آپ نے فرمایا :
الحمد لله ونستعینه ونؤمن به ونتوکل علیه ونعوذ بالله من شرورانفسناومن سیّئات اعمالنا الذی لا هادی لمن اضلّ
ولا مُضلّ لمن هدی ۔ واشهد ان لااله الا الله ۔ وان محمداً عبده ورسوله ۔
حقیقی تعریف اللہ کے لئے ہے ۔ہم اس سے مدد مانگتے ہیں ،اس پر ایمان رکھتے ہیں اور اس پر توکل کرتے ہیں ۔
ہم اللہ کے ہاں پناہ مانگتے ہیں اپنے نفس کی برائیوں سے اور اپنے قبیح اعمال سے ۔جسے اللہ گمراہ کرے اسے کوئی راستہ نہیں دکھا سکتا اور جسے وہ ہدایت دے اسے کوئی گمراہ نہیں کرسکتا ۔
میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد اس کا بندہ اور رسول ہے ۔
اما بعد لوگو! قریب ہے کہ مجھے (اللہ کی جانب سے ) بلاوا آجائے اور میں لبیک کہوں ۔
مجھ سے سوال کیا جائے گا اور تم لوگوں سے بھی سوال کیا جائے گا ۔پس تم کیا کہتے ہو ؟
بولے : ہم گواہی دیتے ہیں کہ بے شک آپ نے (اللہ کا پیغام ) پہنچایا ،خیر خواہی کا ثبوت دیا اور مجاہدت کا حق ادا کردیا ۔اللہ آپ کو جزائے خیر دے ۔
فرمایا : کیا تم گواہی نہیں دیتے کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ،محمد اس کا بندہ اور رسول ہے ،اللہ کی جنت حق ہے اور اس کا جہنم بھی برحق ہے ،موت برحق ہے اور قیامیت آنے والی ہے جس میں کوئی شک نہیں اور یہ کہ اللہ قبروں میں موجود لوگوں کو زندہ کرے گا ؟
لوگوں نے کہا : ہاں ہم ان باتوں کی گواہی دیتے ہیں ۔
فرمایا : اے اللہ !گواہ رہنا۔ پھر فرمایا : لوگو ! کیا تم نہیں سن رہے ہو ؟
بولے :کیوں نہیں (ہم سن رہے ہیں ) ۔
فرمایا : میں حوض کوثر پر تم سے پہلے پہنچ جاؤں گا اور تم میرے پاس حوض پر پہنچوگے ۔اس کا عرض صنعاء اور بصری (۲۶)کے درمیانی فاصلے کے برابر ہے ۔
وہاں ستاروں کی تعداد کے برابر چاندی کے پیالے ہیں ۔
پس تم لوگ خیال رکھو کہ تم میرے بعد ثقلین (۲۷)کے ساتھ کیا رویہ رکھو گے ۔
پس کسی نے پکار کر کہا : اے اللہ کے رسول !
ثقلین سے کیا مراد ہے ؟
فرمایا : ثقلِ اکبر اللہ کی کتاب ہے ۔اس کا ایک سرا اللہ کے ہاتھ میں ہے اور دوسرا سرا تمہارے ہاتھوں میں ہے ۔
پس اس سے تمسک رکھو ۔اس صورت میں تم گمراہی سے محفوظ رہو گے ۔
دوسرا ثقل جو ثقل اصغر ہے میری عترت ہے ۔بے شک (خدائے )لطیف و خبیر نے مجھے خبر دی ہے کہ یہ دونوں ہرگز جدا نہ ہوں گے یہاں تک کہ یہ دونوں حوض کوثر پر میرے ہاں وارد ہوں گے۔
میں نے ان دونوں کے لئے اپنے رب سے اس بات کا سوال کیا ہے ۔پس ان دونوں سے آگے نہ بڑھو ورنہ ہلاک ہوجاؤگے اور ان دونوں کا ساتھ نہ چھوڑو وگرنہ تم ہلاک ہوجاؤگے ۔
اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے علی کا ہاتھ پکڑ کر اسے بلند کیا یہاں تک کہ ان دونوں کی بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگی ۔یوں آپ نے تمام لوگوں کے سامنے علی کا تعارف کرایا اور فرمایا : لوگو ! مومنین پر خود ان سے زیادہ اختیار کسے حاصل ہے ؟
مَنْ اولی الناس بالمؤ منین من انفسه م ؟
