معیار تعلیم اور تدریسی موضوعات

معیار تعلیم اور تدریسی موضوعات0%

معیار تعلیم اور تدریسی موضوعات مؤلف:
: مصنف/ مؤلف
: مصنف/ مؤلف
زمرہ جات: زبان وادب لائبریری
صفحے: 43

معیار تعلیم اور تدریسی موضوعات

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

مؤلف: محقق ڈاکٹر میر محمد علی
: مصنف/ مؤلف
: مصنف/ مؤلف
زمرہ جات: صفحے: 43
مشاہدے: 98
ڈاؤنلوڈ: 28

تبصرے:

معیار تعلیم اور تدریسی موضوعات
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 43 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 98 / ڈاؤنلوڈ: 28
سائز سائز سائز
معیار تعلیم اور تدریسی موضوعات

معیار تعلیم اور تدریسی موضوعات

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

معیار تعلیم

اور تدریسی موضوعات

محقق:

ڈاکٹرمیر محمد علی

۱
۲

۳

جملہ حقوق محفوظ

نام کتاب _________معیار تعلیم اور تدریسی موضوعات

مصنف __________میر محمد علی

طابع ___________احمد برادرس ناظم آباد – کراچی

کتابت __________ محمود اختر

تعداد __________۵۰۰ جون ۱۹۸۷ ھ

زیر اہتمام ________سید قا‏‏‏ئم حسین نقوی

ناشر :پاکستان تنظیم کارکنان تعلیمی تحقیق پاور پبلیکیشنز کراچی

قمیت __________۲۰ روپئے

۴

مصنف

میر محمد علی عثمانیہ یونیورسٹی سے انجینرنگ میں بیچلرز اور راوکلا ہوما اسٹیٹ یونیورسٹی امریکہ سے فنی تعلیم میں ماسٹر کی ڈگری حامل ہیں ۔ وہ انسٹی ٹیوشن آف انجینر‏‏‏ز پاکستان کے لا‏‏‏ئف فیلو ہیں ۔

پاکستان میں پالی ٹکنک طرز تعلیم کی منصوبہ بندی ؛ نصاب کی تدوین اور نفاذ کے لئے قا‏‏‏ئم کی جانے والی اولین ٹیم کے رکن رہیں ہے۔ جس نے ۱۹۵۴ء میں فنی تعلیم کا پہلا منصوبہ بنایا اپنی ۳۷ سالہ پیشہ ورانہ خدما ت کے دوران وہ تعمیرات عامہ کے علاوہ فنی تعلیم کے محکمہ میں تدریس اور تربیت اساتذہ اور بحیثیت پرنسپل منسلک ہے

اور دیگر انتظامی عہدوں پر فائز رہے ہیں جس میں ناظم فنی تعلیم سندھ اڈیشنل سیکریٹری تعلیم اور چرمین فنی تعلیمی بورڈ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ وہ کولبو پلان اسٹاف کالج سنگاپور میں بحیثیت مشیر متعین کئے گئے۔

وہ یونسکو اور ایشین ڈولپمنٹ بنک میں ایک فنی ماہر کی حیثیت سے بھی متعارف ہیں۔ انکی تعلیمی خدمات پر ۱۹۶۹ ء میں انہیں بہترین استاد کا صدارتی تمغہ دیا گیا ۔

ان کی اولین تصنیف "پاکستان میں فنی تعلیم " پر انسٹی ٹیوشن آف انجنیز نے طلائی تمغہ دیا۔

زیر نظر کتاب کے علاوہ انکی حسب ذیل تصانیف اور تالیفات ہیں ۔

• سندھ میں اعلیٰ تعلیم کے معیار کی رپورٹ (۱۹۸۴ء)

• تھیمس ان ٹیلنٹیکل ایجویشن (۱۹۸۵ء)

• سندھ میں فنی تعلیم کی ترقی (۱۹۸۶‏‏‏ء)

• سندھ ایجو نیشنل جورنل چیف ایڈیٹر (۱۹۸۲-۸۷ ء)

• تعلیم اورتدریس سے تعلق مقالوں کا تیسرا مجموعہ (زیر طبع)

پیشہ ورانہ اور ثقافتی سرگرمیوں کے سلسلہ میں وہ جاپان ملیشاء، انڈونیشیاء بنگلادیش ؛ فلپا‏‏‏ئن ، بھارت تائی لینڈ ایران، عراق، برطانیہ، شام اور سعودی عرب کا دورہ بھی کر چکے ہیں۔

۵

فہرستِ مضامین

مصنف ۵

انتساب ۹

عرض ناشر ۱۰

پیش لفظ ۱۱

اظہارتشکر ۱۲

معیار تعلیم اور نصابی تقاضے ۱۳

جدید ٹکنالوجی کا حصول ۱۸

قرآن کا سائنسی مزاج ۲۳

قرآنی متن کی دائمیت ۲۴

قرآن اور علم ۲۵

سا‏‏‏ئنسی تحقیق کی بنیاد ۲۶

قرآن کے سائنسی مزاج کے مظاہر ۲۷

قرآن کی الہامی ترتیب ۲۸

عقیدہ توحید اور تسخیر کائنات ۲۹

حاصلِ کلام ۳۱

حوالہ جات ۳۲

کائنات سے متعلق قرآنی حوالے ۳۳

علیم میں ضیاع ۳۵

فنی تعلیم اور صنعتی ادارو ں م ی ں تعاون ۳۸

(ضرورت - مقاصد - طریقے) ۳۸

تعاون کی ضرورت ۳۹

تعاون کے فقدان کی وجوہ ۴۰

فنی تعلیمی اور صنعتی اداروں میں تعاون کے مقاصد ۴۱

تعاون کا احاطہ کار ۴۳

اشتراک و تعاون کے مجوزہ طریقے ۴۴

حاصلِ کلام ۴۶

تدریسی مقاصد کی تدوین ۴۷

تعارف ۴۷

تدریسی وسائل کاانتخاب۔ تیاری اور جائزہ ۵۷

تدریسی وسائل کا انتخاب : ۵۹

تدریسی وسائل کی تیاری : ۶۰

تدریسی وسائل کا جائزه ( EVALUATION ) ۶۱

استعمال کی صلاحیت ۶۲

تدریسی مقصد ۶۲

طرز ( style ) ۶۳

حاصلِ کلام ۶۴

فنی تعلیم میں طریقہ امتحانات ۶۵

اصلاحات کا لائی عمل ۶۵

فنی تعلیم میں تدریسی مواد کی تیاری ۶۹

(پس منظر ، ترجیحات اور حکمت عملی) ۶۹

ضروریات کا جائزہ : ۷۰

پاکستانی تجربہ : ۷۰

مجوزه حکمت عملی : ۷۱

ٹریفک کے حادثات اور اُن کی رو ک تھام ۷۳

ڈرا‏‏‏ئیوروں کی تعلیم و تربیت کے لیے چند تجاویز ۷۳

۶

بِسْمِ ٱللَّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ

رَبِّ زِدْنِي عِلْمًا

انتساب

علم ایک شہر سے معنون ہے ۔

شہر علم کے تمام فیض اس کے دروازہ

سے حاصل ہوتے ہیں ۔

اس ناچیز کوشش کو اسی دروازہ کی دہلیز پرپیش کرتا ہوں۔

۷

عرض ناشر

پاکستان میں تعلیمی تحقیق کی فروغ کے لئے ہم نے رضا کا را نہ طور پر ایک تنظیم

" پاکستان آرگنا‏‏‏ئزیشن آف ورکرز ان ایجوکیشنل ریسرچ "کے نام سے قا‏‏‏ئم کیا ہے

جو محففا پاور ( POWER ) کہلاتی ہے ۔ ہمیں بیحد خوشی ہے کہ داکٹر میر محمد علی صاحب

ہماری خدمات کو بہ نظر استحسان دیکھتے ہیں۔ اپنے فرائض منصبی کے علاوہ میر صاحب

نےفنی تعلیم کے فروغ کے لئے اپنے دماغ اور قلم کو مسلسل استعمال کیا ہے جسکے نتیجہ میں اس

شعبہ میں چند بہترین کتابیں منظر عام پر آ‏‏‏ئی ہیں ۔ اپنی ان کاوشوں کی وجہ وہ نہ صرف پاکستان

اور علاقا‏‏‏ئی تنظیم کو لمبو پلان بلکہ بین الاقوامی طور یونیسکو میں بھی بطور ماہر تعلیم متعارف ہیں۔

