امت کی ہدایت احکام ائمہ علیہم السلام کی جانب

امت کی ہدایت احکام ائمہ علیہم السلام کی جانب 0%

امت کی ہدایت احکام ائمہ علیہم السلام کی جانب مؤلف:
: مصنف/ مؤلف
: حجۃ الاسلام استاد سید قاسم شاہ رضوی
زمرہ جات: قرآن لائبریری
صفحے: 136

امت کی ہدایت احکام ائمہ علیہم السلام کی جانب

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

مؤلف: محمد ابن حسن الحر العاملي(المعروف شیخ حرالعاملی)
: مصنف/ مؤلف
: حجۃ الاسلام استاد سید قاسم شاہ رضوی
زمرہ جات: صفحے: 136
مشاہدے: 426
ڈاؤنلوڈ: 33

تبصرے:

امت کی ہدایت احکام ائمہ علیہم السلام کی جانب
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 136 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 426 / ڈاؤنلوڈ: 33
سائز سائز سائز
امت کی ہدایت احکام ائمہ علیہم السلام کی جانب

امت کی ہدایت احکام ائمہ علیہم السلام کی جانب

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

حوالہ جات:

۱. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۵۰/۶

۲. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۴۶/۶

۳. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۴۶/۳

۴. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۴۶/۴

۵. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۴۹/۵

۶. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۴۸/۱

۷. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۵۱/۸

۸. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۵۱/۱

۹. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۵۲/۶

۱۰. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۵۲/۳

۱۱. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۵۴/۲

۱۲. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۴۵/۲

۱۰۱

دسویں فصل:

وہ لوگ جن کی دعائیں قبول نہیں ہوتیں ہیں، بارہ قسم کے ہیں۔

۷۲۳۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: لوگوں کی چند قسمیں ایسی ہیں جن کی دعائیں قبول نہیں ہوتیں:

۱۔ ان میں سے ایک وہ شخص ہے جو کسی کو قرضہ دیتا ہے

مگر نہ کوئی تحریر لکھواتا ہے اور نہ کوئی گواہ مقرر کرتا ہے۔

۲۔ جو شخص اپنے رشتہ داروں کے خلاف بد دعا کرتا ہے۔

۳۔ وہ شخص جسے اس کی زوجہ ہر طرح کی اذیت پہنچاتی ہے اور وہ خدا سے اس کے خلاف بددعا کرتا ہے توخدا فرماتا ہے: میں نے اس کا معاملہ تیرے ہاتھ میں دیا ہے، چاہو تو اسے فارغ کر دو چاہو تو اپنے ساتھ رکھو۔

۴۔ اور وہ شخص جسے خدا نے مال و متاع دیا ہے مگر اس نے سارا مال نیکی اور تقوی کے کاموں میں صرف کر دیا ہے اور کچھ نہیں بچا تو وہ خدا سے رزق کے لئے دعا کرتا ہے تواس سے خدا فرماتا ہے: کیا میں نے تجھے رزق دے کر مالدار و بے نیاز نہیں بنایا تھا؟

۵۔ وہ شخص جو گھر میں (بے کار) بیٹھ جائے اور دعا کرے یا اللہ مجھے رزق عطا فرما، اس سے خدا فرماتا ہے: کیوں طلب معاش و رزق میں باہر نہیں نکلتا؟ (۱)

۷۲۴۔ روایت نقل ہوئی ہے کہ تین قسم کے لوگ ایسے ہیں جن کی دعائیں قبول نہیں ہوتیں :

۱۔ وہ شخص جسے خدا نے مال و متاع عطا کیا ہو مگر وہ اسے ناحق صرف کرے۔

۲۔ وہ شخص جو (نافرمان) بیوی کے خلاف بد دعا کرے کہ خدا اسے اس سے راحت عطا فرمائے حالانکہ خدا نے اس کا معاملہ اس کے ہاتھ میں دیا ہے۔

۳۔ وہ شخص جو اپنے (بُرے) پڑوسی کے خلاف بد دعا کرے حالانکہ خدا نے اسے اختیار دیا ہے کہ اس کے پڑوس سے چلا جائے اور گھرکو فروخت کرے۔(۲)

۷۲۵۔ (جن کی دعائیں قبول نہیں ہوتیں ان کے بارے میں) روایت نقل ہوئی ہے کہ وہ شخص جو اپنے گھر میں (بے کار) بیٹھ کر دعا کرتا ہے: خدایا مجھے رزق عطا فرما اور وہ شخص جو اپنی بیوی کے خلاف بد دعا کرے اور وہ شخص جس کا مال و متاع ہو مگر وہ اسے ضائع کر دے اور وہ شخص جس کا مال و متاع ہو اور وہ اسے بغیر گواہ کے قرضہ دے۔(۳)

۷۲۶۔ روایت نقل ہوئی ہے کہ وہ شخص جسے خدا نے رزق عطا کیا ہو مگر وہ اسے فضول خرچ کرے اور وہ شخص جس کا کسی کی گردن پر کوئی حق ہو مگرہ وہ اس پر گواہ نہ بنائے۔(۴)

۷۲۷۔ منقول ہے کہ خدا غافل دل سے نکلی ہوئی دعا کو قبول نہیں کرتا۔(۵)

۷۲۸۔ اورروایت میں ساہ (بے خبر )منقول ہے ۔ (۶)

۷۲۹۔ روایت ہے کہ خدا سخت دل سے نکلی ہوئی دعا قبول نہیں کرتا۔ (۷)

۱۰۲

حوالہ جات:

۱. و سائل ۴ : ۱۱۶۱/۷

۲. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۷۸/۱

۳. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۵۹/۲

۴. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۵۸/۳ و ۴

۵. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۰۶/۳

۶. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۰۵/۱

۷. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۰۶/۴

۱۰۳

گیارہویں فصل: دشمن کے خلاف بد دعا اور مباہلہ

دشمن کے خلاف بد دعا اور مباہلہ کرنے کے احکام

اس میں کل بارہ احکام ہیں۔

۱۔ دشمن کے خلاف بد دعا کرنا مستحب ہے اس کی دلیل گزر چکی ہے۔

۷۳۰۔ جب معلی بن خنیس کو قتل کیا گیا تو امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: میں خدا کی بارگاہ میں اس شخص کے خلاف بد دعا کروں گا جس نے میرے غلام کو قتل کیا اور میرا مال دبایا۔ (۱)

۷۳۱۔ امام کاظم علیہ السلام نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص کسی کے خلاف بد دعا کرے تو یوں کہے

"اَللَّهُمَّ اُطْرُقْهُ بِبَلِيَّةٍ لاَ أُخْتَ لَهَا وَ أَبِحْ حَرِيمَهُ " (۲)

۲۔ دشمن جب پیٹھ دکھائے تو اس کے خلاف بد دعا کرنا مستحب ہے۔

۷۳۲۔ کسی شخص نے امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں اپنے ایک پڑوسی کی اور اس کی بد سلوکی کی شکایت کی تو آپؑ نے فرمایا: جب وہ پیٹھ دکھائے تو اس کے خلاف بد دعا کر پس اس نے ایسا ہی کیا چنانچہ کچھ دیر میں خدا نے اسے اس سے راحت پہنچائی۔(۳)

۳۔ نماز شب کی پہلی دو رکعتوں کے آخری سجدہ میں دشمن کے خلاف بد دعا کرنا مستحب ہے۔

۷۳۳۔ ایک شخص نے امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا : میرا ایک پڑوسی ہے جو قوم قریش سے تعلق رکھتا ہے اس نے مجھے بدنام کردیا ہے امام علیہ السلام نے فرمایا: جب نماز شب کی پہلی دو رکعتوں کے آخری سجدہ میں جاؤ تو خدا کی حمد و ثناء کرو اور تعظیم و تمجید بیان کر وپھر کہو

