تدریسی مقاصد کی تدوین
تعارف
یہ ضروری ہے کہ تعلیم کے مقاص ( Learning Objectives ) واضع الفاظ میں اس طرح بیان کئے جائیں کہ تعلیم و تدریس کی غرض دغایت بالکل واضح ہو جائے تا کہ اساتذہ طلباء اور اجیر کے لئے زیادہ سے زیادہ افادیت کا باعث ہوا۔
یہ طریقہ فکر اس مفروضہ پر بنی ہے کہ تدریسی عمل اور ساتھ ساتھ امتحان کو بھی مؤثر ہونے کے لئے تعلیم کے ماحصل ( Out-Come ) کا بالکل واضح تصور ہونا چاہیے ۔
ٹکنیکی تعلیم کے واضح مقاصد اور ان کے حصول کے لئے اساتذہ کو تدریسی حکمت عملیوں کو وضع کرنے میں اور طلباء پر یہ امر واضح کرنے میں کہ ان سے کیا توقعات وابستہ ہیں مفید ثابت ہوتے ہیں ۔ اس طرح تدریسی مقاصد درس کے ختم ہونے والے تعلیمی ماحصل کی نشاندہی کرتے ہیں ۔
۲۔ تدریسی مقاصد Instructional objectives
تدریسی مقاصد وہ بیان ہے جو کہ تعلیم کے اختتام پر حاصل ہونے والے مطلوبہ تعلیمی ما حصل کی طرف نشاندہی کرتا اور تدریس کے طریقوں؛ حکمت عملیوں اور کاروائیوں کی مناسب طور پر منصوبہ بندی کرنے اور تدریس کورو بہ عمل لانے اور انکے موثر ہونے کی جانچ کرنے میں استاد کی راہنمائی کرتا ہے ۔
مصنف : جناب محبوب الہی ملک
مترجم میر محمد علی ۔
۳۔ تدریسی مقاصد کے فوائد
i تعلیمی پلان کے اغراض کی وضاحت کرتے ہیں ۔
ii ان کے حصول کے لئے استاد ومناسب قدم اٹھانے یا حکمت عملی اختیار کرنے میں مدد دیتے ہیں ۔
iii طلبا ءکو یہ جانے میں مدد دیتے ہیں کہ تعلیمی پروگرام کے ختم بران سے کیا متوقع ہے
iv نظام تعلیم کی پیداوار کو جانچنے میں اساتذہ انتظامیہ اور اجیر کی مدد کرتے ہیں ۔
v تدریس کو بہتر بناتے ہیں
۴- تدریسی مقاصد کے حسب ذیل کمزور پہلو بھی ہیں۔
(ا) ۔ تعلیمی اصول کی بالکلیہ صحیح پیش گوئی نہیں کی جا سکتی ۔
(ب )۔صحیح کیفیتوں ( Behaviour ) کے تعین کے امکانات تدرسی مضمون پر منحصر ہوتے ہیں بعض مضامین اس کے اہل نہیں ہوتے کہ صحیح تعین کیا جا سکے جبکہ بعض کسی حد تک ہوتے ہیں۔
(ج)۔ بعض حالات میں مقاصد صرف فیصلہ کی اساس ( Criteria ) کے طور پر استعمال ہو سکتے ہیں لیکن ان کو نا پینے کے معیار Standard of Measurement )))کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
(د)۔ عمومی ( General ) اور خصوصی ( Specific ) مقاصد کو تشخیص ( Specificity ) کی مناسب سطح پر لکھنا مشکل ہے بعض اوقات یہ اتنے زیادہ ہو جاتے ہیں ان کو لکھنے اور پڑھانے میں کافی وقت صرف ہوتا ہے۔
(ہ) ۔ ایک پہلو یہ بھی ہے کہ مقاصد کو اتنی غیر ضروری طوالت دی جاتی ہے کہ وہ بہت چھوٹے چھوٹے بن جاتے ہیں اور تدریس کی پہلی سطح پر مرکوز ہوجاتے ہیں ۔
