تیسری فصل:
سورہ کو معین کرنے کے احکام ،جن کی كل تعداد بارہ ہے-
۱۔ سورہ الضحی اور الم نشرح دونوں مل کر ایک سورہ ہیں لہذا اگر کسی ایک رکعت میں ان میں سے کوئی ایک سورہ پڑھا جائے تو دوسرا بھی ضرور اس کے ساتھ پڑھا جائے اور سورہ فیل اور لایلاف کا بھی یہی حکم ہے -
۱۸۰- ہمارے محدثین نے حضرات ائمہ علیھم السلام سے اس مذکورہ حکم کو نقل کیا ہے اور امام صادق علیہ السلام نے نماز فجر کی نماز با جماعت پڑھائی تو سورہ ضحی اور الم نشرح کو ایک ہی رکعت میں پڑھا۔ (و سائل ۴ : ۷۴۳/۲)
۱۸۱- یہ بھی منقول ہے کہ امام صادق علیہ السلام نے پہلی رکعت میں سورہ ضحی اور دوسری رکعت میں الم نشرح پڑھا ہے۔
اور یہ( مذکورہ صورت) نماز نافلہ اور تقیہ پر محمول ہے۔ (و سائل ۴ : ۷۴۳/۳)
۱۸۲- امام باقر اور امام صادق علیھما السلام میں سے ایک امام سے منقول ہے کہ آپ ؑنے فرمایا: سورہ الم تر اور لایلاف قریش ایک سورہ ہیں۔ (و سائل ۴ : ۷۴۴/۶)
۱۸۳- روایت نقل ہوئی ہے کہ(ایک رکعت میں) دو سوروں کو جمع نہ کرو سواے سورہ ضحی اور الم نشرح اور الم تر کیف اور لایلاف قریش کے۔ (و سائل ۴ : ۷۴۴/۵)
۱۸۴- امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: زوال کی نماز کی پہلی رکعت میں سورہ حمد اور قُل ھُوَ اللہُ اَحَد اور دوسری میں حمد اور" قُل یَا اَیُّھا الکَافِرُونَ" اور تیسری میں حمد اور "قُل ھُوَ اللہُ اَحَد "اور "آیة الکرسی" اور چوتھی میں "حمد" اور "قُل ھُوَ اللہُ اَحَد" اور "سورہ بقرہ "کی آخری آیتیں "آمَنَ الرَّسُولُ"( بقرہ:۲۸۵) سے سورہ کے آخرتک اور پانچویں رکعت میں "حمد" اور" قُل ھُوَ اللہُ اَحَد ُ" اور"سورہ آل عمران" کی پانچ آیتیں
" اِنَّ فِي خَلقِ السَّمَاوَاتِ وَالأَرضِ ( آل عمران:۱۹۰ )
س ے
فَإِنَّكَ لَا تُخلِفُ المِیعَاد " ( آل عمران:۱۹۴ )
اور چھٹی رکعت میں سورہ حمد اور قُل ھُوَ اللہُ اَحَد ُ اور سور بقرہ کی تین آیات
(إِنَّ رَبَّکُمُ اللهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرضَ) (اعراف:۵۴)
سے
(إِنَّ رَحمَتَ اللهِ قَرِیبُ مِّنَ المُحسِنِینَ) (اعراف:۵۶)
تک) اورساتویں رکعت میں حمد اور قُل ھُوَ اللہُ اَحَد اور سورہ انعام کی آیت
(وَجَعَلُوا لِلَّهِ شُرَكَاءَ الْجِنَّ
سے
وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ) (انعام:۱۰۰ ۔ ۱۰۳)
تک سورہ حشر کی آخری آیتیں
(لَو أَنزَلنَا هَذَاالقُرآنَ عَلَی جَبَلِ ) (حشر:۲۱)
سے آخر سورہ تک پڑھی جائیں۔ (و سائل ۴ : ۷۴۹/۱)
۱۸۵- روایت نقل ہوئی ہے کہ ہر رکعت میں حمد اور سورہ قدر اور سورہ اخلاص اور آیة الکرسی پڑھنا مستحب ہے۔ (و سائل ۴ : ۷۵۰/۲)
۱۸۶- اور سورہ حمد اور اخلاص پڑھنا بھی منقول ہے۔ (و سائل ۴ : ۷۵۰/۳)
