اہل بیت(ع)کی رکاب میں ۔غدیر۔

اہل بیت(ع)کی رکاب میں ۔غدیر۔0%

اہل بیت(ع)کی رکاب میں ۔غدیر۔ مؤلف:
: شیخ محمد علی توحیدی
: شیخ محمد علی توحیدی
زمرہ جات: مناظرے

  • ابتداء
  • پچھلا
  • 15 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 26 / ڈاؤنلوڈ: 17
سائز سائز سائز
اہل بیت(ع)کی رکاب میں ۔غدیر۔

اہل بیت(ع)کی رکاب میں ۔غدیر۔

مؤلف:
اردو

نام کتاب: اہل بیت(ع)کی رکاب میں ۔غدیر۔

موضوع : تاریخ وحدیث

مولف : حجۃ الاسلام شیخ ایوب حائری

مترجم : حجۃ الاسلام شیخ محمد علی توحیدی

کمپوز نگ : حجۃ الاسلام غلام حسن جعفری

اشاعت : اول ۔ ۲۰۱۸

ناشر: عالمی مجلس اہل بیت(ع)

ایمیل : ahl-ulbait.og

جملہ حقوق محفوظ ہیں

فہرست کتاب

فہرست کتاب ۴

عرضِ مجلس ۷

اسلام کی عالمگیر یت اور آخری شریعت ۱۰

پہلا مبحث ۱۹

واقعہ غدیر ۱۹

دوسرا مبحث : ۲۸

عید غدیر اسلامی تاریخ کے آئینے میں ۲۸

زید بن ارقم کا بیان ہے : ۳۰

تیسرا مبحث ۳۲

حدیث غدیر کا تواتر ۳۲

چوتھا مبحث ۳۶

حدیث غدیر میں تاویل کی گنجائش نہیں ۳۶

اہل ا لبیت علیہم السلام قرآن کے آئینے میں:

إِنَّمَا يُرِيدُ اللهُ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا(سور ۃٔ احزاب/۳۲

ترجمہ :

اے اہل بیت!

اللہ کا ارادہ بس یہی ہے

کہ وہ آپ سےہر طرح کی ناپاکی کو دور رکھے

اور آپ کو ایسے پاک و پاکیزہ رکھے

جیسے پاکیزہ رکھنے کا حق ہے ۔

اہل بیت رسول علیہم السلام، سنت نبوی کے آئینے میں:

’’اِنِّیْ تَارِکٌ فِیْکُمُ الثَّقْلَیْنِ کِتَابَ اللهِ وَعِتْرَتِیْ اَهْلَ بَیْتِیْ مَا اِنْ تَمَسَّکْتُمْ بِهِمَا لَنْ تضلُّوْا بَعْدِیْ‘‘

(صحاح و مسانید)

ترجمہ:میں تمہارے درمیان دوگرانقدر چیزیں چھوڑے جارہاہوں۔وہ اللہ کی کتاب اور میری عترت

یعنی میرےاہل بیت ہیں۔

جب تک تم ان سے تمسک رکھوگے

تب تک تم میرے بعد ہرگز گمراہ نہیں ہوگے ۔

عرضِ مجلس

اہل بیت علیہم السلام کا علمی و فکری ورثہ جسے مکتب اہل بیت نے اپنے دامن میں سمیٹا ہے اور اہل بیت کے پیروکاروں نے اسے ضائع ہونے سے بچایا ہے ایک ایسے مکتب فکر کی تصویر پیش کرتا ہے جو معارف ِاسلامیہ کی مختلف جہات کو محیط ہے ۔اس مکتب فکر نے اسلامی معارف کے اس صاف سرچشمے سے سیراب ہونے کے لائق نفوس کی ایک کھیپ کو پروان چڑھایا ہے ۔اس مکتب فکر نے امت مسلمہ کو ایسے عظیم علماء سے نوازا ہے جو اہل بیت علیہم السلام کے نظریاتی نقش قدم پر چلے ہیں ۔اسلامی معاشرے کے اندر اور باہر سے تعلق رکھنے والے مختلف فکری مناہج اور مذاہب کی جانب سے اُٹھنے والے سوالات ،شبہات اور تحفظات پر ان علماء کی مکمل نظر رہی ہے ۔

یہ علماء اور دانشور مسلسل کئی صدیوں تک ان سوالات اور شبہات کے معقول ترین اور محکم ترین جوابات پیش کرتے رہے ہیں ۔ عالمی مجلس اہل بیت نے اپنی سنگین ذمہ داریوں کو محسوس کرتے ہوئے ان اسلامی تعلیمات و حقائق کی حفاظت کی خاطر قدم بڑھایا ہے جن پر مخالف فِرق و مذاہب اور اسلام دشمن مکاتب و مسالک کے اربابِ بست و کشاد نے معاندانہ توجہ مرکوز رکھی ہے ۔ عالمی مجلس اہل بیت نے اس سلسلے میں اہل بیتعلیہم السلام اور مکتب اہلبیت کے ان پیروکاروں کے نقش قدم پر چلنے کی سعی کی ہے جنہوں نے ہر دور کے مسلسل چیلنجوں سے معقول ،مناسب اور مطلوبہ انداز میں نمٹنے کی کوشش کی ہے ۔

اس سلسلے میں مکتب اہل بیت کے علماء کی کتابوں کے اندر محفوظ علمی تحقیقات بے نظیر اور اپنی مثال آپ ہیں کیونکہ یہ تحقیقات بلند علمی سطح کی حامل ہیں ،عقل و برہان کی بنیادوں پر استوار ہیں اور مذموم تعصبات و خواہشات سے پاک ہیں نیز یہ بلند پایہ علماء و مفکرین کو اس انداز میں اپنا مخاطب قرار دیتی ہیں جو عقل سلیم اور فطرت سلیمہ کے ہاں مقبول اور پسندیدہ ہے ۔