(و ) ۔ مقاصد کا اعتبار مشکوک ہو جاتا ہے ۔
۵۔ با معنی مقاصد کی خصوصیات :-
تعلیم کے اغراض و مقاصد کی وضاحت مختلف سطحوں پر کی جاتی ہے۔
۱. قومی سطح پر مقاصد ملک کی سماجی اقتصادی ضروریات اور فنی ترقیات سے مطمئن ہوتے ہیں ۔
۲. اداروں کی سطح پر مقاصد ادارہ کے محل وقوع مقامی ضرورتوں اور دستیاب وسائل پر منحصر ہوتے ہیں ۔
۳. کسی مضمون کی سطح پر مقاصد ان فرائض اور کارکردگی پر منحصر ہوتے ہیں جس کی عملی میدان میں ضرورت ہوتی ہے اس طرح ضروری ہے کہ وسیع حلقہ کو تعلیم کے چھوٹے ہدف میں تقسیم کیا جائے پھر ان ہدف کو تدریس کے عمومی اور خصوصی مقاصد میں تقسیم کیاجائے تاکہ اساتذہ اور طلباء کی ضروریات پوری ہو سکیں ۔
۶۔ تدریسی مقاصد لکھنے کے طریقے
تدریسی مقاصد مطلوبہ تعلیمی ماحصل کے پیرایہ میں لکھے جانے چاہئے جو کہ تدریس کے اختتام پر متوقع ہیں اور ان کا علم ہر ایک میں طلباء اساتذہ اور ممتحنین کو یکساں ہونا چاہیئے ۔
تدریسی مقاصد بغیر کسی ابہام کے مطلب سمجھائیں۔
حسب ذیل بیان کرده تدریسی مقصد پر غور کیجئے ۔
درس کے ختم پرطالب علم نیوٹن کے کلیات حرکت سمجھے گا اگرچہ یہ مقصد تعلیمی ماحصل کے پیرایہ میں بیان کیاگیا ہے لیکن لفظ سمجھنا ؛ مقصد کی وضاحت نہیں کرتا ۔ سمجھنا کے ہم معنی اور مماثل مختلف فعل ہیں ۔ جیسے جاننا ؛ یقین کرنا ؛ تسلیم کرنا اور سوچنا وغیرہ جن کی مختلف تعبیریں ہو سکتی ہیں ۔
مقصد لکھتے وقت ایسے فعل کو استعمال کر چاہیے جو ایک قابل مشاہدہ کیفیت Observable Behaviour )) کی نشاندی کرسکے۔ دوسرے الفاظ میں ہم اس کی وضاحت یوں کریں کہ طالب علم کیا کرنے کا اہل ہوگا یا طالب علم میں کونسی صلاحیت پیدا ہوگی جو ایک تیسر آدمی مشاہد کر سکتا ہے۔ مثال کے طور پر ہم یہ مان لیں کہ متذکرہ مثال میں طالب علم حسب ذیل کام کر سکے تو ہم یہ قبول کریں گے کہ وہ نیوٹن کے کلیات حرکت سمجھتا ہے ۔
۱. نیوشن کے کلیات کو اپنے الفاظ میں بیان کرے ۔
۲. مثالیں دے جہاں ہر ایک کلیہ کا اطلاق ہوتا ہے۔
۳. اسی صورتوں کے درمیان تمیز کر سکے جن میں ہر ایک کلیہ کا اطلاق ہوتا ہے ۔
فعل مثلاً بیان کرنا، تعریف کرنا لکھنا، شناخت کرنا، تقسیم کرنا ؛شکل بنانا ، وضاحت کرنا تمیز کرنا اسے عمل کی وضاحت کرتے ہیں جو قابل مشاہدہ ہیں اور کیفیتی مقاصد کو لکھنے میں استعمال کر سکتے ہیں ۔
فعل جیسے سمجھنا سوچنا، چا ہنا قابل مشاہدہ عمل کی وضاحت نہیں رہے اوراس وجہ سے کیفیتی مقاصد میں استعمال نہیں ہو سکتے ۔
غیر مہم اور قابل مشاہدہ کیفیتی مقاصد کو بیان کرنے کے لئے حسب ذیل دو طریقے ہیں ۔
