امام سجاد کی سیاسی بصیرت اور علمی فیوض

امام سجاد کی سیاسی بصیرت اور علمی فیوض0%

امام سجاد کی سیاسی بصیرت اور علمی فیوض مؤلف:
: مصنف/ مؤلف
: مصنف/ مؤلف
زمرہ جات: امام علی بن حسین(علیہ السلام)
صفحے: 16

  • ابتداء
  • پچھلا
  • 16 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 766 / ڈاؤنلوڈ: 145
سائز سائز سائز
امام سجاد کی سیاسی بصیرت اور علمی فیوض

امام سجاد کی سیاسی بصیرت اور علمی فیوض

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

فيضان علم

تحقیقی مقالہ:

امام سجاد کی سیاسی بصیرت اور علمی فیوض

محقق : ڈاکٹر میر محمد علی

۱

۲

فہرست مطالب

فيضان علم ۱

پیش لفظ ۴

امام سجاد کی سیاسی بصیرت اور علمی فیوض ۶

ابتدائیہ ۶

دلیل امامت: ۷

حدیث لوح: ۸

محمد حنفیہ کا ادعائے امامت: ۹

بعد کربلا: امام کی ذمہ داری ۱۰

توابین کی تحریک: ۱۱

واقعہ حرہ ۱۳

احراق خانہ کعبہ ۱۴

سیاسی و فکری بصیرت ۱۵

شخصیت علمی ۱۷

علمی فیوض: ۱۹

امام کی دعائیں: ۲۰

صحیفہ کاملہ ۲۲

رساله حقوق: ۲۴

تتمّه : ۲۵

کتابیات ۲۶

کلام الامام امام الکلام ۲۷

دعائے مکارم الاخلاق سے اقتباسات ۲۷

بسم الله الرّحمن الرّحیم

پیش لفظ

قران، نہج البلاغہ، صحیفہ کاملہ آئمہ علیہم السلام کی زندگی اور علمی فیوض کا مطالعہ ہمارے ایمان اور معرفت میں اضافہ کرتا ہے اور پیغام حق کے تسلسل کا ذریعہ بنتا ہے۔ اس مناسبت سے ان قلمی کاوشوں کو فیضان علم کے نام سے موسوم کیا گیا ہے

بحمد اللہ گروہ جعفری پاکستان اور آل عبا مرکز تحقیق و کتب خانہ ( آل عبا ٹرسٹ) کے زیر اہتمام حسب ذیل عنوانات پر مقالے پیش کئے گئے۔

۱. قران کا سائنسی معراج اور ال ہ ام ی ترتیب

۲. ن ہ ج البلاغ ہ کا تعارف ی جائز ہ

۳. صحیف ہ کامل ہ کا تجز یاتی مطالع ہ

۴. حضرت امام جعفر صادق علی ہ السلام کی شخصیت اور علمی فیوض

۵. حضرت امام علی ابن موسی الرضا علی ہ السلام کی شخصیت اور ع ہ د امامت

۶. آئم ہ عسکرئین کا ع ہ د امامت اور علم ی فیوض

۷. ان ہ دام جنت البقیع : تاریخی عوامل و اسباب

۸. انتظار امام م ہ د ی علی ہ السلام اور تشیع کا سفر علم و دانش

۹. امام سجاد کی سیاسی بصیرت اور علمی فیوض

دوست احباب اور بالخصوص ابو طالب ترابی مرحوم کی خواہش تھی کہ ان مقالوں کو ایک کتابی شکل دی جائے تا کہ مومینین استفاده کر سکیں۔ میری بھی تمنا ہے کہ اس سر ما یہ نجات کو روز حشر آئمہ علیھم السلام کی خدمت میں پیش کروں۔

ان مقالوں کی تدوین میں مختلف افراد اور اداروں کا تعاون حاصل رہا ہے جن کے حوالے مقالوں میں دئے گئے ہیں۔ خصوصی طور پر خطیب آل عباسید ناصر عباس زیدی، حجتہ الاسلام عقیل الغروی اور برادرم نصیر ترابی قابل ذکر ہیں۔ میرے ایرانی دوست مرتضی طلوع ہاشمی اور ڈاکٹر حیدر رضا ضابط نے اسلامک ریسرچ فاؤنڈیشن مشهد ایران کی مطبوعات سے نوازا۔ میرے افراد خاندان کا تعاون لائق شکر ہے۔ قارئین سے میرے والدین کے لئے سورۃ فاتحہ کی درخواست ہے۔ شکریہ

ناشر احقر

سید علی حیدر - حق پرنٹر اینڈ پبلشر ڈاکٹر میر محمد علی

کراچی سابق چیئر مین سندھ بورڈ آف ٹکنیکل ایجوکیشن،

فون نمبر : ۶۶۷۶۰۳۴ کراچی فروری ۲۰۰۶ء

۳

امام سجاد کی سیاسی بصیرت اور علمی فیوض

ابتدائیہ

یہ ہمارا ایمان ہے کہ ہمارے ائمہ علیہم السلام بہترین رہبر ہیں اور تمام شعبہ ہائے زندگی میں چاہے وہ فکری، عباداتی ، اجتماعی یا سیاسی ہوں اعلیٰ ترین کمالات کا نمونہ ہیں اور یہ حیثیت معصوم خطا سے محفوظ ہیں مختصر الفاظ میں کہا جاسکتا ہے کہ ان ہستیوں کے پیمانہ کمالات انسانی اور اسلامی صفات کے اعلیٰ نمونہ ہیں۔ انہی ائمہ معصومین کی ایک ہستی سید سجاد حضرت امام زین العابدین کی ہے لیکن حیرت اور افسوس کا مقام ہے کہ اکثر مورخین اس امام کی بے شمار وصفوں کو نظر انداز کرتے ہوئے صرف ان کے زہد و عبادت ، دوران واقعہ کربلا بیماری اور بعد کربلا ان کے گریہ کو اس طرح پیش کرتے ہیں کہ شاید ان کا دوسرے شعبہ ہائے زندگی سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ لفظ بیمار ان کے نام کا اس طرح جزو بن گیا کہ استغفر اللہ ایک بیمار شخصیت کا تصور نظروں میں سما جاتا ہے یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ امام سجادا اپنی ساری زندگی میں بیمار نہیں ہوئے ۔ کربلا میں مصلحت الہی کے تحت چند روز بیمار رہے شیخ مفید اپنی کتاب الارشاد میں تحریر فرماتے ہیں " شمر چند سپاہیوں کے ساتھ خیمہ میں آیا اس وقت امام بیمار تھے اور بستر پر تھے اور اس وجہ ان کو قتل نہ کر سکے ۔ اسطرح یہ چند روزه بیماری بعد کر بلا امام کی ۳۴ سال کی زندگی کی نہ صرف ضامن بن گئی بلکہ امام کو آدم آل محمد بنا دیا۔

سیرت ائمہ کے مطالعہ کا تقاضہ ہے کہ ہر شعبہ حیات میں ان کی مہارت اور کاملیت کو سمجھا جائے ، امام سجاؤ کی سیرت نویسی میں یہ پہلو بہت زیادہ نمایاں ہے کہ ان کو بالخصوص سیاست سے کنارہ کش شخصیت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جس کا تعلق صرف عبادات اور گریہ وزاری سے تھا۔ حالانکہ جملہ ائمہ کی طرح وہ بھی امت مسلمہ کی ہدایت سے مربوط دوسرے شعبوں میں بھی فعال اور سرگرم تھے لیکن ان کی حکمت عملی زمانہ کے تقاضوں کے تحت دوسروں سے مختلف تھی ۔ زیرنظر مقالہ میں امام سجاد علیہ السلام کی فکری اور سیاسی بصیرت اور علمی فیوض کا جائزہ پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

دلیل امامت:

شیعہ عقیدے کی رو سے امامت کسبی نہیں بلکہ وہبی وصف ہے یعنی اس کا تعین خود اللہ تعالی کرتا ہے، ایک امام دوسرے آنے والے کی نشاندہی کرتا ہے اس عمل کو نص یا منشائے الہی کا اظہار کہتے ہیں ۔ جناب امیر المومنین سے امام حسین تک نص کا سلسلہ موجود ہے، لیکن حضرت سجاؤ کی امامت کی ابتدا عصر عاشور۶۱ ھ ہوئی جبکہ کربلا کے میدان میں خمیوں میں آگ لگی تھی۔ جن حالات میں یہ عمل واقع ہوا اس پر مورخین نے بحث کی اور سید سجاد کی امامت کی دلائل میں چند اہم امور کا ذکر کیا ہے۔

