امت کی ہدایت احکام ائمہ علیہم السلام کی جانب

امت کی ہدایت احکام ائمہ علیہم السلام کی جانب 0%

امت کی ہدایت احکام ائمہ علیہم السلام کی جانب مؤلف:
: مصنف/ مؤلف
: حجۃ الاسلام استاد سید قاسم شاہ رضوی
زمرہ جات: قرآن لائبریری
صفحے: 136

امت کی ہدایت احکام ائمہ علیہم السلام کی جانب

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

مؤلف: محمد ابن حسن الحر العاملي(المعروف شیخ حرالعاملی)
: مصنف/ مؤلف
: حجۃ الاسلام استاد سید قاسم شاہ رضوی
زمرہ جات: صفحے: 136
مشاہدے: 499
ڈاؤنلوڈ: 34

تبصرے:

امت کی ہدایت احکام ائمہ علیہم السلام کی جانب
کتاب کے اندر تلاش کریں
  • ابتداء
  • پچھلا
  • 136 /
  • اگلا
  • آخر
  •  
  • ڈاؤنلوڈ HTML
  • ڈاؤنلوڈ Word
  • ڈاؤنلوڈ PDF
  • مشاہدے: 499 / ڈاؤنلوڈ: 34
سائز سائز سائز
امت کی ہدایت احکام ائمہ علیہم السلام کی جانب

امت کی ہدایت احکام ائمہ علیہم السلام کی جانب

مؤلف:
اردو

یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے

حوالہ جات:

۱. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۹۵/۳

۲. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۹۴/۱

۳. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۹۵/۱

۴. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۹۶/۱

۵. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۹۷/۵

۶. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۹۷/۶

۷. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۹۶/۱

۱۲۱

آٹھویں فصل:

استغفار کرنے کا حکم

اس باب میں بارہ حدیثیں ہیں۔

۸۳۰۔امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:( انسان کے) دل اسی طرح زنگ آلود ہو جاتے ہیں جس طرح آئینہ زنگ آلود ہو جاتا ہے۔ لہذا ان کو استغفارسے جِلا دو۔(۱)

۸۳۱۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جس شخص کے ہم و غم بہت زیادہ ہو جائیں اس پر استغفار کرنا لازم ہے۔(۲)

۸۳۲۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جو شخص کثرت سے استغفار کرے گا خدا اسے ہر ہم و غم سے سکون ونجات عطا فرمائے گا اور ہر تنگی سے نکلنے کا راستہ کھول دے گا اور اسے وہاں سے روزی دے گا جہاں سے اسے گمان بھی نہ ہوگا۔ (۳)

۸۳۳۔ امیر المومنین علیہ السلام نے فرمایا: مجھے اس شخص پر تعجب ہے جو مایوس ہوتا ہے حالانکہ اس کے پاس مِمحَات( مٹانے کا آلہ) موجود ہے آپؑ کی خدمت میں عرض کیا گیا کہ مِمحَات کیا ہے؟ فرمایا: استغفار کرنا۔ (۴)

۸۳۴۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: بہترین دعا استغفار کرنا ہے۔(۵)

۸۳۵۔ ایک شخص نے امام حسن مجتبی علیہ السلام کی خدمت میں آکر قحط سالی کی شکایت کی تو امام ؑ نے اس سے فرمایا: استغفار کر، ایک اور نے فقر و تنگدستی کی شکایت کی تو آپؑ نے فرمایا: استغفار کر، ایک اور نے آپ ؑ کی خدمت میں آکر عرض کیا: دعا فرمائیں کہ خدا مجھے ایک بیٹا عطا فرمائے تو آپؑ نے فرمایا: استغفار کر پھر آپ ؑ نے آیت شریفہ:

(اِسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَّارًا) (۶)

(اپنے رب سے مغفرت طلب کرو بے شک وہ بڑا بخشنے والا ہے)کی تلاوت فرمائی۔(۷)

۸۳۶۔ امام باقر علیہ السلام نے فرمایا: جب کوئی بندہ گناہ کرتا ہےاور اسے بیس سال بعد یاد آتا ہے اور وہ استغفار کرتا ہے تو اسے بخش دیا جاتا ہے۔(۸)

۸۳۷۔ رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب بھی کسی مجلس سے اٹھتے تھے، اگرچہ وہ مجلس مختصر وقت کے لئے ہو، پچیس مرتبہ استغفار کرتے تھے۔(۹)

۸۳۸۔ رسول خدا(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہر روز ستر دفعہ خدا سے مغفرت طلب کرتے تھے اور ستر دفعہ توبہ کرتے تھے اور آپ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بغیر کسی گناہ کے استغفار اور توبہ کیا کرتے تھے۔(۱۰)

۸۳۹۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: استغفار کرنا اور

"لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ"

کہنا بہترین عبادت ہے۔(۱۱)

خداوند عالم نے ارشاد فرمایا:

" فَاعْلَمْ أَنَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا اللَّهُ وَاسْتَغْفِرْ لِذَنْبِكَ "(۱۲)

۸۴۰۔ منقول ہے کہ سحر کے وقت استغفار کرنا مستحب ہے۔(۱۳)

۸۴۱۔ امام کاظم علیہ السلام سے ایک ایسے شخص کے بارے میں جومسلمان ہے اور اس کے ماں باپ کافر ہیں پوچھا گیاکہ کیا اس کے لئے جائز ہے کہ نماز میں ان کے لئے استغفار کرے تو آپ ؑنے جواب میں فرمایا: اگر یہ شخص بچپن میں ان سے جدا ہو گیا تھا اور اب اسے معلوم نہیں ہے کہ وہ اسلام لاچکے ہیں یا نہیں تو پھر ان کے لئے استغفار کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے، لیکن اگر وہ ان کا کفر جانتا ہے تو پھر ان کےلئے استغفار نہ کرے ہاں اگر کچھ بھی معلوم نہیں ہے تو وہ ان کے لئے دعا کرے۔(۱۴)

۱۲۲

حوالہ جات:

۱. و سائل ۴ : ۱۱۹۸/۵

۲. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۹۸/۴

۳. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۹۸/۶

۴. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۹۹/۷

۵. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۹۸/۲

۶. ۔نوح:۱۰

۷. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۹۹/۱۰

۸. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۹۹/۹

۹. ۔ و سائل ۴ : ۱۲۰۰/۱

۱۰. ۔ و سائل ۴ : ۱۲۰۱/۱

۱۱. ۔ و سائل ۴ : ۱۲۰۱/۱

۱۲. ۔غافر:۵۵

۱۳. ۔ و سائل ۴ : ۱۲۰۱/۱

۱۴. ۔ و سائل ۴ : ۱۲۰۲/۱

۱۲۳

نویں فصل :

تسبیح کرنے کا حکم

۸۴۲۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جو شخص کہے:

"سُبحَانَ اللهِ وَبِحَمدِهِ"

تو خداوند عالم اس کے نامہ اعمال میں ہزار ہزار نیکیاں لکھتا ہے۔(۱)

۸۴۳۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جو شخص کسی تعجب کے بغیر

"سُبحَانَ اللهِ "

کہے خدا اس کے لئے سبز رنگ کا ایک پرندہ خلق فرماتا ہے جو عرش الہی کے زیر سایہ خدا کی تسبیح کرتا ہےاور روز قیامت تک اس کا ثواب اس کے نامہ اعمال میں لکھا جاتا ہے۔(۲)

۸۴۴۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: اسی طرح

"الحَمدُ لِلَّهِ وَ لَا اِلَهَ اِلَّا اللهُ وَاللهُ اَکبَرُ"

پڑھنے کا ثواب بھی ایسا ہے۔ (۳)

۸۴۵۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جو شخص سو بار تکبیر کہے تو یہ اس کے لئے سو غلام آزاد کرنے سے بہتر ہے اور جو شخص سو بار خدا کی تسبیح کرے تو یہ اس کے لئے سو اونٹ خانہ خدا کی طرف ہانک کر لے جانے سے افضل ہے اور جو شخص سو بار خدا کی حمد کرے یہ اس کے لئے زین و لگام سمیت ایک ہزار گھوڑے راہ خدا میں جہاد کرنے کے لئے پیش کرنے سے افضل ہے اور جو شخص سو بار

"لَا اِلَهَ اِلَّا اللهُ"

کہے تو وہ اس دن کے اعمال کے حساب سے سب لوگوں سے افضل ہو گا سوائے اس کے جو اس سے زیادہ پڑھے۔(۴)

۸۴۶۔ امام باقرعلیہ السلام نے فرمایا: جب صبح و شام کرو تو کہو:

"سُبْحانَ اللهِ وَ الْحَمْدُ لِلهِ وَ لا إلهَ إلاّ اللهُ وَ اللهُ أکْبَر"

اور اگر یہ کہو گے تو ہر ہر تسبیح کے عوض تیرے لئے جنت میں مختلف قسم کے پھل دار دس دس درخت لگائے جائیں گے اور یہ تسبیحات باقیات صالحات ہیں۔(۵)

۸۴۷۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: زیادہ سے زیادہ کہو:

"سُبْحانَ اللهِ وَ الْحَمْدُ لِلهِ وَ لا إلهَ إلاّ اللهُ وَ اللهُ أکْبَر"(۶)

۸۴۸۔ روایت نقل ہوئی ہے کہ جنت کی قیمت

"سُبْحانَ اللهِ وَ الْحَمْدُ لِلهِ وَ لا إلهَ إلاّ اللهُ وَ اللهُ أکْبَر"

ہے۔ (۷)

۸۴۹۔ منقول ہے کہ

"اَللهُ اَکبَرُ مِن کُلِّ شَيئِ"

(خدا ہر چیز سے بڑا ہے) نہیں کہنا چاہئے بلکہ

"اَللهَ اَکبَرُ مِن اَن یُّوصَفَ"

( خدا اس سے بڑا و بالا ہے کہ اس کی صفت بیان کی جائے)۔(۸)

اس ( مذکورہ ممنوع صورت) کو پڑھنا جائز ہونا بھی منقول ہے۔

۱۲۴

حوالہ جات:

۱. ۔ و سائل ۴ : ۱۲۰۳/۳

۲. ۔ و سائل ۴ : ۱۲۰۳/۵

۳. ۔ و سائل ۴ : ۱۲۰۷/۶

۴. ۔ و سائل ۴ : ۱۲۰۴/۱

۵. ۔ و سائل ۴ : ۱۲۰۵/۲

۶. ۔ و سائل ۴ : ۱۲۰۶/۳

۷. ۔ و سائل ۴ : ۱۲۰۹/۲

۸. ۔ و سائل ۴ : ۱۲۰۹/۱

۱۲۵

دسویں فصل:

محمد و آل محمد (علیہم السلام) پر درود پڑھنے کے احکام

اس کے کل بارہ احکام ہیں۔

۱۔ درود پڑھنا مستحب ہے ۔ اس کی دلیل گزر چکی ہے

۸۵۰۔ رسول خدا(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: جو شخص مجھ پر درود بھیجتا ہے اس پر خدا اور فرشتے درود بھیجتے ہیں لہذا جس کا دل چاہے تھوڑا درود پڑھے اور جس کا دل چاہے زیادہ پڑھے۔(۱)

۸۵۱۔ رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: میں بروز قیامت میزان اعمال کے پاس موجود ہوں گا پس جس کی برائیوں کا پلڑا بھاری ہو گا میں اپنے اوپر ا سکے پڑھے ہوئے درود کو لاؤں گا تاکہ اس کی نیکیوں کا پلڑا بھاری کر دوں۔(۲)

۲۔ درود شریف کو دوسرے اعمال پر ترجیح دینا مستحب ہے۔ اور یہ حکم بھی پہلے گزر چکا ہے۔

۸۵۲۔ امام باقرعلیہ السلام یا امام صادق علیہ السلام میں سے ایک امام ؑنے فرمایا: محمد و آل محمد ؑ پر درود پڑھنے سے بڑھ کر کوئی چیز میزان عمل میں وزنی نہیں ہے۔(۳)

۳۔ درود کی کیفیت ۔ اس کی کئی کیفیتیں روایات میں نقل ہو چکی ہیں۔

۸۵۳۔ ان میں سے ایک یہ ہے

"صَلَوَاتُ اللهِ وَ صَلَوَاتُ مَلآئِکَتِهِ وَ اَنبِیآئِهِ وَ رُسُلِهِ وَ جَمِیعِ خَلقِهِ عَلَی مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ وَ السَّلاَمُ عَلَیهِ وَ عَلَیهِم وَ رَحمَ ۃ اللهِ وَ بَرَکَاتُهُ "(۴)