لوگوں نے کہا : اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں ۔
فرمایا : اللہ میرا مولی ہے اور میں مومنین کا مولی ہوں یعنی میں ان پر خود ان سے زیادہ اختیار رکھتا ہوں ۔
فمن کنت مولاه فعلیٌّ مولاه ۔
پس جس کا میں مولی ہوں اس کا یہ علی مولی ہے ۔ آپ نے یہ جملہ تین بار دہرایا ۔
حنبلیوں کے امام جناب احمد کہتے ہیں کہ آپ نے چار بار یہ فرمایا ۔ اس کے بعد فرمایا :
اللهم وال من والاه وعادِ مَنْ عاداه واحبَّ مَنْ احبّه وابغض من ابغضه وانصر من نصره واخذل من خذله وادر الحق معه حیث دارألا فلیبلّغ الشاهد الغائب ۔
اے اللہ جو اس سے دوستی کرے تو بھی اس سے دوستی کر اور جو اس سے عداوت رکھے تو بھی اس سے عداوت رکھ ۔ جو اسے چاہے تو بھی اس سے محبت کر اور جو اس سے بغض رکھے تو بھی اس سے بغض رکھ ۔جو اس کی مدد کرے تو اس کی مدد کر اور جو اس کا ساتھ چھوڑ دے تو بھی اس کا ساتھ چھوڑ دے ۔
وہ جہاں جائے حق کو اس کے ساتھ رکھ ۔آگاہ رہو کہ جو یہاں موجود ہیں وہ غائبین تک یہ( پیغام) پہنچائیں ۔
اس کے بعد لوگوں کے بکھر جانے سے پہلے امین وحی جبرئیل یہ آیت لے کر اترے :
الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي ۔ (۲۸)
پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اللہ سب سے بڑا ہے ،اس نے دین کو کامل کیا،
نعمت کو تمام کیا اور پروردگار میری رسالت سے نیز میرے بعد علی کی ولایت سے راضی ہوا ۔
اس کے بعد لوگوں نے امیر المومنین صلوات اللہ علیہ کو مبارک باد دینا شروع کیا ۔ صحابہ میں سب سے پہلے آپ کو ہدیہ تبریک پیش کرنے والوں میں شیخین (حضرت ابو بکر ،حضرت عمر ) شامل تھے ۔ہر ایک نے کہا :
بخ بخ لک یا ابن ابی طالب اصبحت وامسیتَ مولایَ ومولیٰ کلّ مومن ومؤمنة ۔
اے فرزند ابی طالب آپ کو مبارک ہو ،مبارک ہو۔آپ میرے اور ہر مومن و مومنہ کے مولی بن گئے ۔
ابن عباس نے کہا : (اللہ کی قسم ) یہ (علی کی ولایت ) لوگوں کی گردنوں پر واجب ہوگئی ۔
اس وقت حسان بن ثابت نے کہا : اے اللہ کے رسول ! آپ مجھے اجازت دیجئے کہ میں علی کے بارے میں کچھ اشعار کہوں اور آپ انہیں سنیں ۔
فرمایا : اللہ کی برکت کے سہارے کہو ۔پس حسان نےکھڑے ہوکر کہا :
اے قریش کے بزرگو ! ولایت کے بارے میں رسول اللہ کی قاطع گواہی کے بعد میں کچھ کہوں گا ۔پھر کہا :
یُنادیه م یوم الغدیر نبیّ ه ُ م بخُمٍّ فاسمع بالرسول منادیاً
لوگوں کا نبی غدیر کے دن خم کے مقام پر ان سے پکار پکار کر مخاطب ہوتا ہے اسی طرح تو بھی(اے حسان ) پکار کر رسول کو یہ بات سنا دے
یہ تھا واقعہ غدیر کا اجمالی تذکرہ ۔امت کا اس پر اتفاق ہے ۔ پورے عالم اور روئے زمین پر غدیر جیسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا ۔
اگر ہم بطور مطلق یوم غدیر کہیں جو یہ صرف اسی واقعے پر منطبق ہوگا ۔غدیر خم کی جگہ بھی یہی معروف مقام ہے جو جحفہ کے قریب ہے ۔بڑے بڑے ارباب تحقیق و جستجو بھی اس جگہ کے علاوہ کسی اور مقام کو اس نام سے نہیں پہچانتے ۔(۲۹)