امت کی ہدایت احکام ائمہ علیہم السلام کی جانب

امت کی ہدایت احکام ائمہ علیہم السلام کی جانب 0%

امت کی ہدایت احکام ائمہ علیہم السلام کی جانب مؤلف:
: مصنف/ مؤلف
: حجۃ الاسلام استاد سید قاسم شاہ رضوی
زمرہ جات: قرآن لائبریری
صفحے: 136

امت کی ہدایت احکام ائمہ علیہم السلام کی جانب

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

مؤلف: محمد ابن حسن الحر العاملي(المعروف شیخ حرالعاملی)
: مصنف/ مؤلف
: حجۃ الاسلام استاد سید قاسم شاہ رضوی
زمرہ جات: صفحے: 136
مشاہدے: 408
ڈاؤنلوڈ: 33

تبصرے:

امت کی ہدایت احکام ائمہ علیہم السلام کی جانب
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 136 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 408 / ڈاؤنلوڈ: 33
سائز سائز سائز
امت کی ہدایت احکام ائمہ علیہم السلام کی جانب

امت کی ہدایت احکام ائمہ علیہم السلام کی جانب

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

‌ (نماز کے واجب اور مستحب افعال)

امت کی ہدایت احکام ائمہ علیہم السلام کی جانب جلد۳

مؤلف: محمد ابن حسن الحر العاملي

مترجم: حجۃ الاسلام سید قاسم شاہ رضوي

۱

۲

نام کتاب: هدایة الأمة إلی أحکام الأئمة علیهم السلام المجلد۳ (أفعال الصلوةالواجبة والمندوبة)

موضوع : علم فقہ و احکام شرعی

مؤلف: محدث وفقيه إمامي "شیخ محمد ابن حسن الحر العاملي"(المعروف بہ شیخ حُرّ عاملی)

مترجم : حجۃ الاسلام سید قاسم شاه رضوي

نظرثانی: حجۃ الاسلام ڈاکٹر محمد ہادی نبوی

ناشر: مترجم

جملہ حقوق بحق مؤلف/مترجم محفوظ ہیں

۳

بسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

الحمد لله رب العالمين،

والصلاة والسلام على أشرف الخلق

محمد و اهل بيته الطيبين الطاهرين

۴

اهداء:

میں اس ناچیز کاوش کو بقیۃ اللہ الاعظم

ولی نعمات حضرت صاحب العصر والزمان

(عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف) سے منسوب کرتا ہوں ۔

۵

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کتاب تک رسائی

اگر آپ کتاب کا متن دیکھنا یا پڑھنا چاہتے ہیں، تو اس کے کئی ذرائع دستیاب ہیں:

مطبعی نسخہ: کتاب کی ۸ جلدیں" مجمع البحوث الاسلامیہ"، مشهد سے شائع ہوئی ہیں۔ جسےآن لائن بھی خریدی جا سکتی ہے۔

الیکٹرانک نسخہ: کتاب کے متن کو کئی لائبریریوں اور ویب سائٹس جیسے

"وسائل الشيعة " مؤلف: الشيخ محمد بن الحسن الحرّ العاملي

https://alhassanain.org/arabic

---------

https://alhassanain.org/arabic/?com=book&id= ۷۸۷

مکتبة مدرسة الفقاهة ( eshia.ir ) اور شبکة الفکر ( alfeker.net ) سے مفت ڈاؤن لوڈ کیا جا سکتا ہے۔

خواہشند محققین ،علماء و طلابِ عظام اور دانشور اس کتاب سے استفادہ فرمائیں۔

ہماری دعاء ہے کہ برادرگرامی مولانا سید قاسم شاہ رضوی مدظلہ کو صحت و سلامتی کے ساتھ طول عمربابرکت اور تا دیر مکتب اہلِ بیت علیہم السلام کی خدمت کرتے رہیں۔

(ایڈمن :ابویعسوب العاقلی "مدیرشبکۃ الامامین الحسین "علیہماالسلام "اردو سیکشن)