" اللَّهُمَّ إِنَّ فُلَانَ بْنَ فُلَانٍ قَدْ شَهرَني وَ نوَّهَ بِي وَ غَاظَنِي وَ عَرَضَنِي لِلْمَكَارِهِ اللَّهُمَّ اضْرِبْهُ بِسَهْمٍ عَاجِلٍ تَشْغَلْهُ بِهِ عَنِّي اللَّهُمَّ وَ قَرِّبْ أَجَلَهُ وَ اقْطَعْ أَثَرَهُ وَ عَجِّلْ ذَلِكَ يَا رَبِّ السَّاعَةَ السَّاعَةَ"

راوی کا بیان ہے کہ اس نے ایسا ہی کیا اور اس کے خلاف بد دعا کی تو وہ ہلاک و برباد ہو گیا۔ (۴)

۴۔ ظالم کے خلاف کثرت سے بد دعا کرنا مکروہ ہے۔

۷۳۴۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:

بندہ مظلوم ضرور ہوتا ہے مگر ظالم کے خلاف کبھی اس قدر مسلسل بد دعا کرتا ہے کہ خود ظالم بن جاتا ہے۔(۵)

۵۔ بلاوجہ مومن کو بد دعا دینا جائز نہیں ہے۔

۷۳۵۔ امام زین العابدین علیہ السلام نے فرمایا:

جب ملائکہ ایک مومن آدمی کو اپنے بھائی کی برائی اور اس کے خلاف بد دعا کرتے ہوئے سنتے ہیں تو اس سے کہتے ہیں کہ تو اپنے بھائی کا بُرا بھائی ہے اے وہ شخص کہ جس کے گناہوں اورعیبوں پر پردہ پڑا ہوا ہے! اپنی روش سے باز آجا۔ (۶)

۶۔ بادشاہوں کے خلاف کثرت سے بد دعا کرنا مکروہ ہے۔

۷۳۶۔ امام زین العابدین علیہ السلام نے فرمایا: خدا وند عالم نےفرمایا:

میں ہوں خدا، میرے سوا کوئی خدا نہیں میں نے بادشاہوں کواس طرح پیدا کیا کہ ان کے دل میرے قبضہ قدرت میں ہیں پس جو لوگ میری اطاعت کرتے ہیں میں بادشاہوں کے دلوں کو ان پر مہربان کر دیتا ہوں اور جو لوگ میری نافرمانی کرتے ہیں میں بادشاہوں کے دلوں کو ان پر ناراض کر دیتا ہوں لہذا آگاہ ہو جاؤ كہ تم لوگ خود کوبادشاہوں کو گالیاں دینے میں مصروف رکھنے کی بجائے میری بارگاہ میں توبہ کریں میں ان کے قلوب کو تم پر مہربان کرونگا۔(۷)

۷۔ دشمن سے مباہلہ کرنا مستحب ہے۔

۷۳۷۔ امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا گیا کہ ہم لوگ عامۃ الناس سے استدلال و احتجاج کرتے ہیں اورجو کچھ آپؑ سے عرض کیا گیا وہاں تک ہے آپ ؑنے جواب میں فرمایا: جب ایسی صورتحال درپیش ہو تو ان کو مباہلہ کی دعوت دیا کرو۔

عرض کیا گیاکہ کس طرح دعوت دوں؟ آپ ؑنے تیں مرتبہ فرمایا:اپنی اصلاح کر(راوی کہتا ہے) اور میرا خیال ہے کہ آپ ؑ نے فرمایا:

روزہ رکھ اور غسل کر پھر تم دونوں کسی قبرستان کی طرف نکل جائیں اور اپنے دائیں ہاتھ کی انگلیاں اس کی انگلیوں میں ڈال اور اس سے انصاف کرتے ہوئے پہلے تو اپنے متعلق کہو

"اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ وَ رَبَّ الْأَرَضِينَ السَّبْعِ عَالِمَ الْغَيْبِ وَ الشَّهَادَةِ الرَّحْمَنَ الرَّحِيمَ إِنْ كَانَ أَبُو مَسْرُوقٍ جَحَدَ حَقّاً وَ ادَّعَى بَاطِلًا فَأَنْزِلْ عَلَيْهِ حُسْبَاناً مِنَ السَّمَاءِ أَوْ عَذَاباً أَلِيماً"

پھر اس کے بر خلاف یوں بد دعا کر

"وَ إِنْ كَانَ فُلَانٌ جَحَدَ حَقّاً وَ ادَّعَى بَاطِلًا فَأَنْزِلْ عَلَيْهِ حُسْبَاناً مِنَ السَّمَاءِ أَوْ عَذَاباً أَلِيماً"

پھر تمہیں زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑے گا کہ تم اس شخص میں اس کا اثر دیکھو گے۔ (۸)

۸۔ مباہلہ کاغسل مستحب ہے اس کی دلیل (ابھی)گزر چکی ہے۔

۹۔ مباہلہ کرنے سے پہلے روزہ رکھنا اور قبرستان کی طرف نکلنا مستحب ہے اس کی دلیل(ابھی) گزر چکی ہے۔

۱۰۔ مباہلہ کرنے والوں میں سے ہر ایک کا خود کے خلاف ستر مرتبہ اور اپنے دشمن کے خلاف ستر مرتبہ بد دعا کرنا (مستحب ہے)

ا سکی دلیل گزر چکی ہے اور مزید آنے والی ہے۔

۱۱۔ مباہلہ کرنے والے طرفین کے ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسرے کی انگلیوں میں ڈال کر منقولہ دعا کا پڑھنا (مستحب ہے)۔

۷۳۸۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: اپنی انگلیاں اس کی انگلیوں میں ڈالو پھر کہو:

" اللّهُمَّ إنْ كانَ فُلانٌ جَحَدَ حقّا و أقَرَّ بباطلٍ فأصِبْهُ بِحُسْبانٍ مِن السَّماءِ أو بِعذابٍ مِن عِندِكَ "

پھر ستر بار اس سے ملاعنہ کرو۔ (۹)

۱۲۔ طلوع فجر اور طلوع آفتاب کے درمیان مباہلہ کرنا مستحب۔

۷۳۹۔ امام باقر علیہ السلام نے فرمایا:

جس گھڑی میں مباہلہ کیا جاتا ہے وہ طلوع فجر سے لے کر طلوع آفتاب تک ہے۔(۱۰)

۱۰۴

حوالہ جات:

۱. و سائل ۴ : ۱۱۶۵/۱

۲. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۶۵/۳

۳. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۶۵/۲

۴. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۶۶/۱

۵. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۶۴/۱

۶. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۶۴/۲

۷. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۶۴/۳

۸. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۶۷/۱

۹. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۶۷/۲

۱۰. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۶۸/۱

۱۰۵

۱۱. بارہویں فصل:بارہ احکام

۱۔ مومن کی دعا کے لئے آمین کہنا مستحب ہے خصوصا جب وہ خود اس کی التماس کرے۔

۷۴۰۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: حضرت موسیٰ ؑ نے دعا کی تو حضرت ہارون ؑنے آمین کہی اور ملائکہ نے بھی آمین کہی تب خداوند عالم نے فرمایا:

" قَد اُجِیبَت دَّعوَتُکُمَا "(۱)

( تم دونوں کی دعا قبول کر لی گئی ہے)۔(۲)

۷۴۱۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: دعا کرنے والا اور آمین کہنے والا دونوں اجروثواب میں شریک ہیں۔ (۳)

۷۴۲۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: میرے والد ماجد کو جب کوئی کام پریشان کرتا توہ وہ خواتین اور بچوں کو بلا لیتے پھر خود دعا کرتے اور سب آمین کہتے تھے۔(۴)

۷۴۳۔ امام کاظم علیہ السلام سے سوال کیا گیا کہ ایک شخص دعا کرتا ہے اور اس کے اردگرد اس کے بھائی بیٹھے ہیں، کیا ان پر آمین کہنا واجب ہے؟آپؑ نے جواب میں فرمایا: اگر چاہیں تو کہیں اور چاہیں تو خاموش رہیں ہاں البتہ وہ دعا کرے اور ان سے کہے کہ تم آمین کہو تو پھر ان پر واجب ہے کہ وہ ایسا کریں۔ (۵)

