بارہویں فصل:
وہ اذکار اور دعائیں جن کو روزانہ صبح وشام پڑھنا مستحب ہے۔ اس میں کل بارہ حدیثیں ہیں:
۸۸۲ ۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:جو شخص روزانہ دس بار کہے:
"أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اَللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ إِلَهاً وَاحِداً أَحَداً صَمَداً لَمْ يَتَّخِذْ صاحِبَةً وَلَا وَلَداً"
تو خدا وندعالم اس کے نامہ اعمال میں پینتالیس ہزار نیکیاں لکھ دیتا ہے۔(۱)
۸۸۳ ۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:جو شخص روزانہ پچیس بار کہے:
" لآ إِلَهَ إِلاَّ اَللَّهُ حَقّاً حَقّاً لآ إِلَهَ إِلاَّ اَللَّهُ تَعَبُّداً وَ رِقّاً لآ إِلَهَ إِلاَّ اَللَّهُ إِيمَاناً وَ صِدْقاً"
تو خداوند عالم اس کی طرف خصوصی توجہ مبذول فرماتا ہے اور جب تک وہ بندہ جنت میں داخل نہ ہوجائے اس وقت تک اس سے توجہ نہیں ہٹاتا۔(۲)
۸۸۴ ۔امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جو شخص ہر روز سو بار کہے
"لاحَوْلَ وَ لَاقُوَّةَ إِلّا بِاللّٰه"
تو خدا اس سے ستر قسم کی بلاؤں اور مصیبتوں،جن میں سے سب سے چھوٹی بلاء اس کی ہم وغم ہے ،کو دور کردیتا ہے۔(۳)
۸۸۵ ۔ یہی اجر وثواب اس شخص کے بارے میں بھی منقول ہے جوہر روز تیس (۳۰)بار خدا کی تسبیح کرتاہے۔ (۴)
۸۸۶ ۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جو بندہ ہرروز سات بار کہے:
"أَسْأَلُ اللّٰه الْجَنَّةَ وَأَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ النَّارِ"
تو دوزخ کہتی ہے:اے خدا اسے مجھ سے بچا۔(۵)
۸۸۷ ۔ رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: جو شخص ہر روز تیس(۳۰) بار کہے
" لآإِلَهَ إِلاَّ اَلَّلهُ اَلْمَلِكُ اَلْحَقُّ اَلْمُبِينُ"
تو وہ بے نیازی کا استقبال کرے گا اور فقرو تنگدستی کو پس پشت ڈالے گا اور جنت کا دروازہ کھٹکھٹائے گا۔(۶)
۸۸۸ ۔ اوراس کی تعداد سو بار بھی منقول ہے۔(۷)
۸۸۹ ۔ امیر المؤمنین علیہ السلام ہر روز صبح کے وقت جب سورج طلوع ہوتا تھا تو تین سو ساٹھ بار بطورشکر فرمایا کرتے تھے
"الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِینَ کَثِیراً طَیِّباً عَلَی کُلِّ حَالِ"(۸)
۸۹۰ - امام صادق علیہ السلام سے ارشاد خداوند
" وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا "
؛طلوع اور غروب آفتاب سے پہلے اپنے پروردگار کی تسبیح کرو) کے متعلق سوال کیا گیا تو فرمایا: ہر مسلمان پرپر فرض ہے کہ طلوع اور غروب آفتاب سے پہلے دس دس بار کہیں
"لَآ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لا شَرِیکَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَ لَهُ الْحَمْدُ یُحْيِي وَ یُمِیتُ وَ هُوَ حَیٌّ لَا یَمُوتُ بِیَدِهِ الْخَیْرُ وَ هُوَ عَلی کُلِّ شَیْءٍ"
سائل نے عرض کیا:
یُحْيِي وَ یُمِیتُ وَ یُمِیتُ وَ یُحْيِي ؛
وه زندہ کرتا ہے اور پھر مارتا ہے اور مارتا ہے پھر زندہ کرتا ہے ؟امام ؑ نے اس کے جواب میں فرمایا: اے فلان! اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ خدا زندہ کرتا ہے اور پھر مارتا ہے اور مارتا ہے پھر زندہ کرتا ہے مگر تو اس طرح کہو جس طرح میں کہتا ہوں۔(۹)
۸۹۱ ۔رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا:جوشخص ہر روز سو بارکہے: " لَآاِلَهَ اِلَّا اللهُ"
تو وہ عمل کے لحاظ سے اس دن سب لوگوں سے افضل قرار پائے گا سوائے اس شخص کے جواس سے زیادہ پڑھے۔(۱۰)
۸۹۲ ۔امام باقرعلیہ السلام نے فرمایا :جوشخص شام کے وقت سو بارتکبیر" اَللهُ اَکبَرُ ' پڑھے تو وہ اس شخص کی طرح ہوگا جس نے سو غلام کو( راہ خدا میں)آزاد کردیا ہو۔ (۱۱)
۸۹۳ ۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:طلوع اور غروب آفتاب سے پہلے دعا پڑھنا سنت واجبی ہےلہذا طلوع اورغروب آفتاب سے پہلے دس دس بار کہو:
"لَآ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لا شَرِیکَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَ لَهُ الْحَمْدُ یُحْیِی وَ یُمِیتُ وَ هُوَ حَیٌّ لَا یَمُوتُ بِیَدِهِ الْخَیْرُ وَ هُوَ عَلی کُلِّ شَیْءٍ"
اور دس دس بارک ہ و: "
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ هَمَزاتِ اَلشَّیاطِینِ `وَ أَعُوذُ بِكَ (رَبِّ) أَنْ یَحْضُرُونِ إِنَّ اَللَّهَ هُوَ اَلسَّمِیعُ اَلْعَلِیمُ"
اوراگر پڑھنا بھول جائے تواس کی قضاء کرو جس طرح نمازپڑھنا بھول جائے اس کی قضاء کرتے ہو۔(۱۲)
۸۹۴ ۔ اور "أَسْتَعِيذُ بِاللَّهِ مِنَ اَلشَّيْطَانِ اَلرَّجِيمِ وَ أَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ يَحْضُرُونِ إِنَّ اَللَّهَ هُوَ اَلسَّمِيعُ اَلْعَلِيم"
بھی منقول ہے۔(۱۳)
۸۹۵ ۔روایت نقل ہوئی ہے کہ تہلیل اور استعاذہ دونوں معین وقت میں پڑھا جانے والے اذکار ہیں لہذا اگر کوئی شخص ان کوپڑھنا بھول جائے تو اس پر ان کی قضاء کرنا واجب ہے۔(۱۴)