۲۲ دسمبر ۲۰۲۵ –بمطابق ِیکم رجب المرجب سن ۱۴۴۷ ھ

۶

فہرست مطا لب

اهداء: ۵

کتاب تک رسائی ۶

پیش گفتار ۱۲

کتاب کی خصوصیات ۱۳

مصنف کا تعارف ۱۳

موضوعات: ۱۴

تقدیر و تشکر ۱۵

مقدمہ: ۱۶

خلاصہ ۲۰

دوسرا باب :نماز کے واجب اور مستحب افعال ۲۱

دوسرا مطلب: ۲۵

تیسرا مطلب : ۲۷

چوتھا مطلب: ۲۹

پانچواں مطلب: ۳۰

چھٹا مطلب: ۳۱

ساتواں مطلب : ۳۲

آٹھواں مطلب: ۳۳

نواں مطلب: ۳۵

دسواں مطلب: ۳۶

گیارہواں مطلب: ۳۷

بارہواں مطلب: ۳۹

دوسرا فعل: نیت ۴۱

فائدہ: ۴۳

تتمہ: ۴۵

تیسرا فعل: ۴۶

چوتھا فعل: ۴۹

۱۲۶. پانچواں فعل :قرائت ۶۶

پہلی فصل: ۶۶

دوسری فصل: ۷۲

تیسری فصل: ۸۱

چوتھی فصل: ۹۴

پانچویں فصل: ۱۰۳

چھٹی فصل: ۱۱۱

ساتویں فصل: ۱۱۸

آٹھویں فصل: ۱۲۲

نویں فصل: ۱۲۳

دسویں فصل: ۱۲۶

گیارہویں فصل: ۱۲۹

بارہویں فصل: پہلا مطلب : ۱۳۱

دوسرا مطلب: ۱۳۹

تیسرا مطلب : ۱۴۱

چوتھا مطلب: تلاوت قرآن کے احکام ۱۴۵

پانچواں مطلب: ۱۵۷

چھٹا مطلب: ۱۶۲

ساتواں مطلب: ۱۶۴

آٹھواں مطلب: ۱۶۷

نواں مطلب: ۱۷۱

دسواں مطلب : ۱۷۴

گیارہواں مطلب : تعویذ وغیرہ ( کے احکام) ۱۷۶

بارہواں مطلب : سجدہ تلاوت کے کچھ احکام ۱۷۸

ساتواں فعل: قنوت ۱۸۴

پہلی فصل ۱۸۴

دوسری فصل : ۱۸۷

تیسری فصل: ۱۹۰

چوتھی فصل : قنوت ۱۹۲

پانچویں فصل: ۱۹۵

چھٹی فصل: تکبیر اور قنوت ۱۹۷

ساتویں فصل: ۱۹۹

آٹھویں فصل: ۲۰۱

نویں فصل: ۲۰۳

دسویں فصل: ۲۰۴

گیارہویں فصل: ۲۰۵

بارہویں فصل: ۲۰۶

ساتواں فعل : دعا ۲۰۷

دعا کے احکام : ۲۰۸

دوسری فصل ۲۱۰

تیسری فصل: دعا کے آداب ۲۲۰

چوتھی فصل : ۲۲۷

پانچویں فصل: جن حالات میں دعا کی جاتی ہے ۲۳۲

چھٹی فصل: دعا کرنے کے مقامات ۲۴۰

ساتویں فصل: ۲۴۲

آٹھویں فصل: ۲۴۷

نویں فصل: ۲۵۱

دسویں فصل: ۲۵۵

گیارہویں فصل: دشمن کے خلاف بد دعا اور مباہلہ ۲۵۸

۱۱. بارہویں فصل:بارہ احکام ۲۶۳

آٹھواں فعل:ذکر ۲۷۴

پہلی فصل:نماز کے واجب اذکار ۲۷۵

دوسری فصل: ہر حالت میں ذکر خدا کرنا ۲۷۷

تیسری فصل:ذکر کے مقامات اور اقسام ۲۸۰

چوتھی فصل: ۲۸۴

پانچویں فصل: ۲۹۰

چھٹی فصل: ۲۹۲

ساتویں فصل: ۲۹۴

آٹھویں فصل: ۲۹۷

نویں فصل : ۳۰۱

تسبیح کرنے کا حکم ۳۰۱

دسویں فصل: ۳۰۴

گیارہویں فصل: تہلیل ۳۱۲

بارہویں فصل: ۳۱۵

Abstract ۳۱۹

حوالہ جات: ۳۲۲

۷

بسمہ تعالی

پیش گفتار

آپ کے پیش نظر جناب" شیخ محمد بن الحسن الحر العاملی رحمۃ اللہ علیہ" کی کتاب "هدایة الأمة إلی أحکام الأئمة علیهم السلام" کا اردو ترجمہ ہے۔ یہ کتاب مصنف کی عظیم تصنیف "وسائل الشیعة إلی تحصیل مسائل الشریعة" کا ایک مختصر اور منظم خلاصہ ہے، جو فقہی احادیث کو اسانید کے بغیر، صرف احکام کی ترتیب میں پیش کرتی ہے۔

شیخ الحر العاملی کی یہ خوبی ہر صاحب علم پر عیاں ہے کہ وہ مشکل مباحث کو انتہائی آسان اور سہل انداز میں بیان کر دیتے ہیں۔ ان کی تمام کتب اس حقیقت پر شاہد ہیں۔

کتابِ حاضر بنیادی طور پر "عوام الناس کے علاوہ حوزۂ علمیہ اور مدارس کے طلاب کیلئے بطور نصاب بھی بہت مفیدہے، تاکہ وہ احکام شرعیہ تک آسان رسائی حاصل کر سکیں۔ نیز، یونیورسٹی کے طلبا اور دانشور حضرات بھی مکتب اہلِ بیت علیہم السلام کے راویان حدیث اور فقہی مصادر سے آشنائی کے لیے اس کتاب سے بھرپور استفادہ کر سکتے ہیں۔

اصلی کتاب عربی میں ہے جس سے اردو دان طبقے کا براہِ راست فائدہ اٹھانا ناممکن تھا۔ برادر حجۃ الاسلام مولانا سید قاسم شاہ رضوی مدظلہ العالی ایک برجستہ علم اخلاق و معارف کے مدرس اور خطیب ہونے کے باوجودخود کو حوزوی علوم کے لیے وقف کر رکھا ہے۔ لہٰذا، برادر محترم نے انتھک سعی و کوشش کرکےاسے اردو قالب میں ڈھال دیا ہے۔

۸

کتاب کی خصوصیات

کتاب "هدایة الأمة إلی أحکام الأئمة عليهم السلام" شیعہ اثنا عشری فقہ میں ایک اہم اور معتبر فقہی مجمع الاحادیث ہے، جسے شیخ محمد بن الحسن الحر العاملی (متوفی ۱۱۰۴ھ) نے تحریر کیا ہے۔

آپ ان چند اہم نکات کے ذریعے اس کتاب کے بارے میں جان سکتے ہیں:

مصنف کا تعارف

کتاب کے مصنف، شیخ محمد بن الحسن الحر العاملی (۱۰۳۳-۱۱۰۴ ہجری) شیعہ دنیا میں "صاحب وسائل" کے نام سے مشہور ہیں۔ آپ کا سب سے مشہور کام "وسائل الشیعة إلی تحصیل مسائل الشریعة" ہے، جو فقہی احادیث کا ایک عظیم مجموعہ ہے۔ "ہدایة الأمة" دراصل اسی مشہور کتاب کا ایک اختصاری اور خلاصہ شدہ ایڈیشن ہے۔

کتاب کی خصوصیات و مقام اور ا ہم خصوصیات درج ذیل ہیں:

مقصدِ تصنیف :

بڑی کتاب "وسائل الشیعة" کے ابواب کو اختلاف کے بغیر فقہی ترتیب پر مرتب کرنا تاکہ یہ عام طالب علموں اور عوام کے لیے بھی آسان ہو۔

ترتیب و اسلوب:

مصنف نے "وسائل الشیعة" کی احادیث سے اسناد کو حذف کر کے متکرر روایات کو یکجا کیا ہے، جس سے کتاب کا حجم کم اور استعمال آسان ہو گیا ہے۔ نیز تفصیلی مباحث کو حذف کر کے صرف احکام پر توجہ مرکوز کی گئی ہے، جس سے کتاب ابتدائی طلبہ کے لئےبھی نہایت مفید ہے۔

موضوعات:

یہ کتاب شیعہ فقہ کے تمام ابواب مثلاً طہارت، نماز، روزہ، زکوٰۃ، خمس، معاملات، نکاح وغیرہ پر مشتمل ہے۔

حجم و طباعت : کتاب ۸ جلدوں میں ہے۔

اس کی ایک معروف اشاعت" مجمع البحوث الاسلامیہ"، مشهد (۱۴۱۲ ہجری قمری) نے انجام دی ہےاورمنظر عام پر آئی ہے۔

متعلقہ کتب سے تعلق:

مصنف کی دیگر تصانیف کے ساتھ اس کتاب کا تعلق کچھ اس طرح ہے:

"وسائل الشیعة" : یہ مصنف کا سب سے بڑا اور اصل مجموعہ احادیث ہے۔

"ہدایة الأمة" : یہ "وسائل الشیعة" کا

ایک مختصر، خلاصہ شدہ اور آسان ایڈیشن ہے۔

"بدایة الهدایة" : یہ "ہدایة الأمة" کا مختصر ترین خلاصہ ہے،

جس میں صرف واجبات (۱۵۳۵) اور محرمات (۱۴۴۸) کا تذکرہ ہے۔

۹

تقدیر و تشکر

خداوند متعال نے نعمتیں عطا فرمائی ہیں اور ان سے بہرہ مند ہونے کے وسائل بھی۔اس کتاب کی تکمیل میں ابتدا سے انتہا تک جن اساتذہ اور برادران نے رہنمائی فرمائی، ان سب کا شکریہ ادا کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔

خصوصاً:میرے شفیق استاد حجۃ الاسلام والمسلمین شیخ عادل عامری (دامت برکاتہ) جن کی رہنمائی سے یہ کتاب پڑھنے اور ترجمہ کرنے کی سعادت ملی۔اسی طرح استاد محترم حجۃ الاسلام والمسلمین شیخ ہادی نبوی (دام عزہ) جن کی رہنمائی اور مشوروں سے ترجمہ مکمل ہوا۔نیز مدرسہِ امام کاظم (علیہ السلام) کے مدیر حجۃ الاسلام والمسلمین سید جمال ہاشمی، دیگر مسئولین اور ہمکاران جنہوں نے مکمل تعاون اور رہنمائی فرمائی۔اسی طرح کمپوزنگ اور اصلاح کے معاملات میں رہنمائی کرنے والے عزیز دوستوں کا بھی بےحد مشکور وممنون ہوں۔

آخر میں، راقم تمام احباب کے لیے پروردگار عالم سے یہی دعا کر سکتا ہے کہ:

خداوند متعال بحق محمد و آل محمد(علیہم السلام) ان سب کو حضرت صاحب الزمان(عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف) کی دعا و تائید سے نوازے۔ آمین۔

۱۰

مقدمہ:

تمام حمد وثنا پروردگار عالم کی ذات کے لئے ہے جس نے ہمیں اپنی تمام نعمتوں اور رحمتوں اور برکتوں کا واسطہ محمد وآل محمد علیہم السلام کی ولایت سے متمسک ہونے والوں میں سے قرار دیا۔ اور اس رحیم و کریم کا عاجزانہ اور بے انتہا شکر ادا کرتا ہوں اور بے پناہ درود وسلام ہو ان انوار و خاصان خدا علیہم السلام پر جن کی مودت اور ولایت کی برکت سے ہم اپنے خالق و مالک کی بندگی کے قابل ہوئے۔

اس کے بعد اس کتاب" ہدایۃ الامہ الی احکام الائمہ علیہم السلام" کے باب (نماز کے واجب اور مستحب افعال) کا مئولف مکتب اہل بیت علیہم السلام کے باعظمت بہت بڑے محدث اور فقیہ اور دانش مند اور گراں بہا تألفات کے مالک شیخ محمد ابن حسن حر عاملی ہیں۔

آپ شب جمعہ آٹھ رجب سنہ ۱۳۳۳ق کو لبنان کے علاقہ(جبل عامل ) کے ایک گاؤں (مشغرہ) میں ایک نورانی خاندان کے بابرکت گھر میں پیدا ہوئے ، آپ ۱۱۰۴ق میں مشہد مقدس میں وفات پائے۔ آپ کا سلسلہ نسب امام حسین علیہ السلام کے عظیم سپاہی اور شہید حضرت حر بن یزید ریاحیؑ سے ملتا ہے۔ آپ نے اپنے خاندان کے برجستہ علما اور فضلا سے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد اعلی تعلیم کے حصول کے لئے عراق کے شہر نجف اشرف باب مدینۃ العلم کی بارگاہ مقدس میں مشرف ہوئے اور علوم و معارف آل محمدعلیہم السلام سے مشرف ہونے کے بعد سنہ ۱۰۷۳ق میں ایران کے مقدس شہر مشہد میں عالم آل محمد حضرت امام علی ابن موسی الرضا علیہ السلام کی بارگاہ مقدس میں مشرف ہوئے، اور معارف و علوم آل محمد علیہم السلام سے ایتام آل محمد علیہم السلام کو سیراب کرنے کی غرض سے ہمیشہ کے لئے آپ علیہ السلام کی جوار میں مقیم ہونے کا پر عزم ہوئے۔ اس زمانے میں سب سے بڑی علمی و دینی خدمات محمد و آل محمد علیہم السلام کے ا ٓثار و روا یات کو جمع اور نقل کرکے نشر کرنے کو سمجھا جاتا تھا (اور اگر کوئی اس کا اہل ہو جائے تو حقیقت بھی یہی ہے) لہذا آپ نے اس عظیم اور مقدس کام کے لئے خود کو پیش کیا اور اس زمانے میں نقل روایات کے لئے اطمینان اور ثقہ حاصل کرنے کے لئے معتبر محدثین سے اجازت لینے کا رواج تھا لہذا علامہ محمد باقر مجلسی (قدس سرہ) اور سید جزائری(قدس سرہ) اور دوسرے شیعہ محدثین نے آپ کو موثق قرار دیا تھا، لہذا آپ ایک معتبر اور موثق محدث تھے۔ اس کے ساتھ آپ تدریس اور قضاوت کے فرائض انجام دیتے رہے اور مرجعیت دینی کے طور پر لوگوں کو احکام و معارف دینی بھی پہنچاتے رہے اور ساتھ ہی تالیف کے میدان میں بھی پوری توانائی سے قدم بڑھایا اور بڑے بڑے قیمتی علمی آثار اور تالیفات مکتب آل محمدعلیہم السلام کے حوالے کئے۔ ان میں سے ایک عظیم کتاب وسائل الشیعہ ہے۔ یہ کتاب اہل بیت اطہار علیہم السلام کی روایات کا مجموعہ ہے اس میں آپ نے فقہ کے تمام موضوعات اور ابواب پر مشتمل احکام شرعی کے بارے میں روایات کو جمع کیا ہے۔ اس میں کتب اربعہ کے علاوہ مکتب تشیع کی روایات کی معتبر کتابوں سے روایات اہل بیت علیہم السلام کو جمع کیا ہے اور اس کتاب کی تالیف بیس سال کے عرصے میں مکمل ہوئی۔ اس میں تقریبا چھتیس ہزار روایات موجود ہیں جو احکام شرعی: واجبات، محرمات، مستحبات، مکروہات اور آداب پر مشتمل ہیں جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ وسائل الشیعہ کئی جلدوں پر مشتمل ایک جامع اور مفصل کتا ب ہے ہر شخص کو اس کتاب تک رسائی حاصل کرنا ایک مشکل کام ہے۔ اس مشکل کو مد نظر رکھتے ہوئے مرحوم مؤلف نے اس کا خلاصہ بنایا ہے اور اسے اپنے فتوی کی شکل میں مرتب کرکے اس کتاب کے ثمرات تک رسائی کا کام آسان کر دیا ہے۔ اس کام کو کئی مرحلوں میں آپ نے کئی سال زحمت کرکے مکمل کیا ہے اور کئی کتابوں اور ابواب کی شکل میں اس کے کئی نسخے پائے جاتے ہیں اور اس کے تقریبا بیس نسخے مؤسسہ نشر آستان قدس رضوی مشہد میں موجود ہیں۔ اس مؤسسہ نے ان نسخوں میں سے چودہ جامع نسخے انتخاب کرکے اس کتاب کا موجودہ نسخہ مرتب کرکے پہلی دفعہ ۱۴۱۲ ق میں شایع کیا ہے جو کہ آٹھ جلدوں پر مشتمل ہے۔ اس حصے کا عربی سے اردو میں ترجمہ تو الحمد للہ ہوچکا ہے البتہ اس کے اور اس کے ترجمے کے حوالے سے کچھ نکات قارئین محترم کے رہنمائی کے لئے بیان کرنا مہم سمجھتا ہوں۔