- تمام تدریسی مقاصد کو ایسے الفاظ استعمال کرتے ہوئے لکھیں وصرف مخصوص قابل مشاہدہ کیفیتوں کی بطور مطلوبہ تعلیمی ماحصل کے طور پر تسلیم کیا جاسکتا ہو۔
اول الذكر طريقہ میجر ( Majer ) کا پسندیدہ ہے جب کہ این ای گرو نلنڈ ( Gronlund ) کے ہاں موخر الذکر قابل ترجیح ہے ۔
فنی تعلیم کے اساتذہ کے لئے دونوں طریق مفید ہیں۔ کیونکہ بعض موقعوں پر میجر کی طرز پر مقاصد کو لکھنا مناسب ہوتا ہے اور دیگر موقعوں پر ہمیں گرونلنڈ کی تقلیدکرنی پڑتی ہے ۔
۷۔ میجر کی طرز پر لکھے ہوئے تدریسی مقاصد کو واضح کرنے کے لئے اس میں تین عناصرضروری ہیں ۔
۱. حتمی کیفیت( Terminable Behaviour ) جس کو طالبعلم کو تدریس کی تکمیل پر ظاہر کرنا ہوتا ہے ۔
۲. وہ شرائط جن کے تحت حتمی کیفیت متوقع ہے۔
۳. قابل قبول کارکردگی کی اساس ۔
ان خطوط پر لکھتے ہوئے تدریسی مقاصد حسب ذیل ہوں گے ۔
(۱)- طالب علم ایک ۱۰ اسپی طاقت کی ڈی سی موٹر کو جس میں صرف ایک نقص ہے ۔ معیاری ٹول کٹ اور حوالہ جات کی مدد سے ۴۵ منٹ کے اندر درست کرنے کے قابل ہونا چاہیئے "۔
" ایک نقص درست کرنا" - مطلوبہ کیفیت کی نشاندہی کرتا ہے۔ "ڈی سی موٹر اوزار اور حوالہ جات "شرائط بتاتے ہیں ۔
" ۴۵ منٹ کے اندر قابل قبول کارکردگی کی اس کی نشاندہی کرتا ہے۔
(ب)۔ " طالب علم کو اگر ایک نامکمل دھاتی کاسٹنگ دی جائے تو دی گئی ڈرائننگ کے تصریحات کے مطابق سطح کو منشین کرنے کے قابل ہونا چاہیے"۔
میجر کا طریق فکر بنیادی طور پر پروگرامڈ کورس کے لئے ہے جس میں ہم ایک خصوصی کیفیت کی نشاندہی کرتے ہیں اور اس کی خصوصی کیفیت کا تعلیم دیتے ہیں اور پھر یہ جانتے ہیں کہ آیا طالب علم نے اس خصوصی کیفیت کی مہارت حاصل
کرلی ہے۔؟
ٹکنیشن کی تعلیم کے سلسلے میں بعض موقع ایسے ہوسکتے ہیں جب کہ ہم چند آسان مخصوص کیفیتوں کی تعلیم دینا چاہتے ہوں جہاں میجر کی طرز پر لکھے ہوئے مقاصد کارآمد ہو سکتے ہیں ۔
۸۔ گرونلنڈ کی طرز لکھے ہوئے تدریسی مقاصد دو سطح پر لکھے جانے چاہئیں جو یہ ہیں :
الف )- عمومی مقاصد ( General Objectives )
ب)- خصوصی مقاصد ( Specific Objectives )
گرو نلنڈ مزید یہ تجویز کرتا ہے کہ تدریس عمومی مقاصد کے حصول پر مرکوز ہونی چاہیئے جبکہ خصوصی مقاصد کی جان امتحان کی بنیاد ہونی چاہئے۔
ان خطوط پر لکھتے ہوئے تدریسی مقاصد حسب ذیل طرح کے ہوتے ہیں۔
الف ) ۔عمومی مقصد :- نیوٹن کے کلیات کو سمجھنا
خصوصی مقاصد :
۱. نیوٹن کے کلیات بیان کیجئے
۲. قوت ، معیار حرکت، عمل رو ، رد عمل کی تعریف کیجئے ۔
۳. توت کی اکائی کی تشریح کیجئے۔
۴. مساوات F=ma کو اخذ کیجئے۔