ہمارے ادارہ کے لئے یہ امرباعث فخر ہے کہ اپنی اس منفرد کتاب کی اشاعت کے لئے میر صاحب

نے ہمیں منتخب کیا۔ میں ادارہ کی جانب سے محمد علی صاحب کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔

ڈاکٹر اظہر رضوی

کراچی

مئی ۱۹۸۷ ء

۸

پیش لفظ

کسی تعلیمی نظام کی مجموعی کارکردگی کا اندازہ لگانے کے لئے ان تمام عوامل کا جو اس نظام میں کارفرما میں مطالعہ ضروری ہے۔ اس مجموعہ مضامین میں ان چند امور کی نشاند ہی کی گئی ہے جن کا تعلق تعلیمی نظام کی استواری سے ہے۔ تدریسی مقاصد؛ تدریسی وسائل اور تدریسی مواد تعلیمی نظام کی استعداد ایسے امور ہیں جن کو پس پشت ڈال کر نظام کے بہتری کی بات کرنا حقیقت سے چشم پوشی ہے ۔

معیار تعلیم اور طریقہ امتحانات یہ دو امور اس قدر کثرت سے زیر بحث ہے ہیں عام انسان یہ سمجھنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ کسی تعلیمی نظام کے شاید یہی دوستون ہیں جن پر ساری عمارت کھڑی ہے ۔ یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوتی ہے جب امتحانات ہی سب کچھ سمجھے جاتے ہیں حالانکہ امتحانات حصول علم کی درجہ بندی کا ایک ذریعہ ہیں نہ کہ اصل مقصد نظام تعلیم کو بہم پہنچانے والے عنصر اس میں کارفرما عو امل کو درست کر لیا جائے تو پھر اس کا ما حصل بھی ٹھیک ہو سکتا ہے۔

جدید ٹکنالوجی کا حصول اور ٹریفک سے متعلق مضامین بظاہر عنوانات کی تسلسل میں غیر مربوط نظر آتے ہیں لیکن اپنے نفس مضمون کے لحاظ سے یہ بھی فنی تعلیم کے کسی پہلو کو اجاگر کرتے اور یہی ان کی وجہ شمولیت ہے۔

فنی تعلیم سے متعلق میری دو کتابیں انگریزی زبان میں شا‏‏‏ئع ہو‏‏‏چکی ہے قومی زبان میں ان امور پر کتابوں کی کمی ہے مختلف موقعوں پر پڑھے ہوے مقالہ جات کو یکجا کر کے اس کو کتابی شکل میں پیش کرتے ہو‏‏‏ئے اس فرض کی بجا آوری کی کوشش کی ہے ۔ اب یہ قار‏‏‏ئیں پر چھوڑ رہا ہوں کہ وہ اندازہ لگا‏‏‏ئیں کہ کس حد تک اس کوشش میں کامیاب رہا ہوں ۔

مجھے یہ بیان کرتے ہوئے بیحد خوشی ہوتی ہے کہ پاکستان تنظیم کارکنان تعلیمی تحقیق " ( POWER ) اپنی نوعیت کی ایک فعال تنظیم ہے جو ڈاکٹر اظہررضوی کی سر پرستی میں اس کٹھن شعبہ میں خدمات انجام دے رہی ہے۔ اس لحاظ سے میں نے یہ مناسب سمجھا کہ اس مجموعہ مضامین کو تحفتا اس تنظیم کے حوالہ کر دوں تاکہ اس کی مزید نشر و اشاعت ہو سکے۔

ڈاکٹرمیر محمد علی

کراچی : مئی ١٩٨ء

۹

اظہارتشکر

اس کتاب میں شامل مضامین کی تدوین کے سلسلہ میں حسب ذیل حوالوں سے مدد لی گئی ہے ۔

• انسائیکلو پیڈیا آف ایجوکیشن ۔میکملن کمپنی سن ۱۹۷۱ ء

• امتحانات کا جامع پروگرام ۔ فنی تعلیمی بور سندھ۱۹۷۷ ء

• ایجوکیشنل ریسرچ ۔ گرے ۔ ل ۔ر ۔ میکول پبلشنک کمپنی

• پاکستان کے فنی تعلیمی اداروں میں تدریسی موادکا جائزہ انعام الحق ۱۹۸۴ ء

• قومی سا‏‏‏ئنس اور ٹکنالوجی پالیسی (مسوده )حکومت پاکستان – ۱۹۸۳ ء

• ایجوکیشن ایز انوسٹمنٹ ۔ سوار نگن۔ یوجین سن ۱۹۶۲ ء

• پاکستان فنی تعلیم میں استعمال کئے جانیوالے مواد کا مطالعه سلطان محمد خان۔ ۱۹۸۴ء

• تھيمس ان ٹکنيکل ایجوکیشن۔ میر محمد علی ۱۹۸۵ء

• کو لمبو پلان اسٹاف کالج سنگاپور کے مقالہ جات۔

• ان کے علاوہ متن میں دیتے گئے حوالوں کے مصنفین اور ناشرین بھی شکریہ ادا کیا جاتا ہے ۔

کتاب کی دیدہ زیب طباعت اور مسودہ میں آخری مرحلہ تک تبدیلیوں کے صبر آزما مرحلوں سے خندہ پیشانی سے گزرنے پر جناب قائم حسین صاحب اور ان کے رفقاء کار شکریہ کے مستحق ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۱۰

معیار تعلیم اور نصابی تقاضے

تعلیمی اور تد ریسی حلقوں میں آج کل معیار تعلیم موضوع بنا ہوا ہے اکثر یہ سوال زیر غور آتا ہے کہ کیا معیار تعلیم گر رہا ہے ؟ تعلیم کو نصاب تعلیم سے علیحدہ نہیں کیا جاسکتا اور اس لحاظ سے معیار تعلیم پر کو‏‏‏ئی سیر حاصل بحث لازما نصاب تعلیم اور اس کے عوامل پر ہی منتج ہوتی ہے۔

"معیار" کسی چیز کوناپنے کا ذریعہ ہوتا ہے طبیعی مقداروں مثلاً بلندی ؛پستی؛ سردی ؛گرمی وغیرہ کو ناپنے کے لیے کچھ معیار مقرر کرلئے گئے ہیں ۔ پیمائش کسی معیار کی اضافت سے کمی اوربیشی کا نام ہے ورنہ بجائے خود پیمائش مطلق نامکن ہے۔ کیا معیار تعلیم بھی آیسی کوئی مقداری اکائی ہے جس کی پیمائش ناممکن ہے ؟

علم کی وسعت اور روز افزوں طبع ہونے والی کتابوں کی تعداد نئے‏ نئے نظریات اور افکار کی ظہور پذیری اور تحقیقاتی سرگرمیوں کی مناسبت کے دوران رو‏‏‏ئے زمین پر علم کے ذخیرہ کےمختلف وسائل میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا ہے لیکن تیم اور معیار تعلیم کی طبعی پیما‏‏‏ئش اس طرح سے ممکن نہیں ہے۔ تعلیم کے معیار کو اس کے مقرر کردہ مقاصد کے حصول کی اضافت سے جانچا جا سکتا ہے ۔

تعلیم کا ایک مقصد ہوتا ہے تعلیم کے ذریعہ ہم طالب علم میں ایک تبدیلی کی توقع رکھتے ہیں ۔ اس تبدیلی کے نتیجے میں افراو میں چند خصوصیات کا تعین کرتے ہیں۔ پھرا ن خصوصیات اور صلاحتیوں کے زیر اثر ہم افراد سے ایک مخصوص کارکردگی کی توقع رکھتے ہیں۔ اب اگر افر اد کی کارگزار متوقع معیار پر پوری نہیں اترتی تو ہم اس مقصد کے حصول کے ذریعہ یعنی تعلیم کو بجا طور پر اس کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں ۔ یہ کہا جاتا ہے کہ تعلیم کا معیار متاثر ہو رہا ہے تعلیم کے عوامل میں مقاصد تعلیم؛ نصاب تعلیم نظام تعلیم ؛ اور تعلیمی پیما‏‏‏ئشات شامل ہیں اس طرح ہر معاشرہ کا معیار تعلیم اس کی اپنی اضافت اور اس کے متعین کردہ اقدار کی روشنی میں پرکھا جا‏‏‏ئے گا ۔

