معیار تعلیم اور تدریسی موضوعات

معیار تعلیم اور تدریسی موضوعات0%

معیار تعلیم اور تدریسی موضوعات مؤلف:
: مصنف/ مؤلف
: مصنف/ مؤلف
زمرہ جات: زبان وادب لائبریری
صفحے: 43

معیار تعلیم اور تدریسی موضوعات

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

مؤلف: محقق ڈاکٹر میر محمد علی
: مصنف/ مؤلف
: مصنف/ مؤلف
زمرہ جات: صفحے: 43
مشاہدے: 155
ڈاؤنلوڈ: 28

تبصرے:

معیار تعلیم اور تدریسی موضوعات
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 43 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 155 / ڈاؤنلوڈ: 28
سائز سائز سائز
معیار تعلیم اور تدریسی موضوعات

معیار تعلیم اور تدریسی موضوعات

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

ضروریات کا جائزہ :

جیسا کہ اس سے پہلے بیان کیا گیا کہ فنی اور پیشہ وارانہ تعلیم میں در سی کتب ؛ مطالعاتی مواد اور دوسرے درسی وسائل کی قلت ہے۔ اس سلسلے میں پاکستان صرف تنها ملک نہیں ہے۔ یونیسکو کے ایک مطالعاتی جائزے سے ظاہر ہے کہ "ترقی پذیر ممالک فنی تعلیم تدریسی وسا‏‏‏ئل مثلا تعلیمی موا د درسی کتب ورکشاب اور لیبارٹری کے سامان اور درس و تدریس کے وسا‏‏‏ئل کی کمی سے دوچار ہے ہے۔"

اس کے علاوہ مختلف سطوں پر (قومی علاقائی بین الاقوامی) کی جانے والی کوششوں سے پتہ چلتا ہے کہ یہ مسئلہ تمام تر ترجیحات کا مستحق ہے ۔

پاکستانی تجربہ :

مندرجہ بالا پس منظر میں جب ہم پاکستان میں کی جانے والی کوششوں پر نظر ڈالتے ہیں تو یہ عیاں ہوتا ہے کہ یہاں فنی تعلیمی بورڈ نظامت فنی تعلیم اور وفاقی وزارت تعلیم اور مختلف افراد کی اپنی ذاتی کوششوں کی بنا پر اس مسئلے سے نمٹنے کی کوشش کی گئی ہے لیکن اس مسئلے کی سنگینی اور وسعت کی بنا پر ابھی تک کوئی قابل لحاظ پیش رفت نہیں حاصل ہو سکی۔ اس کی بظاہر چند وجوہات ہیں:

‌أ. تنظیمی ڈھانچہ کا فقدان

‌ب. باہمی رابطہ کی غیر موجودگی

‌ج. مکمل منصوبہ کی عدم موجودگی ۔

‌د. وسائل کی کمی

‌ه. مہارت کا فقدان

۴۱

مجوزه حکمت عملی :

او پر بتائی ہوئی خامیوں کے پیش نظر تدریسی مواد کی تیاری کے لا‏‏‏ئحہ عمل کو اس طرح ترتیب دینا چاہیے کہ ان امور کی تلافی ہو سکے۔ اس سلسلے میں حسب ذیل حکمت عملی پر غور کیا جا سکتا ہے۔

۱۔ انتظامی ڈھانچہ : بغیر کی انتظامی ڈھانچہ کے تدریسی مواد کی تیاری کے پروگرام میں کامیابی کی ضمانت نہیں دی جا سکتی ۔ اب تک کی جانے والی تمام کاوشیں صرف انفرادی دلچسپیوں کی مرہون منت رہی ہیں۔ یہ ضروری ہے کہ وفاقی و صوبا‏‏‏ئی سطح پر مناسب تنظیمی ڈھانچہ قائم کئے جائیں ۔ وفاقی وزارت تعلیم میں کل وقتی اسٹاف پر مشتمل ایک شعبہ ( CELL ) قائم کیا جائے ساتھ ساتھ مختلف تعلیمی بورڈ میں تدریسی مواد کی تیاری اور کاروائیوں کی نگرانی کے لئے شعبے قا‏‏‏ئم کیے جائیں۔ ذمہ داری کے فقدان کی وجہ سے اس معاملے میں کوئی پیش رفت نہ ہو سکی چونکہ ٹیکسٹ بک بورڈ عام طور پر فنی کتابوں کی تدوین و تالیف اور طباعت کو ایک گھاٹے کا کاروبار سمجھتے ہیں اس سلسلے میں ان کی طرف سے کسی مدد کی گنجا‏‏‏ئش نہیں ہے ۔

