معیار تعلیم اور تدریسی موضوعات

معیار تعلیم اور تدریسی موضوعات0%

معیار تعلیم اور تدریسی موضوعات مؤلف:
: مصنف/ مؤلف
: مصنف/ مؤلف
زمرہ جات: زبان وادب لائبریری
صفحے: 43

معیار تعلیم اور تدریسی موضوعات

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

مؤلف: محقق ڈاکٹر میر محمد علی
: مصنف/ مؤلف
: مصنف/ مؤلف
زمرہ جات: صفحے: 43
مشاہدے: 161
ڈاؤنلوڈ: 28

تبصرے:

معیار تعلیم اور تدریسی موضوعات
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 43 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 161 / ڈاؤنلوڈ: 28
سائز سائز سائز
معیار تعلیم اور تدریسی موضوعات

معیار تعلیم اور تدریسی موضوعات

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

حوالہ جات

اس مضمون کی تدوین میں حسب ذیل حوالوں سے مدد لی لی گئی ہے۔

۱- "قرآن اور سائنس " پر بین الاقوامی سمینار سن ۱۹۸۶ ء میں پڑھے گئے مقالے ۔

• حکیم محمد سعید

• ڈاکٹر سید ارتفاق علی

• ڈاکٹر نسمیہ ترمزی اور سہیل برکاتی

• ڈاکٹر حفیظ الرحمن

• مولانا طاہر مکی

• پروفیسر حسنین کاظمی

• ڈاکٹر ایم اے قاضی

• ڈاکٹر ایم اے قریشی و سید محمد جعفر

۲- مورس بکا‏‏‏ئی : "با‏‏‏ئبل قرآن اور سا‏‏‏ئنس " ناشر مجلس اتحاد المسلمین ؛کراچی سن ۱۹۷۹ ء

۳- بین الاقوامی اسلامی مجلس مذاکرہ کی رپورٹ سن ۱۹۵۸ ء۔

۴- حبیب شطی : " سائنس ا ٹکنالوجی پرمسلمانوں کی خدمات" سندھ ایجوکیشنل جرنل - شماره ۲سن ۱۹۸۴ء –

۲۱

کائنات سے متعلق قرآنی حوالے

سائنسی تحقیق کے نتیجہ میں کائنات سے متعلق بہت سی انکشافات ہوئی اور ہو رہی ہیں۔ لیکن ان میں سے اکثر کی نوعیت کے متعلق آج سے ۱۴۰۰ سال پہلے نازل ہونے والے قرآن میں تفصیل اور اشارات دے دیئے گئے ہیں ۔

چند حسب ذیل ہیں :

تخلیق کائنات سورہ رعد ۳ آیت ۲

آسمان حج ۲۲ ۷

چاند سورج نوح ۷۱ ۱۵-۱۶

ستارے طارق ۸۶ ۳۵۱

سیارے نور ۳۴ ۳۵

سورج اور چاند کے مدار یاسین ۳۶ ۴۰

رات اور دن کی ترتیب لقمان ۳۱ ۲۹

تسخیر خلا رحمن ۵۵ ۳۳

کا‏‏‏ئنا‏‏‏ت کا پھیلاو ذاریات ۵۱ ۴۷

زمین بقرہ ۲ ۲۲

پانی ؛ بخارات ؛بادل روم ۳۰ ۴۸

ہوا اعراف ۷ ۵۷

سمندر نحل ۱۶ ۱۴

سطح زمین غاشیہ ۸۸ ۱۹-۲۰

پہاڑ نازعات ۷۹ ۲۳

سایہ فرقان ۲۵ ۴۵-۴۶

زندگی کی ابتداء انبیاء ۳۱ ۳۰

نباتات انعام ۶ ۹۹

غذاؤں کی خاصیت رعد ۱۳ ۴

نباتات کی نمو لقمان ۳۱ ۱۰

جانوروں کی تولید نجم ۵۳ ۴۵-۴۶

جانوروں کے دودھ کا تجزیہ نحل ۱۶ ۶۶

انسانی تولید کا عمل نحل ۱۶ ۴

۲۲

علیم میں ضیاع

ترقی پذیر مالک کے لئے اپنے مادی اور معاشی اور انسانی وسائل کے صحیح ا ستعمال کی بیحد ضرورت ہے تا کہ قومی زندگی کے کسی بھی گوشہ میں ضیاع کو کم سے کم کیا جا سکے۔ اگر کسی ملک کی فیکٹریوں میں پیدا ہونے والے مال کا، ۵۰ فیصد ملکی یا عالمی منڈی میں رد کر دیا جائے تو ایک زبردست معاشی بحران بلکہ المیہ ہوگا جو آجر ؛ تاجر ؛ کا ریگر اور منصوبہ بندی کے ماہرین کو یکساں طور پر سوچنے پر مجبور کردے گا کہ اس نقصات کو کس طرح کم کیا جائے لیکن تعلیمی اداروں کے اعداد و شمار و امتحانی بورڈ اور یونیورسٹیوں سے آئے دن شائع ہونے والے پچاس ، چالیس اور تیس فیصد نتائج ہم میں سے کتنوں کو اسباب وعلل کی طرف متوجہ کرتے ہیں یہ تعلیم میں ضیاع کی مختلف صورتوں میں سے ایک ہے ۔

تعلیم کی دور رس اہمیت کے سلسلہ میں ایک چینی کہاوت ہے کہ اگر آپ آئندہ ایک سال کے لئے سوچ رہے ہیں تو چاول بوئیے دس سال کے لئے درخت لگائیے لیکن اگر آ‏‏‏ئندہ سو برس کے لئے منصوبہ بندی کر رہے یں تو اپنے عوام کو تعلیم دلوا‏ئیے۔

تعلیم کا مفہوم کیا ہے؟ تعلیم ایک مسلسل عمل ہے جس کے ذریعے انسان کی زیر سے انسان کی ذہنی ؛ اخلاقی روحانی اور جمالیاتی شوق کی نشو نما ہوتی ہے ۔ تعلیم بیک وقت سبب بھی ہے اور نتیجہ بھی ۔

جہاں تعلیم کا پھیلا وکسی قوم کی معاشی خوشحالی اور سماجی و سیاسی استحکام کا باعث بنتا ہے تو یہی عوامل کسی قوم کو تعلیم پر مزید خرچ کرنے کے قابل بناتے ہیں۔

اس طرح ریاضی کی زبان میں یہ ایک جیومیٹرکل سلسلہ ہے۔

اس نتیجہ کی روشنی میں تعلیم میں ضیاع بھی دور رس اثرات کا پیش خیمہ ثابت ہوتا ہے۔ اوپر بیان کی ہوئی فکٹری کی مثال کے تحت ہم بھی جانتے ہی کہ مختلف صنعتی اداروں کی کارکردگی اسٹاک اکسچینج میں ان کے شیئرز کی قیمتوں میں اضافی رد و بدل پیدا کرتی ہے اسی طرح قوموں کی برادری میں کسی ملک کے تعلیمی نظام کی افادیت اس قدر و قیمت سے تعبیر ہوتی ہےجو کسی ملک کی تعلیمی اسناد یا ڈگریوں کو حاصل ہوتی ہیں کیا ہمارا تعلیمی نظام قومی اور بین الاقوامی سطح پر معینہ معیار پر پورا اترتا ہے ۔

نفع اور نقصان کی اس بحث میں فطری طور پر ہمارے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے تعلیم کی افادیت یا بصورت دیگر تعلیم کے ضیاع کو کن اکا‏‏‏ئیوں میں ناپا جاسکتا ہے ۔

طبعیات کے ماہرین نے کسی نظام کی افادیت یا استعداد کو ناپنے کے لئے اس نظام کے ماحصل out put )) اور اس نظام میں داخل کرده عوامل ( Input ) کے دریان تناسب کو ایک معیار قرار دیا ہے ہر سا‏‏‏ئنسدان کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ اس کے ایجاد کردہ نظام کی استعداد efficiency کائی یا صد فیصد کے قریب تر ہو تا کہ نظام میں ضیاع کم سے کم ہو۔

بیسویں صدی میں تعلیم اور معاشیات کے ماہرین کی سب سے بڑی خدمت وہ تحقیقات ہیں جن کے ذریعہ تعلیم کے تعلیم کے افادیتی پہلو کو اجاگر کیا گیا ہے۔ ان ماہرین نے تعلمی وسائل کے استعمال اور تعلیم سے حاصل ہونے والے معاشی مقاصد کے تناسب کو کسی تعلیمی نظام کی استعداد سے تعبیر کیا ہے۔

اس نظام میں داخل کئے جانے والے تمام عوامل میں سہولیں مثلا عمارت ؛ساز و سامان؛ افرادی کارگزاری؛ اساتذہ سپر وا‏‏‏ئزری ؛ انتظامی عملہ اور انتظامی حکمت علی شامل ہیں۔تعلیم کے ماحصل میں معاشرہ کو تعلیمی فوا‏‏‏ئد معاشی فواعد ؛ سیاسی مقاصد کا حصول ؛ افراد میں قا‏‏‏ئدانہ صلاحیت کی پرورش ؛ طلباء کی ذہنی صلاحیت میں اضافہ حصول معاش کے مواقع اور سماجی استحکام شامل ہیں۔

ان مقاصد کے حصول میں معاشرتی ماحول طلبا کا تعلیمی رحجان ؛ اساتذہ کی صلاحیت سیاسی اور سماجی اثرات بڑی حد تک اثرانداز ہوتے ہیں ۔

اس طرح یہ کہا جا سکتا ہے کہ کسی تعلیمی نظام میں کارگر عوامل اور اس سے حاصل ہونے والے فوائد اور مقاصد میں تفاوت تعلیم میں ضیاع کی نشاندہی کرتے ہیں ۔

لیکن اس کو صحیح طورپر ناپنا ایک مشکل عمل ہے کیونکہ ان میں سے بعض ناپنے کی عام اکائیوں مثلاً روپے پیسے کے حساب سے یا مجموعی قوی پیداوار کی اکائیوں ، عوام کے معیار زندگی کے اشاریہ سے ناپی جاسکتی ہیں

لیکن بعض عوامل مثلاً کردار سازی قائدانه صلاحیت تدریسی استعداد ایسے ہیں جس کی بالراست پیمائش نہیں ہوسکتی بلکہ ان کو ان کے اثرات کی روشنی میں جانچا جا سکتا ہے ۔

۲۳

مندرجہ بالاتجزیہ کی روشنی میں تعلیم میں ضیاع کے موضوع پر با مقصد تحقیق کے دوران جن پہلوؤں کی نشاندہی کرنی ہوگی ان میں سے چند یہ ہیں :-

۱- تعلیم کے مقاصد اور نظریاتی تقاضے ۔

۲- تعلیمی نظام اور افرادی قوت کی منصوبہ بندی ۔

۳- تعلیمی وسائل اور تعلیمی استعداد میں باہمی ربط

۴- تعلیمی استعداد اور تدریسی استعداد میں رشته

۵- تعلیم میں ضیاع اور نتائج کا ربط

۶- تدریسی کتب کا معیار اور تعلیمی استعداد

۷- تعلیمی ماحول سماجی اور سیاسی اثرات

۸- تنظیمی حکمت عملی

۹- تعلیم میں ضیاع کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے مسائل کا حل ۔

