مراجع تقلید واجتهاد

مراجع تقلید واجتهاد0%

مراجع تقلید واجتهاد مؤلف:
: مصنف/ مؤلف
: مصنف/ مؤلف
زمرہ جات: متفرق کتب
صفحے: 4

مراجع تقلید واجتهاد

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

مؤلف: محقق ڈاکٹر میر محمد علی
: مصنف/ مؤلف
: مصنف/ مؤلف
زمرہ جات: صفحے: 4
مشاہدے: 9
ڈاؤنلوڈ: 28

تبصرے:

کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 4 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 9 / ڈاؤنلوڈ: 28
سائز سائز سائز
مراجع تقلید واجتهاد

مراجع تقلید واجتهاد

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

فہرست مطالب

مراجع تقلید واجتهاد ۳

مختصر کوائف مراجع تقلید و علما ۶

ضمیمہ: انتظار امام مہدی علیہ السلام اور تشیع کا سفرعلم و دانش ۶

تیسری صدی ہجری: ۶

صدی کے دیگر واقعات ۶

چوتھی صدی ۷

صدی کے دیگر واقعات ۸

اس صدی کے دیگر واقعات ۹

ساتویں صدی ۱۰

صدی کے دیگر واقعات ۱۰

آٹھویں صدی ۱۱

دسویں صدی ۱۱

گیارہویں صدی ۱۲

بارہویں صدی ۱۳

صدی کے دیگر واقعات ۱۳

تیرہویں صدی ۱۴

صدی کے دیگر واقعات ۱۵

چوہویں صدی ۱۵

صدی کے دیگر واقعات ۱۶

عصر حاضر کے دیگر مراجع ۱۶

صدی کے دیگر واقعات ۱۶

کوائف علمائے بر صغیر ۱۷

۹- عصر حاضر کے دیگر علماء : ۱۹

مراجع تقلید واجتهاد

تحریر:محقق ڈاکٹر میر محمد علی(اعلی اللہ مقامہ)

تشیع کے علم و دانش کے کارواں کے رہنماؤں میں قد آور شخصیتیں نظر آتی ہیں جن کا تعلق علوم قرآنی ، حدیث، سیرت، رجال، فقه تفسیر تاریخ علم کلام صرف ونحو، فلکیات اور جدید علوم سے ہے۔ علامہ ابن حسن نجفی نے تقلید و اجتہاد میں ۳۴۰ ھ سے ۱۴۱۵ھ کے عرصہ پر محیط ۱۴۲ مجتہدین کی فہرست دی ہے۔ سید آل محمد مہر جائسی نے گوہر یگانہ میں نواب اربعہ سے لیکر ۱۳۰۰ھ تک ۲۵ منتخب علماء وفقہا کی فہرست دی ہے اس میں برصغیر ہند کے علما بھی شامل ہیں۔

استاد شہید مرتضی مطہری نے رسالہ توحید میں ( علم فقہ مترجم ابو جواد ) ۳۶ اہم فقہاء ومحدثین کا تذکرہ کیا ہے۔ متذکرہ بالا ماخذوں سے ۲۸ علماء کی فہرست ترتیب دی گئی ہے جو بطور ضمیمہ شامل ہے۔

متذکرہ فہرست سے عیاں ہوتا ہے کہ ہمارے حوزہ ہائے علمیہ دنیوی علائق ، و انقلابات کے باوجود بلا وقفہ اپنا کام کرتے رہے اور علم و دانش کی امانت کو گزشتہ ۱۴ سو سال میں نسلاً بعد نسل منتقل کر رہے ہیں یہ وصل قول اور تسلسل فکر کا سرمایہ ہے جو ہر راہ سے معصوم تک پہنچتا ہے اور یہی تشیع کا امتیاز ہے۔ تشیع کے علمی سفر پر نظر ڈالیں تو کئی قد آور شخصیتیں نظر آتی ہیں جنہوں نے اس کا روانِ علم کی قیادت کی ہے۔ دور اجتہاد جاری ہے اور ظہور امام تک رہیگا۔

۱

مختصر کوائف مراجع تقلید و علما

ضمیمہ: انتظار امام مہدی علیہ السلام اور تشیع کا سفرعلم و دانش

نام- سن و پیدائش ، وفات اور خصوصیات /وجوہ شہرت

تیسری صدی ہجری:

نائب اول، مدت نیابت (۲۶۰-۲۹۵ھ)

۱-عثمان بن سعید ۔۔۔۲۹۵

نائب دوم، آغاز نیابت صفر ۳۰۵ھ مدت نیابت (۲۹۵–۳۰۵ھ)

۲ - محمد بن عثمان بن سعید۔۔۔۳۰۵

صدی کے دیگر واقعات

وفات امام بخاری ۳۵۶ ھ

ولادت امام ترمذی ۳۷۶ھ

الخوارزمی؛ صفر بر تحقیق ۲۰۵ بیت الحکمہ بغداد ۲۱۰ ھ

چوتھی صدی

نام- سن و پیدائش ، وفات اور خصوصیات /وجوہ شہرت

۳- علی بن بابویہ ۔۔۔۳۲۹

والد شیخ صدوق، امام عصرؑ سے دو فرزندوں کی بشارت

نائب سوم، مدت نیابت (۳۰۵-۳۲۰)

۴- حسین بن روح ۔۔۔۳۲۰

عریضہ مختلف زبانوں سے واقف

۵- ابو الحسن محمد سمری ۔۔۔۳۳۹

نائب چہارم، مدت نیابت (۳۲۰-۳۲۹)

آخری نائب، غیبت کبریٰ کا آغاز ۳۲۹ ھ

۶- محمد بن یعقوب کلینی ۔۔۔۳۲۹

کافی ۲۰ برس محنت ۔ ۱۶۱۹۹ ۔ احادیث مجموعہ صحاہ ستہ سے زیادہ ؛ محدد ملت

۷- ابو جعفر محمد بن علی بن حسین (شیخ صدوق۔۔۔ ۳۸۱-۳۰۵

من لا یحضره الفقیه، ۱۹۰۴۴ احادیث ؛ حروف تہجی کی ترتیب ؛ امالی صدوق ۲۱۴ کتابیں ۔

۸- شیخ مفید ؛ ابو عبد اللہ محمد بن نعمان۔۔۔ ۳۳۶-۴۱۳

علم کلام ؛ فقہ ؛ مقنعہ؛استاد سید رضی؛ سید مرتضی ؛تصانیف ۱۰۰ سے زیادہ ؛قبر پر مرثیہ (امام زمانہ)

صدی کے دیگر واقعات

وفات نسا‏‏‏ئی ۳۰۳ ھ

ولادت بو علی سینا ۳۷۰ ھ

جامعہ الازہر مصر کی بناء ۳۵۰ ھ

وفات بو علی سینا ۴۶۸ ھ

پانچویں صدی

نام- سن و پیدائش ، وفات اور خصوصیات /وجوہ شہرت

۹- سید مرتضی علم الہدی (علی بن حسین )۔۔۔ ۳۵۵- ۶۷۲

جامع شخثصیت انتظار شافی؛ ذریعہ؛دیوان ۲۰ اشاعت ؛۸۰ہزار کتابویوں کا مطالعہ

۱۰ – شیخ الطا‏‏‏ئفہ طوسی (محمد بن حسن طوسی )۔۔۔ ۳۸۵ -۴۷۰

تہذیب الاحکام؛(۱۳۹۵۰)

اس صدی کے دیگر واقعات

فتح اندلس ۴۱۱ ھ

وفات بوعلی سینا ۴۶۸ ھ

تبصار؛۵۵۱۱ فقہ؛ اصول ؛ حدیث؛ تفسیر؛ نہایہ ؛ مبسوط؛ الخلاف ۔

ساتویں صدی

نام- سن و پیدائش ، وفات اور خصوصیات /وجوہ شہرت

۱۱- نصیرالدین طوسی (محقق طوسی)۔۔ ۵۹۷-۶۷۲

منطق؛ہیئت؛جغرافیہ؛تجرید الکلام؛مراغاہ میں رضدگان تعمیر کرا‏‏‏ئی ؛۴لاکھ کتابیں فقہ؛ اصول؛کلام؛منطق؛۱۰۰