۱۲۶

۸۵۴۔ ان میں سے ایک یہ ہے

"اللَّهُمَّ صَلِّ على محمّدٍ و على آلِ محمَّدٍ، كما صَلَّيتَ على إبراهيمَ و على آلِ إبراهيمَ إنّكَ حَميدٌ مَجِيدٌ، و بارِكْ على محمدٍ و على آلِ محمّدٍ، كَما بارَكتَ على إبراهيمَ و على آلِ إبراهيمَ إنّكَ حَميدٌ مَجيدٌ"(۵)

۸۵۵۔ اور

" کَأَفضَلِ مَا صَلَّیتَ علَی إِبرَاهِیمَ وَ آلِ إِبرَاهِیمَ"

بھی منقول ہے۔(۶)

۴۔ جب کوئی چیز بھول جائے تو درود پڑھنا مستحب ہے۔

۸۵۶۔ امام حسن مجتبی علیہ السلام سے یاد آورى اور فراموشى کے بارے میں پوچھا گیا توآپؑ نے جواب میں فرمایا: آدمی کا دل گویا ایک ڈبیہ میں ہوتا ہے اور اس ڈبیہ کے اوپر ایک پردہ ہوتا ہے پس جب کوئی شخص کوئی چیز بھول جائے اور وہ محمد و آل محمد(علیہم السلام) پر مکمل درود پڑھے تو اس ڈبیہ سے وہ پردہ اٹھ جاتا ہے اور آدمی کا دل روشن ہو جاتا ہے اور اسے بھولی ہوئی چیز یاد آجاتی ہے اور اگر اس وقت وہ درود نہ پڑھے تو وہ پردہ اس ڈبیہ پر پڑا رہتا ہے جس سے دل تاریک ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے آدمی کو جو کچھ یاد ہوتا ہے وہ بھی بھول جاتا ہے۔(۷)

۵۔

۸۵۷۔ رسول خدا(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: جس شخص کے کلام کا اختتام مجھ پر درود پڑھنے پر ہو گا وہ جنت میں داخل ہوگا۔(۸)

۱۲۷

۶۔

۸۵۸۔ رسول خدا(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: مجھ پر درود پڑھتے وقت آواز بلند کرو کیونکہ اس طرح کا درود نفاق کو دور کرتا ہے۔(۹)

۷۔ جب بھی خدائے عزوجل کا ذکر کیا جائے، محمد و آل محمد (علیہم السلام)پر درود پڑھنا مستحب ہے۔

۸۵۹۔ امام رضا علیہ السلام نے ایک شخص سے فرمایا: خدا کے اس ارشاد

( وَ ذَکَرَاسمَ رَبِّهِ فَصَلَّی ) (۱۰)

اس نے جب خدا کا نام یاد کیا تو صلوٰۃ پڑھی) کا کیا مطلب ہے؟ تو اس نے عرض کیا: مطلب یہ ہے کہ جب اس نے خدا کا نام یاد کیا تو اٹھ کر نماز پڑھی، امام ؑنے فرمایا: اس طرح تو خدا نے بندے کو حد سے زیادہ تکلیف دی! آپ ؑ کی خدمت میں عرض کیا گیا کہ پھر اس کا مفہوم کیا ہے؟ آپ ؑ نے جواب دیتے ہوئےفرمایا: اس کا مطلب یہ ہے کہ جب بھی اسے خداکا نام یاد آگیا تو اس نے محمد و آل محمد (علیہم السلام) پر درود بھیجا۔(۱۱)

۸۔

۸۶۰۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جو شخص محمد وآل محمد(علیہم السلام) پر دس بار درود پڑھے تو خدا اور اس کے فرشتے سو بار اس پر درود پڑھتے ہیں کیا تم نے خدا کا یہ کلام

( هُوَ الَّذِي يُصَلِّي عَلَيْكُمْ وَمَلَائِكَتُهُ لِيُخْرِجَكُمْ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ ) (۱۲)

؛ خدا وہ ہے جو تم پر صلوات بھیجتا ہے اور اس کے فرشتے بھی تاکہ تمہیں تاریکیوں سے نکال کر نور میں داخل کرے) نہیں سنا ہے۔(۱۳)

۱۲۸

۹۔

۸۶۱۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جب بھی کوئی قوم کسی مجلس ومحفل میں اکٹھی ہو مگر وہ خدا کا اور ہمارا تذکرہ نہ کرے تووہ مجلس ومحفل قیامت کے دن اس کے لئے حسرت و ندامت کا باعث ہوگی۔(۱۴)

۸۶۲۔ امام صادق علیہ السلام نےفرمایا: جو شخص خدا کو یاد کرے اس کے لئے دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور جو شخص رسول خدا(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یاد کرے اس کے لئے بھی دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں کیونکہ خدا نے رسول(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ذکر اپنی ذات کے ساتھ ملا کر کیا ہے۔(۱۵)

۸۶۳۔ امام باقرعلیہ السلام نے فرمایا: ہمارا ذکر خدا کا ذکر ہےاور ہمارے دشمن کا ذکر شیطان کا ذکر ہے۔(۱۶)

۱۰۔ جب بھی پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ذکر کیا جائے تو ان پر اور ان کی آل پاکؑ پر درود پڑھنا واجب ہے۔

۸۶۴۔ رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: جس شخص کے سامنے میرا ذکر کیا جائے اور وہ مجھ پر درود پڑھنا بھول جائے تو خدا اسے جنت کے راستے میں بھٹکا دیتا ہے(۱۷)

۸۶۵۔ رسول خدا(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: جس شخص کے سامنے میرا ذکر کیا جائے اور وہ مجھ پر درود نہ پڑھے تو خدا اس کی مغفرت نہیں کرے گا اور اسے( اپنی رحمت سے) دور کرے گا۔ (۱۸)

۸۶۶۔ رسول خدا(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: جو شخص کہے:

" صَلَّی اللهُ عَلَی مُحَمَّدِ وَّآلِهِ"

تو خدا اسے فرماتا ہے

" صَلَّی اللهُ عَلَیكَ"

اور جو شخص کہے:

"صَلَّی اللهُ عَلَی مُحَمَّدِ"

اور ان کی آل پر درود نہ بھیجے تووہ جنت کی خوشبو بھی نہیں سونگھ سکے گا حالانکہ اس کی خوشبو پانچ سو سال کی راہ سے محسوس ہوتی ہے۔(۱۹)

۸۶۷۔ رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: حقیقت میں بخیل وہ شخص ہے جس کے سامنے میرا ذکر کیا جائے اور وہ مجھ پر درود نہ بھیجے۔ (۲۰)

۸۶۸۔ رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: میری امت میں سے کوئی شخص مجھ پر درود بھیجے مگر میرے اہل بیتؑ پر میرے ساتھ درود نہ بھیجے تو اس کے اور آسمان کے درمیان ستر پردے پڑ جاتے ہیں۔(۲۱)

۸۶۹۔ رسول خدا(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: سب لوگوں سے بڑا ظالم و جفا کار وہ شخص ہے جس کے سامنے میرا تذکرہ کیا جائے اور وہ مجھ پر درود نہ بھیجے۔ (۲۲)

۸۷۰۔ امیر المومنین علیہ السلام نے (جمعہ کے) ایک خطبہ میں فرمایا:

"وَ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُهُ وَ رَسُولُهُ صَلَّى اَللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ أَجْمَعِينَ فَقَدْ أَوْجَبَ اَلصَّلاَةَ عَلَيْهِ وَ أَكْرَمَ مَثْوَاهُ لَدَيْهِ"(۲۳)

۸۷۱۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: ہر موقع پر، چھینک کے موقع پر اور ذبح کرتے وقت رسول خدا(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ان کی آلؑ پر درود بھیجنا واجب ہے۔(۲۴)

میں کہوں گا کہ یہ ، مستحب مؤکد اور رسول خدا(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ذکرخیر پہلے سے ہونے پر محمول ہے۔

۱۱۔ جب انبیا علیہم السلام میں سے کسی نبی کا ذکر کیا جائے تو محمد و آل محمد (علیہم السلام) پر درود بھیجنا مستحب ہے۔

۸۷۲۔ ایک شخص نے امام صادق علیہ السلام کے سامنے بعض انبیاء کا ذکر کیا اور ان پر درود پڑھا تو امام ؑ نے فرمایا: جب انبیاء میں سے کسی نبی کا ذکر کیا جائے تو پہلے محمد و آل محمد(علیہم السلام) پر درود بھیجو پھر اس نبی پر درود بھیجو یعنی یوں کہو:

" صلی الله علی محمد وآله و علیٰ جمیع الانبیاء"(۲۵)

۸۷۳۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جب رسول خدا(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ذکر کیا جائے تو آنحضرت(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر کثرت سے درود پڑھو کیونکہ جو شخص آنحضرت(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایک بار درود پڑھتا ہے خدا اس پر ایک ہزار بار درود بھیجتا ہے۔ (۲۶)

۱۲۹

حوالہ جات:

۱. و سائل ۴ : ۱۲۱۲/۶

۲. ۔ و سائل ۴ : ۱۲۱۳/۱۱

۳. ۔ و سائل ۴ : ۱۲۱۰/۱

۴. ۔ و سائل ۴ : ۱۲۱۳/۱

۵. ۔ و سائل ۴ : ۱۲۱۴/۲

۶. ۔ و سائل ۴ : ۱۲۱۴/۴

۷. ۔ و سائل ۴ : ۱۲۱۵/۱

۸. ۔ و سائل ۴ : ۱۲۱۶/۱

۹. ۔ و سائل ۴ : ۱۲۱۶/۱

۱۰. ۔اعلی:۱۵

۱۱. ۔ و سائل ۴ : ۱۲۱۷/۱

۱۲. ۔احزاب:۴۳

۱۳. ۔ و سائل ۴ : ۱۲۱۷/۱

۱۴. ۔ و سائل ۴ : ۱۲۱۵/۱

۱۵. ۔ و سائل ۴ : ۱۲۱۵/۲

۱۶. ۔ و سائل ۴ : ۱۲۱۵/۱

۱۷. ۔ و سائل ۴ : ۱۲۱۷/۱

۱۸. ۔ و سائل ۴ : ۱۲۱۸/۳

۱۹. ۔ و سائل ۴ : ۱۲۱۹/۶

۲۰. ۔ و سائل ۴ : ۱۲۱۹/۹

۲۱. ۔ و سائل ۴ : ۱۲۲۰/۵

۲۲. ۔ و سائل ۴ : ۱۲۲۲/۱۸

۲۳. ۔ و سائل ۴ : ۱۲۲۱/۱۵

۲۴. ۔ و سائل ۴ : ۱۲۲۱/۱۲

۲۵. ۔ و سائل ۴ : ۱۲۲۲/۱

۲۶. ۔ و سائل ۴ : ۱۲۱۱/۴

۱۳۰

گیارہویں فصل: تہلیل

( لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ "

پڑھنا)

۸۷۴ ۔رسول خدا(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا:خداوند عالم نے حضرت موسیؑ کو وحی فرمائی کہ(اے موسی!)اگر تمام آسمانوں اور ان مین بسنے والون اور تمام زمینوں کو ایک پلڑے میں ڈال دئے جائیں اور صرف کلمہ

" لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ"

دوسرے پلڑے میں ڈال دیا جائےتو یہ پلڑا جھک جائے گا۔(۱)

۸۷۵ ۔ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا:

"لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ "

جنت کی چابی ہے۔(۲)

۸۷۶ ۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: جو شخص کہے:

" لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ"

تو اس کے لئے جنت میں ایک درخت لگایاجاتا ہے۔(۳)

۸۷۷ ۔ رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: بہترین عبادت

" لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ"

کہنا ہے۔(۴)

۸۷۸ ۔ رسول خد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا:جبرئیل علیہ السلام نے مجھ سے کہا: اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (طوبی) آپ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امت میں سے اس شخص کے لئے خوش خبری ہے جو کہتا ہے:

"لَاإِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَحدَ ہ ُوَحدَهُ" ۔ (۵)

۸۷۹ ۔ رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا:جو مسلمان اونچی آواز سے کہے:

" لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ"

توجوں ہی اس سے فارغ ہوگا اس کے سارے گناہ اس کی قدموں کے نیچے جھڑ جائیں گے۔ (۶)

۸۸۰ ۔ رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا:جوبندہ خدا بلند آواز سے کہے:

" لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ"

اور اس سے فارغ ہوتے ہی اس کے تمام گناہ اس کی قدموں تلے جھڑ جائیں گے۔(۷)

۸۸۱ ۔ امام باقرعلیہ السلام نے فرمایا:جو شخص کہے:

" أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اَللَّهُ وَ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُهُ وَ رَسُولُهُ"

تو خدا وندعالم اس کے نامہ اعمال میں ہزار نیکیاں لکھ دیتا ہے۔(۸)

۱۳۱

حوالہ جات:

۱. ۔ و سائل ۴ : ۱۲۲۳/۳

۲. ۔ و سائل ۴ : ۱۲۲۴/۴

۳. ۔ و سائل ۴ : ۱۲۲۳/۲

۴. ۔ و سائل ۴ : ۱۲۲۴/۸

۵. ۔ و سائل ۴ : ۱۲۲۵/۱۲

۶. ۔ و سائل ۴ : ۱۲۲۷/۱

۷. ۔ و سائل ۴ : ۱۲۲۷/۲

۸. ۔ و سائل ۴ : ۱۲۲۷/۱

۱۳۲

بارہویں فصل:

وہ اذکار اور دعائیں جن کو روزانہ صبح وشام پڑھنا مستحب ہے۔ اس میں کل بارہ حدیثیں ہیں:

۸۸۲ ۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:جو شخص روزانہ دس بار کہے:

"أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اَللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ إِلَهاً وَاحِداً أَحَداً صَمَداً لَمْ يَتَّخِذْ صاحِبَةً وَلَا وَلَداً"

تو خدا وندعالم اس کے نامہ اعمال میں پینتالیس ہزار نیکیاں لکھ دیتا ہے۔(۱)

۸۸۳ ۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:جو شخص روزانہ پچیس بار کہے:

" لآ إِلَهَ إِلاَّ اَللَّهُ حَقّاً حَقّاً لآ إِلَهَ إِلاَّ اَللَّهُ تَعَبُّداً وَ رِقّاً لآ إِلَهَ إِلاَّ اَللَّهُ إِيمَاناً وَ صِدْقاً"

تو خداوند عالم اس کی طرف خصوصی توجہ مبذول فرماتا ہے اور جب تک وہ بندہ جنت میں داخل نہ ہوجائے اس وقت تک اس سے توجہ نہیں ہٹاتا۔(۲)

۸۸۴ ۔امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جو شخص ہر روز سو بار کہے

"لاحَوْلَ وَ لَاقُوَّةَ إِلّا بِاللّٰه"

تو خدا اس سے ستر قسم کی بلاؤں اور مصیبتوں،جن میں سے سب سے چھوٹی بلاء اس کی ہم وغم ہے ،کو دور کردیتا ہے۔(۳)

۸۸۵ ۔ یہی اجر وثواب اس شخص کے بارے میں بھی منقول ہے جوہر روز تیس (۳۰)بار خدا کی تسبیح کرتاہے۔ (۴)

۸۸۶ ۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جو بندہ ہرروز سات بار کہے:

"أَسْأَلُ اللّٰه الْجَنَّةَ وَأَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ النَّارِ"

تو دوزخ کہتی ہے:اے خدا اسے مجھ سے بچا۔(۵)

۸۸۷ ۔ رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: جو شخص ہر روز تیس(۳۰) بار کہے

" لآإِلَهَ إِلاَّ اَلَّلهُ اَلْمَلِكُ اَلْحَقُّ اَلْمُبِينُ"

تو وہ بے نیازی کا استقبال کرے گا اور فقرو تنگدستی کو پس پشت ڈالے گا اور جنت کا دروازہ کھٹکھٹائے گا۔(۶)

۸۸۸ ۔ اوراس کی تعداد سو بار بھی منقول ہے۔(۷)

۸۸۹ ۔ امیر المؤمنین علیہ السلام ہر روز صبح کے وقت جب سورج طلوع ہوتا تھا تو تین سو ساٹھ بار بطورشکر فرمایا کرتے تھے

"الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِینَ کَثِیراً طَیِّباً عَلَی کُلِّ حَالِ"(۸)

۸۹۰ - امام صادق علیہ السلام سے ارشاد خداوند

" وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا "

؛طلوع اور غروب آفتاب سے پہلے اپنے پروردگار کی تسبیح کرو) کے متعلق سوال کیا گیا تو فرمایا: ہر مسلمان پرپر فرض ہے کہ طلوع اور غروب آفتاب سے پہلے دس دس بار کہیں

"لَآ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لا شَرِیکَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَ لَهُ الْحَمْدُ یُحْيِي وَ یُمِیتُ وَ هُوَ حَیٌّ لَا یَمُوتُ بِیَدِهِ الْخَیْرُ وَ هُوَ عَلی کُلِّ شَیْءٍ"

سائل نے عرض کیا:

یُحْيِي وَ یُمِیتُ وَ یُمِیتُ وَ یُحْيِي ؛

وه زندہ کرتا ہے اور پھر مارتا ہے اور مارتا ہے پھر زندہ کرتا ہے ؟امام ؑ نے اس کے جواب میں فرمایا: اے فلان! اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ خدا زندہ کرتا ہے اور پھر مارتا ہے اور مارتا ہے پھر زندہ کرتا ہے مگر تو اس طرح کہو جس طرح میں کہتا ہوں۔(۹)

۸۹۱ ۔رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا:جوشخص ہر روز سو بارکہے: " لَآاِلَهَ اِلَّا اللهُ"

تو وہ عمل کے لحاظ سے اس دن سب لوگوں سے افضل قرار پائے گا سوائے اس شخص کے جواس سے زیادہ پڑھے۔(۱۰)

۸۹۲ ۔امام باقرعلیہ السلام نے فرمایا :جوشخص شام کے وقت سو بارتکبیر" اَللهُ اَکبَرُ ' پڑھے تو وہ اس شخص کی طرح ہوگا جس نے سو غلام کو( راہ خدا میں)آزاد کردیا ہو۔ (۱۱)

۸۹۳ ۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:طلوع اور غروب آفتاب سے پہلے دعا پڑھنا سنت واجبی ہےلہذا طلوع اورغروب آفتاب سے پہلے دس دس بار کہو:

"لَآ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لا شَرِیکَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَ لَهُ الْحَمْدُ یُحْیِی وَ یُمِیتُ وَ هُوَ حَیٌّ لَا یَمُوتُ بِیَدِهِ الْخَیْرُ وَ هُوَ عَلی کُلِّ شَیْءٍ"

اور دس دس بارک ہ و: "

أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ هَمَزاتِ اَلشَّیاطِینِ `وَ أَعُوذُ بِكَ (رَبِّ) أَنْ یَحْضُرُونِ إِنَّ اَللَّهَ هُوَ اَلسَّمِیعُ اَلْعَلِیمُ"

اوراگر پڑھنا بھول جائے تواس کی قضاء کرو جس طرح نمازپڑھنا بھول جائے اس کی قضاء کرتے ہو۔(۱۲)

۸۹۴ ۔ اور "أَسْتَعِيذُ بِاللَّهِ مِنَ اَلشَّيْطَانِ اَلرَّجِيمِ وَ أَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ يَحْضُرُونِ إِنَّ اَللَّهَ هُوَ اَلسَّمِيعُ اَلْعَلِيم"

بھی منقول ہے۔(۱۳)

۸۹۵ ۔روایت نقل ہوئی ہے کہ تہلیل اور استعاذہ دونوں معین وقت میں پڑھا جانے والے اذکار ہیں لہذا اگر کوئی شخص ان کوپڑھنا بھول جائے تو اس پر ان کی قضاء کرنا واجب ہے۔(۱۴)

۱۳۳

حوالہ جات:

۱. ۔ و سائل ۴ : ۱۲۳۰/۱

۲. ۔ و سائل ۴ : ۱۲۳۰/۴

۳. ۔ و سائل ۴ : ۱۲۳۱/۷

۴. ۔ و سائل ۴ : ۱۲۳۲/۹

۵. ۔ و سائل ۴ : ۱۲۳۲/۱۰

۶. ۔ و سائل ۴ : ۱۲۳۲/۱۱

۷. ۔ و سائل ۴ : ۱۲۳۳/۱۵

۸. ۔ و سائل ۴ : ۱۲۳۴/۱۹

۹. ۔ و سائل ۴ : ۱۲۳۵/۴

۱۰. ۔ و سائل ۴ : ۱۲۳۳/۱۴

۱۱. ۔ و سائل ۴ : ۱۲۳۳/۱۶

۱۲. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۵۵/۱

۱۳. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۵۶/۲

۱۴. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۵۶/۳

۱۳۴

Abstract

This part of the translation of this book contains eight of the obligatory and recommended acts of prayer.Here is the summary.

۱. Staying: There are a total of twelve demands in it, in which the condition of performing prayers, its etiquette and the state of standing and its rules are explained.

۲. Intention: In it, the rules of intention have been explained with an advantage and completeness.

۳. Paying attention to prayers with the presence of heart and humility: It describes the virtue, importance of paying attention to prayers with presence of heart and humility, and the method of creating humility and presence of heart.

۴. Takbeer-ul-Ihram : There are a total of twelve issues in which the rules, etiquette of Takbeer-ul-Ahdam and the supplications and dhikr recited before it have been explained.

۵. Recitation: There are a total of twelve chapters in it, in which the rules of reciting Surah Hamd in prayer and then one surah, and the virtue, importance, etiquette and reward of reciting and memorizing Qur'anic verses and Qur'an in prayer and without prayer. , And respect for the Qur'an and its bearers, recitation times and places, and some miscellaneous rules of the Qur'an.

۶. Qunoot: It has a total of twelve chapters in which the rules, etiquette, dhikr and supplications of Qunoot have been explained.

۷. Dua: There are a total of twelve chapters in which the virtues, importance, rules and etiquettes of du'aa 'inside and without prayers have been explained along with the times, conditions and places of du'aa'.

۸. Zikr: There are twelve chapters in total in which the obligatory dhikr of prayers, remembrance of God, virtue, importance, times, conditions, places and types of dhikr, besides praising God, glorifying and praising God and asking for forgiveness and Muhammad The virtue, importance, reward and times and circumstances of reciting Durood on the family of Muhammad (AS) have been explained.