ضرورت ہے کہ ہمارے ماہرین تعلیم ان تمام پہلوؤں پر سیر حاصل تحقیق کریں اور اپنے تجربہ کی روشنی میں کسی ٹھوس نتیجہ کی طرف نشاندہی کریں ۔

تعلیمی ضیاع جہاں ایک طرف ہمارے محدود معاشی وسا‏‏‏ئل پر گران بوجھ ہے تو ساتھ ساتھ احساس محرومی کا شکار نوجوان قومی ترقی میں بہت بڑی رکاوٹ ثابت ہوتے ہیں ن کو بہتر طور پر اپنے معاشی اور قومی زندگی کے دھارے میں جذب کرنے کے امکانات کا جائزہ لینا ہوگا ۔

ایسے وقت جب ہم اپنی قومی زندگی کے ہر پہلو میں اسلامی اور نظریاتی اصولوں کی بالادستی کے نہ صرف متمنی میں بلکہ اس کی عملداری کے لئے اقدامات کر رہے ہیں۔ تعلیم کے فوائد یا تعلیمی ضیاع کو محض معاشی اور مادی اکائیوں میں ناپنے کی بجائے کردارسازی تخلیقی صلاحیتوں کے ارتقاء حب الوطنی احترام محنت ، انصاف پروری ؛حساس فرض اور احکامات خداوندی کی تعمیل کے جذبہ کے معیار پر بھی پر کھنا ضروری ہے کیونکہ یہی کسی قوم کے کردار کے اشاریہ ( INDEX ) شمار کیے جاتے ہیں اور کردار کے بغیر بڑی سے بڑی مادی کامیابی نہ صرف بے سود ہوجاتی ہے بلکہ انسانیت کے لئے خطرناک بھی ہوتی ہے صحیح معاشرہ کی تشکیل کے لئے یہ دونوں لازم و ملزوم ہیں ۔

۲۴

فنی تعلیم اور صنعتی ادارو ں م ی ں تعاون

(ضرورت - مقاصد - طریقے)

ترقی پذیر ممالک میں فنی اور پیشہ ورانہ تعلیم و تربیت کی ترقی کی راہ میں حا‏‏‏ئل متعدد عوامل میں ایک اہم مسئلہ تعلیمی اداروں اور صنعتی اداروں میں تعاون کا فقدان ہے۔ اس حقیقت سے کسی کو انکار نہیں کہ فنی تعلیم کے پھیلاؤ میں سب سے مشکل مرحلہ اس کے لئے درکار وسائل فراہم کرنا ہے ۔ قومی ترقی اور بالخصوص تعلیمی ترجیحات میں فنی تعلیم اب تک وہ مقام حاصل نہیں کر سکی جس کی وہ مستحق ہے۔

فنی تعلیم کی اہمیت اور سائنس و ٹکنالوجی کے فروغ میں اس کے اہم کردار کو تسلم کرنے کے با و جود ترقی پذیر مالک میں ابتدا‏‏‏ئی اور ثانوی تعلیم او ر بعض وقت اعلی تعلیم کے دباؤ کی وجہ سے فنی تعلیم کو اسکا جا‏‏‏ئز حق نہیں مل سکا۔

بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ ترجیحات کی لمبی فہرست میں صرف بچے کھچے وسا‏‏‏ئل پر ہی فنی تعلیم کو قانع ہونا پڑتا ہے ۔ جیسا کہ آگے چل کر مضمون میں بحث کی گئی ہے فنی تعلیمی اداروں اور صنعتی اداروں میں تعاون کے نتیجہ میں نہ صرف ملکی وسائل کا بہتر استعمال ہو سکے بلکہ تعلیم کامعیار بھی بہتر ہو سکتا ہے۔ ان دونوں اداروں میں تعاون اس لئے بھی منطقی طور پر ضروری ہے کہ فنی تعلیمی ادارے صنعتوں کی ترقی کے لئے قائم کئے جاتے ہیں ۔

اس مضمون میں اس موضوع کے مختلف پہلو یعنی تعاون کی ضرورت ؛عدم تعاون کی وجوہ؛ تعاون کے مقاصد ، تعاون کے مختلف پہلو اور تعاون کے ممکنہ طریقوں پر روشنی ڈالی گئی ہے ۔

۲۵

تعاون کی ضرورت

فنی تعلیم صنعتی اداروں سے کٹ کر صحیح طور پر ترقی نہیں کر سکتی ۔ ایسی صورت میں یہ تعلیم صرف نظری اور کلاس روم کی تعلیم ہو کر رہ جاتی ہے ۔فنی تعلیم کو مؤثر بنانے کے لئے صنعتی اداروں کی ضروریات کا جاننا ضروری ہے کی کیونکہ یہی ادارے فنی اداروں سے تربیت پانے والوں کو ملازمتیں اور روزگار فراہم کرتے ہیں۔

تعلیمی اداروں اور صنعتی اداروں میں تعاون سے نہ صرف صنعتی اداروں کو فائدہ ہوا بلکہ تعلیمی اداروں کے اساتذہ طلبا اور بالعموم معاشرہ کو بھی فائدہ ہوگا ۔

۲۶

تعاون کے فقدان کی وجوہ

تعاون کے فقدان کی کئی وجوہ ہیں ۔ جن میں سے چند مندرجہ ذیل ہیں:۔

• فنی تعلیمی ادارے اور صنعتی ادارے ایک دوسرے سے بالکل علیحدہ میں مصروف عمل ہیں۔ بعض وقت یہ د دیکھ کر تعجب ہوتا ہے کہ ایک ہی علاقہ میں موجود فنی ادارہ کے پروگرام سے صنعتی ادارہ ناواقف ہوتا ہے ۔

• تعاون کے فقدان کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس تعاون کے لئے نہ تو ترغیبات ہیں اور نہ ہی محرکات ۔ اس کی اس طرح سے وضاحت کی جاسکتی ہے کہ اگر کو‏‏‏ئی فنی تعلیمی اپنے طور پر تعاون کوشش کرتابھی ہے تو اس کی پذیرائی کا کوئی مناسب طریقہ نہیں ہے۔ اسی طرح کوئی صنعتی ادارہ طلبا کو عملی تربیت کی سہولتیں ہم پہنچاتا پہنچاتا ہے تو اس کو اس کا بالر است کوئی فائدہ نہیں ملتا بلکہ بعض اوقات پریشانی کا سامنا ہوتا ہے ۔

• عام طور پر صنعتوں میں کام کرنے میں اساتذہ کا احساس برتری حائل ہوتا ہے۔ اکثر اساتذه ایسی تربیت یا مشق کو لاحاصل سمجھتے ہیں، یا پھراس کو اپنے رتبہ سے گری ہوئی شئے۔

• خود صنعتی ادارے بھی تعاون میں زیادہ دلچسپی نہیں لیتے ہیں جس کی بظاہر حسب ذیل وجوہات ہیں ۔

۱. عام طور پر صنعتی اداروں کو یہ احساس ہوتا ہے تربیت کے دوران پیداواری عمل متاثر ہوتا ہے جس کی وجہ سے پیداواری کمی ہو سکتی ہے یا اس کا معیار گر سکتا ہے ۔

۲. موجودہ تعلیمی ماحول میں پرورش پانے والے طلبا کے غیر منضبط طرزعمل کی وجہ سے صنعتی ادارے ان کو اپنے ہاں جگہ دینے سے گریز کرتے ہیں۔

۳. ٹریڈ یونین بھی طلبا کو اپنا حریف سمجھتے ہوئے ان کی تر بیت میں مزاحمت پیدا کرتے ہیں۔

۴. کسی مسابقت کی غیر موجودگی میں صنعتی ادارے معمولی تربیت یافتہ افراد پر گزارہ کرنا جانتے ہیں جبکہ صنعتی اداروں میں عملی تربیت سے بہتر کارکن پیدا ہو سکتے ہیں ۔

۵. صنعتی ترقی کی سطح بعض وقت اس کی متقاضی نہیں ہوتی کہ تربیت کی گنجائش پیدا کی جائے ۔

۲۷

فنی تعلیمی اور صنعتی اداروں میں تعاون کے مقاصد

الف۔ صنعتی تربیت صحیح قسم کے انسانی وسا‏‏‏ئل اور افرادی قوت کے افزا‏‏‏ئش کا ذریعہ بن سکتی ہے کیونکہ اس کے ذریعہ:

۱. افراد میں صحیح رویہ پیدا کیا جا سکتا ہے ۔

۲. مناسب تکنیکل صلاحیتیں پیدا کی جا سکتی ہیں ۔

۳. صنعتی تقاضوں کے مطابق مناسب تعداد میں تربیت دی جا سکتی ہے۔

۴. ٹکنالوجی کی بڑھتی ہوئی انواع کے مطابق تربیت دی جا سکتی ہے۔

ب ۔ اس کے ذریعہ صنعتی اداروں کوفنی تعلیمی پروگرام سے واقفیت حاصل ہو سکتی ہے جن میں حسب ذیل امور شامل ہیں ۔

۱. پروگرام کی ماہیت

۲. تربیت کی نوعیت

۳. تربیت یافتہ افراد کی صلاحتیں ۔

۴. فارغ التحصیل طلبا کی فوری تربیتی ضروریات ۔

۵. اداروں کے حالات کار

۶. اداروں میں استعمال ہونے والی مشینری اور اوزار کی نوعیت ۔

۷. طلبا کی جانے کا طریقہ

۸. تربیت کا معیار

۹. اساتذہ کی صلاحتیں ۔ اور

۱۰. صنعتی تربیت کی اہمیت اور حقیقی کردار

۲۸

ج ۔ باہم تعاون سے ٹیکنیشین اور ان کے تعلیمی لائحہ عمل سے متعلق افراد کو حقیقی اداروں کے مسائل سے واقفیت ہوتی ہے صنعتی اداروں کےحالات کار اور ان کے لئے درکار کارکنوں کی مطلوبہ صلاحیتوں کا علم ہوتا ہے صنعتی اداروں کی توقعات سے تعلیمی سرگرمیوں کو ہم آہنگ کرنے میں مدد ملتی ہے ۔ اور سب سے اہم صنعتی اداروں میں مروج ڈسپلن کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے تا کہ ان خطوط پر طلبا کی تربیت کی جا سکے ۔

د ۔ اس تعاون کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ اس کے ذریعہ فنی تعلیمی پروگرام میں صنعتی اداروں کی شرکت کو موثر بنایا جائے۔اس شرکت کے نتیجہ میں مختلف خیالات اور نظریوں کا تبادلہ ہوتا ہے جس سے ایک دوسرے کے مسائل کو سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے ۔