معیار تعلیم پر ان عوامل کے گہرے نقوش منعکس ہوں گے ان میں سے کسی ایک عنصر کی کمی بیشی معیار تعلیم کے توازن کو بگاڑ سکتی ہے تعلیم کے مقاصر تو بہت ارفع او راعلی ہیں لیکن ہم نے اپنےسماجی اور معاشی ماحول میں تعلیم کے معیار کے تعین میں صرف امتحانات کے نتا‏‏‏ئج کو افراد کی کارکردگی پر حتمی چھاپ لگانے کا واحد ذریعہ قرار دیا۔ تعلیم کے معیار کی جانچ میں امتحانات کو اس قدر ہمیت دی گئی کہ اساتذہ اور طلبہ کی تمام ترتوجہ تدریس اور امتحانات سے ہم آہنگ کرنے پر مرکوز ہو گئی ہے ۔

والدین اور عامہ الناس نے بھی تعلیمی اداروں کے اچھے اور برے معیار کو ان کے امتحانی نتا‏‏‏ئج پر موقوف کردیا ۔

اسی طرح طلباء کی اکثریت نصاب کی ایسے حصوں کو ازبر کرنے منتخب کرلیتی ہے جو امتحان کے لحاظ سے متوقع اور موزوں ہیں۔ اب اگر کو‏‏‏ئی طالب علم امتحان میں اچھے نمبر سے کامیاب ہو جاتا ہے تو اکثر صورتوں میں یہ کامیابی در اصل اس کی صلاحیت انتخاب اور امتحانی سوالات کی ہم آہنگی کی علامت ہے نہ کہ اس کی علمی استعداد کا مظہر ۔

ایسا طالب علم جس نے علم کو محض سطحی طور پر حاصل کیا ہے اور اس کی کامیابی ایک حادثہ سے زیادہ جیثیت نہیں رکھتی لازمی طور پرعملی زندگی میں قدم قدم پر مشکلات کا سامنا کرتا ہے اس کے علم میں نہ تو وہ وسعت ہے اور نہ ہی گہرا‏‏‏ئی جو صحیح تعلیم کا نتیجہ ہو‏‏‏‏‏‏تی ہے۔ امتحانات کا ناقص نظام اس صورت حال کا ذمہ دار ہے ۔

مندجہ بالا تجربے کی روشنی میں یہ سوال کہ" کیا معیار تعلیم گر رہا ہے "؟ قابل غور ہے ۔اس کا جواب نفی میں اور اثبات میں بھی ہے جیسا کہ پہلے بھی عرض کیا جا چکا ہےکہ اساتذہ او رطلبا کے لئے معیار تعلیم کا انڈیکس یا اشاریہ امتحانی نتا‏‏‏ئج ہیں گزشتہ چند سال کے امتحانی نتا‏‏‏ئج کے اعداد و شمار کے جا‏‏‏ئزے سے کو‏‏‏ئی کیفیت سامنے نہیں آتی جس کے بنیاد پر یہ کہا جا‏‏‏ئے کہ معیار تعلیم گر رہا ہے ۔ بلکہ اکثر صورتوں میں یہ اعداد و شمار مرعوب کن ہو سکتے ہیں ۔

لیکن معاشرہ تو ان تعلیم یافتہ افراد سے مختلف النوع مسا‏‏‏ئل سے نمٹنے کی صلاحیت کی توع رکھتا ہے ۔ ان توقعات پر جب محدود مطالع والے طالب علم پورے نہیں اترتے تو پھر ہم یہ کہنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ موجودہ نظام تعلیم سے لا‏‏‏ئق افراد میسر نہیں آرہے ہین اور یہی معیار تعلیم کی تنزل پذیری کی علامت ہے جو قابل ذکر ہے ۔

تعلیم کا مقصد کیا ہونا چاہئے۔؟ مقاصد کے لحاظ سے تعلیم کے دوپہلو ہیں ۔

ایک تو علم برائے فضیلت

اور دوسرا علم برای معیشت ۔

بیسو یں صدی کے ابتدا هی سے اقتصادی ماہرین علم کے معیشتی پہل اور تعلیم کی معاشیاتی افادیت پر زور دے رہے ہیں۔ اس نظریہ کے لحاظ سے تعلیم ایک طرح کی سرمایہ کاری ہے جس کے ذریعے سے انسانی وسا‏‏‏ئل کی پیدا‏‏‏ئش اور افزا‏‏‏ئش کس جاتی ہے اور یہی انسانی وسا‏‏‏ئل مثلا تربیت یافتہ کاریگر کسی ملک کی پیداواریت میں اضافہ میں ممدو معاون ثابت ہوتے ہیں۔ ایسے معاشرہ میں جہاں تعلیم کے معاشیاتی پہلو کو بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے یا ہو جاتی ہے وہاں ایک تربیت یافتہ انسان اور ایک مشینی پرزہ میں افادیت کے لحاظ سے بہت زیادہ فرق نہیں ہوتا کیوں کہ دونوں کا مقصد پیداوار میں اضافہ کرنا ہوتا ہے۔ ایسے معاشرہ میں جہاں مذہب اور اقتصادی زندگی میں ایک دیوار حائل ہو وہاں تو تعلیم برا‏‏‏ئے فضیلت او تعلیم برائے معیشت میں فرق ہو سکتا ہے۔ لیکن ایک مسلم معاشرے میں جہاں زندگی کا ہر شعبہ خواہ تجارت ہو صنعت ؛حرفت یا کسب معاش اسلامی اقدار کی بنادوں پر قا‏‏‏ئم ہوں تعلیم کے فضیلتی پہلو اور معاشرتی پہلو میں خط فاصل نہیں کھینچا جا سکتا ہے ۔ در حقیقت تعلیم کے فضیلتی پہلو کو جواسلامی اقدار کی تشکیل کا سبب ہوتا ہے اس کے معیشتی پہلو پر حاوی ہونا چاہئے ۔ ہماری نصابی منصوبہ بندی میں اس امر کا خاص لحاظ رکھنا ہوگا ۔ بد قسمتی سے نظام تعلیم جس کی بنیاد انگریزوں نے برصغیر میں محدود مقاصد کے حصول کے ‏‏ ‏‏‏لئے رکھی تھی قیام پاکستان کے بعد بھی مسلسل رہا ۔ مختلف کمیشن اور تعلیمی پالیسیوں کی سفارشات میں تو ہم نے بہت شاندار الفاظ میں نظریہ پاکستان کی بقا اور معاشرے کی تشکیل کو اپنے اولین تعلیمی مقاصد میں شمار کیا لیکن جب تدوین نصاب کا مرحلہ آتا ہے تو ان مقاصد کو عملی جامہ پہنانے کا کو‏‏‏ئی موثر طریقہ اختیار نہیں جاتا۔

مادی مقاصد کے حصول اور معاشی دوڑ میںسبقت لے جانے کی کوشش میں ہم ان اعلی اور ارفع مقاصد کو بھول جاتے ہیں جس کی ترویج کے لئے ہم نے نظریاتی مملکت قا‏‏‏ئم کی ہے ۔

اس کا یہ نتیجہ نکلا کہ آج جو نظام تعلیم ہمارے ہاں را‏‏‏ئج ہے اس میں مغرب کی تمام تر ترقیات کو اپنانے کے سامان تو موجود ہیں لیکن ہماری اپنی قومی اور نظریاتی تعلیم کا عنصر بہت کمزور ہے ۔ اس حقیقت سے ابھي انکار نہیں کیا جا سکتا ہے کہ موجودہ ترقیاتی دور میں ہمیں لا‏‏‏ئق ترین سا‏‏‏ئنسدان ؛ انجینیرز ڈاکٹرزاور اقتصادی ماہرین کی ضرورت ہے لیکن ہمیں ایک ایسے معاشرے کی تشکیل کاوعدہ بھی پورا کرنا ہے جہاں کا سا‏‏‏ئنسدان نہ صرف ایک بہترین دانشور ہے بلکہ اس کا کردار بھي ایک مثالی مسلمان کا ہو جو اسلام اورنظریہ پاکستان پر غیر متزلزل یقین رکھتا ہو ۔ اس مقصد کے حصول کے لئے ضروری ہے کہ ہمارے نصاب تعلیم میں نظریاتی تعلیم کا ایک واضح مقام ہو۔