۲۔ ضروریات کا تعین : تنظیمی ڈھانچے کے تعین کے بعد دوسرا مرحلہ ضرورتوں کےجائزہ کا ہے۔ اس سلسلے میں مروجہ نصاب کی بنا پر ضروریات کا تعین کیا جائے۔ ہر ٹکنالوجی میں تین یا چار ماہر مضمون ( Subject Specialist ) پرمشتمل گروپ بنائے جائیں جو اس بات کا تعین کریں کہ کون کون سے مضامین میں جن میں تدریسی مواد کی تیاری (تالیف یا تدوین) ضروری ہے اور ان کی کیا ترجیحات ہوتی چا ہیں ۔

۳۔ تدریسی مواد کا انتخاب : مضامین کی نشاندہی کے بعد اہم مرحلہ تدریسی مواد کے انتخاب اور تیاری کا ہے یہ نہ صرف اہم مرحلہ ہے بلکہ کٹھن بھی ہے ۔ تدریسی مواد کی تیاری کے مندرجہ ذیل ممکن طریقے ہیں ۔

‌أ. کسی اس کتاب کا انتخاب جس میں مضمون سے متعلق زیادہ سے زیادہ مواد موجود ہو۔

‌ب. دو یا تین کتابوں کو کجا کرکے ان سے مطلوبہ مواد منتخب کیا جا‏‏‏ئے ۔

‌ج. پہلے اور دوسرے طریقے سے حاصل شده مواد کو مقامی ضروریات اور طلباء کے فہم ادراک کے مطابق اس میں رد و بدل کی جائے۔

‌د. ایک یا ایک سے زائد ماہر تجربہ کا راساتذہ کے نوٹس انفرمیشن شیٹ وغیرہ کو مربوط طریقے پر جمع کیا جائے تاکہ مضمون کے تسلسل سے ہم آہنگ ہوں ۔

‌ه. ماہر اساتذہ کو انفرادی یا اجتماعی طور پرکتابیں لکھنے کا کام سونپا جا‏‏‏ئے ۔ درسی مواد کے انتخاب کے ضمن میں یہ امر بھی قابل غور ہے کہ ضروری مواد کی تیاری پر پہلے توجہ دی جائے۔

۴ ۔ ادارت: تدریسی مواد کی تدوین یا تالیف کے بعد اس کے ادارت ( Editing ) کا مرحلہ درپیش ہوتا ہے ۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ کچھ ما ہر اساتذہ کو ادار تی طریقہ کار کی تربیت دی جائے۔

۵۔ تدویسی مواد کے نسخہ ( Manuscript )

کی ادارت کے بعد اس کو محدود تعداد میں چھاپا جا‏‏‏ئے یا آزما‏‏‏ئشی طور پر چند اداروں میں ما‏‏‏ئکروٹسٹ کیا جا‏‏‏ئے اس کے لئے ان محدود تعداد میں استعمال کی جانے ولی کتابوں کو مختلف اور پر جانچنے کے لئے تفصیلی ہدایات دی جائیں آزما‏‏‏ئشی دور کے بعد حاصل ہونے والی اطلاعات کی روشنی میں نسخہ میں مناسب رد و بدل کی جاتی ہے اور اس کے بعد ان کتابوں کو طباعت کی جائیں ۔

۶۔ پولی ٹیکنیک کے موجودہ نظر ثانی شدہ نصاب کے سلسلے میں ایک یہ تجویز بھی قابل غور ہے کہ ہر ٹکنالوجی کے دو تین یکساں مضامین کو یکجا کر کے ماڈول Module )) کی شکل میں بارہ یا پندرہ حصوں میں ترتیب دیا جا‏‏‏ئے اس طرح سے کتابوں کی تعداد بھی کم ہو جائے گی۔

