۱۱.
بارہویں فصل:بارہ احکام
۱۔ مومن کی دعا کے لئے آمین کہنا مستحب ہے خصوصا جب وہ خود اس کی التماس کرے۔
۷۴۰۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: حضرت موسیٰ ؑ نے دعا کی تو حضرت ہارون ؑنے آمین کہی اور ملائکہ نے بھی آمین کہی تب خداوند عالم نے فرمایا:
" قَد اُجِیبَت دَّعوَتُکُمَا "(۱)
( تم دونوں کی دعا قبول کر لی گئی ہے)۔(۲)
۷۴۱۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: دعا کرنے والا اور آمین کہنے والا دونوں اجروثواب میں شریک ہیں۔ (۳)
۷۴۲۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: میرے والد ماجد کو جب کوئی کام پریشان کرتا توہ وہ خواتین اور بچوں کو بلا لیتے پھر خود دعا کرتے اور سب آمین کہتے تھے۔(۴)
۷۴۳۔ امام کاظم علیہ السلام سے سوال کیا گیا کہ ایک شخص دعا کرتا ہے اور اس کے اردگرد اس کے بھائی بیٹھے ہیں، کیا ان پر آمین کہنا واجب ہے؟آپؑ نے جواب میں فرمایا: اگر چاہیں تو کہیں اور چاہیں تو خاموش رہیں ہاں البتہ وہ دعا کرے اور ان سے کہے کہ تم آمین کہو تو پھر ان پر واجب ہے کہ وہ ایسا کریں۔ (۵)
۲۔ دعا میں عمومیت مستحب ہے بالخصوص پیش نماز کے لئے۔
۷۴۴۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص دعا کرے تو اسے چاہئے کہ عموم اور جمع کے صیغے استعمال کرے کیونکہ یہ دعا کو قبولیت سے زیادہ نزدیک کر دیتا ہے۔ (۶)
۷۴۵۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جو شخص لوگوں کو نماز با جماعت پڑھائے اور پھر ان کو چھوڑ کر اپنی ذات کےلئے دعا کرے تو اس نے ان سے خیانت کی۔(۷)
۳۔
۷۴۶۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: چار قسم کے لوگ ایسے ہیں کہ جن کی دعا کبھی رد نہیں ہوتی یہاں تک کہ اس کے لئے آسمان کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور وہ عرش الہی تک پہنچ جاتی ہے:
۱۔ اولاد کے لئے والد کی دعا۔۲۔ ظالم کے خلاف مظلوم کی بد دعا۳- عمرہ ادا کرنے والے کی دعا،اس کے (مکہ سے)واپس لوٹنے تک ۴۔ روزہ دار کی دعاروزہ افطار کرنے تک۔ (۸)
۷۴۷۔امام باقر (ع) نے فرمایا: پانچ دعائیں ایسی ہیں جنکو خداوند عالم کی بارگاہ میں پہنچنے سے روکا نہیں جا سکتا
۱۔ امام عادل کی دعا ۲۔ مظلوم کی بد دعا ۳۔ نیک اولاد کی دعا اپنے والدین کے لئے ۴۔ نیک والد کی دعا اپنی اولاد کے لئے ۵- مومن کی دعا اپنے برادر مومن کے لئے اس کی غیرموجودگی میں۔(۹)
۷۴۸۔ امام صادق علیہ السلا م نے فرمایا: تین اشخاص ایسے ہیں جن کی دعائیں مستجاب ہوتی ہیں :
۱۔ حاجی! پس خیال رکھنا کہ تم اس(کے اہل وعیال) سے کیا سلوک کرتے ہو،
۲۔ راہ خدا میں جہاد کرنے والے غازی! پس، خیال رکھنا کہ تم اس(کے اہل وعیال) سے کیا سلوک کرتے ہو،
۳۔ بیمار! اسے غصہ نہ دلاؤ اور نہ ہی اس کو ستاؤ۔ (۱۰)
۷۵۹۔ امام صادق (ع) نےفرمایا: تین دعائیں ایسی ہیں جنکوخداوند عالم کی بارہ میں پہنچنے سے نہیں روکا جا سکتا :
۱۔ والد کی دعا بیٹے کےلئے جب وہ اپنے والد کے ساتھ بھلائی کرے،٢- اور والد کی بد دعا بیٹے کے خلاف جب وہ اس کوعاق کر دے۔