ھ۔ اس تعاون کے ذریعہ تعلیمی پروگرام کی اثر پذیری، قبولیت اور طلباءکی کارکردگی کی درجہ بندی بھی کی جاسکتی ہے اور بالآخر یہ تعاون بعض اوقات صنعتی اداروں کی طرف سے تعلیمی اداروں کی مالی امداد کی شکل بھی اختیار کر سکتا ہے ۔

۲۹

تعاون کا احاطہ کار

فنی تعلیم کے اداروں اور صنعتی اداروں کے درمیان تعاون کے لئےبے شمار گوشے ہیں۔

ان میں چند حسب ذیل ہیں۔

۱. تعلیمی نصاب کی تدوین اور نظر ثانی کرنے میں

۲. نصاب کو حالات اور ضرورت کے مطابق کرنے میں

۳. تعلیمی معیار معین کرنے میں ۔

۴. اساتذہ کی تربیت

۵. طلبا کی عملی تربیت

۶. حکومت کے محدود وسائل کی تلافی کرنا ۔

۳۰

اشتراک و تعاون کے مجوزہ طریقے

۱۔ تعلیمی اور صنعتی اداروں میں موثر رابطه ادر مراسلت پیدا کی جائے۔

• فنی تعلیمی نظامت اور اداروں میں مخصوص شعبے قائم کئے جائیں۔

• اداروں میں چند منتخبہ افراد کو صنعتی رابطہ کی ذمہ سپرد کی جائے۔

• فنی تعلیمی پروگرام کے اغراض و مقاصد اور ان کی دستیابی کی تشہیر کی جائے ۔

• ذرائع ابلاغ کے موثر استعمال سے فنی تعلیمی پروگراموں کی حمایت میں مضبوط رائے عامہ پیدا کی جائے ۔

• وقتا فوقتا صنعتی اداروں سے رسمی اور غیر رسمی رابطہ رکھا جائے :

مثلا کانفرنس؛ سیمینار۔ ورکشاپ؛ کھلی دعوت ( Open House ) نمائش تقریبات اور بحث مباحثہ میں صنعتی اداروں کے ذمہ دار فراد کو مناسب مقام دیا جائے۔

• صنعتی اداروں کے افراد کو طلبا اور اساتذہ سے خطاب کی دعوت دی جائے۔

• اساندہ کے گرده وقتا فوقتاً صنعتی اداروں کا دورہ کریں۔

۲۔ تعلیمی امور سے متعلق مختلف گروہوں میں صنعتی اداروں کے افراد کو نمائندگی دی جاسکتی ہے ۔ مثلاً:

۱. نئی تعلیمی بورڈ اور اس کی مختلف کمیٹیوں میں ۔

۲. عام سے قتی تو علاقائی اور مقامی گولوں میں۔

۳. اداروں کی مشاورتی کونسلوں میں ۔

۴. اداروں کے انتظامی بورڈ مین

۵. نصاب اور مضامین سے متعلق کمیٹیوں میں

۶. ادارہ کے جائزہ اور الیکشن کمیٹیوں میں

۷. طلبا کے عملی امتحانات میں بطور ممتحن بنا کر –

۸. فنی تعلیم کی منصوبہ بندی سے متعلق کمیٹیوں میں

۳۔ اساتذہ اور طلباء کو کارخانوں میں تربیت کے مواقع فراہم کرنا ترقی پذیر ممالک میں صنعتی ادارے اس قسم کی تربیت دے کر ایک گران بہا خدمت انجام دے سکتے ہیں ۔

تر قی یافتہ ممالک میں اس قسم کی تربیت نہ صرف عام ہے بلکہ قانونی طور پر لازمی ہے۔

۴- ترقی پذیر ممالک میں بالخصص حکومت کے وسائل محدود ہوتے ہیں ایسی حالت میں صنعتی ادارے اپنی جانب سے فنی تعلیمی ادارے قائم کر کے اس معاملہ میں حکومت کا ہاتھ بٹا سکتے ہیں۔ یہ ادارے خالصتا تعلیمی ادارے ہو سکتے ہیں یا موجودہ صنعتی اداروں کی تربیتی شاخوں Wings )) شکل میں بھی قائم کئے جا سکتے ہیں ۔

ایک اہم گوشہ جو ابھی تک محروم توجہ رہا ہے وہ سینڈویچ ( Sanavich ) کورس کا ہے جس میں نظامی تربیت تعلیمی اداروں میں دی جاتی ہے اور عملی تربیت صنعتی اداروں میں ہوتی ہے ۔ گو فنی کا ریگر ( ( Skilled workers کیلئے ایک محدود پیمانہ پرتربیت کا یہ طریقہ اپریٹس شپ ( Apprenticeship ) پر وگرام میں رائج ہے لیکن فنی تعلیم کے روزافزوں بڑھتی ہوئی لاگت کے پیش نظر اس طریقہ کو اور دیگر شعبو ں میں بھی اپنایا جائے بعض ترقی یافتہ ممالک میں اعلی انجینرنگ کی افرادی قوت بھی اس طریقہ تعلیم و تربیت سے حاصل کی جاتی ہے ۔

۵۔ باہمی مشاورتی خدمات کا ایک اہم گوشہ ایسا ہے جس میں تعلیمی ادارے اور صنعتی ادارے ایک دوسرے کی مدد کر سکتے ہیں تعلیمی اداروں کے تجربہ کار اور اہل اساتذہ تحقیق اور جدید رجحانات سے متعلق صنعتی اداروں کو روشناس کر سکتے ہیں جس سے سے ؟ ان کی پیداواریت میں اضافہ کے لئے ان کی وقتاً فوقتا نظری اور مناسب عملی تعلیم کا انتظام کیاجاسکتا ہے۔ خصوصا موجودہ زمانہ میں صنعتی اغراض کے لئے کمپیوٹرکے بڑھتے ہوئے استعمال کی روشنی میں یہ بیحد ضروری ہو گیا ہے ۔

یہ تعادن یکطرفہ عمل نہیں رہ سکتا ۔ بلکہ جوا با صنعتی ادارے تعلیمی اداروں کو مختلف مسائل پر تحقیق کرنے کی سہولتیں اور افرادی قوت فراہم کر سکتے ہیں ۔

۳۱

حاصلِ کلام

ان مقاصد کے حصول میں حکومت بطور ایک موثر عامل ترغیبات اورمحرکات فراہم کرسکتی ہے اس کی ایک صورت ٹیکس میں رعایت کی ہوتی ہے ایسے صنعتی ادارے جو تربیت کی سہولتیں بہم پہنچاتے ہیں ان کو ٹیکس میں مناسب رعایت دی جاسکتی ہے۔ دوسری سہولتوں میں درآمدی لائسنس میں نرمی اور بر آمد پر ترغیبات شامل ہیں ۔

ایسے ادارے جو فنی کارکنوں کی تربیت میں فعال کردار ادا کرتے ہوں ان کی خدمات کی پذیرائی کی جائے ۔

یہ ایک امر واقعہ ہے کہ نتی تعلیمی سہولتوں سے فیوض حاصل کرنے سے پیش پیش ملک کے صنعتی ادارے ہوتے ہیں کیونکہ فارغ لتحصل طلبہ اپنی صلاحیتوں سے ان اداروں کی پیدا دار اور بالا خر ان سے حاصل ہونے والے فوائد کے اولین محرک ہوتے ہیں۔ کیونکہ کسی مشین کی پیداوار اس آدمی پر منحصر ہوتی ہے جو اس کے سامنے کھڑا ہے لیکن آس کے باوجود فنی تعلیم کی ترقی میں صنعی اداروں کی بے اعتنائی افسوس ناک ہے۔ ایسی صورتوں میں جہاں ترغیبات نظام کام نہیں کرسکتا قانون سازی کے ذریعہ صنعتی اداروں کو فنی تربیت و تعلیم میں شرکت کا پابند کیا جاتا ہے۔ ایسے قوانین ترقی یافتہ ممالک میں موجود ہیں جہاں نہ صرف تربیت دینا لازمی ہوتا ہے جبکہ ایسے ادارے جو تربیت مہیا کرنے سے قاصر ہوں ایک قسم کا ٹیکس ( Levy ) ادا کرتےہیں جوبالا خرفنی تعلیم کے فروغ اور ترقی کے لئے استعمال کیا جاتا ہے ۔

ہمارے ہاں بھی اپرنٹس شب قانون مروج ہے لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ اس کو موثر طور پر نافذ کیا جائے اور اس کے احاطہ عمل کوپیشہ ور کاریگر ( killed workers ) سے بڑھا کرفنی تعلیم اور انجینئرنگ کے اداروں سے فارغ التحصیل طلبہ کی عملی تربیت پر بھی لا گو کیا جائے ۔ قوموں کی صنعتی اور معاشی ترقی کے لئے فنی تعلیم کا پھیلاؤ نہ صرف ضروری ہے بلکہ اس کے معیار کو بھی مناسب طور پر بلند کیا جانا جانا چاہیئے۔ عام تعلیم کی بہ نسبت مماثل درجہ کی فنی تعلیم چھ سے دس گنا مہنگی ہوتی ہے لیکن اس کے معیار کو اسی وقت بلند کیا جاسکتا ہے جب یہ ملک کی صنعتی ضرورتوں سے ہم آہنگ ہو ۔ اس کے لئے تعلیمی اور صنعتی اداروں میں تعاون بے حد ضروری ہے ۔ ہر اس فرد کے لئے جو فنی تعلیم کی منصوبہ بندی سے کسی بھي سطح پر منسلک ہے یہ صورت حال ایک چیلنج ہے جس کو قبول کرنا ہو گا ۔

۳۲

تدریسی مقاصد کی تدوین

تعارف

یہ ضروری ہے کہ تعلیم کے مقاص ( Learning Objectives ) واضع الفاظ میں اس طرح بیان کئے جائیں کہ تعلیم و تدریس کی غرض دغایت بالکل واضح ہو جائے تا کہ اساتذہ طلباء اور اجیر کے لئے زیادہ سے زیادہ افادیت کا باعث ہوا۔

یہ طریقہ فکر اس مفروضہ پر بنی ہے کہ تدریسی عمل اور ساتھ ساتھ امتحان کو بھی مؤثر ہونے کے لئے تعلیم کے ماحصل ( Out-Come ) کا بالکل واضح تصور ہونا چاہیے ۔

ٹکنیکی تعلیم کے واضح مقاصد اور ان کے حصول کے لئے اساتذہ کو تدریسی حکمت عملیوں کو وضع کرنے میں اور طلباء پر یہ امر واضح کرنے میں کہ ان سے کیا توقعات وابستہ ہیں مفید ثابت ہوتے ہیں ۔ اس طرح تدریسی مقاصد درس کے ختم ہونے والے تعلیمی ماحصل کی نشاندہی کرتے ہیں ۔

۲۔ تدریسی مقاصد Instructional objectives

تدریسی مقاصد وہ بیان ہے جو کہ تعلیم کے اختتام پر حاصل ہونے والے مطلوبہ تعلیمی ما حصل کی طرف نشاندہی کرتا اور تدریس کے طریقوں؛ حکمت عملیوں اور کاروائیوں کی مناسب طور پر منصوبہ بندی کرنے اور تدریس کورو بہ عمل لانے اور انکے موثر ہونے کی جانچ کرنے میں استاد کی راہنمائی کرتا ہے ۔