عالمی مجلس اہل بیت کی کوشش رہی ہے کہ حقیقت کے متلاشیوں کے سامنے ان پربار حقائق اور معلومات کے حوالے سے گفتگو ،ڈائیلاگ اور شبہات و اعتراضات کے بارے میں بے لاگ سوال و جواب کا ایک جدید اسلوب پیش کیا جائے ۔ اس قسم کے شبہات و عتراضات گذشتہ ادوار میں بھی اٹھائے جاتے رہے ہیں اور آج بھی انہیں ہوا دی جارہی ہے ۔

اسلام اور مسلمانوں سے عداوت رکھنے والے بعض حلقے اس سلسلے میں انٹرنیٹ وغیرہ کے ذریعے بطور خاص جدو جہد کررہے ہیں ۔اس بارے میں مجلس اہل بیت کی یہ پالیسی رہی ہے کہ لوگوں کے جذبات اور تعصبات کو مذموم طریقے سے بھڑکانے سے اجتناب برتا جائے جبکہ عقل و فکر اور طالبِ حق نفوس کو بیدار کیا جائے تاکہ وہ ان حقائق سے آگاہ ہوں جنہیں اہل بیت علیہم السلام کا نظریاتی مکتب پورے عالم کے سامنے پیش کرتا ہے اور وہ بھی اس عصر میں جب انسانی عقول کے تکامل اور نفوس و ارواح کے ارتباط کا سفر منفرد انداز میں تیزی کے ساتھ جاری و ساری ہے ۔

یہاں اس بات کی طرف اشارہ ضروری ہے کہ زیر نظر تحقیقی مباحث ممتاز علماء اور دانشوروں کی ایک خاص کمیٹی کی کاوشوں کا نتیجہ ہیں ۔ہم ان تمام حضرات اور ان ارباب ِعلم و تحقیق کے شاکر اور قدر دان ہیں جن میں سے ہر ایک نے ان علمی مباحث کے مختلف حصوں کا جائزہ لے کر ان کے بارے میں اپنے قیمتی ملاحظات سے نوازا ہے ۔

ہمیں امید ہے کہ ہم نے اپنی ان ذمہ داریوں میں سے بعض کو ادا کرنے میں ممکنہ کوشش سے کام لیا ہے جو ہمارے اس عظیم رب کے پیغام کو پہنچانے کے حوالے سے ہمارے اوپر عائد ہوتی ہیں جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور برحق دین کے ساتھ بھیجا ہے تاکہ وہ اسے تمام ادیان پر غالب کرے اور گواہی کے لیے تو اللہ ہی کافی ہے ۔

عالمی مجلس اہل بیت شعبہ ثقافت

اسلام کی عالمگیر یت اور آخری شریعت

اسلام وہ عالمگیر دین اور آخری شریعت ہے جس کے پاس حیاتِ انسانی کے تمام مسائل کا حل موجود ہے ۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی میں امت مسلمہ کی قیادت کامنصب سنبھالنا آنحضرت کی ذمہ داریوں میں شامل تھا ۔ قیامت تک باقی رہنے والی آخری شریعت کے لئے یہ ممکن نہ تھا کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد امت کی اعلی ترین قیادت کے مسئلے سے چشم کرتے ہوئے اسے حالات و اتفاقات کے حوالے کرے نیز اسے انسانی خواہشات ومیلانات اور ان اصحاب کے ذاتی اجتہادات کی تند و تیز موجوں کے حوالے کرے جو اپنے نظریات و اجتہادات اور میلانات میں اختلاف کے شکار تھے ۔اس کا لازمی نتیجہ اختلاف و پراگندگی ،گروہ بندی اور اسلامی حکومت کے زوال و سقوط کے علاوہ کچھ نہ ہوتا ۔

پس خاتم المرسلین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور قیامت تک باقی رہنے والی آخری شریعت کے لئے اس اہم ترین مسئلے سے چشم پوشی کی گنجائش نہ تھی ۔بنابریں سید المرسلین کی جانب سے آپ کے بعد قیادت کی ذمہ داریاں بوجہ احسن نبھانے والے جانشین کی بطور صریح تعیین ایک قدرتی اور ضروری بات تھی جس کی تمام مسلمانوں کو توقع تھی ۔یہاں ہم ان سوالوں کا جواب ڈھونڈیں گے کہ :

وہ شخص کون تھا جسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے واضح طور پر اپنے بعد امت مسلمہ کا قائد اور رہبر نامزد کیا تھا ؟

آپ نے اس کی تصریح کب فرمائی تھی ؟

آپ کی طرف سے یہ واضح اعلان کیسے کامل صورت میں سامنے آیا ؟

اہل بیت رسول علیہم السلام اور ان کے پیروکاروں کا عقیدہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد امت مسلمہ کی اعلی قیادت اور خلافتِ نبوی کا منصب وہ ہے جسے خدا کا رسول اللہ تعالی کے حکم سے معین فرماتا ہے ۔جب تک قائد عظیم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اس کا جانشین اللہ تعالی اور اس کے دین حنیف کے نام پر عوام پر حکومت کرتے رہے تب تک اللہ اور رسول (اور آپ کےوصی نے )اس منصب کے فیصلے کو عوامی انتخاب اور رائے عامہ کے حوالے نہیں کیا ۔