۲۔ دعا میں عمومیت مستحب ہے بالخصوص پیش نماز کے لئے۔

۷۴۴۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص دعا کرے تو اسے چاہئے کہ عموم اور جمع کے صیغے استعمال کرے کیونکہ یہ دعا کو قبولیت سے زیادہ نزدیک کر دیتا ہے۔ (۶)

۷۴۵۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جو شخص لوگوں کو نماز با جماعت پڑھائے اور پھر ان کو چھوڑ کر اپنی ذات کےلئے دعا کرے تو اس نے ان سے خیانت کی۔(۷)

۳۔

۷۴۶۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: چار قسم کے لوگ ایسے ہیں کہ جن کی دعا کبھی رد نہیں ہوتی یہاں تک کہ اس کے لئے آسمان کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور وہ عرش الہی تک پہنچ جاتی ہے:

۱۔ اولاد کے لئے والد کی دعا۔۲۔ ظالم کے خلاف مظلوم کی بد دعا۳- عمرہ ادا کرنے والے کی دعا،اس کے (مکہ سے)واپس لوٹنے تک ۴۔ روزہ دار کی دعاروزہ افطار کرنے تک۔ (۸)

۷۴۷۔امام باقر (ع) نے فرمایا: پانچ دعائیں ایسی ہیں جنکو خداوند عالم کی بارگاہ میں پہنچنے سے روکا نہیں جا سکتا

۱۔ امام عادل کی دعا ۲۔ مظلوم کی بد دعا ۳۔ نیک اولاد کی دعا اپنے والدین کے لئے ۴۔ نیک والد کی دعا اپنی اولاد کے لئے ۵- مومن کی دعا اپنے برادر مومن کے لئے اس کی غیرموجودگی میں۔(۹)

۷۴۸۔ امام صادق علیہ السلا م نے فرمایا: تین اشخاص ایسے ہیں جن کی دعائیں مستجاب ہوتی ہیں :

۱۔ حاجی! پس خیال رکھنا کہ تم اس(کے اہل وعیال) سے کیا سلوک کرتے ہو،

۲۔ راہ خدا میں جہاد کرنے والے غازی! پس، خیال رکھنا کہ تم اس(کے اہل وعیال) سے کیا سلوک کرتے ہو،

۳۔ بیمار! اسے غصہ نہ دلاؤ اور نہ ہی اس کو ستاؤ۔ (۱۰)

۷۵۹۔ امام صادق (ع) نےفرمایا: تین دعائیں ایسی ہیں جنکوخداوند عالم کی بارہ میں پہنچنے سے نہیں روکا جا سکتا :

۱۔ والد کی دعا بیٹے کےلئے جب وہ اپنے والد کے ساتھ بھلائی کرے،٢- اور والد کی بد دعا بیٹے کے خلاف جب وہ اس کوعاق کر دے۔

۲۔ مظلوم کی بد دعا ظالم کے خلاف۔

۳۔ مظلو م کی دعا اس شخص کے حق میں جو اس کی مدد کرے۔

۴۔ کافر کے خلاف بد دعا کرنا۔(۱۱)

۷۵۰۔ ایک شخص نے امام موسی کاظم علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا: اگر میں کسی نصرانی طبیب کا محتاج ہوجاؤں تو کیا اس کو سلام اور اس کے لئے دعا کر سکتا ہوں؟ تو آپؑ نے فرمایا: ہاں، مگر تمہاری یہ دعا اسے کوئی فائدہ نہیں دے گی۔(۱۲)

۵۔ طلب رزق کے لئے دعا کرنا۔

۷۵۱ ۔ امام باقر علیہ السلام نے فرمایا: طلب رزق کے لئے نماز فریضہ میں سجدے میں جا کر دعا کرو۔ (۱۳)

۷۵۲۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: خدا نے مومنین کے رزق وہاں رکھے ہیں جہاں ان کو گمان بھی نہیں ہوتا اور اس کی وجہ یہ ہے کہ جب بندہ کو اپنے رزق کا مقام و سبب معلوم نہیں ہوگا تو پھر وہ دعا زیادہ کرے گا۔(۱۴)

۷۵۳۔ امام باقر علیہ السلام نے ایک شخص کو خدا سے اس طرح سوال کرتے ہوئے دیکھا جو کہہ رہا تھا:

"اَلَّلهُمَّ إِنِّي أَسأَلُكَ مِن رِّزقِكَ الحَلَالِ"

( یا اللہ میں تجھ سے رزق حلال کا سوال کرتا ہوں)، امام ؑ نے اس سے فرمایا: تو نے خدا سے نبیوں کا رزق طلب کیا ہے، یوں سوال کرو:

"أَللَّهُمَّ إِنِّي أَسئَلُكَ رِزقاً وَّاسِعاً طَیِّباً مِّن رِّزقِكَ"

( یا اللہ میں تجھ سے رزق وسیع و پاکیزہ چاہتا ہوں) (۱۵)

میں کہوں گا کہ اس سے مراد یہاں، حلال واقعی و خالص ہے جس میں کوئی شائبہ و شک نہ پایا جائے اور رزق حلال طلب کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے بلکہ مستحب ہے کہ متعدد حدیثوں میں اس کا تذکرہ موجود ہے۔

۶۔ ظلم کرنا چھوڑ کرمظلوم کی بد دعا سے بچنا اور والدین کی نافرمانی چھوڑ کران کی بد دعا سےبچنا واجب ہے۔ اس کی دلیل گزر چکی ہے۔

۷۵۴۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: خبردار ! مظلوم کی بد دعا سے پرہیز کرنا خبردار! والد کی بددعا سے بچنا کہ وہ تلوار سے زیادہ تیز ہوتی ہے۔ (۱۶)

۷۵۵۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: مظلوم کی بد دعا ضرور مستجاب ہوتی ہے اگرچہ وہ فاسق و فاجر ہو جسے ظالم سے اپنی جان کا خطرہ ہو۔(۱۷)

۷۔ وہ الفاظ جو دعا میں کہنا مکروہ ہیں۔

۷۵۶۔ ایک شخص نے امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں یوں کہا:

"اَلحَمدُلِلَّهِ مُنتَهَی عِلمِهِ"

(خدا کا شکر کرتا ہوں اسکےعلم کی انتہاء تک)،امامؑ نے فرمایا: ایسا نہ کہو کیونکہ اسکے علم کی کوئی انتہا نہیں ہے(۱۸

۷۵۷۔ روایت نقل ہوئی ہے کہ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: نہ کہو:(خدا کے علم کی انتہا تک) بلکہ کہو: (اس کی خوشنودی کی انتہا تک)۔(۱۹)

۷۵۸۔ امیر المومنین علیہ السلام نے ایک شخص سے سنا وہ کہہ رہا تھا:

"أَللَّ هُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الفِتنَة"ِ

(خدا یا! میں فتنہ سے تیری پناہ چاہتا ہوں) امام ؑ نے فرمایا: میں سمجھتا ہوں کہ تو اپنے مال و اولاد سے پناہ مانگ رہا ہے کیونکہ خدا فرماتا ہے

( إنَّمَا أَموَالُکُم وَ أَولَادُکُم فِنتَةُ )(۲۰)

( تمہارا مال اور تمہاری اولاد فتنہ ہیں) بلکہ یوں کہو:

"أَللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُبِكَ مِن مُّضِلَّاتِ الفِتَن"

(خدایا میں تجھ سے گمراہ کرنے والے فتنوں سے پناہ مانگتا ہوں) (۲۱)

۷۵۹۔ امیرالمومنین علیہ السلام نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص ہرگز یہ دعا نہ کرے:

"أَللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الفِتنَة"ِ

بلکہ جو پناہ مانگناچاہتا ہے تو وہ گمراہ کرنے والے فتنوں سے پناہ مانگے(۲۲)

کیونکہ خدا فرماتا ہے:

( إنَّمَا أَموَالُکُم وَ أَولَادُکُم فِنتَةُ ) (۲۳)

۷۶۰۔ ایک شخص نے امام صادق علیہ السلام کو خط لکھا جس میں یہ استدعا کی تھی کہ اس کے لئے دعا فرمائے کہ اسے ان لوگوں میں سے بنائے جن سے خدا اپنے دین کا کام لیتا ہے امام ؑ نے جواب میں لکھا: خدا تم پر رحم کرے؛ خدا تو اپنے دین کا کام کبھی بدترین مخلوق سے بھی لیتا ہے۔(۲۴)

۷۶۱۔ امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں ایک شخص نے استدعا کی کہ وہ خدا سے دعا کریں کہ خدا انہیں اپنی مخلوقات سے بے نیاز کر دے امام ؑنے فرمایا: خدا نے جس کا رزق جس کے ہاتھوں پر چاہا مقدر کر دیا ہے اس لئے یوں سوال کر و کہ خدا تجھے کمینے لوگوں کا محتاج نہ کرے۔ (۲۵)

میں کہوں گا کہ یہ الفاظ ، ائمہ علیہم السلام سے منقول دعاؤں میں مذکور ہیں لہذا اگر ان سے صحیح معنوں کا قصد کیا جائے یا ان کے ساتھ کوئی ایسی قید لگائی جائے جس سے غلط احتمال دور ہو جائے تو پھر کوئی مضائقہ نہیں ہے۔

۸۔ جو (جائز) دعا زبان پر جاری ہو جائے اس کا پڑھنا مستحب ہے البتہ منقولہ دعاؤں کو ترجیح دینا مستحب ہے اور اپنی جانب سے کوئی دعا اختراع کرنا مکروہ ہے۔

۷۶۲۔ ایک شخص نے امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا کہ مجھے کوئی دعا تعلیم فرمائیں تو آپ ؑ نے فرمایا: افضل دعا وہ ہے جو تیری زبان پر خود بخود جاری ہو جائے۔(۲۶)

۷۶۳۔ امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں کسی شخص نے عرض کیا کہ میں نے ایک دعا اختراع کی ہے توآپ ؑنےفرمایا: اپنی اختراع کو چھوڑ دو۔(۲۷)

۹۔ جب تک حمل کو چار ماہ نہ گزر جائیں حاملہ عورت کے لئے یہ دعا کرنا مستحب ہے کہ خدا اس کے حمل کو مذکر اور صحیح و سلامت بنائے اور اس مدت کے بعد بھی یہ دعا کرنا جائز ہے۔

۷۶۴۔ امیرالمومنین علیہ السلام نے فرمایا: نطفہ رحم میں چالیس دن کے دوران تبدیل ہوتا ہے پس جو چاہتا کہ خدا سے دعا کرے تو اسے چاہئے کہ ان چالیس دنوں کے اندر اس کی خلقت ہونے سے پہلے کرے اس کے بعد خدا ملک الارحام کو بھیجتا ہے جو اسے قبضہ میں لے کر پوچھتا ہے: خدایا! یہ بدبخت ہے یا خوشبخت؟(۲۸)

۷۶۵۔ امام کاظم علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا گیا کہ ایک شخص حاملہ عورت کے لئے یہ دعا کرتا ہے کہ خدا اس کے حمل کو مذکر اور صحیح و سلامت بنائے،تو آپؑ نے فرمایا: ہاں چار مہینے تک ایسی دعا کر سکتا ہے! کیونکہ چالیس رات تک نطفہ ہوتا ہے اس کے بعد چالیس رات تک علقہ(جما ہوا خون) ہوتا ہے اور پھر چالیس رات تک مضغہ( گوشت کا لوتھڑا) ہوتا ہے یہ ہو گئے پورے چار ماہ، اس کے بعد خدا دو فرشتوں کو بھیجتا ہے وہ آکر خدا سے پوچھتے ہیں: پروردگار! تُواسے لڑکا بنانا چاہتا ہے یا لڑکی؟

شقی بنانا چاہتا ہے یا سعید؟

ان کو وہ کام(کہ ان کو کیا کرناہے) بتایا جاتا ہے۔(۲۹)

۷۶۶۔ امام کاظم علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا گیا کہ لوگ کہتے ہیں کہ جب حاملہ کے حمل کو چھ ماہ گزر جائیں تو خدا اس کی خلقت سے فارغ ہو جاتا ہے،تو امام ؑ نے فرمایا: دعا کر اگر چہ (صفا) کے پھٹنے کے وقت ہو، آپؑ سے پوچھا گیا کہ: (صفا) کیا چیزہے تو آپ ؑنے جواب میں فرمایا: وہ جھلّی جو ولادت کے وقت بچے کے ساتھ نکلتی ہے کیونکہ خدا جو چاہتا ہے وہ کرتا ہے۔(۳۰)

۷۶۷۔ امام رضا علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا گیا: کیا خدا سے یہ دعا کرنا جائز ہے کہ وہ لڑکی کو لڑکا اور لڑکے کو لڑکی بنا دے؟ آپؑ نے جواب میں فرمایا: ہاں، خدا جو چاہتا ہے کرتا ہے۔(۳۱)

۱۰۔دعا کرنے والے کے لئے مستحب ہے کہ جو کچھ لوگوں کے پاس ہے اس سے نا امید ہو جائے اور خدا کے علاوہ کسی سے امید نہ رکھے۔

۷۶۸۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: اگر تم میں سے کوئی شخص یہ چاہتا ہے کہ وہ جو کچھ خدا سے مانگے وہ اسے ضرور عطا کر دیا جائے تو اسے چاہئے کہ وہ تمام لوگوں سے مایوس ہو جائے اور خدا کے علاوہ کسی سے کوئی امید نہ رکھے پس جب خدا اس کے دل میں اس عزم کو پائے گا تو جس چیزکا وہ اس کی ذات سے سوال کرے گا وہ اسے عطا کرے گا۔(۳۲)

۱۱۔ دعا کرنے والے کے لئے فیروزہ اور عقیق کی انگوٹھی پہننا مستحب ہے۔

۷۶۹۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جو شخص عقیق کی انگوٹھی پہنے گا اس کی حاجتیں بر لائی جائیں گی۔(۳۳)

۷۷۰۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: خدا فرماتا ہے: مجھے اس بندے سے شرم آتی ہے جو میری بارگاہ میں ایسا ہاتھ اٹھائے جس میں فیروزہ کی انگوٹھی ہو اور میں اسے ناکام واپس لوٹا دوں۔(۳۴)

۷۷۱۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: خدا کی بارگاہ میں کبھی کوئی ایسی ہتھیلی نہیں اٹھائی گئی کہ جو اس کی نظر میں اس ہتھیلی سے زیادہ پسندیدہ ہو جس میں عقیق کی انگوٹھی ہو۔(۳۵)

۱۲۔ دعا کرنے والے کےلئے واجب ہے کہ حرام چیزوں خصوصا ظلم کو ترک کرے۔

۷۷۲۔ امام باقرعلیہ السلام نے فرمایا: ایک بندہ خدا سے کوئی حاجت طلب کرتا ہے مگر وہ کوئی گناہ کرتا ہے تو خدا فرشتے سے کہتا ہے کہ اس کی حاجت روائی نہ کرو۔(۳۶)

۷۷۳۔ حدیث قدسی میں(فرمان) ہے : میری بارگاہ میں پہنچنے سے نہیں روکی جائے گی سوائے حرام خور کی دعا کے۔ (۳۷)