(ب)۔ عمومی مقصد - آدم کا کلیہ سمجھنا
خصوصی مقاصد
۱. آدم کا کلیہ بیان کیجئے ۔
۲. آدم کاکے کلیہ کی ریاضی اور نقشہ کی مدد سے وضاحت کیلئے ۔
۳. سادہ سرکٹ پر آوم کے کلیہ کا اطلاق کیجئے ۔
ایسے الفاظ مثلا جانتا سمجھنا چاہتا جو کہ کیفیاتی مقاصد کے بیان کرنے کے لئے ناموزوں ہیں عمومی مقاصد کو بیان کرنے میں استعمال کئے جا سکتے ہیں ۔ اس طرح عمومی مقاصدتعلیم کے ایک عمومی ماحصل کی تشریح کرتا ہے جو کہ از خود قابل مشاہدہ ہیں
ہے لیکن خصوصی مقاصد کی ایسی مثالوں کے ذریعہ اس کی مزید وضاحت کی جاتی ہے۔ جس میں ایسے افعال استعمال کئے جاتے ہیں جو قابل مشاہدہ کیفیت بیان کرتے ہوں۔
۹۔ عمومی اور خصوصی مقاصد لکھنے کے رہنما خطوط
۱ ۔ عمومی مقاصد لکھنے کے لئے ۔
۱. جملہ کو جانتا سمجھنا چاہتا جیسے فعل پر ختم کیجئے ۔
۲. استاد عمل یا تعلیمی عمل کے بجائے طالب علم کی کارکردگی بیان کیجئے۔
۳. طالب علم کی مجموعی طور پر ( Overall ) حتمی کیفیت بیان کیجئے ۔
۴. مطلوبہ تعلیمی ماحصل کی عمومی سطح کو بیان کیجئے ۔
۲۔ خصوصی مقاصد لکھنے کے لئے۔
۱. جملہ کو ایسے فعل پر ختم کیجے جو ایک قاہل مشاہدہ کیفیت کی نشاندی کرتا ہو۔ (وضاحت کیجئے، تعریف کیجئے جوڑیے، تمیز کیجئے فرق بتا ہے۔
۲. ان حالات کو بیان کیجئے، جن میں کیفیت کا مشاہدہ کیا جائے گا اور اس کے متوقع معیار کو بیان کیجئے ۔
۳. مرکب عناصر کو شامل کیجئے ( ( Critical Thinking تنقیدی جائزہ)
۴. ہر ایک عمومی مقصد کے تحت کافی تعداد میں مقاصد لکھے تاکہ عمومی مقصدکو حاصل کرنے میں طالب علم کی کیفیت کی وضاحت ہو سکے ۔
۵. تدریس کے ایک ما حصل کے لئے ایک عمومی مقصد لکھے
۶. خصوصی مقاصد کو اس طرت ترتیب دیجئے کہ ایک تدریسی مقصد دوسرےکے لئے مشروط ہو جاتا ہے۔
۱۰۔ تدریسی مقاصد کے احاطے : ( Domains )
بعض تدریسی مقاصد ذہنی صلاحیتوں کی جانب اشارہ کرتے ہیں ۔
بعض کا تعلق جسمانی یا عملی ہنر مندی سے ہوتا ہے اور بعض طلبا کے رویہ اور خواہشات بتاتے ہیں ۔
ان میں سے پر ایک میں معلومات ( Knowledge ) سرمندی ( Skill ) اور رویہ ( Attitude ) کو ٹیکنیشن میں مناسب سطح پر فروغ دینا ہوتا ہے تا کہ ایک متناسب شخصیت بن سکے ۔
بنجامن بلوم کے نقطہ نظر سے تدریسی مقاعد کو تین احاطوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے ۔
۱. معلوماتی احاطہ ( Cognitive Domains ) واقعات اور اطلاعات کا جاننا ۔)
۲. عملی حاطه ( Psychomoter Domains (جسمانی طور پر کام بجا لانا )
۳. پسندیدگی کا احاطہ ( Affective Domains ) ذاتی پسند کا اظہار کرنا )
ہر ایک احاطہ کی مثالیں حسب ذیل ہیں ۔