بہ تحقیق اللہ اور اس کے رسول نے امت کے بہترین فرد کو رسول کی جانشینی کے لئے منتخب فرمایا ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی دعوت کے ابتدائی ایام سے ہی اپنے بعد اس فرد کی امامت و قیادت کی تصریح فرماتے رہے ۔آنحضرت نے لوگوں کے سامنے اس مسئلے کو واضح کرنے اور اس جانشینی کی راہیں ہموار کرنے کا سلسلہ اپنی مکی اور مدنی زندگی میں لگاتار جاری رکھا ۔

اس کوشش کا آغاز یوم انذار سے ہوا اور حجۃ الوداع سے واپسی پر اللہ کی جانب سے واضح تنبیہ کے بعد آپ نے ۱۸ ذی الحجہ ۱۰ ھ کو خاص اہتمام کے ساتھ اس کا اعلان کیا ۔اس کے بعد بھی یہ سلسلہ جاری رہا یہاں تک کہ آپ کی رحلت کے دن بھی اس کی تبلیغ کا اہتمام کیا گیا ۔

اس عقیدے کے برخلاف رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد حکومت پر قبضہ کرنے والے مکتب فکر (مکتب خلفا)کا کہنا ہے کہ خلافت کا منصب اللہ کی طرف سے عطا نہیں ہوتا اور اس کے لئے نص کی ضرورت نہیں ہے بلکہ اس کا فیصلہ امت کی طرف سے کیا جاسکتا ہے یہاں تک کہ امت کی ایک قلیل جماعت خلافت کو کسی شخص کے حوالے کرسکتی ہے ۔

کچھ لوگوں نے بزعم خویش یہ ثات کرنے کی کوشش کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس مسئلے سے چشم پوشی کی تھی ۔وہ اپنے نقطۂ نظر کی توجیہ میں بعض دلائل کا سہارا لینے کی کوشش کرتے ہیں ۔

ان کی سب سے مضبوط دلیل بعض صحابہ کی سیرت ہے (سب کی نہیں ) جسے وہ سارے مسلمانوں کے لئے حجت قرار دیتے ہیں ۔

حدیث ،تاریخ اور سیرت کی جو کتابیں اموی دور حکومت کے اواخر میں اور عباسی دور کے اوائل میں لکھی گئیں انکے مصنفین و مولفین سے کوئی منصف مزاج محقق یہ توقع نہیں باندھ سکتا کہ وہ اسلامی تاریخ کے جملہ حقائق کو بیان کرنے کی پابندی کریں گے خاص کر اس صورت میں جب بعض حقائق حکمران طبقے کے مفادات سے متصادم ہوں ۔ اگر کوئی ایک یا دومآخذ دوسرے مآخذ سے ہٹ کر کسی ایسی حقیقت کو بیان کریں جو علاقے کے حکمران طبقے کےمفادات کے برخلاف ہو تو یہ ایک اہم اور قابل توجہ بات ہوگی جس سےچشم پوشی درست نہیں بلکہ اس پر توجہ مبذول کرنا ضروری ہے۔

بنابریں حقیقت کے متلاشی محقق پر لازم ہے کہ رسول اعظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آخری ایام کے اہم واقعات کے جائزے کی روشنی میں اموی اور عباسی دور کے اہم اور حساس واقعات کا علمی اور تحقیقی جائزہ لے کر معقول اور منطقی انداز میں نتیجہ اخذ کرے ۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت سے پہلے اسلامی ریاست کے جو اندرونی اور بیرونی سیاسی حالات تھے وہ اس بات کا تقاضا کرتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے حکم سے اپنا ایک جانشین اور خلیفہ معین فرمائیں کیونکہ ایک طرف سے اسلامی حکومت کی سرزمینوں کے اندر منافقین اور اہل کتاب ،جبکہ دوسری طرف سے اسلامی ریاست کے باہر بازنطینی اور دیگر مشرک طاقتیں مسلمانوں کے خلاف سنگین خطرات کے مراکز میں تبدیل ہوچکے تھے ۔

اس معاشرتی اور سیاسی صورتحال کی روشنی میں رسول اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو چاہیے تھا کہ آپ اس بات کا سد باب فرماتے کہ آپ کے بعد اسلامی معاشرہ کسی قسم کے اختلاف و افتراق کا شکار ہو ۔ آنحضرت پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی تھی کہ آپ امت کو اختلاف ،پراکندگی ،جدائی اور خواہشات کی جنگ سے محفوظ رکھنے والے جامع الشرائط اور باصلاحیت خلیفہ و قائد کی تعیین کے ذریعے امت کے گرد ایک مضبوط حصار قائم کرتے اور امت مسلمہ کے اتحاد و اتفاق کی بقا ء کی ضمانت فراہم فرماتے ۔

امت مسلمہ کو مستقبل کے منحوس اور جانکاہ حوادث سے محفوظ رکھنے نیز ہوس پرستوں اور گمراہوں کو ذاتی قیادت کی ہوس سے باز رکھنے یعنی خلافت ،حکومت اور امت کی سیاسی قیادت کے مسئلے میں باہمی نزاع کا راستہ روکنے کا منطقی طریقہ یہ تھا کہ آنحضرت جو اس امت کو وجود میں لانے اور اس کو پروان چڑھانے والے نیز اس کے اولین قائد تھے اپنے بعد امت کی قیادت کے لئے ایک جامع الشرائط جانشین اور قائد کو معین فرماتے اور قیادت کے مسئلے کو خواہشات و اتفاقات کی بے رحم موجوں کے حوالے نہ کرتے ۔