پاکستان ایک نظریاتی مملکت ہے اور نظریاتی مملکت کی بقا اور حفاظت نظریہ کی حفاظت میں مضمر ہے جہاں ہم اپنی جغرافیا‏‏‏ئی سرحدوں کی حفاظت کے لئے مستحکم انتظامات کرتے ہیں وہاں یہ بھی ضروری ہے کہ ان سرحدوں میں بسن والےنوجوانوں میں بھی خود اس نظریاتی مملکت کے وجود کے جواز کچھ اس طرح ذہن نشین کردیا جا‏‏‏ئے کہ بوقت ضرورت وہ سیسہ پلا‏‏‏ئی ہو‏‏‏ئی دیوار ثابت ہوں اور افکار باطل کا ان کے ذہن پر کو‏‏‏ئی اثر نہ ہوسکے۔ ایسی تمام مملکتیں جو ایک نظریاتی بنیار پر قا‏‏‏ئم ہیں اپنے نصاب تعلیم میں نظریاتی عنصر کو کافی اہمیت دیتے ہیں تاکہ فرد کی تربیت معاشرے کی ضرورت سے ہم آہنگ ہو ۔ ان امور کی روشنی میں جب ہم اپنے پرا‏‏‏ئمری یعنی تحتانی درجوں کے نصاب پر ایک سرسری نظر ڈالتے ہیں تو یہ دکھا‏‏‏ئی دیتا ہے کہ ہم نے بچوں پر ابتدا ہی سے مختلف زبانوں سائنس آرٹس اور دیگر مضامین کا بے حد بوجھ ڈال دیا ہے اس کے مضر اثرات اس شکل میں ظاہر ہو رہے ہیں کہ ایک طرف تو ان کے زمین میں ابتدا ہی سے مادیت سرایت کرنے لگتی ہے تو دوسری طرف نظریاتی اساس کی نشو نما اور اسلامی اقدار سے بہت ہی رمی سلوگ ہورہا ہے۔ دنیا کی دوسری نظریاتی مملکتوں کے نصاب پر سرسری نظر ڈالنے سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ وہاں ابتدائی درجوں سے بچوں کو شدید قسم کی نظریاتی تعلیم انسانی معاشرہ کا مطالعہ ملکی تاریخ اور ادب کے مطالعے پر بہت زور دیا جاتا ہے۔تاکہ ان کی نظریاتی بیان مضبوط ہو جا‏‏‏ئے ۔ یہ امر بھی کسی ثبوت کا متاج نہیں کہ بچپن کا دور ہی وہ مرحلہ ہے جس میں تمام عادتیں اور انکشافات پختگی کے ساتھ جڑپکڑتی ہیں۔

مندرجہ بالا گزارشات کی روشنی میں ہمارے نصابی منصوبہ بندی کے ذمہ داروں کو غور کرنا ہوگا کہ اس وقت جو نصاب تعلیم پرا‏‏‏ئمری اور ابتدا‏‏‏ئی درجوں میں را‏‏‏ئج ہے یہ کسی حد تک تعلیم کے ملی تقاضوں کو پورا کرہا ہے اور یہ کس قدر ملکی وسائل سے ہم آہنگ ہے تعلیم کے مخنلف مرحلوں پرائمری اور ابتدائی اور ثانو میں نصاب کے مقاصد مختلف ہوتے ہیں ہر حصے کے اپنے اپنے مخصوص مقاصد ہوتے ہیں اور راس کے ساتھ اگلے مرحلے کے لئے تیاری کے بھی انتظامات رہتے ہیں لیکن ہمارے نصاب میں اس امر کے واضح علامات موجود ہیں کہ ہم نے ہر مرحلے کو اگلے سے مربوط کرنے والے پہلوکو اس قدر اہمیت دی کہ اس مرحلے کے مخصوص مقاصد نظرانداز کرد‏‏‏یئے گئے ۔ یہ فرض کرلیا جا‏‏تا ہے کہ ہر وہ لڑکا جو پہلے درجے میں داخل ہوتا ہے کم از کم ثانوی تعلیم پوری کرکے نکلے گا ۔ لیکن واقعتا ایسا نہیں ہے۔

دوسرا قابل ذکر پہلو یہ ہیں کہ ہمارے ملک میں شہری اور دیہاتی زندگی میں بڑا فرق ہے اور اس لحاظ سے ان کے مخصوص معاشی تقاضے ہیں لیکن نصابی منصوبہ بندی میں ہم نے اس فرق کو یکسر نظر انداز کر دیا ہے ۔ قومی یک جہتی کی ضرورت اور اس کے لوازمات کو پیش نظر رکھتے ہوئے کیا ایسا ممکن ہے ہم اپنے نصاب میں ان دو مختلف معیشتوں اور ماحول سے مطابقت پیدا کر سکتے ہیں ؟

نصاب کے سلسلے میں یہ عرض کرنا بھی ضروری ہے کہ لڑکیوں کی تعلیم میں قطع نظر اس کے وہ سا‏‏‏ئنسددان بنیں ڈاکٹربنیں یا اس مقولے کے مدنظر کہ ایک عورت کی تعلیم ایک خاندان کی تربیت کی ضامن ہوتی ہے " لڑکیوں کے تعلیمی نصاب کے ہر مرحلے میں علاوہ اور مضامین کے امور خانہ داری بچوں کی نگہداشت ؛نرسنگ وغیرہ کا لازمی جزو ہوناچا‏‏‏ہیئے ۔

ایک اور پہلو جو نصابی منصوبہ بندی سے تو بالراست متعلق نہیں ہے لیکن تعلیم کے مقاصد کے حصول سے گہرا تعلق رکھتا ہے وہ اساتذہ کا مالی کردار ہے۔ بالخص ابتدائی درجوں میں اس کی بہت اہمیت ہے۔

یہ امرکسی طویل بحث کا محتاج نہیں کہ جب ایک بچہ پہلی بار مدرسہ میں داخل ہوتا ہے تو اس کے سامنے استادہی سب سے بڑا مثالی نمونہ ہوتا ہے بچپن کے اس مرحلے پر استا دکے کردار سے زیادہ اس کا ظاہری طور و طریق لڑکے کے ذہن پر زیادہ دیر پا اثرات چھوڑتا ہے۔ ابھی لڑکے میں یہ صلاحیت نہیں ہوتی کہ وہ اس کے کردار کو سمجھ سکے لیکن ده استا د کی ظاہری شکل اس کے رہن سہن اور لباس سے متاثر ہوتا ہے اس لئے یہ مناسب ہوگا کہ ابتدائی درجوں کے اساتذہ لباس میں سا دگی برتیں بلکہ کوئی موزں یو نیفارم اختیار کرے کیونکہ یکسانیت لباس روح مساوات ہے اور اس کا عملی سبق اسی طرح دیا جاسکتا ہے۔

دوسروں کی شان و شوکت سے مرعوب ہونا اور ان کی نقالی کی کوشش ہی معاشرے میں مختلف قسم کی بدعنوانیوں کی جڑ ہے ۔ اس تجویز کے نفاذ سے جہاں ایک طرف بچوں کی موثر تربیت ہو سکتی ہے تو ساتھ ساتھ احساس محرومی کے شکار اساتذہ کے لئے بھی ذہنی سکون فراہم ہو سکے گا ۔

ایک ایسے موقع پر جب کہ ہم قومی زندگی کے مختلف شعبوں کا معرضی اور تنقیدی جائزہ لے رہے ہیں تاکہ ان کو بہتر خطوط پر استوار کر سکیں۔

یہ انتہائی ضروری اور فطری بھی ہے کہ ہم اپنے نصاب تعلیم اور مقاصد تعلیم کو اپنی قومی امنگوں اور ضروریات سے ہم آہنگ کریں کیونکہ تعلیم ہی وہ واحد ذریعہ ہے جس کے ذریعہ افراد اور اجتماعی تبدیلی لا‏‏‏ئی جاسکتی ہے۔ملکی دفاع کے بعد قومی ترجیحات میں تعلیم کو سر فہرست ہونا چاہئے ۔

کیونکہ تعلیم کے بغیر کسی قسم کی معاشی یا اخلاقی ترقی کاخواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔ تعلیمی ترقی ہی قومی کردار کی استواری نظریاتی اور ثقافتی بقاء اور سیاسی استحکام کا ضامن ہوتی ہے ۔ تعلیم بیک وقت سبب بھی ہے اور اثر بھی ہے ۔ جہاں تعلیم کا فروغ معاشی ترقی اور استحکام پیدا کرتا ہے تو بہتر معاشی حالات کسی قوم کو تعلیم کے فروغ پر آمادہ اور توجہ دینے کے قابل بنا دیتے ہیں تعلیم کے ذریعے عقل و دانش کا فروغ کسی قوم کا بہترین سرمایہ ہوتا ہے۔ اگرہم اپنے انسانی وسا‏‏‏ئل کو تعلیم کے ذریعہ فروغ نہیں دے سکتے تو ان کی ترقی کا اور کو‏‏‏ئی دوسرا ذریعہ بھی نہیں ہوسکتا ۔ قوموں کی برادری میں کسی قوم کی وجہ امتیاز کے مختلف معیار میں ایک انتہا‏‏‏ئی اہم عنصر اس کا تعلیمی نظام اور معیارتعلیم بھی ہے ۔