۱۔کیونکہ اس کتاب کو اصل کتاب (وسائل الشیعہ) کے قلمی اور قدیم ابتدائی نسخے سے لیا گیا ہے۔ اس نسخے سے رسائی حاصل کرنا بہت مشکل کام تھا اور اس میں روایات کے نمبر بھی ابجدی تھے جس کو بعد والے نسخوں میں عددی میں تبدیل کیا گیا ہے ۔ اس کے علاوہ روایات کے نمبر ہونے کی وجہ سے آج کے جدید دور میں روایات کے متن تک رسائی حاصل کرنا بہت آسان کام ہے ۔ حوالہ جات کے بارے میں اس نکتہ کو بیان کرنا ضروری ہے کہ اس کتاب (ہدایۃ الامہ)میں اس کے اصل کتاب (وسائل الشیعہ) کے قدیمی قلمی نسخہ کا مکمل کوئی حوالہ موجود نہیں تھا ، اسی وجہ سے ہم نے اس ترجمے میں حوالہ نمبر ایک کے لئے ایک معتبر اور جدید نسخے کا حوالہ دیا ہے۔

۲۔ کتاب "ہدایۃ الامہ "میں کئی نسخوں کا حوالہ دیا گیا ہےلیکن ہم نے موجودہ نسخہ کو کافی سمجھتے ہوئے ترجمہ میں ان کو حذف کیا ہے۔

۳۔کبھی کبھار بعض عربی الفاظ کےلغوی معنی بھی لکھےگئےتھےاور وہ الفاظ اردو میں استعمال ہونےوالےالفاظ نہیں تھے اسلئے ترجمہ پر اکتفا کرتےہوئےان الفاظ کےمعانی نہیں لکھے گئے ہیں۔

۴۔مرحوم مؤلف نے اختصار کے خاطر روایات کے اسانید کو حذف کر دیا ہےپس ہم نے بھی اسی حالات پر باقی رکھا ہے۔

۵۔ اس کتاب میں بعض روایات ایک معصوم(ع) کے بجائے دوسرے معصوم(ع) سےمنقول ہیں مثلا رسول خدا(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے منقول روایات کو امام صادق(ع)سےنقل کی گئی ہےاور بعض اوقات روایات کےمتن سے ہی معلوم ہوتا ہےایسےمواقع پرانکی اصلاح کیاہے۔

۶۔ جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ اس کتاب کے اندر احکام اور آداب کی دلیل و سند روایات اہل بیت علیہم السلام ہیں ۔ مؤلف(مرحوم)اکثر و بیشتر مواقع پر احکام اور آداب بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: اس کی دلیل گزر چکی ہے یا آنے والی ہے۔ یہاں پر ہر دلیل و سند کا حوالہ دینا ایک مشکل کام ہے کیونکہ ایک روایت کئی مواقع پر گزر چکی ہوتی ہےاسی طرح آنے والی دلیل و سند کا حوالہ بھی ہے۔ لہذا جہاں جہاں ممکن ہوا ان کا حوالہ دیا گیا ہے ۔ باقی مواقع پر اختصار کے خاطر حوالہ دینے سے گریز کیا ہے۔

۷۔اردو ترجمے کو زیادہ سے زیادہ سادہ اور عام فہم کرنے کی کوشش کی گئی ہے لیکن بعض اوقات ترجمے کے حسن کے ساتھ مفہوم و مطالب پر اثر انداز ہونے سے بچنے کے لئے کچھ فقہی اصطلاحات کا مکمل اردو ترجمہ کرنے سے گریز کیا ہے۔

۱۱

خلاصہ

۴ ۔تکبیرة الاحرام:اس ميں کل بارہ مسائل ہیں جن میں تکبیرة الاحرام کے یہ ترجمہ نماز کے واجب اور مستحب افعال میں سے آٹھ افعال پر مشتمل ہے،جن کا خلاصہ یہ ہے۔

۱ ۔نیت: اس میں نیت کے احکام کو ایک فائدہ اور تتمہ کیساتھ بیان کیا گیا ہے۔

۲۔حضور قلب اور خشوع کیساتھ نماز کی طرف متوجہ ہونا:اس میں حضور قلب اور خشوع کے ساتھ نماز کی طرف توجہ کرنے کی فضیلت، اہمیت اور خشوع وحضور قلب پیدا کرنے کا طریقہ بیان کیا گیا ہے۔

۳۔ قیام: اس میں کل بارہ مطالب ہیں جن میں نماز ادا کرنے کی کیفیت،اس کے آداب ، قیام کی کیفیت اور اس کے احکام بیان ہوئے ہیں۔احکام،آداب اور اس سے پہلے پڑھی جانےوالی دعاؤوں اور اذکار کو بیان کیا گیاہے۔

۵ ۔قرائت:اس میں کل بارہ فصلیں ہیں جن میں نماز میں سورہ حمد اور اس کے بعد ایک سورے کو پڑھنے کے احکام اور نماز میں اور بغیر نماز کےقرآن کے سوروں اور قرآن کو پڑھنے اور حفظ کرنےکی فضیلت،اہمیت، آداب،اجروثواب، قرآن اور حاملان قرآن کے احترام ،تلاوت کے اوقات ومقامات اور قرآن کے کچھ متفرق احکام کو بیان کیا گیا ہے۔

۶ ۔ قنوت :اس میں کل بارہ فصلیں ہیں جن میں قنوت کے احکام،آداب ،اذکار اور دعاؤوں کو بیان کیا گیا ہے۔

۷ ۔ دعا: اس میں کل بارہ فصلیں ہیں جن میں نماز کے اندر اور نماز کے بغیردعا کرنے کی فضیلت،اہمیت ،احکام اورآداب کے ساتھ دعا کے اوقات،حالات اور مقامات کو بیان کیا گیا ہے۔

۸ ۔ذکر: اس میں بھی کل بارہ فصلیں ہیں جن میں نماز کے واجب اذکار،ذکر خدا کی فضیلت،اہمیت،اوقات،حالات مقامات اور ذکر کے اقسام کے علاوہ ،خداکی حمد ثناء،تسبیح و تہلیل اور خدا سے طلب مغفرت اور محمد وآل محمدعلیہم السلام پر درود پڑھنے کی فضیلت،اہمیت ،اجروثواب اور اوقات وحالات کو بیان کیا گیا ہے۔

۱۲

دوسرا باب :نماز کے واجب اور مستحب افعال

ان کی کل تعداد بارہ ہے ۔

پہلا فعل : قیام (کھڑا ہونا)