۱۸۷- روایت نقل ہوئی ہے کہ مغرب کی نفل کی پہلی رکعت میں( حمد کے بعد) سورہ کافرون اور دوسری رکعت میں سورہ اخلاص اور تیسری رکعت میں سورہ حمد اور سورہ حدید کی پہلی آیات کو
( وَاللهُ عَلِیمُ بِذَاتِ الصُّدُورِ ) ( حدید:۶)
تک اور چوتھی رکعت میں الحمد کے بعد سورہ حشر کی آخری آیات پڑھے جائیں۔ (و سائل ۴ : ۷۵۱/۱)
۳۔
۱۸۸- امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: سات مقامات پر سورہ قُل ھُوَ اللہُ اَحَد اور سورہ قُل یَا اَیُّھا الکَافِرُونَ کا پڑھنا ترک نہ کرو:
نماز فجر سے پہلی دو رکعت میں اور زوال کی نفل کی دو رکعت میں اور مغرب کی نفل کی دو رکعت میں اور نماز شب کی پہلی دو رکعت میں اور احرام کی دو رکعت میں اور نماز صبح کی دو رکعت میں اور نماز طواف کی دو رکعت میں۔ (و سائل ۴ : ۷۰۱/۱)
۱۸۹- روایت نقل ہوئی ہے کہ ان تمام (مذکورہ بالا نمازوں کی) پہلی رکعت میں قُل ھُوَ اللہُ اَحَد اور دوسری میں قُل یَا اَیُّھا الکَافِرُونَ پڑھی جائے سوائے نافلہ صبح کے کہ ان میں پہلی میں قُل یَا اَیُّھا الکَافِرُونَ اور دوسری میں قُل ھُوَ اللہُ اَحَد پڑھی جائے۔ (و سائل ۴ : ۷۰۱/۲)
۱۹۰- امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: نماز صبح میں جو بھی دو سورے چاہو پڑھو مگر میں اس بات کو پسند کرتا ہوں کہ ان میں قُل ھُوَ اللہُ اَحَد ُ اور قُل یَا اَیُّھا الکَافِرُونَ پڑھو۔
۱۹۱- امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: صبح کی دو رکعت نماز کو طلوع فجر کے بعد پڑھو اور پہلی رکعت میں ( حمد کے بعد) قُل یَا اَیُّھا الکَافِرُونَ اور دوسری میں قُل ھُوَ اللہُ اَحَد پڑھو۔ (و سائل ۴ : ۷۵۲/۲)
۴۔ فرض نمازوں میں سورہ قدر اور توحید کو دوسرے سوروں پر ترجیح دے کر پڑھنا مستحب ہے البتہ ان کی ترتیب میں نماز گزار کو اختیار ہے۔
۱۹۲- روایت نقل ہوئی ہے کہ پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو شب معراج وحی ہوئی کہ پہلی رکعت میں قُل ھُوَ اللہُ اَحَدُ پڑھیں جو کہ خدا کی نسبت ونعت ہے پھر دوسری رکعت میں سورہ حمد پڑھنے کے بعد سورہ قدر پڑھیں جو کہ قیامت تک آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اور آپ کے اہل بیت علیہم السلام کی نسبت ہے۔ (و سائل ۴ : ۷۵۲/۲)
۱۹۳- امام رضا علیہ السلام شب و روز کی تمام نمازوں میں پہلی رکعت میں حمد اور انا انزلنا اور دوسری میں حمد اور قُل ھُوَ اللہُ اَحَدُ پڑھتے تھے۔
(و سائل ۴ : ۷۶۰/۳)
۱۹۴- امام علی نقی علیہ السلام نے فرمایا: فرائض میں جو کچھ پڑھا جاتا ہے اس میں سب سے افضل درجہ سورہ قدر اور توحید ہے آپ ؑ سے کسی شخص نے پوچھا کہ نماز صبح میں ان کو پڑھ کر میرا سینہ تنگ ہوتا ہے آپ ؑ نے فرمایا: تمہارا سینہ تنگ نہ ہو کیونکہ بخدا افضلیت انہیں میں ہے۔ (و سائل ۴ : ۷۶۰/۱)
