معیار تعلیم اور نصابی تقاضے
تعلیمی اور تد ریسی حلقوں میں آج کل معیار تعلیم موضوع بنا ہوا ہے اکثر یہ سوال زیر غور آتا ہے کہ کیا معیار تعلیم گر رہا ہے ؟ تعلیم کو نصاب تعلیم سے علیحدہ نہیں کیا جاسکتا اور اس لحاظ سے معیار تعلیم پر کوئی سیر حاصل بحث لازما نصاب تعلیم اور اس کے عوامل پر ہی منتج ہوتی ہے۔
"معیار" کسی چیز کوناپنے کا ذریعہ ہوتا ہے طبیعی مقداروں مثلاً بلندی ؛پستی؛ سردی ؛گرمی وغیرہ کو ناپنے کے لیے کچھ معیار مقرر کرلئے گئے ہیں ۔ پیمائش کسی معیار کی اضافت سے کمی اوربیشی کا نام ہے ورنہ بجائے خود پیمائش مطلق نامکن ہے۔ کیا معیار تعلیم بھی آیسی کوئی مقداری اکائی ہے جس کی پیمائش ناممکن ہے ؟
علم کی وسعت اور روز افزوں طبع ہونے والی کتابوں کی تعداد نئے نئے نظریات اور افکار کی ظہور پذیری اور تحقیقاتی سرگرمیوں کی مناسبت کے دوران روئے زمین پر علم کے ذخیرہ کےمختلف وسائل میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا ہے لیکن تیم اور معیار تعلیم کی طبعی پیمائش اس طرح سے ممکن نہیں ہے۔ تعلیم کے معیار کو اس کے مقرر کردہ مقاصد کے حصول کی اضافت سے جانچا جا سکتا ہے ۔
تعلیم کا ایک مقصد ہوتا ہے تعلیم کے ذریعہ ہم طالب علم میں ایک تبدیلی کی توقع رکھتے ہیں ۔ اس تبدیلی کے نتیجے میں افراو میں چند خصوصیات کا تعین کرتے ہیں۔ پھرا ن خصوصیات اور صلاحتیوں کے زیر اثر ہم افراد سے ایک مخصوص کارکردگی کی توقع رکھتے ہیں۔ اب اگر افر اد کی کارگزار متوقع معیار پر پوری نہیں اترتی تو ہم اس مقصد کے حصول کے ذریعہ یعنی تعلیم کو بجا طور پر اس کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں ۔ یہ کہا جاتا ہے کہ تعلیم کا معیار متاثر ہو رہا ہے تعلیم کے عوامل میں مقاصد تعلیم؛ نصاب تعلیم نظام تعلیم ؛ اور تعلیمی پیمائشات شامل ہیں اس طرح ہر معاشرہ کا معیار تعلیم اس کی اپنی اضافت اور اس کے متعین کردہ اقدار کی روشنی میں پرکھا جائے گا ۔
معیار تعلیم پر ان عوامل کے گہرے نقوش منعکس ہوں گے ان میں سے کسی ایک عنصر کی کمی بیشی معیار تعلیم کے توازن کو بگاڑ سکتی ہے تعلیم کے مقاصر تو بہت ارفع او راعلی ہیں لیکن ہم نے اپنےسماجی اور معاشی ماحول میں تعلیم کے معیار کے تعین میں صرف امتحانات کے نتائج کو افراد کی کارکردگی پر حتمی چھاپ لگانے کا واحد ذریعہ قرار دیا۔ تعلیم کے معیار کی جانچ میں امتحانات کو اس قدر ہمیت دی گئی کہ اساتذہ اور طلبہ کی تمام ترتوجہ تدریس اور امتحانات سے ہم آہنگ کرنے پر مرکوز ہو گئی ہے ۔
والدین اور عامہ الناس نے بھی تعلیمی اداروں کے اچھے اور برے معیار کو ان کے امتحانی نتائج پر موقوف کردیا ۔
اسی طرح طلباء کی اکثریت نصاب کی ایسے حصوں کو ازبر کرنے منتخب کرلیتی ہے جو امتحان کے لحاظ سے متوقع اور موزوں ہیں۔ اب اگر کوئی طالب علم امتحان میں اچھے نمبر سے کامیاب ہو جاتا ہے تو اکثر صورتوں میں یہ کامیابی در اصل اس کی صلاحیت انتخاب اور امتحانی سوالات کی ہم آہنگی کی علامت ہے نہ کہ اس کی علمی استعداد کا مظہر ۔