مصنف : جناب محبوب الہی ملک

مترجم میر محمد علی ۔

۳۔ تدریسی مقاصد کے فوائد

i تعلیمی پلان کے اغراض کی وضاحت کرتے ہیں ۔

ii ان کے حصول کے لئے استاد ومناسب قدم اٹھانے یا حکمت عملی اختیار کرنے میں مدد دیتے ہیں ۔

iii طلبا ءکو یہ جانے میں مدد دیتے ہیں کہ تعلیمی پروگرام کے ختم بران سے کیا متوقع ہے

iv نظام تعلیم کی پیداوار کو جانچنے میں اساتذہ انتظامیہ اور اجیر کی مدد کرتے ہیں ۔

v تدریس کو بہتر بناتے ہیں

۴- تدریسی مقاصد کے حسب ذیل کمزور پہلو بھی ہیں۔

(ا) ۔ تعلیمی اصول کی بالکلیہ صحیح پیش گوئی نہیں کی جا سکتی ۔

(ب )۔صحیح کیفیتوں ( Behaviour ) کے تعین کے امکانات تدرسی مضمون پر منحصر ہوتے ہیں بعض مضامین اس کے اہل نہیں ہوتے کہ صحیح تعین کیا جا سکے جبکہ بعض کسی حد تک ہوتے ہیں۔

(ج)۔ بعض حالات میں مقاصد صرف فیصلہ کی اساس ( Criteria ) کے طور پر استعمال ہو سکتے ہیں لیکن ان کو نا پینے کے معیار Standard of Measurement )))کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

(د)۔ عمومی ( General ) اور خصوصی ( Specific ) مقاصد کو تشخیص ( Specificity ) کی مناسب سطح پر لکھنا مشکل ہے بعض اوقات یہ اتنے زیادہ ہو جاتے ہیں ان کو لکھنے اور پڑھانے میں کافی وقت صرف ہوتا ہے۔

(ہ) ۔ ایک پہلو یہ بھی ہے کہ مقاصد کو اتنی غیر ضروری طوالت دی جاتی ہے کہ وہ بہت چھوٹے چھوٹے بن جاتے ہیں اور تدریس کی پہلی سطح پر مرکوز ہوجاتے ہیں ۔

(و ) ۔ مقاصد کا اعتبار مشکوک ہو جاتا ہے ۔

۵۔ با معنی مقاصد کی خصوصیات :-

تعلیم کے اغراض و مقاصد کی وضاحت مختلف سطحوں پر کی جاتی ہے۔

۱. قومی سطح پر مقاصد ملک کی سماجی اقتصادی ضروریات اور فنی ترقیات سے مطمئن ہوتے ہیں ۔

۲. اداروں کی سطح پر مقاصد ادارہ کے محل وقوع مقامی ضرورتوں اور دستیاب وسائل پر منحصر ہوتے ہیں ۔

۳. کسی مضمون کی سطح پر مقاصد ان فرائض اور کارکردگی پر منحصر ہوتے ہیں جس کی عملی میدان میں ضرورت ہوتی ہے اس طرح ضروری ہے کہ وسیع حلقہ کو تعلیم کے چھوٹے ہدف میں تقسیم کیا جا‏‏‏ئے پھر ان ہدف کو تدریس کے عمومی اور خصوصی مقاصد میں تقسیم کیاجا‏‏‏ئے تاکہ اساتذہ اور طلباء کی ضروریات پوری ہو سکیں ۔

۶۔ تدریسی مقاصد لکھنے کے طریقے

تدریسی مقاصد مطلوبہ تعلیمی ماحصل کے پیرایہ میں لکھے جانے چاہئے جو کہ تدریس کے اختتام پر متوقع ہیں اور ان کا علم ہر ایک میں طلباء اساتذہ اور ممتحنین کو یکساں ہونا چاہیئے ۔

تدریسی مقاصد بغیر کسی ابہام کے مطلب سمجھائیں۔

حسب ذیل بیان کرده تدریسی مقصد پر غور کیجئے ۔

درس کے ختم پرطالب علم نیوٹن کے کلیات حرکت سمجھے گا اگرچہ یہ مقصد تعلیمی ماحصل کے پیرایہ میں بیان کیاگیا ہے لیکن لفظ سمجھنا ؛ مقصد کی وضاحت نہیں کرتا ۔ سمجھنا کے ہم معنی اور مماثل مختلف فعل ہیں ۔ جیسے جاننا ؛ یقین کرنا ؛ تسلیم کرنا اور سوچنا وغیرہ جن کی مختلف تعبیریں ہو سکتی ہیں ۔

مقصد لکھتے وقت ایسے فعل کو استعمال کر چاہیے جو ایک قابل مشاہدہ کیفیت Observable Behaviour )) کی نشاندی کرسکے۔ دوسرے الفاظ میں ہم اس کی وضاحت یوں کریں کہ طالب علم کیا کرنے کا اہل ہوگا یا طالب علم میں کونسی صلاحیت پیدا ہوگی جو ایک تیسر آدمی مشاہد کر سکتا ہے۔ مثال کے طور پر ہم یہ مان لیں کہ متذکرہ مثال میں طالب علم حسب ذیل کام کر سکے تو ہم یہ قبول کریں گے کہ وہ نیوٹن کے کلیات حرکت سمجھتا ہے ۔

۱. نیوشن کے کلیات کو اپنے الفاظ میں بیان کرے ۔

۲. مثالیں دے جہاں ہر ایک کلیہ کا اطلاق ہوتا ہے۔

۳. اسی صورتوں کے درمیان تمیز کر سکے جن میں ہر ایک کلیہ کا اطلاق ہوتا ہے ۔

فعل مثلاً بیان کرنا، تعریف کرنا لکھنا، شناخت کرنا، تقسیم کرنا ؛شکل بنانا ، وضاحت کرنا تمیز کرنا اسے عمل کی وضاحت کرتے ہیں جو قابل مشاہدہ ہیں اور کیفیتی مقاصد کو لکھنے میں استعمال کر سکتے ہیں ۔

فعل جیسے سمجھنا سوچنا، چا ہنا قابل مشاہدہ عمل کی وضاحت نہیں رہے اوراس وجہ سے کیفیتی مقاصد میں استعمال نہیں ہو سکتے ۔

غیر مہم اور قابل مشاہدہ کیفیتی مقاصد کو بیان کرنے کے لئے حسب ذیل دو طریقے ہیں ۔

- تمام تدریسی مقاصد کو ایسے الفاظ استعمال کرتے ہوئے لکھیں وصرف مخصوص قابل مشاہدہ کیفیتوں کی بطور مطلوبہ تعلیمی ماحصل کے طور پر تسلیم کیا جاسکتا ہو۔

اول الذكر طريقہ میجر ( Majer ) کا پسندیدہ ہے جب کہ این ای گرو نلنڈ ( Gronlund ) کے ہاں موخر الذکر قابل ترجیح ہے ۔

فنی تعلیم کے اساتذہ کے لئے دونوں طریق مفید ہیں۔ کیونکہ بعض موقعوں پر میجر کی طرز پر مقاصد کو لکھنا مناسب ہوتا ہے اور دیگر موقعوں پر ہمیں گرونلنڈ کی تقلیدکرنی پڑتی ہے ۔

۷۔ میجر کی طرز پر لکھے ہوئے تدریسی مقاصد کو واضح کرنے کے لئے اس میں تین عناصرضروری ہیں ۔

۱. حتمی کیفیت( Terminable Behaviour ) جس کو طالبعلم کو تدریس کی تکمیل پر ظاہر کرنا ہوتا ہے ۔

۲. وہ شرائط جن کے تحت حتمی کیفیت متوقع ہے۔

۳. قابل قبول کارکردگی کی اساس ۔

ان خطوط پر لکھتے ہوئے تدریسی مقاصد حسب ذیل ہوں گے ۔

(۱)- طالب علم ایک ۱۰ اسپی طاقت کی ڈی سی موٹر کو جس میں صرف ایک نقص ہے ۔ معیاری ٹول کٹ اور حوالہ جات کی مدد سے ۴۵ منٹ کے اندر درست کرنے کے قابل ہونا چاہیئے "۔

" ایک نقص درست کرنا" - مطلوبہ کیفیت کی نشاندہی کرتا ہے۔ "ڈی سی موٹر اوزار اور حوالہ جات "شرائط بتاتے ہیں ۔

" ۴۵ منٹ کے اندر قابل قبول کارکردگی کی اس کی نشاندہی کرتا ہے۔

(ب)۔ " طالب علم کو اگر ایک نامکمل دھاتی کاسٹنگ دی جا‏‏‏ئے تو دی گئی ڈرا‏‏‏ئننگ کے تصریحات کے مطابق سطح کو منشین کرنے کے قابل ہونا چاہیے"۔

میجر کا طریق فکر بنیادی طور پر پروگرامڈ کورس کے لئے ہے جس میں ہم ایک خصوصی کیفیت کی نشاندہی کرتے ہیں اور اس کی خصوصی کیفیت کا تعلیم دیتے ہیں اور پھر یہ جانتے ہیں کہ آیا طالب علم نے اس خصوصی کیفیت کی مہارت حاصل

کرلی ہے۔؟

ٹکنیشن کی تعلیم کے سلسلے میں بعض موقع ایسے ہوسکتے ہیں جب کہ ہم چند آسان مخصوص کیفیتوں کی تعلیم دینا چاہتے ہوں جہاں میجر کی طرز پر لکھے ہوئے مقاصد کارآمد ہو سکتے ہیں ۔

۸۔ گرونلنڈ کی طرز لکھے ہوئے تدریسی مقاصد دو سطح پر لکھے جانے چاہئیں جو یہ ہیں :

الف )- عمومی مقاصد ( General Objectives )

ب)- خصوصی مقاصد ( Specific Objectives )

گرو نلنڈ مزید یہ تجویز کرتا ہے کہ تدریس عمومی مقاصد کے حصول پر مرکوز ہونی چاہیئے جبکہ خصوصی مقاصد کی جان امتحان کی بنیاد ہونی چاہئے۔

ان خطوط پر لکھتے ہوئے تدریسی مقاصد حسب ذیل طرح کے ہوتے ہیں۔

الف ) ۔عمومی مقصد :- نیوٹن کے کلیات کو سمجھنا

خصوصی مقاصد :

۱. نیوٹن کے کلیات بیان کیجئے

۲. قوت ، معیار حرکت، عمل رو ، رد عمل کی تعریف کیجئے ۔

۳. توت کی اکا‏‏‏ئی کی تشریح کیجئے۔

۴. مساوات F=ma کو اخذ کیجئے۔

(ب)۔ عمومی مقصد - آدم کا کلیہ سمجھنا

خصوصی مقاصد

۱. آدم کا کلیہ بیان کیجئے ۔

۲. آدم کاکے کلیہ کی ریاضی اور نقشہ کی مدد سے وضاحت کیلئے ۔

۳. سادہ سرکٹ پر آوم کے کلیہ کا اطلاق کیجئے ۔

ایسے الفاظ مثلا جانتا سمجھنا چاہتا جو کہ کیفیاتی مقاصد کے بیان کرنے کے لئے ناموزوں ہیں عمومی مقاصد کو بیان کرنے میں استعمال کئے جا سکتے ہیں ۔ اس طرح عمومی مقاصدتعلیم کے ایک عمومی ماحصل کی تشریح کرتا ہے جو کہ از خود قابل مشاہدہ ہیں