اس معاشرتی جائزے سے معلوم ہوتا ہے ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جانب سے اپنے جانشین قائد کی واضح تعیین بہت ضروری تھی ،چنانچہ آپ نے عملی طور پر ایسا کر دکھایا ۔ان عرائض کی روشنی میں اس بات کا راز کھل کر سامنے آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رسالت کے ابتدائی ایام میں ہی اپنی خلافت اور جانشینی کا مسئلہ لوگوں کے سامنے کیوں رکھا تھا ۔

یہ اور بات ہے کہ آغازِ دعوت میں بہت کم لوگ رسالت کے پرچم تلے جمع ہوئے اور لوگوں کی ایک قلیل تعداد نے اپنے رب کے دین پر ایمان لاتے ہوئے اپنے اسلام کا اظہار کیا ۔

اسی طرح ہمیں اس بات کا راز بھی معلوم ہوجاتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زندگی بھر یہاں تک کہ اپنی زندگی کی آخری گھڑیوں تک اپنے جانشین کا تعارف کرانے کی مسلسل کوشش کیوں فرماتے رہے ۔

جی ہاں رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی دعوت کے آغاز میں ہی اپنے صریح ،واضح اور قطعی بیانات کے ذریعے اپنے جانشین کو معین فرمایا تھا ۔اس کے بعد آپ اپنے عہد رسالت کے درمیانی عرصے میں پھر اپنی زندگی کے آخری اوقات تک اس کی یاد دہانی فرماتے رہے ۔یہ ہے اہل بیت رسول علیہم السلام اور ان لوگوں کا عقیدہ جنہوں نے حکمرانوں کی جانب سے ہر قسم کی تطمیع و ترغیب یا تہدیدو تخویف (جو حکمرانوں کے عام ہتھکنڈے ہیں ) کے باوجود حکام کے ہاتھوں اپنے متاعِ دین کا سودا نہیں کیا ۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی دعوتِ رسالت کے آغاز سے لے کر آخری دنوں تک اپنے جانشین کی واضح اور صریح تعیین کی خاطر مسلسل سعی فرماتے رہے۔ اس کے بعض نمونے یہاں بیان کیے جاتے ہیں ۔

طبری کا بیان ہے :

ابن حمید نے ہم سے کہا : سلمہ نے ہم سے کہا : مجھے محمد بن اسحاق نے، اسے عبد الغفار بن قاسم نے ، اسے منہال بن عمرو نے ،اسے عبد اللہ بن حارث بن نوفل بن حارث بن عبد المطلب نے اور اسے عبد اللہ بن عباس نے بتایا کہ علی ابن ابی طالب نے فرمایا :

جب رسول اللہ پر یہ آیت نازل ہوئی :

وَأَنذِرْعَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ ۔ (۱)

(اے رسول ! اپنے قریب ترین رشتہ داروں کو تنبیہ کیجئے )

تو رسول اللہ نے مجھے بلایا اور فرمایا : اے علی !

بہ تحقیق اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں اپنے قریب ترین رشتہ داروں کو ڈراؤں ۔

لیکن میں نے سوچا کہ یہ میرے بس سے باہر ہے۔ میں جانتا تھا کہ اگر میں یہ بات ان پر ظاہر کروں تو مجھے ان کی طرف سے تکلیف کا سامنا کرنا پڑے گا ۔پس میں نے اس معاملے میں خاموشی اختیار کر لی یہاں تک کہ جبرئیل میرے پاس آئے اور بولے : اے محمد ! اگر آپ وہ کام انجام نہ دیں جس کا آپ کو حکم ہوا ہے تو آپ کا رب آپ کو عذاب دے گا ۔

پس (اے علی ! ) آپ ہمارے لئے ایک صاع ( قریبا تین کلو) کھانا تیار کریں ،اس پرگوسفند کی ایک ران رکھ دیں اور ہمارے لئے دودھ (یا لسی )کا ایک برتن بھی بھر لیں۔ اس کے بعد عبد المطلب کی اولاد کو میرے پاس جمع کریں تاکہ میں ان سے گفتگو کروں اور ان تک وہ بات پہنچاؤں جس کا مجھے حکم ہوا ہے ۔

پس میں نے آپ کے حکم کی تعمیل کی۔ پھر انہیں آنحضرت کے پاس دعوت دی ۔اس دن وہ چالیس مرد تھے جن میں ایک کی کمی بیشی ہوسکتی ہے ۔ان میں آنحضرت کے چچے یعنی ابو طالب ،حمزہ ،عباس اور ابو لہب بھی شامل تھے ۔

جب وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جمع ہوئے تو آپ نے مجھے وہ کھانا لانے کا حکم دیا جو میں نے ان کے لئے بنایا تھا ۔پس میں کھانا لے آیا ۔جب میں نے کھانا رکھ دیا تو رسول اللہ نے گوشت کا ایک ٹکڑا اُٹھایا اور اپنے دانتوں سے اسے چیرا پھر انہیں برتن کے کناروں میں رکھا ۔

اس کے بعد فرمایا :

اللہ کے نام سے شروع کرو ۔پس ان لوگوں نے اتنا کھایا کہ انہیں کسی چیز کی حاجت نہ رہی اور مجھے ان کے ہاتھوں کے نشانات ہی نظر آئے ۔اس اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں علی کی جان ہے میں نے ان سب کے لئے جو کھانا پیش کیا تھا اسے ان میں سے ایک شخص کھا سکتا تھا ۔اس کے بعد آنحضرت نے فرمایا : انہیں پلاؤ ۔

پس میں ان کے پاس وہ برتن لے آیا ۔

ان سب نے اس سے سیر ہوکر پیا۔ اللہ کی قسم ! ان کا ایک مرد اتنا پی سکتا تھا(جتنا ان سب نے پیا) ۔