دانشور محمد رضا حسینی " جہاد امام سجاد ' مطبوعہ آستانہ قدس مشہد میں امام کیلئے تین شرائط بتاتے ہیں۔

( ۱) نص معصوم ( ۲) شائستگی علمی و اخلاقی ( ۳) کرامات ،معجزات اور خرق العادت ۔

حضرت امام زین العابدین سے متعلق نص معصوم میں جناب سرور کائنات اور امیر المومنین کی نصوص کا ذکر کیا جاتا ہے جس کے راوی حضرت جابر بن عبداللہ انصاری ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ سفر کر بلا پر روانگی سے پہلے حضرت امام حسین نے حضرت ام سلمہ کو کچھ تبرکات یہ کہہ کر دیئے کہ جب میرا فرزند واپس آ جائے تو یہ اس کے حوالے کر دینا۔

۴

حدیث لوح:

ایک اہم استدلال میں حدیث لوح کو پیش کیا جاتا ہے جو جناب سیدہ سلام اللہ علیہا سے منسوب ہے۔ وہ یہ کہ امام صادق سے مروی ہے کہ انہوں نے اپنے والد امام محمد باقر سے روایت کی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ انہوں نے یہ لوح جس پر تمام آنیوالے ائمہ کے نام درج تھے جابر ابن بن عبداللہ انصاری کے پاس دیکھا ، جابر نے یہ لوح جناب سیدہ سے لیکر نقل بنائی جس کو امام باقر نے اپنے پاس موجود لوح کے مطلق پایا (محمد رضا حسینی ) ۔ امام سجاد کی شائستگی علمی اور اخلاقی فضیلت کے سلسلہ میں ان کے بے شمار شاگرد اور ادعیہ کا مجموعہ صحیفہ کاملہ اور رسالہ حقوق قیمتی ذخیرہ ہیں جو ہر دور میں انسان کے کام آتا ہے اور سب سے آخری دلیل یعنی کرامات معجزات کے سلسلہ میں کر بلا سے کوفہ اور شام تک کے سفر اور کے دوران اور کئی ایک واقعات ہیں۔ صرف اشارہ کافی ہے۔

۱- ہرنی کی فریاد، بچے کو دودھ پلانے کا واقعہ ۔

۲- حجاج بن یوسف کے زمانہ میں قید کے دوران ایک قیدی کو اعجاز سے اہل وعیال سے ملاقات کروادی۔

۳- ہشام قتل کی نیت سے دربار میں بلایا اور خود امام کے جلال سے مرعوب ہو کر رہ گیا۔

۴- مہمان کو ہاتھ کی دھوون سے جواہرات دینا۔

امام سجاؤ کی امامت کی دلائل کے سلسلہ میں اس تفصیلی ذکر کی اس لئے ضرورت ہے کہ متذکرہ دلائل اورشواہد کے باوجود عوام کے ایک طبقہ نے محمد حنفیہ کو علی کے بڑے بیٹے ہونے کے حوالے سے امامت کا مستحق قرار دیا اور اس طرح ایک فرقہ کیسانیہ پیدا ہو گیا۔ کیسان حضرت علی کے آزاد کردہ غلام تھے وہ اور انکے پیرو اس وصول سے منحرف ہو گئے کہ امامت حقہ امام حسین کی نسل سے آگے بڑھے گی یعنی علی اور فاطمہ کی نسل میں، اس کے علاوہ ان کے نزدیک امام کی خصوصیات میں ظلم کے خلاف تلوار اٹھانا ضروری سمجھا گیا جبکہ وقت کے تقاضوں کے تحت امام زین العابدین نے انتقام کے لئے تلوار نہیں اٹھائی بلکہ تلوار کو صیقل دینے کی بجائے انسانی ذہنوں کو صیقل دینا ضروری سمجھا۔ ( علی حیدر نقوی)

محمد حنفیہ کا ادعائے امامت:

اس مسئلہ میں یعقوب کلینی نے امام باقر کے حوالے سے بیان کیا ہے کہ امام حسین کی شہادت کے بعد محمد حنفیہ نے امام سجاد سے ایک ملاقات میں کہا کہ حضرت علی اور امام حسن و حسین کے سلسلہ میں سرور کائنات کی وصیت موجود ہے

لیکن امام حسین نے اپنا کوئی وصی مقرر نہیں کیا، میں بھی علی کا بیٹا ہوں اور سن و سال میں آپ سے بڑا ہوں اس لحاظ سے مناسب ہے کہ منصب امامت اور شیعوں کی رہبری میر احق سمجھے ، اس پر امام سجاد نے کہا کہ جان لیں کہ میرے والد بغیر وصیت اس دنیا سے نہیں گئے وہ سفر عراق سے پہلے مجھے لکھ کر ایک دستاویز دیئے جواب بھی میرے پاس ہے تم کو جاننا چاہئے کہ خداوند تعالیٰ نے عہدہ امامت کو حسین کی نسل میں قرار دیا ہے، اگر آپ کو اس امر میں کوئی شک ہے تو حجر اسود سے انصاف طلب کریں۔

دونوں بھائیوں نے جا کر اپنا مدعا حجر اسود سے بیان کیا، محمد حنفیہ کے سوال پر حجر اسود سے کوئی جواب نہیں ملا لیکن امام کے سوال پر حجر اسود اپنی جگہ سے حرکت میں آیا اور جواب دیا۔ ” گواہی دیتا ہوں خدا نے امام حسین کی وصایت اور امامت امام زین العابدین کو دی ہے۔ اس پر محمد حنفیہ نے امام سے معذرت کی اور ان کی امامت کو قبول کر لیا۔ (حسین محمد جعفری)

۵

بعد کربلا: امام کی ذمہ داری

سانحہ کربلا کے نتیجہ میں تشیع کی دنیا میں ایک غم و حسرت کی لہر چھا گئی اور ملوکیت نے واقعہ کر بلا کو عوام کے ذہنوں سے مٹانے کی ہر طرح کی کوششیں تیز کر دی ۔ بقول عقل الغروی ” بکی ہوئی زبانوں پر خریدے ہوئے الفاظ میں ملوکیت کے قصیدے پڑھے جارہے تھے ۔ " یا کمال حیدر رضوی کے الفاظ میں" عالم اسلام میں بہت سناٹا تھا مدینہ میں سوگ، مکہ میں سراسیمگی ، کوفہ میں ندامت اور شام میں مسرت و انبساط تھا۔ اس پس منظر میں جب کربلا کی تمام تر مصیبتیں ، رنج و غم اور زخموں کو کندھے پر اٹھائے ہوئے حضرت سجاد واپس مدینہ پہنچے تو ان کے ذمہ واقعہ کربلا کے اہداف کی تکمیل تھی۔ ان کی سب سے بڑی ذمہ داری فریضہ امامت ہے اور امامت کی بلند عمارت میں جو رخنہ پڑا ہے اس کی مرمت اسلام کے مطابق کیجائے۔

ایسی حالت میں سب کی نظریں امام سجاد پر تھی ۔ کربلا کے حادثہ کبری کے بعد جس عزیمت ، استقامت اور الهی سیاست کے ساتھ امام نے آنحضرت کی روحانی تعلیمات کو جس طرح جاری رکھا اس کو دیکھ کر حیرت ہوتی ہے امام کو دو متضاد قسم کے فرائض اور ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہونا تھا، ( ۱) اپنے دوستوں کی جو بنی امیہ کی تلواروں کے مقابلہ میں حق گوئی پر قائم تھے ان کو قتل و خون سے محفوظ رکھیں اور ( ۲) ان تعلیمات اور نظریات کی اشاعت جس کے تحفظ کے لئے کربلا میں قربانی دی گئی تھی۔ بنی امیہ کے تحت الشعوا میں یہ ڈر ہمیشہ کھٹکتا رہتا تھا کہ کہیں آل محمد اور ان کے پیرو اچانک شہدائے کربلا کا انتقام لینے کے لئے نہ اٹھ کھڑے ہوں۔ اس لئے وقت کا تقاضہ یہ تھا کہ چاہے کتنی ہی دنیاوی تکالیف اور ذلتیں برداشت کرنی پڑ جائیں مگر کوئی ایسا فتنہ نہ کھڑا ہو جائے کہ بنی امیہ کے مظالم کی زد سے بچے ہوئے مخلصوں کا بھی خا تمہ کر دیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ بعض وقت ایسی حکمت عملی اختیار کرتے تھے جو بظاہر کمزوری سے تعبیر کیجا سکتی تھی لیکن ایسا کرنا آپ کی سیاسی بصیرت کا معجزہ تھا بعض صورتوں میں دینی سیاست کے ظاہری اسباب و نتائج عام انسان کی سمجھ سے بالا تر ہوتے ہیں مثلاً صلح حدیبیہ صلح حسن یا واقعہ کربلا۔ اس تفہیم کے بعد ہم امام کی چند حکمت عملیوں اور سیاسی بصیرت کے مظہر پر غور کرتے ہیں۔