ہے لیکن خصوصی مقاصد کی ایسی مثالوں کے ذریعہ اس کی مزید وضاحت کی جاتی ہے۔ جس میں ایسے افعال استعمال کئے جاتے ہیں جو قابل مشاہدہ کیفیت بیان کرتے ہوں۔

۹۔ عمومی اور خصوصی مقاصد لکھنے کے رہنما خطوط

۱ ۔ عمومی مقاصد لکھنے کے لئے ۔

۱. جملہ کو جانتا سمجھنا چاہتا جیسے فعل پر ختم کیجئے ۔

۲. استاد عمل یا تعلیمی عمل کے بجائے طالب علم کی کارکردگی بیان کیجئے۔

۳. طالب علم کی مجموعی طور پر ( Overall ) حتمی کیفیت بیان کیجئے ۔

۴. مطلوبہ تعلیمی ماحصل کی عمومی سطح کو بیان کیجئے ۔

۲۔ خصوصی مقاصد لکھنے کے لئے۔

۱. جملہ کو ایسے فعل پر ختم کیجے جو ایک قاہل مشاہدہ کیفیت کی نشاندی کرتا ہو۔ (وضاحت کیجئے، تعریف کیجئے جوڑیے، تمیز کیجئے فرق بتا ہے۔

۲. ان حالات کو بیان کیجئے، جن میں کیفیت کا مشاہدہ کیا جائے گا اور اس کے متوقع معیار کو بیان کیجئے ۔

۳. مرکب عناصر کو شامل کیجئے ( ( Critical Thinking تنقیدی جائزہ)

۴. ہر ایک عمومی مقصد کے تحت کافی تعداد میں مقاصد لکھے تاکہ عمومی مقصدکو حاصل کرنے میں طالب علم کی کیفیت کی وضاحت ہو سکے ۔

۵. تدریس کے ایک ما حصل کے لئے ایک عمومی مقصد لکھے

۶. خصوصی مقاصد کو اس طرت ترتیب دیجئے کہ ایک تدریسی مقصد دوسرےکے لئے مشروط ہو جاتا ہے۔

۱۰۔ تدریسی مقاصد کے احاطے : ( Domains )

بعض تدریسی مقاصد ذہنی صلاحیتوں کی جانب اشارہ کرتے ہیں ۔

بعض کا تعلق جسمانی یا عملی ہنر مندی سے ہوتا ہے اور بعض طلبا کے رویہ اور خواہشات بتاتے ہیں ۔

ان میں سے پر ایک میں معلومات ( Knowledge ) سرمندی ( Skill ) اور رویہ ( Attitude ) کو ٹیکنیشن میں مناسب سطح پر فروغ دینا ہوتا ہے تا کہ ایک متناسب شخصیت بن سکے ۔

بنجامن بلوم کے نقطہ نظر سے تدریسی مقاعد کو تین احاطوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے ۔

۱. معلوماتی احاطہ ( Cognitive Domains ) واقعات اور اطلاعات کا جاننا ۔)

۲. عملی حاطه ( Psychomoter Domains (جسمانی طور پر کام بجا لانا )

۳. پسندیدگی کا احاطہ ( Affective Domains ) ذاتی پسند کا اظہار کرنا )

ہر ایک احاطہ کی مثالیں حسب ذیل ہیں ۔

معلوماتی احاطہ :- کسی اصطلاح کو بیان کرنا۔ کسی واقعہ کو بیان کرنا کسی عمل کی تشریح کرنا کسی ڈرائنگ کو پڑھنا۔

عملی احاطہ : خط ٹا‏‏‏ئپ کرنا ۔ گاڑی چلانا دیوار بنانا وائرنگ کرنا ڈرائنگ بنانا ۔

پسندیدگی کا احاطہ : حفاظتی تدابیر کی فکر کرنا ۔ ذمہ داری قبول کرنا ۔اخلاق سے پیش آنا ۔

یہ جانا چاہیے کہ صرف چند مقاصد ایسے ہوتے ہیں جو کہ صرف معلوماتی عملی یا پسندیدگی کے احاطوں میں ہوتے ہیں ۔

کسی مقصد کی مطلوبہ کیفیت پر اس کا دار و مدار ہوتا ہےکہ یہ فیصلہ کیا جاسکےکہ وہ بنیادی طور پر کس احاطہ میں شمار ہوتا ہے۔

اگر بنیادی طور پر کسی مضمون کی معلومات سے متعلق ہے تو وہ معلوماتی ہوگا اور اگر بنیادی طور پر ہنر کے فروغ سے ہے تو و عملی ہوگا اور اگرده احساسات ادر رویہ سے متعلق ہو تو اس کو پسندیدگی کے زمرہ میں شمار کریں گے۔

۱۱۔ مقاصد کے سطحوں کی درجہ بندی ( Taxonomic Levels of Objectives )

تدریسی مقاصد بنیادی طور پر معلوماتی عملی اور پسندیدگی کے احاطوں میں شمار کے جاتے ہیں۔ لیکن ان تین احاطوں میں سے ہر ایک میں کارکردگی کے مدارح ہوتے ہیں جو آسان سے مشکل تک پھیلے ہوئے ہیں۔ کارکردگی کے ان مختلف مدارج کو سلسلہ وار ترتیب دیا جاتا ہے۔

تقسیم کے اس تمام نظام کو جس میں تینوں احاطوں میں سے ہر ایک مدارج کا سلسلہ وار تعین کیا جاتا ہے درجہ بندی ( Taxonomy ) کہتے ہیں ۔

(۱)۔ معلوماتی احاطه مدارج حسب ذیل ہے ( Levels of Cognitive Domains )

۱. علم ( Knowledge ) (واقعات کو یاد رکھنا اور پہچاننا )

۲. سمجھ ( Comprehension ) لکھ دینا، مختصر الفاظ میں بیان کرنا )

۳. اطلاق Application معلومات کاکسی دوسری حالت میں استعمال کود

۴. تجز یہ ( Analysis ) کل کو حصوں میں تقسیم کرنا )

۵. ترکیب ( Synthesis ) حصوں کونئےسرے سے جمع کرنا )

۶. جانچ ( Evaluation ) ( فیصلہ صادر کرنا)

ٹکنیشن کی تعلیم سطح پر تدریس میں ہم تجزیہ ترکیب اور جانچ کے مدارج کو یکجا کر کے ان کو اطلاق سے اوپر کا درجہ کہتے ہیں۔

(۲)۔ عملی احاطہ کے مدان حسب ذیل ہیں ۔ ( Levels of Psycomoter Domains )

۱. نقالی (Imitation) ) کام کا مشاہدہ کرنا اور اس کو دوبارہ کرنے کی کوشش کریا ۔

۲. اتباع ( Maniplation ) ہدایات کے بموجب کام کرنا )

۳. صحت Precision ) (کام کو دوبارہ صحت کے ساتھ بجا لانا)

۴. تسلسل ( Articulation ) (ایک سے زیادہ صلاحیتوں کو ترتیب سے بجا لانا ۔

۵. استقلال ( Naturalisation ) ایک سے زیادہ صلاحیتوں کو از خود بجا لانا –

(۳)۔پسندیدگی کے احاطہ کے مدارج ( Levels of Affective Domains )

(۱) قبول کرنا ( Receiving ) ( خاموشی سے سننا )

(۲) جواب دینا ( Responding ) کسی صورت حال پر رد عمل ظاہر کرنا)

(۳) قدر معین کرتا ( Valuing ) یقین کے مطابق رویہ)

(۴) منظم کرنا ( organising ) اقدار سے لگاؤ دکھانا)

(۵) تخصیص کرنا ( Characterising ) ( اقدار کو اپنا نا )

تدریسی مقاصد کی مندرجہ بالا درجہ بندی کوتدریسی عمل میں حسب ذیل طریقوں سے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

i تدریسی مقاصد کو اس طرح ترتیب دینا تعلیم علم سے نا معلوم اور آسان سے مشکل کی جانب ہو۔

ii کسی احاطہ میں مقاصد کو تمام مطلوبہ مدارج پر شامل کرنا ۔ ایسا کرنے سے مختلف سطحوں پر مضمون کے اغراض کو مناسب اہمیت دی جا سکتی ہے۔

iii مناسب امتحانی سوالات بنانا تا کہ معینہ سطح پر کیفیت کی واضح ہونے والی مطلوبه بلندی کی پیمائش ہو سکے۔

۱۲۔ مختلف احاطوں میں مقاصد کی درجہ بندی کے نمونے

احاطہ

DOMAINS مثالی فعل

ILLUSTRATIVE VERB خصوصی مقاصد کے نمونے

SAMPLES OF SPECIFIC OBJECTIVE

معلوما تی علم

علم تعریف کرنا ۔ نام بنانا ۔ یاد کرنا ۔ گننا روشنی کی تعریف کیجئے ۔ آدم کا کلیہ بیان کرنا۔

تانبہ کے بھرت alloy کے نام بتا‏‏‏ئیں

سمجھ مقالہ کرنا ۔ تمییز کرنا۔ حل کرنا ۔ بحث کرنا حرارت اور تپش میں فرق بیان کیجئے

تعادل equilibirium كي تشريح كيجئے ۔ مشق حل کیجئے۔

تجزیہ تقسیم کرنا۔ واقف ہونا لوہے کے نمونے کے خالص ہونے کی تصدیق کرنا۔

ترکیب بنانا کسی پرزہ کو جوڑنے کے لئے ایک نئے جگ کا ڈیزا‏‏‏ئن بنا‏‏‏ئے ۔

جانچ تنقید تعمیری ستون کے فیل ہونے کے اسباب بتا‏‏‏ئے

عمل بنانا۔ جوڑنا ۔ یکجا کرنا۔ درجہ بندی کرنا ۔

ناپنا ۔ تار لگانا سولڈرجا‏‏‏ئنٹ بنانا ۔ دیوار بنانا ۔ ملگ مشین چلانا ۔ خط ٹا‏‏‏ئپ کرنا

پسندیدگی منتخب کرنا ۔ منظم کرنا۔ جواب دینا۔ رضا کارانہ کام کرنا۔ محسوس کرنا۔ حصہ لینا۔

محفوظ طریقے کا انتخاب کرنا۔ صاف ستھرے طریقے سے ٹا‏‏‏ئپ کرنا۔ دمہ داری قبول کرنا۔ باہمی مدد کرنا

۱۳۔ تصریحات کا جدول برائے پلاننگ ( Table of Specification )