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے ساتھ گفتگو کا آغاز کرنا چاہا تو ابو لہب نے سبقت کرتے ہوئے کہا : تمہارے ساتھی نے تمہارے اوپر خوب جادو کردیاہے ۔

یہ سن کر وہ لوگ پراکندہ ہوگئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان سے یہ بات نہ کرسکے ۔

آپ نے (مجھ سے ) فرمایا : اے علی! کل (تیاری کریں )۔ اس شخص نے مجھ پر سبقت لیتے ہوئے جو بات کی وہ آپ نے سنی اور اس سے پہلے کہ میں ان سے گفتگو کرتا وہ بکھر گئے ۔ پس (کل) آپ ہمارے لئے اسی طرح کا کھانا تیار کریں جس طرح آپ نے (آج ) تیار کیا تھا ۔پھر انہیں میرے پاس جمع کریں ۔

پس میں نے اپنا کام انجام دیا اور انہیں جمع کیا ۔تب آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھانا لانے کا حکم دیا اور میں نے کھانا ان کے پاس رکھ دیا ۔آپ نے (آج بھی ) وہی کیا جو کل کیا تھا ۔ انہوں نے اتنا کھایا کہ کسی چیز کی حاجت نہ رہی ۔پھر آنحضرت نے فرمایا : انہیں پلاؤ۔ پس میں ان کے پاس وہی بڑا کٹورا لے آیا اور ان سب نے اس سے سیر ہوکر پیا ۔اس کے بعد رسول اللہ نے گفتگو کرتے ہوئے فرمایا : اے اولادِ عبد المطلب ! اللہ کی قسم میں عرب کے کسی ایسے جوان کو نہیں جانتا جو اپنی قوم کے پاس اس چیز سے بہتر چیز لے آیا ہو جو میں آپ کے پاس لے آیا ہوں ۔میں آپ کے پاس دنیا اور آخرت کی بھلائی لے آیا ہوں ۔اللہ تعالی نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں آپ کو اس کی طرف دعوت دوں ۔پس آپ میں سے کون ہے جو اس امر میں میرا ہاتھ بٹائے تاکہ وہ آپ کے درمیان میرا بھائی، وصی اور میرا خلیفہ قرار پائے ؟

علی علیہ السلام کہتے ہیں :

یہ سن کر ان سب کو سانپ سونگھ گیا ۔تب میں نے کہا : میری عمر ان سب سے کم ہے ،میری آنکھ ان سب سے زیادہ کیچڑ والی ہے ،میرا پیٹ ان سب سے زیادہ بڑا ہے اور میری پنڈلی ان سب سے زیادہ باریک ہے ۔اے اللہ کے نبی ! میں اس کام میں آپ کا ہاتھ بٹاؤں گا ۔

یہ سن کر آنحضرت نے میری گردن پکڑی کر فرمایا : یہ ہے میرا بھائی ،میرا وصی اور تمہارے درمیان میرا جانشین ۔پس تم اس کی سنو اور اس کی اطاعت کرو ۔

پس وہ لوگ ہنستے ہوئے اُٹھ کھڑے ہوئے اور ابو طالب سے کہنے لگے: یہ آپ کو حکم دے رہا ہے کہ آپ اپنے بیٹے کی بات سنیں اور اس کی اطاعت کریں ۔(۳)

یہ حدیث مفسرین اور محدثین کے ہاں ’’حدیث یوم الدار ‘‘ کے نام سے معروف ہے ۔اسے حدیث بدءالدعوۃ (ابتدائے دعوت کی حدیث) بھی کہا جاتا ہے ۔(۲)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صرف آغاز رسالت میں ہی اپنے جانشین کی نشاندہی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ آپ نے مختلف مناسب مقامات ،مواقع اور جگہوں پر اس بات کا صریح اعلان فرمایا کہ آپ کے بعد آپ کا جانشین علی ابن ابی طالب علیہ السلام ہیں ۔

ان میں مقامات سب سے نمایاں ۱۸ ذی الحجہ کا واقعہ ہے جو بعد میں یوم الغدیر یا غدیر خم کے دن کے نام سے معروف ہوا ۔

یہاں ہم اس کے تاریخی واقعے نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فصیح و بلیغ اور واضح فرمان کا ذکر چار مباحث کی صورت میں قارئین کے گوش گزار کریں گے ۔

پہلا مبحث

واقعہ غدیر

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہجرت کے دسویں سال حج بیت اللہ کے سفر کا ارادہ فرمایا ۔آپ نے لوگوں کے درمیان اس بات کا اعلان کیا چنانچہ لوگوں کی ایک کثیر تعداد آنحضرت کی معیت میں حج کرنے کے لئے مدینہ میں جمع ہوئی ۔

اس حج کو ’’حجۃ الوداع ‘ حجۃ الاسلام ،حجۃ البلاغ ،حجۃ الکمال اور حجۃ التمام‘‘(۴) کے ناموں سے یاد کیا جاتا ہے ۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہجرت سے لے کر اپنی رحلت تک اس حج کے علاوہ کوئی اور حج انجام نہیں دیا ۔

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سنیچر ،۲۴ یا ۲۵ ذی القعدہ ،۱۰ ھ کو غسل فرماکر اور بدن پر تیل لگاکر ،دوصحاری (۵) کپڑوں (یعنی تہبند اور چادر) میں ملبوس پیدل مدینہ سے نکلے ۔

آپ اپنی تمام ازواج کو محملوں میں بٹھاکر اپنے ساتھ لے گئے ۔

آپ کے ساتھ جانے والوں میں آپ کے اہل بیت اور مہاجرین و انصار کے علاوہ بہت سے عرب قبائل اور مختلف طبقات کے لوگ شامل تھے ۔(۶)