جدید ٹکنالوجی کا حصول

جدید ٹکنالوجی کا حصول ایک ایسی پیچیدہ چیز ہے جو سخت محنت لگاو اورخود اعتمادی پر یقین چاہتی ہے ۔

ابھرتی ہوئی قوم کے لئے جد یا ٹکنالوجی ان کی آزادی کا دفاع اور ان کے عوام کی بہبود کے لئے انتہائی ضروری ہے ۔

یہ مقالہ جو ۱۹۸۰ ء میں ریڈیو پاکستان کےایک مباحثہ کے لئے تیار کیا گیا تھاجوچند نمایاں پہلوؤں سے متعلق ہے ۔

اور ان ٹکنیکی ترقیاتی اقدام کی اہمیت سے باخبر رکھنے کی غرض سے ہے جو سا‏‏‏ئنس اور ٹکنالوجی پالیسی کے تحت جدید ٹکنالوجی کے لئے جارہی ہے ۔

اگست ۱۹۸۰ ء

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فطرت پر قابو پانے کی کوشش میں آدمی اپنی سوچ اور ذہانت کے ذریعہ تین اہم انقلابات سے گزرا۔ ہزاروں سال پہلے زرعی انقلاب انوسویں صدی میں صنعتی انقلاب اور موجودہ صدی میں سائنی انقلاب اس سے نہ صرف یہ ہوا کہ وہ زندگی کے تمام مادی اور روحانی اقدار کا دوبارہ اندازہ لگا سکا بلکہ اس منزل کے قریب آیا جہاں فطرت پر قابو پاسکے ۔

وجوده در سائنس کا دور ہے جس کی فوری پر دار ٹکنالوجی اور منفی ہیں۔

موجودہ دور سا‏‏‏ئنس کا دور ہے جس کی فوری پیداوار ٹکنالوجی اور صنعتیں ہیں موجودہ دور کی یہ عجیب حقیقت ہے کہ ہماری تمام پریشانیاں اور یقینی طور پر ساری امیدیں جدید ٹکنالوجی پر مرکوز ہیں ۔ سا‏‏‏ئنسی کی حیرت انگیز ترقی نے آدمی کے ہاتھوں بڑی خطرناک قوت دے دی ہے ۔ اگر اسے بے مہار چھوڑ دیا جا‏‏‏ئے تو وہ اس کی اپنی تباہی کا باعث ہو گا ۔ لیکن صرف ٹکنالوجی ہی خوشحالی کی طرف یقینی راستہ فراہم کرتی ہے اور عوام کا معیار زندگی بلند کرنے کی امید پیدا کرتی ہے ۔

جدید ٹکنالوجی کے حصول سے اس بات کا یقین ہے کہ دنیا کے بڑے حصےسے غربت اور بھوک کو دور کیا جا سکے ۔

نئی اُبھرتی ہوئی قوموں کے سامنے جدید ٹکنالوجی کے حصول کے سلسلے میں دو مقاصد ہیں :

(۱) اپنی آزادی کی منافع بخش فصل کا کاٹنا، اس طرح کہ اسے سائنسی ترقی کے ذریعہ انسانی خوشی میں تبدیل کیا جا سکے ۔

(۲) اپنی آزادی کا دفاع اس طاقت کے ذریعہ جو سا‏‏‏ئنسی ٹکنالوجی کی مدد سے حاصل ہوتی ہے ۔

لیکن جدید ٹکنالوجی کے حصول سے ہمارا مفہوم کیا ہے؟ کیا اس کا مطلب اس کثیر دولت سے ہے جس کے ذریعہ ضروریات کو خریدا جا سکتا ہے؟ اگر ایسا ہے تو وہ حد سے زیادہ دولت مند ممالک جن کے پاس تیل ہےان کو کسی قسم کی پر یشانی نہیں ہونی چاہئے۔ اور اگر اس کا مطلب اُس بڑی آبادی سے ہے جس کے پاس ٹکنیکی ماہرین ہوں تو فریقی، ایشیائی قوموں کو کسی پریشانی کا سامنا نہ کرنا نہ پڑے کیونکہ ان کے باصلاحیت لوگ بڑی پیداواری اہمیت رکھتے ہیں۔ کیا اس کا مطلب قدرتی وسائل کے بڑے ذخائر ہیں؟ اگر ایسا ہے توان تمام وسائل پر ممالک ٹکنیکی طور بھی بہت ترقی یافتہ ہوں گے لیکن ہمارے سامنے ایسی قوموں کی شال موجود ہےجنہیں نہ تو مقامی طور پر خام اشیا میسر ہیں نہ ایندھن کے ذخائر جیسے کیس یا پٹرولیم مگر پھر بھی وہ اعلی صنتی قوموں کے گروہ میں اگلی صف میں پائے جاتے ہیں۔ یہ ان کی تکنیکی کی صلاحیتوں کی وجہ سے ہے ۔

جدید ٹکنالوجی کا حصول ایک ایسی پیچیدہ چیز ہے جو سخت محنت ؛لگاو اور خود اعتمادی چاہتی ہے ۔ خود اعتمادی ایک طریقہ زندگی ہے ۔ ذہن کی ایک خاص اپچ ہے جو خود ہر ایسے اعتماد میں پوشیدہ ہے جو پہاڈوں کو ہلادے۔ یہ مختلف اشیا کے صحیح طور پر یکجا ہونے سے حاصل ہوتی ہے۔ افرادی قوت اور انتظامی صلاحیت ہی جدید ٹکنا لوجی کو ہماری دہلہیز پر لا سکتا ہے۔

یہ بات بے محل نہیں ہو گی اگر یہ کہا جائے کہ خود اعتمادی اور لگار اسلا می تعلیمات کی روح ہے۔ قرآن کریم کہتا ہے۔ اگر تم سچے ہو توثبوت لاؤ !پاکیزہ آیات میں مومنین پر زور دیا گیا ہے کہ دلیل کے ساتھ مشاہدہ تجسس کا جاد به او خود اعتمادی تمام ایجادات کی بنیاد ہے ۔

جدید تکنالوجی کے حصول میں ایک اور اہم گمشده کڑی تکنیکی ایجادات کے تعمیر کی صلاحیت؛ یوں سمجھئے کہ سائنس اور ٹکنالوجی کے استعمال میں نئے طریقہ پر تجارتی کامیابی سے ٹکنیکی ایجادات کو ترقی دینا کسی بھی قومی سائنس پالیسی کا ہم مقصد ہونا چاہئے، جدید مفہوم میں ٹکنیکی ایجادات کی اصل انسانوں ک تجسس رہا ہے اور یہ اتنا ہی پرانا ہے جتنا خود ٹکنالوجی۔ تجرباتی سائنس کی ابتدا گرچہ تین سو سال قبل ہوئی مگر اس نے زور صرف گزشتہ دویا تین دہائی میں پکڑا جب اسکا استعمال روزمرہ کی انسانی ضروریات کے حل میں عام ہوا۔

جدید ٹکنالو جی کے حصول کے کسی پر وگرام کا انحصار ہوشمندی اور درست منصوبہ بندی پر ہے جس کی بیناد وسائل کو مکمل طور پر سمجھنے سے ہے۔ یہ ضروری ہے کہ وقت کے دورانیہ کو کم کیاجا‏‏‏ئے اور سا‏‏‏ئنسی ترقی اور تکنکی جان کاری کی رفتار کو تیز کیاجا‏‏‏ئے ۔

اسے انجینروں ؛ ٹکنیکی ماہروں اور سا‏‏‏ئنس دانوں کی ایک اچھی جماعت کو تربیت دے کر حاصل کیا جاسکتا ہے اور تحقیقی کام کرنے والوں کی ایک جماعت کو تربیت دے کر حاصل کیا جاسکتا ہے اور تحقیقی کام کرنے والوں کی ایک مرعوب کن جماعت تیار کی جاسکتی ہے ۔ اصطلاح تکنیکی مزاج کے قیام کے لئے ایسے قا‏‏‏ئدین کی ضرورت ہے جو سا‏‏‏ئنسی اور ٹکنیکی تحقیق کی قیادت کرسکیں۔ قومی سا‏‏‏ئنس اور ماہرانہ صلاحیتوں کو ترقی دینے کے لئے پہلی شرط یہ ہے کہ ماہرین کی ایسی افرادی قوت مہیا ہو جو مختلف تحقیقاتی اور ترقیاتی عوامل کے لئے موزوں ہو صرف تعداد نہیں بلکہ معیاری سائنسی ؛ٹکنیکی اور مختلف صلاحیتوں کی تعلیم ہر سطح پر ضروری ہے اور اسے اولیت حاصل ہونا چاہیے۔