کسی ایک خاص عنوان کے تحت لکھے جانے والے خصوصی مقاصد کی تعداد کا صحیح اندازه کر نامشکل ہے ۔ ایک عنوان کے مقابلے میں دوسرے عنوان کی اہمیت اورمدارج جن پر مقاصد لکھے جاتے ہیں۔ قابل غور ہوتے ہیں ۔ علاوہ ازیں مقاصد لکھتے وقت اس بات کا خطرہ ہوتا ہے کہ حیثیت مجموعی پورے مضمون کی بجائے عنوانات کو ایک دوسرے سے علحدگی میں غور کیا جاتا ہے ۔ اس وقت جب کہ مقاصد لکھے جا چکے ہوں تصریحات کی جدول پر دئے پلاننگ کے ذریعہ ان مقاصد کے مدارج اور اہمیت کو جانچا جا سکتا ہے ۔

تصریحات کا جدول ایک نقشہ ہے جو کہ مضمون کے عنوانات اور ذیلی عنوان کو ترتیب دار عمودی کالم میں لکھ کر اور مطلوبہ اہلیت ( Ability ) ( علمی عملی پسندیدگی) جوکہ مضمون درجہ بندی سے متعلق ہوافقی کالم میں لکھ کر بنایا جاتا ہے۔ ضرور تا یہ ایک پلاننگ کی دستاویز ہے جو مقاصد کی تدوین اور ان کو بہتر بنانے کے لئے موزوں ثابت ہوتی ہے۔

عموما علمی احاطہ کو چار درجوں میں تقسیم کیاجاتا ہے ( علم ؛ سمجھ ؛ اطلاق ؛اور اطلاق سے اوپر ) علوم کی درجہ بندی کے اوپر تین سطحوں یعنی تجزیہ ترکیب اور جانچ کو ملاکر " اطلاق کے اوپر " درجہ بناتے ہیں۔ عمل اور پسندیدگی کے احاطوں میں درجه بندیوں کو علیحدہ علیحدہ اس جدول میں نہیں شامل کیا جاتا کیونکہ ان کا اعتبار ابھی تک معین نہیں ہو سکا ہے۔

یہ جدول اس طرح تیاز کی جاتی ہے کہ مضمون کے ہر عنوان کو ترتیب وار کالم میں لکھا جاتا ہےپھر ہر ایک عنوان کے مقابل متعلقہ اہلیت کے نیچےایک ہندسہ لکھا جاتا ہے جو مطلوب مقاصد کی تعداد کو ظاہر کرتا ہے۔

تصريحاتی جدول کی ایک مکمل مثال منسلک ہے ۔ تصریحات کا جدول برائے پلاننگ میں لکھتے ہوئے مقاصد کی کارآمدگی ( Validity ) مختلف عنوانات کی اضافی اہمیت کو متوازن کرکے کی جاتی ہے ۔ منسلکہ جدول کے تعلق سے یہ بحث کی جاسکتی ہے کہ حقیقی ضرورتوں کی بنیاد پر علمی احاطہ پرضرورت سے زیادہ اہمیت دی گئی جبکہ عملی کام کو زیادہ اہمیت دیجانی چاہئے ۔

اگر یہ بحث صحیح ہے تو علمی احاطہ کے مقاصد کو کم کر کے اور عملی کام کے مقاصد میں اضافہ کیا جاتا ہے ۔

تصریحات کی جدول میں دیئے ہوئے علمی اور پسندیدگی کے مقاصد کی تعداد کے لحاظ سے تعلقہ عنوانات اور ذیلی عنوانات کیلئے امتحانی نکتہ نظر سے نشانات مختصر کرنے کے لئے یہ جدول ایک بنیاد فراہم کرتی ہے اور اس طرح یہ تصریحات کی جدول برائے امتحانات کی تیاری میں مدد دیتی ہے۔

۱۴ - اختتام

ٹکنیشن کے نصاب کے مقاصد پروگرام کےسماجی اور اقتصادی ضرورتوں سے اوران کاموں اور کارکردگی سے مربوط ہونے چاہیں جوپروگرام کو اطمینان بخش طریقے سے مکمل کر نے والوں سے متوقع ہیں کسی نصاب کی تدوین کیلئے ضروری ہے کہ تدریسی مقاصد کو عمومی اور خصوصی سطح پر قابل مشاہدہ طرز پر بیان کئے جا‏‏‏ئیں اور اس کی وضاحت کی جا‏‏‏ئے کہ افراد سے متوقع کارکردگی کے معیارکے قابل قبول ہونے کے لئےشرا‏‏‏ئط کس قدر وسیع ہیں ۔ لیکن مقاصد کو غیر ضروری اہمیت کی جزئیات سے پاک ہونا چائیے جس کی وجہ سے تدریسی عمل غیر ضروری طور پر طویل اور ناقابل عمل ہوتا ہے ۔ مقاصد کو مختلف احاطوں میں تقسیم کرکے ان پر اچھی طرح غور کرلینا چاہیئے ۔

۳۳

تدریسی وسائل کاانتخاب۔ تیاری اور جائزہ

وسیع تر مفہوم میں ہر وہ شئی جو تدریس میں معاون ثابت ہو سکتی ہے مثلا انسانی وسائل، عمارات اور ساز و سامان، تدریسی وسیله شمار کی جاسکتی ہے لیکن اپنے مخصوص مفهوم میں تدریسی وسائل ان اشیاء کو کہا جاتا ہے جوخاص طور پر تدریسی مقاصد کے حصول کے لیے تیار کی جاتی اور ان کی تیاری می ں تعلیم کے بنیادی اصولوں کو پیش نظر رکھا جاتا ہے۔

تدریسی وسائل کے اقسام : عام طور پر تدریسی وسائل دو بڑے گردہوں میں تقسیم کیے جاتے ہیں۔ مطبوعه وسائل اور غیر مطبوعه وسائل ۔

مطبوعه وسائل : ۔ ان کی چند قسمیں ہیں۔

۔ رهنما برائے اساتذہ جس میں حسب ذیل شامل ہیں

۱. نصاب ۔

۲. عنوان کی فہرست ۔

۳. عنوان کی ترتیب کا نقشہ ۔

۴. عمومی اور خصوصی مقاصد ۔

۵. عنوان کے تجزیہ کا نقشہ ۔

۶. اسباق کے پلان ۔

۷. طلبار کے امتحانات کا پلان۔

۔ رهنما برائے طلباء

۱. لیبارٹری شیٹ

۲. جاب شیٹ

۳. آپریشن شیٹ

۴. انفر میشن شیٹ

۵. مشقی کتاب

۶. درسی کتب کتابچے ہے

غیر مطبوعہ وسائل : حسب ذیل غیر مطبوعہ وسا‏‏‏ئل در و تدریس میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔

۱) اصلی اشیا ( Real Objects )

۲) ماڈل ( ساکن یا کام کرنے والے )

۳) تصاویر - چارٹ - نقشے بورڈ ( مختلف اقسام )

۴) سلائیڈس - فلم اسٹرپ

۵) فلم ( خاموش گویا )

۶) اور ہیڈ پروجیکٹر میں استعمال ہونے والے ٹرانسپر نسی

۷) آڈیو اور ویڈیو ٹیپ کیسٹ

۸) مندرجہ بالا وسائل کا امتزاج جنھیں ملٹی میڈیا ( Multi Media ) کہا جاتا ہے۔

مندرجه مختلف وسائل کی خصوصوصیات زیر بحث مقالہ سے باہر ہیں اس لئے ان کی صرف نشاندہی پر اکتفا کیا جاتا ہے ۔ ہر ایک تدریسی وسیلے کی اپنی افادیت ہوتی ہے اور موقع کے لحاظ سے اس کو استعمال کیاجاتا ہے ۔ لیکن چند امور تمام تدریسی وسا‏‏‏ئل کے انتخاب میں یکساں ہیں جن کی تفصیل حسب ذیل ہے۔

۳۴

تدریسی وسائل کا انتخاب :

تدریسی وسا‏‏‏ئل کو منتخب کرنے میں چند اصول پیش نظر رکھنا چاہیے ۔

۱. تدریسی مقاصد : یہ د یکھنا ہوتا ہے کہ کس قسم کا تدریسی مقصد یعنی معلوماتی ( Cognitive ) صلاحیتی ( Psychooter )یا رجحانی ( Affective ) متعلقہ تدریسی وسائل سے حاصل کرنا مقصد ہے ۔

۲. تدریسی وسائل کو منتخب کرنے کا دوسرا بنیادی اصول تدریسی عمل ( Process ) کی بنیاد پر کہ یہ مقصد صرف بصری طریقے سے( Visual )یاسمعی ( Audio ) سے حاصل کیا جاتا ہے۔ ان کا امتراج ضروری ہے ۔

۳. تيسرا صول یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ جوتدریسی وسائل منتخب کئے جائیں ان کے متعلقہ ہارڈ ویر کی دستیابی اور استعمال کرنے کے لئے صلاحیت اساتذہ میں موجود ہے یا نہیں ۔

۴. چوتھا بنيادى أصول تدریسی مقصد کی اہمیت اور تدریسی وسائل کی لاگت میں تناسب ہے ۔

پاکستان میں پولی ٹیکنک اداروں میں استعمال کے لئے جہاں تک مطبوعہ وسائل کا تعلق سے پہلے ضروریات کا تعین کیا جائے اس کے لئے مختلف ٹیکنالوجی میں تین یا چار ما ہر مضمون( Subject Specialist ) پر مشتمل گردپ بنائے جائیں جو اس بات کا تعین کریں کہ کون کون سے مضامین میں تدریسی مواد کی تالیف یا تدوین ضروری ہے اور ان کی کیا ترجیحات ہیں ۔

ترجیحات کے تعین کے بعد حسب ذیل حکمت عملی اختیار کی جاسکتی ہے۔

‌أ. کسی ایسی کتاب کا انتخاب جس میں مضمون سے متعلق زیادہ سے زیادہ مواد موجود ہو ۔

‌ب. دویا تین کتابوں کو یکجا کرکے ان سے مطلوبہ مواد منتخب کیا جائے۔

‌ج. پہلے اور دوسرے طریقے سے حاصل شدہ مواد کو مقامی ضروریات اور طلباء کے فہم ادر اک کے مطابق اس میں رد و بدل کی جائے ۔

‌د. ایک یا ایک سے زیادہ ماہر اور تجربہ کار اساتذہ کے نوٹس انفریشن سیٹ وغیرہ کو مربوط طریقے پر جمع کیا جائے تا کہ مضمون کے تسلسل سے ہم آہنگ ہوں ۔

‌ه. ماہر اساتذہ کو انفرادی یا اجتماعی طور پر کتابیں لکھنے کا کام سونپا جا‏‏‏ئے۔

۳۵

تدریسی وسائل کی تیاری :

اس کے دو پہلو ہیں۔ ایک پہلو ایسے امور سے متعلق ہے جو کہ کسی تدریسی وسیلہ کے داخلی ( Intrinsic ) خصوصیت اور ساخت سے متعلق ہے ۔ ان کی تفصیل حسب ذیل ہے ۔ تدریسی وسائل عام طور پر نصاب کے کسی نازک یا مشکل حصے میں بطور معاون استعمال ہوتے ہیں۔ ان کی تیاری میں حسب ذیل اصول کو پیش نظر رکھنا چاہیئے ۔