آپ کے مدینہ سے نکلتے وقت شہر میں چیچک یا خسرہ کی وبا پھیل گئی جس کے باعث بہت سے لوگ آپ کے ساتھ حج نہ کرسکے ۔اس کے باوجود آپ کے ساتھ گروہ در گروہ لوگ موجود تھے جن کی تعداد کو صرف خدا جانتا ہے ۔

آپ کے ساتھ نکلنے والے لوگوں کی تعداد کے بارے میں درج ذیل اقوال مذکور ہیں :

۱۔نوے ہزار ۔

۲۔ ایک لاکھ چودہ ہزار ۔

۳۔ ایک لاکھ بیس ہزار ۔

۴۔ایک لاکھ چوبیس ہزار ۔

۵۔ اس سے بھی زیادہ ۔

یہ تعداد ان لوگوں کی ہے جو آپ کے ساتھ نکلے تھے ۔رہی وہ تعداد جس نے آپ کے ساتھ حج کیا تو وہ اس سے زیادہ تھی ۔ان میں اہل مکہ نیز یمن سے امیر المومنین علی اور ابو موسی کے ساتھ آنے والے بھی شامل تھے ۔(۷)

اتوار کے دن آپ نے یلملم (۸)

میں صبح کی پھر آپ نے وہاں سے چل کر شرف السیّالہ میں رات کا کھانا کھایا اور وہیں مغرب و عشاء کی نمازیں پڑھیں۔ اس کے بعد آپ نے عرق الظبیہ (۹)

میں صبح کی نماز پڑھی پھر روحاء میں اترے ۔

اس کے بعد روحاء سے روانہ ہو کر آپ نے’’منصرف‘‘(۱۰)

میں عصر کی نماز پڑھی ۔مغرب و عشاء کی نماز آپ نے متعشی میں ادا کی اور وہیں رات کا کھانا تناول فرمایا ۔اثایہ (۱۱)

میں آپ نے صبح کی نماز پڑھی ۔منگل کے دن عرج (۱۲)میں صبح کی اور لحی جمل(۱۳) (جحفہ کی گھاٹی ) میں آپ نے حجامت کرائی ۔بدھ کے دن آپ سقیا (۱۴) کے مقام پر اترے اور ابواء (۱۵) میں صبح کی ۔آپ نے صبح کی نماز وہیں پڑھی ۔ابواء سے روانہ ہوکر جمعہ کے دن جحفہ میں اترے اور وہاں سے قدید (۱۶) روانہ ہوئے ۔آپ سنیچر کے دن قدید میں اور اتوار کے دن عسفان(۱۷) میں تھے ۔

وہاں سے چل کر آپ غمیم(۱۸) پہنچے تو پیدل چلنے والے آڑے آئے ۔انہوں نے صفیں بنائیں اور آنحضرت سے پیادہ روی کی شکایت کی ۔

آپ نے فرمایا : تم لوگ نسلان کی مدد لو ( نسلان سے مراد ہے تیز تیز چلنا جو بھاگنے سے کم ہو )۔ انہوں نے اس پر عمل کیا اور آرام محسوس کیا ۔پیر کے دن آپ مرّ الظہران میں تھے ۔

پس آپ وہاں رہے یہاں تک کہ سَرِف پہنچنے کے بعد شام ہو گئی اور سورج غروب ہوگیا ۔

آپ نے مغرب کی نماز نہیں پڑھی یہاں تک کہ آپ مکہ (۱۹) (ثنیتین۔مترجم )

میں داخل ہوئے ۔ثنیتین (۲۰) پہنچ کر آپ نے ان دونوں کے درمیان رات گزاری۔ منگل کو دن کے وقت آپ مکہ میں داخل ہوئے ۔(۲۱)

جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مناسک حج ادا کرچکے تو آپ مدینہ کی طرف واپس لوٹے ۔آپ کے ساتھ وہ سب لوگ موجود تھے جن کا ذکر ہوچکا ۔

مدینہ کے راستے میں آپ جحفہ میں غدیر خم کے مقام پر پہنچے ۔یہ وہ جگہ تھی جہاں سے اہل مدینہ ،مصریوں اور عراقیوں کے راستے جدا ہوتے تھے ۔یہ جمعرات(۲۲) ۱۸ ذی الحجہ کی بات ہے ۔یہاں جبرئیل امین اللہ کا یہ فرمان لے کر آپ کے پاس اترے ۔

يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ ۔ (۲۳)

اے ہمارے رسول ! آپ کےرب کی طرف سے آپ کی طرف جو پیغام اُتارا گیا ہے اسے پہنچادیں ۔

جبرئیل نے آپ کو (خدا کی طرف سے ) حکم دیا کہ آپ علی علیہ السلام کو لوگوں کا رہبر و رہنما قرار دیں نیز علی علیہ السلام کی ولایت اور ہر ایک پر آپ کی لازمی اطاعت کے بارے میں نازل شدہ حکم لوگوں تک پہنچائیں ۔

اس وقت لوگوں کے ابتدائی قافلے جحفہ کے قریب پہنچ چکے تھے ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا کہ ان سے آگے نکلنے والوں کو پلٹا یا جائے اور بعد میں آنے والوں کو اس جگہ روکا جائے ۔آپ نے حکم دیا کہ وہاں موجود ببول کے پانچ تناور اور عظیم درختوں کے نیچے جو ایک دوسرے کے قریب واقع تھے کوئی نہ اترے۔ یہاں تک کہ جب لوگوں نے پڑاؤ ڈال دیا اور ان درختوں کے نیچے موجود خس و خاشاک کو صاف کیا اور نماز ظہر کی اذان دی گئی تو آپ ان کی طرف بڑھے اور ان درختوں کے نیچے لوگوں کو نماز پڑھائی ۔اس دن سخت گرمی تھی۔ تپش کی وجہ سے بعض لوگ اپنی چادر کے ایک حصے کو سروں پر اور دوسرے حصے کو پیروں کے نیچے رکھے ہوئے تھے ۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے ببول کے درخت کے اوپر ایک کپڑا تن کر سائبان بنایا گیا ۔جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو آپ نے لوگوں کے درمیان(۲۴) اونٹوں کی پالانوں کے اوپر (۲۵) بلند آواز سے خطبہ دیا اور اپنی آواز سب تک پہنچائی ۔