۱۳۵

حوالہ جات:

۱. ۔حر عاملی ، محمد ابن حسن (رح) وسائل شیعہ،ص ۶۷۰/۳ ،مؤسسہ آل البیت(ع)، قم، ایران،چاپ : اول،۱۴۰۹ق۔

۲. ۔ وسائل ۴ : ۶۷۳/۱

۳. ۔ وسائل۴: ۶۷۶/۴

۴. ۔ و سائل ۴ : ۶۷۷/۵

۵. ۔ و سائل ۴ :: ۶۸۳/۱۴

۶. ۔ و سائل ۴ : ۶۸۳/۱۵

۷. ۔ و سائل ۴ : ۶۹۲/۱۵

۸. ۔ و سائل ۴ : ۶۹۱/۱۳

۹. ۔ و سائل ۴ : ۶۸۹/۱

۱۰. ۔ و سائل ۴ : ۶۹۰/۴

۱۱. ۔ و سائل ۴ : ۶۹۰/۷

۱۲. ۔ و سائل ۴ : ۶۹۰/۵

۱۳. ۔ و سائل ۴ : ۶۹۰/۹

۱۴. ۔ و سائل ۴ : ۶۹۱/۱۰

۱۵. ۔ و سائل ۴ : ۹۹۹/۱

۱۶. ۔بقرہ:۱۷۳

۱۷. ۔ و سائل ۴ : ۶۹۴/۱

۱۸. ۔کوثر:۲

۱۹. ۔ و سائل ۴ :: ۴۹۴/۳

۲۰. ۔ و سائل ۴ : ۶۹۴/۲

۲۱. ۔ و سائل ۴ : ۷۰۲/۴

۲۲. ۔ و سائل ۴ : ۷۰۲/۳

۲۳. ۔۔ و سائل ۴ : ۷۰۱/۱

۲۴. ۔ و سائل ۴ : ۷۰۲/۲

۲۵. ۔ و سائل ۴ : ۶۹۵/۱

۲۶. ۔طہ:۱ و۲

۲۷. ۔ و سائل ۴ : ۶۹۵/۲

۲۸. ۔ و سائل ۴ : ۶۹۵/۳

۲۹. ۔ و سائل ۴ : ۶۹۵/۴

۳۰. ۔ و سائل ۴ : ۷۰۴/۱

۳۱. ۔ و سائل ۴ : ۶۹۴/۲

۳۲. ۔ و سائل ۴ : ۷۰۸/۱

۳۳. ۔ و سائل ۴ : ۷۰۸/۳

۳۴. ۔ و سائل ۴ : ۷۰۹/۲

۳۵. ۔ و سائل ۴ : ۷۰۹/۳

۳۶. ۔ و سائل ۴ : ۷۰۹/۱

۳۷. ۔ و سائل ۴ : ۶۹۶/۱

۳۸. ۔ و سائل ۴ : ۶۹۶/۲

۳۹. ۔ و سائل ۴ : ۶۹۶/۳

۴۰. ۔ و سائل ۴ : ۶۹۷/۲

۴۱. ۔ و سائل ۴ : ۶۹۷/۱

۴۲. ۔ و سائل ۴ : ۶۹۷/۳

۴۳. ۔ و سائل ۴ : ۶۹۷/۴

۴۴. ۔ و سائل ۴ : ۶۹۷/۵

۴۵. ۔ و سائل ۴ : ۶۹۸/۶

۴۶. ۔قیامت:۱۴

۴۷. ۔ و سائل ۴ : ۶۹۸/۲ و ۳

۴۸. ۔ و سائل ۴ : ۶۹۹/۴

۴۹. ۔ و سائل ۴ : ۷۰۰/۱

۵۰. ۔ و سائل ۴ : ۷۰۰/۲

۵۱. ۔ و سائل ۴ : ۷۰۰/۱

۵۲. ۔ و سائل ۴ : ۷۰۱/۴

۵۳. ۔ و سائل ۴ : ۷۰۱/۳

۵۴. ۔ و سائل ۴ : ۷۰۳/۱

۵۵. و سائل ۴ : ۶۹۰/۹

۵۶. ۔ و سائل ۴ : ۷۰۳/۴

۵۷. ۔ و سائل ۴ : ۷۰۴/۵

۵۸. ۔ و سائل ۴ : ۷۰۴/۱

۵۹. ۔ و سائل ۴ : ۷۰۵/۱

۶۰. ۔ و سائل ۴ : ۷۰۵/۲

۶۱. ۔ و سائل ۴ : ۷۰۶/۶

۶۲. ۔ و سائل ۴ : ۷۰۶/۷

۶۳. ۔ و سائل ۴ : ۷۰۶/۸

۶۴. ۔ و سائل ۴ : ۷۰۶/۹

۶۵. ۔ و سائل ۴ : ۷۰۷/۱۰

۶۶. ۔ و سائل ۴ : ۷۰۷/۱۲

۶۷. ۔ و سائل ۴ : ۷۱۳/۲

۶۸. ۔ و سائل ۴ : ۷۱۲/۱

۶۹. ۔ و سائل ۴ : ۷۱۱/۱

۷۰. ۔ و سائل ۴ : ۷۱۲/۲

۷۱. ۔ و سائل ۴ : ۷۱۲/۳

۷۲. ۔ و سائل ۴ : ۶۸۸/۶

۷۳. ۔ و سائل ۴ : ۶۸۷/۱

۷۴. ۔ و سائل ۴ : ۶۸۷/۲

۷۵. ۔ و سائل ۴ : ۶۸۷/۵

۷۶. ۔ و سائل ۴ : ۶۸۴/۱

۷۷. ۔ و سائل ۴ : ۶۸۵/۲

۷۸. ۔ و سائل ۴ : ۶۸۵/۵

۷۹. ۔مومنون:۲

۸۰. ۔ و سائل ۴ : ۶۸۶/۶

۸۱. ۔ و سائل ۴ : ۶۱۵/۱۰

۸۲. ۔ و سائل ۴ : ۶۱۰/۱۱

۸۳. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۵/۱۰

۸۴. ۔ و سائل ۴ : ۷۱۵/۱۱

۸۵. ۔ و سائل ۴ : ۷۱۴/۶

۸۶. ۔ و سائل ۴ : ۷۱۴/۷

۸۷. ۔ و سائل ۴ : ۷۱۳/۲

۸۸. ۔ و سائل ۴ : ۷۱۵/۱

۸۹. ۔ و سائل ۴ : ۷۱۶/۲

۹۰. ۔ و سائل ۴ : ۷۱۶/۴

۹۱. ۔ و سائل ۴ : ۷۱۶/۷

۹۲. ۔ و سائل ۴ : ۷۱۶/۶

۹۳. ۔ و سائل ۴ : ۷۱۷/۸

۹۴. ۔ و سائل ۴ : ۷۱۷/۱۰

۹۵. ۔ و سائل ۴ : ۷۱۷/۱۱

۹۶. ۔ و سائل ۴ : ۷۱۸/۱

۹۷. ۔ و سائل ۴ : ۷۱۸/۲

۹۸. ۔ و سائل ۴ : ۷۱۹/۱

۹۹. ۔ و سائل ۴ : ۷۲۰/۳

۱۰۰. ۔ و سائل ۴ : ۷۱۹/۱

۱۰۱. ۔ و سائل ۴ : ۷۱۹/۲

۱۰۲. ۔ و سائل ۴ : ۷۲۰/۱

۱۰۳. ۔ و سائل ۴ : ۷۲۰/۲

۱۰۴. ۔ و سائل ۴ : ۷۲۳/۹

۱۰۵. ۔ و سائل ۴ : ۷۲۲/۴

۱۰۶. ۔ و سائل ۴ : ۷۲۲/۵

۱۰۷. ۔ و سائل ۴ : ۷۲۳/۱

۱۰۸. ۔ و سائل ۴ : ۷۲۴/۳

۱۰۹. ۔ و سائل ۴ : ۷۲۵/۱

۱۱۰. ۔ و سائل ۴ : ۷۲۵/۲

۱۱۱. ۔ و سائل ۴ : ۷۲۵/۳

۱۱۲. ۔کوثر:۲

۱۱۳. ۔ و سائل ۴ : ۷۲۵/۴

۱۱۴. ۔ و سائل ۴ : ۷۲۵/۵

۱۱۵. ۔ و سائل ۴ : ۷۲۶/۶

۱۱۶. ۔ و سائل ۴ : ۷۲۶/۷

۱۱۷. ۔ و سائل ۴ : ۷۲۸/۲

۱۱۸. ۔ و سائل ۴ : ۷۲۸/۳

۱۱۹. ۔ و سائل ۴ : ۷۲۹/۴

۱۲۰. ۔ و سائل ۴ : ۷۲۹/۱

۱۲۱. ۔ و سائل ۴ : ۷۲۹/۲

۱۲۲. ۔ و سائل ۴ : ۷۳۰/۳

۱۲۳. ۔ و سائل ۴ : ۷۳۰/۴

۱۲۴. ۔ و سائل ۴ : ۷۳۰/۲

۱۲۵. ۔ و سائل ۴ : ۷۳۱/۱

۱۲۶. ۔ و سائل ۴ : ۱۵۸/۵

۱۲۷. ۔ و سائل ۴ : ۷۳۳/۶

۱۲۸. ۔ و سائل ۴ : ۷۳۲/۱

۱۲۹. ۔ و سائل ۴ : ۷۳۲/۲

۱۳۰. ۔ و سائل ۴ : ۷۳۳/۳

۱۳۱. ۔ و سائل ۴ : ۷۳۲/۱

۱۳۲. ۔ و سائل ۴ : ۷۳۴/۲

۱۳۳. ۔ و سائل ۴ : ۷۳۴/۴

۱۳۴. ۔ و سائل ۴ : ۷۳۴/۳

۱۳۵. ۔ و سائل ۴ : ۷۳۴/۵

۱۳۶. ۔ و سائل ۴ : ۷۳۵/۱

۱۳۷. ۔ و سائل ۴ : ۷۳۵/۲

۱۳۸. ۔ و سائل ۴ : ۷۴۵/۲

۱۳۹. ۔ و سائل ۴ : ۷۴۶/۵

۱۴۰. ۔ و سائل ۴ : ۷۴۶/۶

۱۴۱. ۔ و سائل ۴ : ۷۴۶/۹

۱۴۲. ۔ و سائل ۴ : ۷۴۷/۱۰

۱۴۳. ۔ و سائل ۴ : ۷۴۷/۱

۱۴۴. ۔ و سائل ۴ : ۷۴۸/۴

۱۴۵. ۔ و سائل ۴ : ۷۴۹/۵

۱۴۶. ۔ و سائل ۴ : ۷۵۲/۱

۱۴۷. ۔ و سائل ۴ : ۷۵۲/۳

۱۴۸. ۔ و سائل ۴ : ۷۵۲/۴

۱۴۹. ۔ و سائل ۴ : ۷۵۳/۵

۱۵۰. ۔ و سائل ۴ : ۷۳۶/۲

۱۵۱. ۔ و سائل ۴ : ۷۳۶/۳

۱۵۲. ۔ و سائل ۴ : ۷۳۶/۱

۱۵۳. ۔ و سائل ۴ : ۷۳۷/۴

۱۵۴. ۔ و سائل ۴ : ۷۳۷/۵

۱۵۵. ۔ و سائل ۴ : ۷۳۷/۷

۱۵۶. ۔ و سائل ۴ : ۷۳۸/۱

۱۵۷. ۔ و سائل ۴ : ۷۳۹/۳

۱۵۸. ۔ و سائل ۴ : ۷۳۹/۴

۱۵۹. ۔ و سائل ۴ : ۷۳۸/۱

۱۶۰. ۔ و سائل ۴ : ۷۴۰/۲

۱۶۱. ۔ و سائل ۴ : ۷۴۰/۳

۱۶۲. ۔ و سائل ۴ : ۷۳۹/۱

۱۶۳. ۔ و سائل ۴ : ۷۴۰/۴

۱۶۴. ۔ و سائل ۴ : ۷۴۲/۱۲

۱۶۵. ۔ و سائل ۴ : ۷۴۲/۱۱

۱۶۶. ۔ و سائل ۴ : ۷۴۱/۶

۱۶۷. ۔ و سائل ۴ : ۷۴۱/۳

۱۶۸. ۔ و سائل ۴ : ۷۴۱/۵

۱۶۹. ۔ و سائل ۴ : ۷۴۱/۷

۱۷۰. ۔ و سائل ۴ : ۷۴۱/۴

۱۷۱. ۔ و سائل ۴ : ۷۴۲/۸

۱۷۲. ۔ و سائل ۴ : ۷۴۲/۹

۱۷۳. ۔ و سائل ۴ : ۷۴۳/۱

۱۷۴. ۔ و سائل ۴ : ۷۷۶/۲

۱۷۵. ۔ و سائل ۴ : ۷۷۶/۳

۱۷۶. ۔ و سائل ۴ : ۷۷۶/۵

۱۷۷. ۔ و سائل ۴ : ۷۷۵/۱

۱۷۸. ۔ و سائل ۴ : ۷۷۵/۲

۱۷۹. ۔ و سائل ۴ : ۷۷۶/۳

۱۸۰. ۔ و سائل ۴ : ۸۱۴/۴

۱۸۱. ۔ و سائل ۴ : ۸۱۴/۲

۱۸۲. ۔ و سائل ۴ : ۸۱۳/۱

۱۸۳. ۔ و سائل ۴ : ۸۱۳/۳

۱۸۴. ۔ و سائل ۴ : ۷۸۳/۱

۱۸۵. ۔ و سائل ۴ : ۷۸۴/۲

۱۸۶. ۔ و سائل ۴ : ۷۴۳/۲

۱۸۷. ۔ و سائل ۴ : ۷۴۳/۳

۱۸۸. ۔ و سائل ۴ : ۷۴۴/۶

۱۸۹. ۔ و سائل ۴ : ۷۴۴/۵

۱۹۰. ۔بقرہ:۲۸۵

۱۹۱. ۔ٓل عمران:۱۹۰

۱۹۲. ۔آل عمران:۱۹۴

۱۹۳. ۔اعراف:۵۴

۱۹۴. ۔اعراف:۵۶

۱۹۵. ۔انعام:۱۰۰۔۱۰۳

۱۹۶. ۔حشر:۲۱

۱۹۷. ۔ و سائل ۴ : ۷۴۹/۱

۱۹۸. ۔ و سائل ۴ : ۷۵۰/۲

۱۹۹. ۔ و سائل ۴ : ۷۵۰/۳

۲۰۰. ۔حدید:۶

۲۰۱. ۔ و سائل ۴ : ۷۵۰/۱ ، ۲

۲۰۲. و سائل ۴ : ۷۰۱/۱

۲۰۳. ۔ و سائل ۴ : ۷۰۱/۲

۲۰۴. ۔ و سائل ۴ : ۷۵۱/۱

۲۰۵. ۔ و سائل ۴ : ۷۵۲/۲

۲۰۶. ۔ و سائل ۴ : ۷۵۲/۲

۲۰۷. ۔ و سائل ۴ : ۷۶۰/۳

۲۰۸. ۔ و سائل ۴ : ۷۶۰/۱

۲۰۹. ۔ و سائل ۴ : ۷۶۱/۶

۲۱۰. ۔ و سائل ۴ : ۷۶۱/۱

۲۱۱. ۔ و سائل ۴ : ۷۶۲/۲

۲۱۲. ۔ و سائل ۴ :۷۶۲/۲

۲۱۳. ۔ و سائل ۴ : ۷۸۶/۱

۲۱۴. ۔ و سائل ۴ : ۷۸۶/۲

۲۱۵. ۔ و سائل ۴ : ۷۸۶/۳

۲۱۶. ۔ و سائل ۴ : ۷۸۶/۵

۲۱۷. ۔ و سائل ۴ : ۷۸۶/۶

۲۱۸. ۔ و سائل ۴ : ۷۸۴/۲

۲۱۹. ۔ و سائل ۴ : ۷۸۵/۵

۲۲۰. ۔ و سائل ۴ : ۷۹۶/۱

۲۲۱. ۔ و سائل ۴ : ۷۹۶/۱

۲۲۲. ۔ و سائل ۴ : ۷۹۷/۲

۲۲۳. ۔ و سائل ۴ : ۷۹۸/۱

۲۲۴. ۔ و سائل ۴ : ۷۹۸/۳

۲۲۵. ۔ و سائل ۴ : ۷۹۸/۵

۲۲۶. ۔ و سائل ۴ : ۷۹۹/۹

۲۲۷. ۔ و سائل ۴ : ۷۹۹/۱۰

۲۲۸. ۔ و سائل ۴ : ۸۰۳/۶۲

۲۲۹. ۔ و سائل ۴ : ۷۸۷/۱

۲۳۰. ۔ و سائل ۴ : ۷۸۷/۲

۲۳۱. ۔ و سائل ۴ : ۷۸۸/۳

۲۳۲. ۔ و سائل ۴ : ۷۸۸/۱

۲۳۳. ۔ و سائل ۴ : ۷۸۸/۲

۲۳۴. ۔ و سائل ۴ : ۷۸۹/۳

۲۳۵. ۔ و سائل ۴ : ۷۹۰/۹

۲۳۶. ۔ و سائل ۴ : ۷۸۹/۴

۲۳۷. ۔ و سائل ۴ : ۷۸۹/۶

۲۳۸. ۔ و سائل ۴ : ۷۹۰/۸

۲۳۹. ۔ و سائل ۴ : ۸۱۵/۳

۲۴۰. ۔ و سائل ۴ : ۸۱۵/۴

۲۴۱. ۔ و سائل ۴ : ۸۱۵/۲

۲۴۲. ۔ و سائل ۴ : ۸۱۷/۱

۲۴۳. ۔ و سائل ۴ : ۸۱۷/۳

۲۴۴. ۔ و سائل ۴ : ۸۱۸/۵

۲۴۵. ۔ و سائل ۴ : ۸۱۸/۱

۲۴۶. ۔ و سائل ۴ : ۸۱۸/۲

۲۴۷. ۔ و سائل ۴ : ۸۰۵/۱

۲۴۸. ۔ و سائل ۴ : ۸۰۵/۶۴

۲۴۹. ۔ و سائل ۴ : ۸۰۸/باب ۶۵

۲۵۰. ۔ و سائل ۴ : ۸۰۳/۱

۲۵۱. ۔ و سائل ۴ : ۸۰۳/باب ۶۲

۲۵۲. ۔ و سائل ۴ : ۸۰۳/۱

۲۵۳. ۔ و سائل ۴ : ۸۰۲/۱

۲۵۴. ۔ و سائل ۴ : ۸۱۰/باب ۶۶

۲۵۵. ۔ و سائل ۴ : ۸۱۰/۱۔۱۱