ایسا طالب علم جس نے علم کو محض سطحی طور پر حاصل کیا ہے اور اس کی کامیابی ایک حادثہ سے زیادہ جیثیت نہیں رکھتی لازمی طور پرعملی زندگی میں قدم قدم پر مشکلات کا سامنا کرتا ہے اس کے علم میں نہ تو وہ وسعت ہے اور نہ ہی گہرائی جو صحیح تعلیم کا نتیجہ ہوتی ہے۔ امتحانات کا ناقص نظام اس صورت حال کا ذمہ دار ہے ۔
مندجہ بالا تجربے کی روشنی میں یہ سوال کہ" کیا معیار تعلیم گر رہا ہے "؟ قابل غور ہے ۔اس کا جواب نفی میں اور اثبات میں بھی ہے جیسا کہ پہلے بھی عرض کیا جا چکا ہےکہ اساتذہ او رطلبا کے لئے معیار تعلیم کا انڈیکس یا اشاریہ امتحانی نتائج ہیں گزشتہ چند سال کے امتحانی نتائج کے اعداد و شمار کے جائزے سے کوئی کیفیت سامنے نہیں آتی جس کے بنیاد پر یہ کہا جائے کہ معیار تعلیم گر رہا ہے ۔ بلکہ اکثر صورتوں میں یہ اعداد و شمار مرعوب کن ہو سکتے ہیں ۔
لیکن معاشرہ تو ان تعلیم یافتہ افراد سے مختلف النوع مسائل سے نمٹنے کی صلاحیت کی توع رکھتا ہے ۔ ان توقعات پر جب محدود مطالع والے طالب علم پورے نہیں اترتے تو پھر ہم یہ کہنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ موجودہ نظام تعلیم سے لائق افراد میسر نہیں آرہے ہین اور یہی معیار تعلیم کی تنزل پذیری کی علامت ہے جو قابل ذکر ہے ۔
تعلیم کا مقصد کیا ہونا چاہئے۔؟ مقاصد کے لحاظ سے تعلیم کے دوپہلو ہیں ۔
ایک تو علم برائے فضیلت
اور دوسرا علم برای معیشت ۔
بیسو یں صدی کے ابتدا هی سے اقتصادی ماہرین علم کے معیشتی پہل اور تعلیم کی معاشیاتی افادیت پر زور دے رہے ہیں۔ اس نظریہ کے لحاظ سے تعلیم ایک طرح کی سرمایہ کاری ہے جس کے ذریعے سے انسانی وسائل کی پیدائش اور افزائش کس جاتی ہے اور یہی انسانی وسائل مثلا تربیت یافتہ کاریگر کسی ملک کی پیداواریت میں اضافہ میں ممدو معاون ثابت ہوتے ہیں۔ ایسے معاشرہ میں جہاں تعلیم کے معاشیاتی پہلو کو بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے یا ہو جاتی ہے وہاں ایک تربیت یافتہ انسان اور ایک مشینی پرزہ میں افادیت کے لحاظ سے بہت زیادہ فرق نہیں ہوتا کیوں کہ دونوں کا مقصد پیداوار میں اضافہ کرنا ہوتا ہے۔ ایسے معاشرہ میں جہاں مذہب اور اقتصادی زندگی میں ایک دیوار حائل ہو وہاں تو تعلیم برائے فضیلت او تعلیم برائے معیشت میں فرق ہو سکتا ہے۔ لیکن ایک مسلم معاشرے میں جہاں زندگی کا ہر شعبہ خواہ تجارت ہو صنعت ؛حرفت یا کسب معاش اسلامی اقدار کی بنادوں پر قائم ہوں تعلیم کے فضیلتی پہلو اور معاشرتی پہلو میں خط فاصل نہیں کھینچا جا سکتا ہے ۔ در حقیقت تعلیم کے فضیلتی پہلو کو جواسلامی اقدار کی تشکیل کا سبب ہوتا ہے اس کے معیشتی پہلو پر حاوی ہونا چاہئے ۔ ہماری نصابی منصوبہ بندی میں اس امر کا خاص لحاظ رکھنا ہوگا ۔ بد قسمتی سے نظام تعلیم جس کی بنیاد انگریزوں نے برصغیر میں محدود مقاصد کے حصول کے لئے رکھی تھی قیام پاکستان کے بعد بھی مسلسل رہا ۔ مختلف کمیشن اور تعلیمی پالیسیوں کی سفارشات میں تو ہم نے بہت شاندار الفاظ میں نظریہ پاکستان کی بقا اور معاشرے کی تشکیل کو اپنے اولین تعلیمی مقاصد میں شمار کیا لیکن جب تدوین نصاب کا مرحلہ آتا ہے تو ان مقاصد کو عملی جامہ پہنانے کا کوئی موثر طریقہ اختیار نہیں جاتا۔
مادی مقاصد کے حصول اور معاشی دوڑ میںسبقت لے جانے کی کوشش میں ہم ان اعلی اور ارفع مقاصد کو بھول جاتے ہیں جس کی ترویج کے لئے ہم نے نظریاتی مملکت قائم کی ہے ۔
اس کا یہ نتیجہ نکلا کہ آج جو نظام تعلیم ہمارے ہاں رائج ہے اس میں مغرب کی تمام تر ترقیات کو اپنانے کے سامان تو موجود ہیں لیکن ہماری اپنی قومی اور نظریاتی تعلیم کا عنصر بہت کمزور ہے ۔ اس حقیقت سے ابھي انکار نہیں کیا جا سکتا ہے کہ موجودہ ترقیاتی دور میں ہمیں لائق ترین سائنسدان ؛ انجینیرز ڈاکٹرزاور اقتصادی ماہرین کی ضرورت ہے لیکن ہمیں ایک ایسے معاشرے کی تشکیل کاوعدہ بھی پورا کرنا ہے جہاں کا سائنسدان نہ صرف ایک بہترین دانشور ہے بلکہ اس کا کردار بھي ایک مثالی مسلمان کا ہو جو اسلام اورنظریہ پاکستان پر غیر متزلزل یقین رکھتا ہو ۔ اس مقصد کے حصول کے لئے ضروری ہے کہ ہمارے نصاب تعلیم میں نظریاتی تعلیم کا ایک واضح مقام ہو۔
پاکستان ایک نظریاتی مملکت ہے اور نظریاتی مملکت کی بقا اور حفاظت نظریہ کی حفاظت میں مضمر ہے جہاں ہم اپنی جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کے لئے مستحکم انتظامات کرتے ہیں وہاں یہ بھی ضروری ہے کہ ان سرحدوں میں بسن والےنوجوانوں میں بھی خود اس نظریاتی مملکت کے وجود کے جواز کچھ اس طرح ذہن نشین کردیا جائے کہ بوقت ضرورت وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ثابت ہوں اور افکار باطل کا ان کے ذہن پر کوئی اثر نہ ہوسکے۔ ایسی تمام مملکتیں جو ایک نظریاتی بنیار پر قائم ہیں اپنے نصاب تعلیم میں نظریاتی عنصر کو کافی اہمیت دیتے ہیں تاکہ فرد کی تربیت معاشرے کی ضرورت سے ہم آہنگ ہو ۔ ان امور کی روشنی میں جب ہم اپنے پرائمری یعنی تحتانی درجوں کے نصاب پر ایک سرسری نظر ڈالتے ہیں تو یہ دکھائی دیتا ہے کہ ہم نے بچوں پر ابتدا ہی سے مختلف زبانوں سائنس آرٹس اور دیگر مضامین کا بے حد بوجھ ڈال دیا ہے اس کے مضر اثرات اس شکل میں ظاہر ہو رہے ہیں کہ ایک طرف تو ان کے زمین میں ابتدا ہی سے مادیت سرایت کرنے لگتی ہے تو دوسری طرف نظریاتی اساس کی نشو نما اور اسلامی اقدار سے بہت ہی رمی سلوگ ہورہا ہے۔ دنیا کی دوسری نظریاتی مملکتوں کے نصاب پر سرسری نظر ڈالنے سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ وہاں ابتدائی درجوں سے بچوں کو شدید قسم کی نظریاتی تعلیم انسانی معاشرہ کا مطالعہ ملکی تاریخ اور ادب کے مطالعے پر بہت زور دیا جاتا ہے۔تاکہ ان کی نظریاتی بیان مضبوط ہو جائے ۔ یہ امر بھی کسی ثبوت کا متاج نہیں کہ بچپن کا دور ہی وہ مرحلہ ہے جس میں تمام عادتیں اور انکشافات پختگی کے ساتھ جڑپکڑتی ہیں۔