دوسرا اہم قدم ہے کہ ایک مضبوط ڈھا نچہ تحقیقات اور ترقی کے لئے تیار کیا جا‏‏‏ئے ۔

تحقیق اور ترقی ( R-D ) جیسا کہ اسے کہا جاتا ہے ترقی پذیر اقوام کے سامنے بہت سی صورتیں پیش کرتا ہے۔ کارآمد انتخاب سے ناواقفیت یا اس کی سمجھ سے قاصر ہونے کی صورت میں بعض اوقات ایسے حالات پر پیدا ہو جاتے ہیں کہ ایسی جماعت بنائی جاتی ہے اور ایسے میدان میں تحقیق کی جاتی ہے جوان حالات میں کار آمد ثابت نہیں ہوتی اس لئے ضروری ہے کہ بہت احتیاط سے سائنسی اور کنیکی ترقیات کی امدادی سروس قا‏‏‏ئم کی جائے ۔ تیز رفتار سا‏‏‏ئنسی اور تکنیکی سرگرمیاں اور امدادی سروس کی اصطلاح کو را‏‏‏ئج کرتے ہیں ۔

اقتصادی اور سماجی زندگی کے ہر پہلو میں صنعت کے ہر شعبه زراعت انتطامی معاملات ، فوجی اداروں اور تعلیمی سرگرمیوںمیں سائنسی سوجھ بوجھ کی ضرورت پڑتی ہےاس طرح ساری معاشیات تکنیکی بنیاد پر قائم ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ معلوماتی سروس قا‏‏‏ئم کی جائے جہاں دستاویزی شہادتوں کی فراہمی ؛ اعداد و شمار اور لا‏‏‏ئبرری سروس ہو ۔

دوسری سب سے اہم بات ٹکنالوجی کی منتقلی ہے۔ اس اصول کو مدنظر رکھنا چاہئے کہ سا‏‏‏ئنسی اور صنعتی ذرا‏‏‏ئع کو اس طرح عمل میں لایا جا‏‏‏ئے جو قومی حالات سے مطابقت رکھتے ہو ۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس خلیج کو پاٹا جا‏‏‏ئے جو ذرا‏‏‏ئع اور ضروریات کے درمیان ہے ۔ تین راہیں ہیں جن کے ذریعہ ٹیکنالوجی کو حاصل کیا جاسکتا ہے ۔

۱. ٹیکنالوجی کی اکٹھا درآمد ( Package importation )

۲. قومی تحقیقاتی ترقیاتی ذرائع سے ٹیکنالوجی کی علیحدہ علحدہ درآمد

۳. قومی تحقیقاتی ترقیاتی ذرائع سے مقامی ٹکنالوجی کی ترقی -

۱۱

بہ ہر صورت حکمت عملی کا تعین اس طرح ہونا چاہیے کہ ساری اقتصادی ترقی کی بنیاد ٹیکنالوجی کی مضبوطی دور جدیدیت کے لئے ہو۔ اس مقصد کے لئے ٹکنا لوجی تولید ی مراکز" اور ٹکنالوجی منتقلی مراکز" کا قیام اور ساتھ ہی ساتھ " زرخسارہ" کا انتظام کیا کیا جائے جو در آمد شدہ ٹکنالوجی کے تجارتی استعمال میں کام آ‏‏‏ئے ۔

چہارم یہ کہ جدید ٹکنالوجی کی ترقی کے لئے ماسوای مادی صلاحیتوں کے جن کا اوپر ذکر کیا گیا ؛ایک فضا چاہئے جو سا‏‏‏ئنس اور ٹکنالوجی کے حصول کو قوی طور پر آسان کر دے ۔

اس کے لئے ایسی ماحول کی ضرورت ہے جولوگوں پرجدید ٹکنالوجی اور اس کے استعمال کی اہمیت کو واضح کرے اس کے لئے سا‏‏‏ئنسی سوجھ بوجھ والے معاشرہ کی ضرورت ہے جو ٹکنیکی ترقیات کے حق میں ایک باقاعدہ مہم کے ذریعہ عوام کے شوچ کی تربیت کرے۔ اس کے لئے پرزور اقدام کی ضرورت ہے جو سا‏‏‏ئنس اور ٹکنالوجی کے پیغام کو پھیلا‏‏‏ئے تاکہ لوگ اپنی تہذیبی میراث کو دوبارہ حاصل کر سکیں ۔ اس جزبے کے ساتھ کہ سا‏‏‏ئنسی تحقیقات اور تلاش کا صحیح راستہ ہی مسلمانوں کے اول دور کا امتیازی نشان تھا ۔

تمام ابھرتی ہو‏‏‏ئی تہذیبوں کی تاریخ حتمی طور پر بتاتی ہے کہ لوگ ترقی کی منزل پر اس وقت تک پہنچتے ہیں جب و ہ اپنے اوپر بھروسہ کرنا سیکھتے اور اپنے نظریات اور حالات کے مطابق لگن کے ساتھ کام کرتے ہیں۔

جب تک لوگ نقالی پر قناعت کریں گے ان کو پیچھے رہ جانے پر قانع ہونا ہوگا۔ جدید ٹکنالوجی کو حاصل کرنے کے لائق وہ صرف اسی وقت ہوں گے جب وہ اپنے کر تجسس کی سخت گیری سے دوچار کریں اور جدت پسند سوچ اختیار کریں ۔

اس لئے اس گفتگو کے سلسلے کو جاری رکھنے کے لئے میں اس سے زیادہ اور کچھ نہیں کرسکتا کہ تعلیم کے حصول کے لئے اسلام کے رویہ کے عومی مقاصد کا اظہار کروں۔ دریافت کا جذبہ اور تجربے کے طریقے مشاہدہ اور اندازے جن پر جدید سا‏‏‏ئنس اور ٹکنالوجی کا انحصار ہے یہ سب ان کا مرہون منت ہے جنھوں نے اسلام کی تعلیمات پر عمل کیا ہے۔ بر نالٹ اپنی کتاب میں لکھتا ہے :-

یورپی نشو نما میں ایک بھی ایسا پہلو نہیں ہے جس میں اسلامی تہذیب کا قطعی اثر موجود نہ ہو ۔ ( وہ آگے لکھتا ہے ) تحمل کے ساتھ تحقیقات مثبت ادراک کا اجتماع عمیق سا ‏‏‏ئنسی طریقے ، مفصل اور طویل تجسس اور تجرباتی تحقیق سے عربوں کے ذریعہ یور پی دنیا واقف ہو‏‏‏ئی ۔

کلام پاک کی متعد د سورتوں سے پتہ چلتا ہے کہ جدید سائنس کا وجود اسلام ہی کامرہون منت ہے ٹکنیکی ہو یا روحانی ؛ ہر قسم کی ترقی کی بنیاد علم کی تلاش ہے اس سلسلے میں نبی کریم ص کا قول ہے کہ " ہرمرد اور عورت پر یہ فرض ہے کہ علم حاصل کرے چاہے وہ چین میں ہی کیوں نہ ہو"۔

یہ بات قلم بند ہے کہ اسلام کے ابتدا‏‏‏ئی دو ر میں قرآن تعلیمات کے اثر سے اور تجسس وفطری تقاضوں کی چھان بین سے مسلمان تجرباتی سا‏‏‏ئنس کے رہنما بن گئے ۔

مجموعی طور پر مسلمانوں کے دور عروج سے لے کر موجودہ دور تک جیسے ہم سا‏‏‏ئنیس اور ٹکنالوجی کا دور کہتے ہیں؛ پھر ضرورت ہے کہ ہم سا‏‏‏ئنسی جستجو کو گرفت میں لیں اور انھیں صلاحیتوں کا مظاہرہ کریں جس کے ہم امین ہیں۔