۲۵۶. ۔ و سائل ۴ : ۷۵۳/۱

۲۵۷. ۔ و سائل ۴ : ۷۵۳/۳

۲۵۸. ۔ و سائل ۴ : ۷۵۴/۱

۲۵۹. ۔ و سائل ۴ : ۷۸۵/۱

۲۶۰. ۔ و سائل ۴ : ۷۵۶/۹ و ۷۵۵/ ۳ و ۴

۲۶۱. ۔ و سائل ۴ : ۷۵۵/۵

۲۶۲. ۔ و سائل ۴ : ۷۵۶/۷ و ۸

۲۶۳. ۔ و سائل ۴ : ۷۵۷/۱۰

۲۶۴. ۔ و سائل ۴ : ۷۵۷/۱

۲۶۵. ۔ و سائل ۴ : ۷۵۸/۳

۲۶۶. ۔ و سائل ۴ : ۷۵۸/۴

۲۶۷. ۔ و سائل ۴ : ۷۵۸/۵

۲۶۸. ۔ و سائل ۴ : ۷۵۸/۶

۲۶۹. ۔ و سائل ۴ : ۷۵۸/۷

۲۷۰. ۔ و سائل ۴ : ۷۵۹/۱

۲۷۱. ۔ و سائل ۴ : ۷۵۹/۲

۲۷۲. ۔ و سائل ۴ : ۷۵۹/۳

۲۷۳. ۔ و سائل ۴ : ۷۷۵/۱

۲۷۴. ۔ و سائل ۴ : ۷۸۳/۱

۲۷۵. ۔ و سائل ۴ : ۷۸۳/۳

۲۷۶. ۔ و سائل ۴ : ۷۸۵/۲

۲۷۷. ۔ و سائل ۴ : ۷۲۳/۱

۲۷۸. ۔ و سائل ۴ : ۷۴۵/۱

۲۷۹. ۔ و سائل ۴ : ۸۰۰/۵

۲۸۰. ۔ و سائل ۴ : ۸۰۱/۶

۲۸۱. ۔ و سائل ۴ : ۸۰۰/۳

۲۸۲. ۔ و سائل ۴ : ۸۰۱/۲

۲۸۳. ۔ و سائل ۴ : ۸۰۱/۱

۲۸۴. ۔ و سائل ۴ : ۷۶۴/۲

۲۸۵. ۔ و سائل ۴ : ۷۶۳/۱

۲۸۶. ۔ و سائل ۴ : ۷۶۴/۳

۲۸۷. ۔ و سائل ۴ : ۷۶۵/۶

۲۸۸. ۔ و سائل ۴ : ۸۱۹/۲

۲۸۹. ۔ و سائل ۴ : ۷۱۹/۱

۲۹۰. ۔ و سائل ۴ : ۸۱۹/۳

۲۹۱. ۔ و سائل ۴ : ۸۱۹/۵

۲۹۲. ۔ و سائل ۴ : ۸۲۰/۶

۲۹۳. ۔ و سائل ۴ : ۸۲۰/۷

۲۹۴. ۔ و سائل ۴ : ۸۲۰/۹

۲۹۵. ۔ و سائل ۴ : ۷۶۶/۱

۲۹۶. ۔ و سائل ۴ : ۷۶۶/۲

۲۹۷. ۔ و سائل ۴ : ۷۷۲/۳

۲۹۸. ۔ و سائل ۴ : ۷۷۲/۱

۲۹۹. ۔ و سائل ۴ : ۷۷۳/۱

۳۰۰. ۔ و سائل ۴ : ۷۷۴/۴

۳۰۱. اسراء:۱۱۰

۳۰۲. ۔ و سائل ۴ : ۷۷۴/۶

۳۰۳. ۔ اسراء:۱۱۰

۳۰۴. ۔ و سائل ۴ : ۷۷۳/۲

۳۰۵. ۔ و سائل ۴ : ۷۷۴/۷

۳۰۶. ۔اسراء:۱۱۰

۳۰۷. ۔ و سائل ۵ : ۴۵۲/۷

۳۰۸. ۔ و سائل ۵ : ۴۵۱/۳

۳۰۹. ۔ و سائل ۴ : ۷۷۳/۳

۳۱۰. ۔ اسراء:۱۱۰

۳۱۱. ۔ و سائل ۵ : ۴۲۸/۴

۳۱۲. ۔ و سائل ۵ : ۴۲۷/۱

۳۱۳. ۔ و سائل ۴ : ۷۷۴/۵

۳۱۴. ۔ و سائل ۴ : ۷۶۶/۱

۳۱۵. ۔ و سائل ۴ : ۷۶۷/۲

۳۱۶. ۔ و سائل ۴ : ۷۶۷/۴

۳۱۷. ۔ و سائل ۴ : ۷۶۷/۵

۳۱۸. ۔ و سائل ۴ : ۷۶۸/۱

۳۱۹. ۔ و سائل ۴ : ۷۶۸/۲

۳۲۰. ۔ و سائل ۴ : ۷۶۸/۳

۳۲۱. ۔ و سائل ۴ : ۷۶۸/۴

۳۲۲. ۔ و سائل ۴ : ۷۶۹/۲

۳۲۳. ۔ و سائل ۴ : ۷۷۰/۵

۳۲۴. ۔ و سائل ۴ : ۷۶۹/۳

۳۲۵. ۔ و سائل ۴ : ۷۷۰/۱

۳۲۶. ۔ و سائل ۴ : ۷۷۱/۳

۳۲۷. ۔ و سائل ۴ : ۷۷۱/۶

۳۲۸. ۔ و سائل ۴ : ۷۷۱/۴

۳۲۹. ۔ و سائل ۴ : ۹۳۱/۴

۳۳۰. ۔ و سائل ۴ : ۷۷۲/۱

۳۳۱. ۔ و سائل ۴ : ۷۷۳/۲

۳۳۲. ۔ و سائل ۴ : ۷۷۷/۱

۳۳۳. ۔ و سائل ۴ : ۷۷۷/۲

۳۳۴. ۔ و سائل ۴ : ۷۷۷/۳

۳۳۵. ۔ و سائل ۴ : ۷۷۸/۱

۳۳۶. ۔ و سائل ۴ : ۷۷۸/۲

۳۳۷. ۔ و سائل ۴ : ۷۷۸/۱

۳۳۸. ۔ و سائل ۴ : ۷۷۹/۱

۳۳۹. ۔ و سائل ۴ : ۷۷۹/۲

۳۴۰. ۔ و سائل ۴ : ۷۷۹/۳

۳۴۱. ۔ و سائل ۴ : ۷۸۰/۴

۳۴۲. ۔ و سائل ۴ : ۷۸۰/۵

۳۴۳. ۔ و سائل ۴ : ۷۷۹/۳

۳۴۴. ۔ و سائل ۴ : ۷۸۰/۱

۳۴۵. ۔ و سائل ۴ : ۷۸۰/۲

۳۴۶. ۔ و سائل ۴ : ۸۰۱/۱

۳۴۷. ۔ و سائل ۴ : ۸۰۲/۲

۳۴۸. ۔ و سائل ۴ : ۷۸۲/۵

۳۴۹. ۔ و سائل ۴ : ۷۸۲/۶

۳۵۰. ۔ و سائل ۴ : ۷۸۱/۱

۳۵۱. ۔ و سائل ۴ : ۷۸۱/۲

۳۵۲. ۔ و سائل ۴ : ۷۸۱/۳

۳۵۳. ۔ و سائل ۴ : ۷۸۲/۴

۳۵۴. ۔ و سائل ۴ : ۷۸۲/۷

۳۵۵. ۔ و سائل ۴ : ۷۸۲/۸

۳۵۶. ۔ و سائل ۴ : ۷۹۲/۲

۳۵۷. ۔ و سائل ۴ : ۷۹۱/۱

۳۵۸. ۔ و سائل ۴ : ۷۹۲/۳

۳۵۹. ۔ و سائل ۴ : ۷۹۲/۴

۳۶۰. ۔ و سائل ۴ : ۷۹۲/۵

۳۶۱. ۔ و سائل ۴ : ۷۹۳/۹

۳۶۲. ۔ و سائل ۴ : ۷۹۳/۷

۳۶۳. ۔ و سائل ۴ : ۷۹۴/۱۱

۳۶۴. ۔ و سائل ۴ : ۷۹۴/۱۲

۳۶۵. شعرا:۱۹۵

۳۶۶. ۔ و سائل ۴ : ۸۱۲/۱

۳۶۷. ۔ و سائل ۴ : ۸۱۲/۲

۳۶۸. ۔ و سائل ۴ : ۸۲۱/۱

۳۶۹. ۔ و سائل ۴ : ۸۲۱/۵

۳۷۰. ۔ و سائل ۴ : ۸۲۱/۲

۳۷۱. ۔ و سائل ۴ : ۸۲۲/۶

۳۷۲. ۔ و سائل ۴ : ۸۲۵/۴

۳۷۳. ۔ و سائل ۴ : ۸۲۵/۶

۳۷۴. ۔ و سائل ۴ : ۸۲۶/۱۳

۳۷۵. ۔ و سائل ۴ : ۸۲۵/۸

۳۷۶. ۔ و سائل ۴ : ۸۲۶/۱۶

۳۷۷. ۔ و سائل ۴ : ۸۳۴/۱

۳۷۸. ۔ و سائل ۴ : ۸۳۲/۱

۳۷۹. ۔ و سائل ۴ : ۸۳۲/۲

۳۸۰. ۔ و سائل ۴ : ۸۳۲/۳

۳۸۱. ۔ و سائل ۴ : ۸۳۰/۱

۳۸۲. ۔ و سائل ۴ : ۸۳۱/۲

۳۸۳. ۔ و سائل ۴ : ۸۳۱/۳

۳۸۴. ۔ و سائل ۴ : ۸۳۳/۱

۳۸۵. ۔ و سائل ۴ : ۸۳۸/۱

۳۸۶. ۔ و سائل ۴ : ۸۳۹/۱

۳۸۷. ۔ و سائل ۴ : ۸۴۷/۸

۳۸۸. ۔ و سائل ۴ : ۸۴۵/۲

۳۸۹. ۔ و سائل ۴ : ۸۴۶/۶

۳۹۰. ۔ و سائل ۴ : ۸۶۵/۱

۳۹۱. ۔ و سائل ۴ : ۸۶۶/۴

۳۹۲. ۔نمل:۲۵

۳۹۳. ۔نحل:۵

۳۹۴. ۔بقرہ:۷۲

۳۹۵. ۔ و سائل ۴ : ۸۶۵/۱

۳۹۶. ۔ و سائل ۴ : ۸۶۶/۲

۳۹۷. ۔ و سائل ۴ : ۸۲۷/۱

۳۹۸. ۔ و سائل ۴ : ۸۲۷/۳

۳۹۹. ۔ و سائل ۴ : ۸۲۸/۱

۴۰۰. ۔ و سائل ۴ : ۸۲۸/۲

۴۰۱. ۔ و سائل ۴ : ۸۲۹/۴ و ۵

۴۰۲. ۔ و سائل ۴ : ۸۳۵/۱

۴۰۳. ۔ و سائل ۴ : ۸۳۶/۲

۴۰۴. ۔ و سائل ۴ : ۸۳۶/۴

۴۰۵. ۔ و سائل ۴ : ۸۳۷/۶

۴۰۶. ۔ و سائل ۴ : ۸۳۷/۷

۴۰۷. ۔ و سائل ۴ : ۸۳۷/۸

۴۰۸. ۔ و سائل ۴ : ۸۳۹/۱

۴۰۹. ۔ و سائل ۴ : ۸۳۹/۲

۴۱۰. ۔ و سائل ۴ : ۸۴۰/۳

۴۱۱. ۔ و سائل ۴ : ۸۴۰/۴

۴۱۲. ۔ و سائل ۴ : ۸۴۱/۵

۴۱۳. ۔ و سائل ۴ : ۸۴۱/۷

۴۱۴. ۔ و سائل ۴ : ۸۴۲/۸

۴۱۵. ۔ و سائل ۴ : ۸۴۳/۱۵

۴۱۶. ۔ و سائل ۴ : ۸۴۴/۲۰

۴۱۷. ۔ و سائل ۴ : ۸۴۸/۳

۴۱۸. ۔ و سائل ۴ : ۸۴۷/۲

۴۱۹. ۔ و سائل ۴ : ۸۴۷/۲

۴۲۰. ۔ و سائل ۴ : ۸۴۸/۲

۴۲۱. ۔نحل:۹۸

۴۲۲. ۔ و سائل ۴ : ۸۴۸/۱

۴۲۳. ۔ و سائل ۴ : ۸۵۱/۲

۴۲۴. ۔ و سائل ۴ : ۸۴۹/۲

۴۲۵. ۔ و سائل ۴ : ۸۴۹/۱

۴۲۶. ۔ و سائل ۴ : ۸۵۱/۱

۴۲۷. ۔ و سائل ۴ : ۸۴۹/۳

۴۲۸. ۔ و سائل ۴ : ۸۵۳/۱و۲

۴۲۹. ۔ و سائل ۴ : ۸۵۴/۴

۴۳۰. ۔ و سائل ۴ : ۸۵۶/۵

۴۳۱. ۔مزمل:۴

۴۳۲. ۔ و سائل ۴ : ۸۵۶/۱

۴۳۳. ۔ و سائل ۴ : ۸۵۶/۲

۴۳۴. ۔مزمل:۴

۴۳۵. ۔ و سائل ۴ : ۸۵۶/۴

۴۳۶. ۔ و سائل ۴ : ۸۵۷/۱

۴۳۷. ۔ و سائل ۴ : ۸۵۷/۳

۴۳۸. ۔ و سائل ۴ : ۸۵۸/۳

۴۳۹. ۔ و سائل ۴ : ۵۸/۸

۴۴۰. ۔ و سائل ۴ : ۸۵۷/۱

۴۴۱. ۔ و سائل ۴ : ۸۵۸/۲

۴۴۲. ۔ و سائل ۴ : ۸۵۸/۱

۴۴۳. ۔ و سائل ۴ : ۸۵۹/۳

۴۴۴. ۔ و سائل ۴ : ۸۵۹/۴

۴۴۵. ۔ و سائل ۴ : ۸۵۹/۵

۴۴۶. ۔ و سائل ۴ : ۸۶۰/۱

۴۴۷. ۔ و سائل ۴ : ۸۶۴/۱

۴۴۸. ۔ و سائل ۴ : ۸۸۵/۱

۴۴۹. ۔ و سائل ۴ : ۴۹۲/۱

۴۵۰. ۔ و سائل ۴ : ۸۵۰/۵

۴۵۱. ۔ و سائل ۴ : ۸۵۰/۴

۴۵۲. ۔ و سائل ۴ : ۸۵۰/۲

۴۵۳. ۔ و سائل ۴ : ۸۵۱/۶

۴۵۴. ۔ و سائل ۴ : ۸۵۲/۱

۴۵۵. ۔ و سائل ۴ : ۸۵۳/۲

۴۵۶. ۔ و سائل ۴ : ۸۶۲/۴

۴۵۷. ۔ و سائل ۴ : ۸۶۴/۸

۴۵۸. ۔ و سائل ۴ : ۸۶۴/۱

۴۵۹. ۔ و سائل ۴ : ۸۶۲/۱

۴۶۰. ۔ و سائل ۴ : ۸۶۲/۲

۴۶۱. ۔ و سائل ۴ : ۸۶۳/۳ و ۴

۴۶۲. ۔ و سائل ۴ : ۸۶۳/۶

۴۶۳. ۔ و سائل ۴ : ۸۵۵/۳

۴۶۴. ۔ و سائل ۴ : ۸۵۵/۱

۴۶۵. ۔ و سائل ۴ : ۸۵۵/۲

۴۶۶. ۔ و سائل ۴ : ۸۵۴/۵ و۶

۴۶۷. ۔ و سائل ۴ : ۸۶۱/۱

۴۶۸. ۔ و سائل ۴ : ۸۶۱/۲

۴۶۹. ۔ و سائل ۴ : ۸۶۱/۴

۴۷۰. ۔اعراف:۲۰۴

۴۷۱. ۔ و سائل ۴ : ۸۶۱/۵

۴۷۲. ۔ اعراف:۲۰۴

۴۷۳. ۔ و سائل ۴ : ۴۲۲/۳

۴۷۴. ۔زمر:۷۱

۴۷۵. ۔ و سائل ۴ : ۸۶۵/۱

۴۷۶. ۔ و سائل ۴ : ۸۷۵/۱۰

۴۷۷. ۔ و سائل ۴ : ۸۷۴/۸ و۶

۴۷۸. ۔ و سائل ۴ : ۸۷۳/۱

۴۷۹. ۔ و سائل ۴ : ۸۶۷/۳

۴۸۰. ۔ و سائل ۴ : ۸۶۸/۵

۴۸۱. ۔ و سائل ۴ : ۸۶۷/۲

۴۸۲. ۔ و سائل ۴ : ۸۶۶/۱

۴۸۳. ۔ و سائل ۴ : ۸۶۸/۶

۴۸۴. ۔ و سائل ۴ : ۸۶۸/۷

۴۸۵. ۔ و سائل ۴ : ۸۶۹/۹

۴۸۶. ۔ و سائل ۴ : ۸۶۹/۹

۴۸۷. ۔ و سائل ۴ : ۸۷۳/۱

۴۸۸. ۔ و سائل ۴ : ۸۸۶/۱ و۲

۴۸۹. ۔ و سائل ۴ : ۸۷۰/۱

۴۹۰. ۔ و سائل ۴ : ۸۷۱/۳

۴۹۱. ۔ و سائل ۴ : ۸۷۱/۱

۴۹۲. ۔ و سائل ۴ : ۸۷۱/۲

۴۹۳. ۔ و سائل ۴ : ۸۷۲/۳

۴۹۴. ۔ و سائل ۴ : ۸۷۲/۴

۴۹۵. ۔ و سائل ۴ : ۸۷۲/۱

۴۹۶. ۔کہف:۱۱۰

۴۹۷. ۔ و سائل ۴ : ۸۷۳/۳

۴۹۸. ۔ و سائل ۴ : ۸۷۵/۱

۴۹۹. ۔ و سائل ۴ : ۸۷۵/۲

۵۰۰. ۔ و سائل ۴ : ۸۷۶/۱

۵۰۱. ۔ و سائل ۴ : ۸۷۷/۲

۵۰۲. ۔ و سائل ۴ : ۸۸۷/۱

۵۰۳. ۔ و سائل ۴ : ۸۷۷/۱

۵۰۴. ۔ و سائل ۴ : ۸۷۸/۳

۵۰۵. ۔ و سائل ۴ : ۸۷۸/۶

۵۰۶. ۔ و سائل ۴ : ۸۷۸/۷

۵۰۷. ۔ و سائل ۴ : ۸۷۸/۸

۵۰۸. ۔ و سائل ۴ : ۸۷۹/۹

۵۰۹. ۔ و سائل ۴ : ۸۸۰/۱

۵۱۰. ۔ و سائل ۴ : ۸۸۰/۲

۵۱۱. ۔ و سائل ۴ : ۸۸۰/۳

۵۱۲. ۔ و سائل ۴ : ۸۸۱/۵