آپ نے فرمایا :

الحمد لله ونستعینه ونؤمن به ونتوکل علیه ونعوذ بالله من شرورانفسناومن سیّئات اعمالنا الذی لا هادی لمن اضلّ

ولا مُضلّ لمن هدی ۔ واشهد ان لااله الا الله ۔ وان محمداً عبده ورسوله ۔

حقیقی تعریف اللہ کے لئے ہے ۔ہم اس سے مدد مانگتے ہیں ،اس پر ایمان رکھتے ہیں اور اس پر توکل کرتے ہیں ۔

ہم اللہ کے ہاں پناہ مانگتے ہیں اپنے نفس کی برائیوں سے اور اپنے قبیح اعمال سے ۔جسے اللہ گمراہ کرے اسے کوئی راستہ نہیں دکھا سکتا اور جسے وہ ہدایت دے اسے کوئی گمراہ نہیں کرسکتا ۔

میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد اس کا بندہ اور رسول ہے ۔

اما بعد لوگو! قریب ہے کہ مجھے (اللہ کی جانب سے ) بلاوا آجائے اور میں لبیک کہوں ۔

مجھ سے سوال کیا جائے گا اور تم لوگوں سے بھی سوال کیا جائے گا ۔پس تم کیا کہتے ہو ؟

بولے : ہم گواہی دیتے ہیں کہ بے شک آپ نے (اللہ کا پیغام ) پہنچایا ،خیر خواہی کا ثبوت دیا اور مجاہدت کا حق ادا کردیا ۔اللہ آپ کو جزائے خیر دے ۔

فرمایا : کیا تم گواہی نہیں دیتے کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ،محمد اس کا بندہ اور رسول ہے ،اللہ کی جنت حق ہے اور اس کا جہنم بھی برحق ہے ،موت برحق ہے اور قیامیت آنے والی ہے جس میں کوئی شک نہیں اور یہ کہ اللہ قبروں میں موجود لوگوں کو زندہ کرے گا ؟

لوگوں نے کہا : ہاں ہم ان باتوں کی گواہی دیتے ہیں ۔

فرمایا : اے اللہ !گواہ رہنا۔ پھر فرمایا : لوگو ! کیا تم نہیں سن رہے ہو ؟

بولے :کیوں نہیں (ہم سن رہے ہیں ) ۔

فرمایا : میں حوض کوثر پر تم سے پہلے پہنچ جاؤں گا اور تم میرے پاس حوض پر پہنچوگے ۔اس کا عرض صنعاء اور بصری (۲۶)کے درمیانی فاصلے کے برابر ہے ۔

وہاں ستاروں کی تعداد کے برابر چاندی کے پیالے ہیں ۔

پس تم لوگ خیال رکھو کہ تم میرے بعد ثقلین (۲۷)کے ساتھ کیا رویہ رکھو گے ۔

پس کسی نے پکار کر کہا : اے اللہ کے رسول !

ثقلین سے کیا مراد ہے ؟

فرمایا : ثقلِ اکبر اللہ کی کتاب ہے ۔اس کا ایک سرا اللہ کے ہاتھ میں ہے اور دوسرا سرا تمہارے ہاتھوں میں ہے ۔

پس اس سے تمسک رکھو ۔اس صورت میں تم گمراہی سے محفوظ رہو گے ۔

دوسرا ثقل جو ثقل اصغر ہے میری عترت ہے ۔بے شک (خدائے )لطیف و خبیر نے مجھے خبر دی ہے کہ یہ دونوں ہرگز جدا نہ ہوں گے یہاں تک کہ یہ دونوں حوض کوثر پر میرے ہاں وارد ہوں گے۔

میں نے ان دونوں کے لئے اپنے رب سے اس بات کا سوال کیا ہے ۔پس ان دونوں سے آگے نہ بڑھو ورنہ ہلاک ہوجاؤگے اور ان دونوں کا ساتھ نہ چھوڑو وگرنہ تم ہلاک ہوجاؤگے ۔

اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے علی کا ہاتھ پکڑ کر اسے بلند کیا یہاں تک کہ ان دونوں کی بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگی ۔یوں آپ نے تمام لوگوں کے سامنے علی کا تعارف کرایا اور فرمایا : لوگو ! مومنین پر خود ان سے زیادہ اختیار کسے حاصل ہے ؟

مَنْ اولی الناس بالمؤ منین من انفسه م ؟

لوگوں نے کہا : اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں ۔

فرمایا : اللہ میرا مولی ہے اور میں مومنین کا مولی ہوں یعنی میں ان پر خود ان سے زیادہ اختیار رکھتا ہوں ۔

فمن کنت مولاه فعلیٌّ مولاه ۔

پس جس کا میں مولی ہوں اس کا یہ علی مولی ہے ۔ آپ نے یہ جملہ تین بار دہرایا ۔

حنبلیوں کے امام جناب احمد کہتے ہیں کہ آپ نے چار بار یہ فرمایا ۔ اس کے بعد فرمایا :