توابین کی تحریک:

نواسہ رسول کے اندوہناک حادثہ نے کوفہ میں اہلبیت کے دوستوں کے مذہبی اور اخلاقی جذبات کو جھنجوڑ دیا ، ان میں یہ پچھتاوا تھا کہ ان کی دعوت پر امام حسین عراق آئے لیکن آزمائش کی گھڑی میں وہ امام کا ساتھ نہ دے سکے ، اس احساس کے نتیجہ میں مختلف تحریکیں معرض وجود میں آئیں جن کو اسلامی معاشرہ کے افراد کی پشت پناہی حاصل تھی ۔ ایسا سوچنے والے ایک گروہ کے سر بر آوردہ سلیمان بن صرد خزاعی تھے ان لوگوں نے اپنے آپ کو تو ّابین" (یعنی تو بہ کر نیوالے ) کا لقب دیدیا۔ ان کا نظریہ یا مشن یہ تھا کہ قاتلان حسین کو چن چن کر قتل کریں یا خود اپنا خاتمہ کر لیں اور اس طرح اپنے کئے کی آپ سزا پائیں ۔ اپنی سچائی اور استقامت کے ثبوت میں انہوں نے سوائے ہتھیار کے اپنے تمام اثاثوں کو صدقات قرار دیکر تقسیم کر دیا۔ تقریباً ۳ سال تک یہ تحریک راز میں جاری رہی اور اس کے شرکا میں اضافہ ہوتا رہا ، تاریخ ابی مخنف کے حوالہ سے کوفہ میں ان کی تعداد ۶۰۰۰ تک پہنچ گئی تھی ۔ ۶۴ ھ میں یزید کی غیر متوقع موت کے نتیجہ میں عراق ، حجاز اور شام میں سیاسی منظر نامہ بدل گیا، یزید کا بیٹا معاویہ دوم صرف ۶ مہینے کی بادشاہت کے بعد مر گیا اور مروان بن حکم اپنی چالبازیوں کے ذریعہ امویوں کا خلیفہ بن گیا۔ حجاز ( یعنی مدینہ اور مکہ میں ) عبداللہ ابن زبیر نے خلافت کے لئے اپنا استحقاق ثابت کرنے اپنے آپ کو امیر المومنین ہونے کا اعلان کر دیا۔ بصرہ میں عبید اللہ بن زیاد جو کہ کوفہ اور بصرہ کا بیک وقت گورنر تھا عہدہ چھوڑ کر مروان کے پاس بھاگنے پر مجبور ہو گیا۔ طاقت کے اس خلاء میں کوفہ کے اشراف نے عبد اللہ بن زبیر کو آگے بڑھنے کا مشورہ دیا۔ اس موقع پر ایک نئی پیش رفت سامنے ائی ۔ کوفہ میں مختار ابن ابی عبیدہ ثقفی بھی خون امام حسین کے انتقام کا ارادہ کئے ہوئے منظر عام پر آگئے ۔ لیکن مختار اور توابین کے مشن میں فرق تھا کہ مختار اس تحریک کے ذریعہ سیاسی قوت حاصل کرنا چاہتا تھا لیکن تو امین کا مقصد قربانی اور نجات تھا اور وہ کسی غیر یقینی اقدام کے خلاف تھے جس سے ان کا مقصد متاثر ہوجائے۔

ایک اور اہم وجہ اختلاف کی یہ بھی تھی کہ مختار اس وقت اپنے آپ کو محمد بن حنفیہ کا مقرر کردہ نائب سمجھتے تھے جبکہ تو ابین کے لئے حضرت امام زین العابدین امام وقت اور مفترض الطاعت تھے ۔ ابتدا مختار نے امام سجاد سے تحریک کی رہنمائی کی درخواست کی تھی جس کو امام نے رو کر دیا کیونکہ متذکرہ ماحول میں امام اپنے آپ کو ایک عوامی تحریک سے منسلک کرنا نہیں چاہتے تھے۔ بالا آخر توابین نے ۶۵ ھ میں نعرہ یا آل ثاراۃ الحسین بلند کیا، اب ان کی تعداد صرف ۴۰۰۰ رہ گئی تھی ، توابین کو معروضی حالات کا اندازہ تھا لیکن وہ ہر صورت میں انتقام خون حسین لیکر اپنے پچھتاوے کو کم کرنا چاہتے تھے ۔ توابین در شامی افواج میں جن کی تعداد ۳۰۰۰۰ تھی عین الورد کے مقام پر مقابلہ ہوا اور توابین کو شکست ہوئی۔ (حسن محمد جعفری ) بالآخر باقی ماندہ تو ابین مختار کی تحریک میں ضم ہو گئے کیونکہ ان کو سلیمان بن صرد خزاعی کی جگہ ایک رہنما کی ضرورت تھی۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ توابین کی فکر یعنی احساس پشیمانی اور قربانی“ نے شکست خوردہ ماحول میں روح جہاد کی بیداری کا کام کیا۔ ( گروه نگارش)

۶

واقعہ حرہ

مدینہ واپسی کے بعد اہل حرم کے ذریعہ کر بلا کے واقعات کی تفصیلات عام ہوتی گئیں۔ اہل مدینہ کا ایک وفد بھی شام گیا تھا واپس آنے کے بعد ان کے چشم دید واقعات کی بناء پر اہل مدینہ میں بے چینی پھیلی اور انہوں نے یزید کے گورنر کو مدینہ سے نکال دیا۔ اس بے چینی اور بغاوت کو دبانے کے لئے یزید نے بدترین خلائق مسلم بن عقبہ کو مدینہ پر چڑھائی کے لئے بھیجا، اہل مدینہ نے دفاع کیا اور شہر سے باہر حرہ کے مقام پر جنگ ہوئی جس کے نتیجہ میں ۱۰۰۰۰ مسلمان جن میں ۷۰۰ حافظان قرآن تھے قتل کر دیئے گئے ۔ ہزاروں مستورات کی بے عزتی کی گئی تین دن تک مدینہ کی ہر شے لشکر یزید پر مباح کر دی گئی تھی ۔ یہ واقعہ ۲۷ ، ۲۸ ذی الحجہ ۶۲ ھ کو پیش آیا اہل مدینہ کی مزید رسوائی کے لئے لشکر یزید نے حکومت کی ایما پر نہایت ہتک آمیز الفاظ میں یزید کی بیعت حاصل کی لیکن امام سجاد سے بیعت طلب کرنے کی جرات نہیں کر سکے۔ امام سجاد ان حالات کے پیش نظر ایک دیہات منبع میں منتقل ہو گئے ( جہاں دور حکومت خلافت عثمان میں حضرت علی بھی رہا کرتے تھے ) ایک لحاظ سے یہ جگہ امام کے دوستوں کے لئے پناہ گاہ بن گئی حتی کہ مروان نے اپنے اہل خاندان کے لئے بھی پناہ کی درخواست کی جس کو امام نے قبول کر لیا، یہ مروان وہی ہے جس نے ولید کے گھر پر سب سے پہلے امام حسین کو قتل کرنے کا اشارہ دیا تھا۔ (ذیشان حیدر جوادی )