۵۱۳. ۔ و سائل ۴ : ۸۸۱/۶

۵۱۴. ۔ و سائل ۴ : ۸۸۱/۷

۵۱۵. ۔ و سائل ۴ : ۸۸۱/۹

۵۱۶. ۔فصلت:۳۷

۵۱۷. ۔ و سائل ۴ : ۸۸۱/۸

۵۱۸. ۔ و سائل ۴ : ۸۸۰/۴

۵۱۹. ۔ و سائل ۴ : ۸۸۲/۱

۵۲۰. ۔ و سائل ۴ : ۸۸۲/۲

۵۲۱. ۔ و سائل ۴ : ۸۸۴/۱

۵۲۲. ۔ و سائل ۴ : ۸۸۴/۳

۵۲۳. ۔ و سائل ۴ : ۸۸۴/۲

۵۲۴. ۔بقرہ:۱۱۵

۵۲۵. ۔ و سائل ۴ : ۸۸۷/۱

۵۲۶. ۔ و سائل ۴ : ۸۸۳/۲

۵۲۷. ۔ و سائل ۴ : ۸۸۲/۳

۵۲۸. ۔ و سائل ۴ : ۸۸۲/۴

۵۲۹. ۔ و سائل ۴ : ۸۸۴/۱

۵۳۰. ۔ و سائل ۴ : ۸۹۵/۱

۵۳۱. ۔ و سائل ۴ : ۸۹۶/۲

۵۳۲. ۔ و سائل ۴ : ۸۹۶/۷

۵۳۳. ۔ و سائل ۴ : ۸۹۸/۱۳

۵۳۴. ۔ و سائل ۴ : ۹۰۱/۱

۵۳۵. ۔ و سائل ۴ : ۹۰۲/۲

۵۳۶. ۔ و سائل ۴ : ۸۹۶/۳

۵۳۷. ۔ و سائل ۴ : ۸۹۶/۶

۵۳۸. ۔ و سائل ۴ : ۸۹۷/۹

۵۳۹. ۔ و سائل ۴ : ۸۹۷/۱۱

۵۴۰. ۔ و سائل ۴ : ۸۹۷/۱۰

۵۴۱. ۔ و سائل ۴ : ۸۹۸/۱

۵۴۲. ۔ و سائل ۴ : ۸۹۷/۲

۵۴۳. ۔ و سائل ۴ : ۸۹۹/۶

۵۴۴. ۔ و سائل ۴ : ۸۹۹/۷

۵۴۵. ۔ و سائل ۴ : ۸۹۶/۴

۵۴۶. ۔ و سائل ۴ : ۹۰۰/۱

۵۴۷. ۔ و سائل ۴ : ۹۰۱/۶

۵۴۸. ۔ و سائل ۴ : ۹۰۰/۳

۵۴۹. ۔ و سائل ۴ : ۹۰۲/۱

۵۵۰. ۔ و سائل ۴ : ۹۰۴/۱۲

۵۵۱. ۔ و سائل ۴ : ۹۰۰/۱

۵۵۲. ۔ و سائل ۴ : ۹۰۰/۲

۵۵۳. ۔ و سائل ۴ : ۹۰۰/۴

۵۵۴. ۔ و سائل ۴ : ۹۰۰/۳

۵۵۵. ۔ و سائل ۴ : ۹۰۴/۱۰

۵۵۶. ۔ و سائل ۴ : ۹۰۵/۲

۵۵۷. ۔ و سائل ۴ : ۹۰۶/۲

۵۵۸. ۔ و سائل ۴ : ۹۰۵/۳

۵۵۹. ۔ و سائل ۴ : ۹۰۶/۴

۵۶۰. ۔ و سائل ۴ : ۹۰۶/۱

۵۶۱. ۔ و سائل ۴ : ۹۰۶/۴

۵۶۲. ۔ و سائل ۴ : ۹۰۷/۱

۵۶۳. ۔ و سائل ۴ : ۹۰۷/۶

۵۶۴. ۔ و سائل ۴ : ۹۰۹/۵

۵۶۵. ۔ و سائل ۴ : ۹۰۸/۱

۵۶۶. ۔ و سائل ۴ : ۹۰۸/۲

۵۶۷. ۔ و سائل ۴ : ۹۰۸/۴

۵۶۸. ۔ و سائل ۴ : ۹۱۲/۱

۵۶۹. ۔ و سائل ۴ : ۹۱۳/۲

۵۷۰. ۔ و سائل ۴ : ۹۱۳/۱

۵۷۱. ۔ و سائل ۴ : ۹۱۴/۲

۵۷۲. ۔ و سائل ۴ : ۹۱۰/۴

۵۷۳. ۔ و سائل ۴ : ۹۱۰/۵

۵۷۴. ۔ و سائل ۴ : ۹۱۰/۸

۵۷۵. ۔زاریات:۱۸

۵۷۶. ۔ و سائل ۴ : ۹۱۰/۷

۵۷۷. ۔ و سائل ۴ : ۹۱۱/۱

۵۷۸. ۔ و سائل ۴ : ۹۱۱/۲

۵۷۹. ۔ و سائل ۴ : ۹۱۱/۱

۵۸۰. ۔ و سائل ۴ : ۹۱۲/۲

۵۸۱. ۔ و سائل ۴ : ۹۱۲/۳

۵۸۲. ۔ و سائل ۴ : ۹۱۲/۴

۵۸۳. ۔ و سائل ۴ : ۷۱۹/۱

۵۸۴. ۔ و سائل ۴ : ۹۱۴/۳

۵۸۵. ۔ و سائل ۴ : ۹۱۴/۲

۵۸۶. ۔ و سائل ۴ : ۹۱۵/۱

۵۸۷. ۔ و سائل ۴ : ۹۱۴/۱

۵۸۸. ۔ و سائل ۴ : ۹۱۵/۱

۵۸۹. ۔ و سائل ۴ : ۹۱۶/۱

۵۹۰. ۔ و سائل ۴ : ۹۱۵/۲

۵۹۱. ۔ و سائل ۴ : ۹۱۶/۲

۵۹۲. ۔ و سائل ۴ : ۹۱۶/۳

۵۹۳. ۔ و سائل ۴ : ۹۱۶/۴

۵۹۴. ۔ و سائل ۴ : ۹۱۶/۵

۵۹۵. ۔ و سائل ۴ : ۹۱۷/۲

۵۹۶. ۔ و سائل ۴ : ۹۱۷/۱

۵۹۷. ۔ و سائل ۴ : ۹۱۸/۱

۵۹۸. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۸/۲

۵۹۹. ۔ و سائل ۴ : ۹۱۹/۲

۶۰۰. ۔ و سائل ۴ : ۹۱۸/۱

۶۰۱. ۔ و سائل ۴ : ۹۱۹/۴

۶۰۲. ۔ و سائل ۴ : ۹۱۹/۳

۶۰۳. ۔ و سائل ۴ : ۹۱۹/۸

۶۰۴. ۔ و سائل ۴ : ۸۹۸/۱۳

۶۰۵. ۔ و سائل ۴ : ۷۸۱/۱

۶۰۶. ۔ و سائل ۴ : ۱۰۸۴/۸

۶۰۷. ۔ و سائل ۴ : ۱۰۸۴/۳

۶۰۸. ۔غافر:۶۰

۶۰۹. ۔ و سائل ۴ : ۱۰۸۳/۱

۶۱۰. ۔ و سائل ۴ : ۱۰۸۳/۲

۶۱۱. ۔ و سائل ۴ : ۱۰۸۴/۴

۶۱۲. ۔ و سائل ۴ : ۱۰۸۴/۶

۶۱۳. ۔ و سائل ۴ : ۱۰۸۵/۳ و۴

۶۱۴. ۔توبہ:۱۱۴

۶۱۵. ۔ و سائل ۴ : ۱۰۸۵/۱

۶۱۶. ۔ و سائل ۴ : ۱۰۸۶/۷

۶۱۷. ۔ و سائل ۴ : ۱۰۸۶/۱۰

۶۱۸. ۔ و سائل ۴ : ۱۰۸۶/۱۳

۶۱۹. ۔ و سائل ۴ : ۱۰۸۶/۹

۶۲۰. ۔ و سائل ۴ : ۱۰۸۸/۱

۶۲۱. ۔ و سائل ۴ : ۱۰۸۸/۲

۶۲۲. ۔فرقان:۷۷

۶۲۳. ۔ و سائل ۴ : ۱۰۸۹/۶

۶۲۴. ۔ و سائل ۴ : ۱۰۸۹/۴

۶۲۵. ۔ و سائل ۴ : ۱۰۸۸/۳

۶۲۶. ۔ و سائل ۴ : ۱۰۸۹/۵

۶۲۷. ۔ و سائل ۴ : ۱۰۹۰/۲

۶۲۸. ۔ و سائل ۴ : ۱۰۸۹/۱

۶۲۹. ۔ و سائل ۴ : ۱۰۹۰/۳

۶۳۰. ۔ و سائل ۴ : ۱۰۹۱/۱

۶۳۱. ۔ و سائل ۴ : ۱۰۹۱/۳

۶۳۲. ۔ و سائل ۴ : ۱۰۹۱/۱

۶۳۳. ۔ و سائل ۴ : ۱۰۹۲/۲

۶۳۴. ۔ و سائل ۴ : ۱۰۹۳/۲

۶۳۵. ۔ و سائل ۴ : ۱۰۹۳/۸

۶۳۶. ۔ و سائل ۴ : ۱۰۹۳/۴ و۳

۶۳۷. ۔ و سائل ۴ : ۱۰۹۴/۳

۶۳۸. ۔ و سائل ۴ : ۱۰۹۵/۵

۶۳۹. ۔ و سائل ۴ : ۱۰۹۵/۷

۶۴۰. ۔ و سائل ۴ : ۱۰۹۴/۴

۶۴۱. ۔ و سائل ۴ : ۱۰۹۴/۲

۶۴۲. ۔ و سائل ۴ : ۱۰۹۶/۶

۶۴۳. ۔ و سائل ۴ : ۱۰۹۸/۱۳

۶۴۴. ۔ و سائل ۴ : ۱۰۹۶/۱

۶۴۵. ۔ و سائل ۴ : ۱۰۹۶/۲

۶۴۶. ۔ و سائل ۴ : ۱۰۹۶/۶

۶۴۷. ۔ و سائل ۴ : ۱۰۹۸/۱۲

۶۴۸. ۔ و سائل ۴ : ۱۰۹۹/۲

۶۴۹. ۔ و سائل ۴ : ۱۰۹۹/۳

۶۵۰. ۔ و سائل ۴ : ۱۰۹۸/۱

۶۵۱. ۔ و سائل ۴ : ۱۰۹۹/۱

۶۵۲. ۔مومنون:۷۶

۶۵۳. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۰۰/۲

۶۵۴. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۰۰/۵

۶۵۵. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۰۱/۶

۶۵۶. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۰۱/۱

۶۵۷. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۰۲/۲

۶۵۸. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۰۲/۴

۶۵۹. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۰۲/۵

۶۶۰. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۰۳/۷

۶۶۱. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۰۳/۸

۶۶۲. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۰۴/۱ و۲

۶۶۳. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۰۴/۱

۶۶۴. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۰۵/۴

۶۶۵. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۰۵/۲

۶۶۶. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۰۵/۱

۶۶۷. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۰۶/۳

۶۶۸. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۰۶/۴

۶۶۹. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۰۶/۱

۶۷۰. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۰۶/۲

۶۷۱. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۰۷/۳

۶۷۲. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۰۷/۱

۶۷۳. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۰۸/۴

۶۷۴. ۔یونس:۸۹

۶۷۵. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۰۸/۲

۶۷۶. ۔زمر:۵۳

۶۷۷. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۰۷/۱

۶۷۸. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۰۹/۴

۶۷۹. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۰۹/۱

۶۸۰. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۰۹/۲

۶۸۱. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۱۰/۸

۶۸۲. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۱۱/۱

۶۸۳. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۱۱/۲

۶۸۴. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۱۲/۳

۶۸۵. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۱۳/۱

۶۸۶. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۱۳/۲

۶۸۷. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۳۰/۳

۶۸۸. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۲۹/۲

۶۸۹. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۲۹/۱

۶۹۰. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۲۹/۱۰

۶۹۱. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۲۸/۹

۶۹۲. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۱۵/۶

۶۹۳. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۱۴/۳

۶۹۴. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۱۴/۱

۶۹۵. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۱۵/۷

۶۹۶. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۱۵/۸

۶۹۷. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۱۷/۱

۶۹۸. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۱۷/۲