۱۹۵- کسی شخص نے حضرت صاحب الزمان (عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف)کو خط لکھا جس میں اس نے فریضہ اور غیرفریضہ نمازوں میں قرآن کی قرائت کے ثواب کے بارے میں پوچھا اور یہ کہ عالم آل محمد علیہ السلام نے فرمایا: کہ تعجب ہے اس شخص پر جو نمازوں میں سورہ انا انزلناہ نہیں پڑھتا اس کی نماز کس طرح قبول ہوتی ہے- (و سائل ۴ : ۷۶۱/۶)
منقول ہے کہ وہ نمازہر (نقص سے) پاکیزہ نہیں ہوتی جس میں سورہ قُل ھُوَ اللہُ اَحَدُ نہ پڑھی جائے۔
روایت نقل ہوئی ہے کہ جو شخص فریضہ نمازوں میں سورہ ھمزہ پڑھے اسے بقدر دنیا ثواب عطا کیا جاتا ہے تو آیا یہ جائز ہے کہ سورہ ھمزہ پڑھا جائے اور یہ سورے چھوڑ دئیے جائیں؟ آپ ؑ نے اس کے جواب میں لکھا: ان سوروں کا وہی ثواب ہے جو منقول ہے لیکن اگر کوئی ایسے سورہ کوچھوڑ دے کہ جس کے لئے ثواب ہو، اور سورہ
قُل هُوَ اللهُ اَحَدُ اور إِنَّا أَنزَلنَاهُ
کے فضل و کمال کی وجہ سے پڑھے تو اسے ان پڑھے ہوئے سوروں کا ثواب بھی ملے گا اور اس سوروں کا بھی جنہیں اُن سوروں کی خاطر اس نے چھوڑا ہے اور اگر کوئی بھی شخص ان دو سوروں کو چھوڑ کر کسی اور سورہ کو پڑھے تو یہ بھی جائز ہے اور اس کی نمازکامل بھی ہوگی لیکن اس نے افضل کوترک کیا۔
۵۔ فریضہ نمازوں میں سورہ جحد و توحید کا پڑھنا مستحب ہے۔
۱۹۶- اما م باقر علیہ السلام نے فرمایا: جس شخص پر پورا ایک دن گزر جائے اور اس میں پوری پانچ نمازیں پڑھے مگر کسی بھی نماز میں سورہ (قُل ھُوَ اللہُ اَحَدُ) نہ پڑھے تو اس سے کہا جاتا ہے اے بندہ خدا تو نماز گزاروں میں سے نہیں۔ (و سائل ۴ : ۷۶۱/۱)
۱۹۷۔ اما م باقر علیہ السلام نے فرمایا: جس شخص پر پورا ایک دن گزر جائے اور اس میں پوری پانچ نمازیں پڑھے مگر کسی بھی نماز میں سورہ قل ھوا للہ احد نہ پڑھے تو اس سے کہا جاتا ہے اے بندہ خدا تو نماز گزاروں میں سے نہیں۔ (و سائل ۴ : ۷۶۲/۲)
۱۹۸- روایت نقل ہوئی ہے کہ پہلی رکعت میں سورہ جحداور دوسری میں سورہ توحید پڑھے جائیں۔
(و سائل ۴ :۷۶۲/۲)
۶۔ معوذتین " قُل أَعُوذُ بِرَبِّ الفَلَقِ
اور "
قُل أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ
کا نہ صرف یہ کہ فرائض اور نوافل میں پڑھنا جائز ہے بلکہ مستحب ہے۔
۱۹۹- امام صادق علیہ السلام نے نماز مغرب با جماعت پڑھائی اور اس کی دو رکعتوں میں معوذتین پڑھیں۔
( و سائل ۴ : ۷۸۶/۱)
٢٠٠- امام صادق علیہ السلام نے نماز مغرب کی امامت فرمائی اور اس میں معوذتین کی تلاوت فرمائی اور فرمایا: یہ دونوں سورے قرآن کا حصہ ہیں۔ (و سائل ۴ : ۷۸۶/۲)
۲۰۱- امام صادق علیہ السلام نے ایک خط میں کسی شخص کو ان دو سوروں کو پڑھنے کا حکم فرمایا ہے۔
(و سائل ۴ : ۷۸۶/۳)