مندرجہ بالا گزارشات کی روشنی میں ہمارے نصابی منصوبہ بندی کے ذمہ داروں کو غور کرنا ہوگا کہ اس وقت جو نصاب تعلیم پرائمری اور ابتدائی درجوں میں رائج ہے یہ کسی حد تک تعلیم کے ملی تقاضوں کو پورا کرہا ہے اور یہ کس قدر ملکی وسائل سے ہم آہنگ ہے تعلیم کے مخنلف مرحلوں پرائمری اور ابتدائی اور ثانو میں نصاب کے مقاصد مختلف ہوتے ہیں ہر حصے کے اپنے اپنے مخصوص مقاصد ہوتے ہیں اور راس کے ساتھ اگلے مرحلے کے لئے تیاری کے بھی انتظامات رہتے ہیں لیکن ہمارے نصاب میں اس امر کے واضح علامات موجود ہیں کہ ہم نے ہر مرحلے کو اگلے سے مربوط کرنے والے پہلوکو اس قدر اہمیت دی کہ اس مرحلے کے مخصوص مقاصد نظرانداز کردیئے گئے ۔ یہ فرض کرلیا جاتا ہے کہ ہر وہ لڑکا جو پہلے درجے میں داخل ہوتا ہے کم از کم ثانوی تعلیم پوری کرکے نکلے گا ۔ لیکن واقعتا ایسا نہیں ہے۔
دوسرا قابل ذکر پہلو یہ ہیں کہ ہمارے ملک میں شہری اور دیہاتی زندگی میں بڑا فرق ہے اور اس لحاظ سے ان کے مخصوص معاشی تقاضے ہیں لیکن نصابی منصوبہ بندی میں ہم نے اس فرق کو یکسر نظر انداز کر دیا ہے ۔ قومی یک جہتی کی ضرورت اور اس کے لوازمات کو پیش نظر رکھتے ہوئے کیا ایسا ممکن ہے ہم اپنے نصاب میں ان دو مختلف معیشتوں اور ماحول سے مطابقت پیدا کر سکتے ہیں ؟
نصاب کے سلسلے میں یہ عرض کرنا بھی ضروری ہے کہ لڑکیوں کی تعلیم میں قطع نظر اس کے وہ سائنسددان بنیں ڈاکٹربنیں یا اس مقولے کے مدنظر کہ ایک عورت کی تعلیم ایک خاندان کی تربیت کی ضامن ہوتی ہے " لڑکیوں کے تعلیمی نصاب کے ہر مرحلے میں علاوہ اور مضامین کے امور خانہ داری بچوں کی نگہداشت ؛نرسنگ وغیرہ کا لازمی جزو ہوناچاہیئے ۔
ایک اور پہلو جو نصابی منصوبہ بندی سے تو بالراست متعلق نہیں ہے لیکن تعلیم کے مقاصد کے حصول سے گہرا تعلق رکھتا ہے وہ اساتذہ کا مالی کردار ہے۔ بالخص ابتدائی درجوں میں اس کی بہت اہمیت ہے۔
یہ امرکسی طویل بحث کا محتاج نہیں کہ جب ایک بچہ پہلی بار مدرسہ میں داخل ہوتا ہے تو اس کے سامنے استادہی سب سے بڑا مثالی نمونہ ہوتا ہے بچپن کے اس مرحلے پر استا دکے کردار سے زیادہ اس کا ظاہری طور و طریق لڑکے کے ذہن پر زیادہ دیر پا اثرات چھوڑتا ہے۔ ابھی لڑکے میں یہ صلاحیت نہیں ہوتی کہ وہ اس کے کردار کو سمجھ سکے لیکن ده استا د کی ظاہری شکل اس کے رہن سہن اور لباس سے متاثر ہوتا ہے اس لئے یہ مناسب ہوگا کہ ابتدائی درجوں کے اساتذہ لباس میں سا دگی برتیں بلکہ کوئی موزں یو نیفارم اختیار کرے کیونکہ یکسانیت لباس روح مساوات ہے اور اس کا عملی سبق اسی طرح دیا جاسکتا ہے۔