۷۷۴۔ خداوند عالم نے فرمایا: مجھے اپنی عزت و جلال کی قسم کہ میں اس مظلوم کی وہ دعا کبھی قبول نہیں کروں گا جو وہ اپنے کسی حق کے بارے میں کرے گا، جبکہ اس کی گردن پر میرے کسی بندے کا ایسا کوئی حق ہو گا۔(۳۸)

۱۰۶

حوالہ جات:

۱ ۔یونس:۸۹

۲ ۔ و سائل ۴ : ۱۱۴۴/۲

۳ ۔ و سائل ۴ : ۱۱۴۴/۱

۴ ۔ و سائل ۴ : ۱۱۴۴/۳

۵ ۔ و سائل ۴ : ۱۱۴۴/۴

۶ ۔ و سائل ۴ : ۱۱۴۵/۱

۷ ۔ و سائل ۴ : ۱۱۴۵/۲

۸ ۔ و سائل ۴ : ۱۱۵۳/۲

۹ ۔ و سائل ۴ : ۱۱۵۳/۱

۱۰ ۔ و سائل ۴ : ۱۱۶۱/۱

۱۱ ۔ و سائل ۴ : ۱۱۶۳/۶

۱۲ ۔ و سائل ۴ : ۱۱۵۵/۱

۱۳ ۔ و سائل ۴ : ۱۱۵۶/۱

۱۴ ۔ و سائل ۴ : ۱۱۵۷/۲

۱۵ ۔ و سائل ۴ : ۱۱۵۷/۱

۱۶ ۔ و سائل ۴ : ۱۱۶۲/۱

۱۷ ۔ و سائل ۴ : ۱۱۶۴/۷

۱۸ ۔ و سائل ۴ : ۱۱۶۹/۲

۱۹ ۔ و سائل ۴ : ۱۱۶۸/۱

۲۰ ۔تغابن:۱۵

۲۱ ۔ و سائل ۴ : ۱۱۶۹/۱

۲۲ ۔ و سائل ۴ : ۱۱۶۹/۲

۲۳ ۔تغابن:۱۵

۲۴ ۔ و سائل ۴ : ۱۱۷۰/۱

۲۵ ۔ و سائل ۴ : ۱۱۷۰/۱

۲۶ ۔ و سائل ۴ : ۱۱۷۱/۱

۲۷ ۔ و سائل ۴ : ۹۵۸/۱

۲۸ ۔ و سائل ۴ : ۱۱۷۳/۳

۲۹ ۔ و سائل ۴ : ۱۱۷۲/۱

۳۰ ۔ و سائل ۴ : ۱۱۷۲/۲

۳۱ ۔ و سائل ۴ : ۱۱۷۳/۵

۳۲ ۔ و سائل ۴ : ۱۱۷۴/۱

۳۳ ۔ و سائل ۴ : ۱۱۷۵/۴

۳۴ ۔ و سائل ۴ : ۱۱۷۵/۲

۳۵ ۔ و سائل ۴ : ۱۱۷۴/۱

۳۶ ۔ و سائل ۴ : ۱۱۷۵/۱

۳۷ ۔ و سائل ۴ : ۱۱۷۵/۴

۳۸ ۔ و سائل ۴ : ۱۱۷۶/۱

۱۰۷

آٹھواں فعل:ذکر

۷۷۵۔ امام صادق علیہ السلام نے نماز واجب ہونے کی علت کے متعلق فرمایا: خدا نے چاہا کہ لوگوں کو رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مقام وعظمت بھول نہ جائے اس لئے ان پر نماز کو فرض کیا تاکہ شب و روز میں پانچ مرتبہ خدا کویاد کریں اور اس کے نام لے کر اسی کو پکاریں اور نماز اور ذکر خدا کے ذریعہ اس کی بندگی کریں تاکہ غفلت کا شکار ہو کر ان کو بھول نہ جائیں جس کے نتیجے میں ان کا ذکر خیر مٹ نہ جائے۔(۱)

۷۷۶۔ امام علی رضا علیہ السلام نے نماز کے واجب ہونے کی علت کے بارے میں فرمایا: اس میں خدا کی ربوبیت کا اقرار ہے، تاکہ بندہ ہروقت یاد خدا میں مشغول رہے اورخدا کو فراموش نہ کرے، اس کے علاوہ اس میں شب و روز ذکرخدا کا تسلسل بھی ہے تاکہ بندہ اپنے سردار اور مدبر اور خالق کو بھول نہ جائے۔ اور اپنے پروردگار کی یاد منانے کے لئے بارگاہ میں کھڑا ہونا اس کے لئے گناہ و نافرمانی سے بچانے کا باعث بن جائے۔ خداوند عالم فرماتا ہے:

( اَقِمِ الصَّلَا ۃ لِذِكرِي ) (۲)

( مجھے یاد کرنے کے لئے نماز قائم کرو۔ (۳)

ذکر کے احکام کوکل بارہ فصلوں میں ذکر کریں گے۔

۱۰۸

پہلی فصل:نماز کے واجب اذکار

نماز کے واجب اذکارکُل بارہ ہیں

۱۔ تکبرۃ الاحرام۔ اس کی دلیل گزر چکی ہے۔

۲۔ سورہ فاتحہ۔ اس کی دلیل گزر چکی ہے۔

۳ ۔ سورہ۔ اس کی دلیل گزر چکی ہے۔

۴ ۔ وہ واجب دعا جو ذکر پر مشتمل ہے۔ چنانچہ گزر چکا ہے کہ اس کی بارہ قسمیں ہیں البتہ اس فصل میں ان میں سے بعض ایک دوسرے میں داخل ہیں۔

۵۔ آخری دو رکعتوں میں تسبیحات اربعہ۔ اس کی دلیل گزر چکی ہے۔

۶۔ رکوع کا ذکر۔ اس کی دلیل آنے والی ہے۔

۷۔ سجود کا ذکر۔ اس کی دلیل آنے والی ہے۔

۸۔ تشہد۔ اس کی دلیل آنے والی ہے۔

۹۔ سلام۔ اس کی دلیل آنے والی ہے

۱۰۔ نماز میں نذر کی وجہ سے واجب ہونے والا ذکر۔ اس کی دلیل آنے والی ہے۔

۱۱۔ نماز میں عہد کی وجہ سے واجب ہونے والا ذکر۔ اس کی دلیل آنے والی ہے۔

۱۲۔ نماز میں قَسم کی وجہ سے واجب ہونے والا ذکر۔ اس کی دلیل آنے والی ہے۔

حوالہ جات:

۱. و سائل ۳ : ۴/۸

۲. ۔طہ:۱۴

۳. ۔ و سائل ۳ : ۴/۷

۱۰۹

دوسری فصل: ہر حالت میں ذکر خدا کرنا

ہر حالت میں ذکر خدا کرنا اور اس کو ہر چیز پر ترجیح دینا مستحب ہے اور اسے ترک کرنا مکروہ ہے۔

۷۷۷۔ روایت نقل ہوئی ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ نے خدا سے سوال کیا: اے پروردگار! کیا تو میرے قریب ہے تاکہ میں تجھ سے مناجات کروں یا دور ہے تاکہ تجھے ندا دوں؟ تو خدا نے ان پر وحی کی: اے موسیٰ! جو شخص میرا ذکر کرتا ہے میں اس کا ہمنشین ہوتا ہوں حضرت موسیٰؑ نے عرض کیا: خدایا ! اس دن تیرے پناه میں کون ہو گا جس دن تیرے پناه کے سوا کوئی پناه نہ ہوگا؟ خدا نے فرمایا: جو لوگ مجھے یاد کرتے ہیں میں ان کو یاد کرتا ہوں اور جو میری خاطر محبت کرتے ہیں اور میں ان سے محبت کرتا ہوں یہی وہ لوگ ہیں کہ جب میں اہل زمین پر کوئی عذاب نازل کرنا چاہتا ہوں تو ان کی وجہ سے اس عذاب کو ٹال دیتا ہوں، موسیٰؑ نے عرض کیا: اے پروردگار مجھے کچھ ایسے مواقع پیش آتے ہیں کہ میں تیری ذات کو ان سے اجل و ارفع جانتا ہوں کہ ان میں تیرا ذکر کروں، تو خدا فرمایا: اے موسیٰ! میرا ذکر ہر حالت میں اچھا ہے۔(۱)