۲۔ مظلوم کی بد دعا ظالم کے خلاف۔
۳۔ مظلو م کی دعا اس شخص کے حق میں جو اس کی مدد کرے۔
۴۔ کافر کے خلاف بد دعا کرنا۔(۱۱)
۷۵۰۔ ایک شخص نے امام موسی کاظم علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا: اگر میں کسی نصرانی طبیب کا محتاج ہوجاؤں تو کیا اس کو سلام اور اس کے لئے دعا کر سکتا ہوں؟ تو آپؑ نے فرمایا: ہاں، مگر تمہاری یہ دعا اسے کوئی فائدہ نہیں دے گی۔(۱۲)
۵۔ طلب رزق کے لئے دعا کرنا۔
۷۵۱ ۔ امام باقر علیہ السلام نے فرمایا: طلب رزق کے لئے نماز فریضہ میں سجدے میں جا کر دعا کرو۔ (۱۳)
۷۵۲۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: خدا نے مومنین کے رزق وہاں رکھے ہیں جہاں ان کو گمان بھی نہیں ہوتا اور اس کی وجہ یہ ہے کہ جب بندہ کو اپنے رزق کا مقام و سبب معلوم نہیں ہوگا تو پھر وہ دعا زیادہ کرے گا۔(۱۴)
۷۵۳۔ امام باقر علیہ السلام نے ایک شخص کو خدا سے اس طرح سوال کرتے ہوئے دیکھا جو کہہ رہا تھا:
"اَلَّلهُمَّ إِنِّي أَسأَلُكَ مِن رِّزقِكَ الحَلَالِ"
( یا اللہ میں تجھ سے رزق حلال کا سوال کرتا ہوں)، امام ؑ نے اس سے فرمایا: تو نے خدا سے نبیوں کا رزق طلب کیا ہے، یوں سوال کرو:
"أَللَّهُمَّ إِنِّي أَسئَلُكَ رِزقاً وَّاسِعاً طَیِّباً مِّن رِّزقِكَ"
( یا اللہ میں تجھ سے رزق وسیع و پاکیزہ چاہتا ہوں) (۱۵)
میں کہوں گا کہ اس سے مراد یہاں، حلال واقعی و خالص ہے جس میں کوئی شائبہ و شک نہ پایا جائے اور رزق حلال طلب کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے بلکہ مستحب ہے کہ متعدد حدیثوں میں اس کا تذکرہ موجود ہے۔
۶۔ ظلم کرنا چھوڑ کرمظلوم کی بد دعا سے بچنا اور والدین کی نافرمانی چھوڑ کران کی بد دعا سےبچنا واجب ہے۔ اس کی دلیل گزر چکی ہے۔
۷۵۴۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: خبردار ! مظلوم کی بد دعا سے پرہیز کرنا خبردار! والد کی بددعا سے بچنا کہ وہ تلوار سے زیادہ تیز ہوتی ہے۔ (۱۶)
۷۵۵۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: مظلوم کی بد دعا ضرور مستجاب ہوتی ہے اگرچہ وہ فاسق و فاجر ہو جسے ظالم سے اپنی جان کا خطرہ ہو۔(۱۷)
۷۔ وہ الفاظ جو دعا میں کہنا مکروہ ہیں۔
۷۵۶۔ ایک شخص نے امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں یوں کہا:
"اَلحَمدُلِلَّهِ مُنتَهَی عِلمِهِ"
(خدا کا شکر کرتا ہوں اسکےعلم کی انتہاء تک)،امامؑ نے فرمایا: ایسا نہ کہو کیونکہ اسکے علم کی کوئی انتہا نہیں ہے(۱۸
۷۵۷۔ روایت نقل ہوئی ہے کہ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: نہ کہو:(خدا کے علم کی انتہا تک) بلکہ کہو: (اس کی خوشنودی کی انتہا تک)۔(۱۹)
۷۵۸۔ امیر المومنین علیہ السلام نے ایک شخص سے سنا وہ کہہ رہا تھا:
"أَللَّ هُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الفِتنَة"ِ
(خدا یا! میں فتنہ سے تیری پناہ چاہتا ہوں) امام ؑ نے فرمایا: میں سمجھتا ہوں کہ تو اپنے مال و اولاد سے پناہ مانگ رہا ہے کیونکہ خدا فرماتا ہے