۶۹۹. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۱۸/۴

۷۰۰. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۱۷/۳

۷۰۱. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۱۸/۱

۷۰۲. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۱۸/۲

۷۰۳. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۱۸/۳

۷۰۴. ۔رعد:۱۵

۷۰۵. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۱۹/۱

۷۰۶. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۲۰/۴

۷۰۷. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۲۴/۲

۷۰۸. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۲۵/۴

۷۰۹. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۱۴/۲

۷۱۰. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۱۴/۴

۷۱۱. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۱۶/۹

۷۱۲. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۲۰/۱

۷۱۳. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۲۱/۶

۷۱۴. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۲۰/۲

۷۱۵. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۲۱/۴

۷۱۶. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۲۱/۱

۷۱۷. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۲۲/۲

۷۱۸. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۲۲/۳

۷۱۹. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۲۲/۴

۷۲۰. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۴۳/۱

۷۲۱. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۴۳/۱

۷۲۲. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۱۶/۱

۷۲۳. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۲۶/۱

۷۲۴. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۲۶/۲

۷۲۵. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۲۷/۳

۷۲۶. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۲۷/۵

۷۲۷. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۲۷/۶

۷۲۸. ۔غافر:۶۰

۷۲۹. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۲۸/۷

۷۳۰. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۳۰/۱

۷۳۱. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۳۰/۳ و ۴ و۵

۷۳۲. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۳۲/۱۰ و ۱۱

۷۳۳. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۳۲/۱۴

۷۳۴. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۳۲/۱۶

۷۳۵. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۳۳/۲۳

۷۳۶. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۳۳/۱

۷۳۷. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۳۴/۱

۷۳۸. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۳۴/۲

۷۳۹. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۳۶/۵

۷۴۰. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۳۵/۱

۷۴۱. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۳۶/۴

۷۴۲. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۳۶/۶

۷۴۳. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۳۶/۷

۷۴۴. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۳۶/۸

۷۴۵. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۳۸/۱۴

۷۴۶. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۳۸/۱۷

۷۴۷. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۳۹/۲

۷۴۸. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۳۹/۱

۷۴۹. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۴۰/۴

۷۵۰. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۴۰/۶

۷۵۱. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۵۰/۶

۷۵۲. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۴۶/۶

۷۵۳. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۴۶/۳

۷۵۴. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۴۶/۴

۷۵۵. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۴۹/۵

۷۵۶. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۴۸/۱

۷۵۷. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۵۱/۸

۷۵۸. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۵۱/۱

۷۵۹. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۵۲/۶

۷۶۰. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۵۲/۳

۷۶۱. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۵۴/۲

۷۶۲. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۴۵/۲

۷۶۳. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۶۱/۷

۷۶۴. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۷۸/۱

۷۶۵. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۵۹/۲

۷۶۶. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۵۸/۳ و ۴

۷۶۷. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۰۶/۳

۷۶۸. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۰۵/۱

۷۶۹. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۰۶/۴

۷۷۰. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۶۵/۱

۷۷۱. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۶۵/۳

۷۷۲. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۶۵/۲

۷۷۳. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۶۶/۱

۷۷۴. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۶۴/۱

۷۷۵. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۶۴/۲

۷۷۶. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۶۴/۳

۷۷۷. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۶۷/۱

۷۷۸. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۶۷/۲

۷۷۹. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۶۸/۱

۷۸۰. ۔یونس:۸۹

۷۸۱. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۴۴/۲

۷۸۲. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۴۴/۱

۷۸۳. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۴۴/۳

۷۸۴. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۴۴/۴

۷۸۵. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۴۵/۱

۷۸۶. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۴۵/۲

۷۸۷. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۵۳/۲

۷۸۸. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۵۳/۱

۷۸۹. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۶۱/۱

۷۹۰. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۶۳/۶

۷۹۱. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۵۵/۱

۷۹۲. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۵۶/۱

۷۹۳. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۵۷/۲

۷۹۴. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۵۷/۱

۷۹۵. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۶۲/۱

۷۹۶. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۶۴/۷

۷۹۷. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۶۹/۲

۷۹۸. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۶۸/۱

۷۹۹. ۔تغابن:۱۵

۸۰۰. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۶۹/۱

۸۰۱. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۶۹/۲