۱- مقصد ( Objective ) (۱) کیا یہ پہلے سے طے شدہ ضرورت کو پورا کرتا ہے یا بطور نفتی مواد استعمال کیا جائے گا ۔

٢ - استعمال ( use )

ا - انفرادی طور پر یا اجتماعی طور پر

ب - کلاس روم میں یا کلاس روم کے باہر

ج - استعمال کی تکرار ایک مرتبہ یا بار بار ( Frequency )

۳- تیاری کی مشکلات ( Production Complexttion )

ا- تیاری میں کتنا وقت درکار ہے

ب- تیاری کے لئے کس قدر خام مال کی ضرورت ہے ۔

ج - کتنے سیٹ تیار کیے جائیں

۴- ساخت کا معیار ( Design Criteria )

ا- تیار شدہ مواد صاف ستھرا اور استعمال کے لئے آسان ہو۔

ب - مطبوعہ مواد آسانی سے پڑھا جائے ۔

ج- مختلف رنگوں کی آمیزش اور ان کی صحیح ترتیب تدریسی مواد کی افادیت کو بڑھاتی ہے۔

د - سمعی مواد ( Audio Meterial ) بآسانی سنا اور سمجھا جا‏‏‏ئے ۔تدریسی وسائل کی تیاری سے متعلق دوسرا اہم پہلو متعلقہ سہولتوں ( Facilities ) کا ہے۔ اس سلسلے میں جب ہم پاکستان میں کی جانےوالی کوششوں پر نظر ڈالتے ہیں تو عیاں ہوتا ہے کہ یہاں فنی تعلیمی بورڈ نظامت فنی تعلیم اور وفاقی وزارت تعلیم اور مختلف افراد کی اپنی ذاتی کوششوں کی بنا پر اس مسئلے سے نمٹنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ لیکن اس مسئلے کی سنگینی اور وسعت کی بنا پر ابھی تک کوئی قابل لحاظ پیش رفت نہیں حاصل ہو سکی ۔ اس کی چند وجوہات ہیں ۔

۳۶

تدریسی وسائل کا جائزه ( EVALUATION )

تدریسی وسائل کو استعمال سے پہلے اساتذہ کی ایک ٹیم کے ذریعہ جائزہ لیا جانا چاہیے۔ " Tankard " نے تدریسی وسائل کے جا‏‏‏ئزے کے لئے اس کی اثر پذیری کے لحاظ سے چار معیار کی نشاندہی کی ہے ۔

۱. طالب علم کے نقطہ نظر سے کہ یہ مواد ان کے لئے کس قدر کار آمد ہے

۲. اساندہ کا نقطہ نظر کے ان کے اپنے خیال میں یہ مواد تدریسی مقاصد کو حاصل کرنے میں کس قدر کارآمد ہے ۔

۳. اس مواد کے استعمال میں طلباء کی دلچسپی اور انہماک ۔

۴. چو تھا پہلو مواد کے ڈیزائن کے لحاظ سے میں اس کی قیمت پائیداری اور صرف - ( استعمال)

۱- اس بات کو معلوم کرنے کے لئے کہ تدریسی مواد طالب علم کے لئے کس قدر مفید ہے مختلف طریقے استعمال کئے جاتے ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک میں چونکہ تدریسی وسائل کی تیاری اور فروخت کے سلسلہ میں کافی مسابقت ہے۔ اس لحاظ سے اساتذہ کے لئے بالخصوص ضروری ہے کہ ان مختلف تدریسی وسائل کا صحیح طور پر جائزہ لیا جائے کہ ان میں سے کون سا کیس تدریسی مقصد کے حاصل کرنے میں سب سے زیادہ موثر ہے۔ مزید تفصیلات میں گئے بغیر یہاں صرف یہ بتانا مقصود ہے کہ اس طریقے میں تدریسی وسیلہ کے استعمال سے پہلے Pretest ) اوراستعمال کے بعد ( Postest )کے نمبرات ذریعے ان کی افادیت کو جانچا جاتا ہے ۔

۲- اساتذہ کا شخص : ( Assesment ).

تدریسی وسائل کے روزمرہ استعمال کے جائزہ کے لئے اُستاد بہترین موقف میں ہے۔ اس سلسلہ میں حسب ذیل نکات کو پیش نظر رکھنا جائے ۔

طلبہ - ( حلقہ استعمال ( Clientele

• جن لوگوں کے لئے تدریسی وسائل استعمال کئے جاتے ہیں ۔

• ان کی تعلیمی سطح

• ذہنی سطح

• تجربه یا پس منظر

• تدریسی ترغیب ضروریات، اقدار ، خیالات

درسی صورت حال ( Teaching Situation )

• کلاس سائیز

• خاص گروپ ( Special Group )

• حوالہ کے لئے ( Reference )

• صرف مظاہرہ کے لئے ( Demonstration )

استعمال کی صلاحیت

خود اساتذہ میں درسی وسائل کے استعمال کی صلاحیت ہونی چاہیے۔

تدریسی مقصد

تدریسی وسائل کو تعلیمی مقصد کے حصول سے مناسبت رکھنا چاہیے۔ ان کے جائزہ کے لئے ایک اہم سوال یہ ہوتا ہے کہ یہ کس مقصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے ۔

• کسی صلاحیت کو سکھانے کے لئے ( Skill )

• معلومات بہم پہنچانے کے لئے ( Information )

• تفصیلات دینے کے لئے ( Visual Details )

• رویہ کی تبدیلی کے لئے ( Attitude )

٢- نفس مضمون ( Content )

یہ کہنا ضروری ہے کہ تدریسی مواد کو مضمون سے ہم آہنگ ہونا چاہیئے ۔اس سلسلہ میں دیکھا جائے کہ

• کیا تمام ضروری اجزاء شامل ہیں

• کیا معلومات صحیح ہے

• کیا مضمون مروجہ معلومات پر مبنی ہے

۳۷

طرز ( style )

تدریسی مواد واضح اور با آسانی سمجھنے کے قابل ہو۔ اس سلسلہ میں مختلف قسم کے تدریسی وسائل کے جانے کے لے مختلف زاویہ نگاہ سے دیکھنا ہوتا ہے۔ مثلا کسی چارٹ کے جائزہ کے لئےجو نکات پیش نظر ہوں گے وہ فلم سے مختلف ہوں گے۔

کسی چارٹ میں اس کی ڈرا ‏‏‏ئنگ، رنگ ، علامات اور حروف پر زیادہ توجہ دی جاتی ہے جبکہ کسی فلم میں اس کے پروجیکشن کے ساتھ ساتھ دی جانے والی کمنڑی اور ایکشن کا تسلسل جیسے امور اہم ہوتے ہیں ہے۔

۳- طلبہ کی دلچسي

طلباء کی دلچسپی اور انہماک بھی کسی تدریسی وسائل کے جائزہ کے لئے ضروری ہے کیونکہ یہ اس کےموثر ہونے کی دلیل ہے۔ اس سلسلے میں طلباء کے نوٹس یادداشت ایک معیار ہو سکتے ہیں ۔ جتنی آسانی سے طلبہ کسی مضمون کو سمجھتے ہیں اس کی عکاسی ان کے نوٹس سے ہوتی ہے ۔ تدریسی وسا‏‏‏ئل کے استعمال کے بعد جب مختلف طلبہ کے نوٹس کا موازنہ کیا جائے تو ان میں پا‏‏‏ئی جانے والی ہم آہنگی تدریسی مواد کے موثر پذیری کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

۴۔ ڈیزائن کے پہلو

تدریسی و سال کی دیگر خصوصیات کو جانچنے کیلئے ایک چک لسٹ بنائی جاتی ہے جس میں حسب ذیل پہلو شامل ہوں۔

۱. لاگت - ابتدا‏‏‏ئی ۔ استعمال کے دوران

۲. پا‏‏‏ئیداری

۳. پرزوں کی دستیابی

۴. کمپیوٹر کے سلسلہ میں سافٹ ویر پروگرام کی دستیابی

۵. استعمال کے لئے خصوصی صلاحیتوں کی ضرورت

۶. مرمت اور نگہداشت

۳۸

حاصلِ کلام

یہ شکایت عام ہے کہ اساتذہ پر تدریس کا با ر اتنا زیادہ ہے کہ ہ تدریس کے علاوہ اور کوئی کام نہیں کر سکتے ۔ تدریسی وسائل کی تیاری اور ان کو بہتر بنانے میں جو وقت صرف ہوتا ہے۔ وہ بالاخر تدریس کی بہتر استعداد میں ظاہر ہوگا۔ ایک دفعہ تیار کئے ہوئے وسا‏‏‏ئل کافی عرصے تک اساتذہ کو تکراری عمل سے نجات دلا سکتے ہیں ۔ تتمہ کلام میں عرض کرنا ضروری ہے کہ ادارہ کی سطح پر اس عمل کو فروغ دینے کے لئے ہر ادارہ میں تدریسی وسائل کے مرکز ( Learning Resource Centre ) کے قیام پر توجہ دینی چاہیے۔ تدریسی وسائل کو جانچنے کیلئے مجوزہ چک لسٹ

ظاہری طور پر ( Apparent )

۱-سائز کے لحاظ سے بہتر ہے-۲-ضخامت مناسب ہے

۳. تحریر ( Type ) بآ سانی پڑھی جاسکتی ہے

۴. اشکال اور تصاویر کی جگہ مناسب ہے

۵. اشکال اور تصاویر کی جگہ مناسبت

۶. جدول ( TABL ) ٹھیک ہیں ۔

۷. صفحات کی ترتیب مناسب ہے۔

داخلی خصوصیات ( Intrinsic )

۱. اس کا مقصد سب پر واضح ہے

۲. استعمال کرنے والوں کی صلاحیت کا خیال رکھا گیا ہے

۳. مضمون تدریسی مقاصد سے ہم آہنگ ہے۔

۴. مضمون منطقی تسلسل میں ہے

۵. تمام کا روایاں Activities طلبا کے لئے دلچسپ ہیں ۔

۶. تمام ہدایات واضح ہیں ۔

ہدایات : ہر خصوصیت کے آگے دیئے گئے خانوں میں اپنے خیال کی ترجمانی کرنیوالے خانے کو پڑ کردے۔

اشاره - بالکل متفق - متفق - متفق نہیں - بالکل متفق نہیں ۔ غیر یقینی

فنی تعلیم میں طریقہ امتحانات

اصلاحات کا لائی عمل

ا - تعلیمی نظام کے معیار کا انحصار ، نصاب درس و تدریس اور امتحانات پر ہوتا ہے طریقہ تدریس نصاب کے متعین کردہ مقاصد کے حصول کا ذریعہ ہے جبکہ امتحانات ان تعلیمی مقاصد کے حصول کی پیمائش کرتے ہیں ہمارے سماجی اور معاشی ماحول میں تعلیم کے معیار کے تعین میں امتحانات کو مرکزی حیثیت حاصل رہی ہے اور یہی وجہ ہے کہ اساتذہ اور طلباء کی تام تر تو جہات تدریس کو امتحانات سے ہم آہنگ کرنے پر مرکوز ہوگی۔