پاکستان میں فنی تعلیم کو را‏‏‏ئج ہوئے ۳۰ سال کا عرصہ ہو چکا ہے ابتداء میں تعلیمی سہولتوں کی توسیع پر زیادہ توجہ دی گئی جس کے نتیجے میں اس وقت پاکستان میں فنی تعلیم کا ایک قابل لحاظ ڈھانچہ موجود ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ تعلیم کے معیار پر مناسب توجہ دی جا‏‏‏ئے ۔ تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل طلباء کے معیار کا دارومدار مختلف عوامل پر ہے جن میں اساتذہ کی استعداد تعلیمی سہولتیں اور سازو سامان کی دستیابی ؛ تدریسی مواد اور وسا‏‏‏ئل ہیں جن میں سب سے موخر الذکر تمام تر توجہ چاہتا ہے ۔

اب تک فنی درسی کتب کی تیاری پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی اور نہ ہی اس سلسلے میں سنجیدگی کے کو‏‏‏ئی آثار نمایاں ہیں ۔ یہ نہ صرف تعجب بلکہ افسوسناک صورت حال ہے کہ اداروں کے قیام اور عمارتوں کی تعمیر پرتوجہ دی جارہی ہے لیکن تدرس و تدریس کے لئے ضروری مواد کے سلسلے میں ہم رجلیت پسند واقع ہوئے ہیں جو دراصل حقائق سے گریز کرنا ہے ۔ اس لئے ضروری ہے کہ بور ڈ اور نظامت فنی تعلیم آپس میں صلاح مشورہ اور اپنی مدد آپ کے اصول پر تدریسی مواد کی تیاری کے لئے ایک قابل عمل منصوبہ بنائیں ۔

ٹریفک کے حادثات اور اُن کی رو ک تھام

ڈرا‏‏‏ئیوروں کی تعلیم و تربیت کے لیے چند تجاویز

ٹریفک کے حادثات کے بڑھتے ہوئے واقعات کے متعلقہ محکموں اور ابلاغ عامہ کے ذریعوں کو اس بات پر مجبور کر دیا ہے کہ حفاظتی اقدامات کے لئے تمام متعلقہ امور کا معروضی تجز یہ کیا جائے ۔موٹر گاڑی کو چلانے میں جو خطرات مضمر ہیں وہ کسی دوسرے پیشہ وارانہ کام سے زیادہ ہیں مثلا:

ایک الیکٹریشن کا کام بھی خطرناک ہوتا ہے لیکن حادثہ کی صورت میں اس کا اثر محد و داور مقامی ہوتا ہے مگر ایک موٹر گاڑی کے حادثہ کا دائرہ اثر زیادہ وسیع ہوتا ہے جو آئے دن کے حادثات کی مختلت اخباری اطلاعات سے عیاں ہے موٹرگاڑی کے حادثات کے عوامل میں خطرناک ڈرا‏‏‏‏‏‏ئیونگ کے علاوہ سڑکوں کی ساخت ٹریفتک انجینرنگ کا فقدان گاڑی کی اپنی حالت کے علاوہ راہگیروں کی غیر محتاط روش بھی شامل ہے

لیکن ان عوامل میں سب پر محیط ڈرائیور کا عمل ہوتا ہے۔ ڈرائیور کی صحیح تعلیم و تربیت تجربہ اور موقع شناسی اکثر اوقات حادثات کو روکنے میں یا اس کے دا‏‏‏ئرہ اثر کو گھٹانے میں ممد و معون ثابت ہو سکتی ہے ۔

اس لحاظ سے ڈرا‏‏‏ئیوروں کی صحیح تعلیم و تربیت کا انتطام حادثات کے روک تھام کے سلسلے میں پہلا قدم ہونا چاہئے ۔

ہمارے ملک میں موٹڑ گاڑیوں کے ڈرا‏‏‏ئیوروں کو لا‏‏‏ئسنس دینے کے سلسلے میں احتیاط نہیں برتی جاتی اب تک محض چند زبانی سوالات کے جوابات اور چند معین کردہ طریقوں سے کام چلا کر ٹسٹ لینا لا‏‏‏ئسنس کے اجرا کے لئے کافی سمجھا گیا ہے ۔ اس پر مستنراد یہ کہ ایک دفعہ لا‏‏‏ئسنس کے اجرا کے بعد پھر اس کی تجدید ایک خود کار عمل ہے اور بغیر یہ دیکھے کہ لا‏‏‏ئسنس کے اجرا کے بعد ڈرا‏‏‏ئیور کی جسمانی ؛ طبیعی اور ذہنی حالتوں میں کیا فرق پیدا ہوا ہے سالانہ لا‏‏‏ئسنس کی تجدید ہو جاتی ہے ۔