( إنَّمَا أَموَالُکُم وَ أَولَادُکُم فِنتَةُ )(۲۰)
( تمہارا مال اور تمہاری اولاد فتنہ ہیں) بلکہ یوں کہو:
"أَللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُبِكَ مِن مُّضِلَّاتِ الفِتَن"
(خدایا میں تجھ سے گمراہ کرنے والے فتنوں سے پناہ مانگتا ہوں) (۲۱)
۷۵۹۔ امیرالمومنین علیہ السلام نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص ہرگز یہ دعا نہ کرے:
"أَللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الفِتنَة"ِ
بلکہ جو پناہ مانگناچاہتا ہے تو وہ گمراہ کرنے والے فتنوں سے پناہ مانگے(۲۲)
کیونکہ خدا فرماتا ہے:
( إنَّمَا أَموَالُکُم وَ أَولَادُکُم فِنتَةُ ) (۲۳)
۷۶۰۔ ایک شخص نے امام صادق علیہ السلام کو خط لکھا جس میں یہ استدعا کی تھی کہ اس کے لئے دعا فرمائے کہ اسے ان لوگوں میں سے بنائے جن سے خدا اپنے دین کا کام لیتا ہے امام ؑ نے جواب میں لکھا: خدا تم پر رحم کرے؛ خدا تو اپنے دین کا کام کبھی بدترین مخلوق سے بھی لیتا ہے۔(۲۴)
۷۶۱۔ امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں ایک شخص نے استدعا کی کہ وہ خدا سے دعا کریں کہ خدا انہیں اپنی مخلوقات سے بے نیاز کر دے امام ؑنے فرمایا: خدا نے جس کا رزق جس کے ہاتھوں پر چاہا مقدر کر دیا ہے اس لئے یوں سوال کر و کہ خدا تجھے کمینے لوگوں کا محتاج نہ کرے۔ (۲۵)
میں کہوں گا کہ یہ الفاظ ، ائمہ علیہم السلام سے منقول دعاؤں میں مذکور ہیں لہذا اگر ان سے صحیح معنوں کا قصد کیا جائے یا ان کے ساتھ کوئی ایسی قید لگائی جائے جس سے غلط احتمال دور ہو جائے تو پھر کوئی مضائقہ نہیں ہے۔
۸۔ جو (جائز) دعا زبان پر جاری ہو جائے اس کا پڑھنا مستحب ہے البتہ منقولہ دعاؤں کو ترجیح دینا مستحب ہے اور اپنی جانب سے کوئی دعا اختراع کرنا مکروہ ہے۔
۷۶۲۔ ایک شخص نے امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا کہ مجھے کوئی دعا تعلیم فرمائیں تو آپ ؑ نے فرمایا: افضل دعا وہ ہے جو تیری زبان پر خود بخود جاری ہو جائے۔(۲۶)
۷۶۳۔ امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں کسی شخص نے عرض کیا کہ میں نے ایک دعا اختراع کی ہے توآپ ؑنےفرمایا: اپنی اختراع کو چھوڑ دو۔(۲۷)
۹۔ جب تک حمل کو چار ماہ نہ گزر جائیں حاملہ عورت کے لئے یہ دعا کرنا مستحب ہے کہ خدا اس کے حمل کو مذکر اور صحیح و سلامت بنائے اور اس مدت کے بعد بھی یہ دعا کرنا جائز ہے۔
۷۶۴۔ امیرالمومنین علیہ السلام نے فرمایا: نطفہ رحم میں چالیس دن کے دوران تبدیل ہوتا ہے پس جو چاہتا کہ خدا سے دعا کرے تو اسے چاہئے کہ ان چالیس دنوں کے اندر اس کی خلقت ہونے سے پہلے کرے اس کے بعد خدا ملک الارحام کو بھیجتا ہے جو اسے قبضہ میں لے کر پوچھتا ہے: خدایا! یہ بدبخت ہے یا خوشبخت؟(۲۸)