پندرہویں صدی ہجری کی دہلیز پر کھڑے ہمیں اس دعوت مبارزہ کو قبول کرنا ہے۔

۱۲

قرآن کا سائنسی مزاج

قرآن اور سائنس کے موضوع پر بحث کے متعد پہلو ہو سکتے ہیں بحث کا رخ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ہم قرآن ارشادات اور سائنسی اصولوں کے درمیان ہم آہنگی تلاش کرنے کی کوشش کریں یعنی سائنس سے متعلق قرآنی مزاج پر بحث کریں۔

سائنس کا لفظ لاطینی لفظ ( Scientia ) سے لیا گیا ہے جس کا مطلب علم ہے۔ اس لحاظ سے ہر علم کو سائنس کہا جا سکتا ہے جیسا کہ سوشل سائنس (عمرانیات ) پولیٹیکل سائنس (سیاسیات) بیہوریل سا‏‏‏ئنس ( نفیات ) وغیرہ ۔

لیکن اپنے خاص معنوں میں اس لفظ کا اطلاق عام طورپر زندگی اور کائنات کی حقیقتوں کی تلاش سے متعلق مروجہ مادی علوم مثلاً کیمیا، حیاتیات طبیعيات ، حیوانیات اور فلکیات وغیرہ پر ہوتا ہے ۔

۱۳

قرآنی متن کی دائمیت

ہر دور میں انسان نے قرآئی آیات کی تشریح اور تفہیم اپنے دور کے علم کی روشنی میں کی ۔ انسانی علم کے

کے ارتقا کے ساتھ ساتھ اس کی قرآن فہمی کی صلاحیتوں میں بھی اضافہ ہوا یہاں پر یا قابل ذکر ہے کہ صدیوں تک قرآن کی تفسیر کرنے والے بعض آیات کی صحیح توضیح سننے سے قاصر رہے۔ بہت سی آیات ایسی ہیں جن کا صحیح طور پر ادراک انسان کی خلائی تحقیق کے بعد ہو سکا۔ اس کے باوجو د بہت سی ایسی آیات ہیں جن کا ظاہری ترجمہ تو کیا جا سکتا ہے لیکن ان کی پوشیدہ حقیقتیں ابھی نسان کے علم میں نہیں آسکی ہیں ۔

اس سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ قرآن کے حقا‏‏‏ئق کی کما حقہ ترجمانی کرنے کے لیے صرف عربی زبان کا جانا ہی کافی نہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ طبیعی علوم سے بھی ایک گونہ واقفیت بھی ضروری ہے جس کے بغیر تفسیر منقولات تک محدود رہے گی اورمعقولات تک رسائی ناممکن ہوگی۔ قرآن کے الفاظ اور اس کا متن دا‏‏‏ئمیت کا حاصل ہے اس کے مطالب میں کشادگی اور بلندی کی ایسی صلاحیت موجود ہے کہ ہر دور کے انسان کے علمی انکشافات کی راہنمائی کر سکیں۔

لیکن مشکل یہ ہے کہ بعضی اسکالر سائنسی علوم کی تفصیلات قرآن میں تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ قرآن سائنس کی درسی کتاب نہیں ہے۔

یہ کتاب روشنی اور رہنمائی کی کتاب ہے یہ ایک ضابطہ حیات ہے اس میں شک نہیں کئی مقامات پر قرآن فطرت کے بعض بنیادی اصولوں اور سا‏‏‏ئنسی حقیقتوں کے متعلق اپنے پڑھنے والوں کے لئے راہ بھی معین کرتی ہے۔ عام معنوں میں درسی کتاب نہ ہونے کے باوجود اس کا سب سے بڑا وصف یہ ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طاقت عظمت اور ربوبیت کے ساتھ ساتھ زندگی سے متعلق ایک مربوط اور مکمل نظریہ کوسمجھنے میں انسان کی راہنما‏‏‏ئی کرتی ہے ۔

۱۴

قرآن اور علم

علماء نے ہم کو بتایا ہے کہ قرآن فطرت کے مشاہدہ کرنے اور عوامل فطرت پرتحقیق و جستجو کی مسلسل دعوت دیتا ہے۔ حدیث نبوی کے مطابق علم کا حصول ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے اوراس سلسلہ میں آنحضرت کی مشہور حدیث " اے رب میرے علم میں اضافہ کر" مسلم معاشرہ کے لئے علم کی اہمیت کی دلیل ہے ۔ اس چیز کومورس بکا‏‏‏ئی نے اس طرح بیان کیا ہے کہ علم کو محفوظ کرنے کے لئے قلم ضروری ہے۔ قرآن میں سب سے پہلی نازل ہونے والی سورۃ اقرا میں قلم کا تذکرہ شامل کر کے اس کی اہمیت کی وضاحت کی گئی ہے اور قلم کو علم کی علامت( Symbol ) بنایا۔

سائنس کی ترقی کے ساتھ سمعی بصری آلات اور کمپیوٹر کے ذریعہ لکھنے کے طریقوں کی ایجاد نے اس قلم کو مختلف شکلیں دی ہيں۔

۱۵

سا‏‏‏ئنسی تحقیق کی بنیاد

حسب ذیل چھ اصول سائنی تحقیق کے عمل کی بنیاد ہیں :-

( ۱) مشابده

( ۲) مفروضه

( ۳) تجربه

( ۴) ثبوت یا عدم ثبوت –

( ۵) استخراج یا استنباط اور

( ۶) مزید تجربات

قرآن میں حضرت ابراہیم کے واقعہ میں اس مسلسل غور اور مشاہدہ کی بہترین مثال ملتی ہے۔

حضرت ابراہیم نے چمکتے ستارے کو دیکھا تو کہا کہ یہ میرا خدا ہے

لیکن جب ستارہ ڈوب گیا تو کہا کہ میں ڈوبنے والے دوست نہیں رکھتا پھرانہوں نے نکلتے ہو‏‏‏ئے چاند کو دیکھا تو کہاکہ:

یہ میرا رب ہے چاند کے پھپ جانے کے بعد سورج اور اس کی جسامت کی نسب سے بار بار اپنے مفروضہ کی تصحیح کرتے ہوئے حضرت ابراہم کو دکھایا گیا ہے ۔

غور سے بین اسطور دیکھیں تو اس تمام مکالمہ میں مندرجہ بالا تحقیقی اصولوں کی جھلک نظر آئے گی ۔

۱۶

قرآن کے سائنسی مزاج کے مظاہر

ڈاکٹر غالم جیلانی برق نے تراکے سا‏‏‏ئنسی مزاج کی تشر یح میں بڑا قابل قد ر انکشاف کیاہے ۔

اوپر دی گئی سائنسی طریقہ کار کی بنیادوں کو انھوں نے قرآن میں تلاش کرنے کی کوشش کی ان کے مماثل معانی رکھنے والے قرافی الفاظ کے ایک ذخیرہ کی نشاندہی کی ہے ۔

ان کی تحقیق کے مطابق قرآن میں حسب ذیل الفاظ اور ان کے مشتقات تحقیق و تجسس کی علامت قرار پاتے ہیں ۔

را دیکھنا ۲۹۸ بار یرون

نظر مشاہدہ کرنا ۱۳۰ بار ینظرون

تعقل سمجھنا۔ توجیہ کرنا ۵۱ بار تعقلون

تدبر سوچنا ۴۴ بار یتدبرون

تفقہ سمجھنا ۲۸ بار یفقھون

تفکر خیال کرنا ۱۸ بار یتفکرون

اس کے علاوہ انھوں نے فطری مظاہرات سے متعلق آیات کی تعداد ۲۰۰ بتائی ہے۔

اس طرح تقریبا ۸۰۰ مقامات پر قرآن کے اس سا‏‏‏ئنسی مزاج کی عکاسی ہوتی ہے ۔

سا‏‏‏ئنسی تحقیق کے معادل مندرجہ بالا الفاظ کے حوالہ سے ایک اہم اور دلچسپ انکشاف بھی قابل غور ہے ۔

تقریبا نصف سے زائد حوالوں کا تعلق دیکھنے سے ہے جو سائنسی اصلاح میں مشاہدات، تجربات اور پیمائش کے لئے ضروری ہے۔ سوچنے اور سمجھنے سے متعلق آیتوں کی تعدادکم ہے ۔

عام سائنسی طریق وتحقیق میں بھی مشاہدہ ( Observation ) کرنے میں اور اس کی بنیاد پر نظریہ اخر کرتے ( Theorization ) میں بھی تقریبا وقت کا اتنا ہی تناسب ہوتا ہے ۔