۲۰۲- اما م صادق علیہ السلام سے ان دوسوروں کے بارے میں پوچھا گیا کہ آیا یہ دونوں قرآن کے جزء ہیں؟ تو آپؑ نے جواب میں فرمایا: ہاں یہ قرآن کے جزء ہیں آپؑ کی خدمت میں عرض کیا گیا کہ ابن مسعود کی قرائت میں تو یہ قرآن کے جزء نہیں ہے اور نہ ہی یہ ان کے مصحف میں درج ہیں تو آپؑ نے فرمایا: ابن مسعود نے غلطی کی ہے یا فرمایا:
ابن مسعود نے جھوٹ کہا ہے یہ دونوں سورے قرآن کے جزء ہیں۔ (و سائل ۴ : ۷۸۶/۵)
۲۰۳- اور یہ بھی منقول ہے (آپؑ نے فرمایا:)کہ ابن مسعود نے ذاتی رائے کی بنیاد پر ایسا کہا ہے۔
(و سائل ۴ : ۷۸۶/۶)
۷۔
۲۰۴- اما م صادق علیہ السلام نماز عشاء کے بعد والی نافلہ میں سورہ واقعہ اور قُل ھُوَ اللہُ اَحَدُ پڑھتے تھے۔
(و سائل ۴ : ۷۸۴/۲)
۲۰۵- منقول ہے کہ ہر شب سورہ واقعہ کا پڑھنا مستحب ہے۔ (و سائل ۴ : ۷۸۵/۵)
۲۰۶- روایت نقل ہوئی ہے کہ جو شخص نماز تہجد کی پہلی دو رکعتوں میں سورہ حمد ایک ایک بار اور سورہ قُل ھُوَ اللہُ اَحَدُ تین تین بار پڑھے تو وہ اس حالت میں اپنی جگہ سے ہٹے گا کہ اس کے اور خدا کے درمیان جو بھی گناہ ہوگا وہ معاف ہوچکا ہوگا۔( و سائل ۴ : ۷۹۶/۱)
۲۰۷- روایت نقل ہوئی ہے کہ نبی اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز تہجد کی آخری رکعت میں سورہ ھَل أَتَی عَلَی الإِنسَانِ پڑھا کرتے تھے۔( و سائل ۴ : ۷۹۶/۱)
۲۰۸- ایک شخص نے امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا کہ میں شب کے آخری حصہ میں بیدار ہوتا ہوں اورصبح ہونے کا خوف ہوتا ہے، توآپؑ نےجواب میں فرمایا: صرف سورہ حمد ہڑھتے جاؤ اور جلدی جلدی کرو ۔ (و سائل ۴ : ۷۹۷/۲)
۲۰۹- امام صادق علیہ السلام سے ایک شخص نے سوال کیا کہ وہ نمازوتروشفع میں کیا پڑھے؟ آپؑ نے جواب میں فرمایا: قُل ھُوَ اللہُ اَحَدُ پڑھو، عرض کیا تینوں رکعتوں میں؟ آپؑ نےفرمایا: ہاں (و سائل ۴ : ۷۹۸/۱)
۲۱۰- امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: میرے والد ماجد فرمایا کرتے تھے کہ سورہ قُل ھُوَ اللہُ اَحَدُ قرآن کے ایک تہائی کے برابر ہے اور وہ اس بات کو پسند کرتے تھے کہ وتر کی تینوں رکعتوں میں اسے ہی پڑھیں تاکہ انہیں پورے ( ختم) قرآن کا ثواب حاصل ہوجائے۔ (و سائل ۴ : ۷۹۸/۳)
۲۱۱- منقول ہے کہ (وتر کی) تینوں رکعتوں میں معوذتین اور قُل ھُوَ اللہُ اَحَدُ پڑھے جائیں ۔ (و سائل ۴ : ۷۹۸/۵)
۲۱۲- منقول ہے کہ نماز شفع کی پہلی رکعت میں قُل اَعُوذُ بِرَبِّ الفَلَقِ اور دوسری رکعت میں قُل أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ پڑھےجاتے ہیں۔ (و سائل ۴ : ۷۹۹/۹)
۲۱۳- روایت نقل ہوئی ہے کہ تینوں رکعتوں میں نو سورے پڑھے جائیں، پہلی رکعت میں
اَلهَاکُمُ التَّکَاثُر اور اِنَّا اَنزَلنَاهُ اور إِذَا زُلزِلَتِ الاَرضُ
اور دوسری میں حمد کے بعد
وَالعَصرِ اور اِذا جَاءَ نَصرُ اللهِ