۷

احراق خانہ کعبہ

مدینہ کی بربادی کے بعد مسلم بن عقبہ نے مکہ مکرمہ کا رخ کیا لیکن راستے ہی میں واصل جہنم ہو گیا ، اس کی جگہ حصین بن نمیر کو یہ ذمہ داری دی گئی اس دوران یزید بھی واصل جہنم ہوگیا ، ( ۶۴ ھ ) حصین ابن نمیر نے ۴۰ روز تک خانہ کعبہ کا محاصرہ کر رکھا تھا اور آگ بھی برسائی تاکہ وہاں پناہ لینے والے عبداللہ ابن زبیر کوگرفتار کر سکیں۔ ناکامی پر صید

حصین محاصرہ چھوڑ کر بھاگ گیا۔

یہ نکتہ قابل غور ہے کہ عبداللہ ابن زبیر نے اپنی جان بچانے کے لئے خانہ کعبہ میں پناہ لی لیکن ۲۰ ھ میں امام حسین خانہ کعبہ کو چھوڑ کر نکل گئے ۔ عبداللہ ابن زبیر نے خانہ کعبہ کی بے حرمتی کی پرواہ نہ کی جبکہ امام حسین نے خدا کے گھر کے تقدس کو برقرار رکھا یہی فرق ہے معصوم اور غیر معصوم کی سیاسی بصیرت میں ۔

اس علحدگی پسند حکمت عملی کے نتیجہ میں امام پر ان واقعات میں ملوث ہونے کا کوئی الزام نہیں لگا سکا اور امام نے کئی لوگوں کو ان معرکوں میں مارے جانے سے بچا لیا۔ اس وقت انصاف نام کی کوئی چیز نہ تھی ۔ حجاج بن یوسف نے ہزاروں افراد کو تہہ تیغ کر دیا صرف اس بناء پر کہ ان کا نام علی تھا۔ اس کے بر خلاف امام سجاد نے اموی سپاہیوں کی موجودگی میں خانوادہ ، عبد مناف، مروان بن حکم اور دیگر شرفا کی مستورات کو اپنی پناہ میں رکھا۔ یہ اہلبیت کا افتخار ہے تاریخ نے ان کو اس سیاسی بصیرت پر بہتر الفاظ میں یاد رکھا ہے، ذرا سوچئے کہ امام کے کردار کی عظمت کہ یہ جانتے ہوئے کہ حصین بن نمیر ان کے بھائی علی اکبر کا قاتل تھا۔ اپنے گھر میں پناہ دی۔

۸

سیاسی و فکری بصیرت

اب ہم چند واقعات کا اشارة حوالہ دیں گے جن سے امام سجاد کی سیاسی و فکری بصیرت کا اظہار ہوتا ہے۔

(۱) کربلا سے دمشق کے سفر کے دوران ایک شخص شیخ ابراہیم ابن طلحہ نے آپ سے طنزاً کہا مطلع بن حسین فتح کس کی ہوئی؟ امام نے کمال صبر و متانت سے جواب دیا ”ذرا شہر جاؤ بھی اذان ہوگی تو معلوم ہو جائے گا کہ فتح کس کی ہوئی“ اس مختصر جواب میں کتنی باتیں الم نشرح ہورہی ہیں۔ ( عقیل الغروی )

( ۲) دربار یزید اور خطبہ امام مسجد کوفہ ، مسجد شام اور اثنائے سفر امام کا عمل سیاسی طور پر میدان جنگ کی فدا کاریوں سے کم نہیں تھا۔ امام نے ہمت اور جرات سے ظالم حاکموں سے مکالمہ کیا اور ان کو شرمسار کر دیا اور اہل شام کو علی اور آل علی سے متعارف کرایا۔

( ۳) امام کے خطبے اموی بادشاہوں کے غلط پروپگنڈہ ، کو باطل قرار دیا، دربار شام میں یزید نے امام کی آواز دبانے اذان کا سہارا لیا تھا۔ لیکن امام نے اس اذان کی رسالت کی شہادت کے اعلان سے سارے دربار والوں کو حیرت میں ڈال دیا اور یزید شرمسار ہو گیا۔ امام کے خطبے دراصل امام حسین کی آواز تھی جس کے ذریعے مقتول اور مظلوم کی فریاد حکمرانوں کے دربار تک پہنچ گئی ۔ امام نے دربار شام میں یہ ثابت کردیا کہ دنیاوی ظالم حاکم مصلحوں اور آزاد منش افراد پر ظلم کرتے ہیں، قید کرتے ہیں، ہر ستم کو روار کھتے ہیں اور ان کی آواز کو دباتے ہیں تا کہ وہ عوام کے کانوں تک نہ پہنچ سکے، (عقیل الغروی)

( ۴) کعبہ کی تعمیر نو : آبان بن تغلب ، یعقوب کلینی اور شیخ صدوق کے حوالہ سے روایت کرتے ہیں کہ شام کی فوج کے ہاتھوں خانہ کعبہ کی تباہی کے بعد عوام نے کعبہ کے اطراف کی تمام مٹی کو پراگندہ کر دیا تھا ۔ ( یا بطور تبرک اٹھا لے گئے ) جب حجاج بن یوسف اس کی تعمیر نو کرنا چاہتا تو وہاں کھدائی پر ایک سانپ نمودار ہوا، لوگ ڈر گئے اور تعمیر شروع نہ ہو سکی۔ حجاج کو چونکہ کعب کی تعمیر سے شہرت پانے کا شوق تھا منبر سے اعلان کیا کہ کسی کو اس معاملہ پر کوئی اطلاع ہوتو بتائے۔ ایک شخص نے کہا کہ میں نے ایک شخص کو دیکھا جو کعبہ کے پاس سے مٹی اٹھا رہا تھا۔ دراصل یہ حضرت سجاد تھے جو اس عمل کے ذریعہ حجاج کو ایک پیغام پہنچارہے تھے ۔ حجاج نے امام کو بلوا کر پوچھا کہ " کیا خدا نے اس کو تعمیر سے منع کر دیا ہے" امام نے فرمایا " اے حجاج کیا تو چاہتا ہے کہ اسمعیل اور ابراہیم کی تعمیر کردہ عمارت کی تعمیر نو کرے جبکہ لوگوں نے اس کو غارت کر دیا تھا۔ کیا یہ تیری میراث ہے؟ منبر پر جا اور عوام کو قسم دے کر کہہ کہ خدا کے گھر سے جو کچھ بھی اٹھالے گئے ہوں وہ واپس پہنچا دیں ۔ ایسا ہی کیا گیا اور مختصر وقفہ میں لوگ بہت کچھ واپس لا دیئے۔ اس کے بعد امام نے کھدائی کی۔ اس وقت سانپ جاچکا تھا اور اس طرح کعبہ کی تعمیر نو کمیل کو پہنچی ۔ اس واقعہ کا قابل توجہ پہلو یہ ہے کہ امام نے ایک نہایت مناسب طریقہ سے یہ ثابت کر دیا کہ خانہ کعبہ کی وراثت اہلبیت کے پاس ہے اور وہ اس کے تقدس کے پابند ہیں۔ (احمد ترابی)

بحث کو سمیٹتے ہوئے یہ عرض ہے کہ اموی حکومت کے خلاف بیان کردہ انقلابات یا مزاحمتوں کی تحریکوں میں واقعہ کر بلا سے متاثر ہونے والوں کے لئے انتقامی کارروائیوں میں بہت جاذبیت تھی ۔ لیکن یہ امام سجاد کی سیاسی بصیرت تھی کہ وہ اعلانیہ ایسی کسی تحریک میں شامل نہیں ہوئے ، انہوں نے اس بات کا خیال رکھا کہ ذمہ دار حکومتی اہلکاروں کو اعتراض کا موقع نہ دیں کہ مبادا ان کی خاموش تحریک یا مخفی مبارزہ نا کام ہو جائے خود سر اہلکاران مملکت اپنی مصروفیتوں میں مست رہتے تھے اور ان کو امام سے کوئی خطرہ کی توقع نہیں تھی ۔ اس حکمت عملی کا یہ نتیجہ نکلا کہ امام نے اپنے آپ کو شاگردوں کی تربیت اور نشر و اشاعت علوم سے منسلک رکھا۔ امام سجاد کی یہ علمی سرگرمیاں آئمہ صادقین کی جامعہ جعفریہ کا پیش خیمہ ثابت ہوئیں۔