۷۷۸۔ امام باقر علیہ السلام نے فرمایا: بندہ مومن جب تک ذکر خدا میں مشغول رہتا ہے اسے نماز میں مشغول سمجھا جاتا ہے، خواہ کھڑا ہو یا بیٹھا ہویا لیٹا ہو چنانچہ خداوند عالم فرماتا ہے:

( الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَىٰ جُنُوبِهِمْ ) (۲)

(اہل ایمان وہ ہیں جو کھڑے ہوئے اور بیٹھے ہوئے اور پہلوؤں پر لیٹے ہوئے خدا کا ذکر کرتے ہیں۔(۳)

۷۷۹۔ خداوند عالم نے حضرت موسیٰ ؑ پر وحی فرمائی کہ اے موسیٰؑ! مال و متاع کی کثرت پر خوش و خرم نہ ہو اور کسی حالت میں بھی میرا ذکر ترک نہ کرنا کیونکہ مال و متاع کی کثرت آدمی کو گناہ بُھلا دیتی ہےاور میرے ذکر کا ترک کرنا دلوں کو سخت کر دیتا ہے۔ (۴)

۷۸۰۔ منقول ہے کہ سب لوگوں سے بڑھ کر سست آدمی وہ ہے جو صحیح و سالم اور فارغ ہو لیکن ہونٹوں سے اور زبان سے خدا کا ذکر نہ کرے۔(۵)

۷۸۱۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جو شخص میرے ذکر میں مشغول ہونے کی وجہ سے مجھ سے سوال کرنے سے بے خبر رہا اسےمیں اس شخص سے بہتر عطا کروں گا جو مجھ سے سوال کرتا ہے۔ (۶)

۷۸۲۔ روایت نقل ہوئی ہے کہ تمہارے تمام اعمال سے بہتر، پاکیزہ تر اور تمہارے درجات کو سب سے زیادہ بلند کرنے والا عمل اور ان تمام چیزوں سے جن پر سورج چمکتا ہے برتر عمل، ذکر خدا ہے۔(۷)

۷۸۳۔ امیر المومنین علیہ السلام نے فرمایا: نماز میں قرآن کی تلاوت کرنا ، نماز کے بغیر دوسری حالتوں میں تلاوت کرنے سے افضل ہے اور ذکر خدا (ہر حالت میں) افضل ہے۔(۸)

۱۱۰

حوالہ جات:

۱. و سائل ۴ : ۱۱۷۷/۱ و۲

۲. ۔آل عمران:۱۹۱

۳. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۷۸/۵

۴. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۷۸/۱

۵. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۷۹/۲

۶. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۸۷/۱

۷. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۸۷/۳

۸. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۸۸/۴

۱۱۱

تیسری فصل:ذکر کے مقامات اور اقسام

ذکر کرنے کے مقامات اور اس کے اقسام

ذکر کرنے کے مقامات اور اس کے اقسام بہت زیادہ ہیں ان میں سے بارہ قسموں کو یہاں ذکر کریں گے۔

۱۔ ہر مجلس و محفل ۔ اس کی دلیل گزر چکی ہے۔

۷۸۴۔ امام رضا علیہ السلام نے فرمایا: ہر وہ مجلس و محفل جس میں لوگ جمع ہوں مگر وہ ذکر خدا کئے بغیر اٹھ کر چلے جائیں تو وہ مجلس قیامت کے دن ان کے لئے حسرت و ندامت کا باعث ہو گی۔(۱)

۷۸۵۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جو لوگ کسی محفل و مجلس میں اکھٹے ہوں اور وہاں نہ خدا کا ذکر کریں اور نہ ہی اپنے نبی(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود بھیجیں تو وہ مجلس ( بروز قیامت) ان کے لئے حسرت و ندامت اور وبال کا باعث ہو گی۔(۲)

۲۔ خانہ کعبہ۔ اس کی دلیل گزر چکی ہے ۔

۳۔ مقام عرفہ، اس کی دلیل آنے والی ہے۔

۴۔ مقام مشعر الحرام۔

۵۔ مقامِ مِنیٰ، بالخصوص مسجد خیف میں ۔ اس کی دلیل گزر چکی ہے اور مزید آنے والی ہے۔

۶۔ مسجد۔ اس کی دلیل گزر چکی ہے۔

۷۸۶۔ امام صادق علیہ السلام سے سوال کیا گیا کہ مسجد والے لوگوں میں سے کون سب سے بہتر ہے ؟ توآپؑ نے جواب میں فرمایا: جو سب سے زیادہ خدا کا ذکر کرتا ہے۔(۳)

۷۔ گھر۔ اس کی دلیل گزر چکی ہے۔

۷۸۷۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جس گھر میں قرآن پڑھا جائے اور خدا کا ذکر کیا جائے اس کی برکت میں اضافہ ہو جاتا ہے وہاں فرشتے آتے جاتے ہیں اور شیطان اسے چھوڑ کر چلے جاتے ہیں اور وہ اہل آسمان کے لئے اس طرح چمکتا ہے جس طرح ستارے زمین والوں کے لئے چمکتے ہیں اور وہ گھر جس میں نہ قرآن پڑھا جائے اور نہ ہی ذکر خدا کیا جائے اس کی برکت کم ہو جاتی ہے اور وہاں شیاطین آجاتے ہیں اور فرشتے چلے جاتے ہیں۔(۴)

۸۔ بازار

۷۸۸۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جو شخص بازار میں خلوص نیت کے ساتھ خدا کا ذکر کرے جبکہ لوگ اس وقت غفلت میں ہوں اور اپنے مشاغل میں مصروف ہوں تو خدا اس کے نامہ اعمال میں ہزار نیکیاں لکھتا ہے اور بروز قیامت اس کی اس طرح مغفرت فرمائے گا جو کسی فرد بشر کے دل میں بھی نہ گزری ہو گی۔ (۵)

۹۔ ہر وادی۔

۷۸۹۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جو شخص کسی وادی سے گزرے اور ہتھیلی پھیلا کر خدا کا ذکر کرے اور دعا مانگے تو خدا اس وادی کو نیکیوں سے بھر دے گا خواہ وہ بڑی ہو یا چھوٹی۔(۶)

۱۰۔ ذکر کی مجالس و محافل

۷۹۰۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جنت کے باغوں کی سیر کرو آپؑ کی خدمت میں عرض کیا گیا: جنت کی باغات کیا ہیں؟ آپ ؑنے جواب میں فرمایا: ذکر کی مجالس و محافل ہیں۔(۷)

۷۹۱۔ روایت میں ( حلقہ ذکر) منقول ہے۔ (۸)

۷۹۲۔ روایت نقل ہوئی ہے کہ اگر تمہیں کچھ لوگ خدا کا ذکر کرتے ہوئے نظر آجائیں تو ان کے ساتھ بیٹھ جاؤ کیونکہ اگر تو عالم ہو تو تیرا علم تمہیں فائدہ دے گا اور اگر تو جاہل ہو تو وہ تمہیں علم سکھا دیں گے۔(۹)

میں کہوں گا کہ اس سے مراد علمی گفتگو کرنے کے لئے بیٹھنا ہے اور قرینہ اسی میں ظاہر ہے۔

۷۹۳۔ منقول ہے کہ خدا کا ذکر کرنے والوں کے ساتھ بیٹھنے والے شقی و بد نصیب نہیں ہوں گے۔(۱۰)

۱۱۔ دوران سفر پُل کے اوپر سے گزرتے وقت۔ اس کی دلیل آنے والی ہے۔

۱۲۔ گھر سے نکلتے اور گھر میں داخل ہوتے وقت گھر کے دروازه پر۔ اس کی دلیل گزر چکی ہے۔