دوسروں کی شان و شوکت سے مرعوب ہونا اور ان کی نقالی کی کوشش ہی معاشرے میں مختلف قسم کی بدعنوانیوں کی جڑ ہے ۔ اس تجویز کے نفاذ سے جہاں ایک طرف بچوں کی موثر تربیت ہو سکتی ہے تو ساتھ ساتھ احساس محرومی کے شکار اساتذہ کے لئے بھی ذہنی سکون فراہم ہو سکے گا ۔
ایک ایسے موقع پر جب کہ ہم قومی زندگی کے مختلف شعبوں کا معرضی اور تنقیدی جائزہ لے رہے ہیں تاکہ ان کو بہتر خطوط پر استوار کر سکیں۔
یہ انتہائی ضروری اور فطری بھی ہے کہ ہم اپنے نصاب تعلیم اور مقاصد تعلیم کو اپنی قومی امنگوں اور ضروریات سے ہم آہنگ کریں کیونکہ تعلیم ہی وہ واحد ذریعہ ہے جس کے ذریعہ افراد اور اجتماعی تبدیلی لائی جاسکتی ہے۔ملکی دفاع کے بعد قومی ترجیحات میں تعلیم کو سر فہرست ہونا چاہئے ۔
کیونکہ تعلیم کے بغیر کسی قسم کی معاشی یا اخلاقی ترقی کاخواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔ تعلیمی ترقی ہی قومی کردار کی استواری نظریاتی اور ثقافتی بقاء اور سیاسی استحکام کا ضامن ہوتی ہے ۔ تعلیم بیک وقت سبب بھی ہے اور اثر بھی ہے ۔ جہاں تعلیم کا فروغ معاشی ترقی اور استحکام پیدا کرتا ہے تو بہتر معاشی حالات کسی قوم کو تعلیم کے فروغ پر آمادہ اور توجہ دینے کے قابل بنا دیتے ہیں تعلیم کے ذریعے عقل و دانش کا فروغ کسی قوم کا بہترین سرمایہ ہوتا ہے۔ اگرہم اپنے انسانی وسائل کو تعلیم کے ذریعہ فروغ نہیں دے سکتے تو ان کی ترقی کا اور کوئی دوسرا ذریعہ بھی نہیں ہوسکتا ۔ قوموں کی برادری میں کسی قوم کی وجہ امتیاز کے مختلف معیار میں ایک انتہائی اہم عنصر اس کا تعلیمی نظام اور معیارتعلیم بھی ہے ۔
جدید ٹکنالوجی کا حصول
جدید ٹکنالوجی کا حصول ایک ایسی پیچیدہ چیز ہے جو سخت محنت لگاو اورخود اعتمادی پر یقین چاہتی ہے ۔
ابھرتی ہوئی قوم کے لئے جد یا ٹکنالوجی ان کی آزادی کا دفاع اور ان کے عوام کی بہبود کے لئے انتہائی ضروری ہے ۔
یہ مقالہ جو ۱۹۸۰ ء میں ریڈیو پاکستان کےایک مباحثہ کے لئے تیار کیا گیا تھاجوچند نمایاں پہلوؤں سے متعلق ہے ۔
اور ان ٹکنیکی ترقیاتی اقدام کی اہمیت سے باخبر رکھنے کی غرض سے ہے جو سائنس اور ٹکنالوجی پالیسی کے تحت جدید ٹکنالوجی کے لئے جارہی ہے ۔
اگست ۱۹۸۰ ء
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فطرت پر قابو پانے کی کوشش میں آدمی اپنی سوچ اور ذہانت کے ذریعہ تین اہم انقلابات سے گزرا۔ ہزاروں سال پہلے زرعی انقلاب انوسویں صدی میں صنعتی انقلاب اور موجودہ صدی میں سائنی انقلاب اس سے نہ صرف یہ ہوا کہ وہ زندگی کے تمام مادی اور روحانی اقدار کا دوبارہ اندازہ لگا سکا بلکہ اس منزل کے قریب آیا جہاں فطرت پر قابو پاسکے ۔
وجوده در سائنس کا دور ہے جس کی فوری پر دار ٹکنالوجی اور منفی ہیں۔