اور سورہ کَوثَرَ اورآخری ایک رکعت میں
قُل یَا اَیُّهَا الکَافِرُونَ اور تَبَّت یَدا اَبِي لَهَب اور اِذا جَاءَ نَصرُ اللهِ اور قُل هُوَ اللهُ اَحَدُ ۔
(و سائل ۴ : ۷۹۹/۱۰)
۲۱۴- روایت نقل ہوئی ہے کہ اگر وقت وسیع ہو تو نماز تہجد میں قرائت کو طول دینا اورطویل سوروں کو پڑھنا مستحب ہے۔ (و سائل ۴ : ۸۰۳/۶۲)
۸۔
۲۱۵- رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صبح کی نماز میں سورہ
عَمَّ یَتسَاءَلُونَ اورهَل أَتَاكَ حَدِیثُ الغَاشِیَه اور هَل اَتَی عَلَی الاِنسَانِ اور لَآاُقسِمُ بِیَومِ القِیَامَه
جیسے سورے پڑھتے تھے اور ظہر کی نماز میں سورہ سَبح اور شمس اور وضحھا اورھل اتاك حدیث الغاشیہ جیسے سورے پرھتے تھے اور نماز مغرب میں قُل ھُوَ اللہُ اَحَدُ اور اِذَا جَاءَ نَصرُاللہِ وَالفَتحِ اور اِذَا زُلزِلَتِ الاَرضُ )اور نمازعشا ميں ظہرجیسے اور نماز عصر میں مغرب جیسے سورےپڑھتے تھے۔ (و سائل ۴ : ۷۸۷/۱)
۲۱۶- اور ظہر و عشا میں
" سَبِّحِ اسمَ رَبِّكَ الاَعلَی" اور"وَالشَّمسِ وَضُحَی هَا"
اور ان جیسے سورے اور نماز عصر و مغرب میں اِذَا جَاءَ نَصرُاللہِ وَالفَتحِ اور اَلھَاکُمُ التَّکَاثُر اور ان جیسے سورے جب کہ صبح میں
"عَمَّ يَتَسَاءَلُونَ "اورّهَل أَتَاكَ حَدِیثُ الغَاشِیَّه" اور" لَا اُقسِمُ بِیَومِ القِیَامَّه" اور ّهَل اَتَی عَلَى الاِنسَانِ"
پڑھنا منقول ہے۔ (و سائل ۴ : ۷۸۷/۲)
۲۱۷- امام رضا علیہ السلام نمازوں میں پہلی رکعت میں حمد اور سورہ قدر اور دوسری میں حمد اور قُل ھُوَ اللہُ اَحَدُ پڑھتے تھے سوائے شب جمعہ کی نماز عشاء کے اس کی پہلی رکعت میں حمد اور جمعہ اور دوسری رکعت میں حمد اور سَبِّحِ پڑھتے تھے اور روز جمعہ کی نماز صبح اور ظہر و عصر کی پہلی رکعت میں سورہ حمد اور جمعہ، دوسری میں حمد و منافقین پڑھتے تھے اور سوموار و جمعرات کی نماز فجر کی پہلی رکعت میں سورہ حمد اور ھَل اَتَی عَلَی الاِنسَانِ اوردوسری رکعت میں حمد و غاشیہ پڑھتے تھے۔ (و سائل ۴ : ۷۸۸/۳)
۹۔ شب جمعہ اور روز جمعہ نمازوں میں سورہ جمعہ اور منافقون اور سورہ اَعلَی اور توحید کا پڑھنا مستحب ہے اس کی دلیل گزر چکی ہے۔
۲۱۸- امام صادق علیہ السلام سے سوال کیا گیا کہ آیا نماز میں پڑھنے کے لئے کوئی مخصوص سورہ ہے ؟
فرمایا: نہ، سواے نماز جمعہ کے کہ اس میں سورہ جمعہ اور منافقون پڑھے جائیں۔ (و سائل ۴ : ۷۸۸/۱)
۲۱۹- روایت منقول ہے کہ شب جمعہ کی نمازوں میں سورہ جمعہ اور سورہ اعلی جبکہ جمعہ کی نماز فجر میں سورہ جمعہ اور اخلاص اور نماز جمعہ میں سورہ جمعہ اور منافقون پڑھے جائیں ۔ (و سائل ۴ : ۷۸۸/۲)
۲۲۰- منقول ہے کہ نماز عشاء میں سورہ جمعہ اور نماز فجر میں بھی سورہ جمعہ اور نماز عصر میں سورہ جمعہ اور منافقون پڑھے جائیں ۔