۱۲- علامہ حلی ( حسن بن یوسف بن علی بن مطہر)۔۔۔ ۶۴۸-۷۲۶

کتابیں ارشاد؛تذکرہ الفقہاء؛ قواعد؛ مجد ملت جعفریہ

صدی کے دیگر واقعات

وفات امام غزالی۵۰۵ ھ

وفات شیخ عبدالقادر۵۳۰ھ

قرآن کاپہلا لاطینی ترجمہ۵۳۵ ھ ؛ فخرالدین رازی۵۴۳ھ- یورپ پہلی کتاب مشین پریس ۵۳۴ھ

آٹھویں صدی

نام- سن و پیدائش ، وفات اور خصوصیات /وجوہ شہرت

۱۳- شہید اول ( شمس الدین محمد بن جمال الدین مکی)۔۔۔ ۷۳۴-۷۸۶

اللمعہ الدمشقیہ ؛ جھوٹے الزامات ؛ قید شام سزا‏‏‏ئے موت

دسویں صدی

نام- سن و پیدائش ، وفات اور خصوصیات /وجوہ شہرت

۱۴- شہید ثانی (شیخ زین الدین)۔۔۔ ۹۰۱-۹۶۶

فقہ، اصول ، فلسفہ، طب ، نجوم، اللمعہ کی شرع ، بہت سفر کئے ، خواب میں شہادت کی بشارت ، تقیہ میں عمر بسر کی قسطنطنیہ ، جرم تشیع ،سزائے موت

۱۵- مقدس اردبیلی ( احمد بن محمد)۔۔۔ ۔۔۹۹۳

شاهان صفویہ کے ہمعصر، امام عصر زیارت کا شرف، شرح ارشاد" مجمع برہان، دایان مناره اردبیلی، بایاں منارہ علامه حلی ( نجف اشرف)

۱۶- شیخ بہاوالدین (حر عاملی )۔۔۔ ۹۵۳-۱۰۳۱

ادیب، شاعر، فلسفی، انجینئر، فقیه طبیب مجدد مذہب جعفری ، زبده صمدية ، اربعین، حیات القلوب شرح کافی، زاد المعاد، تلانده، ملا صدرالدین ، علامه مجلسی

۱۷- شہید ثالث (قاضی سید نوراللہ بن شریف الدین مرعشی شوشتری)۔۔۔ ۹۵۶-۱۰۱۹

مذہب اربعہ کی فقہ میں ماہر، اکبر کے زمانہ کے قاضی ، جہانگیر کا دور، احقاق الحق، بجواب ابطال الباطل، مجالس المومنين سزائے موت ، دشمنوں کی سازش

گیارہویں صدی

نام- سن و پیدائش ، وفات اور خصوصیات /وجوہ شہرت

۱۸- مجلسی اول ( محمد بن باقر بن محمد تقی) ۔۔۔۱۱۱۰-۱۰۳۷

بحار الانوار تمام احادیث شیعہ کا مجموعہ درس سے ۱۰۰۰ علماء فارغ۔

۱۹۔ محدث جزائری ( نعمت الدین عبد الله )۔۔۔ ۱۱۱۲_۱۰۵۰

علامہ مجلسی کے شاگرد - بحار الانوار کی تالیف میں مجلسی کی مدد کی۔ شرح تہذیب

( ۱۲ جلد) شرح استبصار، (۲) جلد ) انوارنعمانیہ، زہر الربیع ، روضہ کی تعمیر نو پسر سیداحمد علی ، پسر مفتی طیب آغا

بارہویں صدی

نام- سن و پیدائش ، وفات اور خصوصیات /وجوہ شہرت

۲۰ - شهید رابع ( شیخ محمد تقی)۔۔۔ ۱۲۶۳

۲۱ ۔ مہدی بحر العلوم۔۔۔ ۱۲۱۲-۱۱۵۴

۲۲ ۔ وحید بهبهانی( محمد باقر بن محمد اکمل ) ۔۔۔۱۲۰۸

بابیت کے خلاف کفر کا فتویٰ ؛ فقیه صاحب کرامت نزد یک بدرجه عصمت اخباریت کے خلاف جدو جہد ، متعد د شاگرد اجتہاد کا دفاع