۱۱۲

حوالہ جات:

۱. و سائل ۴ : ۱۱۸۰/۵

۲. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۸۰/۲

۳. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۸۵/۱

۴. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۸۵/۱

۵. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۹۰/۱

۶. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۹۱/۱

۷. ۔ و سائل ۴ : ۱۲۳۹/۳

۸. ۔ و سائل ۴ : ۱۲۳۹/۱

۹. ۔ و سائل ۴ : ۱۲۳۹/۲

۱۰. ۔ و سائل ۴ : ۱۲۳۹/۴

۱۱۳

چوتھی فصل:

جن حالات میں ذکر کیا جاتا ہے وہ بھی زیادہ ہیں ان میں سے بارہ کو ذکر کریں گے۔

۱۔ مجلس و محفل سے اٹھتے وقت۔

۷۹۴۔ امام باقرعلیہ السلام نے فرمایا: جو شخص چاہتا ہے کہ ناپنے والا کامل پیمانے سے ناپے تو جب اپنی مجلس سے اٹھنے لگے(۱)

تو کہے:

" سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِين " (۲)

۷۹۵۔ روایت نقل ہوئی ہے کہ مذکورہ دعا، اس کی گفتگوکی انتہا ہونی چاہئے۔(۳)

۷۹۶۔ روایت نقل ہوئی ہے کہ مذکورہ دعا اس مجلس کا کفارہ ہے۔ (۴)

۲۔ خلوت میں۔

۷۹۷۔ حدیث قدسی میں ہے: (اے عیسیٰ!) اپنا دل میرے لئے نرم کر اور خلوتوں میں بکثرت میرا ذکر کرو۔(۵)

۷۹۸۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: ہمارے شیعہ وہ ہیں جو جب خلوت میں جاتے ہیں تو کثرت سے خدا کا ذکر کرتے ہیں۔ (۶)

۳۔ لوگوں کے اجتماع میں۔

۷۹۹۔ حدیث قدسی میں ہے: اے فرزند آدم! تو مجھے لوگوں کے سامنے یاد کرو میں تجھے ان سے بہتر لوگوں( ہستیوں) میں یاد کروں گا۔(۷)

۸۰۰۔ روایت نقل ہوئی ہے کہ ( اے فرزند آدم!) تو مجھے خلوت میں یاد کرو میں بھی تجھے خلوت میں یاد کروں گا۔ (۸)

۸۰۱۔ اے فرزند آدم! مجھے لوگوں کے سامنے یاد کر ومیں تجھے آدمیوں سے بہترہستیوں میں یاد کرونگا۔ (۹)

۸۰۲۔ روایت نقل ہوئی ہے کہ میں تجھے فرشتوں سے بہتر ہستیوں میں یاد کروں گا۔(۱۰)

۴۔ آسمانی بجلی سے خوف پیدا ہونے کی صورت میں۔

۸۰۳۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: مومن ہر قسم کی موت مر سکتا ہے سوائے آسمانی بجلی کے کیونکہ ذکر خدا کرتے ہوئے اس پر آسمانی بجلی نہیں گر سکتی۔ (۱۱)

۸۰۴۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: آسمانی بجلیاں ذکر کرنے والے پر نہیں گرتیں! آپ ؑ کی خدمت میں عرض کیا گیا کہ ذکر کرنے والے سے مراد کون ہے؟ تو آپؑ نے فرمایا: جو قرآن کی سو آیتیں پڑھے۔ (۱۲)

۸۰۵۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: آسمانی بجلی مومن اور کافر دونوں پر گر سکتی ہے البتہ خدا کا ذکر کرنے والے پر نہیں گرتی۔(۱۳)

۵۔ جب انسان غافلوں کے اندر رہ جائے۔

۸۰۶۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: غافلوں کے اندر رہ کر خدا کا ذکر کرنے والا ایسا ہے جیسا راہ فرار اختیار کرنے والوں کے اندر جہاد کرنے والا اور جو فراریوں کی جگہ ڈٹ کر جہاد کرے اس کے لئے جنت ہے۔(۱۴)

۶۔ جب انسان کا دل،غفلت اور فراموشی کا شکار ہوجائے۔

۸۰۷۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: کبھی کبھار دل پر ایسی ساعتیں آتی ہیں کہ پرانے کپڑے کے ٹکڑے کی طرح یا بوسیدہ ہڈی کی مانند اس میں نہ ایمان ہوتا ہے اور نہ کفر جب ایسی کیفیت ہو جائے تو خدائے عزوجل کا ذکر کرو اور نشانوں سے بچو! کیونکہ خدا جب کسی بندے کی بھلائی چاہتا ہے تو اس کے دل میں ایمان کا نشان لگا دیتا ہے اور جب اس کے خلاف چاہتا ہے تو پھر کوئی اور نشان لگا دیتا ہے۔(۱۵)

۷۔ برے خیالات کے وقت

۸۰۸۔ کسی شخص نے امام صادق علیہ السلام کی بارگاہ میں عرض کیا کہ میرے دل میں ایک عظیم امر( شک) واقع ہوتا ہے، توآپؑ نے فرمایا کہ

"لَآ إِلَهَ إِلَّا اللهُ"

کہو۔(۱۶)

۸۰۹۔ کچھ لوگوں نے حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں ان کو لاحق ہونے والے ( شیطانی وسوسوں) کی شکایت کی تو آنحضرت(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: جب تم اپنے اندر ایسی کیفیت پاؤ تو کہو:

" آمَنتُ بِاللهِ وَرَسُولِهِ وَلَاحَولَ وَ لَا قُوَّ ۃ إِلَّا بِاللهِ العَلِيِّ العَظِیمِ" ۔ (۱۷)

۸۔ وسوسہ کے وقت۔ اس کی دلیل(ابھی) گزر چکی ہے۔

۸۱۰۔ امام صادق علیہ السلام سے وسوسہ کے متعلق پوچھا گیا کہ اگر وہ بہت زیادہ ہو تو (کیا کروں)؟ آپؑ نے جواب میں فرمایا: اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ اس وقت کہو: " لَآ إِلَهَ إِلَّا اللہُ "۔(۱۸)

۹۔ ہر چھوٹے اور بڑے کام کی ابتداء میں۔

یہاں پر خداکا نام لینا مستحب ہے۔

۸۱۱۔ حدیث قدسی میں( خدا کا فرمان) ہے کہ ہر وہ اچھا کام جس میں خدا کانام نہ لیا جائے وہ دم بریدہ ہوتا ہے۔(۱۹)

۸۱۲۔ اللہ تعالی نے فرمایا: میں ان تمام ہستیوں سے جن سے سوال کیا جاتا ہے، اس کا زیادہ حقدار ہوں اور جن کی خدمت میں تضرع کی جاتی ہے ان سے اولیٰ ہوں پس ہر چھوٹے یا بڑے معاملے کی ابتداء میں کہو:

بِسمِ اللهِ الرَّحمَنِ الرَّحِیمِ ۔(۲۰)

۸۱۳۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: بعض اوقات ہمارے شیعہ اپنے معاملات کی ابتداء میں

(بِسمِ اللهِ الرَّحمَنِ الرَّحِیمِ)

کا پڑھنا ترک کر دیتے ہیں تو خدا انہیں کسی ناپسند چیز میں مبتلا کر کے ان کا امتحان لیتا ہے تاکہ انہیں خدا کی حمد وثنا کرنے کے لئے تنبیہ کرے۔ (۲۱)

۱۰۔ آئینہ میں نگاہ کرتے وقت ۔خدا کی حمد و ثنا کرنا مستحب ہے۔

۸۱۴۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: خدا نے ایک جوان کے لئے محض اس لئے جنت واجب قرار دے دی کہ وہ بکثرت آئینہ میں نگاہ کرتا تھا اور کثرت سے خدا کی حمد کرتا تھا۔(۲۲)