اس میں کل بارہ مطالب ہیں :

پہلا مطلب: نماز ادا کرنے کی کیفیت، نماز کے آداب اور قیام کی کیفیت

۱- امام باقرعلیہ السلام نے فرمایا: جب نماز کے لئے کھڑے ہوجاؤ تو پاؤں کو ایک دوسرے سے نہ ملاؤ ان کے درمیان کم از کم ایک انگلی اور زیادہ سے زیادہ ایک بالشت کا فاصلہ رکھو اور کاندھوں کو ڈھیلا چھوڑ دو اور ہاتھوں کو کھلے چھوڑ دو اور انگلیوں کو ایک دوسری میں نہ ڈالو اور انہیں گھٹنوں کے بالمقابل رانوں کے اوپر رکھو اور اس حالت میں تمہاری نظر سجده گاہ پر ہو نی چاہئے اور جب رکوع میں جاؤ تو دونوں پاؤں کے درمیان ایک بالشت کا فاصلہ رکھ کر سیدھا رکھو اور دونوں ہتھیلیوں کو دونوں گٹھنوں پر دبا کر رکھو اور دائیں ہاتھ کی ہتھیلی کو دائیں گھٹنے پر بائیں سے پہلے رکھو اور انگلیوں کو گھٹنے کی آنکھ تک پہنچاؤ اورجب انگلیوں کو گھٹنوں پر رکھو تو انہیں الگ الگ کرکے رکھو اور اگر انگلیاں گٹھنوں تک پہنچ جائیں تو بھی کافی ہے۔ البتہ مجھے یہ بات زیادہ پسند ہے کہ ہتھیلیوں کو گٹھنوں کے اوپر دبا کر رکھو اور انگلیوں کو گھٹنے کی آنکھ پر الگ الگ کرکے رکھو اور پشت کو سیدھا رکھو اور گردن کو آگے کی جانب بڑھاؤ اوراسوقت اپنی نگاہیں دونوں پاؤں کے درمیان ہونی چاہئے اور جب سجدے میں جانا چاہو تو تکبیرکے لئے ہاتھ بلند کرو اور سجدے میں گر جاؤ اور گٹھنوں سے پہلے ہاتھوں کوایک ساتھ زمین پر رکھو اور اپنی کہنیاں اس طرح زمین پر پھیلا کر نہ رکھو جس طرح درندہ رکھتا ہے اور نہ ہی کہنیوں کو اپنے گھٹنوں اور رانوں کے اوپر رکھو بلکہ انہیں پھیلا کر رکھو اور دونوں ہتھیلیوں کو نہ تو گھٹنوں سے ملاؤ اور نہ ہی چہرے کے قریب لاؤ بلکہ دونوں کاندھوں کے درمیان رکھو اور نہ ہی دونوں گھٹنوں کے درمیان رکھو بلکہ ان سے قدرے الگ رکھو اور زمین پرپھیلا کر رکھو اور(جب سجدے سے سر اٹھاؤتو) دونوں ہاتھوں کو اپنی سمت جمع کرواور اگر ان کے نیچے کپڑا ہو تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے، لیکن اگر زمین کے اوپر رکھو تو افضل ہے اور سجدے میں انگلیاں پھیلا کے نہ رکھو بلکہ ملا کر رکھو آپ ؑ نے مزید فرمایا: جب تشہد میں بیٹھو تو دونوں گھٹنوں کو زمین سے ملا کر رکھو اور ان کے درمیان تھوڑا سا فاصلہ رکھو اور تمہارے بائیں پاؤں کی پشت زمین پر اور دائیں پاؤں کی پشت بائیں پاؤں کے تلوے پر ہونی چاہئے اور تمہارے سرین زمین پر ہوں اور تمہارے دائیں پاؤں کے انگوٹھے کا کنارہ زمین پر ہونا چاہئے، خبردار! قدموں کے اوپر نہ بیٹھنا کہ اس سے تمہیں اذیت ہوگی اور زمین کے اوپربھی نہ بیٹھنا اس طرح تمہارا بعض حصہ دوسرے بعض پر ہوجائے گا جس کی وجہ سے تم تشہد اور دعا کےلئے زیادہ دیر تک نہیں بیٹھ سکو گے۔ (۱)

۲۔ حماد بن عیسی نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے عرض کیا : مجھے نماز کی صحیح تعلیم دیں تو امام صادق علیہ السلام قبلہ رو ہو کر کھڑے ہوگئے اور اپنے دونوں ہاتھ کھلے چھوڑ کر اپنے دونوں رانوں پر لٹکا دئے اور ہاتھوں کی انگلیاں باہم ملا لیں اور اپنے پاؤں کو اتنا ایک دوسرے کے قریب کیا کہ ان کے درمیان تین کھلی ہوئی انگلیوں کا فاصلہ رہ گیا اور خشوع و سکون کے ساتھ پاؤں کی انگلیوں کا رخ سیدھا قبلہ کی طرف کیا تب کہا: "أَللہُ أَکبَرُ"پھر ترتیل کے ساتھ سورہ فاتحہ اور اس کے بعد سورہ قُل ھُوَ اللہُ اَحَد پڑھی اور سیدھے کھڑے ہوکرسانس لینے کی مقدار،توقف فرمایا پھراسی حالت میں کہا: "أَللہُ أَکبَرُ"پھر رکوع میں گئے اور اپنی دونوں ہتھیلیوں سے اپنے گٹھنوں کو مضبوطی سے پکڑا جبکہ آپ کی انگلیاں کھلی تھیں اور گٹھنوں کو اس طرح پیچھے دبایا کہ آپ کی پشت اس طرح سیدھی ہوگئی کہ اگر اس پر پانی یا تیل کا کوئی قطرہ گرایا جاتا تو پشت کے سیدھے ہونے کی وجہ سے نیچے نہ گرتا، پھرآپ نے اپنی گردن کو(آگے کی طرف ) بڑھایا اور آنکھوں کو نیچے جھکا لیا پھر ترتیل کے ساتھ تین بار تسبیح پڑھتے ہوئے کہا:

"سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیمِ وَ بِحَمْدِهِ"

اس کے بعد سیدھےکھڑے ہوگئے جب اچھی طرح کھڑے ہوگئے تو کہا:

"سَمِعَ اللهُ لِمَن حَمِدَهُ "