۹

شخصیت علمی

امام سجاد کی امامت کا دور اور معاشرہ کے سیاسی حالات، دیگر تمام ائمہ علیہم السلام کی زندگی میں پیش آنے والے حالات سے زیادہ دشوار اور حساس تھے۔ ایک طرف تو امام اپنے زمانے کے چھ ظالم بادشاہوں کی شدید نگرانی مسلسل برداشت کر رہے تھے تو دوسری جانب اپنے اطراف معتبر دوستوں کا فقدان محسوس کرتے تھے ۔ ایسی صورت میں نشر واشاعت علوم میں مخفی مبارزہ کی حکمت عملی اپنائے ہوئے تھے یعنی اپنا دروازہ صرف قابل اعتماد اصحاب کے لئے کھلا رکھا۔ ان کے ذریعہ ضروری پیغام رسانی کا کام لیا جاتا تھا۔ یہ آپ کی ذات گرامی تھی کہ بعد حوادثات کر بلا مدینہ رسول کی حرمت اور معنویت کو دوبارہ بحال فرمایا۔ نہایت محدودیت ( پابندیوں ) کے عالم میں اس امر میں کامیاب ہو گئے اور اپنے تقریبا ۳۴ برس کے عہد امامت میں ایسے اسلام شناس افراد کی تربیت فرمائی جنہوں نے قرآن مجید اور سنت نبوی کے علوم کی نشر و اشاعت کی اور آج دنیا کے دامن میں اسلام جیسی نعمت سید سجاؤ کی محنتوں کا ثمرہ ہے (عقیل الغروی ) امام نے ۱۷۰ ایسے نمایاں شاگردوں کی تربیت کر دی جن میں سے ہر ایک اسلامی معاشرہ کا روشن چراغ تھا۔ ان کے نام رجال کی کتابوں کی زینت ہیں۔ بطور نمونہ: سعید بن مسیب محمد بن زبیر، ابو خالد کا بلی اور ابوحمزہ ثمالی وغیرہ۔

امام زین العابدین کی شخصیت معنوی اور علمی اعترافات میں شاعر فرزدق ایک نمایاں مقام رکھتا ہے، تفصیلات لوگ جانتے ہیں کہ ہشام بن عبد الملک ( جو اس وقت شام کا شہزادہ تھا ) حج کے موقع پر بھیٹر کی وجہ سے طواف کعبہ نہ کر سکا اس کے برخلاف امام سجاد کو دیکھ کر مجمع کائی کی طرح پھٹ جاتا تھا اور آپ کو راستہ دیتا تھا۔ ہشام کے مصاحب نے اس سے دریافت کیا کہ یہ کون شخص ہے جس کی اتنی عزت و احترام کیا جارہا ہے۔ ہشام نے عمدا اپنی لاعلمی کا اظہار کیا۔ قریب میں موجود فرزدق نے ایک فی البدیہ قصیدہ امام کی شان میں کہہ کر ہشام کے تجاہل عارفانہ پرطمانچہ رسید کیا۔ یہ قیصدہ آج بھی ادبیات عرب میں اپنی برجستگی اور زور بیان کے لئے مشہور ہے۔

۱- اے سوال کرنے والے تو نے مجھ سے جو دوسخا اور بلندی کے مرکز کا پتہ پوچھا ہے تو اس کا روشن جواب میرے پاس ہے۔

۲- یه وہ ہے کہ مکہ کی سرزمین جس کے نقش قدم کو پہچانتی ہے خانہ کعبہ حرم خداور حرم سے باہر کی زمین پہچانتی ہے۔

۳- یہ اس کے فرزند ہیں جو بہترین خلائق ہے یہ پر ہیز گار پاکیزہ اور بلند چشم ہیں ۔

۴- یہ وہ ہیں کہ پیغمبر گرامی احمد جن کے جد ہیں

۵- اگر رکن جان جاتا کہ اس کو بوسہ دینے لئے کون آرہا تو وہ بیتا بانه اپنے کو زمین پر گراد یتا تا کہ اس کی خاک پاک چوم لے۔

۶- ان بزرگوار کا نام علی ہے، پیغمبر خدا ان کے جد ہیں ان کی روشنی سے امتوں کی راہنمائی ہوتی ہے۔ (ام علی عابدی).

جناب نسیم امر ہوی نے اس قصیدہ کا منظوم ترجمہ کیا ہے جو ان کے ترجمہ صحیفہ کاملہ میں موجود ہے۔ چند اشعار کا ترجمہ بطور نمونہ پیش کیا جاتا ہے۔

دشمن آل نبی تھا جو ہشام خود سر بن گیا جان کے انجان عددئے حیدر

مشتعل بغض کے شعلوں سے تھا اس کا جگر دے دئے چھینٹے فرزدق نے قیدہ پڑھ کر

تھا یہ مطلب کہ خدم سے نہ ختم سے پوچھو

تم بصیرت سے ہو محروم تو ہم سے پوچھو

یہ وہ ہے جس کی طریقت سے ہے واقف بطحا حرم و کعبہ ہیں عارف تو سنا سا دنیا

یه نشانی بخدا احمد مختار کی ہے صلوات اس پہ سدا خالق غفار کی ہے

یہ علی وہ ہے کہ جد جس کے رسول اکرم رہ یاب اس کے ہیں انوار ہدایت سے امم

دل زہرا جگر ابن ابی طالب ہے

جس کی شمشیر دو دم موت پر بھی غالب ہے

۱۰

علمی فیوض:

معصومین کی زندگی میں تحقیق کے اصلی مقاصد ان کی معرفت، پیغام، تعلیمات اور ان کے حقیقی شناخت حاصل کرنا ہے بظاہر ہر امام کے زمانہ ایک دوسرے سے مختلف ہے لیکن جب ہم ان کے مجموعی لائحہ عمل کا مطالعہ کرتے ہیں تو پھر ان کی مساعی جمیلہ متحد و متفق نظر آتی ہے یعنی ایک مفہوم کی ادائیگی کی مختلف تعبیریں صلح حسن کا پرسکون ماحول اور روز عاشورہ کی معرکہ آراء دونوں کے اہداف ایک ہیں یعنی حق اور باطل میں تمیز کا ئم رکھنا۔

امام سجاد کے علمی فیوض میں سب سے نمایاں ان کی دعائیں ہیں واقعہ کربلا کے بعد مدینہ کی فضا کسی سنجیدہ موعظہ کی متحمل نہیں تھی لیکن امام نے تربیت اور عقائد سے متعلق مسائل کی نشر و اشاعت اور امت کی اجتماعی اور انفرادی تربیت کی ذمہ داریوں کو دعا کے پیرایہ میں ادا کیا جو امام کی حکمت عملی تھی۔ ان دعاؤں پر غور وفکر نے بہت سے مسائل کو ہمارے لئے روشن کر دیا، اسلامی معاشرہ بلکہ انسانی معاشرہ کو ان دعاؤں نے خدا اور رسول کی معرفت اور انسان کی اپنی معرفت کا ایک ذریعہ مہیا کیا ایسے حالات میں جب امام علیہ السلام کو بیان اور گفتگو کی آزادی میسر نہ تھی آپ نے دعاو مناجات کے ذریعہ اعتقادی اور اخلاقی دستور العمل اور اجتماعی زندگی کے لائحہ عمل کو بیان کیا امام نے ان دعاؤں کے ذریعہ مسلمانوں کو قیام اور تحریک کا درس دیا اور خدا سے ناز و نیاز کا طریقہ بتایا ایک جگہ فرماتے ہیں۔ ” خدایا مجھ کو ایسی طاقت اور دست رسی عطا کر کہ جو لوگ مجھ پر ظلم کرتے ہیں میں ان پر کامیابی حاصل کروں ، اور ایسی زبان عنایت فرما کہ مقام احتجاج میں غلبہ حاصل کر سکوں، ایسی فکر اور سمجھ عطا فرما کہ دشمن کے حیلوں کو درہم و برہم کر دوں اور ظالم کے ہاتھ کو ظلم و تعدی سے روک دوں ( دعا۔ ۲۰ صحیفہ کاملہ ) غرض کہ امام کی دعائیں وہ پہلی آواز ہے جو بنی امیہ کے خلاف اسلام کی ثقافت کے دفاع میں ایک گوشہ سے بلند ہوئی۔ ( گروه نگارش، تاریخ اسلام )

۱۱

امام کی دعائیں:

لغوی طور پر لفظ دعا کا مادہ دعو ہے جس کے معنی مانگنا یا پکارنے کے ہیں لیکن اسلامی اصطلاح میں دعا کے ذریعہ انسان اپنی نفسیاتی کیفیت کا اظہار کرتا ہے اور مدد طلب کرتا ہے مشکلات کے وقت خدا وند عالم کی بارگاہ میں دست سوال پھیلانا فطری امر ہے جب امید کے تمام دریچہ بند ہو جاتے ہیں تو انسان خود بخود ایک ایسی ذات کی طرف متوجہ ہوتا ہے جس سے روح انسان کو ایک خاص قسم کی تازگی ملتی ہے ، علامہ ترابی کے الفاظ میں زندگی بجز بندگی کچھ نہیں اور روح بندگی سرمایہ بندگی اور عزت بندگی دعا ہے، دعا شرافت انسان کی علامت ہے۔ ذیشان حیدر جوادی دعاکو انسان کا اپنے معبود پر اعتماد کی علامت سمجھتے ہیں۔

امام زین العابدین کا زمانہ واقعہ کربلا کے بعد ایک انتہائی حساس اور دشوار گزار دور تھا۔ اس وقت سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ مذہب نے اپنی زندگی کے لئے قربانی کا مطالبہ کیا تھا جو پورا کیا جا چکا تھا۔ انقلابی تحریک کے لئے وہ مقدس قربانی کافی تھی۔ لیکن اس قربانی کے ثمرات کو حاصل کرنے کے لئے مزید مسلح اقدام ممکن نہیں تھا۔ ایسی صورت میں امام کے پاس سب سے بڑا ہتھیار دعا ئیں تھیں جو شریعت کی خاموش تبلیغ کا کام کر رہی تھیں بالکل اسی طرح جیسے چند کنکریاں جو شب ہجرت کفار مکہ کو اندھا کرنے کا ذریعہ بن گئیں ۔ ان دعاؤں کے ذریعہ امام نے بنی امیہ کے خلاف روحانی جہاد کیا اس جہاد کی بے پناہ طاقت کے نتیجہ میں دنیائے اسلام کے قلوب کو بنی امیہ سے متنفر کر دیا۔ امام کی سیاسی بصیرت کو سمجھنے کے لئے ان محر کا مت کو دیکھا جائے جو آپ کے مخصوص طرز عمل کا باعث تھے، یہ امام کی حکمت عملی تھی کہ ان دعاؤں کے ذریعہ تقریباً ۵۰ سال میں ائمہ صادقین کو وہ کام کرنے کا موقع ملا کہ بقول باقر الصدر اعلی مقامہ تاریخ اسلام کے نئے باب کھل رہے تھے، دین کے بنیادی ارکان کے بھر پور تحفظ کے لئے قربانیاں پیش کرنے کے بعد اس کی اساسی تعلیمات کی از سرنو نشر و اشاعت شروع کر دی گئی اس ہمہ گیر دینی تربیت کا بڑے پیمانہ پر آغاز حضرت امام سجاد کی خاموش دعاؤں سے ہوا جس کا ارتقاو تکمیل حضرت ائمہ صادقین تک جاری رہا۔ ( رضی جعفر ۔ باقر الصدر )

اس سارے منظر میں ایک منظم تعلیمی عمل کا تسلسل نظر آ رہا ہے یعنی سید سجاد نے ذہنی اور شخصی تربیت کا ایک نصاب دعاؤں کی شکل میں بنادیا، امام باقر نے اس کے نفاذ کے لئے متعدد شاگردوں کی تربیت کی اور بالآخر امام صادق کے دور میں یہ جامعہ جعفریہ تکمیل پائی۔ جہاں وقت واحد ہزاروں طلبہ اور علما شریک ہوتے تھے۔

امام کی معروف دعاؤں کا مجموعہ صحیفہ کاملہ ہے اس کے علاوہ ایک طویل دعائے سحر ہے جو ابوحمزہ ثمالی سے منسوب کیجاتی ہے اور تیسرے رسالہ حقوق ہے۔ یہ دعائیں الہیات و اخلاقیات کا ایک وسیع خزانہ ہیں ان کی شرحیں لکھی گئیں ہیں، مختلف زبانوں میں اس کے ترجمے موجود ہیں۔

راقم الحروف نے اپنے ایک مقالہ صحیفہ کاملہ کا ایک تجزیاتی مطالعہ پیش کیا تھا۔ اس وقت اس مقالہ کے حوالہ سے ایک سرسری ذکر مقصود ہے۔

۱۲

صحیفہ کاملہ

اس صحیفہ کو زبور آل محمد اور انجیل اہلبیت کے ناموں سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ اس کے مستند ہونے کا اس سے بڑھ کر کیا ثبوت چاہئے کہ اس کا ایک نسخہ خود امام سجاؤ نے امام باقر کو تحریر کروایا اور ایک نسخہ امام صادق نے متوکل بن ہارون کو لکھوایا تھا۔

ہمارے ہاتھ میں جو صحیفہ ہے ان میں ۵۴ دعائیں اور ۱۵ امنا جاتیں شامل ہیں، یہ صحیفہ ہر زمانہ میں اہل ایمان و عرفان کا رہنما اور ارباب عبادات کا سہارا رہا ہے، مولانا سید علی ( مترجم صحیفہ طبع شدہ نظامی پریس دہلی ) لکھتے ہیں کہ ایک ایسے وقت جب گناہ اور ظلم کا رواج تھا، اسلام ایک جسد بے روح تھا امام زین العابدین کا دعاؤں کی شکل میں اسلامی تعلیمات کو یاد دلانا ہدایت اور رشد کا وہ انوکھا انداز تھا جو امام کی دور بین نگاہ اس کی آئندہ افادیت کو دیکھ رہی تھی۔ حالات سازگار ہونے پر یہ خزانہ عالم آشکار ہونے لگا، یہاں تک کہ ملامحمد تقی مجلسی اول کے وقت ( ۱۰۷۰ ھ ) میں اصفہان میں کوئی گھرانہ ایسانہ رہا جہاں قرآن مجید اور صحیفہ کاملہ کے ایک دو نسخے نہوں جبکہ اس وقت فن چھپائی رائج نہیں ہوا تھا۔ لوگ تبر کا ایک دوسرے سے مستعار لیکن اس کی نقل کر لیتے تھے ۔ " خدا کرے یہ ذوق ہم میں بھی پیدا ہو جائے ، یہ تو ہماری غلطی ہے کہ ہم نے اس کتاب کو علمی حیثیت سے نہیں پڑھا۔ کبھی پڑھا بھی تو خاص راتوں کے اعمال میں یا پھر کبھی حاجت روائی کے لئے اور بس۔

صحیفہ کاملہ کی ۵۴ دعاؤں میں چھوٹی بڑی شامل ہیں بعض طولانی دعائیں ہیں مثلاً دعائے عرفہ ، دعائے مکارم الاخلاق اور استقبال ماہ رمضان۔ اس کے علاوہ ایک طویل دعا صحیفہ سے باہر ہے جو دعائے ابوحمزہ ثمالی کے نام سے منسوب ہے اور رمضان میں سحر کے وقت پڑھی جاتی ہے ( ابو منصور مترجم ) ابوحمزہ ثمالی کا اسم گرامی ثابت بن دینار تھا۔ کوفہ والے تھے اور وہاں کے زاہدوں میں شمار ہوتے تھے قبیلہ ثمالہ کی طرف مسنوب ہیں اس قبیلہ کو شمالہ اس لئے کہتے ہیں کہ شمالہ کے معنی بقایا ( باقی رہنے والا) کے ہیں۔ جنگ کے بعد بہت میں کم لوگ باقی رہ گئے تھے، ابوحمزہ نے چار اماموں کی یعنی امام سجاد سے امام جواد (حضرت امام موسیٰ کاظم ) کی خدمت کی ہے۔

صحیفہ کاملہ کی دعاؤن کے متن کے حوالہ سے نیم امر ہوی نے اپنے ترجمہ میں بہت عالمانہ بحث کی ہے۔اسی طرح ” جہاد امام سجاد کے مترجم نے بھی صحیفہ کی دعاؤں کی وسعت کے عنوان کے تحت معلومات بہم کی ہیں ۔ چند عنوانات غور کے لئے پیش ہیں ۔ " تو حید و شناخت خداوندی، عدل الہی ، لطف و رحمت الہی ، ناتوانی انسان ، تاریخ میں رسول کا تسلسل ، قرآن مفسر الہی ، اماماں گنجینه معارف قرآن، رسالت اور امامت کا رتبہ، کائنات میں تفکر ، انابت و استغفار، اتحاد بین المسلمین اور سیاسی بصیرت ۔