۱۱۔ سوتے وقت ۔اس کی دلیل گزر چکی ہے اور مزید آنے والی ہے۔

۱۲۔ اٹھتے اور بیٹھتے اور لیٹتے وقت۔اس کی دلیل گزر چکی ہے۔

۱۱۴

حوالہ جات:

۱. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۸۰/۱

۲. ۔صافات:۱۸۰۔۱۸۲

۳. ۔ و سائل ۴ : ۱۰۴۶/۱۱

۴. ۔ و سائل ۵ : ۵۸۵/۱

۵. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۸۴/۲

۶. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۸۴/۱

۷. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۸۵/۱

۸. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۸۵/۴

۹. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۸۵/۲

۱۰. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۸۵/۳

۱۱. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۸۶/۱

۱۲. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۸۶/۲

۱۳. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۸۷/۵

۱۴. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۸۹/۲

۱۵. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۹۰/۱

۱۶. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۹۱/۱

۱۷. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۹۲/۳

۱۸. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۹۲/۴

۱۹. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۹۴/۴

۲۰. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۹۳/۱

۲۱. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۹۳/۲

۲۲. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۹۶/ ۱

۱۱۵

پانچویں فصل:

شب و روز میں خدا کا کثرت سے ذکر کرنا مستحب ہے۔

۸۱۵۔امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جو شخص کثرت سے ذکر خدا کرے گا تو خدا اس سے محبت کرے گا اور جو شخص خدا کو بہت یاد کرے گا تو اس کے لئے دو برائتیں ہیں ایک دوزخ سے برائت دوسری منافقت سے برائت۔(۱)

۸۱۶۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: کیا میں تمہیں خبر نہ دوں کہ تمہارے تمام اعمال سے بہتر عمل کون سا ہے؟ سب نے عرض کیا: ہاں،ضرور، آپؑ نے فرمایا: خدا کا کثرت سے ذکرکرنا ہے۔(۲)

۸۱۷۔ امام صاق علیہ السلام نے فرمایا: شب و روز کی جس گھڑی میں جتنا ممکن ہو زیادہ سے زیادہ خدا کاذکر کروکیونکہ خداوند عالم نے کثرت کے ساتھ اس کا ذکر کرنے کا حکم دیا ہے۔(۳)

۸۱۸۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: ہر چیز کی کوئی حد ہوتی ہے جہاں پر وہ ختم ہوجاتی ہے، سوائے ذکر خدا کے کیونکہ خداوند عالم تھوڑے سے ذکر پر راضی نہیں ہے اور نہ ہی اس کی کوئی حد ہے جس تک وہ پہنچ کر ختم ہو جائے پھر امام ؑ نے اس آیت کی تلاوت فرمائی:

( يا أَيُّهَا الَّذينَ آمَنُوا اذكُرُوا اللَّهَ ذِكرًا كَثيرًا ) (۴)

(اے ایمان والو! خدا کا بہت زیادہ ذکر کیا کرو) پھر آپؑ نے فرمایا: میرے والد ماجد کثیر الذکر تھے میں ان کے ہمراہ چلتا تھا تو وہ ذکر خدا کرتے تھے میں ان کے ساتھ کھانا کھاتا تو وہ خدا کا ذکر کرتے تھےحتی اگر وہ لوگوں سے گفتگو بھی کرتے تھے تو یہ چیز ان کو ذکر خدا سے باز نہیں رکھتی تھی میں دیکھتا تھا کہ ان کی زبان ان کے تالو سے لگی ہوئی تھی اور وہ برابر "لَا اِلَهَ اِلَّا اللهَ" کہتے جاتے تھے۔ (۵)

۱۱۶

حوالہ جات:

۱. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۸۱/۱

۲. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۸۳/۸

۳. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۸۲/۷

۴. ۔احزاب:۴۱

۵. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۸۱/۲

۱۱۷

چھٹی فصل:

پوشیدہ ذکر کوعلانیہ ذکر پر ترجیح دینا مستحب ہے اور آواز کو حد سے زیادہ اونچی کرنا مکروہ ہے۔

۸۱۹۔ امیر المومنین علیہ السلام نے جب کچھ لوگوں کی اونچی آواز میں تہلیل اور تکبیر کہتے ہوئے سنا تو فرمایا: لوگو! ٹھہر جاؤ اور آگاہ ہو جاؤ کہ تم گونگے یا غائب خدا کو نہیں پکار رہے ہو بلکہ اس ذات کو پکار رہے ہو جو بہت سننے والا ہے اور تمہارے بالکل قریب ہے۔(۱)

۸۲۰۔ خداوند عالم نے حضرت عیسی ؑکو وحی کی: مجھے اپنے اندر (پوشیدہ طریقہ سے) یاد کرو میں تجھے اپنے اندر یاد کرونگا۔ (۲)

۸۲۱۔ خداوند عالم نے فرمایا: جو شخص پوشیدہ طور پر میرا ذکر کرتا ہے میں علانیہ طور پر اس کا ذکر کرتا ہوں۔(۳)

۸۲۲۔ امیر المومنین علیہ السلام نے فرمایا: جو شخص پوشیدہ طور پر خدا کا ذکر کرے تو گویا اس نے خدا کا بہت زیادہ ذکر کیا کیونکہ منافق علانیہ طور پر خدا کا ذکر کرتے تھے مگر پوشیدہ طورپر نہیں کرتے تھے(۴)

تو خدا نے ان کے بارے میں فرمایا:

(یُرَاؤُونَ النَّاسَ وَلَا یَذکُرُونَ الله اِلَّا قَلِیلاً)(۵)

۱۱۸

حوالہ جات:

۱. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۸۹/۵

۲. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۸۹/۴

۳. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۸۸/۲

۴. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۸۸/۳

۵. ۔نساء:۱۴۲

۱۱۹

ساتویں فصل:

خدا کی حمد کرنے کا حکم

۸۲۳ ۔ رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا معمول تھا کہ جب صبح کرتے تھے تو تین سو ساٹھ بار کہتے تھے:

"الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ کَثِیرًا عَلَی کُلِّ حَالِ"

اور جب شام کرتے تھے تو تب بھی اتنی ہی بار یہی ذکر کرتے تھے۔ (۱)

۸۲۴۔ امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا گیا کہ خدائے عزوجل کو کون سا عمل زیادہ پسند ہے؟ تو آپؑ نے جواب میں فرمایا: اس کی حمد کرنا۔(۲)

۸۲۵۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جو شخص صبح کے وقت چار بار کہے:

" الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ "

توگویا اس نے اس دن کا شکر ادا کر دیا اور جو شخص شام کے وقت یہی ذکر کرے اس نے گویا اس نے رات کا شکر ادا کر دیا۔(۳)

۸۲۶۔ امام صادق علیہ السلام نےفرمایا: جو شخص کہے

"الْحَمْدُ لِلَّهِ کما هُوَ أَهلُهُ"

وہ آسمانی کاتبوں کو مشغول کر دیتا ہے اور وہ کہتے ہیں: پروردگارا! ہم غیب تو نہیں جانتے ہیں تو خدا فرماتا ہے: تم اسی طرح لکھ دو جس طرح میرے بندے نے پڑھا ہے اس کاثواب میرے ذمہ ہے۔ (۴)

۸۲۷۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جب خدا کسی بندہ کو کوئی نعمت عطا کرے اور وہ دل سے اسے پہچان کر اس کا کھل کر شکر ادا کرے تو وہ اس سے فارغ ہوتے ہی اس کے لئے اس نعمت میں اضافہ کا حکم دیتاہے۔ (۵)

۸۲۸۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: ہر نعمت کا خواہ وہ کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہو شکریہ یہ ہے کہ کثرت سے خدا کی حمد کرو۔(۶)

۸۲۹۔ روایت نقل ہوئی ہے کہ جس شخص پر نعمتیں ظاہرہو جائیں اسے چاہئے کہ کثرت سے خدا کی حمد کرے۔(۷)

۱۲۰