اللهم وال من والاه وعادِ مَنْ عاداه واحبَّ مَنْ احبّه وابغض من ابغضه وانصر من نصره واخذل من خذله وادر الحق معه حیث دارألا فلیبلّغ الشاهد الغائب ۔

اے اللہ جو اس سے دوستی کرے تو بھی اس سے دوستی کر اور جو اس سے عداوت رکھے تو بھی اس سے عداوت رکھ ۔ جو اسے چاہے تو بھی اس سے محبت کر اور جو اس سے بغض رکھے تو بھی اس سے بغض رکھ ۔جو اس کی مدد کرے تو اس کی مدد کر اور جو اس کا ساتھ چھوڑ دے تو بھی اس کا ساتھ چھوڑ دے ۔

وہ جہاں جائے حق کو اس کے ساتھ رکھ ۔آگاہ رہو کہ جو یہاں موجود ہیں وہ غائبین تک یہ( پیغام) پہنچائیں ۔

اس کے بعد لوگوں کے بکھر جانے سے پہلے امین وحی جبرئیل یہ آیت لے کر اترے :

الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي ۔ (۲۸)

پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اللہ سب سے بڑا ہے ،اس نے دین کو کامل کیا،

نعمت کو تمام کیا اور پروردگار میری رسالت سے نیز میرے بعد علی کی ولایت سے راضی ہوا ۔

اس کے بعد لوگوں نے امیر المومنین صلوات اللہ علیہ کو مبارک باد دینا شروع کیا ۔ صحابہ میں سب سے پہلے آپ کو ہدیہ تبریک پیش کرنے والوں میں شیخین (حضرت ابو بکر ،حضرت عمر ) شامل تھے ۔ہر ایک نے کہا :

بخ بخ لک یا ابن ابی طالب اصبحت وامسیتَ مولایَ ومولیٰ کلّ مومن ومؤمنة ۔

اے فرزند ابی طالب آپ کو مبارک ہو ،مبارک ہو۔آپ میرے اور ہر مومن و مومنہ کے مولی بن گئے ۔

ابن عباس نے کہا : (اللہ کی قسم ) یہ (علی کی ولایت ) لوگوں کی گردنوں پر واجب ہوگئی ۔

اس وقت حسان بن ثابت نے کہا : اے اللہ کے رسول ! آپ مجھے اجازت دیجئے کہ میں علی کے بارے میں کچھ اشعار کہوں اور آپ انہیں سنیں ۔

فرمایا : اللہ کی برکت کے سہارے کہو ۔پس حسان نےکھڑے ہوکر کہا :

اے قریش کے بزرگو ! ولایت کے بارے میں رسول اللہ کی قاطع گواہی کے بعد میں کچھ کہوں گا ۔پھر کہا :

یُنادیه م یوم الغدیر نبیّ ه ُ م بخُمٍّ فاسمع بالرسول منادیاً

لوگوں کا نبی غدیر کے دن خم کے مقام پر ان سے پکار پکار کر مخاطب ہوتا ہے اسی طرح تو بھی(اے حسان ) پکار کر رسول کو یہ بات سنا دے

یہ تھا واقعہ غدیر کا اجمالی تذکرہ ۔امت کا اس پر اتفاق ہے ۔ پورے عالم اور روئے زمین پر غدیر جیسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا ۔

اگر ہم بطور مطلق یوم غدیر کہیں جو یہ صرف اسی واقعے پر منطبق ہوگا ۔غدیر خم کی جگہ بھی یہی معروف مقام ہے جو جحفہ کے قریب ہے ۔بڑے بڑے ارباب تحقیق و جستجو بھی اس جگہ کے علاوہ کسی اور مقام کو اس نام سے نہیں پہچانتے ۔(۲۹)

دوسرا مبحث :

عید غدیر اسلامی تاریخ کے آئینے میں

اللہ تعالی کی مشیّت یہ ٹھہری کہ غدیر کا تاریخ ساز واقعہ تمام زمانوں اور جملہ ادوار میں ایک زندہ تاریخی حقیقت کے طور پر باقی رہے اور قلوب و اذہان کو اپنی طرف کھینچتا رہے ۔اسی لئے مسلمان ارباب ِ قلم ہر دور میں اس پر قلم فرسائی کرتے رہے

نیز تفسیر ،تاریخ ،حدیث اور عقائد سے مربوط اپنی گونا گون تالیفات و تصنیفات میں اس کا ذکر چھیڑتے رہے ۔اسی طرح مقررین اور خطباء وعظ و ارشاد کی محافل میں اور شعراء اپنے قصائد میں اسے موضوع سخن بناتے چلے آئے ہیں ۔

وہ واقعہ غدیر کو امام علی علیہ السلام کی وہ فضیلت قرار دیتے ہیں جو ہر قسم کے شک و شبہہ سے ماوراء ہے ۔ ہم دیکھتے ہیں کہ تاریخ بشریت خاص کر اسلام اور امت مسلمہ کی تاریخ میں واقعہ غدیر کو جو اہمیت حاصل رہی ہے وہ کسی اور واقعے کو بہت کم حاصل رہی ہے ۔

اس واقعے نے محدثین ،مفسرین ،علم کلام کے ماہرین ،فلسفیوں شاعروں ،ادیبوں ،لکھاریوں ،خطیبوں اور ارباب سیرت و تاریخ کے مختلف طبقوں کی توجہ کو جس طرح اپنے دامن میں سمیٹا ہے اس طرح کسی اور واقعے نے بہت کم سمیٹا ہے اور ان طبقات نے واقعہ غدیر کو جو اہمیت دی ہے وہ بہت کم واقعات کو دی ہے ۔