(و سائل ۴ : ۷۸۹/۳)
۲۲۱- اورصبح کی نماز میں سورہ جمعہ اور اعلی پڑھنا بھی منقول ہے۔ (و سائل ۴ : ۷۹۰/۹)
۲۲۲- نماز عصر میں اسی طرح نماز فجر میں سورہ جمعہ اور اخلاص پڑھنا منقول ہے۔ (و سائل ۴ : ۷۸۹/۴)
۲۲۳- روایت نقل ہوئی ہے کہ جمعہ کے روز فجر اور ظہر اور عصر کی نمازوں میں سورہ جمعہ اور منافقون پڑھنا مستحب ہے اور روز جمعہ ظہر کی نماز میں ان کے سوا کچھ پڑھنا ہی نہیں چاہئے۔ (و سائل ۴ : ۷۸۹/۶)
۲۲۴- امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: ہر مومن پر واجب ہے کہ اگر وہ ہمارا شیعہ ہے تو شب جمعہ سورہ جمعہ اور سَبِّح پڑھے اور ظہر کی نماز میں سورہ جمعہ اور منافقون پڑھے۔ (و سائل ۴ : ۷۹۰/۸)
میں کہوں گا کہ اس کو مستحب مؤکد ہونے پر حمل کیا گیا ہے جس کی دلیل گزر چکی ہے اور آگے بھی آئے گی۔
۲۲۵- امام باقر علیہ السلام نے فرمایا: خداوند عالم نے (سورہ) جمعہ کے واسطہ سے مومنین کو عزت بخشی ہے اور رسول خدا(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ( اس کی تلاوت) کو سنت قرار دیا ہے اور مومنین کے لئے باعث بشارت اور سورہ منافقین، منافقين کے لئے باعث توبیخ و سرزنش قرار دیا ہے اور ان دونوں سوروں کی تلاوت کو( روزجمعہ) ترک نہیں کرنا چاہئے اور جو شخص جان بوجھ کر ان کو ترک کرے گا اس کی نمازنہیں ہے۔ (و سائل ۴ : ۸۱۵/۳)
۲۲۶- امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: روز جمعہ سورہ جمعہ اور سورہ منافقون پڑھو۔ (و سائل ۴ : ۸۱۵/۴)
۲۲۷- منقول ہے کہ ( جمعہ کے روز) اگر سفر میں سورہ توحید پڑھی جائے تو کوئی مضائقہ نہیں ہے۔( و سائل ۴ : ۸۱۵/۲)
۲۲۸- اما م کاظم علیہ السلام سے ایسے شخص کے بارے میں جو نماز جمعہ میں سورہ جمعہ نہیں پڑھتا ہے،پوچھا گیا توآپ ؑنے فرمایا: اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ (و سائل ۴ : ۸۱۷/۱)
۲۲۹- منقول ہے کہ اگر تمہیں جلدی ہو تو نماز جمعہ میں سورہ جمعہ اور منافقون کے علاوہ کسی اور سورہ کے پڑھنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔
(و سائل ۴ : ۸۱۷/۳)
۲۳۰- امام رضا علیہ السلام سے ایسے شخص کے بارے میں کہ جس نے نماز جمعہ میں سورہ سَبِّحِ اسمَ رَبِّكَ الاَعلَی اور قُل ھُوَ اللہُ اَحَد پڑھ لیا،پوچھا گیا تو فرمایا: یہی کافی ہے۔ (و سائل ۴ : ۸۱۸/۵)
۲۳۱- منقول ہے کہ جو شخص سفر یا حضر میں نماز جمعہ، سورہ جمعہ اور سورہ منافقون کے بغیر پڑھے وہ نماز کا تکرار کرے۔ (و سائل ۴ : ۸۱۸/۱)
۳۳۲- ایسے شخص کے بارے میں کہ جس نے نماز جمعہ پڑھنا چاہا مگر اس نے سورہ قُل ھُوَ اللہُ اَحَد شروع کردی،منقول ہے کہ امامؑ نے فرمایا: وہ اس نماز کودو رکعتوں میں مکمل کرے اور پھر از سر نو (سورہ جمعہ کے ساتھ) پڑھے۔( و سائل ۴ : ۸۱۸/۲)