یہ امر باعث طمانینت ہے کہ موٹر ڈرائیوک کی تعلیم اور تربیت کی اہمیت کے پیش نظر حادثات کی روک تھام کے لئے چیف مارشل ایڈمنسٹریٹ نے چاروں صوبوں میں ڈرا‏‏‏ئیونگ اسکولوں کے فوری قیام کو واضح ہدایات دی ہیں۔ سندھ کے مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر نے بھی حادثاث کی روک تھام کے ‏‏‏‏‏‏لئے صوبہ کے محکمہ ٹرانسپورٹ کے سکریٹری کی سربراہی میں ایک کمیٹی قا‏‏‏ئم کی ہے جس نے اس سلسلہ میں عوام سے تجاویز طلب کی ہیں ۔

فنی تعلیمی بورڈ نے حادثات کی روک تھام کے لئے ڈرا‏‏‏ئیور کی صحیح اصولوں پر تعلیم و تربیت کی اہمیت کو پیش نظر رکھتے ہو‏‏‏ئے آج سے ایک سال قبل چند اہم اقدامات کئے ۔

یہ محسوس کرتے ہوئے کہ موٹر ڈرائیونگ پیشہ ورانہ صلاحیت کے زمرہ میں آتی ہے اور اس لحاظ سے یہ بورڈ کے دائرہ فرائض میں شامل ہے فنی تعلیمی بورڈ نے متعلقہ محکموں سے اس سلسلہ میں رجوع کیا جن میں محکمہ پولیس محکمہ ٹرا نسپورٹ اور ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی شامل ہیں۔

متعلقہ محکموں سے طویل خط و کتابت اور گفت وشن کے بعد موٹر ڈرائیونگ اسکولوں کے سلسلہ میں حسب ذیل فیصلے کئے گئے ۔

‌أ. صوبہ میں موٹر ڈرائیونگ سکھانے کے تمام اداروں پر لازم ہو گا کہ وہ اپنے آپ کو فنی تعلیمی بورڈ سے رجسٹرڈ کرا‏‏‏ئیں ۔

‌ب. لا‏‏‏ئسنس دینے کے محاذ افسر ( جو کہ متعلقہ سپرنڈنٹ پولیس ہوتا ہے ) پر لازم ہو گا کہ وہ صرف انہی اداروں کو ایم – ایس فارم جاری کرے جو ٹکنیکل بورڈ سے منظور شدہ ہون ( ایم _ ایس فارم ڈرا‏‏‏ئیونگ اسکول کھولنے کا پولیس کا اجازت نامہ ہے ۔) اس دینے کے حافسر قلم سیشن پای تارہ را

‌ج. ڈرائیونگ لائسنس جاری کرتے وقت افسر مجاز صرف بورڈ سے منظور شدہ اداروں کے صداقت نامے قبول کرے گا۔

‌د. فنی تعلیمی بورڈ ان اداروں کے رجسٹرین کا طریقہ کار وضع کرے گا اوران اداروں کے تعلیمی معیار کے سلسلہ میں مناسب اقدامات کرے گا ۔

‌ه. فنی تعلیمی بورڈان اداروں میں زیر تربیت افراد کا امتحان بھی لے گایا اپنی نگرانی میں ان اداروں کو امتحانات منعقد کرنے کی اجازت دے گا۔

مندرجه بالا واضح فیصلوں کے باوجود جو کہ حادثات کی روک تھام میں ایک مثبت اقدام تھا اب تک ان پر عملدآمد نہیں ہو سکا۔ روایتی مزاحمتیں جو کسی بھی اسلامی عمل کے آڑے آتی ہے کار فرما نظر آتی ہیں ۔