صدی کے دیگر واقعات

قرآن کا پہلا انگریزی ترجمہ ۱۱۴۵ ھ

وفات شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ۱۱۷۲ ھ

تیرہویں صدی

نام- سن و پیدائش ، وفات اور خصوصیات /وجوہ شہرت

۲۳ -شیخ جعفر کاشف العظا ۔۔۔۱۲۲۸

کشف الغطا ، فقہ اصل اصول شیعہ جواہر الکلام، شیعہ انسائیکلو پیڈیا محقق کی شرائع کی شرح ۵۰ جلد ۲۰ ہزار صفحہ ۳۰ سال خاتم الفقهاء المجتهدین

۲۴ -شیخ محمد حسن ۔۔۔ ۱۲۶۶

فقہ اصل اصول

۲۵۔ شیخ مرتضی انصاری۔۔۔ ۱۲۸۱

شیعہ جواہر الکلام، شیعہ انساء کلو پیڈیا محقق کی شرائع کی شرح ۵۰ جلد ۲۰ ہزار صفحہ ۳۰ سال خاتم الفقهاء المجتهدین ، رسائل مکاسب ، فقہ، اصول

صدی کے دیگر واقعات

وفات شاہ عبدالعزیزمحدث دہلوی ۱۲۲۹ھ

چوہویں صدی

نام- سن و پیدائش ، وفات اور خصوصیات /وجوہ شہرت

۲۶ - کاظم خراسانی۔ ۱۳۲۹-۱۲۵۵ ھ

علم اصول ۔ کفایة الصول، مشرویت کا فتوی ۱۲ سو افراد درس ، ۲۰۰ مجتہد ، عصر آخرکے فقہا، ابوالحسن اصفہانی، سید حسین بروجروی تلامذہ

۲۷- میرزا محمد حسین شرازی (میرزا شیرازی بزرگ) ۔۔۔۱۳۱۲ ھ

۲۲سال وہ مرجع رہے ؛ تمباکو حرام قراردیکر رژیم معاہدہ منسوخ کردیاآخوند خراسانی سے علمی مقابلہ ؛ علم اصول میں جدید نظریات؛ موجودہ دور کے بہت سے فقہاء آپ ہی کے شاگرد ہیں ؛ تنزیہ الامہ حکومت در اصل ؛فارسی؛ مشروطیت اور اس کی اسلامی بنیادوں کی دفاع کی ۔

۲۸- میرزا حسین نا‏‏‏ئینی ۔۔۔۱۳۵۵ھ

صدی کے دیگر واقعات

انہدام جنت البقیع ۱۳۴۴ ھ

عصر حاضر کے دیگر مراجع

بروجردی ۱۳۸۱ ھ/ محسن حکیم۱۳۹۰ھ/اراکی ۱۴۱۵ھ/خوئی ۱۴۱۳ھ/ خمینی ۱۴۰۹ ھ/ گلپا‏‏‏ئیگانی ۱۴۱۴ھ/ سیستانی /اور عصر حاضر کے دیگرمجتہدین

صدی کے دیگر واقعات

انقلاب ایران ۱۹۸۰

ایران عراق جنگ ۱۹۸۱-۱۹۸۸

عراق کویت جنگ ۱۹۹۱

عراق امریکہ جنگ ۲۰۰۴ م

۲

کوائف علمائے بر صغیر

۱-سید دلدار علی : ( غفران مآب )

( ۱۱۶۶ - ۱۳۳۵ - مطابق ۱۷۵۳ - ۱۸۳۰ ء)

برصغیر کے علماء میں پہلے نامور عالم جو تحصیل علم کے لئے عراق گئے ، پیدائش نصیر آباد لکھنو میں پہلی مرتبہ نماز جماعت و جمعہ کی بنیاد ڈالی ، اساتذہ، سید غلام حسین ، باقر بیبانی ، بحر العلوم ، مهدی شهرستانی ۳۰ کتا ہیں : " عماد الاسلام" غفران ماب امام باڑہ کی تعمیر ۔

۲-مفتی اعظم سید محمد عباس ( ۱۲۲۴-۱۳۰۶ مطابق ۱۸۰۹ ء- ۱۸۸۹)

حکومت اودہ کے چیف جسٹس بھی رہے ، علمی حلقوں میں استاد الکل فی الکل کے لقب سے موسوم تھے، شاگرد، سید حامد حسین ، ناصر الملت، نجم الملت ، میرا نہیں، متعد دعلوم میں تصانیف ، روائج القرآن، ترصیح الجواہر۔