معلوماتی احاطہ :- کسی اصطلاح کو بیان کرنا۔ کسی واقعہ کو بیان کرنا کسی عمل کی تشریح کرنا کسی ڈرائنگ کو پڑھنا۔
عملی احاطہ : خط ٹائپ کرنا ۔ گاڑی چلانا دیوار بنانا وائرنگ کرنا ڈرائنگ بنانا ۔
پسندیدگی کا احاطہ : حفاظتی تدابیر کی فکر کرنا ۔ ذمہ داری قبول کرنا ۔اخلاق سے پیش آنا ۔
یہ جانا چاہیے کہ صرف چند مقاصد ایسے ہوتے ہیں جو کہ صرف معلوماتی عملی یا پسندیدگی کے احاطوں میں ہوتے ہیں ۔
کسی مقصد کی مطلوبہ کیفیت پر اس کا دار و مدار ہوتا ہےکہ یہ فیصلہ کیا جاسکےکہ وہ بنیادی طور پر کس احاطہ میں شمار ہوتا ہے۔
اگر بنیادی طور پر کسی مضمون کی معلومات سے متعلق ہے تو وہ معلوماتی ہوگا اور اگر بنیادی طور پر ہنر کے فروغ سے ہے تو و عملی ہوگا اور اگرده احساسات ادر رویہ سے متعلق ہو تو اس کو پسندیدگی کے زمرہ میں شمار کریں گے۔
۱۱۔ مقاصد کے سطحوں کی درجہ بندی ( Taxonomic Levels of Objectives )
تدریسی مقاصد بنیادی طور پر معلوماتی عملی اور پسندیدگی کے احاطوں میں شمار کے جاتے ہیں۔ لیکن ان تین احاطوں میں سے ہر ایک میں کارکردگی کے مدارح ہوتے ہیں جو آسان سے مشکل تک پھیلے ہوئے ہیں۔ کارکردگی کے ان مختلف مدارج کو سلسلہ وار ترتیب دیا جاتا ہے۔
تقسیم کے اس تمام نظام کو جس میں تینوں احاطوں میں سے ہر ایک مدارج کا سلسلہ وار تعین کیا جاتا ہے درجہ بندی ( Taxonomy ) کہتے ہیں ۔
(۱)۔ معلوماتی احاطه مدارج حسب ذیل ہے ( Levels of Cognitive Domains )
۱. علم ( Knowledge ) (واقعات کو یاد رکھنا اور پہچاننا )
۲. سمجھ ( Comprehension ) لکھ دینا، مختصر الفاظ میں بیان کرنا )
۳. اطلاق Application معلومات کاکسی دوسری حالت میں استعمال کود
۴. تجز یہ ( Analysis ) کل کو حصوں میں تقسیم کرنا )
۵. ترکیب ( Synthesis ) حصوں کونئےسرے سے جمع کرنا )
۶. جانچ ( Evaluation ) ( فیصلہ صادر کرنا)
ٹکنیشن کی تعلیم سطح پر تدریس میں ہم تجزیہ ترکیب اور جانچ کے مدارج کو یکجا کر کے ان کو اطلاق سے اوپر کا درجہ کہتے ہیں۔
(۲)۔ عملی احاطہ کے مدان حسب ذیل ہیں ۔ ( Levels of Psycomoter Domains )
۱. نقالی (Imitation) ) کام کا مشاہدہ کرنا اور اس کو دوبارہ کرنے کی کوشش کریا ۔
۲. اتباع ( Maniplation ) ہدایات کے بموجب کام کرنا )
۳. صحت Precision ) (کام کو دوبارہ صحت کے ساتھ بجا لانا)
۴. تسلسل ( Articulation ) (ایک سے زیادہ صلاحیتوں کو ترتیب سے بجا لانا ۔
۵. استقلال ( Naturalisation ) ایک سے زیادہ صلاحیتوں کو از خود بجا لانا –
(۳)۔پسندیدگی کے احاطہ کے مدارج ( Levels of Affective Domains )