اب جب کہ یہ مسئلہ حکومت کی اعلی سطح پر توجہ کا مرکز بنا ہے ۔

قوی امید ہے کہ: اس کے حل کے لئے مثبت اقدامات کئےجا‏‏‏ئیں گے۔ موٹر ڈرا‏‏‏ئیوروں کی تربیت کی اہمیت کے پیش نظریہ ضروری ہے کہ محض گراؤنڈ ٹسٹ کی کامیابی کو ہی لائسنس کے اجراء کے لئے کافی نہ سبھا جائے بلکہ اس بات کا بھی اطمینان کیا جائے کہ متعلقہ فرد نے ایک تربیت یافتہ استاد کے زیر نگرانی ایک معینہ نصاب تعلیم کی تکمیل کی ہے کیونکہ باقاعدہ تعلیم اور مشق ہی کے ذریعے سے صحیح قسم کا میلان طبع اور ذہنی رویہ پیدا کیا جاسکتا ہے جو کہ اس اہم پیشہ کے لئے ضروری ہے ڈرائیوروں کی تربیت کے تمام امور بلا شبہ پیشہ ورانہ تربیت ا در تعلیم کے زمرے میں آتے ہیں جن کے لئے فنی تعلیمی بورڈ کوآرڈیننس کے ذریعہ مجاز گردانا گیا ہے۔

یہ بورڈ پنجاب ؛سندھ اور سرحد میں پہلے ہی سے قا‏‏‏ئم ہے اور اپنے اپنے صوبوں میں ہر قسم کی پیشہ وارانہ تعلیم اور تدریس کے ماہرین کی کمیٹیاں موجود ہیں جو ان امور کی نگرانی کرتی ہیں لا‏‏‏ئسنس اجرا کرنے سے متعلق موجودہ محکموں میں اس قسم کی سہولتوں کا سراسر فقدان ہے ۔

اب جبکہ اس مسئلہ کے حل کا از سرنو جا‏‏‏ئزہ لیا جارہا ہے حسب ذیل تجاویز پیش کی جاتی ہیں ۔

۱- موٹرورا ٹیونگ اسکولوں کا الحاق صوبوں میں متعلقہ فنی تعلیمی بورڈ سے ہونا چا ہیے۔

۲- موٹر وہیکل کے مروجہ قانون اور قواعد میں مناسب ترمیم کے ذریعے ڈرا‏‏‏ئیونگ اسکولوں کی نگرانی فنی تعلیمی بورڈ کو تفویض کی جا‏‏‏ئے ۔ ( صوبہ سندھ میں فنی تعلیمی بورڈ نے ترمیم کی تجاویز متعلقہ محکمہ ٹرانسپورٹ کو پیشی کر دی ہے)

۳- ڈرائیور کے نصاب میں موٹر ڈرائیونگ کےعلاوہ ابتدا‏‏‏ئی طبی امداد سے متعلق ہدایات کو بھی شامل ہونا چاہئے۔ ڈرا‏‏‏ئیونگ کو موٹر گاڑی کےمختلف آلات اور پرزوں مثلا :

بریک ؛ کلچ ؛ ایکسلیٹر ؛گیر بدلنے کے آلات اور ڈرا‏‏‏ئیو کے سامنے لگے ہو‏‏‏ئے تمام میٹروں کے کام کے کام اور ان کی اہمیت سے بھی واقفیت ہونی چاہیے۔

اس کے علاوہ وقت ضرورت ڈرائیور گاڑی کی معمولی مرمت اور نقائص کو دور کرنے کا اہل ہونا چاہیے۔

۴- ڈرا‏‏‏ئیونگ ٹسٹ کے وقت ڈرائیو کو اس بات کا صداقت نامہ پیش کرنا ہوگا کہ اس نے فنی تعلیمی بورڈ سے منظور شدہ اسکول میں معینہ مدت تک تعلیم حاصل کی ہے۔

۵- بسوں؛ ٹیکسیوں اور ٹرک ڈرائیوروں کو لازمی طور پر منظور شدہ ڈرائینگ اسکولوں میں ٹریننگ لیتی ہوگی ۔

۶- ایسے افراد کو جو خانگی گاڑیوں پر ڈرا‏‏‏ئیونگ سیکھتے ہیں ان پر بھي لازم ہو گا کہ وہ لا‏‏‏ئسنس کے لئے ٹسٹ سے پہلے کسی منظور شدہ اسکول سے مختصر مدت کا کورس مکمل کریں۔