یہ حکم، مستحب ہونے پر محمول ہے۔
۲۳۳- امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جب تم شب جمعہ میں نماز شب پڑھنا چاہوتو اس کی پہلی رکعت میں سورہ حمد کے بعد قُل ھُوَ اللہُ اَحَد اور دوسری میں حمد اور قُل یَا اَیُّھَا الکَافِرُونَ اور تیسری میں حمد اور الم سجدہ اور چوتھی میں حمد اور یَآاَیُّھَا المُدَّثِّر اور پانچویں میں حمد اور حم سجدہ اور چھٹی میں حمد و سورہ ملك اور ساتویں میں حمد و یس اور آٹھویں میں حمد اور سورہ واقعہ پڑھواس کے بعد نماز وتر میں معوذتین اور اخلاص پڑھو۔
(و سائل ۴ : ۸۰۵/۱)
۱۰۔
۲۳۴- روایت نقل ہوئی ہے کہ فرض اور نفل والی نمازوں میں سورہ دخان اور ق اور ممتحنہ اور الصف اور الحاقہ اور نوح اورمزمل اور انفطار اورانشقاق اور اعلی اورغاشیہ اور والفجراور والتین اور تکاثر اور أرأیت اور کوثراور نصر کا پڑھنا مستحب ہے- (و سائل ۴ : ۸۰۵/۶۴)
اوران سوروں ( کو پڑھنے) کے بڑے ثواب بھی منقول ہیں ۔
۱۱-
۲۳۵- منقول ہے کہ حم والے سوروں اور سورہ رحمن اور زلزال اور والعصر کا نوافل میں پڑھنا مستحب ہے-
اوران کو پڑھنے کے بڑے ثواب بھی منقول ہیں۔ (و سائل ۴ : ۸۰۸/باب ۶۵)
۲۳۶- منقول ہے کہ نفل نمازوں کی ہر رکعت میں سورہ توحید، قدر اور آیۃ الکرسی پڑھنا مستحب ہے۔
اور اس کا بہت بڑا ثواب بھی منقول ہے۔ (و سائل ۴ : ۸۰۳/۱)
۲۳۷- منقول ہے کہ نماز تہجد میں اگر وقت وسیع ہو تو قرائت کو طول دینا مستحب ہے۔( و سائل ۴ : ۸۰۳/باب ۶۲)
۲۳۸- امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: جو شخص شب و روز کی تمام نمازوں میں پانچ سو آیات پڑھے گا خداوند عالم اس کے لئے لوح محفوظ میں ایک قنطار نیکیاں لکھے گا اور ایک قنطار بارہ سواوقیہ کے برابر ہے اور ایک اوقیہ کوہ احد سے بڑا ہے۔ (و سائل ۴ : ۸۰۳/۱)
۲۳۹- امام کاظم علیہ السلام سے ایسے شخص کے بارے میں پوچھا گیاکہ جس کا ارادہ تھا کہ نماز نافلہ میں ایک سو آیات یا اس سے بھی زیادہ پڑھے گا مگر اسے اس بات کا خوف ہوا کہ شاید وہ کمزوری اور تھکاوٹ محسوس کرے پوچھا گیا: آیا وہ بیٹھ کر پڑھ سکتا ہے؟تو آپ ؑ نے اس کے جواب میں فرمایا: جس طرح چاہے دو رکعت نماز پڑھ کر سلام پھرے اس کے بعد وہ جو کچھ پڑھنا چاہتا تھا وہ بیٹھ کر پڑھ لے اسے کھڑے ہوکر قرائت کرنے کا متبادل سمجھا جائے گا اور اگر سلام کے بعد وہ کلام کرنا چاہا تو وہ بھی کر سکتا ہے اور تلاوت کر سکتا ہے ۔ (و سائل ۴ : ۸۰۲/۱)
۱۲۔
۲۴۰- روایت نقل ہوئی کہ فرض نمازوں میں سورہ حدید اور مجادلہ اور تغابن اور طلاق اور تحریم اور مدثراور مطففین اور بروج اور طارق اور بلد اور قدر اور ھمزہ اور حجر اور توحید کا پڑھنا مستحب ہے۔ (و سائل ۴ : ۸۱۰/باب ۶۶)
۲۴۱- اور اس کے لئے بڑا ثواب منقول ہے۔ (و سائل ۴ : ۸۱۰/۱۔۱۱)