(۱) قبول کرنا ( Receiving ) ( خاموشی سے سننا )
(۲) جواب دینا ( Responding ) کسی صورت حال پر رد عمل ظاہر کرنا)
(۳) قدر معین کرتا ( Valuing ) یقین کے مطابق رویہ)
(۴) منظم کرنا ( organising ) اقدار سے لگاؤ دکھانا)
(۵) تخصیص کرنا ( Characterising ) ( اقدار کو اپنا نا )
تدریسی مقاصد کی مندرجہ بالا درجہ بندی کوتدریسی عمل میں حسب ذیل طریقوں سے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
i تدریسی مقاصد کو اس طرح ترتیب دینا تعلیم علم سے نا معلوم اور آسان سے مشکل کی جانب ہو۔
ii کسی احاطہ میں مقاصد کو تمام مطلوبہ مدارج پر شامل کرنا ۔ ایسا کرنے سے مختلف سطحوں پر مضمون کے اغراض کو مناسب اہمیت دی جا سکتی ہے۔
iii مناسب امتحانی سوالات بنانا تا کہ معینہ سطح پر کیفیت کی واضح ہونے والی مطلوبه بلندی کی پیمائش ہو سکے۔
۱۲۔ مختلف احاطوں میں مقاصد کی درجہ بندی کے نمونے
احاطہ
DOMAINS مثالی فعل
ILLUSTRATIVE VERB خصوصی مقاصد کے نمونے
SAMPLES OF SPECIFIC OBJECTIVE
معلوما تی علم
علم تعریف کرنا ۔ نام بنانا ۔ یاد کرنا ۔ گننا روشنی کی تعریف کیجئے ۔ آدم کا کلیہ بیان کرنا۔
تانبہ کے بھرت alloy کے نام بتائیں
سمجھ مقالہ کرنا ۔ تمییز کرنا۔ حل کرنا ۔ بحث کرنا حرارت اور تپش میں فرق بیان کیجئے
تعادل equilibirium كي تشريح كيجئے ۔ مشق حل کیجئے۔
تجزیہ تقسیم کرنا۔ واقف ہونا لوہے کے نمونے کے خالص ہونے کی تصدیق کرنا۔
ترکیب بنانا کسی پرزہ کو جوڑنے کے لئے ایک نئے جگ کا ڈیزائن بنائے ۔
جانچ تنقید تعمیری ستون کے فیل ہونے کے اسباب بتائے
عمل بنانا۔ جوڑنا ۔ یکجا کرنا۔ درجہ بندی کرنا ۔
ناپنا ۔ تار لگانا سولڈرجائنٹ بنانا ۔ دیوار بنانا ۔ ملگ مشین چلانا ۔ خط ٹائپ کرنا
پسندیدگی منتخب کرنا ۔ منظم کرنا۔ جواب دینا۔ رضا کارانہ کام کرنا۔ محسوس کرنا۔ حصہ لینا۔
محفوظ طریقے کا انتخاب کرنا۔ صاف ستھرے طریقے سے ٹائپ کرنا۔ دمہ داری قبول کرنا۔ باہمی مدد کرنا
۱۳۔ تصریحات کا جدول برائے پلاننگ ( Table of Specification )
کسی ایک خاص عنوان کے تحت لکھے جانے والے خصوصی مقاصد کی تعداد کا صحیح اندازه کر نامشکل ہے ۔ ایک عنوان کے مقابلے میں دوسرے عنوان کی اہمیت اورمدارج جن پر مقاصد لکھے جاتے ہیں۔ قابل غور ہوتے ہیں ۔ علاوہ ازیں مقاصد لکھتے وقت اس بات کا خطرہ ہوتا ہے کہ حیثیت مجموعی پورے مضمون کی بجائے عنوانات کو ایک دوسرے سے علحدگی میں غور کیا جاتا ہے ۔ اس وقت جب کہ مقاصد لکھے جا چکے ہوں تصریحات کی جدول پر دئے پلاننگ کے ذریعہ ان مقاصد کے مدارج اور اہمیت کو جانچا جا سکتا ہے ۔