۷- ڈرا یونگ لائسنس کے اجراء کے وقت امیدواروں کا تفصیلی طبی معائنہ ضروری ہے تاکہ ان کا جسمانی نقا‏‏‏ئص ؛ خون کادباؤ اور بینا‏‏‏ئی نقا‏‏‏ئص اور نشہ کی عادت اور ذیابیطس کی تشخیص ہو سکے جو کہ ڈرا‏‏‏ئیور کی استعداد میں حا‏‏‏ئل ہوتے ہیں۔

۸- موٹر ڈرا‏‏‏ئیونگ لا‏‏‏ئسنس کے لئے ٹسٹ کے دو حصے ہو تے ہیں ۔

الف ) ایک ابتدا‏‏‏ئی ٹسٹ جو کہ ٹکنیکل بورڈ کے زیر نگرانی ہو ۔ اس میں تربیتی نصاب سے متعلق تحریری یا زبانی سوالات کئے جا‏‏‏ئیں ۔ لیبارٹری میں مختلف آلات کے استعمال کے ذریعہ ڈرائیور کے ذہنی رجحان ، نظر اور اعضا و جوارح کے ردعمل کی تشخیص کی جائے ۔

ب ) صرف و ہی افراد جو مندرجه بالا ابتدائی ٹسٹ پاس کریں ڈرائیونگ کے عملی امتحان میں شرکت کے قابل ہوسکیں گے۔ اس امتحان کے لئے ممتحن حضرات پولیس ٹرانسپورٹ اتھارٹی اور ٹکنیکل بورڈ کے نما‏‏‏ئندوں پر مشتمل ہوں۔

(اس قسم کی ایک شق مروجہ موٹر وہیکل رولز میں روڈ ٹرانسپورٹ کے ڈرائیوروں کے سلسلے میں موجود ہے)

۹- موجودہ ڈرائیوروں کے لائنس کی تجدید اس وقت کی جائے جب وہ فرسٹ ایڈ کا امتحان پاس کر لیں شہری دفاع کے محکمہ کے زریعہ اس تربیت کا انتظام کا جاسکتا ہے ۔

۱۰- ڈرائیونگ لا‏‏‏ئسنس کی تجدید خانگی ڈرائیوروں کی صورت میں بہ یک وقت دو سال سے زائد نہ ہواور ہر دفعہ طبی معائنہ ضروری ہو۔

۱۱- بڑے شہروں میں لا‏‏‏ئسنس کے لے امیدر وں کی تعداد کا لحاظ کرتے ہوئے گورنمنٹ کے علاوہ خانگی ڈرائیونگ اسکولز بھی قائم کرنا ضروری ہوگا جو متعلق ساز وسامان سے آراستہ ہوں، اندرونی علاقوں میں کم ازکم ڈویژنل سطح پر ڈرائیونگ اسکولز ابتدائی مرحلہ میں قا‏‏‏ئم کئے جائیں ۔ اس مقصد کے لئے موجودہ پولی ٹکنیک اداروں اور وکیشنل تربیت کے اداروں سے مدد لی جا سکتی ہے۔بالآخر ضلعی صدر مقام پر ڈرائیونگ کا ایک معیاری اسکول قائم کرنا ہوگا۔

۱۲- ہر موٹر گاڑی اور خصوصا بس ؛ ویگن اور ٹیکسوں میں ابتدا‏‏‏ئی طبی امداد کا بکس موجود رہنا چاہیے۔

۱۳- محکمه ٹرانسپورٹ یا پولیس کے محکمہ میں تحقیق شعیہ قا‏‏‏ئم کیا جا‏‏‏ئے جو مختلف قسم کے حادثات اور متعلق مواد اور اعداد و شمار جمع کرے جس کی روشنی میں مزید اصلاحات روبعمل لا‏‏‏ئی جا‏‏‏ئے ۔

۱۴- ڈرائیوروں راہ گیروں اور ٹریفک پولیس کے عملہ کے لئے وقتاً فوتا تربتی پروگرام منعقدکئے جا‏‏‏‏‏‏ئیں ۔ سمینار ؛ کانفرس اور ذرایع ابلاغ عامہ کے توسط سے عوام میں ٹریفک کے حادثات سے بچاؤ کا مسلسل رحجان پیدا کیا جائے۔