۷۶۵۔ امام کاظم علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا گیا کہ ایک شخص حاملہ عورت کے لئے یہ دعا کرتا ہے کہ خدا اس کے حمل کو مذکر اور صحیح و سلامت بنائے،تو آپؑ نے فرمایا: ہاں چار مہینے تک ایسی دعا کر سکتا ہے! کیونکہ چالیس رات تک نطفہ ہوتا ہے اس کے بعد چالیس رات تک علقہ(جما ہوا خون) ہوتا ہے اور پھر چالیس رات تک مضغہ( گوشت کا لوتھڑا) ہوتا ہے یہ ہو گئے پورے چار ماہ، اس کے بعد خدا دو فرشتوں کو بھیجتا ہے وہ آکر خدا سے پوچھتے ہیں: پروردگار! تُواسے لڑکا بنانا چاہتا ہے یا لڑکی؟
شقی بنانا چاہتا ہے یا سعید؟
ان کو وہ کام(کہ ان کو کیا کرناہے) بتایا جاتا ہے۔(۲۹)
۷۶۶۔ امام کاظم علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا گیا کہ لوگ کہتے ہیں کہ جب حاملہ کے حمل کو چھ ماہ گزر جائیں تو خدا اس کی خلقت سے فارغ ہو جاتا ہے،تو امام ؑ نے فرمایا: دعا کر اگر چہ (صفا) کے پھٹنے کے وقت ہو، آپؑ سے پوچھا گیا کہ: (صفا) کیا چیزہے تو آپ ؑنے جواب میں فرمایا: وہ جھلّی جو ولادت کے وقت بچے کے ساتھ نکلتی ہے کیونکہ خدا جو چاہتا ہے وہ کرتا ہے۔(۳۰)
۷۶۷۔ امام رضا علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا گیا: کیا خدا سے یہ دعا کرنا جائز ہے کہ وہ لڑکی کو لڑکا اور لڑکے کو لڑکی بنا دے؟ آپؑ نے جواب میں فرمایا: ہاں، خدا جو چاہتا ہے کرتا ہے۔(۳۱)
۱۰۔دعا کرنے والے کے لئے مستحب ہے کہ جو کچھ لوگوں کے پاس ہے اس سے نا امید ہو جائے اور خدا کے علاوہ کسی سے امید نہ رکھے۔
۷۶۸۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: اگر تم میں سے کوئی شخص یہ چاہتا ہے کہ وہ جو کچھ خدا سے مانگے وہ اسے ضرور عطا کر دیا جائے تو اسے چاہئے کہ وہ تمام لوگوں سے مایوس ہو جائے اور خدا کے علاوہ کسی سے کوئی امید نہ رکھے پس جب خدا اس کے دل میں اس عزم کو پائے گا تو جس چیزکا وہ اس کی ذات سے سوال کرے گا وہ اسے عطا کرے گا۔(۳۲)
۱۱۔ دعا کرنے والے کے لئے فیروزہ اور عقیق کی انگوٹھی پہننا مستحب ہے۔
۷۶۹۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جو شخص عقیق کی انگوٹھی پہنے گا اس کی حاجتیں بر لائی جائیں گی۔(۳۳)
۷۷۰۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: خدا فرماتا ہے: مجھے اس بندے سے شرم آتی ہے جو میری بارگاہ میں ایسا ہاتھ اٹھائے جس میں فیروزہ کی انگوٹھی ہو اور میں اسے ناکام واپس لوٹا دوں۔(۳۴)
۷۷۱۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: خدا کی بارگاہ میں کبھی کوئی ایسی ہتھیلی نہیں اٹھائی گئی کہ جو اس کی نظر میں اس ہتھیلی سے زیادہ پسندیدہ ہو جس میں عقیق کی انگوٹھی ہو۔(۳۵)
۱۲۔ دعا کرنے والے کےلئے واجب ہے کہ حرام چیزوں خصوصا ظلم کو ترک کرے۔
۷۷۲۔ امام باقرعلیہ السلام نے فرمایا: ایک بندہ خدا سے کوئی حاجت طلب کرتا ہے مگر وہ کوئی گناہ کرتا ہے تو خدا فرشتے سے کہتا ہے کہ اس کی حاجت روائی نہ کرو۔(۳۶)
۷۷۳۔ حدیث قدسی میں(فرمان) ہے : میری بارگاہ میں پہنچنے سے نہیں روکی جائے گی سوائے حرام خور کی دعا کے۔ (۳۷)
۷۷۴۔ خداوند عالم نے فرمایا: مجھے اپنی عزت و جلال کی قسم کہ میں اس مظلوم کی وہ دعا کبھی قبول نہیں کروں گا جو وہ اپنے کسی حق کے بارے میں کرے گا، جبکہ اس کی گردن پر میرے کسی بندے کا ایسا کوئی حق ہو گا۔(۳۸)