پھراس قیام کی حالت میں(تکبیرپڑھنے کے لئے) کانوں تک ہاتھوں کو بلند کیا اور سجدہ میں گئے اور دونوں گٹھنوں سے پہلے ہاتھوں کو زمین پر رکھا اور تین بار کہا:"سُبحَانَ رَبِّیَ الأَعلَی وَ بِحَمدِہِ"اور اس حالت میں اپنے جسم کا کوئی حصہ دوسرے کسی حصے پر نہ رکھا اور آٹھ اعضاء پر سجدہ کیا: پیشانی اوردو ہتھیلوں اور دو گھٹنے اور پاؤں کے دو انگوٹھوں کے سر اور ناک، اس کے بعد سجدہ سے سر بلند کیا اور جب اچھی طرح سیدھے ہوکر بیٹھ گئے تو کہا: "أَللہُ أَکبَرُ"اوراپنے (جسم کے)بائیں جانب بیٹھ گئے اور دائیں پاؤں کی پشت بائیں پاؤں کے تلوے پر رکھا اور کہا:"أَستَغفِرُ اللہَ رَبِّی وَ أَتُوبُ إِلَیهِ"پھر اسی حالت بیٹھ کرتکبیر کہی اور دوسرے سجدے میں گئے اور اس میں وہی( تسبیح) پڑھی جو پہلے سجدہ میں پڑھی تھی اور رکوع و سجود میں اپنے جسم مبارک کا کوئی حصہ دوسرے حصے پر نہیں رکھا اور کہنیوں کو پھیلائے رکھا تھا اور زمین پر پھیلائے نہیں رکھا تھا،اسی کیفیت کے ساتھ دو رکعت نماز پڑھی اس کے بعد فرمایا: اے حماد! اس طرح نماز پڑھو۔ (۲)

۳۔ امام باقرعلیہ السلام نے فرمایا: جب عورت نماز پڑھنے کے لئے کھڑی ہو تو اپنے دونوں قدموں کو باہم ملا کر رکھے اور ان کے درمیان فاصلہ نہ رکھے اور اپنے دونوں ہاتھوں کوباہم ملا کر، سینے کے اوپر پستانوں کے ساتھ رکھے اور جب رکوع میں جائے تو اپنے ہاتھوں کو گھٹنوں کے اوپر رانوں پر رکھے تاکہ زیادہ نہ جھکے جس کی وجہ سے اس کے سرین اوپر اٹھ جائے اور جب بیٹھے تو اس کے سرین پر بیٹھے مرد کی طرح نہ بیٹھے اور جب سجدے کے لئے جھکے توہاتھوں سے پہلے گھٹنے زمین پر رکھے اور جب سجدہ کرے تو زمین سے چمٹ جائے اور جب بیٹھے تو دونوں رانوں کو ملا کر اور گھٹنوں کوزمین سے اوپر اٹھا کر بیٹھے اور جب اٹھے تو چاہے آہستہ اٹھے اور پہلے سرین نہ اٹھائے۔(۳)

۴۔ امام باقرعلیہ السلام نے فرمایا: جب نماز کے لئےکھڑے ہو تو تم پر توجہ لازم ہے کیونکہ نماز میں سے تمہارے لئے وہی حصہ ہے جو تم توجہ سے کرو گے اور نماز میں ہاتھوں اور سر اور داڑھی سے نہ کھیلو اور دل میں خیالات کو جگہ نہیں دو اور نہ جمائی لو اور نہ انگڑائی، اور نماز میں ہاتھوں کو نہ باندھو کیونکہ یہ مجوسیوں کا طریقہ ہے اور منہ پر کپڑا نہ لپیٹو اور سکڑ کر نہ بیٹھو اور(سجدہ میں)اونٹ کی طرح پھیل کر بیٹھو اور قدموں کے اوپر نہ بیٹھو اور کہنیوں کو زمین پر نہ پھیلاؤ اور انگلیوں کے گٹکارے نہ نکالو کیونکہ ان تمام باتوں سے نماز میں کمی(نقص) واقع ہوتی ہے،اور سستی اور کاہلی اور اونگھتے ہوئے اور بوجھل بن کر نماز کے لئے کھڑے نہ ہو کیونکہ یہ منافقت کی علامت ہے۔ (۳)

۵۔امام باقرعلیه السلام نے فرمایا: سوائے پانچ چیزوں کے اور کسی چیز کی وجہ سے نماز کا تکرار نہ کیا جائے اور وہ یہ ہیں: طہارت اور وقت اور توجہ اور رکوع اور سجود ۔ (۴)

۶۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: نماز کے فرائض سات ہیں: طہارت اور وقت اور توجہ اور قبلہ اور رکوع اور سجود اوردعاء۔ (۵)

۱۳

دوسرا مطلب:

جب قدرت اور طاقت ہو تو نماز فریضہ میں قیام واجب ہے اور اگر عاجز ہو تو بیٹھ کر پڑھے پھر دائیں کروٹ پرپھر بائیں کروٹ پر پھر چت لیٹ کر اشارہ سے پڑھے اور اگر ممکن ہو تو سجدہ گاہ کو اوپراٹھائے۔

۷۔ رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: بیمار آدمی کھڑے ہو کر نماز پڑھے اور اگر کھڑا نہ ہو سکے تو بیٹھ کر پڑھے اور اگر بیٹھ بھی نہ سکے تو پھر دائیں کروٹ پر لیٹ کر پڑھے اور اگر دائیں کروٹ نہ لیٹ سکے تو پھر بائیں کروٹ لیٹ کر پڑھے اور اگریہ بھی نہ ہو سکے تو پھر چت لیٹ کر پڑھے اور رو قبلہ ہو کر اشارہ سے پڑھے اور رکوع کی نسبت سجدہ کے لئے اشارہ ذرا نیچا کرے ۔(۶)

۸۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: بیمار کھڑے ہو کر نماز پڑھے اور اگر کھڑا نہ ہو سکے تو بیٹھ کر پڑھے اور اگر بیٹھ بھی نہ سکے تو چت لیٹ کر پڑھے، تکبیرکہے اس کے بعد قرائت کرے، جب رکوع میں جانے کا ارادہ کرے تو آنکھیں بند کر لے پھر تسبیح پڑھے اور جب پڑھ چکے تو آنکھیں کھول دے اس کا آنکھیں کھولنا، رکوع سے سر اٹھانے کا متبادل ہوگا پھر جب سجدہ میں جانا چاہے تو پھر آنکھیں بند کرلیں اور تسبیح پڑھے اور جب پڑھ چکے تو آنکھیں کھول دے تو اس کا آنکھیں کھولنا، سجدہ سے سر اٹھانے کا متبادل ہوگا اس کے بعد تشہد پڑھے اور سلام پھیر کرلوٹ جائے۔ (۷)

میں کہوں گا: (اس حدیث میں)دائیں اور بائیں کروٹ کو ذ کر نہ کرنا، تقیہ پر یا مخاطب کے اس مسئلہ کے بارے میں علم ہونے کی صورت پر یا اس پر عاجز ہونے پر محمول ہے۔

۹۔امام باقر علیہ السلام نے فرمایا: صحت مند آدمی کھڑے ہو کر اور بیمار بیٹھ کر نماز پڑھے ۔(۸)

۱۰۔ امام باقر علیہ السلام نے فرمایا:بیمارآدمی اشارہ کرکے پڑھے۔ (۹)

