدی منتظر ہے جو شیعہ امامیہ کے عقیدے سے ہماہنگ ہے ۔یہاں وہ روایات نقل کی جارہی ہیں جن میں آپ کے نام و نسب کا تذکرہ ہوا ہے۔

مہدی علیہ السلام کنانی ،قرشی اور ہاشمی ہیں

قتادہ سے مروی ہے : میں نے سعید بن مسیب سے پوچھا : کیا مہدی برحق ہے ؟

کہا : وہ برحق ہے ۔

میں نے پوچھا : اس کا تعلق کس سے ہے ؟

کہا : کنانہ سے ۔

میں نے پوچھا : پھر کس سے ؟

بولا : قریش سے ۔

میں نے پوچھا : پھر کس سے ؟

بولا : بنی ہاشم سے ۔

(دیکھئے عقد الدرر ،ص ۴۲۔۴۴ ،باب اول ، نیز مستدرک الحاکم ،ج۴،ص ۵۵۳ اور مجمع الزوائد ،ج۷،ص ۱۱۵ )

اس روایت کی رو سے مہدی علیہ السلام کنانی ،قرشی اور ہاشمی ہیں اور ان القاب میں کوئی منافات نہیں ہے کیونکہ ہر ہاشمی کا تعلق قریش سے ہے اور ہر قریشی کا تعلق کنانہ سے ہے اس لئے کہ قریش سے مراد نضر بن کنانہ ہے جس پر تمام نسب شناسوں کا اتفاق ہے ۔

مہدی علیہ السلام عبد المطلب کی نسل سے ہیں

ابن ماجہ نے انس بن مالک سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ وعلیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

ہم عبد المطلب کی اولاد یعنی میں ،حمزہ ،علی ، جعفر، حسن،حسین اور مہدی جنتیوں کے سردار ہیں ۔

(سنن ابن ماجہ ،ج۲،ص ۱۳۶۸،ح ۴۰۸۷،باب خروج المہدی ،مستدرک الحاکم ،ج۳،ص ۱۱۲ نیز سیوطی کی جمع الجوامع ،ج۱ ،ص ۸۵۱)