دوسرا باب :نماز کے واجب اور مستحب افعال
ان کی کل تعداد بارہ ہے ۔
پہلا فعل : قیام (کھڑا ہونا)
اس میں کل بارہ مطالب ہیں :
پہلا مطلب: نماز ادا کرنے کی کیفیت، نماز کے آداب اور قیام کی کیفیت
۱- امام باقرعلیہ السلام نے فرمایا: جب نماز کے لئے کھڑے ہوجاؤ تو پاؤں کو ایک دوسرے سے نہ ملاؤ ان کے درمیان کم از کم ایک انگلی اور زیادہ سے زیادہ ایک بالشت کا فاصلہ رکھو اور کاندھوں کو ڈھیلا چھوڑ دو اور ہاتھوں کو کھلے چھوڑ دو اور انگلیوں کو ایک دوسری میں نہ ڈالو اور انہیں گھٹنوں کے بالمقابل رانوں کے اوپر رکھو اور اس حالت میں تمہاری نظر سجده گاہ پر ہو نی چاہئے اور جب رکوع میں جاؤ تو دونوں پاؤں کے درمیان ایک بالشت کا فاصلہ رکھ کر سیدھا رکھو اور دونوں ہتھیلیوں کو دونوں گٹھنوں پر دبا کر رکھو اور دائیں ہاتھ کی ہتھیلی کو دائیں گھٹنے پر بائیں سے پہلے رکھو اور انگلیوں کو گھٹنے کی آنکھ تک پہنچاؤ اورجب انگلیوں کو گھٹنوں پر رکھو تو انہیں الگ الگ کرکے رکھو اور اگر انگلیاں گٹھنوں تک پہنچ جائیں تو بھی کافی ہے۔ البتہ مجھے یہ بات زیادہ پسند ہے کہ ہتھیلیوں کو گٹھنوں کے اوپر دبا کر رکھو اور انگلیوں کو گھٹنے کی آنکھ پر الگ الگ کرکے رکھو اور پشت کو سیدھا رکھو اور گردن کو آگے کی جانب بڑھاؤ اوراسوقت اپنی نگاہیں دونوں پاؤں کے درمیان ہونی چاہئے اور جب سجدے میں جانا چاہو تو تکبیرکے لئے ہاتھ بلند کرو اور سجدے میں گر جاؤ اور گٹھنوں سے پہلے ہاتھوں کوایک ساتھ زمین پر رکھو اور اپنی کہنیاں اس طرح زمین پر پھیلا کر نہ رکھو جس طرح درندہ رکھتا ہے اور نہ ہی کہنیوں کو اپنے گھٹنوں اور رانوں کے اوپر رکھو بلکہ انہیں پھیلا کر رکھو اور دونوں ہتھیلیوں کو نہ تو گھٹنوں سے ملاؤ اور نہ ہی چہرے کے قریب لاؤ بلکہ دونوں کاندھوں کے درمیان رکھو اور نہ ہی دونوں گھٹنوں کے درمیان رکھو بلکہ ان سے قدرے الگ رکھو اور زمین پرپھیلا کر رکھو اور(جب سجدے سے سر اٹھاؤتو) دونوں ہاتھوں کو اپنی سمت جمع کرواور اگر ان کے نیچے کپڑا ہو تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے، لیکن اگر زمین کے اوپر رکھو تو افضل ہے اور سجدے میں انگلیاں پھیلا کے نہ رکھو بلکہ ملا کر رکھو آپ ؑ نے مزید فرمایا: جب تشہد میں بیٹھو تو دونوں گھٹنوں کو زمین سے ملا کر رکھو اور ان کے درمیان تھوڑا سا فاصلہ رکھو اور تمہارے بائیں پاؤں کی پشت زمین پر اور دائیں پاؤں کی پشت بائیں پاؤں کے تلوے پر ہونی چاہئے اور تمہارے سرین زمین پر ہوں اور تمہارے دائیں پاؤں کے انگوٹھے کا کنارہ زمین پر ہونا چاہئے، خبردار! قدموں کے اوپر نہ بیٹھنا کہ اس سے تمہیں اذیت ہوگی اور زمین کے اوپربھی نہ بیٹھنا اس طرح تمہارا بعض حصہ دوسرے بعض پر ہوجائے گا جس کی وجہ سے تم تشہد اور دعا کےلئے زیادہ دیر تک نہیں بیٹھ سکو گے۔ (۱)
۲۔ حماد بن عیسی نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے عرض کیا : مجھے نماز کی صحیح تعلیم دیں تو امام صادق علیہ السلام قبلہ رو ہو کر کھڑے ہوگئے اور اپنے دونوں ہاتھ کھلے چھوڑ کر اپنے دونوں رانوں پر لٹکا دئے اور ہاتھوں کی انگلیاں باہم ملا لیں اور اپنے پاؤں کو اتنا ایک دوسرے کے قریب کیا کہ ان کے درمیان تین کھلی ہوئی انگلیوں کا فاصلہ رہ گیا اور خشوع و سکون کے ساتھ پاؤں کی انگلیوں کا رخ سیدھا قبلہ کی طرف کیا تب کہا: "أَللہُ أَکبَرُ"پھر ترتیل کے ساتھ سورہ فاتحہ اور اس کے بعد سورہ قُل ھُوَ اللہُ اَحَد پڑھی اور سیدھے کھڑے ہوکرسانس لینے کی مقدار،توقف فرمایا پھراسی حالت میں کہا: "أَللہُ أَکبَرُ"پھر رکوع میں گئے اور اپنی دونوں ہتھیلیوں سے اپنے گٹھنوں کو مضبوطی سے پکڑا جبکہ آپ کی انگلیاں کھلی تھیں اور گٹھنوں کو اس طرح پیچھے دبایا کہ آپ کی پشت اس طرح سیدھی ہوگئی کہ اگر اس پر پانی یا تیل کا کوئی قطرہ گرایا جاتا تو پشت کے سیدھے ہونے کی وجہ سے نیچے نہ گرتا، پھرآپ نے اپنی گردن کو(آگے کی طرف ) بڑھایا اور آنکھوں کو نیچے جھکا لیا پھر ترتیل کے ساتھ تین بار تسبیح پڑھتے ہوئے کہا:
"سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیمِ وَ بِحَمْدِهِ"
اس کے بعد سیدھےکھڑے ہوگئے جب اچھی طرح کھڑے ہوگئے تو کہا:
"سَمِعَ اللهُ لِمَن حَمِدَهُ "
پھراس قیام کی حالت میں(تکبیرپڑھنے کے لئے) کانوں تک ہاتھوں کو بلند کیا اور سجدہ میں گئے اور دونوں گٹھنوں سے پہلے ہاتھوں کو زمین پر رکھا اور تین بار کہا:"سُبحَانَ رَبِّیَ الأَعلَی وَ بِحَمدِہِ"اور اس حالت میں اپنے جسم کا کوئی حصہ دوسرے کسی حصے پر نہ رکھا اور آٹھ اعضاء پر سجدہ کیا: پیشانی اوردو ہتھیلوں اور دو گھٹنے اور پاؤں کے دو انگوٹھوں کے سر اور ناک، اس کے بعد سجدہ سے سر بلند کیا اور جب اچھی طرح سیدھے ہوکر بیٹھ گئے تو کہا: "أَللہُ أَکبَرُ"اوراپنے (جسم کے)بائیں جانب بیٹھ گئے اور دائیں پاؤں کی پشت بائیں پاؤں کے تلوے پر رکھا اور کہا:"أَستَغفِرُ اللہَ رَبِّی وَ أَتُوبُ إِلَیهِ"پھر اسی حالت بیٹھ کرتکبیر کہی اور دوسرے سجدے میں گئے اور اس میں وہی( تسبیح) پڑھی جو پہلے سجدہ میں پڑھی تھی اور رکوع و سجود میں اپنے جسم مبارک کا کوئی حصہ دوسرے حصے پر نہیں رکھا اور کہنیوں کو پھیلائے رکھا تھا اور زمین پر پھیلائے نہیں رکھا تھا،اسی کیفیت کے ساتھ دو رکعت نماز پڑھی اس کے بعد فرمایا: اے حماد! اس طرح نماز پڑھو۔ (۲)
۳۔ امام باقرعلیہ السلام نے فرمایا: جب عورت نماز پڑھنے کے لئے کھڑی ہو تو اپنے دونوں قدموں کو باہم ملا کر رکھے اور ان کے درمیان فاصلہ نہ رکھے اور اپنے دونوں ہاتھوں کوباہم ملا کر، سینے کے اوپر پستانوں کے ساتھ رکھے اور جب رکوع میں جائے تو اپنے ہاتھوں کو گھٹنوں کے اوپر رانوں پر رکھے تاکہ زیادہ نہ جھکے جس کی وجہ سے اس کے سرین اوپر اٹھ جائے اور جب بیٹھے تو اس کے سرین پر بیٹھے مرد کی طرح نہ بیٹھے اور جب سجدے کے لئے جھکے توہاتھوں سے پہلے گھٹنے زمین پر رکھے اور جب سجدہ کرے تو زمین سے چمٹ جائے اور جب بیٹھے تو دونوں رانوں کو ملا کر اور گھٹنوں کوزمین سے اوپر اٹھا کر بیٹھے اور جب اٹھے تو چاہے آہستہ اٹھے اور پہلے سرین نہ اٹھائے۔(۳)
۴۔ امام باقرعلیہ السلام نے فرمایا: جب نماز کے لئےکھڑے ہو تو تم پر توجہ لازم ہے کیونکہ نماز میں سے تمہارے لئے وہی حصہ ہے جو تم توجہ سے کرو گے اور نماز میں ہاتھوں اور سر اور داڑھی سے نہ کھیلو اور دل میں خیالات کو جگہ نہیں دو اور نہ جمائی لو اور نہ انگڑائی، اور نماز میں ہاتھوں کو نہ باندھو کیونکہ یہ مجوسیوں کا طریقہ ہے اور منہ پر کپڑا نہ لپیٹو اور سکڑ کر نہ بیٹھو اور(سجدہ میں)اونٹ کی طرح پھیل کر بیٹھو اور قدموں کے اوپر نہ بیٹھو اور کہنیوں کو زمین پر نہ پھیلاؤ اور انگلیوں کے گٹکارے نہ نکالو کیونکہ ان تمام باتوں سے نماز میں کمی(نقص) واقع ہوتی ہے،اور سستی اور کاہلی اور اونگھتے ہوئے اور بوجھل بن کر نماز کے لئے کھڑے نہ ہو کیونکہ یہ منافقت کی علامت ہے۔ (۳)
۵۔امام باقرعلیه السلام نے فرمایا: سوائے پانچ چیزوں کے اور کسی چیز کی وجہ سے نماز کا تکرار نہ کیا جائے اور وہ یہ ہیں: طہارت اور وقت اور توجہ اور رکوع اور سجود ۔ (۴)
۶۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: نماز کے فرائض سات ہیں: طہارت اور وقت اور توجہ اور قبلہ اور رکوع اور سجود اوردعاء۔ (۵)