اس پر مستزاو یہ کہ عوام الناس نے بھی امتحانی نتائج پر طلباء اساتذہ اور اداروں کی کارکردگی پرحتمی مہرثبت کرنے کا انداز اپنا۔ یا سال بھر کے تعلیمی عمل اور درس تدریس کو قبول یارد کرنا صرف تین گھنٹہ کی امتحانی کارکردگی پرمنحصر ہو گیا۔

اس طرح امتحانات جو کہ تعلیمی لحاظ سے مقاصد کے حصول کا ذریعہ تھے بجائے خود مقصد بن گئے اور اب بھی ہمارے تعلیمی ماحول میں امتحانی سرگرمیوں کو نمایاں اہمیت حاصل ہے ۔

نظام تعلیم کے مختلف عوامل میں نصاب کے تدوین مقاصدکے تعین درسی کتب کی فراہمی تدریسی سہولتیں ؛ اداروں کے لئے آلات اور اساتذہ کی تربیت شامل ہے ۔ اس نظام میں امتحانات تدریسی کار روائیوں کا مرکب حصہ ہیں وہ نہ صرف مقاصد کے حصول کی پیمائش کرتے ہیں بلکہ ان کو صحیح طور پر ان کے حصول میں ممد و معاون ہونا چاہیے۔

اس لحاظ سے ضروری ہے کہ امتحانی بورڈ کو بھی اپنے محدود فرائض یعنی صرف امتحانات سےنکل کر تعلیمی تحقیق اور مطالعاتی سرگرمیوں

کے فرائض بھی سنبھا لنا چاہیے یہ اسی وقت ممکن ہو سکتا ہے۔

جب کہ طریقہ امتحانات میں داخلی امتحانات کو بھی مروج بنا کر امتحانی بورڑ صرف ایک حتمی فیصلہ دینے والا ادارہ نہ رہے بلکہ وہ نظام تعلیم کا ایک جز بن کر نظام تعلیم کے تدریجی ترقی اور اصلاح کا بھی باعث بن سکے ۔

۲- مندر جہ با لا معروضات کی روشنی میں یہ دیکھ کر اطمینان ہوتا ہے کہ پاکستان میں فنی تعلمی اداروں میں داخلی امتحانات کو بھی کافی اہمیت حاصل ہے۔

یہ ادارے جو اپنی ابتدا ‏‏‏ہی سے سمسٹر سسٹم پر چل رہے ہیں ۔ مختلف امتحانی نظام کے مراحل سے گزر کر آج جس نظام پر گامزن ہیں اس میں داخلی اور بورڈ کے امتحانات کا ایک متناسب امتزاج ہے۔

جہاں تک داخلی طریقہ امتحانات کا تعلق ہے۔ اس کی کامیابی کا زیادہ تر دار مدار اساتذہ اور طلبا کی فرض شناسی اور دیانت داری اور محنت پر ہے۔ہمارے موجودہ سماجی ماحول میں بورڈ کے امتحانات کایکسر ختم ہوجانا بھی مناسب نہیں ہے۔ عوام الناس بھی امتحانی بورڈ کو ایک لائق اعتبار ادارہ سمجھتے ہیں اور بورڈ کے ذریعہ پاس ہونے والے طلبا کوملازمتوں میں بھی ترجیحی سلوک ملتا ہے ۔

لیکن اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اساتذہ پر زیادہ سے زیادہ ت اعتبار کے ذریعے سے مستحکم تعلیم کی بنیاد ڈالی جاسکتی ہے۔ ایسے تمام ممالک جہاں بہتر تعلیمی اور تدریسی نظام مروج ہیں وہ صرف دیانت دار اساتذہ اور محنتی طلباء کے مرہون منت ہیں ۔

امتحانی اصطلاحات کا بنیادی مفروضہ بھی یہی ہونا چاہیئے۔کہ استاتذہ پر زیادہ سے زیادہ اعتبار کیا جا‏‏‏ئے اور طلباء کی لیاقت کے معیار کو جانچنے میں ان کی را‏‏‏ئے کا احترام کیا جا‏‏‏ئے اور صحیح را‏‏‏ئے قا‏‏‏ئم کرنے کے لئے معروضی طریقہ امتحانات کو رواج دیا جائے۔

۳- مستقبل میں بورڈ کے فرائض :

جیسا کہ اور اوپڑ عرض کیا جا چکا ہے ۔ اس وقت امتحانی بورڈ اپنی تمام تر توجہ صرف امتحانات کے انعقاد پر مرکوز کیئے ہوئے ہیں۔

اگر تعلیمی نظام کو ایک حقیقی پیداواری نظام سے تشبیہ دیں تو اس میں طلبا بطور خام مال داخل کیے جاتے ہیں اور مختلف تدریسی عوامل کے تحت یہ پہلے سے متعین کردہ مقاصد کے مطابق زیور علم و ہنر سے آراستہ ہو کر نکلتے ہیں اس نظام میں امتحانات اس پیداواری اکائی کے کوالٹی کنٹرول کے شعبہ کا کام کرتے ہیں کہ کس حد تک متعین کردہ مقاصد کا حصول ممکن ہو سکا ۔

ان امور کو پیش نظر رکھتے ہوئے ملک کے فنی تعلیمی بورڑوں نے امتحانی نظام میں اصلاح کا ایک جامع منصوبہ تیار کیا جو وزارت تعلیم کی منعقد کردہ کانفرنس مئی۱۹۷۷ء میں زیر غور آیا اور منظور کیا گیا ۔

اس جامع منصوبہ کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ بورڈ امتحانات کے محدود فرائض سے باہر نکل کر وسیع پیمانہ پر تعلیمی تحقیق کا کام انجام دے اور تعلیمی اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لئے ایک مشاورتی ادارہ کے فرائق انجام دے ۔

۴- فنی تعلیمی بور ڈوں کا لائے عمل

فنی تعلیمی بورڈوں کا لائحہ عمل حسب ذیل ہے ۔

الف ) موجوده خارجی طریق امتحانات کی اصلاح

۱- امتحانی سوالات اور نصاب کے مقاصد میں ہم آہنگی پیدا کرنا

۲- داخلی اور خارجی امتحانات میں نشانات کے تفاوت کو ختم کرنا ۔

۳- اختیاری سوالات کی تعداد بتدریج گھٹانا ۔

۴- معروضی امتحانات کے سوالات کا ذخیرہ تیار کرنا۔

۵- اساتذہ کو تکمیل نصاب اور دیگر امور کا ذمہ دار بنانا

۶- امتحانی مراکز میں بدعنوانیوں کا سد باب کرنا۔

ب ) تدریجی طور پر داخلی امتحانات کا رواج

۱- مضمون کے وسعت کے لحاظ سے نشانات کا تعین -

۲- امتحافی کا پیوں کا طلبا کے اپنا اساتذہ کے ذریعہ جانچنا۔

۳- داخلی اور خارجی امتحانات کے نشانات میں ربط کا مطالعہ

۴- داخلی امتحانات میں حاصل شده نشانات کا بورڈ کی مارک شیٹ میں اندراج –

۵- لبا کو اپنے حل شدہ پر چوں کو دیکھنے کی سہولت دینا کہ انہیں اپنی خامیوں کا اندازہ ہو۔

ج ) بورڈ کا مشاورتی فرائض کو وسعت دینا

۱- نصاب کا جائزہ اور اصلاح

۲- فنی اداروں کے لئے جائزہ ٹیم مقرر کرنا ۔

۳- پیشہ ورانہ اداروں کے لئے داخلوں کے امتحانات کا انعقاد

۴- طلباء کی عملی تربیت کیلئے صنعتی اداروں اور تعلیمی اداروں کے درمیان رابطہ کا کام ۔

د) تحقيماتی کاموں کا اجرا

۱- بورڈ میں تحقیقی شعبہ قائم کرنا ۔

۲- تدریسی مواد اور ماخذ تیار کرنا

۳- جدید طریقہ امتحانات میں اساتذہ کی تربیت

۴- درسی کتابوں کی غیر موجودگی میں طلبا کے لئے مشقی کتابچہ ( Manuals ) تیار کرنا ۔

۵- امتحانات میں فیل ہوتے کے اسباب کی چھان بین کرنا۔

۶- تعلیمی اور تدریسی مرکز قائم کرنا

اس جامع منصوبہ کو رویہ عمل لانے کے لئے ضروری ہے کہ فنی تعلیمی بور ڈوں کے مالی وسائل کو بہتر بنایا جائے۔ اس سلسلہ میں ایک بات قابل غور ہے کہ فنی تعلیم پر اساتذہ کی تنخواہ ، تدریسی آلات خام مال اور دیگر ترقیاتی غیر ترقیاتی اخراجات پر سالانہ کئی کروڑ روپے سے زائد خرچ ہوتے ہیں لیکن امتحانی بورڑ جو کہ اس تمام نظام کے کارکردگی کی نگرانی کرتا ہے کا بجٹ صرف چند لاکھ روپے ہے جو کہ بلکلیہ بورڈ اپنے وسا‏‏‏ئل سے مہیا کرتا ہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ بورڈوں کو مالی مشکلات سے نجات دلانے کے لئے حکومت کی طرف سے گرانٹ کا طریقہ را‏‏‏ئج کیاجا‏‏‏ئے تاکہ بورڈ اپنی تمام تر ترجیہات تعلیمی معیار کو بہتر بنانے میں صرف کر سکے ۔

۳۹

فنی تعلیم میں تدریسی مواد کی تیاری

(پس منظر ، ترجیحات اور حکمت عملی)

پولی ٹیکنک کے طلبہ کے لئے درآمد کی جانے والی کتابوں کی طرز تحریر عام طالب علم کی سمجھ سے بالاتر ہوتی ہے مناسب کتابوں کی غیر موجودگی پولی ٹیکنک کے تربیت کے معیار پر شاید سب سے زیادہ اثر انداز ہونے والا عنصر ہے ۔ اس لئے ضروری ہے کہ وزارت تعلیم صوبا‏‏‏ئی حکومتوں ؛ تعلیمی بورڈ اور یونیورسٹی گرانٹ کمیشن کے مشورے سے ایک منصوبہ بنا‏‏‏ئے تاکہ بالخصوص فنی کتابوں کی تدوین کے لئے مناسب ترغیبات مہیا کی جاسکیں ۔"

چھٹے پنجسالہ منصوبے سے ماخوذ مندرجہ بالا پیراگراف اس موضوع پر حکومت کی پالیسی اور تشویش کا مظہر ہے اس سے نہ صرف فنی تدریسی کتابوں کی تدوین کی ترجیحات کی ضرورت کا تعین ہوتا ہے بلکہ اس سلسلہ میں رہنما اصول بھی معین ہوتے ہیں ۔

۴۰