۱۷

قرآن کی الہامی ترتیب

معانی کے اعتبار سے قرانی متن کے سائنسی مزاج کے علاوہ جس کی اوپر تشریح کی گئی ہے اس کے متن کی ترتیب بھی حیران کن ہے ۔

اس سلسلہ میں

بسم الله الرحمن الرحیم

کے ۱۹ حروف مقطعات کے اعداد، تعداد اور ترتیب میں ۱۹ کا عمل دخل میں ان کے ۱۱۴ سورتوں میں سورہ تو بہ میں بسم اللہ کا نہ ہونا اور اس کی تلافی سورہ جن کے متن میں بسم اللہ کی شمولیت سے کرنا ، یہ تمام مظاہر اس کتاب کی منظم ترتیب کا بین الهامی ثبوت ہیں۔

یہاں ۱۹ کے ہند سے کے حوالہ سے اتنا عرض کرنا ہے کہ قرآن میں اس ہند سے کے متعلق سے ایک علحدہ تحقیق کی جا چکی ہے جو اس مضمون کے احاطہ سے باہر ہے ۔

موجودہ دور میں کمپوٹر کی زبان میں ہ کہنا شاید بیجا نہ ہو گا یہ ایک دکھائی نہ دینے والے کمپیوٹر کی یادداشت ( Memory ) میں محفوظ مواد کی طرح ہے جہاں ہر لفظ کا مقام معین ہے جو ظاہری طور پر بیس سال ( ۱۰ سال قبل ہجرت اور۰ اسال بعدہجرت) کے عرصہ میں اس یادداشت سے نکل کر اس وقت کے انسانوں تک آنحضرت ص کے ذریعہ پہنچا ہے ۔

۱۸

عقیدہ توحید اور تسخیر کائنات

انسان کو اللہ نے اشرف المخلوقات بنایا ہے اور کائنات کی خلقت کی ایک وجہ یہ بھی بتائی جاتی ہے یہ انسان کے استفادہ کے لئے بنائی گئی ہے ۔ اس کائنات کے ظاہری اور چھپے ہوئے رازوں کو جاننے اور سمجھنے کے لئے مسلسل تحقیق اور تجسس اور تجربات کی ضرورت ہے جو کہ سائنس کا مزاج ہے۔

اس نام کے ابتدائی دور میں مسلمان سائنسدانوں نے ہر کامیابیاں حاصل کیں وہ قرآن کی مرہون منت ہیں جس میں کا‏‏‏ئنات کے مختلف عوامل کے بارے میں واضح اور مخفی اشارات موجود ہیں (اسکی تفصیل مضمون کے آخر میں دی گئی ہے )

ان حقا‏‏‏ئق کی روشنی میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ قرآن ہی وہ کتا ب ہے جس نے دنیا میں سائنسی مزاج پیدا کرنے میں سب سے زیادہ حصہ لیا ہے ۔

اسلام سے پہلے انسان کی رسائی اس شعبہ فن تک نہ ہوسکی جس کو آج سائنس کا مرہون منت کہا جاتا ہے ۔ اس کی سب سے سادہ وجہ یہ تھی کہ اسلام سے پہلے انسانیت پر شکر کا غلبہ تھا ۔

یہی شرک عالم فطرت پر تحقیق کرنے میں مانع تھا مشرک کے لئے فطرت کے مظاہر پوچنے کی چیزیں تھيں جبکہ قران ان مظاہر کی تحقیق و تسخیر کاحکم دیتا ہے۔ فطرت کے خزانے تخلیق کے روز اول ہی سے زمین کے اندر اور باہر موجود تھے اور انسانی ذہن کی صلاحیتیں بھي روز اول سے ہی پا‏‏‏ئی جاتی ہیں ۔ مگر یہ عقیدہ توحید کا نتیجہ تھا کہ مسلمان سا‏‏‏ئنسدانوں نے کا‏‏‏ئنات کو پوجنے کے تقدس کو ختم کیا اور اس کے وسائل کے استعمال ( Exploitation ) کیا جس کی بدولت کئی ایسی سائنسی انکشافات اور ایجادات معرض وجود میں آئیں جن میں مسلمان سائنس دانوں کا نام سر فہرست ہے ۔

ان میں چند یہ ہیں:

جابر بن حیان (کیمیا ) البیرونی (اطبیعیات ) عمر خیام الكندی (ریاضی) جاحظ دمیری ( حيوانيات) ابن الميثم ( فوٹو گرانی) ابن سینا (طب) زہراوی (سرجری) ۔ وغیرہ

۸۰۰ سال میں مسلمان سائنس کے علمبردار رہے ۔ اس کا راز قران اور احادیث کے علوم تک ان کی رسائی تھی جس کی بدولت ان کو تمام عالم میں سرفرازی عطا ہوئی ۔ اس سارے عرصہ میں مسلمانوں نے حکمت کو امات خدا وندی سمجھ کر اس کی پرورش کی۔ مگر جب وہ اس کی پرورش سے دست کش ہو گئے تو اس کو اہل یورپ نے اپنی گو دمیں لے لیا اور وہ وہاں اپنے عرصہ سے رہتی آری ہے کہ اس کی اصلی شناخت ختم ہوگئی۔ شاید آنے والے اس دور کی طرف کی آنحضرت نے یہ کہہ کر اشارہ کیا تھآ کہ " حکمت مومن کی گمشدہ دولت ہے ۔"

مقام کی اس تبدیلی کے ساتھ ساتھ سائنس کے مزاج میں بھی تبدیلی آگئی۔ جب ایک یہ مسلمانوں کے پاس تھی عقید تا مذہب پرست تھی اور اس کے ذریعہ مسلمان سائنسدانوں نے انسانیت کے فلاح و بہبود کے لئے بہت سی ایجادات کیں لیکن جب اس کی فطرت بدل گئی تو اس سے انسان کی نسل کشی کا بھی کام لیا گیا۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ قرانی تعلیمات کے لحاظ سے ہر کام میں علت اور معلول( ( Cause and effect کے علاوہ اس کی غایت ( Purpose ) کا بھی اہم رول ہوتا ہے۔ لیکن چرچ کے زیر اثر تلخ تجربات کی بنا پر مغرب نے سائنس کو اقدار سے علیحده ( Value-neutral ) کر کے اس کو آج اس خطرناک مقام پر پہنچا دیا کہ آج انسان کے پاس ایسے آلات اور ہتھیار اور پر وسس ہیں جو اگر بغیرتد بر اور تعقل کے استعمال کئے جائیں تو انسانیت کو کرہ ارض سے نیست و نابود کرنے کے لئے کافی ہیں ۔

۱۹

حاصلِ کلام

آج کا دور اپنے وسیع تر معنوں میں سائنسی دور ہے ۔ مشاہدہ تجربہ کا جو میلان سائنس نے دیا ہے وہ قرآنی اصول ہے۔ قرآن اور سائنس میں جو ربط و تعلق ہے وہ مصنوع سے صانع تک رسائی کا طریقہ ہے۔

سبب اور اثر کے اس تصویر میں قرآن اور سا‏‏‏ئنس میں کوئی تضاد نہیں ہے بلکہ اس کی مکمل ہم آہنگی بعض وقت حیران کن ہوتی ہے اور لا شعوری طور پر انسان سائنسی حقائق نظریات کی تائید و توثیق کےلئے آیات قرآنی کو بنیاد بناتا ہے ۔

تجسس اور تحقیق کی طرف جو کہ سائنس کا خاصہ ہے :

قرآن مسلسل دعوت دیتا ہے ۔ کائنات اور قدرتی مظاہر سے متعلق علوم کی تلاش و اکتساب ایک مومن کے عقیدہ کو مزید پختہ کرتے ہیں۔ اور دہ بے اختیار کہتا ہےکہ اے خدا تو نے اس کائنات کو بغیر غایت کےپیدا نہیں کیا ۔

سائنس خود مقصد نہیں بلکہ ایک راستہ ہے جس کے ذریعہ ہم انسان اور انسان کے درمیان ؛ انسان اور خدا کے درمیان اور ہماری اطراف کی دنیا کے ساتھ ہمارے تعلقات سے آگاہ ہوتے ہیں۔

زندگی کا یہ عمل اس ساری دنیا کے ساتھ ختم نہیں ہوجاتا بلکہ اس کا تسلسل جاری رہتا ہے جو بالاخر خالق کے سامنے قابل احتساب ہوتا ہے۔ احتساب کا یہ خیال ہی انسان کو محتاط رویہ اختیار کرنے پر مجبور کرتا ہے ۔

۲۰