تصریحات کا جدول ایک نقشہ ہے جو کہ مضمون کے عنوانات اور ذیلی عنوان کو ترتیب دار عمودی کالم میں لکھ کر اور مطلوبہ اہلیت ( Ability ) ( علمی عملی پسندیدگی) جوکہ مضمون درجہ بندی سے متعلق ہوافقی کالم میں لکھ کر بنایا جاتا ہے۔ ضرور تا یہ ایک پلاننگ کی دستاویز ہے جو مقاصد کی تدوین اور ان کو بہتر بنانے کے لئے موزوں ثابت ہوتی ہے۔
عموما علمی احاطہ کو چار درجوں میں تقسیم کیاجاتا ہے ( علم ؛ سمجھ ؛ اطلاق ؛اور اطلاق سے اوپر ) علوم کی درجہ بندی کے اوپر تین سطحوں یعنی تجزیہ ترکیب اور جانچ کو ملاکر " اطلاق کے اوپر " درجہ بناتے ہیں۔ عمل اور پسندیدگی کے احاطوں میں درجه بندیوں کو علیحدہ علیحدہ اس جدول میں نہیں شامل کیا جاتا کیونکہ ان کا اعتبار ابھی تک معین نہیں ہو سکا ہے۔
یہ جدول اس طرح تیاز کی جاتی ہے کہ مضمون کے ہر عنوان کو ترتیب وار کالم میں لکھا جاتا ہےپھر ہر ایک عنوان کے مقابل متعلقہ اہلیت کے نیچےایک ہندسہ لکھا جاتا ہے جو مطلوب مقاصد کی تعداد کو ظاہر کرتا ہے۔
تصريحاتی جدول کی ایک مکمل مثال منسلک ہے ۔ تصریحات کا جدول برائے پلاننگ میں لکھتے ہوئے مقاصد کی کارآمدگی ( Validity ) مختلف عنوانات کی اضافی اہمیت کو متوازن کرکے کی جاتی ہے ۔ منسلکہ جدول کے تعلق سے یہ بحث کی جاسکتی ہے کہ حقیقی ضرورتوں کی بنیاد پر علمی احاطہ پرضرورت سے زیادہ اہمیت دی گئی جبکہ عملی کام کو زیادہ اہمیت دیجانی چاہئے ۔
اگر یہ بحث صحیح ہے تو علمی احاطہ کے مقاصد کو کم کر کے اور عملی کام کے مقاصد میں اضافہ کیا جاتا ہے ۔
تصریحات کی جدول میں دیئے ہوئے علمی اور پسندیدگی کے مقاصد کی تعداد کے لحاظ سے تعلقہ عنوانات اور ذیلی عنوانات کیلئے امتحانی نکتہ نظر سے نشانات مختصر کرنے کے لئے یہ جدول ایک بنیاد فراہم کرتی ہے اور اس طرح یہ تصریحات کی جدول برائے امتحانات کی تیاری میں مدد دیتی ہے۔
۱۴ - اختتام
ٹکنیشن کے نصاب کے مقاصد پروگرام کےسماجی اور اقتصادی ضرورتوں سے اوران کاموں اور کارکردگی سے مربوط ہونے چاہیں جوپروگرام کو اطمینان بخش طریقے سے مکمل کر نے والوں سے متوقع ہیں کسی نصاب کی تدوین کیلئے ضروری ہے کہ تدریسی مقاصد کو عمومی اور خصوصی سطح پر قابل مشاہدہ طرز پر بیان کئے جائیں اور اس کی وضاحت کی جائے کہ افراد سے متوقع کارکردگی کے معیارکے قابل قبول ہونے کے لئےشرائط کس قدر وسیع ہیں ۔ لیکن مقاصد کو غیر ضروری اہمیت کی جزئیات سے پاک ہونا چائیے جس کی وجہ سے تدریسی عمل غیر ضروری طور پر طویل اور ناقابل عمل ہوتا ہے ۔ مقاصد کو مختلف احاطوں میں تقسیم کرکے ان پر اچھی طرح غور کرلینا چاہیئے ۔