۸۰۲. ۔تغابن:۱۵

۸۰۳. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۷۰/۱

۸۰۴. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۷۰/۱

۸۰۵. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۷۱/۱

۸۰۶. ۔ و سائل ۴ : ۹۵۸/۱

۸۰۷. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۷۳/۳

۸۰۸. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۷۲/۱

۸۰۹. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۷۲/۲

۸۱۰. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۷۳/۵

۸۱۱. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۷۴/۱

۸۱۲. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۷۵/۴

۸۱۳. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۷۵/۲

۸۱۴. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۷۴/۱

۸۱۵. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۷۵/۱

۸۱۶. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۷۵/۴

۸۱۷. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۷۶/۱

۸۱۸. ۔ و سائل ۳ : ۴/۸

۸۱۹. ۔طہ:۱۴

۸۲۰. ۔ و سائل ۳ : ۴/۷

۸۲۱. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۷۷/۱ و۲

۸۲۲. ۔آل عمران:۱۹۱

۸۲۳. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۷۸/۵

۸۲۴. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۷۸/۱

۸۲۵. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۷۹/۲

۸۲۶. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۸۷/۱

۸۲۷. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۸۷/۳

۸۲۸. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۸۸/۴

۸۲۹. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۸۰/۵

۸۳۰. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۸۰/۲

۸۳۱. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۸۵/۱

۸۳۲. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۸۵/۱

۸۳۳. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۹۰/۱

۸۳۴. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۹۱/۱

۸۳۵. ۔ و سائل ۴ : ۱۲۳۹/۳

۸۳۶. ۔ و سائل ۴ : ۱۲۳۹/۱

۸۳۷. ۔ و سائل ۴ : ۱۲۳۹/۲

۸۳۸. ۔ و سائل ۴ : ۱۲۳۹/۴

۸۳۹. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۸۰/۱

۸۴۰. ۔صافات:۱۸۰۔۱۸۲

۸۴۱. ۔ و سائل ۴ : ۱۰۴۶/۱۱

۸۴۲. ۔ و سائل ۵ : ۵۸۵/۱

۸۴۳. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۸۴/۲

۸۴۴. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۸۴/۱

۸۴۵. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۸۵/۱

۸۴۶. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۸۵/۴

۸۴۷. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۸۵/۲

۸۴۸. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۸۵/۳

۸۴۹. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۸۶/۱

۸۵۰. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۸۶/۲

۸۵۱. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۸۷/۵

۸۵۲. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۸۹/۲

۸۵۳. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۹۰/۱

۸۵۴. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۹۱/۱

۸۵۵. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۹۲/۳

۸۵۶. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۹۲/۴

۸۵۷. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۹۴/۴

۸۵۸. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۹۳/۱

۸۵۹. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۹۳/۲

۸۶۰. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۹۶/۱

۸۶۱. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۸۱/۱

۸۶۲. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۸۳/۸

۸۶۳. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۸۲/۷

۸۶۴. ۔احزاب:۴۱

۸۶۵. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۸۱/۲

۸۶۶. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۸۹/۵

۸۶۷. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۸۹/۴

۸۶۸. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۸۸/۲

۸۶۹. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۸۸/۳

۸۷۰. ۔نساء:۱۴۲

۸۷۱. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۹۵/۳

۸۷۲. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۹۴/۱

۸۷۳. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۹۵/۱

۸۷۴. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۹۶/۱

۸۷۵. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۹۷/۵

۸۷۶. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۹۷/۶

۸۷۷. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۹۶/۱

۸۷۸. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۹۸/۵

۸۷۹. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۹۸/۴

۸۸۰. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۹۸/۶

۸۸۱. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۹۹/۷

۸۸۲. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۹۸/۲

۸۸۳. ۔نوح:۱۰

۸۸۴. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۹۹/۱۰

۸۸۵. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۹۹/۹

۸۸۶. ۔ و سائل ۴ : ۱۲۰۰/۱

۸۸۷. ۔ و سائل ۴ : ۱۲۰۱/۱

۸۸۸. ۔ و سائل ۴ : ۱۲۰۱/۱

۸۸۹. ۔غافر:۵۵

۸۹۰. ۔ و سائل ۴ : ۱۲۰۱/۱

۸۹۱. ۔ و سائل ۴ : ۱۲۰۲/۱

۸۹۲. ۔ و سائل ۴ : ۱۲۰۳/۳

۸۹۳. ۔ و سائل ۴ : ۱۲۰۳/۵

۸۹۴. ۔ و سائل ۴ : ۱۲۰۷/۶

۸۹۵. ۔ و سائل ۴ : ۱۲۰۴/۱

۸۹۶. ۔ و سائل ۴ : ۱۲۰۵/۲

۸۹۷. ۔ و سائل ۴ : ۱۲۰۶/۳

۸۹۸. ۔ و سائل ۴ : ۱۲۰۹/۲

۸۹۹. ۔ و سائل ۴ : ۱۲۰۹/۱

۹۰۰. ۔ و سائل ۴ : ۱۲۱۲/۶

۹۰۱. ۔ و سائل ۴ : ۱۲۱۳/۱۱

۹۰۲. ۔ و سائل ۴ : ۱۲۱۰/۱

۹۰۳. ۔ و سائل ۴ : ۱۲۱۳/۱

۹۰۴. ۔ و سائل ۴ : ۱۲۱۴/۲

۹۰۵. ۔ و سائل ۴ : ۱۲۱۴/۴

۹۰۶. ۔ و سائل ۴ : ۱۲۱۵/۱

۹۰۷. ۔ و سائل ۴ : ۱۲۱۶/۱

۹۰۸. ۔ و سائل ۴ : ۱۲۱۶/۱

۹۰۹. ۔اعلی:۱۵

۹۱۰. ۔ و سائل ۴ : ۱۲۱۷/۱

۹۱۱. ۔احزاب:۴۳

۹۱۲. ۔ و سائل ۴ : ۱۲۱۷/۱

۹۱۳. ۔ و سائل ۴ : ۱۲۱۵/۱

۹۱۴. ۔ و سائل ۴ : ۱۲۱۵/۲

۹۱۵. ۔ و سائل ۴ : ۱۲۱۵/۱

۹۱۶. ۔ و سائل ۴ : ۱۲۱۷/۱

۹۱۷. ۔ و سائل ۴ : ۱۲۱۸/۳

۹۱۸. ۔ و سائل ۴ : ۱۲۱۹/۶

۹۱۹. ۔ و سائل ۴ : ۱۲۱۹/۹

۹۲۰. ۔ و سائل ۴ : ۱۲۲۰/۵

۹۲۱. ۔ و سائل ۴ : ۱۲۲۲/۱۸

۹۲۲. ۔ و سائل ۴ : ۱۲۲۱/۱۵

۹۲۳. ۔ و سائل ۴ : ۱۲۲۱/۱۲

۹۲۴. ۔ و سائل ۴ : ۱۲۲۲/۱

۹۲۵. ۔ و سائل ۴ : ۱۲۱۱/۴

۹۲۶. ۔ و سائل ۴ : ۱۲۲۳/۳

۹۲۷. ۔ و سائل ۴ : ۱۲۲۴/۴

۹۲۸. ۔ و سائل ۴ : ۱۲۲۳/۲

۹۲۹. ۔ و سائل ۴ : ۱۲۲۴/۸

۹۳۰. ۔ و سائل ۴ : ۱۲۲۵/۱۲

۹۳۱. ۔ و سائل ۴ : ۱۲۲۷/۱

۹۳۲. ۔ و سائل ۴ : ۱۲۲۷/۲

۹۳۳. ۔ و سائل ۴ : ۱۲۲۷/۱

۹۳۴. ۔ و سائل ۴ : ۱۲۳۰/۱

۹۳۵. ۔ و سائل ۴ : ۱۲۳۰/۴

۹۳۶. ۔ و سائل ۴ : ۱۲۳۱/۷

۹۳۷. ۔ و سائل ۴ : ۱۲۳۲/۹

۹۳۸. ۔ و سائل ۴ : ۱۲۳۲/۱۰

۹۳۹. ۔ و سائل ۴ : ۱۲۳۲/۱۱

۹۴۰. ۔ و سائل ۴ : ۱۲۳۳/۱۵

۹۴۱. ۔ و سائل ۴ : ۱۲۳۴/۱۹

۹۴۲. ۔ و سائل ۴ : ۱۲۳۵/۴

۹۴۳. ۔ و سائل ۴ : ۱۲۳۳/۱۴

۹۴۴. ۔ و سائل ۴ : ۱۲۳۳/۱۶

۹۴۵. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۵۵/۱

۹۴۶. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۵۶/۲

۹۴۷. ۔ و سائل ۴ : ۱۱۵۶/۳

۱۳۶