موجودہ دور سائنس کا دور ہے جس کی فوری پیداوار ٹکنالوجی اور صنعتیں ہیں موجودہ دور کی یہ عجیب حقیقت ہے کہ ہماری تمام پریشانیاں اور یقینی طور پر ساری امیدیں جدید ٹکنالوجی پر مرکوز ہیں ۔ سائنسی کی حیرت انگیز ترقی نے آدمی کے ہاتھوں بڑی خطرناک قوت دے دی ہے ۔ اگر اسے بے مہار چھوڑ دیا جائے تو وہ اس کی اپنی تباہی کا باعث ہو گا ۔ لیکن صرف ٹکنالوجی ہی خوشحالی کی طرف یقینی راستہ فراہم کرتی ہے اور عوام کا معیار زندگی بلند کرنے کی امید پیدا کرتی ہے ۔
جدید ٹکنالوجی کے حصول سے اس بات کا یقین ہے کہ دنیا کے بڑے حصےسے غربت اور بھوک کو دور کیا جا سکے ۔
نئی اُبھرتی ہوئی قوموں کے سامنے جدید ٹکنالوجی کے حصول کے سلسلے میں دو مقاصد ہیں :
(۱) اپنی آزادی کی منافع بخش فصل کا کاٹنا، اس طرح کہ اسے سائنسی ترقی کے ذریعہ انسانی خوشی میں تبدیل کیا جا سکے ۔
(۲) اپنی آزادی کا دفاع اس طاقت کے ذریعہ جو سائنسی ٹکنالوجی کی مدد سے حاصل ہوتی ہے ۔
لیکن جدید ٹکنالوجی کے حصول سے ہمارا مفہوم کیا ہے؟ کیا اس کا مطلب اس کثیر دولت سے ہے جس کے ذریعہ ضروریات کو خریدا جا سکتا ہے؟ اگر ایسا ہے تو وہ حد سے زیادہ دولت مند ممالک جن کے پاس تیل ہےان کو کسی قسم کی پر یشانی نہیں ہونی چاہئے۔ اور اگر اس کا مطلب اُس بڑی آبادی سے ہے جس کے پاس ٹکنیکی ماہرین ہوں تو فریقی، ایشیائی قوموں کو کسی پریشانی کا سامنا نہ کرنا نہ پڑے کیونکہ ان کے باصلاحیت لوگ بڑی پیداواری اہمیت رکھتے ہیں۔ کیا اس کا مطلب قدرتی وسائل کے بڑے ذخائر ہیں؟ اگر ایسا ہے توان تمام وسائل پر ممالک ٹکنیکی طور بھی بہت ترقی یافتہ ہوں گے لیکن ہمارے سامنے ایسی قوموں کی شال موجود ہےجنہیں نہ تو مقامی طور پر خام اشیا میسر ہیں نہ ایندھن کے ذخائر جیسے کیس یا پٹرولیم مگر پھر بھی وہ اعلی صنتی قوموں کے گروہ میں اگلی صف میں پائے جاتے ہیں۔ یہ ان کی تکنیکی کی صلاحیتوں کی وجہ سے ہے ۔
جدید ٹکنالوجی کا حصول ایک ایسی پیچیدہ چیز ہے جو سخت محنت ؛لگاو اور خود اعتمادی چاہتی ہے ۔ خود اعتمادی ایک طریقہ زندگی ہے ۔ ذہن کی ایک خاص اپچ ہے جو خود ہر ایسے اعتماد میں پوشیدہ ہے جو پہاڈوں کو ہلادے۔ یہ مختلف اشیا کے صحیح طور پر یکجا ہونے سے حاصل ہوتی ہے۔ افرادی قوت اور انتظامی صلاحیت ہی جدید ٹکنا لوجی کو ہماری دہلہیز پر لا سکتا ہے۔
یہ بات بے محل نہیں ہو گی اگر یہ کہا جائے کہ خود اعتمادی اور لگار اسلا می تعلیمات کی روح ہے۔ قرآن کریم کہتا ہے۔ اگر تم سچے ہو توثبوت لاؤ !پاکیزہ آیات میں مومنین پر زور دیا گیا ہے کہ دلیل کے ساتھ مشاہدہ تجسس کا جاد به او خود اعتمادی تمام ایجادات کی بنیاد ہے ۔
جدید تکنالوجی کے حصول میں ایک اور اہم گمشده کڑی تکنیکی ایجادات کے تعمیر کی صلاحیت؛ یوں سمجھئے کہ سائنس اور ٹکنالوجی کے استعمال میں نئے طریقہ پر تجارتی کامیابی سے ٹکنیکی ایجادات کو ترقی دینا کسی بھی قومی سائنس پالیسی کا ہم مقصد ہونا چاہئے، جدید مفہوم میں ٹکنیکی ایجادات کی اصل انسانوں ک تجسس رہا ہے اور یہ اتنا ہی پرانا ہے جتنا خود ٹکنالوجی۔ تجرباتی سائنس کی ابتدا گرچہ تین سو سال قبل ہوئی مگر اس نے زور صرف گزشتہ دویا تین دہائی میں پکڑا جب اسکا استعمال روزمرہ کی انسانی ضروریات کے حل میں عام ہوا۔