۱۱۔ امام صادق علیہ السلام سے بیمار کے متعلق پوچھا گیا کہ آیا اس کے لئے عورت کوئی چیز اوپر اٹھائے تاکہ اس پر وہ سجدہ کرے؟ آپؑ نے جواب میں فرمایا: نہ! البتہ یہ کہ وہ مجبور ہو اور عورت کے سوا کوئی اور شخص موجود نہ ہو کیونکہ خدا نے جس چیز کو حرام قرار دیا ہے اسے ناچاراورمجبور شخص لئے حلال قرار دے دیا ہے۔ (۱۰)

۱۲۔ روایت نقل ہوئی ہے کہ جو شخص جس عمل کو بجا لانے کی طاقت و قدرت نہیں رکھتا ہے خدا اس کی تکلیف نہیں دیتا ہے (۱۲)

۱۳۔ روایت نقل ہوئی ہے کہ (بیمار) چار زانوہوکراور ٹانگیں پھیلا کر نماز پڑھے ان سب حالتوں کی گنجایش ہے۔ (۱۳)

۱۴- رویت نقل ہوئی ہے کہ جس کیفیت و حالت میں (نماز پڑھنا) ممکن ہو اس کے لئے جائز ہے۔(۱۴)

۱۵۔ امام صادق علیہ السلام سے پوچھا گیا کہ ایک مرد یا عورت کی آنکھوں کی بینائی ختم ہوجاتی ہے اور اطباء کہتے ہیں کہ ہم ایک مہینہ یا چالیس دن پشت کے بل لٹا کر علاج کریں گےتو کیا وہ اسی حالت میں نماز پڑھے ؟ تو آپؑ نے اس کی اجازت دی۔ (۱۵) اور فرمایا:

( فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْرَ باغٍ وَلا عادٍ فَلا إِثْمَ علی ہ ) (۱۶)

۱۴

تیسرا مطلب :

قیام میں سیدھا اور استقلال اور اسقرار کے ساتھ کھڑا ہونا واجب ہے البتہ سہارا لینا جائز ہے جبکہ ٹیک لگانا جائز نہیں ہے ،اس کی دلیل گزر گئی ہے اور مذید آنے والی ہے ۔

(۱۶)امام باقر علیہ السلام نے فرمایا: سیدھے کھڑے ہو کیونکہ رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے: جو شخص اپنی پشت سیدھی نہیں کرتا اس کی نماز نہیں ہے۔ (۱۷)

۱۷- امام باقرعلیہ السلام سے خداکے اس فرمان

( فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانحَر)(۱۸)

کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ؑ نے جواب میں فرمایا: نماز میں معتدل طریقے سے کھڑا ہونا یعنی پشت اور سینہ کو سیدھا رکھنا ہے۔(۱۹)

۱۸- امام علی علیہ السلام نے فرمایا: جو شخص نماز میں اپنی پشت سیدھی نہ کرے اس کی نماز نہیں ہے۔ (۲۰)

۱۹- امام صادق علیہ السلام سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جوعصا یا دیوار کا سہارا لے کر نماز پڑھتا ہے تو آپ ؑ نے جواب میں فرمایا:عصا اور دیوار کا سہارا لینے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے ۔ (۲۱)

۲۰- امام صادق علیہ السلام سے نماز میں دیوار پر دائیں اور بائیں طرف سہارا لینے کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا: کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ (۲۲)

۲۱- امام کاظم علیہ السلام سے ایک شخص کے بارے میں پوچھا گیا کہ آیا اس کے لئے نماز کی حالت میں مسجد کی دیوار سے سہارا لینا یا بغیر کسی مرض و سبب کے کھڑے ہو کر اپنے ہاتھ کو دیوار پر رکھنا درست ہے تو آپ ؑنے جواب میں فرمایا: کوئی مضائقہ نہیں ہے اور(پوچھا گیا کہ) وہ شخص جو نمازفریضہ کی پہلی دو رکعتوں میں کھڑا ہوتا ہے آیا اس کے لئے بغیر کسی ضعف اور سبب کے مسجد (کی دیوار) پکڑ کر اس کی مدد سے کھڑا ہونا درست ہے تو آپؑ نے اس کے جواب میں فرمایا: کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ (۲۳)

۲۲- روایت نقل ہوئی ہے :اپنی اوڑھنی کو مت پکڑو اور جب تو مریض نہ ہو تو دیوار کا سہارا مت لو- (۲۴)

میں کہوں گا: یہ(مذکورہ حکم) ٹیک لگا کر سہارا لینے پر محمول ہے اسکی دلیل گزر چکی ہے۔

۱۵

چوتھا مطلب:

ایک پاؤں پر زور دے کر کھڑا ہونے اور دونوں پاؤں کی انگلیوں پر کھڑا ہونے کا حکم

۲۳- امام زین العابدین علیہ السلام کعبہ کے صحن میں نماز پڑھ رہے تھے جب آپ کا قیام بہت طویل ہوگیا تو آپ کبھی دائیں پاؤں کبھی بائیں پاؤں پر کھڑے ہوتے تھے۔(۲۵)

۲۴- نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے پاؤں کی انگلیوں کے بل پر کھڑے ہوتے تھے تب اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی

( طه مَا أَنزَلْنَا عَلَیْكَ الْقُرْآنَ لِتَشْقَیٰ ) (۲۶)

طہ: ہم نے اس لئے تو تم پر قرآن نازل نہیں کیا کہ تم اپنے آپ کو مشقت میں ڈالو۔(۲۷)

۲۵- روایت نقل ہوئی ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پاؤں کی انگلیوں پر اس قدر کھڑے ہوتے تھے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پائے مبارک متورم ہوجاتے تھے۔ (۲۸)

۲۶- روایت نقل ہوئی ہے کہ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے ہو کر نماز پڑھتے تھے تو ایک ٹانگ کوزمیں سے اوپر اٹھاکر رکھتے تھے یہاں تک کہ مذکورہ بالا آیت نازل ہوئی تب آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ٹانگ کو زمین پر رکھا- (۲۹)

میں کہتا ہوں: اس آیت کے نزول کے بعد اس کیفیت کے ساتھ کھڑے ہو نے کا جواز معلوم نہیں ہے۔

۱۶

پانچواں مطلب:

قیام کی قدرت وطاقت ہوتے ہوے اسے ترک کرے تو نماز باطل ہوگی اگرچہ بھولنے کی وجہ سے ہو،اسی طرح بیٹھنا واجب ہو تو بھی( ترک ہونے کی صورت میں) یہی حکم ہے۔