مفتی جعفر حسین نے اپنے ترجمہ میں ہر دعا کے ساتھ اس کے مطالب کی تشریح اور وضاحت کی ہے۔

صحیفہ کے انگریزی ترجموں میں ایک ترجمہ ولیم چٹک کا بھی ہے

اس کو ( The Psalms of Islam ) الصحیفۃ الکاملہ السجادیہ"

کے نام سے محمدی ٹرسٹ برطانیہ نے ۱۹۸۷ میں شائع کیا ہے۔ اس ترجمہ میں صحیفہ کی دعاؤں میں ان مقامات کی نشاندہی کی ہے جہاں قرانی حوالے ہیں۔ یہ ایک قابل تحسین کام ہے۔ راقم اطروف نے

اس فہرست پر مزید تحقیق کی جس کے مطابق صحیفہ میں قرآنی آیات کے نفوذ ( Fuasion ) کے تین انداز پائے گئے ۔

۱- دعا کے تسلسل میں قرانی آیت کلی یا جزوی طور پر اپنی شکل میں ہیں ۔ ( ۹۰) حوالے )

۲- دعا کے الفاظ اور قرانی آیت میں مماثلت ( ۴۰) حوالے )

۳- دعا کے میں الفاظ قرآنی آیت کا بالواسطہ اشارہ موجود ہے۔ ( ۶۶ حوالے )

مندجہ بالا ۲۲۵ حوالے قرآن کے ۔ ۷۰ سوروں میں پھیلے ہوئے ہیں۔

یہ علم معصوم کا ادنی کرشمہ ہے کہ قرآن کے ۱۱۴ سوروں اور ۶۶۶۶ آیات میں سے جہاں سے چاہا دعا کے مفہوم کے مطابق آیت کو چن لیا اور دعا کے تسلسل میں اس طرح پیوست کر دیا کہ عام قاری الفاظ قرآن اور امام کے الفاظ میں فرق نہیں کر سکتا۔

(خطبہ فدک کی بھی یہی شان ہے ۔ ان زندہ شہادتوں کے بعد کیا اب بھی کسی کو شک ہے کہ وارث علم قران کون ہے؟

یا قرآن اور اہلبیت میں ہم آہنگی کی کوئی اور دلیل چاہئے؟

۱۳

رساله حقوق:

امام سجاد کے آثار فیوض علمی میں ایک بڑی اہم کتاب آپ کا رسالہ حقوق ہے یہ رسالہ ۱۴ سو سال پہلے لکھا گیا جبکہ حقوق انسانی کا کوئی عام تصور بھی نہیں تھا بلکہ انسان اپنی اولاد کو زندہ دفن کر دیتا تھا۔ آج انسان اعلیٰ ترین تمدن اور ثقافت کا دلدادہ ہے اور انسانی حقوق تو کیا جانوروں کے حقوق کا بھی دعویدار ہے اور معاشرتی زندگی کے ہر پہلو میں اس پر اطباق کا مطالبہ کرتا ہے۔ اگر سالہ کے متن کا موجودہ دنیا کے رائج قوانین سے موازنہ کیا جائے تو اس کی برتری محسوس کی جائے گی۔ شاید ان لوگوں کے لئے جو مغربی یا مادی تمدن کے دلدادہ ہیں اور مکتب وحی و رسالت سے دور ہیں یہ نکتہ فوری قابل قبول نہ ہو۔ رسالہ کی اسناد کے ضمن میں خصال ( بابو یہ تھی ) اور من لا یحضر الفقیہہ (شیخ صدوق) کے قابل اعتماد حوالے پیش کئے جاتے ہیں۔ ان راویوں میں ابوحمزہ ثمالی بھی شامل ہیں۔

موجودہ لغات میں لفظ " حق وسیع معنی میں استعمال ہوتا ہے لیکن رسالہ کے متن میں حقوق کا عمومی مطلب وہ ذمہ داری ہے جو انسان پر عائد ہوتی ہے۔ مثلاً حق زبان سے مراد انسان کی وہ ذمہ داریاں ہیں جو گفتگو کے دوران انسان کو پیش نظر رکھنا چاہئے ، زبان کا غلط استعمال زبان کی حق تلفی ہے۔ رسالہ حقوق میں ۵۰ حقوق کا ذکر کیا گیا ہے جبکہ شیخ صدوق نے روایت میں حق حج کا اضافہ کیا ہے ( محمودرضا حسینی)

حقوق کی درجہ بندی میں پہلے انسان کا خدا سے رشتہ، پھر اس کے اپنے اعضا و جوارح کا رشتہ اور پھر خدا کی مخلوق اور معاشرتی رشتوں پر کی گئی ہے ۔

۱- حق خدا ، بنده و معبود کا رشتہ ، حق نفس ،عبادت

۲- حقوق اعضائے بدن، حق زبان، حق گوش، حق چشم

۳- حق نماز ، حق حج ، حق ، روزہ، حق صدقہ حق قربانی

۴- معاشرتی حقوق استاد، شاگرد، زوجه مادر پدر فرزند

۵- حق برادر محسن ، امام جماعت، ہم نشین، همسایه، دوست حق شریک حق ،مال، قرض، خواه ، رفاقت، حق ،دشمنی دشمن پر مشورہ دینے والے کا حق ، مشورہ کرنے والے کا حق ۔ ( احمد علی عابدی)

رسالہ حقوق کے ذریعہ امام سجاد نے حق کو ایک نئے زاویہ سے متعارف کرایا ہے، اس میں انسان کی انا کی نفی کےگئی ہے جو تمام خود غرضی کی بنیاد ہے۔ خدا سے دعا ہے کہ وہ ہمیں حقوق کی ادائیگی کی توفیق عطا فرمائے۔

تتمّه :

مقالہ کا ماحصل یہ ہے کہ امام سجاد علیہ السلام نے دین کے استحکام، اشاعت احکامات اور امر امامت کا حق ایک نہایت مشکل دور میں کامیابی سے انجام دیا جس میں ان کی شخصیت علمی ،فکری بصیرت اور سیاسی تبد بر کا بڑا دخل ہے،اس کے علاوہ دعائیات کے ذخیرہ سے دنیائے علم کو مالا مال کر دیا جس کا فیض تا ابد جاری رہے گا۔

اس مقالہ کی تدوین میں آل عباریسرچ سینٹر کے لائبریرین ،مشرف حسین صاحب کا تعاون کا مشکور ہوں اور خطیب آل عبا مولانا ناصر عباس صاحب نے مسودہ پر اصلاحاً نظر ڈالی جو باعث ہمت افزائی ہے۔ میں اپنے ایرانی دانشور آقائی مرتضی طلوع ہاشمی اور ڈاکٹر حیدر رضا ضابطہ کا بے حد مشکور ہوں کہ مقالہ کے عنوان سے متعلق مواد پر آستانہ قدس مشہد کے ریسرچ فاؤنڈیشن سے شائع ہونے والی کتابیں مہیا کیں ۔ والسلام

۱۴

کتابیات

۱- ابومنصورہ ( مترجم ) دعائے ابوحمزہ مالی اور دو دلپذ یردا ئیں۔ فضل ربی فاؤنڈیشن ، کراچی

۲- احمد علی عابدی ( مترجم ) حضرت امام زین العابدین، مجلس مصنفین ۔ ادارہ در راه حق ثم ( دار الثقافة الاسلامیہ پاکستان، کراچی) ۱۹۹۲ ء

۳- رشید ترابی ( علامہ ) مجلس شام غریباں دعا‘ ترابی کیسٹ، کراچی ۔ ۱۹۷۱ ء

۴- سید عقیل الغروی (حجتہ الاسلام ) چراغ راہ ، شرح دعائے افتتاح جلد اول مکتبہ کا ئنات ۔ دلی ۲۰۰۴ ء

۵- سید علی حیدر نقوی ، اد یاں عالم اور فرقہ ہائے اسلام کا تقابلی مطالعہ رحمت اللہ بک ایجنسی ، کراچی