جدید ٹکنالو جی کے حصول کے کسی پر وگرام کا انحصار ہوشمندی اور درست منصوبہ بندی پر ہے جس کی بیناد وسائل کو مکمل طور پر سمجھنے سے ہے۔ یہ ضروری ہے کہ وقت کے دورانیہ کو کم کیاجائے اور سائنسی ترقی اور تکنکی جان کاری کی رفتار کو تیز کیاجائے ۔
اسے انجینروں ؛ ٹکنیکی ماہروں اور سائنس دانوں کی ایک اچھی جماعت کو تربیت دے کر حاصل کیا جاسکتا ہے اور تحقیقی کام کرنے والوں کی ایک جماعت کو تربیت دے کر حاصل کیا جاسکتا ہے اور تحقیقی کام کرنے والوں کی ایک مرعوب کن جماعت تیار کی جاسکتی ہے ۔ اصطلاح تکنیکی مزاج کے قیام کے لئے ایسے قائدین کی ضرورت ہے جو سائنسی اور ٹکنیکی تحقیق کی قیادت کرسکیں۔ قومی سائنس اور ماہرانہ صلاحیتوں کو ترقی دینے کے لئے پہلی شرط یہ ہے کہ ماہرین کی ایسی افرادی قوت مہیا ہو جو مختلف تحقیقاتی اور ترقیاتی عوامل کے لئے موزوں ہو صرف تعداد نہیں بلکہ معیاری سائنسی ؛ٹکنیکی اور مختلف صلاحیتوں کی تعلیم ہر سطح پر ضروری ہے اور اسے اولیت حاصل ہونا چاہیے۔
دوسرا اہم قدم ہے کہ ایک مضبوط ڈھا نچہ تحقیقات اور ترقی کے لئے تیار کیا جائے ۔
تحقیق اور ترقی ( R-D ) جیسا کہ اسے کہا جاتا ہے ترقی پذیر اقوام کے سامنے بہت سی صورتیں پیش کرتا ہے۔ کارآمد انتخاب سے ناواقفیت یا اس کی سمجھ سے قاصر ہونے کی صورت میں بعض اوقات ایسے حالات پر پیدا ہو جاتے ہیں کہ ایسی جماعت بنائی جاتی ہے اور ایسے میدان میں تحقیق کی جاتی ہے جوان حالات میں کار آمد ثابت نہیں ہوتی اس لئے ضروری ہے کہ بہت احتیاط سے سائنسی اور کنیکی ترقیات کی امدادی سروس قائم کی جائے ۔ تیز رفتار سائنسی اور تکنیکی سرگرمیاں اور امدادی سروس کی اصطلاح کو رائج کرتے ہیں ۔
اقتصادی اور سماجی زندگی کے ہر پہلو میں صنعت کے ہر شعبه زراعت انتطامی معاملات ، فوجی اداروں اور تعلیمی سرگرمیوںمیں سائنسی سوجھ بوجھ کی ضرورت پڑتی ہےاس طرح ساری معاشیات تکنیکی بنیاد پر قائم ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ معلوماتی سروس قائم کی جائے جہاں دستاویزی شہادتوں کی فراہمی ؛ اعداد و شمار اور لائبرری سروس ہو ۔
دوسری سب سے اہم بات ٹکنالوجی کی منتقلی ہے۔ اس اصول کو مدنظر رکھنا چاہئے کہ سائنسی اور صنعتی ذرائع کو اس طرح عمل میں لایا جائے جو قومی حالات سے مطابقت رکھتے ہو ۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس خلیج کو پاٹا جائے جو ذرائع اور ضروریات کے درمیان ہے ۔ تین راہیں ہیں جن کے ذریعہ ٹیکنالوجی کو حاصل کیا جاسکتا ہے ۔
۱. ٹیکنالوجی کی اکٹھا درآمد ( Package importation )
۲. قومی تحقیقاتی ترقیاتی ذرائع سے ٹیکنالوجی کی علیحدہ علحدہ درآمد
۳. قومی تحقیقاتی ترقیاتی ذرائع سے مقامی ٹکنالوجی کی ترقی -