۲۷- امام صادق علیہ السلام سے ایک ایسےشخص کے بارے میں کہ جس پر بیٹھ کر نماز پڑھنا واجب تھا، اگر وہ بھول جائے اور کھڑے ہو کر نماز شروع کردے اور پھر اسے یاد آجائے،پوچھا گیا تو آپ ؑنے جواب میں فرمایا: وہ بیٹھ جائے اور بیٹھ کر نماز شروع کرے اور جو کھڑے ہو کر شروع کی تھی اس کوشمار نہ کرے اسی طرح اگراس پر کھڑے ہو کر نماز پڑھنا واجب ہو مگر وہ بھول جائے اور بیٹھ کر نماز شروع کر دے تو اس پر واجب ہے کہ نماز کو توڑ دے اور کھڑے ہو کر نماز شروع کرے اور جو بیٹھ کر شروع کی تھی اس کوشمار نہ کرے۔ (۳۰)

۲۸- امام علی علیہ السلام نے فرمایا: جوشخص نماز میں اپنی پشت کو سیدھی نہ رکھے اس کی نماز(کامل) نہیں ہے۔(۳۱)

۱۷

چھٹا مطلب:

نماز پڑھنے لے لئے اٹھتے وقت منقولہ دعاؤں کا پڑھنا مستحب ہے۔

۲۹- امام صادق علیہ السلام کھڑے ہوگئے اور تکبیر کہنے سے پہلے قبلہ رخ ہوکر فرمایا :

"اَللّهُمَّ لَاتُؤيِسْنِي مِنْ رَوحِكَ وَلاتُقْنِطْنِي مِنْ رَحْمَتِكَ وَلَاتُؤمِنّي مَكْرَكَ فَإنَّهُ لايَأمَنُ مَكْرَ اللهِ إِلاّ القَوْمُ الخاسِرُونَ"(۳۲)

۳۰- امام صادق علي ہ السلام ن ے فرمایا: جب نماز ک ے لئ ے ک ھڑے ہ و تو ک ہ و:

"اَللّهُمَّ إِنِّي اُقَدِّمُ إلَيكَ مُحمّداً صَلَّى اللهُ عَلَيهِ وَ آلِهِ بَينَ يَدَي حَاجَتِي وَ أَتَوَجَّهُ بهِ إلَيكَ، فَاجعَلْنِي بهِ وَجِيهاً عِندَكَ فِي الدُّنيَا وَالآخِرَةِ و مِنَ المُقَرَّبِينَ، وَاِجعَلْ صَلَاتِي بِهِ مَقبولَةً، وَ ذَنبِي بِهِ مَغفُوراً، وَ دُعَائِي بِهِ مُستَجَاباً، إنّكَ أَنتَ الغَفُورُ الرَّحِيمُ " ۔ (۳۳)

۱۸

ساتواں مطلب :

سجدہ گاہ پر نگاہ کرنے کا حکم

۳۱- امام علی عليہ السلام نے فرمایا: نماز میں( اپنی نظروں کو) سجدہ گاه سے ادھر ادھر نہ ہٹاؤ۔ (۳۴)

۳۲- امام باقرعلیہ السلام نے فرمایا: اپنی نگاہ کو یکجا کرو اور آسمان کی طرف بلند نہ کرو۔(۳۵)

۳۳- امام باقرعلیہ السلام نے فرمایا: جب قبلہ کی طرف منہ کرو تو پھر ادھر سے منہ نہ پھرو اور اپنی آنکھوں میں خشوع پیدا کرو اور انہیں آسمان کی طرف بلند نہ کرو بلکہ انہیں اپنے چہرے کے مقابل سجدہ پر مرکوز رکھو۔ (۳۶)

۱۹

آٹھواں مطلب:

نافلہ نماز، اختیار کی حالت میں بیٹھ کر پڑھنا جائز ہے(البتہ) اس میں قیام مستحب ہے اور بیٹھ کر پڑھی ہوئی دو رکعتوں کو کھڑے ہو کر پڑھی ہوئی ایک رکعت اور بیٹھ کر پڑھی ہوئی ایک رکعت کو (کھڑے ہو کر پڑھی ہوئی) ایک رکعت کے برابر شمارکرنا جائزہے۔

۳۴- امام باقر علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا گیا کہ کیا آپ بیٹھ کر نوافل پڑھتے ہیں تو آپ نے فرمایا: جب سے مجھ پر یہ گوشت لایا گیا اور اس سِن میں پہنچا ہوں تو بیٹھ کر ہی نوافل پڑھتا ہوں۔(۳۷)

۳۵- امام کاظم علیہ السلام سے اس شخص کے بارے میں جو بغیر کسی عذر کے سفر یا حضر میں نافلہ نماز پڑھتا ہے، پوچھا گیا تو آپؑ نے جواب میں فرمایا: اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔(۳۸)

۳۶- امام رضا علیہ السلام نے فرمایا: (نافلہ) نماز کھڑے ہوکر پڑھنا بیٹھ کر پڑھنے سے افضل ہے۔ (۳۹)

۳۷- امام رضا علیہ السلام نے فرمایا: بیٹھے ہوئے آدمی کی نماز کھڑے ہوئے آدمی کی نماز کے نصف کے برابر ہوتی ہے۔ (۴۰)

۳۸- ایک شخص نے امام باقرعلیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا کہ ہم یہ حدیث بیان کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جو شخص بغیر کسی عذر وعلت کے بیٹھ کر نماز پڑھے اس کی دو رکعت نماز ایک رکعت شمار ہوتی ہے اور اس کے دو سجدے ایک سجدہ شمار ہوتے ہیں، توآپ ؑ نے فرمایا: ایسا نہیں ہے بلکہ تمہارے لیے بیٹھ کر پڑھی ہوئی نماز بھی پوری سمجھی جائے گی(۴۱)

۳۹- امام صا دق علیہ السلام سے اس شخص کے بارے میں سُستی یا کمزوری کی وجہ سے نافلہ نماز بیٹھ کرپڑھتا ہے کے بارے میں پوچھا گیا توآپ ؑنے فرمایا: وہ دو رکعتوں کو ایک رکعت شمار کرے ۔(۴۲)

۴۰- امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جب کوئی شخص( نافلہ) نماز بیٹھ کر پڑھے جب کہ وہ کھڑا ہو سکتا ہے تو وہ دگنی نماز پڑھے۔ (۴۳)

۴۱- امام کاظم علیہ السلام سے پوچھا گیا کہ اگر بیمارآدمی کھڑا نہیں ہو سکا وہ کس طرح نماز پڑھے؟ آپؑ نے جواب میں فرمایا: وہ بیٹھ کر نافلہ پڑھے اور دو رکعت کو ایک رکعت شمار کرے البتہ نماز فریضہ میں اگر کھڑا نہ ہو سکتا ہو بیٹھ کر پڑھی ہوئی ایک رکعت ایک رکعت ہی شمار ہوگی۔ (۴۴)

۴۲-امام کاظم علیہ السلام سے ایسے شخص کے متعلق جو بغیر کسی عذر کے بیٹھ کر نماز نافلہ پڑھتا ہے، پوچھا گیا کہ اس کی نماز کس طرح شمار ہوگی ؟ تو آپؑ نے فرمایا: اس کی دو رکعتیں ایک رکعت کے برابرشمار ہوگی۔(۴۵)

۲۰