۱۵- ٹریفک کے قوانین پرسختی سے عمل کیا جائے بے قاعدگیوں میں ملوث افراد کو سخت سزائیں دی جائیں اور ایسے ڈرائیوروں کو جو طویل اور بے داغ ریکارڈ کے حامل ہوں ۔ ترغیبات اور انعامات دیئے جائیں ۔

مضمون کے آخر میں ایک بار پھر اس امر کی نشانہ ہی ضروری ہے کہ جب تک ڈرائیوروں کی تعلیم و تربیت کو سا‏‏‏ئنیفک طریقوں پر استوار اور مضبط نہ کیا جائے حادثات کی روک تھام نہ ہو سکے گی ۔

ان اصلاحات کو نتیجہ خیز بنانے کے لئے ضروری ہے کہ مناسب تجاویز کا معروضی جائزہ لیا جائے اور ان پر دیانتداری سے عملدر آمد کے انتظامات کئے جائیں۔

سٹرکوں پر حادثات میں انسانی جانوں کا ضیاع ایک اہم انسان مسئلہ ہے جس سے کوئی متمدن معاشرہ چشم پوشی نہیں کر سکتا ۔

۴۲

مصنف

میر محمد علی عثمانیہ یونیورسٹی سے انجینرنگ میں بیچلرز اور راوکلا ہوما اسٹیٹ یونیورسٹی امریکہ سے فنی تعلیم میں ماسٹر کی ڈگری حامل ہیں ۔ وہ انسٹی ٹیوشن آف انجینر‏‏‏ز پاکستان کے لا‏‏‏ئف فیلو ہیں ۔

پاکستان میں پالی ٹکنک طرز تعلیم کی منصوبہ بندی ؛ نصاب کی تدوین اور نفاذ کے لئے قا‏‏‏ئم کی جانے والی اولین ٹیم کے رکن رہیں ہے۔ جس نے ۱۹۵۴ء میں فنی تعلیم کا پہلا منصوبہ بنایا اپنی ۳۷ سالہ پیشہ ورانہ خدما ت کے دوران وہ تعمیرات عامہ کے علاوہ فنی تعلیم کے محکمہ میں تدریس اور تربیت اساتذہ اور بحیثیت پرنسپل منسلک ہے

اور دیگر انتظامی عہدوں پر فائز رہے ہیں جس میں ناظم فنی تعلیم سندھ اڈیشنل سیکریٹری تعلیم اور چرمین فنی تعلیمی بورڈ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ وہ کولبو پلان اسٹاف کالج سنگاپور میں بحیثیت مشیر متعین کئے گئے۔

وہ یونسکو اور ایشین ڈولپمنٹ بنک میں ایک فنی ماہر کی حیثیت سے بھی متعارف ہیں۔ انکی تعلیمی خدمات پر ۱۹۶۹ ء میں انہیں بہترین استاد کا صدارتی تمغہ دیا گیا ۔

ان کی اولین تصنیف "پاکستان میں فنی تعلیم " پر انسٹی ٹیوشن آف انجنیز نے طلائی تمغہ دیا۔

زیر نظر کتاب کے علاوہ انکی حسب ذیل تصانیف اور تالیفات ہیں ۔

• سندھ میں اعلیٰ تعلیم کے معیار کی رپورٹ (۱۹۸۴ء)

• تھیمس ان ٹیلنٹیکل ایجویشن (۱۹۸۵ء)

• سندھ میں فنی تعلیم کی ترقی (۱۹۸۶‏‏‏ء)

• سندھ ایجو نیشنل جورنل چیف ایڈیٹر (۱۹۸۲-۸۷ ء)

• تعلیم اورتدریس سے تعلق مقالوں کا تیسرا مجموعہ (زیر طبع)

پیشہ ورانہ اور ثقافتی سرگرمیوں کے سلسلہ میں وہ جاپان ملیشاء، انڈونیشیاء بنگلادیش ؛ فلپا‏‏‏ئن ، بھارت تائی لینڈ ایران، عراق، برطانیہ، شام اور سعودی عرب کا دورہ بھی کر چکے ہیں۔

۴۳