۶- سید ذیشان حیدر جوادی ( علامہ ) نقوش عصمت محفوظ بک ایجنسی کراچی ۔ ۲۰۰۰ ء

۷- سید علی مجہتد ( مترجم ) ترجمہ صحیفہ کاملہ ، نظامی پریس لکھنو ۔ ۱۹۵۱ ء سید محمد باقر الصدر (سید رضی جعفر مترجم) اہل بیت کی زندگی ، مقاصد کی ہم آہنگی اور زمانہ کی نیرنگی موسسہ اہلبیت ، پاکستان ، کراچی ۱۹۹۳ ء

۸- گروه نگارش تاریخ اسلام ( ۳) دار ثقافته الامامیہ پاکستان، کراچی

۹- مفتی جعفر حسین ( مترجم ) صحیفہ کاملہ ، ادعیہ حضرت امام زین العابدین بن سید الشهد ا،امام حسیعنی علیہ اسلام،

۱۰- امامیه پبلیکشنز، لاہور ، ۱۳۷۹ ھ

۱۱- محمد حسین جعفری، خیر البریۃ فی تاریخ الشیعہ تحریک تحفظ تعلیمات آل محمد ،سرگودھا، (پاکستان)

۱۲- احمد ترابی امام سجاد ، جمال نیا بیشگران (خادم) بنیاد پر ہمشہائی اسلامی مشهد ۱۳۳۶ ھ (ایران)

۱۳- محمد رضا حسینی جلالی مومی دانش ( مترجم ) جہاد امام سجاد، ب پا۔ مشہد ۱۳۸۲ ھ (ایران)

۱۴- سید قائم رضا نیم امروہوی، مترجم صحیفہ کاملہ یعنی زبور آل محمد شیخ غلام علی اینڈ سنز لاہور )

۱۵- Jafri SHM, The Origin and Early Development of Shia Islam, The Group of Muslems, Qum, Iran, ۱۹۷۶

۱۶- Chittach, William C. (Trans) The Psalms of Islam, Al Sahifat al-Kamilat Alsajjadea, Muhammadi Trust, POCO C ۷ Britain, ۱۹۸۷

۱۵

کلام الامام امام الکلام

دعائے مکارم الاخلاق سے اقتباسات

اللهُمْ صَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِ مُحَمَّد

میرے ایمان کو کامل ترین ایمان کے درجہ پر فائز فرما۔ میرے یقین کو بہترین یقین قرار دے۔ میری نیت کو بہترین نیت اور میرے اعمال کو بہترین اعمال کا درجہ عنایت فرما۔ خدا یا اپنے لطف و کرم سے میری نیت کو کامل فرما۔ جو چیز تیرے پاس ہے اس کے بارے میں میرے یقین کو محکم فرما۔ اور جو چیزیں میں نے فاسد کر دی میں اپنی قدرت سے ان کی اصلاح فرما۔

اللَّهُمَّ صَلَّ عَلَى مُحَمَّد وَالِ مُحَمَّد

وہ افکار جو مجھے اپنی ذات کی طرف متوجہ کرتے ہیں ان سے نجات دلا۔ ان اعمال کے انجام دینے کی توفیق عنایت فرما جن کے بارے میں قیامت کے دن سوال کیا جائے گا۔ جس مقصد کے لئے مجھے پیدا کیا ہے اس میں مجھے منہمک فرما۔ مجھے غنی کر، میری روزی میں اضافہ فرما، ناشکری اور خود غرضی میں مبتلا نہ فرما، غرت عطا فرما، لیکن تکبر سے دور رکھ ، عبادت کی توفیق عنایت فرما، لیکن خود بینی کی بنا پر اس کو فاسدمت فرما۔ میں لوگوں کے ساتھ احسان تو کروں لیکن جتاؤں نہیں مجھے بہترین اخلاق کردار سے آراستہ فرما ۔ لیکن غرور میں مبتلا نہ کر ۔

اَللّهُمَّ صَلَّ عَلَى مُحَمَّد وَالِ مُحَمَّد

مجھے لوگوں کے درمیان عزت عطا فرمالیکن اس کے ساتھ ساتھ مجھے خود اپنے نفس کے نزیک ذلیل قرار دے۔ اور جس قدر مجھے معاشرے میں عزت و مقام عنایت فرما اتناہی مجھے اپنے نفس کے زد یک ذلیل وخوار قرار دے۔

اللَّهُمَّ صَلَّ عَلَى مُحَمَّد وَالِ مُحَمَّد

ایسی ہدایت فرما کہ پھر نہ بھٹکوں ۔ اس طرح کی راہ حق پر گامزن فرما کہ پھر اس سے رو گردانی نہ کروں، ایسی نیت عنایت فرما کہ جس میں شک و تردید کا گزر نہ ہو۔ اگر میری عمر تیری راہ میں صرف ہو رہی ہو تب طول عمر عنایت فرما۔ اور اگر میری زندگیا شیطان کی پناہ گاہ ہو تو قبل اس کے کہ میں عذاب کا مستحق بنو مجھے موت دیدے۔

اَللّهُمَّ صَلَّ عَلَى مُحَمَّد وَآلِ مُحَمَّد

مجھ میں جتنی بھی بری صفتیں ہیں ان کی اصلاح فرما۔ وہ عیوب جو نفرت کا باعث بنیں ان کو مجھ سے دور فرما۔ اور اگر کوئی اچھی خصلت مجھ میں ناقص رہ گئی ہو تو اس کو درجہ کمال تک پہنچا۔

اللهُمْ صَلَّ عَلَى مُحَمَّد وَالِ مُحَمَّد

دشمنوں کی دشمنی کو دوستی میں ، حاسدین کے حسد کو نیکی و محبت میں جو لوگ اعتماد نہیں رکھتے ان کی عدم اعتمادی کو اعتماد و اطمینان میں عزیزوں کی برائی کو بھلائی میں ، اعزاء کے مدد نہ کرنے کو مدد کرنے میں ، چاپلوس کو چاپلوسی کے خلوص میں، دوستوں کے غصے کو محبت میں اور ظالم سے ترس و خوف کو سکون و اطمینان میں تبدیل فرما۔

اللهُمَّ صَلِّ عَلى مُحَمَّد َوال مُحَمَّد

جو شخص مجھ پر ظلم کرے اس کے مقابلہ میں قدرت، جو شخص میری ناحق مخالفت کرے اس کے مقابلے میں قوت بیان ، دشمن کے مقابلہ میں فتح، جو شخص مجھے دھوکا دینا چاہتا ہے اس کے مقابلہ مین بصیرت ، اور ظالم کے ظلم سے نجات عنایت فرما۔ مجھے اس بات کی توفیق عنایت فرما کہ اگر کوئی شخص اچھائیوں کی طرف دعوت دے تو اس کی اطاعت اور جو کوئی مجھے ہدایت کی شاہراہ پر گامزن کرے اس کی پیروی کر سکوں ۔

اللهمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَالِ مُحَمَّد

مجھے ایسی توفیق عنایت فرما کہ جس کے ذریعہ میں خیانت کا بدلہ نیکی سے، قطع رحم کا بدلہ صلہ رحم سے محرومی کا بدلہ بخشش و عطا ہے، جس شخص نے مجھے چھوڑ دیا ہے اس کا بدلہ دوستی سے، جس نے میری برائی یا غیبت کی ہو اس کا بدلہ ذکر خیر سے دوں ، گناہوں سے چشم پوشی کروں اور اچھائیوں کے مقابلہ میں شکر گزار ہوں ۔

اللهمَّ صَلَّ عَلَى مُحَمَّد وَالِ مُحَمَّد

خدایا مجھے اچھائیوں کے زیور اور پر ہیز گاری کی خوبیوں سے آراستہ فرما تا کہ میں عدل و انصاف کی نشر و اشاعت کر سکوں، غم و غصہ کو ٹھنڈا کر سکوں، فتہ و فساد کی آگ کو خاموش کر سکوں ۔ پراگندہ قلوب کو ایک نقطہ پر جمع کر سکوں ۔ لوگوں کے درمیان اصلاح کر سکوں ، مسلمانوں کی اچھائیوں کو نشر کر سکوں اور ان کی برائیوں پر پردہ پوشی کرسکوں ، نرمی ، توضع ، خوش اخلاقی، وقار سنجیدگی ، نیکی اور حسن معاشرت کو اپنا سکوں ۔

۱۶