۳

۳-سید حامد حسین ( ۱۳۴۴-۱۳۰۶ مطابق ۱۴۳۰-۱۸۸۱)

عبقات الانوار ، تحفہ اثنا عشری کا جواب، شہید ثالث کے مزار کی تعمیر ، حدیث ، رجال و مناقب کی جامع انسائیکلو پیڈیا۔

۴-سید نجم الحسن ( نجم العلما ) (۱۲۷۹- ۱۳۵۷ مطابق ۱۸۶۲-۹۳۸)

تفسیر،حدیث، فقہ، اصول ، ادب بیت عراق کے علماء کے اجازہ حاصل کئے، المحاسن، پردہ ، ہزاروں خوط ، لکھنو ایجی ٹیشن میں حصہ لیا، دیوان،اشعار، مدرسہ ناظمیہ ، مدرسۃ الواعظین کا قیام۔

۵-سید ناصر حسین (ناصر الملت ) ( ۱۲۸۴-۱۳۶۱ مطابق ۱۸۶۴ -۱۹۴۲)

پوری زندگی تصانیف میں گزاری ، اصل کام عبقات الانوار ہے، تحفہ اثنا عشری کے باب الامامت کا جواب، شمس العلماء -

۶-علامہ حائری (سید علی) ( ۱۲۸۸ -۱۳۶۱ مطابق ۱۸۷۶ -۱۹۴۱)

لاہور کے عظیم المرتبت عالم و مجتہد ، تفسیر نور مع التنزیل ۔ ۱۳ پارے والد کے باقی انہوں نے مکمل کی۔ تصانیف ۵۰ کتابیں اور رسائل ۔

۷-سید غلام حسین ( ۱۲۷۰-۱۳۵۲ مطابق ۱۸۵۳-۱۹۳۳)

والد سید اشرف حسین، متعددا جازوں کے حامل تھے۔ پائے کے خطیب شمس الہدایہ۔

۸-سید محمدباقر (باقر العلوم ) ابن ابوالحسن رضوی مجتہد ( ۱۳۹۵-۱۳۴۲ م -- ۱۸۲۸- ۱۹۲۸)

عظیم المرتبت عالم، مجتہد مولانا ابو الحسن ( ابو صاحب) کے فرزند، اساتذہ آقائے شریعت صحیح فتح اللہ

اصفہانی، سید محمدکاظم طباطبائی محمد کاظم یزدی ، شاگرد مولانا سید حسن، راحت حسین گوپال پوری، سید محمدرضا، مدرس اعلی موسسه سلطان المدارس ، تصانیف صوب الریم اللہ وتر غائب۔

۹-عصر حاضر کے دیگر علماء :

سید العلما میرن صاحب ( ۱۸۵۶)

ابوالحسن میرن صاحب (۱۹۲۲)

میرا قلیچ بیگ ( ۱۹۲۹ )

سبط حسن جائسی ( ۱۹۳۰)

سید نثار حسین ( ۱۹۵۱)

کلب حسین (کبن) ( ۱۹۶۳ ء)

حافظ کفایت حسین ( ۱۹۶۸ ء)

سید محمد دہلوی (۱۹۷۱)

علامہ رشید ترابی (۱۹۷۳)

مجتبی حسین کا مونپوری ( ۱۹۷۴ ء)

انیس الحسنين (۱۹۷۵)

حوالے :

 
 


سید مرتضی حسین مطلع انوار، تذکرہ شیعہ افاضل و علما کبار، برصغیر پاک و ہند، خراسان اسلامک ریسرچ سینٹر، کراچی۔

گوہر ینگانہ ؛ سید آل محمد جا‏‏‏ئس ؛ محفوظ بک ایجنسی کراچی ؛مترجم سید حسن امداد ؛۲ تقلید اور اجتہاد علامہ ابن حسن نجفی ادارہ تمدّن اسلام؛کراچی ؛۳ علم فقہ استاد شہید مرتضی مطہری ؛مترجم ابوجواد ؛رسالہ توحید۔

التماس سورہ فاتحہ :

کریم علی انڑ ابن محمد خان انڑ، ابوطالب ترابی ابن علامہ رشید ترابی اعلیٰ اللہ مقامہ

۴